بات اتنی پرانی بھی نہیں ہے۔
یہی سن ۴۷ئ کی ایک دوپہر تھی کہ ہم لوگ امرتسر سے ہجرت کر کے لاہور آ گئے۔ شاہ عالمی دروازے کی راکھ میں سے ابھی دھواں اٹھ رہا تھا۔ مسجد شہید گنج میں چھپے ہوئے سکھ ابھی تک ریلوے اسٹیشن کے باہر مہاجرین کیمپ پر فائرنگ کر رہے تھے۔ لاہور شہر کی فضا جلے ہوئے مکانوں کی بو سے بوجھل تھی۔ والٹن کے مہاجرین کیمپ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔
مشرقی پنجاب سے مسلمان پناہ گیروں کی ریل گاڑیاں دھڑادھڑ لاہور پہنچ رہی تھیں۔ ادھر سے ہندو سکھ شرنارتھیوں کے قافلے مشرقی پنجاب کی طرف جا رہے تھے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ایک انتشار، ایک اداسی طاری تھی۔ امرتسر، جالندھر، لدھیانہ اور مشرقی پنجاب کے دوسرے دیہات سے جو مسلمان بھی لاہور پہنچا ، زخم خوردہ تھا۔
ہم امرتسر کے ادیب، شاعر دوست پہلے گوالمنڈی کے ایک ہوٹل میں بیٹھا کرتے تھے۔ پھر وہاں سے مال روڈ پر پاک ٹی ہائوس میں آ کر ڈیرا جمالیا۔ پاک ٹی ہائوس کا نام پہلے ، انڈیا ٹی ہائوس ہوا کرتا تھا۔ اس ٹی ہائوس کی روشن روشن چمکیلی فضا میں ہم نے باہر سے آئے ہوئے دوستوں کو پہلی بار دیکھا۔ کسی نے کہا۔
’’میرا نام اشفاق احمد ہے۔‘‘
کسی نے کہا۔
’’مجھے ناصر کاظمی کہتے ہیں۔‘‘
’’میں اے حمید ہوں۔ تم سب سے مل کر بڑی
خوشی ہوئی ۔‘‘
اور پھر ایک روز میں نے ابن انشائ کو دیکھا۔
دبلا ،سا نولا، لہریائے چمکیلے بال اور ناک پر موٹے شیشوں کی عینک . پہلی بار دیکھنے پر مجھے وہ کسی ہندوساہوکار کا منیم جی لگا۔ میرا حمید اختر نے تعارف کروایا۔
’’ہمارا یار غار اور ترقی پسند ادیب ابن انشائ۔‘‘
میں نے انشائ سے ہاتھ ملایا۔ وہ شرما سا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ایک بڑی ذہین اور شریر چمک سی آ گئی۔ اب وہ مجھے ایک بے حد شرارتی اورنٹ کھٹ لڑکا لگا اور مجھے اس سے مل کر خوشی ہوئی۔ حمید اختر بولا۔
’’اے حمید! تمہیں ابن انشائ سے مل کر بہت خوشی ہوگی کیونکہ تمہاری طرح یہ بھی کبھی کبھی چڑیوں ، طوطوں کی باتیں بڑے مزے لے لے کر کرتا ہے۔‘‘
ابراہیم جلیس نے قہقہہ لگا کر کہا۔
’’ارے کمینے !یہ اندر سے شیر محمد قیصر ہے۔‘‘
حمید اختر بولا۔ ’’اور صحرائی بھی ۔‘‘
ابراہیم جلیس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ ابن انشائ نے بڑے بھول پن سے سر ہلاتے اور عینک کے شیشے صاف کرتے ہوئے کہا۔
’’دوستوں ! میں ابن انشا ہوں،لیکن چائے کا آرڈر کون دے رہا ہے ؟‘‘
احمد راہی کہنے لگا۔ ’’یہ جلیس بڑے اونچے اونچے قہقہے لگاتا ہے، اسے پکڑنا چاہیے ۔‘‘
حمید اختر نے جلیس کی گردن پکڑ کر کہا۔ ’’منگوائو کمینے چائے۔‘‘
ابراہیم جلیس نے گردن جھکا کر ہنستے ہوئے کہا۔
’’چائے کا آرڈر میں دیتا ہوں مگر پیسٹری ابن انشائ منگوائے گا۔‘‘
ابن انشائ شیشے صاف کر کے عینک ناک پر جما رہا تھا۔ اس کے نچلے ہونٹ کے کونے میں شرارت بھری مسکراہٹ کی لکیرابھری۔ کہنے لگا۔
’’دوستو! میرا یہ تجربہ ہے کہ میں نے جب بھی ٹی ہائوس میں پیسٹری منگوائی ، باسی آتی ہے۔ ہاں ساتھ والی میز پر ناصر کاظمی بیٹھا ہے۔ اس کا ادھار بھی چلتا ہے اور بیرے اسے تازہ پیسٹری لا کر دیتے ہیں۔‘‘
ناصرکاظمی نے آخری سگریٹ کا آخری کش لگایا اور ساتھ والی میز سے اٹھ کر ہماری میز پر آ گیا۔ ابن انشائ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔
’’پیارے ! میں تو چائے کے ساتھ انناس کھایا کرتا ہوں لیکن تمہاری خاطر سارے لاہور شہر کی پیسٹری منگوا سکتا ہوں۔‘‘
پھراس نے ٹی ہائوس کے بیرے لال کو بلا کر کہا۔
’’لال ! میرے دوستوں کو عمدہ پیسٹریاں لا کر کھلائو۔‘‘
یہ میں نے محسوس کیا کہ ابن انشائ فضول خرچ بالکل نہیں تھا بلکہ وہ ہر خرچ کو فضول سمجھتا تھا۔ بڑا کم خرچ تھا، لیکن بالانشین تھا۔ اس کے دوست اس کو بہت چاہتے تھے۔
جلد ہی ہمارا ایک ترقی پسند گروپ بن گیا۔ حمیداختر، ابراہیم جلیس، کرمانی ، سبط حسن ، احمد راہی ، عارف عبدالمتین ، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، احمد ندیم قاسمی، عبداللہ ملک اور دوسرے احباب نے مل کر انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد رکھی۔ ہر ہفتے اس کے ادبی اجلاس ہونے لگے۔ افسانے ، مضامین اور غزلیں نظمیں پڑھی جاتی زورداربحثیں ہوتیں۔ ابن انشائ ان بحثوں میں بھرپور حصہ لیتا۔
ان ہی دنوں ابن انشائ نے اپنی مشہور طویل نظم ’’بغداد کی رات‘‘ لکھی اور انجمن کے اجلاس میں پڑھی۔ اس پر بحث شروع ہو گئی۔ ابن انشائ انجمن کے اصول و ضوابط کے مطابق اس بحث میں حصہ نہیں لے سکتا تھا۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ کرسی پر بیٹھا پہلو بدلتا رہا۔ اسلوب کے اعتبار سے یہ نظم اس عہدکی ترقی پسند نظموں سے بہت مختلف تھی۔ بیان بڑا سادہ تھا۔اظہار کچھ اس طرح کے خیالات کا تھا کہ جو اس زمانے کی ترقی پسند تحریک سے ذرا ہٹ کر تھے۔ بہرحال بحث جاری رہی۔
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
مجھے ابن انشائ کی یہ نظم بڑی پسند آئی۔ شاید اس لیے کہ میں خود بغداد کی راتوں کا مسافر تھا اور الف لیلیٰ کی شہزادیوں سے عشق کیا کرتا تھا۔ میں ابن انشائ سے پیار کرنے لگا اور یہی اس سے میری دوستی کا آغازتھا، کیونکہ میں دوستی نہیں کر سکتا، پیار کر سکتا ہوں اور میں ابن انشائ سے پیار کرنے لگا۔ اب مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ بھی مجھ سے پیار کرتا ہے۔
ان دنوں ابن انشائ ایبٹ روڈ پر نشاط سینما کے سامنے والے ایک چھوٹے سے سرخ مکان میں رہتا تھا۔ یہ مکان انہوں نے پھلور سے آنے کے بعد الاٹ کروالیا تھا۔ اس مکان کی چھت آگے کی جانب ڈھلانی تھی اورسرخ تھی۔ ابراہیم جلیس اس مکان کو چینی پیگوڈا کہا کرتا تھا۔ مکان کے آگے ایک ننھا سا آنگن تھا۔ آنگن میں پیپل کے پیڑ کی ٹھنڈی چھائوں رہتی۔ میں اورانشائ برآمدے میں بیٹھے باتیں کیا کرتے۔ وہ آئینہ میز پر رکھے کھرچ کھرچ کر شیو بنا رہا ہوتا۔ اندر سے چائے کی دوپیالیاں آجاتیں۔
’’اے حمید ! لاہور کی گلیاں بغداد کی گلیوں سے بڑی ملتی جلتی ہیں۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’تم نے بغداد کی گلیاں کہاں دیکھی ہیں ؟‘‘
ابن انشائ نے سر ہلا کر مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ایک نہ ایک دن بغداد کی گلیاں ضرور دیکھوں گا ۔‘‘
پھروہ تولیے سے گال رگڑتے ہوئے پوچھتا۔
’’تم نے نیا چینی رسالہ ’’نیوٹائمز‘‘ پڑھا؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘
’’ابھی لاتا ہوں۔‘‘
اندر سے وہ ’’نیوٹائمز‘‘ کا رسالہ اٹھالایا اور ہم مل کر اس کی ورق گردانی کرنے لگے۔ چائے پیتے ہوئے وہ مجھ سے باتیں کرنے لگا۔
’’اے حمید ! تم رومانٹک ہو۔ تمہیں سیاسی شعور بھی ضرور ہونا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں تم ،نیو ٹائمز ، باقاعدگی سے پڑھا کرو۔ پھر جب تم کہانیاں لکھو گے تو وہ تمہاری یادگار کہانیاں ہوں گی۔‘‘
میں نے ’’نیوٹائمز‘‘ کا رسالہ بند کر کے ابن انشائ کے کان میں کہا۔
’’ریحانہ کا ایک اور خط آیا ہے۔‘‘
ابن انشائ کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی۔
’’کہاں ہے کمینے۔ لا مجھے بھی پڑھ کر سنا۔‘‘
’’میں اپنی محبوبہ کا خط تمہیں کیوں سنائوں؟‘‘
ابن انشائ نے چوکور آئینہ برآمدے کے ستون سے لٹکا دیا اور بالوں میں کنگھی کرتے ہوئے بولا۔
’’کمینے! مجھ سے اپنی محبت کے بارے میں مشورہ نہیں لو گے تو کیا حمید اختر اور سبط حسن سے لو گے؟ چلو، میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم اپنے محبت بھرے خطوط میں میری نظم ، بغداد کی ایک رات کے شعر استعمال کر سکتے ہو۔‘‘
میں نے کہا۔ ’’میں اپنی محبوبہ سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتا۔‘‘
ابن انشائ اپنی شرارت بھری چمکیلی آنکھیں جھپکا کر بولا۔
’’پھر کیا ہوا۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ وہ تمہیں چھوڑ کر مجھے خط لکھنے شروع کر دے گی۔ ویسے بھی وہ بے چاری تمہارے لمبے لمبے رومانٹک افسانے کب تک سنتی رہے گی۔ میں اسے چھوٹی چھوٹی پیاری پیاری نظمیں سنایا کروں گا۔ فکر نہ کرو۔ کبھی کبھی تمہارے افسانوں کا ذکر بھی کر لیا کریں گے۔‘‘
میں نے ریحانہ کا خط نکال کر ابن انشائ کو دیا۔ وہ کھول کر پڑھنے لگا ۔ اس کے ابرو کبھی اوپر اٹھتے ،کبھی نیچے گرتے۔ عینک کے پیچھے چمکیلی آنکھیں لفظوں کا تعاقب کرنے لگیں۔
’’ارے یہ خط جعلی تو نہیں؟ مجھے تو یہ تمہاری کارستانی معلوم ہوتی ہے۔‘‘
میں نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا۔
’’ریحانہ کے خط بڑے رومانٹک ہوتے ہیں۔ تمہیں اس لیے شک ہوا۔ نیچے دیکھو اس کا نام لکھا ہوا ہے۔‘‘
ابن انشائ نے خط کے نیچے ریحانہ کے دستخط بڑے غور سے دیکھے۔
’’ریحانہ کے دستخط تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ یا تو یہ خط تم نے خود لکھا ہے اور یا پھر ریحانہ کو تم خود لکھ کر دیتے ہو۔‘‘
میں ہنس پڑا ۔ ابن انشائ بھی مسکرایا۔ پھر میری طرف گردن جھکا کر کہنے لگا۔
’’کمینے! کیوں شریف بیبیوں کو خراب کر رہے ہو۔ اچھا میں اس لڑکی سے ملوں گا۔ کہوں گا، بی بی ! یہ امرتسری بدمعاش تو بیک وقت چار لڑکیوں سے عشق کر رہا ہے، نہیں تو ابھی کوالٹی ریسٹورنٹ میں چل کر مجھے فروٹ کیک کھلائو ۔‘‘
میں نے ابن انشائ کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا۔ ’’منظور ہے ۔‘‘
کوالٹی ریسٹورنٹ میکلوڈ روڈ پر ریجنٹ سینما کے بالکل سامنے ہوا کرتا تھا۔ بعد میں یہاں موٹروں کا شوروم کھل گیا۔ اب وہ بھی نہیں رہا۔ اس ریسٹورنٹ کی بہار تھوڑے دن ہی رہی۔ اس ریسٹورنٹ میں کوئی خاص بات بھی نہیں تھی۔ لیکن کچھ عرصہ ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کی منڈلی اس ریسٹورنٹ میں اپنی محفل جماتی رہی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ یہ نیا نیا کھلا تھا۔ اس ریسٹورنٹ میں اتری ہوئی میری ایک تصویر آج بھی میرے پاس ہے جس کے نیچے ابن انشائ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ ’’نٹ کھٹ اے حمید۔‘‘
ابن انشائ کپڑے پہن کر تیار ہوا تو ہم ایبٹ روڈ پر آ گئے۔
’’ذرا حسرت صاحب کو دیکھتے چلتے ہیں۔ شاید کرمانی بھی آ گیا ہو۔‘‘
روزنامہ امروز کا دفتر ان دنوں ایبٹ روڈ پر ہوا کرتا تھا اور ابن انشائ کے مکان کے بالکل سامنے تھا۔ ہم امروز کے دفتر میں آ گئے۔ چراغ حسن حسرت ابھی تشریف نہیں لائے تھے۔ ہم نے چق اٹھا کر دیکھا ان کا کمرہ خالی تھا۔ اس دفتر کے پہلومیں کسی ٹرانسپورٹ کمپنی کا دفتر تھا اور باہر ایک آدھ ٹرک اکثرکھڑا رہتا اور کلینرز وغیرہ چھوٹی موٹی مرمتوں میں لگے رہا کرتے تھے۔ ٹرانسپورٹ کمپنی کے منیجر کا دفتر حسرت صاحب کے کمرے کے برابر میں تھا۔ اور اس کے آگے بھی چق پڑی رہتی تھی۔
ایک روز ایسا ہوا کہ ایک نووارد کلینرکو ڈرائیور نے کہا کہ منیجر سے جا کر ٹائر کی پرچی لے آئے۔ کلینر کو ابھی دفتر کے نشیب و فراز کا علم نہیں تھا۔ اس نے منیجر کے دفتر میں جانے کے بجائے حسرت صاحب کے دفتر کی چق اٹھائی اور اندر آ گیا۔ سامنے میز پر ٹیبل لیمپ جلائے حسرت صاحب کالم لکھ رہے تھے ۔ کلینر نے ایک لحیم و شحیم مونچھوں والے آدمی کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ یہی منیجر ہے اب حسرت صاحب کو بھی کسی نووارد کی موجودگی کا احساس ہوا۔ چشمے کے پیچھے سے اپنی بڑی بڑی سرخ آنکھیں اٹھا کر پوچھا۔
’’فرمائیے مولانا ! میں کیا خدمت کرسکتا ہوں؟‘‘
کلینر نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں کہا۔
’’جی کرم داد ڈرائیور چھبی اٹھتی نے نیا ٹائر مانگا ہے ۔‘‘
حسرت صاحب چونکے۔ ایک ہاتھ سے چشمہ اتارا اور بولے۔
’’کیا فرمایا مولانا ؟‘‘
کلینر نے بالکل ویسے ہی انداز میں پھر کہا۔
’’جی چھبی اٹھتی کا ڈرائیورکرم داد نیا ٹائر مانگتا ہے۔‘‘
چراغ حسن حسرت اٹھ کر کمرے سے باہر آ گئے اوراکائونٹینٹ کو آواز دے کر کہا۔
’’مولانا، لنڈے بازار سے کچھ ٹائر منگوا کر یہاں رکھوادیجیے۔ لوگ امروزمیں ٹائرمانگنے بھی آجاتے ہیں۔‘‘
٭٭٭
امروز کا یہ دفتر ایک لمبا ہال کمرہ تھاجس میں تختے کھڑے کر کے پارٹیشن کر دی گئی تھی۔ حمید اخترایک میز پر انڈیا کے اخبار پھیلائے اس کے تراشے کاٹ رہا تھا۔ اونچا لمبا، صحت مند نوجوان اور سرپربرائون رنگ کے بالوں کا گھنا چھتا۔ حمید اختراب یہ جملہ پڑھے گا تو اسے اپنے خوب صورت گھنے بال بہت یاد آئیں گے ، کیونکہ اب اس کے سر سے بالوں کا سایہ اٹھ چکا ہے۔
دبلا پتلا گورا چٹا خوب صورت عبداللہ ملک خبروں کا ترجمہ کر رہا تھااور بار بار ماتھے پر آتے ریشمی بالوں کو پیچھے ہٹا رہا تھا۔ ایک جانب عبدالشکوراحسن بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔ حمید ہاشمی اور کرمانی ابھی نہیں آئے تھے۔ ہم کچھ دیر بیٹھے حمید اختر اور عبداللہ ملک سے باتیں کرتے رہے۔ حمید اختر نے چائے کی چینک منگوالی اور ہم چائے پینے لگے۔
امروز کے دفتر سے باہر نکلے تو میرا خیال تھا ابن انشائ فروٹ کیک والی بات بھول گیا ہوگا۔ میں سویرا کے دفترکو جانے کے لیے گوالمنڈی کی جانب مڑنے لگا توابن انشائ نے کہا۔
’’کوالٹی ریسٹورنٹ ادھر نہیں ادھر ہے۔‘‘
ہم کوالٹی ریسٹورنٹ میں آ کر بیٹھ گئے۔
شیشوں کے پیچھے سے میکلوڈ روڈ والے پیپل کے گھنے درخت نظر آ رہے تھے۔ کسی وقت کوئی تانگہ گزر جاتا۔ بہت کم لوگ آ جا رہے تھے۔ پیپل کے پتے بڑے ہرے بھرے تھے۔ کچھ شاخوں پر نسواری رنگ کی نئی نئی کونپلیں بھی پھوٹی تھیں۔ شاید بہار کا موسم تھا۔ یعنی چیت بیساکھ کا مہینہ تھا۔
ان دنوں نہ گرمی لگتی تھی نہ سردی۔ ہر موسم پر بہار کے موسم کا گمان ہوتا تھا۔ مجھے یاد ہے یہ ان ہی دنوں کی بات ہے، میں کافی ہائوس میں اکیلا بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا کہ مضبوط تن و توش والا باکسر نما صفدر میر اندرآیا اور میری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا۔
’’ارے تو یہاں بیٹھا ہے اور باہر اتنی خوب صورت لو چل رہی ہے۔‘‘
ہاں ۔ ان دنوں مئی جون کی تپتی ہوئی دوپہریں، گرم لوئیں اور پوہ ماگھ کے مہینوں میں چلنے والی سرد برفیلی ہوائیں، یہ سب کچھ بڑا اچھا لگتا تھا۔
موسموں میں ہمارے بدن کی خوشبو تھی۔ گرم لوئیں ہمارے سانس کا ایک جھونکا تھیں۔ دسمبر کی سرد ہوائیں ہمارے جسموں سے چھو کرگرم ہو جاتی تھیں اور بہار کی ہوائیں ہمیں اپنے ساتھ ساتھ اڑائے لیے پھرتی تھیں۔ پیپل کے زرد اور سرخ پتوں کی طرح ہم موسموں کے ساتھ ساتھ جوان ہوتے تھے۔
ہر موسم کا طلوع ہوتا سورج ہم سے ہاتھ ملاتا تھا۔ آدھی رات کے ستارے ہمیں لاہور کی سنسان سڑکوں پر مٹرگشت کرتے دور سے پہچان لیتے تھے اور ہم ستاروں کو دیکھ کر وقت بتا دیا کرتے تھے۔ گرم لوئیں ہمیں ٹھنڈا رکھتی تھیں۔ سرد ہوائیں ہمیں گرم کر دیتی تھیں۔ بہار کی ہوائیں ہمیں اعتدال بخشتی تھیں اور راتوں کی آوارہ گردی ہمیں دن کو نئے نئے خیال عطا کرتی تھی۔
لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ موسموں کا ہاتھ ہمارے ہاتھ سے چھوٹ گیا ہے۔ خزاں ، بہار اور پت جھڑ کا تیر ہماری کمان سے نکل گیا ہے۔ اب ہم صبح دیکھتے ہیں۔ سورج طلوع ہوتا نہیں دیکھتے، رات دیکھتے ہیں۔ ستارے نہیں دیکھتے۔ موسم ہمارے ایئرکنڈیشنڈ اور سنٹریلی ہیڈڈ کمروں کے دروازوں پر دستکیں دے کر گزر جاتے ہیں۔
گرمیوں میں ہم اپنی ایئرکنڈیشنڈ خواب گاہوں میں کمبل اوڑھ کر سوتے ہیں اور سردیوں میں ہم اپنے سنٹریلی ہیڈڈ کمروں میں بغیر لحاف کے سوتے ہیں۔ ہم نے موسموں کو دھوکا دیا ہے ۔ ہم نے موسموں کا مذاق اڑایا ہے ، لیکن موسموں کی بھی اپنی عزت نفس ہوتی ہے۔ ہم نے ان کی عزت مجروح کی۔ انہوں نے ہم سے انتقام لیا۔ ہم نے انہیں چکر میں ڈالا ، انہوں نے ہمیں بے راہرو کر دیا۔ موسم تو اپنی جگہ پر کھڑا رہا ۔ مگر ہم اپنے مدار سے ہٹ گئے۔
ابن انشائ میرے سامنے بیٹھاتھا۔ ابھی وہ اپنے مدارسے ہٹا نہیں تھا۔ ابھی موسموں کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا۔ ابھی اسے گرمی لگتی تھی۔ سردی محسوس ہوتی تھی۔ وہ پھولوں کی خوشبو محسوس کرتاتھا۔ اسے طوطوں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں اور ہم دونوں کی زمین ایک ہی سورج کے گرد چکر لگارہی تھی۔
ہمارا مدار ایک ہی تھا۔ چائے آگئی۔ میں چائے بنانے لگا۔ میں نے ابن انشائ سے کہا کہ فروٹ کیک کی جگہ کریم رول کیوں نہ منگوالیں؟
کہنے لگا۔ نہیں ، فروٹ کیک مہنگا ہوتاہے، وہی منگواؤ۔
میں ابن انشائ کو چھیڑ رہا تھا۔ مجھے اس سے پیار تھا۔ اور اس کی دوستی مجھے بڑی عزیز تھی۔ اس کی صحبت میں بیٹھنے کے لیے میں موقعے ڈھونڈ ا کرتا تھا۔ ان دنوں وہ بھی اتنا مصروف نہیں ہوا کرتا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ہم بہت کم ایک دوسرے سے الگ رہتے تھے۔ صبح نو بجے سے چکر شروع ہوتا۔ کبھی امروز کے دفتر میں تو کبھی ’سویرا‘ کے دفترمیں اور کبھی ’ادب لطیف‘ کے دفتر میں۔ یہاں سے فراغت ملتی تو لاہور کی گلیوں میں گشت لگانے نکل کھڑے ہوتے ۔
شام کوٹی ہاؤس یا کافی ہاؤس میں محفلیں لگتیں۔ سب ہی دوست وہاں موجود ہوتے۔ کیسی کیسی پیاری صورتیں بٹھاکر تی تھیں۔ کسی کونے میں انور جلال شمزا کے قہقہے گونج رہے ہیں۔ کہیں تنصیر الحسنین کی لطیفہ بازیاں اور فقرے بازیاں ہورہی ہیں۔ کہیں احمد بشیر بلند آوا زمیں باتیں کررہاہے اور کہیں ناصر کاظمی اپنی تازہ غزل سنارہاہے۔
سیڑھیوں کے ساتھ والی میز پر قیوم نظر نے منڈلی جمارکھی ہے۔ لیجیے۔ ٹی ہاؤس کا دروازہ کھلا اور صفدر میر بھی اپنے پاؤں جھاڑتا، موٹی موٹی آنکھوں سے ماحول کا جائزہ لیتا اندر آگیا۔ حمید اختراور سبط حسن نے اسے اشارے سے ا پنی طرف بلالیا ہے۔ اب فضا میں کبھی کبھی صفدر میر کا صحت مند طوفانی قہقہ بھی گونج اٹھتاہے۔ اتنے میں م حسن لطیفی بھی اپنا لمبا کوٹ سنبھالتے اندر آگئے ہیں۔ وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے۔ لطیفی صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ لدھیانہ کا اصل نام ارض لدھ ہے اور اس کا ذکر بائبل میں ملتاہے۔
ابن انشائ نے کہا۔
’’پھلور کا ذکر تو ریت میں ملتاہے۔ اس کا اصل نام ’’پھل اور‘‘ تھا۔ حضرت موسیٰ نے جب اپنے آدمیوں کی وادی سینا کے شمال کی طرف روانہ کیا تو واپس آکر انہوں نے انگور کے گچھے اور سرخ سیبوں کی ٹوکریاں پیش کیں اورکہا کہ یہاں سے دو دن دو رات کی مسافت پر ایک بستی ہے جس کے باغ پھلوں سے لدے ہوئے ہیں پس حضرت موسیٰ کے ایک حواری نے اس کا نام ، پھل اور ، رکھ دیا اور جو بگڑے بگڑتے پھلور بن گیا۔‘‘
’’بھائی !یوں تو ہر شہر کانام کسی نہ کسی کتاب میں مل جائے گا۔‘‘ انور جلال نے ساتھ والی میز سے آواز لگائی۔
’’یار ذرا چوہڑکانہ کا نام تلاش کرنا کہ کون سی کتاب میں ہے؟‘‘
ابن انشائ بولا۔
’’یار !تحقیق کا سارا کام مجھے ہی کیوں سونپ دیا۔ کچھ تم بھی تو ہمت کرو۔‘‘
سب نے پیسے ڈال کر چائے منگوائی اور چائے کی گرمی میں محفل اور زیادہ گرم ہوگئی۔
بات میں کوالٹی ریسٹورنٹ کی کررہاتھا۔
ابن انشائ اس وقت میرے سامنے بیٹھا چائے پی رہاتھا۔ میں بھی چائے پی رہاتھا ۔ہم فروٹ کیک بھی کھارہے تھے۔ ابن انشائ نے جیب سے ایک میٹھی گولی نکال کر مجھے دی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ میں نے پوچھا۔
’’یہ کیسی گولی ہے؟‘‘
کہنے لگا۔
’’برخوردار! پوچھا نہیں کرتے۔ یہ پیپر منٹ کی گولی ہے۔ تمہار اگلا سہگل کے موافق ہوجائے گا۔ کھا جاؤ۔‘‘
ابن انشائ بھنے ہوئے چنوں، ریوڑیوں، کھٹی میٹھی گولیوں اور اس قسم کی نقل کے طورپر کام آنے والی چیزوں کا بڑا شوقین تھا۔ چلتے چلتے کسی ریڑھی والے کے پاس کھڑا ہوجاتا۔
’’یار ! تھوڑی سی گنڈیریاں لے لیں۔ چلتے بھی جائیں گے اور چوستے بھی جائیں گے۔‘‘
پان اسے کھانا بالکل نہیں آتا تھا۔ پان وغیرہ کا اسے شوق بھی نہیں تھا۔ بس کسی نے زیادہ اصرار کرکے کھلادیا تو کھالیا۔ ہاں جب ہم ڈھاکے گئے تو وہاں اس نے دو ایک بار بڑے شوق سے پان کھایا تھا۔ کراچی میں آباد ہونے کے بعد بھی میرا خیال ہے، اسے پان کھانے کی عادت نہیں پڑی تھی۔ وہ پان اس طرح کھاتا جسے اسے کوئی مصیبت پڑ گئی ہے۔ پان اس کے منہ سے باہر آنے کی کوشش کرتا اور وہ اسے اندر نگلنے کی کوشش کیاکرتا۔ پیک تھوکتے وقت وہ دونوں باتھ سینے پر باندھ کر آگے کو جھک جاتا اور بڑی احتیاط سے جھک کر بلکہ بیٹھ کر تھوکتا۔ میں اسے کہا کرتا:
’’یار تم گلے !میں تو بڑا باندھا کرو۔‘‘
وہ ہنس کر کہتا:
’’ہم وضع دار لوگ ہیں۔ پان کھانے میں ہرممکن احتیاط سے کام لیتے ہیں۔‘‘
پھر پٹر پٹر آنکھیں جھپکاکر کہتا۔
’’یار !ویسے پان ایسی چیز خود کھانے سے بہتر ہے کہ کسی دوسرے کو کھلا کر اس کا تماشا دیکھا جائے۔‘‘
ایک دن ہم گوالمنڈی کے چوک سے گزررہے تھے۔ ابن انشائ نے ایک جگہ گول گپے والے کو دیکھا تو وہاں رک گیا۔
’’گول گپے کھاتے ہیں۔‘‘
ریڑھی والے نے ایک ایک پیالی ہمارے ہاتھوں میں تھمادی اور کھٹاس سے بھربھر کر گول گپے مع چند ایک کالے ابلے ہوئے چنوں کے ہماری پیالیوں میں رکھنے لگا۔ گول گپے کھاتے کھاتے ابن انشائ نے بڑے غور سے کھٹاس میں ڈوبے کالے چنوں کو دیکھا اور بولا۔
’’یار! یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ کالے چنے کس خوشی میں ساتھ دیتے ہیں؟ یہ تو ہم بھی مانتے ہیں کہ بکری مینگنیاں ڈال کر دودھ دیتی ہے۔ لیکن یہ دکان دار کالے چنے ڈال کر گول گپے کیوں دیتاہے۔‘‘
میں پھر واپس کوالٹی ریسٹورنٹ میں چلتا ہوں۔‘‘
ابن انشائ میرے سامنے بیٹھا چائے پی رہاتھا اور گولی بھی چوس رہاتھا۔ سگریٹ وہ نہیں پیتا تھا ، لیکن کبھی کبھی. بہت شاذونادر. کسی دوست سے سگریٹ لے کر پی لیتا تھا۔ سگریٹ کو وہ یوں آگ دکھاتا جیسے ابھی بھک سے اڑجائے گا۔ پھر جو وہ سگریٹ کا حشر کرتا ،میں اسے بیان نہیں کرسکتا کیوں کہ مجھے سگریٹ سے بہت محبت ہے اور اس کا یہ حشر دیکھ نہیں سکتا تھا۔
اس روز کوالٹی ریسٹورنٹ میں مجھے سگریٹ دیکھ کر اس نے خلاف معمول مجھے سگریٹ پینے سے منع کرنے کی کوشش کی۔
’’اے حمید! سگریٹ کے بجائے جوس پیا کرو۔‘‘
میں نے کہا۔’’جوس بھی پیتا ہوں۔‘‘
کہنے لگا۔
’’وہ تو مجھے پتاہے۔ تم امرتسری پہلوان کی اولاد ہو۔ دہی کا ادھڑ کا بھی پیتے ہو۔ جوس پیتے تو میں نے خود تمہیں دیکھاہے بلکہ میں نے تمہیں کئی بار جوس والے کی ریڑھی کے پاس مالٹوں کے چھلکے کھاتے بھی دیکھاہے کیونکہ بقول کرشن چندر مالٹو ں کے چھلکوں میں وٹامن زیادہ ہوتے ہیں۔
اگر تم اس باقاعدگی سے ہرسیزن میں مالٹے کے چھلکے کھاتے رہے تو ایک نہ ایک دن ضرور دودھ دینے لگوگے۔‘‘
ابن انشائ باتیں کرتا رہا ،خود بھی ہنستا رہا۔ مجھے بھی ہنساتا رہا۔ پھر میرے افسانوں پر گفتگو شروع ہوگئی۔ میرا نیا افسانہ’’منزل منزل‘‘ ادب لطیف کے سالنامے میں چھپاتھا۔ ابن انشائ کا ن میں ماچس کی سلائی گھماتے ہوئے بولا:
’’اس کہانی میں مجھے وہ منظر بڑا پسند آیا جہاں راجدہ ڈیوڑھی میں بیٹھ کر جھابڑی والے سے کھٹے سنگترے خریدتی ہے۔‘‘
پھر پوچھنے لگا:
’’یہ راجدہ لڑکی جو ہے . میرا مطلب ہے کہ یہ ریحانہ نہیں ہے ناں؟‘‘
پھر خود ہی بولا۔
’’لیکن ریحانہ تو بقول تمہارے کینرڈ کالج میں پڑھتی ہے۔ وہ راجدہ نہیں ہوسکتی۔ اچھا ایک بات ہے ۔ کمینے یہ بھولی بھالی لڑکیاں تمہارے فریب میں بہت آجاتی ہیں۔‘‘
میں نے کہا۔
’’خدا کی قسم میں نے آج تک کسی لڑکی کو فریب نہیں دیا۔‘‘
گردن ہلاکر مسکراتے ہوئے بولا۔
’’بکواس مت کرو کمینے۔‘‘
’’تمہارے لیے چائے اور بناؤں؟‘‘
’’نہیں ،فروٹ کیک منگواؤ۔‘‘
ہاف سیٹ چائے اور فروٹ کیک بھی آگیا۔ میکلوڈروڈ کے پیپل کے درختوں میں ہوا سرگوشیاں کررہی تھی۔ ابن انشائ چائے کی چسکیاں لے رہاتھا۔ میں نے ’منزل منزل‘ کی ہیروئن راجدہ کی کوئی بات کی تو بولا۔
’’یار! راجدہ کا جو ناک نقشہ تم نے کھینچا ہے اسے دیکھ کر مجھے پھلور کی ایک لڑکی کا خیال آتاہے۔‘‘
بس اس سے آگے ابن انشائ نے کچھ نہ بتایا۔ اپنی رومانٹک زندگی کے بارے میں کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں نے جب بھی کریدنا چاہا، وہ ٹال جاتا اور کوئی دوسری بات شروع کردیتا۔ بہت دونوں بعد جب وہ کراچی آچکا تھا تو اس نے مجھے ایک چھوٹی سی رومانٹک داستان سنائی۔ پھر اس نے مجھ سے مشورہ لیا۔
میں نے ایسا مشورہ دیا کہ تختہ ہی الٹ گیا۔ ابن انشائ مجھے گالیاں دیتا رہ گیا۔ ویسے اسے گالی دینا نہیں آتی تھی۔ مجھے صرف ایک گالی دیا کرتا۔
’حرامزادے‘ . اور یہ گالی جب بھی میں اس کی زبان سے سنتا تو مجھے بڑی خوشی ہوتی۔ یوں لگتا جیسے وہ مجھے کوئی اعزاز دے رہاہے۔
میں نے ابن انشائ سے کہا۔
’’پرسوں ریحانہ کاکانووکیشن ہے۔ اسے بی اے کی ڈگری مل رہی ہے۔‘‘
’’میرے ساتھ تم بھی چلنا۔ بڑا مزہ رہے گا۔‘‘
ابن انشائ اپنی ٹائی کی گرہ ٹھیک کرتے ہوئے بولا۔
’’کمینے ! تم تو اس کے بھائی بن کر چلے جاؤ گے میں کیابن کر جاؤں گا۔‘‘ اور میں نے ابن انشائ کو وہی گالی دی جو وہ مجھے دیا کرتا تھا۔
اے حمید کی کتاب
(ابن انشا ، یادیں، باتیں، بہار، خزاں کا ایک باب )
٭٭


