انشاء جی کالم – ابن انشاء

Inb-e-Insha 70

دنیا میں یہ بحث ہمیشہ سے چلی آرہی ہے کہ انڈا پہلے یا مرغی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں انڈا۔ کچھ کا کہنا ہے مرغی۔ ایک کو ہم مرغی اسکول یا فرقہ مرغیہ کہہ سکتے ہیں۔ دوسرے کو انڈا اسکول ، ہمیں انڈا اسکول سے منسلک سمجھنا چاہیے۔ ملت بیضا کا ایک فرد جاننا چاہیے۔ ہمار عقیدہ اس بات میں یہ ہے کہ اگر آدمی تھانیدار یا مولوی یعنی فقیہہ شہر ہو تو اس کے لیے مرغی پہلے اور ہم ایسا غریب شہر ہو تو اس کے لیے انڈا پہلے ۔ اور غریب شہر سے بھی گیا گزرا ہو تو نہ اس کی دسترس مرغی تک ہوسکتی ہے نہ انڈا اس کی گرفت میں آسکتاہے۔ اسے اپنی ذات اور اس کی بقا کو ان چیزوں سے پہلے جاننا چاہیے۔ پہلے مقدم رکھنا چاہیے۔

ایک زمانے میں ہمار ادھیان کبھی مرغی کی طرف بھی جایا کرتا تھا۔ لیکن جب سے بکری کے دام گائے کی قیمت کے برابر ہوئے ہیں اور مرغی ، بکری کے دام پانے لگی ہے اور انڈا مرغی کے بھاؤ دستیاب ہونے لگا ، ہمارے لیے انڈا ہی مرغی ہے۔ ہم وحدت الوجود کی منزل میں آگئے ہیں۔ انڈا یوں بھی بڑی خوبیوں کی چیز ہے۔ اس میں سفیدی ہوتی ہے۔ اس میں زردی ہوتی ہے۔ اس میں چونا ہوتاہے۔ اس میں پروٹین ہوتی ہے۔ اسے دانہ نہیں ڈالنا پڑتا ۔ یہ بیٹ نہیں کرتا۔ بلیاں اس کی جان کی خواہش نہیں ہوتی ہوتیں۔ اس کے لیے ڈربہ نہیں بنوانا پڑتا۔ اس کے خول پر رنگ کرکے اسے گھر میں سجا سکتے ہیں۔ ہاں کبھی کبھی یہ گندا ضرور نکل جاتاہے۔ سوا اسے آسانی سے اٹھاکر باہر گلی میں پھینکا جاسکتا ہے۔

علامہ اقبال بھی جب نئی تہذیب کے کسی گندے انڈے کو دیکھتے تھے، یہی کہا کرتے تھے افسوس کہ پرانی تہذیب کے گندے انڈوں کے متعلق انہوں نے اپنے کلام میں کوئی واضح ہدایات نہیں چھوڑیں۔ اس لیے ان کے عقیدت مندان کو سنبھال سنبھال کر رکھے جارہے ہیں۔

اقبال کے ایک شارح نے تو اس شعر کی مدد سے علامہ اقبال کی گھریلو زندگی پر بھی پورا مقالہ لکھ دیاہے۔ آج کل دستور یہی ہے کہ غالب کی زندگی معلوم کرنی ہے تو اس کے دیوان سے اخذ کرو کہ وہ شہر میں بے آبرو پھر اکرتے تھے۔ دھول دھپا اور پیش دستی کیا کرتے تھے درکعبہ سے الٹے پھر آیا کرتے تھے، سیدھے نہیں اور مرنے کے بعد بھی بولا کرتے تھے۔

’’ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

وغیرہ وغیرہ۔ ان صاحب نے لکھا ہے کہ علامہ اقبال ایک روز بازار سے نئی تہذیب کے چند انڈے لے کر آئے ۔ ان کی بیوی آملیٹ بنانے بیٹھیں تو انہیں ، دوسرا مصرع پڑھنا پڑا۔

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

اس پر علامہ موصوف نے ترکی بہ ترکی یعنی مصرع بہ مصرع ہدایت کی کہ

ان کو اٹھاکر پھینک دو باہر گلی میں ۔

یہ تحقیق یہاں ختم نہیں ہوجاتی کیونکہ اتنی سی بات کو ہر عامی بھی سمجھ سکتا ہے۔ شارح موصوف کا کہناہے کہ شاعر کا گھر کسی گلی میں تھا۔ یہ شعر لازماً ’’ ان دنوں کا ہے۔ جب علامہ مرحوم نے میوروڈ پر ابھی اپنی کوٹھی نہیں بنائی تھی۔ ورنہ وہ یہ فرماتے کہ۔

اٹھاکر پھینک دو باہر سڑک پر

جناب محقق نے علامہ اقبال کی زبان میں نقص بھی دریافت کیاہے کہ باہر کا لفظ زاید ہے کیوں کہ گلی گھر کے اندر نہیں ہوتی۔ مزید لکھا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ہر معاملے میں خوامخواہ اپنی رائے دینے کی عادت تھی۔ ورنہ گندے انڈے کو گلی میں پھینکنے کا فیصلہ ان کی بی بی خود بھی کرسکتی تھیں۔

شارح موصوف نے یہ بھی لکھاہے کہ یہ شعر علامہ اقبال مرحوم کے ابتدائے جوانی کاہے۔ جب انہیں پہلوانی، کسرت اور کرتب بازی سے دلچسپی تھی۔ وہ بھاری بھاری وزن کو اٹھاکر دو چار بارگردش دیتے تھے۔ پھر پھینکتے تھے۔ یہ ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی۔ اس لیے کہاہے کہ ’’اٹھاکر پھینک دو۔‘‘ صرف پھینک دو کہنا کافی نہیں سمجھا۔ معاملہ انڈوں ہی کا کیوں نہ تھا۔ ہمارے خیال میں اس شعر سے ابھی اور معنی نچوڑ نے کی بھی گنجائش ہے۔

علامہ مرحوم کو اپنے باطن کی صفائی کی طرف زیادہ دھیان رہتا تھا۔ باہر کی صفائی کا کچھ خیال نہ کرتے تھے ورنہ وہ یہ کبھی نہ فرماتے کہ انڈے اٹھاکرباہر گلی میں پھینک دو۔ انہیں کوڑے کے ڈرم میں پھینکنا چاہیے تھا۔ باہر کسی بھلے آدمی کی اچکن پر گرجاتے تو بڑا فضیحتہ ہوتا۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری قوم کو علامہ مرحوم کی ہر ہدایت پر آنکھ بند کرکے عمل کرنا چاہیے۔ ہماری رائے میں اپنی عقل کا واجبی استعمال بھی کرلینا چاہیے۔ تھوڑی احتیاط بھی لازم ہے۔ ہر خوشہ گندم کو جلانے، مرمر کی سلون سے ناخوش وبیزار ہونے، اس رزق سے موت اچھی ہونے اور گندے انڈے گلی میں اٹھاکر پھینک دینے کے متعلق اشعار اس کی محض چند مثالیں ہیں۔

آج انڈوں کی طرف رہ رہ کر ہمارا دھیان جانے کی کئی وجہیں ہیں۔ ایک تو سردی، دوسرے حکومت کا یہ اعلان کہ گوشت اور دودھ کی طرح انڈوں کی بھی قیمتیں مقرر کی جارہی ہیں تاکہ مقررہ قیمتوں پر نہ ملیں۔ تیسرے شاد عارفی مرحوم کا ایک نادرہ کا ر شعر ہماری نظر سے گزرا ہے۔صیاد اور قفس اور نشیمن کے مضمون بہت شاعروں نے باندھے ہیں۔ نئے رنگ اور نئے ڈھنگ سے بھی باندھے ہیں۔ خود علامہ اقبال مرحوم نے بھی ایک بلبل کی فریاد لکھی ہے لیکن اس مضمون کے جملہ تعلقات پر کسی کی نظر نہیں گئی تھی۔ فرماتے ہیں شاد عارفی رام پوری۔

انہیں بھی ساتھ لیتا جاتا، کہیں ٹکیاں بنالینا

ارے صیاد دو انڈے بھی رکھے ہیں۔ نشیمن میں

انڈے کا مضمون تو ختم ہوا لیکن اپنے دوست عنقا کے شکریے کے ساتھ شادعارفی مرحوم کے چند اور اشعار ۔

تا چند باغبانی صحرا کرے کوئی

لیکن سوال یہ ہے کہ پھر کیا کرے کوئی

جناب شیخ ہی اب رہ گئے ہیں لے دے کے

وہ دن گئے کہ کسی برہمن پہ چوٹ کروں

ستم گر کو میں چارہ گر کہہ رہاہوں

غلط کہہ رہاہوں مگر کہہ رہاہوں

کانٹے چنے جو ہم نے سر راہ کوئے دوست

جھگڑا یہ ہے دکھاؤ ہمیں، کیا اٹھالیا

جفا وجور کو خوبی تو ہم سمجھتے ہیں

حکومتوں میں نہیں بلکہ مہ جبینوں میں

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں