آپریشن – ابن انشاء

Inb-e-Insha 70

اخبار جہاں میں ایک مراسلہ د یکھا کہ وطن عزیز میں ایک سرجن نے ایک مریض کا آپریشن کیا اور وہ صاحب تندرست ہوکر ٹانکے لگواکر گھر چلے گئے۔ لیکن تھوڑے دنوں بعد پیٹ میں درد کی شکایت شروع کردی۔ عزیزوں نے سوڈا واٹر پلوایا۔ چورن کھلوایا۔ جلاب دیا، لیکن شکایت رفع نہ ہوئی۔ اسی عطار سے یعنی اسی ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اس نے کہا۔

’’بابا میرا کام آپریشن کرناہے۔ پیٹ کا درد دور کرنا نہیں ہے۔ معلوم ہوتاہے مریض کو وہم ہے اور اس کا علاج جدید ڈاکٹری میں کیا ،قدیم طب تک میں نہیں ہے۔ اس کے آگے حکیم لقمان تک جو زنانہ ومردانہ، پیچیدہ وغیرپیچیدہ وغیر سنجیدہ، دیرینہ وغیر دیرینہ امراض کے مریضوں کا آخری سہارا تھے۔ لاچار تھے۔‘‘

عزیزوں کے پر زور اصرار پر ایکسرے کرایا گیا تو آنتوں کے درمیان ایک قینچی نظر آئی۔ آپریشن کرنے والے ڈاکٹر نے کہا۔

’’بابا یہ بھی تمہارا واہمہ ہے۔ پیٹ کے ا ندر بعض ہڈیاں قینچی کی شکل کی ہوتی ہیں۔‘‘

لیکن آج کل زمانہ ایسا آن لگا ہے کہ لوگ ڈاکٹر کی زبان کا کم ایکسرے کا زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر صاحب اپنے فن کے ماہر ہیں۔ جس کی شہادت ان کے مریض دیں گے۔ جن میں سے آدھے اس دنیا میں ، آدھے اس دنیا میں بے تابی سے ان کا انتظار کررہے ہیں۔

آخر ایک دوسرے سرجن نے آپریشن کیا اور

اسے حسن اتفاق کہیے کہ قینچی نکل بھی آئی۔

٭٭٭

اتنی سی بات تھی جسے لوگوں نے یعنی مذکورہ مریض کے لواحقین نے بصورت دیگر ان کے پسماندگان کہلاتے ہیں افسانہ کردیا۔ آخر قینچی ہی تو تھی کلہاڑا تو نہیں تھا۔ اور یہ پہلے ڈاکٹرکی دیانت اور سیر چشمی نہیں تو کیاہے کہ انہوں نے قینچی کو دیکھ کر کہا یہ میری نہیں ہے۔ مریض چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ سکتاہے۔ا گر بالفرض یہ ان ڈاکٹر صاحب کی تھی بھی تو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس نے مریض کے پیٹ میں اپنی طرف سے کچھ ڈالاہی، کچھ نکالا تو نہیں۔ اگر مریض کے پیٹ میں پہلے سے قینچی ہوتی اور ڈاکٹر صاحب اسے نکال کر اپنی جیب میں ڈال لیتے تو البتہ اعتراض کی بات ہوتی۔ مریض کو تو خو ش ہونا چاہیے کہ اسے بیٹھے بٹھائے اتنی اچھی چیز مل گئی۔ ہم نے پچھلے دنوں آپریشن کرایا۔ اس میں تو کچھ نہیں نکلا جو ہمارے کام آسکتا ۔

بہرحال یہ اپنی ا پنی قسمت ہے۔ قینچی کے بڑے فائدے ہیں۔ اس سے بال کاٹے جاسکتے ہیں۔ مونچھیں تراشی جاسکتی ہیں۔ کان کاٹے جاسکتے ہیں۔ ناخن کاٹے جاسکتے ہیں۔ لوگوں کے کپڑے کاٹے جاسکتے ہیں۔ پورے کپڑوں کے علاوہ خالی جیبیں بھی کاٹٰ جاسکتی ہیں اور بے روزگاری کا مسئلہ حل کیاجاسکتاہے۔ اس کے علاوہ کسی کارخانے وغیرہ کے افتتاح کا فیتہ کاٹنے کے لیے بھی قینچی درکار ہوتی ہے۔ اس کے بغیر کارخانہ نہیں چل سکتا۔ گویا ساری مشینیں ایک طرف اور قینچی ایک طرف۔ انسان کا رشتہ حیات جلد قطع کرنے کے لیے سگریٹ مجرب اور آزمودہ چیز ہے۔ شاید اسی لیے ایک مشہور سگریٹ کانام قینچی رکھاگیا ۔

٭٭٭

آدمی تھوڑا سا (زیادہ نہیں) لکھا پڑھا ہو تو قینچی کی بدولت نامی گرامی جرنلسٹ بھی بن سکتاہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ فی زمانہ ایڈیٹریا جرنلسٹ یا کالم نگار بننے کے لیے قلم اتنا کام نہیں آتا جتنی قینچی کام آتی ہے۔ بعض اخبار تو پورے کے پورے قینچی سے مرتب ہوتے ہیں۔ ایک بزرگ نے تو اسی حقیقت کے اعتراف میں اپنے اخبار کانام ہفت روزہ قینچی تجویز کیاتھا۔ حضرت اسلام سلمانی بی اے نے ان کو مبارکباد کا تار بھیجا۔ جس میں اپنے تعاون کا یقین دلایا تو ان کو یہ نام بدلنا پڑ اکہ کہیں لوگ اس کو باربر برادری کا اخبار نہ سمجھ لیں۔ کیونکہ فی الحال ہمارے معاشرے میں بال کاٹنے والوں کے مقابلے میں بال کٹوانے والوں بلکہ بال نہ کٹوانے والوں کی اکثریت ہے۔ یہ ظاہرہے کہ جو لوگ اپنے سر کے بال کٹوانے سے کتراتے ہیں وہ ہفت روزہ قینچی کی سرپرستی کیوں کرنے لگے۔

قینچی سے اخبار مرتب کرنے میں فائدہ یہ ہے کہ مضمون نگاروں کی خوشامد نہیں کرنی پڑتی اور کاتبوں کے ناز نہیں اٹھانے پڑے۔ تراشہ نیچے رکھا اور اس کی فلم نکالی اور جوڑ دی۔ حوالہ دینے کا ہمارے ملک میں رواج نہیں۔ حالانکہ دوسرے ملکوں میں حوالہ نہ دینے والوں کو حوالہ پولیس تک کیاجاسکتاہے۔ بہت مہربانی کی تو مثال کے طورپر خبر یا فیچر کے شروع یا آخر میں بریکٹ میں لکھ د یا(الف۔ ج) یہ انشاجی یا اللہ جوایا بھی ہوسکتاہے۔ جس نے اخبار ہذا کے لیے نامہ نگار کے طورپر محنت شاقہ سے خبر حاصل کی یا مضمون بنایا اور تحقیق کریں تو اخبار جنگ میں جہاں سے وہ تحریر کاٹی گئی۔ایسا بھی ہو اکہ کہیں سے کوئی غزل تراشی گئی تو شاعر کا نام کٹ کر اصل اخبار یا رسالے ہی میں رہ گیا اور ایڈیٹر کو ازراہ ایثار اس پر اپنا نام دینا پڑا۔ بقول شخصے نام میں کیا دھرا ہے۔ لوگوں کو تو شعر پڑھنے سے یعنی آم کھانے سے مطلب ہے، پیڑ کون گنتا ہے۔

اس معاملے کا ایک قانونی پہلو بھی ہے۔ اس مریض سے دریافت کرنا چاہیے کہ اس نے اتنے دن یہ قینچی کیوں اپنے پیٹ میں چھپائے رکھی۔ یہ اسپتال کی جائیداد تھی۔ مریض کے باوا کا مال نہیں تھا۔ اسپتال میں اس کی کسی بھی وقت ضرور پڑسکتی ہے۔ کسی نرس کو اپنے ناخن کاٹنے ہوں، بھنویں تراشنی اور چتون، تیکھی کرنی ہو، کسی ڈاکٹر کو اخبار سے معمہ کاٹنا ہو کہ آپریشن بھی کرتے جائیں، دل بہلانے کے لیے غور وفکر بھی کرتے جائیں کہ ذیل کے فقرے میں۔

اکبر کے زمانے میں .اور بکری ایک گھاٹ میں پانی پیتے تھے ۔خالی جگہ میں لفظ ’’ شیر ‘‘ لکھنا زیادہ مناسب ہوگا یا ’’بھیڑ‘‘ زیادہ موزوں رہے گا۔ جو محاورے سے دور، لیکن عقل کے زیادہ قریب ہے۔ بہرحال اس مریض کے خلاف پرچہ کٹنا چاہیے اور اسی قینچی سے کٹنا چاہیے۔ تاکہ آئندہ کوئی مریض چھری، چاقو، قینچی، بستر کی چادر، تکیہ، ڈاکٹر صاحب کی عینک، اسٹیتھسکوپ ، نرس کی نیل پالش یا لپ اسٹک، وارڈ بوائے کی نسوار کی ڈبیہ یا فلمی گانوں کی کاپی اٹھاکر پیٹ میں نہ رکھ لے۔ آج کل کے مریضوں کا کچھ اعتبار نہیں۔ا یک مریض کے پیٹ میں تو آپریشن کرنے پر داڑھی نکلی۔ تحقیق پر معلوم ہوا کہ اس کی اپنی نہیں تھی۔ اس ڈاکٹر کی تھی۔ جنہوں نے کہیں پہلے ان کا آپریشن کیاتھا۔ بے چارے بہت دنوں لوگوں سے منہ چھپائے پھرتے رہے جب تک کہ نئی داڑھی نہیں آگئی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں