حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’اے عباس (رضی اللہ عنہ )کیا میں تمہیں ایسی عبادت کے بارے میں بتائوں کہ جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ تمہارے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، قصداً اور سہواًچھوٹے اور بڑے، چھپے اور ظاہر تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ تم روزانہ چار رکعت نماز تسبیح پڑھا کرو۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو جمعہ میں ایک بار (سات دنوں میں ایک بار) یہ بھی نہ کرسکتے ہو تو سال میں ایک دفعہ پڑھ لیا کرو۔ اگر یہ بھی نہ کرسکتے ہو تو مہینے میں ایک مرتبہ پڑھ لیا کرو اور اگر ایسا بھی نہ کرسکو تو پھر ساری عمر میں کم از کم ایک دفعہ یہ نماز پڑھ لو تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام گناہ معاف کردے گا۔‘‘
فوائد ومسائل:
آج کل کی بے پناہ مصروفیات میں نماز تسبیح کا روزانہ پڑھنا مشکل کام ہے حتیٰ کہ مہینے میں بھی ایک دفعہ اس کا اہتمام کرنے کا موقع شاید چند ہی خوش نصیب لوگوں کو ملتا ہوگا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تسبیح کی اتنی فضےلت بیان فرمائی ہے کہ اگر اسے سال میں ایک دفعہ بھی ادا کیا جائے تو اس کے بے پناہ اجر و ثواب سے مستفید ہوا جاسکتا ہے۔ لہٰذا اس بابرکت نماز کی ادائیگی کے لیے رمضان المبارک سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہوسکتا۔ ذرا سی توجہ اور کوشش سے رمضان المبارک میں جمعتہ المبارک سے قبل یا اس کے بعد چار رکعت نماز تسبیح با آسانی ادا کی جاسکتی ہے۔ اس طرح بابرکت اور بے پناہ اجر و ثواب کی حامل نماز کا اہتمام ممکن ہے۔
آپ چار رکعت نماز نفل اس طرح ادا کریں کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد اور کوئی دوسری سورت پڑھیں۔ اس کے بعد قیام کی ہی حالت میں کلمہ تمجید پندرہ بار پڑھیں۔
’’سبحان اللہ و الحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر‘‘
پھر رکوع میں جائیں۔ رکوع کی تسبیحات پڑھیں۔ پھر ان ہی کلمات کو دس بار دہرائیں۔ پھر رکوع سے اٹھ جائیں اور سمیع اللہ لمن حمدہ کے بعد دس بار یہی کلمات پڑھیں۔
پھر سجدے میں جائیں (سجدے کی تسبیحات اور دعائیں) پڑھنے کے بعد یہی کلمات دس بار پڑھیں۔ پھر سجدہ سے سر اٹھا کر جلسہ میں اور (جلسے کی دعائیں پڑھنے کے بعد) یہی کلمات دس بار پڑھیں۔
پھر دوسرے سجدے میں چلے جائیں اور سجدے کی تسبیح کے بعد دس بار یہی کلمات دہرائیں (پہلے سجدے کی طرح) پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور جلسہ استراحت میں کچھ اور پڑھے بغیر دس بار اس تسبیح کو دہرائیں۔
یوں ایک رکعت میں 75 تسبیحات ہوجائیں گی۔ اس طرح چار رکعت پڑھی جائیں گی۔
تشہد میں تسبیحات التحیات سے پہلے پڑھیں۔
اعتکاف
اعتکاف کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ انسان چند دنوں کے لیے دنیا کی مشغولیات اور مصروفیات سے قطع تعلق کرکے مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی بندگی اختیار کرتے ہوئے اس کا رنگ اپنے اوپر چڑھالے۔ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں مسجد میں معتکف ہونا مسنون عمل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری زندگی باقاعدگی سے اعتکاف میں بیٹھنے کا اہتمام فرماتے رہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
’’جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے، راتوں کو جاگتے، اپنے گھر والوں کو جگاتے اور اتنی محنت کرتے، جتنی کسی اور عشرے میں نہ کرتے۔‘‘ (بخاری و مسلم)
’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف فرماتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواج مطہرات بھی اعتکاف کرتی رہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)
فوائد وسائل
فائدہ: 1۔ اعتکاف تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کرنے کا بہترین نسخہ ہے۔ سال کے 365 دنوں میں انسان دنیا کے مسائل اور دیگر مصروفیات میںڈوبا رہتا ہے۔ اگران 365 دنوں میں صرف دس دن اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور اپنے سال بھر کے گناہوں اور خطائوں کی بخشش کے لیے وقف کردیے جائیں تو یہ کوئی مہنگا سودا نہیں۔
۔اعتکاف کے دس دنوں کے لیے الگ سے ایک خصوصی ٹائم ٹیبل ترتیب دیا جاسکتا ہے۔ جس میں چند گھنٹے آرام کے سوا زیادہ تر وقت تلاوت، مطالعہ قرآن پاک، مطالعہ حدیث، مطالعہ اسلامی کتب، حفظ اور ذکر و اذکار اور دیگر عبادت الٰہی میں گزارا جاسکتا ہے۔
شب قدر
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل کیا ہے اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزاروں مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ (القدر۔ 3-297)
یہ مبارک رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ اس رات کی فضیلت کو پانے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں عبادت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
ایک سال رمضان المبارک آیا تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’تم لوگوں پر ایک مہینہ آیا ہے جس میں ایک رات ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، وہ سارے کی سارے خیر سے محروم رہ گیا۔ اس رات کو خیر و برکت سے محروم وہی رہتا ہے جو واقعی محروم ہے۔‘‘ (ابن ماجہ)
فوائد ومسائل
فائدہ: 1۔ چونکہ آخری عشرہ شروع ہونے تک روزہ داروں کی کافی تربیت ہوچکی ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کو سونے سے کندن بنانے کے لیے رمضان المبارک کے آخری عشرے اور بالخصوص طاق راتوں میں لیلتہ القدر تلاش کرنے کا حکم دیا ہے۔
۔ اس حکم کا مقصد روزہ داروں کو زیادہ سے زیادہ عبادت الٰہی اور ذکر الٰہی کی ترغیب دینا ہے۔ چونکہ رمضان المبارک اپنی بھرپور رفعتوںکے ساتھ اختتام کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لیے قیام اللیل اور اعتکاف کے ذریعے تربیت دینا چاہتا ہے۔
۔ انسان کی تعلیم و تربیت کے لیے آسان سے مشکل کا اصول ایک کارگر نسخہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں پر یک لخت کوئی بوجھ ڈالنے کے بجائے ان کی تعلیم و تربیت ماہ رمضان المبارک میں اسی اصول یعنی آسان سے مشکل کے تحت کرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے دو عشروں کی نسبت آخری عشرے میں زیادہ ریاضت اور عبادت کی تاکید فرمائی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ. ’’میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ شب قدر کون سی ہے تو میں اس میں کیا پڑھوں؟‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’اللُٰھم انک عفو تحب العفو افاعف عنی‘‘
ترجمہ۔ ’’اے اللہ! بے شک تو بہت معاف کرنے والا ہے اور معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس تو مجھے معاف کردے۔‘‘
فائدہ۔ انسان سال کی 365 راتیں سو کر گزارتا ہے۔ اگر ان 365 راتوں میں ایک رات اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کی خاطر عبادت میں جاگ کر گزاری جائے تو اس کااجر و ثواب کا وعدہ ہزاروں راتوں کے برابر کیا گیا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اس سے بھی بڑھ کر اجر و ثواب دیتا ہے۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
نماز، روزہ اور حج کا تعلق زیادہ تر بدن سے ہے۔ لیکن زکوٰۃ اور صدقات کا براہ راست تعلق مال و دولت سے ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے۔
’’اور جو لوگ سونا چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ایک بڑی درد ناک سزا کی خبر سنادیجیے جو کہ اس روز واقع ہوگی کہ ان کو دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا پھر ان سے ان لوگوں کی پیشانیوں کو اور ان کی کروٹوں اور پشتوں کو داغ دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا یہ ہے وہ مال جس کو تم نے اپنے لیے جمع کر رکھا تھا۔ سو اب اپنے جمع کرنے کا مزا چکھو۔‘‘ (التوبہ۔ 35-34:9)
اسی طرح ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
’’تم ہر گز نیکی حاصل نہ کرسکو گے، جب تک وہ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرو جو تمہیں بہت عزیز ہے۔‘‘ (آل عمران۔ 92:3)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ ’’حضور صلی اللہ علیہ وسلم سارے انسانوں میں سب سے زیادہ فیاض اور سخی تھے، لیکن جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور فیاضی کی کوئی انتہا نہ رہتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فیاضی میں بارش لانے والی ہوا کی مانند ہوجایا کرتے تھے۔‘‘ (بخاری)
فوائد ومسائل
فائدہ: 1۔ راہ خدا میں صدقہ و خیرات سے جہاں مال کی پاکیزگی کا فریضہ ادا ہوتا ہے، وہیں اس سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور نعمتیں بارش کی مانند خرچ کرنے والوں پر برستی ہیں بلکہ اس سے معاشرے میں موجود طبقاتی تقسیم اور عدم مساوات کی خلیج کو بھی پاٹنے کا موقع ملتا ہے۔ غریبوں اور ناداروں کی مشکلات میں کمی لانے اور ان کی مالی اعانت کے لیے اللہ تعالیٰ نے معاشرے کے صاحب ثروت اور مال دار افراد پر ان کے مال و دولت کی پاکیزگی کی خاطر سال میں ایک دفعہ زکوٰۃ کی ادائیگی کو فرض قرار دیا ہے۔
۔ زکوٰۃ کے لغوی معنی پاکیزگی کے ہیں جبکہ شریعت کی رو سے زکوٰۃ مال کے اس حصے کانام ہے جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں بتائے ہوئے طریقے یعنی نصاب کے مطابق معاشرے کے صاحب ثروت افراد معاشرے کے غریب، نادار، مساکین اور ضرورت مند افراد میں تقسیم کرتے ہیں۔
۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ماہ رمضان المبارک بہترین مہینہ ہے۔ ایک تو اس ماہ مبارک میں کسی بھی فرض اور نفل عبادت کا اجر اللہ تعالیٰ کئی گنا بڑھا کردیتا ہے اور دوم چونکہ معاشرے کے صاحب ثروت اور مال دار افراد تو اپنی مال داری اور ثروت کی وجہ سے افطاری میں انواع و اقسام کی نعمتوں سے مستفید ہوتے ہیں، لیکن معاشرے کے غریب اور مفلوک الحال افراد جو روزے کی شدت کے باوجود اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے دن بھر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ان کو کھانے پینے اور پہننے کی وہ سہولیات نصیب نہیں ہوتیں جو کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہیں۔ اس لیے اگر اس ماہ مبارک میں مال دار اور صاحب ثروت افراد معاشرے کے محروم افراد کے دکھوں کا احساس کرتے ہوئے اپنی زکوٰۃ اور صدقات پوری ایمان داری کے ساتھ ادا کریں تو اس سے معاشرے میں غریب اور بے سہارا افراد کے دکھوں اور غربت کو بانٹنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
رمضان المبارک میں خرچ کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں۔
’’جو شخص اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کرائے تو اس کے لیے گناہوں سے مغفرت اور دوزخ کی آگ سے رہائی ہے۔ اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا روزہ دار کو اور اس سے روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا۔ ’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم میں سے سب کے پاس اتنا سامان تو نہیں ہوتا کہ روزہ دار کو افطار کرائیں۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس کو بھی عطا کرتا ہے جو ایک گھونٹ دودھ، ایک کھجور اور پانی کے ایک گھونٹ سے کسی روزہ دار کو افطار کرائے گا۔‘‘ (بیہقی)
فائدہ: 1۔ اس حدیث شریف سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کوئی صاحب حےثیت نہیں ہے اور اس کے پاس کسی کو دینے کے لیے یا کسی کو افطار کرانے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہے تو ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ یا ایک کھجور سے بھی کسی مسلمان بھائی کو افطار کراکے گناہوں کی مغفرت اور جہنم کی آگ سے بچنے کا اہتمام کرسکتا ہے۔
۔ اسلام صدقات و خیرات کی بھی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں ایک ایک دانہ اور ایک پیسہ صدقہ و خیرات کرنے پر کم از کم سات سو گنا اجر کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ جس کو وہ چاہے گا، اس سے بھی زیادہ عطا کرے گا۔
۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے علاوہ اس ماہ مبارک میں کوشش کرنی چاہیے کہ روزانہ کچھ نہ کچھ مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جاتا رہے، جس سے مال و دولت میں برکت پیدا ہوگی۔ اس عمل سے جہاں صدقہ و خیرات کرنے والوں میں شکر گزاری اور ایثار و قربانی کا جذبہ فروغ پائے گا، وہاں اس عمل سے غریب اور بے کس انسانوں کی امداد کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
۔ تقویٰ کے حصول کے لیے جہاں بدنی عبادت کی بہت زیادہ تاکید بیان کی گئی ہے، وہاں مالی عبادت یعنی صدقہ و خیرات اور زکوٰۃ کی بروقت مستحقین کو ادائیگی بھی لازمی شرط ہے۔ اسلام مال اور دولت کو سینت سینت کر جمع کرنے کی ویسے بھی مخالفت کرتا ہے، اس لیے اس مبارک مہینے کے توسط سے زیادہ سے زیادہ مال و دولت اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کا خصوصی اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے۔ زکوٰۃ تقسیم کرتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھنا چاہیے کہ اس میں کسی غریب اور مستحق زکوٰۃ کی عزت نفس مجروح نہ ہو، بلکہ انتہائی عاجزی اور خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر مستحق لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔
’’صدقہ و خیرات اس طرح کرنا چاہیے کہ اگر یہ دائیں ہاتھ سے دیا جائے تو بائیں ہاتھ تک کو اس کی خبر نہ ہو۔‘‘
یعنی بڑی راز داری اور خاموشی سے بغیر کوئی احسان جتائے اپنے ضرور ت مند مسلمان بھائی کی مدد کرنی چاہیے۔ اسلام میں احسان جتانے کو برا فعل قرار دیا گیا ہے۔
فطرانہ
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔ ’’صدقہ فطر کو اس لیے واجب کیا گیا ہے تاکہ روزوں میں روزہ دار سے جو فضول اور بے حیائی کی باتیں سرزد ہوجاتی ہیں، ان کا کفارہ بنے۔ مساکین و غریبوں کے لیے کھانے، پینے کا انتظام ہوجائے۔ جو اسے نماز عید الفطر سے پہلے ادا کرے تو فطرانہ قبول ہوتا ہے اور جو اسے نماز عید کے بعد ادا کرے تو یہ بھی دوسرے صدقات کی طرح کا ایک صدقہ ہوگا۔‘‘ (ابو دائود)
فوائد ومسائل
فائدہ:1۔ جیسا کہ اس حدیث مبارک میں فطرانے کا بنیادی مقصد روزے کی حالت میں سرزد ہونے والی خطائوں کا کفارہ ادا کرنا ہے یعنی اگر رمضان المبارک میں روزہ دار سے بھول چوک اور بشری کمزوریوں کے باعث ایسی خطائیں سرزد ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے روزے کی قبولیت اور اس کے اجر و ثواب میں کمی کا امکان ہو تو اس کمی کے ازالے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطریا فطرانے کی ادائیگی کا حکم دیا ہے۔
۔ فطرانہ کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کیجیے۔ کوشش ہونی چاہیے کہ فطرانہ عید الفطر سے قبل ادا کردیا جائے بلکہ عید الفطر سے بھی اگر دو چار دن پہلے اپنے حصے کا فطرانہ مستحق افراد میں تقسیم کردیا جائے تو اس طرح معاشرے کے ضرورت مند اور مستحق افراد کو بھی عید الفطر کی خوشیوں میں شریک ہونے کا موقع مل سکے گا۔ مستحقین کو فطرانے کی بروقت ادائیگی سے مستحقین بھی اپنے بال بچوں کے لیے کھانے پینے کی اشیا، کپڑے اور بعض دیگر ضروریات زندگی کی خریداری عید سے قبل ہی کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔
۔ جتنا فطرانہ ایک شخص پر واجب ہے اس کی عدم ادائیگی یا ادائیگی میں ٹال مٹول اور تساہل کا سخت گناہ ہے۔ لہٰذا عدم ادائیگی کا تو تصور ہی محال ہے۔ البتہ اگر کسی کی استطاعت ہو تو واجب الادا فطرانے سے زائد مال بھی معاشرے کے غریب اور مستحق افراد میں تقسیم کرسکتا ہے۔ واجب فطرانے سے زائد صدقہ و خیرات کی ادائیگی سے مال و دولت میں برکت پیدا ہوگی اور اس اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔
۔ اسلامی اخوت و محبت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جو انسان عید الفطر کے موقع پر اپنے اہل و عیال اور دیگر عزیز رشتہ داروں کی خوشی کی خاطر خوراک، لباس اور دیگر ضروریات زندگی کے ڈھیر لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا اسے چاہیے کہ اپنے معاشرے کے محروم اور غریب و نادار افراد کو بھی اپنی خوشیوں میں یاد رکھے۔
۔ فطرانے کے واجب ہونے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ معاشرے کے صاحب ثروت افراد کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ جہاں وہ عید الفطر کی خوشیاں اپنے لیے سمیٹنے میں مصروف ہوں وہاں اپنے اردگرد رہائش پذیر ایسے مسلمانوں کو بھی یاد رکھیں جو اپنی غربت اور لاچاری کی وجہ سے اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ نے بیوائوں، یتامیٰ، غربائ اور مساکین کی معاشی مجبوریوں کا ازالہ کرکے اسلامی معاشرے کو معاشی عدم مساوات کے بھنور میں گرنے سے بچانے کے لیے زکوٰۃ، صدقات اور فطرانے جیسے احکامات نازل کرکے دین اسلام کو رہتی دنیا تک پوری انسانیت کے لیے معاشی لحاظ سے ایک بہترین نمونے کے طور پر پیش کیا ہے۔
٭٭
قرآن پاک زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پاک کی عملی تشریح ہے۔ قرآن اور حدیث دین اسلام کی بنیاد ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حےثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید دین کا اصل ہے اور حدیث شریف اس کی تشریح ہے۔
پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، اس لیے ان دونوں کو دین میں حجت اور دلیل قرار دیا گیا۔ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرنا اور ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
کتب احادیث میں صحاح ستہ یعنی صحےح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا مالک کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔
ہم جو احادیث شائع کررہے ہیں، وہ ہم نے ان ہی چھ مستند کتابوں سے لی ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی احادیث کے علاوہ ہم اس سلسلے میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کے سبق آموز واقعات بھی شائع کریں گے۔
**********


