حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جس شخص نے اچھے طریقے سے وضو کیا،پھر جمعہ پڑھنے آیا اور نہایت توجہ اور خاموشی سے خطبہ سنا تو اس کے گزشتہ اور اس جمعہ کے دوران کے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں،بلکہ مزید تین دن کے بھی۔ جس شخص نے کنکریوں کو چھوا(یعنی دوران خطبہ ان سے کھیلتا رہا)تو اس نے بے کار حرکت کی(یعنی اپنا ثواب جمعہ ضائع کیا)۔‘‘(مسلم)
فوائد ومسائل
۔اس میں ایک تو اچھے طریقے یعنی سنت کے مطابق وضو کرنے کی ترغیب ہے۔دوسرے ،جمعے کی فضیلت کا بیان ہے جو ہر عاقل،بالغ،صحت مند اور مقیم مسلمان پر فرض ہے، چاہے وہ شہری ہو یا دیہاتی اور یہ جمعہ مسجد میں باجماعت ہی ادا ہوتا ہے، گھر میں انفرادی طور پر نہیں۔تیسرے،ہرنیکی کا کم از کم اجر دس گنا ہے، اس اصول سے ایک جمعہ پڑھ لینے سے دس دنوں کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ چوتھے، خطبے کے دوران خاموشی ضروری ہے، ورنہ جمعے کاثواب ضائع ہوسکتا ہے۔ پانچویں،جمعے کا خطبہ بھی ضرور سننا چاہیے کیونکہ یہ دو رکعت کے قائم مقام ہے۔ خطیب کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ مختصر خطبہ دے۔
وضو کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے، اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی(کے استعمال)کے ساتھ ہی یا آخری قطرہ آب کے ساتھ وہ تمام گناہ نکل جاتے(معاف ہوجاتے)ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے کیے تھے،پھر جب اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں سے پانی(کے استعمال) کے ساتھ ہی یا آخری قطرہ آب کے ساتھ وہ سب گناہ نکل جاتے ہیں جو اس نے ہاتھوں کو استعمال کرکے کیے تھے، پھر جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو پانی(کے استعمال)کے ساتھ ہی یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ، اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس نے پیروں سے چل کر کیے تھے، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔‘‘(مسلم)
فوائد ومسائل
۔اس میں وضو کی فضیلت کا بیان ہے۔ ظاہر ہے جو شخص پابندی سے روزانہ پانچ مرتبہ وضو کرے گا،کس طرح گناہوں سے پاک نہ ہوگا؟گویاوضو سے ظاہری جسمانی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے اور باطنی پاکیزگی بھی کہ اللہ تعالیٰ اس سے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔
صغیرہ گناہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’پانچوں نمازیں ،جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ،درمیان کے تمام گناہوں کو دور کردینے والا ہے،(لیکن)جب کبیرہ گناہوں سے بچ کر رہا جائے۔‘‘(مسلم)
فوائد ومسائل:
۔ایک مومن اگر کبیرہ گناہوں سے اپنا دامن بچاکررکھے، اسی طرح حقوق العباد میں بھی کوتاہی نہ کرے تو پھر مذکورہ عبادات کے ذریعے سے وہ گناہوں سے بالکل پاک صاف رہتا ہے۔
آسان نیکی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کیا میں تمہیں ایسے اعمال نہ بتلائوں جن کے کرنے سے اللہ گناہ مٹادے اور درجے بلند فرمادے؟‘‘
صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا۔
’’کیوں نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ضرور بتلایے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’گرانی اور ناگواری کے باوجودکامل طریقے سے وضو کرنا مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا، (یعنی دور سے آنا)اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کاانتظار کرنا۔ یہ(اجروثواب میں)سرحد پر مورچہ زن رہنے ہی کی طرح ہے۔‘‘(مسلم)
فوائد ومسائل :
۔رباط، سرحد پر مورچہ زن رہ کر سرحدوں کی حفاظت کرنے کو کہتے ہیں، یعنی یہ جہاد کا عمل مسلسل ہے جس کی دوسری احادیث میں بہت زیادہ فضیلت وارد ہے۔
۔اعمال صالحہ اور عبادت پر مواظبت (ہمیشگی) کو رباط کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ مکارہ پر(ناگواری اور مشقت کے باوجود)مکمل وضو کرنے کا مطلب ہے،مثلاً سخت سردی میں تمام اعضا کا صحیح طریقے سے دھونا نہایت گراں ہوتا ہے لیکن ایک مسلمان اللہ کی رضا کے لیے ایسا کرتا ہے، اس لیے اس کا اجر بھی بقدر مشقت زیادہ ہوگا۔
۔مسجد کا قرب بھی اگرچہ بعض اعتبار سے نایت مفید ہے لیکن گھر کا مسجد سے دور ہونا اس لحاظ سے بہتر ہے کہ جتنے قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے، اتنا ہی اجرو ثواب اس کو زیادہ ملے گا۔ اس فضیلت سے قریب رہنے والے محروم رہیں گے۔
دو نمازیں
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جو کوئی دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہے وہ جنت میں جائے گا۔‘‘(بخاری ومسلم)
دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد صبح اور عصر کی نماز ہے۔
فوائد ومسائل:۔
۔ان دونوں نمازوں کی خصوصی حفاظت کے لیے یہ فضیلت اور ترغیب اس لیے بیان کی گئی ہے کہ ان دونوں نمازوں میں تساہل اور تغافل کا زیادہ امکان ہے۔ فجر کی نماز میں اٹھ کر آنا نہایت مشکل ہے۔ اسی طرح عصر کا وقت،دن بھر کے کاموں کو نمٹانے کے لیے نہایت مشغولیت کا وقت ہے، جس میں نماز کے فوت ہونے کا بڑا امکان ہے۔ جو شخص ان دو نمازوں کی حفاظت کرلیتا ہے۔ اور یہ نمازوں کی حفاظت اسے جنت میں لے جانے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوگی۔
۔ان نمازوں کو چھوڑنے پر بڑی سخت وعید ہے۔ فجر کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ منافقوں پر بھاری ہے اور عصر کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے اعمال برباد ہوگئے۔‘‘(صحیح البخاری)
بیماری
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جب بندہ بیمار ہوتا یا سفر اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے اس کے مثل عمل لکھ دیے جاتے ہیں،جو وہ اقامت اور صحت کی حالت میں کرتا تھا۔‘‘(بخاری)
فوائد ومسائل:
۔اس سے مراد ایسے اعمال ہیں جو استجاب اور نفل کے طور پر ایک مومن کرتا ہے، ورنہ فرائض کی ادائی تو ہر حالت میں ضروری ہے۔
نیکی صدقہ ہے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ ہر نیکی صدقہ ہے۔‘‘(اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے اور مسلم نے اسے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔)
فوائد ومسائل:
۔اس سے معلوم ہوا کہ مومن جو بھی نیکی کا کام کرتا ہے،ا سے اس پر صدقے کی طرح اجر ملتا ہے۔ معروف سے مراد ہر قسم کی نیکی اور بھلائی ہے۔
علاوہ ازیں معصیتوں کا ترک بھی ایک معروف(نیکی)ہے۔
درخت لگانا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جو بھی مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے ،تو اس سے جتنا حصہ کھالیا جاتا ہے، وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ جو اس سے چرالیا جاتا ہے، وہ صدقہ ہے اور جو کوئی اسے نقصان پہنچائے، وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔(مسلم)
اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں ہے۔
’’مسلمان جو درخت لگاتا ہے، تو اس سے کوئی انسان، کوئی جانور اور کوئی پرندہ(جو کچھ)کھاتا ہے، وہ قیامت والے دن تک اس کے لیے صدقہ ہوگا۔‘‘
اور مسلم کی ایک اور روایت میں ہے۔
’’مسلمان جو درخت لگاتا اور کوئی کھیتی بوتا ہے،تو اس سے کوئی انسان،کوئی جانور یا کوئی اور چیز کھائے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔‘‘
(بخاری ومسلم نے اسے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے۔)
فوائد ومسائل
۔اس میں زراعت وباغبانی کی فضیلت کا بیان ہے۔ علاوہ ازیں اس کی فضیلت ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کاشت کی ہوئی چیزوں میں سے جو چوری یا غصب یا تلف ہوجائے اور مسلمان اس پر صبر کرے تو اسے اس پر اجر دیا جائے گا۔
۔زمین دار لوگوں کے کیس سب سے زیادہ عدالتوں میں ہوتے ہیں اور اس کی منجملہ وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسی کے جانوروں نے دوسرے کی کھیتی کا نقصان کردیا تو وہ ان سے لڑپڑے۔ انسان اگر قرآن وسنت کے علم سے واقف ہو اور اس ثواب کا اسے علم ہو تو ایسے مسائل ہر گز پیدا نہ ہوں۔
مسجد سے دوری
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔
’’مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم مسجد کے قریب منتقل ہونا چاہتے ہو؟‘‘
انہوں نے کہا۔’’ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ہم نے یقینا یہ ارادہ کیا ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
’’بنو سلمہ!تم اپنے گھروں ہی میں رہو، تمہارے قدموں کے نشانات لکھے جاتے ہیں۔(مسلم)
ایک اور روایت میں ہے’’بے شک!تمہارے ہر قدم پر ایک درجہ ہے۔‘‘(اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری نے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کیا ہے۔)
فوائد ومسائل
۔عمل میں جتنی محنت ومشقت ہوگی،جزا بھی اسی حساب سے زیادہ ہوگی۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بلا وجہ اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کیا جائے جیسا کہ بعض صوفی اور بدعتی کرتے ہیں۔
۔گھر کتنا ہی دور ہو، نماز مسجد میں آکر باجماعت پڑھنی چاہیے۔
ثواب
حضرت ابو منذر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔
ایک آدمی تھا، میں نہیں جانتا کہ کسی اور شخص کا گھر اس سے زیادہ دور ہو، اس سے کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی۔ اسے کہا گیا یا میں نے اسے کہا، اگر تو ایک گدھا خریدلے جس پر تو اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں سوار ہوکر آیا کرے؟اس نے جواب دیا۔
’’مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو،(اس لیے کہ)میں تو یہ چاہتا ہوں کہ(دور سے)میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور پھر وہاں سے میرا لوٹنا، جب میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹوں‘‘ یہ سب کچھ میرے حساب میں لکھا جائے۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(اس کی یہ بات سن کر)فرمایا۔
’’اللہ تعالیٰ نے یہ سب تیرے لیے جمع فرمادیا ہے۔‘‘(مسلم)
ایک اور روایت میں ہے۔
’’بلاشبہ تیرے لیے وہ ثواب ہے جس کا تو نے ارادہ کیا۔‘‘
فوائد ومسائل
۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اندر ثواب اخروی حاصل کرنے کا جو جذبہ بے پایاں تھا، اس میں اس کا بیان ہے۔
۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اجروثواب انسان کی نیت کے مطابق ملتا ہے اور اس لحاظ سے گھر کا مسجد سے دورہونا بھی انسان کے لیے فضیلت کاباعث ہے۔
چالیس خصلتیں
حضرت ابو محمد عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’چالیس خصلتیں ہیں، ان میں سب سے اعلیٰ‘‘( کسی کو)دودھ پینے کے لیے بکری دے دینا ہے۔جو عامل بھی ان میں سے کسی ایک خصلت پر ثواب کی امید سے اور اللہ کی طرف سے کیے گئے وعدوں کی تصدیق کرتے ہوئے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور جنت میں داخل فرماتا ہے۔ (بخاری)
فوائد ومسائل
۔اس طرح کسی چیز کو اپنی ملکیت میں رکھتے ہوئے وقتی اور عارضی فائدے کے لیے کسی کو دے دینا بھی باعث اجر ہے۔
آگ سے بچو
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔
’’تم آگ سے بچو!اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے (کے صدقے) کے ساتھ ہی۔‘‘(بخاری ومسلم)
بخاری ومسلم کی ایک اور روایت حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’تم میں سے ہر شخص سے(براہ راست) اس کا رب ہم کلام ہوگا، اس کے اور اس کے رب کے درمیان کوئی اور ترجمان نہیں ہوگا۔چنانچہ انسان اپنی دائیں جانب دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے عمل ہی نظر آئیں گے۔ بائیں جانب دیکھے گا تو ادھر بھی اپنے کرتوت ہی دیکھے گا اور اپنے سامنے دیکھے گا تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کے چہرے کے سامنے ہوگی۔ چنانچہ تم آگ سے بچو!اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہی ہو(یعنی اس کا صدقہ کرکے)اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اچھی بات کے ذریعے سے (دوزخ سے بچو)۔‘‘
فوائد ومسائل
۔اس میں سخت ترغیب کا پہلو یہ ہے کہ ہر شخص کو براہ راست اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر جب کہ اس کے دائیں بائیں ،اس کے اعمال ہوں گے، اپنے عملوں کا جواب دینا ہوگا۔
۔دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ ہر شخص کو اپنی طاقت کے مطابق اللہ کی راہ میں صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اسی طرح خصال حمیدہ(خوش گفتاری وغیرہ)کا اختیار کرنا بھی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
۔قیامت والے دن صرف انسان کا عمل صالح ہی اس کے کام آئے گا۔
شکر کرنا
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’یقینا‘‘اللہ تعالیٰ اس بندے سے بڑا خوش ہوتا ہے جو کھانا کھائے تو اس پر اللہ کا شکر ادا کرے اور پانی پیے تو اس پر اللہ کی حمد کرے۔‘‘(مسلم)
فوائد ومسائل
۔کھانا پینا،جس میں انسان کے کام ودہن کی لذت کا سامان ہے، اس پر انسان اللہ کا شکر ادا کرے تو اس پر بھی اجروثواب ملتا ہے اور کھانا پینا بھی نجات کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
صدقہ
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’ہر مسلمان کے لیے صدقہ کرنا (ضروری) ہے۔‘‘
ابو موسیٰ نے پوچھا’’اگر وہ صدقہ کرنے کے لیے کچھ پائے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اپنے ہاتھوں سے کام(محنت، مزدوری)کرے اور(اجرت حاصل کرکے) اپنے نفس کو بھی نفع پہنچائے اورصدقہ بھی کرے۔‘‘
انہوں نے پوچھا’’اگر اسے اس کی بھی طاقت نہ ہو؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’وہ کسی مصیبت زدہ، حاجت مند کی مددکردے۔‘‘
انہوں نے کہا۔’’اگر وہ اس کی بھی طاقت نہ رکھے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’وہ نیکی یا بھلائی کا حکم کرے۔‘‘
انہوں نے پوچھا!’’اگر وہ یہ بھی نہ کرے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے سے باز رہے، یقینا’’یہ بھی صدقہ ہے۔‘‘(بخاری ومسلم)
٭٭
قرآن پاک زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پاک کی عملی تشریح ہے۔ قرآن اور حدیث دین اسلام کی بنیاد ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حےثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید دین کا اصل ہے اور حدیث شریف اس کی تشریح ہے۔
پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، اس لیے ان دونوں کو دین میں حجت اور دلیل قرار دیا گیا۔ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرنا اور ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
کتب احادیث میں صحاح ستہ یعنی صحےح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا مالک کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔
ہم جو احادیث شائع کررہے ہیں، وہ ہم نے ان ہی چھ مستند کتابوں سے لی ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی احادیث کے علاوہ ہم اس سلسلے میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کے سبق آموز واقعات بھی شائع کریں گے۔
**********


