ماں کا درجہ

کرن کرن روشنی 0

سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا۔’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں میں کس کا حق مجھ پر سلوک کرنے کے لیے زیادہ ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’تیری ماں کا۔‘‘وہ بولا’’پھر کون؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’تیری ماں کا۔‘‘ وہ بولا’’پھر کون؟‘‘

فرمایا کہ’’تیری ماں کا۔‘‘وہ بولا۔

’’پھر کون؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’تیرے باپ کا۔‘‘(مسلم)

لڑکیوں سے حسنِ سلوک

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص دو لڑکیوں کو پالے ان کے جوان ہونے تک،تو قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح سے آئیں گے۔‘‘اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ملایا(یعنی قیامت کے دن میرا اس کا ساتھ ہوگا۔ مسلمان کو چاہیے کہ اگر خود اس کی لڑکیاں ہوں تو خیر،ورنہ دو یتیم لڑکیوں کو پالے اور جوان ہونے پر ان کا نکاح کردے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ اس کو نصیب ہو۔)(مسلم)

صلہ رحمی کرنا عمر کو بڑھاتا ہے

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے’’جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کی روزی بڑھے اور اس کی عمر دراز ہو تواپنے ناتے کو ملائے۔‘‘(یعنی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرے)

صلہ رحمی کرنا اگرچہ وہ قطعی رحمی کریں

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا۔

’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرے کچھ رشتہ دار ہیں، میں ان سے احسان کرتا ہوں اور وہ برائی کرتے ہیں، میں ناتا ملاتا ہوں اور وہ توڑتے ہیں، میں صلہ رحمی کرتا ہوں اور وہ جہالت کرتے ہیں۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اگر حقیقت میں تو ایسا ہی کرتا ہے تو ان کے منہ پر جلتی راکھ ڈالتا ہے اور ہمیشہ اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ ایک فرشتہ رہے گا جو تجھے ان پر غالب رکھے گا جب تک تو اس حالت پر رہے گا۔‘‘(مسلم)

جہاد

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا۔ ’’میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ سے اس کا ثواب چاہتا ہوں۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’تیرے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے؟‘‘

وہ بولا کہ’’دونوں زندہ ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ’’تو اللہ سے ثواب چاہتا ہے؟‘‘

وہ بولا’’ہاں۔‘‘

تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’تو اپنے والدین کے پاس لوٹ جا اور ان سے نیک سلوک کر۔‘‘

(مسلم)

ماں کی نافرمانی کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’بے شک اللہ عزوجل نے تم پر مائوں کی نافرمانی کو حرام کردیا اور لڑکیوں کا زندہ گاڑدینا(جیسے کفار کیا کرتے تھے)اور نہ دینا(اس کو جس کا دینا ہے مال ہوتے ہوئے)اور مانگنا(اس چیز کا جس کے مانگنے کا حق نہیں)اور تین باتوں کو برا جانتا ہے(گو اتنا گناہ نہیں جتنا پہلی تین باتوں میں ہے)بے فائدہ بولنا اور بہت زیادہ سوال کرنا اور مال کو برباد کرنا۔‘‘

(مسلم)

باپ کے دوستوں سے اچھا سلوک

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ مکہ جاتے تو اپنے ساتھ ایک گدھا تفریح کے لیے رکھتے اور جب اونٹ کی سواری سے تھک جاتے تو اس پر چڑھتے اور ایک عمامہ رکھتے جو سر میں باندھتے۔ ایک دن وہ گدھے پر جارہے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی نکلا۔ سیدنا عبداللہ نے کہا۔ ’’تو فلاں کا بیٹا ہے فلاں کا پوتا؟‘‘وہ بولا ’’ہاں۔‘‘ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس کو گدھا دے دیا اور کہا کہ

’’اس پر چڑھ،‘‘اور عمامہ بھی دے دیا اور کہا کہ’’اپنے سر پرباندھ۔‘‘سیدنا عبداللہ کے بعض ساتھی بولے۔

’’تم نے اپنی تفریح کا گدھا دے دیا اور عمامہ بھی دے دیا جو اپنے سر پر باندھتے تھے اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے۔‘‘

انہوں نے کہا’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بڑی نیکی یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے مرجانے کے بعد اس کے دوستوں سے (اچھا)سلوک کرے۔‘‘اور اس دیہاتی کا باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دوست تھا۔

(مسلم)

کالے رنگ کا کمبل پہننا

ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کو نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کالے بالوں کا ایک کمبل اوڑھے ہوئے تھے جس پر پالان کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔(صحیح مسلم)

ضروری بستر بناکر رکھنے کے متعلق

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔’’ایک بستر آدمی کے لیے چاہیے اور ایک اس کی بیوی کے لیے اور ایک بستر مہمان کے لیے اور چوتھا شیطان کا ہوگا۔‘‘(یعنی جو لوگوں کو دکھانے اور اپنی برتری ظاہر کرنے کے لیے بنایا جائے)(صحیح مسلم)

اچھا گمان رکھنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث قدسی میں اپنے رب کا یہ ارشاد مبارک نقل فرماتے ہیں۔’’میں اپنے بندہ کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں، جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اور جس وقت وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘(مسلم)

بلند مرتبہ کی چیز

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔’’اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے زیادہ بلند مرتبہ کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘(ترمذی)

خوش حالی میں دعا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ سختیوں اور بے چینیوں کے وقت اس کی دعا قبول فرمائے، اسے چاہیے کہ وہ خوشحالی کے زمانے میں زیادہ دعا کیا کرے۔‘‘ (ترمذی)

جلد بازی کی ممانعت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’بندہ جب تک گناہ اور قطع رحمی کی دعا نہ کرے، اس کی دعا قبول ہوتی رہتی ہے بشرطیکہ وہ جلد بازی نہ کرے۔‘‘پوچھا گیا’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!جلد بازی کا کیا مطلب ہے۔؟‘‘ارشاد فرمایا’’بندہ کہتا ہے میں نے دعا کی پھر دعا کی، لیکن مجھے تو قبول ہوتی نظر نہیں آتی۔ پھر اکتاکر دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(مسلم)

دعا میں نگاہ اٹھانا

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھانے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بینائی اچک لی جائے گی۔‘‘(مسلم)

فوائد ومسائل

نماز میں دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے سے خاص طور پر اس وجہ سے منع کیا گیا ہے کہ دعا کے وقت نگاہ آسمان کی طرف اٹھ ہی جاتی ہے۔(فتح الملہم)

غیر ضروری تفصیل سے بچنا

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بیٹے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں دعا میںیوں کہہ رہا تھا’’اے اللہ!میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتوں اور اس کی بہاروں اور فلاں فلاں چیزوں کا سوال کرتا ہوں اور میں جہنم سے اور اس کی زنجیروں،ہتھکڑیوں اور فلاں فلاں قسم کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘میرے والد سعد رضی اللہ عنہ نے یہ سنا تو ارشاد فرمایا’’میرے پیارے بیٹے!میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’عنقریب ایسے لوگ ہوں گے جو دعا میں مبالغہ سے کام لیا کریں گے۔‘‘تم ان لوگوں میں شامل ہونے سے بچو۔ اگر تمہیں جنت مل گئی تو جنت کی ساری نعمتیں مل جائیں گی اور اگر تمہیں جہنم سے نجات مل گئی تو جہنم کی تمام تکلیفوں سے نجات مل جائے گی۔‘‘(لہٰذا دعا میں اس تفصیل کی ضرورت نہیں بلکہ جنت کی طلب اور دوزخ سے پناہ مانگنا کافی ہے۔)(ابو دائود)

قبولیت کی گھڑی

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا’’ہر رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ اس میں دنیا وآخرت کی جو خیر مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔‘‘(مسلم)

رات کا آخری حصہ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جب رات کا تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو ہمارا رب آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے’’کون ہے جو مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے، میں اس کو عطا کروں؟کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اس کی مغفرت کروں؟‘‘(بخاری)

باربار کہو

حضرت ربیعہ بن عامر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔’’دعا میں یا ذوالجلال والا کرام کے ذریعہ اصرار کرو یعنی اس لفظ کو دعا میں بار بار کہو۔‘‘(مستدرک حاکم)

دعا کاآغاز

حضرت سلمہ بن اکوع اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی ایسی دعا کرتے ہوئے نہیں سنا، جس دعا کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے شروع نہ فرماتے ہوں یعنی ہر دعا کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات فرماتے ’’سبحان ربی العلی الاعلی الوہاب‘‘میرا رب سب عیبوں سے پاک سب سے بلند سب سے زیادہ دینے والا ہے۔‘‘(مسند احمد، طبرانی،جمع الزوائد)

آیت کریمہ کی فضیلت

یہ وہ دعا ہے جس کے ذریعہ حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کو تین اندھیروں میں پکارا تھا۔ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو تمام عیبوں سے پاک ہے، بے شک میں ہی قصوروار ہوں۔‘‘(تین اندھیروں سے مراد رات،سمندر اور مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے ہیں)ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا’’یا رسول اللہ!کیا یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے یا تمام ایمان والوں کے لیے عام ہے؟‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک نہیں سنا۔ کہ ہم نے یونس علیہ السلام کو مصیبتوں سے نجات دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔‘‘

پانچ لوگوں کی دعا

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’پانچ لوگوں کی دعائیں خاص طور پر قبول کی جاتی ہیں۔ مظلوم کی دعا، جب تک وہ بدلہ نہ لے لے۔ حج کرنے والے کی دعا، جب تک وہ لوٹ نہ آئے۔ مجاہد کی دعا، جب تک وہ واپس نہ آئے۔ بیمار کی دعا، جب تک وہ صحت یاب نہ ہو اور ایک بھائی کی دوسرے بھائی کے لیے پیٹھ پیچھے دعا۔‘‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اور ان دعائوں میں سب سے جلدی قبول ہونے والی وہ دعا ہے جو اپنے کسی بھائی کے لیے اس کے پیٹھ پیچھے کی جائے۔‘‘(بیہقی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’تین دعائیں خاص طور پر قبول کی جاتی ہیں جن کے قبول ہونے میں کوئی شک نہیں۔اولاد کے حق میںباپ کی دعا، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا۔‘‘(ابو دائود)

ذکر

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میں فجر کی نماز سے سورج نکلنے تک اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس کی بڑائی، اس کی تعریف، اس کی پاکی بیان کرنے اور لاالہ الا اللہ کہنے میں مشغول رہوں یہ مجھے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا اس سے زیادہ غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اسی طرح عصر کی نماز کے بعد سے سورج غروب ہونے تک ان اعمال میں مشغول رہوں یہ مجھے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔‘‘(مسند احمد)

باوضو ہونا

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو شخص باوضو رات کو سوتا ہے تو فرشتہ اس کے جسم کے ساتھ لگ کر رات گزارتا ہے۔ جب بھی وہ نیند سے بیدار ہوتا ہے فرشتہ اسے دعا دیتا ہے۔’’یا اللہ اپنے اس بندے کی مغفرت فرما دیجیے اس لیے کہ یہ باوضو سویا ہے۔‘‘(ابن حبان)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو مسلمان بھی رات باوضو ذکر کرتے ہوئے سوتا ہے،پھر جب کسی وقت رات میںاس کی آنکھ کھلتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت کی کسی بھی خیر کا سوال کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور عطا فرماتا ہے۔(ابو دائود)

ذکر کی فضیلت

حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جو شخص صبح دس مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شی قدیر پڑھے تو اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی، اس کے لیے دس درجے بلند کردیئے جائیں گے، اس کو چار غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا اور شام ہونے تک شیطان سے اس کی حفاظت ہوگی اور جو شخص مغرب کی نماز کے بعد یہ کلمات پڑھے تو صبح تک یہی سب انعامات ملیں گے۔‘‘(ابن حبان)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جس شخص نے صبح اور شام’’سبحان اللہ وبحمدہ‘‘ سو مرتبہ پڑھا تو کوئی شخص قیامت کے دن اس سے افضل عمل لے کر نہیں آئے گا۔ سوائے اس شخص کے جو اس کے برابر یا اس سے زیادہ پڑھے۔‘‘ایک روایت میں یہ فضیلت سبحان اللہ العظیم وبحمدہ کے بارے میں آئی ہے۔(مسلم ابو دائود)

حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ

حضرت ابو عقیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ وہ ساری رات دو صاع(سات سیر)کھجوروں کے عوض اپنی کمر پر رسی باندھ کر کنویں میں سے پانی نکالتے رہے پھر ایک صاع کھجور لاکر اپنے گھر والوں کو دی تاکہ وہ اسے اپنے کام میں لائیں اور دوسرا صاع قرب خداوندی حاصل کرنے کے لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بتادیا کہ یہ صاع محنت کرکے حاصل کیا ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’اسے صدقہ کے مال میں رکھ دو۔‘‘

(چونکہ یہ خود غریب اور محتاج تھے اور اس ایک صاع کھجور کی خود ان کو ضرورت تھی اس وجہ سے)منافقوں نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا۔’’اللہ تعالیٰ کو اس کے صاع کی کیا ضرورت تھی، یہ تو خود اس صاع کا محتاج تھا۔‘‘

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

’’یہ(منافقین)ایسے ہیں کہ نفلی صدقہ دینے والے مسلمانوں پر صدقات کے بارے میں طعن کرتے ہیں اور(خصوصاً ان لوگوں پراور زیادہ)جن کو بجز محنت مزدوری کی آمدنی کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا۔ یعنی ان سے تمسخر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اس تمسخر کا(تو خاص) بدلہ دے گا اور(مطلق طعن کا یہ بدلہ ملے ہی گا) کہ ان کے لیے آخرت میں دردناک سزا ہوگی۔‘‘

(سورہ توبہ،آیت:79)

قرآن پاک زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پاک کی عملی تشریح ہے۔ قرآن اور حدیث دین اسلام کی بنیاد ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حےثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید دین کا اصل ہے اور حدیث شریف اس کی تشریح ہے۔

پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، اس لیے ان دونوں کو دین میں حجت اور دلیل قرار دیا گیا۔ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرنا اور ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کتب احادیث میں صحاح ستہ یعنی صحےح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا مالک کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔

ہم جو احادیث شائع کررہے ہیں، وہ ہم نے ان ہی چھ مستند کتابوں سے لی ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی احادیث کے علاوہ ہم اس سلسلے میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کے سبق آموز واقعات بھی شائع کریں گے۔

**********

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں