حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا۔میں نے کہا۔
’’اللہ کے رسولؐ!سب سے سخت مصیبت کس پر آتی ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’نبیوں پر،پھر جوان کے بعد سب سے افضل ہیں،پھر جوان کے بعد افضل ہیں۔ بندے پر اس کے دین کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ اگر وہ اپنے دین(اور ایمان)میں مضبوط ہوتو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے۔اگر اس کا ایمان نرم ہو تو اس کے ایمان کے مطابق آزمائش آتی ہے۔ بندے پر آزمائش(اور مصیبت) آتی رہتی ہے حتیٰ کہ اسے ایسا کرکے چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چل پھر رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ (باقی)نہیں ہوتا۔‘‘(نسائی)
فوائد ومسائل
۔نیک صاحب ایمان پر دنیوی مشکلات کا آنا اس کے لیے درجات کی بلندی کا باعث ہے۔
۔دنیا کی مصیبتیں مومن کے لیے نعمت ہیں کیونکہ ان کی وجہ سے وہ آخرت کے عذاب سے بچ جاتا ہے۔
۔مصیبت پر صبر ایمان کے کامل ہونے کی علامت ہے۔
انبیائے کرام علیہم السلام کے حالات کو پیش نظر رکھنے سے صبر کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
آزمائش
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا۔’’میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کو بخار تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ہاتھ رکھا تو لحاف کے اوپر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو حرارت محسوس ہوئی۔ میں نے کہا’’اللہ کے رسولؐ!آپ کو کتنا سخت بخار ہے!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’ہم(انبیائ)اسی طرح ہوتے ہیں کہ ہمیں مصیبت(یا آزمائش) بھی دگنی آتی ہے اور ثواب بھی دگنا ملتا ہے۔‘‘
میں نے کہا۔’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سب سے زیادہ سخت آزمائش کن لوگوں کو آتی ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’نبیوں کو۔‘‘ میں نے کہا۔’’ان کے بعد؟‘‘
فرمایا۔’’نیک لوگوں کو۔ انہیں فقر کے ذریعے سے آزمایا جاتا تھا حتیٰ کہ(بعض اوقات)ایک آدمی کو صرف ایک چادر میسر ہوتی تھی جسے وہ جسم پر لپیٹ لیتا تھا اور وہ مصیبت پر اس طرح خوش ہوتے تھے جس طرح تم راحت پر خوش ہوتے ہو۔‘‘(بخاری)
فوائد ومسائل:
۔بیماری کی شدت بھی آزمائش ہے۔ اس پر صبر کا ثواب بھی شدت کے مطابق زیادہ ہوتا ہے۔
۔فقر بھی آزمائش ہے۔ اس پر صبر اور شکر سے درجے بلند ہوتے ہیں۔
۔مشکل پر خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں ثواب ملتا ہے۔ مشکل ختم ہوجائے گی لیکن اس کا ثواب جنت میں ہمیشہ کی نعمتوں کا باعث ہوگا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا۔
’’گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی نبی کی حالت بیان فرمارہے ہیں۔
’’اسے اس کی قوم نے مارا۔ وہ اپنے چہرے سے خون صاف کرتے تھے اور کہتے تھے میرے رب!میری قوم کو معاف کردے، وہ جانتے نہیں۔‘‘ (بخاری)
فوائد ومسائل
۔ہدایت کی طرف بلانے والوں کو مشکلات آتی ہیں حتیٰ کہ انبیائے کرام بھی بہت سی تکلیفیں برداشت کرتے رہے ہیں۔
۔ممکن ہے اس حدیث میں کسی نبی سے مراد خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اور طائف کے واقعہ کی طرف اشارہ مقصود ہو ۔واللہ اعلم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں جب انہوں نے فرمایا(رب ارنی کیف تحی الموتی.)
’’میرے رب!مجھے دکھا تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟‘‘
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔’’کیا تو ایمان نہیں لایا؟ ‘‘
ابراہیم نے کہا۔’’کیوں نہیں؟(لیکن سوال اس لیے کیا ہے)تاکہ میرا دل مطمئن ہوجائے۔‘‘
اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے! وہ مضبوط سہارے کی پناہ لے رہے تھے۔ اور اگر میں قید میں اتنا عرصہ رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں بلانے والے کی بات مان لیتا۔‘‘(بخاری)
فوائد ومسائل
۔انبیائے کرام علیہم السلام کا ایمان سب سے کامل ہوتا ہے بعض اوقات اللہ تعالیٰ انہیں ایسی چیزوں کا مشاہدہ کرادیتا ہے جو دوسروں کے لیے’’غیب‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مردوں کے زندہ ہونے کا مشاہدہ کرنا چاہا تو یہ شک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس لیے کہ’’علم الیقین‘‘سے’’عین الیقین‘‘ کے درجے تک ترقی کریں۔
۔’’یادہ شک کرنے کا حق رکھتے ہیں‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب مومن اس میں شک نہیں کرتے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بدرجہ اولیٰ شک سے برتر ہیں۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظمت کااظہار ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد کی زندگی کا مشاہدہ کرادیا۔
۔حضرت لوط علیہ السلام نے قوم سے کہا تھا کہ اگر میرا کوئی مضبوط دنیوی سہارا ہوتا تو تم مجھ سے حیاسوز مطالبہ نہ کرتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ پر اعتماد نہیں تھا بلکہ یہ قوم کی اخلاقی پستی کا اظہار ہے کہ اگر میرا مضبوط دنیوی سہارا موجود ہوتا توتم ان افراد کے ڈر سے اس بدتمیزی کی جرات نہ کرتے لیکن تم اللہ سے نہیں ڈرتے۔ میرا اعتماد اللہ تعالیٰ پر ہے جو تمہیں انسانوں کی نسبت کہیں زیادہ سزا دے سکتا ہے۔
۔حضرت یوسف علیہ السلام کو اس لیے جیل جانا پڑا تھا کہ وہ ایک جرم کے ارتکاب سے انکار کررہے تھے جس کا ان سے مطالبہ کیا جارہا تھا۔ جب حکمرانوں پر ان کا خلوص،سچائی اور ان کے کردار کی عظمت واضح ہوگئی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ آنجناب کی صلاحیتوں سے استفادہ کریں تو قاصد رہائی کا حکم نامہ لے کر جیل مٰں آیا۔اس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کی عظمت کردار کا ایک اور پہلو سامنے آیا کہ انہوں نے ا س وقت تک جیل باہرآنے سے انکار کردیا جب تک ان کی بے گناہی باقاعدہ ثابت نہ ہوجائے اور مجرم(عزیز مصر کی بیوی) کا جرم ثابت نہ ہوجائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کیفیت میرے ساتھ پیش آتی تو میں اس وقت جیل سے باہر آجاتا اور اللہ کی رحمت سے امید رکھتا کہ وہ کسی اور انداز سے میری برأت کااظہار فرمادے گا۔ا س ارشاد کا مقصد حضرت یوسف علیہ السلام کی استقامت اور ان کے صبر کی تعریف ہے۔
۔خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام تمام انبیائے کرام سے بلند وبرتر ہے لیکن دوسرے انبیائ علیہم السلام کے کردار کے روشن پہلو بھی لائق تحسین ہیں۔ ان کی اہمیت وعظمت بھی نظر سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔
۔دوسروں کی خوبیوں کا اعتراف بھی عظمت کردار کا ایک پہلو ہے۔ علمائے کرام کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی خوبیوں کو دل سے تسلیم کریں۔ ان خوبیوں کی وجہ سے دوسروں کی عزت کریں اور ان سے محبت رکھیں۔ جس طرح ان کی غلطیوں پر تنقید کرتے ہیں، ان کے اچھے کاموں کی تعریف اور ان میں تعاون بھی کریں،خواہ متعلقہ فرد کا تعلق ان کی پارٹی،تنظیم، جماعت اور مسلک سے نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ کا اختیار
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دانت شہید ہوا، چہرہ مبارک زخمی ہوا اور خون آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے بہنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک سے خون پونچھتے تھے اور فرماتے تھے۔
’’یہ قوم کیسے نجات پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون آلود کردیا، جب کہ وہ ان کو اللہ کی طرف بلارہا تھا؟‘‘
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی(لیس لک من الامر شیئ)
’’اے پیغمبر!آپ کے اختیار میں کچھ نہیں‘‘(اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول فرمالے اور چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔) (ترمذی)
فوائد ومسائل
۔جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت مومنوں کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔
۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا افسوس کے طور پر تھا کہ انہوں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے، کیا معلوم اس کی پاداش میں ان پر عذاب ہی آجائے۔
۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں۔ ان میں سے بعض کوایمان نصیب ہوگا، بعض اپنے جرم کی سزا میںجہنم رسید ہوں گے۔
۔نبی مخلوق کے دلوں پر اختیار نہیں رکھتے، نہ عذاب لانا یا روکنا ان کے اختیار میں ہے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک دن جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ مکے کے بعض لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خشت زنی کرکے لہولہان کردیا تھا۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا’’کیا بات ہے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ یہ ظلم کیا ہے۔‘‘
حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا۔’’کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایک نشانی دکھائوں؟‘‘
’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ہاں، دکھایے۔‘‘
انہوں نے وادی کو دوسری طرف ایک درخت کی طرف دیکھ کر کہا۔’’اس درخت کو بلایے۔‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا تو وہ چل کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا۔’’اسے کہیے واپس چلا جائے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا تو وہ واپس ہو گیا حتیٰ کہ اپنی جگہ پر چلا گیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’مجھے کافی ہے۔‘‘
فوائد ومسائل
۔یہ واقعہ مکی دور کا ہے۔ ممکن ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کسی بڑی عمر کے صحابی سے سنا ہویا خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنایاہو۔
۔درخت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حرکت کرنا معجزہ ہے۔ یہ معجزہ دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے لیکن کچھ خاص حکمتوں کی وجہ سے یہ تکلیفیں برداشت کرنا ضروری ہیں۔
۔اس کا مقصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دل جوئی بھی تھا کہ اللہ کی ساری مخلوق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والی ہے۔
آزمائش
حضرت خذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مجھے وہ سب لوگ شمار کردو جنہوں نے اسلام کا کلمہ پڑھا ہے۔‘‘
ہم نے عرض کیا۔’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!کیا آپ کو ہمارے بارے میں خوف ہے جب کہ ہماری تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے؟‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’تمہیں نہیں معلوم ،شاید تم پر آزمائش آئے۔‘‘
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔’’پھر ہم پر آزمائش آئی حتیٰ کہ ہم چھپ چھپ کر نمازیں پڑھنے لگے۔‘‘
فوائد ومسائل
۔مردم شماری کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ افرادی قوت کا صحیح اندازہ ہوجاتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اللہ تعالیٰ پر اس قدر توکل تھا کہ چھ سات سو کی تعداد ہوتے ہوئے خود کو ناقابل شکست سمجھتے تھے۔
۔زیادہ تعداد کے باوجود آزمائش آسکتی ہے، اس لیے اللہ سے مدد مانگتے رہنا چاہیے اور آزمائش میں ثابت قدم رہنا چاہیے۔
زیادہ ثواب
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’زیادہ ثواب بڑی آزمائش کا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان پر آزمائش ڈالتا ہے۔ جو راضی رہے ا سے رضا ملے گی اور جو ناراض ہو اسے ناراضی حاصل ہوگی۔‘‘(ترمذی)
فوائد ومسائل
۔آزمائش میں بندے کا فائدہ ہوتا ہے، اس لیے اللہ کے فیصلے پر راضی رہتے ہوئے،شریعت کے دائرے میں رہ کر جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ اگر کسی مصیبت پربندہ ناراضی کااظہار کرے گا تو مصیبت تو اپنے مقررہ وقت ہی ختم ہوگی لیکن بندہ ثواب سے محروم ہوکر اللہ کو ناراض کرلے گا۔
۔مصیبت بھی اللہ کی ایک نعمت ہے۔ بشرطیکہ حکام کی نافرمانی نہ کی جائے۔
صبر
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہسے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’جو مومن لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان سے ملنے والی تکلیف پر صبر کرتا ہے، وہ اس مومن سے زیادہ ثواب حاصل کرلیتا ہے جو لوگوں سے ملتا جلتا نہیں اور ان کی طرف سے آنے والی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔‘‘(ترمذی)
فوائد ومسائل
۔لوگوں سے میل جول میں اچھے برے ہر قسم کے آدمی سے واسطہ پڑتا ہے۔ برے آدمی کی برائی سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے لیکن خود نیکی پر قائم رہنا چاہیے۔
۔معاشرے میں برائی زیادہ ہوجائے تب بھی سب سے الگ تھلک ہو کر راہبوں کی طرح جنگلوں یا غاروں میں چلے جانا جائز نہیں بلکہ معاشرے میں رہ کر اصلاح کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
۔جب ایمان کو خطرہ ہو، تب خلوت نشینی جائز ہے۔
تین خوبیاں
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
’’تین خوبیاں جس میں ہوں، اسے ایمان کا لطف حاصل ہوتا ہے۔ ایک روایت میں ہے اسے ایمان کی مٹھاس حاصل ہوجاتی ہے۔
(پہلی خوبی)اور جب اسے اللہ نے کفر سے نجات دے دی ہو تو اسے دوبارہ کفر اختیار کرنے سے آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو۔‘‘
(دوسری )کسی شخص سے محبت اور دوستی رکھے تو محض اللہ کے لیے رکھے۔
(تیسری)اس کے دل میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی محبت باقی سب کی محبت سے بڑھ کر ہو۔‘‘
فوائد ومسائل
۔اللہ کے لیے محبت کا مطلب یہ ہے کہ دوست سے محبت کی بنیاد، خاندان،قبیلہ،زبان،وطن یا دنیوی مفاد نہ ہو بلکہ کسی سے اس لیے محبت ہو کہ وہ اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے والا نیک آدمی ہے۔
۔اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت زیادہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ جب بیوی بچوں،ماں باپ،دوست احباب یا دنیوی مفادات کا تقاضا کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی کا ہو تو ان سب کو نظر انداز کرکے ان کی ناراضی کی پروا نہ کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مان لیا جائے۔
۔مومن کفر سے اور کافروں کے رسم ورواج سے نفرت کرتا ہے اور مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں سے محبت اور ان کی مدد نہیں کرتا کیونکہ کافروں کی طرف میلان میں خطرہ ہے کہ ایمان کمزور ہوکر آخر وہ مرحلہ آجائے جب ایمان بالکل ختم ہوجائے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
نصیحت
حضرت ابو دردائ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا۔
’’مجھ سے میرے جگری دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا۔
’’اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا، خواہ تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا تجھے جلادیا جائے۔ اور فرض نماز جان بوجھ کر ترک نہ کرنا۔ جس نے اسے عمداً ترک کیا، اس سے(اللہ کی حفاظت کا)ذمہ جاتا رہا اور شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی چابی ہے۔‘‘
فوائد ومسائل
۔شرک سب سے بڑا جرم ہے، لہٰذا سخت سے سخت حالات میں بھی اس سے بچنا ضروری ہے۔
۔عقیدۂ توحید کے لیے جان بھی قربان کرنی پڑے تو سعادت ہے۔
۔شرک کے بعد بڑا گناہ نماز چھوڑنا ہے جو کفر کے مترادف ہے۔
۔عقل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔نشہ آور اشیائ کے استعمال سے اس نعمت کو ضائع کرنا بہت بڑی ناشکری ہے۔نشے کی وجہ سے عقل پر پردہ پڑجاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی گناہ کرنا آسان ہوجاتا ہے، اس لیے مسلمان کے لیے ہر نشہ آور چیز سے پرہیز انتہائی ضروری ہے۔
٭٭
قرآن پاک زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پاک کی عملی تشریح ہے۔ قرآن اور حدیث دین اسلام کی بنیاد ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حےثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید دین کا اصل ہے اور حدیث شریف اس کی تشریح ہے۔
پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، اس لیے ان دونوں کو دین میں حجت اور دلیل قرار دیا گیا۔ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرنا اور ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
کتب احادیث میں صحاح ستہ یعنی صحےح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا مالک کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔
ہم جو احادیث شائع کررہے ہیں، وہ ہم نے ان ہی چھ مستند کتابوں سے لی ہیں۔
حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی احادیث کے علاوہ ہم اس سلسلے میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کے سبق آموز واقعات بھی شائع کریں گے۔
**********


