فتنے اور آزمائش کے وقت حق پر جمے رہنا

کرن کرن روشنی 0

حضرت عبداللہ بن عمرو ۶ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’اس زمانے میں تمہارا کیا حال ہوگا جو عنقریب آنے والا ہے جس میں لوگوں کو خوب چھان لیا جائے گا۔(اہل ایمان اور اچھے آدمی اٹھالیے جائیں گے)اور چھان بور اباقی رہ جائے گا(بے دین اور رذیل لوگ باقی رہ جائیں گے)جن کے عہدوموا عید میں بے وفائی اور امانتوں میں خیانت ہوگی اور ان میں اس طرح سے اختلاف ہوجائے گا۔a‘‘

یہ فرماتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے کے اندر ڈال کر دکھایا۔

صحابہ۶ نے عرض کیا۔’’ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!جب یہ صورت حال ہو تو ہم کیا کریں؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’جو بات تمہیں( قرآن وسنت کی روشنی میں)صحیح معلوم ہو اسے اختیار کرو اور جو بات(قرآن وسنت کی روشنی میں)غلط معلوم ہواسے چھوڑ دو اور اپنے خاص افراد (اہل خانہ،اقارب،مخلص،دوست وغیرہ) پر توجہ دو اور عام لوگوں کے معاملات سے ایک طرف ہوجائو۔‘‘

فوائد ومسائل

۔دور صحابہ میں نیک لوگ زیادہ تھے، بعد میں مرور ایام کے ساتھ ساتھ صورت حال بدلتی گئی، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ وتابعین کا دور ’’بہترین زمانہ‘‘ ہے۔

۔ نیک لوگ ہر دور میں موجود رہیں گے، تاہم ان کی تعداد بعض زمانوں میں زیادہ اور بعض میں کم ہوسکتی ہے۔

۔ وعدہ پورا نہ کرنا اختلاف اور فساد کا بعث ہے۔

۔ خرابی کے ایام میں صحیح اور غلط کا معیار قران و حدیث اور صحابہ وتابعین کا عمل ہے۔

۔ جو شخص عوام کی اصلاح نہ کرسکے، اسے اپنے اعمال میںبہر حال صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

حضرت ابو ذر ۶ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’ابو ذر!اس وقت تو کیا کرے گا،جب لوگوں میں موت کثرت سے واقع ہوگی،حتیٰ کہ ایک گھر ،یعنی قبر کی قیمت ایک غلام کے برابر ہوگی؟‘‘

میں نے کہا۔’’(میں وہی کچھ کروں گا)جو کچھ میرے لیے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرمائیں۔‘‘یا میں نے کہا۔’’اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیںں(کہ مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔)‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’صبر کرنا۔‘‘

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’تو کیا کرے گا، جب لوگوں کو بھوک کا سامنا ہوگا، حتیٰ کہ تو مسجد میں آئے گا تو تجھ سے اپنے بستر تک واپس نہیں پہنچاجائے گا اور تو اپنے بستر سے اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ نہیں جاسکے گا؟‘‘

میں نے کہا۔’’اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں۔‘‘یا کہا۔ ’’جو کچھ اللہ اور اس کا رسول میرے لیے پسند فرمائیں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ عفت اختیار کرنا۔‘‘

پھر فرمایا۔’’تو کیا کرے گا، جب لوگوں میں قتل و غارت عام ہوگی، حتیٰ کہ حجارۃ الزیت(کا مقام)خون میں ڈوب جائے گا؟‘‘

میں نے کہا۔’’جو کچھ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے پسند فرمائیں۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’تو جس قبیلے سے ہے، اسی میں جارہنا۔‘‘

میں نے کہا۔’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!کیوں نہ میں تلوار لے کر ان لوگوں کو قتل کروں جو یہ(فساد) کریں گے؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’تب تو تو لوگوں کے ساتھ(جنگ وجدل میں) شریک ہوگیا، بلکہ اس صورت حال میں تو اپنے گھر میں داخل ہوجانا۔‘‘

میں نے کہا۔’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر لوگ میرے گھر میں گھس آئیں تو؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’اگر تجھے خطرہ ہوکہ تلوار کی چمک مجھ پر غالب آجائے گی تو اپنی چادر کا کنارہ اپنے چہرے پر ڈال لینا۔ تب وہ(فسادی قاتل)اپنا اور تیرا گناہ اٹھالے جائے گا اور وہ جہنمی ہوجائے گا۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ مشکل حالات میں صبر بہترین طرز عمل ہے۔

۔ قحط اور بھوک کے زمانے میں چوری ڈاکے سے پرہیز کرنا بہت بہادری کاکام ہے۔

۔ قتل وغارت کے زمانے میں جب عام لوگ حق و باطل کی پہچان چھوڑ کر محض فساد پھیلانے کے لیے حق کی حمایت کا بہانہ بناکر قتل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ غلط فہمیاں دور کرنے اور امن قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

۔ اس قسم کے حالات میں جب مسلمان باہم دست و گریباں ہوں،سب سے کنارہ کش ہوکر بیٹھ رہنا بہتر ہے۔اگر اس حالت میں بھی کوئی فسادی ایسے امن پسند شہری کو قتل کردے تو وہ شہید ہے۔

۔ ’’قبر کی قیمت غلام کے برابر ہوجائے گی‘‘کا مطلب ہے، اس کثرت سے موتیں ہوں گی کہ دفنانے کے لیے دو گز زمین کا ملنا مشکل ہوجائے گا اور قبر کے لیے اتنی سی جگہ ایک گھر کی قیمت کے برابر ہوجائے گی یا قبر کھودنے والے اتنے کمیاب ہوجائیں گے کہ ان کی اجرت ایک گھر کی قیمت کے برابر ہوجائے گی۔

ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کثرت اموات کے باعث گھر رہنے والوں سے خالی ہوجائیں گے اور ان کی قیمتیں اتنی گرجائیں گی کہ ایک غلام کی قیمت کے برابر ہوجائیں گے، جبکہ عام حالات میں مکان کی قیمت ایک غلام کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتی ہے۔

قیامت سے پہلے

حضرت ابو موسیٰ۶ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’قیامت سے پہلے ہرج واقع ہوگا۔‘‘

میں نے عرض کیا۔’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!ہرج کا کیا مطلب ہے؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ قتل وغارت۔‘‘

کچھ مسلمانوں نے کہا۔’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اب بھی تو ہم سال بھر میں اتنے اتنے مشرکوں کو قتل کردیتے ہیں۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’مشرکوں کا قتل نہیں ہوگا بلکہ تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی کو، اپنے چچازاد کو اور اپنے رشتہ دار کو قتل کردے گا۔‘‘

بعض افراد نے کہا۔’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!کیا اس دور میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی؟‘‘

آپ صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’نہیں، اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی اور بعض میں ایسے لوگ آجائیں گے جو گردوغبار کی طرح(بے حقیقت، بے قدر)ہوں گے۔ ان کے پاس عقلیں نہیں ہوں گی۔‘‘

پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری۶ نے فرمایا۔’’قسم ہے اللہ کی، مجھے تو لگتا ہے کہ وہ فتنہ مجھ پر اور تم لوگوں ہی پر آجائے گا اور قسم ہے اللہ کی۔ اگر یہ اس چیز کے بارے میں ہوا،جس کے بارے میں ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی تھی تو میرے اور تمہارے لیے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ جس طرح ہم اس میں شامل ہوئے تھے،اسی طرح نکل جائیں۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ مسلمانوں کے درمیان معمولی باتوں پر قتل قیامت کی نشانی ہے، یہ ایسی بری خصلت ہے جو ماضی قریب تک اس کثرت سے موجود نہیں تھی۔حالانکہ دوسرے بہت سے فتنے موجود تھے۔

۔ کسی فتنے سے پیشگی خبردار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر مسلمان اس سے بچنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرے، اس لیے علمائ اور حکام کا فرض ہے کہ اس کے اسباب پر غور کرکے اس کے سدباب کی کوشش کریں۔

۔ مسلمان کو سمجھ بوجھ سے کام لینا چاہیے اوراختلافات کو قتل وغارت کا جواز نہیں بنانا چاہیے۔

۔صحابہ کرام۶ کے اختلافات خلوص کی بنیاد پر اور غلط فہمی کی وجہ سے تھے،اس لیے ان کے لیے ممکن ہوگیا کہ گمراہ لوگوں کے پروپیگنڈے کے اثر سے آزاد ہوکر اصلاح کرلیں۔ حضرت حسن۶ کے ایثار اور تدبر کی وجہ سے مسلمان دوبارہ متحد ہوگئے۔

۔ صحابہ کرام۶ کے اختلافات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کسی صحابی کے بارے میں احترام کے منافی لہجہ اختیار کرنا جائز نہیں۔

حضرت عدیسہ بنت اہبان۷ سے روایت ہے۔انہوں نے کہا۔ جب حضرت علی ۶ یہاں بصرہ میں تشریف لائے تو میرے والد(حضرت اہبان بن صبیفی غفاری۶)کے پاس بھی آئے۔انہوں نے فرمایا۔

’’ابو مسلم!(اہبان۶) کیا آپ ان لوگوں(حضرت معاویہ ۶ اور ان کے ساتھیوں) کے خلاف میری مدد نہیںکریں گے؟‘‘اہبان۶ نے کہا۔’’کیوں نہیں۔‘‘

پھر اپنی ایک لونڈی کو بلاکر کہا۔’’لونڈی!میری تلوار نکال۔‘‘ وہ تلوار لے آئی۔انہوں نے میان سے ایک بالشت تلوار باہر نکالی تو(معلوم ہوا کہ)وہ لکڑی کی تھی۔ انہوںنے فرمایا۔

’’میرے محبوب اور تیرے چچا کے بیٹے(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ جب مسلمانوں میں باہم فتنہ وفساد برپا ہوجائے تو میں لکڑی کی تلوار بنالوں۔اب اگر آپ چاہتے ہیں تو میں آپ کے ساتھ(لکڑی کی تلوار لے کر)چلنے کو تیار ہوں۔‘‘

حضرت علی ۶ نے فرمایا۔

’’مجھے نہ تو آپ کی ضرورت ہے اور نہ آپ کی تلوار کی۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ لکری کی تلوار جنگ میں کام نہیں آسکتی۔لکڑی کی تلوار بنوانے کا مقصد جنگ وجدل سے الگ رہنا ہے۔

۔ مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے موقع پر کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے بجائے دونوں میں صلح کرانے کی کوشش کرنا زیادہ ضروری ہے۔

۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری۶ سے روایت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’قیامت سے پہلے ایسے فتنے(رونما)ہوں گے جیسے تاریک رات کے ٹکڑے۔ ان میں انسان صبح کو مومن ہوگا تو شام کو کافر ہوجائے گا۔ان(فتنوں)کے دوران میں بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے،کھڑا ہوا چلنے والے سے اور چلنے والا بھاگنے والے سے بہتر ہوگا۔ ان حالات میں تم اپنی کمانیں توڑ دینا، ان کی تانت کاٹ دینا اور اپنی تلواریں پتھروں پر دے مارنا۔ اگر(فسادی لوگ)تم میں سے کسی کے گھر میںگھس آئیں تو آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے(ہابیل)کی طرح ہوجانا۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ فتنے کے زمانے میں اپنے ایمان کا بہت زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔

۔ فتنوں میں کم حصہ لینا بہتر ہے اور بالکل کنارہ کش رہنا سب سے بہتر۔

۔ صرف اس لیے کسی سے دشمنی رکھنا اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا غلط ہے کہ اس کا تعلق فلاں فرقے، تنظیم، جماعت یا پارٹی سے ہے۔یہ جاہلیت کی سی عصبیت ہے، اس سے زیادہ سے زیادہ اجتناب کرنا ضروری ہے۔

فتنے کے وقت

حضرت ابو بردہ۷ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا۔’’میں حضرت محمد بن مسلمہ۶ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔

’’عنقریب فتنہ افتراق اور اختلاف (رونما) ہوگا۔ جب یہ صورت حال پیش آئے تو اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ پرچڑھ جانا اور اسے(پہار کے پتھروں پر)مار کر توڑ دینا۔ پھر گھر میں بیٹھ رہنا، حتیٰ کہ تجھ تک کوئی گناہ گار ہاتھ پہنچ جائے یا فیصلہ کردینے والے موت آجائے۔‘‘

(محمد بن مسلمہ۶ بیان کرتے ہیں۔)تحقیق فتنہ واقع ہوچکا اور میں نے وہی کچھ کیا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔

فوائد ومسائل

۔ ’’مسلمانوں کا اسلحہ کفار کے خلاف کام آنا چاہیے، جب وہ مسلمان کے خلاف چلنے لگے تو اس کا تباہ ہوجانا بہتر ہے۔

۔ گناہ گار ہاتھ کا مطلب ہے کہ کسی مفسد کا نشانہ بن جائواور مظلومانہ شہادت پالو یا طبعی موت کی وجہ سے ان جھمیلوں سے چھوٹ جائو۔

دو مسلمانوں کا تلواریں لے کر ایک

دوسرے کے مقابل آجانا

حضرت انس بن مالک۶ سے روایت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مقابل ہوتے ہیں تو قاتل اور مقتول(دونوں)جہنم میں جاتے ہیں۔‘‘

مسلمان کا قتل

حضرت ابو موسیٰ ۶ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے(لڑنے کے لیے)ملتے ہیں تو قاتل اور مقتول(دونوں فریق) جہنم میں جائیں گے۔‘‘

صحابہ کرام۶ نے عرض کیا۔’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم!یہ قاتل ہے(اس لیے مجرم ہے)مقتول(کے جہنمی ہونے)کی کیا وجہ ہے؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ جب کوئی شخص جرم کی پوری کوشش کرے لیکن کسی وجہ سے کامیاب نہ ہوسکے تو اللہ کے ہاں وہ بھی مجرم ہے۔

۔ جو شخص ارتکاب جرم کا عزم رکھتا ہو لیکن ارتکاب سے پہلے رجوع کرلے تو اس کا گناہ معاف ہوجاتا ہے اور توبہ کی وجہ سے ثواب کا مستحق ہوجاتا ہے۔

حضرت ابو بکرہ۶ سے روایت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’جب دو مسلمانوں میں سے ایک اپنے بھائی پر ہتھیار اٹھاتا ہے تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں، جب ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو قتل کردیتا ہے تو دونوں جہنم میں داخل ہوجاتے ہیں۔‘‘

فوائد ومسائل

۔ جہنم کے کنارے پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس غلطی کی وجہ سے ان دونوں کے جہنمی ہونے کا خطرہ ہوتا ہے لیکن ان کے لیے جہنم سے بچنے کا موقع باقی ہوتا ہے کہ لڑائی سے باز آجائیں۔

۔ مومن کا قتل جہنم میں پہنچانے والا عمل ہے، البتہ توبہ یا قصاص سے یہ گناہ معاف ہوسکتا ہے۔

جہاں فرض نماز پڑھی جائے

وہیں نفل نماز پڑھنے کا بیان

حضرت ابوہریرہ ۶ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

’’کیا تم میں سے کسی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ جب وہ نماز پڑھے تو آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوجائے۔‘‘ یعنی نفل وسنت پڑھتے وقت۔

فائدہ:نماز کے اس ادب سے اکثر لوگ غافل ہیں۔ فرض نماز کے بعد سنتیں اور نفل اسی جگہ نہیں پڑھنے چاہئیں یا تو جگہ بدل لے یا اپنے ساتھی سے کوئی بات چیت کرلے۔ مثلاً سلام کرکے اس کی خیریت دریافت کرلے یا اذکار مسنونہ کرنے کے بعد اسی جگہ پڑھ لے۔ یہ مضمون صحیح احادیث میں بھی بیان ہوا ہے، اسی لیے بعض حضرات کے نزدیک یہ روایت بھی صحیح ہے۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ ۶ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔’’ امام اس جگہ (نفل یا سنت)نماز نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز ادا کی ہے، حتیٰ کہ وہاں سے ایک طرف ہٹ جائے۔‘‘

٭٭

قرآن پاک زندگی گزارنے کے لیے ایک لائحہ عمل ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن پاک کی عملی تشریح ہے۔ قرآن اور حدیث دین اسلام کی بنیاد ہیں اور یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حےثیت رکھتے ہیں۔ قرآن مجید دین کا اصل ہے اور حدیث شریف اس کی تشریح ہے۔

پوری امت مسلمہ اس پر متفق ہے کہ حدیث کے بغیر اسلامی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے، اس لیے ان دونوں کو دین میں حجت اور دلیل قرار دیا گیا۔ اسلام اور قرآن کو سمجھنے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مطالعہ کرنا اور ان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

کتب احادیث میں صحاح ستہ یعنی صحےح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابو دائود، سنن نسائی، جامع ترمذی اور موطا مالک کو جو مقام حاصل ہے، وہ کسی سے مخفی نہیں۔

ہم جو احادیث شائع کررہے ہیں، وہ ہم نے ان ہی چھ مستند کتابوں سے لی ہیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علےہ وسلم کی احادیث کے علاوہ ہم اس سلسلے میں صحابہ کرام اور بزرگان دین کے سبق آموز واقعات بھی شائع کریں گے۔

**********

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں