دنیا کے 15 عجیب و غریب خوف اور فوبیاز: جب دماغ کا وہم حقیقت سے زیادہ خوفناک ہو جائے!

دنیا کے 15 عجیب و غریب خوف اور فوبیاز: جب دماغ کا وہم حقیقت سے زیادہ خوفناک ہو جائے 73

کبھی ایسا ہوا ہے کہ شہد کے چھتے میں بنے بے شمار چھوٹے سوراخ دیکھ کر آپ کے جسم میں عجیب سی بے چینی دوڑ گئی ہو؟ کسی بلند عمارت کی بالکونی میں کھڑے ہو کر ایسا محسوس ہوا ہو جیسے ابھی نیچے گر جائیں گے؟ یا کسی بند کمرے میں داخل ہوتے ہی سانس گھٹنے اور دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی ہو؟ بعض لوگوں کو تو گڑیا، آئینے میں اپنا عکس، تتلیوں، سمندر کی گہرائیوں اور حتیٰ کہ موبائل فون کے بغیر چند گھنٹے گزارنے سے بھی شدید خوف محسوس ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے بہت سے خوفوں کے پیچھے کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں ہوتا، لیکن انسانی دماغ انہیں اس قدر حقیقی بنا دیتا ہے کہ انسان کا جسم بھی خطرے کی گھنٹی بجانے لگتا ہے۔ نفسیات کی دنیا میں اس کیفیت کو فوبیا (Phobia) کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں خوف کی سیکڑوں مختلف صورتیں دیکھی جاتی ہیں۔ کچھ خوف انسانی بقا سے جڑے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے غیر معمولی ہیں جن کے بارے میں جان کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر کسی شخص کو ایسی چیز سے بھی خوف کیسے ہوسکتا ہے؟ آئیے انسانی دماغ کے اس حیرت انگیز نظام، دنیا کے منفرد فوبیاز اور ان سے نجات حاصل کرنے کے سائنسی طریقوں کو سمجھتے ہیں۔

فوبیا کیا ہے؟ جب دماغ خطرے کا غلط الارم بجانے لگے

عام خوف اور فوبیا میں بنیادی فرق شدت اور ردعمل کا ہے۔ مثال کے طور پر کسی زہریلے سانپ کو دیکھ کر ڈر جانا ایک فطری حفاظتی ردعمل ہے، لیکن کسی بے ضرر تصویر میں سانپ دیکھ کر شدید گھبراہٹ، پسینہ، دل کی تیز دھڑکن اور اس تصویر سے بچنے کی مسلسل کوشش فوبیا کی علامت ہوسکتی ہے۔

انسانی دماغ میں ایک اہم حصہ امیگڈالا (Amygdala) کہلاتا ہے، جو خطرے کو پہچاننے اور خوف کے ردعمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب دماغ کسی چیز کو خطرناک سمجھتا ہے تو جسم کا حفاظتی نظام متحرک ہوجاتا ہے۔ دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، سانس کی رفتار بدل جاتی ہے، پٹھوں میں تناؤ پیدا ہوتا ہے اور جسم فوری طور پر بھاگنے یا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔

فوبیا میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دماغ بعض اوقات معمولی یا بے ضرر محرک کو بھی بڑے خطرے کے طور پر سمجھ لیتا ہے۔ یوں انسان جانتا ہے کہ سامنے موجود چیز اسے نقصان نہیں پہنچا رہی، لیکن اس کا جسم پھر بھی خوف محسوس کرتا ہے۔

یہ کوئی ڈرامہ، کمزوری یا محض خیالی بیماری نہیں۔ خوف کا جسمانی اور نفسیاتی ردعمل حقیقی ہوتا ہے، چاہے اس کے پیچھے موجود خطرہ حقیقت میں نہ ہو۔

خواتین میں فوبیا زیادہ کیوں دیکھے جاتے ہیں؟

خواتین اور مرد دونوں مختلف قسم کے فوبیاز کا شکار ہوسکتے ہیں، لیکن تحقیقی اعدادوشمار میں خواتین میں مخصوص فوبیا کی شرح نسبتاً زیادہ سامنے آئی ہے۔

امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ (NIMH) کے اعدادوشمار کے مطابق مخصوص فوبیا کی ایک سالہ شرح خواتین میں 12.2 فیصد جبکہ مردوں میں 5.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ امریکی آبادی کے اعدادوشمار ہیں، انہیں پاکستان یا پوری دنیا کی خواتین کی شرح نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس فرق کی وجوہات میں حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی عوامل شامل ہوسکتے ہیں۔ بچپن کے تجربات، خاندانی ماحول، مسلسل ذہنی دباؤ، کسی خوفناک واقعے کا سامنا اور دوسروں کو خوفزدہ دیکھ کر اسی خوف کو سیکھ لینا بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

خصوصاً خواتین کی زندگی میں گھر، بچوں، خاندان، ملازمت اور سماجی توقعات سے متعلق مسلسل ذمہ داریاں بعض حالات میں اضطراب کو بڑھا سکتی ہیں۔ تاہم ہر عورت میں فوبیا پیدا ہونے کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ کوئی لازمی کیفیت ہے۔

دنیا کے 15 حیرت انگیز اور عجیب و غریب فوبیاز

1۔ ٹرائیپوفوبیا (Trypophobia): چھوٹے سوراخوں سے عجیب نفرت

یہ دنیا کے سب سے دلچسپ اور غیر معمولی خوفوں میں سے ایک ہے۔ اس کیفیت میں انسان کو ایک جگہ جمع چھوٹے چھوٹے سوراخ، شہد کا چھتا، کمل کے بیجوں کی سطح، بعض پھلوں کے بیجوں کے خانے یا سوراخ دار اشیا دیکھ کر شدید بے چینی، متلی، خارش یا جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوسکتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض افراد کو ان سوراخوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی اپنی جلد پر بھی ایسے سوراخ بن گئے ہوں۔

تحقیق میں اس کیفیت کو بعض بیماریوں یا خطرناک جانداروں سے مشابہ بصری نمونوں سے پیدا ہونے والے فطری گریز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ تاہم اس کے تمام اسباب ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ سائنسی لٹریچر میں اس رجحان پر تحقیق جاری ہے اور ہر شخص میں اس کی شدت مختلف ہوسکتی ہے۔

2۔ کلاسٹروفوبیا (Claustrophobia): بند جگہوں میں قید ہوجانے کا خوف

کیا آپ لفٹ میں داخل ہوتے ہوئے گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں؟ یا کسی چھوٹے کمرے میں دروازہ بند ہوتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے سانس لینا مشکل ہوگیا ہو؟

کلاسٹروفوبیا میں انسان کو بند یا محدود جگہوں سے غیر معمولی خوف محسوس ہوتا ہے۔ لفٹ، چھوٹی گاڑی، سرنگ، تنگ کمرہ اور بعض اوقات ہجوم بھی اس کیفیت کو متحرک کرسکتے ہیں۔

اس خوف کے پیچھے اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ کہیں باہر نکلنے کا راستہ بند نہ ہوجائے یا ضرورت پڑنے پر مدد نہ مل سکے۔ یہ خوف اتنا شدید ہوسکتا ہے کہ انسان کئی منزلیں سیڑھیوں سے چڑھنا پسند کرتا ہے لیکن لفٹ استعمال نہیں کرتا۔

3۔ ایکروفوبیا (Acrophobia): اونچائی دیکھ کر خوفزدہ ہوجانا

بلند عمارت کی چھت، پہاڑ کی چوٹی، شیشے کے فرش والا پل یا کسی بلند مقام کی بالکونی بعض لوگوں کے لیے ناقابل برداشت خوف کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کیفیت میں صرف نیچے دیکھنا ہی نہیں بلکہ اونچائی کا تصور بھی گھبراہٹ پیدا کرسکتا ہے۔ بعض افراد کو چکر، ٹانگوں میں کمزوری اور توازن کھونے کا احساس ہوتا ہے۔

یہ عام احتیاط سے مختلف ہے۔ اونچائی پر حفاظتی احتیاط ضروری ہے، لیکن جب محفوظ مقام پر موجود ہونے کے باوجود شدید خوف زندگی کے معمولات متاثر کرنے لگے تو یہ فوبیا ہوسکتا ہے۔

4۔ تھلاسوفوبیا (Thalassophobia): سمندر کی گہرائیوں کا پراسرار خوف

سمندر کی سطح پر لہریں دیکھنا بعض لوگوں کو خوبصورت لگتا ہے، لیکن جب وہ گہرے پانی، اندھیرے سمندر یا پانی کے نیچے موجود نامعلوم دنیا کا تصور کرتے ہیں تو خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔

تھلاسوفوبیا میں سمندر کی گہرائی، کھلے پانی اور اس کے نیچے چھپی نامعلوم چیزوں کا شدید خوف شامل ہوسکتا ہے۔

بعض افراد کو پانی کے اندر کسی بہت بڑے جہاز، زیر آب چٹان یا سمندر کی تہہ کی تصاویر دیکھ کر بھی گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔ اس خوف میں اصل محرک اکثر گہرائی، بے انتہا وسعت اور نامعلوم چیزوں کا تصور ہوتا ہے۔

5۔ اراکنوفوبیا (Arachnophobia): مکڑیوں سے شدید خوف

مکڑی دنیا کے بہت سے علاقوں میں عام پائی جاتی ہے، لیکن بعض لوگوں کے لیے اس کا اچانک سامنے آنا شدید خوف کا سبب بن جاتا ہے۔

اس کیفیت میں انسان مکڑی کو دیکھتے ہی چیخ سکتا ہے، وہاں سے بھاگ سکتا ہے یا کئی گھنٹے تک اس جگہ جانے سے گریز کرسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض افراد مکڑی کی تصویر، کھلونا یا ویڈیو سے بھی خوف محسوس کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔

6۔ کولروفوبیا (Coulrophobia): مسخروں یا جوکروں کا خوف

بچوں کو ہنسانے والے رنگ برنگے چہروں کے حامل مسخرے بعض لوگوں کے لیے خوفناک کردار بن جاتے ہیں۔

اس کیفیت میں مسخرے کا غیر معمولی میک اپ، مصنوعی مسکراہٹ، چہرے کے اصل تاثرات کا چھپ جانا اور غیر متوقع حرکات خوف پیدا کرسکتی ہیں۔

بعض افراد کو سرکس، تفریحی پروگراموں اور بچوں کی تقریبات میں بھی ایسے کردار دیکھ کر شدید بے چینی ہوتی ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ چہرے کے غیر واضح تاثرات اور غیر متوقع رویے سے پیدا ہونے والا عدم تحفظ ہے۔

7۔ آئسوپٹروفوبیا (Eisoptrophobia): آئینے میں اپنا عکس دیکھنے کا خوف

یہ ایک غیر معمولی خوف ہے جس میں انسان آئینے میں اپنا عکس دیکھنے سے گھبرا سکتا ہے۔

کچھ افراد کو اندھیرے میں آئینہ دیکھنے، اچانک اپنا عکس سامنے آنے یا آئینے میں کسی غیر معمولی چیز کا تصور کرنے سے خوف محسوس ہوتا ہے۔

اس کیفیت کو مافوق الفطرت واقعات سے جوڑنا درست نہیں۔ اس کے پیچھے اضطراب، منفی تصورات، سابقہ تجربات یا بعض نفسیاتی عوامل ہوسکتے ہیں۔

8۔ ایمیٹوفوبیا (Emetophobia): قے ہونے کا خوف

یہ فوبیا بظاہر عام معلوم ہوتا ہے لیکن بعض افراد کی زندگی کو بہت زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔

اس میں انسان کو خود قے ہونے، کسی دوسرے شخص کو قے کرتے دیکھنے یا ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کا شدید خوف ہوتا ہے۔

بعض افراد کھانے پینے میں غیر ضروری احتیاط کرنے لگتے ہیں، سفر سے گریز کرتے ہیں یا ایسی تقریبات میں جانے سے ڈرتے ہیں جہاں کسی کے بیمار ہونے کا امکان ہو۔

9۔ فوبوفوبیا (Phobophobia): خود خوفزدہ ہوجانے کا خوف

یہ ایک دلچسپ نفسیاتی کیفیت ہے۔ اس میں انسان کو کسی خاص چیز کے بجائے خود خوف محسوس ہونے سے خوف آتا ہے۔

مثلاً کسی شخص کو پہلے گھبراہٹ کا دورہ پڑا ہو تو وہ مسلسل یہ سوچ سکتا ہے کہ کہیں دوبارہ ایسا نہ ہوجائے۔ وہ اپنے دل کی دھڑکن، سانس اور جسمانی احساسات پر غیر معمولی توجہ دینے لگتا ہے۔

یوں خوف کا انتظار خود ایک نیا خوف بن جاتا ہے اور انسان ایک مسلسل ذہنی دائرے میں پھنس سکتا ہے۔

10۔ نوموفوبیا (Nomophobia): موبائل فون کے بغیر رہنے کا خوف

کیا آپ کبھی اپنا موبائل گھر بھول جائیں تو سارا دن بے چین رہتے ہیں؟

نوموفوبیا کی اصطلاح موبائل فون یا اس سے رابطہ منقطع ہونے کے خوف کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اس میں موبائل کی بیٹری ختم ہونے، انٹرنیٹ بند ہونے، سگنل نہ آنے یا فون دستیاب نہ ہونے پر شدید بے چینی ہوسکتی ہے۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جو موبائل کے بغیر پریشان ہوتا ہے، لازماً کسی باقاعدہ فوبیا کا شکار نہیں ہوتا۔ یہ اصطلاح ایک تحقیق شدہ رویے اور اضطرابی رجحان کے لیے استعمال ہوتی ہے، لیکن اسے ہر صورت میں الگ باقاعدہ طبی تشخیص نہیں سمجھنا چاہیے۔

11۔ ایویوفوبیا (Aviophobia): ہوائی جہاز میں سفر کرنے کا خوف

بعض لوگ ہوائی جہاز کو سفر کا محفوظ ذریعہ سمجھتے ہیں، لیکن کچھ افراد کے لیے پرواز کا تصور ہی پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔

انہیں جہاز کے ہلنے، بلندی، تکنیکی خرابی یا حادثے کا خوف رہتا ہے۔ بعض اوقات جہاز میں سوار ہونے سے کئی دن پہلے ہی بے چینی شروع ہوجاتی ہے۔

اس خوف کی وجہ اکثر حادثات سے متعلق خبریں، منفی تصورات یا کسی سابقہ ناخوشگوار سفر کا تجربہ ہوسکتا ہے۔

12۔ اینتھروپوفوبیا (Anthropophobia): انسانوں سے خوف

یہ کیفیت انسانوں یا دوسروں کے ساتھ میل جول سے غیر معمولی خوف یا گریز کی صورت میں ظاہر ہوسکتی ہے۔

اس میں کسی سے بات کرنا، نئے لوگوں سے ملنا یا اجنبی افراد کے قریب ہونا پریشان کن محسوس ہوسکتا ہے۔

یہاں اسے سوشل اینگزائٹی ڈس آرڈر سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔ دونوں میں کچھ علامات ملتی جلتی ہوسکتی ہیں، لیکن ان کی تشخیص اور نفسیاتی نوعیت ایک جیسی نہیں ہوتی۔

13۔ گیموفوبیا (Gamophobia): شادی یا ازدواجی وابستگی کا خوف

کچھ افراد شادی کے تصور، مستقل رشتے یا ازدواجی ذمہ داریوں سے شدید خوف محسوس کرتے ہیں۔

یہ محض شادی نہ کرنے کی خواہش یا ذاتی فیصلہ نہیں، بلکہ بعض صورتوں میں شدید اضطراب اور خوف کی کیفیت ہوسکتی ہے۔

اس کے پیچھے ماضی کے تلخ تجربات، خاندان میں ناکام ازدواجی تعلقات دیکھنا، اعتماد کے مسائل یا مستقبل کے بارے میں غیر معمولی خدشات ہوسکتے ہیں۔

14۔ سومنوفوبیا (Somniphobia): نیند سے خوف

بعض افراد کو سونے سے پہلے شدید بے چینی ہوتی ہے۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ نیند کے دوران کچھ برا نہ ہوجائے، وہ جاگ نہ سکیں یا کوئی خوفناک خواب نہ دیکھیں۔

اس کیفیت میں انسان جان بوجھ کر دیر تک جاگتا رہتا ہے، جس سے نیند کی کمی اور اضطراب مزید بڑھ سکتے ہیں۔

15۔ اینتھوفوبیا (Anthophobia): پھولوں سے خوف

یہ سن کر حیرت ہوتی ہے کہ بعض افراد کو پھولوں سے بھی خوف ہوسکتا ہے۔

اس کیفیت میں مخصوص پھولوں کو دیکھنے، چھونے یا ان کے قریب جانے سے گھبراہٹ ہوسکتی ہے۔ بعض افراد کے لیے پھولوں کی مخصوص شکل، بو یا ان سے وابستہ کسی ناخوشگوار یاد کا تصور محرک بن سکتا ہے۔

یہ غیر معمولی مثال اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خوف کی کوئی ایک مقررہ شکل نہیں ہوتی۔

فوبیا کیسے پیدا ہوتا ہے؟ کیا یہ بچپن سے شروع ہوتا ہے؟

نفسیاتی تحقیقات کے مطابق فوبیا پیدا ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہوتی۔ بعض افراد میں یہ بچپن کے کسی خوفناک واقعے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچپن میں کتے کے کاٹنے یا پیچھا کرنے کا تجربہ بعد کی زندگی میں کتوں سے شدید خوف پیدا کرسکتا ہے۔

بعض اوقات انسان خود کسی حادثے کا شکار نہیں ہوتا بلکہ کسی دوسرے شخص کو خوفزدہ دیکھ کر بھی خوف سیکھ لیتا ہے۔ اگر ایک بچہ اپنی والدہ یا والد کو کسی جانور سے شدید خوفزدہ ہوتے دیکھے تو وہ بھی اس جانور کو خطرناک سمجھنا شروع کرسکتا ہے۔

جینیاتی رجحانات، خاندانی اضطراب، ماحول اور دماغ کے سیکھنے کے عمل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ خوف وقت کے ساتھ مضبوط ہوسکتا ہے۔ جب انسان کسی چیز سے ڈرتا ہے اور مسلسل اس سے بچنے لگتا ہے تو اسے وقتی سکون ملتا ہے۔ دماغ اس سکون کو اس بات کا ثبوت سمجھ سکتا ہے کہ اس چیز سے دور رہنا ضروری تھا۔ یوں خوف کا دائرہ مزید مضبوط ہوتا جاتا ہے۔

کیا فوبیا محض وہم یا دماغ کا دھوکا ہے؟

اس سوال کا جواب سمجھنا بہت ضروری ہے۔ فوبیا کو محض وہم کہنا درست نہیں، کیونکہ اس میں پیدا ہونے والی گھبراہٹ، پسینہ، دل کی تیز دھڑکن، کپکپی اور سانس کی تبدیلیاں حقیقی جسمانی ردعمل ہیں۔

البتہ بعض حالات میں خطرے کا اندازہ حقیقت سے بڑھا چڑھا کر لگایا جاتا ہے۔ دماغ کسی بے ضرر چیز کو بھی خطرناک سمجھ لیتا ہے۔

مثال کے طور پر کسی محفوظ لفٹ میں موجود شخص کو یہ احساس ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں پھنس کر مر جائے گا، حالانکہ وہاں کوئی فوری خطرہ موجود نہیں۔ اس کا احساس حقیقی ہے، لیکن اس احساس کی بنیاد پر بننے والا خطرے کا اندازہ غلط ہوسکتا ہے۔

اسی لیے فوبیا کا علاج صرف خود کو سمجھانے سے نہیں ہوتا بلکہ دماغ کو نئے اور محفوظ تجربات کے ذریعے سکھانا پڑتا ہے کہ ہر خوفناک محسوس ہونے والی چیز حقیقت میں خطرناک نہیں ہوتی۔

خواتین اپنے خوف اور فوبیا پر کیسے قابو پاسکتی ہیں؟

سب سے پہلے اپنے خوف کو پہچاننا اور اسے تسلیم کرنا ضروری ہے۔ کسی چیز سے خوف محسوس ہونے پر خود کو کمزور، بزدل یا غیر معمولی سمجھنے کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ خوف کب شروع ہوتا ہے، کس چیز سے بڑھتا ہے اور اس کے دوران جسم میں کیا تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔

اگر خوف معمولی ہے تو آہستہ آہستہ اس سے متعلق محفوظ حالات کا سامنا کرنے کی مشق مددگار ہوسکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کو لفٹ سے ہلکا خوف محسوس ہوتا ہے تو وہ پہلے لفٹ کے قریب کچھ وقت گزار سکتی ہے، پھر کسی قابل اعتماد شخص کے ساتھ مختصر سفر کرسکتی ہے۔ تاہم شدید فوبیا میں یہ مشق ماہر نفسیات کی رہنمائی سے ہونی چاہیے۔

جدید نفسیات میں کاگنیٹو بیہیویئرل تھیراپی (Cognitive Behavioural Therapy یا CBT) کو فوبیا کے مؤثر علاج میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس طریقے میں انسان اپنے منفی خیالات کو پہچاننا، ان کا حقیقت پسندانہ جائزہ لینا اور خوف کے جواب میں اپنے رویے کو تبدیل کرنا سیکھتا ہے۔

ایکسپوژر تھیراپی (Exposure Therapy) بھی خاص طور پر مخصوص فوبیاز کے لیے مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں ماہرِ نفسیات کی نگرانی میں انسان کو خوف کی وجہ بننے والی چیز یا صورت حال کا بتدریج اور محفوظ انداز میں سامنا کروایا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دماغ کو یہ سکھانا ہے کہ خوف کے باوجود محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

گہری اور آہستہ سانس لینے کی مشق، مناسب نیند، جسمانی سرگرمی، مراقبہ اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا بھی اضطراب کے انتظام میں مدد دے سکتے ہیں۔ کسی قابل اعتماد دوست یا خاندان کے فرد سے بات کرنا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر فوبیا روزمرہ زندگی، ملازمت، تعلیم، سفر، علاج یا خاندانی تعلقات کو متاثر کررہا ہو تو ماہرِ نفسیات یا سائیکاٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ بعض حالات میں ڈاکٹر دواؤں کا مشورہ بھی دے سکتا ہے، لیکن دوا کا انتخاب اور استعمال طبی معائنے کے بعد ہی ہونا چاہیے۔

یاد رکھیں کہ شدید خوف کا سامنا کرنے کے لیے خود کو زبردستی کسی خطرناک یا ناقابل برداشت صورت حال میں ڈالنا درست طریقہ نہیں۔ علاج کا مقصد محفوظ طریقے سے خوف کی شدت کم کرنا ہے۔

خوف پر قابو پانے کا سب سے اہم راز

انسانی دماغ کی ایک حیرت انگیز صلاحیت یہ ہے کہ وہ سیکھ سکتا ہے اور اپنے ردعمل کو تبدیل بھی کرسکتا ہے۔ جس طرح کوئی خوفناک تجربہ دماغ میں خوف کا تعلق پیدا کرسکتا ہے، اسی طرح نئے محفوظ تجربات اس تعلق کو کمزور کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

کسی خاتون کو اگر پرواز سے خوف آتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ زندگی بھر سفر نہیں کرسکے گی۔ اگر کسی لڑکی کو لوگوں کے سامنے بولنے سے گھبراہٹ ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کبھی اعتماد سے اپنی بات نہیں کرسکے گی۔

فوبیا کا علاج ممکن ہے، اور مناسب نفسیاتی مدد سے بہت سے لوگ اپنے خوف پر قابو پا کر ایک معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔

یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ خوف محسوس کرنا انسانی فطرت ہے، لیکن خوف کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار دینا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی سب سے بڑی جنگ کسی بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنے ہی دماغ میں بجنے والے خطرے کے الارم سے ہوتی ہے۔ اور اچھی خبر یہ ہے کہ اس الارم کو سمجھنا، اس کی شدت کم کرنا اور دوبارہ پُرسکون زندگی کی طرف لوٹنا ممکن ہے۔

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں