کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ کسی خاص شخص سے چند منٹ بات کرنے کے بعد آپ کا موڈ خوشگوار ہو جاتا ہے، دل ہلکا محسوس ہوتا ہے اور زندگی پہلے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگتی ہے؟ اس کے برعکس بعض لوگوں کے ساتھ تھوڑی دیر گزارنے کے بعد ہی طبیعت بوجھل، ذہن تھکا ہوا اور دل بے سکون ہونے لگتا ہے۔ کبھی کسی اجنبی سے پہلی ملاقات میں عجیب سی اپنائیت محسوس ہوتی ہے، جبکہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ بغیر کسی واضح وجہ کے فاصلہ رکھنے کو دل چاہتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیا واقعی انسان اپنے اندر مثبت اور منفی توانائی رکھتا ہے؟ کیا ہم دوسروں کی توانائی محسوس کر سکتے ہیں؟ اور کیا سائنس اس احساس کی کوئی وضاحت پیش کرتی ہے؟
دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ انسانی شخصیت، جذبات اور رویوں کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا سائنسی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ البتہ مثبت اور منفی توانائی سے مراد کوئی ایسی پراسرار شعاع یا مقناطیسی قوت نہیں جسے انسان اپنے جسم سے خارج کرتا ہو، بلکہ اس تصور کے پیچھے جذباتی کیفیت، ذہنی رویے، جسمانی زبان، گفتگو کا انداز، چہرے کے تاثرات اور ایک دوسرے کے احساسات سے متاثر ہونے جیسے کئی نفسیاتی عوامل کام کرتے ہیں۔ یہی عوامل کسی شخص کی موجودگی کو ہمارے لیے خوشگوار یا ناخوشگوار بنا سکتے ہیں۔
انسانی توانائی دراصل کیا ہے؟
روزمرہ زندگی میں ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں شخص بہت مثبت توانائی رکھتا ہے، اس کے پاس بیٹھ کر اچھا محسوس ہوتا ہے، جبکہ فلاں شخص کی موجودگی ہی ماحول کو خراب کر دیتی ہے۔ نفسیات کی زبان میں اس تجربے کو سمجھنے کے لیے جذباتی اثر پذیری (Emotional Contagion)، جذباتی نظم و ضبط (Emotional Regulation) اور غیر لفظی ابلاغ (Nonverbal Communication) جیسے تصورات اہم ہیں۔
انسان صرف الفاظ کے ذریعے دوسروں تک اپنے جذبات نہیں پہنچاتا۔ اس کی آواز کا اتار چڑھاؤ، چہرے کے تاثرات، آنکھوں کا رابطہ، بیٹھنے کا انداز، جسمانی حرکات اور ردعمل بھی بہت کچھ بتاتے ہیں۔ ہمارا دماغ ان اشاروں کو مسلسل محسوس اور سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، اکثر اس سے پہلے کہ ہم شعوری طور پر کسی نتیجے پر پہنچیں۔
مثبت توانائی رکھنے والے شخص سے مراد عموماً ایسا انسان ہوتا ہے جو دوسروں کے ساتھ احترام سے پیش آئے، امید کا دامن نہ چھوڑے، دوسروں کی بات سنے، مشکل حالات میں بھی متوازن ردعمل دے اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو جذباتی تحفظ فراہم کرے۔ اس کے برعکس مسلسل تنقید کرنے والا، دوسروں کو کمتر سمجھنے والا، ہر معاملے میں منفی پہلو تلاش کرنے والا یا اپنی پریشانی دوسروں پر مسلط کرنے والا شخص لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
کچھ لوگوں کے پاس بیٹھ کر سکون کیوں ملتا ہے؟
اس سوال کا ایک اہم سائنسی جواب جذباتی منتقلی (Emotional Contagion) ہے۔ اس نفسیاتی عمل میں ایک شخص کے جذبات، تاثرات اور رویے دوسرے شخص کے جذبات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایسے انسان کے ساتھ وقت گزاریں جو پرسکون انداز میں گفتگو کرتا ہے، توجہ سے سنتا ہے اور ہر بات پر غصے یا گھبراہٹ کا اظہار نہیں کرتا تو ممکن ہے آپ بھی اس کے ساتھ زیادہ پُرسکون محسوس کریں۔
اس کے برعکس اگر کوئی شخص مسلسل غصے، شکایت، خوف یا بے چینی کا اظہار کرتا رہے تو اس کے ساتھ رہنے والے افراد بھی ذہنی تناؤ محسوس کر سکتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانی دماغ سماجی ماحول سے آنے والے جذباتی اشاروں کو مسلسل سمجھتا اور ان کے مطابق اپنا ردعمل تشکیل دیتا ہے۔
سن 1990 کی دہائی میں نفسیاتی تحقیق نے جذباتی منتقلی کے اس عمل کو باقاعدہ مطالعے کا موضوع بنایا۔ بعد کی تحقیق میں بھی یہ سامنے آیا کہ چہرے کے تاثرات، آواز اور باہمی میل جول کے ذریعے جذبات ایک فرد سے دوسرے فرد تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے بعض لوگوں کے ساتھ چند لمحے گزارنے کے بعد بھی ہمارے موڈ میں تبدیلی محسوس ہو سکتی ہے۔
پہلی ملاقات میں کسی سے اپنائیت یا ناپسندیدگی کیوں محسوس ہوتی ہے؟
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص سے پہلی ملاقات میں ہی دل چاہتا ہے کہ اس سے دوبارہ ملاقات ہو، جبکہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بے وجہ فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کیفیت کے پیچھے کئی نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں۔
ہمارا دماغ سامنے والے شخص کے چہرے، آواز، گفتگو، حرکات اور رویے کو بہت تیزی سے جانچتا ہے۔ اس دوران وہ ہمارے سابقہ تجربات اور یادوں سے بھی موازنہ کرتا ہے۔ اگر کسی شخص کا انداز ہمیں کسی ایسے انسان کی یاد دلاتا ہے جس کے ساتھ ہمارا اچھا تجربہ رہا ہو تو اس سے اپنائیت محسوس ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کسی کے لہجے، رویے یا جسمانی حرکات میں کوئی ایسی چیز نظر آ سکتی ہے جو ہمارے ماضی کے ناخوشگوار تجربات سے مشابہ ہو، جس سے بے آرامی پیدا ہو سکتی ہے۔
نفسیات میں اس عمل کو بعض اوقات غیر شعوری وابستگی اور سابقہ تجربات کے اثرات سے سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مماثلت کا اصول (Similarity Attraction) بھی اہم ہے۔ ہم عموماً ان لوگوں کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جن کی دلچسپیاں، اقدار، سوچ یا طرزِ زندگی ہماری اپنی شخصیت سے ملتا جلتا ہو۔
تاہم پہلی نظر میں پیدا ہونے والی پسند یا ناپسند ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔ کبھی ہمارا تعصب، ذہنی تھکن، خوف یا ماضی کا کوئی تجربہ بھی کسی شخص کے بارے میں ہمارے فیصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے کسی کو صرف پہلی ملاقات کی بنیاد پر اچھا یا برا قرار دینا مناسب نہیں۔
منفی رویے ہمارے ذہن اور جسم کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟
مسلسل منفی ماحول میں رہنا صرف موڈ خراب نہیں کرتا بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی فرد ہر وقت تنقید، جھگڑے، شکایت، بے اعتمادی یا خوف کی فضا میں رہتا ہے تو اس کا اعصابی نظام مسلسل دباؤ محسوس کر سکتا ہے۔
طویل ذہنی دباؤ کے دوران جسم میں تناؤ سے متعلق ہارمونز، خصوصاً کورٹیسول، کے نظام میں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ مسلسل دباؤ نیند، توجہ، یادداشت، مزاج اور روزمرہ کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ بعض افراد میں سر درد، پٹھوں میں کھنچاؤ، تھکن اور بے چینی جیسی علامات بھی بڑھ سکتی ہیں۔
مثال کے طور پر اگر گھر میں ہر روز چیخ و پکار، الزام تراشی اور تنقید کا ماحول ہو تو بچے بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح دفتر میں ایسا ماحول جہاں ہر وقت خوف، غیر ضروری مقابلہ بازی اور دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جائے، ملازمین کی کارکردگی اور ذہنی سکون دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر اختلاف یا تنقید منفی توانائی نہیں ہوتی۔ تعمیری تنقید، اختلافِ رائے اور حقیقت پسندانہ گفتگو صحت مند تعلقات کا حصہ ہیں۔ اصل مسئلہ وہ مستقل رویہ ہے جو دوسرے انسان کی عزت، خود اعتمادی اور ذہنی سکون کو نقصان پہنچائے۔
کیا ہم کسی انسان کی توانائی محسوس کر سکتے ہیں؟
جی ہاں، ہم دوسرے انسان کی جذباتی کیفیت کے کئی اشارے محسوس کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کی پوشیدہ توانائی کو کسی خاص حسی قوت سے پڑھ سکتے ہیں۔
مثلاً کسی شخص کی آواز میں نرمی، چہرے پر اطمینان، گفتگو میں دلچسپی اور دوسروں کے لیے احترام ہمیں اس کے ساتھ محفوظ محسوس کرا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل آنکھیں گھمانا، طنزیہ مسکراہٹ، سخت لہجہ، بے صبری اور غیر ضروری مداخلت ہمیں بے آرام کر سکتی ہے۔
انسانی دماغ دوسروں کے چہروں اور حرکات سے جذباتی معلومات حاصل کرتا ہے۔ ہم اکثر کسی شخص کے بولنے سے پہلے ہی اس کے چہرے سے اس کے موڈ کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ البتہ یہ اندازے ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔ کوئی خاموش انسان لازماً مغرور نہیں ہوتا اور ہر مسکرانے والا شخص اندر سے خوش نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان اپنی پریشانی چھپانے کے لیے بھی مسکراتا ہے۔
اس لیے کسی کی کیفیت سمجھنے کے لیے صرف اپنے احساس پر انحصار کرنے کے بجائے اس کے مستقل رویے، حالات اور گفتگو کو بھی دیکھنا چاہیے۔
مثبت انسان کی چند نمایاں نفسیاتی خصوصیات
مثبت انسان وہ نہیں جس کی زندگی میں کبھی مشکلات نہ آئیں یا جو ہر وقت مسکراتا رہے۔ حقیقت میں مثبت شخصیت کا تعلق مشکل حالات میں متوازن سوچ رکھنے اور اپنے جذبات کو صحت مند انداز میں سنبھالنے سے ہے۔
ایسے افراد اپنی غلطی تسلیم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، دوسروں کی کامیابی سے حسد کرنے کے بجائے خوش ہوتے ہیں، ضرورت کے وقت مدد کرتے ہیں اور اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کی عزت برقرار رکھتے ہیں۔ وہ ہر مسئلے کا فوری حل نہ بھی جانتے ہوں تو کم از کم دوسروں کو سننے اور سمجھنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔
ان کی ایک اہم خوبی جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) ہے۔ اس سے مراد اپنے اور دوسروں کے جذبات کو پہچاننے، سمجھنے اور مناسب طریقے سے ان کا اظہار کرنے کی صلاحیت ہے۔ جذباتی ذہانت رکھنے والا انسان جانتا ہے کہ کب بات کرنی ہے، کب خاموش رہنا ہے اور کب کسی دوسرے شخص کو وقت اور جگہ دینی ہے۔
اپنی منفی توانائی کو کیسے پہچانیں؟
اکثر ہم دوسروں کے رویوں پر توجہ دیتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ ہماری اپنی موجودگی دوسروں پر کیا اثر ڈالتی ہے۔ کیا ہماری گفتگو سے لوگوں کو حوصلہ ملتا ہے یا وہ مزید پریشان ہو جاتے ہیں؟ کیا ہم دوسروں کی بات مکمل سنتے ہیں یا ہر وقت اپنی رائے مسلط کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی غلطی پر معذرت کر سکتے ہیں یا ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسرے کو سمجھتے ہیں؟
اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ معمولی باتوں پر غصہ کرنے لگے ہیں، ہر وقت دوسروں سے شکایت رہتی ہے، کسی کی کامیابی اچھی نہیں لگتی یا ذہن مسلسل منفی خیالات میں الجھا رہتا ہے تو اسے اپنی جذباتی کیفیت کا جائزہ لینے کا موقع سمجھیں۔
نیند کی کمی، مسلسل تھکن، گھریلو مسائل، مالی دباؤ اور کام کی زیادتی بھی انسان کو چڑچڑا اور منفی بنا سکتے ہیں۔ اس لیے خود کو برا انسان سمجھنے کے بجائے اپنی ذہنی اور جسمانی ضروریات پر توجہ دینا زیادہ مفید ہے۔
مثبت توانائی کیسے پیدا کریں اور منفی ماحول سے کیسے بچیں؟
اپنی جذباتی کیفیت بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے ایسے معمولات اختیار کریں جو ذہنی سکون میں مددگار ہوں۔ مناسب نیند، متوازن غذا، روزانہ جسمانی سرگرمی، قدرتی ماحول میں وقت گزارنا اور اپنی پسند کے کام کرنا مزاج پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
اپنی گفتگو میں شکرگزاری، احترام اور حوصلہ افزائی کو جگہ دیں۔ کسی کی بات توجہ سے سننا، بلاوجہ تنقید سے گریز کرنا اور ضرورت کے وقت مدد کرنا تعلقات کو بہتر بناتا ہے۔ اگر کوئی شخص مسلسل آپ کی حدود کی خلاف ورزی کرتا ہے، آپ کی تذلیل کرتا ہے یا ذہنی دباؤ کا باعث بنتا ہے تو اس کے ساتھ مناسب فاصلہ رکھنا بھی ضروری ہے۔
اس کے ساتھ ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کریں جو آپ کی ترقی، خود اعتمادی اور ذہنی سکون کا احترام کرتے ہوں۔ یاد رکھیں کہ مثبت رہنے کا مطلب ہر تکلیف برداشت کرنا، ہر شخص کو خوش رکھنا یا اپنی ضروریات کو نظرانداز کرنا نہیں ہے۔ صحت مند حدود قائم کرنا بھی مثبت ذہنی زندگی کا حصہ ہے۔
اختتامیہ: اصل توانائی ہمارے رویوں میں چھپی ہے
انسان کی مثبت اور منفی توانائی کا تصور بظاہر پراسرار محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کے بہت سے پہلوؤں کو جدید نفسیات اور انسانی رویوں کی تحقیق کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔ ہم دوسروں کے جذبات سے متاثر ہوتے ہیں، ان کے رویوں سے اپنے احساسات بناتے ہیں اور اپنی گفتگو و کردار کے ذریعے ان کی زندگی پر اثر ڈالتے ہیں۔
کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر سکون اس لیے ملتا ہے کہ ان کا رویہ ہمیں عزت، اعتماد اور جذباتی تحفظ کا احساس دیتا ہے، جبکہ بعض لوگوں کے ساتھ بے چینی اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ ان کا انداز ہمارے ذہن پر دباؤ پیدا کرتا ہے۔
زندگی میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم صرف دوسروں کی توانائی محسوس کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ خود بھی ایسے انسان بنیں جس کی موجودگی دوسروں کے لیے سکون، امید اور حوصلے کا باعث ہو۔ کیونکہ کسی انسان کی حقیقی مثبت توانائی اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے کردار، رویے اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ میں نظر آتی ہے۔









