ذرا تصور کیجیے کہ مستقبل میں کسی مریض کو خراب دل، گردے یا جگر کے لیے کسی عطیہ دہندہ کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ کینسر کی تشخیص بیماری کے پھیلنے سے پہلے ہو جائے، ایک انجکشن موروثی بیماری کا سبب بننے والے جین کو درست کر دے اور مصنوعی ذہانت ڈاکٹر کو یہ بتا سکے کہ کسی شخص کو کئی سال بعد کون سی بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ کسی سائنس فکشن فلم کی کہانی نہیں بلکہ جدید طبی تحقیق کی وہ حیران کن سمتیں ہیں جن پر دنیا بھر کے سائنس دان کام کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں میڈیکل سائنس نے ایسی پیش رفت دیکھی ہے جس نے علاج کے روایتی تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اب تحقیق کا مقصد صرف بیماری کی علامات کم کرنا نہیں بلکہ بیماری کی جڑ تک پہنچنا، خراب خلیات کی اصلاح کرنا اور انسانی جسم کی قدرتی مرمت کی صلاحیت کو بہتر بنانا بھی ہے۔
آنے والے برسوں میں یہ دریافتیں ہماری زندگی، صحت، علاج کے اخراجات اور ہسپتالوں کے نظام کو کس حد تک تبدیل کریں گی؟ آئیے جدید میڈیکل ریسرچ کی چند ایسی حیرت انگیز پیش رفتوں کو جانتے ہیں جو مستقبل کی طب کی نئی تصویر پیش کر رہی ہیں۔
انسانی جینز کی اصلاح: کیا موروثی بیماریوں کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا؟
جدید طب کی سب سے غیر معمولی پیش رفتوں میں سے ایک جین ایڈیٹنگ ہے۔ انسانی جسم کے ہر خلیے میں موجود ڈی این اے (DNA) ایک حیاتیاتی ہدایت نامے کی طرح کام کرتا ہے۔ اس میں موجود جینیاتی معلومات ہماری جسمانی خصوصیات سے لے کر کئی موروثی بیماریوں کے خطرات تک پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
سائنس دان اب ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں جس کے ذریعے ڈی این اے کے مخصوص حصوں میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ ان میں CRISPR نامی تکنیک خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اسے عام زبان میں جینیاتی قینچی بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ ڈی این اے کے منتخب حصے کو نشانہ بنا کر اس میں تبدیلی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس میدان میں ایک تاریخی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دسمبر 2023 میں برطانیہ اور امریکہ نے سکل سیل بیماری کے لیے CRISPR پر مبنی علاج کی منظوری دی۔ اس علاج کا نام Casgevy ہے۔ یہ دنیا کے پہلے منظور شدہ CRISPR جین ایڈیٹنگ علاجوں میں شامل ہے۔
سکل سیل بیماری میں خون کے سرخ خلیات غیر معمولی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جس سے شدید درد، خون کی کمی اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس علاج میں مریض کے اپنے خون بنانے والے خلیات نکال کر ان میں جینیاتی تبدیلی کی جاتی ہے اور پھر انہیں دوبارہ جسم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
یہ دریافت اس بات کی علامت ہے کہ مستقبل میں بعض موروثی بیماریوں کا علاج صرف دواؤں سے نہیں بلکہ بیماری کی بنیادی جینیاتی وجہ کو تبدیل کر کے بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ تاہم ہر بیماری کے لیے جین ایڈیٹنگ محفوظ یا مؤثر ثابت نہیں ہوئی اور اس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے۔
کینسر کے خلاف ذاتی ویکسین: ہر مریض کے لیے الگ علاج!
کینسر کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے ذہن میں کیموتھراپی، ریڈی ایشن اور پیچیدہ آپریشن آتے ہیں۔ لیکن جدید تحقیق ایک ایسے علاج کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں مریض کے اپنے مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات پہچاننے اور ان پر حملہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔
اس شعبے میں ذاتی نوعیت کی mRNA کینسر ویکسین خاص توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ان ویکسینز کا مقصد عام حفاظتی ویکسین کی طرح کسی بیماری سے پہلے عمومی تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ کسی مخصوص مریض کے ٹیومر میں موجود غیر معمولی پروٹینز کی نشاندہی کر کے مدافعتی نظام کو ان کے خلاف متحرک کرنا ہے۔
اس عمل میں پہلے مریض کے ٹیومر کا جینیاتی تجزیہ کیا جاتا ہے۔ پھر ایسے مخصوص اجزا منتخب کیے جاتے ہیں جنہیں مدافعتی نظام کینسر کے خلیات کی شناخت کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کے بعد مریض کی ضرورت کے مطابق ویکسین تیار کی جاتی ہے۔
میلانوما یعنی جلد کے ایک خطرناک کینسر کے خلاف mRNA ویکسین پر ہونے والی تحقیق نے حوصلہ افزا نتائج دکھائے ہیں۔ خاص طور پر 2024 میں شائع ہونے والے ابتدائی اور درمیانی مرحلے کے کلینیکل ٹرائلز میں ذاتی ویکسین کو امیونوتھراپی کے ساتھ استعمال کرنے کے نتائج پر توجہ دی گئی۔
اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ مستقبل میں کینسر کا علاج ہر مریض کے لیے مختلف ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ ویکسینز ابھی تجرباتی مرحلوں سے گزر رہی ہیں اور انہیں تمام اقسام کے کینسر کا ثابت شدہ علاج سمجھنا درست نہیں۔
مصنوعی ذہانت: ڈاکٹر سے پہلے بیماری کی نشاندہی؟
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اب صرف کمپیوٹر اور موبائل فون تک محدود نہیں رہی۔ میڈیکل سائنس میں بھی اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
جدید AI نظام ایکسرے، ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور آنکھوں کی تصاویر کا تجزیہ کر کے بعض بیماریوں کی ایسی علامات تلاش کر سکتے ہیں جو انسانی آنکھ سے فوری طور پر نظر نہ آئیں۔
مثلاً ذیابیطس سے متاثر ہونے والی آنکھوں کی بیماری، چھاتی کے کینسر کی ابتدائی علامات اور بعض قلبی مسائل کی نشاندہی میں AI پر تحقیق جاری ہے۔ بعض نظام طبی تصاویر میں غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کر کے ڈاکٹروں کو مزید معائنے کا مشورہ دینے میں مدد دیتے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ تصور یہ ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کسی فرد کی طبی تاریخ، خاندانی بیماریوں، لیبارٹری رپورٹس اور طرزِ زندگی کا جائزہ لے کر اس کے ممکنہ صحت کے خطرات کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا مطلب یہ نہیں کہ ڈاکٹر کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ اس کے برعکس، AI ڈاکٹر کو بہتر معلومات فراہم کرنے، تشخیص میں مدد دینے اور مریض کے لیے مناسب علاج منتخب کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔ مریضوں کے ڈیٹا کی رازداری، غلط نتائج اور الگورتھم کی غیر جانب داری بھی اہم چیلنجز ہیں۔
لیبارٹری میں انسانی اعضا کی تیاری: کیا مستقبل میں گردہ اور دل بھی بن سکیں گے؟
دنیا کے کئی ممالک میں ہزاروں مریض گردے، جگر، دل اور دیگر اعضا کی پیوندکاری کے منتظر رہتے ہیں۔ عطیہ دہندگان کی کمی اور اعضا کی مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔
اسی مسئلے کا ممکنہ حل بائیو پرنٹنگ (Bioprinting) اور ٹشو انجینئرنگ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
تھری ڈی بائیو پرنٹنگ میں خصوصی پرنٹرز اور حیاتیاتی مواد کی مدد سے خلیات کی تہیں ایک مخصوص ترتیب میں رکھی جاتی ہیں تاکہ انسانی جسم کے ٹشوز جیسی ساخت تیار کی جا سکے۔
سائنس دان پہلے ہی لیبارٹری میں جلد، کارٹلیج اور بعض سادہ بافتوں جیسی ساختیں تیار کرنے میں پیش رفت کر چکے ہیں۔ چھوٹے حیاتیاتی ماڈلز اور خون کی نالیوں جیسی ساختوں پر بھی تحقیق جاری ہے۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی سے مریض کے اپنے خلیات استعمال کرتے ہوئے ایسے ٹشوز تیار کرنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے جنہیں جسم قبول کرنے کے زیادہ امکانات ہوں۔ اس سے اعضا کی پیوندکاری کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
تاہم مکمل طور پر فعال انسانی دل، گردہ یا جگر کو تھری ڈی پرنٹ کر کے معمول کے علاج میں استعمال کرنا ابھی ممکن نہیں۔ ان اعضا میں خون کی پیچیدہ نالیاں، اعصاب، مختلف اقسام کے خلیات اور انتہائی منظم ساخت ہوتی ہے۔ سائنس دانوں کو ان تمام مسائل کا قابلِ اعتماد حل تلاش کرنا ہے۔
اپنے جسم سے نئے خلیات بنانا: اسٹیم سیلز کی حیران کن طاقت
اسٹیم سیلز (Stem Cells) ایسے خاص خلیات ہیں جو مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں مستقبل کی طب کے اہم ترین موضوعات میں شمار کیا جاتا ہے۔
مثلاً اگر کسی مریض کے جسم میں مخصوص ٹشو خراب ہو جائے تو سائنس دان نظریاتی طور پر اسٹیم سیلز کو استعمال کر کے نئے خلیات تیار کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اس شعبے میں ایک اہم پیش رفت انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز (iPSCs) کی دریافت ہے۔ اس تکنیک کے ذریعے عام بالغ انسانی خلیات کو دوبارہ ایسی حالت میں لایا جا سکتا ہے جہاں وہ مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ کسی مریض کے اپنے خلیات سے لیبارٹری میں مخصوص خلیات تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان خلیات کی مدد سے پارکنسنز، دل کی بیماریوں، ذیابیطس اور اعصابی مسائل کے علاج پر تحقیق ہو رہی ہے۔
اسٹیم سیلز کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کی مدد سے انسانی بیماریوں کے ماڈلز تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح محققین نئی ادویات کو انسانی خلیات پر آزمانے اور بیماری کے عمل کو سمجھنے میں مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق مستقبل میں علاج کو زیادہ ذاتی اور مؤثر بنا سکتی ہے، لیکن اسٹیم سیل تھراپی کے ہر تجارتی دعوے کو سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ بعض غیر منظور شدہ علاج نقصان دہ بھی ہو سکتے ہیں۔
جانوروں کے اعضا انسانوں میں: پیوندکاری کا ایک غیر معمولی تجربہ
میڈیکل سائنس کی ایک حیران کن تحقیق زینو ٹرانسپلانٹیشن (Xenotransplantation) ہے۔ اس سے مراد جانوروں کے خلیات، ٹشوز یا اعضا کو انسانی علاج کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے۔
سائنس دان خاص طور پر جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے خنزیروں کے اعضا پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ انہیں انسانی جسم کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنایا جا سکے۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد انسانی اعضا کی شدید کمی کا حل تلاش کرنا ہے۔ اگر کسی دن جانوروں کے اعضا محفوظ طریقے سے انسانوں میں منتقل کیے جا سکے تو گردے، دل اور دیگر اعضا کے منتظر مریضوں کے لیے نئی امید پیدا ہو سکتی ہے۔
2024 میں جینیاتی طور پر تبدیل کیے گئے خنزیر کے گردے کی انسانی مریض میں پیوندکاری ایک اہم تجرباتی سنگِ میل تھی۔ تاہم اس نوعیت کی پیوندکاری ابھی تجرباتی مرحلے میں ہے اور طویل مدتی کامیابی، جسم کے مدافعتی ردعمل اور انفیکشن کے خطرات جیسے مسائل پر مزید تحقیق درکار ہے۔
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ جانوروں کے اعضا جلد ہی عام انسانی پیوندکاری کا متبادل بن جائیں گے، لیکن اس میدان میں ہونے والی پیش رفت مستقبل کی طب کے لیے انتہائی اہم ہے۔
چھوٹے انسانی اعضا: آرگنائڈز سے بیماریوں کو سمجھنے کا نیا طریقہ
تصور کیجیے کہ سائنس دان کسی مریض کے جسم کے بجائے لیبارٹری میں اس کے دماغ، جگر یا آنتوں کے چھوٹے ماڈلز تیار کر سکیں۔ بظاہر یہ خیال حیران کن لگتا ہے، لیکن آرگنائڈز (Organoids) کی تحقیق میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔
آرگنائڈز انسانی خلیات سے تیار کیے گئے چھوٹے سہ جہتی حیاتیاتی ماڈلز ہوتے ہیں جو کسی حقیقی عضو کی بعض ساختی اور فعلی خصوصیات کی نقل کر سکتے ہیں۔
مثلاً انسانی آنت کے آرگنائڈز کے ذریعے آنتوں کی بیماریوں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ دماغی آرگنائڈز اعصابی نشوونما اور بعض بیماریوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اس تحقیق کا ایک بڑا فائدہ ادویات کی جانچ میں سامنے آ سکتا ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں کسی مریض کے خلیات سے تیار کردہ آرگنائڈ پر مختلف ادویات آزما کر یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ کون سی دوا زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
اس طرح علاج کے انتخاب میں وقت کم کرنے اور غیر ضروری ادویات سے بچنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ البتہ آرگنائڈز مکمل انسانی اعضا نہیں ہوتے اور ان کے نتائج کو براہِ راست مریض کے علاج پر لاگو کرنے سے پہلے مزید تحقیق ضروری ہے۔
دماغ اور کمپیوٹر کا رابطہ: کیا سوچ کے ذریعے مشین چلائی جا سکے گی؟
دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرنے والی ٹیکنالوجی کو برین کمپیوٹر انٹرفیس (Brain-Computer Interface) کہا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کا مقصد دماغ کے برقی سگنلز کو سمجھ کر انہیں کمپیوٹر یا کسی بیرونی آلے کے لیے قابلِ استعمال ہدایات میں تبدیل کرنا ہے۔
اس میدان میں ہونے والی تحقیق فالج یا شدید جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے ہاتھ حرکت نہ دے سکے تو مستقبل میں ممکن ہے وہ دماغی سگنلز کی مدد سے کمپیوٹر پر الفاظ لکھ سکے، کرسر حرکت دے سکے یا کسی معاون آلے کو کنٹرول کر سکے۔
2024 میں انسانی مریضوں میں دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کے تجربات نے اس شعبے کو مزید توجہ دلائی۔ اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی محدود اور تجرباتی ہے، لیکن اس کے ذریعے شدید معذوری کے شکار افراد کی زندگی میں نمایاں بہتری لانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس کے ساتھ دماغی ڈیٹا کی رازداری، جراحی کے خطرات اور ٹیکنالوجی کی طویل مدتی حفاظت جیسے سوالات بھی اہم ہیں۔
مستقبل کی دوا: ہر انسان کے لیے الگ علاج
اب تک عام طور پر ایک ہی بیماری کے لیے بہت سے مریضوں کو تقریباً ایک جیسی دوا دی جاتی رہی ہے، حالانکہ ہر انسان کا جینیاتی نظام، جسمانی ساخت، عمر، طرزِ زندگی اور دواؤں کے خلاف ردعمل مختلف ہو سکتا ہے۔
پرسنلائزڈ میڈیسن (Personalized Medicine) یا ذاتی نوعیت کے علاج کا تصور اسی فرق کو سمجھنے پر مبنی ہے۔
اس طریقہ علاج میں مریض کے جینیاتی ٹیسٹ، طبی تاریخ، خون کے نتائج اور دیگر معلومات کو سامنے رکھ کر علاج منتخب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مثلاً کینسر کی بعض اقسام میں ٹیومر کی جینیاتی خصوصیات کے مطابق مخصوص دوا منتخب کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح فارماکوجینومکس (Pharmacogenomics) کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کسی شخص کا جسم ایک مخصوص دوا کو کس طرح جذب، استعمال یا خارج کرتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں دوا کا انتخاب زیادہ درست ہو، مضر اثرات کم ہوں اور علاج کے نتائج بہتر بنائے جا سکیں۔ تاہم ہر بیماری کے لیے جینیاتی ٹیسٹنگ ضروری نہیں اور ہر مریض کے لیے مکمل طور پر منفرد علاج ابھی معمول کی سہولت نہیں بنا۔
کیا مستقبل میں بیمار ہونے سے پہلے بیماری کو روکا جا سکے گا؟
جدید طبی تحقیق کا ایک اہم مقصد بیماری ظاہر ہونے کے بعد علاج کرنے کے بجائے اس کے خطرے کو پہلے ہی پہچاننا ہے۔
اس تصور کو پریسیژن پریوینشن (Precision Prevention) کہا جا سکتا ہے۔ اس میں کسی شخص کی خاندانی تاریخ، جینیاتی معلومات، بلڈ پریشر، کولیسٹرول، شوگر، جسمانی سرگرمی اور دیگر عوامل کو دیکھ کر بیماری کے خطرات کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔
مستقبل میں پہننے والے اسمارٹ آلات، مسلسل گلوکوز مانیٹر، دل کی دھڑکن اور نیند کا تجزیہ کرنے والے نظام صحت کے بارے میں مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔
اس سے ڈاکٹر بعض مسائل کی ابتدائی نشاندہی کر کے بروقت احتیاط یا علاج تجویز کر سکیں گے۔ لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسمارٹ واچ یا موبائل ایپ طبی تشخیص کا متبادل نہیں۔ کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے لیے یہ دریافتیں کیوں اہم ہیں؟
جدید میڈیکل ریسرچ صرف ترقی یافتہ ممالک کے لیے اہم نہیں بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی اس کی بڑی افادیت ہے، جہاں ذیابیطس، دل کی بیماریاں، کینسر، گردوں کے مسائل اور متعدی امراض صحت کے نظام پر نمایاں دباؤ ڈالتے ہیں۔
اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تشخیصی سہولتیں کم خرچ اور زیادہ قابلِ رسائی ہو جائیں، جینیاتی تحقیق کے ذریعے موروثی بیماریوں کی شناخت بہتر ہو اور جدید علاج کی قیمت کم ہو تو عام مریضوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
تاہم اس کے لیے جدید لیبارٹریز، تربیت یافتہ طبی عملہ، تحقیق میں سرمایہ کاری، مریضوں کے ڈیٹا کا تحفظ اور طبی ٹیکنالوجی کی منصفانہ تقسیم ضروری ہوگی۔
یہ بھی اہم ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو صرف اس کی شہرت یا اشتہارات کی بنیاد پر قبول نہ کیا جائے۔ کسی بھی علاج کے استعمال سے پہلے اس کی سائنسی افادیت، حفاظت اور متعلقہ اداروں کی منظوری کی تصدیق ضروری ہے۔
اختتامیہ: طب کا مستقبل صرف علاج نہیں، انسانی زندگی کی نئی تعریف ہے
آج جس طبی تحقیق کو ہم تجربہ گاہوں میں دیکھ رہے ہیں، وہ آنے والی دہائیوں میں انسانی زندگی کے کئی پہلو بدل سکتی ہے۔ جین ایڈیٹنگ موروثی بیماریوں کے علاج کے نئے راستے کھول رہی ہے، ذاتی کینسر ویکسین مدافعتی نظام کو نئی طاقت دینے کی کوشش کر رہی ہیں، مصنوعی ذہانت بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے رہی ہے اور اسٹیم سیلز و بائیو پرنٹنگ جسمانی بافتوں کی مرمت کے نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔
لیکن ان تمام دریافتوں کے ساتھ حقیقت پسند رہنا بھی ضروری ہے۔ سائنسی تحقیق کے ابتدائی نتائج اور عام مریضوں کے لیے منظور شدہ علاج میں فرق ہوتا ہے۔ کئی ٹیکنالوجیز کو محفوظ، مؤثر اور قابلِ برداشت بنانے کے لیے ابھی برسوں کی تحقیق درکار ہو سکتی ہے۔
اس کے باوجود ایک بات واضح ہے: مستقبل کی طب زیادہ جدید، زیادہ ذاتی اور بیماری کی بنیادی وجوہات کو سمجھنے پر زیادہ مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ ممکن ہے آنے والے وقت میں ڈاکٹر صرف یہ نہ بتائیں کہ ہمیں کون سی بیماری لاحق ہے بلکہ یہ بھی بتا سکیں کہ اسے پیدا ہونے سے پہلے کیسے روکا جائے۔
شاید طب کی سب سے بڑی کامیابی وہ دن ہوگا جب انسان بیماری سے لڑنے کے بجائے صحت مند زندگی کو پہلے سے بہتر انداز میں محفوظ رکھ سکے گا۔









