خظبئہ صدارت – ابن انشاء

Inb-e-Insha 67

پچھلے دنوں ایک کتاب چھپی ہے’’ چلتے ہو تو چین کو چلےے‘‘ اس کے فاضل مصنف کا کیا عمدہ قول ہے کہ انسان کی صحیح قدر اس کے وطن سے باہر ہی ہوتی ہے جہاں اس کی اصلیت جاننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ سفر وسلیتہ الظفر کا مطلب بھی شایدیہی ہے۔ ان صاحب کا جب چین میں تعارف کرایاگیا کہ یہ اپنے ملک کے نامی گرامی ناول نویس ہیں اور فسانہ آزاد، گئودان، آگ کا دریا، خدا کی بستی اور آنگن وغیرہ ان ہی کی تصانیف ہیں تو یہ ہر چند کہ ناول لکھنا پڑھنا بھی نہ جانتے تھے۔ فرط عجز وانکسار سے دوہرے ہوگئے کسی بات کی تردید کرنا خلافِ آداب جانا۔ ایک اور صاحب کسی کاروبار کے سلسلے میں کسی باہر کے ملک میں گئے اور ملک الشعرائ ہوکر واپس آئے۔ آقائے حاجی بابا اصفہانی بھی اصفہان آنا خلاف مصلحت جانتے تھے۔ استنبول میں تو یہ ایک رئیس کے داماد ہوکر ٹھاٹ دکھاتے تھے۔ لیکن وطن آتے تھے تو پرانے گاہک بجائے سرآنکھوں پر بٹھانے کے یہی فرمائش کرتے تھے کہ خلیفہ ذرا میرا سر تو مونڈ دیجیواور ہاں داڑھی بھی تراش دیجیو۔ اللہ بخشے تمہارے باپ کا ساخط بنانے والا اب سارے اصفہان میں کوئی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ استنبول کی آب وہوا کی تعریف کیا کرتے تھے اور جب تک زندہ رہے وہیں قیام کرنا پسند کیا۔

مقصود اس قصُہ کا یہ کہ ہمارا اپنے ہی شہر اور اپنے ہی پرانے کالج میں مہمان خصوصی بن کر آنا ایک طرح کی سنگین غلطی بلکہ غلط کاری ثابت ہوتا۔ لیکن ہم نے اطمینان کرلیا ہے کہ ہمارے زمانے کے اساتذہ

میں سے کوئی کالج میں بچا ہے تو مروت کے مارے ہماری کسی بات پر یہ نہ کہے گا کہ ہماری بلی ہم ہی کو میاؤں۔

صاحبو! ویسے تو ہم آہیں بھر بھر کر اپنے ماضی کی عظمت کی جو جو داستانیں چاہیں بیان کریں لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اس درس گاہ کے برآمدوں میں دو برس جوتیاں چٹخاتے ہوئے ہم نے نہ کچھ کھویا، سوائے عزت سادات کے اور نہ کچھ پایا سوائے ڈگری کے ہماری کلاسیں ایک طرح سے تعلیم بالغاں کی کلاسیں تھیں۔ ہمارے اساتذہ نے ہمارا عیب وثواب اور نفع نقصان ہم ہی پر چھوڑ کر رکھا تھا کیونکہ ہمارے ہم سبقوں میں ایک دو تو شاید صاحب اولاد بھی تھے۔

ان اساتذہ کے علم وفضل میں کلام نہیں ، لیکن ان کا فیض صحبت ہمارا کچھ بگاڑ نہ سکا۔ ہم جیسے چھلے چھلائے اور دھلے دھلائے آئے تھے، ویسے ہی واپس آگئے۔

٭٭٭

ایک زمانہ تھا کہ ہم قطب بنے اپنے گھر میں بیٹھے رہتے تھے اورہمارا ستارہ گردش میں رہا کرتا تھا۔ پھر خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ہم خود گردش میں رہنے لگے اور ہمارے ستارے نے کراچی میں بیٹھے بیٹھے آب وتاب سے چمکنا شروع کردیا۔ پھر اخبار جنگ میں ’’آج کا شاعر‘‘ کے عنوان سے ہماری تصویر اور حالات چھپے، چونکہ حالات ہمارے کم تھے لہٰذا ان لوگوں کو تصویر بڑی کراکے چھاپنی پڑی اور قبول صورت، سلیقہ، شعار، پابند صوم وصلواۃ اولادوں کے والدین نے ہماری تنخواہ اور چال چلن کے متعلق معلومات جمع کرنی شروع کردیں۔ یوں عیب بینوں اور نکتہ چینیوں سے بھی دنیا خالی نہیں۔ کسی نے کہا یہ شاعر تو ہیں لیکن آج کے نہیں۔ کوئی بے درد بولا۔ یہ آج کے تو ہیں لیکن شاعر نہیں۔ ہم بددل ہوکر اپنے عزیز دوست جمیل الدین عالیؔ کے پاس گئے۔ انہوں نے ہماری ڈھارس بندھائی اور کہا دل میلا مت کرو۔ یہ دونوں فریق غلطی پر ہیں۔ ہم تو نہ تمہیں شاعر جانتے ہیں نہ آج کا مانتے ہیں۔ ہم نے کسمساکر کہا یہ آپ کیا فرمارہے ہیں؟ بولے میں جھوٹ نہیں کہتا اور یہ رائے میری تھوڑی ہے سب ہی سمجھ دار لوگوں کی ہے۔

٭٭٭

ابن انشائؔ نام ہم نے نہ جانے کب رکھا تھا اور کیوں رکھا تھا کی توجیہہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ ہمارے اصلی نام میں ایک چوپائے کا نام شامل ہے۔ نیا نام رکھنے کا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ سید انشائ اللہ خاں انشائ کی رعایت سے ہمیں بھی سید لکھنے لگے۔ یعنی گھر بیٹھے ہماری ترقی ہوگئی۔ اسی نسبت سے دلی والوں نے ہمیں اپنا ہم وطن جان کر ہماری زبان پر کم اعتراض کےے اور دلی مرکنٹائل ہاؤسنگ سوسائٹی نے ایک پرفضا پلاٹ کی ہمیں پیش کش کی۔ لکھنؤ والوں نے البتہ ہماری زبان کے نقائص کے لےے اسی کو بہانہ بنالیا کہ ہاں دلی والے ایسی ہی زبان لکھا کرتے ہیں۔ پھر ایک روز ایسا ہوا کہ ایک صاحب نے آخر ہمارا ہاتھ ادب سے چوما اور کہا۔ واللہ آپ تو چھپے رستم نکلے۔ آپ کا کلام پڑھا اور جی خوش ہوا۔ ہم نے انکسار برتاکہ ہاں کچھ ٹوٹا پھوٹا کہہ لیتے ہیں۔ آپ نے کون سی غزل دیکھی ہماری۔ حافظے پر زور ڈال کر بولے۔ کچھ اس قسم کی ہے، کمر باندھے ہوئے چلنے کو یہاں سب یار بیٹھے ہیں۔ ہم نے کہا۔ کہاں پڑھی ہے۔ بولے۔ مولوی محمدحسین آزاد کی آب حیات میں منقول ہے۔

٭٭٭

جنگ میں ’’آج کا شاعر‘‘ کے ضمن میں خواتین کے بھیجے ہوئے پسندیدہ اشعار بھی چھپا کرتے ہیں۔ ایڈیٹر صاحبہ نے ہمیں فون کیا کہ ذرا چیک کرکے بتایئے ۔ یہ سارے اشعار آپ کے ہیں؟ بعض اوقات بیبیاں مختلف شاعروں کے اشعار کو خلط ملط بھی کردیتی ہیں۔ ہم نے کہا سنایئے۔ ان میں بھی پہلا شعر جو کوئی دس خواتین کی پسند تھا۔ یہی تھا۔ ع ۔ کمر باندھے ہوئے . یہ غزل ہمیں ہمیشہ سے پسند رہی ہے۔ لہٰذا ہم نے ایڈیٹر صاحبہ سے کہا کہ کسی کا دل توڑنے کی ضرورت نہیں۔ اگر کسی کو ہمارا یہی شعر پسند ہے تو خیر چھاپ دیجئے۔ دوسرا شعر بھی اسی غزل کا تھا۔

بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشائ

غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

ہم نے کھنکار کر کہا۔ خیر یہ بھی ٹھیک ہے آگے چلےے اس سے اگلا شعر تھا۔

یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھا نا اب تک

جیم کے پیٹ میں اک نقطہ ہے سو خالی ہے

ہم نے کہا۔ ہمیں یاد نہیں پڑتا یہ کہ شعر ہمارا ہو۔ مشتبہ بات ہے اسے کاٹ دیجئے اس کے بعد نوبت ان شعروں پر پہنچی ۔

کہیں بچھڑا ہوا دیکھا جو سَرخاب کا جوڑا

تو ڈھاریں مارکر رویا بطِ گرداب کا جوڑا

٭٭٭

لگی غلیل سے ابرو کی ، دل کے داغ کو چوٹ

پرایسی ہے کہ لگے تڑے جیسے زاغ کو چوٹ

٭٭٭

شوق سے تو ہاتھ کو میرے مروڑ

میں ترا پنجہ مروڑوں کس طرح

اس پر ہم گھبرائے اور کہا حاشاوکلا یہ ہمارے شعر نہیں اس مرحوم کے ہیں کہ میر ماشائ اللہ خان کا بیٹاتھا اور دلی کا تھا۔ پہلی بار افسوس ہو اکہ ہم نے یہ نام کیوں رکھا اس سے تو وہ چوپائے والا نام ہی اچھا تھا۔ شیر محمدخاں۔ چھوٹوں موٹوں کی تو ایسا نام سن کر ہی گھگھی بندھ جاتی ہے۔

پروفیسر ایوب قادری نے کہ محقق آدمی ہیں اس تقریب سے ہم پر مضمون لکھنے کا بیڑا اٹھایا تو ایک دوست نے مخبری کی کہ انہوں نے انجمن ترقی اردو کے کتب خانے میں تمام پرانے تذکرے اور مخطوطے کھنگال ڈالے کہیں آپ کے حالات نہیں ملے۔ لہٰذا اب وہ آپ سے ملیں گے۔ اپنے پر مضمون لکھا جانے کا سن کر کون خوش نہیں ہوتا۔ ہم نے کہا چشم ما روشن دل ماشاد، قادری صاحب کے لےے کسی ایسے شخص پر مضمون لکھنے کا پہلا اتفاق تھا جو ابھی مرا نہیں اور قریب المرگ بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن ریسرچ کا آدمی کبھی مار نہیں کھاتا. آئے تو سوالات سے مسلح ہوکر آئے۔ سب سے پہلے ہمار اسم گرامی دریافت کیا۔ وہ ہم نے خوشی سے بتادیا۔ ولدیت بھی ۔ عمر ہم اپنی موقع محل کے مطابق دوچار سال گھٹاکر یا بڑھا کر بتایا کرتے ہیں۔ یہاں بڑھاکر بتائی کہ اپنے مہمان خصوصی کو بالکل ہی بچہ نہ سمجھ لیں۔ کہاں پیدا ہوئے تھے اور کیوں پیدا ہوئے تھے کا ہم کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔

شجرہ نسب مانگ رہے تھے۔ ہمارے پاس کہاں سے آتا۔ ہم نے کہا بزرگوں میں اپنے والد کانام یاد ہے یا ایک اور مورث اعلیٰ کا کہ اپنے زمانے کے مشہور پیغمبر تھے۔ بولے کون ، ہم نے حضرت آدم علیہ السلام کانام بتایا تو عقیدت سے ادھ موئے سے ہوگئے۔ تعلیم کا پوچھا کچھ ہوتی تو بتاتے۔ فرمایا تعلیم نہیں ڈگریاں تو ہوں گی۔ وہ ہم نے بتادیں، کہنے لگے سناہے آپ یونیورسٹی میں اول آئے تھے؟ انکار کا کچھ فائدہ نہ تھا۔ ہم نے اقبال کیا۔ بولے۔ اس سال ایک سے زیادہ طالب علم تھے کیا؟ اس سوال کو ہم ٹال گئے۔ پوچھا شاعری میں کس کے شاگرد رہے۔ ہم نے ماسٹر چنن سنگھ دلگیر اور چھجورام تشنہ اور منشی الہ دین چراغ ریبواڑوی کے نام لکھوادیئے۔ قوم ، گوت، نوکری تصانیف اور نہ جانے کیا کیا لکھ چکے تو بولے۔ ہمارے تحقیق کے اصولوں کے مطابق خصوصی معلومات جمع ہوگئیں۔ یہ معاملہ کچا رہا کہ آپ کے بزرگ خراسان سے نہیں آئے تھے۔ اور صاحب دیوان وغیرہ نہیں تھے لیکن خیر، اب ایک آخری سوال باقی ہے۔ آپ کی تاریخ وفات کیا ہے؟ یہ ہم نے بتانے سے انکار کردیا۔ اس پر وہ کچھ ملول اور افسردہ واپس گئے۔ خود ہمیں بھی افسوس ہو اکہ اس سلسلے میں ان کی تشفی نہ کرسکے حالانکہ وہ ہمارے ہی بھلے کی کہہ رہے تھے۔

خیر صاحبان اب تو ہماری صدارت کا سفینہ کنارے پر آلگا۔ ستم وجورنا خدا کہنے کا کیا فائدہ۔ آپ صاحبوں نے مجھے مہمان خصوصی بنایا۔ بہت شکریہ۔ اس میں اتنی تاخیر کی تو اس کا کچھ ملال نہیں۔ ہمارے ملک میں جو ہر قابل کی قدر شناسی میں عموماً دیر ہوجاتی ہے۔ واللہ ہمارا دل آپ کی طرف سے صاف ہے ۔ یار زندہ صحبت باقی۔ یہ کالج ہماری مادر علمی ہے اور اس سے ہمیں دلی محبت ہے۔ آئندہ بھی آپ حضرات کسی جلسے کی صدارت یا تقسیم اسناد کے لےے یاد فرمائیں گے تو اپنی بے پناہ مصروفیات کو پس پشت ڈالنے میں عذر نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ انسان کیا جو کسی کے کام نہ آئے۔ دامے درمے کی تو بات چھوڑیئے کہ دنیا میں روپیہ ہی سب کچھ نہیں ہے۔ ہاں قدمے سخنے اس کالج کی خدمت میں دریغ نہ ہوگا۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آج کے جلسے میں زیادہ آدمی نہیں ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہوکہ اخبار میں جلسے کا اعلان ہوگیا تھا۔ جس میں ہمار انام بھی درج تھا۔ بہرحال زیادہ مجمع سے اس فقیر گوشہ گیر کا جی ہمیشہ گھبراتا ہے۔ تاہم میں ان اہل ذوق حضرات کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو منتظمین یا مضمون پڑھنے والوں یا سندات لینے والوں یا پانی پلانے والوں کے علاوہ یہاں موجود ہیں۔ اگر کوئی ہیں تو جمیل الدین عالی صاحب کا شکریہ بطور خاص مجھ پر فرض ہے جنہوں نے میرے ایما پر کالج والوں سے کہا کہ مجھ سے مہمان خصوصی بننے کی درخواست کریں اور اس کے لےے کالج کا پرانا طالب علم ہونے کا عذر یا عذر لنگ ڈھونڈا ۔ پھر وہ جلسے میں حاضرین کی کمی کو پورا کرنے کے لےے اپنے اہل وعیال کو اپنی کار میں بھر کر لائے۔ یہ ان کا دوسرا احسان ہے۔ سچے دوستوں کی پہچان ایسے ہی ہوتی ہے اور اب سیکریٹری صاحب سے گزارش ہے کہ انہوں نے دریوں، کرسیوں، شامیانے، کو کاکولا اور آج کے جلسے کے خرچ کی دوسری تفصیل تیار کرلی ہو تو مجھ سے الگ آکر ملیں۔ یہ خصوصی معاملہ ہے اور اپنے پیارے کالج کی بات ہے ورنہ تو ایسے جلسوں کا خرچ عموماً میزبان خود ہی اٹھایا کرتے تھے۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں