’’نیلے سوٹ پر سلور باریک گوٹے کا کام ایسا اٹھا ہے کہ دیکھ دیکھ جی نہیں بھرتا۔ ملتان سے آئی تھی وہ عورت۔ بڑی صفائی ہے اس کے ہاتھ میں، بہت خوب صورت کام کرتی ہے۔ میں نے بھی موقع سے فائدہ اٹھایا جتنے دن وہ ادھر اپنی بہن کے گھر ٹھہری میںنے ثروت کے لےے نیلے سوٹ پر گوٹے کا کام کروالیا۔‘‘
صدیقہ اپنی بھابھی سلمیٰ کو بڑے شوق سے جارجٹ کا نیلا سوٹ دکھا رہی تھی اور سلمیٰ اس سوٹ کو دیکھتے ہوئے پیچھے بہت پیچھے ماضی میں اتر گئی تھیں۔
ایسے ہی گہرے نیلے رنگ کا یہ سلک کا سوٹ تھا جس پر اماں نے بڑے ارمانوں کے ساتھ گوٹا لگایا تھا اور پھر سینت کر اس کے جہیز کے لےے رکھ دیا تھا۔
’’اماں! میری پیاری اماں۔ میرے لاڈ، میرے ناز سب تمہارے ساتھ ہی چلے گئے۔‘‘
دل کچھ ایسا بوجھل ہوا کہ وہ اپنی نند کے گھر بیٹھ نہیں سکیں۔ صدیقہ نے کہا بھی کہ’’سلمیٰ کچھ دیر رک جائو۔ آج ثروت نے کوفتے بنائے ہیں اور میری ثروت ویسے تو تمام گھریلو امور میں طاق ہے مگر کھانا تو کمال کا بناتی ہے اور اس کے بنائے کوفتوں کی تو ہمارے محلے میں دھوم ہے۔‘‘
’’ہاں ممانی جان! بس آدھا گھنٹہ مزید بیٹھ جائیں۔‘‘ ثروت نے بھی کہا تھا مگر وہ ضروری کام کا بہانا کر کے واپس آگئیں۔
کام تو انہیں کوئی نہیں تھا بس یادوں کا سلسلہ تھا جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر میں اس وقت کوئی نہیں تھا۔ سلمیٰ کے دونوں بیٹے اور میاں اپنی اپنی جاب پر تھے۔ بیٹی کالج گئی ہوئی تھی۔ وہ آکر کمرے میں لیٹ گئیں۔ موسم میںکچھ خنکی تھی۔ کمبل پہلے پیروں پر پھر پورا اوڑھ لیا ۔ اوڑھتے ہی آنکھوں میںجمع پانی بہنے لگا۔ یہ نیلا جارجٹ کا گوٹے والا سوٹ کیا کیا یاد دلا گیا تھا۔
خ خ خ
’’اماں! نسرین کی شادی ہے آپ کوپتا تو ہے وہ میری کتنی اچھی سہیلی ہے۔ مجھے تیل، مہندی، مایوں، شادی، ولیمہ سب میں شرکت کرنا ہوگی۔‘‘
’’ہاں تو کرو شرکت۔ میںنے کب تمہیں منع کیا ہے، پڑوس کا معاملہ ہے اور صرف تمہیں ہی نہیں ہم سب کو بلایا ہے۔‘‘
’’اماں! میں یہ کہنا چاہ رہی تھی کہ اتنے دن شرکت کے لےے میرے پاس کپڑے بھی تو اتنے ڈھیر ہونے چاہئیں۔‘‘
’’کیوں یہ کہاں لکھا ہے؟‘‘ اماں جو اب تک بڑے سکون سے بیٹھی مٹر چھیل رہی تھیں، بھڑک ہی تو اٹھیں۔
’’تو پھر آپ کیا چاہتی ہیں۔ میں یہ دو چار گھسے ہوئے سوٹ ایک بار پھر ہر جگہ پہن کر جائوں۔ ساری سہیلیاں مذاق اڑائیں گی میرا۔‘‘
’’کوئی مذاق نہیں اڑائے گی۔ ان میں سے کون سی ساہوکار کی اولاد ہے۔ سب کے پاس اتنے ہی جوڑے ہیںجتنے تمہارے پاس ہیں۔ کنواری لڑکیاں کہاں بکسے بھر بھر کپڑے بناتی ہیں۔ وہ سادہ ہی اچھی لگتی ہیں۔‘‘
’’اماں! ایک بھی تو سوٹ اس قابل نہیں ہے۔‘‘
’’ہائے ہائے کیا بولتی ہے لڑکی! کفر نہ بولا کر۔ پتا نہیں کس طرح ایسی باتیں منہ سے نکال جاتی ہے۔ اللہ کے غضب سے ڈر بھی نہیں لگتا۔ کتنا نواز رکھا ہے اس نے۔ ضرورت کی ہر شے تمہارے پاس ہے مگر پھر بھی جب بھی بولو گی ناشکری ہی کرو گی۔‘‘
’’اماں! دیکھیں نا پچھلی کتنی ہی شادیاں میں نے انہی تین جوڑوں میں نبٹا دی ہیں مگر نسرین تو میری بچپن کی سہیلی ہے۔ کیا سوچے گی وہ کہ مجھے اس کے بیاہ کی ذرا بھی خوشی نہیں ہے ایک جوڑا تک نہیں بنا سکی میں۔‘‘
’’کچھ نہیں سوچے گی وہ۔‘‘ اماں اب پھر مطمئن ہو کرمٹر چھیلنے لگی تھیں۔
’’اچھا یہ تو بتادیں۔ آٹھ دس روز تک روزانہ کا آنا جانا، بھلا تین جوڑے کہاں کہاں کھپائوں گی؟‘‘
’’یہ تین جوڑے تم مہندی، شادی اور ولیمے کے فنکشن میں آرام سے پہن سکتی ہو۔ باقی کے دنوں میں گھر کے عام کپڑوں میں سے کوئی سے استری کر کے پہن لینا اور دوپٹا ساتھ میں وہ چنری کا لے لیا کرنا جس پر تم نے ستارے ٹانکے ہیں۔‘‘
’’اماں! وہ میں کہنا یہ چاہ رہی تھی کہ اگر آپ ۔۔۔وہ جو آپ نے اتنے ڈھیروں کپڑے ٹرنک میں رکھ چھوڑے ہیں ان میں سے ایک دو دے دیں تو میں خراب تھوڑی کروں گی۔ بس تھوڑی سی دیر پہن کر رکھ دوں گی، ساری سہیلیوں میں میری شو بن جائے گی نا اماں!‘‘
’’ہاں اور بیاہ کے روز جب سب لوگ جہیز میں پرانے کپڑے دیکھ کر جو باتیں بنائیں گے تب کیا عزت رہ جائے گی؟ بس بی بی! اپنی سوچیں اپنے تک ہی رکھا کرو۔ ایسی باتیں کر کے میرا دماغ مت گرم کیا کرو، لو بھلا کیا فرمائش ہورہی ہے۔ جہیز کے کپڑوںمیں سے ایک دو جوڑے نکال دو۔ تھوڑی دیر پہنوں گی۔ خراب نہیں کروںگی۔‘‘ اماں آخر میں اس کی عقل کا ماتم کرتے ہوئے استہزائیہ انداز میں ہنسی تھیں۔
’’اماں! وہ سامنے والوں کی رشیدہ کو اس کی اماں نے دو جوڑے نئے بنا کر دےے ہیں، وہ تو ضرور ہی مجھے جتائے گی کہ نسرین کی سب سے قریبی اور پرانی سہیلی تو میں ہی ہوں۔‘‘
’’دوسروں کی دیکھا دیکھی اپنی راہ کھوٹی نہیں کرتے۔ اب جتنے میں تمہارے دو نئے جوڑے آئیں گے اتنے میں، میں تمہارے لےے جہیز کی کوئی چیز ہی لے کر ڈال لوں گی۔ کل کو تمہاری ہی عزت ہوگی اور پھر برتو گی بھی تم ہی۔ تب اپنی اماں کو یاد کرو گی اور دعائیں دو گی۔‘‘
’’اماں! آپ آنے والے کل کے لےے میری آج کی ہر خوشی برباد کرنے پر تلی رہتی ہیں اور بھلا یہ کل کس نے دیکھا ہے؟‘‘
’’بس بس۔ ذرا جو پیار سے بات کرلوں بدتمیزی پر اتر آتی ہے، اپنی یہ عادت بدل لے۔ لڑکیوں کو صابر و شاکر مزاج والی ہونا چاہےے اور تَو ہے کہ بات بات پر منہ بنالیتی ہے۔ ذرا کسی نے سخت بات کہہ دی۔ رونے بیٹھ گئی۔ کسی نے مذاق اڑا دیا دل پر لے لیا۔ سچی کہتی ہوں احمق لڑکی! مجھے تیری بڑی فکرہے۔ سدھر جا، میری باتیں سن کر کنویں میں نہ ڈالا کر۔ تیرے ہی فائدے کے لےے کہتی ہوں۔‘‘
’’پتا نہیں کیا فائدہ ہے اور کیا نقصان۔‘‘ اس وقت وہ بری طرح چڑی ہوئی تھی۔
’’اے ہے بالکل ہی پاگل ہورہی ہے۔ ماں کی محبت پر شک کر رہی ہے۔ ارے اگر ایک ایک پیسہ جوڑتی ہوں تو کس کی خاطر؟ اچھی سے اچھی چیز خرید کر پیٹی میں سنبھال دیتی ہوں تو کس لےے، کبھی تو نے مجھے اپنے لےے کچھ لیتے دیکھا ہے۔ میں نے بنائے ہیں مہنگے جوڑے؟‘‘
’’تو اماں! ایسا کیوں ہے۔ میں نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے آپ کو اسی طرح چیزیں خریدتے اور پیٹی میں غائب کرتے ہی دیکھا ہے۔ پتا نہیں یہ پیٹی کب بھرے گی۔‘‘’
’’یہ سلسلہ تو تیری شادی ہوجانے تک جاری رہے گا۔‘‘ اماں مسکرا رہی تھیں شاید وہ جاگتی آنکھوں اس کی شادی کا سپنا دیکھ رہی تھیں۔
اماں نے اس کی شادی کے لےے بڑے ہی خوب صورت اور مہنگے جوڑے بنوا کر بکس میں رکھے ہوئے تھے۔ کبھی کبھی ہوا لگوانے کے لےے نکالا کرتی تھیں۔ سلمیٰ بڑے شوق سے ہر بار یہ جوڑے دیکھتی اور جی چاہتا بس جلدی سے شادی ہوجائے تب یہ سارے کے سارے اماںکے قبضے سے نکل کر اس کے پاس آجائیں گے اور وہ روز ایک نیاجوڑا پہنے شان سے اِدھر اَدھر گھوما کرے گی۔
’’یہ فیروزی موتیوں والا سوٹ، وہ گلابی، جس پر باریک ستارے ٹکے ہیں، جامنی سلک کا سوٹ جس پر اماں نے بہاولپور سے کڑھائی کروائی ہے اور یہ نیلا سوٹ ملتانی گوٹے کے کام والا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے جھلمل کرتے مہنگے مہنگے قیمتی سوٹ اور پیٹی میں سنبھالا گیا جہیز، کراکری، بجلی کا سامان، نرم نرم شنیل کی رضائیاں اور گدے، خوب سورت بیڈ شیٹس، پتا نہیں کب یہ سب استعمال کرنا نصیب ہوگا۔ اب تو نسرین بھی بیاہ کر جارہی ہے۔ ٹھیک ہے عمر میں مجھ سے دو سال بڑی ہے۔ پر ہے تو میری کلاس فیلو اور میری کلاس کی کتنی ہی لڑکیاں میٹرک میں پہنچنے سے پہلے ہی بیاہی گئیں مگر اماں کی ایک یہ بھی ضد ہے جب تک میٹرک نہیں کروں گی وہ میرا بیاہ نہیں کریں گی۔ کہتی ہیں آج کل لڑکی کا پڑھا لکھا ہونا بڑا ضروری ہے۔ شاید اماں ٹھیک ہی کہتی ہیں۔ مگر یہ چمکتے دمکتے رنگ برنگے سوٹ اور قیمتی سامان، حالانکہ میں اماں سے بہت پیار کرتی ہوں۔ شادی کے لےے جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے۔‘‘
اسے میٹرک کےے دو سال گزر گئے مگر اس عرصے میں اماں کو کوئی رشتہ پسند نہیں آیا۔ یا شاید یہ اماں کا بہلاوا تھا اس کے لےے۔ اصل میں رشتے کے لےے آنے والیوںکو وہی پسند نہیں آرہی تھی یا پھر یہ چھوٹا سا دو کمروں کا سادہ سا مکان اس کے مقدر کی راہ میں حائل ہورہا تھا۔
کچھ بھی تھا اس نے اس عرصے میں اماں کو کبھی اپنے لےے پریشان نہیں دیکھا۔ وہ مطمئن بھی تھیں اور پر امید بھی، جب بھی کام کاج سے فارغ ہوتیں۔ اس کے دوپٹوں پر تو کبھی قمیصوں پر بیلیں ٹانکنے بیٹھ جاتیں۔ جوڑا مکمل ہوتا تو جھٹ ٹرنک میں غائب ہوجاتا، کبھی کسی کو دکھاتی نہیں تھیں۔ کسی پڑوسن نے انہیں دوپٹا سجاتے دیکھا کسی نے قمیص پر موتی ٹانکتے تو اکثر فرمائش ہوتی ’’خالہ مکمل ہونے پر بس ایک نظر دکھا تو دینا۔‘‘
مگر وہ جو بڑی بامروُت تھیں۔ اس معاملے میں بے مروُت ہوجاتیں۔ بس وہ چاہتی تھیں کہ جب سلمیٰ کا جہیز نمائش کے لےے سجایا جائے تو دیکھنے والے بس دیکھتے ہی رہ جائیں۔ وہ پہلے سے دکھا کر کوئی بھی چیز پرانی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
اور پھر وہ رشتہ آگیا جسے اوپر والے نے سلمیٰ کے نصیب میں لکھا تھا اور نصیب کا لکھا دنیا والے نہیں مٹا سکتے تھے۔ بس اچانک ہی سب طے ہوتا چلا گیا۔ حالانکہ لڑکے کی ماں ابھی سال چھ مہینے اور گھر گھر سیریں کرنے اور مزے اڑانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ اس کی بہنوں کو بھی بڑا اچھا لگتا تھا۔ جب ہر گھر میں اصرار کر کے انہیں مزیدار چیزیں کھلائی جاتی تھیں۔ اور یہ سامنے بیٹھنے والے میزبانوں کو کچھ بھی کہہ لیں، بے چارے بیٹھے مسکراتے رہتے تھے کہ شاید یہی ہماری بیٹی کو پسند کرلیں مگر تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ سارے پروگرام دھرے رہ گئے۔ لڑکے کی اماںکو جوڑوں میں درد تو پہلے بھی تھا مگر ان کے ہاں سے جانے کے پندرہ دن بعد تو گھٹنوں کا وہ حال ہوا کہ چلنا پھرنا دو بھر ہوگیا اب گھر کو کون سنبھالے، میاں نے کہا۔ ’’بہو لے آئو۔ ورنہ چند دنوں میں ہی یہاں کتے ہی نہ لوٹنے لگیں۔‘‘
’’ہاں، وہ جو آخر گھر دیکھا تھا۔ سلمیٰ نام تھا اس لڑکی کا۔ اچھی لڑکی تھی۔ پڑھی لکھی بھی تھی اور اماں بھی کوئی زیادہ تیز طرار عورت نہیں تھی۔ چلو پھر وہاں ہاں کہلوا دیتے ہیں۔‘‘
اور یوں سلمیٰ انوار کے نام ہوگئی۔ انوار تین بہنوں کا اکلوتا بھائی ضرور تھا مگر لاڈلا ہرگز نہیں تھا۔ تینوں بہنیں ماں کا عکس تھیں تو وہ صورت شکل عادت سب میں ابا پر پڑا تھا۔ اپنے کام سے کام رکھنے والا اور سر جھکا کر ناک کی سیدھ میں چلنے والا۔ چار سال پہلے سرکاری محکمے میں جس سیٹ پر بیٹھا تھا آج بھی اسی پر تھا اور آئندہ ترقی کا امکان بھی نہیں تھا۔ ابا نوکری سے فارغ ہوچکے تھے۔ ان کا دن اب محلے کی دوکانوں کے تھڑوں پر اپنے ہم عمروں کے ساتھ بیٹھ کر اخبار کی ہر چھوٹی بڑی خبر پر تبصرے کرتے گزرتا تھا۔ گھر آتے تو ریڈیو کان سے لگا کر بیٹھ جاتے کہ زمانہ ہی ریڈیو کا تھا۔ ٹی وی آ تو چکا تھا مگر عام نہیں تھا۔ محلے میں ایک آدھ گھرمیں ہی ٹی وی آیا تھا اور لوگ ان گھروںکو رشک و حسد سے دیکھتے تھے۔
ان خوش نصیب ٹی وی والے گھروں میں انوار کا گھرانہ شامل نہیں تھا۔ اس لےے اس کی بہنیں ڈرامے اور ہفتے میں ایک بار دکھائی جانے والی فیچر فلم دیکھنے کے لےے چار گھر چھوڑ کر آسیہ کے گھر جایا کرتی تھیں۔ حالانکہ آسیہ بڑی نک چڑھی مغرور سی لڑکی تھی مگر مجبوری تھی۔ ٹی وی دیکھے بغیر رہا بھی تو نہیں جاتا تھا۔
ابا کو لڑکیوں کا یوں رات گئے تک غیر کے گھر گھسے رہنے پر کبھی کبھی اعتراض ہوا کرتا تھا مگر اماں کہہ دیتیں۔
’’وہ اکیلی تھوڑا وہاں بیٹھی ہیں۔ سارے محلے کی عورتیں وہاں جمع تماشے کا لطف اٹھارہی ہوں گی۔ یہ تو میں ہوں جو گھر بار کی فکر میں ادھر گھسی بیٹھی ہوں۔ توبہ ہے اس گھر کے بکھیڑے ہی ختم نہیں ہوتے۔ ہوں بھی کیسے، جس گھر کے مردوں کو چوبیس گھنٹے فرمائشی پروگرام نشر کرنے کی عادت ہو وہاں عورتیں آرام اور تفریح کو ترس ہی جایا کرتی ہیں۔‘‘
دراصل صبح ابا نے مولی والے پراٹھوں کی فرمائش کر دی تھی اور وہ جانتے تھے اب اس کا خمیازہ ہفتہ بھر بھگتنا ہوگا مگر اب تک وہ بھی عادی ہوچکے تھے۔
ہاں سلمیٰ کو دیکھنے کے بعد انہوں نے بیٹے سے کہا تھا۔
’’تمہیں بہت مبارک ہو انوار میاں! کہ بیوی کے معاملے میں خاصے خوش قسمت ٹھہرے ہو۔ لڑکی صورت شکل میں اچھی ہے مگر سب سے بڑی خوبی یہ کہ اپنے ہر انداز سے بھولی بھالی معلوم ہوتی ہے، تم میری والی غلطی مت کرنا۔ شروع دن سے ہی بیوی پر رعب قائم کرلینا کہ بعد میں موقع نہیں ملتا، بس یہ کام پہلی ملاقات پر ہی ہوجائے تو ہی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔‘‘
’’ابا! آپ خود ہی تو کہہ رہے ہیں۔ وہ بھولی بھالی ہے۔‘‘
’’ارے احمق! عورت کو جب سر اٹھانے کا موقع دے دیا جائے تو پھر یہ سر اٹھتا ہی چلا جاتا ہے۔ تمہاری اماں تو اسے اپنے تسلط میں رکھے گی ہی مگر ایسا نہ ہو وہ تمہاری اماں کے اس ناجائز قبضے کا انتقام تم سے لینے لگے۔‘‘
’’ٹھیک ہے ابا! آپ ہمیشہ سے میرے دوست اور راہنما بھی رہے ہیں میں آپ کے مشوروں پر عمل کرنے کی پوری کوشش کروں گا۔‘‘
’’ہاں ٹھیک ہے اور یہ بھی سن لو ایسا کرلو گے تو ساری عمر ہمیں دعائیں دو گے اور تمہارا وہ حشر نہیں ہوگا جو تمہاری والدہ صاحبہ کے ہاتھوں ہمارا ہورہا ہے۔‘‘
انوار نے بات سنی اور سمجھی ہی نہیں بلکہ گرہ میں باندھ لی کہ ماں بہنوں کی حکمرانی سے وہ خود بھی کچھ خاص خوش نہیں تھا مگر مجبور تھا کہ ان کے آگے بولنے کا حوصلہ نہیں پاتا تھا۔
خ خ خ
شادی کی تاریخ دے دی گئی۔ دونوںجانب تیاری عروج پر تھی۔ انوار کے گھر میں تو کنواری بہنیں موجود تھیں ہی۔ بری کی تیاری کروانے بڑی آپا بھی پانچ بچوں کے ہمراہ پہنچ جاتیں اور صبح سے شام تک یہیں رہتیں۔ بچے گھر میں خوب اودھم مچاتے اور اکلوتے ماموں سے فرمائشی پروگرام بھی جاری رہتا۔ وہ تو پہلے ہی اماں کے ہاتھ پر ساری تنخواہ رکھ کر بس اپنے کرائے کے حساب سے جیب میں ڈالتا تھا۔ ان کی فرمائشوں کو پورا کرنے کا مطلب آئندہ کچھ دنوں تک پیدل دفتر آنا جانا ہوتا تھا۔ اور اسے بچوں کی بات ماننا پڑتی تھی ورنہ آپا کے ساتھ ساتھ دونوں بہنیں اور اماں بھی ناراض ہوجاتیں۔ اور اب جب سے رشتہ ہوا تھا اب تو ادھر ذرا اس نے کسی معاملے میں چوں کی ادھر جھٹ کہہ دیا گیا۔
’’ہاں جی اب ہماری پروا کسے ہے۔ اب تو سب کچھ آنے والی کے لےے ہے۔ ہماری تو شکلیں بھی بری لگنے لگی ہیں۔‘‘
’’خوامخواہ میں، تم بہنوں کی جگہ کوئی لے سکتا ہے بھلا۔ ارے ابھی تمہارے ماں باپ زندہ ہیں اور یہ گھر بھی میرے یعنی تمہاری ماں اکبری خاتون کے نام ہے۔ مجال ہے کسی کی جو تمہیں آنکھیں دکھائے اور یہ انوار تمہارا اکلوتا بھائی، ہونہہ اس احمق میں عقل تھوڑی ہے۔ اسے تو میں نے اب تک انگلی پکڑ کر ساتھ رکھا ہے۔ تب ہی سیدھے راستے پر ہے۔ بعد میں کوئی اسے چھوڑ تھوڑا دوں گی اس دوسرے خاندان کی پرائی عورت کے لےے۔ ارے وہ تو دو دن میں اس کو کاٹھ کا الو بنا کر رکھ دے گی۔ تم لوگ دل میلا نہ کرو۔ ایک ہی ایک بھائی ہے تمہارا، پورا حق رکھتی ہو تم تینوں اس پر اور ان بچوں نے ماموں سے لاڈ نہیں کرنے تو ان منحوس صورتوں، چوروں والے کرتوتوں کے مالک دوپٹے جوگے چاچوں سے کرنے ہیں اور چاچو کو تو گولی مارو۔ ان معصوموں کا تو باپ ہی پکا میسنا ہے، دس نمبری پکا بدمعاش۔‘‘
وہ اکلوتے داماد کو کوسنے لگتیں جو انہیں ’’گرو‘ ‘ ماننے سے انکاری تھا اور بڑی آپا یعنی اپنی بیوی کی عقل مندیوں کو سراہنے کے بجائے چالاکی و مکاری کا نام دیا کرتا تھا۔
صبح سے شام تک بری کی تیاریاں ہوتیں۔ اکثر کھانا قریبی تنور سے منگوالیا جاتا کہ پکانے کاوقت اب اس مصروفیت میں کس کے پاس تھا اور تنور والا صابر کتنی صفائی سے پکاتا ہے یہ بات انوار اچھی طرح جانتا تھا۔ اسی لےے اکثر وہ دسترخوان سے بھوکا ہی اٹھ کھڑا ہوتا۔
’’جوں جوں شادی کے دن قریب آرہے ہیں مارے خوشی کے انوار بھائی کی تو بھوک ہی اڑ گئی ہے۔‘‘ چھوٹی بہن سلطانہ عرف ننھی بڑے طنز کے ساتھ کہتی۔ باقی بھی شاکی نظروں سے دیکھنے لگتیں اور اس کا جی تو چاہتا ان سے پوچھے کہ ’’کیا شادی دکھی ہونے کا نام ہے؟ اور اگر انہیں اس کا شادی کرنا پسند نہیں تو کس لےے لڑکی ڈھونڈنے ہر ہفتے نکل جایا کرتی تھیں۔‘‘ مگر وہ یہ سب کہہ کر اماں کے عتاب کو دعوت نہیں دے سکتا تھا۔ اکبری خاتون جب توپوں کومنہ کھول دیتیں تو پھر بند کروانا کسی کے بس کی بات نہ ہوا کرتی تھی۔
خ خ خ
پھر وہ دن بھی آپہنچا جب سلمیٰ دلہن بن کر اماں کی عمر بھر کی جمع پونجی لے کر اس گھر سے رخصت ہوئی۔ اماں نے شادی سے چند روز پہلے یہ سارا سامان بکسوں اور پیٹی سے نکالا تھا۔ بڑے پیار سے ایک ایک چیز پر ہاتھ پھیرتی رہی تھیں اور سلمیٰ کو انہیں خوشی کے ساتھ برتنے کی دعائیں دیتی رہی تھیں۔
’’اتنی اداس کیوں ہو اماں! میں آتی جاتی رہا کروں گی۔‘‘ آنے والے وقت کے سپنوں میں کھوئی وہ اماں کی بے پناہ اداسی پر ہنس پڑی تھی۔
’’جب تَو ماں بنے گی، تب جانے گی۔ جسم کا حصہ الگ کر کے دوسروں کی جھولی میں ڈال رہی ہوں۔ جوں جوں تیری شادی کے دن قریب آرہے ہیں۔ مجھے تیری پیدائش کا وقت، تیرے بچپن کا زمانہ سب بڑی شدُت سے یاد آرہا ہے۔ سلمیٰ میری گڑیا! اللہ تجھے ہمیشہ خوش رکھے۔‘‘
اماں کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اور ان آنکھوں کے بھیگتے ہی سلمیٰ مستقبل سے حال میں آگئی۔ اس روز وہ اماں کے گلے لگ کے یوں روئی کہ اماں کو اسے بہلانا مشکل ہوگیا۔
’’اچھا سن، میری بات تو سن نا۔‘‘
اماں اس کے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ اس نے بس پلکیں اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔ ہونٹ ابھی تک کپکپا رہے تھے، بولا ہی نہیں جارہا تھا۔
’’یہ جو گوٹے کا کام والا نیلا سوٹ ہے نا، یہ مجھے بہت پسند ہے اور یہ تجھ پر سجے گا بھی خوب۔ شادی کے بعد جب تو پہلی بار میری طرف اپنے دولہا کے ساتھ آئے گی تب یہی سوٹ پہن کر آنا۔‘‘
اس نے شرما کر سر جھکا لیا مگر دل میں پکُا ارادہ کرلیا۔
اور اب اماں سے دور وہ اجنبی لوگوں کے درمیان سر جھکائے بیٹھی تھی۔ اور سب نے کہا تھا۔ اب یہی اس کے اپنے ہیں۔ اسے انہی کے ساتھ رہنا ہے انہی کے لےے جینا مرنا ہے۔
’’امی! امی! دلہن کی چوڑیاں کتنی پیاری ہیں۔ میں لے لوں؟‘‘ بڑی نند کی بیٹی اس کی چوڑیوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی ماں سے اجازت لے رہی تھی۔
’’ماموں سے پوچھ۔‘‘ اس کی نند نے ادھر کمرے میں ہی مگر دلہن سے فاصلے پر سنبھل کر بیٹھے اپنے بھائی انوار کی جانب اشارہ کیا۔
ایسی فرمائش پر جو ایک بچی کی سراسر احمقانہ فرمائش تھی، ماموں سے پوچھنے والی تو کوئی بات ہی نہیں تھی مگر وہ اپنی بہنوں کو خوب سمجھتا تھا۔ یہ بات اصل میں اس کی آزمائش کے لےے کہی گئی تھی اور اسے اس آزمائش میں پورا اترنا ہی تھا، اس لےے جونہی بچی نے کہا۔ ’’ہیں ماموں! یہ میں لے لوں؟‘‘ جھٹ بولا۔
’’لے لو بیٹا! جو پسند ہے لے لو۔ آپ کو منع کس نے کیا ہے۔‘‘
’’اگر اسے ممانی ہی پسند آگئی تو پھر؟‘‘ انوار کا جواب بہنوں کو پسند آیا تھا اس لےے اب کے خوش گوار انداز میں چھیڑا جارہا تھا۔
’’اے لڑکیو! یہاں کیا بندر کا تماشا ہورہا ہے۔ اٹھو کوئی کام دھندا بھی دیکھو۔ مہمانوںکے بچے رو رہے ہیں۔ اٹھ کر انہیں کھانا ہی نکال دو۔ وہ کہیں سوئیں تو کچھ سکون ہو توبہ! اٹھ مجھے دودھ کا ایک گلاس ہی گرم کردے۔‘‘
اکبری بیگم یہ کہتے ہوئے سلمیٰ کے قریب بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھیں پھر لیٹ گئیں۔ یوںپھیل کرکہ بے چاری دلہن تو کنارے پر ہی آلگی۔
’’ننھی! یہ کمبل تو اوڑھا دے۔ جسم درد سے ٹوٹ رہا ہے۔ حرارت ملے گی تو سکون ہوگا۔‘‘
وہ تو یقینا لمبا پروگرام بنائے ہوئے تھیں اور تو کوئی کچھ نہ کہہ سکا، سو ابا بولے۔
’’انوار کی اماں! اپنے کمرے میں چلو، مجھے تم سے ضروری بات کرنا تھی۔‘‘
’’کرلینا ضروری باتیں۔ دو گھڑی آرام بھی کرلینے دیا کریں۔ ہر طرف مہمان بھرے ہیں۔ مجال ہے جو کوئی جگہ خالی ہو۔ اب جو ذرا کمر سیدھی کرنے لیٹی ہوں تو آپ کو سوئیاں چبھنے لگی ہیں۔‘‘
’’ہاں ابا! جو ضروری بات ہے۔ وہ ذرا ٹھہر کر بھی ہوسکتی ہے، اماں کو ذرا آرام کرلینے دیں۔‘‘ بڑی والی ہر معاملے میں بولنا ضروری سمجھا کرتی تھی۔
’’میرا خیال ہے یہ کمرا اماں، ابا کو ہی دے دو۔ دولہا، دولہن بے چارے ان کے کمرے میں چلے جاتے ہیں۔‘‘
یہ کہنے والے اکلوتے بدتمیز داماد صاحب تھے۔ اکبری خاتون دانت کچکچا کر رہ گئیں۔
’’کیوں اماں! دل کی بات کہہ دی ہے نا میں نے؟‘‘
آخر اماں کو اٹھتے ہی بنی۔ کمرے میں موجود کتنے ہی مہمان داماد صاحب کی ان باتوں کومذاق سمجھ کر ہنس رہے تھے۔
ابا نے تو انوار کو بڑا سمجھایا تھا مگر یہ وقت ہوتا ہی جادو بھرا ہے۔ اچھے سے اچھے مرد کے بھی حواس جواب دے جاتے ہیں۔ انوار میاں کو بھی ابا کی کوئی بات یاد ہی نہ رہی۔ وہ تو بس سلمیٰ کو آنے والے وقت کے سنہرے سپنے دکھاتا رہا اور سلمیٰ نے ایک ہی رات میں اس بات پر یقین کرلیا کہ وہ دنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہے۔
خ خ خ
صبح اس کا چہرہ کھلا کھلا اور آنکھوںمیں جگمگاہٹیں تھیں اور کوئی چونکا یا نہیں لیکن تجربہ کار اماں اور آپا ضرور کھٹک گئیں اور انوار کا بھی جائزہ لیا۔ وہ بھی بڑا مطمئن اور خوش باش دکھائی دے رہا تھا اور ابات بے بات مسکرائے جارہا تھا۔
’’وے ادھر آ، آج کیا سارا دن کمرے میں گھسے رہنے کا ارادہ ہے بے حیا، اور کچھ نہیں تو کنواری بہنوں کا ہی لحاظ کرلے۔‘‘
اماں نے کنواری بہنوں کا لحاظ کیا نہ نئی نویلی دلہن کا۔ سب کے سامنے جوان بیٹے کو شرمندہ کر کے دلہن کو یہ بتا دیا کہ کسی دھوکے میں نہ رہنا۔ اس راج دھانی کی رانی میں ہوں اور یہ جس پر مان کرکے تم سر اٹھائے بیٹھی ہو وہ میرے اشارے کے بغیر ایک قدم نہیں اٹھا سکتا۔
انوار ، ماں کی جھاڑ پر دل ہی دل میں پیچ و تاب کھاتا کمرے سے باہر چلا گیا اور اکبری بیگم نے فاتحانہ انداز میں اپنے سے بہت چھوٹی اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کی ہم عمر اس لڑکی کو دیکھا جو شوہر کو پڑنے والی اس جھاڑ کے بعد کچھ بے چین اور خوف زدہ دکھائی دینے لگی تھی۔ اکبری خاتون واپس جانے کے بجائے وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔ جوتے اتارے اور پیر بھی اوپر رکھ لےے۔
’’خالہ! آپ کے پائوں میلے ہورہے ہیں۔‘‘ ان کی بھانجی سے نئے صوفے پر یہ داغ برداشت نہیں ہوسکے تو بول اٹھی۔
’’تو کیا ہوا بی بی! میری چیز ہے جیسے چاہوں برتوں۔‘‘
’’نہیں بالکل نہیں۔ اپنی چیز کے ساتھ کون ایسا سلوک کرتا ہے یہ تو وہ لائی ہے جسے قدم قدم پر کم تر ہونے کا احساس دلانا ہے اور اس کی لائی ہر چیز کو بے وقعت جاننا ہے۔ ہر وہ چیز جو اس کی ماں نے ہر خواہش کو دفن کر کے بنائی ہے۔ جس میں ایک ماں کی چاہت اور ارمان ہیں۔ اپنی بیٹی اپنے ہی جسم کے اس حصے کے لےے دعائیں ہیں جسے دنیا کی ریت کے مطابق خود سے جدا کیا گیا ہے۔‘‘ وہ سوچ کر رہ گئی۔
’’اے صدیقہ! ولیمے کے کھانے کے بعد دلہن رواج کے مطابق اپنے گھر جائے گی۔ اس کے ایک دو جوڑے نکال دینا۔‘‘ اکبری خاتون صوفے پر نیم دراز بیٹی سے مخاطب تھیں۔
’’اچھا نکال دیتی ہوں۔ ابھی بڑا وقت پڑا ہے۔‘‘ صدیقہ نے سستی سے جواب دیا۔
’’میں نکال دیتی ہوں۔‘‘ یہ بھی کوئی رشتے کی بھانجی یا بھتیجی تھی۔
’’نہیں نہیں رہنے دو۔ ابھی واقعی بڑا ٹیم (ٹائم) پڑا ہے۔‘‘ اکبری خاتون نے روک دیا۔
پھر صدیقہ سے بولیں۔ ’’کہیں جہیز کھول کر نہ بیٹھ جانا۔ بری میں سے جوڑے رکھنا۔‘‘
’’جب تم میری طرف آئو تو نیلا گوٹے والا سوٹ پہن کر آنا۔‘‘ اسے ماں کی معصوم سی خواہش کا اظہار یاد آگیا مگر وہ ساس سے کچھ کہہ نہ سکی اور ولیمے کے بعد بری کے دو جوڑوں کے ساتھ میکے آگئی۔
’’اماں! آپ نے کہا تھا، نیلا جوڑا پہن کر آنا مگر کپڑے صدیقہ نے رکھے تھے۔‘‘
’’چل بیٹا! کوئی بات نہیں، یہ بھی اچھے ہیں۔‘‘ ماں نے ماتھا چوم لیا۔ اس کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’کیا بات ہے بیٹا؟‘‘ ماں اس کے آنسو پہ خود بھی پگھلنے کو تھی۔
’’اماں! تم سے دور جا کر مجھے تمہاری محبت کا احساس ہوا اور مجھے لگا ہے اماں کہ اب ایسی سچی کھری محبت مجھے دوبارہ کہیں سے نہیں ملے گی۔‘‘
’’ایسا نہیں سوچتے۔ شکر کرو وقت پر اپنے گھر کی ہوئیں۔ ان رشتوں کی قدر کرو۔ دل سے اپنا مانو پھر ساس بھی ماں اور نندیں بہنیں لگنے لگیں گی اور پھر بیٹا سب سے بڑھ کر تو شوہر کا رشتہ ہے۔ اگر میاں بیوی میں محبت ہوجائے تو یہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی بن جائیں تو پھر سمجھو دنیا ہی جنت بن جاتی ہے۔‘‘
اور اس نے سوچا۔ ’’انوار تو بہت اچھے ہیں یقینا ہم دونوں کی زندگی بہت مزے میں گزرے گی۔‘‘
خ خ خ
انوار نے دفتر سے پندرہ دن کی چھٹی لی تھی اور یہ پندرہ دن دعوتوں میں ہی گزر گئے۔ اس کا کمرا چھوٹا سا تھا۔ بس وہاں پر ڈبل بیڈ ، ڈریسنگ ٹیبل کے بعد اتنی ہی گنجائش تھی کہ دو کرسیاں اور ایک میز رکھ کر باقی گزرنے کے لےے راستہ چھوڑ دیا جائے۔ اس کی پیٹی کے ساتھ ساتھ بکس اٹیچی سب اسٹور میں رکھے گئے تھے اور چابیاں اماں کے پاس تھیں۔
اسے جب بھی کہیں جانا ہوتا کہ کپڑے اس کی نندیں نکال کر دیتیں اور یہ اکثر بری کے کپڑے ہوتے۔ جہیز کے اگر نکالے بھی گئے تو وہ جوڑے جو ہلکے کام والے اور سادہ سے تھے۔ اسے الجھن ہوتی۔
’’آخر یہی تو دن ہیں پہننے اوڑھنے کے۔ ان ہی دعوتوں میں تو سب دلہن کے کپڑے شوق سے دیکھتے ہیں پتا نہیں یہ لوگ مجھے بھاری کام والے خوب صورت جوڑے کیوں نکال کر نہیں دے رہیں۔‘‘
اس روز انہیں انوار کے چچا کے ہاں جانا تھا اور ابھی ابھی چھوٹی نند کا نکال کر دیا ہوا بری کا گرین سوٹ اس کے بیڈ پر پرا تھا۔
’’یہ اتنا سادہ سا سوٹ۔‘‘ اس نے جوڑا اٹھا کر جائزہ لیا اور بے دلی سے ایک طرف ڈال دیا۔
’’کوئی اور پہن لو۔ تمہارے پاس کوئی کمی تھوڑا ہی ہے۔‘‘ انوار ابھی ابھی آفس سے آیا تھا اور کرسی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔
’’یہی تو میں بھی کہتی ہوں۔ جب میرے پاس اتنے ڈھیر کپڑے ہیں تو ہر مرتبہ یہی سادہ اور کم قیمتی کپڑے کیوں مجھے پہننے کے لےے نکال کر دےے جاتے ہیں۔‘‘
’’تم جا کر اپنی مرضی سے نکال لو۔‘‘
’’چابی اماں کے پاس ہے۔ ایک بار میں نے مانگی تھی تو کہنے لگیں۔ لڑکیاں لاپروا ہوتی ہیں کہیں رکھ کر بھول جائو گی تو مصیبت ہوجائے گی۔ اب میں تو ایسی لاپروا نہیں ہوں اور پھر کپڑے نکالنے کے بعد میں نے چابی انہیں واپس ہی کردینا ہے نا۔ جائیں نا، اماں سے تھوڑی دیر کے لےے چابی لادیں۔ میں کوئی دوسرا جوڑا نکال لوں گی۔ یہ والا تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘
’’لو بھلا میں کیوں جائوں۔ تم جا کر اماں سے چابی لے لو۔ اس میں اتنا گھبرانے والی آخر کیا بات ہے؟‘‘
’’بس وہ مجھے آپ کی ماں سے ڈر لگتا ہے۔‘‘
’’کمال ہے۔‘‘ وہ کھسیانی سی ہنسی ہنسا۔ بیوی سے یہ نہیں کہہ سکا وہ خود اماں کا لختِ جگر ہونے کے باوجود ان سے ڈرتا ہے۔
’’بس میں آج کوئی اچھا سا جوڑا پہنوں گی۔‘‘
’’مجھے تو یہ رنگ بڑا پسند ہے اور میں سوچ رہا تھا تم یہ پہن کر کتنی اچھی لگو گی۔‘‘
انوار کے کہنے کی دیر تھی وہ جو آج یہ سوٹ پہننے پر تیار نہیں تھی۔ جھٹ راضی ہوگئی۔ عورت کو کیا چاہےے، اپنے مرد کی آنکھوں میں اپنے لےے محبت۔ ہونٹوں پہ تعریف۔ اگر وہ اسے اسی رنگ میں دیکھنے کا آرزو مند تھا تو پھر جی جان سے وہ اسے پہننے کو تیار تھی۔
ادھر انوار نے اس کو رضا مند دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا۔
ابھی وہ کپڑے استری کرنے کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ اماں چلی آئیں۔ حسبِ عادت بغیر دستک دےے دھاڑ سے دروازہ کھولا اور انوار کو دیکھتے ہی بولیں۔
’’کچھ حیا، کچھ شرم، لحاظ، مروت ہے یا بیاہ ہوتے ہی سب اٹھ گیا؟‘‘
’’کیا ہوا اماں جان! میں سمجھا نہیں؟‘‘ وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔
’’ہاں، تَو ننھا تیری عقل ابھی کچُی، تَو بھلا کہاں سمجھے گا ان باتوںکو۔ وے بے شرما، جوان بہنوں والا گھر ہے اور تَو کمرے میں گھسا بیٹھا رہتا ہے۔‘‘
’’اماں! تو میں کہاں بیٹھوں۔ یہ میرا کمرا ہے۔ آفس سے آکر آرام کرنے کے لےے اپنے ہی کمرے میں بیٹھ سکتا ہوں۔‘‘
’’آہو، اور یہ جو ابھی تک پہلے دن کی دلہن بی پھرتی ہے۔ اس کے لےے ضروری ہے کہ جب تَو کمرے میں ہو تو یہ بھی کمرے سے باہر قدم نہ نکالے، ہائے میرے ربُا! میں تو ان لوگوں کی ظاہری معصومیت دیکھ کر دھوکا کھا گئی۔ مجھے کیا پتا تھا اندر سے پورے ہیں یہ لوگ۔‘‘
وہ جو بولنا شروع ہوئیں تو حسبِ عادت بولتی چلی گئیں اور ایسے الزام سن کر مارے شرمندگی کے سلمیٰ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جبکہ انوار بھی چائے کا کپ میز پر رکھے چپ چاپ بیٹھا یہ سب سن رہا تھا۔ اس روز سلمیٰ کو اندازہ ہوا کہ اس کا شوہر ان مردوں میں سے ہے جو ماں کے سامنے غلط بات کو غلط کہنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اور اس کے سینے میں کچھ ٹوٹ گیا۔
بڑی بے دلی سے اس نے وہی ہرا سوٹ پہنا، جیسے تیسے میک اپ کیا اور انوار کے ساتھ اس کے چچا کے گھر چلی آئی مگر آج انوار کے ساتھ چلتے اٹھتے بیٹھتے اس کے دل میں کسی فخر کا احساس نہیں جاگا۔ اس کی کسی شوخ بات پر زور کی بے ساختہ ہنسی نہیں آئی۔ اس پر نظر پڑتے ہی آنکھوںمیں جگنو نہیں چمکے۔ جبکہ انوار ویسا ہی تھا گھر سے باہر آتے ہی وہ گھر کے اس ماحول کو بھی فراموش کر چکا تھا مگر سلمیٰ کے ذہن میں ساس کی باتیں گونج رہی تھیں۔
میزبانوں کے ساتھ چٹکلے چھوڑتے ہوئے انوار بار بار اس کی طرف دیکھتا تھا اور وہ محسوس کر رہا تھا سلمیٰ آج بجھی بجھی سی ہے مگر اس نے نہ وہاں نہ گھر واپس آکر اسے بہلانے کی کوشش کی بلکہ سرے سے نظر انداز ہی کر گیا۔
سلمیٰ کو اپنی ساس کے مزاج سے ڈر تو پہلے ہی لگتا تھا مگر اب تو انہیں سامنے پا کر ہی گھبراہٹ سی طاری ہونے لگتی تھی۔ گھر کے کام تو اس نے شادی کے پندرہ دن بعد ہی شروع کر دےے تھے اور کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ دن تمہارے کام کرنے کے نہیں ہیں۔ اس کی ساس صحت مند تھیں اور اس نے خود دیکھا تھا کہ شادی کے شروع دنوں میں وہ اچھا خاصا کام کرتی تھیں مگر جونہی سلمیٰ کام پر لگی ساس نے ہاتھ کھینچ لیا۔
دونوں نندیں بھی سارا دن گھر پر ہوا کرتی تھیں۔ صدیقہ گھر کے کام کرلیا کرتی تھی جبکہ ننھی بس ننھی ہی تھی۔ بڑی آپا ہفتے میں ایک چکر بمعہ بچوں کے لگالیا کرتی تھیں اور اماں کی یہ کوشش ہوتی تھی شام کو وہ جلدی واپس چلی جائیں۔ ان کے شوہر کو انہیں لینے کے لےے نہ آنا پڑے۔ داماد کو وہ سارے زمانے کے سامنے برا بھلا کہتی تھیں مگر مجبوری تھی کہ اس کے سامنے زبان بھی بند رکھنا پڑتی اور خاطر خدمت کی مصیبت الگ تھی۔
خ خ خ
آج کل اکبری خاتون کو صدیقہ کے رشتے کی بھی بڑی فکر تھی۔ آس پڑوس میں کہہ رکھا تھا۔ رشتہ کروانے والی دو تین عورتیں بھی باقاعدہ رابطے میں تھیں۔
صدیقہ درمیانی صورت والی قدرے فربہ جسم کی لڑکی تھی پھر گھر کے مالی حالات بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں تھے تو آنے والیاں ایک بار آکر دوسری بار راستہ بھول جاتیں۔ اکبری خاتون اس کا غصہ بھی انوار اور اس کی بیوی پر نکالتیں۔ جنہیں اپنے چائو چونچلوں سے فرصت نہیں تھی۔ احساس ہی نہیں تھا کہ ماں بہن کس قدر اداس اور مغموم رہتی ہیں۔
’’دیکھےے اگر صدیقہ کا رشتہ نہیں ہورہا تو اس میں میرا کیا قصور ہے؟‘‘ ایک رو زوہ انوار کے سامنے رو ہی پڑی۔
’’ارے تم دل چھوٹا کیوں کرتی ہو۔ اماں بے چاری پریشان ہیں۔ اب ایسے میں ہم پر ہی غصہ نکالیں گی۔ محلے والوں سے تو جا کر نہیں کہیں گی۔‘‘
’’مگر اس میں میرا کیا قصور؟‘‘
’’دماغ مت چاٹو۔ ذرا جو آرام کرنے گھر آتا ہوں تو یہاں تم تھانیدار بن کر کھڑی ہوتی ہو۔‘‘ وہ بھی اسی پر خفا ہونے لگا تو چپ چاپ وہاں سے ہٹ گئی۔
’’سنو، اب منہ بنا کر کیوں بیٹھ گئی ہو۔ اٹھو آج مٹر ڈال کر چاول ہی بنالو۔ بڑا دل چاہ رہا ہے۔‘‘
’’چاول گھر میں نہیں ہیں۔‘‘
اس نے انوار کے ہلکے پھلکے سے انداز پر اندر ہی اندر جل کر بڑی مشکل سے نارمل انداز میں جواب دیا۔
’’پتانہیں انہیں احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ان کا خوامخواہ میںڈانٹ ڈپٹ کرنا مجھے کتنا اکیلا کر دیتا ہے۔‘‘
’’اوہو! نہیں ہیں تو محلے کے کسی بچے کو بھیج کر منگوالو۔‘‘ آرام سے حل پیش کیا گیا۔
’’کیسے منگوالوں، میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔‘‘
’’مجھے پتا ہے بیگم صاحبہ! تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ صاف کہو کام چوری ہے۔ چاول پکانا ہی نہیں چاہتیں ورنہ کیا اماں سمندر پار گئی ہیں جو تم پیسے لے کر چاول منگوا نہیں سکتیں۔‘‘
’’اماں سے آپ پیسے لے کر چاول اور مٹر لے آئیں۔‘‘ وہ کہہ نہیں سکی کہ اماں سے ایسی خرچے والی بات کر کے شامت بلوانا اسے پسند نہیں۔
’’تم میری ماں سے بات کرنا بھی پسند نہیںکرتیں۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور باہر نکل گیا۔
’’اف میرے خدا! کیا کروں میں۔ سمجھتے ہیں اپنی ماں کی عادت کو۔ پتا بھی ہے کہ وہ ذرا ذرا سی بات پر کس طرح سناتی ہیں مگر پھر بھی سارے قصور میرے ہی کھاتے میں ڈالیں گے۔‘‘
باہر سے اب اکبری خاتون کی گھن گرج کی آوازیں آرہی تھیں۔ یقینا انوار نے مٹر پلائو کی فرمائش کر دی تھی۔ اماں اسے بے غیرت بے بس جیسے القابات سے نواز رہی تھیں۔
’’احساس ہی نہیں کہ کس طرح خرچے پورے کرتی ہوں۔ بس بیوی نے جو کہہ دیا وہ پورا کرنا فرض ہوگیا۔ اس سے پوچھا ماں کے گھر کتنی بارمٹر پلائو بنتا تھا۔ خوب جانتی ہوں اس کے پچھلوں کو۔ کہیں کے کارخانے دار نہیں ہیں۔ یہاں آکر شہزادی بن بیٹھی ہے۔ اوقات بھول گئی ہے اپنی۔‘‘
اب اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کہ جا کر صفائی پیش کرتی۔ انہیں بتاتی کہ مٹر پلائو کا آئیڈیا اس کا نہیں، ان کے لختِ جگر کا ہے۔ اور وہ لختِ جگر، نورِ نظر اونچا پورا مرد سر جھکائے وہ سب سن رہا تھا جو اس کی بیوی اور اس کے میکے کے بارے میں کہا جارہا تھا ، ایک بار بھی وضاحت پیش کرنے کی جرأت نہیں کی۔
اب ظاہر ہے اسے کمرے میں گھس کر تو نہیں بیٹھے رہنا تھا۔ بہت سے کام اس کے منتظر تھے، سو ہمت کر کے اٹھی اور باہر آگئی۔ سامنے ہی سسر صاحب کرسی ڈالے بیٹھے تھے۔ اسے دیکھا پھر انوار کو پھر خوامخواہ ہی مسکرائے۔ کم از کم اسے تو ایسے ہی محسوس ہوا اور پھر اخبار دیکھنے لگے۔
وہ کچن میں آکر برتنوں کے ڈھیر کی جانب متوجہ ہوئی اور چپ چاپ انہیں رگڑنے لگی۔ جب اماں ایک ڈیڑھ گھنٹہ اس کو خوب رگڑ چکیں اور خاموش ہوئیں تب انوار نے دھیرے سے کہا۔
’’اماں! آپ کے ہاتھ کا مٹر پلائو کھانے کو دل تو میرا چاہ رہا تھا۔ اسے تو مٹر پسند ہی نہیں ہیں۔‘‘
اماں نے مشکوک انداز میں اسے دیکھا۔ ویسے اس کی بیوی کے خلاف اتنا بولنے پر بھی انوار نے جس بے حسی کا مظاہرہ کیا تھا ا س سے اماں کا دل بیٹے کی طرف سے خاصا خوش ہوچکا تھا، اسی لےے اب خاموشی سے پیسے تھما دےے اور بولیں۔
’’جا ، جا کر لے آ مٹر بھی اور چاول بھی۔ مٹروں کے ساتھ ہرا دھنیا اور ہری مرچیں ڈلوالینا۔ میں خود تیرے لےے اپنے ہاتھ سے پکائوں گی۔ یہ بد سلیقہ تو ہر چیز کا ستیا مار کر رکھ دیتی ہے۔ پتا نہیں اتنے سال ماں کے گھر کیا کرتی رہی ہے۔ کسی بات کا کوئی طریقہ نہیں ہے اس میں۔‘‘
وہ اثبات میں سر ہلاتے ہوئے سودا لینے چلا گیا۔
اماں نے مٹر پلائو بنایا۔ خوشبو بتا رہی تھی بہت اچھا بنا ہوگا۔ مگر اس نے ایک چمچہ بھی نہیں لیا۔ دوپہر کی ایک روٹی رکھی تھی۔ وہی چائے کے ساتھ کھالی۔ پتا نہیں یہ احتجاج وہ کسے دکھانا چاہتی تھی۔ یہاں کون تھا جو اس کے نہ کھانے پر بے چین ہوتا، بار بار اس سے اصرار کرتا۔ انوار نے اماں اور بہنوں کے ساتھ بیٹھ کر سو سو تعریفیں کر کے کھانا کھایا۔ وہ کمرے میں لیٹی تکےے پر سر رکھے آنسو بہاتی اپنی پیاری ماں کو یاد کرتی رہی۔
’’کیا قانون ہے یہ قدرت کا۔ وہ جو جی جان سے زیادہ چاہتی ہے اسی کو چھوڑنا پڑتا ہے۔‘‘
’’ہاںجی ادھر لیٹی ہو۔ میں سمجھا باورچی خانے میں کام کر رہی ہو۔ کھائے تم نے چاول؟ اچھے بنے تھے ہے نا۔ اماں کے ہاتھ میں ذائقہ ہی بڑا ہے۔ زبان بھی کراری، ہاتھ بھی کرارا۔‘‘
وہ خود ہی ہنسنے لگا۔ اس نے یونہی رخ موڑے ہوئے چپکے سے آنسو پونچھ ڈالے۔
خ خ خ
ایک سال گزر گیا اور اس ایک سال میں کیا کیا نہ ہوگیا۔ اس کی ماں دنیا میں واحد اس کی غم گسار اس کی محبت میں خود کو بھول جانے والی ماں دنیا سے رخصت ہوگئی۔ کیسی قیامت بیت گئی اس کے دل پر مگر اس صدمے کو جھیلنے کے لےے وہ اکیلی ہی تھی۔ انوار کا افسوس بس رسمی ساتھا۔ اسے سنبھلناتھا۔ سنبھل گئی کہ وہ امید سے تھی اور اس کے رونے اداس ہونے پر فوراً کہا جاتا تھا۔
’’ماں کا سوگ منانے بیٹھی ہے، آنے والے کی فکر نہیں ہے کہ اس سیاپے کا اس پر کتنا برا اثر پڑے گا۔‘‘
’’اور جو اس گھر میں گھٹن ہے، مجھ پر جو پابندیاں ہیں۔ ان کا کیا اثر پڑے گا۔ اس بارے میں کبھی کسی نے نہیں سوچا؟‘‘
ماں دنیا سے کیا گئی۔ اس کا دل سہم سا گیا۔ وہ خود کو بالکل بے سہارا سمجھنے گی۔ انوار کو دیکھ کر اکثر اسے خیال آتا کہ کیا شریکِ سفر اسے کہا جاتا ہے؟ زندگی بھر کا ساتھی اتنا بے گانہ اور بے اعتبار ہوا کرتا ہے؟
طبیعت ٹھیک نہیں تھی مگر کسی کام کے سلسلے میں اسے کوئی رعایت نہیں تھی کہ ’’ان دنوں میں جتنا کام کرو اتنا ہی اچھا ہوتا ہے۔‘‘
اس کی ساس اور بڑی آپا اکثر اسے بتایا کرتی تھیں کہ یہ جو کام وہ کرتی ہے وہ تو کچھ بھی نہیں۔ وہ دونوں تو ان دنوںمیں صبح سے شام تک لگی رہتی تھیں کبھی دن میں کمر سیدھی کرنے کے لےے نہیں لیٹی تھیں۔
صبح سے سر میں درد اور طبیعت بے حد گری گری تھی۔ آج صدیقہ کو دیکھنے کچھ عورتیں بھی آرہی تھیں۔ کام پہلے سے کہیں زیادہ تھا۔ عام دنوںمیں تو صدیقہ ہاتھ بٹا ہی دیا کرتی تھی مگر آج اس کی اپنی تیاری ہی ختم ہونے میں نہیں آرہی تھی۔
شام کو تین عورتیں لڑکے والوں کے مخصوص ٹھُسے کے ساتھ تشریف لائیں اور آج تو اماں اور آپا کی خوش اخلاقیاں دیکھنے کے لائق تھیں۔ ان خواتین کی ہر بات کا جواب مسکرا کر اور نہایت اخلاق سے دیا جارہا تھا ایک وہی تھی جو خاموش اور کچھ اکتائی ہوئی سی دکھائی دیتی تھی۔ عورتیں کھانے سے پورا انصاف کرنے کے بعد صدیقہ کے ہاتھ پر دوسو روپیہ رکھ کر اور انہیں بھی اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر گئیں تو اکبری خاتون کے تومارے خوشی کے پائوں ہی زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔
’’شکر ہے کسی کو صدیقہ پسند تو آئی۔‘‘
’’اصل میں بات یہ ہے کہ آٹھ بیٹے ہیں ان کے۔ چھ وہ بیاہ چکے ہیں گویا سارے ارمان نکل چکے ہیں۔ اب تو بس ان کے لےے اتنا کافی ہے کہ ساتویں نمبر والے کے لےے ایک عورت ذات تلاش کرلی جائے۔ اسی لےے انہوں نے لڑکی پر زیادہ غور ہی نہیں کیا۔ بس دیکھا اور ہاں کر دی۔‘‘
آپا کی یہ بات صدیقہ کو جلتے انگارے کی طرح لگی۔
’’آپ کا کیا خیال ہے، میں بدصورت ہوں، کوئی عیب ہے مجھ میں، جو ذرا غور سے دیکھے وہ پسند نہیں کر سکتا؟‘‘
’’پتا نہیں، یہ تو ان سے پوچھو، جو پہلے اس گھر میں آتی رہی ہیں اور کبھی کسی نے ہمیں اپنے پاس آنے کی دعوت نہیں دی۔ بھئی سچ کہتی ہوں صرف تمہاری خاطر ایسی ایسی موٹی بھینسوں کو لفٹ کرائی ہے جن کی باتیں سن کر جی کرتا تھا چپیڑیں مار کر گھر سے باہر نکال دوں اور یہ جو آج آئی تھیں، توبہ مسکرا مسکرا کر میرا تو جبڑا دکھ گیا ہے۔‘‘
’’آہو، مسکرانے کی عادت جو نہیں ہے۔‘‘
صدیقہ کو آپا کی باتوں پر اکثر ہی غصہ آجایا کرتا تھا اور آج تو وہ سخت بری لگی تھیں کہ انہوں نے اس کی صورت کو نشانہ بنایا تھا۔
بڑی آپا بچوںکے ساتھ نہیں آئی تھیں کہ اماں نے منع کر دیا تھا۔ اب کہہ رہی تھیں۔
’’چائے کے ساتھ جو کچھ بنا ہے وہ سب گھر لے کر جائوں گی کہ میں صرف آپ لوگوںکے کہنے پر بچے گھر چھوڑ کر آئی ہوں۔‘‘
’’اپنے بچوں کو تھوڑی تمیز سکھادیں پھر ان کے آنے پر ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘
صدیقہ کو بدلہ اتارنے کا موقع مل گیا۔ لڑائی پھر شروع ہوگئی۔ وہ برتن اٹھا کر کچن میں آگئی اور تھکن سے چور سستی کے ساتھ دھونے لگی۔
رات کو ابا اور انوار گھر آئے تو یہ خبر بڑی خوشی کے ساتھ انہیں سنائی گئی۔ انہیں بھی اطمینان ہوا، رات جب انوار سونے کے لےے کمرے میں آیا تو خاصے خوش گوار موڈ میں تھا اور اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر سوچا۔
’’ایک اور ڈیوٹی جبکہ میں اب سونا چاہتی تھی۔‘‘
خ خ خ
صدیقہ کی شادی کی تاریخ رکھ دی گئی اور ساتھ ہی تیاریوں کا آغاز ہوا۔ اماں پانچ چھ جوڑے خوب بھاری کام والے ہونے چاہئیں۔ صدیقہ لاڈ سے فرمائش کر رہی تھی۔
’’ہاں پیسے درختوں پر لگتے ہیں۔ کوئی فائدہ ہوتا ہے ان بھاری کپڑوں کا ایک بار بھی پہنے نہیں جاتے۔ میں نے تو بہو کی بری بھی ہلکی بنائی تھی۔ دیکھ لو کتنا کام آئی۔ وہی کپڑے یہ استعمال کر رہی ہے اور جہیزکے بھاری بھاری جوڑے بکسوں میں پڑے سڑ رہے ہیں، بس میں نے کہہ دیا۔ تمہیں نئے بھاری جوڑے بنانے کی ضرورت نہیں۔ سلمیٰ کے جو بھاری جوڑے کیڑوں کی خوراک بننے کے لےے پڑے ہیں۔ ان ہی میں سے تمہیں دے دوں گی۔‘‘
اور سلمیٰ نے چونک کر ساس کی جانب دیکھا مگر وہ ادھر متوجہ ہی کب تھیں۔
’’انوار آجائے تو کرتی ہوں اس سے بات۔ میرے جہیز کے کپڑوں پر کسی کا کوئی حق نہیں۔‘‘
دن بھر وہ انگاروں پر لوٹتی رہی اور شام کو جب انوار آیا تو جا کر اماں کے کمرے میں بیٹھ گیا۔ وہ رات کا کھانا بناتے ہوئے لفظوں کو ترتیب دیتی رہی کہ اسے انوار کے سامنے طریقے سے بات کرنا ابھی تک نہیں آیا تھا۔ مگر بات کے جواب میں وہ یوں بھڑک جائے گا اسے گمان بھی نہ تھا۔
’’بکسوں میں بند کپڑے جو تمہارے کسی کام کے نہیں اگر میری بہن کو مل جائیں گے تو اس میں برا کیا ہے۔ تم اس گھر میں رہتی ہو۔ ہر چیز استعمال کرتی ہو۔ جو جی چاہے کھاتی پیتی ہو، کیا میں نے کبھی کوئی اعتراض کیا؟‘‘
اس بات پر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی پھر اس نے کچھ نہیں کہا۔
اماں کی محبت سے مہکتے یہ جوڑے کسی اور کے ہوئے۔ وہ گلابی جوڑا جس پر اماںنے بڑے ارمانوں سے اپنے ہاتھ سے ستارے ٹانکے تھے اور کہا تھا۔ ’’جب میرے بیٹی اسے پہنے گی، شہزادی لگے گی۔‘‘
’’اور وہ انگوری کلر کا جوڑا جس پر دھاگے کا کام بڑے چائو سے کیا گیا تھا اور سب سے بڑھ کر نیلا گوٹے والا سوٹ، اس کا دل یوں بھر آیا کہ ضبط نہ کر سکی۔ اور ماں اور اس کی آنکھوں میں چمکتے خواب یاد کر کے اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
’’اماں! کیوں تم نے دن رات ایک کر کے ایک ایک ٹانکا بھرا۔ کیوں تم نے پیسے بچا بچا کر یہ جوڑے بنائے۔ اماں! محبتوں سے گندھے یہ جوڑے میرے دل کا ناسور بن گئے ہیں۔‘‘
اس کا جی چاہتا تھا وہ گھر آنے والی ہر عورت کو اس ظلم کے بارے میں بتائے، مگر دل کی بات مان لیتی تو پھر سر چھپانے کا آسرا نہ رہتا۔ اب تو وہ بھی ایک ماں تھی۔ اس کی گود میں ننھا عبران آچکا تھا۔ اور اگر وہ لوگ عبران کو اس سے چھین لیتے پھر وہ کیا کرتی، جیتے جی مرجاتی۔
خاموشی ہی اس کے حق میں بہتر تھی۔ کھلی آنکھوں سب دیکھنا دل کا کٹ کٹ جانا مگر پھر بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجانا اس کی مجبوری تھی۔
انوار ویسا ہی تھا۔ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، ہنسی مذاق کرنے والا مگر دوسروں کے سامنے اسے اکیلا چھوڑ دینے والا۔ اور اب اسے انوار کی باتوں ، اس کے ہنسی مذاق کے جواب میں زندہ دلی دکھانے، اس کے ساتھ دینے اور کامیاب بیوی اچھی بیوی کا کردار ادا کرنے سے اکتاہٹ ہوتی تھی۔ وہ ہنس کر کوئی معنی خیز بات کرتا اور یہ بجائے شرما کر مسکرانے کے بس ٹکر ٹکر س کی صورت دیکھے جاتی۔
’’مجھے لگتا ہے تمہیں اب میں اچھا نہیں لگتا۔‘‘ وہ منہ پھلا لیتا، نخرے کرتا، غصہ دکھاتا وہ جواب میںہاں کہتی نہ نا۔ کسی کام کے بہانے سے اٹھ کر باہر آجاتی۔
اس کے دل کو سب سے زیادہ گلے انوار ہی سے تو تھے۔ وہی تو تھا جو بڑے دھڑلے سے بارات لے کر اس کی ماں کے خوشبوئوں سے مہکتے آنگن میں آیا تھا اور سلمیٰ کے سارے حقوق اپنے نام لکھوا کر بدلے میںاپنا نام اور اپنا ساتھ اس کے لےے لکھ کر اپنے گھر لے آیا تھا۔
’’میں کون ہوں اس کی؟‘‘
وہ سوجاتا اور سلمیٰ ننھے بیٹے کو گود میں لےے تھپک تھپک کر سلانے کی کوشش میں بیٹھی انوار کا چہرہ دیکھے جاتی۔
’’سارا دن کام کرتی ہوں۔ سب کی بے دام لونڈی ہوں اور پھر بھی بڑا احسان جتا کر کہتاہے تم جو جی چاہے کھاتی پیتی ہو۔ کیا میں نے کبھی ٹوکا ہے تمہیں۔‘‘ آنسو پلکوں کا بند توڑ کر بہہ نکلتے۔ ’’اگر اتنا کام میں گلی محلے کے گھروں کا کروں تو کپڑا روٹی تو دیں گے ہی پیسے بھی میرے ہاتھ آجائیں گے۔‘‘
جہیز کی تیاری کے سلسلے میں بڑی آپا اکثر آجاتی تھیں۔ اکبری خاتون کی پوری کوشش ہوتی شام کو وہ جلدی چلی جائیں۔ اس کے میاں کو لینے نہ آنا پڑے مگر بڑی آپا واپسی کی تیاری میں ہی اتنی دیر لگادیتیں کہ داماد صاحب انہیں لینے آپہنچتے۔
’’کب سے بکواس کر رہی تھی جلدی کر لے جلدی کرلے مگر اسے ہمارا کیا درد۔ میں جو پیسہ بچا بچا کر جہیز بنا رہی ہوں اب اس پیٹو کی خاطر مدارت میں کتنا خرچا اٹھ جائے گا۔‘‘
وہ بڑبڑاتیں مگر مجبور نظر آتیں اور سلمیٰ کو ان کے داماد کی آمد پر بڑی خوشی اور سکون کا احساس ہوتا کہ وہی تو تھا جو اکبری خاتون کو نیچا دکھا سکتا تھا۔ وہ دل سے اس کی خاطر داری کرتی۔
’’صدیقہ! رخصت ہوتے وقت سلمیٰ بھابھی کو ساتھ ہی لے کر جائو گی۔‘‘
جب اس نے چائے اور پکوڑے آپا کے میاں کے سامنے لا کر رکھے تو وہ کمرے میں موجو دساس بیگم، چھوٹی سالی اور صدیقہ پر نظر ڈال کر عجیب سا سوال کر بیٹھے۔
’’اے ہے کیسی باتیں کرتے ہو جی! سلمیٰ بھابھی کیوں ساتھ جانے لگی؟‘‘
آپا کچھ حیرت سے کچھ بگڑ کر بولیں جبکہ اماں کا ماتھا ٹھنکا تھا۔
’’دیکھو نا، سارے کام تو سلمیٰ بھابھی کرتی ہیں۔ صدیقہ کو تو سسرال جا کر بڑی مشکل پیش آئے گی۔ میرا تو خیال ہے ساتھ لے ہی جائو۔ انوار میں تو تم لوگوں کو انکار کرنے کی جرأت نہیں۔ اماں حکم کریں گی وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر سر جھکا کر یہ فیصلہ قبول کرلے گا، کیوں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا سلمیٰ بھابھی؟‘‘
وہ کہنا چاہتی تھی۔ ’’آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘مگر کہہ نہیں سکی مگر اپنے ہونٹوں کو خفیف سی مسکراہٹ سے بچا بھی نہیں سکی۔
’’میری بیٹیاں سب کاموں میں طاق ہیں۔‘‘ اماں نے غصہ پیتے ہوئے اطلاع دی۔
داماد صاحب ہنسے اور ہنستے چلے گئے۔
’’جب میری اور آپ کی بڑی صاحب زادی کی شادی ہوئی تب آپ نے میری اماں کو بھی یہی کہہ کر بے وقوف بنایا تھا۔‘‘
اماں بل کھا کر رہ گئیں۔
’’تَو یہاں کھڑی کیا کر رہی ہے جا کر ہانڈی کی فکر کر۔‘‘ اماں نے سارا غصہ سلمیٰ پر نکالا۔
یہ سن کر داماد صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور بولے۔
’’اسی لےے تو کہتا ہوں۔ اسے صدیقہ کے ساتھ کر دیں ورنہ وہاں جا کر کام کون کرے گا۔ اب ہر داماد میرے جیسا صابر و شاکر تو ملنے سے رہا کہ بیوی نے جو ملغوبہ تیارکر کے سامنے رکھا چپ کر کے کھالیا۔‘‘
’’چلو واجدہ! اٹھائو اپنے بچوں کو رات ہورہی ہے نکلنے کی کرو۔‘‘ اماں ، بڑی آپا کی طرف پلٹ گئیں۔
خ خ خ
صدیقہ بیاہ کر اپنے گھر کی ہوئی۔ اماں نے سکھ کا سانس لیا کہ خیر خیریت سے دوسری بچی بھی بیاہ دی۔ سلمیٰ کو اس شادی سے کوئی فرق نہیں پڑا، وہی باتیں تھیں وہی اس کی دن بھر کی مشقت۔ ہاں جس روز شادی کے بعد صدیقہ اس کے جہیز کا نیلا سوٹ پہن کر ان کے ہاں آئی تھی، سلمیٰ کا دل ایسا کٹ رہا تھا کہ تکلیف کی شدُت سے وہ پیلی پڑ رہی تھی۔ اماں کی محبت ان کے ارمان یاد آرہے تھے اور وہ سوچ رہی تھی۔
’’کبھی میں بھی کسی کی پیاری ہوا کرتی تھی اور میرے پیار کرنے والوں کی یہ نشانیاں تک مجھ سے چھین لی گئی ہیں۔ اماںمیری اماں!‘‘
’’میری بچی بیاہ کے بعد دوسری بار ادھر آئی ہے اور تَو اس کے آنے پر کھلے دل سے استقبال کرنے کے بجائے ٹسوے بہانے بیٹھ گئی ہے۔‘‘
وہ باورچی خانے میں یادوں میں گم بیٹھی تھی جب ساس نے آکر بڑی بے رحمی سے یادوں کا سلسلہ توڑ دیا۔
خ خ خ
وقت کب رکا ہے۔ کوئی چاہے نہ چاہے آنے والے کی جگہ خالی ہو ہی جاتی ہے۔اس کی ساس نے سوچا تھا بہو کو کبھی سر اٹھانے ہی نہیں دیں گی۔ مگر وہ بھول گئی تھیں کہ سب کچھ سوچ کے مطابق نہیں ہوا کرتا، بازا رجاتے ہوئے ان کے رکشے کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ ننھی ساتھ تھی اور دونوں کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔ ننھی کا چہرہ بگڑ گیا اور اماں کی ریڑھ کی ہڈی پر ایسی چوٹ آئی کہ وہ چلنے پھرنے سے معذورہوگئیں۔
ننھی کے چہرے کے زخم تو بھر گئے مگر اس حادثے کی یادگار ایک نشان ہمیشہ کے لےے اس کے چہرے پر رہ کر اس کی قسمت کا دروازہ بند کر گیا اور وہ بس اماں کو سنبھالنے کے قابل ہی رہ گئی۔ وہ اپنے نصیب کی تاریکی پر ایسی حیران ہوتی کہ اکثر اماں کے کام کرنا ہی بھول جاتی۔ اکبری خاتون کے اس انجام نے سلمیٰ کے اندر پہلے سے زیادہ خوفِ خدا پیدا کر دیا۔ وہ ان کے کام اکثر کر دیا کرتی تھی مگر اس نے ان سے مخاطب ہونے، ان کے پاس بیٹھ کر دلجوئی کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی۔
اب وہی گھر کی کرتا دھرتا تھی۔ انوار جو مہینے بھر کا خرچا پہلے اماں کو تھما دیتا تھا۔ اب وہ اس کے ہاتھ میں دیتا۔ صدیقہ اور بڑی آپا اب بھی آتی تھیں۔ دونوں ننھی کو سمجھاتیں۔
’’سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش کرو۔ انوار بھائی کے آگے پیچھے رہا کرو۔‘‘
مگر جو کچھ ننھی کے ساتھ ہوچکا تھا۔ اس کے باعث اسے اب ایسی سیاستوں سے دلچسپی نہ رہی تھی۔
اکبری خاتون ایسی حالت میں سال بھر ہی جی سکیں اور ان کی وفات کے چھ ماہ بعد سلمیٰ نے ننھی کی شادی ایک پچاس سالہ ایسے مرد سے کر دی جو پہلے بھی بیوی رکھتا تھا مگر اولاد کے لےے دوسری شادی کرنا چاہتا تھا۔ ننھی بہت روئی پیٹی۔ صدیقہ اور بڑی آپا نے بھی بہت شور مچایا۔ انوار اور ابا کو بھی ساتھ ملانا چاہا مگر یہ دونوں وہ مرد تھے جو شروع سے گھر کی سربراہ بن جانے والی عورت کو سب کچھ سونپ کر بے فکر ہو کر بیٹھ جانے کی عادت رکھتے تھے اور اب سربراہ سلمیٰ تھی پھر ان کے خیال میں ننھی کے چہرے پر جو عیب تھا اس میں یہ رشتہ بھی غنیمت تھا۔
ننھی کی شادی پرتینوں بہنوں کو اس گھر میں سلمیٰ کی اہمیت اور طاقت کا سہی معنوںمیں اندازہ ہوگیا۔ اب اگر میکہ آباد رکھنا تھا تو اس سے بنا کر رکھنا مجبوری تھی۔
خ خ خ
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بچے جوان اور بڑے بوڑھے ہوتے چلے گئے۔
سلمیٰ کے دونوں بیٹے بہت ہی لائق اور مؤدب نکلے اور پھپھیوں کو ان پر بے حد پیار آنے لگا۔ اس محبت کا مطلب سلمیٰ خوب جانتی تھی۔ دونوں ہی بیٹیوں والی تھیں اور بیٹیاں بھی عام سی صورتوں اور عام سے گنوں والی جبکہ سلمیٰ کی اکلوتی بیٹی رافعہ بھی بھائیوں کی طرح لائق، با ادب اور خوب صورت تھی۔
کبھی اس کی تینوں نندوں میں بڑی دوستی ہوا کرتی تھی مگر اب تینوں ہی سلمیٰ کے پاس آکر ایک دوسرے کی شکایت کیا کرتی تھیں اور اپنی بیٹیوں کو اکثر ممانی کے ہاں رہنے کو بھیجا کرتی تھیں۔ لڑکیاں یہاں آکر زبردستی ہی اس کے ساتھ کام کروانے، اس کی خدمت کرنے کی کوشش کرتیں اور سلمیٰ کے دونوں بیٹے عبران اور سلمان خوب ہنسا کرتے۔
اور اس روز وہ عبران کے ہمراہ صدیقہ کی طرف آئی تھی اور صدیقہ اسے بتا رہی تھی۔
’’میں نے اپنی ثروت کے لےے بہت کچھ بنالیا ہے ایسی ایسی قیمتی کراکری خریدی ہے بھابھی! کہ جو دیکھتا ہے دیکھتا رہ جاتا ہے۔ کپڑے بھی بہت اچھے بنوائے ہیں۔‘‘ پھر وہ اندر سے جارجٹ کا نیلا جوڑا لے آئی جس پر گوٹے کا بہت نفیس کام کیا گیا تھا۔
’’دیکھو بھابھی! یہ جوڑا کتنا خوب صورت ہے میں نے بڑے ارمانوں سے بنوایا ہے۔‘‘
اور سلمیٰ پیچھے بہت پیچھے چلی گئی۔ وہاںجہاں اس کی ماں آنکھوںمیں خواب لےے اس کا جہیز بنا رہی تھی۔ پیسے بچا بچا کر بیٹی کے کپڑے بنوا رہی تھی اور کہتی تھیں۔
’’انہیں پہن کر میری بیٹی شہزادی لگے گی۔‘‘ اس نے ایک نظر نیلے جوڑے کو پھر ثروت کو دیکھا اور اٹھ کر گھر چلی آئی۔
گھر آتے ہی اس نے سب کو فیصلہ سنا دیا۔
’’میں عبران کے لےے ثروت کومانگ رہی ہوں۔‘‘
اس کے فیصلے پر سب کو حیرانی تھی کہ وہ تو نند کی بیٹی کو کبھی اس آنگن میں نہ لانے کا عہد دَوہرایا کرتی تھی۔ مگر کوئی نہیں جانتا تھا اسے اب رسم نبھانی ہے۔ ساس کی روایت کو آگے بڑھانا ہے اور شاید اس طرح کر کے وہ اپنی اماں کی محبت کا کچھ قرض ادا کرنا چاہتی تھی۔ طریقہ صحیح تھا یا غلط مگر کمزور جب زور پکڑتا ہے تو ایسا ہی ہواکرتا ہے۔ چار دیواری میں بھی اور معاشرے میں بھی۔
*****


