فرماں بردار – سائرہ رضا

فرماں بردار - سائرہ رضا 68

’’مما جی! اب ہم دوبارہ کب آئیں گے؟‘‘

عروہ نے کھلے بیگ میں اپنا اسکول بیگ رکھتے ہوئے بہت اشتیاق سے پوچھا۔ ارم کا قمیص تہہ کرتا ہاتھ رک گیا۔ اس کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں، آنکھوںمیں سرد مہری اور انداز میں جھلاہٹ تھی۔

’’پتا نہیں۔‘‘ اس نے تڑخ کر کہا۔ ’’اور تم بار بار الٹے سیدھے سوالات مت کیا کرو۔ جائو اور چیک کرلو۔ تم لوگوں کی کتابوں میں سے کوئی چیز رہ گئی تو کون لائے گا چھٹیوںکے کام والی کاپیاں۔ اب جائو۔‘‘

عروہ وضاحت دینا چاہتی تھی کہ وہ سب کر چکی ہے، مگر ارم اس وقت صرف اور صرف خاموش اور تنہا رہنا چاہتی تھی۔بچی کو جھاڑ کر بھگادیا۔ اب بچی تو بھاگ گئی۔ اسے چاہےے تھا کہ تیزی سے ہاتھ چلائے۔ مگر قمیص وہیں چھوڑ کر کھڑی رہ گئی۔

بچی کو تو ’’پتا نہیں‘‘ کہہ کر جان چھڑالی، مگر اپنے ذہن کا کیا کرتی جو مستقل شعوری، لاشعوری طور پر یہی سوچ رہا تھا۔ دس ماہ بعد، پورے دس ماہ بعد، دوبارہ یہ بے فکری، شانتی، ہنسی خوشی کا چٹکی بجاتے گزر جانے والا زمانہ لوٹے گا۔ بے بسی کے شدید احساس نے حلق میں پھندا اور آنکھوں پر نمی کی چادر تان دی تھی۔ اس نے بمشکل ان کے بہنے کو روکا۔

’’ہیلو ینگ گرلز! بلکہ مائی سوئٹ ہارٹ! ویر آر یو؟ ذرا جلدی سے سامنے آئےے۔‘‘ شہزاد کی آواز کانوں میں پڑی تو ارم نے سختی سے آنکھیں رگڑلیں۔ یہ آنسو شہزاد کے سامنے ہی بہنے کے لےے بچائے تھے، مگر بچیاں نہ دیکھیں۔۔۔ اس نے بیگ پر گہری نگاہ ڈالی پھر اطراف میں اوریادداشت کو ٹٹول کر تسلی کی۔ اب کچھ نہیں رہ گیا تھا۔ بیگ کی زپ بند کی۔ نمبر سیٹ کےے اور کمرے سے نکلنے سے پہلے دیوار گیر آئینے میں خود پر تفصیلی نگاہ کی۔ اس کے کمر تک لمبے اور بے حد گھنے بال گیلے ہی تھے اور انہیں برش کرکے سوکھنے کے لےے چھوڑ دیا تھا۔ وہ شہزاد کے پسندیدہ گہرے نارنجی اور خاکی رنگ کے امتزاج کے چکن کے سوٹ میں اتنی ہی دلکش لگ رہی تھی، جتنی گیارہ سال پہلے تھی۔ اس کے ہونٹوں پر نیچرل لپ اسٹک تھی اور پیروں میں انگوٹھے والی چپل۔۔۔ دوپٹُا دروازے پراستری شدہ لٹک رہا تھا۔ جاتے وقت اوڑھنا تھا۔ عروہ اور ارفع دائیں بائیں چپکی بیٹھی تھیں۔ پانچ سالہ اسریٰ گود میں تھی اور سامنے ٹیبل پر وہ بڑے بڑے شاپرز تھے، جو شہزاد ان کے لےے لائے تھے۔ اسریٰ تتلا کر بولتی تھی اور اس وقت بھی اس کے قصے نے شہزاد کے چہرے پر روشنیاں بکھیر دی تھیں۔ وہ باپ کی پوری توجہ چاہتی تھی۔ اس لےے چہرہ ہاتھوں میں تھام رکھا تھا اور اس پر ہاتھ پھیر پھیر کے باپ کے لمس کو محسوس کرتی تھی۔

’’ہوگئی ساری پیکنگ؟‘‘

’’جی۔۔۔!‘‘ ارم نے اختصار سے کام لیا۔

’’تم نے اور بچوں نے کھانا کھالیا؟‘‘

’’نہیں۔۔۔ بچیاںآپ کے ساتھ کھانے کا کہہ رہی تھیں، لگادوں؟‘‘

’’بالکل لگادو، مگر یہ دھیان رہے۔ آدھے گھنٹے بعد گاڑی آجائے گی، پھر تمہیں برتن دھونے کی فکر ہوگی۔۔ ایک ہی پلیٹ میں کھالیتے ہیں۔‘‘

تینوں باپ سے چپکی بیٹھی تھیں۔ شہزاد کے بڑے بڑے ہاتھ عروہ اور ارفع کے چھوٹے ہاتھوں میں تھے۔ اسریٰ تو گودی چڑھی ہی تھی۔ اس نے سفید چنوں کا پلائو، شامی کباب، رائتہ اور سلاد تپائی پر رکھ دیا۔ وہ بڑی ٹرے میں چاول ڈال کر لائی تھی، نکلتے وقت بس چار برتن دھونے پڑتے۔

اس نے عروہ کو سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود شہزاد کے برابر بیٹھ گئی۔ خوشبودار صابن، شیمپو، بے حد دلفریب مائل کرتی خوشبو والا پرفیوم اور جسم سے پھوٹتی قدرتی مہک۔ شہزاد نے مسکرا کر ہر چیز کو محسوس کیا۔ وہ ساتھ تو بیٹھی تھی، مگر ناراضی کا تاثر دینے کے لےے فاصلہ برقرار رکھا تھا۔

’’ہوں! مزے دار۔‘‘ اگلے پل کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو سب پر حاوی ہوگئی۔

’’چلو بھئی، شہزاد صاحب! کھالو جی بھر کے۔ پھر نہ جانے کب نصیب ہو، یہ اتنا مزے دار کھانا۔‘‘

وہ کف موڑتا پھیل کر بیٹھ گیا۔ کندھے سے کندھے اور گھٹنے سے گھٹنے ٹکرا گئے۔ ارم نے بے حد خفگی بھری نگاہوں سے شہزاد کا چہرہ دیکھا اور دور کھسک گئی۔ وہ دور کھسک جانے کے لےے ہی عروہ کو اٹھا کر بیٹھی تھی۔شہزاد کی آنکھوں میں شرارت اور سب سمجھ لینے کا دعوا تھا۔ اس کی جان جل گئی۔ دل چاہا سب چھوڑ کر بھاگ جائے اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دے، چیخ چیخ کر لڑے۔۔۔ مگر۔۔۔ اس نے ضبط سے کام لیا۔ شہزاد کے سامنے کباب رکھا۔ رائتہ پھیلایا۔ سلاد بچھایا۔۔ پانی کا گلاس بہ صد احترام رکھا۔ انداز انتہائی فرماں برداری کا تھا۔ مگر نروٹھا پن سب پر حاوی۔ وہ نہ چاہتے ہوئے نوالے لے رہی تھی۔

’’صحیح طرح سے کھائو۔‘‘

’’مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘ اس کا جواب تیار تھا۔

’’بیٹا! آپ لوگ پیٹ بھر کے کھائو۔ پھر ٹرین میں کھانا ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔ میں بیگ اکٹھے کرلوں ذرا ۔‘‘

وہ بچیوں کو ہدایت دیتی کمرے سے نکل گئی۔ کھانے کی خوشبو سارے کمرے میں چکرا رہی تھی۔۔۔ بھلے۔۔۔ مگر ارم کے وجود سے پھوٹتی خوشبو۔۔ اس نے گلاس چڑھا کر جیسے صبر کا گھونٹ پیا۔ گویا گرم توے پر گلاس انڈیلا۔

ئ ئ ئ

وہ دبے قدموں کچن میں آیا۔ ارم کو تب پتا لگا، جب اس کے شانے پر اس نے ہاتھ رکھا تھا۔وہ پہلے ہی برتن پٹخ رہی تھی، اب اور تیزی آگئی۔

’’رو رہی ہو؟‘‘

’’کم از کم آپ کے لےے نہیں۔‘‘

’’کسی کے لےے بھی۔۔۔ مگر یار! میں تمہیں روتا نہیں دیکھ سکتا۔‘‘

’’تو مت دیکھیں۔ باہر جائیں۔ مجھے کام کرنے دیں۔‘‘

’’کام تو ہوجائیں گے۔ تم ادھر تو منہ کرو۔ گھومو۔۔۔ گھومو۔۔۔ ادھر میری طرف۔‘‘اس نے زبردستی اس کا رخ اپنی جانب کیا۔ ’’ارے۔۔۔ چچ، چچ، چچ۔۔۔ اتنے سارے آنسو۔‘‘

’’آپ سے مطلب؟ آپ کے لےے بھلا ان کی کیا اہمیت۔‘‘ وہ بولی تو آواز بوجھل تھی۔

’’اہمیت تو خیر ہے۔ اب تم چلی جائو گی۔ مجھے پیچھے بھی روتا چہرہ یاد رہے گا۔ یہ بھیگی آنکھیں، گیلے گال اور یہ ہونٹ۔‘‘ اس نے اس کا نچلاہونٹ چٹکی میں پکڑ کے چھوڑ دیا۔

’’سی۔۔۔‘‘اس نے کراہ کر دونوں ہاتھوں سے اسے اچانک دھکیلا۔ ’’میرے سامنے کم از کم جھوٹ مت بولیں۔ ہنستا رہے یا روتا، آپ کو اس سے کون سا فرق پڑے گا اور ویسے بھی۔۔۔‘‘

’’مما جی۔۔۔! پپا جی۔۔۔! حیات انکل گاڑی لے آئے۔‘‘ارفع نے خوشی سے آواز دی۔

’’بیٹا! ان سے کہو، سامان گاڑی میں رکھےں۔ ہم آرہے ہیں۔‘‘ارم پلٹ کر برتن کیبنٹ میں لگانے لگی۔ آنسو تھے کہ بہے چلے جارہے تھے۔ شہزاد نے سوں سوں کی آواز پر تاسف سے اس کی پشت کو دیکھا۔

’’اب کیا کرنے لگی ہو؟ چھوڑ دو سب۔ باہر آجائو۔‘‘‘ اس نے اس کے ہاتھ سے صافی لی۔

’’چھوڑ دیںذرا۔۔۔ ایک منٹ۔‘‘ وہ جھنجھلائی۔ ’’شامی کباب فریز کر دےے ہیں۔ ماش کی دال کی پھلکیاں بھی پریزرو کر دی ہیں اور کوفتے بھی۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر فریزر کھول دیا۔

’’ارے یار! چھوڑو۔ بیٹ مین سب کر لیتا ہے۔ تم نے خوامخواہ مشقت کی۔‘‘

ارم کے مانو تلووں لگی، سر پر بجھی۔ ’’مجھے خبر ہے آپ کے سب کام ہوجاتے ہیں۔ میں ہی پاگل ہوں۔ جو سوچا میرے ہاتھوں کے کباب اور یہ سب آپ کوپسند ہوں گے۔ مت کھائےے گا۔ بانٹ دیجےے گا۔ میں نے تو بہرحال اپنا فرض پورا کیا، جتنا کر سکتی تھی۔‘‘ وہ چیخ کر بولی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔

’’ارم۔۔۔ ارم۔۔۔ یہ کیا بچپنا ہے۔ بچیاں دیکھیں گی یار! کیا سوچیں گی وہ۔۔ ۔ تت، تت۔۔‘‘ شہزاد جھلا اٹھا۔ ’’رات سے تم نے بلکہ تین، چار دن سے تمہارا یہی موڈ ہے۔ اب تک تو تمہیں عادی ہوجانا چاہےے۔‘‘

’’ہاں جیسے آپ ہوچکے ہیں۔ آپ ہوسکتے ہیں، دل نہیں ہے، پتھر ہے اندر، بلکہ پتھر بھی نہیں۔ قطرہ قطرہ پانی سے سوراخ ہوجاتا ہے اس میں بھی۔ روبوٹ کی طرح مشینیں فٹ ہیں اندر۔۔۔ جن میں ایک ہی پروگرام فیڈ کر دیا گیا ہے اور میں پاگل۔۔۔ مشین سے جذبات مانگ رہی ہوں، ڈھیٹ ہوں، بلکہ بے غیرت کہےے۔ اپنے منہ سے کہتی ہوں کہ میں۔۔۔‘‘ (میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے۔ ہر پل، صبح، دوپہر، شام۔۔۔ ہر پل)

اس نے اپنی آواز گھونٹ لی۔ بقیہ کا جملہ دل میں دوہرایا۔ اپنی نسوانی انا سب سے زیادہ عزیز تھی۔ اب بھلے سامنے شوہر تھا، محرم و ہمراز۔۔۔ مگر جب وہ اس کے روم روم سے جھلکتے محبت کے جذبے کو ان دیکھا کر رہا تھا تو وہ کم از کم اپنا بھرم تو نہ کھوئے۔

’’بلاوجہ کا رونا ہے ارم۔۔۔ تم جانتے بوجھتے مجھے اذیت دیتی ہو اور خود کو۔۔۔‘‘

’’کون سی اذیت؟ آپ کو پتا ہے اذیت کیا ہوتی ہے؟‘‘ وہ چیخ ہی پڑی۔

’’میں جاتے سمے کچھ کری ایٹ نہیں کرنا چاہتا، ورنہ پھر۔۔۔‘‘ شہزاد نے جبڑے سختی سے بھینچے۔ اب اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا۔ ’’جب ایک بات طے شدہ ہے تو پھر؟ میں پھر یہی کہوں گا تم مصلُے پر بیٹھ کر ان کے مرنے کی دعا مانگو۔ ۔۔ یا پھر۔۔۔‘‘ شہزاد کا لہجہ زہریلا ہوگیا۔ ’’کھانے میں کچھ ملا کر معاملہ نپٹا دو۔‘‘ وہ بے حد غصیلے انداز میں کہتا باہر نکلا۔ دروازہ اتنی زور سے مارا کہ وہ ہلتا رہ گیا۔

’’شہزاد۔۔۔‘‘ وہ اس کے پیچھے لپکنا چاہتی تھی۔ مگر پھر جیسے تھک کر کرسی پر گر گئی۔ اس نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر آواز روکی تھی۔ مگر آنسوئوں کو بہنے دیا۔

ئ ئ ئ

ویسے یہ معجزہ ہی ہوا کہ ٹرین بالکل ٹائم پر چل پڑی، نہ ایک منٹ آگے، نہ ایک منٹ پیچھے۔

’’اگر اسی طرح چلی نا تو ہم صبح سویرے گھر میں ہوں گے۔ تھینک گاڈ ہوم سویٹ ہوم۔۔ ۔ اور دیکھو بچو! سورج ہمارے ساتھ ساتھ بھاگ رہا ہے۔ ہمارا پیچھا کر رہا ہے کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔‘‘ نزہت کی شوخ و شنگ آواز میں خوشی نے اور موسیقی بھر دی تھی۔ اس نے اپنا کدو جیسا موٹا گوگلو بچہ شوہر کی گود میں ڈال دیا تھا اور اب عروہ، ارفع اور اسریٰ کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔

’’دریائے سندھ کب آئے گا نزہت آنٹی؟‘‘ ارفع نے پوچھا۔

’’بس تھوڑی دیر میں کوٹری گزرنے کے فوراً بعد۔۔۔ ہم حیدر آباد پر اتریں گے۔ ربڑی خریدیں گے۔‘‘

’’پپا جی نے منع کیا ہے۔‘‘ عروہ کو ہدایت یاد تھی۔

’’پپا جی پیچھے رہ گئے۔ اب ہم کریں گے جو کریں گے۔ سمجھے تم لوگ؟‘‘ نزہت نے چلبلے پن سے ہاتھ چلائے۔

’’اور مما جی!‘‘ ارفع نے برتھ پر آنکھوں پر ہاتھ رکھ کے لیٹی ماں کی طرف دھیان دلایا۔

’’وہ کون سی یہاں بیٹھی ہیں۔ کہیں اور ہی پہنچی ہوئی ہیں۔ ان کی فکر آپ نہ کرو۔‘‘ ارم نے کہنی کی آڑ سے دیکھا۔ نزہت ، شہزاد کے دوست کی بیوی تھی۔شادی کو ڈیڑھ سال ہوا تھا۔ چھ ماہ کا پیارا سا بیٹا تھا۔ نزہت کی عمر فقط بیس برس تھی۔ اپنی عمر کے حساب سے وہ بہت چلبلی، شوخ و شنگ، لاپروا اور ہلُے گلُے کی شوقین تھی۔

ارم اور اس کا معاملہ بالکل الٹ تھا۔ نعمان اسے پاس بلا بلا کر تھک جاتا تھا۔ وہ مارے باندھے آ بھی جاتی تو اگلے ہی روز بھاگنے کو تیار۔۔ ۔ نعمان سے بہت محبت تھی مگر ایسے ٹف ماحول میں رہنا ا س کے بس سے باہر تھا۔ سخت بااصول زندگی’’لو! فوجی صاحب تو صبح سویرے غائب۔۔۔ شام کو واپس۔۔۔ میں اکیلی۔۔۔ توبہ۔۔ توبہ۔۔۔ دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے۔ یہ رہائشی ایریا۔۔۔ یہ بیرک ہے۔ بیرک بس نام بدل دیا۔ خوامخواہ پکڑ کر میری شادی کر دی۔ میں نے بھی ہاں کر دی کہ بھئی ایک ہی گھر ہے، وہی دادو وہی تایا، تائی، امی، ابا سب سامنے تو چلو، بس نیچے سے اوپر کے پورشن میں جانا پڑے گا۔ مجھے تو کسی نے نہیں کہا تھا، مجھے ساتھ کراچی جا کررہنا ہوگا۔ میں وہیں سب کے ساتھ رہوں گی۔ تمہیں ملنا ہو تو گھر آجایا کرو۔ مجھے نہیں بلوایا کرو ادھر۔۔۔ الو بولتے ہیں یہاں۔‘‘

نعمان سر پیٹ لیتا۔ ’’لڑکیاں خواب دیکھتی ہیں ایسی آئیڈیل زندگی کے۔‘‘

’’تو ان ہی میں سے کسی سے کرلینی تھی۔ میرا تو کوئی خواب نہیں۔ میں وہیں رہوں گی، سب کے ساتھ۔ تم چھٹیاں لے کر آیا کرو۔‘‘ نعمان کی ہزار منتوں اور بڑوں کے ترلوں کے بعد وہ بمشکل پندرہ دن رہ پاتی۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ ڈیڑھ ماہ رہ پائی تھی۔

’’یہ تو میں ارم بھابھی اور اپنی منی فرینڈ کی وجہ سے رہ لی۔۔۔ ورنہ مجھے تو رونا آتا ہے۔‘‘

’’شہزاد بھائی! آپ بھابھی کو یہیں رکھ لیں۔ اس بہانے میری گرہستی بھی بچ جائے گی۔‘‘ نعمان نے ملتجی لہجے میں درخواست دی۔

’’سچ! یہ جانتی ہے میں اس کے بغیر اور اب شایان کے بغیر ایک منٹ نہیں رہ پاتا۔ مگر وہی ضد کی پکی۔ میں یہاں نہیں رہوں گی۔ مجھے گھر بھجوائو۔ میں تو یہ طعنہ بھی نہیں مار سکتا کہ ماں باپ کے پلُو سے بندھے رہنے کا شوق تھا تو شادی کیوں کی؟یہ تائی اور تایا جی کے بغیر نہیں رہ پاتی، انہیں دو دن نہ دیکھے تو دل ڈوبنے لگتا ہے اور زور زبردستی کرو تو کیا شایان کا رونا ہے، جو یہ روتی ہے۔۔۔ اور اس پر ستم میرے اپنے ابا کہتے ہیں جائو جا کر نوکری کرو۔ جب بچی کا دل نہیں لگتا تو زبردستی کیوں؟ اور ویسے بھی ہم شایان کے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔ اور یہ ان سب کی شہہ پر یہ سب کرتی ہے۔‘‘ وہ اپنے بال نوچ لیتا۔

’’غلط بندے سے وکالت کی امید کر رہے ہیں آپ نعمان بھائی۔۔۔ یہ آپ کی فیلنگز کو کب سمجھیں گے۔ ان کا تو اپنا گیارہ سال کا تنہا رہنے کا تجربہ ہے۔ ہاں! آپ ان سے یہ ٹپ لیں کہ کسی بھی شے کو محسوس کےے بنا کیسے رہ سکتے ہیں۔ لیکن خیر! آپ کے لےے خوش خبری یہ ہے کہ کچھ عرصہ مزید ان کے ساتھ رہے تو آپ بھی اثر پروف ہوجائیں گے۔ پھر نزہت یہاں رہے یا وہاں، آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

نعمان ہنس پڑا۔ نزہت برے منہ بناتی رہی۔ پھر صرف شہزاد تھا جو چہرے پر مسکراہٹ سجائے خاموش تھا۔ وہ ارم کے کےے طنز کو بخوبی سمجھ رہا تھا۔ وہ جو اس نے زبان سے کہا اور وہ جو آنکھوں سے اور وہ جو اس نے کبھی کہا نہیں۔ مگر اس کے روئیں روئیں سے چھلکتا تھا۔

ئ ئ ئ

اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نیٹی جیٹی جیسے بھرے پرے ٹریفک والے روڈ کے بالکل نیچے نیول کا ریذیڈنشل ایریا ہے اور اتنے شور ہنگامے سے دور، پرسکون صاف ستھرا، چپہ چپہ نکھرا ستھرا۔۔۔ وہ گھوم گھوم کر سفید سفید دیواروں اور ہریالی کو دیکھتی رہی۔ پیچھے سمندر کی ہوائیں، ٹھنڈک، نمی، خوشبو، وہ اپنی فیملی کے ہمراہ نیٹی جیٹی کے پل پر یوں ہی ڈوبتا سورج دیکھنے آئی تھی۔ تب ہی چھوٹی بھابھی چیخ مار کے کسی سے لپٹ گئیں۔ انہیں ان کے کالج کی دوست کوئی بارہ سال بعد ملی تھی۔ وہ اپنے بچوں کے ہمراہ تھی۔ اگلے پل وہ سب گاڑی میں بھر کے اس دوست کے گھر روانہ ہوئے۔ وہیں قریب نیوی ریذیڈنشل ایریا تھا، وہ سحر زدہ سی تھی۔ اس نے بارہا کہا۔

’’مجھے تو کبھی اندازہ ہی نہ ہوا، اتنے پلوشن والے روڈ کے پیچھے اتنا پیارا علاقہ ہے۔‘‘ اسے ہر چیز اچھی لگ رہی تھی اور وہ کسی اور کو بہت اچھی لگ رہی تھی۔ ہر گزرتا پل تاثر کو گہرا کر رہا تھا۔ بینڈ میں جکڑے گھنے سیاہ بال گندمی رنگت پر حیرانی و خوشی کے رنگوں سے بھری سیاہ گھور آنکھیں، اس پر اس کی دراز قامتی اور جب وہ ہنسی تو موتیوں کی قطار۔۔۔ بس۔۔۔ کیپٹن شہزاد کے سینے سے دل نکل کر کب اس کے قدموں میں لوٹنیاں لگانے لگا، خبر ہی نہ ہوئی۔ بیچ میں بس دو دن تھے۔

بھابھی کی دوست دردانہ اپنے میاں دلاور اور اس کے میاںاپنے جونیئر کیپٹن شہزاد کے ہمراہ حاضرِ خدمت تھے۔ سب کچھ اتنا واضح اور خوش کن تھا اور اس پر ارم کے چہرے پر پھیلتے رنگ۔۔ اس نے اس بے حد وجیہہ کیپٹن کو اس روز دیکھا تھا۔ چوڑے شانے، منفرد انداز، دراز قد۔ سچی بات تو یہ تھی کہ اس نے زندگی میں پہلی بار کسی نیوی آفیسر کو مکمل یونی فارم میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ سرتاپا سفید لباس۔ وہ دردانہ کے بچوں کے ساتھ بیٹھا تھا اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد اجازت طلب کرتا تھا۔ جو دلاور صاحب دیتے نہیں تھے۔

’’تم بھلے اپنے کام سے آئے ہو۔ مگر اب کھانا کھا کر جائو گے۔‘‘ دردانہ بھابھی نے حکم دیا۔

’’میں نے چینج تک نہیں کیا۔‘‘ اس نے اپنی الجھن بتائی۔

’’کھانا کھاتے وقت تم بھی میرے ٹیپو کی طرح گردن میں تولیہ لگالینا، سمجھے۔‘‘ وہ ذرا اثر نہ لیتے ہوئے تیزی سے کھانا بنا رہی تھیں۔

ارم نے کن انکھیوں سے کئی بار اسے دیکھا تھا۔ وہ کیپٹن شہزاد کی طرح فیصلہ کن دل تو نہیں ہاری تھی مگر یونہی چلتے پھرتے کیپٹن کا دھیان آنے پر دل کی دھڑکن تھوڑی مدہم، تھوڑی بے ہنگم ضرور ہوئی تھی۔

ئ ئ ئ

رشتہ اتنا اچھا اور بے عیب تھا کہ امی تمام رسمی باتوں کو چھوڑ چھاڑ فوراً ’’ہاں‘‘ کردینا چاہتی تھیں۔ فیصلہ کا کلی اختیار کیپٹن کے پاس تھا۔ مگر آج ان کی والدہ کا پہلا اور آخری دورہ تھا۔ گھر بھر میں ایمرجنسی لاگو تھی۔ سب کے دماغوں میں کیپٹن کی والدہ کے حوالے سے مختلف خاکے بن اور بگڑ رہے تھے۔ جب وہ اتنا عالی شان دِکھتا ہے تو اس کی ماں کیسی ہوں گی۔ کیپٹن کی سحر انگیز شخصیت کا فسوں سب پر غالب تھا تو والدہ صاحبہ کو دیکھ کر سب کے منہ کھلے رہ گئے۔ وہ لمبے قد کی سانولی بہت مرد مار ہاتھوں پیروں والی، کھچڑی بال، اس پر ہلکے سرمئی مردانہ اسٹائل کے کرتے اور شلوار میں ملبوس، بے تاثر چہرے والی بزرگ خاتون تھیں۔

ارم کے گھر والوں نے انواع و اقسام کے کھانے میز پر چَن دےے تھے۔ امی، بھابھی، اپیا سب ان کے آگے ڈونگے کرنے لگیں۔ بیٹے نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔

’’اماں اپنی پسند کا لیں گی۔‘‘ اب سب اماں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ مہمانِ خصوصی تھیں۔ وہ شروع کریں تو آغاز ہو۔ اماں طائرانہ نگاہوں سے میز کو جانچتی رہیں۔ بریانی، کڑاہی، کباب، کوفتے، کھیر، سلاد اور تین طرح کے رائتے اچار۔

اماں نے ہاتھ پر روٹھی رکھی۔ روٹی پر کوفتہ۔۔۔ کوفتے پر چَن کر پیاز اور چنگیر کی تلاش میں نگاہ دوڑائی۔ اپیا نے چنگیر لاکر دی تو ڈائننگ ٹیبل سے اٹھ کر سامنے آرائشی تخت پر چوکڑی مار کر بیٹھ گئیں۔

’’مجھے مگے میں پانی دینا اور بعد میں کھیر۔۔۔ بس۔‘‘ ادھر سارے گھر والے ’’ارے ارے‘‘ کرتے رہ گئے۔ وہ ان کے اگلے سانس کے آنے تک کھانے سے فارغ۔

بھابھی نے کھیر کا ڈونگا رکھا تو وہ کافی زیادہ مقدار میں نکالی اور مزے سے کھائی۔

’’آپ سب اطمینان سے کھائےے اماں ایسے ہی کھاتی ہیں۔‘‘ کیپٹن نے کانٹے چھری کا استعمال کرتے ہوئے سب کو دلاسا دیا۔

’’اتنا سب کچھ ہے۔۔۔ کچھ تو کھائیں۔‘‘ امی کا صدمہ کم نہ ہورہا تھا۔

’’آپ گلٹی فیل نہ کریں آنٹی! اماں ایسی ہی ہیں۔ میں کھارہا ہوں نا! آپ کیوں ٹینشن لیتی ہیں۔‘‘

وہ ہر چیز سے انصاف کر رہا تھا۔ سب نے اماں کو دیکھا۔ وہ واکر میں کھیلتے ارم کے بھانجے کو پچکارتی تھیں اور کھیر کھلاتی جاتی تھیں۔ اتنا مگن انداز تھا، جیسے کمرے میں اور کوئی نہ ہو۔ ان کے چہرے سے کچھ معلوم نہ ہوتا تھا۔ ارم، بھابھی کی ہدایت موجب اندر رہی کہ اماں گائوں کی عورت ہیں۔ مبادا انہیں ناگوار گزرے۔

اماں نے کھانے کے بعد ارم کو بلوالیا۔ اپنے ساتھ تخت پر بٹھالیا۔ پھر جیب ٹٹول کر ایک انگوٹھی برآمد کی جو ارم کے انگوٹھے میں بھی کھلی تھی اور بے حد وزنی بھی۔ بیٹے کو دوسری جانب بٹھایا۔ پھر دونوں کو بازوئوں کے حلقے میں بھر لیا۔ پہلے بیٹے کے گال چومے۔ پھر ارم کے۔۔۔

’’مبارک ہو بہن! آپ کی بیٹی میری نوں بن گئی۔‘‘

امی، بھیا، بھابھی جو منگنی کا دن، تاریخ، رسم و رواج، ایسے ویسے سوچ رہے تھے۔ حق دق تھے۔

’’پکُی تاریخ ابھی بتادیں۔ میں نے بری بھی بنانی ہے۔ آپ اپنا صلاح مشورہ کرلو۔ میں تب تک نماز پڑھ لوں۔ کدھر ہے میری جوتی؟‘‘

اماں نے پیر نیچے لٹکائے۔ شہزاد تیزی سے نیچے جھکا۔ اپنے ہاتھوں سے جوتا چڑھایا۔ پھر ہاتھ پکڑ کے اٹھاتے ہوئے بھابھی کو اشارہ کیا کہ انہیں وضو کرادیں۔

اماں اندر چلی گئیں۔ شہزاد بھائیوں کے ساتھ اب چائے سے شغل کر رہا تھا۔

ارم بھونچکی بیٹھی تھی۔ وہ دزدیدہ نگاہوں سے شہزاد کو دیکھ لیتی تھی، جو گہری برائون پینٹ پر بسکٹی شرٹ کے ساتھ دل کے اندر گھستا جارہا تھا۔ یہ اتنا خوب صورت، لمبا مرد اللہ نے اسے بس ایک نظر بھر کے دیکھ لینے کے بعد ہی دے دیا تھا۔ بنا مانگے، روئے تڑپے بنا۔ محض سانس بھرنے کے وقفے میں اسے اتنا خوب صورت خواب تعبیر بنا کے رب نے دے دیا۔ اب وہ زندگی میں اور کیا مانگے اور کیوں مانگے۔ اس نے اپنی گیلی ہتھیلی سختی سے بند کرلی۔ انگوٹھی گرجانے کا خدشہ بھی تھا۔

ئ ئ ئ

اس نے یہ تو جان لیا تھا کہ وہ شہزاد کی پسند سے اس کی زندگی میں شامل ہوئی ہے۔ مگر وہ پسندیدگی اتنی زیادہ ہوگی، اس کا اندازہ نہیں تھا۔ خلوت کے لمحات میں اسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں بھر کے وہ جب اپنی وارفتگی کے قصُے سناتا تو ارم کے لےے پہلو بچانا مشکل ہوجاتا۔ وہ مرد تھا اور اظہار میں بے شرم۔۔۔ اور وہ عورت تھی لاج کی ماری۔۔۔ محبت کی اس بارش نے اسے ہرا بھرا کر دیا تھا۔ عورت فطرتاً شرمیلی ہوتی ہے۔ اسے خود سے تو کیا اظہار کرنا تھا، وہ اس کی بے تابیوں سے گھبراجاتی۔ دامن بچاتی وہ اسے مسلسل اکساتا کہ وہ بھی کچھ کہے۔ مگر وہ کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی۔ اس نے اپنی ساری توانائی سننے میں وقف کر دی تھی۔ اس کا دامن تنگ پڑجاتا۔ اگر وہ خود سے بھی کچھ کہنا شروع کر دیتی اور یہیں غلطی ہوگئی وہ لاکھ ہمت پیدا کر کے بھی کبھی بتا نہیں سکی کہ وہ۔۔۔

کیپٹن شہزاد نے اسے سب کچھ دے دیا۔ بدلے میں اس کی فقط ایک خواہش یا شرط ،کچھ بھی کہیں، تھی کہ۔۔۔

’’میری ماں کا خیال رکھنا۔ وہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ ہمیشہ تاحیات۔۔۔ تم سے محبت چادر کی طرح اوڑھ رکھی ہے۔ چادر پھٹ سکتی ہے، اتر سکتی ہے۔ مگر میں زندہ رہوں گا۔ ماں کی محبت عشق ہے، جو خون میں دوڑتا ہے۔ اس میں کمی بیشی ہوئی تو کھڑا نہیں رہ سکوں گا۔ تم صرف میرا سب کچھ لے لینا بدلے میں، بس میری ماں سے محبت، احترام، فرماں برداری اور کچھ نہیں۔‘‘

اور یہ کوئی اتنی مشکل فرمائش نہیں تھی۔ ارم کو خود اپنی اماں سے بہت محبت تھی۔ دنیا کی واحد، خالص، بے ریا، بے لوث محبت۔ اماں بظاہر جتنی سخت، دو ٹوک اور مشکل نظر آتی تھیں، وہ اتنی ہی بے ضرر عورت تھیں۔ سیدھی سادی، کم گو، دعائیں دینے والی، شکر ادا کرنے والی۔۔۔ارم نے ان کی خاک خدمت کرنی تھی، وہ بے حد کارگزار تھیں۔ ان کی موجودگی کا پتاتک نہ چلتا۔ پاک صاف، نہانے گھستیں تو بدن کا جوڑا دھوکر نکلتیں۔

تہجُد کے وقت اٹھتیں تو فجر تک قرآن و وظیفے پڑھتی رہتیں۔ اپنا چائے کا مگ، ایک پراٹھا، تھوڑا سا سالن، برتن دھو کر رکھے ہوئے، ارم کے لےے ان کا کوئی حکم کوئی فیصلہ کچھ نہیں تھا۔ وہ تیار ہو کر نکلتی تو ان کی آنکھوں میں توصیف ابھر آتی۔ بیٹھے بیٹھے پھونکیں مارتیں۔ ارم کے لےے زندگی واقعی جنت تھی اور شہزاد کے لےے بھی۔۔۔ مگر۔۔۔

ئ ئ ئ

بے حد سادہ دیہاتی نظر آنے والی اماں بہت زیادہ قابل بچوں کی ماں تھیں۔ شہزاد کے سب سے بڑے بھائی بہزاد اعلا فوجی افسر تھے اور ان کی بیگم کالج کی پرنسپل۔ اعتزاز مَلک سے باہر تھے۔ ان کی بیگم انگریز تھیں۔ وہ پانچ سال بعد چکر لگا پاتے۔ دو بہنیں تھیں۔ ایک کراچی میں اور دوسری وہیں گائوں کے پاس بیاہی ہوئی تھی۔ فوجی کالج میں پڑھاتی تھی اس کے دو بچے تھے۔

وہ چاروں بہن بھائی اوپر تلے کے تھے۔ شہزاد کا دیگ کی کھرچن والا معاملہ تھا۔ وہ اپنے بڑے بھتیجے سے فقط چار سال بڑا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد بہن بھائی اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ وہ ڈرنے والا بچہ ہر وقت ماں کا پلُو تھامے پیچھے پیچھے رہتا۔ یہاں تک کہ اماں نہانے جاتیں تو دروازے کے پاس پیڑھا رکھ کے بیٹھ جاتا۔

’’اماں! مجھ سے باتیں کرتی رہو۔‘‘

شوہر کی اچانک موت اور اپنی زندگیوں کا نیا آغاز کرتے ہوئے اڑان بھرنے والے بڑے بیٹے۔۔۔ بیٹیاں بھی اپنے گھر، سسرال والی۔۔۔ شہزاد کے لےے اماں جتنی ضروری تھیں اماں کے لےے شہزاد شاید اس سے زیادہ۔ انہیں یا دتھا، بڑے بیٹے بہزاد کا اپنے بھائی کے گھر رشتہ طے کر کے آئی تھیں اور جلد شادی پر زور دے رہی تھیں۔ بہزاد اپنی سخت ٹریننگ کے باعث آنا کانی کر رہا تھاتو دوسری طرف بھانجی۔ وہ ہر قیمت پر سولہ جماعتیں پڑھنا چاہتی تھی۔ اماں نے اپنے بھائی کے گھر جا کر باقاعدہ جنگ کر ڈالی کہ مجھے بس چار ماہ کی تاریخ دو۔۔۔ بھائی کے لےے بیٹی کے بھل بھل بہتے آنسو دیکھنے مشکل تھے۔

’’میرے گھر آکر پڑھ لے گی۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے سر ہلاتی جاتیں۔

’’ابھی ان کی عمریں کیا ہیں۔۔۔ تھوڑی عقل تو آنے دو آپا!‘‘ بھائی نے سر پیٹ لیا۔

’’میں پنچایت میں بٹھانے کو نہیں کہہ رہی۔ بیاہ کرنے کا کہہ رہی ہوں۔ اور بیاہ عقلے، بے عقلے سب کے ہوتے ہیں۔‘‘ وہ بکتی جھکتی گھر آئیں اور لگیں منصوبہ بندی کرنے کہ کس کس طرح زور ڈلوایں گی۔ مگر خود کے پیر منوں وزنی ہوگئے کہ ’’بھاری ہوگئے‘‘ شہزاد کی آمد۔۔ ۔ وہ تو یہ سمجھ بیٹھی تھیں کہ اب سن یاس شروع ہورہا ہے۔ مگر ادھر نئی کہانی۔ وہ چار ماہ بعد بہزاد کی بارات چڑھانے جارہی تھیں۔ اب چار ماہ بعد چھلاکرتیں۔

’’ہائے! میں کسی کو منہ دکھانے جو گی نہ رہی۔‘‘

ایک روز بھائی بھاوج آگئے۔

’’اب تَو ناراض ہو کر بیٹھی ہے۔ لے آنا بارات۔ جب دل چاہے۔‘‘

اماں نے کمبل میں خود کو چھپایا۔ منہ بھی موڑ لیا۔

’’آپا! ناراض نہ ہو۔‘‘ بھائی فکر مند ہوگیا۔

’’نہیں! اب تَو رہن دے۔ پڑھنے دے اس کو۔۔۔‘‘

’’نہ آپا! آپ خود پڑھائیں۔‘‘ بھائی نے پیر دابے۔

’’نہ میں نے کوئی اسکول کھول رکھا ہے، جو پڑھانا، پڑھوانا ہے، اپنے گھر سے کرائو۔‘‘ شہزاد کے ابا نے سچ جھوٹ ملا کر انہیں بھیجا۔

’’تَو ایسے منہ چھپا کر بیٹھی ہے، جیسے گناہ کر لیا ہو۔‘‘

’’میری پوترے کھلانے کی عمر ہے کہ پتُر۔۔۔ ہائے ہائے میں شرماں والی۔۔۔ ہائے۔‘‘ منہ میں دوپٹُا ڈال کر رونا شروع کر دیا۔

’’او بھلےے لوکے! میری بات سن۔ جس روح نے آنا ہے اس نے آنا ہے۔‘‘

’’میرا ٹبر پورا ہے۔۔۔ دو منڈے اور دو کڑیاں۔۔۔ میں جچوں گی کاکا چک کے۔‘‘

’’اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہے۔ اوئے! ہوسکتا ہے، یہی وہ بچہ ہو، جس نے مرتے ٹیم تیرے منہ میں پانی کا قطرہ ٹپکانا ہو، مجھے کندھا دینا ہو۔ اوئے! ہوسکتا ہے، مٹی اسی کے ہاتھوں سے ڈلنی ہو۔ اللہ بھیج رہا ہے تو کام ہی سے بھیجے گا۔ اوئے! دنیا میں ویلیاں رہ کے کوئی نہیں کھاتا۔‘‘ (فارغ رہ کر روٹی نہیں ملتی)

’’تو وہ جو باقی دو کام سے لگائے ہیں، وہ دو بوند پانی نہیں دیں گے؟‘‘ اماں کو آگ لگ گئی۔

’’اوئے! ان کے پٰر پورے ہوگئے ہیں۔ بھرلی انہوں نے اڑان۔۔۔ وہ اعتزاز ملک سے باہر جانے کا شوقین ہے۔ کوئی روز روز آئے گا۔ اس کو خبر ہونے تک تو تیجا ہوجانا ہے۔ اس وڈے بہزاد نے برفوں (سیاچن) پر جا کر بنےے کو مارنا ہے اور کڑیاں تو ہیں ہی پرایا فیر؟‘‘

’’اور اگر یہ کڑی ہوئی تے فیر؟‘‘

’’او سو بسم اللہ۔۔۔ میرے نبی کا سلام۔ او! تیرا ہاتھ بٹائے گی اور تَو بھول گئی، مجھے بیٹیاں کتنی پیاری ہیں؟ چھوٹی چھوٹی۔ بھئی واہ۔‘‘ ابا کو تصور ہی سے مزا آگیا۔

اماں کے رونے میں اور شدُت آگئی۔

’’دنیا کیا کہے گی بڈھے وارے۔‘‘

’’اوئے! اللہ دے رہا ہے۔ چل رونا بند کر دے اور کون بڈھا؟ کوئی نہیں۔‘‘ ابا جی نے سینہ پھلا کر مونچھیں مروڑی تھیں۔ اماں کو حیا آگئی۔

ئ ئ ئ

اسٹیشن کی حدود میں شروع ہوتے ہی ٹرین نے جب رفتار دھیمی کی، اس نے تب ہی اماں کو بینچ پر بیٹھے دیکھ لیا تھا۔ گیارہ سال پہلے ہی وہ بہت بوڑھی معلوم ہوتی تھیں تو اب تو۔۔ دراصل وہ عورتوں کے اس قبیل سے تعلق رکھتی تھیں، جو بیٹی کی بلوغت کو اپنے بوڑھاپے کی پہلی دستک مانتی ہیں اور اماں تو وہ تھیں جو اڑتیس سال پہلے اپنے ’’بڑھاپے‘‘ پر شہزاد کو گود میں اٹھانے پر لالوں لال ہوتیں۔

وہ سفید زمین پر سرمئی پھولوں والے سوٹ میں لاٹھی کے سہارے بیٹھی تھیں۔ ان کا گہرا سانولا رنگ، سفید بال، لمبی ناک جواب گالوں کے گوشت کے ڈھلک جانے کے بعد زیادہ نمایاں ہوئی تھی۔

وہ بہت سرد مہری سے انہیں تک رہی تھی اور اتنی مگن تھی کہ نعمان کے پکارنے پر ہڑبڑا اٹھی۔

نعمان نے اماں کے ساتھ آئے ڈرائیور کی مدد سے سامان اتارا۔ بچیاں پہلے ہی دادی سے لپٹ چکی تھیں۔ نعمان اور نزہت کو آگے لاہور جانا تھا اور انہیں یہاں خانیوال اتر کر آگے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد گھر پہنچنا تھا۔ نزہت، شایان کو لے کر نیچے اتری۔ وہ اماں سے پیار لے رہی تھی۔ اماں نے شایان کو پیار کیا اور بغلی جیب سے کچھ نوٹ نزہت کی مٹھی میں بھر دےے اور دونوں ہاتھوں سے اس کی مٹھی تھام کر اسے نہ کھولنے کی تاکید کی۔

’’بس۔۔۔ بس۔۔۔ میرا پوترا ہوگا تو اس سے زیادہ لے کر آنا۔‘‘نعمان اور نزہت کی خجالت پر انہوں نے جیسے مسئلہ حل کیا۔

ارم نے ایک ٹھنڈی ٹھار سانس بھری۔ وہ جلد از جلد اس منظر سے غائب ہونا چاہتی تھی۔ تھکاوٹ، تھکاوٹ اور بس تھکاوٹ۔۔۔ جسمانی بھی ذہنی بھی۔ کل بچیوں کو اسکول جانا تھا۔ وہ چاہتی تو اپنی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے دو دن پہلے آجاتی۔ مگر وہ اس طرح آیا کرتی تھیں۔ طوعاً و کرہاً ایک دن پہلے ۔۔۔ اور جاتی بھی ایسے تھی جس دن بچیاں آخری روز اسکول سے لوٹتیں۔ گھر پہنچ کر بھی وہ میکے کم جاتی۔ جس کو اس سے ملنا ہے، اس کے گھر آئے۔ رات بھی نہ رکتی۔ منہ سے تو اس نے کبھی کہا نہیں۔ مگر سب جانتے تھے، شہزاد کی موجودگی میں ارم کے گھر نہیں جانا۔ بیٹیاں کھوکھ سے جنی تھیں ورنہ شاید انہیں بھی برداشت نہ کرتی۔ وہ شہزاد کے ’’ساتھ‘‘ کا پل پل ہتھیا لینا چاہتی تھی۔

وہ اب گاڑی میں منہ پر کپڑا ڈال کر بیٹھی تھی۔ راستے کا گرد و غبار خشکی، تری، ہریالی اس نے ساس کو سلام کر کے صرف سر پر پیار لیا تھا۔

اماں اس کی کیفیت سمجھتی تھیں۔ وہ ہر بار اس طرح منہ بسور کر پندرہ پندرہ دن خاموش رہتی۔ اگر بولتی تو کاٹ کھانے کو دوڑتی۔ سب سے خفا۔ کسی ملازمہ کی طرح گھر کے کام دھام دیکھتی۔

پھر جیسے ہار کر دھیرے دھیرے نارمل ہوجاتی۔ انہیں بڑے بیٹے بہزاد کا انداز بھی پسند نہیں آیا تھا۔ اعتزاز نے راستہ ہی وہ اپنایا کہ بندہ کچھ بولنے کے قابل نہ رہے۔ بہزاد کچھ لوگوں کی نظر میں بالکل صحیح تھا تو ادھر شہزاد بھی کچھ لوگوں کے لےے مثال تھا۔ وہ بہزاد کو بھی نہ مناسکی تھیں کہ اسما کو ان کے پاس رہنے دے۔ اتنے سال بعد وہ شہزاد کو بھی قائل نہیں کرپائیں کہ اپنی بیوی کو اپنے ساتھ رکھے۔ انہیں اب بہو کی ضرورت نہیں ہے۔ بہزاد نے قطعیت سے کہا تھا۔

’’اماں جی! آپ برا نہیں ماننا۔ اسما میرے ساتھ رہے گی۔ جہاں میری پوسٹنگ، وہیں وہ بھی۔ اگر بیوی کو س طرح دور رکھنا تھا تو میں شادی ہی کیوں کرتا۔‘‘

بہزاد کی بات کا نہ جانے کیا رخ تھا۔ مگر اماں کٹ کے رہ گئیں۔ دوبارہ پھر کبھی نہ کہا۔ نہ خوشی میں، نہ غمی میں، بہزاد نے تو ہٹیلے پن سے کہتے ہوئے فیصلہ سنایا تھا۔ جس میں شاید کوشش کی جاتی تو ترمیم کی گنجائش نکل جاتی۔

شہزاد نے حد کردی۔ اس نے قسم کھائی۔

’’جب تک ماں زندہ ہے۔ میری بیوی کو اگر مجھ سے ذرا سی بھی محبت، لگائو، انس ہے یا وہ میرے فیصلے کا ذرا سا بھی احترام کرتی ہے تو ان کے ساتھ رہے گی ان کی خدمت کرے گی۔‘‘

اور ارم کی زندگی کا واحد مسئلہ جس نے بہت سے مسئلوں کو پیدا کیا، وہ یہ کہ وہ شہزاد سے بے حد، بے پناہ، بے حساب، اپنی جان سے گزر جانے کی حد تک محبت کرتی تھی۔ زمانوں سے محبت کی آزمائش کے لےے کڑے سے کڑے امتحان رکھے جاتے ہیں اور عشق گزیدہ سر دھڑ کی بازیاں لگاتے ہیں۔ کوئی جنگلوں میں نکلتا ہے۔ کوئی دودھ کی نہریں نکالنے لگتا ہے۔ کسی نے تاج و تخت کو ٹھوکر ماری۔۔۔ سنتے تو یہ بھی ہیں کوئی اپنی ہی ران کے تکے بنا کر کھلا گیا۔ اب پتا نہیں، وہ کون تھے، کیسے تھے، سچے تھے یا جھوٹے۔ بھاڑ میں جائیں۔ سننے میں انتہائی عام سی شرط، ایک سراسر بے ضرر، قابلِ تعریف و تقلید فیصلہ۔۔۔ ارم کو لگتا اس کی محبت دور صحرا کے ویرانے میں کھلنے والا سرخ پھول ہے جو خوش رنگ ہے، خوشبودار ہے، جو ہوائوں کو اپنے نرم وجود پر محسوس کر کے جھومتا ہے۔ اپنے آپ میں سمٹ جاتا ہے۔ مگر توصیف کے دو بول قدر دانوں کی ایک نگاہ التفات کا پیاسا ہے، جو اپنی ساری خوبروئی سمیت ایک دن دم توڑ دے گا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوگی اور شہزاد نے کہا تھا۔ اگر ارم کو اس سے ذرا سا بھی لگائو ہے تو۔۔۔ تو اگر تم مجھ سے پیار کرتی ہو تو۔۔۔؟ اگر میرے کہے کا مان رکھو تو۔۔۔؟

اور ارم کو اس کے ماتھے پر گرنے والے بالوں سے، آنکھوں کی جگمگاہٹوں سے، مونچھوں تلے تبسم بکھیرتے ہونٹوں سے، مضبوط ہاتھوں سے ، اس کے قد و قامت سے، اس کے آفٹر شیو لوشن سے، اس کی بنیان سے، اس کے ہاتھ کی گھڑی سے، اس کی نیوی کے مونو گرام سے سجی سفید و نیلی کیپ سے، ہر شے سے لگائو تھا، پیار تھا، محبت تھی۔ پھر وہ اس کی ماں سے کیسے محبت نہ کرتی۔ اسے ان سے بھی پیار ہوگیا تھا۔ مگر اس پیار کا خراج اس کے دل پر بڑھئی کے رندے کی طرح زور زور سے چلتا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے، اپنے ہر ہر عمل سے شہزاد کو بتانا چاہا تھا کہ وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ نہیں کہا تو منہ سے نہ کہا۔ وہ سب سمجھتا تھا۔ لیکن دنیا کا سب سے جلدی چبایا جانے والا کھانا ’’قسم‘‘ ہے۔ جس کا ہضم بہت مشکل۔۔۔ لیکن وہ نیلے پانیوں کا باسی تھا اور اس ’’رہائش‘‘ کی پہلی شرط مضبوط قوتِ ارادی تھی۔

ئ ئ ئ

شروع میں وہ ارم کے ساتھ کراچی میں رہنے لگیں۔ مگر وہ کھلے دیہاتی ماحول کی باسی یہاں نچڑ کر رہ گئیں۔ شہزاد پہلے انہیں بلاتا تو وہ اکیلے گھر کا کہہ کر ٹال دیتیں کہ ’’میں سارا دن کیا کروں گی تو ووہٹی لے آ۔‘‘

اب ووہٹی آگئی تو بھی ان کا دل نہیں لگتا تھا۔ دل لگانے کو سال بعد عروہ آگئی تو وہ کافی حد تک بہل گئیں۔ مگر مسئلہ دوسرا تھا۔ سمندر کی جانب سے آتی ہوائیں ان کی ہڈیوں کو جیسے ہتھوڑے مارتیں۔ انہیں یہاں کا موسم راس نہ آتا۔ موسم سے جان بچاتیں تو دوسرا مسئلہ زیادہ توجہ طلب تھا۔

’’مجھے یہاں کا پانی راس نہیں۔ اصل گندم نہیں ہے۔ سبزیوں میں ذائقہ نہیں۔‘‘

ارم پوری توجہ سے کھانا بھونتی، مگر انہیں یہاں آتے ہی قبض کی شکایت ہوجاتی یا پھر بے تحاشا دست، گیس، تیزابیت، درد، ڈکاریں اور الٹیاں۔ شہزاد کے جسم سے جان نکل جاتی۔ اس کے ہاتھ پیر پھول جاتے۔ ساری قوتِ ارادی ہوا ہوجاتی۔ ارم نے دیکھا وہ رو رہا ہوتا۔ اماں کو ڈرپ لگی دیکھ کر طوعاً کرہاً اماں کو گھر لے کر جاتے تو اگلے دن بھلی چنگی۔

چھوٹی نند نئے ڈگری کالج میں جب لیکچرر کی حیثیت سے تعینات ہوئی تو اس کے لےے دو بچوں کے ساتھ اب اماں کے لےے وقت نکالنا مشکل تھا۔ شہزاد کے لےے بار بار چھٹی لے کر آنا ایک مسئلہ۔ دوسرے اماں عروہ کے بغیر نہیں رہ پاتیں۔ انہیں اپنی یہ پوتی دنیا جہان سے پیاری تھی۔

بہزاد کے بچوں کا شیر خوارگی اور بعد میں لڑکپن کا زمانہ وہ صحیح طور نہیں دیکھ پائیں کہ وہ ان دنوں کوئٹہ میں تعینات تھا۔ اعتزاز کا اکلوتا بیٹا وہیں لندن میں تھا۔ کراچی والی بڑی بیٹی کے بچے اپنے ددھیال سے مانوس تھے۔ چھوٹی کے دو بیٹے تھے۔

پہلے وہ کراچی آکر قبض و دست سے لڑتیں اور گائوں جا کر آرام پاتیں۔ اب یہ ہوا کہ گائوں جا کر عروہ کی یاد میں زار زار روتیں اور اتنا بیمار پڑجاتیں کہ ایک بار شہزاد ایمرجنسی میں جہاز میں بیٹھ کر عروہ کو ملانے لے گیا۔ عروہ حاضر، بیماری غائب۔ معمولی بات بہت بڑا مسئلہ بن گئی۔ بے حد پیچیدہ، حل طلب۔

اور شہزاد نے حل نکال لیا۔

’’ارم اماں کے ساتھ گائوں میں رہے گی۔ بس۔۔۔ ختم دی اینڈ۔۔ اور کوئی لفظ نہیں۔‘‘

ئ ئ ئ

روز روز کی چخ چخ اور شہزاد کی بے حد پریشانی دیکھ کر ارم بھی فوری علاج کے طور پر گائوں آگئی۔ اسے یقین تھا کہ شہزاد اس کے بغیر نہیں رہ پائے گا۔ دو مہینے یا چھ مہینے یا حد سے حد سال۔ مگر یہاں گیارہ سال گزر گئے۔

اماں جب کراچی میں بیمار پڑا کرتیں۔ ان کی حالت دیکھ کر عیادت کرنے والے آنکھوں آنکھوں میں کہتے ’’بچنا مشکل ہے‘‘ مگر اماں بچتی رہیں اور آج تک ماشائ اللہ چلتے ہاتھ پیروں کے ساتھ بیٹے کی فرماں برداری اور بہو کی تابعداری اور زمانے کی واہ واہ کے مزے لوٹ رہی تھیں۔ ارم نے ان گیارہ سالوں میں تمام حربے آزما کر دیکھ لےے۔ ہنس کر، رو کر، لاڈ سے، انداز سے باور کرایا کہ وہ یہاں نہیں رہ سکتی۔ اس نے سچے، جھوٹے بہانے بنائے۔

’’یہاں بجلی بہت جاتی ہے۔‘‘

یو پی ایس اور ہیوی جنریٹر حاضر۔

’’یہاں اچھے آئٹم نہیں ملتے کھانے پینے کے۔‘‘

شہزاد چھ چھ ماہ کا سامان بھر جاتا۔ چاکلیٹس، نوڈلز، جوسز، تیار کھانے، مسالا جات، بچوں کے لےے اعلا برانڈ کی چیزیں۔

ڈرائیور کے ہمراہ گاڑی رکھ دی۔ ہر کام کے لےے کل وقتی ملازمہ تو اماں نے ہمیشہ رکھی تھی۔

’’یہاں اسکول اچھے نہیں ہیں۔‘‘ ارم کے ہاتھ ترپ کا پتا لگ گیا۔

’’کیوں کیا ہوگیا؟ ابھی نئی عمارت بنی ہے اور نئے ٹیچرز بھی آئے ہیں۔‘‘

’’وہ کیا خاک پڑھائیں گے۔ ہماری بچیاں پیچھے رہ جائیں گی۔ کیا بن سکیں گی وہ اس جگہ پر؟‘‘

’’یار! میری بات سنو۔ کرنے والی بات کرو۔‘‘ اس کے مصنوعی خوف زدہ گمبھیر لہجے پر وہ بہت تحمل سے بولا۔ ’’بہزاد بھائی کرنل تک پہنچ گئے۔ عنیزہ اسی اسکول سے پڑھ کر کالج پرنسپل بن گئی ہے۔ میں تمہارے سامنے ہوں۔ ہماری بچیاں کیسے پیچھے رہیں گی۔‘‘

’’وہ اور زمانہ تھا۔ اس وقت استاد اچھے تھے۔‘‘ ارم جلبلا گئی۔

’’کوئی نہیں۔ استاد تو اب بھی وہی ہیں۔ وہ میرے ماسٹر جی اللہ یار۔۔۔ کیا استاد ہیں یار۔‘‘

’’بڈھے کھوسٹ ہوگئے وہ۔ اب کیا خاک پڑھائیں گے۔‘‘

’’پاگل ہو تم جانِ من! اب تو بلکہ وہ زیادہ ’’کاریگر‘‘ ہوگئے۔ ہمارے زمانے میں تو وہ نئے نئے بھرتی ہوئے تھے۔ خود بھی سیکھنے کے مرحلے میں تھے۔ اب تو وقت کی بھٹی میں تپ تپ کر کندن بن گئے۔ میں تو کہوں گا۔ میری بچیاں خوش نصیب ہیں، جو ان سے پڑھ رہی ہیں۔‘‘

وہ استاد کی محبت میں سرشار منطق بھی ڈھونڈ کے ہی لایا تھا۔ اس کی منطقی بات پر ارم دانت پیس کر رہ گئی۔

’’تو ریٹائر ہونے والے ہیں وہ۔۔۔ شاید اسی برس۔‘‘

’’اوہ ویری سیڈ۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ’’یار! دیکھو ذرا تم۔۔ مجھے صحیح طرح نام تو یاد نہیں۔ کوئی بوڑھے سندھی ایکٹر تھے۔ اسکول ٹیچر بھی۔ شاید نور محمد لاشاری ان کا نام تھا۔ ریٹائر ہونے پر بولے۔

’’جب پڑھانا آیا تو اگلوں نے کہا۔ ’’اب تم کام کرنے کے قابل نہیں ہو۔‘‘ ان کے لہجے کا تاسف آج تک یاد ہے۔ میں تو کہتا ہوں ٹیچر کو کبھی ریٹائر نہیں کرنا چاہےے۔ وہ و پرانے چاول کی طرح ہوتا ہے۔ خوش بو دار نکھرا نکھرا۔۔۔ کیوں؟‘‘

ارم کا سر پیٹ لینے کو دل چاہا۔ اس نے عیب ڈھونڈا۔ اگلے نے مدح سرائی میں پل کھڑے کر دےے۔ لیکن بات ارم کی کافی حد تک درست تھی۔ عروہ کے پنجم جماعت میں جاتے ہی گھنٹہ بھر کی مسافت پر قائم فوجی اسکول میں اس کا داخلہ ہوگیا۔ ڈرائیور لاتا، لے جاتا۔ بچیاں خوش۔ یہ پوائنٹ بھی گیا۔ ارم کو کھلی چھوٹ تھی۔ جب جہاں دل چاہے، شاپنگ کے لےے چلی جائے۔ خود وہ بھی جب آتا، اسے خوب گھماتا پھراتا۔

’’اگر میں کسی عالمِ دین سے فتویٰ لوں کہ میں اپنے میاں کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں تو؟‘‘ اس نے ایک بار یونہی سرسری چھیڑا۔

’’ارے میری جان!‘‘ وہ جھوم گیا۔ اپنے بازوئوں میں کس لیا۔ ’’عالمِ دین کو کہو گی۔ کبھی ہم سے تو کہا نہیں۔ ادھرمیری طرف دیکھو اور اتنے روکھے لہجے سے کیوں۔۔۔ یہ پلکیں اٹھائو۔۔۔ تھوڑے جذبے تو بھرو۔۔۔‘‘

وہ بات کو اپنے مطلب پر لے گیا۔ ارم باقی کے جملے بھول گئی۔ وہ دونوں نارمل طور پر ساتھ ساتھ رہتے تو شاید ارم بھی گیارہ سال گزرجانے پر روزمرہ کے معمول کے مطابق آجاتی۔ مگر اس دوری نے اسے اندر ہی اندر گھائل کر دیا تھا۔

گیارہ سال میں محبت بڑھتی تو ہے۔ مگر اس کی حالت پرسکون ندی کی طرح ہوتی ہے لیکن ارم کے اندر شوریدہ لہریں تھیں۔ اسے اپنا آپ لہروں کی طرح لگتا۔ جو پوری طاقت سے ساحل سے ٹکراتی ہیں۔ مگر ناکام لوٹ جانا ان کا مقدر ہوتا ہے۔ شہزاد کے لےے اس کی محبت طوفانی لہروں کی طرح تھی۔ جو بہت غضب ناکی سے ساحل کی طرف بڑھتی ہیں۔ مگر پتا نہیں کیوں ساحل پر آکر دم توڑدیتی تھیں۔ وہ اپنے دل کو ٹٹولتی تو صاف تھا کہ اسے ہرگز اماں کے ساتھ رہنے یا ان کی خدمت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر اس کی قیمت شہزاد سے دوری؟

آہ۔۔۔! عید، شب برأت، سالگرہ۔۔۔ وہ ہر روز اس کے لےے سنگھار کرنا چاہتی۔ وہ اس کامحبوب تھا اور محبوب کی جانب سے سراہے جانے کی خواہش میں وہ ادھ مری ہوگئی تھی۔ اسے وہم ہوگیا کہ شہزاد کے دل میں اب اس کی محبت نہیں رہی۔ وہ بدل گیا ہے اس کے اندر وہ تڑپ نہیں ہے، جو اسے اندر ہی اندر کھارہی ہے۔

اس نے شادی کی سالگرہ پر دماغ کے لاکھ سمجھانے پر بھی دل کی مانتے ہوئے اسے فون کیا۔

’’آپ کچھ نہیں بولےے گا شہزاد!‘‘ اس کی آواز میں نمی تھی۔ لڑکھڑاہٹ تھی۔ ’’میں کچھ بولنا چاہتی ہوں۔‘‘ اس کے گالوں سے آنسو تار کی صورت گر رہے تھے۔ اس کی آواز تھرا رہی تھی۔

’’آپ کو آج میرے پاس ہونا چاہےے تھا۔ مجھے اب اپنی خوش نصیبی سے کوئی امید نہیں۔‘‘ اس کے الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔

’’آپ کی کھائی قسم کو نبھانے میں، میں اندر سے ٹوٹ گئی ہوں۔ کرچی کرچی۔۔۔ میرے ہاتھ لہولہان ہوگئے۔ شہزاد۔۔۔ مم۔۔۔ مم۔۔ مگر۔۔۔ بس۔

بہت ہیں خواب، مگر خواب ہی سے کیا ہوگا

ہمارے بیچ جو حائل ہے، وہ حقیقت ہے

یہ جاگتی ہے تو پھر دیر تک جگاتی ہے

میرے وجود میں سوئی ہوئی جو وحشت ہے

وفا سرشت ہوں،دوری میں بھی محبت ہے

اکیلے رہنے میں، لیکن بڑی اذیت ہے

اکیلے رہنے میں لیکن بڑی اذیت ہے شہزاد!‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ رو دی۔ ضبط کی طنابیں چھوٹ گئی تھیں۔ وہ بے دم ہو کر ڈھے گئی۔

اس نے عجب خود اذیتی کے عالم میں رات نہ جانے کیا، کیوں اور کیسے کہہ دیا تھا۔ مگر اب جو ہوش میں آکر دیکھا سامنے شہزاد تھا۔ رات دو بجے اس کی کال اٹینڈ کرنے کے بعدوہ ایک پل سو نہیں پایا تھا۔ صبح چھ بجے والی ڈائیو پکڑی اور اب وہ اس کے سامنے تھا۔ اس کی شیو معمول سے بڑھی ہوئی تھی اور آنکھیں سرخ۔

’’میں جانتا ہوں۔۔۔ جانِ شہزاد۔۔۔! ’’اکیلے رہنے میں ، لیکن بڑی اذیت ہے۔۔۔‘‘ اذیت کا لفظ چھوٹا ہے بلکہ ایسا کوئی لفظ ہی نہیں ہے جو ہماری کیفیت کو بتاسکے۔‘‘ اس نے ارم کے حیران چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرلیا۔

’’تم بہادر ہو۔ کم از کم کہہ تو دیا۔ میں بزدل ہوں، کم ظرف ہوں یا کیا ہوں۔۔۔ کہہ نہیں سکتا۔۔۔ میری جان!‘‘ ارم کا وجود پتے کی طرح ہل رہا تھا۔ اس نے شہزاد کی آنکھوں میں نمی دیکھی تھی۔

’’وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہیں۔ لاغر، نحیف۔۔۔ میں انہیں بے آسرا نہیں چھوڑ سکتا۔ میں ان سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور تم سے بھی۔۔۔ مگر فرق یہ ہے کہ میری محبت جواب ہے، اس محبت کا جو انہوں نے مجھ سے کی۔۔۔ یہ خراج ہے۔۔۔ میں نے تم سے محبت کی تو تم سے اس کا خراج مانگا ہے۔ میں ان سے مانگ نہیں سکتا۔ لوگ میری تعریفیں کرتے ہیں، مثالیں دیتے ہیں۔۔۔ یار! میں نے کیا کیا۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں۔۔۔ بس بیوی بچے ماں کی دل جوئی کے لےے ان کے پاس رکھ چھوڑے ہیں یہ ’’ڈگری‘‘ لے کر اللہ کے حضور جائوں تو دھکے مار کے نکالا جائوں۔ یہ تو ایک رات کے گیلے بستر کو بدلنے کا بدل بھی نہیں۔ میں کہاں کا ایثار کر رہا ہوں۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ ہاں! احساس ہوا۔۔۔ ساری رات سوچتا رہا ہوں۔ شاید تم سے زیادتی ہوگئی۔ معاف کر دو۔۔۔ پہلے میں نے خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا۔ میں اب فیصلے کا اختیار تمہیں دیتا ہوں۔‘‘

نہ جانے کس جملے نے، سوچ نے شہزاد کے آنسوئوں کو من مانی کی اجازت دے دی تھی۔ اس نے ارم کو بازوئوں میں بھینچ لیا۔ وہ کپکپا رہی تھی۔ ارم کے بال اور شہزاد کا شانہ بھیگ بھیگ گیا۔

کسی کے حصے میں گھر آیا یا دکان آئی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا، میرے حصے میں ماں آئی

اور شہزاد کو دل و جان سے تقسیم میں اپنا حصہ پسند آیا تھا۔ اسے یہی چاہےے تھا۔

ئ ئ ئ

’’میری بس یہی ایک دعا رہ گئی ہے۔۔۔ تم سے وہ بھی پوری نہیں ہوتی۔‘‘ اماں اب کپکپا کر ٹھہر ٹھہر کے بولتی تھیں۔ آواز میں لڑکھڑاہٹ بھی پیدا ہوگئی تھی۔

’’اماں! میں اب اور کیا کہتی۔‘‘ ارم نے ناکام لہجے میں کہا۔

’’بیٹا سکھ ہوتا ہے۔ بیٹیاں بہت پیاری ہیں۔ پھولوں ورگی۔ مگر اپنی ساری خوشبو لے جاتی ہیں۔ کیاری خالی کر دیتی ہیں۔ بوٹا وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ پھول توڑ کے اگلے لے جاتے ہیں۔ اب خالی ہرے ہرے کو پانی تو چاہتے نہ چاہتے دے دیتے ہیں۔ مگر نظر بھر کے دیکھتے نہیں۔۔۔ بیٹا تنے کی طرح ہوتا ہے۔ کھڑا رہتا ہے۔ سوکھ بھی جائے تو چھت پر ڈالنے کے کا آتا ہے۔۔۔ لینٹر ہوتا ہے لینٹر۔‘‘

ارم کا موڈ خراب ہورہا تھا۔ مگر مثال پر ہنسی نکل گئی۔

’’اماں! وہ نہیں مانتے۔ کہتے ہیں، بیٹے بیٹیان سب برابر ہیں۔ بچے دو ہی اچھے۔ کہہ رہے تھے، پہلے ہی میری ضد کی وجہ سے اسریٰ آگئی ہے۔‘‘ ارم کو شہزاد سے ڈانٹ پڑی تھی۔

’’تو وہ تو تیری ضد تھی نا۔ اب ایک میری مان لے۔‘‘ اماں نے بچکانہ انداز میں منہ بسورا۔

’’ویسے بڑا تابعدار بنا پھرتا ہے۔ مانتا میری اک نہیں ہے، میں نے دعائیں کی ہیں۔ ان شائ اللہ بیٹا ہوگا۔‘‘

انہوں نے رازدارانہ انداز میں چہرہ آگے کر کے ارم کو بتایا۔ ارم چپ رہ گئی۔ بیٹے کی تمنا اسے بھی تھی۔ مگر شہزاد اٹل تھا۔

’’بس! اب اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ شہزاد کی سب مانتی تھی۔ مگر یہاں وہ بھی اماں کی ہمنوا تھی۔

’’آپ خود کہہ دیں اماں! آپ کی تو ضرور مانتے ہیں۔‘‘ ارم نے جان چھڑائی۔

’’توبہ! اتنی بے شرمی۔۔۔ ارے! عورتیں تو اپنی سب منوالیتی ہیں۔‘‘

ارم کو آگ لگ گئی۔ ’’نہیں ہوں میں عورت۔۔۔ اور وہ بڑے میری ماننے والے۔۔۔ میری مان کر تو آج تک کا دن آیا ہے۔‘‘ وہ پیر پٹختی اندر بڑھ گئی۔ اماں نے لاٹھی پر گال جوڑ لیا۔

’’بہو آج کل جھنجھلائی ہوئی ہے۔‘‘

ئ ئ ئ

شہزاد چھٹی پر آیا تو اماں کے یا د دلانے پر ارم نے صاف ہری جھنڈی دکھا دی۔

’’مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔ آپ خود ہی کریں۔‘‘

اماں کی طبیعت خراب تھی۔ وہ ساری رات کھانستیں اور ادھر شہزاد بے چین ہو کر کروٹ بدلتا۔ اماں کا بخار بگڑا تو شہزاد کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ وہ اماں کے ہاتھ چومتا، اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا، اماں کو گود میں بھر کے بیٹھ جاتا۔ بال سنوارتا، پوتیاں دائیں بائیں، رشیداں مائی مستعد اور ارم تو تھی ہی۔

وہ بھی سچ مچ پریشان تھی۔ اماں کی طبیعت پہلے کبھی ایسے خراب نہیں ہوئی تھی۔ شہزاد کی چھٹی کے سارے دن اماں کی بیماری کی نذر ہوگئے۔ وہ اس بار نہ چاہتے ہوئے دوبارہ ڈیوٹی پر گیا۔ وہ دن میں کئی بار فون کرتا۔ نیٹ پر بات کرتا۔ ڈاکٹر کے مستقل چیک اپ مگر اماں کو عمر رسیدگی کا مرض لگ چکا تھا۔ جو لا علاج ہوتا ہے۔ وہ پہلے ہی کم گو تھیں۔ اب اور چپ رہنے لگیں۔ پوتیاں بہت پیاری تھیں۔ ان کے قصے سنتیں۔

اتنی خراب حالت کا سن کر بیٹے بیٹیاں سب آئے۔پیسہ، اچھا علاج سب تھا۔ مگر ان کے پاس وقت نہیں تھا۔

’’میں وہاں اس طرح پریشان نہیں رہ سکتا۔ اماں! آپ اس بار میرے ساتھ چلےے۔‘‘ شہزاد کے جسم پر تھکاوٹ حاوی تھی۔

’’وہاں زیادہ اچھے اسپتال ہیں اماں پلیز!‘‘

’’نہ۔۔۔ نہیں۔۔۔ آخری سانسیں اسی گھر میں۔۔۔‘‘ وہ ہٹ کی پکی تھیں۔ ’’میں ٹھیک ہوجائوں گی، جب پوترے کا منہ دیکھوں گی۔‘‘ فرمائش کا اچھا موقع تھا۔

’’اماں! بہزاد اور اعتزاز بھائی کے بیٹے آپ کے پوترے ہیں نا۔ میں انہیں بلوالیتا ہوں۔ ان کا منہ دیکھتی رہیں۔‘‘ شہزاد اس فرمائش پر بھنُا گیا۔

’’مجھے تیرا بیٹا دیکھنا ہے۔‘‘

’’تو کیا گارنٹی ہے؟‘‘

’’گارنٹی تو تیری بھی نہیں تھی۔ پتا نہیں کہاں سے منہ چک کے آگیا۔ ایسے ہی خوامخواہ۔‘‘ اماں نے جل کر کہا۔ شہزاد کی ہنسی نکل گئی۔

’’مجھے پانی پلانے کے لےے بھیجا ہے نا اللہ نے۔‘‘

’’صحیح کہتے تھے تیرے ابا جی اللہ بخشے۔۔۔ تَو نے مٹی ڈالنی ہے نا۔‘‘ اماں کا انداز دل توڑ دینے کے بعد اب پچکارنے کا سا تھا۔

’’اماں!‘‘ شہزاد کا اگلا سانس رک گیا۔ وہ پیروں کے پاس بیٹھا تھا۔ اپنے ہونٹ تلوئوں پر رکھ دے۔

’’بیٹے ایسے کون سے کام کر سکتے ہیں ، جو بیٹیاں نہیں کرتیں؟‘‘ اس نے بہلانے کو پوچھا۔

’’یہ تَو پوچھ رہا ہے؟ یہی سب جو تَو کر رہا ہے۔ لاکھ اچھی ہوں گی پر لائن سے چلی جائیں گی۔ بیٹا ہوگا تو پانی پلائے گا۔ عینک ڈھونڈ کے پکڑائے گا۔ لاٹھی دے گا ہاتھ میں۔‘‘

’’تو یہ تو بیٹیاں بھی دے سکتی ہیں۔‘‘ شہزاد پر ذرا اثر نہ ہوا۔

’’نا! تو وہ اپنا گھر سنبھالیں گی کہ تَو گوڈے سے جوڑ کر رکھے گا؟ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نے بیٹیاں دی تھیں۔‘‘ اماں نے خفگی سے منہ پھیرا۔

’’بیٹے بڑے نا خلف ہوتے ہیں اماں!‘‘ اس نے ڈرایا۔

’’میرا تو نہیں ہے۔‘‘ اماں نے قطعیت سے انکار کیا۔ ’’اور تو سن لے۔ بیٹا ہی ہوگا۔ یاد رکھیں ارم!‘‘وہ مسکرانے لگیں ان کے منہ میں اب دانت نہیں تھے۔ پوپلے گال پر مسکرانے کی کوشش میں چہرہ بڑا ہی مضحکہ خیز لگتا۔

گیارہ سال ارم کو ان کے ساتھ رہنا عذاب لگا تھا۔ مگر اسے اب احساس ہوا، اماں نے اس سے کبھی اپنی ذاتی خدمت تو نہیں لی۔ بلکہ وہ ارم کی مددگار تھیں۔ ارم نے صرف بچیوں کو جنم دیا تھا۔ ان کا پالنا اور دیکھ بھال، ٹھنڈا گرم سب اماں کی فکریں تھیں۔ ارم کو خبر بھی نہ ہوئی اور شیر خوار بچوں کی مالش، موڑھے دبوانا، گنجا کروانا، تیل لگوانا، زودِ ہضم، غذائیت سے بھرپور دیسی کھانے بنانا، وہ خود کرتیں یا کام والی مائی سے کرواتیں۔ ارم کے ہاں بچہ پیدا ہونا ہوتا تو اسے ہتھیلی کا چھالا بنالیتیں۔

مگر اس بار صورت حال مختلف تھی۔ ارم اپنی جان سے بے زار ڈھیلے ڈھیلے کپڑوں میں بے ہودہ چال چلتی، انگڑائیاں، جمائیاں، ابکائیاں لیتی۔ لڑائیاں کرنے کی اب ہمت نہیں تھی اور کرتی بھی کس سے۔

شہزاد کو اماں کی بیماری نے مخبوط الحواس کر دیا تھا وہ دو دن کی چھٹی ہونے پر بھی راتوں رات پہنچ جاتا، اماں کے گھنٹے سے لگنے کے لےے۔ ارم سے رسمی سلام دعا کرتا اور اماں کے کمرے میں غائب۔ مسلسل سفر اور پریشانی نے اس کی صحت پر اثر ڈالا تھا۔ حد تو یہ ہوئی کہ ایسے بھی کئی دورے آئے جب وہ دو دو تین تین دن کے چکر پر آیا اور اس نے اپنے بیڈ روم میں جھانکا تک نہیں۔ ارم کے پاس اب کلسنے تک کی ہمت اور ٹائم نہیں تھا۔کام کاج کے لےے دو دو ماسیاں آئیں مگر ان کی نگرانی کرنا بھی ایک کام تھا۔

اماں بستر نشین ہوچکی تھیں اور مجبور اس قدر کہ حوائج ضروریہ کے لےے بھی اٹھ نہ سکتی تھیں۔ انہیں پیمپر لگانے پڑتے۔ زبان میں لڑکھڑاہٹ آگئی۔ چہرہ سکڑ گیا۔

بہزاد بھائی نے ایک کل وقتی تربیت یافتہ نرس اچھے پیکج کے ساتھ بھیج دی۔ مگر نرس صرف مشین کی طرح کام کرتی اور اماں جذبوں کی طلب کرتی تھیں۔ ارم کو ان حالوں میں ویسے بھی ہر شے بری لگتی تھی۔اسے کھانے پینے کی، پھولوں تک کی مہک سے الٹی آتی تھی اور اماں کے کمرے میں جانے سے تو یوں لگتا جیسے کوئی منہ کے راستے ہاتھ ڈال کر اس کا دل، جگر، گردے سب نکال لینا چاہتا ہو۔ اماں کے کراہنے اور کبھی کبھار اونچا رونے کی آواز پر اگر وہ اندر داخل ہونا چاہتی تو وہ اشارے سے باہر جانے کو کہتیں۔ نرس کپڑے بدلواتی، وضو کرواتی، وہ اشارے سے نماز و وظائف وغیرہ پڑھتیں۔ ارم کا تصور کر کے پھونکیں مارتیں۔

’’پوتا ہوگا میرے شہزاد جیسا، سوہنا منڈا، ویکھیں۔۔۔‘‘ وہ اکثر یہی گردان کرتیں۔

اولاد پیسے والی تھی۔ دوائیاں، ڈاکٹرز، نرسیں تمام طبی سہولتیں میسر تھیں۔ مگر وہ دن بہ دن تنزلی کی جانب مائل تھیں۔

’’میرے اللہ! اپنے منہ سے موت کی دعا نہیں کرنی چاہےے۔ میں موت نہیں مانگ رہی۔ بس تو اگلوں کو آزمائش سے بچالے۔‘‘

ارم آخری دنوں کے رت جگے سے گزر رہی تھی۔ وہ ساری رات کمر پر ہاتھ دھرے ٹہلتی اور اماں کی فریادیں سنتی۔ ارم زندگی کو خوش آمدید کہنے کے لےے جاگتی تھی اور اماں ’’الوداع‘‘ مانگنے کے لےے۔

وہ مرض الموت میں گرفتار ہوچکی تھیں۔ فرشتہ دروازے پر نشان لگاگیا تھا اور سب نے یہ دیکھ بھی لیا تھا۔ مگر شہزاد کا کیا کرتے، جو دیوانہ ہورہا تھا۔ دھاگا ٹوٹ چکا تھا اور سروں کو لاکھ سختی تھامے رہو، موتی ایک ایک کر کے گرتے جاتے ہیں۔ تاوقت یہ کہ خالی دھاگا ہاتھ میں رہ جائے اور خالی دھاگا آخر کب تک ہاتھ میں رہ سکتا ہے؟ چھوٹ جاتا ہے ایسے کہ۔۔۔ انگلیاں خود ہی مسل مسل کر نیچے گرادیتی ہیں۔ مگر شہزاد کو لگتا وہ دوبارہ گانٹھ جوڑ لے گا۔

وہ اچھے صابن سے منہ دھلواتا، سر میں تیل ڈال کر چار تنکوں کو سنوارنے لگتا۔ چٹخی ہوئی سیاہی مائل پنڈلیوں پر ساری ساری رات تیل کی مالش کرتا۔ وہ نرس کے ہاتھ سے مائع خوراک لے کر اپنے ہاتھوں سے کھلاتا۔ وہ ذائقے کو ناپسند کرتے ہوئے انکاری ہوتیں تو ’’ایک چمچہ میں، ایک چمچہ آپ‘‘ والا کھیل کھیل کر ویسے ہی بہلاتا اور کھلاتا جیسے وہ کبھی بچپن میں کیا کرتی تھیں۔ وہ بہت حلیم، خاموش، باوقار عورت رہی تھیں۔ پتا نہیں کیوں بچوں کی طرح چیخیں مارنے لگتیں اور روتیں۔

وقت پورا ہوجائے تو بچہ ماں کے پیٹ میں سر پٹخنے لگتا ہے۔ ان کا وقت پورا ہوچکا تھا۔ وہ واپسی کے سفر کے لےے اسٹیشن پر کھڑی تھیں۔ بس گاڑی کچھ لیٹ تھی اور انتظار اب بس سے باہر تھا۔

وہ کبھی سنبھل جاتیں۔ اشارے سے نمازیں پڑھتیں۔ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں کوئی بہت پرانا قصہ بیان کرتیں، جسے سمجھنا کافی مشکل ہوتا۔ مگر شہزاد پوری دلچسپی اور ذوق و شوق سے ہمہ تن گوش رہتا۔ کبھی انہیں اپنے ابا، اماں یاد آتے تو زار و قطار روتیں۔ بوڑھے، بے حد بوڑھے بندے کو روتا دیکھنا اور روتا سننا بہت اذیت ناک ہوتا ہے۔ اعصاب کے لےے توبہ شکن۔ یہ ایسی آواز ہوتی ہے، جیسے رات کے سنُاٹے میں بلیاں رو رہی ہوں۔ بین ڈال رہی ہوں۔ چھوٹے بچے کے پھولے گال پر ٹکا آنسو ماں اپنے ہونٹوں کے بوسے سے چوم لیتی ہے، پی جاتی ہے۔ بوڑھے گال کا آنسو انگلی کے سرے پر بھی نہیں ٹکتا۔ وہ وہیں جھریوں میں غائب ہوجاتا ہے اور بہت دیر تک اپنا وجود برقرار رکھتا ہے، گرم، گیلا اور ٹھنڈا۔۔۔

شہزاد انہیں پچکارتا۔ بانہوں میں جکڑے، سینے سے لگاتا اور وہ بھی بغل میں منہ چھپالیتیں۔ شہزاد کی دنیا ویران تھی۔ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے من پسند کھلونے کو جیسے چکنا چور ہوتے دیکھ رہا تھا۔

ارم کے بیٹے کی ولادت کے محض مہینے بعد وہ خامشی سے ایک رات روانہ ہوگئیں۔ ہاہ۔۔ انہیں مرنا ہی تھا۔

ہر آنے والے کو جانے کا عہد نبھانا پڑتا ہے۔ زندگی انگریز کا بنایا ہوا جہاز ہوتی ہے۔ وقت پورا ہوجائے تو اچھے خاصے دیوہیکل، شان دار جہاز کو شپ بریکنگ بھیج دیتے ہیں۔ کرچی کرچی، پرزہ پرزہ ہونے کے لےے۔۔۔۔ (ہم جسے کہیں ’’یار ابھی دس سال اور چلے گا‘‘ مگر نہیں، فائل بند ہوجاتی ہے۔

ئ ئ ئ

ارم کو حیرت ہوئی۔ بارہ سال تک وہ بے ضرر عورت اس کے ساتھ رہی۔ وہ ساتھ تھی تو وقت کیسے ٹھہر ٹھہر کے گزرتا تھا اور اب یہ چھ ماہ کیسے بھاگے تھے۔ وہ کیسے خوشیوں کی راہ کی رکاوٹ لگاکرتی تھیں۔ راستے میں پڑی جھاڑی جیسی۔ ارم کو شادیانے بجانے چاہےے تھے۔ مگر ایک ملال تھا، جو دل سے ہنسنے نہیں دیتا تھا۔ بے خیالی میں بھی دل بجھا بجھا سا کیوں رہتا تھا۔ ان کی موجودگی میں ان کی عادتیں، باتیں، حرکتیں ارم کو کبھی یاد نہیں رہیں۔ مگر اب ہر سانس کے ساتھ کوئی نہ کوئی یاد جڑی تھی۔

ان کی وفات پر بہت دنیا اکٹھی تھی۔ بیٹے، بیٹیاں، داماد، اگلی نسل سب موجود تھے۔ کسی کے کہے سنے بغیر سب ارم اور شہزاد ہی کو پَرسہ دیتے تھے۔ یہاں تک کہ بہزاد بھائی اور اعتزاز بھی شہزاد سے ایسا افسوس کرتے، جیسے وہ بس اسی کی ماں تھیں۔ وہ اپنی زندگیوں میں مگن تھے۔ اسمائ بھابھی کو کالج کی فکر تھی۔ وہ تین روز کی چھٹی لے کر آئی تھیں۔ منیزہ آپا، اعتزاز کے بیٹے میں انٹرسٹڈ تھیں، اپنی بیٹی ماریہ کے لےے۔۔۔ وہ مہمانوں کی طرح دس روز تک ایک ہی کمرے میںمحدود رہیں۔

عنیزہ، ارم اور شہزاد کے زیادہ نزدیک تھی۔ وہ ماں سے بھی زیادہ قریب تھی۔ اسے وقفے وقفے سے ہول اٹھتے تو شہزاد سے لپٹ جاتی اور شہزاد۔۔۔ کی حالت بہت تباہ تھی۔ وہ بچوں کی طرح اکڑوں بیٹھ کر سر پر ہاتھ مار مار کے روتا اور ’’اماں، اماں‘‘ کی صدا لگاتا۔ ان کی زیرِ استعمال اشیائ سے لپٹ جاتا۔ قبر کو بوسے دیتا۔ اس کے اختیار میں ہوتا تو مٹی کی ڈھیری کو ٹھوکر مار کر اپنی اماں کو باہرنکال لیتا۔ وہ اپنے بچپن سے لے کر ان کی وفات تک کے نہ جانے کون کون سے قصے نکال لیتا۔ تب، جب، کب۔۔۔ سارا دن لوگوں کی ڈھارس اسے مضبوط رکھتی۔ راتوں کو اٹھ کے بیٹھ جاتا۔ عروہ، ارفع کو بانہوں میں بھر کے زار و قطار روتا۔ دسویں کے بعد اعتزاز بھائی کراچی منیزہ کی طرف چلے گئے۔ بہزاد بھائی چشمے کو ٹشو سے چمکانے کے بعد دور خلائوں میں تکتے ہوئے شہزاد کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے ’’بی بریو۔۔۔ بی پریکٹیکل‘‘ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے۔

اللہ کی بہت سی نعمتوں میں سے ایک نعمت صبر بھی ہوتی ہے۔ مرنے والوں پر صبر آجاتا ہے۔ دنیا اپنے اندر مقناطیس سے زیادہ کشش رکھتی ہے۔ یہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

وہ اپنے گھر لوٹ آئی۔ اس کا خوابوں جیسا سفید، سرخ ، سبز، سجا گھر۔۔۔ ساحل کی طرف سے آتی مست ہوائیں۔۔۔ ملنے والے اس کے صبر کو سراہتے۔ ہمت کی داد دیتے۔ اس کا مشکل وقت بھی کٹا۔۔۔ وہ خالی نگاہوں سے کہنے والوں کے چہرے تکتی۔ کوئی صبر، ہمت، مشکل نہیں، یہ محبت تھی جو اسے شہزاد سے، اپنے محبوب سے، اپنے شوہر سے تھی اور اس کے شوہر کو اپنی ماں سے محبت تھی۔ لوگ ان دونوں کی مدح سرائی کرتے اور بہت سے ثواب اور صلے کی خوش خبری سناتے۔

ارم کو خود پر حیرت ہوتی۔اسے وہ سب مل گیا تھا، جس کے لےے وہ تڑپتی، روتی اور لڑتی تھی۔ پھر بھی وہ خوش نہیں تھی۔ بارہ سال تک تصور کی آنکھ سے من پسند منظر تخلیق کرتی اور خوش رہتی۔ اب عملی تعبیر سامنے تھی تو دل ناخوش تھا۔ دل نے بہت کچھ سوچنا شروع کر دیا تھا۔ اماںکو بہرحال مر ہی جانا تھا۔ وہ کبھی کبھار شہزاد سے آنکھ نہ ملا پاتی۔

(یہ سوچتا ہوگا میں اب اس کی ماں کے مرجانے کے بعد خوش ہوں)

لوگ اس کی اعلا ظرفی کی تعریف کرتے۔ اسے بہت اجر ملے گا۔ ارم سوچتی، بہزاد، اعتزاز اور دنیا کے دوسرے بہت سے بیٹے، اولادیں اپنے والدین کے حقوق سے نظر چرائے مزے سے کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں، اولڈ ہوم میں اور خود بھی بہت مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ بہت اچھی، قابل رشک۔ اسے کون سا صلہ ملے گا اور کب ملے گا۔ اس نے صلے کی تمنا کب کی تھی۔ اسے اپنی تعریفیں بھی نہیں سننی تھیں۔ اس نے تو بس صبر کیا تھا۔ خود پر جبر کیا تھا۔ اسے آخر کیسا صلہ مل سکتا ہے؟

نو عمری کا جوش و جنون ٹھہرنے لگا تھا۔ جذبے سرد ہونے لگے تھے۔ ان پر راکھ کی تہ جمنے لگی تھی۔ شہزاد مطمئن تھا کہ اس نے ماں کو راضی رکھا۔ وہ اسے دعائیں دیتی دنیا سے رخصت ہوئی۔ لیکن وہ عورت جو اس کی بیوی تھی، کیا اس کے لےے اس کا کوئی فرض نہ تھا؟ کیا اس کے حقوق نہ تھے؟ شوہر کی قربت کوئی ناجائز یا غیر فطری خواہش تو نہ تھی۔ اس کا حق تھا۔ روزِ حشر اس کا بھی تو انصاف ہوگا۔ پھر پتا نہیں کون سا پلڑا بھاری ہوگا۔

کراچی آکر اپنے من پسند لائف اسٹائل کو سیٹ کرنے کی مصروفیت، بچوں کے اسکول، شہزاد کے ساتھ ہر جگہ شرکت، میلہ، دوست، بازار پارک، کھانا پینا، چھوٹا بچہ، بے حد مصروفیت میں جب کوئی اس کے بارہ سالہ جوگ کا ذکر کرتا تو صلے کا اعلان کرتا، وہ ہمیشہ کھوجاتی۔ کیسا صلہ، کب ملے گا، مرنے کے بعد، جنت ، انعام، کیا کیا بلا۔

ئ ئ ئ

احمد ایک برس کا ہوگیا تھا۔ تین بیٹیوں کے بعد بیٹا اس کی خواہش تھا۔ مگر شہزاد کے منع کر دینے پر وہ اپنی خواہش سے دستبردار ہوگئی تھی۔ وہ صرف اماں کی خواہش ، ضد اور دعائوں کے بعد ان کی زندگی کا حصہ بنا تھا۔ ارم کو اپنی تینوں بیٹیاں پیاری تھیں۔ عروہ بڑی ہونے کے باعث، ارفع کی ادائیں اور باتیں، اسریٰ چھوٹو، لاڈو۔ احمد زندگی میں آیا تو اسے لگا اسے صرف اسی سے پیار ہے۔ وہ توتا لگتا، جس میں اس کی جان بند تھی۔

اس نے بہت نارمل طریقے سے بچیوں کو پالا تھا۔ مگر احمد کے معاملے میںکچھ جنونی تھی۔ گرا تو نہیں، کھاتا کیوں نہیں، رویا کیوں، گودمیںچڑھا کر رکھتی۔ کسی دوسرے پر اعتبار کم کرتی۔ ہر گزرتا پل اس کے دل میں احمد کی محبت کو بھرتا جارہا تھا۔دوسری طرف شہزاد کا پیار زیادہ تر بیٹیوں کے لےے تھا۔ مگر احمد کو وہ اپنی ماں کی دعا مانتا۔ ’’میری ماں کی دعا کا نتیجہ ہے۔‘‘

ارم سوچتی۔ ’’یہی تو نہیں ہے وہ صلہ، اجر، بدل؟‘‘

احمد بہت چھوٹا تھا۔ اتنے چھوٹے بچے ماں ہی کے نزدیک ہوتے ہیں۔ مگر احمد کا التفات کچھ اور طرح کا تھا۔ وہ سال بھر کا بچہ تھا۔ پائوں پائوں چلتا اور کچھ جدوجہد کر کے پلنگ سے اتر جایا کرتا۔ شہزاد اور تینوں بچیاں اس کی توجہ کی منتظر رہتیں۔ مگر وہ ہر وقت اپنی ماں کی طرف ملتفت رہتا، اتنے چھوٹے بچے صرف ماں ہی کے نزدیک ہوتے ہیں۔ مگر احمد کا انداز کچھ الگ چونکاتا ہوا تھا۔ اول تو وہ ماں سے ایک پل کے لےے بھی الگ نہ ہوتا۔ گود میں چڑھنے کی ضد تو کرتا مگر اس کی یہ خواہش ہوتی کہ ماں نظروں کے سامنے رہے۔ ایک شانت، خاموش، بے ضرر بچہ، ارم کو اس کے تحمل پر حیرت ہوتی۔ وہ ماں کی ٹھوڑی چباتا، اس کی انگلیاں چومتا۔ چھوٹے بچے کسی کی بھی گود میں جا کر ماں کی طرف ہی ہاتھ بڑھاتے ہیں۔ رو کر، ضد کر کے، چلُا کر، مگر وہ بے حد رحم طلب انداز میں اس کی طرف دیکھتا۔ انداز اتنا بے چارگی آمیز ہوتا کہ لینے والا احساسِ جرم میں مبتلا ہوجاتا کہ بچہ، ماں کی گود ہی میں رہے۔ دوسری طر ف وہ کسی بھی معاملے میں ضدی نہیں تھا۔ جس طرح رکھو، رہے گا۔ مگر ماں کے نزدیک۔۔۔ چلتی پھرتی، سوتی، جاگتی۔ مگر اسے ماں اپنے پاس نظر آنی چاہےے۔

ئ ئ ئ

صبح چار بجے کا وقت ہے۔ وہ روز اس وقت جاگ جاتا ہے۔ اسے بھوک لگ رہی ہے، مگر وہ رو، رو کر گلا نہیں پھاڑ رہا۔ وہ بہت متحمل مزاج ہے۔ اس کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہیں۔ وہ ہیولے کھوج سکتا ہے۔ یہ گہری نیند کا وقت ہے۔۔۔ یا تو نیک جاگ رہے ہیںیا بد۔۔۔وہ بد تو ہرگز نہیں۔۔۔ ہاں! نیکی کی تمیز ابھی نہیں رکھتا۔ گوشت کا لوتھڑا، زبان ضروری تو ہے۔ مگر نہ ہو تو رکاوٹ نہیں۔ بعض باتیں زبان سے ادا تھوڑی کی جاتی ہیں۔ اسے ماں کو جگانا ہے۔ مگر وہ روتا ہے تو ماں پریشان ہوجاتی ہے۔ اس نے اس بات کو محسوس کرلیا ہے۔ بول کر کیسے کہے؟ ہاں۔مگر ہے نا ایک طریقہ۔ وہ گَربہ پائی سے پلنگ سے اترا ہے۔ چلنے کے لےے پلنگ کا سہارا لیتا ہے۔ وہ ماں کے پیروں کے پاس آرکا۔ اس کے چھوٹے گلگلے جیسے ہاتھوں نے پیروں کو تھام لیا۔ کلی جیسے اس کے نازک ہونٹ، ان پیروں کا بوسہ لے رہے ہیں۔ اس کی قامت پلنگ کی اونچائی برابر ہے۔ اس کے گال تلوئوں سے چپکے ہیں۔

پوت کے پائوں پالنے ہی میں نظر آجاتے ہیں۔ اس نے چہرہ ارم کا چرایا اور عادتیں باپ کی۔ وہ شہزاد کا بیٹا ہے اور ماں کے پیروں کے بوسے سے لطف اٹھاتا ہے۔ اسے ابھی ماں کہنا نہیں آیا۔مگر اس نے ماں کو سمجھ ضرور لیا ہے۔ شہزاد کی فرماں برداری حیرت کے ساتھ غصہ لاتی تھی۔ احمد کی فرماں برداری حیرت کے ساتھ حیرت اور پھر خوشی لاتی ہے۔ وہ شہزاد کا بیٹا ہے، تو پھر اسے ایسا ہی ہونا چاہےے۔ شہزاد کا بیٹا ایسا ہی ہوسکتا ہے۔

’’باپ پہ پوت،نسل پہ گھوڑا، بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔‘‘

ارم کی سوچوں کی پرواز ماضی سے سفر کرتی مستقبل تک بڑھی۔ اچھا یا برا، صحیح یا غلط۔ مگر گزر گیا۔

اس کا بیٹا اس کے لےے ساری دنیا سے بڑھ کر تھا اور بیٹے کے لےے یقینا وہ۔۔۔ لیکن وہ اس اہمیت اور محبت پر خود غرضی کا لیبل کبھی نہیں لگوائے گی۔ وہ بیٹے کی اس بے اندازہ محبت پر فخر کرے گی۔ شان سے غرور بھی۔۔۔ وہ اس سے لطف اندوز بھی ہوگی۔

لیکن وہ بیٹے کو باپ کے چلن کو اختیار کرنے سے روکنا جانتی ہے۔

وہ اسے محبت کی تقسیم کا درست طریقہ بتائے گی۔

محبت اندھا ہونے کا نام نہیں۔ محبت کو دونوں آنکھوں میں ہونا چاہےے، تاکہ چہار اطراف کا منظر نمایاں ہو۔ محبت کی پٹی ایک آنکھ کو نہ ڈھکے کہ صرف ایک پہلو اجاگر ہو۔

بند آنکھ کے اس سرے میں کچھ بھی ہورہا ہو، پتا ہی نہ چلے۔

وہ اپنے بیٹے کو محبت میں توازن سکھائے گی۔ وہ اسے اس روش پر چلنا سکھائے گی کہ وہ اس کی صحیح تقسیم کر سکے۔

باپ کی طرح ماں کے حقوق میں اس قدر اندھا ہونے نہیں دے گی کہ وہ کسی کومل جذبات والی نوعمر لڑکی کے جذبات کو روندتا چلا جائے۔

ظاہر سی بات ہے، جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر صرف اس کے لےے چلی آئے گی، وہ ہی اس پر زیادہ حق رکھے گی۔ ماں کا حق ختم نہیں ہوگا۔ لیکن بیاہ کے آنے والی کے تمام حقوق کی ذمہ داری اب اس پر زیادہ ہوگی۔

وہ اسے خود سے محبت کرنے سے نہیں روکے گی۔ وہ اس کا خوب لطف اٹھائے گی۔ اس پر اکڑے گی بھی۔۔۔ مگر اس حد تک، جہاں سے اس آنے والی کومل لڑکی کے حقوق شروع ہوتے ہیں۔ وہ اگر اپنی ماں پر جاں نثار کرنا چاہتا ہے تو اپنے آپ کوشش کرے۔ مذہب ایک رات کے بستر بدلنے کی بھرپائی کی جواب دہی کرتا ہے۔

تو وہی مذہب یہ بھی تو کہتا ہے کہ ماں کی خدمت بیٹے کی ذمہ داری ہے۔ بہو اپنے شوہر کی محبت و اطاعت اگر کرتی ہے تو ماں، بیٹے کو احسان مند ہونا چاہےے نا کہ وہ انہیں خوش رکھنے کے لےے اپنی جوانی اور خواب کو جدائی اور بے کلی کے عذاب میں جھلسا دے۔ وہ اپنے بیٹے کو محبت کرنے کا صحیح طریقہ بتائے گی۔

محبت کی تقسیم کا صحیح فارمولا۔۔۔ وہ اسے اندھا دھند محبت سے روکے گی۔ماں کی محبت سے بھی اور بیوی کی محبت سے بھی۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں