Technology نے زندگی آسان بنائی ہے، لیکن اسی Technology کے کچھ نئے خطرات بھی سامنے آئے ہیں۔
ان میں سے ایک اہم خطرہ ہے:
Deepfake
Deepfake ایسی مصنوعی تصویر، ویڈیو یا آواز ہوسکتی ہے جس میں AI کے ذریعے کسی شخص کے چہرے، آواز یا appearance کو تبدیل کیا جاتا ہے۔
یہ Technology entertainment اور creative work میں بھی استعمال ہوسکتی ہے، لیکن اس کا غلط استعمال خاص طور پر خواتین کے لیے سنگین Privacy اور Harassment risks پیدا کرسکتا ہے۔
پاکستان میں Technology-Facilitated Gender-Based Violence کے مسئلے پر 2026 میں قومی سطح کی strategy بھی سامنے آئی، جس میں cyberstalking، image-based abuse، impersonation اور online intimidation جیسے مسائل شامل کیے گئے ہیں۔
Deepfake کیسے بنایا جاسکتا ہے؟
AI کسی شخص کی:
• تصویر
• ویڈیو
• آواز
• facial features
• speaking style
جیسے data سے نئی مصنوعی media تیار کرسکتا ہے۔
اسی وجہ سے صرف یہ دیکھ کر کہ “ویڈیو میں چہرہ موجود ہے” کسی content کو فوراً اصلی نہیں سمجھنا چاہیے۔
خواتین کے لیے یہ مسئلہ زیادہ اہم کیوں ہے؟
خواتین کو Online harassment، fake profiles، impersonation اور image-based abuse کا سامنا ہوسکتا ہے۔
ایک شخص کسی خاتون کی عام Social Media photograph لے کر fake account بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔
اسی طرح کسی کی آواز کی نقل کرکے اس کے جاننے والوں کو دھوکہ دینے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔
Fake Video کی چند نشانیاں
• چہرے کے expressions غیر فطری محسوس ہوں۔
• آواز اور lips میں معمولی فرق ہو۔
• آنکھوں کی movement عجیب ہو۔
• روشنی اور shadows درست نہ ہوں۔
• Video کا background غیر معمولی ہو۔
• چہرہ اور گردن کے درمیان quality مختلف ہو۔
• تصویر بہت صاف ہو لیکن background غیر فطری ہو۔
لیکن صرف ان نشانیوں پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ AI Technology مسلسل بہتر ہورہی ہے۔
اگر کسی خاتون کی Fake تصویر بنائی جائے تو کیا کرے؟
سب سے پہلے:
• گھبرائیں نہیں۔
• Fake content کو مزید share نہ کریں۔
• Screenshot محفوظ کریں۔
• Original URL محفوظ کریں۔
• Account کا username محفوظ کریں۔
• Date اور time note کریں۔
• Platform پر report کریں۔
• اگر معاملہ سنگین ہو تو متعلقہ cybercrime authorities سے رابطہ کریں۔
پاکستان میں National CERT کا SAFER پروگرام خواتین کو digital safety، cyber harassment، financial fraud اور online abuse سے نمٹنے کے لیے awareness اور resilience training فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
کیا اپنی تصاویر Social Media پر نہیں لگانی چاہئیں؟
یہ فیصلہ ہر شخص کا اپنا ہے۔
اصل مقصد Social Media چھوڑنا نہیں بلکہ Digital Privacy کو سمجھنا ہے۔
خواتین:
• Public profile کو محدود کرسکتی ہیں۔
• پرانی غیر ضروری تصاویر remove کرسکتی ہیں۔
• Friend/Follow requests سوچ سمجھ کر accept کرسکتی ہیں۔
• Personal information کم public رکھ سکتی ہیں۔
• بچوں کی تصاویر share کرتے وقت احتیاط کرسکتی ہیں۔
Family Safety
والدین کو teenage girls کے ساتھ Deepfake اور Online Safety کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے۔
لڑکی کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کسی نے اس کی تصویر یا نام کا غلط استعمال کیا تو یہ اس کی غلطی نہیں ہے۔
اسے خاموش رہنے کے بجائے trusted adult یا متعلقہ authority سے مدد لینی چاہیے۔
سب سے اہم بات
کسی بھی Viral Video کو فوراً سچ نہ سمجھیں۔
Think Before You Share
یہ Digital Age کا ایک بہت اہم اصول ہے۔


