قلم کا ڈھکنا بند کر کے انہوں نے پیپر رائٹنگ پیڈ سے پھاڑا اور لفافے میں رکھ کر اس تھیلے میں ڈال دیا، جس میں پہلے ہی کئی لفافے پڑے تھے۔ ٹیبل لیمپ آف کر کے وہ کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اسٹڈی روم سے نکلنے کے لےے پلٹے مگر سامنے رخشندہ کھڑی تھیں۔
’’فرصت مل گئی اپنے مریضوں سے۔‘‘ رخشندہ نے انہیں کھڑا ہوتے دیکھ کر پوچھا۔ وہ ابھی ابھی انہیں بلانے کے لےے کمرے کے دروازے میں آکھڑی ہوئی تھیں ان کے مسکراکر کہے مخصوص جملے پر کاظم حسن بھی بے اختیار مسکرا دےے۔
’’مجھے زندگی کی آخری سانس تک مریضوں سے فرصت نہیں مل سکتی، یہ تو بس میں آپ کی خاطر آج کا کام کل پر ڈال کر بزرگوں کی حکم عدولی کر رہا ہوں۔‘‘ وہ کمرے سے باہر نکل آئے۔
’’اچھا اور وہ جو بزرگوںنے کہا ہے وقت پر کھانا، وقت پر سونا اس کا کیا۔‘‘ وہ ان کے ساتھ کمرے کی طرف بڑھنے لگیں۔
’’اس پر تو روز عمل کرتا ہوں نا۔ آپ روز عمل کرانے کے لےے تھانیدار کی طرح بغیر ڈنڈے کے چلی آتی ہیں۔‘‘
’’خیر یہ آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ اگر میں نہ ہوں تو آپ تو لوگوں کے نفسیاتی مسائل حل کرتے کرتے خود نفسیاتی مریض بن جائیں۔ میری مانیں کم از کم اخبارمیں مشورے دینا بند کر دیں، پرسنل خطوط کے جواب آپ پرسنلی دیتے ہیں، رسالے میں لکھتے ہیں، پھر کلینک میں بیٹھتے ہیں ہروقت لوگوں کے مسائل ، مسائل، مسائل۔۔۔ آپ کا ذہن۔۔۔‘‘
’’میرے ذہن پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ہاں شروع شروع میں بعض مریضوں سے مل کر اور بعض لوگوں کے خط پڑھ کر بہت ٹینس ہوجاتاتھا لیکن اب تو عام بات لگنے لگی ہے، بلکہ سچ پوچھو تو آدھے سے زیادہ مسائل سن کرمجھے مریض سے ہمدردی ہونے کی بجائے کوفت ہونے لگتی ہے آج کل کی نئی نسل کو سوائے عشق لڑانے کے کچھ آتا ہی نہیں۔ اپنی محبت کو حاصل کرنے کاکوئی طریقہ نہیں اور مجھ سے مشورہ مانگتے ہیں ’’کیا اسے لے کر گھر سے بھاگ جائوں‘‘ اور آخر میں لکھا ہوتا ہے اسے بھول جانے کا مشورہ مت دیجےے گا اور آج کل کی لڑکیاں اوہ گاڈ بالکل بھی ترس کھانے کے قابل نہیں ہیں پہلے اپنی مرضی سے ہر حد پار کرلیتی ہیں پھر نہایت مظلوم بن کر پوچھتی ہیں وہ مجھے بلیک میل کر رہا ہے اب بتائیں کیا کروں۔ سچ پوچھو تو ایسے لوگوں کوجواب دینے کا بالکل دل ہی نہیں چاہتا، لیکن پھر وہ اصول یاد آجاتے ہیں جو دوران تعلیم ہمیں سکھائے جاتے ہیں ، جن میں سے ایک اصول یہ ہے کہ انسان کا ہر فعل کسی عمل کا رد عمل ہوتا ہے بڑی سے بڑی غلطی کے پیچھے بھی قصور وار وہ شخص اکیلا نہیں ہوتا اس کے کئی عوامل ہوتے ہیں۔ ماحول، حالات، وہ وقت۔۔۔‘‘
’’بس رہنے دیں آپ ہی کو ہوگی ایسے لوگوں سے ہمدردی۔ ضرورت ہی نہیں ہے ایسے لوگوں کو جواب دینے کی۔ پھر آپ خود ہی کہتے ہیں آدھے سے زیادہ لوگ ہمارے دےے مشوروں پر عمل نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں اور ہاں اس عورت کا کیا ہوا، جس کے شوہر نے طلاق دے کر بچے کو بھی چھین لیا۔‘‘ رخشندہ یک دم چونک کر بولیں تو کاظم حسن گہری سانس کھینچ کر رہ گئے۔
’’کیا ہوسکتا ہے ایسی عورتوں کا ۔ بس جھوٹی تسلیاں دے دیں۔ میں نے اسے یہی مشورہ دیا کہ بچے کو واپس لینے کی کوشش مت کریں، وہ بچہ اپنے باپ کے پاس زیادہ آسائشوں میں رہے گا، آپ اس کی ضرورتیں پوری کرنے کی اہل نہیں ہیں، بہتر یہی ہے کہ کوئی ہنر سیکھ کر جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں، بھائی بھابھی کے روےے پر دھیان مت دیں جب بھی خود کو تنہا محسوس کریں اپنے اس بھائی کو خط لکھ لیں میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘ رخشندہ کے چہرے پر گہرا ملال چھا گیا۔ کاظم حسن نے انہیں تسلی دینے کی ضرورت نہیں سمجھی وہ خود ہی تھوڑی دیر میں ٹھیک ہوجاتی تھیں ان کی اسی عادت کے پیش نظر وہ اپنے مریضوں کے مسائل ان سے ڈسکس کرلیا کرتے تھے۔
’’چلو سوجائو، گیارہ بج رہے ہیں۔‘‘ کاظم حسن اپنے کمرے میں داخل ہو کر آنکھوں پر سے چشمہ اتارتے ہوئے بولے۔
’’کتنے آرام سے آپ نے لکھ دیا بچے کو باپ کے پاس رہنے دو۔ ارے ہمارے دونوں بیٹے اتنے بڑے ہوگئے ہیں تب بھی انہیں ہاسٹل بھیجتے ہوئے میرا دل ایسے ڈوبا جارہا تھا۔۔۔‘‘
’’ارے میں بتانا ہی بھول گیا شام کو جب تم بازار گئی تھیں ، تب مسز جمال کا فون آیا تھا، کسی ون ڈش میں انوائیٹ کر رہی تھیں تمہیں۔‘‘
’’کمال ہے آپ اب بتا رہے ہیں۔ میں ٹیلر سے کپڑے بھی لے آتی کس دن ہے، ون دش۔‘‘ رخشندہ یک دم اس اداس کیفیت سے باہر نکل آئیں تو کاظم حسن اپنے کامیاب نفسیاتی حربے پر مسکراہٹ روک کر کہنے لگے۔
’’مسز جمال کو بھی ہزاروں تیاریاں کرنے ہوں گی ایک ہفتے سے پہلے تو ہرگز نہیں ہوگی۔‘‘
’’لیکن پھر بھی اب تو بہت رات ہوگئی، صبح فون کر لوں گی۔‘‘ رخشندہ نے خود کلامی کے انداز میں کہا اور بستر پر لیٹی ہی تھیں کہ سٹنگ روم میں رکھے فون کی بیل سنائی دی، بے اختیار ان دونوں کی نظریں وال کلاک کی طرف اٹھ گئیں۔
’’اس فون پر تو صرف آپ کے مریض ہی رابطہ کرتے ہیں مگر انہیں بھی فون کرنے سے پہلے ٹائم دیکھ لینا چاہےے۔ کوئی ضرورت نہیں ہے کال اٹینڈ کرنے کی۔ سمیر (نوکر) بھی اپنے کوارٹر میں چلا گیا ہے۔ خود ہی بند ہوجائے گا بجتے بجتے۔‘‘ رخشندہ نے بگڑے ہوئے انداز میں کہا۔
’’تم جانتی ہو مجھے پھر کیوں ایسی بات کہتی ہو‘‘ کاظم حسن نے بستر سے اٹھتے ہوئے ہلکے سے مسکرا کر کہا اور سٹنگ روم میں آکرفون اٹھالیا۔
’’ہیلو۔‘‘ دوسری جانب مکمل خاموشی چھائی رہی ۔ انہیں دو تین بار ہیلو ہیلو کہنا پڑا اور جس وقت وہ بے زار ہو کر فون بند کرنے لگے دوسری جانب سے کسی کے گھٹے گھٹے انداز میں بولنے کی آواز آئی۔
’’کیا۔۔۔۔ آپ کاظم حسن ہیں؟‘‘
’’جی ہاں میں ہی کاظم حسن ہوں۔ آپ کون؟‘‘
’’کیا اپنا نام بتانا۔۔۔ بہت ضروری ہے۔‘‘ دوسری طرف جو کوئی بھی تھا بہت آہستہ آواز میں بول رہا تھا۔
’’نہیں، بالکل بھی ضروری نہیں۔ اگر اپنا نام بتائے بغیر بات کرنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔‘‘ کاظم حسن نے صوفے پر آرام دہ حالت میں بیٹھتے ہوئے کہا، انہیں یقین تھا کہ یہ لڑکا لمبی بات کرنے کے موڈ میں ہے۔
’’میرے پاس بات کرنے کے لےے کچھ بھی نہیں۔ میں نے سنا ہے آپ بہت بڑے ماہر نفسیات ہیں۔ مجھے تو بس آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ اگر کسی کو بار بار خودکشی کا خیال آئے تو کیا وہ نفسیاتی مریض بن جاتا ہے۔‘‘ اس کے انداز میں ایک عجیب سی جھجک تھی جیسے اپنے سوال پر وہ خود بھی شرمندہ ہو۔
’’یہ تو ڈپیند کرتا ہے کہ اسے خود کشی کا خیال آتا کیوں ہے۔‘‘ کاظم حسن کے لےے یہ جان لینا قطعی مشکل نہ تھا کہ وہ خود کشی کرنا چاہ رہا ہے اور اب انہیں یہ اگلوانا تھا کہ وہ ایسا کیوں چاہتا ہے۔
’’بس۔۔۔ وجہ چاہے کوئی بھی ہو کیا بار بار خود کشی کا خیال آنا نفسیاتی علامت ہے اور کیا مضبوط سے مضبوط انسان بھی بار بار ایسے خیالات پر خود کشی کر سکتا ہے۔‘‘
وہ اپنے سوال پر مسکرا دےے آواز اور سوال کرنے کے انداز سے وہ خاصا مضطرب لگ رہا تھا، پھر بھی اپنے بارے میں اس کی یہ رائے تھی کہ وہ بہت مضبوط ہے، مگر کم از کم اس کی اس حرکت سے انہیں اتنا اطمینان تو ہوا تھا کہ وہ جلد ہی اسے اپنے ٹرانس میں لے لیں گے کیونکہ ایسے لوگوں کو ذرا سی خوشامد کے ذریعے آرام سے اس خوش فہمی میں مبتلا کیا جاسکتا ہے کہ وہ بہت بہادر ہیں اور ایسی بزدلی انہیں زیب نہیں دیتی اس لےے اس کے سوال سے اتفاق کرنے کے باوجود انہیں نے اختلاف کر دیا۔
’’نہیں بالکل نہیں۔ جو انسان مضبوط ہو وہ کبھی خود کشی نہیںکر سکتا۔‘‘ حالانکہ ان کی اپنی سوچ تھی کہ انسان کمزور نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی کوئی ایک لمحہ کمزور ہوتا ہے، بعض لوگوں کی زندگی میں وہ لمحہ آتا ہی نہیںاور وہ خود کو بہادر سمجھتے رہتے ہیں اور بعض لوگوں کی زندگی میں قدم قدم پر وہ لمحے آتے ہیں۔
’’کیا حالات انسان کو کمزور نہیں بنا دیتے؟‘‘ ایک اور الجھا ہوا سوال۔ ایسے پیشنٹ انہیں بہت مشکل لگتے تھے جو کھل کر بات ہی نہیں کرتے کیونکہ جب تک وہ یہ نہ بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے انہیں سمجھانا اور ان کے مسئلے کو حل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ گہرا سانس کھینچ کر کہنے لگے۔
’’دیکھو بیٹے تمہاری آواز سے پتا چل رہا ہے کہ تمہاری عمر پچیس چھبیس سال سے زیادہ نہیں ہے تمہاری عمر میں تو زندگی بہت پرکشش ہوتی ہے، پھر بھی اگر تم حالات کو الزام۔۔۔‘‘
’’زندگی پرکشش نہیں ہوتی۔ بلکہ زندگی کو پرکشش ہونا چاہےے، لیکن جو کچھ ہونا چاہےے وہ ہوتا کب ہے۔ میری زندگی تو بہت بے کیف بلکہ بہت بوجھل ہے اتنی کہ ہر وقت مرجانے کا دل چاہتا ہے۔ لیکن دماغ کا کوئی ایک حصہ مجھے ایسا کرنے سے روک رہا ہے، میں صرف یہی جاننا چاہتا ہوں کیا اس کشمکش میں بالآخر میں ایک دن خود کشی کرلوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں عجیب سا ملال گھلا ہوا تھا۔
’’جب تک تم یہ نہیں بتائو گے کہ تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے تمہیں کوئی مشورہ نہیں دیا جاسکتا، ویسے اتنا میں ضرور کہوں گا کہ خود کشی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے پھر۔۔۔‘‘
’’میرے مسئلے کا سرے سے کوئی حل ہے ہی نہیں سوائے خود کشی کے۔ یہ سارے جھنجھٹ میری ذات کے ساتھ ہیں۔ میں مرجائوں تو یہ بھی ختم ہوجائیں۔‘‘ وہ ایسے کھلنے والا نہیں تھا لہٰذا اب انہیں خود ہی قیاس آرائیاں کرنی تھیں۔
’’کیا کسی لڑکی نے بے وفائی کرلی ہے۔‘‘ دوسری طرف وہ بڑے عجیب سے انداز میں ہنسا۔
’’آپ کے کالم میں نوجوان نسل ایسے ہی خط لکھتی ہے نا کہ وہ لڑکی نہ ملی تو خود کشی کرلوں گا، مگر میں ان میں سے نہیں ہوں۔‘‘ اس کا لہجہ نہایت تلخ ہوگیا۔
’’تو کیا نوکری نہیں مل رہی اس لےے ڈگریوں کو جلا کر خود کو بھی جلا لینا چاہتے ہو۔‘‘ کاظم حسن اسے اکسا رہے تھے تاکہ وہ غصے سے پھٹ پڑے اور سب بتادے۔
’’لگتا ہے آپ کا تجربہ بہت محدود ہے اللہ حافظ۔‘‘ اس نے کھٹ سے فون بند کر دیا۔ کاظم حسن ایک لمحے کے لےے سنُاٹے میں چلے گئے، انہیں ہر گز امید نہیں تھی کہ وہ فون بند کر دے گا ایسے لوگ جو بار بار خودکشی کرنے کا سوچتے ہیں وہ عموماً تنہائی کا شکار ہوتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی بات سنے انہیں سمجھنے کی کوشش کرے مگر اس نے تو فون بند کر دیا۔ کہیں وہ واقعی خود کشی نہ کرلے نہ جانے وہ ڈپریشن کی کون سی اسٹیج پر تھا۔
کاظم حسن کتنی دیر فون کے پاس بیٹھے رہے کہ رخشندہ کے اٹھ کر آجانے پر انہیں اٹھنا پڑا۔
’’کمال کرتے ہیں۔ آپ خود ہی تو کہتے ہیں ایسے کوئی خود کشی نہیں کرتا، پھر وہ کیوں کرلے گا۔‘‘ رخشندہ بگڑ کر بولیں۔
’’یہ بات میں لوگوں کے حالات سے واقفیت حاصل کرلینے کے بعد کہتا ہوں جب کہ اس کے بارے میں تو مجھے کچھ پتا ہی نہیں اب جب تک دوبارہ اس کا فون نہیں آجاتا مجھے بے چینی رہے گی۔‘‘ کاظم حسن نے بڑبڑانے کے انداز میں کہا۔
ض ض ض
اگلے دن مصروفیت کے باوجود کاظم حسن کے ذہن میں اس لڑکے کے فون پر کہے الفاظ گونجتے رہے۔
’’میرے مسئلے کا کوئی حل ہے ہی نہیں، سوائے خود کشی کے۔‘‘
حالانکہ عموماً ان کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا تھا شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اس لڑکے سے کچھ اگلوا نہیں سکے تھے پتا نہیں اس کے کیا حالات تھے اسی وقت فون کی گھنٹی بج اٹھی اور سارا دن فون ریسیو کرتے وقت وہ یہ سوچتے رہے شاید یہ اس کا فون ہوگا اس بار بھی اسی سوچ کے ساتھ انہوں نے ریسیور اٹھالیا اور دوسری طرف وہی گھٹی گھٹی آواز سن کر جیسے ان کے سر سے منوں بوجھ اتر گیا۔
’’آ۔۔آپ کاظم حسن بول رہے ہیں نا۔‘‘
’’ہوں! اور تم وہی ہو نا جس نے کل میرے تجربے کو محدود کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔‘‘ کاظم حسن نے نہایت بے تکلفی سے بات کی اور اس کے جواب کا انتظار کےے لہجے کو مزید دوستانہ بناتے ہوئے بولے۔
’’میرا تجربہ چاہے جتنا بھی محدودہو، لیکن تمہارے بارے میں میرا ایک اندازہ بالکل صحیح نکلا۔ میں جانتا تھا کہ تم خود کشی ہرگز نہیں کرو گے، کیونکہ جس کانفیڈنس کے ساتھ تم نے میرے بارے میں رائے دیتے ہوئے فون بند کیا تھا اس سے میں جان گیا تھا کہ تمہاری قوتِ فیصلہ بہت مضبوط ہے اور مضبوط قوتِ ارادی کے لوگ کبھی خود کشی نہیں کرتے۔‘‘ کاظم حسن محض اسے خوش فہمی میں مبتلا کرنا چاہ رہے تھے، ورنہ وہ تو اس کے مزاج کے بارے میں الف بے بھی نہ جان سکے تھے۔
دوسری طرف ان کی بات سن کر وہ کچھ بولا نہیں کافی دیر بعد اس کی آوا ز ایئر پیس سے ایسے ابھری جیسے وہ اپنے آپ سے کہہ رہا ہو۔
’’پتا نہیں آپ نے میرے بارے میں یہ اندازہ کیسے لگالیا، ورنہ میرے اندر تو سرے سے قوتِ ارادی جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔‘‘
’’ناممکن تمہاری آواز کافی اچھی ہے، شاید تمہاری شکل بھی اچھی ہوگی اور شکل اچھی ہو تو خود اعتمادی خود بخود آجاتی ہے۔‘‘ کاظم حسن صرف اندھیرے میں تیر چلا رہے تھے، کیونکہ یہ بات تو طے تھی کہ وہ بہت ڈیپریس تھا۔ ڈیپریشن کی وجہ چاہے جو بھی ہو اپنی تعریف سن کر اس میں لازمی طور پر کمی آتی ہے۔ خاص طور پر جوانی میں اپنی تعریف سننا بہت ہی اچھا لگتاہے اور ان کا یہ حربہ بہت حد تک کامیاب بھی رہا تبھی وہ ٹھٹک گیا۔
’’میری شکل!‘‘ وہ جس طرح رکا تھا اس سے کاظم حسن کو لگا جیسے اس نے کمرے میں رکھے آئینے کی طرف مڑ کر دیکھا ہو اپنے اندازے کی تصدیق کے لےے وہ فوراً بولے۔
’’کیوں؟ کیا کہہ رہا ہے آئینہ۔ سامنے ہی تو رکھا ہے خود دیکھو اور بتائو۔‘‘
’’آپ۔۔۔۔ آپ کو کیسے معلوم ہے کہ۔۔۔ آئینہ سامنے لگا ہے۔‘‘وہ حیرت سے گویا ہوا تو کاظم حسن بے اختیار مسکرادےے۔
’’مجھے تو یہ بھی معلوم ہے کہ آئینہ میری بات کی تصدیق کر رہا ہے۔ ہے نا۔‘‘ اب کی بار اس نے جس طرح گہرا سانس کھینچاتھا ا س سے لگا جیسے اس نے سر جھٹکتے ہوئے آئینے کے سامنے سے رخ موڑ لیا ہو۔
’’میری شکل اتنی بدصورت ہے کہ اگر میں زیادہ دیر آئینے کے سامنے کھڑا رہوں توآئینہ چٹخ جائے۔‘‘ وہ تلخ ہوگیا۔
’’اس لےے خود کشی کرنا چاہتے ہو۔‘‘ کاظم حسن اس خطرے کے پیش نظر جلدی سے بولے کہ کہیں وہ پھر فون بند نہ کر دے۔
’’اگر میں خود کشی کرنا چاہتا تو آپ کو فون کیوں کرتا۔‘‘ دوسری طرف وہ بہت بے بسی کے عالم میں بولا۔
’’لیکن تمہیں خود کشی کا خیال کیوں آتا ہے بار بار۔‘‘
کاظم حسن نے اپنی بے چینی کو چھپاتے ہوئے حتی الامکان لہجہ نارمل رکھا۔
’’بس۔۔۔ زندگی بوجھ لگتی ہے۔‘‘ وہ اضطرابی انداز میں بولا۔
’’لیکن کیوں۔ اچھا تمہاری عمر کیا ہے۔‘‘ کاظم حس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی وہ فون بند کرنے والا ہے جو شخص کچھ بتانا نہ چاہے اس سے اصرار کرنے میں یہی خطرہ ہوتا ہے کہ وہ فون بند نہ کردے۔
’’آپ نے ہی تو کہا تھا پچیس سال کے ہوگے۔‘‘ وہ چڑ کر بولا۔
’’میں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ کوئی لڑکی بے وفائی کر گئی ہوگی، یا نوکری نہیں مل رہی ہوگی۔ مگر میرے وہ اندازے کب صحیح تھے تمہارے ساتھ مسئلہ کچھ اور ہے۔‘‘
’’ہاں میرا مسئلہ تو کچھ اور ہی ہے۔ بلکہ میں خود ایک مسئلہ ہوں جو مر کر ہی حل ہوسکتا ہے۔‘‘ اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا اور فون بند کر دیا۔ کاظم حسن ایک بار پھر حیرت میں گھرے رہ گئے۔ یہ کیس واقعی بہت پیچیدہ تھا جب اسے گھیر کر موضوع پر لائو وہ فون بند کر دیتا اس سے بات ہو تو کیسے۔
اگلے دو دنوں تک اس کا فون نہیں آیا اور ایسا کاظم حسن کے ساتھ بہت عرصے بعد ہورہا تھا کہ کسی پیشنٹ کا فون نہ آنے پر وہ اتنی بے چینی محسوس کر رہے تھے جب انہوں نے نئی نئی پریکٹس شروع کی تھی تب کسی کا بھی مسئلہ سن کر وہ اس میں غیر ضروری حد تک ڈوب جاتے یہاں تک کہ وہ خود ڈیپریشن کا شکار ہونے لگتے پھر جیسے جیسے وہ اس پروفیشن میں پرانے ہوتے گئے وہ لوگوں کے مسائل سننے کے عادی ہوتے گئے، بقول ان کے والد کے۔
’’تم اب بے حس ہوگئے ہو اس لےے کسی کی تکلیف پر تکلیف محسوس نہیں کرتے۔‘‘ جب کہ کاظم حسن اس میں بھی نفسیاتی پہلو نکال لیتے۔
’’بابا، یہ بے حسی نہیں تجربہ ہے، یا یوں کہہ لیں ایک ہی طرح کے حالات سے گزرتے گزرتے وہ انسان کو روٹین لگنے لگتا ہے اور پھر تکلیف دینا بند کر دیتا ہے آپ کو آپ کے انداز میں سمجھاتا ہوں بقول غالب۔
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہوگئیں‘‘
مگر آج وہ واقعی ایک اضطرابی کیفیت میں مبتلا تھے، حالانکہ وہ خود کو سمجھا بھی رہے تھے مگر خود کو لاکھ اطمینان دلانے کے باوجود ایک سوال مستقل کھٹک رہا تھا اگر اس نے فون نہ کیا تو وہ اس کا مسئلہ کیسے جان سکیں گے۔ رخشندہ تو ان کی بات سن کر ہنس پڑیں۔
’’تو گویا آپ کو فکر سے زیادہ تجسس ستا رہا ہے تبھی میں کہوں اتنے پروفیشنل ہونے کے باوجود اتنے پریشان ہیں آپ، لیکن یہ پریشانی نہیں بلکہ سسپنس ہے جیسے کسی سلسلے وار ناول کی کوئی قسط کسی سنسنی خیز موڑ پر جا کر ختم ہوجاتی ہے تو اگلی قسط آنے تک بے چینی رہتی ہے اس لڑکے کی ادھوری گفتگو نے آپ کو اسی تشنگی میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘ رخشندہ ایسے بولیں جیسے کوئی بہت بڑا معمہ حل کر لیا ہو۔
’’اسی لےے میں فون میں کلپ لگانا چاہتا ہوں، حالانکہ مجھے اسے جواب میں فون نہیں کرنا چاہےے کیونکہ اگر میں خود اس کے پیچھے جائوں گا تو وہ مجھ سے بے زار ہوجائے گا اور بالکل بھی تعاون نہیں کرے گا ویسے تو وہ ابھی بھی کاپریٹ نہیں کر رہا لیکن پھر وہ بات کرنا بھی چھوڑ دے گا۔‘‘
’’ارے چھوڑیں بھی آپ ہر وقت اپنے مریضوں کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور اس سے تو فیس بھی نہیں ملنے والی۔‘‘ رخشندہ اپنے مخصوص انداز میں نروٹھے پن سے بولیں تو کاظم حسن قہقہہ مار کر ہنسنے لگے حالانکہ رخشندہ جانتی تھیں وہ اپنے پیشے کو عبادت کی طرح سمجھتے ہیں اور کبھی فیس کی پروا نہیں کی وہ واقعی ایک مخلص ڈاکٹر تھے۔
ض ض ض
اس دن اس کا فون خلافِ معمول بھری دوپہر میں آگیا۔ کاظم حسن نے اشارے سے گھر کے نوکر سمیر سے کہہ دیا کہ رخشندہ اور اماں کھانے پر ان کا انتظار نہ کریں۔ رخشندہ کے غصے کی پروا کےے بغیر وہ اس لڑکے سے خوش دلی سے باتیں کرنے لگے۔
’’تمہیں تو پتا بھی نہیں ہوگا کہ میں تمہارے فون کا کس قدر انتظار کر تا ہوں مگر تمہیں جاننے میں بھلا کیا دلچسپی ہوسکتی ہے۔ میں ٹھہرا ایک بڈھا، ایک ڈاکٹر۔جس سے لوگ ویسے بھی بھاگتے ہیں۔ یہ بات کوئی لڑکی تمہیں کہتی تو تمہیں خوشی بھی ہوتی۔ یا شاید تب بھی نہ ہوتی میں تمہارے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں، جو یقین سے کچھ کہہ سکوں۔‘‘
’’کیا آپ واقعی میرے فون کا انتظار کرتے ہیں۔ مجھ میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ میرے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ کاظم حسن کا شک یقین میں بدلنے لگا کہ وہ بہت زیادہ تنہائی کا شکار ہے اور دوسروں کی توجہ کا طلب گار۔
’’اور کیا جب تم ایک دم سے فون بند کر دیتے ہو تو تمہیں نہیں پتا مجھے کتنا برا لگتا ہے گھنٹوں میں سوچتا رہتا ہوں پتا نہیں تم دوبارہ فون کرو گے یا نہیں۔ پتا نہیں تمہارا نام کیا ہے۔‘‘
’’میرا نام باقر ہے۔‘‘ وہ بے اختیار بولا۔ کاظم حسن کو ایک خوش گوار حیرت کا احساس ہوا۔
’’ہوں باقر کیا کرتے ہو تم۔‘‘ کاظم حسن نے پوچھا۔
’’فی الحال تو کچھ نہیں۔‘‘
’’کیوں۔۔۔ میرا مطلب ہے رزلٹ کا انتظار کر رہے ہو۔‘‘ انہوں نے سنبھل کر کہا۔
’’نہیں، پڑھائی چھوڑ دی ہے ۔ ویسے میں سی اے کر رہا تھا۔‘‘ وہ پہلی بار اپنے بارے میں کچھ بتانے کے لےے تیار ہوا تھا۔ وہ اس سے سب کچھ اگلوالینا چاہتے تھے۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر اپنے خول میں بند جائے۔
’’کب چھوڑی تھی پڑھائی۔ کتنا ٹائم ہوگیا۔‘‘
’’چھ ماہ ہوگئے۔‘‘
’’مطلب ابھی چھوڑی ہے۔ تو پھر فوراً پڑھائی دوبارہ شروع کر دو اس سے پہلے کہ تمہارا سال ضائع ہوجائے۔‘‘
’’یہاں زندگی ضائع ہورہی ہے اور آپ کو سال کی پڑی ہے۔‘‘ وہ تلخی سے بولا۔
’’زندگی اسی لےے ضائع ہورہی ہے کیونکہ تم نے تعلیم پر توجہ دینا چھوڑ دی ہے۔ کالج میں چاہے کوئی بھی پرابلم ہو پڑھائی چھوڑ۔۔۔‘‘
’’میرے کالج میں کوئی مسئلہ نہیں ہے مسئلہ میرے گھر میں ہے وہ بھی میری موجودگی کی وجہ سے۔‘‘ وہ پھر چڑ کر بولا۔
’’کون کون ہے تمہارے گھر میں؟‘‘
’’بہت لوگ ہیں بس جس کی سب سے زیادہ اہمیت ہے وہی نہیں ہے۔‘‘ کاظم حسن کی سمجھ میں خاک بھی نہیں آیا تھا پھر بھی پوچھنے لگے۔
’’اسی لےے تو اس کی اہمیت ہے اگر وہ واپس آجائے تو اس کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔‘‘
’’وہ جب یہاں تھا تب بھی اہم تھا اور اب جب یہاں نہیں رہا اور بھی اہم ہوگیا۔‘‘ کاظم حسن اس کے اندازِ گفتگو پر چونک اٹھے وہ تو کسی آدمی کے بارے میں بات کر رہا تھا جبکہ وہ کچھ اور ہی سمجھ رہے تھے۔
’’کس کے لےے اہم تھا؟‘‘
’’میرے ماں باپ کے لےے۔ وہ سب کچھ تھا اور میں کچھ بھی نہیں۔‘‘ اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا تو کاظم حسن کے ذہن میں الجھی کئی گتھیاں سلجھ گئیں۔
’’کیا نام ہے تمہارے بھائی کا؟‘‘
’’عامر۔‘‘
’’تم سے بڑا ہے؟‘‘
’’ہاں،ہر لحاظ سے مجھ سے بہت بڑا ہے۔ عمر میں، ذہانت میں۔ پرسنالٹی میں، فرماں برداری میں اور ہر چیز میں میرا اس سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔‘‘ اس کا لہجہ پھر تلخ ہوگیا۔ کاظم حسن کچھ چپ سے ہوگئے اس کا مسئلہ وہ پوری طرح سمجھ گئے تھے اب صرف اسے سمجھانا تھا۔ ایک دفعہ کے سمجھانے سے کچھ نہیں ہونے والا تھا۔ انہیں بار بار یہ یقین دلانا ہوگا کہ وہ اپنے بھائی سے کسی طرح بھی کم نہیں اور اسے بھائی کے متعلق سوچنے کے بجائے اپنے کیریئر کے بارے میں سوچنا چاہےے مگر جو لڑکا اتنی سی بات پر پڑھائی وغیرہ چھوڑ کر خود کشی کے بارے میں سوچ رہا ہو اس کی ذہنی حالت الفاظوں سے بدلی نہیں جاسکتی پھر بھی انہوں نے مناسب الفاظ کاچنائو کرتے ہوئے کہا۔
’’تمہارا بھائی کیا کرتا ہے اور تمہارے ساتھ اس کا رویہ کیسا ہے۔‘‘ کاظم حسن نے یہ سوال اس لےے پوچھا تاکہ وہ اپنے اندر کی بھڑاس نکال دے، ورنہ ظاہر سی بات تھی جب اس کا بھائی ماں باپ کا اتنا لاڈلا تھا تو اس کا رویہ برا ہی ہوگا۔
’’اس کا رویہ۔‘‘ وہ خود کلامی کے انداز میں بول کر چپ سا ہوگیا۔ کاظم حسن خاموشی سے اس کے بولنے کا انتظار کرتے رہے تب کافی دیر بعد وہ بڑبڑانے کے انداز میں بولا۔
’’اس میں ساری خوبیاں ہی خوبیاں تھیں کوئی خامی تھی ہی نہیں۔ میرے ساتھ وہ بالکل نارمل تھا، بلکہ کئی مقام پر وہ ماں باپ سے میرے لےے لڑا تھا۔ اسکول کے زمانے میں پڑھائی میں میری مدد بھی کرتا تھا۔‘‘ وہ بات کرتے کرتے پھر خاموش ہوگیا۔
’’باقر! جب بھائی اتنا اچھا ہے تو تمہیں ماں باپ کے روےے کو نظر انداز کر دینا چاہےے۔ میں مانتا ہوں بعض اوقات ماں باپ ایک بچے کو دوسرے بچے پر ترجیح دیتے ہیں جس سے بچوں میں احساس کمتری، حسد اور غرور جیسی خامیاں پیدا ہوجاتی ہیں لیکن اگر اپنی تعریفیں سن کر بھی تمہارا بھائی بددماغ نہیں ہوا ہے تو تمہیں بھی جلن اور حسد میں مبتلا نہیںہونا چاہےے بلکہ ماں باپ کے غیر منصفانہ روےے کو ان کی محبت سمجھنا چاہےے شاید وہ چاہتے ہوں گے کہ تم اپنے بھائی جیسے بن جائو حالانکہ ہوسکتا ہے تم میں ا س سے زیادہ خوبیاں ہوں، مگر تم خود کومنوانے کے بجائے پڑھائی وغیرہ چھوڑ کر منفی ردعمل کامظاہرہ کرر ہے ہو تبھی ان کی نصیحتیں اور تنقید زیادہ بڑھ گئی ہوں گی جس کا تم الٹا اثر لے۔۔۔‘‘
’’ہاں ساری خامیاں مجھ میں ہیں، میں مرجائوں تو سارے مسئلے حل ہوجائیں۔‘‘ وہ عجیب رندھی ہوئی آواز میں ان کی بات کاٹ کربولا۔ کاظم حسن نے اپنے ابل پڑنے والے غصے کو بمشکل روک اور تحمل سے بولے۔
’’تمہارے مرنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا الٹا تمہارے والدین کو ناقابل تلافی دکھ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھلے ہی تمہیں ان کی محبت کا احساس نہ ہو مگر وہ تم سے بہت محبت کرتے ہیں تب ہی وہ تمہیں اتنی اہمیت دیتے ہیں کہ تمہارے بھائی کے ساتھ تمہیں کمپیئر کرتے ہیں میری مانو اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کر دو اور ساری توجہ صرف پڑھائی پر وقف کر دو تمہارا بھائی اگر بہت ذہین ہے تو تم بھی کچھ کم نہیں ہو۔‘‘
’’مجھے اپنی ذہانت ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ مجھے اس گھر میں کوئی ذہین نہیں مان سکتا اور پڑھائی تو مجھ سے ہوتی ہی نہیں۔ کتاب کھولتا ہوں تو ایسا لگتا ہے، جیسے حرف کیڑے مکوڑوں کی طرح میرے سامنے رینگ رہے ہوں۔ میں۔۔۔ میں کبھی نارمل زندگی نہیں جی سکتا۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘ کاظم حسن کو محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کچھ چھپا رہا ہے۔
’’تمہارے والدین کا رویہ شروع سے تمہارے ساتھ ایسا ہی ہوگا پھر بھی تم نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ یہاں تک کہ یونیورسٹی تک پہنچ گئے پھر اب کیوں پڑھائی نہیں کر سکتے، بلکہ اگر تمہارے معاشی حالات اجازت دیں تو تم ہاسٹل شفٹ ہوجائو۔ وہاں تم زیادہ یکسوئی سے پڑھ سکو گے اور پھر بعض اوقات انسان جن لوگوں کے بیچ رہتا ہے ان کی خوبیاں وہ اس وقت نہیں جان پاتا لیکن جب وہ ان سے دور چلا جاتا ہے تب ان کی اچھائیوں کا احساس ہوتا ہے جو ساتھ رہ کر کبھی نظر نہیں آتیں، شاید تب تمہیں بھی اپنے ماں باپ کا وہ پیار نظر آجائے جسے تم ابھی محسوس نہیں کرپاتے۔‘‘
کاظم حسن نے پرسکون اور دھیمے لہجے میں کہا۔ خلافِ توقع وہ ان کی بات خاموشی سے سنتا رہا۔
’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔‘‘ کچھ دیر کے توقف کے بعد وہ اپنے مخصوص خود کلامی کے انداز میں بولا۔
’’جب کوئی دور چلا جاتا ہے تب اس کی خوبیوںکا اندازہ ہوتا ہے، عامر بھائی کے جانے کے بعد مجھے پتا چلا وہ کتنے اچھے تھے۔‘‘
’’کہاں چلا گیا ہے تمہارا بھائی۔‘‘ کاظم حسن نے ٹھٹک کر پوچھا ورنہ اب تک تو وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ اس کی موجودگی کے باعث وہ احساس کمتری میں مبتلا ہورہا ہے تب ہی وہ اسے ہاسٹل جانے کا مشورہ دے رہے تھے۔
’’وہاں، جہاںسے کوئی واپس نہیں آسکتا۔‘‘ باقی کی بات پر وہ سناٹے میں رہ گئے۔
’’تمہارا بھائی مر گیا ہے‘‘ وہ اچنبھے کے عالم میں بولے لیکن اگلے ہی پل انہوں نے خود کو سنبھال لیا۔
’’آں۔۔۔ کیسے، میرا مطلب ہے کیا ہوا تھا اسے۔‘‘
’’ایکسیڈنٹ۔‘‘اس نے مختصر کہا۔
’’اوہ آئی ایم سوری۔ اور کوئی بہن یا بھائی ہے تمہارا؟‘‘
حالانکہ انہیں یقین تھا ا س کا جواب نہیں میں ہوگا پھر بھی پوچھ لیا۔
’’نہیں۔‘‘
’’کب ہوئی اس کی موت، کیا روڈ ایکسیڈنٹ تھا۔‘‘
’’ہاں روڈ ایکسیڈنٹ۔ اب تو چھ مہینے ہوگئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے جانے کتنے سال گزر گئے ہوں۔۔۔ بلکہ۔۔۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔ اس کا زندہ ہونا کسی خواب کی سی بات لگتی ہے اور کبھی کبھی لگتا ہے جیسے وہ آج بھی زندہ ہے۔وہ کبھی مر نہیں سکتا۔ اس گھر کے لوگ اسے کبھی مرنے نہیں دیں گے، بھلے اس کی وجہ سے زندہ لوگ مرجائیں لیکن وہ کبھی مر ہی نہیں سکتا۔‘‘ باقر پر گویا ہیجان طاری ہوگیا تھا وہ گھٹے گھٹے اندازمیں بے ربط بولے جارہا تھا۔ کاظم حسن اس کی بات سن کر الجھ گئے اس گتھی کو سلجھانے کے لےے وہ اس کا سرا تلاش کرنا چاہتے تھے جو ان کے ہاتھ صرف اسی صورت میں لگ سکتا تھا جب باقر ان کے سوالوں کا صحیح صحیح جواب دے۔
’’باقر، باقر، ریلیکس بیٹے! تمہارا بھائی تم سے عمر میں بڑا تھا مگر ہوگا تو کم عمر ہی۔ جوانی میں اگر کوئی شخص مر جائے تو گھر والوں کو اس کی موت کا یقین مشکل سے ہی آتا ہے۔ اور اگر یہ موت کسی حادثے میں اچانک ہوئی ہو تو ا س حقیقت کو قبول کرنا آسان نہیں ہوتا تمہارے والدین جوان بیٹے کی اچانک موت کے صدمے سے اتنی جلدی باہر نہیں آسکتے، ان سے ایسی توقع رکھنا ہی غلط ہے۔ اگر وہ اپنے اس غم میں تمہیں کچھ کہہ دیتے ہیں تو ان کی حالت کو سمجھو نہ کہ خود کشی کرنے کا سوچ کر ان کی تکلیفوں کو اور بڑھا دو۔ تمہارے مرجانے سے ان کا غم دگنا ہوجائے گا یہ تو کوئی حل۔۔۔‘‘ کاظم حسن رسانیت سے کہہ رہے تھے کہ وہ ایک دم پھٹ پڑا۔
’’میرے مرنے سے کسی کا غم دگنا نہیں ہوگا الٹا غم ختم ہوجائے گا کیونکہ ان کا دکھ میری شکل دیکھ دیکھ کر بڑھتا ہے کیونکہ جس بائیک میں عامر بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا وہ میں چلا رہا تھا۔ جب وہ مر گیا تو۔۔۔۔ میں میں کیوں زندہ رہ گیا، حالانکہ میں نہ کسی کی آنکھوں کا تارا تھا نہ کسی کلیجے کی ٹھنڈک۔ میں کیوں نہیں مرا۔۔۔ کیوں نہیں۔‘‘ وہ چیخ کر بولا تھا اور بات ختم کرنے تک وہ رونے لگا تھا۔ کاظم حسن شاکڈ رہ گئے تھے۔ وہ اسے تسلی دینا چاہتے تھے مگر دوسری طرف باقر نے لائن کاٹ دی۔
ض ض ض
اتنے دنوں میں پہلی بار باقر نے اپنے بارے میں کچھ بتایا تھا مگر کاظم حسن کی بے چینی کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی تھی وہ جو پہلے یہ سوچ رہے تھے کہ باقر تین چار سٹنگ میں ان کی بات سمجھ لے گا اب ان کی یہ امید ختم ہوگئی تھی۔ اس کامسئلہ ہی الگ تھا اسے سمجھانے سے زیادہ اس کے ماں باپ کو سمجھانے کی ضرورت تھی، جو قسمت کی ستم ظریفی سے ایک بیٹے کو کھو چکے تھے اور اپنی بے وقوفی سے دوسرے کو کھونے پر تلے ہوئے تھے۔
’’کیا بات ہے کاظم! کھانا کیوں نہیں کھا رہے۔‘‘
اماں کے ٹوکنے پر وہ چونک کر ان کی طرف دیکھنے لگے، جو خود بھی کھانے سے ہاتھ روک کر انہیں دیکھ رہی تھیں اور اب ان کے کہنے پر بابا اور رخشندہ بھی ان کی جانب متوجہ ہوگئے تھے۔
’’کچھ نہیں اماں۔ آپ تو ایسے ہی پریشان ہوجاتی ہیں۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولے۔
’’پریشان تو ہوں گی نا۔ اتنا کام کرتے ہو اور اپنی خوراک کا دھیان نہیں رکھتے۔ حالانکہ ہزار بار کہا ہے میں نے جب کلینک سے گھر آئو تو سارے جھمیلے کلینک میں چھوڑ کر آیا کرو۔ مگر مریض تمہاری کیا سنیں گے جب تم میری نہیں سنتے۔‘‘ اماں کی بات پر بابا زور سے ہنس دےے۔
’’گویا تم نے کاظم کو بھی مریض بنا دیا۔‘‘
’’ارے کھائے گا پےے گا نہیں تو۔۔۔‘‘
’’اماں کھا تو رہا ہوں آپ تو ابھی بھی میرے ساتھ بچوں کی طرح ٹریٹ کرتی ہیں۔ میں بس ایک پیشنٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘ یہ کہہ کر انہوں نے باقر کے بارے میں مختصراً بتا دیا تو اماں ٹھنڈی سانس لے کر ملال سے کہنے لگیں۔
’’اللہ اس کے ماں باپ کو صبر عطا فرمائے اور اتنی عقل بھی کہ موت اور زندگی انسانوں کے ہاتھ نہیں ہوتی۔‘‘
’’وہ تو ٹھیک ہے اماں۔ لیکن آج کل کے لڑکے جس طرح بائیک اور گاڑیاں چلاتے ہیں اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے یہ موت کو خود بلا رہے ہوں۔‘‘ رخشندہ نے تحمل مگر بے زاری سے کہا کیونکہ وہ جانتی تھیں یہ وہی لڑکا ہے جو رات گئے فون کرتا ہے چنانچہ انہیں ذرا بھی ہمدردی نہیں تھی۔
’’کیا وہ ہمیشہ ایسے ہی بائیک چلاتا ہے۔‘‘ بابا نے پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے پوچھا۔
’’پتا نہیں بابا۔ وہ بہت مضطرب لڑکا ہے۔ بڑی بے ربط گفتگو ہوتی ہے اس کی۔ میں چاہ رہا تھا کسی طرح اس کے ماں باپ کو سمجھائوں مگر اس کے لےے مجھے پہلے باقر کو اعتماد میں لینا ہوگا تاکہ اس سے کہہ کر اس کے گھر جا سکوں یا پھر اس کا نمبر پتا کر کے خود ہی اس کے گھر پہنچ جائوں۔‘‘
’’دیکھو کاظم یہ بات تو میں پہلے بھی بہت بارکہہ چکا ہوں کہ فون پر کلپ تو کبھی نہیں لگے گا گھر میں مجھے یہ افرا تفری ہرگز نہیں چاہےے کہ تم ہر نمبر پتا کر کے اس کے پیچھے بھاگتے رہو۔‘‘
’’بابا میں ہر ایک کے پیچھے۔۔۔‘‘
’’میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘‘ بابا نے ان کی بات درمیان میں ہی کاٹ دی۔
’’میں کہہ رہا تھا اس کے والدین کو ڈھونڈ کر انہیں سمجھانا بے کار ہے۔ ویسے تم خود بہت بڑے سائیکاٹرسٹ ہو۔ مگر مجھے نہیں لگتا جو ماں باپ زندگی بھر ایک بیٹے سے زیادہ پیار کرتے رہے ہوں وہ تمہارے سمجھانے سے اس لاڈلے بیٹے کی موت کو حادثہ سمجھ لیں گے اور وہ بھی اتنی جلدی تو کبھی بھی نہیں۔‘‘ بابا کہتے چلے گئے۔
’’ویسے بھی اولاد کے دکھ پر کب صبر آتا ہے۔‘‘ اماں کے لہجے میں یاسیت گھل گئی۔ کاظم حسن چونک کر انہیں دیکھنے لگے۔ وہ کھانے سے ہاتھ روک کر کسی گہری سوچ میں ڈوب گئی تھیں۔ وہ کرسی گھسیٹ کر کھڑے ہوگئے اور ان کے پاس آکر ان کی برابر والی کرسی پر بیٹھ گئے۔
’’اماں آپ مانتی ہیں نا اللہ کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے عدیل کے ساتھ جو ہوا اسی میں اس کی کوئی بہتری ہوگی، وہ تو ویسے بھی اتنا معصوم اتنا بے ضرر تھا بھلا اللہ ایسے انسان کے ساتھ بھی کچھ برا کر سکتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوگا بہت خوش ہوگا۔‘‘
اماں کا ہاتھ تھام کر وہ گلو گیر آواز میں کہتے چلے گئے۔
’’وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔‘‘ بابا سپاٹ لہجے میں بولے۔
’’ایسا مت کہیں۔ میرا دل کہتا ہے وہ زندہ ہے وہ مر نہیں سکتا۔‘‘ اماں تڑپ اٹھیں۔
’’اور میرا دل کہتا ہے اگر وہ زندہ ہوتا تو کبھی تو لوٹ کر آتا کبھی تو کوئی رابطہ کرتا۔ واپس نہیں آنا چاہتا تو کم از کم اپنے دنیا میں ہونے کا ثبوت تو بھیج دیتا۔ کوئی خط تو ڈال سکتا تھا۔‘‘ بابا یک ٹک پلیٹ کو دیکھتے ہوئے بولے۔ ضبط گریہ سے ان کی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں۔ اماں ان کی بات سن کر چپکے چپکے آنسو بہانے لگیں جب کہ کاظم حسن اس موضوع کے چھڑ جانے پر پچھتاتے ہوئے کرسی سے اٹھ گئے۔
ض ض ض
باقر جیسے پیشنٹ انہیں ہمیشہ مشکل لگے جو کبھی کھل کر بات نہیں کرتے تھے لیکن عجیب بات تھی انہیں ہمیشہ باقر جیسے پیشنٹ سے ہی بات کر کے مزا آتا تھا وہ کیسز جو کلینک میں دوسرے ڈاکٹرز کو کوفت اور جھنجھلاہٹ میں مبتلا کر دیا کرتے۔ ان پیشنٹ سے سچ اگلوانے میں ہمیشہ کاظم حسن کا صبر اور غیر معمولی دلچسپی ہی کامیابی کا باعث بنتی تھی۔ باقر بھی اسی کیٹگری کا مریض تھا جو اپنے بارے میں بات کرنے پر مشکل سے آمادہ ہوا تھا اس کے علاوہ باقر کے انداز میں کچھ ایسی بات ضرور تھی جو کاظم حسن اسے خاص توجہ دینے لگے تھے اس کے ساتھ باتوں کے دوران انہیں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا۔
وہ اکثر دو یا تین دن بعد فون کرتا اور اس کی آواز سنتے ہی کاظم حسن اطمینان سے صوفے پر بیٹھ جاتے کہ اب لمبی گفتگو کریں گے مگر پھر اچانک وہ کسی بات پر فون بند کر دیتا تو ان کی طبیعت پر ایک بے قراری سی چھا جاتی پھر جس کسی دن وہ اپنے بارے میں کوئی بات بتاتا تو ان کے اندر ڈھیروں اطمینان پھیل جاتا اس خوشی میں کہ وہ اس کا اعتماد جیتتے جارہے ہیں اب وہ اس کے بارے میں کافی کچھ جان گئے تھے چنانچہ اسے مشورہ بھی دینے لگے تھے اس کے کہے کے مطابق وہ اپنے بھائی کی زندگی میں، گھر میں، بہت نظر انداز کیا جاتا تھا والدین کی ساری توجہ اور محبت صرف عامر کے لےے تھی مگر حیرت انگیز طو پر اس کا بھائی اتنے لاڈ پیارسے پلنے کے باوجود خود سر ار ضدی نکلنے کے بجائے بہت سلجھا ہوا، امن پسند انسان تھا جب کہ باقر اس کی ضد میں ہر کام کیاکرتا، چنانچہ اس کی بدتمیزیاں بڑھتی چلی گئیں۔ جب باقر کو بائیک خریدنے کا شوق چڑھا تو اس کے والدین نے صاف منع کر دیا۔ وجہ وہی اس کی غیر ذمہ دارانہ عادتیں تھیں، مگر تب اس کے بھائی عامر نے ماں باپ کو سمجھایا اور وہ باقر کے کہنے پر کبھی نہیں مانے اور عامر کے کہتے ہی مان گئے۔
باقر کی باتوں سے کاظم حسن کو محسوس ہوتا وہ اپنے بھائی سے محبت کرتا تھا اور اس کی خوبیوں کا بھی معترف تھا مگر اس کے اندر کہیں نہ کہیں اس سے رقابت اور جلن کا جذبہ بھی موجود تھا۔ عامر کی کچھ باتیں کاظم حسن کو بتاتے وقت ا س کا لہجہ واضح طور پر تلخ ہوجاتا۔ جسے کاظم حسن محسوس کرتے مگر کوئی تبصرہ نہ کرتے اور جب اس نے بھائی کے مرنے کا واقعہ پوری تفصیل سے بتایا تو کاظم حسن کو اس کے والدین کے روےے کی بدصورتی کی وجہ سمجھ میں آنے لگی۔ حقیقتاً اس کے بھائی کی جان جانے میں سراسر غلطی باقر کی تھی، ایسے حالات میں ماں باپ کا غصہ ہونا جائز تھا۔
باقر کو شروع سے ہی بائیک کو خطرناک انداز میں چلانے کا شوق تھا اور یہ شوق اس وقت جنون میں بدل گیا جب اس کے ماں باپ کو اس کی تیز رفتاری کا پتا چلا اور وہ اسے ایسا کرنے سے منع کرنے لگے، وہ ان کی ضد میں بائیک کو گھر کے قریب گلی میں ایک ٹائر پر کھڑی کر کے چلاتا ہوا گھر لاتا اور ان کا غصہ آسمان کو چھونے لگتا جس پر باقر کو ایک عجیب قسم کا اطمینان ملتا۔
سب کچھ ایسے ہی چلتا رہتا کہ ایک دن اس کے بھائی کی کار میں کچھ خرابی ہوگئی باقر نے اسے اپنی بائیک پر آفس چھوڑنے کی آفر کی لیکن اس کی ماں کو فوراً اعتراض ہوا۔
’’کوئی ضرورت نہیں باقر کے ساتھ جانے کی۔ جیسے یہ بائیک چلاتاہے خداناخواستہ کچھ ہو نہ جائے۔‘‘
’’امی۔‘‘ باقر نے انہیں حیرت سے دیکھا تھا پھر فوراً ہی اپنے انداز میں لاپروائی ظاہر کرتے ہوئے بولا۔
’’جیسے میں بائیک چلاتا ہوں ایسے بائیک چلانے کے لےے کالج میں لڑکے مرتے ہیں بلکہ مجھ سے بھی کہتے ہیں کہ ہمیں بھی سکھا دو۔ مگر میرے جیسا ٹیلنٹ اور ہمت کسی میں ہے کہاں۔‘‘
’’بلا وجہ زندگی کو خطرے میں ڈالنا کوئی ہمت نہیں۔ تمہیں خود سے محبت نہ سہی لیکن میرے بیٹے کو بخش دو۔‘‘امی اپنے مخصوص جھنجلائے ہوئے لہجے میں بولیں۔
’’تو کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ہوں، صرف اس کی جان کی فکر ہے آپ کو۔‘‘ باقر یک دم سنجیدہ ہوگیا۔
’’اوہ کم آن یار۔‘‘ عامر نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
’’ایک تو تم امی ، پاپا کی نصیحت سنتے نہیں ہو اس پر تم مجھے بھی اپنے ساتھ لے جانا چاہتے ہو تمہاری جان کو خطرہ ہوتا ہی ہے اوپر سے میری بھی زندگی دائو پر لگا رہے ہو۔ تم بہت ایکسپرٹ سہی، مگر ڈبل سواری کا تجربہ تو نہیں ہے نا۔ اس لےے امی ایسا کہہ رہی ہیں۔۔۔ لیکن امی آپ بالکل بے فکر رہیں باقر بہت آرام سے بائیک چلائے گا۔‘‘ عامرنے ہلکے پھلکے لہجے میں کہتے ہوئے ماحول کو خوش گوار بنانے کی کوشش کی مگر امی کی تیوریوں پر بل پڑے رہے اور ان کے نکلتے نکلتے بھی امی کہنے سے باز نہ آئیں۔
’’آرام سے چلانا، کم از کم جب تک عامر کو نہ اتار دو، اس کے بعد بھلے ہی اپنی بائیک کو ہوائی جہاز سمجھ لینا۔‘‘ باقر کا خون کھول اٹھا، ہینڈل پر اس کی گرفت تکلیف دہ حد تک سخت ہوگئی اس نے ایک کھولتی ہوئی نظر ماں کے بے زار چہرے پر ڈالی اور زور دار کک مار کر ایک جھٹکے سے بائیک اسٹارٹ کی اور اتنی ہی تیزی سے بائیک آگے بڑھالی۔
’’باقر۔۔۔ آرام سے باقر۔‘‘ پیچھے سے امی بری طرح بوکھلا کر چلائیں باقر کو انہیں ہولتا دیکھ کر ذرا سا سکون ملا مگر اس کے ذہن میں جھکڑے سے چلتے رہے اور وہ ہمیشہ سے کہیں زیادہ تیز رفتارمیں بائیک چلاتا رہا۔ عامر نے اسے بہت ٹوکا مگر اس نے رفتار کم نہیں کی اور پھر وہی ہوا۔ اسے ڈبل سواری کی عادت نہیں تھی اس کی رفتار بھی عام دنوں سے زیادہ تھی اور سب سے بڑھ کر اس کا ذہن حاضر نہیں تھا لہٰذا جیسے ہی اس نے موڑ موڑنے کے لےے بائیک ٹرن کی، اسپیڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور بائیک سڑک پر پھسلتی چلی گئی، عامر پیچھے ہونے کی وجہ سے وہیں سڑک پر گر گیا اور پیچھے سے آتی تیز رفتار وین کے نیچے آکر کچل گیا۔ باقر بائیک سمیت سڑک پر پھسلتا ہوا فٹ پاتھ پر چڑھ گیا اور ایک عمارت کی دیوار سے پوری قوت سے ٹکرا کر ہوش و حواس سے بے گانہ ہوگیا جب ہوش آیا تو اس پر یہ درد ناک حقیقت کھلی کہ عامر موقع پر ہی ختم ہوگیا تھا اور اس کی موت کا دکھ امی پاپا کی ناراضی کی صورت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے باقر کی زندگی میں ڈیرہ جما کر بیٹھ گیا۔
کاظم حسن کو اس کی اس قدر تیز رفتاری پر اعتراض تو تھا لیکن جسے پہلے ہی اپنی غلطی کا احساس ہو اور جسے سب قصور وار سمجھ رہے ہوں اسے ڈانٹنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ویسے بھی جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا چنانچہ وہ اسے تسلیاں دیتے رہتے اور ساتھ ہی سمجھاتے جاتے کہ والدین کا خیال رکھو وہ زیادہ دن تم سے ناراض نہیں رہیں گے وغیرہ۔
اس پر ان کی نصیحتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا تھا اور وہ ماں باپ کو منانے کی کوشش کرنے لگا تھا جس میں اسے زیادہ تر ناکامی ہوتی تھی مگر وہ اس کی ہمت بڑھاتے رہتے انہیں یقین تھا کہ اب یہ کیس جلد حل ہوجائے گا مگر تب ہی اس کی ایک بات نے ان کی سوچوں کا رخ بدل دیا۔
’’کل رات آپ کے کہنے کے مطابق میں امی کے پاس گیا تھا ان سے یہ کہنے کہ میں پڑھائی دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہوں تو۔۔۔ تو۔۔۔ انہوں نے میری بات سنی ہی نہیں۔۔۔ آپ جانتے ہیں انہوںنے کیا کہا۔‘‘ اس رات ان سے بات کرتے وقت وہ بری طرح ہکلا رہا تھا، حالانکہ اب اسے فون کرتے ہوئے ایک مہینہ ہوگیا تھا اور شروع کی ایک دو کالز کو چھوڑ کر وہ کافی پرسکون انداز میں بات کرتا تھا مگر آج اتنے دن بعد اس پر وہی پہلی والی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ کاظم حسن کو اپنی اس عرصے میں کی گئی ساری محنتیں ضائع ہوتی لگ رہی تھیں۔ وہ پھر سے اسی اضطراب میں مبتلا ہوگیا تھا۔
’’انہوں نے۔۔۔ انہوں نے کہا میرا بیٹا تو چلا گیا۔۔۔ وہ بیٹا جومیرا فرماں بردار تھا۔ دل لگا کر پڑھتا تھا ہمیشہ۔۔۔ ہمیشہ پوزیشن لاتا تھا اب۔۔۔ تم پڑھو یا نہ پڑھو۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ویسے بھی پڑھ لکھ کر تم کیا کر لو گے، تم کر ہی کیا سکتے ہو، سوائے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے۔‘‘
وہ آگے بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا۔ کاظم حسن اندر ہی اندر تلملا کر رہ گئے اس سے زیادہ اس کے ماں باپ کو ماہر نفسیات کی ضرورت تھی۔ اب وہ کیسے سنبھالیں اس لڑکے کو۔انہوں نے ایک بار پھر اسے سمجھانا چاہا تو وہ کہنے لگا۔
’’ساری غلطی میری ہے میں ہمیشہ غلط سمت میں کوشش کرتا ہوں اور پھر پچھتاتا رہتا ہوں کاش اس دن میں نے۔۔۔‘‘ اس نے درمیان میں بات چھوڑ کر فون بند کردیا اور وہ اس کی ادھوری بات میں الجھ کر رہ گئے۔ اگلے تین دنوں تک اس کا فون نہیں آیا تو کاظم حسن کی بے چینی پچھلی بار سے زیادہ بڑھ گئی۔ رخشندہ انہیں پریشان دیکھ کر ان ہی پر غصہ ہونے لگیں۔
’’تم نہیں سمجھو گی رخشندہ! وہ بہت اکیلا ہے وہ ایک بار فون کرے تو میں اسے سمجھائوں گا ماں باپ کے بارے میں سوچنا چھوڑ دے بلکہ ان سے دور چلا جائے۔ میں نے خوامخواہ اسے والدین کے قریب جانے اور انہیں منانے کی کوشش کرنے کو کہا۔ اس کے ماں باپ خود مریض ہیں ایک بیٹا اپنے کیریئر کی، اپنی پڑھائی کی بات کر رہا ہے اور وہ۔۔۔ اگر یہی حالات رہے تو وہ سچ مچ خود کشی کرلے گا۔‘‘ کاظم حسن پشت پر ہاتھ باندھے اِدھر سے اَدھر ٹہل رہے تھے۔ رخشندہ انہیں درزدیدہ نظروں سے دیکھے گئیں، انہیں محسوس ہوا تو وہ رک کر انہیں دیکھنے لگے۔
’’کیا بات ہے ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟‘‘
’’آپ کچھ زیادہ پریشان نہیں ہورہے اس لڑکے کے لےے۔‘‘
رخشندہ نے گہرا سانس کھینچ کر قدرے حیرانی سے کہا۔
’’وہ جوان لڑکا ہے، اسے ماں باپ کی اتنی پروا کیوں ہے۔ اس عمر میں لڑکے والدین کے بارے میں سوچتے ہی کب ہیں۔ وہ مجرم سمجھتے ہیں سمجھنے دے۔ اپنی زندگی جےے۔ اپنا کیریئر بنائے۔ جن والدین نے کبھی پیار نہیں کیا ان کے لےے اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔آخر وہ ایک حادثہ ہی تھا نا۔‘‘ رخشندہ چڑے ہوئے انداز میں بولیں تو کاظم حسن کچھ دیر ان کی شکل دیکھتے رہے پھر قدرے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہنے لگے۔
’’ہوسکتا ہے وہ حادثہ نہ ہو۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ رخشندہ چونکیں۔
’’مطلب یہ کہ ہوسکتا ہے، اس نے واقعی جان بوجھ کر ایکسیڈنٹ کیا ہو تبھی اسے اتنا پچھتاوا ہے۔‘‘ کاظم حسن گہری سوچ کے عالم میں بولے۔ رخشندہ اچنبھے سے بولیں۔
’’کیا ایسا ممکن ہے؟‘‘
’’بالکل، ضروری نہیں اس کا ارادہ قتل کا ہو۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی اور اپنے بھائی، دونوں کی جان لینا چاہتا ہو، ہوتا ہے نا۔ کبھی کبھی انسان سوچتا ہے چلو قصہ ہی ختم کردو، ایسی ہی کسی کیفیت کے زیرِ اثر اس نے بائیک اتنی اسپیڈ سے ٹرن کی کہ بائیک پھسل گئی دیکھنے والوں کو وہ حادثہ ہی لگا مگر ہوسکتا ہے وہ اس کی شعوری کوشش ہو۔ کیونکہ ایک بات تو طے ہے اسے اپنے بھائی سے نفرت تھی وہ خود بھی مانتا ہے کہ میں اس سے جلتا تھا لیکن میں نے محسوس کیا ہے وہ صرف جلتا نہیں تھا و ہ اس سے نفرت کرتا تھا۔‘‘ کاظم حسن خود کلامی کے انداز میں کہتے چلے گئے۔
’’پھر اب آپ کیا کریں گے؟‘‘ رخشندہ بوکھلا کر بولیں۔
’’میرے لےے وہ میرا پیشنٹ ہے، مجھے تو اس کی بھلائی ہی سوچنی ہے، چاہے وہ مجرم ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے اسے ٹھیک کرنا ہے، اس قابل بنانا ہے کہ وہ نارمل زندگی جی سکے۔‘‘ کاظم حسن نے گہرا سانس کھینچا۔
’’چاہے وہ اقبالِ جرم ہی کیوںنہ کرلے۔‘‘ رخشندہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
’’ظاہر ہے۔ مریض ہمارے سامنے اسی لےے اقبالِ جرم کرتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے ڈاکٹر یہ بات کسی کو بتائے گا نہیں، وگر نہ اگر وہ اپنے ڈاکٹر یا سائیکاٹرسٹ پر بھی بھروسہ نہ کرسکے تو پھر ان سے بات کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے۔ اس کی ذہنی حالت اسی لےے ابتر ہوتی جارہی ہے کہ وہ احساسِ جرم میں مبتلا ہے اور اس کا دل تب ہی ہلکا ہوگا جب وہ یہ سب کسی سے کہہ دے گا۔‘‘
’’یعنی کہ آپ سے۔‘‘ رخشندہ بولیں۔
’’ہوں، صرف مجھ سے! لیکن وہ بہت محتاط، یا یوں کہہ لو بہت وہمی اور ڈرپوک ہے، ورنہ مجھے فون کرنے والے یا خط لکھنے والے ساری بات عام طور پر صاف صاف بتا دیتے ہیں۔ چھپاتے صرف وہی ہیں جو مجھ سے آمنے سامنے ملتے ہیں اور یہ عام طور پر وہ لوگ ہوتے ہیں جو گھر والوں کے مجبور کرنے پر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ہم ان کے گھر والوں کے ٹچ میں ہوتے ہیں ہمیں کچھ بتانے کا وہ رسک نہیں لے سکتے، کیونکہ ہمارے ذریعے ان کے گھر والے بھی سب جان سکتے ہیں۔ لیکن جو ذہنی مریض خود ہم سے رابطہ کرتے ہیں انہیں صرف مشورہ چاہےے ہوتا ہے، لیکن باقر جرم کر کے اتنا پچھتا رہا ہے کہ ڈر کے مارے وہ مجھ سے بھی کہہ نہیں پارہا اسی لےے مجھے لگتا ہے کہ اس کا ارادہ قتل کا نہیں ہوگا وہ صرف عامر کو نقصان پہنچانا چاہتا ہوگا لیکن جب وہ اس حادثے سے حقیقتاً مر گیا تب باقرکو احساس ہوا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا ہے اسی لےے وہ اپنے والدین پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے ایک طرح سے ان کے ساتھ ساتھ وہ خود کو بھی یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔‘‘ کاظم حسن کہتے چلے گئے۔
’’آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو سچ بتا کر اس کی حالت سدھر جائے گی۔‘‘
’’ہوں، صرف یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘
’’مگر وہ جب ایک مہینے سے کچھ نہیں بولا تو اب کیا بولے گا۔‘‘ رخشندہ نے مایوسی سے کہا۔
’’بولے گا۔ جب وہ مجھ پر زیادہ یقین کرنے لگے گا تو بولے گا اور میں جانتا ہوں مجھے ا س کا یقین کیسے جیتنا ہے۔‘‘ کاظم حسن بھرپور اعتماد کے ساتھ بولے۔ ان کا ذہن وہ کہانی ترتیب دے رہا تھا جو انہیں باقر کو سنانی تھی۔
’’تھینک گاڈ تمہارا فون آگیا ورنہ۔۔۔ مجھے تمہارا نمبر چاہےے۔‘‘ کاظم حسن اس کی آواز سنتے ہی بولے۔
’’کیا آپ واقعی میرے فون کا اتنا انتظار کرتے ہیں، یا مجھ پر ظاہر کرتے ہیں۔‘‘ اس نے دھیمی آوازمیں پوچھا۔
’’میں واقعی تمہارے فون کا بڑی بے چینی سے انتظار کرتا ہوں تب ہی تو اتنی رات گئے تمہارا فون آنے پر میں نے کبھی بے زاری ظاہر نہیں کی۔ حالانکہ سارے دن کے کام کے بعد یہی میرے آرام کا وقت ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے اپنائیت جتانے کے لےے تکلف سے ہٹ کر شکوہ کناں انداز میں کہا۔
’’اچھا حیرت ہے ورنہ میں تو سوچ رہا تھا ایک ہفتے سے میری بکواس سن سن کر آپ عاجز آگئے ہوں گے۔ جس شخص کے ماں باپ اس میں دلچسپی نہیں لیتے ہوں بھلا۔۔۔‘‘
’’تمہارے ماں باپ بہت بدقسمت ہیں لیکن ان کی بدقسمتی کو ڈسکس کرنا بے کار ہے اور جہاں تک میرا سوال ہے تو عمر میں تم میری اولاد کے برابر ہوگے لیکن پتا نہیں کیوں تم سے بات کرتے ہوئے مجھے اپنا بھائی یاد آجاتا ہے۔‘‘ کاظم حسن نے سوچے سمجھے پلان پر عمل کرنا شروع کر دیا۔
’’بھائی۔‘‘ توقع کے عین مطابق وہ چونک کر بولا۔
’’ہاں میرا چھوٹا بھائی عدیل۔ حالانکہ اس میں اور تم میں کوئی مماثلت نہیں وہ بے چارہ تو۔۔۔ خیر چھوڑو اب تو وہ ہے بھی نہیں۔ اسی لےے شاید تم سے بات کر کے عجیب سا سکون ملتا ہے۔‘‘کاظم حسن اس کا تجسس بڑھاتے ہوئے یاسیت سے پرلہجے میں بولے۔
’’جب مجھ میں اور اس میں کچھ بھی مشترک نہیں تو پھر مجھ سے بات کر کے آپ کو سکون کیوں ملتا ہے۔‘‘ وہ حیران ہو کر بولا۔
’’بس جانے کیوں تم سے بات کر کے لگتا ہے جیسے عدیل سے بات کر رہا ہوں۔‘‘ وہ اس کا تجسس اتنی جلدی ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔
’’تو اب وہ کہاں ہے۔ میرا مطلب ہے آپ کہہ رہے تھے، وہ ہے نہیں۔‘‘ باقر نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پوچھا۔
’’پتا نہیں آج سے کئی سال پہلے وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ کہاں گیا؟ زندہ بھی ہے یا نہیں، کسی کو کچھ نہیں معلوم۔‘‘
کاظم حسن بولتے بولتے حقیقتاً ماضی کی یادوں میں کھو گئے۔
’’گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن کیوں؟‘‘ اس نے اچنبھے کے ساتھ پوچھا۔ بہت زیادہ تنہا لوگوں کا یہ بھی ایک مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ صرف بات کرنے کی غرض سے دوسروں کی شیخیاں اور برائیاں بھی سن لیتے ہیں اسی نفسیاتی نکتے کو سامنے رکھ کر انہوں نے اپنے بھائی کا ذکر چھیڑا تھا جس میں توقع کے عین مطابق باقر کو دلچسپی ہوگئی تھی اس کی وجہ ان کا پراسرار اندازِ بیان بھی تھا مگر سب سے بڑی وجہ وہ حقیقت تھی جو عدیل پر گزری تھی۔ کسی شخص کا غائب ہوجانا یا گھر چھوڑ کر چلے جانا اپنے آپ میں ایک پراسرار حقیقت تھی جس کے پس پردہ حالات جاننے کے لےے کوئی بھی متجسس ہوجاتا۔
’’کیونکہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا۔‘‘ کاظم حسن تلخی سے ہنس دےے پھر کہنے لگے۔
’’ہر چیز تقدیر میں پہلے سے لکھی ہوتی ہے ہماری کوئی کوشش تقدیر کو نہیں بدل سکتی، میرا بھائی بہت اچھا تھا لیکن اس کی اچھائی اس کے کسی کام نہ آئی۔ وہ بہت ذہین بھی تھا مگر اس کی ذہانت بھی اس کی تقدیر میں لکھی محرومیوں کو ختم نہیں کر سکی۔ کیونکہ جسمانی طور پر وہ نارمل نہیں تھا۔ میرے اور تمہارے جیسے لوگ اس بات پر کبھی دھیان نہیں دیتے کہ اللہ نے ہمیں کس قدر مکمل بنا کر دنیا میں بھیجا ہے ہم صرف اسی بات کا رونا روتے رہتے ہیں کہ اس نے ہمیں یہ نہیں دیا، وہ نہیں دیا لیکن اس کی دی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے۔‘‘ وہ باقر سے جھوٹ نہیں بول رہے تھے عدیل کے بارے میں وہ اسے جو کچھ بھی بتانے جارہے تھے وہ سب سچ تھا لیکن یہ سب کہنے کا مقصد صرف اور صرف باقر کو سمجھانا تھا اگر یہی نصیحتیں انہوں نے براہِ راست کی ہوتیں تو وہ سنے بغیر فون بند کر دیتا مگر ابھی ان کی پوری بات سننے کے تجسس میں وہ فون بند نہیں کر سکتا تھا۔
’’بچپن میں وہ مجھے نارمل ہی لگتا تھا لیکن چار پانچ سال کی عمر تک پہنچنے پر احساس ہونے لگا جیسے وہ نارمل نہیں ہے۔ کچھ۔۔۔ کچھ مختلف ہے وہ ہم سے۔۔۔ اماں اور بابا کا تو مجھے پتا ہے لیکن مجھے اور عدیل کو شاید اس بات کا علم اتنے بچپن میں نہ ہو پاتا لیکن دنیا والوں نے بہت بچپن میں اسے اپنے مذاق کا نشانہ بنا کر زبردستی ہمیں اس حقیقت سے باخبر کر دیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب سمجھ دار ہونے کے بعد اسکول میں اس کا مذاق اڑایا جاتا تھا اور جو مذاق نہیں اڑاتے تھے وہ تجسس اور ہمدردی کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کی دل آزاری کا سبب بن جاتے تھے۔
چھٹی کلاس میں آنے کے بعد لڑکوں نے اس سے دوستی کرنی چھوڑ دی کیونکہ وہ انہیں اپنی دوستی کے قابل نہیں لگتا تھا، پوری دنیا میں اس جیسے نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے لیکن لوگ اسے ایسے حیرت سے دیکھتے تھے جیسے وہ اپنے آپ میں ایک ہی نمونہ ہو، شاید یہ بھی اس کی بدقسمتی تھی کہ وہ جس ماحول میں پیدا ہوا تھا وہاں اس جیسا دور دور تک کوئی نہیں تھا اسی لےے وہ لوگوں کی حیرت اور تفریح کا سامان بن گیا۔‘‘
’’اسے کیا ہوا تھا۔‘‘ باقر بے چینی سے بولا۔
’’چھوڑو میں بھی کیا باتیں لے بیٹھا۔‘‘ اتنا عرصہ گزرجانے کے باوجود آج بھی یہ موضوع ان کے لےے تکلیف دہ تھا کیونکہ جو کچھ بھی وہ کہہ رہے تھے اس میں ایک فیصد بھی جھوٹ نہیں تھا۔ عدیل کا ذکر کرنے سے اس کے ساتھ گزارے کتنے ہی پل، کتنے ہی لمحے ان کے سامنے گردش کرنے لگے تھے جانے کیوں عدیل کے بارے میں کسی سے بات کر کے ایسا لگتا جیسے وہ عدیل کے ساتھ بے ایمانی کر رہے ہوں اس کی تکلیفوں کا اظہار کر کے بظاہر وہ اپنا غم کم کر رہے ہیں مگر حقیقتاً اس کا تماشا بنا رہے ہیں اسی لےے اس کے بارے میں بات کر کے ان کے دل کا بوجھ بڑھ گیا تھا۔
’’نہیں نہیں مجھے تو اچھا لگ رہا ہے کسی نے تو مجھے اس قابل سمجھا کہ اپنے دکھ درد میرے ساتھ بانٹ سکے۔‘‘ باقر نے ان کی بات سن کر جلدی سے کہا۔
’’یہ دکھ بانٹنے سے کبھی کم نہیں ہوا باقر۔ بلکہ ان تمام لوگوں کی شکلیں نئے سرے سے یاد آجاتی ہیں جو اپنے جملوں اور حرکتوں سے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا کرتے تھے۔ ہمارے معاشرے میں معذور اور اپاہج لوگوں سے ہمدردی کی جاتی ہے ان پر لوگ ترس کھا لیتے ہیں لیکن کسی ہیجڑے یا خسرے کے لےے کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آتا کہ وہ اپنی مرضی سے ایسا نہیں بنا بلکہ یہ بھی ایک طرح کی بیماری یا معذوری ہے جو کسی کو بھی ہوسکتی ہے مگر میرے خاندان، آس پڑوس اور اسکول، کالج میں ایسا کوئی نہیں تھا جسے نہ مرد کہاجاسکے نہ عورت چنانچہ میرا بھائی لوگوں کے لےے ایک جیتا جاگتا لطیفہ تھا۔‘‘ کاظم حسن حقیقتاً تلخ ہوگئے دوسری طرف باقر شاید حیرت سے گنگ رہ گیا تھا تب ہی کچھ بول نہیں رہا تھا۔ کاظم حسن نے خود ہی گہرا سانس کھینچ کر خود کو نارمل کیا اور سلسلۂ کلام واپس جوڑتے ہوئے کہنے لگے۔
’’جن لوگوں نے اسے تکلیف دی اللہ ضرور ان لوگوں سے بدلہ لے گا اپنا دل جلانے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ اللہ کے بنائے اصولوں پر چلتے ہوئے ہمیں سب کو معاف کر دینا چاہےے۔ نفرت صرف دوسروں کو ہی نہیں خود کو بھی تکلیف دیتی ہے۔‘‘ وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ وہ بھی اپنے والدین کی غلطیوں کو معاف کر دے مگر ان سے پہلے وہ بول پڑا۔
’’لیکن آپ کا بھائی گھر چھوڑ کر کیوں چلا گیا۔ آپ کی باتوں سے صاف پتا چلتا ہے کہ آپ کا اور آپ کے والدین کا رویہ اس کے ساتھ اچھا ہی ہوگا کیا آپ کے گھر میں اور بھی لوگ ہیں۔‘‘
’’اس وقت تو کوئی نہیں تھا بس ہم دو ہی بھائی تھے لوگ کہتے تھے تمہیں بہن کی کیا ضرورت ہے عدیل تمہاری بہن ہی تو ہے نا۔۔۔ خیر وہ اماں، بابا اور میرا بہت لاڈلا تھا۔ اتنے سال اپنی مجبوریوں کے باوجود اگر اس نے اپنی تعلیم جاری رکھی تو اس کے پیچھے ہم ہی تھے جو اس کی ڈھارس بندھاتے تھے ورنہ تم خود اندازہ لگا سکتے ہو اسٹوڈنٹس کا اس کے ساتھ کیسا رویہ ہوگا۔‘‘
ض ض ض
پنڈی کے ایک بہت خوب صورت علاقے میں بنی میری جنت میرے لےے کسی محل سے کم نہیں تھی۔ مگر اللہ دنیا میں کسی کو جنت نہیں دیتا لہٰذا اس نے دولت، عزت، خاندان، تعلیم اور آسائش دے کر ایک چھوٹی سی تکلیف بھی دے دی تاکہ ہم اللہ کو بھول نہ جائیں۔ اس تکلیف کا نام عدیل تھا جو جتنا بڑا ہوتا جارہا تھا اتنا ہی حساس ہوتا جارہا تھا۔ بچپن کے دن آرام سے گزر گئے تھے۔ میرے گھر کے لان میں لگے درخت پر میں نے اور عدیل نے مل کر ایک جھولا ڈالا تھا، ٹیوشن وغیرہ سے فارغ ہو کر ہمارا زیادہ وقت اسی جھولے کے ارد گرد کھیلتے گزرتا تھا۔ عدیل کی عادت تھی جب بھی لوگوں کے مذاق کا نشانہ بن کر اداس ہوتا اسی جھولے پر جا کر بیٹھ جاتا پھر اسے ہنسانے کے لےے میں، اماں اور بابا کے ساتھ مل کر کرکٹ کھیلتا، حالانکہ اماں کو بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا اور بابا کے بال پھینکنے پر وہ ڈر کے مارے آنکھیں بند کر لیتیں۔ عدیل کے لےے وہ سب دیکھ کر ہنسی روکنا مشکل ہوجاتا مگر یہ سب بچپن کی باتیں تھیں پندرہ سال کی عمر تک پہنچنے پر وہ ہماری ساری کوششوں کو رائیگاں بناتے ہوئے اچھا خاصا احساسِ کمتری میں مبتلا ہوچکا تھا کیونکہ یہ ساری کوششیں صرف ہماری جانب سے ہوتی تھیں جب کہ خاندان کے دوسرے افراد ہمارے ساتھ بالکل تعاون نہیں کرتے تھے ہمارے تایا کی بیٹی کی شادی ہونے لگی تو تایا جان نے خاص طور پر بابا کو تاکید کی کہ عدیل کو مت لانا ان کی بیٹی کی سسرال پر برا اثر پڑے گا۔ بابا نے یہ بات جب مجھے اور اماں کو بتائی تو ہمیشہ کی طرح میں یک دم آپے سے باہر ہوگیا۔
’’اگر عدیل نہیں جائے گا تو ہم بھی نہیں جائیں گے۔ کیا سوچ کر تایا جان نے یہ بات کہی۔ کیا عدیل کوئی اشتہاری مجرم ہے جسے دیکھ کر غزالہ باجی کے سسرال والے رشتہ ختم کر دیں گے۔‘‘
’’کاظم چپ ہوجائو اگر عدیل نے سن لیا تو اسے دکھ ہوگا۔‘‘ بابا آواز دبا کر بولے۔
’’مگر کاظم ٹھیک کہہ رہا ہے اگر عدیل نہیں جا سکتا تو ہم بھی نہیں جائیں گے۔‘‘ اماں سنجیدگی سے بولیں۔
’’ہمیں تو جانا ہی پڑے گا۔ غزالہ کا رشتہ اگر خاندان میں ہوا ہوتا تو بات اور تھی مگر وہ لوگ غیر ہیں اور غیر ہر بات کی گہرائی میں جاتے ہیں۔ ہم نہیں جائیں گے تو ۔۔۔‘‘
’’بابا جب تایا جان آپ کی اولاد کے لےے نہیں سوچ رہے تو آپ ان کی اولاد کے لےے فکر مند کیوں ہورہے ہیں۔‘‘میں نے تلملا کر ان کی بات کاٹ دی اور تلخی سے بولا۔
’’انہیں عدیل کو اپنا رشتے دار بتاتے ہوئے شرم آرہی ہے نا تو مجھے بھی انہیں اپنا تایا کہتے ہوئے شرم آرہی ہے میں ہر گز ان کے ہاں شادی میں نہیں جائوں گا بلکہ شادی میں تو کیا، زندگی بھر ان کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا۔‘‘ میں مٹھیاں بھینچتے ہوئے اِدھر سے اَدھرٹہلنے لگا۔
’’کاظم میں نے تمہیں ہزار بار کہا ہے اتنا غصہ ٹھیک نہیں ہوتا اپنے غصے کی وجہ سے تم نے ہر جگہ اپنے دشمن بنا لےے ہیں۔ عدیل کی حمایت میں تم ہر شخص سے لڑ پڑتے ہو، مگر یہ گلی کے آوارہ لڑکے نہیں ہیں جن کی پٹائی کر کے تم ان کی زبان بند کر دو۔ یہ خاندان کا معاملہ ہے اور انسان خاندان سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ تم شادی میں نہیں جانا چاہتے، مت جائو۔ بلکہ اگر تم نہیں جائو گے تو عدیل بھی نہیں جائے گا اور ہمیں عدیل سے کچھ کہنا بھی نہیں پڑے گا مگر کاظم اس طرح تم لوگوں سے دور ہوجائو گے۔‘‘ بابا پچھلے تجربوں کی روشنی میں کہہ رہے تھے کیونکہ جب تک میں عدیل کے اسکول میں تھا چند ایک لڑکوں کو چھوڑ کر میرے زیادہ دوست نہیں تھے ایک وجہ اس کی یہ بھی تھی کہ میں عدیل کا بھائی تھا لیکن اس سے بھی بڑی وجہ میرا غصہ تھا۔ اسکول میں عدیل کو کوئی کچھ بھی کہتا میں لڑنے مرنے پر اتر آتا۔ آہستہ آہستہ لوگ مجھ سے ڈرنے لگے اور مجھ سے دور ہوتے گئے لیکن یہ سب کرنے کے بعد بھی میں عدیل کے لےے کوئی مستقل حل نہیں نکال سکا ۔ الٹا مجھ سے پٹنے کے بعد وہ لڑکے انتقاماً عدیل کو اور پریشان کرتے اور عدیل مجھے بتاتا بھی نہیں تھا کیونکہ وہ میرے غصے سے واقف تھا اور خائف بھی۔ مجھے خود بھی اپنی اس خامی کا احساس تھا، میں جانتا تھا لڑائی جھگڑے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا مگر میں ہزار کوششوں کے باوجود اپنی اس کمزوری پر قابو نہیں پاسکتا تھا مجھے عدیل سے بے پناہ محبت تھی میں اس کی آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا اور عدیل تھا بھی بہت حساس۔ وہ ایک بار خود کشی کی کوشش بھی کر چکا تھا۔
برابر والے تنویر صاحب کے گھر سے ہمارے بہت اچھے تعلقات تھے۔ ان کے بیٹے حمید اور بیٹی ثمینہ آپا سے میری اور عدیل کی بہت گہری دوستی تھی۔ ہم سب ساتھ کھیل کود کر ہی بڑے ہوئے تھے۔ عدیل کے اتنی ساری سلیپنگ پلز کھالینے کے بعد کوئی بھی ڈاکٹر پولیس بلائے بغیر اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا مگر اس وقت تنویر صاحب نے ہی اپنا ثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے عدیل کی جان بچائی تھی۔ یہی نہیں عدیل دو تین بار لوگوں کی باتوں سے دلبرداشتہ ہو کر بغیر کچھ بتائے گھر سے غائب ہوگیا تھا۔ تب بھی تنویر صاحب نے ہی اپنے بھائیوں کے ذریعے اسے تلاش کیا تھا۔ ان کے بھائی کمشنر اور ڈی ایس پی تھے۔ چنانچہ ان کے لےے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ لیکن ہمارے لےے ان کے یہ احسانات بہت بڑے تھے۔
غزالہ باجی کی شادی کے وقت میں ٹیسٹ کا بہانہ بنا کر گھر میں ہی رک گیا تو عدیل کو زیادہ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ مجھے پڑھنے کا بہت شوق تھا اور میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لینے کے بعد میرا بیشتر وقت کتابوں کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔
’’جب بھائی نہیں جارہے تو میں جا کر کیا کروں گا۔‘‘ عدیل سے ہمیں اسی بات کی توقع تھی۔ اماں بابا نے مطمئن ہو کر میری طرف دیکھا۔ میں خود بھی پرسکون ہوگیا تھا کہ عدیل سے بغیر کچھ کہے ہی بات بن گئی، مگر اماں بابا کے چلے جانے کے بعد عدیل میرے کمرے میں چلا آیا اور میرے ہاتھ سے کتاب لے کر ایک طرف رکھ دی۔
’’میں جانتا ہوں۔آپ کا کوئی ٹیسٹ ویسٹ نہیں ہے، ویسے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ ان لڑکوں میں سے نہیں ہیں جو صرف ٹیسٹ کے وقت پڑھائی کرتے ہیں لیکن ابھی میں بہت بور ہورہا ہوں لہٰذا اس وقت کتابی کیڑا بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ عدیل اپنی مخصوص نسوانی آوازمیں بولا میں حیرانی سے اسے دیکھنے لگا، جس پر وہ اپنی ازلی معصوم مسکراہٹ کے ساتھ گویا ہوا۔
’’جب آپ جھوٹ موٹ کے ٹیسٹ کا ذکر کر رہے تھے تب میں نے سوچا کہ آپ سے کہوں کہ آپ چلے جائیں، میں گھر پر رک جائوں گا مجھے ویسے بھی لوگوں سے ملنے کا کوئی شوق نہیں، لیکن پھر خیال آیا اس طرح اماں بابا شرمندہ ہوجائیں گے جب سے میں پیدا ہوا ہوں وہ ویسے بھی دنیا سے شرمندہ ہیں۔ کم ازکم میرے سامنے تو ان کے چہرے پر تھوڑے الگ تاثرات ہوں۔‘‘ اپنی بات پر وہ ہنس دیا تھا اس کی کھنکتی ہنسی ہمیشہ مجھے اندر تک چیر کر رکھ دیتی تھی اس وقت بھی وہ میری حالت کی پروا کےے بغیر اطمینان سے بولا۔
’’جب تک شادی کے فنکشنز چلتے رہیں گے آپ خوامخواہ ٹیسٹ کا بہانہ بناتے رہیں گے آپ خود کو میری وجہ سے کیوں محدود کر رہے ہیں۔‘‘
’’میں خود کو محدود نہیں کر رہا ہوں یار تم بے کار کی باتیں مت سوچا کرو۔ مہندی کے فضول سے فنکشن میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘ میں پوری سچائی سے بولا لیکن عدیل تنبیہی انداز میں کہنے لگا۔
’’بھائی آپ کل شادی میں جارہے ہیں بس۔‘‘ اس کے حتمی انداز پر مجھے مجبوراً سر ہلانا پڑا۔ وہ بہت ذہین تھا۔ اسے بے وقوف بنانا آسان نہیں تھا۔
ض ض ض
دروازے کی گھنٹی کی آواز پر میں نے شدید بے زاری سے گھڑی کی طرف دیکھا، جہاں سہ پہر کے ساڑھے تین بج رہے تھے۔ میری آنکھیں نیند سے بند ہورہی تھیں مگر مجھے معلوم تھا دروازہ کھولنے کی یہ زحمت مجھے ہی کرنی پڑے گی۔ کیونکہ اماں بازار گئی ہوئی تھیں۔ بابا آفس سے آئے نہیں تھے اور عدیل کا مجھے یقین تھا وہ مجھ سے بھی پہلے سو چکا ہوگا دراصل کل پوری رات لائیٹ نہیں تھی اماں بابا تو سو گئے مگر میں اور عدیل گرمی میں بستر پر لیٹنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے چنانچہ ساری رات چھت پر ٹہل ٹہل کر گزاری تھی لہٰذا اب گھر آنے کے بعد ہم نے کھانا بھی مشکل سے کھایا تھا اور نرم ملائم بستر پر لیٹتے ہی غائب ہوگئے تھے لیکن گھنٹی بجانے والے نے یقینا تیسری یا چوتھی بار بیل بجائی تھی جب میں گہری نیند سے بے دار ہوگیا تھا اماں کے پاس چابی تھی اور بابا چھ بجے سے پہلے نہیں آتے تھے پھر کون ہوسکتا ہے۔ میں نے نہایت کوفت کے ساتھ جا کر گیٹ کھولا تھا اور سامنے ایک بالکل اجنبی لڑکی کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا۔
’’یقینا کسی غلط پتا پر آگئی ہے اور اب اسے ایڈریس بھی سمجھانا پڑے گا۔‘‘ ایک ہی پل میں، میں نے سب کچھ فرض کر لیا اور مزید بے زار ہوگیا۔
’’وہ طوطا آپ کا ہے؟‘‘
’’جی۔‘‘ اس لڑکی کے عجیب و غریب سوال پر میں نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا تو وہ ہاتھ سے دوسری منزل پر بنے کمرے کی بالکونی کی طرف اشارہ کرنے لگی۔ اس بالکونی کی چھت کے ساتھ ہم نے ایک پنجرا لٹکایا ہوا تھا جس میں ایک نہایت خوش رنگ اور خوش آواز طوطا پچھلے دو سال سے صبح شام چہکتا رہتا تھا مگر آج تک کوئی اس کی شکایت کرنے نہیں آیا تھا پھر بھلا اسے کیا تکلیف ہوگئی تھی ابھی میں سمجھا بھی نہیں تھا کہ اس نے مجھے مزید حیران کرتے ہوئے ایک اور انوکھا سوال پوچھا۔
’’کیا آپ یہ طوطا مجھے بیچ سکتے ہیں۔ اگر بیچیں گے تو اس کی قیمت کیا ہوگی ویسے میرے پاس صرف بیس روپے ہیں۔‘‘
’’آپ یہ طوطا پالنا چاہتی ہیں۔‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا میں اس کی کس کس بات پر حیرانی کا اظہار کروں۔ سہ پہر کے ساڑھے تین بجے منہ اٹھا کر چلے آنے پر، اس کے طوطا خریدنے کی خواہش پر یا اس کے پاس موجود بیس روپوں پر۔
’’میں اس طوطے کو اپنی نظروں کے سامنے سے ہٹانا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ بات مجھ سے کر رہی تھی مگر اس کی نظریں پنجرے پر جمی تھیں۔
’’کیا مطلب۔‘‘ حیرانی کی اس فہرست میں ایک اور نکتے کا اضافہ ہوگیا وہ میری طرف دیکھتے ہوئے وضاحت کرنے لگی۔
’’میں پندرہ دن پہلے ہی آپ کے سامنے والے مکان میں آئی ہوں اور ان پندرہ دنوں میں، میں نے ذرا بھی پڑھائی نہیں کی اور اس کی وجہ آپ کا یہ طوطا ہے۔‘‘
میری نیند پوری طرح اڑ گئی تھی۔ سامنے والا گھر کافی عرصے سے خالی پڑا تھا اور تقریباً پندرہ دن پہلے میں نے سامان آتا دیکھا تھا مگر اس وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہاں آنے والی فیملی میں ایک عدد پاگل لڑکی بھی ہوگی جو کسی بھی وقت بیل بجا کر محلے والوں کو پریشان بھی کرے گی۔ میں سکتے کے عالم میں اسے دیکھ رہا تھا اور میرے تاثرات سے اسے لگا کہ میں اس کی بات نہیں سمجھ رہا تب ہی وہ مزید وضاحت کرنے لگی۔
’’میرے کمرے کی کھڑکی کے پاس ہی میری رائٹنگ ٹیبل رکھی ہے میں جب بھی پڑھنے بیٹھتی ہوں میری نظر اسی طوطے پر پڑتی ہے اور پھر مجھ سے ایک لفظ بھی پڑھا نہیں جاتا، اگر یہی حالات رہے تو میں فیل ہوجائوں گی۔ آپ پلیز یہ طوطا مجھے بیچ دیں میں اسے یہاں سے ہٹا دینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’طوطے کو ہٹاتے ہی آپ ایگزام میں پاس ہوجائیں گی۔یہ کوئی ٹوٹکا ہے کیا۔‘‘ میری حیرانی کسی طرح کم نہیں ہورہی تھی وہ میری بات پر مجھے ایسے گھورنے لگی جیسے میرا مذاق پسند نہ آیا ہو۔
’’میں ان جاہلوں میں سے نہیں ہوں جو ایگزام میں پاس ہونے کے لےے الٹے سیدھے ٹوٹکے کرتے ہیں۔ میں اس پرندے کو اس لےے آزاد کرنا چاہتی ہوں کہ اسے دیکھ کر مجھے اذیت کا احساس ہوتا ہے وہ بے زبان جانور اپنی آزادی کے لےے احتجاج نہیں کر سکتا اسی لےے انسان اسے آرام سے پنجرے میں بند کر کے اپنے کمرے اور ٹیرس کی سجاوٹ کا سامان بنا لیتا ہے جبکہ پرندوں کی اصل جگہ آسمانوں میں ہے پنجروں میں نہیں اور آپ نے جس پنجرے میں اسے قید کر رکھا ہے وہ تو بہت ہی چھوٹا ہے وہ اپنے پر بھی پوری طرح نہیں کھول سکتا آپ برا مت مانےے گا لیکن اگر آپ کو کوئی ایک ایسے کمرے میں بند کر دے جہاں آپ اپنے دونوں ہاتھ بھی پوری طرح نہ اٹھا سکیں تو آپ کو کیسا لگے گا۔ شاید آپ نے کبھی آسمان میں اڑتے پرندوں کو نہیں دیکھا وہ کبھی بھی اکیلے نہیں اڑتے ہمیشہ ایک پورا جتھا ساتھ میں پرواز کرتا ہے جبکہ آپ نے اسے اکیلا بند کر دیا۔صرف پانی اور خوراک فراہم کر کے آپ اس کی ضرورتیں پوری نہیں کر رہے بلکہ ایک طرح سے آپ نے اس پر ظلم کرنے کے لےے اسے زندہ رکھا ہوا ہے آپ کو احساس بھی نہیں کہ آپ سب گھر والے انجانے میں کتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔‘‘
اس کا انداز تنقیدی نہیں تھا بلکہ وہ ایک جذب کے عالم میں بول رہی تھی۔ اس کی نظریں طوطے پر جمی تھیں اس کی آنکھوں میں تیرتے دکھ کو میں حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ بولتے بولتے وہ زیادہ ہی جذباتی ہوگئی تو ایک دم چپ ہوگئی پھر تھوڑی دیر بعد قدرے نارمل انداز میں پوچھنے لگی۔
’’آپ اس کی قیمت بتادیں میں اسے آج، ابھی اور اسی وقت آزاد کر دینا چاہتی ہوں۔‘‘
’’اب اتنی لمبی تقریر سننے کے بعد میں کس منہ سے پیسے مانگوں۔‘‘ میں نے بڑبڑانے والے انداز میں کہا۔
’’جی۔‘‘ وہ سن نہ سکی۔
’’آپ یہیں ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ میں اسے بولنے کا موقع دےے بغیر ایک دم پلٹ گیا۔ کچھ دیر بعد میں نے پنجرا لا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’اسے آپ خود اپنے ہاتھوں سے اڑادیں تبھی آپ کو سکون ملے گا کہ آپ نے واقعی ایک مظلوم کو حبس بے جا اور قیدِ تنہائی سے آزاد کر ادیا۔‘‘ اچانک ہی اس کے چہرے پر بے پناہ خوشی اور حیرت کے تاثرات ابھر آئے تھے، اس نے بڑے جوش کے عالم میں پر لگے تالے کو کھول دیا۔ پنجرے میں ہاتھ ڈال کر اس نے طوطے کو نکالا اور آسمان کی طرف اچھال دیا۔ جانے کتنے عرصے سے وہ طوطا پنجرے میں قید تھا۔ پہلے وہ بابا کے کسی دوست کے گھر تھا جن کا ٹرانسفر دوسرے شہر میں ہوگیا تو وہ یہ طوطا ہمیں دے گئے۔ مگر اتنے سال بعد بھی اسے پرواز میں کوئی دقت پیش نہیں آئی تھی۔ پر ہوا میں پھیلاتے ہی وہ آسمان میں اوپر اور اوپر اڑتا چلا گیا۔
اس وقت مجھے لگا چہرے واقعی دل کا آئینہ ہوتے ہیں۔ وہ لڑکی اس وقت کتنا سکون محسوس کر رہی تھی۔ وہ اس کے چہرے پرصاف لکھا تھا سر شاری کے احساس سے اس کی آنکھیں جگنو کی طرح چمکنے لگی تھیں وہ اس طوطے کو تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگیا۔ طوطے کے منظر سے ہٹنے کے بعد اسے میرا خیال آیا تو وہ میری ف دیکھتے ہوئے بولی۔
’’آپ کو نہیں پتا آج آپ نے کتنی بڑی نیکی کمائی ہے۔ اللہ آپ کو اس کا اجر ضرور دے گا۔‘‘ وہ مسرت کے احساس سے بھرپور کھنکتی آواز میں بولی اور میرا شکریہ ادا کرتی اپنے گھر کی طرف مڑ گئی،جیسے ہی اس نے اپنے گھر کا گیٹ بند کیا مجھے لگا جیسے کوئی خوب صورت خواب ٹوٹ گیا ہو۔ میں نے چونک کر اپنے اطراف دیکھا اور زمین پر رکھے خالی پنجرے کو دیکھ کر میں سچ مچ پریشان ہوگیا۔ جو میں نے کیا تھا اس پر اماں، بابا اور عدیل کا کیا رد عمل ہوگا۔ عدیل کو اس طوطے سے بہت محبت تھی۔ اس کی دیکھ بھال اور صفای کی تمام تر ذمہ داری اس نے اپنے سر لے رکھی تھی۔ میں اس سے کیا کہوں گا ایک بالکل انجان لڑکی نے کہا کہ طوطے کو آزاد کردو اور میں نے آزاد کر دیا۔ گھر میں کسی سے پوچھا، نہ کسی کو بتایا۔ اماں، بابا زیادہ ٹوہ لینے والے نہیں تھے مگر عدیل تو ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جائے گا وہ تو ایک لڑکی کا ذکر سنتے ہی اپنی طرف سے ایک افسانہ گھڑ لے گا اور کیونکہ میرے دل میں چور تھا لہٰذا میں نے پنجرے کو واپس اس کی جگہ پر لٹکا دیا اور گھرمیں سرے سے کوئی ذکر کیا ہی نہیں، طوطے کی پراسرار گمشدگی پر پہلے تو سب حیران ہوئے پھر خود ہی سب نے فرض کر لیا کہ تالا پرانا ہوجانے کی وجہ سے کمزور ہوگیا ہوگا۔ جب طوطے نے چونچ سے کھینچا تو وہ آسانی سے ٹوٹ گیا ہوگا۔ اور طوطا فرار ہوگیا ورنہ اگر اسے کسی بلی وغیرہ نے کھایا ہوتا تو اس کے آثار پنجرے پر نظر آجاتے۔ عدیل ایک دو دن اداس رہ کر معمول پر آگیا البتہ میرے اندر ضرور تبدیلی پیدا ہوگئی تھی جو کہ بہت نمایاں نہیں تھی مگر خود میرے لےے بہت حیران کن تھی۔ میں جو پہلے پڑھائی کرتے وقت ساری توجہ صرف کتاب پر رکھتا تھا اب اکثر میری نظریں اس کھڑکی کی جانب اٹھ جاتیں جہاں ہر وقت ایک باریک سا پردہ پھیلا رہنے کی وجہ سے اس کا دیدار تو نہیں ہوپاتا تھا مگر کسی کی موجودگی کا احساس ضرور ہوتا تھا خاص طور پر رات کے وقت جب کمرے کی لائیٹ آن ہوتی تو کمرے کے اندر کا منظر دن کی نسبت زیادہ واضح ہوجاتا۔
میں خود رات دیر تک پڑھائی کرنے کا عادی تھا۔ ایسے میں اس کمرے میں رائیٹنگ ٹیبل پر کسی ہیولے کو کتاب میں سر کھپاتا دیکھ کر ایک عجیب سی خوشی ہوتی لیکن عجیب بات تھی میں جتنا پڑھائی کا شوقین تھا عدیل اتنا ہی تعلیم سے دور بھاگتا تھا اس کی وجہ تعلیم نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کا ماحول تھا۔ اسکول کے لڑکوں کے ساتھ وہ بچپن سے پڑھ رہا تھا پھر بھی اسے بڑے ہونے پر کئی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ایسے میں ایک نئے کالج میں جا کر اسے کیا کچھ جھیلنا پڑے گا۔اس کا ہم سب کو بہ خوبی اندازہ تھا پھر بھی ہم اس کا تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا نہیں چاہتے تھے مگر دسویں کے بعد اس نے کالج جانے سے انکار کر دیا۔
پلیز بھیا، کم از کم آپ تو میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ ویسے بھی مجھے پڑھ لکھ کر کرنا ہی کیا ہے۔ بھلا مجھے کون نوکری دے گا میرے جیسوں کی جگہ صرف شادی بیاہ کے موقعوں پر آنے والی، گانے والیوں کے پاس ہے اور۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ عدیل! تمہارا ایڈمیشن ہو چکا ہے اور تم کل سے کالج جارہے ہو بس۔‘‘ میں پھٹ پڑا جبکہ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کے بے بسی سے مجھے دیکھے گیا مگر میں اس کے آنسوئوں سے پسیج جانے والا نہیں تھا لہٰذا اس پر سے نظریں ہٹا کر دوسری طرف دیکھنے لگا۔
’’بھیا! آپ لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ تنگ آکر میں خود کشی کرلوں۔‘‘ وہ اپنی مخصوص نسوانی آواز میں گلوگیر لہجے میں بولا تو میں گہرا سانس کھینچ کر اس کی طرف پلٹنے پر مجبورہوگیا۔
’’عدیل دنیا سے منہ چھپا کر بیٹھ جانا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ آخر تم اسکول میں بھی تو پڑھتے تھے وہاں۔۔۔‘‘
عدیل نے نروٹھے انداز میں میری بات کاٹ دی۔
’’وہاں میں کیسے پڑھتاتھا یہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں میں نارمل لڑکے لڑکیوں کے بیچ نہیں رہ سکتا وہ لوگ مجھے کیا کچھ نہیں کہیں گے۔ اسکول میں تو آپ بھی ہوتے تھے یہاں تو آپ بھی نہیں ہوں گے۔‘‘ وہ منمنایا تو میرا لہجہ ایک بار پھر نرم ہوگیا۔
’’مجھے تو اسکول چھوڑے کافی عرصہ ہوگیا تب سے تم اکیلے ہی جاتے ہو۔ تم بہت بہادر ہو سب کا سامنا اکیلے کرنے کی ہمت رکھتے ہو۔ تم میرے سہارے چلنے کے عادی نہیں ہو اور پھر دو سال کی ہی تو بات ہے ایک بار تم انٹر کرلو پھر تم میرے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لے لینا پھر ہم ساتھ پڑھیں گے۔‘‘
’’بھیا! میں میڈیکل میں کیسے پڑھ سکتا ہوں۔ کیا کہیں گے لوگ اسے تو خود علاج کی ضرورت ہے۔ میرے پاس کون آئے گا علاج کرانے۔‘‘ وہ بری طرح چڑ گیا۔
’’اچھا ٹھیک ہے مت بننا ڈاکٹر۔‘‘ مگر کالج تو تمہیں جانا ہی پڑے گا۔‘‘ میں نے حتمی انداز میں کہا تو وہ خالص لڑکیوں کی طرح پائوں پٹخ کر کمرے سے نکلنے لگا۔
’’کتنی بار تم سے کہا ہے، ایسی حرکتیں مت کیا کرو۔‘‘ میں تلملا کر بولا تو وہ کمرے سے نکلتے نکلتے رک گیا اور پلٹ کر طنزیہ انداز میں کہنے لگا۔
’’کیوں؟ بالکل فٹ لگتا ہوں نا۔‘‘ اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر میرا دل ڈوبنے لگا۔ سارا غصہ بھلا کر میں کہنے لگا۔
’’اگر میر ا بس چلتا تو دنیا کی ساری نعمتیں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دیتا مگر میں خود بہت مجبور ہوں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے تمہاری پریشانی کا اندازہ نہیں، تمہیں وہاں مشکل ضرور ہوگی مگر تم بہت ذہین ہو اپنی ذہانت سے تم نے ہمیشہ ٹیچرز کا دل جیتا ہے، بس تھوڑے دن کی بات ہے، پھر سب ٹھیک ہوجائے گا۔ کیا تم میری خاطر، اماں، بابا کی خاطر کچھ دن کالج کے چند لڑکے لڑکیوں کی باتیں نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘‘ میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر محبت سے کہتا چلا گیا۔ وہ سر جھکائے میری باتیں سنتا رہا، آخر گہرا سانس کھینچتے ہوئے اس نے سر اٹھایا اور اپنی ازلی معصوم مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
’’ٹھیک ہے۔ صرف آپ کی خاطر میں خود کو اس آزمائش میں بھی ڈالنے کے لےے تیار ہوں۔‘‘ میں نے بے اختیار اسے گلے لگالیا۔
’’کیا ہوا کاظم کس کا انتظار کر رہے ہو۔‘‘ میں جب تیسری بار گیٹ سے جھانک کر پلٹنے لگا تو برابر والے گھر کے حمید نے چلُا کر پوچھا وہ اپنے گیٹ کے سامنے بائیک دھو رہا تھا۔
’’ایسے ہی۔‘‘عدیل آج پہلی بار کالج گیا تھا پتا نہیں اس کے ساتھ کیا ہوا ہوگا۔ یہ سوچ کر میرا سر دکھے جارہا تھا مگر یہ بات حمید سے کہنا کچھ ٹھیک نہیں لگا۔ سر درد کی وجہ سے میں نے چھٹی بھی کرلی تھی۔
’’ایسے ہی کیا؟‘‘ حمید کہاں آسانی سے پیچھا چھوڑنے والا تھا۔
’’ارے یار وہ۔۔۔‘‘
’’عدیل کا انتظار کر رہے ہو۔‘‘ حمید کی آپا نے درمیان میں میرا جملہ اچک لیا۔ وہ حمید کو بار بار بھری ہوئی بالٹیاں لا کر دے رہی تھیں۔
’’جی۔۔۔ آج اس کا پہلا دن ہے نا۔‘‘ یقینا انہوں نے صبح اسے جاتے دیکھ لیا ہوگا ویسے بھی وہ بہت حد تک ہمارے گھریلو حالات سے واقف تھے۔
’’ہوں میں کل آئی تھی حلوہ دینے تو اس نے بتایا تھا کہ کل کالج کا پہلا دن ہوگا۔ بہت نروس تھا سچ کاظم اگر تم اس کی ہمت نہ بندھاتے تو وہ کبھی کالج جانے کے لےے تیار نہ ہوتا۔‘‘ آپا نے مسکرا کر کہا۔
’’اگر یہ نہ ہوتا تو عدیل اتنی پڑھائی کر بھی نہیں سکتا تھا اور نہ ہی اس کے اتنے اچھے مارکس آتے۔‘‘ حمید کے کہنے پر میں صرف مسکرا کر رہ گیا۔ مجھے یقین تھا وہ بہت خراب موڈ لےے لوٹے گا، مگر دیکھنا یہ تھا کہ وہ کل دوبارہ جانے کے لےے راضی ہوگا یا نہیں۔
لیکن جب وہ گھر لوٹا تو اسے دیکھ کر میری آنکھیں پھٹ گئیں اس کے چہرے پر اپنی مخصوص مسکراہٹ سجی تھی جو صرف ہم ہی دیکھتے تھے باہر جا کر اور باہر سے آنے کے بعد وہ مسکراہٹ کئی گھنٹوں کے لےے اس کے چہرے سے غائب ہوجاتی تھی۔
’’کیسا رہا پہلا دن۔‘‘ میں نے اس کے اندر داخل ہوتے ہی ایسے دروازہ بند کیا جیسے پوچھ رہا ہوں جو ہوا فوراً بتادو۔
’’میں کالج گیا دو پیریڈ اٹینڈ کےے اور بھاگ گیا۔‘‘
’’تو پھر تمہیں آنے میں اتنی دیر کیوں لگی۔‘‘ میں ہونقوں کی طرح اس کے پر سکون چہرے کو دیکھنے لگا۔
’’کیونکہ راستے میں کسی نے مجھے روک لیا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں انتہائی حیرت سے چیخا۔
’’میں سب سے نظر بچا کر بھاگ جانا چاہتا تھا کہ پیچھے سے کسی نے میرا بیگ پکڑ لیا۔‘‘ عدیل نے ایک بار پھر بات درمیان میں چھوڑ کر میرے تجسسُ کو بڑھانا چاہا۔ اسے مجھے حیران کرنے میں مزا آرہا تھا۔
’’بیگ پکڑ لیا۔۔۔ پھر کیا تمہارے پیسے چھین لےے۔ چور تھا۔ اکیلا تھا۔‘‘ میں نے بے ربط انداز میں پوچھا۔
’’اکیلا تھا۔ چور نہیں تھا اور تھا نہیں تھی۔‘‘ عدیل نے میری حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے کہا میں ٹھٹک کر اس کی شکل دیکھنے لگا۔ میری کیفیت دیکھ کر وہ آپ ہی آپ ہنس پڑا۔ وہی کھنکتی ہنسی۔
’’بھیا وہ ایک لڑکی تھی اور میری ہی کلاس کی تھی۔ میں نے جب پلٹ کر دیکھا تو ایک لڑکی کو اپنا بیگ پکڑتا دیکھ کر سمجھ گیا کہ اب یہ بھی میری بے عزتی کرنے والی ہے۔ لیکن جب وہ بولی تو میں شاکڈ رہ گیا اس نے کہا ’’کیا تمہیں معلوم ہے آخرت میں ایسے بہت سارے لوگ ہوں گے، جو صرف اپنی زبان کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے۔ اس وقت جو لڑکے تمہارا مذاق اڑا رہے ہیں۔ وہ دراصل تمہاری نہیں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کا مذاق اڑا رہے ہیں کیونکہ تم جو بھی ہو اور جیسے بھی ہو تمہیں بنانے والا وہی ہے۔ اگر تمہیں اللہ پر بھروسہ ہے تو یہ یقین ہونا چاہےے کہ تمہارا دل دکھانے والوں کی اللہ کے ہاں بڑی سخت پکڑ ہوگی، تم تو ان لوگوں سے گھبرا کر یہاں سے بھاگ سکتے ہو لیکن ان لوگوں کے پاس اس وقت اللہ کے عذاب سے بچنے کے لےے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہوگا، تم انہیں خود سے بہتر سمجھ رہے ہو اس لےے ان کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہو، اگر تم اپنا زاویۂ نظر بدل لو تو تمہیں احساس ہوگا وہ تم سے زیادہ بد قسمت ہیں انہیں تو اپنی کمزوریاں اس وقت نظر آئیں گی جب مہلت ختم ہوچکی ہوگی۔‘‘
بھائی میں حیرت سے گنگ رہ گیا۔ ایسے نظروں کا حامل کوئی شخص میں نے پہلی بار دیکھا تھا، وہ بھی ایک لڑکی۔ بھیا! اسے دیکھ کر مجھے ڈھیروں اطمینان ہوا اگر ایک لڑکی اس طرح سوچ سکتی ہے توکلاس کے دوسرے اسٹوڈنٹس بھی ایسے ہوسکتے ہیں۔ اس کی بات سن کر میں واپس آگیا۔ اس نے کلاس روم میں مجھ سے بات نہیں کی ، ٹھیک تو ہے ایک اجنبی سے پہلے ہی دن سب کے سامنے بات کرنا ٹھیک نہیں اور پھر اس طرح وہ بھی سب کے مذاق کا نشانہ بن سکتی تھی۔ مگر اس کی موجودگی میں مجھے بڑا سکون ملا۔ اس کے بعد کسی نے مجھ پر جو بھی جملہ کسا یا جیسی بھی نظروں سے دیکھا میں اس کی طرف دیکھتا تو لگتا جیسے وہ کہہ رہی ہو۔ ’’جسٹ ریلیکس۔‘‘
عدیل خوشی خوشی بتاتا گیا اورمیرے اندر ڈھیروں اطمینان اتر گیا۔ اگر کلاس میں کوئی ایک بھی اس کی ہمت بندھانے کے لےے موجود ہے تو سمجھو عدیل اپنی پڑھائی مکمل کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔
میرا اندازہ واقعی صحیح نکلا۔ اس لڑکی کی ذات سے عدیل کو اچھا خاصا مورل سپورٹ ملا تھا، حالانکہ ابھی بہت لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے مگر اتنا کافی تھا کہ وہ باقاعدگی سے کالج جاتا تھا البتہ ایک بات جو اماں بابا نے بھی محسوس کی تھی کہ وہ کالج جا کر پہلے سے زیادہ بولنے لگا تھا۔ اس کی گفتگو کی تان زیادہ تر اس لڑکی پر ہی جا کر ٹوٹتی۔ اماں نے اس لڑکی سے ملنے کی خواہش بھی ظاہر کی جس پر وہ مسکرا کر مجھے دیکھنے لگا۔
’’ہوں۔۔۔ آپ سے تو ایک بار ضرور ملوانا ہے۔‘‘ اماں کے اٹھنے کے بعد اس نے معنی خیز انداز میں کہا۔
’’کیوں مجھ سے کیوں؟‘‘ میں نے چونک کر اسے دیکھا۔
’’ہاں ویسے ایک طرح سے آپ سے ملوانا بے کار ہی ہے، ابھی تو آپ کو میڈیکل ختم کر کے اسپیشلائزیشن کرنے میں بہت ٹائم لگے گا۔‘‘ اس کی مسکراہٹ مزید پراسرار ہوگئی۔
’’تم کہنا کیا چاہتے ہو۔‘‘ اس کی بات کا مطلب سمجھ کر میں سنجیدگی سے بولا تو وہ ایک دم جوشیلا ہوگیا۔
’’بھیا! وہ اتنی خوب صورت ہے اگر آپ اسے دیکھ لیں تو۔۔۔‘‘
’’یار یہ تَو کیا سوچ رہا ہے۔‘‘ مجھے اس کے بچپنے پر ہنسی آگئی۔
’’ہنس لو بھائی ہنس لو۔ تم نہیں سمجھ سکتے۔ یہ لڑکیوں کے شوق ہوتے ہیں وہ اپنی سب سے اچھی سہیلی کو ہی اپنی بھاوج بنانا چاہتی ہیں اور میں آپ کی بہن۔۔۔‘‘
’’عدیل شٹ اپ!‘‘ میرا خون کھول اٹھا تو میں اٹھ کر کمرے سے جانے لگا مگر وہ عین میرے سامنے آکھڑا ہوا۔
’’سچ سچ ہوتا ہے بھائی اور ایک سچ یہ بھی ہے کہ میرا تو کبھی کوئی گھر ہوگا نہیں۔ مجھے آگے زندگی میں اکیلے ہی رہنا ہے اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسی لڑکی آگئی جیسی دنیا کی ننانوے فیصد لڑکیاں ہوتی ہیں تو وہ مجھے ایک منٹ بھی برداشت نہیں کرے گی۔‘‘
’’عدیل تم نے مجھے ایسا سمجھ رکھا ہے۔‘‘ میں نے اسے کندھوں سے تھام لیا تو خلافِ توقع وہ ہنس دیا۔
’’میرے کہنے کا مطلب تھا اگر وہ اس گھر میں آجائے تو مزا آجائے۔ آپ بس ایک بار اس سے مل لیں۔‘‘
’’یار فضول باتیں مت کرو۔‘‘ میں نے بحث ختم کرنے کے انداز میں کہا مگر بحث ختم نہ ہوئی۔ عدیل اکثر اپنی اس خواہش کا اظہار کرتا رہتا اور اس کا ذکر کرتے وقت وہ اچھا خاصا جوشیلا ہوجاتا۔ بات کا آغاز وہ کافی پراسرار انداز میں کرنے کی کوشش کرتا تاکہ میں پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوجائوں مگر میں بھی اپنے نام کا ایک ہی ڈھیٹ تھا چنانچہ آرام سے کتاب میں سر دےے رہتا۔
’’بھائی آپ کو پتا ہے وہ بالکل آپ کی طرح ہے۔‘‘
اپنے طور پر اس نے مجھے متجسس کرنے کے لےے بہت بڑا دھماکا کیا تھا مگر میرا چلتا قلم ایک لمحے کے لےے بھی نہیں رکا۔
’’آپ پوچھیں گے نہیں کیسے۔‘‘
’’پوچھنا تو نہیں چاہتا مگر مجھے معلوم ہے تم بتائے بغیر پیچھا نہیں چھوڑو گے۔‘‘ میں نے بے زاری سے کہا مگر اس نے جیسے سنا نہیں۔
’’اسے بھی گھر میں آپ کی طرح کتابی کیڑا کہا جاتا ہے اور اسے بھی آپ کی طرح ڈاکٹر بننے کا جنون ہے اور آپ ہی کی طرح وہ رات کو جب تک ڈیڑھ گھنٹا پڑھ نہ لے اسے نیند نہیں آتی۔‘‘ بالآخر مجھے قلم روکنا ہی پڑا۔ مجھے سر اٹھاتا دیکھ کر عدیل فاتحانہ اناز میں مسکرایا، جیسے وہ اس موضوع میں میری دلچسپی پیدا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہو۔
’’وہ کہاں رہتی ہے۔‘‘ اس کے تاثرات دیکھ کر بھی میں خود کو یہ سوال پوچھنے سے روک نہ سکا۔
’’میں نے کبھی پوچھا نہیں۔ شاید اس علاقے میں رہتی ہوگی۔ میرا کالج بھی گھر کے قریب ہے اس میں سب آس پاس کے لوگ ہی پڑھتے ہیں۔ لیکن آپ کو تو اس موضوع میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے بارے میں آپ کچھ سننا کچھ جاننا نہیں چاہتے۔ پھر اس سوال کا مطلب۔‘‘
عدیل آنکھیں گھما گھما کر معنی خیز انداز میں بولا تو میں سر جھٹک کر واپس لکھنے میں مشغول ہوگیا۔ خوامخواہ ایک احمقانہ سوال پوچھ کر میں نے عدیل کو اپنا سر مزید کھانے کا موقع دے دیا تھا۔ رات کو دیر تک پڑھنے والے اسٹوڈنٹس تو بہت ہوں گے اب دنیا اتنی بھی چھوٹی نہیں کہ عدیل جس لڑکی کا اتنا ذکر کرتا ہے وہ اس سامنے والے گھر میں ہی رہتی ہو۔
برابر والے حمید کی آپا کی شادی اچانک طے ہوگئی تو لگے بندھے روٹین میںکچھ رونق سی آگئی۔ رشتے داری نہ ہونے کے باوجود اتنے پرانے اور قریبی تعلقات ہونے کی وجہ سے ایسا ہی لگ رہا تھاجیسے ہمارے اپنے گھر کی شادی ہو۔ دراصل لڑکا ملک سے باہر رہتا تھا وہ چھٹیوں میں گھر آیا تھا اور اسی دوران تاریخ طے ہوگئی تھی۔ رشتہ تو کافی عرصے سے طے تھا۔
شادی کے بعد جیسے ہی وہ ویزا بھیجتا، آپا ان کے پاس چلی جاتیں۔
’’تم لوگ آپا کو اتنی دور بھیج رہے ہو۔‘‘ حمید سے تفصیل سن کر میں بے اختیار بولا۔
’’ہاں اس لڑکے کو باہر جاب مل گئی ، ورنہ آپا ہمارے آنکھوں کے سامنے ہی رہتیں، میں نے تمہیں بتایا تھا نا یہ جو سامنے والے گھر میںلوگ آنے والے ہیں وہ ہمارے دور پرے کے رشتے دار ہیں۔ ان ہی کے بیٹے سے تو آپا کی شادی طے ہے۔ کتنا اچھا ہوتا آپا اس گھر سے اَس گھر میں چلی جاتیں۔ خیر فی الحال وہ یہیں رہیں گی۔ دیکھو ویزا آنے میں کتنا ٹائم لگتا ہے۔‘‘
’’وہ سامنے والا گھر تو ابھی بھی خالی لگتا ہے۔ لائیٹ جلتی نظر آتی ہے تو پتا چلتا ہے گھر میں کوئی ہے ورنہ کوئی انسان تو کبھی نظر نہیں آتا۔‘‘ میں نے بظاہر سرسری انداز میں کہا
’’گھر میں ہے ہی کون۔ دولہا بھائی ملک سے باہر رہتے ہیں۔ ان کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے۔ صرف ان کے والد اور ایک بہن گھر میں ہوتی ہے اور اس لڑکی کا پڑھائی کے معاملے میں یہ حال ہے کہ وہ تمہیں بھی مات دے دے،مجال ہے جو اپنے کمرے سے باہر بھی جھانک لے۔ میں نے آپا سے کہہ دیا ہے تم شادی کے بعد اسے تھوڑا انسان بنا دینا۔‘‘ حمید لاپروائی سے بولا۔ اگر یہ بات حمید نے کسی اور کے متعلق کہی ہوتی تو میں اسے ضرور سراہتا مگر اس کے ذکر پر میں صرف مسکرا کر رہ گیا۔
شادی کے چھوٹے موٹے کاموں میں اتنا وقت خرچ ہوتا ہے اس بات کا علم مجھے پہلی بار ہوا تھا۔ مایوں کی تقریب میں کھانے کی میزیں اور کرسیاں لگوانے تک میں نے حمید کا ساتھ دیا مگر عین فنکشن کے وقت میں معذرت کر کے گھر آگیا۔ حمید نے بھی زیادہ اصرار نہیں کیا کیونکہ حمید کے خاندان کی لڑکیوں کا ڈانس کا پروگرام تھا اور لڑکوں کو اندر آنے کی اجازت نہ تھی۔ ہمیں باہر ہی بیٹھ کر کھانا کھا کر آجانا تھا۔ البتہ اماں اور عدیل وہیں تھے اور رات کو اتنی دیر سے گھر لوٹے تھے کہ مجھے خبر بھی نہیں ہوئی۔ میںتو کھانا کھا کر سونے بھی لیٹ گیا تھا اور سارے دن کی بھاگ دوڑ کے بعد اتنی گہری نیند سویا تھا کہ عدیل کے جھنجھوڑنے پر بری طرح جھنجھلا گیا۔
’’کیا مصیبت آگئی۔‘‘
’’بھائی کیا آپ جانتے ہیں ثمینہ آپا کی ہونے والی نند کون ہے۔‘‘ عدیل نے پرجوش انداز میں پوچھا جبکہ میں حیران پریشان اسے دیکھے گیا۔
’’بتائیں نا۔‘‘ اس نے مجھے جھنجھوڑا تو میں جھنجھلا پڑا۔
’’کیا مطلب ہے اس سوال کا، وہ بھی رات کے ایک بجے۔‘‘
’’بھائی! وہ۔۔۔ وہی تو ہے میری بیسٹ فرینڈ، جسے میں آپ سے ملوانا چاہتا تھا اور وہ ہمارے سامنے والے گھر میں ہی رہتی ہے۔‘‘ عدیل سے یہ خوشی سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی۔
’’یہ بتانے کے لےے جگایا تھا۔‘‘ مجھے حقیقتاً غصہ آگیا۔
’’نہیں، بلکہ یہ پوچھنے کے لےے کہ وہ آپ کو کیسی لگی۔‘‘ وہ سراپا منتظر بن گیا۔
’’میں نے اسے دیکھا ہی کب۔‘‘ میں زچ ہوگیا۔
’’آپ نے اسے نہیں دیکھا۔‘‘ میں نے عدیل کے لہجے پر غور کےے بغیر بستر پر لیٹ کر چادر سر تک تان لی۔
’’انسان کوئی بات اس وقت چھپاتا ہے جب اس کے دل میں چور ہو۔‘‘ عدیل کا لہجہ اب بھی سنجیدہ نہیں تھا مگر اس کا انداز بدل گیا تھا۔ میں چادر ہٹا کر اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
’’اگر آپ نے اس کے کہنے پر مٹھو کو آزاد کر دیا تھا تو یہ بات آپ نے چھپائی کیوں۔‘‘
’’اف!‘‘ اگر مجھے ذرا بھی امید ہوتی کہ یہ راز کبھی کھلے گا تو میں کم از کم کوئی اچھا سا بہانہ سوچ کر رکھتا اب اس قدر اچانک کوئی جواب بھی نہیں سوجھ رہا تھا۔ بغیر آئینہ دیکھے ہی مجھے یقین تھا کہ میرے چہرے پر کھسیاہٹ کے تاثرات صاف نظر آرہے ہوں گے۔ میں نے ایسے چادر میں منہ چھپا لیا جیسے منہ دکھانے کے قابل نہ رہا ہوں۔
’’آپ جانتے تھے وہ میرا کتنا چہیتا مٹھو تھا پھر بھی اس نے کہا اور آپ مان گئے اور تو اور کسی کو بتایا بھی نہیں۔‘‘
عدیل جرح کرتے ہوئے بولا۔ حالانکہ میں جانتا تھا وہ بالکل ناراض نہیں ہے بلکہ میری حالت سے محظوظ ہورہا ہے لیکن اس کے سوال نے میری مشکل آسان کر دی اور میں فوراً اٹھ بیٹھا۔
’’اسی لےے تمہیں نہیں بتایا کہ وہ تمہارا چہیتا مٹھو تھا۔ تم ہنگامہ کھڑا کر دیتے، ورنہ اصولی طور پر اس لڑکی کے بجائے تمہیں خود اسے آزاد کرنے کا خیال آنا چاہےے تھا۔‘‘ اپنی بات کہہ کر میں نے وہی تقریر اس کے سامنے دوہرا دی جو اس لڑکی نے میرے سامنے کی تھی۔ اور جسے سن کر میرا دل پسیج گیا تھا مگر عدیل اس لیکچر کو سن کر شرمندہ ہونے کے بجائے شرارت سے مسکرانے لگا۔
’’اس کی کہی ایک ایک بات کتنی اچھی طرح یاد ہے نا آپ کو۔‘‘
’’اس نے نہیں کہا یہ سب میں خود کہہ رہا ہوں۔‘‘ میں نے ڈھٹائی کی حد کر دی۔
’’جب میں نے اسے بتایا کہ میں حمید بھائی کے برابر والے گھر میں رہتا ہوں تب اس نے مجھے پوری تفصیل بتائی کہ وہ اس گھر میں جا چکی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن چلیں میں آپ کی بات مان لیتا ہوں کہ یہ آپ کے اپنے الفاظ ہیں۔ یہ تو اور بھی اچھی بات ہے اسے کہتے ہیں سو فیصد ذہنی ہم آہنگی۔ کیونکہ وہ بھی لفظ بہ لفظ یہی باتیں کہہ رہی تھی۔‘‘ میں نے اپنی مسکراہٹ کو بمشکل روکا اور واپس لیٹ گیا۔
’’پلیز مجھے سونے دو۔ میرا سر پہلے ہی درد کر رہا ہے۔‘‘
’’اچھا اچھا جا رہا ہوں۔ مگر ایک بات تو مان جائیں کہ میری پسند لاجواب ہے۔‘‘ عدیل اتنے اعتماد سے جواب سنے بغیر کمرے سے نکل گیا جیسے تصدیق کی ضرورت نہ ہو۔
ثمینہ آپا کی شادی کے دوران اماں بابا بھی اس لڑکی سے اچھی طرح واقف ہوگئے تھے۔آخر عدیل کی واحد اور بہترین دوست تھی۔ حمید نے جو اسے کتابوں تک محدود لڑکی کہا تھا تو یہ سراسر اس کی غلط فہمی تھی۔ وہ صرف تنہائی سے گھبرا کر کتابوں میں پناہ لیتی تھی ورنہ وہ ہرگز بھی آدم بے زار نہیں تھی۔ آپا سے اس کی محبت کا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بھائی کے واپس جاتے ہی ایک پل کے لےے بھی انہیں اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ آپا سسرال میں فارغ ہونے کے بعد اپنی امی کے پاس آکر ان کے بھی سارے کام کر جاتیں تو وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ ان کا ہاتھ بٹانے چلی آتی شاید اسے یہ فکر ہوگی کہ آپا کا ویزا آتے ہی وہ چلی جائیں گی اس لےے وہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتی تھی اس کی حمید سے بھی اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی اور عدیل تو تھا ہی اس کا دوست، لہٰذا خوب محفل جمتی۔ میرے لےے میڈیکل کی ٹف پڑھائی میں سے وقت نکال کر محفلیں اٹینڈ کرنا بہت مشکل تھاپھر بھی میں پوری کوشش کر کے ان کے ساتھ پروگرامز میں شامل ہو ہی جاتا حالانکہ اس کے کفارے کے طور پر مجھے رات کو دیر تک جاگ کر پڑھنا پڑتا اور صبح صبح جب اماں جگانے آتیں تو مندی مندی آنکھوں کے ساتھ بستر سے اٹھتے وقت میں عہد کر لیتا کہ اب اگر وہ پکنک یا آئوٹنگ وغیرہ کا پروگرام بنائیں گے تو ان کے ساتھ ہر گز نہیں جائوں گا مگر میرے عہد سیاسی لیڈروں کے وعدوں کی طرح وقت آنے پر دھرے کے دھرے رہ جاتے۔
کبھی کبھی میں حمیدکے گھر کسی کام سے دو منٹ کے لےے بھی جاتا تو وہاں اسے موجود دیکھ کر میرے دو گھنٹے کہاں گزر جاتے مجھے پتا ہی نہ چلتا۔
حمید نے اپنے کالج کے تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا اور انہیں سامنے بٹھا کر مشق کے طور پر اپنی تقریر سنا رہا تھا کہ وہ اعتراض کرنے لگی۔
میںیہ بھول کر کہ میں یہاں صرف صبح کا اخبار مانگنے آیا ہوں خاموشی سے اس کی تابڑ توڑ دلیلیں سننے میں محو ہوگیا۔
’’تقریر تو تمہاری بہت اچھی ہے مگر اس میں نیا کیا ہے جو پوائنٹس تم نے اٹھائے ہیں وہی باتیں سب کہیں گے اس میں چونکانے والی کوئی بات نہیں ہے اور پھر پتا نہیں تم کون سے نمبر پر تقریر کرنے جائوگے۔ شروع کی ایک دو تقریریں لوگ پھر بھی دلچسپی سے سن لیتے ہیں پھر اس موضوع کے بار بار رپیٹ ہونے پر لوگ آخر کے آنے والوں کے نکتۂ نظر پر دھیان بھی نہیں دیتے۔‘‘ وہ اپنے مخصوص سنجیدہ بردبار انداز میں بولی۔
’’اس بات کا احساس مجھے بھی ہے مگر ہر موضوع پر تقریر کرنے کے دو ہی طریقے ہوتے ہیں اس کی حمایت کرلو یا مخالفت۔ اب ہمیں موضوع ہی ایسا ملا ہے کہ صرف حمایت ہی کی جاسکتی ہے، مخالفت کی تو گنجائش ہی نہیں۔‘‘ حمید نے اطمینان سے کندھے اچکائے۔
’’گنجائش نہیں ہے تو گنجائش نکالو۔‘‘ وہ برجستہ بولی۔
’’تمہارا مطلب ہے وہ انصاف جیسے موضوع کی مخالفت کرے یعنی یہ کہے کہ انصاف کے بجائے نا انصافی کا چلن ہونا چاہےے۔‘‘ ثمینہ آپا نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
’’بھابھی انصاف کی مخالفت کرنے کے لےے ضروری نہیں کہ نا انصافی کا ساتھ دیاجائے۔ میرے کہنے کا مطلب تو یہ ہے کہ بیچ کا راستہ بھی نکالا جاسکتا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیں اسی بیچ کے راستے پر چلنے کی زیادہ ضرورت ہے یعنی کہ صلۂ رحمی اور عفو و درگزر کی۔‘‘
وہ بولنے میں بہت ماہر تھی مجھے یقین تھا وہ بغیر کسی تیاری کے بھی حمید سے بہتر تقریر کر سکتی ہے بلکہ اس کی دھجیاں اڑا سکتی ہے، اسے سننا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا، پھر بھلا میں یہ موقع کیسے جانے دیتا جب کہ اس وقت تو مجھے یقین تھا کہ اس کا ارادہ ایک لمبی بحث کا ہے میں سارے کام بھول کر دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا۔
حمید کے چہرے پر بے زاری کے تاثرات پھیلتے دیکھ کر بھی اس کے جوش و خروش میں رتی برابر فرق نہیں آیا۔
’’حمید میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ اس بات کا احساس تمہیں مقابلے والے دن ہوگا جب تمام اسٹوڈنٹس ایک سے الفاظوں کا استعمال کرتے نظر آئیں گے اس وقت جب تم ان سب سے ہٹ کر ایک نیا آغاز کرو گے تو پورا ہال دوسروں کے برعکس تمہیں زیادہ دلچسپی اور توجہ سے سنے گا، صلہ رحمی، معافی، درگزر اور صبر و ضبط یعنی دوسروں کو نا انصافی کرتا دیکھ کر ہم بھی ان جیسے نہ بن جائیں، بکہ ہم اپنی جگہ ضبط سے کام لیتے ہوئے صلہ رحمی کو عام کریں۔‘‘
’’اس طرح تو میں موضوع سے ہٹ جائوں گا۔‘‘ اس کی بات پر کچھ دیر تو حمید اسے دیکھتا رہا پھر جیسے اکتا کر بولا تو اتنی محنت سے تیار کی گئی تقریر سنانے کے بعد اسے اس رد عمل کی ہر گز توقع نہیں تھی، ورنہ شاید وہ انہیں سناتا ہی نہں۔
’’تمہیں موضوع کے طور پر صرف انصاف کا لفظ دیا گیا ہے نا اور اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ تمہیں انصاف کے لےے کیا کہنا ہے۔ گویا تمہارے پاس بہت گنجائش ہے کہ تم موضوع میں اپنے مطابق رد و بدل کر سکو۔ انصاف کا نام سنتے ہی ہمیں سب سے پہلے ملک میں ہونے والی نا انصافیوں کا خیال آتا ہے۔ اور تم دیکھ لینا تمام اسٹوڈنٹس اس قسم کی دلیلیں دیں گے کہ انصاف اس لےے نہیں ہوتا کہ گواہیاں چھپائی جاتی ہیں وغیرہ۔ بے شک یہ ساری باتیں درست ہیں لیکن ملکی قانون کے علاوہ ایک اخلاقی قانون بھی ہوتا ہے۔ عام روزمرہ زندگی میں ہمارا واسطہ اسی اخلاقی قانون سے ہی پڑتا ہے، ہم اگر اپنی روزمرہ زندگی میں معافی اور درگزر سے کام لیں تو کئی بڑی بڑی دشمنیاں شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائیں گی، تم اگر انہیں سمجھانے میں کامیاب ہوجائو کہ۔۔۔‘‘
’’مجھے کسی کو کچھ سمجھانا ومجھانا نہیں ہے۔‘‘ حمید نے چڑ کر اس کی بات کاٹ دی۔
’’میں صرف تقریر کرنے جارہا ہوں۔ تعلیمی اداروں میں تقریری مقابلوں کا مقصد چاہے کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو مقابلے میں اترنے والے اسٹوڈنٹس کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے جیتنا، ورنہ جو باتیں ہم کہتے ہیں ان پرہم خود بھی عمل نہیں کرتے۔‘‘ حمید کی بات پر وہ گہرا سانس کھینچتے ہوئے بولی۔
’’تو ٹھیک ہے نا جب تمہیں صرف الفاظ ہی خرچ کرنے ہیں تو پھر وہ کیوں کہو جو سب کہیں گے، کیوں نہ ایسی بات کہو جو سب کو چونکا دے اور یہاں تو صرت حال بہت آسان ہے کیونکہ انصاف سے بھی بڑا وصف ہے معافی۔ گویا تم ایک مزید بہتر نکتہ منظر عام پر لارہے ہو اور جہاں تک سوال موضوع سے ہٹنے کا ہے تو یہ تم پر منحصر ہے کہ الفاظوں کا چنائو کیسے کرتے ہو۔ اگر تم تقریر کا آغاز سورہ فاطر کی آیت نمبر پینتالیس سے کرتے ہو جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔
’’اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر ان کے اعمال کے سبب داروگیر فرمانے لگتا تو روئے زمین پر ایک جاندار کو نہ چھوڑتا۔‘‘
یہ کہنے کے بعد تم اس طرح بات شروع کرو کہ جب ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تب ہم اپنے گریبان میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتے ہم خود کئی برائیوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر وہ ہمیں کبھی دکھائی نہیں دیتیں جبکہ کسی دوسرے میں کوئی معمولی سی کمزوری بھی نظر آجائے تو ہم فوراً سزا، جرم، حق اور انصاف کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے جب ہمیں اپنا قرض وصول کرنا ہوتا ہے تو ہم قرض سے زیادہ رقم وصول کرنے کو اپنا حق اور ملکی قانون کہتے ہیں اور جب وہی قرض ہمیں ادا کرنا ہوتا ہے تو ہم اسے سود کہہ کر ملکی قانون کو شرعی قانون نہ ہونے پر واویلا مچاتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری خطبہ میں سود کو حرام قرار دیتے ہوئے سب سے پہلے خود اپنے خاندان سے عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کیا تھا۔ یہ بھی تو انصاف کی ایک قسم ہوئی نا کہ ہم دوسرے کے لےے وہی چیز مناسب سمجھیں جو ہم اپنے لےے سمجھتے ہیں اور یہ صرف تب ہی ممکن ہے جب ہم خود غرضی کے بجائے صلہ رحمی سے کام لیں، تم نے حضرت نوح علیہ السلام کا وہ واقعہ تو سنا ہوگا نا کہ ایک بار شیطان حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا۔
’’حضرت میں آپ کے احسان کا بدلہ کس طرح اتاروں۔‘‘
آپ نے فرمایا۔ ’’کون سا احسان؟‘‘
شیطان نے کہا ’’آپ نے بد دعا دے کر اپنی قوم کو غرق کر دیا میں بہت خوش ہوا کیونکہ تباہی تو میرا کام تھا جسے آپ نے انجام دے دیا۔‘‘
نوح علیہ السلام پریشانی سے شیطان کی شکل دیکھنے لگے۔ شیطان نے کہا۔
’’میں آپ کے احسان کے عوض آپ کو پتے کی بات بتانا چاہتا ہوں اگرآپ مجھ سے واقعی بچنا چاہتے ہیں تو غصہ پی جایا کیجےے۔‘‘
اب تم انصاف سے بتائو وہ قوم جو نبی کے احکام سے انکار کرے اسے بد دعا دینا عین حق ہے۔ لیکن یہ بات قطع رحمی میں شمار ہوتی ہے، گویا انصاف سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ لوگوں کو معاف کیا جائے اور انہیں موقع دیا جائے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ۔
’’معاف کر دینے سے اللہ تعالیٰ عزت میں اضافہ فرماتا ہے۔‘‘
’’تمہاری دلیلیں تو کافی ٹھوس ہےں مگر میرے پاس ان سارے پوائنٹس کو تقریر کی شکل دے کر اسے یاد کرنے کا وقت کہاں ہے۔‘‘ حمید کی بات صحیح تھی مگر اس کا انداز صاف پہلو تہی کرنے والا تھا اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، میں بول پڑا۔
’’تمہارے پاس اگر وقت ہوتا بھی تب بھی میرا مشورہ یہی ہوتا کہ تم صرف انصاف پرہی بولو۔ یہ صلہ رحمی، درگزر اور معافی تلافی جیسے فلسفے سننے میں بہت خوب صورت لگتے ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں ان پر عمل نہیں ہوتا۔ کچھ باتوں پر دوسروں کو معاف کیا جاسکتا ہے لیکن کچھ نقصان ناقابلِ تلافی ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مجرم کو سزا بھی دے دی جائے، تب بھی بعض اوقات مظلوم کی تسکین نہیں ہوتی۔ اگر تمہارے تقریری مقابلے کا جج کوئی میرے جیسا انسان ہوا تو وہ ہرگز بھی ان دلیلوں سے قائل نہیں ہوگا۔‘‘ مجھے احساس تھا کہ میرا لہجہ خلافِ معمول تلخ ہوگیا تھا۔ میری اچانک مداخلت پروہ چونکی ضرور، مگر اگلے ہی پل وہ حمید کو بھول کر مجھے سمجھانے لگی۔
’’انصاف کی اہمیت سے میں کب انکار کر رہی ہوں، مگر اس بات کا اعتراف تمہیں بھی کرنا ہوگا کہ اکثر اوقات انصاف صحیح طرح نہیں ہوپاتا جیسا کہ تم نے خود کہا کہ مظلوم کی تسکین نہیں ہوپاتی۔ اسی طرح کبھی کبھی مجرم کے ساتھ بھی زیادتی ہوجاتی ہے کیونکہ سزا صرف جرم دیکھ کر سنا دی جاتی ہے اور یہ نہیں دیکھا جاتا کہ وہ جرم کن حالات میں ہوا ہے، جرائم کی شرح میں دن بہ دن اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم لوگوں کو سدھرنے کا موقع نہیں دے رہے بلکہ ان پر۔۔۔‘‘
’’لگتا ہے تم اخبار نہیں پڑھتیں۔ ایک چھ سال کے بچے کو اغوا کر کے اس کی آنکھیں پھوڑ دی جاتی ہیں اور اسے سڑک پر بھیک مانگنے کے لےے بٹھا دیا جاتا ہے۔ ایسے وحشی مجرم اول تو گرفتار ہوتے نہیں اور اگر ہو جائیں تو تمہارے نظرےے کے مطابق انہیں معاف کردینا چاہےے۔‘‘ میں نے چڑ کر اس کی بات کاٹی۔
’’ریلیکس یار۔‘‘ حمید نے مجھے ٹوکنا چاہا، مگر وہ بول پڑی۔
’’میں نے یہ کب کہا کہ ایسے لوگوں کو معاف کر دینا چاہےے تم میری بات کا غلط مطلب نکال رہے ہو یا پھر شاید میں ہی اپنی بات سمجھا نہیں پارہی۔ جو شخص چھ سال کے بچے کی آنکھیں پھوڑ کر اسے بھیک مانگنے کے لےے بٹھا دے وہ انسان کہلانے کے قابل نہیں ہے لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے۔ تصویر کا کوئی دوسرا رخ بھی ہوگا، وہ شخص اتنا وحشی ہے تو اس کے وحشی بن جانے کے پیچھے کچھ عوامل ہوں گے۔ اس چھ سالہ بچے کی آنکھیں واپس نہیں آسکتیں چاہے اس شخص کو پھانسی پر ہی کیوں نہ چڑھا دیا جائے۔ضرورت اس بات کی نہیں ہے کہ اس شخص سے کتنا بھیانک انتقام لیا جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ لوگوں کے اندر ایسے جذبات پیدا کےے جائیں کہ ایسے دل خراش واقعوں کی نوبت ہی نہیں آئے۔
’’یار پٹری پر واپس آجائو۔ تم لوگ کہیں سے کہیں چلے گئے ہو۔‘‘ حمید منمنا کر بولا مگر میں نے سنی اٰن سنی کر دی۔
’’معاف کرنے سے لوگوں کے اندر انسانیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ وہ اور بے خوف ہوجاتے ہیں، اکثر عورتیں بازاروں میں چوریاں کرتی پھرتی ہیں اور جب پکڑی جاتی ہیں تو رونا دھونا شروع کر دیتی ہیں۔ دکان دار انسانیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہیں چھوڑ دیتا ہے جس پر ان کے حوصلے اور بلند ہوجاتے ہیں اور اگلے دن وہ پھر اس کام کے لےے نکل کھڑی ہوتی ہیں۔‘‘
’’کاظم ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ ثمینہ آپا بولیں۔
’’بعض حالات میں انصاف کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے۔ معافی اور درگزر صرف اپنی ذات تک ہو تب تو ٹھیک ہے لیکن جہاں سوال معاشرے میں ہونے والے جرائم کا ہے وہاں جب تک غیر جانبدار ہو کر انصاف نہ کیا جائے ان کا سد باب نہیں ہوسکتا۔‘‘ آپا کی بات پر وہ یک دم جوش میں آگئی۔
’’بھابھی معاشرہ ہم سے الگ نہیں ہے۔ ہم خود ہی معاشرہ ہیں۔ آپ خود بتائیں انصاف غیر جانبداری سے کب ہوتا ہے۔ ابھی کاظم نے کہا میں اخبار نہیں پڑھتی اب میں آپ لوگوں سے پوچھتی ہوں کیا آپ سب لوگ اخباوں میں یہ سرخیاں نہیں پڑھتے کہ فلاں علاقے میں لوگوں نے کونسلر کے سامنے احتجاج کے طور پر دوکانیں اور گاڑیاں جلادیں، اب کوئی ان سے پوچھے کہ بھلا ان دوکان داروں اور گاڑی والوں کا کیا قصور تھا یا پھر فلاں علاقے میں ایک لڑکا ایک لڑکی کو لے کر فرار ہوگیا اور غیرت کے مظاہرے کے لےے لڑکی کے بھائی نے لڑکے کے سارے گھر والوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا۔‘‘ وہ کچھ دیر کے لےے ایسے خاموش ہوگئی جیسے ہیں بولنے کا موقع دے رہی ہو مگر ہمیں چپ دیکھ کر وہ خود ہی کہنے لگی۔
’’میں یہی سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ان موقعوں پر ہمیں ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے درگزر سے کام لینا چاہےے۔ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۷۹ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔’’نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔‘‘ رسانیت سے کہتے ہوئے اس نے اپنی بات کے اختتام پر کندھے اچکا دےے تو حمید بول اٹھا۔
’’اصل میں تم نے یہ بحث غلط آدمی کے سامنے چھیڑ دی۔‘‘ حمید نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’کاظم کو زندگی میں قدم قدم پرلوگوں کے روےُے نے تکلیف پہنچائی ہے اس لےے وہ جانتا ہے کہ معاف کرنا آسان نہیں ہوتا اور جب وہ خود اس بات کو قبول نہیں کر رہا تو اسے لگتا ہے جج صاحب بھی اس بات پر متفق نہیں ہوں گے۔ ورنہ سچ پوچھو تو تمہاری باتیں اتنی غیر حقیقی بھی نہیں مگر کاظم کے لےے رحم کا لفظ بالکل غیر مانوس ہے، یہ تو ان میں سے ہے کہ ذرا کوئی بات مزاج کے خلاف ہوئی نہیں اور یہ آپے سے باہر ہوگیا۔‘‘ حمید میری طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا تو وہ مجھے ایسے حیرانی سے دیکھنے لگی جیسے حمید کی بات پر یقین نہ آرہا ہو، میں اس کے اس طرح دیکھنے پر مسکرا کر اپنی صفائی دینے لگا۔
’’اب میں اتنا بھی جنونی نہیں ہوں۔ بس اسکول میں دو چار بار لڑائیاں کیا ہوگئیں حمید نے اس بات کو میری چڑ بنالیا۔‘‘
’’دو چار بار۔‘‘ حمید نے آنکھیں پھاڑیں پھر اس کی طرف پلٹتے ہوئے باقاعدہ جرح کرنے لگا۔
’’دو بار اسکول سے سسپنڈ ہوتے ہوتے بچا ہے، ایک بار ایک لڑکے کا ہاتھ جلانے کی کوشش میں یہ اپنا ہاتھ جلا بیٹھا تھا۔ آج بھی وہ نشان اس کے بازو پر موجود ہے۔‘‘ حمید نے یک دم ہی میرا ہاتھ پکڑ کر آستین اوپر کرنی چاہی، مگر میں نے اپنا ہاتھ چھڑالیا۔ حمید کی بات پر مجھے وہ تکلیف دہ حادثہ یاد آگیا تھا۔ میں تلخی سے کہنے لگا۔
’’میں نے پہلے ہی پورے اسکول کو وارننگ دے دی تھی کہ اگر کسی نے ایسی حرکت دوبارہ کی تو اس کے ہاتھ جلا دوں گا اور میں جو کہتا ہوں وہ کرگزرتا ہوں۔‘‘
’’لیکن آخر ہوا کیا تھا۔‘‘ وہ اب بھی بے یقینی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
’’ارے ہونا کیا ہے، ساری زندگی عدیل کی وجہ سے لڑتا آیا ہے، تم سمجھ ہی سکتی ہو اسکول میں عدیل کے ساتھ لڑکوں کا کیا رویُہ ہوتا ہوگا بس ادھر کسی نے عدیل کو کچھ کہا اور اَدھر یہ لڑنے مرنے پہنچ گیا۔ اس وقت وہ لڑکے پٹ کر چلے جاتے بعد میں پھر بدلہ لینے آتے اور انتقاماً عدیل کو اور تنگ کرتے۔‘‘ حمید نے کہا۔
’’اور عدیل مجھے ان کی حرکتوں کے بارے میں بتانے کے بجائے چپ چاپ ان کے سطحی مذاق کا نشانہ بنتا رہتا۔‘‘ میں نے ایسے کہا جیسے اس سے عدیل کی شکایت کر رہا ہوں۔
’’تم عدیل کے معاملے میں اتنے حساس ہو کہ اگر عدیل کی جگہ میں ہوتا تو میں بھی کچھ نہ بتاتا۔ کبھی کبھی یہ اتنا وحشی ہوجاتا تھا کہ ہمیں ڈر لگتا تھا یہ کسی کا قتل ہی نہ کر دے۔‘‘
’’خیر ایسی بھی کوئی بات نہیں اور جہاں تک سوال قتل کا ہے تو وہ سب تھے اسی قابل کہ انہیں جان سے مار دیا جائے۔ حمید نے تمہیں یہ توبتا دیا کہ میں نے ایک لڑکے کا ہاتھ جلا دیا تھا مگر یہ نہیں بتایا کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ ایک لڑکے نے عدیل کی ڈرائنگ بنا کر نوٹس بورڈ پر لگا دی تھی۔ وہ تصویر اتنی شرم ناک اور اتنی بے ہودہ تھی کہ دیکھنے والوں کو زمین میں گڑ جانا چاہےے تھا مگر لڑکے اسے دیکھ کر لوٹ پوٹ ہوئے جارہے تھے جب مجھے پتا چلا تو میں نے وہ تصویر اتار کر نذر آتش کر دی اور ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ اگر کسی نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو اگلی بار تصویریں بنانے والے کے ہاتھ جلیں گے لیکن ان لڑکوں کی بے حسی دیکھو اگلے دن اسی نوٹس بورڈ پر اس سے بھی زیادہ گھٹیا تصویر آویزاں تھی اور بنانے والے کا نام بھی لکھا تھا۔ یہ تو صاف صاف للکارنے والی بات ہوئی نا۔ بس میں نے تصویر پھاڑی اور سیدھا اس لڑکے کے پاس پہنچ گیا مگر ساری کلاس اسے بچانے آگئی اور اس لڑکے سے زیادہ میرا اپنا ہاتھ جل گیا۔‘‘ بات کا آغاز میں نے نہایت طیش کے عالم میں کیا تھا لیکن بات ختم کرنے تک میرے لہجے میں عجیب سا دکھ گھل گیا ماحول پر عجیب سی سوگواری چھا گئی تھی۔
’’اب تم خود بتائوکیا میں نے کچھ غلط کیا۔‘‘ میں نے براہِ راست اس کی طرف دیکھا تو احساس ہوا اس کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی وہ واقعی ایک بہت حساس اور نرم دل لڑکی تھی دوسروں کے دکھ پر دکھی ہوجانے والے دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں اور ایسی نایاب ہستی کو اداس دیکھنا میری برداشت سے باہر تھا۔ میں اپنے لہجے کو ایک دم فریش بناتے ہوئے روانی سے بولا۔
’’حمید مجھے جنونی کہے یا وحشی۔ لیکن میری یہ مار پیٹ کبھی بے کار نہیں جاتی تھی۔ بہت سے لڑکے محض میرے ڈر سے عدیل کو کچھ نہیں کہتے تھے اور تو اور ایک بار کسی نے عدیل کے اوپر ایک نظم لکھ کر میرے بیگ میں ڈال دی میں حسبِ عادت بھڑک اٹھا وہ صفحہ جس رائیٹنگ پیڈ کا تھا ویسا رائیٹنگ پیڈ میری ہی کلاس کے ایک لڑکے کے پاس تھا میں نے جا کر اس کی اچھی خاصی خبر لے ڈالی وہ لڑکا بھی کوئی شریف نہیں تھا اس نے اپنا پرکار اٹھا کر میرے کندھے میں گھونپ دیا اور۔۔۔‘‘
’’کیا۔۔۔!‘‘ وہ بے اختیار چیخ اٹھی۔ آپا اور حمید کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ کیونکہ وہ پورے واقعے سے باخبر تھے۔
’’اس نے تمہارے کندھے میں پرکار۔۔۔ گھونپ دیا۔‘‘ وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے بڑے بے ساختہ انداز میں بولی ایسے جیسے میری اذیت وہ خود محسوس کر رہی ہو۔
’’ارے سنو تو سہی۔‘‘ میں نے اس کی کیفیت سے محظوظ ہوتے ہوئے مسکرا کر کہا۔
’’مجھے فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ زخم زیادہ گہرا نہیں تھا اور پھر لڑائی میں نے شروع کی تھی اس لےے پرنسپل نے دونوں کو وارننگ دے کر چھوڑ دیا کچھ دن بعد ایک لڑکے نے مجھے فون کیا اس نے اپنا نام نہیں بتایا۔ صرف اتنا کہا میں آپ کے ہی اسکول کی کسی کلاس میں پڑھتا ہوں پھر اس نے مجھ سے معذرت کی کہ آپ کو میری وجہ سے اتنا بڑا زخم لگا اور اتنی ڈانٹ سننی پڑی، دراصل وہ نظم اس لڑکے نے نہیں لکھی تھی بلکہ میں نے اس کے پیڈ سے کاغذ پھاڑ کر وہ نظم لکھ کر آپ کے بیگ میں ڈال دی تھی۔‘‘
’’کیوں۔‘‘ وہ بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولی۔
’’میںنے بھی اس سے یہی سوال پوچھا تو وہ کہنے لگا میرا قد بہت چھوٹا ہے اور یہ لڑکا ہر وقت میرا مذاق اڑاتا رہتا ہے، میں نے سوچا کیوں نہ آپ کے ذریعے اسے تھوڑا سبق سکھایا جائے، مگر مجھے نہیں پتا تھا بات اتنی سریس ہوجائے گی، کاش عدیل کی طرح میرا بھی کوئی آپ جیسا بھائی ہوتا۔‘‘ میں خود ہی اپنی بات مکمل کر کے ہنس پڑا تو حمید بھی ہنس کر کہنے لگا۔
’’وہ جیسے چھوٹے علاقوں میں گلی کا غنڈہ ہوتا ہے نا جسے لوگ دادا کہتے ہیں اپنے کاظم کی بھی اسکول میں ایسی ہی امیج بن گئی تھی لوگ اس کے ذریعے اپنی دشمنیوں کے بدلے لینے لگے تھے۔
اس دن ہم نے کاظم کو بہت ڈانٹا ارے ایسا بھی کیا غصہ کہ بغیر کچھ جانے جو سامنے نظر آیا اسی کو پیٹ ڈالا۔ کس نے کیا ہے، کیوں کیا ہے۔ جس کی پٹائی کر رہے ہو وہ مجرم ہے بھی یا نہیں کچھ پتا نہیں۔‘‘ ثمینہ آپا ملامت بھرے انداز میں بولیں۔
’’مجرم تو وہ تھا۔ میرا نہ سہی کسی اور کا سہی۔‘‘ میں نے بھی ڈھٹائی سے کندھے اچکائے۔
’’لیکن پھر بھی۔ اس طرح غصے میں آجانا بالکل بھی ٹھیک نہیں، کبھی خداناخواستہ کسی کی موت وغیرہ بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ ثمینہ آپا بولیں وہ ابھی بھی مجھے حیرانی سے دیکھ رہی تھی، یہ اور بات تھی کہ اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی وہ اس مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگی۔
’’تمہیں دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا کہ تم اتنے غصیلے ہوگے، شکل سے تم بہت نرم دل لگتے ہو اور تمہاری آنکھیں تو اتنی گہری اور شفاف ہیں کہ ایسی آنکھیں صرف بہت محبت کرنے والے لوگوں کی ہوسکتی ہیں۔‘‘
اَف وہ کیا کہہ رہی تھی کیا اسے خود بھی پتا تھا۔ میں ششدر سا اسے دیکھے گیا شکر تھاحمید اور آپا آپس میں کوئی بات کہہ رہے تھے اور اس کی بات نہیں سن سکے تھے وہ خود بھی حمید کی طرف مڑ گئی جو کہہ رہا تھا۔
’’میں یہاں اپنی تقریر سنانے کھڑا ہوا تھا اور یہ کاظم کا بچہ اپنی آپ بیتی سنانے لگا۔‘‘
’’پھر تم انصاف کے بجائے رحم کی حمایت میں۔۔۔‘‘
’’یہ رحم وہم سب بکواس باتیں ہیں۔ اپنے مجرم کو کوئی معاف نہیں کرتا۔ یہ خدائی صفت ہے، انسانوں میں اتنا ظرف نہیں ہوتا۔‘‘ حمید نے ایسے ہاتھ ہلایا جیسے مکھی اڑا رہا ہو وہ ایک بار پھر بحث پر اتر آئی۔ اچانک ہی میرا دل چاہا کہ میں بھی اس کا ساتھ دوں اور حمید کو سمجھانا شروع کر دوں مگرمیں جیسے بولنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ جانے سارے الفاظ کہاں کھو گئے تھے گھر آکر بھی میں اس کیفیت سے باہر نہ نکل سکا، بلکہ جیسے جیسے وقت گزرتا رہا مجھے لگ رہا تھا وہ میرے حواسوں پر چھاتی جارہی ہے پہلی بار میرے ساتھ ایسا ہورہا تھا کہ میں کتاب سامنے رکھے بیٹھا رہتا اور مجھ سے ایک لفظ بھی پڑھا نہیں جاتا۔ میرے ذہن میں اسی کے الفاظ گونجتے رہتے وہ ہمیشہ حقیقت پر مبنی کھری بات کہتی تھی۔ حمید کے مقابلے میں کوئی دوسرا رحم اور درگزر پر تقریر کر کے پہلا پرائز جیت گیا تھا اس دن حمید کو جتنا غصہ آرہا تھا وہ اس پر اتنا ہی ہنس رہی تھی۔
’’میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کوئی ایسی بات کہو جو منفرد ہو مگر تمہیں یہی فکر کھائے جارہی تھی کہ وہ جج صاحب کے لےے قابل قبول نہیں ہوگی۔‘‘
’’دل تو چاہ رہا ہے جج کے گھر میں ڈاکہ ڈال لوں یا پھر ان کے گھر کے کسی فرد کو قتل کردوں پھر ان سے جا کر پوچھوں کیا آپ مجھے معاف کر سکتے ہیں؟ ہونہہ ، خالی خولی فلسفہ۔‘‘ حمید تپ گیا اور تب ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی تو وہ پوچھ بیٹھی۔
’’عدیل آج کل کالج کیوں نہیں آرہا۔‘‘
’’مجھے تو یہی نہیں پتا کہ وہ کالج نہیں جارہا کیونکہ میرے آنے تک وہ آچکا ہوتا ہے۔‘‘ میں نے اپنی مکمل لا علمی کا اظہار کر دیا اور گھر آنے کے بعد جب میں نے عدیل سے پوچھا تو اس نے بڑے ہی گول مول انداز میں سر درد کا ذکر کر دیا وہ یقینا مجھے ٹال رہا تھا اس سے پہلے کہ میں اسے کریدتا وہ شوخ انداز میں کہنے لگا۔
’’آپ کون سا مجھے ہر بات بتاتے ہیں جو میں آپ کو اپنی ہر بات بتائوں۔‘‘ اس کی بات سے زیادہ اس کے انداز نے مجھے چونکایا۔
’’کیا مطلب۔‘‘
’’مطلب یہ کہ یہ کچھ پیپرز ملے تھے آپ کی رائیٹنگ ٹیبل سے۔‘‘ عدیل نے میری آنکھوں کے سامنے کچھ کاغذات لہرائے تو میرا دل چاہا اپنی غیر ذمہ داری پر اپنا سر پیٹ لوں کیا ضرورت تھی یہ کاغذ میز پر چھوڑ دینے کی۔ مختلف اسائنمنٹ لکھتے وقت بے دھیانی میں ، میں پورے صفحہ پر اس کا نام لکھتا چلا گیا تھا۔ ہوش آنے پر میں نے صفحہ جنرل سے پھاڑ دیا مگر میری بدقسمتی کہ سے پھاڑ کر کوڑے میں پھینکنے کے بجائے میں میز پر دعوتِ نظارہ کے طور پر چھوڑ گیا اور عدیل کے ہاتھ گویا گوہرِ نایاب لگ گیا۔ وہ خوشی سے دیوانہ ہوا جارہا تھا اس نے میرا ناک میں دم کر دیا تھا۔
’’بھائی! اگلے مہینے اس کی سالگرہ ہے، آپ اپنی پاکٹ منی سنبھال کر رکھےے گا میں آپ کی طرف سے اسے ایک گفٹ دوں گا جسے دیکھتے ہی وہ آپ کا حالِ دل جان جائے گی۔‘‘
’’تم ایساکچھ نہیںکرو گے۔ اگلے سات آٹھ سالوں تک مجھے پڑھنا ہے۔ میرے پاس ان خرافات میں پڑنے کا بالکل وقت نہیں ہے۔‘‘ میری نہایت غصے سے کہی بات پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔
’’آپ کی اطلاع کے لےے عرض ہے، آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ان خرافات میں پڑ چکے ہیں۔‘‘ میں اسے جھٹلا نہیں سکتا تھا کیونکہ اس کے ہاتھ بہت بڑا ثبوت لگا تھا، چنانچہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف میں نے تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا۔ وہ ہنستا ہوا کمرے سے نکل گیا جب کہ میں وہیں سر تھام کر بیٹھ گیا۔مجھے بہ خوبی اندازہ تھا آئندہ زندگی میں وہ مجھے اس لڑکی کا نام لے کر کتنا تنگ کرے گا مگر ان ہی دنوں عدیل کی کلاس میں ایک نیا لڑکا آگیا جس کا نام ارباز تھا۔ پہلے تو عدیل نے مجھے کچھ نہیں بتایا مگر جب اس نے زیادہ ہی چھٹیاں کرنی شروع کردیں تب اماں کے بے حد اصرار پر اس نے ارباز کے نہایت ہتک آمیز روےُے کے متعلق سب بتا دیا، حسبِ عادت میرا خون کھول اٹھا مگر اب معاملہ کافی مختلف تھا۔ میں عدیل کے کالج میں نہیں تھا۔ میں ایک دن مار پیٹ کر کے آبھی جاتاتو عدیل کو روز ان کے ساتھ پڑھنا تھا۔ تب ہمیں لگتا اسے کالج بھیجنے کے بجائے پرائیویٹ پڑھالینا چاہےے وہ جو کچھ ارباز کے بارے میں بتاتا تھا اسے سن کر بہت عجیب لگتا تھا جانے عدیل برداشت کیسے کرتا ہوگا وہ بھی پوری کلاس کے سامنے۔ لیکن گھر میں رہ کر تو وہ اور بھی اپنے خول میں بند ہوجائے گا۔ ہم فیصلہ نہیں کر پارہے تھے کہ عدیل کے حق میں کیا بہتر ہے، ایسے میں صرف ایک وہ تھی جو اسے چھٹیاں کرنے پر ڈانٹتی۔
ثمینہ آپا کے ساتھ گھر آکر وہ اسے اپنے کالج چلنے پر رضامند کرتی اور عدیل اس کی ایک نہیں سنتا بلکہ اپنی بات پر اڑا رہتا۔ ثمینہ آپا بھی عدیل کی مخالفت پر اتر آتیں ایسے موقعوں پر میں خاموش ہی رہتا کیونکہ میں عدیل کو ان سے زیادہ جانتا تھا اگر اسے زیادہ ڈانٹو تو وہ ڈپریشن میں گھر چھوڑ کر چلا جاتا تھا اس وقت بھی وہ چڑ کر بول رہا تھا۔
’’تم کیوں میری حمایت میں ارباز کو اپنا دشمن بنا رہی ہو کبھی کبھی تومجھے لگتا ہے وہ تمہاری وجہ سے ہی میرے پیچھے پڑ گیا ہے نہ تم میر ا ساتھ دو نہ وہ تمہاری اتنی مخالفت کرے۔‘‘
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ۔۔۔‘‘
’’ایسی ہی بات ہے بھائی سے پوچھو۔‘‘ عدیل نے اس کی بات درمیان سے کاٹ دی اور میری طرف اشارہ کیا۔
’’جب یہ میرے ساتھ اسکول میں تھے تو یہ میری وجہ سے لوگوں کے مذاق کا نشانہ بنتے تھے کسی کی ان سے لڑائی ہوتی تو وہ اپنا بدلہ مجھے ذلیل کر کے پورا کرتا۔ یہ ایسا طعنہ تھا جس کا بھائی جواب نہیں دے سکتے تھے۔ نتیجہ مارپیٹ کی صورت میں نکلتا اور بھائی کی شکایت پرنسپل تک پہنچ جاتی۔‘‘ وہ غصے سے بولتا مزید دکھی ہوگیا۔
’’لیکن اب تم کیوں خوامخواہ کا عذاب اپنے سر لے رہی ہو، بلکہ مجھے تو لگتا ہے تمہاری۔۔۔‘‘ عدیل نے کچھ کہتے کہتے خود کو روک لیا تو ہم تینوں نے چونک کر اسے دیکھا۔
کیا عدیل بھی وہی سوچتا ہے جو میں سوچتا ہوں، کبھی کبھی مجھے لگتا جیسے ارباز ، عدیل سے اس لڑکی کی وجہ سے جلتا ہے، اسی لےے اس کی تذلیل کرتا ہے ایسے میں جب وہ عدیل کا ساتھ دیتی ہوگی تو اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہوگی مگر یہ بات میں عدیل سے کہہ نہیں سکتا تھا وہ خود بھی بات ادھوری چھوڑ کر ڈرائنگ روم سے نکل گیا۔
’’عدیل کو نارمل ہونے میں تھوڑا ٹائم لگے گا پہلے بھی وہ کئی بار اسکول چھوڑ کر گھر بیٹھ چکا ہے۔ آجائے گا وہ کالج، لیکن اس پر زیادہ دبائو مت ڈالو، کہیں وہ کوئی جذباتی قدم نہ اٹھالے۔ ثمینہ آپا سے پوچھو وہ خودکشی کی کوشش بھی کر چکا ہے۔ خیر میں آپ لوگوں کے لےے چائے لاتا ہوں۔ اماں کو پتا نہیں خالہ کے گھر سے آنے میں کتنا ٹائم لگے گا، دراصل خالہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے نا۔‘‘ میں نے ماحول کو ہلکا پھلکا بناتے ہوئے مسکرا کر کہا اور چائے کا بہانہ کر کے عدیل کے کمرے میں آگیا۔ وہ رو رہا تھا میرا دل دکھ سے بھر گیا۔ میں نے اس کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ آنسوئوں سے بھیگا چہرہ اٹھا کر مجھے دیکھنے لگا۔
’’بھائی آپ کو اسکول کا وہ زمانہ یاد ہے۔ جب آپ کو میری وجہ سے کیا کچھ سننا پڑتا تھا اب اس کے ساتھ بھی وہی ہورہا ہے۔ ارباز میری اور اس کی دوستی سے جلتا ہے۔ کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا۔‘‘ میں نے خاموشی سے سر اثبات میں ہلا دیا تو وہ بے بسی سے ہاتھ ملنے لگا۔
’’میں۔۔۔ میں ایسا کیوں ہوں میں دوسروں کی طرح نارمل کیوں نہیں ہوں کاش۔۔۔ کاش میں بھی ٹھیک ہوتا۔ اول تو کوئی مجھ سے دوستی ہی نہیں کرتا اور اگر کرے بھی تو لوگ میری خامیوں کو اس قدر چیخ چیخ کر بتانے پر کیوں بضد ہوجاتے ہیں تاکہ وہ دوست بھی میرا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔‘‘ عدیل کی رَندھی ہوئی آواز میں محرومیاں گھلی تھیں۔
’’چھوڑو بے کار کی باتیں۔ چلو ہم کہیں باہر چلتے ہیں چلو فوراً اٹھ جائو۔‘‘ میں اپنا لہجہ نارمل بناتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دےے بغیر کمرے سے نکل گیا۔ میرا ارادہ کچن میں جا کر چائے بنانے کا تھا مگر ڈرائنگ روم کے سامنے سے گزرتے ہوئے میرے قدم اپنا نام سن کر تھم گئے۔
’’کاظم کا یہاں کیا ذکر۔‘‘ وہ حیرت سے کہہ رہی تھی جس کے جواب میں ثمینہ آپا بے اختیار ہنس دیں۔
’’عدیل جیسے بے صبرے نے کبھی تمہیں بتایا نہیں کہ وہ تمہیں اپنی بھابھی بنانا چاہتا ہے تب ہی تو وہ ارباز کی طرف سے اتنا پریشان ہے۔ ارباز کا تمہاری طرف واضح جھکائو۔۔۔‘‘
’’یہ کیا بکواس ہے، عدیل نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ارباز جیسے گرے ہوئے شخص سے میں متاثر ہوجائوں گی جو شخص اتنا گھٹیا ہو کہ عدیل جیسے لاچار اور بے بس انسان کا مذاق اڑائے۔ اس کی تذلیل کرے وہ چاہے کتنا بھی ہینڈسم، انٹیلیجنٹ اور کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو مجھے کبھی امپریس نہیں کر سکتا، میں سو دفعہ لعنت بھیجتی ہوں۔‘‘ وہ اپنے مخصوص ٹھوس لہجے میں بولی۔
’’اور کاظم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔‘‘ آپا کا لہجہ شوخ ہوگیا۔
’’بھابھی یہ سوال قبل از وقت ہے۔‘‘ اس کا انداز صاف گریز والا تھا۔ میں دھڑکتے دل کے ساتھ ان کی باتیں سنے گیا۔
’’ہاں کاظم کو اپنا کیریئر بنانے میں کافی ٹائم لگے گا مگر تمہارا رشتہ تو پاپا اچھا لڑکا ملتے ہی فوراً کر دیں گے مجھے تو لگتا ہے وہ تمہیں ڈاکٹری بھی پڑھنے نہیں دیں گے جب کہ کاظم۔۔۔‘‘
’’بھابھی پلیز۔‘‘اس نے زچ ہو کر آپا کی بات کاٹ دی۔
’’میں آپ کی اکلوتی نند ہوں اور آپ مجھے کنویں میں دھکیل رہی ہیں۔‘‘ اس کی بات پر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ آپا کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہوئی تھی۔ تب ہی ان کی حیرت میں ڈوبی آواز ابھری۔
’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔ کاظم کو میں بچپن سے جانتی ہوں وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔‘‘
’’لیکن ہے تو عدیل کا بھائی نا۔ پتا نہیں وہ نارمل ہے بھی یا نہیں۔ ہوسکتا ہے وہ بھی عدیل کی طرح ہو،مگر بظاہر نارمل لگتا ہو۔‘‘ کون کہتا ہے موت ایک بار آتی ہے۔ کچھ لوگ کئی بار موت کے تجربے سے گزرتے ہیں۔ جسم سے روح نکلنے کی کیفیت ایسی ہی ہوتی ہے نا جیسے کسی جھاڑ پر کپڑا ڈال کر اسے کھینچ لو تو جیسے وہ تار تار ہوجاتا ہے۔ میں نے خود کو اس وقت اسی اذیت سے دو چار ہوتا محسوس کیا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کے زہر میں بجھے الفاظ سنتا رہا۔
’’بھابھی عدیل جیسے لوگوں کی بیماریاں موروثی ہوتی ہیں وہ اولاد میں بھی آسکتی ہیں۔ اگر کاظم کا بھائی ایسا ہے تو کل کو اس کا بیٹا بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ میں اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی وہ بھی صرف عدیل کی خواہش پر اور کاظم کی طرف سے مجھے یقین ہے کہ اس جیسا پڑھاکو اور کچھ کر دکھانے کی خواہش رکھنے والا لڑکا پڑھائی کے دوران ایسی فضول باتیں سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ بھی یہ خیال اپنے دل سے نکال دیں اور میرے خیال سے اب ہمیں چلنا چاہےے عدیل بھی اپنے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا ہے، آپ جا کردیکھیں کاظم چائے بنا رہا ہوگا اسے منع کر دیں۔‘‘ آپا نے اس کی بات کا کیا جواب دیا تھا مجھے کچھ خبر نہ تھی۔ میں آپا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اس لےے تیزی سے پلٹا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔
جس لڑکی کی باتوں نے مجھے ہمیشہ حیران اور متاثر کیا تھا آج اس کے اپنے بارے میں خیالات جان کر میں اندر تک ٹوٹ گیا تھا۔ وہ بہت بڑی بڑی باتیں کرنے والی، ہر بات میں قرآن اور حدیث کا حوالہ دینے والی ایک دم ہی میری نظروں میں بہت چھوٹی ہوگئی تھی۔ کاش وہ مجھے کچھ اور کہہ کر رد کر دیتی مگر عدیل کو جواز نہ بناتی۔ وہ عدیل کی بیماری کو موروثی کہہ رہی تھی جبکہ میرے ماں اور باپ دونوں کی سات پشتوں میں عدیل جیسا ایک بھی فرد نہیں تھا۔ مجھے جو دکھ اور صدمہ پہنچا تھا اس کی کوئی حد نہیں تھی، پھر بھی میں یہ نہیں چاہتا تھا کہ میری تکلیف کے بارے میں کسی کو ہوا بھی لگے۔ میں نے خود کو کمرے میں بند کر لیا مجھے نہیں پتا وہ دونوں کب گئیں۔ تھوڑی دیر گزرنے کے بعد عدیل میرے کمرے میں چلا آیا۔
’’کیا ہوا بھائی آپ تو باہر جانے کا پروگرام بنا رہے تھے پھر کمرے میں کیوں چلے آئے ادھر وہ دونوں بھی نیچے نہیں ہیں۔ کیا وہ گھر چلی گئیں۔‘‘ عدیل کافی حد تک سنبھل گیا تھا وہ کپڑے وغیرہ بدل کر آیا تھا اور شاید ہی سمجھ رہا تھا کہ ہم باہر جانے کے لےے اس کا انتظار کر رہے ہوں گے مگر ڈرائنگ روم میں کسی کو نہ پا کر وہ حیران حیران سا میرے پاس چلا آیا تھا۔ میں کوئی جواب دےے بغیر خاموشی سے اسے دیکھے گیا۔ زندگی میں پہلی بار میرے ذہن میں سوال ابھر رہے تھے۔ آخر عدیل پیدا ہی کیوں ہوا تھا۔ اس کی زندگی کا مصرف کیا تھا۔ بچپن سے لے کر آج تک اس کے وجود نے اس گھر کے افراد کو دکھ، اذیت اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں دیا تھا، کاش اللہ نے اسے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔
’’بھائی آپ ٹھیک تو ہیں نا۔‘‘ عدیل میرے اس طرح دیکھنے پر بولا۔
’’ہاں ٹھیک ہوں۔ بس ذرا سر میں درد ہورہا ہے۔‘‘ میرے مضمحل انداز پر وہ میرے نزدیک چلا آیا۔
’’سر دبادوں۔‘‘
’’عدیل پلیز، مجھے معلوم ہے تم بہت محبت کرنے والے، بہت مخلص اور مہربان انسان ہو مگر ضروری نہیں تم ہر وقت اس بات کا ڈھنڈورا پیٹتے رہو۔‘‘ میں نے بری طرح جھنجھلا کر اس کے ہاتھ جھٹک دےے۔ زندگی میں پہلی بار میں نے اس سے ایسے بات کی تھی۔ اس کا ٹھٹکنا برحق تھا۔
’’بھائی کیا بات ہے آپ۔۔۔‘‘
’’کہا تو ہے کوئی بات نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو تم جان کر کیا کر لو گے تم کر ہی کیا سکتے ہو سوائے ہمیں تکلیف دینے کے، تمہارا وجود اس گھر میں ایک بدنما داغ کی طرح ہے جو ہم سب کی ساری خوبیوں اور اچھائیوں کو کھا گیا ہے تمہاری وجہ سے لوگ مجھے بھی مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ اسکول میں مجھے لوگ کاظم کے بجائے۔۔۔ کہہ کر پکارتے تھے اور آج بھی ۔۔۔ دور ہو جائو میری نظروں سے۔‘‘ میرے الفاظوں سے اسے کتنی تکلیف پہنچ رہی ہوگی، یہ بات اس کے چہرے سے صاف ظاہر تھی، مگر پہلی بار مجھے اس پر ترس نہیں آیا تھا۔ اور اس نے بھی حماقت کی حد کر دی بجائے میری جنونی فطرت کو سمجھتے ہوئے وہ مجھے کمرے میں اکیلا چھوڑ دیتا وہ تشویش میں مبتلا ہوگیا ۔ جتنا وہ میرے لےے فکر مند ہورہا تھا اتنا میرا غصہ بڑھتاجارہا تھا۔ آخر میں نے طیش کے عالم میں ان دونوں کی ساری گفتگو اس کے سامنے دوہرادی اور اسے دھکے دے کر کمرے سے نکال دیا۔ اس نے بھی دوبارہ بات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ شاید وہ بھی گنگ رہ گیا تھا، مگر مجھے اس کے دکھ سے کوئی سروکار نہیں تھا میں نے تو اس بات پر بھی دھیان نہیں دیا کہ اماں، بابا ابھی تک گھر نہیں لوٹے۔
شام گہری ہو کر رات میں ڈھل گئی تب اچانک فون کی گھنٹی بج اٹھی میں اپنے کمرے سے نکل کر لیونگ روم میں آیا۔ تب پہلی بار مجھے اماں، بابا کی اتنی طویل غیر حاضری کا احساس ہوا۔ بابا کا فون تھا۔ بابا آفس سے سیدھا خالہ کے گھر چلے گئے تھے، خالہ کا انتقال ہوگیا تھا۔ خالہ کے گھر پر فون نہیں تھا۔ بابا کو بھی خالہ کے بیٹے نے پڑوس کے فون سے اطلاع دی تھی اور وہاں پہنچ کر بابا نے بھی پڑوسی کے ہی گھر سے مجھے فون کیا تھا۔ یہ واقعی بہت بری خبر تھی میں اپنا دکھ بھول کر فوراً خالہ کے گھر جانے کے لےے نکل کھڑا ہوا۔ جاتے وقت میں نے محض آواز لگا کر عدیل کو بتا دیا تھا۔ خالہ کے گھر ایک افرا تفری مچی تھی۔ اماں صدمے سے نڈھال تھیں۔
خالہ نے ان کے سامنے ہی دم توڑا تھا۔ وہ ہوش و خرد سے بے گانہ ہوگئی تھیں۔ انہیں عدیل کا خیال ہی نہیں آیا البتہ بابا، عدیل کے نہ آنے پر بہت بگڑے مگر وہ وقت ایسا نہیں تھا کہ وہ زیادہ کچھ کہہ پاتے۔
وہ رات ہم نے وہیں گزاری خالہ کے سب بچے بڑے اور شادی شدہ تھے اس لےے بظاہر وہاں رکے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی چنانچہ اگلے دن تدفین وغیرہ سے فارغ ہو کر دوپہر تک ہم گھر آگئے۔ بابا، عدیل کی اس درجہ بے رخی اور بد اخلاقی پر شدید غصے میں تھے۔ ان کا ارادہ اسے لتاڑ کر رکھ دینے کا تھا۔ مگر وہ گھر پر موجود ہی نہیں تھا پہلے ہم یہ سمجھے ہ وہ خالہ کے گھر چلا گیا ہوگا مگر وہ کہیں بھی اکیلے آنے جانے سے کتراتا تھا۔ کچھ دیر قیاس کے گھوڑے دوڑاتے رہنے کے بعد جانے کس خطرے کے پیش نظر بابا نے الماری کا پٹ کھول کر دیکھا تو دھک سے رہ گئے اس کی الماری کے سارے کپڑے غائب تھے بلکہ الماری میں ایک کاغذ پڑا ہوا تھا۔ جس پر عدیل کی تحریر درج تھی۔
جان سے پیارے بابا السلام علیکم۔
میری ذات سے کوئی خوشی تو آپ کو پہلے بھی کبھی نہیں ملی تھی لیکن میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ میرا وجود اس گھر کی آئندہ آنے والی خوشیوں کے راستے میں رکاوٹ بن جائے گا۔ جسے میں دنیا کی دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں یکسر مختلف سمجھتا تھا جب وہ ایسی باتیں کہہ سکتی ہے تو کسی اور سے توقع رکھنا ہی بے کار ہے۔ میں جانتا ہوں، آپ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہوگا مگر میری سمجھ میں اتنا تو آگیا ہے کہ اگر میں آپ کی زندگیوں سے دور چلا جائوں تو آج سے کچھ سال بعد میری پرچھائیاں لوگوں کے ذہنوں سے مٹ جائیں گی اور ان کے دل کے وہم دور ہوجائیں گے مجھے معلوم ہے میرے اس اقدام سے آپ سب کو تکلیف پہنچے گی مگر تھوڑی دیر کا رولینا عمر بھر کے رونے سے بہتر ہوتا ہے آپ سب مجھے معاف کر دیجےے گا۔ آپ سب کا گناہ گار۔
عدیل حسن
خط پڑھتے پڑھتے بابا کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ انہوںنے چشمہ اتار کر آستین سے آنکھیں صاف کیں اور خط میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’پتا نہیں کس لڑکی کا ذکر کیا ہے نام بھی نہیں لکھا۔ مگر میں ابھی رحمن صاحب (ثمینہ آپا کے والد) سے بات کرتا ہوں مل جائے گا وہ۔ کہاں جاسکتا ہے۔‘‘ بابا نے ہمیں تسلی دی مگر ان کی یہ تسلی صرف ایک تسلی ہی رہی، برابر والے رحمن صاحب اپنے اثر و رسوخ کے باوجود عدیل کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے۔ دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں تھا جہاں عدیل کو تلاش نہ کیا گیا ہو۔ ہر اخبار، ریڈیو اور یہاں تک کہ ٹی وی پر بھی اس کی گمشدگی کا اشتہار دے دیا گیا وقت گزرنے کے ساتھ پہلے ہماری فکروں میں اضافہ ہوا اور پھر ہر فکر اور خدشہ مایوسی میں بدلتا چلا گیا۔ خالہ کی موت کے ساتھ ہی عدیل کا گھر چھوڑ کر چلے جانا یہ دونوں صدمے اماں پر کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹے تھے۔ ان کی ذہنی حالت بہت بگڑ گئی تھی۔ وہ سارا سارا دن عدیل کے کمرے میں بیٹھی اس کی چیزوں کو ہاتھ میں پکڑے روتی رہتی تھیں، شروع میں، میں نے اور بابا نے یہاں تک کہ پڑوس کے رحمن صاحب کی پوری فیملی نے اماں کی توجہ بٹانے کی بہت کوششیں کیں، مگر آخر کب تک۔ بالآخر ہم نے گھر تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اتفاق سے ان ہی دنوں بابا کے آفس یں ٹرانسفر کے آرڈرز آگئے تو بابا نے اپنا نام بھی دے دیا۔ آفس میں سب عدیل کی گمشدگی سے واقف تھے چنانچہ بڑی آسانی سے ان کا ٹرانسفر منظور ہوگیا۔
اماں اس شہر کو چھوڑ کر جانے کے لےے بالکل تیار نہیں تھیں۔ انہیں یقین تھا عدیل کبھی نہ کبھی لوٹ کر ضرور آئے گا۔ مگر ہم نے بڑی مشکل سے سمجھا بجھا کر انہیں چلنے کے لےے راضی کرلیا اگر عدیل کو ہم سے رابطہ کرنا ہوگا تو وہ خاندان کے کسی بھی شخص کے ذریعے ہم تک با آسانی پہنچ سکتا تھا۔ برابر والے رحمن صاحب کو بھی ہم اپنا ایڈریس دے کر گئے تھے۔ ان کے پورے گھرانے نے ہمارا ہر مشکل گھڑی میں ساتھ دیا تھا۔
عدیل کے غائب ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا تھا کہ ثمینہ آپا میرا سامنا کرنے سے کترانے لگی تھیں، حالانکہ ان کی تو کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ میں نے اَس دن ان دونوں کی باتیں سن لی تھیں پھر بھی وہ مجھ سے شرمندہ تھیں، شاید عدیل کے خط نے کسی حد تک ان پر اصلیت کھول دی تھی۔ رحمن صاحب کے بھائیوں کے ذریعے جب ہم نے پولیس میں رپورٹ لکھوائی تو ہمیں وہ خط بھی انہیں دکھانا پڑا تھا، حمید نے تو خط پڑھ کر پوچھا بھی تھاکہ یہ عدیل نے کس لڑکی کا ذکر کیا ہے مگر میں نے اپنی لا علمی ظاہر کر دی کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اس دشمنِ جاں کو موردِ الزام ٹھہرانے کا۔ غلطی اس کی نہیں، میری تھی۔ کاش میں نے عدیل کو وہ سب نہ بتایا ہوتا کاش میں اس وقت اپنی زبان پر قابو رکھ لیتا، کتنے سارے کاش میری زندگی میں شامل ہوگئے تھے، شاید اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو ا تھا۔
وہ جب اماں کے پاس افسوس کرنے آئی تھی تو اتنا رو رہی تھی کہ انہیں کوئی تسلی ہی نہیں دے سکی، شاید ثمینہ آپا نے اسے بھی عدیل کے خط کے متعلق بتا دیا تھا تب ہی وہ ایک بار کے بعد دوبارہ آئی بھی نہیں اور مجھے کون سا اس کا انتظار تھا، میں تو بس جلد سے جلد اس جگہ سے بھاگ جانا چاہتا تھا، یہ بھی میرا ہی مشورہ تھا کہ اس گھر کو کرائے پر دے کر ہر ماہ کرایہ وصول کرنے کی درد سری سے اچھا ہے اسے بیچ دیں۔ بابا کو کراچی میں ڈیوٹی جوائن کرنی تھی وہ اماں کو لے کر مجھ سے پہلے وہاں چلے گئے۔ جب کہ میں نے گھر کے ساتھ ساتھ اپنے کالج کے کاغذات وغیرہ تیار کر کے پورے بیس دن بعد پنڈی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لےے خیر آباد کہہ دیا۔
اس گھر میں میرا آخری دن بڑا عجیب تھا ہم نے گھر کا سامان بھی فروخت کر دیا تھا ڈرائنگ روم کا سارا فرنیچر جس فیملی نے خریدا تھا اس نے بالکل آخری دن سامان اٹھانے کے لےے مزدور بھیجے تھے۔ مزدور ٹرک میں سامان چڑھا رہے تھے۔ میں لان کی جانب بنے ستون سے ٹیک لگائے مزدوروں کی کارروائی دیکھ رہا تھا۔ آج رات میری فلائیٹ تھی۔ ان مزدوروں کے جانے کے بعد میں گھر کو لاک کر کے چابی رحمن صاحب کو دے کر یہاں سے روانہ ہوجاتا جو رحمن صاحب مالک مکان کو دے دیتے۔ وہ اگلے مہینے اس گھر میں شفٹ ہونے والے تھے۔ میں اپنی سوچوں میں اتنا گم تھا کہ مجھے احساس ہی نہیں ہوا وہ کب کھلے گیٹ سے اندر داخل ہو کر میرے پاس آکھڑی ہوئی میں تب چونکا جب اس کی آواز سماعتوں سے ٹکرائی۔
’’تم تو واقعی جارہے ہو۔‘‘ میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ آپا کا ویزا آگیا تھا اور وہ دو ہفتے پہلے اپنے شوہر کے پاس چلی گئی تھیں، عدیل تو تھا ہی نہیں۔ گویا اس سے ملنے کے سارے ذرائع بند ہوگئے تھے لیکن مجھے حیرت اس کے یہاں آنے پر نہیں بلکہ اس کے سوگوار حلےے کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
’’پتا نہیں کیوں مجھے یقین تھا تم بالکل آخری لمحے میں اپنا جانا ملتوی کر دو گے۔‘‘ اس کی نظریں بھی مزدوروں پر جمی تھیں۔
’’کیوں؟ یہاں ایسا کیا رکھا ہے جو میں اپنا جانا ملتوی کر دوں۔‘‘ اپنے طور پر میں نے پرسکون انداز میں بات کہی تھی، مگر الفاظ اتنے کاٹ دار تھے کہ کہنے کے بعد مجھے خود بھی احساس ہوگیا۔ میں نے فوراً اپنی بات کا اثر زائل کرنے کے لےے اماں کی ذہنی حالت کا مختصراً احوال سنا دیا۔
’’پھر بھی مجھے لگ رہا تھا، تم اپنا فیصلہ بدل لو گے۔‘‘ وہ گردن کو ذرا سا موڑ کر مجھے دیکھتے ہوئے پرسوچ انداز میں بولی۔
’’میں ان میں سے نہیں ہوں جو گھڑی گھڑی اپنے فیصلے بدلتے ہیں۔‘‘ میں اپنے انداز میںلاپروائی بھرتے ہوئے دوبارہ مزدوروں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ مجھے اس کی موجودگی سے وحشت ہورہی تھی۔ میرا دل چاہ رہا تھا وہ ابھی اور اسی وقت یہاں سے چلی جائے، بلکہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ یہاں آئی ہی کیوں ہے مگر اگلے ہی لمحے مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ میری بے نیازی کو خاطر میں لائے بغیر وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
’’کاظم! اگر زندگی میں کبھی عدیل مل جائے تو اس سے کہنا مجھے معاف کر دے، میں اس سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘ میں اس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گیا۔ وہ آنسوئوں سے رو رہی تھی۔
’’میں جانتی ہوں وہ میری ہی وجہ سے گھر چھوڑ کر گیا ہے اس نے ضرور وہ سب سن لیا ہوگا تب ہی۔۔۔ تب ہی اسی رات وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اب تم یہ مت پوچھنا اس نے کیا سن لیا تھا۔ بس تم اس سے میری طرف سے معافی مانگ لینا، وہ سمجھ جائے گا۔‘‘ اس کے رونے میں شدُت آگئی تھی، میں چپ چاپ اسے روتا دیکھتا رہا بھلا مجھے کچھ پوچھنے کی کیا ضرورت تھی میں تو پہلے ہی سب جانتا تھا لیکن میں یہ بات اس پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس میں مجھے خود اپنی ہی بے عزتی محسوس ہورہی تھی، کچھ دیر روتے رہنے کے بعد وہ اپنا چہرہ ہاتھوں سے صاف کر کے کہنے لگی۔
’’میرا دل کہتا ہے عدیل ایک نہ ایک دن ضرور مل جائے گا اس کے مل جانے کے بعد تم لوگ واپس آجائو گے نا۔‘‘ وہ بڑی امید سے پوچھ رہی تھی۔ مجھے اس کا رویہ الجھن میں مبتلا کر رہا تھا۔
’’میں نے جن لوگوں کو یہ مکان بیچا ہے ان کی فیملی میں کون کون ہے وہ مجھے نہیں معلوم لیکن تمہارے برابر کی کوئی نہ کوئی لڑکی ضرور ہوگی۔ تم آپا اور عدیل کے چلے جانے سے اداس ہو نا۔ تم نئے مکان والوں سے دوستی کرلو گی تو تمہیں ان کی کمی کا احساس نہیں ہوگا، ویسے بھی اگر تم میڈیکل میں چلی گئیں تو تمہیں وقت بھی نہیں ملے گا، کسی سے ملنے کا۔‘‘ پتا نہیں میں کسے دھوکا دے رہا تھا، اسے یا اپنے آپ کو۔
’’بھابھی (ثمینہ آپا) اور عدیل کے علاوہ کوئی اور یہاں سے جارہا ہے تم اس کا نام لینا تو بھول ہی گئے۔‘‘ وہ بالکل سپاٹ نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی وہ جو کہنا چاہ رہی تھی وہ کہہ نہیں پارہی تھی لیکن وہ جو سمجھانا چاہ رہی تھی وہ میں بہت اچھی طرح سمجھ گیاتھا، لیکن اس وقت میرے پاس انجان بننے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
’’کون؟ اماں، بابا۔ ارے ان لوگوں کا چلے جانا ہی اچھا ہے۔ ہر آہٹ پر وہ چونک کر دروازے پر آئیں گے اور پھر تم اپنے کمرے کی کھڑکی سے وہ سارا منظر دیکھ کر اپنی پڑھائی چھوڑ کر انہیں تسلی دینے چلی آئو گی، کتنا حرج ہوگا نا تمہاری پڑھائی کا۔ کیونکہ میں تو یہاں ہوں گا نہیں۔ مجھے ابھی بہت پڑھنا ہے شاید مجھے ملک سے باہر بھی جانا پڑے، پھر وہاں سے واپس آکر اپنا کلینک کھولنا ہے اتنی ساری پلاننگ ہے اور میں نے ابھی تک یہ بھی نہیں سوچا کہ مجھے کس سبجیکٹ میں اسپشلائزیشن کرنا ہے۔ میرے پاس تو وقت ہی نہیں ہوگا کہ میں اماں بابا کا خیال رکھ سکوں ایسے میں جگہ کی تبدیلی ان کے لےے بہت ضروری ہے۔‘‘
اتنی روانی سے بولتے ہوئے میں نے ایک دفعہ بھی اس کی طرف نہیں دیکھا، کیونکہ مجھے معلوم تھا وہ رونا دھونا بھول کر نہایت سنجیدگی سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ کاش اس دن میں نے اس کی کہی باتیں سنی نہ ہوتیں تو آج اس کی کیفیت سمجھ کر میں خوشی سے پاگل ہوجاتا، لیکن اب بہت کوشش کے باوجود مجھے اپنے اندر خوشی کی کوئی رمق محسوس نہیں ہورہی تھی بس مجھ پر ایک ہی دھن سوار تھی وہ جلد سے جلد یہاں سے چلی جائے، کہیں میرا بھرم ٹوٹ نہ جائے۔
کچھ دیر خاموشی سے مجھے دیکھتے رہنے کے بعد جس طرح اس نے سر کو ہلکے سے جھٹکا تھا۔ اس سے صاف ظاہر تھا جیسے اس نے خود کو کچھ بھی کہنے سے روکا ہو۔
’’تم ٹھیک کہہ رہے ہو تمہاری پلاننگ بہت لمبی ہے۔ تمہارے پاس واقعی کسی چیز کے لےے وقت نہیں ہے تم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے نا کہ تمہیں کس سبجیکٹ میں اسپیشلائزیشن کرنا ہے۔ میرا مشورہ مانو تو تم نفسیات کے ڈاکٹر بن جائو۔ تم ان لوگوں کا علاج کرنا جو بظاہر صحت یاب ہوتے ہیں لیکن اندر سے وہ کتنے بیمار اور کمزور ہوتے ہیں یہ وہ خود بھی نہیں جانتے۔ ایسے لوگ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی کھڑے ہوتے ہیں مگر ہمیں دکھائی نہیں دیتے۔ وہ لوگ اپنی ذہنی پریشانیوں کو خود نہیں سمجھ سکتے۔ ایسی گتھیاں صرف کوئی مخلص ڈاکٹر ہی سلجھا سکتا ہے جو ان کے اندر اتر کر انہیں بتائے کہ جو تم سوچتے ہو وہ تم چاہتے نہیں، اور جو تم چاہتے ہو وہ تم سمجھ نہیں پاتے۔‘‘ اپنی بات ختم کر کے وہ بڑے پھیکے سے اندازمیں مسکرائی تھی۔
ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں وہ اس دن سے بھی خوب صورت لگ رہی تھی، جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس کی بھیگی پلکیں اس کے سوگوار حسن کو دو آتشہ بنا گئی تھیں، اگر عدیل اس طرح اچانک غائب نہ ہوا ہوتا تو شاید میں اس کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی ضرور کرتا جو ٹھیس اس نے مجھے پہنچائی تھی اور جو بے عزتی اس نے میری کی تھی۔وہ میرے جیسے جنونی انسان کو آرام سے کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے کے لےے مجبورکر سکتی تھی مگر اس کی قسمت اچھی تھی کہ اس کے ساتھ کچھ کر گزرنے سے پہلے ہی عدیل کی گمشدگی نے میرے غصے کی آگ ٹھنڈی کر دی، بلکہ عدیل کے جانے کے بعد سے میں ایک عجیب سے پچھتاوے میں گھر گیا تھا اور وہ پچھتاوا اس کے منہ سے معذرت بھرے الفاظ سن کر مزید بڑھ گیا۔ کیونہ عدیل نے تو کچھ سنا ہی نہیں تھا کاش وہ سارا زہر اس پر انڈیلنے کے بجائے میں اسے خود تک محدود رکھ لیتا تو وہ بات وہیں ختم ہوجاتی۔
عدیل اس لڑکی کی وجہ سے گھر چھوڑ کر نہیں گیا۔ اسے در بدر کرنے والا میں تھا۔ یا پھر کاش میں نے ہی وہ سب سنا نہ ہوتا۔ چھپ کر دوسروں کی باتیں سننے والوں کے کانوںمیں قیامت کے دن پگھلا ہوا سیسہ ڈال دیا جائے گا لیکن مجھے میرے اس فعل کی سزا دنیا میں ہی مل گئی تھی۔ اتنی سخت سزا کا علم رکھنے کے باوجود ہم ایسی حرکتوں سے باز نہیں آتے ہم یہ سمجھتے ہی نہیں کہ کچھ باتیں نہ جاننا ہی ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے اور اس نے بھی وہ باتیں جانے کون سے جذبے کے تحت کہہ دی تھیں، جن پر اب وہ خود شرمندہ تھی۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی، کبھی کبھی انسان خود کو بھی سمجھ نہیں پاتا۔
اچانک ہی میرا دل اس کی طرف سے صا ف ہوگیا مگر میرے اندر اس کے لےے کچھ بچا نہیں تھا۔
میں نے اس کی کیفیت کی طرف سے مکمل طو رپر انجان بنتے ہوئے اچھے دوستوں کی طرح اس سے اجازت لی تھی۔ میں نے زندگی میں دوبارہ کبھی اس سے رابطہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی مگر اس کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے میں نے طے کرلیاکہ میں دماغی امراض کے سبجیکٹ میں ہی اسپشلائزیشن کروں گا کیونکہ جسمانی بیماریاںجو بھی ہوں جتنی بھی بڑی ہوں قابلِ علاج ہوں یا لا علاج، بیماری سے لڑنے کے لےے مریض کا ذہن ضرور تندرست ہونا چاہےے۔ میرے نزدیک سب سے بڑی بیماری، بیمارانہ سوچ ہے جب تک منفی خیالات،خود ترسی، بدگمانی اور احساسِ کمتری جیسے جذبات پر قابو نہ پایا جائے انسان کی زندگی میں بہتری کی امید نہیں کی جاسکتی۔ برے حالات میں سب سے زیادہ ضرورت جذباتی سہارے یا مورل سپورٹ کی ہوتی ہے اور عموماً برے حالات میں یہی چیز سب سے پہلے چھن جاتی ہے۔ میں نے ساری زندگی عدیل کو سپورٹ کیا بس ایک بار میں اپنا ضبط کھو بیٹھا جس کے نتیجے میں، میں نے ہمیشہ کے لےے عدیل کو کھو دیا۔ اس نے خود کو میری زندگی سے الگ کر لیا تاکہ وہ آئندہ کبھی میری خوشیوں کے راستے میں حائل نہ ہو۔یہ سب سوچ سوچ کر میرا احساسِ جرم بڑھتا چلا جاتا۔ تب خدمتِ خلق کا جذبہ میرے اندر اور بھی شدت سے ابھرتا۔ میں عدیل کے لےے کچھ نہیں کر سکا لہٰذا میں نے ساری دنیا کی مدد کرنے کی ٹھان لی اور جب میری شادی کا وقت آیا تو بابا نے یہ کہہ کر میرا پچھتاوا اور بڑھا دیا۔
’’عدیل کے بارے میں خاص طور پر بتانے کی ضرورت نہیں، بس سرسری ساذکر کر دیں گے کہ ایک بیٹا اور تھا جو کافی سال پہلے ایک بار گھر سے نکلا تو کبھی واپس نہیں آیا۔ خاندان والوں کے ذریعے بہو کو بعد میں کچھ بھی پتا چل جائے وہ الگ بات ہے لیکن پہلے سے کسی کو وہم میں مبتلا کر نے کی ضرورت نہیں۔‘‘
بابا اتنے سال میں شاید عدیل کے خط کا پس منظر سمجھ گئے تھے یا پھر شاید اماں نے انہیں اس لڑکی کے متعلق بتا دیا تھا کہ عدیل اسے اپنی بھابھی بنانا چاہتا تھا۔ وجہ جو بھی ہو لیکن ان کی بات نے میرا احساسِ جرم سوا کر دیا۔گویا عدیل کا سوچنا بالکل صحیح تھا اگر آج وہ ہوتا تو اس کا وجود اس گھر کی خوشیوں کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا۔ میں جتنا سوچتا میرا گِلٹ اتنا ہی بڑھتا جاتا۔ یہ سب میری وجہ سے ہوا مگر جب میں نے اس فیلڈ کو جوائن کیا تو میرے اندر کی بے چینی کو جیسے قرار آگیا۔ دوسروں کی مدد کر کے، وہ بھی بغیر کسی لالچ، اور بدلے کے یہ پیشہ اپنے آپ میں بہت بڑی تسکین رکھتا ہے مگر بہت ہی کم خوش قسمت ہوتے ہیں جو ایسی تسکین ایسی راحت حاصل کرتے ہیں ورنہ زیادہ تر لوگ ایک غلطی کر کے سنبھلنے کے بجائے مسلسل غلطیاں کرتے چلے جاتے ہیں، خود بھی ناکام زندگی گزارتے ہیں اور دوسروں کو بھی اذیت پہنچاتے رہتے ہیں۔
ض ض ض
باقر کے سامنے اپنا ماضی کھول کر وہ بہت اپ سیٹ ہوگئے تھے حالانکہ عدیل کے بارے میں بتاتے انہوں نے بہت احتیاط سے کام لیا تھا۔ ہر بات کو بہت سوچ سمجھ کر کہا تھا کیونکہ دوسری طرف موجود باقر پہلے ہی بہت ڈپریس تھا وہ ان کی بات کو الٹے معنوں میں بھی لے سکتا تھا اس لےے انہوں نے بہت محتاط رویہ اپنایا تھا، الفاظوں کا چنائو بھی بہت سوچ سمجھ کرکیا تھا، ویسے بھی انہوں نے ساری باتیں ایک دفعہ میں نہیں سنا دی تھیں، بلکہ دو تین دفعہ سلسلۂ کلام توڑ کر بغیر باقر کی سنے انہوں نے فون بند کر دیا تھا، کیونکہ یہ ان کے لےے دنیا کا سب سے تکلیف دہ موضوع تھا، بلکہ وہ تو خود حیران تھے۔ انہوں نے باقر سے یہ سب کہہ کیسے دیا۔ اتنے سالوں سے یہ سب ان کے سینے میں دفن تھا۔ پہلی بار انہوں نے کسی کے سامنے اپنے احساسات کھول کر رکھ دےے تھے گو کہ اس دوران بھی وہ مکمل طور پر بے اختیار نہیں ہوئے تھے پھر بھی بہت کچھ ایسا تھا جو وہ باقر سے پہلے کبھی کسی سے نہیں کہہ سکے تھے۔ بہرحال یہ سب باقر کو سنا کر ان کے زخم ہرے ہوگئے تھے۔
وہ فرصت کے لمحات ملنے پر اپنے کلینک میں آنکھیں موند کر بیٹھ گئے آج انہیں عدیل بہت یاد آرہا تھا۔ وہ غیر ارادی طور پر اپنی پیشانی مسلتے رہے۔ ذہن پر بار بار عدیل کی تصویر ابھر رہی تھی اس کا ہنسنا، اس کی باتیں، اس کا ناراض ہوجانا۔انہوں نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
’’کیا بات ہے ڈاکٹر آپ کچھ اپ سیٹ لگ رہے ہیں۔‘‘ ان کے اسسٹنٹ دانیال عباسی نے اجازت لے کر ان کے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔
’’میںنے تمہیں باقر نامی لڑکے کے بارے میں بتایا تھا نا بس اسی وجہ سے۔‘‘ کاظم حسن نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے کہا۔
’’وہ کیس ابھی تک حل نہیں ہوا کیا۔‘‘ دانیال عباسی نے کچھ فائلز میز پر رکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں وہ لڑکا مجھ پر بھروسہ نہیں کر رہا۔‘‘
’’لیکن آپ تو کہہ رہے تھے اس نے سب بتا دیا۔‘‘ دانیال عباسی کی آنکھوں میں الجھن تیرنے لگی۔
’’صرف وہی بتایا ہے جو اس کے آس پاس موجود سب لوگ جانتے ہیں لیکن وہ نہیں بتایا جو کوئی نہیں جانتا اور یہی بات اسے اندر ہی اندر چرکے لگا رہی ہے جب تک باقر وہ بات کہہ نہیں دے گا تب تک اس کی بیماری ٹھیک نہیں ہوگی۔‘‘ کاظم حسن کہتے چلے گئے ۔
’’کون سی بات ڈاکٹر۔‘‘
’’سوری دانیال! یہ تو سیکریٹ ہے وہ مجھے ڈاکٹر سمجھ کر بتا رہا ہے میں اس کے راز کو عام نہیں کر سکتا۔‘‘ کاظم حسن ہلکے سے مسکرائے۔
’’تو میں کون سا عام کر دوں گا ہم تو ڈاکٹر ہیں ہمیں آپس میں ڈسکس کرنا ہی ہوتا ہے ہاں۔۔۔ کہیں یہ کوئی پولیس کیس تو نہیں۔‘‘ دانیال عباسی کچھ کہتے کہتے یک دم چونک کر بولا مگر وہ خاموش رہے تو دانیال خود ہی کہنے لگا۔
’’اگر وہ کوئی جرم کر بیٹھا ہے تو آپ کو اس کے سامنے کوئی ایسی کہانی سنانی چاہےے، جس سے آپ بھی مجرم سے لگنے لگیں۔۔۔ میرا مطلب ہے کوئی ایسی بات کوئی ایسا کام جو جرم نہیں تھا مگر حالات کے قابو سے باہر ہوجانے کی وجہ سے جرم سا بن گیا اور یہ کہ آپ بھی آج تک اس گِلٹ میں ہیں۔‘‘ کاظم حسن اس کی بات پر بے اختیار مسکرا دےے۔ دانیال عباسی ان کامطلب سمجھ کر وضاحت دینے لگا۔ ’’سوری سر! آپ کا اسسٹنٹ ہو کر میں آپ کو مشورہ دے رہا ہوں۔‘‘
’’اٹ از اوکے ! میں نے برا نہیں مانا بلکہ مجھے اچھا لگا تمہارا مشورہ دینا، میں یہ کوشش پہلے ہی کر چکا ہوں، مگر لگتا ہے تیر نشانے پر لگا نہیں۔ جوکہانی میں نے اسے سنائی اس میں، میں مجرم کے طور پر سامنے نہیں آیا بلکہ میری ذات کا ایسا پہلو نمایاں ہوا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی عظیم انسان بن گیا ہوں تب ہی وہ مجھ سے کچھ بھی شیئر نہیں کر پارہا بجائے اس کے کہ وہ میری غلطی سن کر غلطیوں کو انسانی ذات کا حصہ سمجھنے لگتا اور اپنے احساسِ جرم سے باہر آجاتا۔ اس نے میری عظمت کی ایک داستان سن لی اور وہ جو انسانی فطرت ہے دوسرے کی اچھائیاں اور خوبیاں دیکھ کر وہ خود کو اور بھی گرا ہوا سمجھنے لگتا ہے تو یہی اس کے ساتھ ہوا وہ مزید اپنے خول میں بند ہوگیا ہے اس لےے میں نے طے کیا ہے کہ اب اپنی کہانی کو اس کے سامنے تھوڑا بدل کر پیش کروں گا۔‘‘ کاظم حسن بات دانیال عباسی سے کر رہے تھے مگر ان کی نظریں کہیں اور جمی تھیں۔
ض ض ض
فیصلہ تو انہوں نے کر لیا تھا مگر ذہن کا کوئی ایک کونا انہیں اپنے فیصلے پر عمل کرنے سے روک رہا تھا، حالانکہ انہوں نے ہر پہلو پر غور کر کے خود کو اچھا خاصا مطمئن کر لیا تھا، مگر پھر بھی جو بات وہ باقر سے کہنے جارہے تھے وہ معمولی نہیں تھی، چھٹی والے دن بظاہر وہ شام کی چائے پیتے وقت اماں، بابا کی گفتگو سن رہے تھے مگر ان کا ذہن باقر کے متعلق ہی سوچ رہا تھا معاً ان کی نظر ٹی وی لائونج میں داخل ہوتے اپنے دونوں بیٹوں پر پڑی وہ بری طرح چونک اٹھے۔ خوشی کے مارے وہ بے ساختہ کچھ کہنے ہی والے تھے کہ شرجیل نے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں چپ رہنے کا اشارہ کر دیا۔
اماں، بابا کی توجہ کاظم حسن کی جانب نہیں تھی اسی لےے وہ ان کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ سکتے تھے اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ دونوں دبے قدموں سے چلتے اماں، بابا کی پشت پر آکھڑے ہوئے۔ کاظم حسن نے محض ان کا دل رکھنے کے لےے اپنی بے تحاشا خوشی چھپاتے ہوئے پیالی ہونٹوں سے لگالی۔
وہ دونوں ایسے ہی تھے، ہاسٹل سے ہمیشہ بغیر اطلاع دےے آتے تھے ان کے ایسے سرپرائزز کے عادی ہونے کے باوجود ان سب کو ہر بار نئے سرے سے ایک خوش گوار جھٹکا لگتا۔
شرجیل نے آہستگی سے بیگ کندھے پر رکھا اور بنا آہٹ کےے اماں کے عین سر پر پہنچ گیا جیسے ہی اس نے ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھا اماں کچھ کہتے کہتے چونک گئیں۔
’’عد۔۔۔دیل!‘‘ اماں کے منہ سے کانپتی آواز میں نکلا۔ بابا نے بھی چونک کر اماں کی طرف دیکھا جن کے لرزتے ہاتھ شرجیل کے ہاتھوں پر ٹھہر گئے تھے۔ شرجیل کے چہرے پر پھیلی ساری شوخی یک دم غائب ہوگئی۔ کاظم حسن بھی تھوڑی دیر پہلے کی ساری خوشی بھول بھال کراماں کو دیکھنے لگے۔ نبیل بھی اپنی جگہ ٹھٹک کر رہ گیا تھا۔
شرجیل ان کی آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹاتا فوراً سامنے آگیا۔ وہ اپنی حرکت پر شرمندہ ہوگیا تھا نادانستہ ہی سہی، مگر اس کی وجہ سے اماں ایک پل کی بے پناہ خوشی کے بعد دوبارہ مایوسی کے احساس میں گھر گئی تھیں۔ وہ جس جذباتی دھچکے سے گزری تھیں اس کے بعد وہ شرجیل اور نبیل کو دیکھ کر کسی قسم کی خوشی کا اظہار نہیں کر سکیں۔ بابا اور کاظم حسن بھی عجیب و غریب کیفیت کا شکار ہوگئے تھے۔
آخر ماحول پر طاری جمود کو رخشندہ کی خوشی سے بھرپور چیخ نے توڑا۔
’’شرجیل، نبیل کب آئے تم دونوں۔‘‘ رخشندہ نے بڑے بے ساختہ انداز میں آگے بڑھ کر ان دونوں کو گلے لگالیا۔ بابا بھی اپنی جگہ سے اٹھ کر لہجے میں مصنوعی شوخی بھرتے ہوئے بولے۔
’’تم دونوں کا تو اس بار چھٹیوں میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا فلاں دوست کے، فلاں رشتے دار کی، فلاں جگہ شادی پر جانا تھا پھر اس اچانک آمد کی وجہ؟‘‘
’’دادا حضور وہ سب ہمیشہ کی طرح جھوٹ تھا۔‘‘ نبیل مسکرایا۔
’’جی ہاں کیونکہ ہمارا ہمیشہ کی طرح اچانک آنے کا ارادہ تھا۔‘‘ شرجیل نے برجستہ کہا۔
’’اور آپ نے ہمیشہ کی طرح ہماری بات پر یقین کرلیا آخر آپ ہماری آمد کے لےے ذہنی طور پر تیار کیوں نہیں رہتے۔‘‘ نبیل مصنوعی جرح کرنے والے انداز میں بولا۔
’’میں تو ہر وقت ذہنی طور پر تیار رہتی ہوں۔‘‘
اماں کی بڑبڑاہٹ صرف کاظم حسن سن سکے تھے۔ رخشندہ اور بابا مکمل طور پر ان دونوں کی طرف متوجہ تھے۔ چاہتے تو کاظم حسن بھی تھے کہ اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے سینے سے لگالیں مگر وہ گم صم سے اماں کو دیکھتے رہے جو اس کیفیت سے باہر نہیں نکل پارہی تھیں۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر کاظم حسن کے سینے میں ایک دھواں سا بھرنے لگا۔ احساسِ جرم اور پچھتاوے کا دھواں۔
’’کہاں کھوئے ہوئے ہیں والدِ محترم، آپ کے بیٹے پورے چھ ماہ بعد گھر آئے ہیں، کم از کم اس وقت مریضوں کو بھول کر اپنے بیٹوںپر نظرِ کرم فرمادیں۔‘‘
شرجیل نے ان کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلاتے ہوئے شوخی سے کہا۔ کاظم نے یک دم اٹھ کر اسے گلے لگالیا ان کے دونوں بیٹے آٹھویں جماعت سے ہی اکیڈمی اسکول میں چلے گئے تھے۔ ان دونوں ہی کو میڈیکل میں دلچسپی نہیں تھی۔ کاظم حسن نے بھی ان کے آرمی جوائن کرنے پر اعتراض نہیں کیا، انہیں تو فخر تھا کہ ان کے بیٹے ان کی طرح ایک عظیم اور بامقصد پیشے سے منسوب ہونا چاہتے تھے۔
ض ض ض
ان دونوں کے آنے سے گھر میں بہت رونق ہوگئی تھی، باتوں کا ایک لا متناہی سلسلہ چل نکلا تھا۔ رات گئے جب کاظم حسن فراغت ملنے پر ان کے پاس آکر بیٹھے تو اماں، بابا سونے کے لےے اپنے کمرے میں چلے گئے اور رخشندہ کاظم حسن کی فرمائش پر کافی بنانے چلی گئیں، تب شرجیل کی کہی بات سن کر کاظم حسن ششدر رہ گئے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے سترہ سالہ بیٹے کو دیکھ رہے تھے، جو بڑے اطمینان سے پوچھ رہا تھا۔
’’ڈیڈی! آپ عدیل چچا کو مار کیوں نہیں دیتے۔‘‘ وہ اس کی بات سمجھے بھی نہیں تھے جب کہ اس سے دو سال چھوٹا نبیل بھی اسی کے انداز میں بولا۔
’’بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ اتنے بڑے ماہرِ نفسیات ہیں آپ دادی کی اذیت کو کم کیوں نہیں کر دیتے۔ جب آپ عدیل چچا کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئے تب آپ کو اور دادا جان کو انہیں مردہ ظاہر کردینا چاہےے تھا تاکہ دادی جان کی امید ختم ہوجاتی۔‘‘ کاظم حسن کچھ دیر ان دونوں کی شکل دیکھتے رہے پھر بڑے تھکے ہوئے انداز میں آنکھوں پر سے چشمہ اتار کر انگوٹھے اور درمیانی انگلی سے ناک کی ہڈی کو دبانے لگے۔
’’چھبیس سال سے وہ انتظار کی سولی پر لٹک رہی ہیں۔ آپ کوئی بھی کہانی بنا کر ان کی تڑپتی ممتا کو پرسکون کیوں نہیں کر دیتے۔‘‘ شرجیل کے لہجے میں دکھ نمایاں تھا۔
’’اب ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ کام ہم اسی وقت کر دیتے تو ٹھیک تھا اب اگر ہم نے ان کی یہ امید ختم کی تو ان کے اندر سے جینے کی امنگ بھی ختم ہوجائے گی۔ شروع شروع میں اماں کو ہر آہٹ پر دروازے کی طرف لپکتا دیکھ کر میں بھی سوچتا تھا اس سے تو اچھا ہے ہم ان سے کہہ دیں عدیل مر گیا ہے۔ مرنے والے کے لےے انسان ایک بار رو پیٹ کر صبر کرلیتا ہے، مگر زندہ شخص کا انتظار آخری سانس تک تڑپاتا ہے، بہت بار سوچا لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن آپ صرف سوچتے ہی رہے اور چھبیس سال گزر گئے۔ اتنے قابل ڈاکٹر ہوتے ہوئے آپ نے فیصلے میں اتنا وقت لگا دیا۔‘‘ شرجیل کے تاسف سے کہنے پر وہ صرف اسے دیکھ کر رہ گئے تب ہی وہ کہنے لگا۔
’’ڈیڈی! میں جانتا ہوں، آپ عدیل چچا سے بہت محبت کرتے تھے، آپ نے ہم دونوں کے نام بھی ان سے ملتے جلتے رکھے ہیں بلکہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اگر آپ کو دادا، دادی کے زخم ہرے ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ میرا نام عدیل ہی رکھتے۔ مگر ڈیڈی آپ کو دادی جان کی بھلائی کے لےے یہ جھوٹ بول دینا چاہےے تھا۔ دادی جان کی تکلیف اگر ایک جھوٹ سے کم ہوسکتی تھی تو آپ کو ایسا جھوٹ بولتے وقت بالکل بھی ہچکچانا نہیں چاہےے تھا۔‘‘ شرجیل رسانیت سے کہتا چلا گیا۔
کاظم حسن کا ذہن کہیں اور ہی سفر کرنے لگا وہ فیصلہ جو وہ کرلینے کے بعد ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ اس تذبذب کی حالت یک دم ختم ہوگئی ان کا ذہن اس فیصلے پر عمل کرنے کے لےے ایک دم تیار ہوگیا۔ اس عمر میں اماں کی تکلیف کم کرنا شاید ان کے بس سے باہر تھا مگر وہ باقر کی اذیت ضرور دور کر سکتے تھے۔
اس کا اگلا فون کافی دن بعد آیا۔ حسبِ معمول انہوںنے بہت اپنائیت بھرے انداز میں شکایت کی تو وہ کہنے لگا۔
’’مجھے آپ کو فون کرتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے ۔ میری وجہ سے آپ کا وقت برباد ہوتا ہے۔‘‘
’’میرا وقت تو تم ہی لوگوں کے لےے ہے۔‘‘ کاظم حسن مسکرائے تو وہ جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔
’’ہوں۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا وقت بہت قیمتی ہے پھر بھی میرے جیسے لوگ اگر ٹھیک ہوجائیں تو آپ کے وقت کی قیمت وصول ہوجائے مگر میں نے تو صرف آپ کا وقت ضائع کیا ہے۔‘‘
’’دیکھو باقر تم اپنے ماں باپ۔۔۔‘‘
’’میرے ماں باپ میرا مسئلہ نہیں ہیں۔‘‘ اس نے تیزی سے ان کی بات کاٹ دی۔
’’میری امی دو دن سے بہت بیمار تھیں میں نے ان کا بہت خیال رکھا۔ کھانا تو بازار سے آتا رہا مگر میں نے انہیں وقت پر دوائیں کھلائیں، ساری رات ان کے سرہانے بیٹھا رہا، وہ دوائوں کے زیرِ اثر غنودگی میں پڑی رہیں۔ کہیں رات کو انہیں کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے یہی سوچ کر میں ایک لمحے کے لےے بھی ان کے پاس سے نہیں ہلا۔ جب صبح ان کے بخار کا زور ٹوٹا تو آپ جانتے ہیں انہوں نے کیا کہا۔‘‘ وہ تیز لہجے میں بولتے بولتے ایک دم خاموش ہوگیا۔ ضرور اس کی ماں نے کوئی دل شکن بات کہہ دی ہوگی۔ پتا نہیں اس کے ماں باپ کس مٹی کے بنے ہوئے تھے، کبھی کبھی ان کا شدت سے دل چاہتا کہ وہ انہیں کہیں مل جائیں تو وہ اس کے والدین کو کھری کھری سنادیں۔ باقر انہیں خاموش پا کر خود ہی کہنے لگا۔
’’امی نے کہا، عامر کی موت کے بعد تَو بہت ذمہ دارہوگیا ہے، ورنہ اس کی زندگی میں، میں ہمیشہ تیرے بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہوا کرتی تھی کہ تیرا فیوچر کیا ہوگا، مگر آج مجھے یقین آگیا کہ اللہ کے ہر کام میں کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ اللہ نے تجھے تیری ذمہ داریوں کا احساس دلادیا ہے۔ ہر انسان کو ایک نہ ایک دن مرنا ہے۔ اگر عامر کسی اور طریقے سے مرتا تو تجھ میں یہ تبدیلی کبھی نہ آتی۔ اب مجھے تیری طرف سے اطمینان ہوگیا ہے تو اب۔۔۔‘‘ وہ آگے بھی کچھ کہنا چاہتا تھا مگر آواز نے ساتھ چھوڑ دیا۔ کاظم حسن دم بخود رہ گئے تھے۔جب کچھ دیر بعد ان کے اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تو وہ مطمئن ہو کر کہنے لگے۔
’’میں جانتا ہوں تم رو رہے ہو، مگر میں تمہیں منع نہیں کروں گا اچھا ہے تمہارے دل کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔ اب تو تمہیں یقین آگیا نا کہ تمہارے ماں باپ تم سے بھی پیار کرتے ہیں۔ ان کا ڈانٹنا، غصہ کرنا، تمہیں تمہاری غلطیوں پر ٹوکنا۔ سب ان کی محبت ہی تو ہے چلو اب پچھلی باتیں بھول جائو۔‘‘
’’کیا ہر بات بھول جانا اتنا آسان ہے۔‘‘ اس کا لہجہ اتنا ٹوٹا ہوا تھا کہ کاظم حسن ٹھٹک گئے۔
’’آں۔۔۔ دیکھو بیٹے اپنا دل بڑا رکھنا چاہےے۔ دوسروں کی غلطیوں کو بھلا دینا ہی اچھا ہے۔‘‘
’’اور اپنی غلطی؟ بلکہ غلطی نہیں گناہ، کیا اپنے کےے گئے گناہ بھلائے جاسکتے ہیں۔‘‘ اس کا لہجہ بالکل سپاٹ ہوگیا۔
’’میں نہیں جانتا تم کس گناہ کی بات کر رہے ہو مگر ہر گناہ قابلِ معافی ہوتا ہے اور خاص طور پر وہ گناہ جو انجانے میں ہوا ہو۔‘‘ وہ اسے تسلی دینے کے ساتھ ایک طرح سے اکسا رہے تھے، تاکہ وہ جو کچھ بھی ان سے چھپا رہا ہے وہ سب اگل دے۔
’’چاہے وہ قتل ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ کاظم حسن اتنے مضبوط اعصاب کے مالک ہوتے ہوئے بھی اس کی بات سن کر تھرا اٹھے، تو گویا ان کا اندازہ صحیح تھا۔ اس نے خود ہی اپنے بھائی کو مارا تھا، پہلے سے اندازہ ہونے کے باوجود انہیں بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔ وہ سنُاٹے میں رہ گئے تھے، کیونکہ وہ باقر سے بہت مانوس ہوگئے تھے، مریض تو ان کے اور بھی بہت تھے اور بہت پرانے پرانے پیشنٹ بھی تھے جو کئی کئی سالوں سے ان کے زیرِ علاج تھے مگر جو انسیت انہیں باقر کے ساتھ ہوگئی تھی، ویسی جذباتی وابستگی کسی سے نہیں تھی۔
’’میں پوری بات جانے بغیر کچھ کہہ نہیں سکتا۔‘‘ جانے کیوں انہیں لگ رہا تھا اگر آج باقر اعترافِ جرم نہ کر سکا تو کبھی نہ کر سکے گا اور پھر وہ کبھی اپنے پچھتاوے سے باہر بھی نہیں آسکے گا بلکہ ہوسکتا ہے آج کے بعد وہ انہیں فون کرنا بھی چھوڑ دے۔ ان سے بھی اگر وہ شرمندہ ہو کر کترانے لگا تو اس کی ذہنی حالت ناقابلِ اصلاح حد تک بگڑ جائے گی۔
’’کسی قتل کے پیچھے حالات بھی بہت حد تک ذمہ دار ہوتے ہیں اور حالات جانے بغیر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
’’قتل قتل ہوتا ہے، چاہے وہ جن حالات میں کیا گیا ہو لیکن یہ آپ نہیں سمجھ سکتے کیونکہ آپ ان حالات سے نہیں گزرے جن سے میں گزر رہا ہوں بلکہ آپ تو جانتے ہی نہیں کہ میرا اصل مسئلہ کیا ہے۔‘‘ وہ شکست خوردہ لہجے میں بولا۔
’’میں جانتا ہوں، تمہارا اصل مسئلہ کیا ہے اور میں یہ سب اسی لےے کہہ رہا ہوں کہ میں خود ان حالات سے گزر چکا ہوں جن سے تم آج چھبیس سال بعد گزر رہے ہو۔‘‘ کاظم حسن نے اچانک ایک فیصلہ کرتے ہوئے عجیب سنسناتے لہجے میں کہا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ باقر الجھ گیا۔
’’میں جانتا ہوں، تم نے ہی اپنے بھائی عامر کا قتل کیا ہے مگر تم یہ نہیں جانتے کہ میں نے بھی اپنے بھائی عدیل کا قتل کر دیا تھا۔‘‘ کاظم حسن کو خود اپنی ہی آواز اجنبی لگ رہی تھی، دوسری طرف یقینا باقر ششدر رہ گیا ہوگا۔ تب ہی لڑکھڑاتی آوازمیں بولا۔
’’ک۔۔۔کیا۔۔۔ لیکن آپ تو اس سے بہت محبت کرتے تھے اور۔۔۔ اور آپ نے کہا تھا وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا تھا۔‘‘
’’میں نے کہا تھا نا۔ تو بس میں نے جو چاہا وہ کہہ دیا۔‘‘ کاظم حسن سپاٹ لہجے میں بولے۔ اس سے شاک کے باعث کچھ بولا نہیں جارہا تھا تب کاظم حسن گہرا سانس کھینچ کر بڑبڑانے کے انداز میں کہنے لگے۔
’’میں نے عدیل کے بارے میں تمہیں جو کچھ بھی بتایا تھا وہ سب سچ تھا اس واقعہ میں کہیں بھی جھوٹ نہیں تھا بس ایک جگہ میں نے واقعہ سناتے ہوئے ڈنڈی ماری تھی۔ میں نے کہا تھا نا بابا کا فون آتے ہی میں خالہ کے گھر روانہ ہوگیا اور عدیل کو آواز لگا کر بتا دیا۔ یہ سچ نہیں تھا۔ سچ یہ تھا کہ میں عدیل کے کمرے میں گیا تھا، وہ اپنی رائیٹنگ ٹیبل پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا مجھے دیکھ کر اس نے کوئی چیز دراز میں چھپالی اس کی اس حرکت پر میں نے آگے بڑھ کر زبردستی دراز کھول کر وہ کاغذ نکال لیا اسے پڑھ کر میرا دماغ گھوم گیا۔ عدیل نے اس لڑکی کو خط لکھا تھا اور بڑی عاجزی سے وہ اس سے بھیک مانگ رہا تھا کہ وہ میری محبت کو اپنالے اور یہ کہ عدیل کی بدقسمتی کی سزا وہ مجھے نہ دے۔ عدیل نے کسی تحفے کا تذکرہ بھی کیا جو وہ میری جانب سے اسے سالگر پر دے رہا تھا۔ میری نظر میز پر رکھے اس خوب صورت سے ماربل کے گل دان پر گئی اور میرا خون کھول اٹھا۔ اس لڑکی نے جو بے عزتی کی تھی سو کی تھی، عدیل کی اس حرکت نے مجھے اپنی ہی نظروں میں گرا دیا، گویا میں اتنا گرا پڑا تھا کہ وہ میرے لےے بھیک مانگنے پر اتر آیا۔ غم و غصے سے میری بری حالت ہوگئی۔ عدیل اپنی صفائی دینے کی کوشش میں ہکلا کر رہ گیا۔ میں نے طیش کے عالم میں گل دان اٹھالیا اور اسے دیوار پر دے مارنا چاہتا تھا کہ عدیل میرا ارادہ بھانپ کر مجھ سے الجھ پڑا اس کی مداخلت پر شدید غصے اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں میں نے کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر وہ گل دان اس کے سر پر دے مارا۔
اسے مجھ سے ایسی توقع نہیں ہوگی تب ہی اس نے بچائو کی کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ اور پھر وہ سب بالکل اچانک ہوگیا تھا۔ کچھ سوچنے سمجھنے کا جیسے وقت ہی نہیں ملا۔ گل دان سر پر لگتے ہی خون کی ایک تیز دھار اَبل پڑی۔ عدیل کے چہرے پر تکلیف سے زیادہ حیرت کے تاثرات تھے۔ وہ مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ کچھ ہی لمحے اپنے پیروں پر کھڑا رہ سکا۔ اور ایک دم لہرا کر زمین پر گر گیا۔ اس کے گرتے ہی جیسے مجھے ہوش آگیا۔ میں بوکھلا کر اسے ہلانے جلانے لگا۔ اس کا تیزی سے ابلتا خان دیکھ کر میرے ہاتھ پائوں پھولے جارہے تھے۔ میں اسے اٹھا کر ہسپتال لے جانا چاہتا تھا کہ تب ہی مجھ پر یہ تکلیف دہ انکشاف ہوا کہ وہ مر چکا ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میرے ہاتھوں ایک قتل ہو گیا ہے، وہ بھی میرے عزیز از جان بھائی کا۔ عشق کا بھوت میرے سر سے سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اتر گیا۔ اس لمحے میں چیخ چیخ کر رویا تھا مگر ان حالات میں میرے دماغ نے اچانک بہت تیزی سے کام کرنا شروع کر دیا۔
اماں بابا کو پتا چلے گا تو ان کا کیا ردُِ عمل ہوگا؟ عدیل تو مر گیا اور مجھے جیل ہوجائے گی۔ پھر ان دونوں کا خیال کون رکھے گا، انہیں کون سنبھالے گا۔
اماں، بابا کے بارے میں سوچتے ہی پہاڑ جیسی ہمت اور ضبط میرے اندر اتر آیا۔ اور میں نے عدیل کی لاش چھپا دی اس کام سے فارغ ہونے کے بعد جب میں اس کے کمرے سے خون اور گل دان کی کرچیاں صاف کرنے آیا تو میز پر مجھے عدیل کا لکھا وہ خط نظر آیا جس میں اس نے اپنے گھر چھوڑ کر جانے کی اطلاع دی تھی، تب میری سمجھ میں آیا وہ ابھی سے اس لڑکی کی سالگرہ کا تحفہ پیک کر کے کیوں رکھ رہا تھا، وہ یقینا کسی طرح یہ تحفہ اس کے گھر پہنچا کر خود ہمیشہ ہمیشہ کے لےے میری زندگی سے دور جارہا تھا۔ وہ شایداس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ ایک بار وہ اس گھر سے چلا گیا تو وہ لڑکی مجھ سے شادی کے لےے راضی ہوجائے گی جو اس کی موجودگی میں ممکن نہیں تھا، ہاں البتہ جیسا اس نے خط میں لکھا تھا کہ آج سے کچھ عرصے بعد لوگوں کے ذہن سے اس کی پرچھائیاں مٹ جائیں گی حالانکہ یہ امر کوئی اتنا یقینی بھی نہیں تھا مگر اس سے زیادہ وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا اس کا خط پڑھ کر میرے دل پر ایک بوجھ آگرا۔
میں واقعی اس سے بہت پیار کرتا تھا میں بچپن سے اس کی خاطر بہت بار لڑا تھا۔ بہت چوٹیں کھائی تھیں میں نے اس کے لےے۔ مگر پتا نہیں اس لمحے مجھے کیا ہوگیا تھا۔ میرا پچھتاوا بہت شدید تھا مجھے پتا تھا پولیس آگئی تو ہم گھر والوں پر ہر گز شک نہیں کرے گی اور اسی لےے گھر کی تلاشی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کیونکہ ایک تو پولیس برابر والے رحمن صاحب کے تھرو آئے گی دوسرے عدیل کا اپنے ہاتھوں سے لکھا خط موجود تھا پھر سب سے بڑھ کر عدیل کا پہلے بھی گھر چھوڑ کر جانا اور خود کشی کی کوششیں کرنا کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں تھا اور یہی ہوا پولیس نے اس کیس کو صرف ایک نوجوان کے گھر سے بھاگنے کا کیس سمجھا اور شہر میں ناکا بندی کرادی کچھ عرصے بعد کیس ٹھنڈا بھی پڑ گیا، مگر میں آج تک پچھتاوے کی آگ میں جل رہا ہوں۔ میرا ضمیر ہروقت مجھے کچوکے لگاتا ہے، حالانکہ میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہیں تھا۔ وہ سب میں نے غصے میں کیا تھا۔ لیکن پھر میں نے خود کو سنبھالنا شروع کیا میں خود کو یہ سو چ کر تسلی دیتا کہ اللہ نے اس کی موت ایسے ہی لکھی تھی، ہاں یہ سچ تھا کہ اس کی لاش کو چھپا کر میں نے حادثے کو قتل کا رنگ دے دیا تھا مگر میں نے اس ملال کو خود پر حاوی نہیں کیا ایک غلطی تو مجھ سے ہوچکی تھی اگر میں اپنی اس غلطی کو اچھالوں گا تو میرے والدین کو تکلیف ہوگی کیوں نا میں انہیں اس حقیقت سے بے خبر رکھوں اور ہر ممکن حد تک ان کی خدمت کروں، ان کا خیال رکھوں بلکہ صرف ان کا ہی کیوں، کیوں نہ میں کوئی ایسا پروفیشن چنوں، جو ساری انسانیت کے کام آئے۔ میں ویسے بھی ڈاکٹری پڑھ رہا تھا۔ عدیل کی موت نے میرا دل اتنا گداز کر دیا کہ اس دن کے بعد مجھے کبھی غصہ ہی نہیں آیا۔ ہر وقت مریضوں کے بیچ رہ کر بھی میں کبھی تھکا نہ اکتایا۔ میرے گھر والے میرے مریضوں سے عاجز آچکے ہیں مگر میرا ضبط اتنا بڑھ گیا ہے کہ میرے خدمتِ خلق کے جذبے میں ہر روز اضافہ ہی ہوتا ہے۔ کبھی کمی نہیں آتی۔ اسی لےے یہ جان لینے کے باوجود کہ وہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا بلکہ تم نے اپنے بھائی کو جان بوجھ کر مارا تھامیں تمہارے احساسِ جرم کو مٹا دینا چاہتا ہوں۔ میں کوئی مولوی یاکوئی پولیس کا رکھوالا نہیں ہوں جو تمہیں گناہ و ثواب یا جرم اور سزا پر لیکچر دینے بیٹھ جائوں میں تو ایک ڈاکٹر ہوں اورمیرا کام مریض کو نارمل زندگی کی طرف واپس لانا ہے اور یہ کوئی ایسا مشکل کام نہیں۔ میری زندہ جاوید مثال تمہارے سامنے ہے۔‘‘
انہیں یقین تھا آج وہ باقر کا کیس حل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آج باقر نے یہ جان لیا ہوگا کہ زندگی ایک غلطی پر کڑھتے رہنے کا نام نہیں بلکہ اس ایک تجربے سے سیکھ کر دوبارہ ایسی غلطی سے بچنے کا نام ہے باقر جو کر چکا تھا وہ اسے بدل نہیں سکتا تھا، مگر یہ ایک پچھتاوا، یہ ایک پشیمانی اس کے دل کو آئندہ زندگی میں دوسروں کے لےے بہت نرم اور گداز بنا دے گی۔ انہوں نے مزید کوئی بات کےے بغیر فون بند کر دیا مگر آج پہلی بار کوئی کیس حل کر کے انہیں سکون نہیں ملا تھا، بلکہ وہ کچھ اداس ہوگئے تھے۔
ض ض ض
شرجیل اور نبیل کے آنے کے بعد وہ زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔ کلینک سے چھٹی کرنا ان کی فطرت میں نہیں تھا،مگر ان کی کوشش ہوتی کہ کلینک کم از کم وقت پر بند ضرور ہوجائے، مگر اس کوشش کے باوجود اس دن وہ معمول سے زیادہ لیٹ ہوگئے، وجہ ان کی اچانک آجانے والی ایک مریضہ تھی وہ شاید بڑے اضطرابی انداز میں گھر سے نکلی تھی۔ اِدھر اَدھر بے مقصد بھٹکتے ہوئے اسے راستے میں ان کا کلینک نظر آگیا اور وہ یہاں آگئی۔ کاظم حسن کلینک، بند ہونے میں دس منٹ رہ گئے تھے پھر بھی وہ منع نہ کر سکے اور اسے اندر بلوالیا۔ وہ ایک بائیس سال کی لڑکی تھی اگر اس نے اپنے آپ پر دھیان دیا ہوتا تو یقینا وہ بہت حسین لگ رہی ہوتی مگر اس کے ملگجے کپڑے اور بھوک پیاس سے بے نیاز نظر آتا اس کا بے ترتیب حلیہ اس کے شدید ڈپریشن کا شکار ہونے کی مکمل عکاسی کر رہے تھے۔ ان کے پاس عموماً ایسے ہی لوگ آتے تھے چنانچہ وہ غور سے اس کی باتیں سننے لگے جو عجیب ملول سے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’میرے والدین نے مجھے کبھی یہ حقیقت نہیں بتائی بلکہ انہوں نے سارے خاندان سے یہی کہا کہ میں ان کے ایک دوست کی بیٹی ہوں ان کے دوست اور اس کی بیوی کا اچانک انتقال ہوجانے کی وجہ سے میری پرورش کی ذمہ داری انہوں نے لے لی، لیکن میں بہت پہلے ہی جان گئی تھی کہ یہ سچ نہیں ہے انہوں نے مجھے کوڑے کے ڈھیر پر سے اٹھایا تھا آپ۔۔۔ آپ جانتے ہیں کوڑے کے ڈھیر پر سے ملنے والے بچے کون ہوتے ہیں۔۔۔ ۔کیا آپ۔۔ آپ جانتے ہیں۔‘‘ وہ عجیب ہیجانی انداز میں بڑبڑا رہی تھی۔ کاظم حسن خاموشی سے اس کی شکل دیکھتے رہے انہیں جواب دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ ان کی معلومات اور تجربات کا ذخیرہ بہت وسیع تھا۔ وہ لڑکی ان کی معلومات کا احاطہ کر بھی نہیں سکتی تھی۔
’’میں۔۔۔ میں اس حقیقت کو جاننے کے بعد ٹوٹ گئی تھی۔ میں نے خود کو کیسے سنبھالا، یہ اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا کیونکہ میں نے اس حقیقت کو کبھی کسی پر ظاہر نہیں کیا۔ میری پرورش کرنے والے میرے والدین نے یہ بات اس لےے چھپائی تھی کیونکہ پھر ان کا خاندان اور سوسائٹی مجھے قبول کرنے سے انکار کر دے گی۔لیکن۔۔۔ لیکن مجھے یقین تھا وہ ایسا نہیں کرے گا۔ اسے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا کہ میرا بیک گرائونڈ کیا ہے لیکن وہ۔۔۔ وہ۔‘‘ اس کے آنسو پلکوں پر آٹھہرے تھے۔ وہ بات کاظم حسن سے کر رہی تھی مگر اس کی آنکھوں کے سامنے وہی منظر گھوم رہا تھا جب اس نے خود ہی اپنی حقیقت اپنے منگیتر کو بتائی تھی۔
’’چار سال ہوگئے ہیں ہماری منگنی کو۔ چار سالہ منگنی توڑنے کی شاید اس میں ہمت نہیں ہے اس لےے وہ خاموش ہے مگر اس کا چہرہ اس کا رویہ اور اس کا ہر ہر انداز چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ وہ مجھے اپنی زندگی سے نکال پھینکنا چاہتا ہے، اسے مجھ سے گھن آتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں میرے لےے اتنی حقارت ہے کہ میں۔۔۔ میرا مر جانے کا دل چاہتا ہے۔‘‘ وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی، جب وہ کافی رو چکی اور کاظم حسن کو یقین ہوگیا کہ اب وہ ان کی بات ماننے کے نہ سہی، سننے کے قابل ہوگئی ہے تب وہ کہنے لگے۔
’’تم نے اسے کیوں بتایا کہ تمہیں، تمہارے والدین کہاں سے اٹھا کر لائے تھے۔ تمہارے والدین نے اگر یہ سب چھپایا تھا تو کچھ سوچ کر ہی چھپایا تھا نا۔ خاندان، ذات پات، حسب و نسب، ان سب چیزوں کو لوگوں کے ذہنوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔ کیاتمہیں معلوم نہیں تھا تمہارا منگیتر یہ سب سننے کے بعد تم سے نفرت کرنے لگے گا۔‘‘
’’نہیں! مجھے نہیں معلوم تھا۔‘‘ وہ ایک دم بول پڑی۔
’’وہ تو میرے لےے جان بھی دے سکتا تھا اور اس کی محبت دیکھ کر ہی میں نے فیصلہ کیا تھا کہ مجھے اسے اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہےے۔ جو کچھ میں نے اسے اپنے بارے میں بتایا، اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا مگر۔۔۔ مگر یہ سب جاننے کے بعد وہ خود بھی شاید ایک عذاب سے گزر رہا ہے۔ ہماری شادی میں چند دن رہ گئے ہیں وہ مجھے چھوڑ سکتا ہے، نہ اپنا سکتا ہے میں۔۔۔ میں کیا کروں۔‘‘ وہ بری طرح سسکنے لگی۔
’’اسے سچائی بتانے سے پہلے اگر تم نے مجھ سے مشورہ مانگا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا۔ اس وقت میں تمہیں یہی کہتا کہ اسے کچھ مت بتائو۔ بھلے ہی تمہارا کوئی قصور نہیں، لیکن ہمارے معاشرے میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جو اس طرح سوچتے ہیں۔ اس لےے ساری غلطی صرف اس کی نہیں تمہاری بھی ہے، بلکہ سچ پوچھو تو ساری غلطی ہی تمہاری ہے۔ چار سالہ منگنی میں جو بات تم نے اس سے نہیں کہی وہ بات شادی سے چار دن پہلے تم نے اسے کیوں بتادی۔ آگاہی کی جس آگ میں تم جل رہی تھیں تم نے اسے بھی اس آگ میں گھسیٹ لیا اور اب بھی اپنے کےے پر پچھتانے کے بجائے تم اسے موردِ الزام ٹھہرا رہی ہو، تمہارے لےے فی الحال سب سے ضروری یہ ہے کہ تم اپنی اس خود ساختہ خود ترسی کے دائرے سے باہر نکلو اور اس سچ کا سامنا کرو کہ جو بات تم نے اسے بتائی ہے وہ تمہیں نہیں کہنی چاہےے تھی۔ آج تم نے اس سے کہا ہے کل وہ اپنے ماں باپ سے کہہ دے گا پھر وہ کسی اور سے، تمہارے والدین نے اسی لےے اتنے سالوں تک اس حقیقت پر پردہ ڈالے رکھا کہ یہ ایک بہت بھیانک سچائی تھی۔ لوگ ایسی سچائیاں ہضم نہیں کر پاتے ہیں، خاص طور پر اگر ایسی سچائی کسی لڑکی سے وابستہ ہو۔ چودہ سو سال پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا تھا کہ تمام بچے فطرت اسلام پر پیدا ہوتے ہیں لیکن لوگ پھر بھی گندا خون اور گندی نالی کا کیڑا جیسے فلسفوں کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔
ایک غلطی تم نے اس وقت کی تھی جب تم نے اسے ساری بات بتائی تھی اور ایک غلطم تم اب کر رہی ہو جو اپنے والدین سے ساری بات چھپا رہی ہو۔ انہوں نے تم سے وعدہ لیا تھا کہ یہ سب کبھی کسی سے مت کہنا۔ تم ان کے وعدے کا پاس نہیں رکھ سکیں، حالانکہ اس میں تمہاری بہتری تھی۔ اب تم جا کر انہیں سب کچھ بتادو۔ اپنے منگیتر کا موجودہ رویہ بھی، کیونکہ جو ہمت اس میں نہیں ہے وہ ہمت اب تمہیں کرنی ہوگی اورمجھے یقین ہے تمہارے والدین اس فیصلے میں تمہارا ساتھ دیں گے، ان سے ملے بغیر ہی میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ وہ بہت سمجھ دار اور معاملہ فہم ہوں گے، تب ہی انہوں نے اتنی بڑی حقیقت کو بائیس سال تک دنیا سے چھپائے رکھا۔‘‘ وہ لڑکی حیرانی سے انہیں دیکھتی رہی۔
’’یہ ۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ وہ بڑی دقُت سے بولی۔
’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔ اس کی نفرت تم سہہ نہیں سکتیں۔ اس کی محبت تم پا نہیں سکتیں تو بہتر یہی ہے کہ اسے چھوڑ دو یا کم از کم کچھ مہینوں کے لےے اس شادی کو ملتوی کر دو، ہوسکتا ہے تم سے الگ ہو کر اس کے دل میں تمہارا کھویا ہوا مقام بحال ہوجائے اور وہ خود ہی تمہاری طرف لوٹ آئے۔ میں جانتا ہوں یہ ایک مشکل فیصلہ ہے تم اپنے والدین سے بھی مشورہ کرلو۔ میرے خیال سے وہ بھی یہی کہیں گے، کیونکہ یہ شادی تمہارے لےے ایک عذابِ مسلسل ثابت ہوگی۔ تمہارا منگیتر ایک تنگ نظر انسان ہے جو محبت میں بڑی بڑی باتیں کر سکتا ہے مگر محبت نہیں کر سکتا۔ اور یہ بات میں اندازے سے نہیں یقین سے کہہ رہا ہوں۔‘‘
کاظم حسن حتمی لہجے میں بولے، اپنے راز سے خود ہی پردہ اٹھا کر اس نے بڑی حماقت کا ثبوت دیا تھا مگر ایسی حماقت سرزد کرنے والوں سے ان کا سامنا اکثر ہوتا رہتا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پاتے تھے کہ انسان کیوں کسی شخص پر اتنا بھروسہ کرنے لگتا ہے کہ اپنے راز کو راز نہیں رکھ پاتا اور اپنا ہی بھرم گنوا دیتا ہے۔
تھوڑی دیر تک اپنی کہنے اور ان کی سننے کے بعد وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئی۔ تب ہی اٹھ کر چلی گئی اس کے جانے کے بعد انہوں نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ وہ معمول سے زیادہ لیٹ ہوگئے تھے پھر بھی وہ دراز کھول کر خطوط کے انبار کو دیکھنے لگے۔ ان خطوط کے جواب وہ رات کو گھرپر لکھا کرتے تھے۔ مگر شرجیل اور نبیل کے آنے سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا تھا۔ انہوں نے وقت کی پروا کےے بغیر چند اہم خطوط کے جواب تحریر کرنے شروع کر دےے۔
کچھ دیر بعد چوکیدار نے ان کے دروازے پر دستک دی۔ صرف وہی ان کے انتظار میں اب تک رکا ہوا تھا۔
’’صاب ایک لڑکا آپ سے ملنا چاہتا ہے ہم نے بہت بولا کلینک بند ہے لیکن وہ بولتا ہے آپ سے اکیلے میں۔۔۔‘‘
’’بھیج دو۔‘‘ انہوںنے مصروف سے انداز میں اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا، حالانکہ اس وقت وہ کسی سے بھی ملنا نہیں چاہتے تھے، مگر اپنے پیشے سے وہ تکلیف دہ حد تک مخلص تھے، ویسے بھی ایسے اکیلے میں ملنے پر اصرار کرنے والے مریضوں کو وہ اچھی طرح جانتے تھے اگر اسے آج لوٹا دیا تو وہ کبھی نہیں آئے گا۔ وہ نشے میں لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے مریض کے آنے کا انتظار کرنے لگے کہ تبھی دروازے میں چوبیس پچیس سال کے ایک نہایت جاذب نظر لڑکے کو داخل ہوتا دیکھ کر کاظم حسن ٹھٹک گئے۔ وہ اپنے حلےے سے کسی اچھی پڑھی لکھی فیملی کا فرزند لگ رہا تھا۔ بڑی تہذیب سے وہ دروازے میں ہی رک گیا تھا۔
’’آپ مجھ سے اکیلے میں ملنا چاہتے تھے، اس لےے میں نے آپ کو بلوالیا ورنہ کلینک تو بند ہوچکا ہے۔‘‘ کاظم حسن نے تمام لفافے اکٹھے کر کے بیگ میں ڈالتے ہوئے کہا تو وہ ایک ایک قدم اٹھاتا ان کی ٹیبل کے سامنے آکھڑا ہوا۔
’’اگر آپ بہت جلدی میں ہیں تو میں پھر کسی دن آجائوں گا۔‘‘ کاظم حسن کے تیزی سے حرکت کرتے ہاتھ اپنی جگہ تھم گئے۔ وہ آنکھوں میں شدید حیرانی لےے اسے دیکھنے لگے۔
’’تم۔۔۔ تم باقر ہونا۔‘‘ ان کے سوال پر وہ مسکرادیا۔
’’میں اکثر سوچتا تھا کہ اگر میں کبھی آپ کے سامنے آجائوں تو کیا آپ مجھے پہچانیں گے۔‘‘ اس نے ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی کی بیک پر دونوں کہنیاں ٹکادیں۔ کاظم حسن تصدیق ہوجانے کے باوجود اسے بے یقینی سے دیکھ رہے تھے۔
ان کے ذہن میں باقر کا تصور بالکل الگ تھا وہ اسے گھبرایا ہوا، اعتماد سے محروم ایک کمزور شخصیت کا مالک سمجھتے تھے جبکہ یہ باقر نا صرف بہت خود اعتماد لگ رہا تھا بلکہ اس کی ذہانت سے چمکتی آنکھیں دیکھ کر وہ سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ وہ اس سے پہلے بھی مل چکے ہیں۔
’’میں نے تمہیں صرف تمہاری آواز سے پہچانا ہے، ورنہ تمہاری شکل اور شخصیت دیکھ کر۔۔۔‘‘ کاظم حسن نے اسے بغور دیکھتے ہوے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تو وہ ایک بار پھر مسکرادیا، بڑی عجیب سی مسکراہٹ تھی اس کی۔
’’تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا نا۔‘‘ وہ کرسی کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے سنجیدگی سے بولے۔ ان کے چہرے سے حیرت اور خوشی کے تاثرات کب کے غائب ہوگئے تھے۔
’’یہ آپ پوچھ رہے ہیں، یا بتا رہے ہیں۔‘‘ اس نے براہِ راست ان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایسے پوچھا جیسے ان کی حالت سے لطف اندوز ہورہا ہو۔ وہ جواب دےے بغیر سپاٹ نظروں سے اسے دیکھتے رہے تو وہ جس کرسی پر کہنیاںٹکائے کھڑا تھا اسے پیچھے گھسیٹ کر بیٹھتے ہوئے اطمینان سے کہنے لگا۔
’’آپ کو شاید یاد ہوگا آج سے دو سال پہلے آپ ایک سیمینار میں گئے تھے۔ وہاں کئی کالج کے اسٹوڈنٹس بھی آئے ہوئے تھے، بہت ساری تقریروں اور تبصروں کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا تھا، کچھ اسٹوڈنٹس نے آپ سے بھی سوال کےے تھے، ان میں ایک لڑکے نے آپ سے پوچھا تھا ماہرِ نفسیات اتنے لوگوں کے مسائل سنتے ہیں، ان کے حل تلاشتے ہیں، انہیں مشورے دیتے ہیں، مریض ان پر بھروسہ کر کے انہیں اپنا شریکِ راز بناتا ہے کیا کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ماہرِ نفسیات مریض میں اتنا انوالو ہوجائے کہ وہ مریض کو اپنا ہم رازبنالے۔ اس سوال پر آپ بہت زور سے ہنسے تھے اور ہنسنے کے بعد آپ کے جواب نے اس لڑکے کو بھری محفل میں شرمندہ کر دیا تھا۔ آپ کو یاد بھی نہیں رہا ہوگا مگر اس لڑکے کو آپ کے روےے نے ایک نفسیاتی مسئلے سے دو چار کر دیا ہے۔ وہ لڑکا کتنے سیمینار اٹینڈ کر چکا ہے مگر اس دن کے بعد سے اس نے کبھی کھڑے ہو کر کوئی سوال نہیں پوچھا۔ اس ڈر سے کہ کہیں کوئی پھر آپ جیسا جواب نہ دے دے آپ نے کہا تھا۔
’’شکل سے تو تم بڑے ذہین لگ رہے تھے، مگر تمہارے سوال نے مجھے بڑا مایوس کیا۔ ماہرِ نفسیات وہی ہوتا ہے جو دوسروں کے مسئلوں کو سلجھائے اگر وہ خود ان میں الجھنے لگے گا تو وہ کبھی بھی ایک کامیاب ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ تمہارے جیسے کم عمر لڑکوں کے ساتھ ایسی پرابلم ہوسکتی ہے کہ کوئی خوب صورت لڑکی تمہارے پاس آئے اور تم اس کے راز تک پہنچنے کی کوشش میں اپنا ہی راز کھول بیٹھے، مگر ایک تجربے کار، معاملہ فہم ڈاکٹر ایسی جذباتیت نہیں دکھا سکتا۔‘‘
آپ کے اس جواب پر پورا ہال محفلِ زعفران بن گیا اور وہ لڑکا بری طرح خجل ہو کر واپس بیٹھ گیا، مگر ایک سوال اس کے ذہن میں ضرور ابھرا تھا۔ تجربہ آنے سے کوئی مکمل نہیں بن جاتا انسان خطاکا پتلا ہے اور اس سے کبھی بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ دو سال تک یہ سوال اس لڑکے کے ذہن میں کیڑے کی طرح رینگتا رہا پھر اس نے ایک دن آپ ہی کے لکھے ایک کالم میں پڑھا کہ ’’جو لوگ بہت بڑی بڑی باتیں بناتے ہیں۔ وقت پڑنے پر وہ خود بھی ان باتوں پر پورا نہیں اترتے۔‘‘
تب اس نے ایک پلان بنایا اور اپنے اس پلان میں وہ کامیاب بھی ہوگیا لیکن کامیابی کی خوشی سے زیادہ اسے اس بات کا دکھ تھا کہ جس شخص کو وہ اتنا عظیم سمجھ کر اپنا آئیڈیل مانتا تھا وہ ہی۔۔۔‘‘ باقر نے گہرا سانس کھینچتے ہوئے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ کاظم حسن دم بخود بیٹھے اس کی بات سن رہے تھے۔ بالآخر بڑی مشکل سے انہوں نے اپنی کیفیت پر قابو پاتے ہوئے ہنسنے کی کوشش کی۔
’’ہوں بہت خوب۔ تو گویا اتنے مہینوں سے تم میرا امتحان لے رہے تھے اور پرسوں جب میں نے تمہارے سامنے اقبالِ جرم کیا تو تم منظر پر آگئے۔ اچھی کاوش تھی، حالانکہ کافی بچکانہ تھی مگر تھی عین انسانی فطرت کے مطابق۔ جب ہم کسی کو بہت بڑی بڑی باتیں بناتے دیکھتے ہیں خاص طور پر نصیحتیں کرتے دیکھتے ہیں تو واقعی دل چاہتا ہے کہ انہیں آزما کر دیکھا جائے ذرا پتا تو چلے وہ خود کتنے پانی میں ہیں، عام طور پر بڑے بڑے لیڈر، سیاستدان، شاعر، ادیب، فلسفہ نگار اور رائٹرز جو باتیں کہتے اور لکھتے ہیں ان پر وہ خود بھی عمل نہیں کرتے کیونکہ باتیں بنانا بہت آسان ہوتا ہے اور کر کے دکھانا بہت مشکل، لیکن کبھی کبھی لوگوں کو آزمانے کے بعد بھی حقیقت سامنے نہیں آتی الٹا غلط فہمیاں ہوجاتی ہیں۔
اب دیکھو نا تم سمجھ رہے ہو تمہاری کہانی سن کر میں اتنا جذباتی ہوگیا کہ تمہیں اپنے اس راز میں شریک کر لیا جو میں نے کبھی کسی کے سامنے نہیں کھولا۔ حالانکہ میں نے صرف تمہارا علاج کرنے کے لےے ایک کہانی بنائی تھی، تاکہ تم میرے سامنے سچ اگل دو اور تمہارا دل ہلکا ہوجائے۔‘‘ کاظم حسن نے راکنگ چیئر گھماتے ہوئے حد درجہ لاپروائی سے کہا۔ ان کا انداز کچھ کچھ تمسخرانہ ہوگیا تھا جیسے اس کے بچپنے پر ہنسی آرہی ہو۔
’’آپ کی ساری باتیں خود آپ ہی پر عائد ہورہی ہیں۔ آزمانے کے بعد بھی کبھی کبھی حقیقت سامنے نہیں آتی الٹا غلط فہمیاں ہوجاتی ہیں۔ جیسے آپ کو ہوگئی۔ آپ نے میرے سامنے سچ کہہ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیا لیکن ساتھ ہی آپ اس غلط فہمی کا شکار رہے کہ آپ نے صرف میرا علاج کیا ہے ورنہ سچ تو یہ ہے کہ آپ میرے کیس میں اتنا انوالو ہوگئے تھے کہ جذبات میں بہہ کر آپ نے وہی بے وقوفی کی، جس پر آپ دوسروں کامذاق اڑارہے تھے۔ آپ شاید یہ سوچ رہے ہوں گے کہ باقر کے سامنے اقبالِ جرم کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے یہ میرے خلاف کچھ ثابت نہیں کر سکتا، آپ کا سوچنا صحیح ہے میرا پولیس میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ مگر آپ کو یہ اعتراف تو کرنا پڑے گا کہ وہ کوئی کہانی نہیں تھی۔
عدیل کے بارے میں جو کچھ آپ نے بتایا تھا، وہ سچ تھا اور یہ بات میں پہلے سے ہی جانتا تھا اسی لےے میں اپنے ایک ایسے فرضی بھائی کی کہانی لے کر آیا جسے سننے کے بعد آپ عدیل کے بارے میں سب بتادیں، حالانکہ مجھے یہ یقین نہیں تھا کہ عدیل کو آپ ہی نے مارا ہوگا مگرمجھے یہ یقین ضرور تھا کہ عدیل کی گمشدگی کے پیچھے آپ کا ہاتھ ضرور ہے۔
آپ نے اپنا وہ گھر عبداللہ کو فروخت کیا تھا نا وہ میرے دادا تھے آپ سے گھر خریدنے کے کچھ سال بعد انہوں نے گھر میں کئی تبدیلیاں کرائی تھیں۔ انہوں نے آپ کا لگایا جھولا اور وہ درخت سب نکلوا دیا اور جب وہاں کمرے بنانے کے لےے اس زمین کی کھدائی کی گئی تو وہاں سے ایک لاش برآمد ہوئی۔‘‘ کاظم حسن سانس روکے اس کی بات سن رہے تھے جب کہ باقر، ان کے چہرے پر شدید زلزلے کے آثار بغور دیکھتے ہوئے سپاٹ لہجے میں بول رہا تھا۔
’’وہ لاش گل سڑ چکی تھی اسے پہچاننا مشکل تھا اگر میرے دادا پولیس کو بلاتے تو پوسٹ مارٹم رپورٹ سے بہت کچھ معلوم ہوجاتا مگر وہ پولیس کے جھنجھٹ میں پڑ کر خوامخواہ کی بدنامی نہیں چاہتے تھے۔ چنانچہ وہ معاملہ انہوں نے وہیں ختم کر دیا میں اس وقت بہت چھوٹا تھا یہ بات ایسی تھی کہ اس کاذکر میرے بڑے ہونے کے بعد بھی اکثر گھر میں ہوتا رہا اور عدیل کی گمشدگی کا واقعہ تو پورے محلے میں مشہور تھا، میرے گھر والوں نے اس بات کا تذکرہ باہر کسی سے بھی نہیں کیا مگر سب کی مشترکہ رائے تھی کہ وہ عدیل ہی کی لاش تھی اسے کس نے مارا؟ کس نے دفنایا؟ یہ اندازہ لگانا بڑا مشکل تھا اور پھر میں نے کہا نا میرے گھر والے کسی جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتے تھے ان کے لےے وہ حادثہ صرف ایک موضوع تھا۔ جسے وہ کبھی کبھی ڈسکس کرلیا کرتے تھے مگر اتفاق سے میں نے دنیا کے تمام موضوعات چھوڑ کر نفسیات کا ہی انتخاب کیا اور اتفاق سے ہی میں پڑھائی کرنے اس شہر میں آگیا۔ آپ کی کامیابی اور شہرت دیکھ کر میرے دل میں آپ جیسا بننے کی خواہش پیدا ہوگئی تھی۔
سیمینار میں آپ کے ہاتھوں درگت بننے کے باوجود میرے دل میں آپ کے لےے موجود پسندیدگی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا مگر جب چھ ماہ پہلے میں چھٹیوں میںگھر گیا تو ایک دن ٹی وی پر نفسیات سے متعلق کوئی پروگرام آرہا تھا جس میں آپ بھی موجود تھے۔ اس دن برابر والے حمید انکل جو آپ کے بہت گہرے دوست تھے ہمارے گھر آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ کو دیکھتے ہی پہچان لیا، انہوں نے آپ کے اور عدیل کے بارے میں بڑی تفصیل سے بتایا تو ساری کڑیاں جوڑتے ہوئے میں نے اندھیرے میں تیر چلایا تھا مجھے آپ پر شک صرف اس لےے ہوا تھا کہ حمید انکل نے کہا تھا کہ انتقال کی خبر سنتے ہی آپ اپنی خالہ کے گھر چلے گئے، حالانکہ عدیل کو لےے بغیر آپ کہیں جاتے نہیں تھے، بس اس دن آپ اسے چھوڑ کر گئے، اور وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا ان کی بات سے صاف ظاہر تھا کہ گھر پر صرف آپ ہی تھے جو اس سے آخری بار ملے تھے۔ اس شک کے باوجود مجھے امید نہیں تھی کہ۔۔۔‘‘
باقر کا لہجہ بولتے بولتے بہت دھیما ہوگیا تھا۔ وہ بھی اسی کیفیت سے گزر رہا تھا۔ جس سے کاظم حسن گزر رہے تھے یعنی کیس تو حل ہوگیا تھا مگر خوشی اور سکون کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ کاظم حسن چاہتے تھے کسی طرح باقر کو جھٹلا دیں، مگر تلخ حقیقت اپنی تمام تر بدصورتی کے ساتھ ان کے سامنے کھڑی تھی۔ جس سے وہ کسی طور پر نظریں نہیں چرا سکتے تھے۔ وہ جذبات میں اتنے بھی نہیں بہے تھے کہ قتل جیسے بھیانک جرم کا راز کھول دیتے اپنے طور پر انہوں نے بڑی احتیاط کا مظاہرہ کیا تھا انہوں نے تو اپنے سامنے والے گھر میں رہنے والی اس لڑکی کا نام تک باقر کو نہیں بتایا تھا حالانکہ وہ یہی سوچ رہے تھے کہ باقر کو کچھ بھی بتا دینے سے کوئی فرق نہیں پڑ سکتا اگر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ہی عدیل کو مارا ہے تو محض ان کے کہنے سے کون سا قتل ثابت ہوجائے گا، مگر یہ انہیں نہیں پتا تھا کہ فون کے دوسری طرف جو موجود تھا وہ ان کے گناہ کے اصل ثبوت سے واقف تھا اگر وہ جھوٹ کہہ رہا ہوتا تو وہ ہرگز یہ نہ جانتا کہ انہوں نے عدیل کی لاش عین اس جھولے کے نیچے والی پکی زمین میں دفنائی تھی۔
انہیں خاموش دیکھ کر باقر کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔
’’میں آپ کا راز کسی پر نہیں کھولوں گا۔ آپ نے واقعی انسانیت کی بہت بڑی خدمت کی ہے۔ آپ جیسے ڈاکٹرز کی اس دنیا کو بہت ضرورت ہے لیکن مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا کہ آپ بھی ویسے نہیں ہیں جیسی باتیں کرتے ہیں۔‘‘ اس نے آہستگی سے اپنی بات مکمل کی اور اٹھ کر کمرے سے نکل گیا جب کہ کاظم حسن سکتے کے عالم میں بیٹھے رہ گئے آج وہ خود کو اسی دوراہے پر کھڑا محسوس کر رہے تھے جس پر وہ عدیل کو مارنے کے بعد کھڑے تھے۔ اب اپنے کےے پر وہ جتنا بھی پچھتاتے وہ اسے بدل نہیں سکتے تھے اتنے عرصہ ایک جنون کی طرح انہوں نے انسانیت کی خدمت کی تھی تاکہ وہ احساسِ جرم جو انہیں ہر پل کچوکے لگاتا تھا کم ہوجائے آج وہ پچھتاوا پہلے سے سوا ہوگیا تھا اور پھر انہیں ہمیشہ ایسے لوگوں سے چڑ تھی جن کے قول و فعل میں فرق ہو مگر وہ خود بھی اسی فہرست میں شامل ہوگئے تھے۔
*******


