موسمِ گل – فرحت اشتیاق

موسمِ گل - فرحت اشتیاق 84

’’کیا بات ہے بڑی خوش نظر آرہی ہو؟‘‘ فارینہ کے اس جملے پر ہم سب ہی نے چونک کر نمرہ کی طرف دیکھا تھا۔ بتیسی کی نمائش کرتی وہ ہمیشہ کی طرح زہر ہی لگ رہی تھی۔

’’بھئی کیوں نہ خوش ہو۔ خیر سے ہماری نمرہ کی بات جو پکی ہوگئی ہے۔ اس سنڈے کو لڑکے والے انگوٹھی پہنانے آرہے ہیں۔ لڑکا امریکہ میں سیٹل ہے۔ M.S.C کر رکھا ہے بڑی ویل آف فیملی کو بیلونگ کرتا ہے۔‘‘ سیما کی اس بات سے ہم چاروں ہی کے تن بدن میں آگ لگ گئی تھی۔ نمرہ بیگم زبردستی شرمانے کی کوشش کرتی ہوئیں اپنے دوپٹے کے پلو کو مروڑ رہی تھیں۔

’’ہمارے گروپ میں سب ہی کی نیا پار لگ گئی۔ تم لوگ کب خوش خبری سنارہی ہو۔ پوری کلاس میں صرف تم لوگوں ہی کا گروپ بچا ہے۔ جس میں سب چھڑے چھانٹ پھر رہے ہیں۔‘‘ دل تو ہمارے پہلے ہی جل رہے تھے مزید کسر عظمیٰ کے اس جملے نے پوری کردی تھی۔

’’چلو عظمیٰ! کیمسٹری کا پریکٹیکل اٹینڈ نہیں کرنا کیا۔‘‘ نمرہ نے ہمارے چہرے کے زاویوں سے شاید اندازہ لگالیا تھا کہ اب یہاں ایک عدد معرکہ چھڑنے والا ہے اس لےے پہلے ہی اپنے گروپ کو لے کر وہاں سے چل دی اور ہم چاروں شدید طیش کے عالم میں کھڑے ایک دوسرے کو گھورتے رہے۔

’’سمجھتی کیا ہے یہ عظمیٰ خود کو۔‘‘ مومو کے غصیلے انداز پر مجھے سخت تائو آیا۔

’’اس کے سامنے تو چپ منہ بند کےے کھڑی تھیں۔ کیسے وہ ہم سب کو منہ پر ذلیل کر کے چل دی اور ہم کھڑے منہ دیکھتے رہے۔ لعنت ہے ہم چاروں پر۔‘‘ میں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ فارینہ اور نگار چپ چاپ منہ لٹکائے کھڑی تھیں۔ انہوں نے ہم دونوں کی گفتگو پر کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔

’’تم دونوں کو کیا ہوا ہے۔ یہ بت بنی کیوں کھڑی ہو۔‘‘ میں نے فارینہ اور نگار کی طرف بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

’’یار وہ ٹھیک تو کہہ رہی تھی۔ پوری کلاس میں صرف ہمارا ہی گروپ وہ بدقسمت گروپ ہے جس کا کوئی بھی ممبر ابھی تک ’’شدہ‘‘نہیں ہوا۔‘‘

’’یہ ’’شدہ‘‘ سے آپ کی کیا مراد ہے وضاحت کرنا پسند فرمائیں گی۔‘‘ میں نے نگار سے سوال کیا۔

’’اوئے جاہل اردو میں سابقے لاحقے نہیںپڑھے کیا۔ شدہ سے مراد ہے منگنی ، شادی، نکاح شدہ، شادی شدہ وغیرہ وغیرہ۔‘‘ مومو نے میر عقل پر ماتم کیا تھا۔

فارینہ خاموش بیٹھی گھاس نوچ رہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا نمرہ کی منگنی کا سب سے زیادہ صدمہ اسے ہی ہوا ہے۔

’’چل میری جان! اب اتنا اداس مت ہو۔ چلو آج نمرہ کی منگنی کے غم میں ہم سب مومو کی طرف سے کولڈ ڈرنک اور سینڈوچز سے فیض یاب ہوں گے۔‘‘

اپنی بات مکمل کرتے ہی میں کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑی ہوگئی تھی جبکہ مومو بیٹھی مجھے خطرناک تیوروں سے گھور رہی تھی۔

’’کل بھی تم لوگوں کو میں نے پیپسی پلوائی تھی یہ کوئی انصاف ہے۔‘‘ مومو نے صدائے احتجاج بلند کرنے کی کوشش کی جسے ہم سب نے بے دردی سے کچل دیا۔

’’ہاں تو ہم سب میں سب سے موٹی مرغی بھی تم ہو۔ یہاں تو پاکٹ منی اتنی ملتی ہے مہینے کے پندرہ دن ہی سکون سے گزر پاتے ہیں۔ مجھے تمہارے جتنی پاکٹ منی ملتی ہوتی تو باقاعدہ اپنی دوستوں کا ماہانہ وظیفہ باندھ دیتی۔ مگر افسوس۔۔۔‘‘ فارینہ کے شرارتی انداز پر ہم سب ہی ہنس پڑے تھے سوائے مومو کے۔

کچھ دیر بعد ہم چاروں کولڈدرنک اور سینڈوچز سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اپنا ’’غم غلط‘‘ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

٭٭٭

ہم چاروں بچپن کی سہیلیاں ہیں۔ میں اور مومو تو پہلے دن اسکول بھی ایک ساتھ گئے تھے۔ یہ بات ظاہر ہے مجھے ممی نے بتائی ہے۔ ہمارا ایک ساتھ ایڈمیشن ہوا تھا۔ مومو ہمارے برابر والے گھر میں رہتی ہے۔ ممی اور آنٹی کی شروع ہی سے بہت اچھی دوستی ہے۔ مونٹیسوری میں فارینہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئی۔ وہ بھی ہمارے گھرکے قریب ہی رہا کرتی تھی۔ فرسٹ اسٹینڈرڈ میں پہنچے تو نگار سے ملاقات ہوئی۔ وہ بڑی لڑاکا اور جھگڑلو لڑکی تھی۔ شروع شروع میں ہم لوگوں کی اس کے ساتھ بہت لڑائیاں ہوئیں۔ مگر پھر پتا نہیں کیسے وہ بھی ہمارے گروپ میں شامل ہوگئی۔ وہ دن اور آج کا دن ہم چاروں کی دوستی میں کبھی کوئی دراڑ نہیں آئی۔ چھوٹی موٹی جھڑپوں سے قطع نظر ہم لوگ آپس میں کبھی نہیں لڑے۔ میٹرک کے بعد ایک ساتھ انٹر میں ایڈمیشن لیا۔ فارینہ پری میڈیکل گروپ میں نہیں آنا چاہتی تھی اس کا انٹرسٹ کامرس کی طرف تھا مگر ہم لوگوں نے مجبور کر کے زبردستی اسے بائیولوجی رکھنے پر آمادہ کیا تھا۔ تھرڈ ایئر کا امتحان دے کر ہم لوگ تازہ تازہ فورتھ ایئر میں آئے تھے۔ نمرہ لوگوں سے ہماری کبھی بھی نہیں بنتی تھی۔ ہمارے اور ان کے گروپ کے درمیان اکثر حالت جنگ رہا کرتی تھی۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ شروع ہی سے اسکول اور پھر کالج میں ہمیشہ ہر جگہ ہم لوگوں کی دادا گیری چلی تھی۔ ہمارا گروپ تو پیدا ہی لیڈر شپ کے لےے ہوا تھا اور نمرہ لوگوں نے کیونکہ شروع وقت سے ہمارا مقابلہ کرنے کی پالیسی اختیار کی تھی تو ہم کیوں پیچھے رہتے۔ بری تو وہ لوگ ویسے بھی لگا کرتی تھیں مگر آج کا ان کا طعنہ تو ہمیشہ سے زیادہ برا لگا تھا۔ انہوں نے ہماری غیرت کو للکارا تھا۔ مجھے تو خیر منگنی یا شادی کا کوئی خاص شوق نہیں تھا۔ مگر فارینہ کو منگنی کا بڑا شوق تھا۔ ہماری کلاس میں جب بھی کسی لڑکی کی انگیجمنٹ ہوتی اور وہ اگلے دن اترا اترا کر سب کو مٹھائی کھلاتی اپنی منگنی کی خوش خبری سناتی پھر رہی ہوتی اس وقت فارینہ کی رونی شکل دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔

٭٭٭

’’نمرہ! تمہیں تمہارے سسر نے رنگ پہنائی تھی۔‘‘ نگار نے بڑی سنجیدگی اور برد باری سے تصویروں پر نظریں جمائے نمرہ سے سوال کیا تھا۔ اس سنجیدگی کے پیچھے کتنی مکاری کار فرما تھی یہ ہم سب ہی جانتے تھے۔ نگار کی بات پر نمرہ کی شکل دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔

’’ارے ہاں یاد آیا تمہارے ’’وہ‘‘ تو امریکہ میں رہتے ہیں نا۔ ظاہری بات ہے پھر رنگ ساس یا سسر میں سے کوئی پہنائے گا۔‘‘ نگار نے ہم سب کے کلیجوں میں ٹھنڈ ڈالی تھی۔ نمرہ کی تقریباً روہانسی شکل ہورہی تھی۔ اس کی حالت دیکھتے ہوئے سیما میدان میں اتری۔

’’کیا ہوگیا ہے تم لوگوں کو یہ ایوب بھائی ہیں۔ نمرہ کے فیانسی۔‘‘ وہ ہمیں گھور گھور کر دیکھ رہی تھی۔

’’اوہ! آئی ایم سوری یار، ویسے یار تمہارے فیانسی تم سے اتنے بڑے لگ رہے ہیں اس لےے مس انڈر اسٹینڈنگ ہوگئی۔ تم مائنڈ مت کرنا۔‘‘ ہم سب کو اس لمحے نگار ہمیشہ سے زیادہ پیاری لگی۔ کیسا اس نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔ فارینہ نے بعد میں باقاعدہ نگار کی پیٹھ تھپتھپا کر اسے شاباشی دی تھی۔

’’اس ٹکلو سے منگنی ہونے پر اتنا اترا رہی ہے۔ لعنت ہے اس کی چوائس پر۔‘‘ فری پریڈ میں لائبریری میں بیٹھ کر مختلف فیشن میگزینز کھنگالنا ہم لوگوں کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ اس وقت اپنے اسی فیورٹ مشغلے میں منہمک ہم لوگ مختلف ماڈلز کے ناز و ادا ملاحظہ کر رہے تھے کہ فارینہ بول اٹھی اس کی سوئی ابھی تک وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

’’اگر ایسے ہی کسی کارٹون سے منگنی کرنی ہوتی تو میری اب تک درجن بھر منگنیاں ہوچکی ہوتیں۔‘‘ فارینہ کا موڈ ابھی تک خراب تھا۔ اسے عظمیٰ کا طعنہ ہم سب سے زیادہ برا لگا تھا۔

’’چھوڑو بھی اب اس بات کو۔ دنیا میں کوئی شادی اور منگنی ہی واحد مسئلہ نہیں ہے۔ نگار نے اس روز کی بات کا بدلہ لے تو لیا ہے۔ تم نے تو عظمیٰ کی بات دل پر ہی لے لی۔‘‘ میں نے فارینہ کو ٹوکا تو وہ بڑی ناراضی سے گویا ہوئی۔

’’عینا دل پر لینے کی بات نہیں ہے۔ ہم چاروں میں سے کسی نہ کسی کی فوراً انگیجمنٹ ضرور ہوجانی چاہےے۔مجھ سے نمرہ گروپ کی اتراہٹ نہیں دیکھی جاتی۔‘‘

’’انگیجمنٹ کے لےے ایک عدد بندے کی بھی ضرورت ہوتی ہے وہ بندہ کیا آسمان سے ٹپک پڑے گا۔‘‘ مومو نے اپنے حساب سے بڑے کام کی بات بتائی تھی اور اب داد طلب نظروں سے مجھے اور نگار کو دیکھ رہی تھی۔

’’تم تو چپ ہی بیٹھو۔ سوائے کھانے اور سونے کے تم بھی زندگی میں کچھ نہیںکرنا۔ خاندان میں کزنز کا جمعہ بازار لگا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ کوئی ڈھنگ کا کام کر لیں۔ ہر دوسرا بندہ تو انہیںاپنا بھائی نظر آتا ہے۔‘‘ فارینہ نے مومو کو ڈپٹا تو وہ منہ بنا کر چپ ہوگئی۔

’’پھر تو جیسے ہم چاروں کے بیچ یہ ’’مسئلہ‘‘ ایک سنگین مسئلے کی صورت اختیار کر گیا۔ فارینہ کے بقول ہمارا گروپ پڑھائی سے لے کر اسپورٹس اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں تک میں ہمیشہ صف اول میں شامل رہا ہے اب کی بار ایسا کیوں ہورہا ہے کہ ہم لوگ پوری کلاس سے پیچھے رہ گئے ہیں۔‘‘

’’فائنل ایگزامز سے پہلے ہم میں سے کسی نہ کسی کی منگنی ضرور ہوجانی چاہےے۔‘‘ فارینہ نے الٹی میٹم دیا تھا۔

کالج میں جون جولائی کی چھٹیاں ہوئیں تو ہمارا ایک دوسرے سے فون کی حد تک رابطہ رہ گیا۔ مومو اور میں تو گھر برابر ہونے کی وجہ سے روز ہی ملا کرتے تھے۔ مگر نگار اور فارینہ سے روز ملاقات نہیں ہوپاتی تھی۔ گو فارینہ اور نگار کے گھر بھی قریب ہی تھے مگر بہرحال واکنگ ڈسٹینس پر نہیں تھے ایک دوسرے سے ملنے کا زیادہ ہی دل چاہا تو سب نے میرے گھر جمع ہونے کا پروگرام بنایا۔ شام پانچ بجے ان تینوں نے گھر پر دھاوا بول دیا۔ بھیا نے جو ان تینوں کو ایک ساتھ آتے دیکھا تو جھٹ گاڑی کی چابی اٹھا کر ممی سے بولے۔

’’ممی میں عاطف کی طرف جارہا ہوں۔‘‘

’’کیا بات ہے بھیا آپ کو ہم لوگوں کا آنا اچھا نہیں لگا جو اس طرح جارہے ہیں۔‘‘ مومو برا مان کے بولی تو ممی فواً ہی بھیا کی طرف سے صفائی دینے لگیں۔

تم لوگوں کا آنا کیوں برا لگے گا۔ اس کا تو پہلے سے پروگرام طے تھا۔‘‘ بھیا نے چہرے پر سیاست دانوں کی طرح “No Comments” والے تاثرات سجائے ہوئے تھے۔ بھیا کے جانے کے بعد ہم چاروں نے مل کر اودھم مچانا شروع کیا تو ممی بھی کان پکڑ کر توبہ کرنے لگیں۔ ہم چاروں ساتھ ہوں اور شور شرابہ نہ ہو ایسا تو ممکن ہی نہیں ہے۔ شام کی چائے کے ساتھ ڈھیر سارے لوازمات ان لوگوں کو ٹھنسوانے کے بعد میں نے ممی کی حالت پر رحم کھاتے ہوئے ان لوگوں سے کہا۔

’’ایسا کرتے ہیں پارک چلے چلتے ہیں۔ موسم بھی اچھا ہورہا ہے۔ آئوٹنگ بھی ہوجائے گی۔‘‘ میری اس تجویز سے سب ہی نے اتفاق کیا تھا۔ کچھ ہی دیر میں ہم چاروں خراماں خراماں چلتی پارک پہنچ گئی تھیں۔ میں اور مومو تو آج کل بڑی پابندی کے ساتھ صبح میں واک کرنے پارک آرہے ہیں۔

’’تم دونوں اتنی صبح واک کرنے کے لےے اٹھ کیسے جاتی ہو۔ میں تو جس دن گیارہ بجے سے پہلے اٹھ جائوں تو سارا دن سر میں درد رہتا ہے۔‘‘ فارینہ نے بڑی حیرت سے مجھ سے اور مومو سے دریافت کیا تھا۔

’’جب سر پر ساس اماں کے ڈنڈے پڑیں گے تو سارا درد وغیرہ خود بخود ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ ہم دونوں کے جواب دینے سے پہلے نگار بول اٹھی تھی۔ میں اور مومو اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔

’’ارے ہمارے ایسے نصیب کہاں۔ لگتا ہے اس دنیا سے کنواری ہی رخصت ہوجائوں گی۔ ابھی تو بچی بہت چھوٹی ہے۔ یہ عمر تو کھیلنے کودنے اور پڑھنے لکھنے کی ہوتی ہے۔ اتنی سی بچی شادی جیسی بڑی ذمہ داری کی ابھی اہل ہی نہیں ہے۔‘‘ فارینہ نے اپنی دادی کے لہجے کی نقل اتاری تو ہم سب کا ہنستے ہنستے برا حال ہوگیا۔ کبھی کبھی اکلوتا ہونا بھی نقصان دہ ہوجاتا ہے ایسا ہی حال فارینہ کا تھا۔ وہ چار بھائیوں سے چھوٹی، اکلوتی بہن تھی۔ بھائیوں اور دادی وغیرہ کی نظروں میں وہ ابھی تک چھوٹی سی بچی ہی تھی۔ پچھلے ہی دنوں اس کے لےے آنے والے پروپوزل کو اس کے بڑے بھائی اور دادی نے انہیں ریمارکس کے ساتھ ریجیکٹکر دیا تھا۔ گو اس کی ماما کو اس کی شادی کی جلدی تھی۔ پاپا اس کے اس معاملے میں غیر جانبدار تھے۔ اگر جو دادی کو خبر ہوجاتی کہ بچی تو کل کی ہوتی آج شادی کروانے کے چکروں میں ہے تو کان پکڑ کر توبہ استغار پڑھتیں۔

’’تمہارا کیا دل چاہتا ہے تمہارا لائف پارٹنر کیسا ہونا چاہےے؟‘‘ نگار نے فارینہ سے پوچھا تو وہ بے ساختہ بولی۔

’’کیسا بھی ہو۔ پر ہو توسہی۔‘‘ بس نمرہ کے فیانسی کی طرح کی مخلوق نہ ہو یعنی گزارے لائق ہو۔ کوالیفائیڈ ہو اور اتنا کماتا ہو کہ میں ہر مہینے دو جوڑے لازمی بنا سکوں۔ یو نو میرا ایک ہی تو شوق ہے۔ اچھا پہننا اور اچھا لگنا۔‘‘

’’تم بتائو تمہارا آئیڈیل بندہ کیسا ہوگا۔‘‘ فارینہ نے نگار سے پوچھا تو وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی۔

’’ہینڈسم ہو، ویل آف ہو، براڈ مائنڈڈ ہو، پڑھا لکھا ہو، بھئی میری فہرست تو بہت طویل ہے۔ مگر اصل بات تو یہ ہے کہ امی پاپا جو فیصلہ کریں گے میرے لےے تو وہی قابل قبول ہوگا۔‘‘ نگار نے فرماں برداری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا۔

’’ان سے تو پوچھنا ہی بے کار ہے یہ تو سوچتی بھی اپنی ممی کے ذہن سے ہیں۔ جہاں ممی کہیں گی ہماری مومو بیگم وہیں شادی کر لیں گی۔‘‘ فارینہ نے مومو کی شان میں قصیدہ پڑھا تو وہ برا مانے بغیر بولی۔

’’یار مسئلہ یہ ہے کہ مجھے صرف انگیجمنٹ کروانے کا شوق ہے وہ بھی فرینڈز کے سامنے اترانے کے لےے اس سے زیادہ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ بس جلدی سے وہ مبارک موقع آئے جب میں پانچ چھ کلو مٹھائی بمعہ ڈائمنڈ رنگ کلاس میں پہنچوں اور نمرہ گروپ کو جا کر گلاب جامن کھلا کر یہ خبر سنائوں۔‘‘ مومو تو ایسا لگ رہا تھا تصور میں نمرہ، عظمیٰ اور سیما کو مٹھائی بھی کھلانے لگی تھی۔

’’تم بہت چپ بیٹھی ہو۔ تمہارا مسٹر رائٹ کیسا ہوگا؟‘‘ نگار نے میری طرف رخ کیا تو میں جو بڑی دیر سے چپ بیٹھی ان لوگوں کو بولتا سن رہی تھی جواباً بولی۔

’’میرے ساتھ تم لوگوں والا مسئلہ نہیں ہے۔ ایسی شادیاں تو مجھے زہر لگتی ہیں جن میں لڑکی لڑکے نے تصویر کے علاوہ ایک دوسرے کو کبھی دیکھا بھی نہ ہو۔ غیر متعلقہ افراد سارے فیصلے کرتے پھریں اور جن کی زندگی کا فیصلہ ہورہا ہے وہ خاموش تماشائی بنے سب کو دیکھتے رہیں۔ ایسے منگنی کروانے کا مجھے تو ہرگز کوئی شوق نہیں ہے۔ ساس نندیں آئیں انہوں نے پسند کر لیا۔ بات پکی ہوگئی۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ ایسی شادی میں بھی کوئی تھرل ہے۔ نہ کوئی ظالم سماج نہ دیگر مسئلے مسائل۔‘‘ اپنی اتنی پرانی دوستی میں یہ پہلا موقع تھا جب میں نے ان لوگوں کو اپنے دل کی بات بتائی تھی۔

’’یعنی یہ کہ تم پسند کی شادی کرنا چاہتی ہو۔‘‘ مومو نے تصدیق چاہی تھی۔ میں نے گردن ہلادی۔

’’میرا دل چاہتا ہے وہ بہت بولڈ ہو، بہت کانفیڈنٹ۔ وہ آئے اور آکر بڑے اعتماد کے ساتھ مجھے شادی کی آفر کرے۔ اس طرح جیسے انکار کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ اس کے ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا خوب صورت سا بکے ہو۔ میں وہ بکے قبول کرلوں۔ کیا خوب ہو اگر ویلنٹائن ڈے ہو۔‘‘ میں نے بڑی سچائی سے اپنے دل کی بات بتادی تھی۔

’’اوئے ہوئے بچی تو بڑے ہی رومینٹک قسم کے خیالات رکھتی ہے۔ چلو بھئی ہم سب مل کر دعا کرتے ہیں کہ اگلا ویلنٹائن ہماری عینا کے لےے بہت سی خوشیاں لے کر آئے۔‘‘ نگار نے دعائیہ انداز میں کہا تو ہم سب ہی ہنس پڑے تھے۔

٭٭٭

چھٹیاں ختم ہوئیں اور ہم لوگوں کی پرانی روٹین بحال ہوگئی۔ یعنی صبح اٹھنا، کالج کی تیاری، بھیا کا مجھے اور مومو کو کالج چھوڑنا۔ کالج میں وہی ہماری ہنگامہ آرائیاں اور نمرہ وغیرہ کے ساتھ جنگ و جدل۔ واپسی میں مومو کی ممی ہم لوگوں کو پک کرتیں۔ دوپہر کا کھانا کھا کر کچھ دیر سونا تو میرے لےے لازمی تھا ورنہ تو سارا دن بوجھل گزرتا تھا۔ شام میں ٹی وی دیکھنا، ممی کے ساتھ گپیں مارنا۔ پھر جب بھیا اور پاپا گھر آجاتے تو ان کا دماغ چاٹنا۔ رات کے کھانے کے بعد ڈیڑھ دو گھنٹہ اسٹڈیز کے لےے مخصوص ہوتا تھا۔ اپنی تمام تر شوخیوں، شرارتوں اور لاپروائیوں کے باوجود میں نے ممی پاپا کو پڑھائی کے معاملے میں شکایت کا موقع کبھی بھی نہیں دیا تھا بلکہ صرف میں ہی کیا ہمارا پورا ہی گروپ ہمیشہ امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوتا تھا۔

دن یونہی گزر رہے تھے۔ فائنل ایگزیمز میں صرف دو ماہ باقی تھے۔ ہم سب ہی بڑا دل لگا کر امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔ پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ فارینہ کا حکم اپنی جگہ برقرار تھا۔ اسے اس بات کا بڑا شدید دکھ تھا کہ ہم چاروں کی چاروں بغیر منگنی کے کالج سے رخصت ہوجائیں گی۔ اس روز کلاسز آف ہونے کے بعد ہم چاروں لائبریری میں بیٹھ کر Organic Chemistry کے ایک دو ٹاپکس آپس میں کلیئر کر رہے تھے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ نگار سے سمجھ رہے تھے۔ کیمسٹری اس کا فیورٹ مضمون تھا اور اتنے بور مضمون میں اس کی دلچسپی ہم لوگوں کے لےے یوں فائدہ مند تھی کہ ہماری تمام پریشانی نگار ہی حل کیا کرتی تھی۔ اس وقت بھی وہ استانی صاحبہ بنی ہم لوگوں کو ڈانٹتی سمجھا رہی تھی۔ پڑھائی کی دھن میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ گھر میں تو آج کل ہم دیر ہوجانے کا کہہ کر ہی آتے تھے اس لےے پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ واپسی میں آج کل ہم چاروں فارینہ کی گاڑی میں جایا کرتی تھیں۔ آج اس کے ڈرائیور نے چھٹی کر لی تھی اس لےے ہم سب ہی کو بس سے جانا تھا۔

’’تین بج رہے ہیں آج گھر جانے کا ارادہ نہیں ہے۔‘‘ مومو نے ہم سب کی توجہ گھڑی کی طرف دلائی تو ہم چاروں جلدی جلدی اپنا سازو سامان سمیٹ کر کھڑے ہوگئے۔ لائبریری میں اتنی دیر سے بند موسم کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہورہا تھا۔ باہر نکل کر دیکھا تو ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔

’’لو جی یہ تو بارش شروع ہوگئی۔ اب کیا بھیگتے ہوئے گھر جائیں گے۔ ایسا کرتے ہیں فون کر کے گاڑی منگوالیتے ہیں۔‘‘ مومو نے بارش کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’تم تو رہنا ہمیشہ ڈل اور بور۔۔۔۔ بے وقوف یہی تو موسم ہے انجوائے کرنے کا۔ اتنی ہلکی بوندا باندی ہو رہی ہے۔ مزا آئے گا ایسے موسم میں بھیگتے ہوئے اسٹاپ تک جائیں گے۔‘‘ فارینہ نے اسے گھَرکا۔ وہ مزید کچھ کہنے کے لےے منہ کھولنے ہی والی تھی کہ میں نے فارینہ کی حمایت میں ایک عدد بیان جاری کر دیا۔

’’صحیح تو کہہ رہی ہے فارینہ۔ویسے بھی میرے گھر میں تو اس وقت ممی کے علاوہ کوئی ہوگا نہیں۔ نگار کے ہاں بھی کوئی نہیں ہوگا۔ رہ گئیں تمہاری ممی تو انہیں تکلیف دینے سے بہتر ہے کہ ہم لوگ خود ہی چلیں۔‘‘ آخر کار مومو کو ہماری بات مانتے ہی بنی۔ نگار کو بھی یہ پروگرام پسند آیا تھا۔ باتیں کرتے ہم لوگ اسٹاپ تک پہنچ گئے اور کھڑے ہو کر اپنی مطلوبہ بس کا انتظار کرنے لگے۔ نگار اور فارینہ کو الگ بس میں جانا تھا اور مجھے اور مومو کو الگ میں۔مگر بس تھی کہ آکر نہیں دے رہی تھی۔

’’ابھی اگر یہ کوئی فلمی سین ہوتا، یا پھر کوئی ناول اور اس میں ہیروئن یوں درخت کے نیچے کھڑی اپنی بس کا انتظار کر رہی ہوتی تو فوراً ہی ایک عدد ہیرو کی انٹری ہوچکی ہوتی۔ ایک نہایت ہی قیمتی گاڑی آکر ہیروئن کے پاس رکتی وہ ایک لمحے کے لےے ڈر جاتی۔ غور سے دیکھتی تو گاڑی میں ایک نہایت ہی خوبرو بندہ بیٹھا نظر آتا۔ وہ اسے لفٹ کی پیشکش کرتا، پہلے وہ انکار کرتی مگر پھر آخر کار اس کے اصرار کے آگے ہار مان کر گاڑی میں بیٹھ جاتی۔ بس پھر وہیں سے ہیروئن کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ آتا۔ یار یہ ہم لوگوں کی زندگی میں اس طرح کا کوئی واقعہ کیوں نہیں پیش آتا۔‘‘

اس قسم کی باتیں ظاہر ہے فارینہ ہی کر سکتی تھی۔ اس کے حسرت بھرے انداز پر ہم سب ہی ہنس پڑے تھے۔

’’آپ کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تو افسوس نہیں آیا۔البتہ بس آتی مجھے دور سے نظر آرہی ہے۔ ویسے عینا اب میری سمجھ میں آیا یہ ہماری فارینہ کو آج اچانک ہی موسم انجوائے کرنے کا خیال کیوں آیا۔ چہ چہ۔ بے چاری، میری جان وہ فلمیں اور ناول ہوتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں ایساکچھ نہیں ہوتا۔ چلو۔‘‘ نگار نے فارینہ کا مذاق اڑایا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی۔ ہم دونوں انہیں خدا حافظ کر کے اب اپنی بس کا انتظار کر رہے تھے۔

’’اچھا خاصا میں فون کر رہی تھی۔ فارینہ صاحبہ کی بے وقوفانہ تھرل نے لے کر ہم سب کو مروادیا۔ بھوک الگ اتنی شدید لگ رہی ہے۔‘‘ مومو خاصا چڑ کر بولی۔ وہ تو یوں بھی بھوک کی بہت کچی تھی۔ میں ابھی اس کی بات کے جواب میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اچانک ایک گاڑی ہمارے بالکل قریب آکر رکی۔ کالج کی چھٹی ہوئے اتنی دیر ہوچکی تھی کہ اب ارد گرد بالکل سناٹا تھا۔ بارش بھی اب ہلکی ہلکی بوندا باندی سے بدل کر موسلا دھار برسات میں تبدیل ہوچکی تھی۔ تھوڑی دیر پہلے جو باتیں ہم آپس میں تھرل کے طور پر کر رہے تھے وہ جب اصل میں وقوع پذیر ہوئی تو ہم دونوں کے چھکے چھوٹ گئے۔ مومو تو تھی ہی سدا کی ڈرپوک اور بزدل، فوراً ہی میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ کر ڈر کے مارے دو چار قدم پیچھے ہٹ گئی۔

گاڑی کے شیشے نیچے کر کے وہ بے حد ہینڈسم بندہ بڑے ہی شائستہ اور مہذب لہجے میں بولا تھا۔

’’کہاں جانا ہے آپ لوگوں کو۔ آئےے میں ڈراپ کر دوں۔‘‘ ڈر تو میں بھی گئی تھی مگر اپنا ڈرنا اس کے سامنے ظاہر کےے بغیر مضبوط لہجے میں بولی۔

’’شکریہ ہم لوگ چلے جائیں گے۔‘‘

’’آپ عباد کی بہن ہیں نا۔‘‘ اس نے بھیا کانام لیا تو میں ایک دم چونک گئی۔ مومو تو باقاعدہ کانپنا شروع ہوچکی تھی۔ اسے تو ویسے بھی روڈ پر چلتا ہر دوسرا بندہ چور اچکا اور بدمعاش نظر آتا تھا۔

’’میں عباد کا دوست ہوں کامران۔ آپ کو پہچان کر ہی میں نے گاڑی روکی تھی۔‘‘ اب کے اس نے تفصیلی تعارف کروایا تو مجھے بھی ایک دم اس کی شکل جانی پہچانی سی محسوس ہوئی۔ دو چار مرتبہ اسے بھیا کے ساتھ آتے جاتے دیکھ چکی تھی۔ اب جبکہ وہ بھیا کا دوست نکل آیا تھا اور ہم لوگوں کو بیٹھنے کی آفر کر رہا تھا تو انکار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ میں نے قدم آگے بڑھایا تو مومو کی منمناتی آواز میرے کانوں میں پڑی۔

’’پاگل ہوگئی ہو۔ ایسے ہی کوئی بھی بھیا کا دوست بن کر آجائے اور تم ساتھ چل دو گی۔ مجھے تو شکل ہی سے بدمعاش لگ رہا ہے۔‘‘ اچھا خاصا ہینڈسم بندہ اس سمے ہماری مومو کو بدمعاش نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔ وہ جو مجھے آگے بڑھتا دیکھ کر ہاتھ بڑھا کر گاڑی کا دروازہ کھول چکا تھا بولا۔

’’کیا ہوا آپ رک کیوں گئیں۔ دیکھیں پلیز، مجھ ایک جگہ پہنچنے کی بہت جلدی ہے۔ وہ تو میں آپ کو دیکھ کررک گیا۔ ورنہ میں لیٹ ہورہا ہوں۔‘‘ اس نے شائستہ انداز برقرار رکھتے ہوئے ہمیں ٹوکا تو مجھ سے پہلے ہی مومو بولی۔

’’اتنی جلدی میں ہیں تو جائےے۔ ہم نے آپ کو روکا تو نہیں ہے۔‘‘ وہ پوری کی پوری میرے پیچھے یوں چھپی ہوئی تھی۔ جیسے مرغی کے بچے اپنی ماں کے پروں میں چھپتے ہیں۔ مجھے مومو کی بدتمیری پر شدید غصہ آیا۔ کیا سوچے گا وہ کہ عباد کی بہن اور اس کی فرینڈ اتنی ال مینرڈ ہیں۔

’’مومو کیا بدتمیزی ہے۔‘‘ میں نے اپنی خفت چھپاتے ہوئے اسے ٹوکا تو وہ بدستور میرے پیچھے چھپی زور سے بولی۔

’’ایسے کوئی بھی بھیا کا دوست بن کر آجائے گا اور تم یقین کرلوگی۔ پتا نہیں تمہیں کب عقل آئے گی۔ جائےے مسٹر اپنا راستہ ناپےے اور یہ مت سمجھئے گا کہ ہم آپ سے ڈر گئی ہیں۔ یہ علینا بلیک بیلٹ ہے اور میں بھی کوئی گئی گزری نہیں۔ خوامخواہ اکیلی لڑکیوں کو دیکھ کر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

اس کی آواز کی کپکپاہٹ صاف محسوس ہورہی تھی۔ میں نے مومو کی بے وقوفی پر سر پیٹتے ہوئے سامنے دیکھا تو اتنی دیر سے سنجیدہ شکل بنائے بیٹھا بندہ اب بے ساختہ مسکراتا نظر آیا۔ اس کے چہرے کی شرارتی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ کسی بات کو بہت انجوائے کیا جارہا ہے۔ میری ہائٹ کیونکہ اپنی تمام فرینڈز میں سب سے زیادہ ہے اسی لےے مومو صرف میرے کندھے تک آتی تھی اور اس وقت بھی میرے پیچھے چھپی کندھے پکڑ کر اچک کر سامنے دیکھ رہی تھی۔ میں مومو کی بدتمیزی پر شرمندگی محسوس کر رہی تھی۔

’’اچھا جی آپ لوگ نہیں جانا چاہتیں تو کوئی بات نہیں۔ میں چلتا ہوں۔ بائے۔‘‘ وہ ہم لوگوں کو ہاتھ ہلاتا چلا گیا تھا۔ دو چار منٹ بعد ہی ہماری مطلوبہ بس آگئی تھی۔ میں مومو سے شدید ناراض ہوگئی تھی۔ مجھے پتا تھا اب اس بات پر مجھے بھیا سے سخت سست سننا پڑیں گی۔ لاکھ وہ اس وقت برا مانے بغیر مسکرا رہا تھا مگر اسے مومو کی بات بری تو ضرور لگی ہوگی۔ وہ تو اخلاقاً بھیا کی وجہ سے رک گیا تھا اور مومو پاگل کہیں کی۔ اب بھیا سے ڈانٹ کھانی پڑے گی۔

گھر آکر کھانا کھانے کے بعد سونے کے لےے لیٹنے تک میں یہی سب سوچتی رہی تھی۔ مگر جب وہ دن اور پھر اگلے دو چار دن بھی خیریت سے گزر گئے تو میں نے بہت سکون کا سانس لیا۔ بھیا ویسے تو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ مگر ان کا غصہ بہت خطرناک ہوتا ہے۔ مومو کی بعد میں، میں نے خوب کھنچائی کی تھی۔ نگار اور فارینہ نے اس قصے کو بڑے مزے لے لے کر سنا تھا۔ اس واقعے کو ہفتہ دس دن گزرے ہوں گے کہ اس رات بھیا میرے کمرے میں آئے۔

’’کامران تمہیں کہاں ملا تھا؟‘‘ بھیا نے دو چار اِدھر اَدھر کی باتوں کے بعد جب یہ بات کی تو میں چونک گئی۔ ان کے چہرے پر تفصیلی نظریں دوڑائیں تو وہاں کسی ناراضی کے کوئی آثار نہ دیکھ کر سکون کا سانس لیا اور انہیں اس دن کا تمام ماجرا کہہ سنایا۔ ساری بات سن کر بھیا قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔

’’اچھا تو مومو تمہارے ساتھ تھی۔ ویسے اس قسم کی حرکتیں کر بھی صرف مومو ہی سکتی ہے۔‘‘

’’بھیا انہوں نے کیا آپ سے کوئی شکایت کی ہے؟‘‘ میں نے دریافت کیا تو وہ نفی میں سر ہلا کر بولے۔

’’نہیں بھئی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ وہ تو یونہی ذکر نکل آیا تھا۔‘‘ بھیا شب بخیر کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں بھی دوبارہ سے کتابوں میں گم ہوگئی۔ ہوں نا میں بے وقوف یہ نہیں سمجھ میں آیا کہ بھیا یہ بات پوچھ کیوں رہے تھے۔ قصہ کچھ یوں ہوا تھا کہ کامران صاحب ہماری مومو پر دل و جان سے فریفتہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے ساری بات بھیا کو بتائی۔ کیونکہ مومو کے گھر تک پہنچنے کے لےے انہیں بہر حال میری مدد درکار تھی۔ بھیا نے ساری بات مجھ سے اس لےے کنفرم کی کہ آیا میرے ساتھ مومو ہی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس روز میرے ساتھ کوئی اور فرینڈ ہو۔ یہ ساری بات تو میری سمجھ میں اس وقت آئی جب کامران آفاق کی والدہ اور بہنیں مومو کے لےے باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں۔ جیسے ہی یہ بات پتا چلی میں اچھل پڑی۔ فوراً فون کھڑکا کر یہ قصہ فارینہ اور نگار کے گوش گزار کیا گیا۔ ہم فرینڈز میں سے کسی کی زندگی میں کچھ ڈفرنٹ ہو ہی گیا تھا۔ پروپوزل کا کیا جواب دیا جاتا ہے یہ بعد کی بات تھی اور اس کا فیصلہ بڑوں کو کرنا تھا۔ مگر مومو کو چھیڑنا تو ہم لوگوں کا فرض تھا سو وہ ہم پورا کر رہے تھے۔

مومو ٹپیکل افسانوی ہیروئنز کی طرح لال گلابی اور نیلی پیلی ہورہی تھی۔ بھیا نے اپنے دوست کا مقدمہ بڑی کامیابی کے ساتھ لڑا تھا اور آخر کار آنٹی انکل نے کامران آفاق کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ کالج میں مٹھائی لے کر پہنچنے والا مومو کا سپنا سچ ہوگیا تھا۔ رسمی طور پر بات چیت طے ہوئی تھی۔ امتحانوں کے فوراً بعد مومو کی شادی کی تاریخ رکھی گئی تھی اس لےے انگیجمنٹ وغیرہ کا کوئی سلسلہ نہیں ہوا تھا۔

جس روز بات پکی ہوئی اور اگلے روز مومو مٹھائی لے کر کالج پہنچی تو مزا ہی آگیا۔ بھیا سارے راستے مومو کو چھیڑتے رہے تھے کہ اتنا خوش توکامران بھی نہیں ہے۔ اس نے تو اپنے دوستوں کو ایک کینڈی تک نہیں کھلائی اور یہاں چار پانچ کلو مٹھائی جارہی ہے۔ بات پکی تو مومو کی ہوئی تھی مگر ہم تینوں یوں خوش تھے جیسے ہماری شادی طے ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری گردنیں نیچی ہونے سے بچالی تھیں۔ نمرہ کے کارٹون سے لاکھ گنا بہتر تھا کامران۔ بھیا کے ساتھ ہی ملٹی نیشنل میں اچھی پوسٹ پر تھا اور آگے ترقی کے روشن امکانات تھے۔ نمرہ لوگوں کی جلن و حسد سے بھرپور شکلیں دیکھ کر ہم لوگوں کے کلیجوں میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی۔

آنٹی کیونکہ پرانے خیالات کی مالک تھیں اسی لےے مومو نہ تو کہیں باہر کامران سے مل سکتی تھی اور نہ ہی فون پر بات کر سکتی تھی۔ اس بے وقوف کوایسا کوئی شوق بھی نہیں تھا۔ اس کا شوق تو کالج میںمٹھائی کھلانا تھا سو وہ پورا ہوگیا تھا۔ امتحان شروع ہوئے تو ہم سب ہی بری طرح پڑھائی میں مصروف ہوگئے۔ مومو بے چاری پریشان تھی کہ اپنی شادی کی تیاری کرے یا امتحانوں کی۔ Theory کے پیپرز سے فارغ ہوئے تو بڑی حد تک ٹینشن ختم ہوگئی۔ پھر ہم سب ہی نے مل کر مومو کی تیاری میں بھرپور مدد کروائی۔

مومو کی شادی ہم لوگوں کی زندگی کا یادگار واقعہ رہے گی۔ مایوں، مہندی، شادی، ولیمہ ہم لوگوں نے ہر ہر فنکشن بھرپور انجوائے کیا۔ ہم لوگوں نے ہر دن کے لےے نئے کپڑے بنوائے تھے۔ آخر یہ ہماری لاڈلی سہیلی کی شادی تھی۔ مومو کی رخصتی پر سب سے زیادہ زور و شور سے میں روئی تھی۔ شاید اس لےے کہ بچپن ہی سے ہم دونوں اتنے قریب رہے تھے۔ ہر جگہ ساتھ جانا، ہر کام ساتھ کرنا۔ اس کی کمی سب سے زیادہ مجھے ہی محسوس ہورہی تھی۔ مگر یہ اداسی زیادہ دن برقرار نہ رہ سکی اور ہم لوگوں کو انجوائے منٹ کے لےے ایک اور واقعہ ہاتھ لگ گیا۔

فارینہ جسے ہم سب میں سے انگیجمنٹ کروانے کا سب سے زیادہ شوق تھا اس کا شوق آخر کار پورا ہو ہی گیا تھا۔ مومو ہی کی شادی کے فنکشن میں کامران بھائی کی خالہ کو فارینہ اتنی بھائی کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے لےے فارینہ کا رشتہ لے آئیں اور یوں فارینہ کی نیا پار لگی۔ شادی اس کی چھ سات مہینے بعد ہونی تھی۔

کا رزلٹ ڈکلیئر ہوا اور ہم سب ہی اچھے مارکس کے ساتھ پاس ہوگئے تو صرف میں نے اور نگار نے آگے پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ مومو تو ظاہر ہے اب پتی جی کی سیوا میں لگی تھیں اور فارینہ بھی اپنی عنقریب ہوجانے والی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔ نگار نے اپنی دلچسپی کے پیش نظر کیمسٹری ہی میں ماسٹرز کرنے کی ٹھانی تھی۔ جبکہ میں بھیا کے مشورے پر MBA کے Aptitudeٹیسٹ میںشریک ہوئی۔ ٹیسٹ کی تیاری بھی مجھے بھیا ہی نے کروائی تھی۔ IBA کے Aptitude ٹیسٹ میں کامیاب ہوجانے کا مجھے ایک فی صد بھی یقین نہیں تھا مگر یہ ناممکن کام میں نے سر انجام دے ہی لیا۔ مجھ سے زیادہ بھیا اور پاپا خوش تھے۔ انٹر میں کم پرسنٹیج آنے پر جب میرا میڈیکل میں ایڈمیشن نہیں ہوا تھا تو میں بہت ہی ناامید ہوگئی تھی اس وقت پاپا نے مجھے بہت سمجھایا تھا۔

’’چھوٹی موٹی ناکامیوں سے بد دل نہیں ہونا چاہےے۔ جو چیز ہمیں نہیں ملتی تو یہ سوچ کر صبر کرلینا چاہےے کہ یہ ہمارے لےے تھی ہی نہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ یقینا کہیں اور اس سے بھی زیادہ نوازیں گے۔‘‘ اس وقت میں نے پاپا کی باتوں کو اتنا سیریسلی نہیں لیا تھا مگر آج جب ٹیسٹ کا رزلٹ دیکھا اور وہاں اپنا نام بھی نظر آیا تو مجھے پاپا کی بات پر یقین آگیا۔ پتا نہیں ہم انسان اتنی جلدی مایوس کیوں ہوجاتے ہیں۔ بھیا کے منہ سے IBA کے قصے سن سن کر مجھے وہ کوئی خوابوں کی نگری لگنے لگی تھی۔ بھیا نے BBA اور پھر MBA وہیں سے کیا تھا۔

پہلے روز یونیورسٹی گئی اور اپنے انسٹی ٹیوٹ پہنچی تو بڑا عجیب سا لگا۔ وہ جو ان تینوں کی عادت تھی اب ان کے بغیر بالکل مزا نہیں آرہا تھا۔ پتا نہیں ان لوگوں کو شادی کی اتنی جلدی کیا تھی۔ میں نے انتہائی بوریت سے سوچا تھا۔ میرے لےے نئے سرے سے کسی سے دوستی کرنا کار دشوار تھا۔ ہمیشہ ہی سے ہم چاروں ساتھ رہے تھے ہم نے کبھی نئے دوست بنائے ہی نہیں تھے۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ نئی دوستیاں کرنے کے لےے مجھے کیا کرنا چاہےے۔ پہلا دن تو بس انٹروڈکشن ہی میں گزر گیا۔ گھر آکر اپنی پرابلم ممی سے ڈسکس کی تو وہ مجھے اطمینان دلانے لگیں کہ میں آہستہ آہستہ سیٹ ہوجائوں گی اور نئی فرینڈز بھی بن جائیں گی۔ مجھے انسٹی ٹیوٹ جاتے ایک ماہ ہو چلا تھا مگر ابھی تک بھی میری کسی سے سلام دعا سے زیادہ دوستی نہیں ہوسکی تھی۔ ممی کہتی تھیں کہ ایسا نہیں کہ وہاں اچھے لوگ نہیں ہیں بلکہ میں ہی کسی اور کو ایکسیپٹ کرنے کے لےے تیار نہیں ہوں۔ میں نئے دوست بنانا ہی نہیں چاہتی۔ شاید ممی ٹھیک ہی کہتی تھیں۔ نگار کا کوئی پیریڈ فری ہوتا تو وہ مجھ سے ملنے آجاتی۔ اسے دیکھ کر میں یوں خوش ہوتی تھی جیسے برسوں بعد ملے ہوں۔ کبھی اگر مجھے فارغ ٹائم ملتا تو میں اس کے پاس چلی جاتی تھی۔ اسے بھی میری طرح ایڈجسٹ کرنے میں مشکل ہورہی تھی مگر بہرحال وقت گزاری کے لےے اس نے دو تین لڑکیوں سے دوستی کر ہی لی تھ۔ اس روز Financial Accounting کی کلاس لے کر نکلی تو سامنے سے آتی نگار کو دیکھ کر میں بے اختیار پرمسرت انداز میں چلائی تھی۔

’’اوہ نگار شکر ہے اس سڑے ہوئے ماحول میں کوئی تو اپنا نظر آیا۔ میں سخت بور ہورہی تھی۔‘‘

میری آواز شاید کچھ زیادہ ہی بلند تھی تب ہی ہمارے پیچھے کھڑے لڑکوں کے گروپ نے بے ساختہ گردنیں گھما کر میری طرف دیکھا تھا۔ میں کیونکہ اس وقت نگار کے آنے کی خوشی میں مگن تھی اس لےے ان کو یکھنے کا نوٹس لےے بغیر اس سے بولی۔

’’یہاں ایسی ایسی چیزیں دیکھنے کو ملتی ہیں کہ بتا نہیں سکتی۔ IBA میں کیا آئے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے دنیا فتح کر لی۔‘‘ میری بات پر نگار ہنس پڑی تھی۔

’’ایسے ہی تم Critiseze مت کرو۔ دوسرے ڈیپارٹمنٹ میں جا کر دیکھو IBA والوں کی ویلیو۔ یہاں کے لڑکوں کی مارکیٹ ویلیو کا تمہیں اندازہ ہی نہیں ہے۔‘‘ ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے بڑھے اور ان لڑکوں کے گروپ کے پاس سے گزرے تو وہ لوگ ابھی تک بڑے غور سے ہمیں ہی دیکھ رہے تھے۔

’’تم بھی کہیں مجھ سے ملنے کا بہانہ کر کے اسی لےے تو نہیں آتیں۔‘‘ میں نے نگار کی نیت پر شبہ کیا تو وہ ہنس پڑی۔

’’تم سے اور توقع بھی کیا کی جاسکتی ہے۔ دوستوں کے خلوص پر شک کرو۔‘‘

’’لگتا ہے اب کی بار تمہار انمبر ہے۔ وہ بلیک شرٹ والے موصوف تمہیں بڑے غور سے دیکھ رہے تھے۔‘‘ ذرا آگے بڑھے تو میں نگار سے بولی۔

’’مجھے نہیں بلکہ وہ تمہیں دیکھ رہا تھا۔‘‘ نگار نے میری غلط فہمی دور کی تو میں بڑے ہی غم زدہ انداز میں بولی۔

’’آپ جیسی حسینہ عالم کے سامنے مشکل ہی ہے کہ کوئی مجھے گھا س ڈالے۔‘‘ ویسے اس بات میں مبالغہ آرائی تھی بھی نہیں۔ ہم لوگوں کے گروپ میں نگار سب سے زیادہ خوب صورت تھی اور جو چیز اس کی خوب صورتی میں اضافے کا باعث بنتی تھی وہ یہ تھی کہ اسے اپنی اس خوب صورتی کا بالکل بھی احساس نہیں تھا۔ دوسرے لوگ اس کی تعریفیں کرتے اسے سراہتے تھے مگر وہ خود مست ملنگ تھی جو مل گیا پہن لیا یہ اور بات کہ عام سے کپڑے بھی اس کے تن پر آکر سج جاتے تھے۔

٭٭٭

میں تنہا کب تک رہتی آخر کار مجھے بھی نئے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا ہی پڑ گیا تھا۔ مریم نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو میں نے اکیلے رہنے سے بہتر یہی سمجھا کہ اس سے دوستی کر لی جائے۔ اس کے ساتھ دوستی میں ظاہر ہے وہ بات تو کبھی پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھی جو فارینہ، مومو اور نگار کے ساتھ تھی مگر بہرحال وقت گزاری کے لےے یہ ساتھ بھی بہت غنیمت تھا۔ فورتھ سمسٹر کے ذیشان حیدر کا گروپ پورے IBA میں بڑا ہی مشہور و معروف گروپ تھا۔ ان کے گروپ کو IBA کی کریم کہا جاتا تھا۔ اکثر پروفیسرز اور اسٹوڈنٹس کے منہ سے ان کے قصے سن سن کر مجھے انہیں دیکھنے کا شدید شوق پیدا ہوگیا تھا۔ ان کے بنائے اسائنمنٹ، ان کے نوٹس، ان کے لیکچرز میں نے ان لوگوں کا ہر کسی سے اتنا ذکر سنا تھا کہ میرا دل چاہنے لگا تھا جلد از جلد ان ذہین ترین افراد کو دیکھ سکوں۔ پھر آخر کار میرا یہ شوق پورا ہو ہی گیا۔ اس روز مریم کے ساتھ ریڈنگ روم میں داخل ہوئی تو اس نے مجھے اشارے سے دکھا کر سرگوشی میں بتایا۔

’’وہ رہا ذیشان حیدر کا گروپ۔‘‘ میں نے جو سامنے دیکھا تو وہ وہی بندہ تھا جس کے بارے میں، میں نے اور نگار نے آپس میں بحث کی تھی کہ وہ ہم میں سے کسی کو دیکھ رہا تھا۔ وہ تینوں بڑی سنجیدگی سے کتابوں میں منہ دےے بیٹھے تھے۔ ان لوگوں کی شاندار پرسنالٹی دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا کہ وہ لوگ لڑکیوں میں صحیح مقبول ہیں۔ مریم کی کزن بھی فائنل سمسٹر میں تھی۔ اسی کے توسط سے مریم ان لوگوں کے بارے میں بہت سی باتیں جانتی تھی۔

’’تینوں کے تینوں بڑے پرائوڈ قسم کے ہیں۔ اپنے گروپ میں کبھی کسی چوتھے فرد کو شامل نہیں ہونے دیتے۔ اپنے اسائنمنٹ اور نوٹس کسی کو بھی نہیں دیتے۔ لڑکیوں سے دوستی کے معاملے میں تو انہیں بدتمیزی کی حد تک روڈ کہا جاسکتا ہے۔ کیونکہ تینوں ویل آف فیلمیلز سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لےے بھی لڑکیاں ان کے زیادہ ہی آگے پیچھے پھرتی ہیں مگر مجال ہے جو یہ کسی کو گھاس ڈالیں۔ خصوصاً یہ ذیشان تو بڑا ہی نک چڑھا ہے۔ ہر سمسٹر میں ٹاپ کرتا ہے اس کے ڈیڈی کا اپنا بزنس ہے۔ سارے ٹیچرز تک ان لوگوں کے گروپ سے خائف رہتے ہیں۔ سنا ہے کلاس میں یہ ٹیچرز سے مشکل سوالات کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔‘‘ مریم نے میری معلومات میں گراں قدر اضافہ کیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ بندہ واقعی ہینڈسم تھا۔ بلکہ بندہ کیا وہ تینوں ہی اچھی پرسنیلیٹیز کے مالک تھے۔ اس سے زیادہ مجھے ان لوگوں میں دلچسپی لینے کیا ضرورت تھی۔ اس روز ریڈنگ روم میں جب مریم مجھے ان لوگوں کے بارے میں بتا رہی تھی ایک لمحے کے لےے مجھے ایسا لگا جیسے اس بندے نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا ہو۔ مگر اگلے پل جب وہ دوبارہ کتاب میں غرق ہوگیا تو مجھے اپنا وہم نظر انداز کرنا پڑا۔

میں لان میں اکیلی بیٹھی سر غوری کے اسائنمنٹ کو مکمل کرنے کی کوششیں کر رہی تھی۔ مریم طبیعت کی خرابی کی وجہ سے آئی نہیں تھی اور کل اسائنمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی۔ Principles of Management کا یہ اسائنمنٹ مجھے حقیقی معنوں میں رلوا رہا تھا۔ اتنے مشکل اور پیچیدہ سوالات تھے کہ میں انہیں حل کرنے میں پاگل ہوئی جارہی تھی۔ ایک تو بھیا بھی آج کل کراچی میں نہیں تھے ورنہ انہیں سے مدد لے لیتی۔ آفس کے کام سے وہ سنگاپور گئے ہوئے تھے۔ مریم خود مجھ پر تکیہ کےے گھرمیں بیمار پڑی تھی۔

’’کیا ہوا تمہارا اسائنمنٹ ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔ ہم لوگ تو ابھی ابھی اپنا اسائنمنٹ سب منٹ کروا کر آرہے ہیں۔‘‘ اسما کی آواز پر میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ ترس کھاتی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔

’’اگر میرا فیانسی بھی یہاں تھرڈ یا فورتھ سمسٹر میں ہوتا تو میں بھی اپنا اسائنمنٹ آج کیا بلکہ کل یا پرسوں ہی سب منٹ کرواچکی ہوتی۔‘‘ ادھار رکھنا تو میں نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ کوئی مجھ پر طنز کرے یہ تو مجھے برداشت ہی نہیں تھا۔ پتا نہیں یہ نمرہ ٹائپ کی لڑکیاں مجھے ہر جگہ ہی مل کیوں جاتی ہیں۔ یہاں نمرہ لوگوں کی کمی پوری کرنے کے لےے اسما لوگوں کا گروپ موجود تھا۔ اپنے منگیتر کے اسائنمنٹس چھاپ چھاپ کر ٹیچرز کے سامنے واہ واہ کرواتی وہ اور اس کا گروپ مجھے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا۔ میری بات ظاہر ہے اسے تیر کی طرح جا کر لگی تھی۔

’’مطلب کیا ہے تمہارا، میں کیا فواد سے لے کر اسائنمنٹس اتارتی ہوں۔‘‘ وہ باقاعدہ مجھے گھورتی بڑے غصے سے بولی تھی۔

’’تمہارا جو دل چاہے مطلب سمجھو اور اب پلیز مجھے میرا کام کمپلیٹ کرنے دو۔‘‘ میں نے اس کے غصے کو خاطر میں لائے بغیر اپنی توجہ بکس اور فائل پر مرکوز کر دی تو وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ اس روز کلاسز آف ہونے کے بعد بھی میں یونیورسٹی میں رکی رہی۔ آج میں ہر قیمت پر اسائنمنٹ مکمل کرنا چاہتی تھی۔ لائبریری میں بیٹھ کر مختلف ریفرنس بک کھنگالتی میں تقریباً روہانسی ہوگئی تھی۔ مجھے مومو، فارینہ اور نگار کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ ان کے ہوتے ہوئے میں نے کب اکیلے ایسی فکریں پالی تھیں۔ ہم لوگ ہر کام مل جل کر کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ نوٹس وغیرہ بھی مل کر بناتے تھے۔ بڑے انصاف کے ساتھ کام آپس میں بانٹ لیا جاتا اور ہر ایک اپنی اپنی ذمہ داری پوری دیانت داری سے نبھاتا اور یہاں اتنے مشکل مضامین اور پڑھائی کے ساتھ میں تنہا تھی۔

دو تین گھنٹے لائبریری میں گزار کر بھی میرا مسئلہ حل نہیں ہوا تھا۔ کبھی میں ایک شیلف سے جا کر ایک بک نکالتی کبھی دوسری زیادہ وقت گھن چکر بنی کتابیں نکالتی اور رکھتی ہی رہی تھی۔ مگر افسوس میری یہ خواری بھی میرے کام نہ آئی اور میں مایوس اور دل گرفتہ گھر لوٹ آئی۔

اپنے کمرے میں بیٹھی میں اپنی فائل کے صفحات پلٹتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ مجھے اتنی مشکل پڑھائی میں گھسنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ کیا میں کسی آسان سے مضمون میںماسٹرز نہیں کر سکتی تھی۔ خود کو کوستے کوستے جو اچانک میری نظر اپنے سامنے رکھے صفحے پر پڑی تو وہ ہر گز بھی میری رائٹنگ نہیں تھی۔ میری فائل میں کسی اور کے پیپرز کا کیا کام تھا۔ میں بے اختیار چونک گئی تھی۔ وہ تو سر غوری کے اسائنمنٹ سے ملتی جلتی ہی کوئی چیز تھی۔ میں نے وہ صفحات فائل میں سے نکالے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کر ہر طرف سے دیکھا مگر ان پر کہیں بھی کسی کا نام نہیں لکھا تھا۔ باقاعدہ میری فائل میں اٹیچ کے ہوئے وہ پیپرز آخر کس نے رکھے تھے۔ کیا کسی کے پیپرز غلطی سے میری فائل میں آگئے میں نے خود سے پوچھا اور پھر آخر کار مجھے یہی بات ماننی پڑی کہ یہ کسی اور کے پیپرز شاید آج لائبریری میں کسی غلط فہمی کی بنا میری فائل میں آگئے ہیں۔ یہ تمام باتیں سوچنے کے بعد جو میں نے ذرا غور و فکر سے ان صفحات کا مطالعہ کیا تو میں مارے خوشی کے اچھل پڑی۔

سر غوری کے اسائنمنٹ کے بارے میں بڑی مہارت کے ساتھ پوائنٹس درج تھے۔ جو جو باتیں مجھے کنفیوز کر رہی تھیں وہ سب ایک ایک کر کے ان پوائنٹس کے ذریعے حل ہوتی چلی گئیں اور یہ اسائنمنٹ جس کے بارے میں میرا خیال تھا کہ میں اسے کبھی بنا ہی نہیں سکتی محض ایک گھنٹے میں مکمل ہو گیا۔ کون ہوگا وہ جینئس جس نے اتنی عمدگی سے یہ پوائنٹس تیار کےے ہوں گے۔ اگر سر اتنے ڈھنگ سے یہ باتیں لیکچر میں سمجھا دیتے تو مجھے پریشانی کس بات کی تھی۔ میرا مسئلہ تو حل ہوگیا تھا مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ یہ پیپرز در حقیقت تھے کس کے۔ جس کسی کے بھی ہوں گے وہ بے چارہ انہیں ڈھونڈتا پھر رہا ہوگا۔ اگلے روز میں نے بڑی شان سے اسائنمنٹ سب منٹ کروادیا تھا۔ اس واقعے کاذکر میں نے مریم سے نہیں کیا تھا۔

نے Pre-budget Seminar کا انعقاد کروایا تھا۔ اپنی کلاس کے دیگر افراد کی طرح میں اور مریم بھی اس میں شرکت کے لےے آڈیٹوریم پہنچے۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس سلسلے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ IBA کے اسٹوڈنٹس کی نمائندگی ذیشان حیدر نے کی تھی۔ اس کی اسپیچ شاندار تھی میں اس بندے سے اچھی خاصی مرعوب ہوگئی تھی۔ اس بندے کے انداز میں کس قدر شان بے نیازی تھی۔ بلا کا اعتماد تھا اس کے لہجے میں۔ سیمینار میں شرکت کے بعد جب ہم باہر نکلے تو میں اور مریم اسی کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔

’’ٹھیک ہی پرائوڈ ہے یہ بندہ۔ میں بھی اگر اتنی ہی جینئس ہوتی پلس یہ کہ اتنی ہی پر اعتماد اور شاندار شخصیت کی مالک ہوتی تو Proudness میں اس سے بھی دو جوتے آگے ہی ہوتی۔ میں تو کسی سے سیدھے منہ بات ہی نہ کرتی۔‘‘ میرے جملوں پر مریم ہنس پڑی تھی۔

’’یار کتنی لکی ہوگی وہ لڑکی جسے اتنا شاندار بندہ پسند کرے گا۔‘‘ میرے لہجے میں اچھا خاصا رشک بلکہ کسی حد تک حسد شامل تھا۔ اس سے پہلے کہ مریم میری بات کے جواب میں کچھ کہتی ہمارے بالکل پاس سے انتہائی تیز قدموں سے ذیشان اور اس کے دونوں دوست گزرتے ہوئے آگے بڑھے تھے۔ ایک لمحے کے لےے میں بری طرح شرمندہ ہوگئی تھی۔ پتا نہیں ان لوگوں نے ہماری باتیں سنی تھیں کہ نہیں۔

انہیں دنوں فارینہ کی شادی کا ہنگا مہ جاگا تو ہم چاروں دوستوں کو دوبارہ مل بیٹھنے کا موقع میسر آگیا۔ اس کی شادی کے چکر میں یونیورسٹی کی بھی دو تین دن کی چھٹی ہوگئی۔ ورنہ اب تک میں بالکل ریگولر جا رہی تھی۔ تین دن کی چھٹیوں کے بعد یونیورسٹی پہنچی تو پتا چلا کہ ان تین دنوں میں میرا کتنا نقصان ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر عرفان نے ایک اسائنمنٹ دیا تھا جس کی آج آخری ڈیٹ تھی۔ مجھے مریم پر شدید غصہ آیا۔ وہ کیا مجھے فون کر کے بتا نہیں سکتی تھی کہ اسائنمنٹ ملا ہے۔ میں نے اس سے شکوہ کیا تو وہ بڑے آرام سے بولی۔

’’سوری یار بس وہ میرے ذہن سے نکل گیا۔ تم ایسا کرو میرا اسائنمنٹ کاپی کرلو۔‘‘ مریم کی اس خود غرضی پر مجھے بے اختیار فارینہ وغیرہ یاد آئی تھیٰ اس کی خود غرضی اس سے پہلے بھی دو چار بار مجھے فیل ہوئی تھی مگر میں نظر انداز کر گئی تھی۔ لیکن آج مجھے انتہائی غصہ آیا تھا۔ پتا نہیں یہ لڑکیاں ایک دوسرے سے باتیں چھپا کر کس قسم کا اطمینان حاصل کرتی ہیں۔ میں اس کی آفر نظر انداز کر کے کلاس سے نکل آئی۔ ڈاکٹر عرفان جیسے سخت گیر استاد سے کسی رحم کی امید کی ہی نہیں جاسکتی تھی پھر بھی ایک کوشش کرنے میں کیا حرج ہے یہ سوچتی میں ان کے آفس میں داخل ہوئی۔ وہ اپنی رعب دار شخصیت سمیت چہرے پر خشونت بھرے تاثرات لےے بیٹھے تھے۔ ان کے سامنے ذیشان حیدر بیٹھا تھا۔ کسی اور کے سامنے ڈانٹ کھانے سے ڈر لگ رہا تھا مگر اب اندر آچکی تھی اور وہ مجھے گھور گھور کر دیکھ رہے تھے تو میں چپ چاپ تو نہیں کھڑی رہ سکتی تھی۔ میں نے بری مشکلوں سے جھجکتے اٹکتے اپنا مدعا بیان کیا ظاہر ہے یہ تو کہہ نہیں سکتی تھی کہ میری سہیلی کی شادی تھی عافیت اسی میں تھی کہ بیماری کا بہانہ کر دیا جائے۔ مگر وہ بھی ایک جلاد، بڑی بے رحمی سے گویا ہوئے۔

’’دیکھیں بی بی اصول، اصول ہوتا ہے۔ جب میں نے کہہ دیا کہ آج لاسٹ ڈیٹ ہے تو ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔‘‘ میں ان کا ٹکا سا جواب سن کر منہ لٹکائے باہر نکلی۔ اب بیٹھ کر غم منانے کا تو ٹائم ہی نہیں تھا اس لےے لائبریری میں چلی آئی۔ یہی سوچا کہ جیسا بھی بنے گا جمع کروادوں گی۔ کم سے کم نہ سے ہاں تو ہوجائے گی۔ مجھے لائبریری میںبیٹھے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا اور میں سر جھکائے کام میں مگن بیٹھی تھی۔ ایک ریفرنس بک کی ضرورت پڑی اور میں وہ لانے کے لےے اٹھ گئی۔ کتاب نکال کر واپس اپنی ٹیبل کی طرف آتے کسی سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ خود کو سنبھالتے ہوئے دیکھا تو ذیشان نظر آیا۔ غلطی دونوں میں سے کسی کی بھی نہیں تھی پھر بھی میں نے اخلاقاً سوری کہہ دیا وہ بغیر میری سوری کا جواب دےے آگے بڑھ گیا تھا غصہ تو مجھے ویسے بھی آہی رہا تھا مزید کسر اس بدتمیز نے پوری کر دی تھی۔ پتا نہیں نواب کا بچہ خود کو سمجھتا کیا ہے۔ اپنی کرسی سنبھالتے میں اسے دل ہی دل میں گالیاں دے رہی تھی۔ گالیاں دے کر فارغ ہوئی اور اپنی فائل کی طرف نظر کرم کی تو میں بے اختیار اچھل کر رہ گئی۔ میری بند فائل کے اوپر تین فل اسکیپ اسٹیپل ہوئے پیپرز رکھے ہوئے تھے۔ حسب سابق ان پیپرز میں میری ساری بیماریوں کا علاج تھا۔ میں بجائے خوش ہونے کے ڈر گئی۔ کیا کوئی جن بھوت میرے پیچھے پڑ گیا تھا۔ کون تھا جو اس طرح میری مدد کر رہا تھا۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ اس روز بھی وہ پیپرز اتفاقاً نہیں بلکہ جان بوجھ کرمیری فائل میں رکھے گئے تھے۔

بڑی دیر تک میں اپنے آپ سے بیٹھی الجھتی رہی۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگا۔ اپنی کلاس کے ہر بندے کے بارے میں سوچا مگر مجھے یہ اپنے کسی کلاس فیلو کی حرکت لگ نہیں رہی تھی۔ وہی اس دن والا انداز تھا۔ پورا اسائنمنٹ مختلف مثالوں اور خاص خاص پوائنٹس کے ذریعے واضح کیا گیا تھا۔ جو بھی تھا یہ بات تو طے شدہ تھی کہ وہ جو کوئی بھی تھا یا تھی آخر تھا میرا ہمدرد ہی۔ میں نے ان پیپرز کی مدد سے اسائنمنٹ مکمل کیا اور جمع بھی کروادیا۔ مریم نے مجھ سے سوری کرنے اور مختلف بہانے بازیاں کرنے کی کوشش کی مگر میرا دل اس کی طرف سے کھٹا ہوچکا تھا اس لےے اس کی معذرتوں کا کوئی بھی جواب دےے بغیر گھر چلی آئی۔ پتا نہیں مجھے لوگوں کو سمجھنا اور منافقت کرنا کب آئے گی۔ کیا ہوجاتا جو میں بھی مریم کی طرح منافقت کا ثبوت دیتی اور دل میں اس کے لےے کینہ رکھنے کے باوجود بظاہر اس کی معذرت قبول کر لیتی۔ گھر میں تو کوئی ایسا تھا نہیں جس سے میں اپنی یہ پرابلم شیئر کر سکتی۔

آخر کار میں نے نگار کو فون کھڑکا یا اور اسے اپنے گمنام ہمدرد کے بارے میں بتایا تو وہ میری پریشانیوں کے جواب میں بجائے پریشان ہونے کے قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔

’’لگتا ہے تجھ پر کوئی جن عاشق ہوگیا ہے۔‘‘ میں جتنا پریشان تھی وہ اتنا ہی اس بات کو انجوائے کر رہی تھی آخر جب میں ناراض ہو کر فون بند کر نے لگی تو وہ سیریس ہوئی۔

’’بھئی اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔ جو بھی کوئی ہے، ہے تو تمہارا ویل وشر۔ چلو ایسا کرتے ہیں کل میں تمہارے ڈیپارٹمنٹ آئوں گی اور ہم دونوں مل کر غور کریں گے کہ وہ ہمدرد بندہ ہے کون؟‘‘ اگلے روز نگار صبح صبح ہی ہمارے ڈیپارٹمنٹ آگئی۔ پہلے تو اس نے کسی ماہر سراغ رساں کی طرح پہلے والے پیپرز اور بعد والے پیپرز میں موجود لکھائی کا تجزیہ کیا۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں رائٹنگ ایک ہی بندے کی ہیں اور جہاں تک میرا خیال ہے یہ یقینا کسی لڑکے کی رائٹنگ ہے۔‘‘

’’بڑا کمال کیا۔ اتنی بات تو میں بھی سمجھ چکی ہوں۔‘‘ میں نے جل کر کہا تو وہ برا مانے بغیر ہنس پڑی۔ پھر اس روز نگار نے سارا دن میرے ساتھ گزارا۔ میری کلاس کے ہر ہر بندے کو برے غور و فکر سے جانچا۔ کوریڈور سے گزرتے، لان میں بیٹھے، کیفے ٹیریا میں کولڈڈرنک پیتے وہ ہر بندے کومشکوک نگاہوں سے گھورتی رہی۔ میں خاموشی سے اس کی جاسوسی ملاحظہ کر رہی تھی۔ سارا دن ساتھ گزار کر جب نگار نے کندھے اچکا کر یہ جملے کہے۔

’’سوری یار! میں ناکام ہوگئی۔ مجھے تو کوئی ایک بندہ بھی ایسا نظر نہیں آیا جو تم میں انٹرسٹڈ محسوس ہوا ہو بلکہ آئی ایم سوری ٹو سے کہ تمہیں لڑکوں کے حلقے میں کوئی اتنا خاص جانتا ہوا مجھے محسوس بھی نہیں ہوا۔‘‘ تو میرا دل چاہا کہ اس کا سر پھاڑ دوں۔ سارا دن ریسرچ تو یوں کر رہی تھی جیسے کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ کر ہی دم لے گی۔

نگار نے مدد تو کیا کرنی تھی بس یہ ہوا کہ ان محترمہ کے ہاتھ ایک ٹاپک لگ گیا تھا۔ فوراً ہی فارینہ اور مومو کے بھی گوش گزار کیا گیا۔

’’عینا پر کوئی جن عاشق ہوگیا ہے۔ جو ہے بھی بڑا نیک دل اور پڑھاکو۔‘‘ سب نے مل کر میرا اچھا خاصا ریکارڈ لگایا تھا۔ پھر ان دو واقعات پر ہی بس نہیں ہوا اس کے بعد بھی دو چارمرتبہ اسی قسم کے واقعات پیش آئے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ میں لائبریری کوئی بک ایشو کرانے جاتی اور وہ مجھے وہاں نہیں ملتی۔ واپس کلاس میں پہنچتی تو وہ کتاب میری چیئر پر رکھی ہوتی۔ ڈرنا تو خیر میں نے اب چھوڑ دیا تھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا مجھے نقصان تو ہر گز نہیں پہنچا رہا تھا۔ مگر وہ تھا کون اور آخر سامنے کیوں نہیں آرہا تھا۔ میں ان دنوں سخت الجھن کا شکار رہنے لگی تھی۔ پہلا سمسٹر ختم ہوا اور امتحانات سے فارغ ہوکر ہم لوگ سکنڈ سمسٹر میں آگئے۔

ذیشان حیدر کا گروپ یونیورسٹی سے رخصت ہوچکا تھا۔ میں نے کتنی ہی لڑکیوں کو اس کے لےے آنسو بہاتے دیکھا اور ان کی عقلوں پر ماتم بھی کیا۔ جب وہ کسی کو لفٹ نہیں دیتا تھا تو ان لڑکیوں کایہ حال تھا اگر جو وہ ذرا کسی سے بات کر لیتا تو پتا نہیں کتنی لڑکیاں اس کی جدائی میں اس دار فانی سے کوچ کرگئی ہوتیں۔

ان گزرتے دنوں میں دو دو خوشی کی خبریں آگے پیچھے سننے کو ملی تھیں۔ پہلی خبر تو یہ تھی کہ ہماری مومو خیر سے اماں جان بن گئی تھیں۔ اس کی بیٹی اسی کی طرح کیوٹ تھی اور دوسری خوشخبری یہ تھی کہ نگار کی اپنے تایا زاد کے ساتھ بات طے ہوگئی تھی۔ شادی اس کے ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد ہونا قرار پائی تھی۔ ہم سب دوستیں بہت دنوں بعد مومو کی بیٹی کو دیکھنے کے بہانے جمع ہوئے تو وہاں سب ہی کو میری فکر تھی۔ ’’یار اب عینا کے لےے کچھ نہ کچھ سوچنا ہی پڑے گا۔ مسٹر رائٹ کا تو کہیںپتا چل نہیں رہا۔ ایسا کرتے ہیں ہم ہی لوگ کوئی اچھا سا بندہ اپنی چندہ کے لےے ڈھونڈتے ہیں۔‘‘ فارینہ نے میرے لےے فکر ظاہر کی تھی۔ میں نے جواباً ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو وہ سب مجھے ڈانٹنے بیٹھ گئیں۔

’’چپ بیٹھو تم تو، گٹس خود میں کوئی ہیں نہیں اور شوق ہے پسند کی شادی کا۔ لڑکوں کو تو ایک طرف چھوڑو، اس کی تو وہاں کسی لڑکی تک سے دوستی نہیں ہے۔ ایسے کوئی نہیں تمہیں پسند کرے گا۔ بہتر ہے کہ بڑوں کا کہنا مانو۔ اب دیکھنا میں اپنی عینا کے لےے کیسا شاندار بندہ ڈھونڈتی ہوں۔‘‘ وہ سب کی سب اسی طرح کی باتیں کرتی رہی تھیں اور میں انہیں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکالتی رہی تھی۔

پتا نہیں کیا بات تھی اب مجھے میری مطلوبہ کتابیں چیئر پر رکھی نہیں ملتی تھی۔ اسائنمنٹس اور نوٹس میری فائلوں میں سے برآمد ہونا بند ہوگئے تھے۔ میں اس غیبی امداد کی بڑی حد تک عادی ہوگئی تھی ایک دم پریشان ہوگئی۔ وہ میرا نادیدہ ہمدرد اور خیر خواہ پتا نہیں ایک دم کہاں غائب ہوگیا تھا۔ میں اس سے ملنا چاہتی تھی۔ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ میری مدد کیوں کرتا ہے۔ مگر وہ تو ایسا غائب ہوا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ میر دل ایک دم ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا یہاں تک کہ پڑھائی اور کتابیں بھی مجھے زہر لگنے لگی تھیں یہ محبت کی کون سی قسم ہے میں نہیں جانتی مگر مجھے ضرور پتا ہے کہ وہ جو کوئی بھی ہے اور جیسا بھی ہے میرے لےے وہ دنیا کا سب سے پیارا انسان ہے۔ اسے میری پروا تھی۔ جو میرا خیال رکھتا تھا۔ مگر وہ ایک دم آخر چلا کہاں گیا۔

٭٭٭

میں ذیشان حیدر ہوں۔ اپنے والدین کا سب سے چھوٹا بیٹا۔ مجھ سے بڑے دونوں بھائیوں کی شادیاں ہوچکی ہیں۔ دونوں بھائی ڈیڈی کے ساتھ مل کر ہمارے بزنس کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ میری ساری ایجوکیشن پاکستان سے باہر ہوئی ہے۔ لندن میں سینئر کیمبرج کرنے کے بعد میں نے وہیں BBA میں داخلہ لے لیا۔ گریجویشن کے بعد میرا وہیں سے MBA کرنے کا پروگرام مما کو اچانک ہی میری یاد زیادہ ہی شدتوں سے آنے لگی تھی۔ مجھے ناچار پاکستان لوٹنا پڑا۔ ڈیڈی نے بھی مجھے یہی بتایا تھا کہ فی الحال مما کا دل رکھنے کی خاطر مجھے واپس آنا چاہےے۔ بعد میں سال دو سال بعد وہ مجھے دوبارہ اپنی پسند کی یونیورسٹی میں ایڈمیشن دلوادیں گے۔

کراچی آکر میں نے IBA میں ایڈمیشن لے لیا اور ساتھ ہی ساتھ ڈیڈی کے آفس بھی جانا شروع کر دیا تھا۔ تاکہ مجھے یہاں کس طرح کام کیا جاتا ہے وہ بھی سمجھ میں آجائے۔ یہاں آنے کے بعد شروع شروع میں سخت بوریت محسوس ہوتی تھی گو خاور اور اسد جو میرے فرسٹ کزنز اور بچپن کے دوست ہیں بھرپور کمپنی دےتے تھے مگر مجھے پر بھی ایڈجسٹ کرنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ انہی بور دنوں میں اچانک وہ مل گئی۔

مجھے نہیں پتا میں اس کی کس بات سے متاثر ہو کر اس کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہوا تھا مگر یہ بات طے ہے کہ وہ لڑکی مجھے پہلی نظر ہی میں دل و جان سے بھا گئی تھی۔ اس روز میں خاور کے ہاں گیا تھا۔ آنٹی سے پتا چلا کہ وہ گھر پر نہیں ہے تو میں سخت بوریت اور ڈپریشن محسوس کرتا وہیں خاور کے گھر کے قریب موجود پارک میں چلا آیا۔ یونہی بینچ پر بیٹھا میں وقت گزاری کر رہا تھا کہ کچھ ہی فاصلے پر بیٹھی بے فکری سے قہقہہ لگاتی لڑکیوں نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔ وہ لڑکیوں کا گروپ تھا۔ میں یونہی اپنی بوریت دور کرنے کے لےے ان لوگوں کی باتیں سننے لگا۔ اس کے لےے کوئی خاص کوشش بھی نہیں کرنی پڑی وہ لوگ اتنا زور زور سے بول رہی تھیں کہ میں کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر بھی ان کی گفتگو سن سکتا تھا۔ وہ سب ہی کچھ نہ کچھ بول رہی تھیں مگر ان کے درمیان ہرے کپڑوں میں ملبوس لڑکی بڑی خاموش بیٹھی تھی۔ پتا نہیں اسے دیکھ کر بے اختیار میرا دل یہ کیوںچاہ رہا تھا کہ وہ بھی کچھ بولے۔ پھر اس کی کسی دوست نے براہ راست اسے مخاطب کر کے کچھ پوچھا تو وہ اپنی اتنی دیر کی خاموشی توڑ کر بڑی ہی مدھر آواز میں انہیں اپنی پسند نا پسند سے آگاہ کرنے لگی۔ وہ اچھی خوش شکل لڑکی تھی۔ کندھوں سے نیچے آتے سلکی بال جنہیں وہ لاپروائی سے بار بار پیچھے کر رہی تھی اس کی شخصیت میں چار چاند لگا رہے تھے۔ اس کی آواز بے حد خوب صورت تھی۔ یہ بھی نہیں تھا کہ وہ میری زندگی میں آنے والی پہلی خوب صورت لڑکی تھی۔ بے شمار لڑکیاں میرے آگے پیچھے منڈلاتی ہیں۔ مگر میں نے کبھی بھی تفریحاً کسی لڑکی کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔

میں عورتوں کی عزت کرتا ہوں۔ ایسی لڑکیوں پر مجھے صرف اور صرف ترس آتا ہے جو خود کو اتنا حقیر کر دیتی ہیں اور مردوں کے آگے پیچھے پھرتی ہیں۔ خیر بات ہورہی تھی اس لڑکی کی جس کا نام تھا عینا۔ اس کی دوستوں ہی کے ذریعے مجھے اس کا نام پتا چلا تھا۔

’’میرا دل چاہتا ہے وہ بہت بولڈ ہو، بہت کانفیڈنٹ۔ وہ آئے اور آکر بڑے اعتماد کے ساتھ مجھے شادی کی آفر کرے۔ اس طرح جیسے انکار کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ اس کے ہاتھوں میں سرخ گلابوں کا خوب صورت سا بکے ہو۔ میں وہ بکے قبول کرلوں۔ کیا خوب ہو اگر ویلنٹائن ڈے ہو۔‘‘ وہ اتنے جذب اور سچائی سے بول رہی تھی کہ میں ایک ٹک اس کی طرف دیکھتا ہی رہا۔ ایک لمحے کے لےے تو میرا دل چاہا کہ ابھی اس کے سامنے جائوں اور جا کر اسے پروپوز کردوں۔ مگر پھر فوراً ہی خود کو ایسا کرنے سے روکا۔ جب تک وہ لوگ چلی نہیں گئیں میں وہیں بیٹھا رہا۔ زندگی میں پہلی بار تھا کہ مجھے کسی لڑکی نے اتنا متاثر کیا تھا۔ میںاپنی فیلنگ کو خود ہی اچھی طرح سمجھ نہیں پارہا تھا۔ اس روز گھر آکر یہاں تک کہ رات میں سونے سے پہلے بھی مجھے وقفے وقفے سے اسی کا خیال آتا رہا تو میں خود کو قصداً دوسرے کاموں میں مصروف کر کے اس کی طرف سے دھیان ہٹانے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر پھر صرف اسی دن نہیں بلکہ اس کے بعد بھی جب کئی دن گزرنے پر بھی میں اس کے خیال کو اپنے ذہن سے نکال نہیں پایا تو پہلے پہل تو خود پر ہی بہت جھلایا، غصہ کیا۔ آخر ایسا اس لڑکی میں غیر معمولی تھا ہی کیا کہ میں یوں اس کے بارے میں سوچنے بیٹھ جائوں۔ اس سے کہیں حسین لڑکیاں میرے خاندان اور فیملی فرینڈز میں موجود تھیں۔ میں تو اس کے بارے میں ڈھنگ سے کچھ جانتا تک نہیں تھا۔ وہ کون تھی؟ کہاں رہتی تھی؟ کس فیملی سے تعلق رکھتی تھی؟ اس کی عادتیں، پسند نا پسند مجھے کچھ بھی تو معلوم نہیں تھا۔

اپنا یہ عشق مجھے انتہائی احمقانہ محسوس ہورہا تھا۔ خود سے لڑتے جھگڑتے آخر کار میں نے ہار مان لی تھی اور تسلیم کر لیا تھا کہ وہ جو کوئی بھی تھی اور جیسی بھی تھی اس نے مجھے فتح کر لیا تھا۔ خود سے یہ بات تسلیم کرنے کی دیر تھی میں فوراً ہی دوبارہ پارک پہنچ گیا۔ اس امید پر کہ شاید وہ اس روز کی طرح آج بھی مجھے وہیں پارک میں مل جائے گی۔ مگر وہ مجھے کہیں نظر نہیں آئی۔ میں نے خود ہی اندازہ لگایا کہ اس کا گھر شاید پارک کے قریب ہی کہیں موجود ہوگا یہ سوچ کر احمقوں کی طرح وہاں پارک کے پاس کی تمام گلیاں چھان ماریں۔ مگر اسے نہیں ملنا تھا سو نہیں ملی۔ پھر اسی ایک دن پر موقوف نہیں میں اس کے بعد بھی اکثر شام میں آفس سے واپسی میں پارک کا ایک چکر لگاتا اس آس پر کہ آج شاید وہ نظر آجائے۔ شکر ہے خاور نے کبھی مجھے یہ بے وقوفانہ کام کرتے رنگے ہاتھوں نہیں پکڑا ورنہ وہ میرا خوب ہی مذاق اڑاتا۔ میں نے یہ بات کسی سے بھی شیئر نہیں کی تھی۔ اپنا یہ قبل مسیح کے زمانے کا عشق کسی اور سے بیان کر کے مجھے اپنا مذاق اڑوانے کا ہر گز کوئی شوق نہیں تھا۔ مجھے پہلی مرتبہ کوئی اس طرح اچھا لگا تھا اور میں نے اسے کھو دیا تھا۔ پھر جب میں اس کی تلاش میں ناکام ہو کر مایوس ہونے ہی لگا تھا کہ وہ مجھے دوبارہ مل گئی۔ میں، خاور، اسد اور سلمان کوریڈور میں کھڑے باتیں کر رہے تھے جب میں نے اپنی پشت پر ایک چہکتی، زندگی سے بھرپور آواز سنی۔ میں نے بے اختیار گردن گھما کر پیچھے دیکھا تھا اور میرا دل چاہا تھا کہ اچھل اچھل کر اپنی خوشی کا اظہار کروں۔ وہ جسے میں نے کھو دیا تھا اچانک ہی دوبارہ مل گئی تھی۔ وہ اپنی دوست کے ساتھ مگن باتیں کرتی ہوئی ہمارے پاس سے گزر گئی تھی۔

اس روز یونیورسٹی سے لوٹتے وقت میرے پاس اس کے بارے میں تمام ضروری معلومات موجود تھیں۔ اب مجھے اس کے کھوجانے کا کوئی خوف نہیں تھا۔ اس کا پورا بائیو ڈیٹا میں نے انتہائی خفیہ ذرائع سے حاصل کیا تھا اور اس بات کی بھنک اپنے جگری یاروں کو بھی نہیں پڑنے دی تھی۔ مجھے یونیورسٹی کے اس پروان چڑھنے والے عشق و عاشقی کے سلسلے کبھی بھی پسند نہیں آئے۔ اسی لےے خاموشی اختیار کےے رکھنے کو ترجیح دی۔ اس کے سامنے اپنی پسندیدگی کا اظہار کرنے کے لےے مجھے کچھ عرصہ اور صبر سے گزارنا تھا میں اپنے فائنل سمسٹر کے ختم ہوجانے کا منتظر تھا۔ یوں بھی اب اس کے کھو جانے کا کوئی خوف نہیں تھا۔ روزانہ صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لےے میں کسی نہ کسی بہانے اس کی کلاس کے پاس سے گزرا کرتاتھا۔ اسے پتا ہی نہیں ہوگا کہ کوئی اس طرح اس کے پیچھے خوار ہوتا پھر رہا ہے۔ خود سے کےے اس عہد سے کہ جب تک میں یہاں سے MBA کر کے فارغ نہیں ہوجاتا اس سے کسی قسم کا تعلق استوار نہیں کروں گا مجھے خود ہی پھر جانا پڑا۔ اس روز وہ لان میں اتنی معصوم سی شکل بنائے بیٹھی تھی کہ مجھے بے اختیار اس پر ترس آگیا۔ ہم لوگ اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھے آج کے لیکچرز ڈسکس کر رہے تھے۔

’’اگر میرا فیانسی بھی تھرڈ یا فورتھ سمسٹر میں ہوتا تو میں بھی اپنا اسائنمنٹ آج نہیں بلکہ کل یا پرسوں ہی سب مٹ کرواچکی ہوتی۔‘‘ اپنی کلاس فیلو سے وہ جل کر بولی تھی اور اس کی یہ بات سیدھی جا کر میرے دل پر لگی تھی۔ وہ پریشان تھی، مشکل میں تھی اور میں کیا اس قابل بھی نہیں تھا کہ اس کی پریشانی دور کر سکوں۔ خاور اور اسد نے دو تین مرتبہ مجھے میری عدم توجہی پر ٹوکا تو میں نے ان سے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کر کے معذرت کی اور کھڑا ہوگیا۔ میری وجہ سے وہ لوگ بھی اٹھ گئے اور گھر جانے کے لےے ہم تینوں پارکنگ کی طرف آگئے۔ گاڑی کا لاک کھولتے میں نے ایک دم سر پر ہاتھ مار کر کہا۔

’’دیکھو ذرا مجھے یاد ہی نہیں رہا، ڈاکٹر شیراز نے مجھے اپنے آفس میں بلایا تھا۔ ایسا کرو تم لوگ نکلو میں بعد میں آجائوں گا۔‘‘ ان لوگوں کو رخصت کر کے میں لائبریری چلا آیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ مصیبت کی ماری، دکھیاری خاتون یہیں پائی جاتی ہوں گی۔ نوٹس بورڈ سے اسائنمنٹ کے سوالات تو میں پہلے ہی اتار چکا تھا۔ جس کام کے لےے محترمہ کبھی ایک کتاب اٹھا رہی تھیں کبھی دوسری وہ بھی کوئی کام تھا۔ میں نے دس پندرہ منٹ میں اسائنمنٹ میں موجود تمام حل طلب باتوں کو واضح کیا۔ میں چاہتا تو پور ا کا پورا بھی حل کر سکتا تھا مگر یہ بات مجھے پسند نہیں تھی اور جو بات مجھے نا پسند ہو وہ میں کسی کے مجبور کرنے پر بھی نہیں کرتا۔ وہ اِدھر سے اَدھر لائبریری میں ماری ماری پھر رہی تھی۔ اس لےے مجھے وہ صفحات اس کی فائل کے اندر رکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ اس کے فرشتوں کو بھی اس بات کی خبر نہ ہوئی ہوگی۔ اگلے روز اس کی ہنستی مسکراتی شکل دیکھ کر میں نے سکون کا سانس لیا۔ ویسے اتنی ذرا سی بات پر اس کا یوں ٹینس ہونا مجھے اچھا نہیں لگا تھا جب بھی کبھی زندگی میں موقع آیا اور ہم ساتھ بیٹھے تو میں اسے اس بات پر ضرور ٹوکوں گا۔ ایک اسائنمنٹ کے پیچھے جو اپنا حشر کر لے اسے اگر کبھی زندگی میں کسی سنگین الجھن کا سامنا کرنا پڑے تو وہ تو پتا نہیں کیا کر ڈالے گی۔ غوری صاحب کے آفس میں اسائنمنٹ جمع کروا کر وہ بڑی خوش اور گردن اکڑائے نکل رہی تھی اور اسے خوش دیکھ کر مجھے بے حد خوشی ہوئی تھی۔ پھر اس روز سیمینار والے دن تو مجھے مزا ہی آگیا۔ آخر کار میں محترمہ کو امپریس کرنے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔ گو میں نے ایسی کوئی شعوری کوشش نہیں کی تھی۔ شاید مجھے خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا۔ مجھے کبھی بھی اس بات کی فکر نہیں ہوئی تھی کہ آیا وہ مجھے پسند کرے گی یا نہیں۔ مجھے اپنی تعریف سن کر کبھی بھی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس روز اس کے منہ سے اپنے لےے توصیفی کلمات سن کر ہوئی تھی۔

’’ٹھیک ہی تو پرائوڈ ہے یہ بندہ۔ میں بھی اگر اتنی ہی جینئس ہوتی پلس یہ کہ اتنی ہی اعتماد اور شاندار شخصیت کی مالک ہوتی تو پرائوڈنس میں اس سے دو جوتے آگے ہی ہوتی۔ میں تو کسی سے سیدھے منہ بات ہی نہ کرتی۔‘‘ دوسری بہت سی لڑکیوں کی طرح وہ بھی مجھے مغرور سمجھتی تھی۔

’’یار کتنی لکی ہوگی وہ لڑکی جسے اتنا شاندار بندہ پسند کرے گا۔‘‘ اس کے اس جملے پر میں جو خاور وغیرہ کے ساتھ اس سے چند قدم پیچھے ہی چل رہا تھا بے اختیار مسکرا دیا۔ میرا دل چاہا کہ اس سے کہوں۔

’’وہ لکی لڑکی تم ہی ہو جسے اس اتنے شاندار بندے نے پسند کیا ہے۔‘‘ مگر خود پر ضبط کرتا میں خاموشی سے اس کے پاس سے گزر گیا۔ اگلی بار وہ ڈاکٹر عرفان کے کمرے میں حسب معمول پریشان حال داخل ہوئی۔ میںجو اس کی اتنے دنوں کی غیر حاضری پر تشویش میں مبتلا ہونے لگا تھا اسے سامنے دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔ اس کے ساتھ پھر وہی پرانا مسئلہ تھا۔ پتا نہیں اس لڑکی کو بات بے بات پریشان ہونے کا اس قدر شوق کیوں ہے۔

ڈاکٹر عرفان نے ظاہر ہے اسے صاف انکار کر دیا تھا اور وہ منہ لٹکائے وہاں سے چلی گئی تھی۔ میں نے وہیں ڈاکٹر صاحب سے اسائنمنٹ کے سوالات معلوم کےے اور اٹھ آیا۔ لائبریری میں آیا تو وہ اسی روز کی طرح پریشان حال ہونق نظر آئی میں اس سے کافی فاصلے پر دوسری ٹیبل پر بیٹھ گیا اور جلدی جلدی اس کے مسائل کا حل نکالنے لگا۔ وہ جیسے ہی اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی میں بھی جلدی سے اٹھ گیا اور تیزی سے لاکر وہ صفحات اس کی فائل کے اوپر رکھ دےے۔ میں صفحات رکھ کر ہٹا ہی تھا کہ وہ ایک دم واپس آگئی۔ شکر تھا کہ اس نے مجھے یہ حرکت کرتے دیکھا نہیں تھا۔ میں جلدی سے لائبری سے باہر نکل گیا۔ اس کے ایکسپریشن میں نے دور ہی سے دیکھ لےے تھے۔ وہ آنکھوں میں حیرانی بھرے ان پیپرز کو تک رہی تھی۔ میں نے اسے حیران پریشان چھوڑ کر اپنی راہ لی تھی۔

اس روز کے بعد میں ہر وقت اس کی آنکھوں میں الجھن اور حیرانی دیکھا کرتا تھا۔ پہلے پہل تو میں نے صرف اس کی مدد کے خیال سے ایسا کیا تھا مگر اب میں صرف اس کی وہ الجھی ہوئی حیران شکل دیکھنے کے لےے کبھی اس کی فائل میں اسائنمنٹ، کبھی نوٹس اور کبھی اس کی مطلوبہ کتب رکھنے لگا۔ یہ تمام کام میں اتنی چالاکی سے کرتا تھا کہ کسی کو بھی اس کا پتا نہیں چلتا تھا۔ میں نے سوچا تھا جس روز لاسٹ پیپر دے کر فارغ ہوں گا اس دن محترمہ سے دو بدو گفتگو ہوگی۔ مگر ہوا یہ کہ ڈیڈی نے اچانک ہی مجھ سے بزنس کے کام سے ٹیکساس جانے کے لےے کہا۔ جس دن میرا آخری پیپر تھا اسی روز میری روانگی تھی۔ جانے کی افراتفری اس قدر مچی تھی کہ میں پیپر دے کر سیدھا گھر آگیا تھا اور جلدی جلدی اپنی پیکنگ میں مصروف ہوگیا تھا۔ مجھے پتا تھا میں جاتے جاتے ایک بہت ہی ضروری کام ادھورا چھوڑ کر جارہا ہوں۔ مگر کیا کرتا ڈیڈی نے سارا پروگرام اتنا اچانک بنایا تھا کہ میں کچھ کر ہی نہیں پایا تھا۔ پھر بھی جانے سے پہلے میں نے مما کے گوش گزار کر دیا تھا کہ انہیں اپنی بہو ڈھونڈنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہ کام خود ہی سر انجام دے چکا ہوں۔ ٹیکساس میں، مجھے میری توقع کے برخلاف زیادہ ہی وقت لگ گیا۔

پورا ڈیڑھ مہینہ وہاں آفس کے کاموں میں مصروف رہ کر جب میں واپس کراچی آیا تو مجھ سے زیادہ مما اس بارے میں ایکسائیٹڈ تھیں۔ وہ فوراً سے بیشتر عینا کے گھر جانا چاہتی تھیں میں نے انہیں بڑی مشکلوں سے چند دن رکنے کے لےے آمادہ کیا۔ وہ حیران تھیں کہ مجھے آخر انتظار کس چیز کا ہے۔ اب میں اپنی بھولی بھالی مما کو یہ تو نہیں بتا سکتا تھا کہ آپ کی ہونے والی بہو سے اپنی پسندیدگی کا اظہار مجھے خود کرنا ہے اور وہ بھی ویلنٹائن ڈے پر۔اٹھائیس جنوری کو میں واپس آیا تھا اور اب چودہ فروری کا انتہائی بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔

٭٭٭

لائبریری میں بیٹھ کر کل ہونے والے ٹیسٹ کی تیاری کر تی میں ہمیشہ ہی کی طرح ارد گرد سے بے نیاز بیٹھی تھی۔ میں تو شاید یونہی پڑھتی رہتی اگر جو اچانک ہی شدید قسم کی بھوک لگنی نہ شروع ہوگئی ہوتی۔ کیفے ٹیریا جانے سے بہتر میں نے یہی سمجھا کہ گھر جا کر ممی کے ہاتھ کے بنے مزے دار کھانے کھائے جائیں۔ اس لےے اپنی چیزیں سمیٹ کر اور بیگ کندھے پر ڈال کر لائبریری سے نکل آئی۔ آج یونیورسٹی میں بسنت میلہ تھا اس لےے ہمارا ڈیپارٹمنٹ تقریباً خالی ہی تھا۔ زیادہ تر اسٹوڈنٹس بسنت منانے پہنچے ہوئے تھے۔ کوریڈور میں سامنے سے آتے ذیشان حیدر کو دیکھ کر میں ایک لمحے کے لےے چونکی تھی۔ چونکی اس لےے تھی کہ وہ ہاتھوں میں بڑا خوب صورت سا بکے اٹھائے چلا آرہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں پھول دیکھ کر مجھے ایک دم یاد آیا کہ آج کیا تاریخ ہے اور تاریخ یاد آتے ہی خوامخوا میرے ہونٹوں سے ایک سرد آہ برآمد ہوئی تھی۔ میں خاموشی سے چلتی اس کے سامنے سے گزر جانا چاہتی تھی کہ اس نے مجھے آواز دے کر روک لیا۔

’’عینا!‘‘ میں ایک دم چونک کر رک گئی تھی۔ اسے میرا نام کیسے معلوم ہوا۔ میں اس کی طرح ڈیپارٹمنٹ کی کریم تو تھی نہیں کہ ہر کوئی مجھے جانتا ہو۔ وہ میری طرف مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ میںنے تو سنا تھا وہ کسی لڑکی سے بات نہیں کرتا اور خود دیکھا بھی تھا اسے مغرورانہ انداز میں چلتے پھرتے۔ پھر وہ مجھ سے کیوں مخاطب تھا۔

’’کیسی ہو عینا؟‘‘ اس سوال پر میں بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔ میری خیریت یوں دریافت کی جارہی تھی جیسے کب کے بچھڑے دوست اچانک مل گئے ہوں۔ مارے حیرانی کے میں کوئی جواب بھی نہ دے سکی۔ صرف اسے ایک ٹک دیکھے جارہی تھی۔ وہ میری حیرانی سے قطع نظر گہری مسکراہٹ سمیت مجھے دیکھ رہا تھا۔

’’میں ذیشان حیدر۔ تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ بولو قبول ہے؟‘‘ اس کے اس جملے پر میں ہونق بنی اس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ یہ ہو کیا رہا تھا میرے ساتھ میں سمجھ ہی نہیں پارہی تھی۔ وہ گلدستہ میری طرف بڑھائے اس طرح کھڑا تھا جیسے مجھے اسے قبول کرنے میں ہر گز کوئی عار نہ ہوگی۔

’’آپ کا مطلب کیا ہے اس بات کا۔‘‘ مجھے اس کی بے باکی پر ایک دم ہی شدید قسم کا غصہ آیا تھا۔ کیا میں ایسی گئی گزری تھی کہ کوئی بھی راہ چلتا مجھے شادی کی آفر کرتا پھرے۔

’’میں کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ آپ نے مجھے سمجھا کیا ہے۔‘‘ وہ جواباً قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔ اس طرح جیسے میں نے کوئی لطیفہ سنایا ہے۔

’’آپ نے تو کہا تھا کہ آپ وہ بکے قبول کر لیں گی۔ آج پتا چلا کہنے اور کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ دیکھ لیں بندہ بولڈ بھی ہے کانفیڈنٹ بھی۔ اور آج ویلنٹائن ڈے بھی ہے اب آپ خود ہی اپنی کہی بات سے مکر جائیں گی یہ تو میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔‘‘ وہ کتنی عجیب سی باتیں کر رہا تھا جس شخص سے میری کبھی سلام دعا بھی نہ ہوئی ہو وہ آئے اور آکر میری ہی کہی کسی بہت پرانی بات کا حوالہ دے تو ظاہر ہے میں ڈروںگی ہی۔

’’ڈرو نہیں میں کوئی جن بھوت نہیں ہوں۔‘‘ اس نے میری شکل سے شاید میرے ڈرنے کا پتا چلا لیا تھا اس لےے ہنس کر بولا۔

’’ویسے آج کل تمہارے اسائنمنٹ پایہ تکمیل تک کس طرح پہنچتے ہیں۔ سنا ہے کوئی جن تم پر عاشق ہوگیا تھا۔‘‘ وہ بڑے شرارتی انداز میں بولا تھا اور اچانک ہی میری اتنے دنوں کی الجھنوں کا خاتمہ بھی ہوگیا تھا۔ تو وہ گمنام ہمدرد ذیشان تھا۔ مگر تعجب کی بات یہ تھی کہ مجھے کبھی ایسا فیل کیوں نہیں ہوا کہ وہ شخص ذیشان ہے۔ کیا میں اتنی خوش قسمت تھی کہ جس شخص کے پیچھے ایک زمانہ پڑا تھا وہ میرے بارے میں سوچتا تھا۔ وہ مجھے مزید حیران ہونے کا موقع دےے بغیر بولا۔

’’کب سے ہاتھ بڑھائے کھڑا ہوں۔ اب تو اسے ایکسیپٹ کرلو۔‘‘ اور میں نے بلا تامل وہ بکے پکڑ لیا تھا۔ اپنی اس بے اختیای پر اگلے ہی پل میں سخت شرمندہ ہوئی تھی اور میرا سرخ پڑتا چہرا دیکھ کر وہ بے اختیار ہنس پڑا تھا۔ میں اس سے بہت سی باتوں کی وضاحت چاہتی تھی مگر اس وقت سوائے بے وقوفوں کی طرح شرمانے کے اور کچھ کیا ہی نہیںجارہا تھا۔

’’مجھے پتا ہے تم مجھ سے بہت سی باتیں جاننا چاہتی ہو۔ ان شائ اللہ وقت آنے پر وہ ساری باتیں کریں گے اس وقت تو میں صرف یہ پھول تمہیں دینے آیا تھا۔ آج شام میں میری مما اور ڈیڈی تمہارے گھر آئیں گے۔ اوکے بائے۔‘‘ وہ مجھے مزید کچھ کہنے کا موقع دےے بغیر جا چکا تھا اور اب ان سرخ گلابوں کو ہاتھ میں تھامے جیسے کسی اور ہی دنیا میں پہنچ گئی تھی۔ آج صبح میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ آج کا دن میری زندگی میں خوشیوں کے انمول خزانے لانے والا ہے۔ کیا واقعی بعض لمحے قبولیت کے ہوتے ہیں۔ ان میں جو مانگا جائے وہ ضرور ملتا ہے۔ میری زندگی میں بھی وہ لمحہ شاید قبولیت ہی کا تھا۔ جو کچھ میں چاہتی تھی وہ سب مجھے میرے رب نے دے دیا تھا۔ میں جیسے زمین پر نہیں چل رہی تھی بلکہ ہوائوں میں اڑ رہی تھی اپنا آپ بڑا پیارا لگ رہا تھا۔ اب کا موسم بہار واقعی میری زندگی میں بہاریں لے آیا تھا۔ مجھے گھر پہنچنے کی ایک دم جلدی تھی۔ ابھی گھر جا کر مومو، فارینہ اور نگار کو آج کا یہ اہم ترین واقعہ سنانا ہے۔ اور سب سے اہم بات شام میں آنے والے ’’مہمانوں‘‘ کے استقبال کی تیاریاں بھی تو کرنی تھیں۔

٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں