چاند نے بادل اوڑھ لیا – میمونہ خورشید علی

چاند نے بادل اوڑھ لیا - میمونہ خورشید علی 99

مجھے معلوم تھا،جاثیہ سلطان میرے ساتھ ایک دن ایسا ضرور کرے گی۔ یعنی وہ مجھے بغیر بتائے جاب چھوڑ کر چلی جائے گی۔ پھر بھی نہ جانے کیوں میں نے اسے رکھ لیا تھا۔ اس بدتمیز اور نا اہل لڑکی کو۔ جسے وقت کی ذرا بھی پروا نہیں تھی۔ مجھے اس پہ انتہائی غصہ تھا۔ اس کی دو وجوہ تھیں، ایک تو وہ بنا بتائے چلی گئی تھی۔ دوسری تنخواہ بھی زیادہ لے گئی، ایڈوانس لینا تو جیسے اس کا مشغلہ تھا۔ اگر اس نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کی انتڑیوں سے رقم وصول کرلوں گا۔ جب وہ ایک پائی بھی میری طرف نہیں چھوڑتی۔ تو میں کون سا حاتم کا پوتا تھا۔

میں اس کانمبر ملا ملا کر تنگ آگیا تھا۔ لیکن وہاں کوئی فون ریسیو ہی نہیں کرتا تھا۔ یہ لڑکی اچانک یوں ہی مجھے پریشان کر دیتی تھی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس کا اتنا عادی کیوں ہوگیا ہوں یعنی اس کے بغیر کچھ کر ہی نہیں سکتا۔

ادھر یوسف کمال، ماہنامہ زینت کا ایڈیٹر مجھ سے مسلسل کہانی کا تقاضا کےے جارہا تھا نئے سال کے لےے۔ وہ چاہتا تھا کہ میری کہانی زینت میں خاص تحریر کے طور پہ شائع ہو۔ وہ ایسی کون سی خاص تحریر تھی، جسے میں زیرِ قلم لا کر اپنے قارئین کے دلوں میں مزید محبتوں کی جگہ پاتا۔

ایسا اچھوتا موضوع کہاں سے لاتا جو تہلکہ مچا دیتا۔

گزشتہ گیارہ سال سے لکھتے ہوئے مجھے کبھی اتنا خلجان نہیں ہوا تھا جتنا اب ہورہا تھا۔ مسلسل لکھ لکھ کر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے میں ایک جیسا لکھ رہا ہوں۔ اس کے باوجود لوگ مجھے پسند کر رہے تھے۔ میں جانتا ہوں اس کی سب سے بڑی وجہ میری کہانیوں کا رومان پرورماحول تھا۔ جس میں قاری خود کو مکمل طور پر گم کر دیتا تھا اور ایک ذہنی سکون حاصل کرتا تھا۔

محبت ہر شخص کی ضرورت ہے اور ہر دور میں نئے انداز سے ہوتی ہے، لیکن بہرحال میں نے کبھی کسی لڑکی سے محبت نہیں کی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میری کم ہمتی تھی۔ بنیادی طور پہ میں ایک بزدل اور وہمی شخص ہوں۔ میں نے کسی لڑکی سے باضابطہ محبت نہیں کی، کالج کے زمانے میں مجھے بہت سی لڑکیاں اچھی لگتی تھیں۔ میں چپکے چپکے انہیں دیکھا کرتا اور پھر اکیلے میں بیٹھ کر ان کے بارے میں سوچتا اور پھر گھنٹوں سوچتا رہتا۔

لطف کی بات یہ تھی کہ میری کم گوئی اور الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے اکثر لڑکیاں مجھ پہ بے پناہ اعتماد کرتی تھیں اور اکثر اپنے چاہنے والوں کے قصے، خاص کر ان کی بے وفائیاں آکر مجھے سنایا کرتیں اور پھر ہلکی ہوجاتیں۔ میں ان سب لڑکیوں کے لےے سفارت خانے کی ایک کتاب کی مانند تھا۔ جس میں سفیر آتے اور اپنے تاثرات قلم بند کرتے اور چلے جاتے۔

کبھی کسی سفیر نے پلٹ کر یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ یہ کتاب محبت کی کہانیوں سے لبریز ہوگئی ہے۔

میں ہر اس لڑکی سے محبت کرنے لگتا تھا، جواپنا حالِ دل مجھ سے بیان کر کے جاچکی ہوتی۔ لیکن میں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔ میں بتا چکا ہوں کہ میں واقعی بزدل شخص تھا۔ جو بڑھتے ہوئے بھی ڈرتا تھا اور دوسرے کو بڑھتا دیکھ کر بھی۔

میری محبت کی حد صرف یہ تھی کہ میں ان رنگ برنگی تتلیوں کے خیالوں میں رہتا۔ رات کو سوتا تو ان سے ہم کلام ہوتا۔ حالِ دل بیان کرتا اور پھر اس طرح ہماری بے شمار ملاقاتیں ہوجایا کرتیں۔

میں خیالوں ہی خیالوں میں اپنے محبوب کے ساتھ دنیا جہان گھوم آتا۔ مجھے اس کھیل میں بہت مزا آتا تھا۔

وہ لڑکیاں جو مجھے کالج میں گھاس نہیں ڈالتی تھیں اور جو مجھے اپنی نخوت، تکبر اور سب سے بڑھ کر حسن کی وجہ سے اچھی لگتی تھیں میرا خیالوں میں زیادہ وقت ان ہی کے ساتھ گزرتا۔

میری ایک کلاس فیلو تھی نیہاں۔ بے پناہ ذہین، حاضر جواب اور ملکوتی حسن کی مالک۔ بڑے بڑے پھنُے خاں اس کے سامنے دم دبا کر چلتے تھے۔ لیکن پتا نہیں کیا وجہ تھی اچانک نیہاں کی توجہ مجھ پہ ہوئی تو ایسی ہوئی کہ وہ ہمہ وقت میرے ساتھ نظر آنے لگی۔

میں اس کی رفاقت میں اپنے آپ کو بہت دبا دبا محسوس کرتا حالانکہ نیہاں کا رویُہ میرے ساتھ بہت مخلص اور دوستانہ تھا۔ لیکن مجھے ان لڑکوں سے ڈر لگتا تھا جو نیہاں کے پرستار تھے اور جو ہمیں ساتھ دیکھ کر حسد کا برملا اظہار کرتے تھے۔ میں نے محسوس کیا نیہاں کو خاطر خواہ ان باتوں سے دلچسپی نہیں تھی جبکہ میری راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔

میں نیہاں سے کترایا کترایا رہنے لگا۔ میں جتنا اس سے دور بھاگتا تھا، وہ میرے اتنے ہی قریب آتی تھی مجھے اس کی قربت سے وحشت ہونے لگی۔ یہ میرے اندر کا احساسِ کمتری اور بزدلی تھی وگرنہ ہمارے مابین واضح طور پہ کسی نے آنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ کالج کا آخری سال تھا، تب نیہاں نے مجھے اپنے والد صاحب سے ملوایا۔

نہ جانے اس نے میرے متعلق کیا کہا تھا کہ وہ بڑے پرتپاک انداز میں مجھ سے ملے۔ وہ میرے مستقبل کے بارے میں مجھ سے بات چیت کر رہے تھے۔ میری ذات کے متعلق پوچھا اور بھی بہت ساری باتیں۔ میں بڑے لڑکھڑائے سے انداز میں انہیں جواب دے رہا تھا ایک تو وجہ یہ تھی کہ میں اس قسم کے تجربے سے پہلی بار گزر رہا تھا۔ اور دوسری وجہ اس کے باپ کا عالی شان گھر، قیمتی گاڑی، پرسنالٹی اور گفتگو کا انداز۔ میرا متاثر ہونا فطری تھا۔

انہوں نے مجھ سے بہت ساری باتیں کیں اور مجھے موقع دیا کہ میں بولوں، میں بولا ضرور تھا لیکن بڑا واجبی سا۔

میری اس ہچکچاہٹ کو وہ کیا معنی دیتے، میں نے ان کا یہ تذبذب بھی محسوس کر لیا تھا۔ پتا نہیں کیوں مجھے ان کے گھر میں سخت گھٹن محسوس ہورہی تھی حالانکہ سردیوں کا موسم تھا اور وہ ایک خوب صورت شام تھی لیکن پھر بھی میں یہ چاہتا تھا جلد از جلد اس امیر آدمی کے چنگل سے آزادہوجائوں۔ ہمارے درمیان بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔

نیہاں ہمارے درمیان موجود نہیں تھی۔ لیکن اس گفتگو کا کوئی حاصل نہیں تھا کیونکہ وہ بات کرنے کے لےے سوال پہ سوال کر رہے تھے اور میں صرف جواب دے رہا تھا۔

مجھے یاد ہے انہوں نے آخری سوال مجھ سے یہ کیا تھا۔

’’کیا تم نیہاں کو پسند کرتے ہو؟‘‘

’’جی ہاں۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے اسے اپنانا چاہتے ہو۔‘‘

’’جی نہیں۔‘‘ میں نے گھبراتے ہوئے فوراً انکار کر دیا۔

مجھے یہ خوف تھا، یہ امیر آدمی مجھے بری طرح لعن طعن کر دے گا اور انکار کر کے گھر سے نکال دے گا۔ سو میں نے پہلے ہی انکار کر دیا۔ شاید اس وقت مجھے اپنی عزت نفس زیادہ عزیز تھی۔ اس شخص نے میرا چہرہ دیکھا پھر سوچ کر بولے۔

’’اب تم جا سکتے ہو۔‘‘

میں تو پہلے ہی یہاں سے نکل کر بھاگ جانا چاہتا تھا۔ ان کے کہنے کی دیر تھی اور میں ایسے نکلا کہ اگر پیچھے مڑ کر بھی دیکھا تو پتھر کا ہوجائوں گا۔

گھر آکر میں یہی سوچتا رہا کہ میں نے ایسا کیوں کیا، اگر مجھے ایسا ہی کرنا تھا تو میں نیہاں کے ساتھ گیا ہی کیوں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ میں اس سے بے پناہ محبت کرتا تھا لیکن یہ کیسی کمزور سی محبت تھی جس کا اظہار میرے لےے ناممکن تھا۔

میں اپنے آپ کو بہت دیر تک لعن طعن کرتا رہا اور اس طرح کئی دن گزر گئے۔ لیکن نیہاں کا خیال میرے دل سے نہیں نکلا بلکہ وہ مزید حواسوںپہ چھاتی گئی۔

میں چاہتا تو اس سے مل سکتا تھا۔ لیکن وہی بات۔ قبل از وقت اپنی ہتک کا احساس اور کمزور قوت ارادی کی بدولت میں یہ قدم بھی نہیں اٹھا سکا۔ وہ یونیورسٹی کا آخری دن تھا۔

تب مجھے اپنے کلاس فیلو سے معلوم ہوا کہ نیہاں احمد نے ایک معذور شخص سے شادی کرلی ہے۔ یہ میرے لےے بم کا دھماکا تھا۔ میں لرز کر رہ گیا کلاس فیلوز کے درمیان چہ مگوئیاں ہورہی تھیں۔

لڑکے لڑکیاں طرح طرح کی باتیں بنا رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا جس سے نیہاں نے شادی کی ہے وہ دونوں ٹانگوں سے مفلوج ہے۔ شکل بھی واجبی سی ہے۔

مگر اس نے ایسا کیوں کیا۔ شاید وہ جس سے محبت کرتی تھی۔ اس کی بے وفائی سے دلبرداشتہ ہو کر اس نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

طرح طرح کی باتیں سن کر میرے اعصاب شل ہوگئے تھے۔

اور میں بارہا اپنے آپ سے پوچھ رہا تھا کیا میں نے واقعی نیہاں سے بے وفائی کی ہے۔ میں نے تو کبھی اس سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا۔ پھر بے وفائی کیسی۔ پھر سنا تو نیہاں احمد اپنے اپاہج شوہر کے ساتھ بے حد خوش ہے یقینا وہ کوئی امیر ترین آدمی ہوگا۔ میں نے خود کو مطمئن کرنا چاہا لیکن بہرحال مجھے نیہاں سے ملنے کا تجسُس بہت تھا۔

حیرت کی بات تھی اس تجسُس کے پیچھے میں اس کے گھر تک چلا گیا۔

وہ مجھے دیکھ کر حیران ہوئی اور مسکرا کر بولی۔

’’شادی کی مبارک باد دینے آئے ہو۔ یا شکایت کرنے کہ میں نے تمہیں اپنی شادی میں کیوں نہیں بلایا؟‘‘

میں اس کی بات سے گھبرا گیا ۔

’’میں یہ پوچھنے آیا ہوں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ وہ قہقہہ مار کر طنزیہ ہنسی۔

’’ہم اتنا عرصہ ساتھ رہے۔ تم، آپ سے تم پہ نہیں آسکے۔ آج اتنا ذاتی سوال عجیب سا لگ رہا ہے۔‘‘

’’تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہےے تھا۔‘‘ میں اس کی بات کاٹ کر تیزی سے بولا۔

’’میں نے تو تم سے نہیں پوچھا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘ وہ مجھ سے زیادہ تیزی سے بولی۔

میں خاموش ہوگیا۔ پھر توقف سے بولا۔

’’مگر تم کسی سے بھی شادی کر سکتی تھیں۔ میرے جیسے ادھورا شخص تمہیں کیا خوشیاں دے سکتا تھا۔ میں تو صرف اس لےے آگے نہیں بڑھا تھا۔‘‘

میرے جواز پہ وہ تلخی سے ہنس پڑی۔

’’جو شخص بظاہر ادھورا نظر آتا ہے۔ وہ مجھے بے پناہ خوش رکھ سکتا ہے۔ حالانکہ اس کا کامپلیکس تو سب پہ واضح ہے اور اس کی شخصیت کے ساتھ رہتا ہے کیا تم بابر سے بھی زیادہ معذور تھے۔‘‘ میں پھر لاجواب ہوگیا۔

’’اسید صاحب۔ انسان میں اعتماد اور حوصلہ ہو تو اس کی ذات کا ادھورا پن کبھی آگے نہیں آتا۔ مجھے خوشی ہے کہ میں ایسے شخص کے ساتھ مطمئن زندگی گزار رہی ہوں۔ جو ادھورا ہو کر بھی مجھے مکمل محبت اور تحفظ سے نواز رہا ہے۔‘‘

نہ جانے اس نے مجھ سے کتنی امیدیں وابستہ کر لی تھیں۔

اگر میں یہ احساس اپنے اندر جگالیتا۔ تو وہ آج اپنے آپ سے یوں انتقام نہ لے رہی ہوتی۔

میں نیہاں سے معافی مانگنے کے لےے بہت ساری لفظ استعمال کرنا چاہتا تھا، لیکن ہر لفظ اس کی دل شکنی کے آگے حقیر تھا۔ میں ندامت و شرمندگی کے ساتھ ساتھ ضمیر کے بوجھ تلے بھی دب گیا۔ میرے پاس اسے مطمئن کرنے یا اپنی صفائی کے لےے کوئی لفظ نہیں تھا۔

میں گھر چلا آیا۔

بے چین، مضطرب۔ اور پھر بہت سارے دن گزر گئے۔

اور تب میں نے اپنے احساسات کو قلم بند کیا۔

ایسا بہت کچھ جو میں نیہاں سے کہنا چاہتا تھا۔ میں لکھتا چلا گیا۔

لکھنے کے بعد مجھے یک گو نہ سکون کا احساس ہوا اور پھر میں روز ایسا ہی کرتا۔ مجھے نہیں معلوم کس طرح میری وہ تحریر جامع کہانی کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کہانی کا انجام اتنا تکلیف دہ تھا کہ میں نے کئی بار اس کہانی کا انجام لکھا، اس طرح جیسے کوئی اپنے آپ کو بار بار پھانسی دے رہا ہو۔ سرمد، جو میرا بچپن کا دوست تھا اکثر دیکھا کرتا تھا۔ میں فارغ وقت میں کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ہوں۔

اسے شک تھا کہ شاید میں شاعری کرتا ہوں کیونکہ مجھے شاعری سے بے حد شغف تھا۔ اور میں اکثر مشاعروں میں جاتا رہتا تھا۔

ایک روز اس کے ہاتھ میرا کاغذوں کا پلندہ لگ گیا وہ میری نثری تحریریں پڑھ کر دنگ رہ گیا اور اس نے مجھ سے کہاکہ مجھے اپنی تحریریں چھپوانی چاہےے۔ میں نے کبھی اس بارے میں سوچا نہیں تھا۔ یہ تو میر اکتھارسس تھا۔ لیکن وہ بضد تھا کہ وہ چھپوا کر رہے گا۔ میری بزدلی یہاں بھی سر اٹھائے کھڑی تھی۔ لیکن سرمد کی ہٹ دھرمی تھی کہ وہ مجھ سے پلندہ چھین کر لے گیا۔

اس کے چچا، یوسف کمال ماہنامہ زینت کے مدیر اعلا اور ہفت روزہ نوائے گردش کے ایڈیٹر تھے۔

اس نے وہ کاغذ کا پلندہ انہیں جا تھمایا۔ انہوں نے وہ تحریر اپنے پاس رکھ لی۔ کچھ عرصہ کے بعد سرمد زینت کا پرچہ لے کر آیا۔ میری پہلی تحریر اس میں شائع ہوئی تھی۔

مجھے اپنی کامیابی دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن مجھ سے کہیں زیادہ خوش سرمد تھا۔ مجھے اپنی تحریر کے شائع ہونے کی سب سے زیادہ خوشی یہ تھی کہ جب نیہاں یہ تحریر پڑھے گی تو اس کا دل میری طرف سے صاف ہوجائے گا اور پھر۔۔۔ میں نے اسی پس منظر میں کتنی بہت ساری کہانیاں لکھ ڈالیں۔

صرف یہی پلاٹ تھا۔ لیکن مختلف طریقوں سے میں نے اس پہ بے شمار کہانیاں لکھ ڈالیں۔ اور وہ سب لوگوں نے بہت پسند کیں۔

اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ مجھے دوسرے رسالوں کی طرف سے بھی آفرز آنے لگیں۔ میں انگلش میں ایم اے کر چکا تھا۔ اور انگلش لٹریچر سے مجھے خاص لگائو تھا۔ انگریزی ناول اکثر میرے زیرِ مطالعہ رہتے تھے انگلش کی ایسی بہت سی تحریریں جنہیں میں چاہتا تھا لوگ پڑھیں میں نے ان تحریروں کو اردو میں ترجمہ و تلخیص کے ساتھ منتقل کیا۔ وہ چھپنے لگیں۔ جو تین رسائل اور تھے جن میں، میں کبھی کبھار لکھ لیا کرتا لیکن جب سے میں نے ’’سرشت‘‘ میں قسط وار کہانی لکھنا شروع کی تھی تب سے مجھے ایک مددگار کی ضرورت پڑ گئی تھی۔

جاثیہ سلطان سے پہلے میرے ساتھ ایک لڑکی بھی کام کر چکی تھی۔ جس کا نام ناز تھا۔ جو میری تحریروں کی بذات خود دلدادہ اور شوقین تھی۔ میں جس طرح بولتا تھا وہ فر فر لکھتی جاتی تھی۔ کبھی اس نے کوئی نقطہ اعتراض نہیں اٹھایا۔ کبھی میرے جملوں پہ تنقید نہیں کی۔ نہ ہی اسے فالتو بولنے کی عادت تھی اور نہ فالتو کھانے کی۔

جبکہ جاثیہ میں یہ دونوں خصوصیات بدرجہ اتم موجود تھیں۔ اس کے باوجود میں یہ کہوں گا جاثیہ، ناز سے زیادہ ذہین اور زیرک تھی، میں یہ تعریف اس کے منہ پہ نہیں کر سکتا اور نہ ہی کبھی کروں گا مجھے معلوم ہے جیسے ہی میں نے اسے توصیفی جملوں سے نوازا وہ کھٹ سے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کر دے گی۔ اس کی سب سے بری عادت یہی تھی کہ وہ بات بے بات پیسے بڑھواتی تھی۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس کی ایسی کون سی ضروریات تھیں جو اسے ایسا کرنے پہ مجبور کرتی تھیں شاید اس کی سترہ سہیلیاں۔ جنہیں بھگتانا وہ اپنا شرعی حق سمجھتی تھی، میں سمجھتا ہوں انسان کو حقوق و فرائض میں اتنا آگے بھی نہیں نکلنا چاہےے۔ وہ اپنی سہیلیوں کو اپنا قیمتی اثاثہ سمجھتی تھی اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ نوکری بھی اسی بات کا نتیجہ ہے۔

ہاں تو بات ہورہی تھی کسی ایسی تحریر کی جسے میں لکھ کر اپنی شہرت و محبت میں مزید اضافہ کر سکوں۔ میں کسی نئے کردار اور پلاٹ کی تلاش میں تھا۔ اب کی بار مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ خلجان کچھ نہ کچھ کر کے چھوڑے گا کیونکہ اب مجھے اپنی کہانیوں کا رومان خود بھی گھسا پٹا لگ رہا تھا غصہ تھا تو صرف اس وقت جاثیہ پہ۔ بلاشبہ وہ اس مسئلے کا حل بخوبی نکال سکتی تھی۔ اب وہ نہیں تھی۔ تو میں سخت پریشان تھا اور اس کو کوس رہا تھا جب میں نے اسے ایک ذہین ترین خاتون سمجھ کر اس پہ انحصار کرنا شروع کر دیا تھا۔

ناز کے چلے جانے کے بعد میں نے جب اخبار میں اشتہار دیا تو پہلی امیدوار یہی محترمہ آئی تھیں۔

’’یقینا آپ نے اشتہار تو پڑھ لیا ہوگا۔‘‘ میں نے سلسلہ کلام شروع کیا۔

’’جی ہاں۔ کیوں نہیں۔ اشتہار پڑھا ہے تو یہاں تک آئی ہوں۔ آپ کو ایک عدد شستہ اردو جاننے اور لکھنے والے کی ضرورت ہے۔ جو مہارت سے آپ کے بولے ہوئے لفظوں کو قلم بند کرتا رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لکھائی خوب صورت اور اسپیڈ اچھی ہو۔ روزانہ چار گھنٹے ماہانہ تنخواہ دو ہزار۔‘‘

اس نے فر فر اشتہار سنا دیا

’’آپ کی تعلیمی قابلیت کیا ہے؟‘‘ میں نے پہلا سوال کیا۔

’’آپ کے اشتہار میں تعلیمی قابلیت کی ڈیمانڈ نہیں تھی، میٹرک یا ایف اے کے امیدوار بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ شرط صرف املا اور لکھائی کا درست ہونا ہے۔ بہرحال میں نے حال ہی میں ماشائ اللہ بی اے کا امتحان دیا ہے اور ابھی رزلٹ نہیں آیا ہے۔

میں بہت زیادہ ذہین تو نہیں ہوں۔ لیکن میرے لکھنے کی رفتار ہمیشہ ایسی رہی کہ کبھی بھی کسی ایگزامنر نے مجھ سے پرچہ نہیں چھینا۔ میں پانچ دس منٹ پہلے ہی پرچہ دے کر اٹھ جاتی تھی۔ آپ چاہیں تو میرا ٹیسٹ لے سکتے ہیں۔ یقینا آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ بے شک یہ میری پہلی نوکری ہے اس سے پہلے میں بچوں کو ٹیوشن پڑھایا کرتی تھی۔

لیکن بچوں کے والدین انتہائی کنجوس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں وہ صرف بچے پیدا کرنے میں فراخ دل ہوسکتے ہیں۔ باقی معاملات میں انتہائی محتاط اور کنجوس اور دور اندیش۔‘‘

(لاحول ولا) میںنے دل ہی دل میں استغفار پڑھی ۔

’’میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والدین بخوبی میرا خرچ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اضافی خرچ برداشت کرنے کی ان میں ہمت نہیں۔ اس لےے مجھے اِدھر اَدھر دیکھنا پڑتا ہے آپ کا کام معقول لگا تو چلی آئی لیکن آج کل دو ہزار میں ہوتا ہی کیا ہے مگر نہ ہونے سے بہت بہتر ہے۔ پھر ہر کام میں ترقی کے چانسز بھی تو ہوتے ہیں۔‘‘

(سبحان اللہ نوکری ملی نہیں، تنخواہ کے بڑھنے پہ نظر ہے)

وہ خاموش ہوئی تو اسے میری خاموشی کا احساس ہوا۔

’’آپ بولتی بہت زیادہ ہیں۔‘‘

وہ ہنس پڑی۔ ’’بولنا عورت کی پیدائشی مجبوری ہے لیکن آپ پریشان نہ ہوں۔ جب میں مصروف ہوجاتی ہوں تو میری توجہ صرف کام کی طرف ہوتی ہے پھر میں بولتی نہیں۔‘‘

یہ بات تو مجھے بعد میں پتا چلی کہ اسے چاہے کتنا ہی مصروف کر لیا جائے اس کی زبان بند نہیں ہوتی۔

’’ٹھیک ہے آپ ٹیسٹ دے دیں۔‘‘

اس کے بعد میں نے اس سے چند پیراگراف لکھوائے اس نے بہت تیزی سے لکھا۔ اس کی لکھائی واقعی خوب صورت تھی بلکہ مجھ سے بھی کہیں زیادہ۔

’’سمجھئے آپ کی جاب پکی ہے۔ کل سے آپ کو آنا ہوگا، لیکن میرے کام کی ایک شرط ہے کہ آپ چھٹی نہیں کریں گی۔ اگر مجبوری ہوجائے تو آپ کو قبل از وقت مجھے اطلاع کرنا ہوگی۔ یاد رکھےے گا آپ کے اچانک غائب ہوجانے سے میرے کام کا بہت حرج ہوگا۔‘‘

’’اوکے سر!‘‘ وہ خوش ہوگئی اور چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد مجھے خیال آیا کہ میں نے اس کا نام تک نہیں پوچھا تھا۔ وہ بولتی ہی اتنا زیادہ تھی کہ مجھے بولنے کا موقع ہی نہیں ملا۔

اگلے روز وہ وقت پہ آگئی۔

’’کل آپ نے اپنا نام نہیں بتایا۔‘‘

’’آپ نے پوچھا بھی نہیں تھا لیکن بہرحال مجھے جاثیہ سلطان کہتے ہیں، کہنے کو تو مجھے اور بھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ اماں کی اعلا ظرفی کہ وہ مجھے صرف چیل کہنے پہ ہی اکتفا کرتی ہیں۔‘‘

’’چیل۔‘‘ میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔

’’اماں کا خیال ہے کہ میں ان کی اولاد نہیں ہوں۔ آج سے بائیس سال پہلے ایک چیل اپنا انڈہ ہمارے گھرکی چھت پہ رکھ گئی تھی۔ میں اسی انڈے کی پیداوار ہوں۔ مجھے اپنی پیدائش کا یہ مرحلہ بہت اچھا لگتا ہے۔

آپ سوچ تو رہے ہوں گے کہ مجھے چیل کیوں کہا جاتا ہے۔ بات تو ہماری اندرونی ہے لیکن اب آپ سے کیا پردہ، بچپن میں ہم اپنے دادا کے ہاں رہتے تھے یعنی تایا، چچا، بہت بڑی فیملی تھی سب کے پانچ پانچ چھ چھ بچے تھے۔ صرف میں ہی اپنے والدین کی ایک اولاد تھی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کی بدولت سب اکٹھے رہا کرتے تھے۔ گھر کے سب افراد جب ایک وقت میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تو ہمیشہ میری حق تلفی ہوجاتی تھی۔ پھرمیں نے ان سب کے درمیان چھین جھپٹ کر کے کھانا سیکھ لیا۔ میری اس اضافی خوبی کو اماں کبھی نہیں سراہتیں کہتی ہیں۔ نہ جانے میں نامراد کس پہ چلی گئی۔ حالانکہ مجھے کہیں بھی جانے کا شوق نہیں۔ جہاں بھی جاتی ہوں واپس آجاتی ہوں۔ لیکن اماں ہمیشہ نالاں رہتی ہیں۔‘‘

اس کے اتنے لمبے چوڑے جواب پہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیااور آئندہ سوال نہ کرنے کا مصمم عہد کر لیا۔

’’میرا خیال ہے، سارا وقت باتوںمیں ہی گزر رہا ہے۔ ہمیں کچھ کام کرنا چاہےے۔‘‘

’’کیوں نہیں سر!‘‘ میری سنجیدگی پہ وہ تھوڑی سی خجل ہوگئی۔

میں اسے اپنی ہمراہی میں آفس نما روم میں لے آیا۔ اس نے چلتے ہوئے پھر سوال کیا۔

’’سر! آپ کوئی کتاب لکھ رہے ہیں۔ جو آپ کو مددگار کی ضرورت پڑی۔‘‘

’’نہیں۔ میں افسانے، ناول لکھتا ہوں۔‘‘ میں نے اسے صفحات اور قلم تھما دیا۔

’’شکریہ۔ قلم میں ہمیشہ اپنا استعمال کرتی ہوں۔‘‘

اس نے صفحات لے لےے اور قلم پرس سے نکال لیا۔

’’یہ قلم مجھے میری دوست انیلا نے دیا تھا۔ وہ میری بچپن کی دوست ہے۔ یہ قلم میرے ساتھ ہوتا ہے تو گویا مجھے اس کے ہونے کا احساس رہتا ہے۔‘‘

’’اچھا احساس ہے۔‘‘ میں جلدی سے اس کی بات کاٹ دی۔مبادا وہ سہیلی کی ہسٹری نہ لے کر بیٹھ جائے۔ ابھی ہمیں کام کرتے ہوئے آٹھ دن ہوئے تھے کہ جاثیہ نے ایک سوال اٹھایا۔

’’سر! آپ محبت کے موضوع پہ بہت زیادہ لکھتے ہیں کیا یہ آپ کا من پسند موضوع ہے؟‘‘

جاثیہ کوئی پہلا فرد نہیں تھی جس نے یہ سوال کیا تھا۔ اکثر لوگ مجھ سے یہی سوال کرتے تھے۔

’’کہہ سکتے ہیں۔‘‘ میں نے ہنس کر ٹال دیا۔

’’اگر آپ چاہیں تو اور بھی بہت کچھ لکھ سکتے ہیں۔‘‘ اس نے چند دن کے بعد کہا۔

’’میں ٹینشن میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔‘‘ میرا جواب ہمیشہ کی طرح مختصر تھا۔

’’آپ کیا سمجھتے ہیں ان باتوں سے ٹینشن دور ہوجاتی ہے۔‘‘

’’کسی کی ٹینشن دور ہو یا نہ ہو۔ کم از کم میری تو ہو جاتی ہے۔‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ پھسل گیا۔

’’تو گویا آپ لوگوں کو اپنا خلجان دے رہے ہیں۔‘‘ اس نے بات پکڑ لی۔‘‘

’’میں نے آج تک ایسا محسوس نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو لوگ میری تحریروںکی ڈیمانڈ نہ کرتے۔‘‘

’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کی تحریروں میں ایسا کیا ہے جو لوگ اتنا پسند کرتے ہیں۔ سر! یہ کمپیوٹر کا دور ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کا دور۔ ان ماورائی قصوں سے ہمیں باہر آنا چاہےے اور ایسا آپ جیسے لوگ ہی کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو محبت کی نہیں ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ اس بے جا محبت نے نوجوان نسل کو نکمُا کر دیا ہے۔ یہ محبت صرف معیشت پہ بوجھ ہے اور کچھ نہیں۔‘‘

’’محبت۔۔۔ معیشت پہ بوجھ۔‘‘ میں نے بڑی حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔

’’یس ۔ سر۔ محبت کیا دیتی ہے۔ نسل میں اضافہ، غیر ضروری بڑھتی ہوئی آبادی، معیشت پہ بوجھ نہیں تو اور کیا ہے۔‘‘

’’اوہ مائی گاڈ!‘‘ اس کے نظریہ پہ میرا سر چکرا گیا۔

لیکن اس کی گفتگو ابھی جاری تھی۔

’’سر! آپ چاہیں تو اپنی کہانیوں میں کچھ اور ورائٹی بھی ڈال سکتے ہیں، جو انسانیت کے حقیقی پہلو ہیں اور ویسے بھی ادیب معاشرے کا ترجمان ہوتا ہے۔‘‘

’’محبت کیا معاشرتی موضوع نہیں ہے۔‘‘ میں نے بڑے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔

’’کیا صرف محبت ہی معاشرے کا موضوع ہے اور بھی بہت سارے موضوع ہیں، جنہیں آپ چاہیں تو احاطۂ تحریر میں لا سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے آپ کی شہرت کو مزید چاند لگ جائیں۔ََ

اس نے قائل کرنے والے انداز میں کہا تو میں مصلحتاً خاموش ہوگیا۔

’’اوکے۔ اوکے۔ میں آپ کی تجویز پہ یقینا غور کروں گا۔‘‘

’’تھینک یو۔ سر۔‘‘ اس نے پھولی سانسوںکے ساتھ اس طرح شکریہ ادا کیا، گویا کے ٹو سر کر لیا ہو۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

اور پھر اگلے ہی روز عجیب واقعہ ہوا، جاثیہ کے ساتھ چار پانچ عورتیں آئی تھیں۔

’’یہ سب کون ہیں؟‘‘ میں نے جاثیہ سے پوچھا۔

’’عورتیں ہیں سر!‘‘

’’وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے۔‘‘

’’لیکن آئی کہاں سے ہیں؟‘‘

’’اپنے اپنے گھر سے سر۔‘‘

میرا سر گھوم گیا۔ لیکن جاثیہ نے اس کی ذرا بھی پروا نہ کی۔

’’سر! یہ انتہائی درد مند اور خستہ حال عورتیںہیں۔ ان کی کہانی سنیں تو آپ کا دل پاش پاش ہوجائے گا اور آپ کے قلم میں وہ سوز پیدا ہوگا کہ آپ کے قارئین آپ کے اور قریب ہوجائیں گے۔ ہر ایک کی ایک سے بڑھ کر ایک درد ناک کہانی ہے۔ میرا خیال ہے۔ سب سے زیادہ ماسی بتول غم زدہ ہے۔ ماسی بتول۔۔۔ تم آگے آجائو۔‘‘

’’شٹ اپ۔ جاثیہ! میری برداشت جواب دے چکی ہے۔ اگر آپ نے میرے ساتھ سنجیدگی سے کام کرنا ہے تو کریں۔ ورنہ آپ بمعہ ان خستہ حال کہانیوں کے تشریف لے جاسکتی ہیں۔‘‘ میں نے ان سب خواتین کی طرف اشارا کیا۔

اس کے بعد میں رکا نہیں اور دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ اتنی کرختگی کا اظہار میں نے پہلی بار کیا تھا۔ دس منٹ کے بعد جاثیہ میرے کمرے میں آئی۔

’’ایم۔ سوری سر! میں نے تو آپ کی مدد کرنا چاہی تھی۔‘‘

میں نے گھور کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ ایک دم خاموش ہوگئی۔

’’آپ جس کام کے لےے آئی ہیں صرف وہی کام کریں۔ سوچنے اور کہانیاں ڈھونڈنے کا کام میرا ہے۔ میں کیا لکھتا ہوں اور کیا لکھنا چاہتا ہوں۔ وہ پسند کیا جاتا ہے یا نہیں۔ یہ میرا اور میرے قارئین کا مسئلہ ہے۔ آپ کا سر درد نہیں۔ اب آپ جاسکتی ہیں۔ فی الحال مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔ ہم کل کام کریں گے۔‘‘

جاثیہ چلی گئی اور میں یونہی اکیلا بے زاری سے ٹہلتا رہا اور پھر بائیک کی چابی اٹھا کر باہر نکل گیا۔

دراصل پس پردہ مجھے اپنی کہانی پہ غصہ تھا۔ جو ایسے موڑ پر آکر پھنس گئی تھی جس کا حل میرے اختیار سے باہر تھا۔ ایسے میں جب لکھنے کا ارتکاز ٹوٹتا تھا تو میرے سر پہ یونہی وحشت سوار ہوجاتی تھی۔ پھر یا تو میں بہت زیادہ اسموکنگ کرتا۔ یا یونہی سڑکیں ناپتا پھرتا۔ کبھی کبھار انگلش موویز بھی دیکھ لیتا تھا۔ سرمد کو بلا لیتا اور تاش کے پتوں میں الجھ جاتا۔ اس وقت کچھ بھی جی نہیں چاہ رہا تھا۔ سوائے اس کے کہ سڑکیں ناپی جائیں۔

دو روز اسی طرح گزر گئے۔ جاثیہ سمجھ رہی تھی کہ اس کی وجہ سے میری یہ کیفیت ہے۔ اس نے آج پھر مجھ سے معذرت کی۔

’’میں آپ کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں۔ بس میرا دل اَچاٹ ہورہا ہے۔‘‘ میں نے اسے یقین دلایا۔

اس نے بے تکلفی سے کھڑکیوں کے پردے سرکا دےے۔

’’سر! موسم بہت خوش گوار ہورہا ہے۔ اگر آپ پسند کریں تو ہم آج نیچے لان میں بیٹھ کر کام کریں۔‘‘

میں نے کھڑکی سے باہر نگاہ ڈالی۔ موسم واقعی دلفریب ہورہا تھا۔ سرمئی بدلیاں آسمان پہ منڈلا رہی تھیں اور بڑی پیاری خنک ہوا چل رہی تھی۔ بہار کا موسم عروج پہ تھا۔

میں نے کسی خیال کے تحت ہامی بھرلی۔

ہم دونوں نیچے آگئے۔ اس نے ستائشی انداز میں لان کی طرف دیکھا۔

’’سر! آپ کا ذوق بہت اعلاہے۔‘‘

میں مسکرادیا۔ پھر گلاب کی باڑھ کو چھو کر بولا۔

’’یہ ذوق میرا نہیں کسی اور کا ہے۔ جیسے یہ گھر میرا نہیں کسی اور کا ہے۔‘‘

اس نے سوالیہ نگاہ مجھ پہ ڈالی۔ ’’میں سمجھی نہیں۔‘‘

’’میں اس گھر میں بحیثیت کرایہ دار اوپر کی منزل میں رہتا ہوں۔ مالک مکان پہلے نیچے رہتے تھے اب دوسری جگہ شفٹ ہوگئے ہیں۔ میں لان کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ کیونکہ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔ اس لےے یہاں مالی آتا ہے۔‘‘

’’اور آپ کے والدین۔ بہن بھائی؟‘‘

’’والدین بہت پہلے انتقال کر گئے تھے ایک بہن ہیں جو کوئٹہ میں رہتی ہےں۔ دو بھائی کراچی میں رہتے ہیں۔ بہنوئی چمڑے کا کام کرتا ہے اور بھائی کپڑے کا علیحدہ علیحدہ بزنس کرتے ہیں۔

میں یہاں اکیلا رہتا ہوں۔ تینوں بہن بھائی مجھ سے بڑے ہیں اور شادی شدہ ہیں۔ تعلیم سب سے زیادہ میں نے حاصل کی تھی۔ سو اس طرف آگیا۔ چاہتا تو میں بھی بزنس کر سکتا تھا۔ کراچی میں میرا ذاتی گھر ہے جو ہمارا آبائی گھر تھا۔ والدین نے میرے نام کر چھوڑا ہے۔ کراچی کا ماحول مجھے پسند نہیں۔ شور، ہنگامہ۔ میں سکون کی وجہ سے اسلام آباد آگیا۔ قلم سے دوستی میری بہت پرانی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ میرا ذریعہ معاش اور تنہائی کا ساتھی بن گیا ہے۔‘‘

’’سر! آپ نے ابھی تک شادی کیوں نہیں کی؟‘‘اتنا ذاتی سوال اس نے بے دھڑک پوچھ لیا تھا۔

’’شادی کے بارے میں۔ ۔۔ اگر میں سنجیدگی سے سوچتا تو شاید وہ بھی ہوچکی ہوتی۔‘‘ میں نے لاپروائی سے جواب دیا۔

ہم دونوں چہل قدمی کرتے کرتے کرسیوں پہ بیٹھ گئے۔

’’اس کا مطلب ہے سر! آپ حقیقت سے بہت دور ہیں۔‘‘ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

’’افسانوی کرداروں کے ساتھ رہتے رہتے آپ کو اپنی تنہائی کا احساس ہی نہیں ہوتا۔‘‘

’’میں تنہا کہاں ہوں۔‘‘ میرے دل میں ٹیس سی اٹھی۔ نیہاں کا خیال ایک بار پھر پوری توانائی سے میرے اعصاب پہ چھانے لگا تھا۔

’’میرا تخیُل۔ میری سوچیں۔ میرا قلم اور سب سے بڑھ کر میرے چاہنے والوںکا پیار۔ کیا میں پھر بھی اکیلا ہوں۔‘‘

’’سر! آپ نے وہ گانا سنا ہے۔

میں پل دو پل کا شاعر ہوں

پل دو پل میری کہانی ہے

ساحر لدھیانوی نے لکھا ہے اسے۔‘‘

’’جانتا ہوں۔‘‘

’’سر! لوگ آپ سے پیار نہیں کرتے۔ آپ کی تخلیق سے پیار کرتے ہیں۔ کل آپ لکھنا چھوڑ دیں گے۔ کون آپ کو یاد کرے گا۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں ان چاہنے والوں کا پیار آپ کے لےے ہمیشہ رہے گا۔ جبکہ آپ نے ہمیشہ قلم کے ذریعے ہی ثابت کیا ہے۔ محبت کے بنا زندگی نہیں گزرتی۔‘‘

’’کیا تم اس بات سے انکاری ہو؟‘‘

’’سر! محبت اتنی ضروری بھی نہیں ہوتی۔‘‘

’’تو پھر ضروری کیا ہے؟‘‘

’’صرف پیسہ ضروری ہے۔‘‘

’’بڑی مادُیت پسند ہیں آپ۔ حالانکہ پیسہ ضرورت پوری کرتا ہے۔‘‘

’’اور ضرورت ہی سکون مہیا کرتی ہے۔‘‘ وہ تیزی سے بولی۔ ’’اس طرح محبت بھی ایک ضرورت ہی ہے۔‘‘

’’یعنی آپ کی سترہ سہیلیاں آپ کی ضرورت ہیں۔ آپ کو ان سے محبت نہیں۔‘‘

’’پڑھنا تو میری مجبوری تھا۔ اور مشاغل میرے بہت سارے تھے، سہیلیاں بنانا میرا محبوب ترین مشغلہ ہے۔ اچھا حلقہ احباب کسے پسند نہیں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ انہیں تحفے لینا اور دینا اور سب سے زیادہ اچھا جب لگتا ہے جب وہ میرے گرد ہوتی ہیں اور مجھے ان میں ممتاز حیثیت حاصل ہوتی ہے تب میں خود کو بہت خوش نصیب محسوس کرتی ہوں۔ اپنی ذات کا احساس میری زندگی کی ضرورت ہے اور یہ احساس میرے اخلاق اور میرے طرزِ عمل پہ بہت اچھا اثر ڈالتا ہے۔‘‘

محبت کو کس طرح اس نے صرف ضرورت پر موقوف کر دیا تھا۔ میں دنگ رہ گیا۔

میں اگر محبت کے معاملے میں بزدل تھا تو یہ لڑکی خود پسند تھی یعنی صرف اپنی ذات سے محبت کرنے والی۔

’’آپ کی اکثر کہانیاں محبت نہیں بلکہ جنونی محبت کا شکار نظر آتی ہیں۔ ایسا آج کل کہاں ہوتا ہے کوئی کسی کے لےے اتنا مخلص نہیں ہوتا اور خاص طور پہ مرد حضرات ناممکن۔ اس لےے مجھے یہ سب کچھ بکواس لگتا ہے۔‘‘

’’اس لےے کہ تم نے کسی سے محبت نہیں کی۔‘‘ میں نے جل کر کچھ عجیب سے انداز میں کہا۔

’’سر! آپ نے کی ہے؟‘‘ وہ جھٹ بولی۔

’’ہاں۔ اپنی بزدلی سے۔‘‘ میں کہہ دینا چاہتا تھا لیکن کہا تو صرف اتنا۔

’’شاید۔۔۔ یک طرفہ۔‘‘ اس نے آنکھیں پھیلا کر مجھے دیکھا اور پھر ہنس پڑی۔

’’اس طرح جیسے آپ کا یہ ہیرو کر رہا ہے۔‘‘

میں آج کل جس کہانی میں الجھا ہوا تھا اس نے اسی کی طرف اشارہ کیا۔

(میرے سارے ہیرو۔ میری طرح ہی محبت کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں انہیں کامیاب کرا دیتا ہوں۔ کیونکہ یہ میرے اختیار میں ہے)

’’آج کل آپ جو کہانی لکھ رہے ہیں اسے ہی لے لیجےے۔ ہیرو ایک لڑکی سے شدید محبت کر رہا ہے اور اس سے اظہار نہیں کر سکا۔ ہیروئن کی شادی ہوگئی۔ ہیرو نے خود کشی کا منصوبہ بنالیا۔ اول تو ایک انسان کی خاطر یوں زندگی برباد کرنا کہاں کی دانش مندی ہے پھر اِدھر ہیروئن، ہیرو کے جذبوں سے ناواقف رہی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ایک شخص اسے اتنی شدت سے چاہتا رہا اور وہ بے خبر رہی۔‘‘

’’وہ خبردار ہے لیکن۔ تمنا کرتی ہے کہ ہیرو پہل کرے۔‘‘

’’لیکن آپ نے کہانی میں تو ظاہر نہیں کیا۔ اس کا یہ ردعمل شادی کے بعد آتا ہے یہ کیسی بات ہے سر! کیا وہ اپنی شادی سے خوش نہیں ہے؟‘‘

’’خوش ہے۔ لیکن۔۔۔‘‘ میں رک گیا۔ جاثیہ کے سوال نے مجھے چونکا دیا تھا۔

میں نے بغور اس کی طرف دیکھا اور جان بوجھ کر بات بڑھائی۔

’’جس شخص سے اس کی شادی ہوئی ہے۔ وہ ایک معروف بزنس مین ہے، لڑکی بہت حساس ہے۔ معمولی معمولی خوشیوں پہ خوش ہونے والی۔ وہ شوہر کی مصروفیات و بے توجہی سے بے زار ہوگئی ہے۔ اب ماضی کی طرف دیکھتی ہے تو پچھتاتی ہے اور خیال کرتی ہے اسے سلمان کو یوں نظر انداز نہیں کرنا چاہےے تھا۔‘‘

’’اس لےے ہیروئن کو واپس پہلے ہیرو کی طرف پلٹا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اس سے محبت کرتا تھا۔ ایم آئی رائٹ سر۔‘‘

(مسئلہ تو سارا یہی ہے) ’’تم بتائو کہ اسے کیا کرنا چاہےے۔‘‘

میں نے جاثیہ کو اپنے ساتھ میدان میں اتار لیا۔

وہ کچھ دیر رکی۔ پھر سوچ کر بولی۔

’’ہونہہ۔ بات غور کرنے کی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اسے ہیرو کی طرف پلٹنا چاہےے یا نہیں۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ کہانی معاشرے کے کلچر سے ہٹ کر ہوگی۔ شادی شدہ عورت کا ایسا طرزِ عمل ہمارے یہاں پسند نہیں کیا جاتا۔‘‘

میں اس کی بات غور سے سن رہا تھا۔ درمیان میں کاٹ کر بولا۔

’’یہ بات میری نظر میں بھی ہے۔ اور اس قسم کی کچھ باتیں ہیں جو کہانی کو آگے چلنے سے روک رہی ہیں۔‘‘

’’سر۔۔۔ آپ اس بات کو نظر انداز کر دیجےے کہ لڑکی پہلے ہیرو میں دلچسپی لیتی تھی یا نہیں۔‘‘ وہ تیزی سے بولی۔

’’وہ لڑکی صرف محبت کی تمنائی ہے۔ اگر اسے یہ محبت اپنے شوہر سے مل جاتی تو وہ کبھی بھی ماضی کی طرف نہ دیکھتی۔ وہ ایک مشرقی اور باحیا لڑکی ہے۔ تب ہی اس نے شادی سے پہلے سلمان کی محبت کو قبول نہیں کیا تھا۔‘‘

وہ کچھ دیر رکی اور پھر سوچ کر بولی۔ ’’ایسے میں آپ اگر سلمان کے کردار کو تھوڑا سا تبدیل کردیں۔ آئی مین۔ اس کی شخصیت میں کچھ بولڈنیس اور جارحانہ پن آجائے اور پھر ایسے میں آپ ہیروئن کے شوہر کے ساتھ اس کے تعلقات ظاہر کیجےے۔ یعنی سلمان کا ان کے گھر آناجانا۔‘‘

اور بس کہانی میرے سامنے بالکل واضح ہوگئی یوں لگا جیسے کوئی بوجھ تھا وہ سرک گیا۔

جاثیہ بول رہی تھی اور میرا ذہن اپنی کہانی کی طرف بہہ رہا تھا۔ میری کہانی اپنا مقصد کھوئے بغیر میرے ذہن کے دریچوں میں محوِ سفر تھی مجھے نہیں معلوم تھا کہ جاثیہ اتنے کام کی لڑکی ہے۔ وہ مطالعہ اتنی باریک بینی سے کرتی ہے کہ ا س کی خامیاں اور خوبیاں با آسانی محسوس کر سکتی ہے۔ وگرنہ اس سے پہلے میں یہی سمجھتا رہا کہ وہ لاپروا اور بے جا تنقید کرنے والی لڑکی ہے، لیکن آج میں واقعی اس کی ذہانت و صلاحیت سے متعارف ہی نہیں، متاثر بھی ہوا تھا۔ میری ساری کلفت دھل گئی۔ دل چاہتا تھا ابھی قلم کاغذ لے کر بیٹھ جائوں اور اسے کسی انجام تک پہنچادوں۔

نت نئے سین میرے ذہن میں گردش کر رہے تھے۔

میں نے جاثیہ کی طرف دیکھا جو کہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔

’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ میںنے فراخ دلی سے اس کا شکریہ ادا کیا۔ اور اس کی ذہانت کی تعریف کی تو وہ خوش ہوگئی۔

مجھے نہیں معلوم تھا، یہ تعریف مجھے آگے چل کر مہنگی پڑے گی۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

اگلے مہینے میری کہانی کیا شائع ہوئی قارئین کے خطوط کا انبار لگ گیا۔ ان کی پذیرائی اور داد و تحسین میرے لےے کچھ نیا نہیں تھا۔ لیکن اپنی تعریف مجھے ہمیشہ ہی اچھی لگتی تھی۔ جاثیہ بھی میرے ساتھ بیٹھی خط پڑھ رہی تھی کہنے لگی۔

’’تاج محل مزدوروں نے بنایا تھا اور نام کسی اور کا آتا ہے۔‘‘ میں واقعی نہیں سمجھا۔

’’سر! کیسی عجیب بات ہے۔ آپ کو اتنی محبتیں وصول ہورہی ہیں اور آپ نے ہمارا منہ بھی میٹھا نہیں کرایا۔‘‘

مجھے ہنسی آگئی۔ ’’ہاں، تمہارا حق تو بنتا ہے۔ اس کہانی کو مشکل سے نکالنے والی تم ہو۔ بتائو۔۔۔ کیا منگائوں تمہارے لےے؟‘‘

’’نہیں سر! کچھ منگانے کی ضرورت نہیں۔‘‘ میری فراخ دلانہ پیشکش پر وہ کچھ کھسیا سی گئی۔

’’نہیں بھئی! تمہارا حق تو بنتا ہے۔‘‘

’’سر! میں ڈائٹ کی وجہ سے میٹھے کا پرہیز کرتی ہوں۔‘‘

’’تو پھر۔‘‘

’’اگر آپ زیادہ اصرار کر رہے ہیں تو زیادہ نہیں۔ صرف پانچ سو روپے دے دیجےے۔‘‘

وہ کچھ اٹک کر جھجک کر بولی۔ تو میں نے اس کی طرف بڑی حیرت سے دیکھا۔

’’سر! بات یہ ہے کہ عاصمہ کا منگیتر ہے نا۔ اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔‘‘

’’تو اس کے لےے آپ نے دوائیاں خریدنی ہیں۔‘‘

’’نہیں ۔ نہیں۔ ذرا جانا ہے عیادت کے لےے کچھ پھول لے کر، پھول تو سستے ہی آتے ہیں دراصل میں نے اپنے لےے ایک کاٹن کا سوٹ بھی لینا ہے نئے کپڑوں سے شخصیت کا امپریشنز اچھا پڑتا ہے۔‘‘

میں نے چپ چاپ پانچ سو روپے اسے دے دےے۔

اس کے کچھ عرصے کے بعد اس نے مجھ سے ایک ہزار روپے ادھار لےے۔ کہانی لکھنے کے دوران میری کچھ عادت سی بن گئی تھی اس سے مشورہ کرنے کی بلکہ یہ عادت اس نے خود ڈالی تھی، خوامخواہ میرے کام میں ٹانگ اڑا کر۔

اور پھر اس سے اس نے فائدہ بھی خوب اٹھایا۔ ہزار روپے بلکہ جب اس نے دینے کام نام نہیں لیا تو ناچار مجھے مانگنے پڑے۔

’’سر! وہ پیسے تو خود بخود کٹ گئے تھے۔‘‘

’’کٹ گئے۔‘‘

’’سر! اس قدر تو مشورہ لیتے ہیں آپ مجھ سے۔ اب وہ کیا بچے ہوں گے۔‘‘ اس کی لاپروائی پر میں جزبز سا ہو کر رہ گیا۔

پھر میں نے خود ہی فیصلہ کیا کہ اس کی تنخواہ بڑھا دوں۔ کیونکہ وہ ایک ذہین لڑکی تھی۔ میرے ساتھ کام کرتی رہتی تو میرا فائدہ ہی فائدہ تھا۔ میں نے اس کی تنخواہ بڑھادی تاکہ وہ مشوروں کی فیس علیحدہ نہ مانگے لیکن اسے تو جیسے چسکا پڑ گیا تھا۔

جاثیہ کی اول روز سے عادت تھی، اپنی سہیلیوں کا ذکر فرضی عبادت سمجھ کر بلا ناغہ مجھ سے کرتی تھی۔اب میں نے تو اس سے نہیں کہا تھا کہ آتے ہی وہ اپنی کسی نہ کسی سہیلی کا قصہ ضرور سنائے یوں جیسے کوئی تازہ اخبار سنایا کرتا ہے۔ شروع میں مجھے س کی یہ چپڑ چپڑ بہت بری لگتی تھی۔ لیکن رفتہ رفتہ میں نے محسوس کیا کہ اس کی سہیلیوں کے کردار اور ان کے ارد گرد کے کردار بڑے دلچسپ ہیں۔ میں انہیں لکھنے لگا۔ ظلم یہ ہوا کہ اسے علم ہوگیا کہنے لگی۔

’’سر! یہ تو بہت بری بات ہے۔ میں آپ سے برسبیلِ تذکرہ ذکر کرتی ہوں اور آپ ان سے کہانیاں بنا لیتے ہیں۔‘‘

میں لمحوں میں بھانپ گیا اس بات کے پیچھے یقینا پیسوں کی خواہش پنہاں ہے۔

آخر بچھو کے ڈنک سے کچھوا ہوشیار ہو ہی گیا تھا۔ میں صاف مکر گیا۔

’’تمہارا وہم ہے، ہوسکتا ہے یہ کہانی کسی اور کی ہو اور اکثر ایسا ہوجاتا ہے کہانیوں کے کردار حقیقی کرداروں سے مطابقت رکھنے لگتے ہیں جب ہی تو لوگ مجھے پسند کرتے ہیں۔‘‘

وہ خاموش تو ہوگئی۔ لیکن اس نے مجھے بخشا نہیں۔ اگلے چند دن کے بعد اس نے مجھ سے ڈیڑھ ہزار روپے ادھار مانگے اور اپنی سخت مجبوری ظاہر کی۔

میں ادھار دینے پہ ذرا بھی رضامند نہیں تھا لیکن وہ بضد تھی۔

’’آخر ایسی بھی کون سی مجبوری آگئی اور پھر ابھی تو تنخواہ لی ہے تم نے۔۔۔‘‘

’’سر۔۔۔! میری جیسے ہی کمیٹی کھلے گی۔ میں آپ کو رقم لوٹا دوں گی۔‘‘

’’مگر۔۔۔ میں۔۔۔‘‘

’’سر۔۔۔پلیز۔۔۔‘‘ میں اپنی ہمدردانہ فطرت کے آگے مجبور تھا۔

’’دیکھو۔ یہ رقم جلد لوٹا دینا۔‘‘ میں نے اسے پیسے دیتے ہوئے کہا۔

’’بے فکر رہیں۔ سر ! آپ۔‘‘

اور پھر۔ پیسے لے کر وہ خود اتنی بے فکر ہوئی۔ ایک دو اور تین ماہ گزر گئے۔

’’جاثیہ! تم نے میرے پیسے نہیں دےے۔‘‘

’’سر! کیوں نہیں۔ لیکن جس وعدے پہ لےے تھے اسی پہ دوں گی۔‘‘

’’اور ابھی میری کمیٹی نہیں کھلی۔‘‘

’’آخر تمہاری یہ کمیٹی کب کھلے گی۔‘‘

’’ان شائ اللہ جیسے ہی ڈلے گی، پہلی میری ہوگی میں ممبر اکٹھے کر رہی ہوں۔ بس آپ دعا کریں۔ مجھے ایمان دار ممبر ملیں۔‘‘

مجھے تو آگ لگ گئی۔ ’’ان شائ اللہ یہ رقم تمہاری تنخواہ میں سے کٹے گی۔‘‘

میں نے بھی اسی کی طرح کہا۔

حالانکہ میں نے آج تک ایسا نہیں کیا تھا۔

’’سر! آپ تو بے اعتباری پہ اتر آئے۔ میں آپ کی رقم لے کر بھاگ تو نہیں رہی اور کون سا میں نے وہ رقم خود استعمال کی ہے۔ اپنی سہیلی کو ادھار دی تھی۔‘‘

’’تم خود کتنی بڑی لینڈ لارڈ ہو جو لوگوں کو مقروض کرتی پھرتی ہو۔‘‘

’’بس سر۔ کسی کو مدد کرنا بھی تو ثواب ہی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اسے جیسے ہی پہلے کمرشل کا چیک ملے گا، وہ میرا قرض لوٹا دے گی اور میں آپ کا۔‘‘

’’کمرشل کا چیک۔‘‘

’’جی سر! میری سہیلی نشاہے نا۔ جو ماڈل بن گئی ہے اور سر، میں آپ کو بتائوں۔ اس کا کمرشل ابھی آن ایئر بھی نہیں گیا اور فلموں میں آفرز دھڑا دھڑ شروع ہوگئیں۔ میں بتا نہیں سکتی وہ کتنی خوش ہے۔‘‘

اور میں نے ٹھنڈی سانس بھری۔ یعنی میری رقم ڈوب چکی ہے اب مجھے صبر کرلینا چاہےے۔

اس کے بعد اس نے اچانک چھٹیاں شروع کر دیں۔ چار چھٹیوں کے بعد آئی تو بے حد افسردہ تھی۔ میں نے اس کی افسردگی کی وجہ پوچھی۔ اتنا تو مجھے اندازہ تھا کسی سہیلی ہی کا غم ہوگا۔ اب تو مجھے اس کی ذاتیات چھیڑتے ہوئے بھی ڈر لگتا تھا۔ کہیں وہ ادھار نہ مانگ لے۔

لیکن بس میرے ایک سوال کرنے کی دیر تھی اور اس نے پوری داستان امیر حمزہ سنادی۔ داستان اس کی ماڈل بننے والی سہیلی کی تھی اتنی سنسنی خیز کہانی۔ میں ڈیڑھ گھنٹہ دم بخود سا سنتا رہا۔

وہ واقعی پریشان اور افسردہ تھی۔ میں نے اسے دلاسا دیا اور اسے سمجھایا۔ کہ وہ زیادہ فکر نہ کرے۔ قصور تمہاری سہیلی کا ہے، گلیمر کی دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے اسے اس فیلڈ میں آنا نہیں چاہےے تھا، یہاں شریف لوگ نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ یہ تو مجھے پتا نہیں کہ میرے دلاسے سے اسے کتنی تقویت ملی۔ ہاں البتہ اس کی سنائی گئی کہانی مجھے کسی نفع کی طرح لگی تھی۔

میں نے دنوں میں وہ کہانی لکھ ڈالی۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

مجھے نہیں پتا تھا۔ یہ کہانی میری تقدیر بدل دے گی۔

ایک مشہور و معروف ڈرامہ پروڈیوسر کا فون میرے پاس آیا۔

وہ میری کہانی کو ڈرامائی تشکیل دینا چاہتا تھا۔

اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں اتنا اوپر چلا جائوں گا۔ شہرت تو شہرت دولت بھی خوب ملی۔

جاثیہ میرے سر ہوگئی۔ ’’سر! یہ کہانی تو میری سہیلی کی تھی۔ آپ نے اسے میری اجازت کے بغیر کیوں لکھا۔‘‘

’’کیوں۔ کیا تم نے اس کہانی کے جملہ حقوق محفوظ کےے ہوئے تھے۔‘‘ میں چڑ کر بولا۔

’’لیکن سر! یہ اخلاقاً جرم ہے۔‘‘ وہ بھی طیش میں آگئی۔

مجھے معلوم تھا۔ اسے پتا چل گیا ہے کہ یہ کہانی ڈرامہ بننے والی ہے۔ اسی لےے وہ کوئی موٹا مطالبہ کرنا چاہتی ہے اور مجھے رعب دکھارہی ہے لیکن میں رعب میں کیوں آتا۔

’’اخلاقاً جرم تو یہ بھی ہے کہ تم اپنی سہیلیوں کے ذاتی قصے مجھے سناتی ہو۔‘‘ میں نے کہہ دیا۔ ’’اگر تمہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں تمہاری کہانیاں چرا لیتا ہوں۔ تو اپنے منہ میں تالا لگا کر رکھا کرو۔ میں تمہاری منتیں نہیں کرتا کہ اپنی سہیلیوں کے قصے مجھے سنائو اور کیا یہ کہانی ہو بہو ایسی ہے جیسی تم نے بتائی تھی؟‘‘

’’ہو بہو نہیں ہے لیکن مرکزی خیال تو میرا ہی دیا ہوا ہے۔‘‘

’’یہ مرکزی خیال تم کسی اور کو دے کر دیکھ لو۔ اگر وہ ایسی کہانی لکھ لے۔ تو مجھ سے بات کرنا یا پھر تم خود بھی کوشش کرلو۔ خوامخواہ تم میری شہرت میں شریک بن رہی ہو۔ پاکستان کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا۔ لیکن پاکستان کس نے بنایا تھا قائد اعظم نے۔ یہاں جو محنت کرتا ہے وہی منظرِ عام پہ ہوتا ہے اگر تم نے میرے ساتھ کام کرنا ہے تو کرو، ورنہ روزانہ یہ احسان کا ٹوکرا میرے سر پہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔ میں تم سے پہلے بھی مشہور تھا اور بعد میں بھی مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

میں نہیں سمجھ سکتا تھا کہ میں اتنے جلدی بدلحاظ کیسے ہوگیا تھا۔ شاید شہرت کا نشہ ہی ایسا ہوتا ہے لیکن وہ کون سی لحاظ والی تھی۔ اس نے میرے ڈیڑھ ہزار روپے ایسے ہضم کےے تھے کہ ڈکار بھی نہیں لی۔

ڈرامہ آن ایئر جا چکا تھا۔ میرے مداحوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہاتھا دوسرے پروڈیوسر بھی مجھ سے رابطہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ادارے نے میرے اعزاز میں بہت بڑی تقریب کا اہتمام کیا تھا میں یہ کہوں گا یہ عرصہ میری شہرت کا چار چاند لگا گیا۔ نہ جانے جاثیہ کی وجہ تھی یا نصیب ہی اس وقت عروج پہ تھا۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ جاثیہ کے حق میں میرا کچھ بھی کہنا مہنگا پڑ سکتا تھا۔ لیکن چونکہ سرمد، جاثیہ کی لالچی طبیعت سے ناواقف تھا۔ جب بھی ملتا مجھ سے یہی کہتا۔

’’آج کل تو ہوائوں میں سفر کر رہے ہو۔‘‘ اور میں ہنس کر چپ ہوجاتا۔

ایک دن اس نے جاثیہ کے سامنے میری تعریف یوں کی۔

’’پہلے بھی تم لوگوں کے درمیان مشہور تھے۔ لیکن جب سے تمہاری یہ کولیگ آئی ہے۔ تم ممتاز ہوگئے ہو۔ مس جاثیہ یقینا تمہاری اچھی ہیلپر ثابت ہورہی ہیں۔‘‘

یہ میری نہیں جاثیہ کی تعریف تھی۔ مجھے آگ لگ گئی اور جاثیہ کو کلف۔ مسکرا کر بولی۔

’’مگر یہ بات آپ کا دوست نہیں مانتا حالانکہ یہ پاکستان ہے، یہاں پرسنیلٹی جتنی مشہور ہوتی ہے، سیکریٹری اس سے زیادہ مشہور ہوجاتی ہے۔‘‘

اوہ ہو۔ پہلے تو پیسے کی ہوس تھی اب محترمہ کو شہرت کا شوق بھی چرا رہا ہے۔ سوچتا ہوں اسے نو دو گیارہ کر ہی دوں۔ لیکن میں کچھ نہیں بولا۔

تھوڑی دیر میں جاثیہ فارغ ہو کر چلی گئی تو میں نے سرمد کو پکڑ لیا۔

’’کیا ضرورت تھی تمہیں اس لومڑی کے سامنے اتنی بکواس کرنے کی۔‘‘

’’لومڑی۔۔۔؟‘‘ سرمد نے اچنبھے سے مجھے دیکھا۔

’’ہاں۔۔۔!‘‘ میں نے تنک کر کہا۔

’’یار! رہنے دو۔۔۔ اچھی خاصی لڑکی ہے۔‘‘

’’اچھی خاصی ہوگی، تمہارے لےے۔ مجھے تو بالکل چیل لگتی ہے۔ پائی پائی پہ جھپٹنے والی۔‘‘

سرمد ہنس پڑا۔ وہ ساری صورت حال سے واقف تھا۔

’’بہرحال جو کچھ بھی ہے۔ کام تو تمہارے بہت آرہی ہے۔‘‘

’’ہاں۔ یہ تو ہے کئی بار دھمکی دے چکاہوں۔ لیکن کام چھوڑ کر نہیں جاتی۔ لگتا ہے اس سے اچھی نوکری اسے کہیں نہیں ملے گی۔‘‘

’’اور اس سے اچھی مددگار تمہیں بھی کہیں نہیں ملے گی۔ خوب کیش کر رہے ہو۔‘‘

’’یہ میری ذہانت ہے اس کی نہیں۔‘‘ میں نے بات ختم کر دی۔

جاثیہ کے ساتھ کام کرتے ہوئے مجھے پتا چل گیا تھا کہ میں فطرتاً لالچی آدمی ہوں، لیکن میں اس کا اعتراف نہیں کر سکتا تھا۔ اور نہ کرنا چاہتا تھا۔ میرا خیال ہے کوئی بھی شخص اپنا منفی پہلو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اور خاص طور پہ مجھ جیسی مشہور شخصیت۔

لیکن جاثیہ کو میری اس فطرت کا بخوبی اندازہ ہوگیا تھا۔ اس لےے وہ مجھے حیلے بہانوں سے بلیک میل کر رہی تھی۔ اور اکثر چاہتی تھی کہ میں اس کی ذہانت کی بار بار تعریف کروں وہ جو بھی مشورہ دے میں اس کا مشکور ہوجائوں اور ساتھ ساتھ مقروض بھی لیکن میں ایسا کیوں کرتا۔ اب میں نے بھی سوچ لیا تھا کہ میں اس سے صرف اتنا ہی کام لوں گا۔ جتنے کے لےے میں نے اسے رکھا تھا اور وہ کیا سمجھتی ہے، کیا میں اس کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔ آج کل میں ویسے بھی بہت خوش تھا۔ طبیعت میری بڑی رواں تھی اور ذہن بھی ہشاش بشاش تھا۔

جاثیہ کو شاید یہ سب کچھ ناگوار گزر رہا تھا۔ اس لےے وہ اچانک غائب ہوگئی۔

کچھ دن تک تو مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ اس کے جانے سے مجھے کتنا فرق پڑ رہا ہے۔ میں اپنے کاموں میں مصروف رہا۔

کچھ دن کے بعد مجھے پتا لگا کہ جتنی فصل اگی تھی سب کٹ چکی ہے، اب زمین کو نئے بیجوں کی ضرورت ہے۔

ایسے میں، میں اپنے آپ کو خالی چھوڑ دیتا تھا۔ فصل موسم کے ساتھ ہی پکتی، اس میں عجلت سے کام نہیں چلتا۔ لیکن یوسف کمال کے ٹیلی فون نے میرے اندر ہلچل مچادی تھی اور میں کوئی تہلکہ خیز کہانی لکھنا چاہتا تھا۔

ایسے میں مجھے جاثیہ کی سخت ضرورت محسوس ہوئی وہی میری مدد کر سکتی تھی۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

تقریباً اکیس دن کے طویل انتظار کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ اس کے گھر جائوں اور پتا کروں کہ کیا وجہ ہے میں آج تک اس کے گھر نہیں گیا تھا۔ حالانکہ اس نے مجھے کئی بار آفر کی تھی۔

اس کا گھر اندرونِ شہر میں تھا۔ میں نے دروازے کے باہر کھڑے ہو کر گھر کا جائزہ لیا۔ گھر چھوٹا سا تھا لیکن پکا اور پینٹ شدہ تھا۔ میں نے ڈور بیل پہ انگلی رکھ دی۔ بجائے اندر سے جواب آنے کے گلی میں سے ہی ایک بچہ کھیلتے کھیلتے میری طرف آیا اور پوچھنے لگا۔

’’آپ کو کس سے ملنا ہے؟‘‘ میں نے سوچا یہ بچہ اسی گھر کا ہوگا جب ہی مجھ سے سوال کر رہا ہے۔

میں نے اسے بتایا۔ ’’مجھے جاثیہ سلطان سے ملنا ہے۔ کیا وہ اسی گھرمیں رہتی ہیں؟‘‘

میرے منہ سے جاثیہ کا نام سن کر بچے کی عمر یک دم بارہ سال سے اسُی سال ہوگئی۔ اس نے پیشانی پہ بل ڈال کر میری طرف دیکھا۔ اور بڑے سخت انداز میں بولا۔

’’شاید آپ کو معلوم نہیں جاثیہ آپا کی شادی ہورہی ہے۔ وہ مایوں بیٹھی ہیں اور جب ہمارے یہاں لڑکیوں کی شادی کی تاریخ پکی ہوجاتی ہے تو وہ کسی مرد سے نہیں ملتیں۔‘‘

میرے لےے یہ خبر بڑی حیرت انگیز تھی۔

اتنی جلدی یہ سب کچھ کیسے ہوگیا۔ میں ابھی بچے سے مزید سوال کرتا کہ گھر کا دروازہ کھلا اور ایک اچھی خاصی عمر کی عورت نمودار ہوئی۔

’’کون ہے؟ کس سے ملنا ہے؟‘‘

میں نے پہلے اس خاتون کی طرف دیکھا پھر بچے کی طرف۔

’’یہ جاثیہ آپا کی امی ہیں۔‘‘ بچے نے اپنے سابقہ انداز میں بتایا۔

میں نے فوراً انہیں سلام کیا۔

’’میرا نام اسید ثمران ہے۔ آپ کی بیٹی جاثیہ میرے ہاں کام کرتی ہیں، کئی روز سے نہیں آرہیں۔ میں پتا کرنے آیا ہوں کہ کیا وجہ ہے؟‘‘

’’اچھا۔ تو آپ ہیں وہ مصنف۔ آئےے اندر آجائےے۔‘‘

میں اندر آگیا۔ چھوٹی سی راہداری کے بعد ایک چھوٹا سا ڈرائنگ روم تھا۔

خاتون نے مجھے وہاں بٹھا دیا ۔ پھر سلجھے ہوئے انداز میں بولیں۔

’’جاثیہ آپ کے ساتھ کام کرتی تھی۔ لیکن اب نہیں کرے گی۔ کیونکہ ہم اس کی شادی کر رہے ہیں۔‘‘

(اس بات کا تو مجھے گھر کے باہر ہی پتا چل گیا تھا، اندر لا کر بتانے کی ضرورت کیا تھی)

’’اچھا مبارک ہو آپ کو۔‘‘ میں نے خوش دلی سے کہا۔

خاتون تھوڑا سا مسکرادیں۔ پھر پوچھنے لگیں۔

’’آپ چائے پئیں گے یا۔۔‘‘

’’نہیں۔ اس تکلف کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہو سکے تو ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دیجےے اور اگر آپ برا نہ محسوس کریں تو کیا میں جاثیہ سے مل سکتا ہوں۔‘‘ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

’’کیوں نہیں۔ میں ابھی بھیجتی ہوں۔‘‘

وہ چلی گئیں تو میں ڈرائنگ روم کا جائزہ لینے لگا۔

ابھی تک مجھے اس گھر سے یا گھر کی مالکن کے انداز سے ایسا محسوس نہیں ہواتھا کہ یہ لوگ غریب ہیں۔ یقینا جاثیہ شوقیہ نوکری کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد جاثیہ کمرے میں داخل ہوئی۔ میرا خیال تھا اس نے پیلا جوڑا پہن رکھا ہوگا اور رو رو کر آنکھیں سجا رکھی ہوں گی۔ لیکن سب کچھ اس کے الٹ تھا۔ وہ لان کے تھری پیس سوٹ میں تھی۔ آنکھوں میں ہمیشہ جیسی شوخی اور ذہانت تھی۔ ہونٹوں پہ مسکراہٹ۔ مجھے دیکھ کر یہ مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔

’’السلام علیکم سر!‘‘

’’وعلیکم السلام۔‘‘ میں اس کی آمد پہ نہ جانے بے ساختہ کیوں کھڑا ہوگیا تھا۔

’’بیٹھےے تشریف رکھےے۔‘‘ اس نے بڑے مہمان نواز انداز میں کہا اور میرے سامنے بیٹھ گئی۔

’’آج آپ ہمارے گھر کی طرف کیسے آگئے؟‘‘

’’مجھے پتا لگا تھا تمہاری شادی ہورہی ہے۔ سوچا مبارک باد دیتا چلوں۔‘‘ مجھے اس کے سوال پہ غصہ آیا تو میں نے طنز سے جواب دیا۔

وہ ہنس پڑی۔

’’میں نے تم سے کہا تھا جاثیہ اگر تمہیں چھٹی کرنی ہو تو مجھے بتا کرکرنا۔ جو نمبر تم نے مجھے دیاتھا میں وہاں فون کر کر کے تھک گیا۔ وہاں یا تو کوئی فون اٹینڈ نہیں کرتا اور اگر کوئی اٹھا بھی لے تو سوائے بچوں کے رونے کے کوئی آواز نہیں آتی۔‘‘

’’جی ہاں سر! مرزا صاحب کے گیارہ بچے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ اپنے رشتہ داروں سے ایسی ہی شکایت ملتی ہے۔‘‘ وہ سکون سے بولی۔

’’مجھے مرزا سے کیا لینا۔ مجھے تو تم پہ غصہ ہے۔ تم نے انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ اگر میں اب بھی پتا نہ کرتا تو تم تو چند روز تک پیاسنگ سدھار چکی ہوتیں۔‘‘

’’بس سر۔ مصروفیت ہی ایسی رہی۔ میں ایک دو روز تک آپ کو اطلاع کرنے والی تھی۔‘‘

’’لیکن یہ سب کچھ اتنی جلدی جلدی ہوا کیسے، تم نے اس سے پہلے تو کبھی ذکر نہیں کیا تھا۔‘‘

’’بتایا نا میں نے، سب کچھ بس جلدی جلدی میں ہی ہوا ہے۔‘‘ میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پہ کوئی بھی نیا تاثر نہیں تھا، نہ غم کا نہ خوشی کا۔

’’تمہاری شادی ہو کس سے رہی ہے؟‘‘

’’ اپنے منگیتر سے سر!‘‘

’’اوہ۔ ہو۔‘‘ میں جھنجلا گیا۔ ’’میرا مطلب ہے تم اسے پہلے سے جانتی تھیں۔‘‘

’’بالکل نہیں۔‘‘

’’ایک انجانے شخص کے ساتھ کیسے زندگی گزارو گی۔‘‘ وہ میرے اچنبھے پہ ہنس پڑی۔

’’سر! یہ زندگی ہے کوئی آپ کا افسانہ نہیں۔ جس میں پہلے سے محبت کرنا ضروری ہو۔ اور زندگی کا دارومدار محبت کی کامیابی یا ناکامی پہ ہو۔‘‘ مجھے اس کے ریمارکس پہ بہت غصہ آیا، وہ جاتے جاتے بھی میری تحریروں پہ چوٹ کر رہی تھی۔

(نہ جانے یہ لڑکی اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہے۔ حالانکہ سب لڑکیاں اندر سے ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اگر مجھے تقدیر موقع دیتی تو میں اس پر اپنا آپ ثابت کر سکتا تھا۔)

اتنے میں وہ لڑکا جس نے باہر مجھ سے تفتیش کی تھی لوازمات کی سادہ سی ٹرالی لے آیا۔ جاثیہ چائے بنانے لگی۔

’’یہ لڑکا تمہارا بھائی تھا؟‘‘ اس لڑکے کے جانے کے بعد میں نے جاثیہ سے پوچھا۔

’’یہ مرزا صاحب کا چوتھا بیٹا تھا۔ میرا نہ کوئی بھائی اور نہ بہن۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں۔ شاید میں نے آپ کو بتایا بھی تھا۔ محلے کے سب بچے مجھے آپا کہتے ہیں کیونکہ محلے کے بچوں میں سب سے بڑی ہوں۔‘‘

’’تم ابھی تک اپنے آپ کو بچوں میں شمار کرتی ہو؟‘‘ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

جاثیہ ہنس پڑی۔ پھر میری طرف چائے بڑھاتے ہوئے بولی۔

’’ویسے سر! آپ کی آمد میرے لےے بالکل غیر متوقع تھی۔ مجھے امید نہیں تھی کہ آپ میری غیر حاضری کو اتنی اہمیت دیں گے اور گھر تک چلے آئیں گے۔ بائی دا وے میں نے آپ سے کوئی ادھار تو نہیں لے رکھا۔‘‘

میں ہنس پڑا۔ ’’نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں۔ مجھے تمہاری کمی محسوس ہوئی تو پوچھنے آگیا۔ اور کئی روز سے تو زیادہ ہی کمی محسوس ہورہی تھی۔‘‘

آج مجھے اس کی تعریف کرنے میں کوئی گھاٹا یا نقصان نظر نہیں آرہا تھا۔ اس لےے میں نے جی بھر کر اس کی تعریف کی۔

’’واقعی جاثیہ! تم ایک ذہین لڑکی ہو۔ میںکتنے ہی مددگار رکھ لوں تمہیں کبھی نہیں بھول پائوں گا۔‘‘

میرے تعریف کرنے پہ وہ ہمیشہ کی طرح چہک اٹھی اور کہنے لگی

’’میں بھی سر! آپ کو ہمیشہ یاد رکھوں گی اور زندگی میں فرصت ملی تو آپ سے ملنے آیا کروں گی۔‘‘

میرا خیال تھا کہ اسے شادی کے بعد مجھ سے ملنے کی فرصت کبھی نہیں ملے گی اس لےے مجھے جاثیہ کو بھول جانا چاہےے۔

لیکن جاثیہ بھول جانے والی چیز نہیں تھی۔ ہر قدم پہ مجھے اس کی تنقید جو میرے لےے اصلاحی پہلو رکھتی تھی، یاد آرہی تھی۔

میں نے اس کے خیال کو جھٹکنے کی بہت کوشش کی۔ کیا میں جاثیہ سے پہلے رائٹر نہیں تھا۔ مجھے اپنی کمزوری بری لگ رہی تھی۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ نئی ہیلپر رکھ لوں لیکن جاثیہ کی عادت نے مجھے سب سے بے زار کر دیا تھا۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

ڈھائی ماہ کے بعد جاثیہ کو آج اپنے گھر میں دیکھ کر میں حیران رہ گیا۔

’’اتنی جلدی تمہیں مجھ سے ملنے کی فرصت مل گئی؟‘‘

’’جبکہ آپ کا خیال ہوگا کہ میں آپ سے کبھی نہیں مل پائوں گی۔ ہاں۔۔۔ ایساہوسکتا تھا بشرط یہ کہ میری شادی ہوجاتی لیکن چونکہ میری شادی کینسل ہوگئی ہے سو مجھے مصروف تو رہنا ہے۔‘‘

’’شادی کینسل ہوگئی؟‘‘

’’نہ صرف کینسل بلکہ قصہ، بالکل ختم۔‘‘ وہ مزے سے بولی۔

’’کیا مطلب؟‘‘ میری حیرت جائز تھی۔

’’دراصل سر! جس لڑکے سے میری منگنی ہوئی تھی وہ کسی اور کو پسند کرتا تھا۔ اس کے والدین نے زبردستی منگنی تو کر دی، لیکن اسے شادی کے لےے رضامند نہیں کر سکے اور یہ رشتہ ٹوٹ گیا۔‘‘

اس نے اطمینان سے کہا۔

اور میں اس کے اطمینان پہ حیران رہ گیا۔

’’تمہیں کچھ نہیں ہوا؟‘‘

’’کیا مطلب سر؟‘‘

’’مطلب یہ کہ تمہیں اپنی انسلٹ محسوس نہیں ہوئی۔‘‘

’’اس میں انسلٹ کی کیا بات ہے سر! وہ پہلے سے کسی اور کو پسند کرتا تھا۔ اس کے والدین کو یہ بات سوچنی چاہےے تھی۔ انسلٹ میری نہیں اس کے والدین کی ہوئی ہے۔ اور شاید میری انسلٹ تب ہوتی جب میں اس لڑکے میں انوالو ہوتی۔ جب کہ یہاں ایسی کوئی بات نہیں تھی اور آپ کی اطلاع کے لےے عرض ہے کہ یہ رشتہ ختم کرنے میں میرا اپناہاتھ تھا۔ کیوں کہ اس نے مجھ سے خود رابطہ کیا تھا۔‘‘

’’کیا ایسا تمہارے ساتھ پہلی بار ہوا ہے۔‘‘

’’آف کورس۔ آپ کا کیا مطلب ہے کیا روز میری منگنیاں ہوتی ہیں اور ٹوٹتی ہیں لا حول ولا۔۔۔ منگنیاں نہ ہوئیں قومی اسمبلی ہوگئی۔‘‘

میں ہنس پڑا۔ اور توقف سے بولا۔

’’چلو، یہ بھی اچھا ہوا۔ کہ تم خود اس رشتے میں انوالو نہیں تھیں وگرنہ تم اس وقت بے حد دکھی ہوتیں۔‘‘

وہ ہنس پڑی۔ اور بڑے اعتماد سے بولی۔

’’میں انوالو ہو بھی نہیں سکتی تھی۔‘‘

’’خیر یہ بات تو رہنے دو۔ کیا نام بتایا تھا تم نے اپنے منگیتر کا۔‘‘

’’حمزہ۔۔۔‘‘

’’ہاں۔ اگر حمزہ صاحب تم میں تھوڑی سی بھی دلچسپی رکھتے تو تمہارا انوالو ہوجانا فطری سا تھا۔‘‘

’’سر! کہانیوں اور حقیقی کرداروں میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں، اگر ہم ملتے جلتے تو میں اَسے پسند کرنے لگ جاتی۔ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے مردوں کی ذات سے کوئی دلچسپی نہیں۔‘‘

’’لیکن شادی تو تمہاری کسی مرد سے ہی ہوگی۔‘‘

’’بے شک۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھے مردوں کی محبت پہ زیادہ اعتبار نہیں ہے۔‘‘

’’کیا کسی مرد نے تم سے بے وفائی کی ہے۔‘‘

وہ ہنس پڑی اور لاپروائی سے بولی۔ ’’کوئی وفا کرتا تو بے وفائی کی نوبت آتی۔‘‘

میں فوری بھانپ گیا اس لڑکی کا مسئلہ کچھ بھی نہیں معمولی سی بات ہے یہ لڑکی خو د سے محبت کرتی ہے۔صنفِ مخالف کو اگنور کر کے اپنے آپ کو ارفع محسوس کرتی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی مردا س کے قریب آیا ہی نہیں۔ تو وہ اس جذبے کو کیسے محسوس کر سکتی تھی۔

اور میںنے اسی وقت ارادہ کیا کیوں نہ اس لڑکی کے ساتھ ایک کھیل کھیلا جائے۔ ایک محبت کا کھیل۔

اگر وہ اپنی ذات سے محبت کرتی تھی تو میں کون سا اپنے دائرے سے باہر تھا اور یہی میری سب سے بڑی کمزوری تھی کیوں نہ اپنی اس کمزوری کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دور پھینک دوں۔ اپنی ذات سے باہر تو نکلوں۔ آخر کب تک میں ایسا ہی رہوں گا۔ ڈرپوک اور بزدل۔ جاثیہ اگر میری انسلٹ بھی کرے گی تو کیا ہے اس چار دیواری میں ہی تو ہوگا سب کچھ۔ کون دیکھ رہا ہے؟

یہ خیال کتنا خوش کَن تھا میں ایک لڑکی سے محبت کرنے لگا ہوں۔ حالانکہ مجھے اس سے محبت نہیں تھی۔ لیکن میرا دل چاہتا تھا میں اس سے اظہارِ محبت کروں۔ اور اپنے جذبات کا رنگ اس کے چہرے پہ دیکھوں۔

جاثیہ نے باقاعدگی کے ساتھ آنا شروع کر دیا تھا۔ لیکن اس بار میں اس کی ذات میں بہت دلچسپی لے رہا تھا۔ یعنی وہ کپڑے کیسے رنگوں کے پہنتی ہے۔ میں اس کے انتخاب کی گاہے بگاہے تعریف کر دیتا۔

نازک مگر سانولی سی۔ بڑی بڑی آنکھوں والی مس جاثیہ سلطان میرے لےے ایک کھلونا تھی جس سے میں نے کھیلنا شروع کر دیا تھا۔ میں جانتا تھا اس عمل سے میں خود کو صرف جرات کے قریب کر رہا تھا۔ قلم کے ساتھ کرداروں کو کھلاتا ہوں۔ ذرا خود بھی تو کھیلوں اور پھر یہ کھیل شروع ہوگیا تھا۔

سرمد کو میری دلچسپی کا اندازہ ہوا تو ایک روز اس نے اکیلے میں مجھے آن لیا۔

’’مجھے تو معلوم تھا۔ ایساتو ضرور ہوگا۔‘‘ میں ہنس دیا۔ جب وہ مجھے زیادہ تنگ کرنے لگا تو میں نے اسے سچ بتا دیا۔

وہ بھی خود لاپروا اور کھلنڈرا سا تھا۔ میری بات سے بہت محظوظ ہوا۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے جاثیہ سے انسیت ہوتی جارہی تھی۔

میں لکھواتے لکھواتے اس کے ہاتھ دیکھنے لگ جاتا۔ سب خواتین کے ہاتھ ایسے ہی ہوتے ہیں یا جاثیہ کے ہاتھ اتنے ملائم اور خوب صورت ہیں، تب جاثیہ قلم بجاتی اور مجھے متوجہ کرتی۔

’’سر! آپ منظر میں بہت زیادہ کھوجاتے ہیں۔‘‘ میں خفیف سا ہوجاتا۔

اور پھر لکھوانے لگتا۔ اسی طرح آج ہوا۔ میں بول رہا تھا اور جاثیہ کا قلم چل رہا تھا۔

’’سبین اتنی خوب صورت تھی کہ راحیل اسے دیکھتا تو دیکھتا رہ جاتا ایک دن راحیل نے سبین سے کہا۔

’’تمہیں دیکھ کر دل کرتا ہے شاعر بن جائوں اور تمہارے بارے میں اور صرف تمہارے بارے میں لکھوں۔ تمہارے بال، تمہاری آنکھیں، تمہاری ہنسی۔ سبین تم کیا ہو۔ آئی لو یو۔ آئی لو یو۔‘‘

’’سر!‘‘جاثیہ زور سے چلُائی اور میں جو راحیل بنا سبین اور جاثیہ کو ایک کےے بیٹھا تھا۔ اچھل پڑا ، اس نے اپنے ہاتھ سے میرا ہاتھ ہٹایا اور جتلانے والے انداز میں بولی۔

’’سر!سبین نہایت کالی اور بھدی لڑکی ہے اور راحیل، راحیل تو اندھا ہیرو ہے۔‘‘

’’مگر۔ میں تو اندھا نہیں ہوں۔‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘ جاثیہ کی آنکھیں پھیل گئیں۔

’’میرا مطلب ہے کیا اندھوں کے جذبات نہیں ہوتے۔‘‘ میں نے ذرا رعب سے کہا۔

’’وہ۔۔۔ اندھا ہے۔ تب ہی تو کالی اور بھدی کی تعریف کر رہا ہے۔‘‘

’’اوہ۔‘‘ جاثیہ ہنس پڑی۔

سلسلۂ تحریر پھر چل پڑا۔ میں جاثیہ کو دیکھ رہا تھا اور بس بول رہا تھا۔

’’سر! اب بس کیجےے۔‘‘ جاثیہ نے اکتا کر قلم رکھ دیا۔ ’’اس کالو کی تعریف میں تقریباً تین صفحے ضائع ہوچکے ہیں۔‘‘

’’تم تو کالی نہیں ہو جاثیہ!‘‘

’’واٹ ڈو یو مین سر!‘‘

’’میرا مطلب ہے سبین بھی تمہاری طرح ہے۔ فراخ دل، خوش اخلاق، خوش مزاج۔‘‘

’’سر! آپ بھی تو فراخ دل ہیں۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ کچھ پیسے ہوں گے۔‘‘

’’ایک تو تمہاری یہ پیسے مانگنے کی عادت بہت بری ہے۔‘‘

’’سر! خوش مزاج رہنے کے لےے ضروری ہے کہ اپنی من پسند اشیاکھائی جائیں۔ اچھا ایسا کرتے ہیں دونوں اکٹھے برگر کھاتے ہیں۔‘‘

’’تم ایسا کرو۔ چائے بنائو۔ میں برگر لے کر آتا ہوں۔‘‘

’’سر! یہ پیسے تنخواہ میں سے تو نہیں کٹیں گے؟‘‘ وہ خوف زدہ ہو کر بولی تو میں ہنس پڑا۔

رفتہ رفتہ مجھ میں اور جاثیہ میں بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی۔ اب میں ان کے گھر بھی آنے جانے لگا تھا۔ اس کی ماں کو دیکھ کر لگتا کہ وہ صرف گھر کے کام کاج کرنے کے لےے دنیا میں آئی ہے اور باپ عبادت کرنے کے لےے۔ وہ لوگوں کو تعویذ بنا کر دیتا تھا۔ جھاڑ پھونک بھی کرتا تھا۔ یوں سارا دن اس کے پاس گھر کے لےے کوئی وقت نہ ہوتا۔ ایسے میں واقعی جاثیہ کو گھر کے ماحول سے گھٹن ہوتی ہوگی۔ تب ہی اس نے سترہ سہیلیاں اور خود کفالت سیشن رکھ لیا تھا۔

ان کا ذریعۂ آمدنی اس کے باپ کا لوگوں کا روحانی علاج اور کرائے کی تین دکانیں تھیں۔ ظاہر ہے اس لگی بندھی رقم میں کیا اخراجات پورے ہوتے ہوں گے۔

میں نے جاثیہ کی تنخواہ بڑھادی۔ وہ مجھ سے بہت خوش تھی اور میں بھی اس سے بہت خوش تھا۔ میں اس کی تعریف کرتا تو وہ برا نہ مانتی لیکن مجھے اس بات کا کیا فائدہ تھا۔ میں ایک لڑکی کی طرح اس کے چہرے پہ اپنے جذبات کے رنگ دیکھنا چاہتا تھا۔

آج وہ کالا سوٹ پہن کر آئی تھی۔ کالے کپڑوں میں اس کا گندمی رنگ سونے کی طرح کھل رہا تھا۔ اس کی سیاہ آنکھیں آج اور پھر پَرکشش لگ رہی تھیں۔

’’کالا رنگ تمہیں بہت سوٹ کرتا ہے۔‘‘

’’شکریہ سر۔‘‘

’’کبھی آدھی رات کو تم نے پورا چاند دیکھا ہے؟‘‘ میں اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے جذب سے بولا۔

’’سر! اگر میں نے کبھی ایسا کیا تو اماں پاگل سمجھ کر گھر سے نکال دیں گی۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولی تو میں نے سر پکڑ لیا۔

’’جاثیہ! تم نے عمر کہاں گزاری ہے؟‘‘

’’آدھی ددھیال میں اور آدھی ماں باپ کے پاس، کیوں سر؟‘‘

’’ایسے ہی جی چاہ رہا تھا۔ تمہارے رشتہ داروں کو سلام کر کے آئوں۔‘‘ میں نے چڑ کر کہا اور کام شروع کر دیا۔

’’جاثیہ! تم نے کبھی بال نہیں کھولے۔‘‘ میں نے اس کے لمبے گہرے سیاہ بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

’’سر! روز کھولتی ہوں نہانے کے لےے۔ اور جب اماںکو مجھ پہ پیار آتا ہے تو گھنٹوںجوئیں دیکھتی رہتی ہیں۔ سر! یہ ہمارے یہاں پیار کرنے کا عجیب ہی انداز ہے کسی پر جیسے ہی پیار آیا۔ جھٹ پکڑا۔اور بال چنڈنے بیٹھ گئیں۔ ایک نئی نویلی دلہن کے ساتھ جب بہت ساری خواتین نے بیک وقت اظہارِ محبت کا یہ انداز اپنایا تو دولہا گھر سے بھاگ گیا۔ نہ جانے کتنی جوئیں ہوں گی دلہن کے جو ساری عورتیں وفورِ شوق سے جت گئی ہیں۔ مائی گاڈ۔۔۔‘‘

جاثیہ اپنے لطیفہ پہ خود ہی دانت نکال رہی تھی اور میں اسے غصے سے دیکھ رہا تھا۔

آج بس میں نے سوچ لیا تھا۔ اسے اس نورا کشتی میں چت نہ کردوں تو اسید نام نہیں۔ آج اس نے ہلکے آسمانی رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ اس کی کلائیاں سادی سی چوڑیوں سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ میرے سامنے تھی اور میں اس کے سامنے۔ میرا دل چاہا اس کی چوڑیوں کو چھیڑوں اور پھر اچانک میری انگلی اس کی چوڑیوں کو گننے لگی اور پھر اس کی کلائی تک پہنچ گئی۔

جاثیہ اچانک بدک گئی۔ اس کے چہرے پہ خفیف سا رنگ تھا اس نے جلدی سے میز پہ سے ہاتھ اٹھالیا اور حیرت و جھجک کے ملے جلے تاثرات سے مجھے دیکھنے لگی۔ حیرت کی بات ہے، مجھے ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوئی اور میں ڈھٹائی سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ شاید اس کی جھجک نے مجھے اس پہ حاوی کر دیا تھا۔

’’تمہارے ہاتھ بہت خوب صورت اور ملائم ہیں جاثیہ!‘‘

اور دوسرے ہی پل چٹاخ سے جاثیہ کا زور دار تھپڑ میرے منہ پہ آلگا۔ میرے چودہ طبق روشن ہوگئے۔

’’سر! یہ ہاتھ وقت پڑنے پہ کھررے بھی ہوجاتے ہیں۔‘‘

میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔

رات کے دو بج رہے تھے۔ کیا جاثیہ میرے حوالوں پہ اتنی سوار ہوگئی تھی کہ مجھے رات دن اس کے سپنے دکھائی دینے لگے تھے۔

میںنے ایک سرد سی جھرجھری لے کر اپنے گال پہ ہاتھ رکھا۔ شکر ہے کہ سپنا تھا حقیقت نہیں۔ میں لاحول پڑھ کر واپس لیٹ گیا۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

آج جاثیہ نے واقعی آسمانی سوٹ پہن رکھا تھا۔ مجھے رات کا خواب یاد آگیا۔ میں نے سوچا کہیں خواب سچ ثابت نہ ہوجائے۔ اس لےے آج جاثیہ سے محتاط رہوں گا۔ جاثیہ نے بال کھولے ہوئے تھے۔ حالانکہ سپنے میں وہ چوٹی کے ساتھ تھی۔ کیا وجہ تھی جاثیہ میرے حواسوں پہ چھاتی جارہی تھی۔ میں اسے کن انکھیوں سے دیکھتا رہا۔

’’سر! ادیب لوگ نہایت بزدل ہوتے ہیں، اپنی خواہشات کا اظہار قلم سے کرتے ہیں۔‘‘ اس نے میری چوری پکڑ لی تھی۔

میں کھسیا سا گیا۔

’’شاید انہیں تھپڑ سے ڈر لگتا ہے۔‘‘

’’کیا مطلب سر؟‘‘

’’کچھ نہیں۔‘‘ میں جلدی سے بولا۔

’’کیوں نہ جاثیہ! ہم باہر لان میں بیٹھ کر کام کریں۔ موسم بہت خوش گوار ہورہا ہے۔‘‘

’’سر! آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔ باہر تو بڑی سخت دھوپ ہے۔‘‘

اس کے چہرے پہ معنی خیز مسکراہٹ تھی میں سر کھجانے لگا۔

’’شاید تمہارے بالوں کی گھٹائیں میرے حواسوںپہ چھارہی ہیں۔‘‘

میری ازلی بزدلی میرا گلا گھونٹ رہی تھی۔ لیکن ہمت کر کے میں نے گھٹی گھٹی آواز میں کہہ دیا۔

وہ کہنے لگی۔ ’’سر! میرے حواس قبھی قائم ہیں۔ مجھے کسی کہانی کا کردار مت سمجھئے گا۔‘‘

’’جاثیہ آئی لو یو۔۔۔۔!‘‘ میں نے کہنے میں ایک سیکنڈ لگایا۔

جاثیہ ایسے اچھل کر کھڑی ہوگئی۔ جیسے اس کی کرسی کے نیچے بم پھٹ گیا ہو۔

’’مجھے کیا معلوم تھا دل لگی، دل کی لگی بن جائے گی۔‘‘

’’سر! میرا خیال ہے مجھے یہ جاب چھوڑ دینی چاہےے۔ آپ کہانی لکھواتے لکھواتے کہانی کا کردار بن رہے ہیں۔‘‘

’’تو تم اس کہانی کو مکمل کر دو نا۔‘‘

وہ سچ مچ بوکھلا گئی اور سچ مچ مجھے بہت مزا آیا۔

’’آئی ایم سوری سر! میں چلتی ہوں۔‘‘

وہ جانے لگی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میرا جذبہ صادق تو تھا اس پہ اثر کیوں نہ کرتا۔

اس نے نگاہیں نیچی کرلیں۔

’’جاثیہ! میری بات کا یقین کرو۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

اس نے میری طرف دیکھا اور دوسرے ہی پل نگاہ جھکالی۔

’’تھپ۔۔۔تھپ۔۔۔تھپ۔‘‘ تالی کی آواز پہ ہم دونوں نے بیک وقت مڑ کر دیکھا۔ سرمد سامنے ہی کھڑا مسکرا رہا تھا۔

’’اس بات سے ثابت ہوا سب لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں۔‘‘ میںجلدی سے سنبھل گیا۔ جاثیہ خفیف سی ہوگئی، وہ تالی بجاتے بجاتے ہمارے قریب آگیا۔

’’بہت زبردست سچویشن تھی۔ اگر حقیقت ہوتی تو۔۔۔ اب ہمارا ہیرو بھی ہیرو بنتا جارہا ہے۔‘‘

اس نے مجھے تھپکی دی۔ جاثیہ کبھی اس کی اور کبھی میری طرف دیکھ رہی تھی۔

’’مس جاثیہ! پریشان نہ ہوئےے۔ یہ محض ایک کھیل تھا جس میں یہ بے وقوف کامیاب ہونا چاہتا تھا۔ سو ہوگیا۔‘‘

’’کھیل!‘‘ جاثیہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

میں بوکھلا گیا۔ جبکہ سرمد لاپروائی سے ہنس رہا تھا۔

’’تو آپ کیا سمجھ رہی ہیں۔ یہ آپ سے واقعی محبت کرنے لگا ہے، جسٹ فار جوک۔ یہ محض تجربہ کر رہا تھا آپ پر۔‘‘

تذلیل کے احساس سے جاثیہ کا چہرہ یک لخت سرخ ہوگیا۔

’’یہ آج تک کسی لڑکی سے اظہارِ محبت نہیں کر سکاتھا۔ آج اس نے جرات کی تو آپ پر۔ اس کریڈٹ کی حق دار آپ ہیں۔ خیر اس نے آپ کو بھی ایک نئے احساس سے روشناس کرا دیا ہے۔‘‘

جاثیہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں۔ اس نے اپنا پرس اٹھایا۔ اور ایک لمحہ بھی ضائع کےے بغیر میرے کمرے سے نکل گئی۔

’’جاثیہ سنو تو سہی۔‘‘ میں تیزی سے اس کے پیچھے بھاگا، لیکن وہ ہوا کی طرح غائب ہوگئی۔

’’یہ کیا بدتمیزی تھی؟‘‘ میں سرمد پہ چڑھ دوڑا۔

’’بدتمیزی یار! خوامخواہ لڑکی خوش فہمی کا شکار ہوجاتی میں نے جلد ہی پول کھول دیا۔ تم بدتمیزی کہہ رہے ہو۔‘‘

’’تم نے بہت غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔‘‘ مجھے بہت غصہ تھا۔

’’اور تم جو اخلاق کے دائرے سے باہر ہوئے جارہے تھے۔‘‘

’’شٹ اپ! تمہیں میرے معاملات میں یوں دخل اندازی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ میرا اور اس کا ذاتی معاملہ تھا۔‘‘

’’ذاتی معاملہ۔‘‘ سرمد حیران ہو کر ہنسا۔

’’کل تک تو ایک ڈرامہ تھا۔ اچانک ذاتی معاملہ کیسے ہوگیا۔‘‘

’’میں اسے سچ مچ پسند کرنے لگا ہوں۔‘‘ میں نے اقرار کیا۔

’’اے بھائی!‘‘ سرمد نے مجھے جھنجھوڑا۔ ’’کیا تم ہوش میں ہو؟‘‘

’’ہاں۔ میں ہوش میں ہوں۔‘‘ میں چلُایا۔

’’یہ سچ ہے کہ میں اس کے ساتھ ڈرامہ کر رہا تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ ڈرامہ میری زندگی کا حصہ بن گیا تھا۔ تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے سرمد! تم نے اس کے دل کو ہی ٹھیس نہیں پہنچائی، مجھے بھی اس کی نظروں میں ذلیل کر دیا ہے۔‘‘

سرمد چپ چاپ مجھے دیکھتا رہا۔

’’آئی ایم سوری۔ مجھے یہ سب معلوم نہیں تھا۔ اگر تم اتنے ہی سیریس تھے تو اس کے والدین کے پاس پرپوزل بھیجتے۔‘‘

’’ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔‘‘ میں زچ ہوگیا۔

’’اب وقت ضائع نہ کرو۔ اپنا پرپوزل بھیج دو اور باوقار طریقے سے شادی کرلو۔ ویسے بھی اب تمہاری عمر عشق لڑانے کی تو ہے نہیں۔‘‘

وہ پھر غیر سنجیدہ ہونے لگا تھا۔ نہ جانے وہ کیا کچھ بول رہا تھا، لیکن مجھے جاثیہ کی فکر تھی۔

اگلے ہی روز میں اس کے گھر ملنے گیا اور اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔ جاثیہ میرا چین، سکون سب کچھ لوٹ کر لے گئی تھی کیا میں دوسری بار بھی یونہی تہی دست رہ جائوں گا۔ میں نے آپا کو فون کیا جنہیں صرف سال میں دو بار میری شادی کی فکر ستاتی تھی اور پھر بھول جاتیں۔ جیسے ہی آپا کو پتا چلا کہ میں شادی کے لےے رضامند ہوگیا ہوں۔ وہ کوئٹہ سے سرپٹ دوڑی آئیں۔

میں بتا نہیں سکتا وہ کتنی خوش تھیں، لیکن میں تب خوش ہوتا جب جاثیہ ہاں کرلیتی۔ وہ جاثیہ کے گھر سوال لے کر گئیں لیکن وہاں سے انکار ہوگیا۔ مجھے امید نہیں تھی کہ جاثیہ اتنی کٹھور ثابت ہوگی۔

ایک بار نہیں میں نے کئی بار آپا کو بھیجا لیکن مسلسل انکار ہوتا رہا۔ آپا اس پرپوزل سے اکتا گئیں۔ ایک تو وہ خاصے امیر شخص کی بیوی بن چکی تھیں۔ اس لےے جاثیہ کے گھر والوں کے زیادہ نخرے برداشت نہیں کر سکیں۔ دوسرے جاثیہ کا گھرانہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ جو انہیں اپنی شخصیت کے شایانِ شان نہیں لگ رہا تھا۔ کہنے لگیں۔

’’تمہیں بھی پوری دنیا میں ایک وہی لڑکی ملی تھی۔ بتیس سال کی عمر میں شادی کی ہامی بھی بھری تو اس مولانا کی بیٹی سے جس کی نہ شکل ڈھنگ کی اور نہ مزاج۔ ماں ایسی ہے اس کی جیسے سولہویں صدی کی روح ہو۔ اس سے بھی اچھی اچھی بہت لڑکیاں ہیں، اگر تم کہو تو بات کروں۔‘‘

مجھے آپا کی بات بہت بری لگی۔ اب میں آپا کو ساری بات تو نہیں بتا سکتا تھا۔

سرمد میری پریشانی کو دیکھ کر کہنے لگا۔

’’اب اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے۔ میں بہ نفسِ نفیس محترمہ سے معافی مانگ آیا اور اسے ہزارہا یقین دلایا کہ میں مذاق کر رہا تھا۔ لیکن وہ تو ایسے مسند پہ بیٹھ گئی ہے جیسے بہادر شاہ ظفر کی پوتی یا سلطان اعظم سے اس کا شجرہ ملتا ہو۔ یار! میں تو کہتا ہوں خوامخواہ اس چیل کو شاہین کا رتبہ نہ دو اور جہاں آپا کہتی ہیں شادی کرلو۔‘‘

’’تم نے چیل کسے کہا؟‘‘ مجھے سرمد زہر لگ رہا تھا۔

’’اسے، جسے تم بھولی بلبل سمجھ رہے ہو۔ اگر اپنا وقار اور اپنے فن کی بقا چاہتے ہو تو کسی اچھی سی جگہ چپ چاپ شادی کرلو۔ سمجھ لو جاثیہ تمہاری زندگی میں آئی ہی نہیں تھی۔‘‘

’’کیسے یقین دلائوں اس دل کو۔ جو صرف جاثیہ ، جاثیہ پکارتا رہتا ہے۔‘‘ میرے دل میں ٹیس سی اٹھی۔

نیہاں کی محبت، خاموش محبت تھی۔ لیکن جاثیہ سے میں اعتراف کر چکا تھا۔ اور جاثیہ دنیا کی پہلی لڑکی تھی۔ جس سے میں نے اعتراف محبت کیا تھا یعنی اپنی زندگی بھر کی پونجی اس کے حوالے کی تھی۔

پھر کیسے اس دل کو سنبھالوں۔ سمجھائوں۔

﴿خ﴾﴿خ﴾﴿خ﴾

کئی دن کئی راتیں بے چین مضطرب گزر گئیں۔

اور مجھے آپا کے فیصلے کے آگے ہار ماننا پڑی۔ آپا نے میرے لےے ایک اور لڑکی دیکھ لی تھی۔ پڑھی لکھی تھی، ذہین تھی، خوب صورت تھی اور نہ جانے اس میں کیا کیا خوبیاں تھیں۔ لیکن وہ جاثیہ نہیں تھی اور شادی کا دن بھی طے ہوگیا۔

شادی بڑی سادگی سے انجام پائی۔ سادگی کی وجہ یہ تھی کہ لڑکی کا گھرانہ مذہبی تھا۔ شادی کی رسومات میرج کلب میں انجام پذیر ہوئیں۔ رات گئے مہمانوں کو رخصت کر کے ہم دلہن کو گھر لے آئے۔

میری بھابیاں اور بہن دلہن کو میرے کمرے میں لے گئیں۔ میں اپنے قریبی دوستوں میں گھرا بیٹھا تھا۔ محفل جمی ہوئی تھی۔ لیکن میرا دل ویران تھا، اور میں اپنے دل کو اس نئے فیصلے سے ہم آہنگ کرنے میں لگا ہوا تھا۔

اور پھر وہ گھڑی بھی آگئی جب مجھے اس اجنبی خاتون کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ کمرے میں داخل ہو کر میرے دل میں ہوک سی اتھی۔ کاش یہاںجاثیہ ہوتی۔ تو یہ کمرا جو رنگ برنگی خوشبوئوں سے معطر اور پھولوں سے آراستہ ہو کر بھی مجھے زہر لگ رہا ہے کتنا خوب صورت لگتا۔

مگر۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ محبت میں دوسری بار ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد مجھے ہیٹ ٹرک سے بچنا چاہےے، کہیں ایسا نہ ہو۔ میری بے زاری کو دیکھتے ہوئے یہ خاتون جو میری بیوی بن چکی ہے۔ مجھ سے دل برداشتہ ہو کر مجھے چھوڑ جائے۔ اس لےے بہتر ہے زندگی کی اس صورت کو قبول کرلوں۔

اور پھر میں کرسی کھینچ کر بیڈ کے قریب بیٹھ گیا۔ اور سلسلۂ کلام شروع کیا۔

’’آپ اور میں، ہم دونوں ایک دوسرے کے لےے اجنبی ہیں، حتیٰ کہ میں آپ کا نام بھی نہیں جانتا۔ میں نے بنا پڑھے ہی نکاح نامے پہ دستخط کےے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے آپ کو قبول کر لیا ہے۔ لیکن آپ کو میرے دل میں جگہ پانے کے لےے خود محنت کرنا پڑے گی۔ میں آپ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ میں اس وقت بہت بکھرا ہوا ہوں۔

’’آپ سے پہلے میری زندگی میں دو لڑکیاں اور بھی آچکی ہیں، لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ آخری لڑکی ہیں۔ آپ کے بعد میری زندگی میں کوئی لڑکی نہیں آئے گی۔‘‘

میںنے شکستہ سے انداز میں کہا۔

’’ذرا ان دو لڑکیوں کے نام بھی بتا دیجےے۔‘‘گھونگھٹ میں سے بڑی سریلی آواز آئی۔

’’میرا خیال ہے آپ کو ان ناموں اور انسانوں کی فکر نہیں ہونی چاہےے کیونکہ ان سے اب میرا کوئی واسطہ نہیں ہے۔‘‘

’’میں کیسے یقین کرلوں؟‘‘ چمک کر پوچھا گیا۔ ساتھ ہی گھونگھٹ بھی اٹھ چکا تھا۔

میری تو چیخ نکل گئی۔

’’تت۔۔۔تم۔‘‘

’’کیوں پسندنہیں آئی؟‘‘ جاثیہ نے شرارت سے پوچھا۔

اور میں بتا نہیں سکتا۔ میری کیا حالت تھی۔ خوشی کے مارے میں چکرا گیا۔ کئی لمحے مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کس کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کروں۔ اتنی بڑی خوشی پاکر کہیں میں دیوانہ نہ ہوجائوں۔ اسی دیوانگی میں میں نے جاثیہ کو بازوئوں میں جکڑ لیا۔

’’جاثیہ! جاثیہ! میری جان۔ آئی لو یو۔ آئی لو یو۔ تم نہ ملتیں تو میں۔۔۔ میں مرجاتا۔ میں بتا نہیں سکتا کہ تمہیں پا کر میں کتنا خوش ہوں۔‘‘

جاثیہ میری دیوانگی، وحشت پر سراسیمہ رہ گئی۔ یہ روپ تو اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ میرے جنون سے ادھ موئی ہوگئی۔ تب مجھے خیال آیا تو میں کچھ نارمل ہوا۔

’’مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ حقیقت ہے یا خواب۔‘‘ میری خوشی چھلکی جارہی تھی۔

’’جب آپ میرے ساتھ ڈرامہ کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہ بدلہ لیتی۔‘‘وہ بہت دیر کے بعد بولی۔

’’میں واقعی، تمہارے ساتھ دل لگی کر رہا تھا لیکن نہ جانے کب دل کی لگی بن گئی۔ لیکن۔۔۔ تم نے ایسا کیوں کیا؟‘‘

مجھے اچانک خیال آیا تو میں جلدی سے بولا۔

’’اس لےے کہ میں یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ سب لڑکیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔‘‘

میں سرمد کے لفظوں پہ شرمندہ ہوگیا۔

’’وہ تو بس ایسا ہی ہے۔‘‘

’’ایسا ہی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے آپ نے اسے میرے بارے میں کچھ نہ کچھ بتا رکھا تھا۔ سر! اگر آپ کے اظہارِ محبت پہ میں خاموش ہوگئی تھی تو اس کا مطلب یہ تو نہیں تھا کہ میں نے وہیں آپ کو دل دے دیا تھا۔‘‘

’’اب بنو نہیں۔ اگر دل نہیں دیا ہوتا تو تم آج یہاں نہیں ہوتیں۔‘‘ میں نے اس کا جھوٹ پکڑا۔

وہ ذرا سا جھینپ گئی لیکن بات بناتے ہوئے بولی۔

’’آپا کے بے حد اصرار پہ ہاں کی تھی میں نے۔‘‘

’’یعنی سب نے مل کر مجھے الو بنایا۔‘‘

’’الو اور چیل کی کبھی نہیں بنتی۔ ذرا سنبھل کر رہنا۔‘‘

آپا اچانک کمرے میں داخل ہوئیں تو ہم دونوں ہی سنبھل گئے، ان کے ہاتھ میں دو کنگن تھے۔

’’امی کی دی ہوئی نشانی تمہاری دلہن کو پہنانے آئی ہوں۔‘‘

آپا نے جاثیہ کی کلائیوں میں کنگن ڈالتے ہوئے کہا۔

پھر ہم دونوں کو دعائیں دینے لگیں۔ ’’خوش رہو۔ شاد آباد رہو۔‘‘

’’یعنی آپ بھی ان کے ساتھ کھیل میں شامل ہوگئی تھیں۔‘‘ میں نے آپا سے شکوہ کیا۔

’’بھئی! مجبوری تھی اور وہ مجبوری پتا ہے کیا تھی۔ جاثیہ کی سترہ سہیلیاں۔ وہ سترہ تھیں اور میں اکیلی۔ بات تو ماننا تھی۔‘‘ آپا نے لاچاری سے کہا۔

’’آپا! آج کے بعد سے جاثیہ سے کہہ دیں اپنی سترہ سہیلیوں کو بھول جائے۔‘‘ میں نے ذرا رعب سے کہا۔

’’مگر کیوں؟‘ جاثیہ نے دبا دبا احتجاج کیا۔

’’اس لےے کہ یہ میرا حکم ہے۔‘‘

’’آپا!‘‘جاثیہ نے مدد طلب نگاہوں سے آپا کی طرف دیکھا، وہ کاندھے اچکا کر فارغ ہوگئیں۔

’’بھئی یہ میرامسئلہ نہیں ہے اب اسے خود ڈیل کرو۔۔۔ اور ہاں ذرا یہ خیال رکھنا کہ یہ اب تمہارے سر نہیں سرتاج ہیں۔‘‘

مجھے کلف لگ گیا۔ جاثیہ کا منہ پھول گیا۔ آپا کمرے میں سے جا چکی تھیں۔ مجھے اس کی صورت دیکھ کر ہنسی آگئی اور پھر میں نے اسے خود سے قریب کر لیا۔

’’میری زندگی کی کہانی کو تم نے بہت خوب صورت انجام دیا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا تمہارا کیسے شکریہ ادا کروں۔‘‘ میں نے بڑے جذب سے کہا۔

’’میری سترہ سہیلیوں پر سے پابندی ہٹا کر۔‘‘

جواب پٹ سے آیا۔ میں نے سر پکڑ لیا۔

اب کی بار جاثیہ ہنس رہی تھی۔ اس کی ہنسی کا جلترنگ پورے کمرے کو معطر اور تابندہ کررہا تھا۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں