’چاند کا ٹکڑا ہے میری بیٹی۔‘‘
’’اے جس گھر میں یہ چراغ جلے گا سدا کے لےے روشن ہوجائے گا۔‘‘
’’سوچتی ہوں وہ گھر کیسا ہوگا جس میں میری بیٹی بہو بن کر جائے گی۔‘‘
’’آئے ہائے۔ گیا وقت ہاتھ نہیں آتا۔ کیا ہی اچھا ہوتا جو رئیس کی دلہن بنتی میری چندا۔ میں تو خوشیوںکے ہنڈولوں میں جھول رہی ہوتی۔‘‘
آنکھوں میں آنسوئوں کے ساتھ وہ پھمُو کی پیشانی چوم لیتی۔
’’سانپ نکل جائے تو لکیر پیٹنے سے کیا حاصل۔ وہ مرن جوگا تو عشق رچا کے دفعان ہوگیا گھر سے، گھر جنوائی بن بیٹھا۔
پر تو فکر نہ کر میری رانی۔ تیرے لےے ایسا بر تلاش کروں گی کہ دنیا عش عش کر اٹھے گی ۔ تَو ملکہ بن کر راج کرے گی۔ دیکھ لینا مجھ بڑھیا کی سوہنا رب ضرور سنے گا۔‘‘ اس کی آنکھیں مسکرانے لگتیں۔
شیداں خالہ کا احساسِ جرم اسے دوڑائے لےے پھر رہا تھا۔ باہر آتے جاتے سے وہ یہ کہنا نہ بھولتی۔ ’’کوئی اچھا لڑکا نظر میں ہو تو ضرور بتانا۔‘‘
اس دن ملتان سے بہاول پور آتے ہوئے بس کے سفر میں ایک ادھیڑ عمر عورت سے دوستی ہوگئی۔ ایک دوسرے سے آگاہی ہوتے ہی شیداں خالہ کو اپنی پھمُو یاد آگئی۔ بات ابھی اس کے دل میں ہی تھی کہ اس کی نئی دوست اور ہم سفر فاطاں بول اٹھی۔
’’بہن! میں تو اپنے غلام جعفر کے لےے ماری ماری پھر رہی ہوں۔ کسی نے بتایا تھا بوہڑ گیٹ کے اندرون ایک لڑکی ہے۔ اسے دیکھنے گئی تھی ملتان۔ وہیں سے واپس آرہی ہوں۔ ہونہہ لڑکی۔ اللہ ماری پوری ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ آدھا سر سفید، چہرے پر جھریاں ہی جھریاں۔ اے میں کہوں آنکھیں عمر کا سارا راز چپکے سے بتادیویں ہیں۔ بے شک غلام جعفر کی ماں میری منہ بولی بہن سہی لیکن میں اس کی دشمن تو نہیں بن سکتی۔ میرا غلام جعفر تو ابھی کھنچ کھنچا کے صرف بائیس سال کا ہے۔‘‘
شیداں خالہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔ کان کھڑے ہوئے۔ وہ غور سے فاطاں کی باتیں سننے لگیں۔
’’یہ تاڑ جیسا قد، گورا چٹا، بادامی آنکھیں، سرخ و سپید چہرہ، صحت مند، خوبرو، پوری بارہ جماعتیں پاس ہے۔ ہمارے اردگرد وہ واحد چھوکرا ہے، کالج کا پڑھا ہوا۔ اس پر اللہ کا فضل ہے۔ اپنی زمینیں ہیں۔ ٹیوب ویل ہے۔ ٹریکٹر بھی لے رکھا ہے۔ دانہ پانی گھر کا ہے۔ پھر بھی اسے نوکری کی بڑی چاہ ہے۔ پٹوار کے دفتر میں عرضی دے رکھی ہے۔ اللہ نے چاہا تو آتے سال سے پہلے ہی پٹواری ہوجائے گا۔ بہن تم شہر کی رہنے والی ہو نا؟‘‘
’’ہاں ہاں، قدیم شہر کی۔‘‘
’’تمہاری تو گھر گھر واقفیت ہوگی۔‘‘
’’کیوں نہیں۔‘‘
’’کوئی اچھی لڑکی ہو تو بتائو۔‘‘
شیداں خالہ دعا کی قبولیت پر کِھل اٹھی۔ لیکن جلد بازی سے پرہیز کرتے ہوئے خاموش ہی رہی۔
’’غلام جعفر کی ماں کو گھر میں بہو لانے کا بڑا ارمان ہے۔ غلام جعفر سب سے چھوٹا بیٹا ہے نا اس کا۔‘‘
’’کیوںنہیں، کیوں نہیں۔ شادی بیاہ میں کسی کی مدد کرنا ثواب کا ہی کام ہے۔‘‘
اس نے فاطاں کو اپنے گھر کا پتا سمجھا دیا۔ فاطاں نے اسی وقت آنے کی تاریخ اور دن بلکہ وقت بھی بتا دیا۔ لودھراں آچکا تھا۔ یہاں سے فاطاں کی راہیں جدا ہورہی تھیں۔ وہ گرم جوشی سے اللہ حافظ کہہ کے اپنی شیداں خالہ کے گھر آمد کا دہرا کے بس سے اتر گئی۔ اور شیداں خالہ سوچتی رہ گئی۔
وہ اور حمیدہ سگی بہنیں تھیں۔ دونوں کا بیاہ ایک ہی خاندان میں ہوا۔ شیداں کا شوہر کچھ سال ہوئے مر گیا تھا۔ وہ تین بیٹوںکے ساتھ اکیلی رہ گئی تھی۔ حمیدہ یعنی میداں کے چار بیٹیاں اور تین بیٹے تھے۔ اس کا میاں بے حد غریب تھا۔ زمینداروں کی شادیوں پر باراتیوں کی خدمت کر کے، دوسرے کام کر کے وہ کچھ پیسہ کما کے لے آتا۔ جس سے گھر کی ہنڈیا چلتی۔ ہر زمیندار سال کے سال ربیع کی فصل پر من دو من گندم بھی اسے دے دیتا۔ تیس چالیس من گندم اکٹھی کر کے میداں کا گھر والا بچوں کی روٹی کی فکر سے آزاد ہوجاتا۔ میداں ربیع میں ’’وڈھ‘‘ چنتی اور خریف میں کپاس۔ یوں کپڑے لتے کی فکر بھی ٹل جاتی۔ ایک دو بھینسیں بھی گھر میں بندھی رہتیں۔ جن کا دودھ، مکھن اور گھی بیچا جاتا اور لسی روٹی کھانے کے کام آجاتی۔
اس کے برعکس شیداں کا شوہر ایک بڑے جاگیردار کے ہاں منشی تھا۔ یہ فائدہ اس کے چار پانچ جماعتیں پڑھے ہونے کی وجہ سے تھا۔ اس نے جاگیردار کے مال میں خوب خوب بے ایمانیاں کیں اور کچھ نہ کچھ اپنا مال بنالیا تو قریب کے شہر میں دو چار کمروں کا پکا گھر بنالیا۔ پکے گھر میں اٹھ آنے پر شیداں کافی مغرور ہوگئی۔ اس کے میاں نے شہرکے بازار میں کپڑے کی دکان کھول لی تو اس کے ناز نخروں میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔ چند برس بعد میداں بہن سے ملنے گئی تو حیران رہ گئی۔ ہاتھوں میں بھر بھر سونے کی چوڑیاں، گلے میں سونے کا لاکٹ ، کانوں میں جھمکے۔ تن پر ریشمی لباس، اس نے بہن اور اس کے بچوں کو نوکروں سے زیادہ اہمیت ہی نہ دی۔ سجے سجائے کمروں کو تالا لگائے رکھا۔ میداں جو گھنے درختوں کی چھائوں میں بیٹھنے کی عادی تھی شہر کے پکے گھر کے برآمدے کی گرمی برداشت نہ کر سکی اور گھر لوٹ آئی۔ اس نے پھر بھی امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ شیداں کے بیٹے خیر سے جوان تھے تو اس کی بیٹیاں بھی شادی کے لائق تھیں۔ خالہ کے گھر جا کر عیش کی زندگی گزار سکتی تھیں لیکن اس کے خواب بکھر گئے۔ جس دن شیداں کھڑے پیروں اسے بلاوا دینے آئی اس کے شوہر نے اپنے بیوپاری دوست سے اپنے دونوں بڑے بیٹوں کا رشتہ طے کر دیا تھا۔ بڑی خوش تھی وہ۔ اس کی بہوئیں بڑا سامان جہیز میں لے کر آرہی تھیں۔ جس دکان میں شیداں کا گھر والا بطور کرایہ دار کاروبار کرتا تھا وہ دکان بھی ان لڑکیوں کی ملکیت تھی۔
میداں دم بخود بیٹھی اس کی باتیں سن رہی تھی۔ بہن کے گھر بیٹیاں بیاہنے کی خواہش اپنی موت آپ مر گئی۔ اس نے ٹوٹے دل کے ساتھ شادی میں شرکت کی اور گھر لوٹ آئی۔
شیداں کتنی خوشی تھی۔ ہوائوں میں اڑتی پھر رہی تھی۔ گھر سامان سے بھر گیا تھا۔ فریج، کولر، ٹی وی، واشنگ مشین۔ ایک ایک نہیں دو دو تھیں۔ لش لش کرتے زیور، جھلملاتے کپڑے، خوشبوئوں اور رنگوں کا راج تھا گھر پر۔ اس کی سیدھی سادی بیٹیوں کا حسن اس رنگینی میں کتنا بے مول اور غیر اہم لگ رہا تھا۔
اس نے یہ خیال دل سے کھرچ دیا۔ حق داری کا ادراک دل میں چبھن اتارے رکھتا ہے۔ میداں بھول گئی کہ شیداں ا س کی بہن ہے۔
’’لا حاصل خوابوں سے بے نیازی ہی آسان زندگی کی طرف جانے والا واحد راستہ ہے۔‘‘
کتنی مدت بیت گئی۔ احمد بخش بوڑھا ہوگیا۔ وہ یوں بھی عمر میں میداں سے کئی برس بڑا تھا۔ وہ اب گائوں گائوں شادیاں کمانے کے لائق نہ رہا تھا۔ بیٹے چھوٹے تھے۔ کام کاج کے قابل نہ تھے۔ بیٹیوں کی جوانی کے پہاڑ اس کے سینے پر دھرے تھے۔ وہ روز بروز بے حال ہوئی جارہی تھی۔ ادھر گائوں کا ماحول بدل رہا تھا۔ احمد بخش گھر بیٹھا تو ساری کمائی بند ہوگئی۔
بڑی مدت بعد شیداں گائوں آئی۔ شاید بہن کی مفلوک الحالی نے اسے جھنجھوڑ دیا۔
نہیں۔ بلکہ بہوئوں کی بدسلوکی نے اسے اپنے اصل کی طرف رخ کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے چھوٹے بیٹے نے جو میٹرک کر کے کسی محکمے میں کلرک ہوگیا تھا اپنی پسند سے شادی کی اور بیوی کے ہاں جا گھسا، گھر داماد بن کر بڑے بیٹے دولت مند گھر کی بیٹیوں کے غلام ہو کر رہ گئے۔
شیداں کی خوشیاں بہت جلد دم توڑ گئیں۔ اس نے شکست مان لی۔ یہاں آئی تو بھانجیوں نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ دن رات خدمت کی اور جو موٹا جھوٹا گھر میں پکتا تھا خلوص سے پیش کیا تو وہ مجرم سی بن گئی۔
شاید اس کے جرم کی سزا تھی۔ اس نے قطع رحمی کی تھی۔ بیٹوں کو غیروں میں بیاہ کر۔ واقعی دولت نے اس کی آنکھوں پر پٹُی باندھ دی تھی۔
ادھر شہر کے مضافات میں فارغ پڑی اراضی پرجو حکومت کی تھی لوگوں نے اپنے گھر بنالےے تھے۔ میداں کے لےے اس کے ذہن میں یہی ترکیب آئی۔
وہ انہیں شہر لے آئی اور سرکاری اراضی پر ایک دو چھپُر ڈال کرمیداں آباد ہوگئی۔ اس کے بیٹے مختلف کاموں پر لگ گئے۔ بیٹیاں گھر میں سلائی کڑھائی کا دھندا کرنے لگیں۔ دو چار سال کی تنگ دستی کے بعد میداں کے گھر میں بھی پیسے نے صورت دکھائی اور چھپُروں کی جگہ کچے چھت دار کمروں نے لے لی۔
نیرنگیٔ زمانہ کی بات تھی۔
یا کوئی اور مسئلہ تھا۔
شیداں کو اب اپنے پکے خوب صورت اور ٹھنڈے گھر میں چین بمشکل ہی ملتا تھا۔ وہ اکثر بہن کے گھر ہی رہ جاتی۔
باسی روٹی اور چٹنی میں اسے پیار کی خوشبو اور لذُت ملتی تھی۔ پھر شوہر کے مرجانے پر تو اس گھر سے اس کا تعلق برائے نام رہ گیا۔اپنی جمع پونجی اور زیور کپڑا بھی اس نے چپکے سے بہن کے ہاں لارکھا۔ وہ بہن کے دکھ سکھ میں برابر کی شریک تھی۔
شہر میں لڑکیوں کی شادی بڑا گمبھیر مسئلہ تھی۔ بڑی کی عمر تو شادی کی عمر کی حد سے آگے نکل گئی تھی۔ اس سے چھوٹی کو شیداں نے ایک موٹر مکینک کے ہاں ملازم لڑکے سے بیاہ دیا۔ تیسری کے لےے کچھ لوگ آجارہے تھے اس کی بھی بات طے ہوگئی۔
لیکن خدا کی کرنی عجیب تھی۔ دوسری کی سسرال کے لوگ بڑے ظالم تھے۔ پورے گھر کی کفالت کا بار اس کے شوہر پر تھا جسے ورکشاپ سے چالیس روپے روز ملتے تھے۔ بڑا کنبہ، روپے پیسے کی کمی، کام کی زیادتی۔ وہ تو دنوں میں سوکھ کر کانٹا ہوگئی۔ اوپر تلے دو بچوں کی پیدائش اور پرورش نے اسے مریض بنادیا۔
تیسری کے ساتھ اس سے بھی زیادہ المیہ ہوا۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی وہ طلاق لے کر گھر آگئی۔ وہ گائوں کی پروردہ سیدھی سادی لڑکی تھی جب کہ دوبئی سے دولت کما کر آنے والے اس کے میاں کو الٹرا ماڈرن لڑکی کی ضرورت تھی۔ میداں اور شیداں کی آہ وزاری اور احمد بخش کی منت سماجت نے اس پر کوئی اثر نہ کیا۔ اس نے صاف لفظوں میں کہا کہ وہ روشن خیال اور کھرا شخص ہے۔میاں بیوی میں نہ بن سکے تو رشتے کو مارے باندھے چلانے سے توڑ دینا اچھا ہوتا ہے۔ بڑی اور تیسری میداں کا مستقل بوجھ بن گئیں۔
لے دے کے ایک چھوٹی رہ گئی تھی پھمُو۔ دوسری بہنوں کی نسبت تھوڑی سی ہوشیار، چالاک تھی۔ بچی ہی تھی جب شہر میں آئی۔ پاس پڑوس کی لڑکیوں میں ملنے جلنے سے اس کے رکھ رکھائو اور چال ڈھال میں فرق آگیا۔ اماں کی مار پیٹ کے باوجود فیشن کا لباس پہننا اور بنائو سنگھار کرنا نہ چھوڑا اس نے۔ دو چار حرف لکھنا پڑھنا بھی سیکھ لےے اس نے۔
شیداں کو فاطاں کیاملی اسے لگا خدائی ہی بدل گئی ہے۔ اس نے گھر آتے ہی بہن کے گھر کا رخ کیا اور اسے یہ مژدہ دل افروز سنایا۔ پر میداں بڑی خوف زدہ تھی۔
’’آپا شیداں! ہم نے پہلے بھی دھوکا کھایا ہے۔ ایک نہیں دو بار۔ یہ راہ میں مل جانے والے رشتے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہم ٹھہرے گائوں کے لوگ ہمیں شہریوں کے چلتُروں کی کیا خبر۔‘‘
’’اے میداں! اس بار اللہ کا بڑا کرم ہورہا ہے۔ دیہات کے سیدھے سادے لوگ ہیں۔ لڑکا پڑھا لکھا ہے اپنی پھمُو جیسا خوب صورت اور کم عمر۔ میں سب کچھ دیکھ بھال کے کروں گی۔ تم چپکی بیٹھی رہو۔ زیور، مکان سب لکھوائوں گی ان شائ اللہ پھمُو اپنے گھر پر راج کرے گی۔‘‘
بے چاری میداں پھر سے خواب دیکھنے لگی۔
فاطاں حسبِ وعدہ تین عورتوں کو لے کر آگئی۔ شیداں کی بہوئوں نے عورتوں کو آتا دیکھ کر ناک بھوں چڑھائے۔ استفسار کیا لیکن شیداں نے انہیں ہوا ہی نہیں لگنے دی اور انہیں بہن کے گھر لے گئی۔
عورتوں نے پھمُو کو دیکھا تو ان کی آنکھیں کھلی رہ گئیں وہ ان کی ضرورت اور توقع سے زیادہ حسین تھی۔
’’ما شائ اللہ چاند سورج کی جوڑی ہوگی۔‘‘ غلام جعفر کی ماں نے پسندیدگی کی مہر لگادی۔
’’اماں! اب گھر جانے کی ضرورت نہیں۔ بازار سے انگوٹھی اور دوپٹُا لو اور پہنادو۔‘‘
لڑکے کی بہن نے کہا۔
’’اور شادی کی تاریخ بھی لے لو۔‘‘ بہن نے صلاح دی۔
’’بہن! ایسی بھی کیا جلدی ہے۔ آپ آئے ہیں۔ ہم بھی جائیں گے آپ کے گھر۔ دیکھنا بھالنا تو ہوگا نا۔ رشتے ایسے ایک پل میں تو نہیں جوڑے جاتے۔‘‘
’’کیوں نہیں۔ کیوں نہیں۔ آپ کا گھر ہے۔ جب چاہیں آجائیں۔ لیکن ہم انگوٹھی پہنا کے جائیں گے۔ لڑکی آج سے ہماری ہوگئی۔‘‘
شیداں ان کی بے تابیوں پر ہنس دی۔ شام کو غلام جعفر انہیں لینے آیا تو فاطاں کی بات کی تصدیق ہوگئی۔ وہ تو ایک دم شہری بابو تھا۔ پینٹ شرٹ میں نفاست سے سنورے بالوں کے ساتھ۔ فاطاں کے کہے سے کہیں زیادہ خوبرو، عمر بھی پچیس برس سے زیادہ نہیں تھی۔
شیداں کے بیٹے بھی ماں کے کہنے پر آگئے۔ سب نے صلاح مشورے کے بعد ہاں کر دی۔ غلام جعفر کے لےے سونے کی انگوٹھی شیداں خالہ نے اپنی گرہ سے منگوائی اور منگنی ہوگئی۔
تیسرے روز شیداں خالہ، میداں، بڑی اور شیداں کا بیٹا گھر بار دیکھنے اور مٹھائی دینے ان کے ہاں گئے۔
غلام جعفر بس اسٹینڈ پر ان کا منتظر تھا۔ مختصر سا سامان اس نے خود اٹھالیا۔ سڑک سے کچھ دور ایک گلی میں ان کا گھر تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی شیداں کو احساس ہوا کہ اس کا فیصلہ واقعی درست تھا۔ بھرا پرا گھر، سازو سامان۔ باڑے میں بندھے جانور، چند قدم پر پانی کی صاف شفاف چادریں بہاتا ٹیوب ویل۔ گھر کے باہر کھڑا ٹریکٹر۔
یہ ساری باتیں ان کی خوش حالی کی دلیل تھیں۔
انہوں نے خاطر مدارت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ انواع و اقسام کے کھانوں اور پھلوں کے ڈھیر لگادےے۔ واپسی میں جانے کیا کچھ ساتھ کر دیا۔ دیسی گھی کا ایک ٹین، تازہ مکھن، مرغیاں، انڈے وغیرہ۔ پھمُو کے لےے خصوصیت سے کچھ چیزیں بھیجیں۔ ان ہی دنوں ماہِ رمضان سر پر آگیا۔ آخری عشرے میں وہ لوگ پھمُو کی عیدی لے کر آگئے۔
فیروزی رنگ کا ٹشو کا جوڑا، ٹشو کا بھاری دوپٹُا، ہم رنگ سینڈل، سونے کاہلکا سا سیٹ، میک اپ کا سامان، چوڑیاں، مہندی، سویاں، میوے، پانچ سو روپے نقد عیدی۔
شیداں کی بہوئیں بھی چونک اٹھیں۔ شیداں سے خوشی چھپائے نہ چھپتی۔ رمضان سے اگلے مہینے کی تاریخ دے دی اس نے اور گھر میں تیاریاں شروع ہوگئیں۔
پھمُو کی ساس نے کئی بار جتایا تھا کہ انہیں صرف لڑکی کی ضرورت ہے، جہیز کی نہیں۔ مگر سب کو احساس تھا بن جہیز کے پھمُو کو رخصت کردینا اس کے ساتھ زیادتی تھی۔بھائی اب کچھ نہ کچھ کمانے لگے تھے۔ ایک نے فرنیچر کی ذاتی دکان کھول لی تھی۔ ایک سلائی کا ماہر ہوگیا تھا۔ اپنی دکان چلا رہا تھا۔ تیسرا آٹو رکشہ چلاتا تھا اور معقول رقم کمالیتا تھا۔
تینوں نے مقدور بھر رقم ماں کو دی۔ شیداں خالہ نے محبت کی انتہا کر دی۔ شاید اب تک اس کے دل سے اپنی بے انصافی کا پچھتاوا نہیں گیا تھا۔ اس نے اپنے اچھے خاصے زیور پھمو کو جہیز میں دے دےے۔ خالہ زاد بھائیوں نے خالہ کی چھوٹی بیٹی کی رخصتی کا کچھ بوجھ آپ ہی آپ کندھوں پر اٹھالیا۔
شادی ہوگئی پھمُو کو بڑی دھوم دھام سے رخصت کیا گیا۔ برات کے لےے بہترین کھانا بنوایا گیا۔ جہیز کے سامان کا ٹرک روانہ کرتے ہوئے شیداں خالہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آگئے۔
بری بھی خاصی بھاری آئی تھی۔ بیس تولے سونے کے زیور اور قیمتی سوٹ، ارد گرد کے لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں۔
نئے نئے دنوں کی اپنی بہار تھی۔ پھمُو میکے میں آئی تو بہت خوش تھی۔ غلام جعفر اس کے ساتھ تھا۔ جتنے دن وہ رہی وہ بھی ساتھ رہا۔ سیر تفریح، سینما، ہوٹل، خریداریاں جو کچھ ممکن تھا سب ہوا۔
’’پھمُی! جعفر تو تیرے نام کا کلمہ پڑھتا ہے۔‘‘
تیسری دل سے خوش تھی پھمُو کو خوش دیکھ کر۔
’’اسی لےے تو کہتی تھی کچھ ڈھنگ سیکھ لے باجی۔ مرد اللہ تعالیٰ کی گائے قسم کی لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے۔ میں جب طرح طرح کے سوٹوں کے ساتھ میچنگ کر کے زیور پہنتی اور میک اپ کرتی ہوں تو جعفر پاگل ہو اٹھتا ہے۔ میرا منہ تکتا رہتا ہے۔‘‘
’’اللہ تجھے سدا خوش رکھے۔‘‘ وہ دل سے دعا دیتی۔ پھمو پہلے دو چار بار ہفتے پندرہ دن میں ایک بار آتی رہی۔ پھر اپنے گھر میں مصروف ہوگئی۔ تین برس گزر گئے۔ دو بچے بھی دنیا میں آگئے۔ غلام جعفر کی شیداں خالہ کے بیٹوں سے بڑی اچھی سلام علیک ہوگئی۔ وہ سسرال آتا تو ان لوگوں سے ضرور ملتا وہ سارے اس سے متاثر تھے۔ اس سے محبت کرتے تھے۔
شیداں خالہ کے چھوٹے بیٹے کی سسرال کے لوگ خاصے اثر و رسوخ والے تھے۔ اس کے سسر کا اٹھنا بیٹھنا صاحب اقتدار لوگوں میں تھا۔ غلام جعفر نے اپنی نوکری کا ذکر کر دیا۔ چھوٹے نے بتایا کہ یہ کام اس کے سسر کے لےے انتہائی معمولی ہے اور اس نے ایسا کر دکھایا۔ دوسرے ماہ غلام جعفر کو نوکری مل گئی۔ وہ پٹواری ہوگیا۔ پھمُو کے میکے والے خوشی سے پھولے نہ سمائے۔
جب غلام جعفر نے سب کے سامنے کہا کہ پھمُو اس کے لےے بڑی بھاگوان ثابت ہوئی ہے تو وہ سب فخر سے پھمُو کو دیکھنے لگے۔
پیسہ تو پہلے بھی تھا نوکری ملنے پر تو ہَن برسنے لگا۔
غلام جعفر اکثر دورے پر رہتا۔ کبھی کسی گائوں اور کبھی کسی گائوں۔ واپس آتا تو جیبیں نوٹوں سے بھری ہوتیں۔ گھر میں غلُہ اناج، سبزی، دودھ، گھی، مکھن سب مفت میں آنے لگے۔ لوگ اپنے اپنے کام کی غرض سے اٹھا لاتے۔ ڈھیروں پھل گھر میں رلتے رہتے۔ باورچی خانے کا سامان اب تھیلوں کے بجائے بوریوں کے حساب سے آتا۔
پھمُو زندگی کی ان باریکیوں سے آگاہ تھی نہ اسے حلال حرام کی تمیز تھی۔ وہ صرف اتنا جانتی تھی کہ اس کا میاں پٹواری ہے اور یہ سب کچھ کما لانااس کے عہدے کا حق تھا۔
پھر جانے کیا ہوا ایک دم سے وہ لاکھوں روپے کا ملک بن گیا۔ شاید فراڈ کا کوئی لمبا کیس تھا۔ جس میں اس کے حصے میں موٹی رقم آئی تھی۔
اس نے بریف کیس کھول کے پیسے پھمُو کو دکھائے تو وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔
’’یہ۔۔۔ یہ سب کیا ہے؟‘‘
’’پیسہ ہے اور کیا ہے۔ ہم ساتھ کے شہر میں موجود پلاٹ پر اپنا گھر بنائیں گے۔ خوب صورت گھر۔ چپس کے فرش اور جالی کے دروازوں والا گھر۔ جس کے صحن میں لال اینٹوں کا فرش ہوگا۔ گھر میں فریج، وی سی آر، ٹی وی سب کچھ ہوگا۔ اور تم میرے موٹر سائیکل کے بجائے کار میں بیٹھا کرو گی۔‘‘
پھمُو کے حواس گَم ہوگئے۔ وہ کبھی پیسوں کو دیکھتی کبھی غلام جعفر کو۔
مگر جب گھر کی بنیادیں رکھی گئیں تو اس نے حیران ہونا چھوڑ کر نئے گھر کو سجانے کے خوا ب بننا شروع کر دےے۔ اب وہ پھمُو نہیں رہی تھی۔ ایک پیسے والے شخص کی بیگم تھی۔ سونے سے لدی، روپوں میں کھیلتی۔
ایک دن اسے خبر ہوئی شیداں خالہ ہسپتال میں داخل ہے۔ سخت بیمار ہے۔
وہ بے تاب ہو کر دوڑی چلی آئی۔ غلام جعفر بھی اس کے ساتھ تھا۔ خالہ واقعی ہسپتال میں تھی۔ انتہائی علیل اور لاچار پھمُو اس سے ملی تو وہ رو پڑی۔ وہ دونوں تنہا تھیں۔ خالہ نے اسے قریب بلایا۔
’’پھمُو! تَو اپنے گھرمیں خوش ہے نا؟‘‘
’’ہاں خالہ!‘‘
’’اللہ تجھے خوش رکھے۔ پر میں تیری فکروں میں اس حال کو پہنچ گئی۔ میں نے سنا ہے تیرے گھر والے تجھے کسی آئے گئے سے ملنے ہی نہیں دیتے۔‘‘
’’تو کیا ہوا خالہ؟ مجھے کسی سے مل کر کرنا بھی کیا ہے۔‘‘
خالہ اسے دیکھتی رہ گئی۔ اسے فکر ہی نہ تھی۔
’’میں تو دن بھر اپنے گھر اور بچوں کے کاموں سے فارغ ہی نہیں ہوپاتی۔‘‘
خالہ اب بھی اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اللہ کرے تَو سدا اپنے گھر اور بچوں میں مگن رہے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں کہا۔ ’’پھمُو چھوٹی موٹی بات پر کبھی نہ جھگڑنا شوہر سے۔ شادی شدہ عورت کو خوشیوں کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار دکھ بھی جھیلنے کو مل جاتے ہیں۔‘‘
وہ کچھ نہ سمجھی، بس مسکرادی۔
’’جعفر اچھا تو ہے نا تیرے ساتھ؟‘‘
’’کوئی ایسا ویسا۔ دنیا کا ہر آرام میرے پاس ہے خالہ۔ تمہیں پتا ہے ہم نیا گھر بنوارہے ہیں۔ تم ٹھیک ہوجائو گی تب ہم نئے گھر میں داخل ہوں گے۔ میلاد شریف پڑھوائیں گے۔‘‘
مگر ایسا نہ ہوسکا۔ شیداں خالہ کا بلاوا آگیا۔ وہ دنیا سے رخصت ہوگئی۔ اور دل میں چھپا راز بھی اپنے ساتھ لے گئی۔ پھمُو پورا ایک ہفتہ میکے رہی۔ غلام جعفر کو ڈیوٹی پر جانا تھا۔ وہ پہلے چلا گیا اور پھمُو کو اس کا بھائی لے آیا۔
وہ گھر کے دروازے پر تالا دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ اِدھر اَدھر دیکھنے لگی کہ کیا کرے کس سے پوچھے۔ بھائی بھی پریشان ہوگیا۔
’’ساتھ والے گھر سے پوچھ لو پھمُو۔ کہ سب کہاں ہیں۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔ تم یہیں رکو، میں جاتی ہوں اندر۔‘‘ وہ ساتھ والے گھر کے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوگئی۔ اس نے گھر والوں کو اپنے گھر میں آتے جاتے دیکھا تھا۔ سلام دعا کی حد تک شناسائی بھی تھی۔
اسے اندر دیکھا تو سب خوش ہوگئے۔ اس نے صورتِ حال بتائی۔ گھر والوں کا پوچھا۔
’’ہاں یہ سب تو غلام جعفر کے سسرال گئے ہیں۔ سسر مر گیا ہے نا اس کا۔‘‘
’’اللہ نہ کرے میرے ابا نہیں مرے۔ خالہ فوت ہوئی ہے۔‘‘
’’اے بیٹی! اللہ تمہارے ابا کو سلامت رکھے۔ ہم تو اس کے پہلے سسرال کی بات کر رہے ہیں۔‘‘
’’جی۔۔۔ پہلے سسرال۔۔۔ کس کے؟‘‘
’’غلام جعفر کے اور کس کے؟‘‘
پھمُو کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کا چہرہ سفید پڑ گیا۔
ایک عورت نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا
’’کیا تمہیں خبر نہیں کہ تم غلام جعفر کی دوسری بیوی ہو؟‘‘
’’نہیں۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔ میں اس کی پہلی بیوی ہوں۔ پہلی اور آخری۔ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔ میرے بغیر جی نہیں سکتا۔ اس کے اندر کسی دوسری عورت کا خیال تک آباد نہیں ہوسکتا۔ اور آپ کہتی ہیں کہ۔۔۔‘‘
’’دھیرج بیٹی دھیرج۔ ہمیں جھوٹ بول کر کیا ملے گا۔ اگر تم لا علم ہو تو اپنے گھر والوں سے پوچھنا۔ وہ انکار کریں تو جو چور کی سزا وہ ہماری سزا۔‘‘
وہ دھم سے چارپائی پر گر گئی۔ لڑکیاں اس کے لےے شربت لے آئیں۔ لیکن اسے شربت زہر ہلاہل لگ رہا تھا۔ تینوں بچے باہر ماموں کے پاس تھے۔ پر اسے ہوش ہی نہیں تھا۔ سب کچھ سن کر جانے اس میں اتنی ہمت کیسے باقی رہ گئی کہ وہ باہر آئی اور انتظار میں سوکھتے بھائی کے ساتھ واپس میکے پلٹ آئی۔
روتے ہوئے ماںسے گلے ملی تو میداں کا دل ہول گیا۔ بہنیں بھی آگئیں۔ خالہ زاد بھابھیاں بھی۔ سب نے ساتھ جانے والے بھائی سے پوچھا۔
’’مجھے تو کچھ خبر نہیں اماں! پھمُو نے تو واپسی میں مجھ سے بات ہی نہیں کی۔ اس کے گھر کو تالا لگا تھا۔ یہ ساتھ کے گھر میں گئی۔ دو گھنٹے بعد لوٹی۔ اور ہم چلے آئے۔‘‘
’’کیا ہے پھمُو؟ کیا ہوا تجھے؟ وہ کہیں گئے ہوں گے چھٹی ملے گی تو غلام جعفر تجھے لے جائے گا۔‘‘
اس کا نام سنتے ہی وہ پھر روپڑی۔ سب کے دل ہل گئے۔
’’کیا بات ہے؟ کیا ہوا ہے؟‘‘
اس نے جواب میں سارا کچھ بتا دیا۔ سب کے لےے یہ خبر نئی اور حیران کن تھی۔
وہ رات بھر جاگتی رہی۔ غلام جعفر کاماضی اور حال آپس میں گڈ مد ہو کر اسے پریشان کرتے رہے۔ ہمسائی نے بتایا تھا پہلی بیوی غلام جعفر کی محبت تھی۔ دور پرے کی رشتہ دار بھی۔ اٹھارہ برس میں ہی عشق کرنے لگا تھا۔ اس کی خاطر مرجانے کو تیار تھا۔ تب ہی والدین نے بدلے میں دو بیٹیاں دے کر اس کے لےے لڑکی کو مانگ لیا۔ شادی ہوئی دلہن گھر آئی۔ دو سال ہنسی خوشی رہے۔ پھر جائیداد کے تنازعے میں خاندانوں کی اٰن بن ہوگئی تو غلام جعفر کی سسرال نے بیٹی اپنے گھر بٹھالی۔ غلام جعفر اپنی بہنوں کو لینے گیا تو انہوں نے آنے سے انکار کر دیا۔ وہ اپنے گھر جائیداد کے جھگڑے کی نذر کرنا نہیں چاہتی تھیں سو ان لوگوں نے نہ صرف بہو سے بلکہ بیٹیوں سے بھی تعلق توڑ لیا۔ فاطاں خالہ غلام جعفر کی ماں کی بہن بنی ہوئی تھی اور اس گھر میں اس کی بڑی چلتی تھی۔ اس نے غلام جعفر کی ماں کو بیٹے کی دوسری شادی کا مشورہ دیا اور لڑکی تلاش کرنا شروع کر دی۔ وہ ہر حال میں اپنے دشمنوں کو دکھانا چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی کے بغیر بھی ان کا گھر آباد ہے۔ اور ایسا ہی ہوا۔ مفاد کا سودا مفاد سے طے ہوگیا شیداں خالہ کو ایک کھاتے پیتے گھر اور خوبرو لڑکے کی ضرورت تھی۔ سو پھمُو اس گھر میں آگئی۔
اس کی سمجھ میں اب ساری بات آئی۔ شادی بیاہ کی محفلوںمیں اس کی ساس اور نندیں سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتیں۔ گھر میں آنے جانے والوں سے برائے نام ملنے کی عادت بھی انہوں نے پختہ کروائی تھی۔
پر وہ غلام جعفر۔۔۔
جس نے پہلی ملاقات میں اپنا دل اس کے قدموںمیں رکھ دیا تھا۔ جو اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتا تھا۔ جس نے پل پل ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں۔ جس نے اس کی ہر ادا پر جانے کیسے کیسے شعر اسے سنائے تھے۔ جس نے اسے نوید دی تھی کہ وہ مکمل طور پر صرف اسی کا ہے اس کا اپنا۔ اس نے تو کبھی یہ خیال بھی پھمو کے پاس نہیں پھٹکنے دیا تھا کہ وہ اپنے بے تاب جذبے، اپناعشق، اپنا دل ایک بار پہلے بھی کسی کے نام کر چکا ہے۔
وہ کسی اور کا ہے۔ اس نے پھمُو سے ضرورتاً شادی کی ہے۔ دشمنوں کو دکھانے کو، گھر آباد کرنے کو، اپنی محبوب بیوی کی بے وفائی پر اس سے انتقام لینے کو۔
’’ہائے غلام جعفر۔۔۔ تم ایسا نہ کرتے۔ تم ایسا نہ کرتے۔‘‘
رات کو اس کے اشک متواتر بہہ کر اس کا تکیہ بھگوتے رہے۔
اس کا مان ٹوٹ گیا تھا۔
اس کا یقین بکھر گیا تھا۔
اس کی سلطنت چھن گئی تھی۔
وہ تخت سے گر گئی تھی۔
اپنی ہی نظروں میں بے وقار سی ہوچلی تھی۔
دو دن وہ بستر پر پڑی ا پنی زندگی کا ماتم کرتی رہی۔ تیسرے دن غلام جعفر اسے لینے آگیا۔
وہ تو وہی تھا۔ خوب صورت باتیں کرنے والا، اس پر نثار ہونے والا، اس کے بن بے چین ہوجانے والا، اس نے چاہا وہ جانے سے انکار کر دے۔
لیکن سب نے سمجھایا کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہےے۔ وہ کیا محسوس کر رہی تھی۔ کتنی دل شکستہ تھی۔ سب کو یہ سمجھانا مشکل تھا۔
پھر اسے شیداں خالہ کی بات یاد آگئی۔ اس نے بچوں کی طرف دیکھا۔
وہ ان بچوں سے باپ کا سایہ نہیں چھین سکتی تھی۔ حالات کا یہ کڑوا گھونٹ اپنے اندر اتار کر وہ چلی آئی۔ اس کی سہیلیاں کہتی تھیں۔
’’پھمُو! مرد کا اعتبار نہ کرنا۔ یہ کم بخت سمجھ میں نہ آنے والی پہلی ہے۔ بلا کا ہرجائی، ظالم اور بے وفا۔ کسی عورت سے محبت بھی کرتا ہے تو محض اپنے ہی مقصد کی خاطر۔‘‘
وہ دل ہی دل میں ان کی نفی کرتی تھی اور سوچتی تھی۔ اصل میں وہ غلام جعفر کی اس سے محبت کے قصے سن کر جل جاتی ہیں اور اسے بہکانے لگتی ہیں۔ لیکن آج اسے یہ باتیں سچ لگ رہی تھیں۔ اس کے قریب بیٹھا غلام جعفر اس سے کتنے فاصلے پر لگ رہا تھا۔ بے حد دور۔۔۔ اور ایک دم پرایا۔
وہ بار بار اس کی طرف دیکھتی اور سوچتی۔
ان آنکھوں نے جانے کتنی بار والہانہ پن سے اس عورت کو دیکھا ہوگا۔
ان لبوں پر جانے کتنے الفاظ اس عورت کے حسن کی تعریف میں آئے ہوں گے۔
ان ہاتھوں نے کسی کو پیار سے تھاما ہوگا۔
ان بانہوں میں کوئی ہزار بار سمایا ہوگا۔
اس مضبوط چھاتی پر سر رکھ کر کتنی راتیں کسی نے بِتائی ہوں گی۔
ان ہونٹوں نے اپنے پیار کے الوہی گیت سنا کر کسی کے ہوش چھینے ہوں گے۔
بے تاب جذبوں نے۔۔۔ کسی وجود میں۔۔۔ سکون تلاش کیا ہوگا۔
وہ آگے کچھ نہ سوچ سکی۔
’’غلام جعفر! ایک عورت کی محبت میں مر مر کر جینے کے بعد تمہیں میری معصومیت سے کھیلنے کا حق نہ تھا۔ تم نے مجھے فریب دیا۔ دھوکا دیا۔ بے خبری میں لوٹ لیا۔
وہ راستے بھر روتی رہی۔ کھڑکی کی طرف منہ کےے۔ غلام جعفر نے بھی توجہ نہیں کی۔ گھر پہنچ کر وہ تھوڑا چونکا۔ اس کی سوجی آنکھیں اور اداس چہرہ دیکھ کر۔
’’پھمُو! تم ابھی تک خالہ کے لےے غم زدہ ہو۔ سب نے ہی جانا ہوتا ہے۔‘‘
رات کو اس نے پہلی بات یہی کی۔ وہ گود والے بچے کو تھپک کر سلا رہی تھی۔
’’مجھے خالہ کا غم ہے مگر میں جانتی ہوں کہ اسے جانا تھا مگر جو خوشیاں میں اپنی سمجھتی تھی وہ پرائی نکلیں۔ میں تو اس دکھ کو نہیں جھیل پارہی۔‘‘
’’کیسا دکھ، کیسی خوشیاں، کیا کہہ رہی ہو تم؟‘‘ اس کے بہتے آنسوئوں نے اسے پریشان کر دیا۔
’’حنیفہ کون ہے؟‘‘
اس سوال نے پل بھر کو اسے گڑبڑا دیا۔ اس کے چہرے پر رنگ آتے اور جاتے رہے۔
’’تم نے جواب نہیں دیا حنیفہ کون ہے؟‘‘
’’میری بیوی۔‘‘ غلام جعفر کے اقرار نے اس کے دل کو ایک تازہ زخم کا احساس بخش دیا۔
’’اور تم اس کے ہوتے ہوئے مجھے اپنی رفاقت کا دھوکا دیتے رہے۔‘‘
’’دھوکا کیسا؟‘‘
’’ایک عورت کے ہوکے تم۔۔۔ مجھ سے وفا کا کھیل رچاتے رہے۔ یہ دھوکا نہیں؟ تم کسی اور کے تھے۔۔۔۔ تم اب بھی اسی کے ہو۔ کیونکہ وہ تمہاری محبت تھی۔ اولین محبت۔۔۔ تم نے اسے پانے کوزہر پھانک لیا۔ بمشکل بچے اور۔۔۔ اور۔۔۔‘‘
’’دیکھو، جو کچھ بھی تھا، تمہاری خالہ کو اس کی خبر تھی۔ کیا اس نے تم لوگوں کو نہیں بتایا؟‘‘
’’یہ جھوٹ ہے۔‘‘
’’یہ سچ ہے۔ میں نے خود اسے بتایا تھا۔ لیکن اسے تمہاری خوشیوں کی ضرورت تھی، اس نے سب کچھ قبول کرلیا۔‘‘
اس کے لہجے میں نرمیاں تھیں۔
وہ اس کی طرف آیا۔ اس کی گود سے اٹھا کر بچے کو پلنگ پر سلا دیا۔اور اسے اپنے بستر کی طرف لے آیا۔
’’پھمُو! تَو میری بیوی ہے۔ تیری میری رفاقت پانچ سال پر محیط ہے۔ میں تجھے چاہتا ہوں۔ تَو میرے بچوں کی ماں ہے۔ میں تجھے کوئی دکھ نہیں دینا چاہتا۔‘‘ وہ کتنی خفا تھی کس قدر ناراض تھی۔ مگر پیار کے دو الفاظ نے اسے بہلا دیا۔
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کے مصداق وہ اس کی بانہوں میں سمٹ کے جی بھر کے روئی۔ اس نے اسے رونے دیا۔ بلکہ اس کے اشک کچھ اپنے دامن میں سمولےے۔ کچھ لبوں سے چَن لےے۔
’’وہ و اب ایک خواب بن گئی ہے میرے لےے۔ تم خود سوچو پھمُو اٹھارہ سال کی عمر میں اچھے برے کی پہچان ہی کہاں ہوتی ہے۔ جسے میں محبت سمجھ بیٹھا تھا وہ تو محض ایک وقتی جذبہ تھا۔ پسند آگیا تھا اس کا چہرہ پر وہ اس قابل نہ تھی۔ میں نے اسے پانا ہوتا تو اپنے سسرال کی ساری شرطیں مان لیتا مجھے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تم ہی میرا سب کچھ ہو۔ خدا قسم تم ہی میری کائنات ہو۔ کہو تو حلف دینے کو تیار ہوں۔‘‘
وہ روتے روتے مسکرادی۔ فتح کے احساس سے چور ہوگئی۔ دوسری عورت کے وجود نے غلام جعفر کی اہمیت کتنی بڑھا دی تھی۔ وہ جو چند لمحے قبل خود کو نفرت میں گِھرتا محسوس کر رہی تھی۔ اب اس کے بازوئوں کی پناہ میں کتنی شانت تھی۔ کتنی پرسکون، زخمِ دل بھی مزا دے رہے تھے۔
اس رات وہ ایک پل نہیں سویا۔ اس کی روح کو محبت بھری تھپکیاں دیتا رہا۔ مستقبل کے سپنوں کی حسین دنیا کی سیر کراتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں زندگی کے خواب بھرتا رہا۔ اس نے اس میں پھر سے اعتماد بھر دیا۔ زخم کھانے کے بعد زخم بھرنے کے لمحے بھی حسین ہوتے ہیں، اسے اندازہ ہی نہ تھا۔
اب تک وہ مطمئن تھی، خوش تھی، بے خبر تھی، بے نیاز تھی، مگر اب اس کی کیفیت کچھ اور تھی۔ بات بگڑ نہ جائے کہیں کوئی بچھڑ نہ جائے۔
ان خدشوں میں گِھر کر مقابل کی ہستی کتنی اہم ہوجاتی ہے۔ اس کا ادراک بھی اسے اب ہوا تھا۔
غلام جعفر تو اس کی حیات کا بہانا تھا۔ اس کی سانسوں کا منبع تھا۔ اس کے دل کی دھڑکن تھا۔ اس نے سچ ہی کہا تھا۔ وہ اس سے پیار کرتا تھا۔ بہت زیادہ خیال رکھنے لگا تھا اس کا۔
جہاں بھی ہوتا رات کو گھر ہی لوٹ آتا۔ ہر روز اصرار کرکے اسے خوب صورت لباس میں ملبوس دیکھتا۔ بالوں میں اپنے ہاتھوں سے گرے سجاتا۔ سیر کے بہانے باہر لے جاکر روزانہ ہی زیر تعمیر گھر دکھا آتا۔
گھر مکمل ہوگیا۔ صرف رنگ و روغن باقی رہ گیا ۔پھمُو کو نئے گھر کی آرائشی خریداری کاجنون ہوگیا۔ نئے گھر کے دس بارہ کمرے اس سامان سے تو نہیں بھر سکتے تھے۔ اس نے چپکے سے جمع پونجی سے نیا فرنیچر، کراکری، قالین اور نہ جانے کیا کیا الُم غلُم خرید لیا۔ کچھ دنوں میں وہ نئے گھر میں جانے کو تیار تھے۔
’’پھمُو!‘‘
سونے کے لےے بستر پر لیٹے لیٹے اس نے پھمُو کو پکارا۔
’’ہوں۔‘‘
وہ جانے کیا سوچ رہی تھی۔
’’میں حنیفہ کو طلاق دے رہا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس کا وجود تمہارے دل میں پھانس بن کر اٹکا رہے۔ تم مجھ پر شک کرتی رہو۔‘‘
اس نے زیرو کے بلب کی مدھم روشنی میں پاس کے پلنگ پر لیٹے جعفر کو غور سے دیکھا۔
مگر چپ رہی۔
’’پر ایک مشکل ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’حق مہر میں بیس تولے سونا لکھا ہوا ہے۔‘‘
’’تو۔۔۔؟‘‘
’’وہ تو ادا ہی کرنا پڑے گا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’بھئی طلاق دیتے ہوئے حق مہر تو ادا کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’اور تم جانتی ہو گھر بنانے کے بعد میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ میں نے سنا ہے وہ اب میرے پاس آنے کو تیار ہے۔ گھر کی تعمیل مکمل ہوجانے کی خبر انہیں بھی ہوگئی ہے۔ میری دولت دیکھ کر پچھتا رہے ہیں۔‘‘
پھمُو ایک دم چونکی۔
’’نہیں جعفر نہیں۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی۔ میں کسی کو بھی تمہارے قریب رہتا نہیں دیکھ سکوں گی۔ مرجائو ں گی۔‘‘
’’میں بھی تمہیں یہ دکھ نہیں دینا چاہتا۔ بیس تولے سونا ہوتا تو اس کے منہ پر دے مارتا۔ طلاق کے کاغذ سمیت۔‘‘
پھمُو کچھ دیر سوچتی رہی۔ پھر بولی۔
’’میرے پاس زیور ہیں، وہ بھی تو تمہارے ہیں۔ تم سلامت رہو۔ زیور تو پھر بھی بن سکتے ہیں۔ دے دو اسے یہ زیور۔‘‘
’’تم سچ کہہ رہی ہو۔ سنا ہے عورتوں کو زیور جان سے پیارے ہوتے ہیں۔‘‘
’’کوئی نہیں۔ میں تم پر سے جان وار سکتی ہوں۔ زیور تو معمولی شے ہیں۔‘‘
’’شکریہ پھمُو! تم نے میری پریشانی دور کر دی۔ اپنی پیاری پیاری بیوی کے لےے سال بھر سے پہلے میں اور زیور بنوادوں گا۔‘‘
وہ خوش ہوگئی۔ صبح اس نے زیورات کے ڈبُے اٹھا کر اس کے حوالے کر دےے۔
وہ اس روز کا گیا تیسری رات لوٹا۔
’’ایک دن میں طلاق کے کاغذ پہنچ جائیں گے حنیفہ تک۔‘‘
پھمُو کے دل کا بہت بڑا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ پھر نئے گھر کے جھمیلوں میں الجھ کر وہ اس بات کو بھول ہی گئی۔ یاد رکھنے کی ضرورت بھی کیا تھی۔
گھر بن گیا۔ پھر سج بھی گیا۔ چمکتے دمکتے فرش، روغن شدہ دیواریں، نیا فرنیچر، ایرانی قالین، شیشے کی الماریوںمیں سجے ماربل اور چینی کے برتن۔ اس کے کمرے میں موجود جہازی سائز ڈبل بیڈ، پلش منک کی بیڈ شیڈ، مخمل کی رضائی، نرم روئیں کا کمبل، یہ ساری دنیا ہی نئی تھی۔
اسے تو جنون سا ہوگیا تھا۔ چار پیسے ہاتھ میں آتے ہی وہ بھاگی بھاگی بازار جاتی اورکچھ نہ کچھ خرید لاتی۔
نئے گھر میں آکے اس نے سب کو دعوت دی۔ اس کی سسرال کے لوگ، میکے والے، جعفر کے دوستوں کی بیویاں، دوسرے تعلق دار، گھر انسانوں سے بھر گیا۔ ہر کسی نے اس کے سلیقے کی داد دی۔ اسے سراہا۔ اس کی قسمت پر رشک کیا۔ متعدد دیگیں غریبوں میں تقسیم کی گئیں۔ دنوں اس کے میکے والے ہر آنے جانے والے کو پھمُو کی خوش نصیبی کے قصے سناتے رہے۔
وہ نئے گھر میں آکر بے انتہا مصروف ہوگئی۔ گو اس نے کام کے لےے کئی جز وقتی نوکرانیاں رکھ چھوڑی تھیں مگر اپنے بغیر بات نہیں بنتی تھی اور اسے گھر کو شیشہ بنا کر رکھنا اچھا لگتا تھا۔
بڑے کی شادی پر وہ بمشکل دو دن پہلے جاسکی۔ شادی کے تیسرے روز اسے واپس آنا پڑا۔ اب اس کا ایک بیٹا بھی اسکول جانے لگا تھا۔
پھر منجھلے کی منگنی ہوئی تو اماں نے اسے بلا بھیجا۔ اس بار اسکول میں چھٹیاں تھیں۔ سردیوں کی چھٹیاں، اماں کے شکوے کے جواب میں غلام جعفرنے کہا۔ ’’چھوڑے جارہا ہوں اسے۔ دس دن شوق سے رکھےے تاکہ آپ کو بھی گلہ نہ رہے۔ چھٹیاں ختم ہونے پر لے جائوں گا۔‘‘ وہ مسکرادی۔ فخر سے غلام جعفر کو دیکھا۔ اماں بھی خوش ہوگئیں۔
دس دن گزر گئے۔ غلام جعفر نہیں آیا۔ بارہویں روز اس کی پریشانی بڑھ گئی۔ اس نے رختِ سفر باندھا اور گھر جا پہنچی۔
’’مگر یہ کیا۔۔۔؟‘‘
گھر کا صحن نقرئی گھنٹیوں سے آباد تھا۔ غلام جعفر کی آواز بھی شامل تھی۔ کھنکتی آواز، خوشیاں بکھرتی آواز۔
وہ دروازے میں کھڑی رہ گئی۔
سولہ سنگھار کےے، سرخ لہو رنگ کپڑے پہنے، زیور تن پر سجائے ایک حسین عورت اس کے سامنے تھی۔
’’آئو، آئو پھمُو رک کیوں گئیں؟‘‘
غلام جعفر نے عجب انداز سے اسے پکارا۔ وہ گود میں موجود بچے کو سنبھالتی تیز قدموں سے آگے بڑھی۔
’’کون ہے یہ عورت؟‘‘ وہ زخمی شیرنی کی طرح بپھری۔
’’کیسے لائے تم اسے میرے گھر میں۔ جرأت کیسے ہوئی تمہیں اس بدمعاشی کی۔‘‘
وہ چیخی۔ مگر غلام جعفر بڑی ادائے بے نیازی سے مسکراتا رہا۔ وہ عورت اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’زبان سنبھال کر بات کرو۔ میں عورت نہیں۔ حنیفہ ہوں حنیفہ۔ اپنے شوہر کی بیوی۔ اس کی واحد محبت۔ اس کی محبوبہ۔‘‘
وہ بڑی شان سے اس کے آگے کھڑی تھی۔ اس کے وجود پر چمکتے دمکتے سارے زیور اسی کے تھے۔
زمین آسمان اسے الٹ پلٹ ہوتے نظر آنے لگے۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچنے لگے۔
’’حنیفہ تم۔۔۔ مگر اس نے تو تمہیں طلاق دے دی تھی؟‘‘
’’طلاق لیں میرے دشمن۔۔۔ میں کیوں طلاق لیتی۔ خبردار! جو میرے لےے یہ منحوس لفظ منہ سے نکالا۔ جعفر! یہ یہاں کیسے آگئی۔ کیا تم نے اسے بتایا نہیں تھا کہ میں آچکی ہوں۔‘‘
’’اب تو دیکھ لیا ہے اس نے۔‘‘
جعفر نے پھر اس سے نظریں نہیں ملائیں۔
’’تو لوٹ جائے نا اپنے ماں باپ کے گھر۔‘‘
’’یہ گھر میرا ہے۔ میں یہاں سے نہیں جاسکتی۔‘‘
’’یہ گھر میرا ہے۔ میرے نام پر ہے۔ تم کون ہوتی ہو ملکیت کا دعوا کرنے والی؟‘‘ حنیفہ اس کے کمزور دعوے کے جواب میں گرجی۔
’’پوچھ لو اس سے۔ بیس تولے زیور اور یہ مکان میرے نام کرنے کے بعد ہی یہ مجھے لاسکا ہے۔‘‘
’’کیا یہ سچ ہے جعفر؟‘‘
’’اور نہیں تو کیا جھوٹ ہے۔‘‘ اس نے پھر نظریں ملائے بغیر جواب دیا۔
اس اچانک حادثے نے اس کوبے حال کر دیا۔ وہ اپنی خواب گاہ کی طرف بڑھی تو وہ پھر بولی۔
’’اَدھر نہیں، اِدھر۔۔۔ تمہارے ماں باپ کا دیا سارا سامان اس کمرے میں پڑا ہے۔ وہ کمرا میرا ہے۔‘‘
اس نے پلٹ کر جعفر کو دیکھا جو حنیفہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
اس سنگ دلی اور صریح بے وفائی نے اس کی ساری قوتیں چھین لیں۔ وہ وہیں فرش پر بیٹھ گئی۔
دنیا اس کی نظروں میں اندھیر ہوگئی تھی۔ گود میں موجود بچہ اس افتاد ر رونے لگا تھا۔ پاس کھڑے دونوں بچے بھی دم بخود تھے۔
کسی کمرے سے اس کی ساس نکل آئی اور بچہ اس کی گود سے لے لیا۔
’’اے ہے بہو۔۔۔ بچے کا دم تو نہ نکالو۔ اسے تو مجھے دے دو۔‘‘
اس نے زخمی وجود اور برستی آنکھوں کے ساتھ ساس کی طرف دیکھا۔ مگر وہ بھی مسکراتی ہوئی بنی سنوری حنیفہ کی طرف بڑھ گئی۔
’’اسے تو بس خانہ پَری کے لےے رکھ چھوڑا تھا ہم نے گھر میں۔ اس دو ٹکے کی نائی کی بیٹی کو کیا خبر کہ بچے کس طرح پالے جاتے ہیں۔‘‘
وہ کتنی بے نیازے سے نشتر چلا رہی تھی۔ وہی ساس جس نے پہلی نظر میں ہی اسے زمینی حور کا نام دے دیا تھا، بڑے تمسخر بھرے لہجے میں کہہ رہی تھی۔
’’آپ کوکوئی حق نہیں میرے ماں باپ کو دو ٹکے کا کہنے کا۔‘‘
’’اور تمہیں بھی کوئی حق نہیں میری ماں سے سخت لہجے میں بات کرنے کا۔ اپنی حیثیت کو پہچان کر رہنا ہوگا یہاں۔‘‘ وہ کس قدر طوطا چشمی کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
’’تم جھوٹے ہو، دغا باز ہو۔‘‘
’’ہاں ہاں تمہارے شکنجے میں جکڑا رہتا تو ساری خوبیاں مجھ میں ہوتیں۔‘‘ اس نے پھر وار کیا۔ ’’کس چالاکی سے زیور دےے تھے تو نے تاکہ میں اسے طلاق دے دوں۔‘‘
’’وہ میںنے نہیں تم نے کہا تھا۔‘‘
’’واہ کیا خوب۔۔۔ میرے ہی زیور میرے لےے دےے جارہے تھے۔ میری طلاق کرانے کو۔ اپنا منہ تو دیکھو آئینے میں۔ بہت دن عیش کر لےے تم نے۔ اب دفعان ہوجائو۔‘‘ وہ بھی بپھری کھڑی تھی۔
’’یہ میرے شوہر کا گھر ہے۔‘‘
’’ہونہہ بڑی آئی شوہر والی۔ ابھی طلاق کا کاغذ ہاتھ میں پکڑا کے دہلیز پار کرادوں گی۔‘‘
حنیفہ نے لڑاکا عورتوں کی طرح آستینیں اوپر چڑھائیں۔
’’نادان مت بنو بہو۔ اسے تو جانا ہی ہے۔ یہاں رہے گی تو صرف تمہاری نوکرانی بن کر۔ جعفر صندوقوں اور الماریوں کی چابیاں تو لے لو اس سے۔‘‘
جعفر نے آگے بڑھ کر اس کے گریبان میں اڑسا چابیوں کا گچھا نکال لیا اور آگے بڑھ کر حنیفہ کو دے دیا۔
’’یہ لیں جناب آپ کی آخری امانت۔‘‘
’’جعفر۔۔۔ کمینے ذلیل سنگ دل انسان۔ یہ تم ہو تم۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘
’’دن کو تم دن نہ مانو تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔‘‘ وہ تضحیک بھری ہنسی ہنسا۔
دونوں بچے حیران سے کھڑے سب کا منہ دیکھ رہے تھے۔ جعفر نے انہیں اپنے پاس بلالیا۔
وہ اسی کمرے کی طرف چلی گئی جو حنیفہ نے اس کے لےے مخصوص کر دیا تھا اور اپنی بربادی پہ جی بھر کے روئی۔
جو سوچا بھی نہ تھا اس نے وہ ہوگیا تھا۔ حنیفہ کے آنے کے بعد اس کا یہاں رہنا کس قدر غلط بات تھی۔ وہ تو فریاد کرنے کے لائق بھی نہ رہی تھی۔ حق جتانے کا یارا بھی نہ تھا اسے۔
دوسرے دن علی الصبح اس نے رختِ سفر باندھ لیا۔ تینوں بچوںکو ساتھ لے کر بابل کے گھر کی طرف چل دی۔ زادِ راہ لٹا کر، آرزوئوں کا گلشن اجڑتا دیکھ کر، یوں خالی دل، خالی ہاتھ چلے آنا اس کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔ لیکن اس امتحان سے گزرنا ناگزیر تھا۔
حسین چہروں کے اندر کیسے مکروہ چہرے چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔
لوگ پیار کا دھوکا دے کے بھی لوٹتے ہیں۔ اپنی خود داریوں، اپنی ضدوں کے اظہار کے لےے کسی کی ہستی کو محض ایک کھلونا سمجھ لیتے ہیں۔
دل میں بسے ہونے کا یقین دلا کے یوں اپنے در سے دھتکار بھی دیتے ہیں۔
آشیانے میں بساکے۔ ملکیت کا احساس بخش کے اچانک در بدری کا حکم بھی دے دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس نے آج ہی جانا تھا۔
وہ سدا سے حنیفہ کا تھا۔ کبھی اس کی یاد سے جدا ہی نہ ہوا تھا۔
وہ تو تیسرا وجود درمیان میں لاکر صرف اس کی محبت کو اپنی اہمیت باور کرا رہا تھا۔
وہ صرف غلام جعفر کی وقتی ضرورت ھی۔ آج چند بے درد یادوں کی اذیت لے کر اپنے ٹھکانے پر لوٹ آئی تھی۔
بوڑھا احمد بخش بیٹی کا یہ دکھ سہہ نہ سکا۔ دوسرے روز ہی چل بسا۔ احمد بخش کی موت کی خبر غلام جعفر تک بھی پہنچی و ہ پَرسے کے لےے آیا مگر صرف مردانے تک۔ اندر قدم نہیں رکھا اس نے۔ جانتا تھا کئی ہاتھ اس کا گریبان پکڑنے کو بے تاب ہوں گے۔
بے شمار دن گزر گئے۔ میداں نے تیسری بیٹی کا بوجھ بھی اپنے سینے پر رکھ لیا۔ ہمیشہ کے لےے۔ بے شک تینوں بھائی کما رہے تھے۔ گھر میں روٹی کپڑا سہولت سے مہیا کر سکتے تھے۔ پھمُو بھرے پرے گھر سے بے دخل ہوجائے یہ ان کے لےے بھی ناقابل برداشت تھا مگر وہ کسی سے باز پرس نہیں کر سکتے تھے۔
ایک روز غلام جعفر آیا اور گلی میں کھیلتے بچوں کو گاڑی میں بٹھا کر رفُو چکر ہوگیا۔ ساتھ کے گھر کا لڑکاجو یہ سب دیکھ رہا تھا انہیں آکے بتا گیا۔ پھمُو نے منہ سر پیٹا۔ اس کا آخری خزانہ بچے تھے اور یہ خزانہ وہ کسی کو بھی نہیں دے سکتی تھی۔
مگر اس کی بے کسی اور کمزوری نے اس سے یہ خزانہ بھی چھین لیا۔ بڑے دنوں تک وہ روتی بلبلاتی رہی۔ کئی بار سوچا کہ اَس گھر میں جائے اور بچے چرا کر آجائے۔ مگر ایسا نہ کر سکی۔ جانتی تھی وہاں جا کر کچھ اور زخم دامن میں بھر لائے گی۔ انا کی دیواروں میں گھری ممتا تڑپ تڑپ کر روتی رہی مگر خود داریوں کی زنجیر نہ توڑ سکی۔
پورا ایک سال گزر گیا، اسے بچوں کی صورت دیکھے ہوئے۔ چھوٹا بیٹا بھی اب بھاگنے دوڑنے لگا تھا۔ وہ غمِ جاں سے نجات کی خاطر سارا سارا دن آر چلاتی، گھر کا کام کام کرتی، خود کو کام میں مصروف رکھتی۔ بھائی اس کا خیال رکھتے۔ کبھی کبھار خالہ زاد بھائی بھی آجاتے۔ خیریت پوچھنے، کچھ لیتے دیتے۔
ایک روز شیداں خالہ کے بڑے بیٹے نے بتایا غلام جعفر کے ہاں بچہ ہونے والا ہے۔ بیوی کو گاڑی میں ہسپتال لے جارہا ہے۔
کئی سہانے دن یاد آگئے۔ پر اس نے سر جھٹک کر یادوں سے منہ پھیرلیا۔
وہ یادوں میں گِھر کر اپنا آپ گنوادینے کو تیار نہ تھی۔ وہ سب کچھ خواب سمجھ کر بھلا دینا چاہتی تھی۔
مگر انسان تھی نا۔
انسان اپنے ماضی سے اٰن دیکھی ڈوروں سے بندھا رہتا ہے۔ چاہتے ہوئے بھی آزاد نہیں ہوسکتا۔
اور اس ماحول میں تو اس کی دو زندہ حقیقتیں بھی تھیں۔ وہ کیسے بھول جاتی۔
٭٭٭
پھر نہ کوئی آیا نہ کسی نے تازہ خبر دی۔ بڑے دن گزر گئے۔ معمول کے دن، اداس اور بے مقصد دن۔
ایک صبح گھر کے باہر گاڑی رکنے کی آواز سَن کے بھی کوئی نہ چونکا۔ لیکن دو چار منٹ بعد دروازے سے جعفر دونوں بچوں کے ساتھ نمودار ہوا تو پھمُو حیران رہ گئی۔
کتنے بڑے ہوگئے تھے اس کے بیٹے۔ پہچانے ہی نہیں جارہے تھے۔
’’خوب۔۔۔ حنیفہ کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ پاکر اب ان سے جان چھڑانے آیا ہے۔‘‘
وہ اپنی جگہ بیٹھی رہی۔ بچے بھی سہمے ہوئے تھے۔ دور کھڑے رہے۔
غلام جعفر آگے بڑھا۔
’’کیسی ہو پھمُو۔۔! بیٹھنے کو نہیں کہو گی؟‘‘ اس نے جواب نہیں دیا۔
’’پھمو جیسی بھی ہو تمہیں اس سے کیا۔ کیوں لائے ہو ان بچوں کو؟ سینے پر پتھر رکھنے کو ایک سال بہت تھا۔ اب یہ جی لے گی ان کے بغیر۔ چاہو تو چھوٹے کو بھی لے جائو۔‘‘ بڑی نے پہلی بار تلخی دکھائی۔
’’نہیں آپا! میںتو چھوٹے کو، اس کی ماں کو، سب کو لینے آیا ہوں۔‘‘ اس نے سر جھکالیا۔
’’کیوں۔ کیا تمہاری بیوی کو نوکرانی کی ضرورت پڑ گئی؟‘‘ وہ پھر گرجی۔
’’نہیں۔‘‘
’’تو کس لےے؟‘‘
’’آپا! حنیفہ اس دنیا میں چلی گئی ہے جہاں کسی شے کی کوئی احتیاج نہیں رہتی۔ وہ بھی اور اس کا بچہ بھی۔‘‘
پھمُو نے چونک کر اَس کی طرف دیکھا۔
حنیفہ مر گئی تھی۔
یہ بات کتنی ناقابل یقین تھی۔
مگر غلام جعفر کے اداس چہرے پر لکھی تھی۔
’’آپ مجھے طعنے نہ دیجےے گا۔ ممتا کو تڑپا کر، ایک عورت سے اس کا مان چھین کر میں نے سزا پالی ہے۔ میں معافی مانگنے آیا ہوں پھمُو سے۔ لینے آیا ہوں اسے۔ اس کا گھر اس کا منتظر ہے۔‘‘
’’مت کہو اَسے میرا گھر۔۔۔ وہ میری آرزوئوں کا مدفن تھا اور قبرستانوں میں زندہ انسان نہیں رہ سکتے نا۔ تبھی وہ مر بھی گئی۔‘‘
’’ہاں پھمُو! اللہ کو اس کا ظلم پسند نہیں آیا۔‘‘
’’ظالم وہ نہیں تھی تم تھے۔ غلام جعفر! تم۔۔۔ خود غرض، لالچی اور مطلبی شخص۔ مگر ایک دلکش روپ میں، میں نے تمہیں انسان سمجھ کر بھی غلطی کی۔ پر میں کیاکرتی۔ ہم لڑکیوںکو سبق دیا جاتا ہے۔ شوہروں کو اپنی کائنات سمجھ لینے کا۔ مگر اس توہین نے، تمہارے اس تمسخر نے، اس گھر اور اپنے بچوں سے بچھڑ کے گزرنے ایک سال نے مجھے بہت مضبوط بنا دیا ہے۔ میں کسی بے حِس اور خود غرض کے ساتھ ایک پل بھی نہیں رہ سکتی کسی گلزار صورت جگہ پر بھی۔ مرجائوں گی میں۔ دم گھٹ جائے گا میرا۔ کیونکہ مجھے تم سے نفرت ہے۔ شدید نفرت۔‘‘
’’پھمُو! ہر بات کوبھول جائو۔ مجھے،اَس گھر کو، ان بچوں کو تمہاری ضرورت ہے۔‘‘
’’غلط بات مت کہو۔ میری ضرورت صرف ان بچوں کو ہے۔‘‘ اس نے لپک کر اپنے دونوں بیٹوں کو آغوش میں بھرلیا۔
’’تم اور تمہار اگھر کسی بھی عورت سے آباد ہوسکتے ہیں۔ جائو اپنا گھر کسی تیسری عورت سے آبادکرلو۔ میں نہیں جائوں گی کبھی بھی نہیں۔‘‘
’’پھمُو! ایسا نہیں کہو۔ باپ سے جدا ہو کے بچے۔۔۔‘‘
’’تم بھول رہے ہو غلام جعفر! بچے ماں سے جدا ہو کے بھی بکھر جاتے ہیں۔ پرانا تجربہ ہے یہ۔‘‘
’’پھمُو جو کچھ بھی ہے بہرحال تمہارا خرید کردہ کوئی کھلونا نہیں کہ چاہو تو اس سے جی بہلائو، چاہو تو کوڑے دان میں پھینک دو۔‘‘
’’آپا! پھمُو میری بیوی ہے۔ ہم نے ایک مدُت ساتھ گزاری ہے۔ یہ میرے بچوں کی ماںہے۔‘‘
’’یہ ایک سال پہلے بھی تمہارے بچوں کی ماں تھی۔‘‘
’’آپا! یہ نہ جائے تو اسے دھکُے دے کر نکال دو۔‘‘ اس نے بچے اپنے بازوئوں میں بھر لےے۔
’’میں نے بڑی مشکل سے اپنے ذہن سے ایک سنگ دل کی یادوں کو کھرچا ہے۔ میں بڑی مشکل سے اذیت کے سمندر سے نکلی ہوں۔ اس جگہ جا نہیں سکتی جہاں سے نکالی گئی۔ مجھے اب کچھ یاد نہیں۔ کچھ بھی۔ اسے کہو یہ بھی کسی یاد کو آواز نہ دے۔ ایک نئی دنیا آباد کرے۔ یا حوصلہ ہو تو حنیفہ کی یادوں میں جی لے جیسے سارے وفا شناس جیتے ہیں۔ چلا جائے یہاں سے چلا جائے۔‘‘
اور وہ گھر سے نکل گیا۔
چوتھے روز ڈاکیہ اس کے نام کا منی آرڈر لے آیا۔ بچوں کے اور اس کے نام پر اس نے خاصی رقم بھیجی تھی۔ سلپ پر لکھا تھا۔
’’ہر ماہ خرچ رقم بھیجتا رہوں گا۔ جب چاہو اپنے گھر واپس آسکتی ہو۔ میں منتظر رہوں گا۔‘‘
اس نے رقم واپس لوٹادی اس جواب کے ساتھ۔
’’جب تک مجھے اچھے بَرے، سچ اور جھوٹ کی تمیز نہ تھی میں خوش رہی۔ تلخ تجربوں نے مجھے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچے ایک بے حس انسان کی لائی ہوئی حرام کی کمائی میں بڑے ہوں اور حقوق و فرائض کی پہچان کھو بیٹھیں۔ میں نے انہیں اپنے خونِ جگر سے سینچا تھا اور اپنی خون پسینے کی کمائی سے پال لوں گی، صرف تمہاری فطرت کے سائے سے بچانے کو۔‘‘
ایک بے حِس انسان کے منہ پر۔۔۔
ایک کمزور عورت نے طمانچہ مارا تھا۔
پہلا اور آخری طمانچہ۔
بطور سزا کے۔
*****


