دادی اماں کہتی تھیں ان کی اس گھر میں بڑی عزت کی جاتی ہے۔ سو اس نے زمانے بھر کی جھوٹی نمبر ایک دادی پر یقین کر لیا۔ بالکل دل سے۔۔۔ اور یہیں اس سے غلطی ہوئی تھی۔ خیر یقین کر لیا، آنکھ بند کر کے ان کے پیچھے چل دی۔ یہاں اس سے دوسری غلطی ہوئی تھی، آنکھیں کھلی رکھتی تو معلوم ہوجاتا کہ دادی کہاں جارہی ہیں بلکہ اسے بھی لےے جارہی ہیں۔
اور اب۔۔۔۔
جب کہ وہ اسے یہاں لے کر آچکی تھیں ایک دھوبی گھاٹ میں تو وہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے بٹر بٹر اپنے سامنے کے منظر کو دیکھ رہی تھی۔ کھلا سا صحن تھا۔ جس میں تنی ہوئی تاروں پر دھلے کپڑے یہاں سے وہاں تک پھیلے ہوئے تھے اور سب کے سب مردانہ۔
مردانہ جرابیں، مردانہ قمیصیں، مردانہ شلواریں، مردانہ بنیانیں۔۔۔
نہ کوئی فراک۔ نہ چوڑی دار پائجامے، نہ کرتے، نہ دھنک رنگ دوپٹے، لال، سبز سبز، پیلا سب رنگ غائب، عجیب بلیک اینڈ وائٹ سا منظر تھا۔
وہ تو سہم کر دادی کے پیچھے چھپنے لگی۔
ان کی ململ کی قمیص مٹھی میں دبوچی۔ چٹکیاں کاٹیں، کانوں میں گھسی۔
مگر دادی تو ٹس سے مس نہ ہوئی تھیں۔
وہ تو ہمیشہ ہی چڑتی تھی دادی کی ڈھٹائی سے مگر آج تو حد ہوگئی تھی۔
خالی مکان۔۔۔ بالکل ویران ۔۔۔ بیابان ۔۔۔ نہ آدم بو نہ آدم ذات۔
’’اگر‘‘ یہاں کوئی رہتا تھا، تو اس وقت ہر گز گھر میں موجود نہ تھا۔ اور دادی۔۔۔ کس قدر رازداری سے دبے پائوں چلتی ہوئی پورے گھر کا جائزہ لے رہی تھیں۔
’’اگر کوئی آجائے تو کیسی سَبکی ہوگی۔۔۔‘‘ اس کے ماتھے پہ پسینہ نمودار ہونے لگا۔
’’چوروں کی طرح گھر میں گھس گئے۔ نہ گھنٹی بجائی، نہ دستک دی۔ آواز بھی نہیں لگائی اور ۔۔۔‘‘
وہ بے چینی سے دو قدم آگے بڑھی۔ دادی نجانے کون سے کمرے میں گھس گئی تھیں بلا اجازت، اسے وہیں صحن میں تنہا چھوڑ کر۔
’’اللہ کہیں یہ گھر آسیب زدہ نہ ہو۔ اتنی خاموشی ہنستے بستے گھر میں تو نہیں ہوتی۔‘‘
وہ ہاتھ مسلنے لگی۔ صحن میں اترتی ہلکی ہلکی شام میں عجب وحشت بھری تھی۔ اسے چہار اطراف پھیلی تنہائی سے خوف آنے لگا۔ تار پہ سوکھے کپڑے ہولے ہولے لرز رہے تھے۔
’’ہوا تو نہیں چل رہی۔۔۔‘‘ اس نے پسینہ خشک کیا، تھوک نگلنے کی کوشش کی۔۔۔
خود کو بہادر بنانا چاہا لیکن خوف کے پائوں نہیں ہوتے، وہ سامنے سے نہیں آتا، عقب سے حملہ آور ہوتا ہے۔ چھلانگ لگا کر آتا ہے لمحوں میں۔۔۔ اور حاوی ہوجاتا ہے۔
اور اسے اس آسیب زدہ شام میں، صحن کی تنہائی میں لگ رہا تھا کہ کپڑے ہل رہے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ہل رہے ہیں بلکہ تاروں سے نیچے اتر رہے ہیں۔
سب سے پہلے جرابیں دھم دھما دھم، اچھلتی کودتی اس کے آس پاس رقص کرنے لگی ہیں اور وہ قمیص۔۔۔ جس کے بازو سب سے لمبے ہیں وہ آئے گی اور اس پر تابڑ توڑ حملے کر دے گی۔ دھن دھنا دھن۔
اور وہ سفید ازار بند، جو دھیرے دھیرے رینگتے ہوئے اس کی طرف آرہا ہے۔ وہ آئے گا اور پھندے کی صورت اس کے گلے کے گرد لپٹ جائے گا اور اسے کسی پھانسی دےے ہوئے مجرم کی طرح صحن کے عین وسط میں لٹکا دے گا، کسی ان دیکھے درخت کے ساتھ۔
آنے والے آئیں گے اور دیکھیں گے، اس کا نیلا پڑتا چہرہ گز بھر لمبی زبان منہ سے باہر۔
’’اے لڑکی!‘‘ نہ جانے کس نے پکارا، کس نے چھوا۔۔۔ اس کے حلق سے نکلنے والی چیخ بے ساختہ تھی۔
’’کون ہو تم۔۔۔؟‘‘
آواز عقب سے آرہی ہے۔ اس نے ذرا کی ذرا مڑ کر آنے والے کی طرف دیکھا اور اس عجیب و غریب وضع قطع رکھنے والے مرد کو دیکھ کر جہاں اس کے چہرے کا رنگ اڑا وہیں وہ بگٹٹ وہاں سے بھاگ لی تھی۔سیدھی اس طرف جہاں سے اسے دادی ایک کمرے سے نکلتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔
’’کون ہو تم دونوں۔۔۔؟ یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ آنے والا مرد لمبے لمبے ڈگ بھرتا ان کی طرف لپکا تھا۔
’’اے خدا کی مار تجھ پر کلمو ہے۔۔۔ کیا قہر بن کر ٹوٹے پڑے ہو۔ دھیرج سے بات نہیں کر سکتے کیا۔ بچی کو ڈرا کر رکھ دیا خوامخواہ۔‘‘
دادی نے لرزتی کانپتی بچی کو بانہوں میں سمیٹا جو خوف کھائی آنکھوں کے ساتھ اس مرد کو دیکھ رہی تھی جس کے کھچڑی بالوں میں برابر کی سیاہی اور سفیدی آپس میں گھل مل سی گئی تھی۔ وہ اپنے پورے قد سے کھڑا ہونے کے بجائے جھکا کھڑا تھا۔ اتنا کہ وہ پانچ فٹی دادی کے بالکل برابر ہوگیا تھا اور سب سے عجیب چیز وہ کَب تھا جو اس کی پشت پر بہت نمایاں تھا۔ اتنا نمایاں کہ جیسے ایک چھوٹے سائز کا فٹ بال اس نے اپنی قمیص کے نیچے پشت کے عین درمیان میں باندھا رکھا ہوا۔ صرف بچوں کو ڈرانے کے لےے اور اب اسے بھی ڈرا رہا تھا۔ اپنی میلی گدلی آنکھوں میں قہر بھرے۔ خونخواریت سے گھورتے ہوئے وہ مزید دادی کے بازوئوں میں سمیٹنے لگی۔
تب ہی ایک پاٹ دار آواز گھر کے لمحاتی سنُاٹے میں گونجی تھی۔
’’کبڑے میاں! ارے کون چیخا تھا یہاں، بلکہ چیخی تھی۔ پڑوس میں آواز سن کر میں تو بھاگی چلی آئی۔‘‘
اور بھاگنے والی اپنے جس بھاری بھرکم وجود کے ساتھ بھاگی چلی آرہی تھیں تو وہ بھی اک معجزہ تھا اور ان کے بھاگنے کے باوجود اگر ان سب کے سروں پر چھت اور پیروں تلے زمین قائم تھی تو وہ ایک اور معجزہ تھا۔
’’حسنہ آپا! گھر کھلا چھوڑ کر کہاں چل دی تھیں آپ۔۔۔ اب خدا جانے کب سے یہ دونوں۔۔۔‘‘ اس مرد کی آواز اس کی صورت سے زیادہ بھدُی تھی۔
’’اوئی اللہ۔۔۔ چورنیاں۔۔۔‘‘ حسنہ آپا کے ہاتھ پائوں ڈھیلے پڑنے لگے۔ ابھی حال ہی میں محلے میں ایسی واردات ہوئی تھی، دو نہایت شریف نظر آنے والی خواتین باتھ روم میں جانے کے بہانے کسی گھر میں گھس آئیں۔ چند لمحوں بعد گھر والے سب باتھ روم میں ۔۔۔ اور خواتین قیمتی ساز و سامان کے ساتھ چمپت۔۔۔
’’شاباش ہے حسنہ! شاباش۔۔۔ یعنی کہ اب ہم چور ہیں۔ ڈاکو ہیں، ارے دیدوں کا پانی دَھل گیا ہے کیا۔۔۔؟ ہمیں پہچان ہی نہ سکیں۔‘‘
’’لاحول ولا۔۔۔‘‘ وہ سٹپٹا کر دادی سے علیحدہ ہوئی۔ انہیں شوق تھا، ہر محاورے کو اپنی مرضی کے معنی پہنانے کا۔ وہ تو شکر ہوا کہ خاتون محاورے پر غور کرنے کے بجائے دادی پر غصہ فرما رہی تھیں۔
’’اے بڑی بی! میں نے واقعی آپ کو نہیں پہچانا۔۔۔‘‘
’’لیجئے بات ختم۔۔۔ قصہ پاک۔۔۔‘‘ اس نے ہاتھ جھاڑے اور قریبی کرسی پر ڈھے گئی۔۔۔
’’اور دادی کہتی تھیں۔ ان کی اس گھر میں بڑی عزت ہے۔ لیکن یہ لوگ لگتا ہے ’’عزت‘‘ کے بجائے ’’عزت افزائی‘‘ کرنے والے ہیں۔‘‘
وہ دادی کو دیکھ رہی تھی جو بڑی چاپلوسی سے حسنہ آپا کو لےے کمرے میں چل دی تھیں اپنا تعارف کروانے کے لےے۔ حسنہ آپا شش و پنج میںمبتلا بنی ان کے ساتھ ساتھ تھیں اور اسے خوب معلوم تھا دادی کا تعارف کیا ہے؟
’’میں فلاں ابن فلاں ابن فلاں کی فلاں فلاں ہوں۔۔۔ کچھ یاد آیا۔۔۔ کوئی بھولا بسرا چہرہ؟ کوئی گمشدہ تعارف؟ کوئی کھویا ہوا رشتہ دار؟
’’ہاں بس میں وہی ہوں جس سے پہلی مرتبہ تم ملی تھیں تو چہرے کا رنگ یوں جھلسا ہوا نہیں تھا۔ اس وقت قدرت مجھے بنا کر اپنے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھے۔ بڑے پیار سے دیکھ رہی تھی اور آج۔
مجھے مٹانے کے درپے ہے۔
ان دنوں آنکھ کا نور اپنے جوبن پر تھا اور آج۔۔۔
وہی نور میری پلکوں تلے دم توڑنے کو ہے۔۔۔
وہ وقت اور تھا جب زندگی میرا رنگ دیکھا کرتی تھی۔
یہ وقت اور ہے جب میں زندگی کے رنگ دیکھ رہی ہوں۔
ہاں میں وہی ہوں۔ جو ایک بوڑھے، خرانٹ مالک مکان کے دو مرلے کے گھر میں گزارہ کرتی تھی۔ جس کے ایک کمرے میں، میں نے اپنی دکان کھول رکھی تھی اور اس دکان میں رکھے گھی، آٹے، دالوں اور بچوں کی ٹافیوں کی فروخت سے میں اپنا اور اپنی پوتی کا پیٹ پالتی تھی۔
وہ پوتی جو باہر برآمدے کی کرسی پر سر نیہوڑائے بیٹھی ہے اور جو بہت ہی سیاہ بخت ہے۔
وہ جب پیدا ہوئی تھی تو اپنی ماں کو کھا گئی تھی لیکن اس کے باوجود اس کا باپ اسے بخت آور کہتا تھا۔ حالانکہ اس نے اپنے باپ کو بھی کھالیا تھا۔ اس وقت جب وہ اسے اسکول میں داخل کروانے کے لےے جارہا تھا اور ایک تیز رفتار گاڑی اسے کچل کر چلی گئی تھی وہ پھر بھی زندہ رہی تھی۔
اور پھر بھی۔۔۔ بخت آور کہلاتی تھی۔
اور اب میں اسے کچھ اور سیاہ بختیوں سے بچانے کے لےے اپنے بوڑھے پروں میں چھپائے بھاگ نکلی ہوں کہ وہ بوڑھا ، خرانٹ مالک مکان کسی کالے منحوس بلے کی طرح ہمارے گھر کی دیواروں پر منڈلانے لگا تھا۔
یہ ہے ہمارا تعارف۔ ہم دونوں کی پہچان۔ ہاں ٹھیک ہے دور کی رشتہ داری ہے۔ لیکن ہے تو سہی نا۔۔۔ اور اب تو تم یہ نہیں کہہ سکتیں نا کہ تم نے ہمیں پہچانا نہیں۔‘‘
’’ارے سوگئی ہو کیا‘‘ اس نے ہڑبڑا کر آنکھیں کھولیں۔
دادی اس پر جھکی ہوئی تھیں، اس نے اپنی بوجھل پلکیں اٹھائیں اور بھاری ہوتا سر جھٹک کر سیدھی ہو بیٹھی تھی۔
نیند کہاں آرہی تھی؟ سوئی بھی نہ تھی۔ بس ایک غبار سا چھا گیا تھا گویا
جب آنکھ کھلی تو نہ زیاں تھا ، نہ سود تھا۔
وہی آسیب زدہ گھر، وہی کبڑے میاں، جو اب سارے دھلے دھلائے، خشک کپڑے تاروں سے اتار کر انہیں تہہ کر چکے تھے اور اب چیزوں کو اٹھانے، رکھنے کے بہانے پورے گھر میں چکراتے پھر رہے تھے۔ ان کے بھاری جوتوں کی دھمک گھر میں پھیلی خاموشی پر خراشیں ڈال رہی تھی۔ اور پچھلے آدھے گھنٹے سے مسلسل انہیں چلتے پھرتے دیکھ کر اسے یقین ہوچکا تھا کہ ان کے کاندھوں کے درمیان بچوں کو ڈرانے کے لئے فٹ بال نہیں تھا بلکہ سچ مچ کا کَب تھا۔ اونٹ کے کوہان کی مانند۔۔۔
اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے پا کر کبڑے میاں باورچی خانے کے دروازے پر رک کر یک لخت اس کی طرف پلٹے تو وہ فوراً ہی گھبرا کر دادی کی طرف متوجہ ہوگئی جو اب حسنہ آپا سے اس کا تعارف کروارہی تھیں۔
’’یہ ہے بخت آور۔۔۔‘‘
حسنہ آپا اس کا سرتاپا جائزہ لیتے ہوئے برابر آ بیٹھی تھیں۔
’’اے حسنہ! تم نے بتایا نہیں، تمہارے کتنے بچے ہیں۔۔۔؟‘‘ دادی نے فطری تجسس کے تحت پوچھا۔
’’چار بیٹے ہیں ما شائ اللہ۔‘‘
وہ دادی پوتی اس کے آگے کی تفصیل جاننے کی منتظر تھیں مگر حسنہ خاموش ہوچکی تھیں۔
’’اور بیٹیاں؟‘‘
’’کوئی نہیں اماں۔۔۔ بس بیٹوں سے گھر بھرا ہے۔‘‘
’’ہائیں۔۔۔!‘‘ دادی نے گڑبڑا کر بخت آور کو دیکھا جس کی آنکھیں شرقاً غرباً حرکت کرنے کے ساتھ ساتھ دادی کو بھاگ چلنے پر اکسا رہی تھیں۔
’’اے حسنہ! پانی تو پلائو ذرا۔۔۔‘‘ دادی نے خشک گلے پر ہاتھ پھیرا۔ حسنہ کے چار جوان جہان بیٹے ان کی نگاہوں کے سامنے آکر اودھم مچانے لگے تھے۔
’’کبڑے میاں! ذرا پانی تو لانا۔ اور چائے کا پانی چولہے پر رکھ دو۔‘‘ حسنہ نے آواز لگائی۔
’’چائے کا تکلف نہ ہی کیجئے۔‘‘ اس نے مروتاً کہنا چاہا مگر دادی کی کہنی اس کی پسلی میں کسی میزائل کی طرح لگی تھی۔
’’نہیں بھئی، اگر وہ چائے پلانا چاہ رہے ہیں تو تمہیں کیا اعتراض ہے؟‘‘
دادی کا ندیدہ پن اسے ہمیشہ ہی چلُو بھر پانی میں ڈوبنے پر مجبور کرتا تھا مگر اب وہ صرف اپنی پسلی سہلا رہی تھی کہ اس کی تو مروت بھی باعث افزائشیں ’’درد‘‘ ہی ثابت ہوئی تھی۔
’’ویسے اماں بی! ایک بات کہوں۔۔۔؟ برا مت ماننا۔۔۔ جوان لڑکی کو اب تک گھر میں بٹھائے رکھا۔ اچھا ہوتا کہیں دو بول پڑھوادیتیں، تمہاری ذمہ داری تو ختم ہوتی۔‘‘ وہ بغور اس کا جائزہ لے رہی تھیں، بخت آور پہلو بدلنے لگی۔
ؔ’’ہاں بھئی! دادی کی عزت ہے گھر میں۔۔۔ پوتی جائے بھاڑ میں۔۔۔‘‘
شربت سے بھرا گلاس اس کی نظروں کے عین سامنے آگیا تھا۔ اس نے چپ چاپ گلاس تھام لیا اور اس کی ٹھنڈک کو اپنی ہتھیلیوں میں جذب کرتے ہوئے کن اکھیوں سے دادی کو دیکھنے لگی۔
پی جس قدر ملے، شب ماہتاب میں شراب
کے مصداق غٹاغٹ گلاس پہ گلاس چڑھائے جارہی تھیں۔ معلوم نہیں انہوں نے حسنہ کی بات سنی بھی تھی یا پھر سن کر نظر انداز کر دی تھی۔ اس نے لمبی سی سانس کھینچتے ہوئے گلاس لبوں سے لگالیا۔
٭٭٭
صحن کی دائیں دیوار کے ساتھ چھوٹے سے کمرے کا دروازہ سبز رنگ کا تھا۔ جسے عجلت میں کھول کر اس نے قدم اندر رکھا تو غڑاپ سے گھٹنوں کے بل کمرے کے فرش پر جا گری بغیر کوئی آواز نکالے۔
کیا ہوا تھا؟ یہ سوچنے کا اس کے پاس وقت ہی نہ تھا کیونکہ اس کے پیچھے دادی بھی اس کمرے میں داخل ہونے والی تھیں۔ وہ تو گرنے کے بعد خود ہی اٹھ جاتی لیکن اگر دادی گرجاتیں تو انہیں بس اللہ ہی اٹھاتا۔ سو اس نے فوراً ہی چیخ کر دادی کو خبردار کیا۔
دادی جو اس سے محض ایک قدم پیچھے کھڑی تھیں۔ ہکا بکا سی کمرے کی نیم تاریکی میں اپنی پوتی کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جو اب سے صرف ایک لمحہ قبل ان سے آگے کھڑی تھی اور دوسرے لمحے غائب ہوچکی تھی۔ آواز البتہ بدستور آرہی تھی۔
’’دادی! آگے مت آنا۔‘‘
’’کیوں۔۔۔ آگے شیر کھڑا ہے؟‘‘
’’نہیں دادی! آگے کنواں ہے۔‘‘ اس نے اپنے زخم گزیدہ گھٹنے سہلاتے ہوئے کمرے کے فرش کو دیکھا جو صحن کے فرش سے کم از کم ایک ڈیڑھ فٹ نیچا تھا اور سیڑھی نام کی کوئی چیز بھی نہ تھی۔ وہ ہائے وائے کرتی بمشکل اٹھی اور اٹھتے ہی دادی کی کمر سے لپٹ گئی۔
دادی کسی نو عمر دوشیزہ کی طرح ’’ہائیں ہائیں ۔۔۔ ارے ۔۔۔ ارے‘‘ کرتی ہوئی بری طرح مچلیں مگر اس دوران وہ انہیں کھینچ کھانچ کر کمرے کے فرش پر اتارنے میں کامیاب ہوچکی تھی۔
’’لیجئے سنبھالےے اپنا مال۔۔۔‘‘ اس نے اپنے مال و اسباب کی دونوں گٹھڑیاں دادی کی طرف اچھالیں اور خود چارپائی پر ڈھیر ہوگئی۔
ایک ہی شہتیر پر ڈالا گیا یہ کمرہ اتنا چھوٹا تھا کہ دو چار پائیاں اور ایک چھوٹی سی میز رکھنے کے بعد اس میں کسی اور چیز کے رکھنے کی گنجائش ہی نہ بچی تھی۔
ان کی آمد سے قبل یہ کمرہ ایک اسٹور تھا اور اب جو قدرے معقول حالت میں نظر آرہا تھا تو وہ سارا کا سارا تائی حسنہ کے بیٹوں اور کبڑے میاں کی کارکردگی کی بدولت تھا۔
’’دادی! میں تو اب سونے لگی ہوں، اس لےے مجھے تنگ مت کرنا۔‘‘ دادی گٹھڑیاں کھول کر سامان ٹھکانے لگانے کی فکر میں تھیں سو اس نے پہلی ہی خبردار کیا اور خود سرتاپا دوپٹہ تان کر لیٹ گئی۔ کمرے کے درو دیوار سب دھلے ہوئے تھے لہٰذا ہلکی سی خنکی جسم کو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس گھر میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ پرسکون حالت میں تھی ورنہ کل سے تو بہت بے زاری و بے آرامی سہ رہی تھی۔ کل شام جوں ہی تائی حسنہ کے چاروں بیٹوں کی گھر میں آمد شروع ہوئی، دادی نے اسے ایک کمرے میں محصور کر دیا۔ وہ تو بعد میں خبر ہوئی کہ کمرہ بھی تائی حسنہ کے سپوتوں کا ہی تھا۔ دیواروں پر لگے بڑے بڑے پوسٹرز بھی اسی چیز کی نشاندہی کر رہے تھے۔ کوئی بیٹ پکڑے کھڑا ہے تو کوئی مکا تانے۔ ایک بہت بڑے بن مانس کی تصویر تھی۔
وہ سوچتی رہی۔۔۔ ’’یہ جانے کون سے نمبر کا بیٹا ہے؟‘‘
اسی دوران ان کے دو عدد بیٹے بھی اپنا چہرہ کرا گئے تھے۔ اپنی دانست میں بہت معصوم بن کر دروازے سے ٹھو کر کھا کر اندر آئے تھے یوں جیسے آئے نہیں، بھیجے گئے ہوں اور کمرے میں آکر اس کی موجودگی پر بھرپور اظہار حیرت۔۔۔ کچھ اس طرح کہ ان کی لا علمی پر قربان جانے کو دل چاہے۔
’’ارے آپ کون؟ اور یہاں۔۔۔؟‘‘
دوسرے والے نے تو حد ہی کر دی تھی۔
’’اف! یہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں؟ لڑکی؟
یعنی کہ ایک لڑکی۔۔۔؟ ہمارے گھر میں۔۔۔ لڑکی۔۔۔؟‘‘
اور اظہار حیرت کے بعد یوں بغیر اجازت اندر آجانے پر معذرت۔۔۔
صاف صاف بہانہ تھا اس سے بات کرنے کا مگر اس قدر بھونڈی اداکاری کہ اس کا دل کھری کھری سنا دینے کو چاہا۔ پہلا پہلا دن تھا سو خاموش رہی ورنہ منہ کے اندر زبان تو مسلسل بل کھا رہی تھی۔ دادی اسے یوں خاموش بیٹھا دیکھ لیتیں تو مارے حیرت کے بے ہوش ہوجاتیں۔ شکل و صورت کے دونوں معقول تھے، دونوں باری باری اندر آئے تھے۔
’’آپ کون۔۔۔؟‘‘ ایک کی آنکھیں ذرا بڑی تھیں اور وہ کمبخت آدھی گفتگو آنکھوں کے ذریعے ہی کر رہا تھا۔
وہ چپ چاپ اسے گھورتی رہی۔ جواب دینے کی زحمت نہ کی تو وہ خود ہی اپنا تعارف کروانے لگا تھا۔
’’میرا نام شبیب ہے ۔۔۔ پیار سے بیبا کہتے ہیں۔ ’’پیار‘‘ پر زور دیا گیاتھا۔
’’یہ تصویر آپ کی ہے یا آپ کے بھائی کی۔‘‘ اس نے خاصی سنجیدگی سے پوچھا تھا۔
بیبا صاحب نے پوری توجہ سے پی کیپ لےے ہوئے، کون کھاتے بن مانس کو دیکھا اور پھر ناک کی سیدھ میں جو منہ اٹھا کر بھاگے تو جاتے ہوئے دروازے کے پٹ سے یوں ٹکرائے جیسے اسے ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
دوسرا بڑی بہادری سے آیا تھا۔ بات بات پر مسکرانا شاید اس کی عادت تھی۔ چنانچہ اس بتیسی کی نمائش کرتے ہوئے بخت آور نے اس سے بھی اپنا سابقہ سوال پوچھا تو مسکراہٹ جیسے اس کے چہرے سے چپک سی گئی ہو، اسی مسکراہٹ کے ساتھ وہ دروازے کی طرف لپکا اور جاتے ہوئے اپنی ایک چپل بھی وہیں بھول گیا۔ ذرا سی دیر بعد ایک چھڑی دروازے سے اندر آئی تھی اور چپل گھسیٹ کر لے گئی تھی۔ اسے تو بھگانے کا ٹوٹکا مل گیا تھا۔ تیسراآتا تو وہ اس سے بھی یہی سوال کرتی مگر تیسرے کی آمد سے قبل ہی دادی بھاگی چلی آئی تھیں، افتاں و خیزاں۔۔۔
’’کم بخت مارے، ایک کے بعد دوسرا۔۔۔ اندر ہی گھسے جارہے تھے۔ کیا کرنے آئے تھے، کچھ کہا تو نہیں تم کو۔۔۔؟‘‘
اف دادی کے سوال و جواب۔۔۔ وہ چڑ گئی۔
’’اگر کچھ کہتے، تو کیا اپنے پیروں پر چل کے جاتے وہ۔۔۔ کمال کرتی ہیں دادی آپ بھی۔‘‘
’’یہ درمیان والے دونوں مجھے پورے شیطان لگتے ہیں۔ چھوٹا پھر بھی معصوم لگ رہا ہے۔ بڑے کو ابھی دیکھا نہیں۔‘‘ دادی اسے رپورٹ دے رہی تھیں جسے اس نے بڑی غیر دلچسپی سے سنا تھا۔
رات کا کھانا اسی کمرے میں تائی حسنہ کے ساتھ کھایا تھا۔ مٹر گوشت اور پھولی پھولی کشمکش والی فرنی، دادی کی تو پانچوں گھی میں تھیں اور فرنی سے رغبت دیکھنے کے لائق۔ وہ کھاتے ہوئے دل ہی دل میں سوچ رہی تھی کہ دادی کی اس گھر میں واقعی بڑی عزت ہے لیکن یہ خیال بھی چند لمحوں کا تھا۔ ذرا دیر میں ہی معلوم ہوگیا کہ یہ سارا اہتمام ان کے لےے نہ تھا بلکہ تائی حسنہ کے بڑے بیٹے کے لےے تھا جو اسلام آباد سے آج رات ہی میں واپس پہنچنے والے تھے۔
’’لڑکوں سے کہا ہے کمرہ خالی کرنے کے لےے۔‘‘تائی حسنہ نے اکتائے ہوئے انداز میں بتایا تھا۔
’’آئے ہائے ان بیچاروں کو کیوں لگا دیا کام سے۔ خوامخواہ ہم بن بلائے مہمانوں کو کوستے ہوں گے۔ صبح ہوتی تو ہم دونوں مل کر خود ہی۔۔۔‘‘
دادی نے اس پوری ملاقات کے دوران پہلی عقل مندی کی بات کہنا چاہی تھی مگر انہوں نے ٹوک دیا۔
’’سارے گھر کا کاٹھ کباڑ رکھ چھوڑا ہے وہاں، آپ کے بس کی بات کہاں تھی اور پھر میرے بچے ایسے نہیں۔ بہت ہاتھ بٹاتے ہیں میرا اور پھر کبڑے میاں ہیںنا، وہ کروالیں گے۔‘‘
ان کا جواب سن کر دادی خاموش ہو رہیں۔ صاف ستھرا کمرہ مل جاتا تو بھلا وہ کا ہے کو ناخوش ہوتیں، باہر خوب غل غپاڑا مچا ہوا تھا۔
شور ہنگامہ۔۔۔ بے ہنگم قہقہے، چیخم دھاڑ، معلوم نہیں صفائی ہورہی تھی یا دنگل۔۔۔
بعد میں کبڑے میاں نے آکر خبر دی تھی۔
’’اسٹور روم میں اتنا کچھ پڑا ہے کہ صفائی کرنے کے بجائے خود کشی کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔ تاہم اسے ایک صاف ستھرے کمرے کی شکل دیتے دیتے صبح تو ہو ہی جائے گی۔ لہٰذا مہمانوں سے درخواست کر دیں کہ وہ آج رات اسی کمرے میں قیام فرمائیں۔‘‘
خبرنامہ ختم ہوگیا۔۔۔ کبڑے میاں اپنی چپل سے فرش کو گھستے واپس لوٹ گئے۔ دادی نے جھٹ سے ایک چارپائی سنبھال لی۔ وہ ٹکڑ ٹکڑ کمرے کی ایک ایک چیز اور اونگھتی ہوئی تائی حسنہ کا جائزہ لیتی رہی۔ بیٹھے بیٹھے تھک گئی تو بتی بجھا کر دادی کے برابر جا لیٹی۔
’’اے لڑکی! دوسری چارپائی خالی ہی تو پڑی ہے۔۔۔‘‘ دادی نے گھر کا۔
وہ ممیانے لگی۔
’’پرایا گھر۔۔۔ اجنبی جگہ۔۔۔ پہلی رات۔۔۔ ڈر لگا تو۔۔۔؟‘‘
دادی کتنی ہی دیر بڑبڑاتی رہیں۔ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ سونے سے گھبراتی تھیں کہ وہ ان سے لپٹ کر سونے کی عادی تھی۔ اور دادی کے کبھی گدگدی ہونے لگتی اور کبھی دم گھٹنے لگتا۔
دادی کو شانت رکھنے کے لئے وہ کتنی ہی دیر تک چارپائی کے کنارے پر دبکی رہی۔ نیند کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ دادی کے خراٹے چند لمحوں میں ہی گونجنے لگے تھے۔ وہ کچھ دیر چپکی رہی پھر کروٹ پہ کروٹ بدلنے لگی حتیٰ کہ دادی نے کسمساتے ہوئے اسے ڈانٹ دیا تھا۔
‘‘ڈھنگ سے لیٹ جا۔ کیاکھٹمل کاٹ رہے ہیں تجھے؟‘‘
وہ روہانسی ہو کر چھت کی کڑیاں گننے لگی تھیں۔ باہر سے آوازیں بہت دیر تک آتی رہیں رات میں اگر کبھی اس کی آنکھ لگی بھی تو عجیب و غریب خواب تنگ کرتے رہے۔ کبھی ایک ہی میدان میں کبڑے ہی کبڑے جمع ہو کر قہقہے لگاتے رہے اور کبھی چار مختلف شکلوں کے جن بھوت آکر اسے ڈراتے رہے، اسی عالم میں صبح ہوئی۔ وہ منہ ہاتھ دھونے کے بعد دوبارہ اسی کمرے میں جا گھسی تھی۔ ناشتے کے بعد سب لوگ اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہوئے تو تائی حسنہ نے انہیں ان کے کمرے کی راہ دکھائی جو اگر چہ بہت چھوٹا تھا مگر اس کی نیم تاریکی میں پھیلی ٹھنڈک اور صاف ستھرے بے شکن بستر نے ایسا سکون پہنچایا تھا کہ دوپہر تک وہ تھکن سے بے حال اپنی نیند پوری کرتی رہی۔
٭٭٭
اس کی آنکھ کھلی تو اجنبی ماحول اسے چونکا گیا تھا۔ تب اسے یاد آیا، وہ اپنی تھکاوٹ ختم کرنے کے لےے یہاں لیٹی تھی اور دوپہر کو دادی کے جگانے کے باوجود نہیں جاگی تھی۔ اب جب وہ خود سے جاگی تھی تو دادی اور تھکن دونوں غائب تھیں۔ اس نے چارپائی سے نیچے اتر کر اپنا جوتا تلاش کر کے پہنا اور دوپٹہ درست کرتی دروازے تک آگئی۔
سہ پہر ڈھل گئی تھی، صحن میں بچھی چارپائیوں پر دادی اور تائی حسنہ بیٹھی تھیں۔ دادی سوال کرنے پر آمادہ، تائی حسنہ جواب دینے میں متردد۔۔۔
کسی اور کو وہاں نہ پا کر وہ باہر نکل آئی، قدموں کی چاپ پر تائی حسنہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، بڑی جانچتی، پرکھتی، تولتی ہوئی نگاہ تھی۔ وہ دادی کے پہلو میں سمٹ گئی۔ تب ہی صحن کے آخری کونے میں بنے غسل خانے سے کوئی برآمد ہوا۔ کاندھوں پر پھیلا تولیہ، گھٹنوں تک آتی نیکر۔۔۔ یہ غالباً نہانے کے بعد کا حلیہ تھا۔ وہ بڑی موج میں گنگناتے ہوئے نکلا تھا لیکن صحن تک آتے آتے ٹھٹھک کر رہ گیا تھا۔
’’یہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا۔۔۔ احمد۔۔۔‘‘ تائی حسنہ نے تعارف کروایا۔
اور وہ چھوٹا بیٹا اتنا چھوٹا بھی نہیں تھا کہ دو اجنبی خواتین کے سامنے نیکر پہن کر آنے پر شرمندگی محسوس نہ کرتا۔ سو وہ پلٹ کر بھاگا اور غڑاپ سے دوبارہ غسل خانے میں گھس گیا پھر گلا پھاڑ پھاڑ کر کبڑے میاں کو پکارنے لگا، ذرا دیر بعد وہ تھوڑی دیر پہلے کی شرمندگی کے آثار لےے باہر نکلا تو خاصے معقول حلےے میں تھا۔ انہیں ہلکی آواز میں سلام کہہ کر کمرے میں گھسا اور پھر گیلے گیلے بال جما کر کتابیں ہاتھ میں لےے باہر نکل آیا۔
’’ٹیوشن پڑھنے جارہا ہوں۔‘‘ وہ ان کے قریب سے گزرتا باہر کو چل دیا تھا۔ تائی حسنہ کسی کام سے اٹھ کر باورچی خانے کی طرف گئیں تو وہ بھی منہ ہاتھ دھونے غسل خانے کی طرف آگئی۔ باہر نکلی تو ایک اور شخصیت دادی کے پاس براجمان تھی۔
سرمئی ملگجی سی شلوار قمیص، ہلکی سی سرخی لےے ہوئے خمار آلود آنکھیں، کھلتی ہوئی گندمی رنگت، نقوش میں جاذبیت، تائی حسنہ کے سب سے بڑے بیٹے تیمور حسن۔۔۔
متعارف ہونے پر گرتی پڑتی نظر اس پر ڈالی، بہت بے ضرر سا انداز تھا دیکھنے کا۔ وہ کوئی بزنس شروع کر رہے تھے، اسی بھاگ دوڑ میں نیندیں اڑی ہوئی تھیں۔ آج تڑکے اسلام آباد سے واپسی کے بعد اب تک نیند ہی پوری ہورہی تھی اور اب جاگے تھے تو دادی کے ہاتھ لگ گئے۔
’’کتنا پڑھا ہے؟‘‘
’’بزنس کون سا کر رہے ہو؟‘‘
’’پیسہ کہاں سے آئے گا؟‘‘
بخت آور ہر سوال پر پہلو بدلتی رہی۔
’’کیا سوچ رہے ہوںگے وہ بھی۔۔۔؟ بڑھیا جان ہی نہیں چھوڑ رہی ہے۔‘‘
وہ کن اکھیوں سے تیمور حسن کا جائزہ لیتی رہی۔ اب منہ بگڑا، اب تیوری چڑھی۔ اب جھنجھلائے مگر وہاں کمال کا صبر تھا۔ ہر سوال کا تفصیلی جواب، کوئی پریشانی ، کوئی جلدی نہیں، بکھرے الجھے بالوں میں انگلیاں چلاتے، ہونٹوں پر مبہم مسکراہٹ سجائے۔
’’اب تک یونہی پھر رہے ہو یا۔۔۔؟؟‘‘ دادی کا لہجہ معنی خیز تھا وہ تو بس سر پیٹ کر رہ گئی۔ سخت بری لگتی تھی دادی کی ٹوہ لینے کی عادت مگر دادی نے باقی عادتوں سے کہاں جان چھڑائی تھی جو اس کے برا لگنے پر اس عادت کا پیچھا چھوڑتیں۔
تیمور حسن ذرا چونکے، پھر مطلب سمجھے۔
’’جی۔۔۔ منگنی ہوچکی ہے۔‘‘
’’چلو۔۔۔ قصہ ختم۔۔۔‘‘ بخت آور نے سکون کا سانس لیا۔ دادی کی بولتی بند ہوگئی۔ بھلا اب پوچھنے کو باقی کیا رہ گیا تھا۔ اسے دادی کا منہ دیکھ کر ترس آنے لگا۔
جھریوں زدہ چہرہ، لٹکا ہوا، مایوس، آنکھیں فضا میں لکھی کسی نادیدہ تحریر کو پڑھنے لگی تھیں، اس نے بے اختیار ہی اٹھ کر ان کا منہ چوم لیا۔ ساری فکر مندی اسی کی ذات کے لےے تو تھی۔ اسے اپنا آپ ایک بوجھ سا محسوس ہونے لگا تو اٹھ کر کمرے میں چلی آئی۔
’’کھانا لے آئوں یا چائے؟‘‘
وہ اپنا بستر درست کر رہی تھی جب کبڑے میاں بوتل کے جن کی طرح کھلے دروازے میں نمودار ہوئے۔ پوچھنے کا انداز ایسا عجلت بھرا تھا گویا جان چھڑانے آئے ہوں۔
وہ ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑ گئی۔ ٹھنڈا کھانا کھانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ گرم کرنے کی زحمت نہ دینا چاہتی تھی سو چائے کا کہہ ڈالا۔ پھر یاد آیا، سفر کے دوران بسکٹ خریدے تھے جو کھائے بغیر یونہی گٹھڑی میں رکھ چھوڑے تھے۔
’’چلو، کچھ تو بھوک مٹے گی۔۔۔‘‘ وہ اٹھ کر الماری میں رکھی چیزوں کا جائزہ لینے لگی تھی۔
٭٭٭
مہینہ بھر ہو چلا تھا یہاں رہتے ہوئے مگر معمولات تھے کہ جوں کے توں۔۔۔ ایک کمرے میں پڑے پڑے جی اوب گیا۔ ما شائ اللہ لڑکوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔ ایک آتا تو دوسرا جاتا۔ کبھی ان کی موجودگی میں کمرے سے باہر نکلتی تو تائی حسنہ کے تیور بدل جاتے۔ دادی الگ گھبراتیں۔ وہ خجل ہو کر دوبارہ کمرے میں گھس جاتی۔ مگر کب تک؟ جی چاہتا سب چھوڑ چھاڑ یہاں سے بھاگ نکلے۔ ایک روز زیادہ ہی اکتاہٹ محسوس ہوئی تو تنگ آکر۔۔۔ سب بھول بھال کر کمرہ چھوڑ کر باہر نکل آئی۔ ناشتے کے بعد سب لوگ اسکول، کالج کے لےے نکل چکے تھے۔ کبڑے میاں جھاڑو لے کر کمرے میں گئے تو وہ بھی ان کے پیچھے ہی گھس گئی۔
اتنے دن ہوگئے تھے یہاں رہتے ہوئے، سب دیکھ رہی تھی۔ تائی حسنہ بہت کام کرتی تھیں مگر اس کے باوجود سب کام نہیں کر سکتی تھیں۔ خصوصاً صفائی ستھرائی کے معاملات تو سب کبڑے میاں کے ہاتھ میں تھے۔ ہفتے بھر بعد جی چاہتا تو جھاڑو اٹھا کر کمروں میں گھس جاتے، ہر طرف گرد اڑاتے۔ چھینکیں مارتے اور باہر آجاتے۔ چارپائیوں، پلنگوں کے نیچے دھول مٹی سب جوں کا توں، ان کے نیچے گھسنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا کوہان تھا اور چارپائیاں اٹھانے کی زحمت وہ خود سے نہیں کرتے تھے۔
کبھی زیادہ ہی صفائی کا شوق ہوتا تو شبیب اور منیب اٹھ کھڑے ہوتے خوب ہاہا کار مچتی۔ ایک ایک چیز کی صفائی دھلائی اور پھر دو دنوں میں سب برابر۔ ایک دم ویسے کا ویسا۔ سو اس روز وہ آنکھیں اور کان دونوں بند کر کے میدان عمل میں کود گئی تھی۔
کبڑے میاں نے اسے دیکھ کر برا سا منہ بنایا مگر اس کا منہ ان سے زیادہ بگڑا ہوا تھا۔ موٹے موٹے ہونٹوں اور پیلی پیلی گدلی آنکھوں والا یہ شخص اسے قدرت کی کوئی بھیانک سی غلطی لگنے لگا تھا۔
’’اگر آپ کو نگرانی کرنی ہو تو بھلے سے کھڑے رہےے ورنہ آپ کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔‘‘
اس نے جھاڑو ان کے ہاتھ سے چھین لی۔ سر منہ دوپٹے سے لپیٹ کر جھاڑن ہاتھ میں لے کر وہ تن دہی سے مصروف ہوگئی تھی۔ ہاتھ پیر توڑ کر مفت کی کھاتے رہنا اسے منظور نہ تھا۔
جو لوگ ہمارے قیام و طعام کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہیں انہیں بھی تو ہماری ذات سے کچھ فائدہ ہو۔‘‘ اس نے سوچ لیا تھا۔ سو دیواروں، چھتوں سے جالے صاف کےے۔ بستر جھاڑے، چادریں، غلاف دھوئے۔ پلنگوں کو دھوپ لگوائی۔ بند الماریوں کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔ کھلی الماریوں کی ایک ایک چیز جھاڑ پونچھ کر ترتیب سے رکھی۔ فرش پہ جھاڑو کے بعد دو، دو تین بار پوچا لگایا۔ فرنیچر جھاڑا۔ دروازے کھڑکیوں کو رگڑ ڈالا۔ شام تک دونوں کمرے صاف ستھرے، چمک دار اور دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر رہے تھے۔ خود وہ دھول مٹی سے اٹ کر بھوت لگ رہی تھی۔ سو نہا دھو کر خود کو مانجھا رگڑا۔۔۔ اور برآمدے سے الم غلم سمیٹ کر دوبارہ اپنے کمرے میں جا گھسی۔
تائی حسنہ سب دیکھ رہی تھیں۔ منہ سے اچھا، بَرا کچھ نہ پھوٹیں۔ دادی خوش تھیں بلکہ بہت خوش تھیں پوتی کی کارکردگی پر۔۔۔ وہ چاہتی تھیں اسی گھر میں بخت آور کا ٹھکانہ بن جائے مگر بخت آور تائی حسنہ کے لےے دےے انداز دیکھ رہی تھی۔ وہ خوش فہم نہ تھی، اپنی حیثیت جانتی تھی۔ یہ سب اگر کیا تھا تو کوئی مقصد، کوئی پلاننگ نہ تھی اس کی۔
شام کو لڑکے واپس آئے تو حیران پریشان۔
’’جادو کی چھڑی گھمائی ہے کیا؟‘‘
’’کسی پری کا کارنامہ ہے۔‘‘ قیاس آرائیاں، جگت بازی، شبیب اور منیب دونوں مزہ لے رہے تھے۔
’’اماں نے ڈپٹی نذیر احمد کا کوئی ناول پڑھ لیا ہوگا۔‘‘
’’کبڑے میاں کو سلیقہ مند بننے کا شوق چرایا ہوگا۔‘‘
یہ سب تائی حسنہ کے سامنے کی باتیں تھیں۔ ادھر وہ منظر سے ہٹیں، ادھر انہیں یاد آنے لگا۔
’’ارے لڑکی!‘‘
’’ہاں۔۔۔ ہاں، یقینا لڑکی۔‘‘
’’اب پتہ چلا ہمارے گھر میں ہے آئی اک لڑکی۔‘‘
’’اسی کا کارنامہ ہے۔‘‘
’’واہ، واہ شکریہ، نوازش، کرم، مہربانی۔‘‘ بلند آواز میں راگ الاپا جارہا تھا۔
وہ سب سنتے ہوئے بھی انجان تھی۔
’’کیا ہوتا جو ہماری بھی کوئی بہن ہوتی۔ یوں چھپ چھپ کرکمروں میں نہ بیٹھتی۔‘‘ احمد کی حسرت بھری آواز سن کر اس کا دل بھر آیا۔
’’آہ! کیا ہوتا۔۔۔ جو میرا بھی کوئی بھائی ہوتا۔ اس کے لاڈ اٹھاتے، ناز نخرے برداشت کرتے، دھڑلے سے اس کی چیزوں کو چھیڑتے۔ کمرے کو سنوارتے۔ وقت گزرتا وہ ہوتا تو یوں کسی کے گھر میں کاہے کو پڑی رہتی۔ کیوں میں اور دادی چوروں کی طرح چھپتے پھرتے۔‘‘ وہ تکےے میں منہ چھپا کر رو دی تھی۔
٭٭٭
باورچی خانے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ چولہے ٹھنڈے پڑے تھے۔ تائی حسنہ کی ’’ہائے‘‘ البتہ کبھی کبھار سنائی دے جاتی تھی۔ رات انہیں ہلکا ہلکا بخار تھا، اب ناشتا بنانے کی ہمت ان میں نہ تھی۔ سو بازار سے ناشتا منگوانے کا پروگرام بن رہا تھا۔ کمرے میں بیٹھی ساری صورتحال سے باخبر بخت آور کو غصہ آگیا۔
’’دیکھ رہی ہیں آپ؟ یہ عزت ہے ہماری، آپ کے یا میرے ہاتھ کا پکا کھانا نہیں کھا سکتے یہ لوگ۔‘‘
’’ارے واہ۔۔۔ مہمانوں کو کون زحمت دیتا ہے؟‘‘
دادی جیسی خوش فہم وہ کہاں؟ فوراً تنک کر بولی۔
’’مہمان نہیں بلائے جان سمجھتی ہیں وہ ہمیں۔ ڈر ہے انہیں کہ اس گھر کے لوگوں میں گھل مل کر اس گھر کے معاملات میں دخیل ہو کر ہم ہمیشہ کے لئے یہاں نہ رہ جائیں اور میں آپ سے کہہ رہی ہوں دادی! آپ ان لوگوں سے کہہ کر جلد از جلد کسی چھوٹے موٹے کرائے کے مکان کا بندوبست کروالیں۔ میں ایسی ذلُت زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘ وہ دوپٹے کی بکل مار کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
’’ہونہہ چھوٹا موٹا کرائے کا مکان، دماغ خراب ہے اس لڑکی کا۔ بھول گئی ہے کہ مکان ہمارے پاس پہلے بھی تھا اور اسے کیوں چھوڑنا پڑا۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں، مجھ بڑھیا کا کیا ہے۔ خود اسی کی ذات کا دھڑکا لگا رہتا ہے مجھے۔۔۔‘‘ دادی کروٹ کے بل لیٹی خود کلامی کے سے انداز میں بول رہی تھیں۔
بخت آور جلتی بھنتی سیدھی باورچی خانے میں گئی تھی، جہاں تائی حسنہ کبڑے میاں کو ناشتے کی تفصیل سمجھا رہی تھیں۔ اس نے جاتے ہی پرات میں آٹا نکالنا شروع کیا تو تائی حسنہ کے ماتھے پر کئی بل ایک ساتھ پڑ گئے۔
’’کیا کر رہی ہو؟‘‘
’’آٹا گوندھ رہی ہوں۔‘‘
تائی حسنہ اس دیدہ دلیری پر اس کا منہ دیکھتی رہ گئیں۔ تب وہ ان کی طرف پلٹی۔
’’گھبرا کیوں رہی ہیں؟ چرانے چھپانے کی عادت نہیں ہے مجھ میں۔ ’’قبضہ کرنے‘‘ یا کچھ ’’چھین‘‘ لینے کی حسرت بھی نہیں ہے۔ معدے کے ذریعے دل میں اترنے کا راستہ بھی نہیں آتا۔ اس لئے ایسا کوئی خیال آپ کے دل میں ہے تو بھی تو اسے نکال دیجئے۔ آپ کے رحم و کرم پر پڑے ہیں، مانگے تانگے کا کھاتے ہیں۔ اس میں ہماری خوشی نہیں تقدیر کا چکر ہے۔ جن لوگوں کی انا، عزت نفس، وقار سب زمانے کے ہاتھوں مجروح ہوچکا ہو ان سے خوف نہیں، ان پر ترس کھایا جاتا ہے۔ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ آپ مجھ سے ناشتا بنانے کا کہہ سکتی تھیں مگر آپ نے نہیں کہا۔ میں اچھوت نہیں۔ الحمد اللہ مسلمان ہوں۔ صبح و شام اللہ کا نام لیتی ہوں۔ کبھی ہاتھ دھوئے بغیر لقمہ نہیں توڑا۔ ناخن بڑھانے کے شوق میں میل کچیل جمع رکھنے کی عادت بھی نہیں کہ آپ کو الم غلم کھلادوں۔ آج در بدر سہی لیکن گھر میں رہنے بسنے کا سلیقہ ہے مجھ میں، آپ اعتبار تو کیجئے۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔
’’توبہ کتنا بولتی ہے یہ لڑکی۔۔۔‘‘ کبڑے میاں بڑبڑا کر باہر نکلے مگر ٹھٹھک گئے۔ خبر ہی نہ ہوئی تھی کب تیمور حسن دروازے پر آ کھڑے ہوئے تھے۔ ساری بات سن چکے تھے اسے رنجیدہ ہوتے دیکھ کر آگے بڑھ آئے تھے۔
’’بس باتیں ہی بنانی آتی ہیں یا ناشتا بھی بنا سکتی ہو؟‘‘ ان کا لہجہ ہلکا پھلا سا تھا۔
’’اور ایسی بے وقوفی کی باتیں آئندہ مت کرنا۔ تمہاری طرح پٹر پٹر بولنا مجھے نہیں آتا لیکن اتنا سن لو کہ تم اس گھر کے فرد کی طرح ہو، باعزت، باوقار۔۔۔ ترس کھائے جانے والے لوگ کم از کم تم جیسے نہیں ہوتے۔ ہے نا اماں!‘‘
’’وہ تصدق چاہ رہے تھے۔ تائی حسنہ گم صم بیٹھی تھیں۔ بخت آور جھوٹ نہیں کہہ رہی تھی۔
انہیں شروع سے ڈر تھا، لڑکی معصوم بھی ہے، پرکشش بھی۔ کسی بیٹے پر قابو نہ پالے۔ ایک پر بھی قبضہ جمالیا تو ان کی راجدھانی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مملکت تقسیم ہوجائے گی نہ بھی ہوتی تو بڑھیا کے مرمراجانے پر لڑکی مستقل ان کی ذمہ داری بن جاتی۔ سوچ رکھا تھا جلد ہی انہیں کوئی اور بندوبست کرنے کو کہہ دیں گی۔ اتنی دور کی رشتی داری تھی۔ انہیں کیا پڑی تھی درد سر مول لینے کی مگر آج تو بخت آور نے انہیں اپنی ہی نظروں میں شرمندہ کر دیا تھا۔ وہ وہیں بیٹھی خاموشی سے اسے دیکھتی رہیں۔
بڑی نفاست سے آٹا گوندھ رہی تھی۔ ذرا سا آٹا اِدھر اَدھر نہ گرایا۔ توا چولہے پر چڑھایا اور جھٹ پٹ پراٹھے بنانے لگی۔ پتلے پتلے گول پراٹھے بے حد نرم۔
احمد ہمیشہ ان سے ایسے پراٹھوں کی فرائش کرتا تھا مگر انہیں بھاری پراٹھے کی عادت تھی۔ بمشکل آدھا کھایا جاسکتا تھا۔ بخت آور آملیٹ بنا رہی تھی۔ ہلکا ہلکا برائون، پھولا پھولا سا۔
کبڑے میاں بار بار مداخلت کر رہے تھے۔ بخت آور چڑ گئی۔
’’یہ کام آپ کے کرنے کا نہیں، مجھے سب بنانا آتا ہے۔ آپ جائےے یہاں سے۔‘‘
کبڑے میاں نے پہلے ناگواری سے اسے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر باہر نکل گئے۔
وہ اپنی دھن میں لگی رہی، تائی حسنہ کن اکھیوں سے تاڑتی رہیں۔غضب کی پھرتیلی تھی وہ، اور پھر عمر کے اس حصے میں تھی جہاں اٹھنا بیٹھنا، ہلنا جلنا کار دشوار نہیں ہوتا۔ سب کام منٹوں میں ہوجاتا ہے اور پتا بھی نہیں چلتا۔
ذرا دیر بعد کبڑے میاں پھر بھاگے چلے آئے۔
فلاں کے لئے ناشتا، ڈھمکاں کے لئے چائے۔
بخت آور نے آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ انہیں ہر کام میں دخل دینے کی عادت تھی، اب کون بار بار ان کے منہ لگے۔ اس نے اپنا کام مکمل کیا۔ برآمدے میں چھوٹی سی گول میز پر پڑی تھی اس کی کرسیاں سارا دن یہاں سے وہاں بکھری رہتیں۔ رات کو ٹی وی کے سامنے، صبح استری اسٹینڈ کے پاس ، دوپہر کو کمرے میں، شام کو صحن میں۔
بخت آور کے کہنے پر کبڑے میاں نے کرسیاں میز کے گرد لگائیں۔ اور خود فرش کو گھستے ڈیوڑھی میں جا بیٹھے۔
یہ لڑکی بس اپنی ہی مرضی کےے جارہی تھی۔ پہلے ہر طرف سے آوازیں گونجتیں۔
’’کبڑے میاں! بھاگ کے گرم گرم پراٹھا لائےے گا، آج بس چھَوٹی کہ چھوٹی۔‘‘
کوئی پکارتا۔ ’’کبڑے میاں! چائے ٹھنڈی ٹھار، مانو برف جیسی۔۔۔ گرم کر لائے۔‘‘
’’کبڑے میاں! آ بھی چکیں، ایک چٹکی نمک کی ضرورت تھی۔ آپ کان کھودنے لگے کیا؟‘‘
ہر طرف ایک ہی نام کی گونج ، ایک ہی پکار۔ رات کا کھانا ہو، صبح کا ناشتا یا شام کی چائے، وہ اپنے نام کی تکرار سنتے، خوش رہتے۔ اپنی اہمیت کا خوش کن احساس جو ملتا تھا۔
’’چلو بھئی! کسی کے کام تو آرہے ہیں نا‘‘ انہیں اس بھاگ دوڑ میں تسکین محسوس ہوتی اور آج یہ لڑکی میز سجانے پہ لگی تھی۔ سب کچھ سامنے پڑا ہوگا۔ کبڑے میاں کسے یاد رہیں گے۔ انہیں بالکل بھی اچھا نہ لگ رہا تھا۔ منہ پھلائے روشندان میں شور مچاتی چڑیوں کو کوستے رہے۔
باورچی خانے میں بیٹھی بخت آور نے چند لمحے ان کا انتظار کیا پھر خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہاٹ پاٹ، دہی کا پیالہ، اچار، آملیٹ میز پر سجانے لگی۔
شبیب آئینے کے سامنے کھڑا بال بنانے کے ساتھ ساتھ منہ کے مختلف زاوےے بھی بنا رہا تھا۔ تیمور حسن کمرے میں اپنی فائل میں کچھ پیپرز رکھ رہے تھے۔ احمد اور منیب جرابوں کے جوڑے پہ جھگڑ رہے تھے۔ اسے دھڑلے سے میز پہ ناشتا سجاتے دیکھ کر تمام صاحبان ساکت رہ گئے۔ بخت آور نے کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ چائے کا تھرماس اور کپ لا کر رکھے۔ پھر چنگیر میں سے دو روکھی روٹیاں گھسیٹیں۔ ان پر اچار کی پھانک رکھی اور دو کپ چائے لے کر اپنے کمرے میں گھس گئی۔
دادی ناشتا دیکھ کر منہ بسورنے لگیں۔ انہیں اچھے دنوں کی یاد آرہی تھی جب ناشتے میں حلوے مانڈے کھانے کو ملتے تھے۔ جب ان کے سرہانے پڑی میز کو پھلوں اور میوئوں سے خالی نہیں ہونے دیا جاتا تھا۔
’’اور اب کوئی دیکھے ۔۔۔ ہا۔۔۔ہا‘‘
ان کی ٹھنڈی آہیں سننے کی عادت تھی بخت آور کو، سو نوالے نگلنے کے ساتھ ساتھ ان کی ٹھنڈی آہیں بھی اپنے اندر اتارتی رہی کہ اس نے تو ان دنوں کی بس داستان ہی سنی تھی۔ دیکھنا نصیب نہ ہوئے تھے اور اگر ہوئے بھی تھے تو کم از کم اب یادداشت میں محفوظ نہ تھے۔
٭٭٭
’’دیدے پھوٹیں کم بختوں کے۔ گھر آئی مہمان ہوں ان ہی کے خاندان سے وابستہ، اتنا بھی لحاظ خیال نہیں۔‘‘
کپڑے نچوڑتے ہوئے وہ خیالوں ہی خیالوں میں شبیب اور منیب کی گردنیں بھی مروڑ رہی تھی۔ گالیوں، کوسنوں کا سلسلہ بھی جاری تھا۔
وہ دونوں سامنے برآمدے میں کرسیاں ڈالے چپڑ چپڑ زبانیں چلا رہے تھے۔ اِدھر اَدھر کی ہانکنا تو یوں بھی ان کی عادت تھی۔ بخت آور کو دیکھ کر تو بجلی پہ چلتے تھے۔ دادی اور تائی حسنہ کے سانے نگاہیں کتابوں سے چپک جاتی تھیں۔ دادی ان کی شرافت کے گن گاتی نہ تھکتی تھیں۔ اوُل روز کی طرح وہ بھاگ بھاگ کر اسے پردوں میں چھپانا تو بھول ہی گئی تھیں۔
’’اے خاندانی لوگ ہیں۔۔۔ شرافت تو گھٹی میں پڑی ہے۔ کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ میں تو اکثر ہی تاڑتی رہتی ہوں۔‘‘
وہ کہنا چاہتی تھی۔
’’وہ دونوں آپ کی ’’تاڑ‘‘ سے پرے کی چیز ہیں۔‘‘
لیکن کیا کہتی؟ بس خون کے گھونٹ پی کر خاموش ہو رہی تھی۔ اب بھی وہ دونوں شرارت پر اترے تھے۔
وہ مارے باندھے کام سے لگی رہی۔ سارے کپڑے دھوئے، جھٹک پھٹک کر سوکھنے کے لئے پھیلا دےے۔ ہاتھ خشک کر کے کمرے کی طرف آرہی تھی جب ان کی آواز کانوں میں پڑی۔
’’سب کی سب ایک جیسی ہوتی ہیں۔ نخریلی، نک چڑھی۔ خود کو جانے کیا سمجھنے والی۔ اب ان ہی کو دیکھ لو، ہم سے تو خدا واسطے کا بیر ہے۔ نہ دعا نہ سلام، گویا ہم مرے جارہے ہیں کلام کے لےے۔‘‘
’’آواز تو سن رکھی ہے ہم نے، کوئل کو بھی مات دیں پھر بولنے میں جھجک کیسی؟‘‘
’’اجی! اپنی صنف کے بناے ہوئے اصول و قواعد نبھائے جارہے ہیں۔‘‘
’’ہونہہ، اپنی ویلیو بڑھانے کی کوشش، وہ بھی فضول سی۔‘‘
وہ کمرے میں جاتے جاتے واپس پلٹ آئی۔ ان کے قریب آکر کرسی کھینچی۔ دھم سے اس پر بیٹھی اور پھپھک پھپھک کر رونے لگی۔
’’ہائیں۔۔۔ ارے ۔۔۔ ارے۔۔۔!‘‘ دونوں ہی بوکھلا گئے۔
’’کیوں رو رہی ہیں بھئی؟‘‘
’’کیا ہوگیا۔‘‘
حد ہوگئی تھی معصومیت کی۔ اس کے آنسو مزید رواں ہوگئے۔
’’یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟‘‘
’’نظر نہیں آتا، رو رہی ہوں۔‘‘
’’ہاں، وہ تو دیکھ رہے ہیں مگر کیوں؟‘‘
’’روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟‘‘
’’کس نے ستایا ہے آپ کو؟‘‘ کوئی انجان سے انجان تھے وہ۔
’’کون ستائے گا؟ بس میں ہی مغرور ہوں، نک چڑھی ہوں۔ اپنی ویلیو بڑھانے کے لےے۔۔۔‘‘
’’وہ۔۔۔ وہ دیکھیں ہم تو۔۔۔‘‘ منیب کی گھبراہٹ عروج پر تھی۔
’’کس قدر خوش تھی میں۔۔۔ سوچتی تھی۔ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن بن گئی ہوں۔ راہ چلتے لوگ جوان بھائیوں کے خوف سے راستہ چھوڑ دیا کریں گے۔ نہیں معلوم تھا کہ ساری خوش فہمی ہے۔ بھلا کون کسی یتیم، بے آسرا لڑکی کو اتنا معتبر کرتا ہے۔ یہاں تو اندر باہر سب ایک سے ہیں، چہروں پر معصومیت مگر گھنے، میسنے۔‘‘ اس کی نظریں اپنے چہروں پہ محسو س کر کے وہ دونوں گڑ بڑا گئے۔
’’ہاں بھئی۔۔۔ بازار میں پڑی چیز ہوگئے ہم تو، جس کا دل چاہے نظروں کی مار مارے۔ جس کے جی میں آئے لفظوں کے تیر اچھالے‘‘ دل میں درد سا اٹھ رہا تھا، خوب روئے چلی گئی۔ یوں جیسے کسی اپنے کے سامنے دل کے پھپھولے پھوڑ رہی ہو۔
’’ارے۔۔۔ آپ تو بہت جذباتی ہورہی یں۔ ایسی ویسی کوئی بات نہیں۔ کہ ہم لفظوں کی مار اور۔۔۔ اور نظروں کے تیر۔۔۔ حد ہوگئی یعنی کہ۔۔۔‘‘
شبیب کی تو غیرت پہ تازیانہ بن کر لگی تھی یہ بات۔ شوخی، شرارت سب اڑن چھو۔۔۔ اب تو عزت پہ بن آئی تھی۔ چھوئی موئی سی لگتی تھی یہ لڑکی۔۔۔ ایسی منہ پھٹ ہوگی اندازہ کہاں تھا انہیں۔
’’آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے‘‘ منیب کی پیشانی عرق ندامت سے تر تھی۔
’’وہ تو بس آپ اتنے دنوں سے ہم سے لا تعلق رہیں تو ہمیں اچھا نہیں لگا تھا۔ ورنہ آپ تو ہماری بہن جیسی ہیں۔‘‘ منیب کے برادرانہ جذبات امڈے چلے آرہے تھے۔
’’بالکل سگی بہن جیسی ہے ناں بیبے۔۔۔‘‘
’’ارے واہ، جب ہماری کوئی بہن نہیں۔۔۔ تو بہن جیسی کیوں؟‘‘ اس کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔
بخت آور آنسو بہانا بھول کر پٹر پٹر اسے دیکھے گئے۔ کیسا بے مروت انسان تھا، منیب اپنی جگہ شرمندہ ہوگیا۔ میز کے نیچے سے اس کا پائوں دبایا۔ چٹکیاں کاٹیں۔
’’پاگل ہے کیا؟ پہلے نہیں تھی بہن۔۔۔ اب تو اللہ نے دی نا؟‘‘ منیب اسے قائل کر رہا تھا۔
’’تجھے دی ہوگی۔‘‘ وہ کندھے اچکاتے ہوئے بڑابڑایا پھر کرسی کھسکا کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’کیا کہہ گیا ہے یہ۔۔۔‘‘ بخت آور کا ماتھا ٹھنکا۔ٹھیک سے سن نہ پائی تھی مگر منیب نے بھی ٹال دیا۔
’’بس ایسے ہی بول رہا ہے۔ آپ جانے دیں اس کو، بس آج سے میں ہوں نا آپ کا بھائی۔ بالکل سگے والا۔۔۔‘‘ منیب دل سے کہہ رہا تھا۔
’’ہائے سچی۔۔۔‘‘ بخت آور کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
کیسا مان دیا تھا منیب نے اس کو، وہ تو ہوائوں میں اڑنے لگی تھی۔
شبیب نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور پھر سر جھٹک کر دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے، گنگناتا ہوا باہر کی طرف چل دیا تھا۔
٭٭٭
بس آنکھ جھپکنے کی دیر تھی اور کڑاہی میں سے بھنی ہوئی کلیجی غائب۔ ایک لمحے کے لےے تو وہ سکتے میں رہ گئی۔ کڑاہی میں چمچہ گھمایا۔ خوب الٹ پلٹ کر دیکھا مگر کلیجی ندارد۔
’’یا اللہ۔۔۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
یونہی بے اختیار سی نظر دادی پر ڈالی۔
’’اف۔۔۔ دادی۔۔۔!‘‘ وہ اتنے زور سے چیخی تھی کہ منہ سے گرم گرم بھاپ نکالتی دادی سٹپٹا سی گئی تھیں۔
’’کیا ہوگیا لڑکی؟‘‘
اور لڑکی بے چاری کیا بتاتی بس سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ پچھلے آدھ گھنٹے سے دادی کے ندیدے پن کو تاڑ رہی تھی۔ جب تائی حسنہ یہاں بیٹھی گوشت کے لئے مسالہ تیار کر رہی تھیں اور دادی جو گپ شپ لگانے کے لےے ان کے پاس بیٹھی تھیں۔ گوشت کو دیکھ کر بات بھول گئی تھیں اور آنکھیں تھیں کہ حلقوں سے ابل ابل کر گوشت کی تھیلی کو چھو رہی تھیں۔ کچے گوشت پر ان کے ندیدے پن کا یہ حال تھا تو پکنے پر شاید آنکھیں ہنڈیا سے چپک ہی جاتیں۔ وہ کتنی ہی دیر تک آس پاس گھومتی رہی، دادی دیکھیں تو انہیں وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کر دے مگر دادی کو گوشت کے سوا کچھ اور دکھائی کہاں دے رہا تھا؟ وہ تو تائی حسنہ کو کسی ہمسائی نے اپنی طرف بلوالیا اور تائی حسنہ جاتے جاتے کھانا پکانے کی ذمہ داری اسے سونپ گئیں۔ دادی اس موقع سے فائدہ نہ اٹھاتیں تو ’’دادی‘‘ کیونکر کہلاتیں۔
اور بخت آور اگر صدمے کے عالم میں منہ پھلائے بیٹھی تھی تو صرف احمد کے واسطے۔۔۔ نویں کلاس میں پڑھنے والا دھان پان سا احمد کس قدر عزیز ہوگیا تھا اسے، خود احمد بھی دیوانہ تھا اس کا۔ باقی تینوں اس سے بڑے تھے، ایک فاصلہ ان کے درمیان برقرار رہتا۔ یہ تو بخت آور ہی تھی۔ جو اس سے گھل مل گئی تھی۔ دوستوں کی باتیں، پڑھائی پر گفتگو، کرکٹ پر تبصرہ۔۔۔
وہ کام میں مصروف ہوتی اور احمد بولتا رہتا۔ وہ کبھی بغور سنتی۔ کبھی خیالوں میں کھو جاتی۔ واپس لوٹتی تو احمد کا بیان شد و مد سے جاری ہوتا۔ پھر وہ بخت آور کا خیال بھی بہت رکھتا تھا۔ کبھی اسکول کے پیسے بچا کر سموسے لا دیتا، کبھی کھٹی میٹھی املی۔
جواباً بخت آور سے بھی جو بن پاتا کرتی تھی۔ آج اس نے سوچ رکھا تھا پکاتے ہوئے کلیجی احمد کے لےے الگ سے نکال لے گی۔ اسے بہت پسند تھی مگر دادی۔۔۔ اس نے دانت کچکچاتے ہوئے دادی کو گھورا۔۔۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اب اپنا بلکہ دادی کا ہی کلیجہ نکال کر بھون ڈالے، احمد کو کتنی مایوسی اٹھانا پڑے گی لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ دادی تو مزے سے اٹھ کر باہر کو چل دیں۔ وہ گوشت پر ہرا دھنیا اور کٹے ہوئے ٹماٹر چھڑکنے لگی۔
تب ہی کبڑے میاں چلے آئے۔ سلاد کے لئے سبزی لے کر آئے تھے۔ آتے ہی چھری اور پلیٹ اٹھانے لگے۔ اسے معلوم تھا وہ ابھی سلاد بنانے لگیں گے سو فوراً ہی ٹوک دیا۔
’’سلاد میں بنا لوں گی کبڑے میاں! آپ چائے پی لیں۔‘‘
اسے معلوم تھا کبڑے میاں ایسے ہزار کام کرنے کے عادی ہیں۔ کبھی سبزی بنا دی، کبھی تائی کو مصروف دیکھا تو لڑکوں کے لئے چائے بنا دی۔ اوپر تلے کے سب کام تو تھے ہی ان کے ذمے مگر باورچی خانے کے کام کرتے دیکھ کر بخت آور کو ان سے عجیب سی الجھن ہونے لگتی تھی۔ پہلے دن سے وہ اس انسان کو دل سے قبول نہ کر پائی تھی مگر پھر بھی کوشش کرتی تھی کہ اپنے انداز سے اس گریز کو ظاہر نہ ہونے دے۔
اب بھی اس نے عام سے انداز میں کہتے ہوئے سبزیاں اپنی طرف کھسکالی تھیں۔ تھوڑی دیر پہلے تائی حسنہ نے اپنے لئے چائے بنائی تھی۔ ایک کپ بچا تھا۔ بخت آور نے فوراً گرم کرنے کے لئے دیگچی چولہے پر چڑھا دی اور خود سبزیاں کاٹنے لگی۔
کبڑے میاں خاموش اپنی جگہ کھڑے تھے اور اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ رہے تھے۔ بہت ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر آئی تھی اور غائب ہوگئی تھی۔ وہ حیران تھے تھوڑے پریشان بھی۔
’’اسے کیسے خیال آگیا کہ مجھے چائے پی لینی چاہےے۔‘‘
وہ پرخیال نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔
’’یہ لڑکی سب کا بہت خیال رکھتی ہے۔ اللہ نے بڑے اچھے دل سے نوازا ہے اس کو۔‘‘
’’آپ برآمدے میں بیٹھیں۔ میں چائے وہیں لے آتی ہوں۔‘‘ انہیں سر پہ سوار دیکھ کر وہ جھنجھلا سی گئی تھی۔
کبڑے میاں بغیر کچھ محسوس کےے اپنے ہی خیالوں میں گم باہر چل دےے۔ محسوس بھی کیا کر سکتے تھے ان سے تو وہ اسی لہجے میں کلام کرتی تھی۔ زیادہ سے زیادہ یہی سوچ سکتے تھے کہ۔۔۔
’’زبان سے ذرا سنگ دل اور کڑوی لگتی ہے لیکن دل۔۔۔‘‘
ذرا دیر بعد وہ چائے کا کپ ان کے سامنے میز پر رکھ گئی تھی۔ کبڑے میاں کی مسکراہٹ رکنے میں نہ آرہی تھی۔ ایسی عزت سے تو آج تک کسی نے نہیں نوازا تھا انہیں۔ خدمت کرنے کی عادت تھی، کروانے کی نہیں۔ وہ چالیس برس سے اس گھر میں تھے۔ مالک، نوکر کا حساب کتاب نہ تھا۔ کھانا، پینا، اوڑھنا سب ہی گھر کے دیگر افراد جیسا تھا۔ عید شب برأت پر سب کے ساتھ نئے کپڑے بنتے۔ تنگی، ترشی میں بھی برابر کے حصہ دار، تنخواہ کے نام پر کبھی بھی ایک پیسہ اپنی ہتھیلی پہ نہ رکھا تھا۔ خاص خاص موقع پر حسنہ آپا زبردستی کچھ نہ کچھ تھما دیتیں۔ حالانکہ جتنا کام وہ کرتے تھے، چاہتے تو سینکڑوں تنخواہ کے نام پر بٹور سکتے تھے مگر وہ تو الٹا س گھرانے کے احسان مند تھے۔
رہنے کو گھر، کھانے کو روٹی، سب سے بڑھ کر پیار،محبت کرنے والے لوگ اور کیا چاہےے تھا انہیں۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے۔
’’حسنہ آپا! یہ جو کولہو کے بیل کی طرح دن سے رات کرتا ہوں تو بس آپ کے احسان کا بدلہ چکانے کی ایک کوشش ہے۔ مگر کیا کروں، آپ کے احسانات بہت زیادہ ہیں اور میری استطاعت بہت کم۔‘‘
یہ ان کی عاجزی تھی۔ گھر کے سیاہ و سفید کے مالک تھے مگر کبھی جو خود سے اپنے لےے کھانا نکالا ہو یا چائے، دودھ کی فرمائش کی ہو۔ ہمیشہ حسنہ آپا نکال کر دیتی تھیں۔ کبھی ان سے بھول چَوک ہوجاتی تو پہروں بھوکے رہتے۔
حسنہ آپا کو یاد آتا تو انہیں پر چڑھائی کرتیں۔
’’اے کبڑے میاں۔۔۔! دندناتے پھرتے ہو یہاں سے وہاں، ذرا روٹی، سالن اپنے لےے بھی نکال لو تو کیا قباحت ہے۔‘‘
مگر وہ بھی اپنے نام کے بس ایک ہی تھے۔
’’یہی بات تو ہے جو مجھے میری اوقات میں رکھتی ہے۔ اوقات بھول گیا تو ہر ایک دل میں کانٹے کی طرح چبھنے لگوں گا۔‘‘ وہ دل میں سوچتے، زبان پر نہ لاتے۔ بس مسکراتے رہتے۔۔۔ اور خدمت میں لگے رہتے۔۔۔ آج یوں میز کرسی پہ بیٹھ کر چائے پی رہے تھے تو عجیب شان اور تفاخر میں گِھرے بیٹھے تھے۔ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتے تھے۔ آج ان کا خیال رکھا گیا تھا۔
’’تیمور! ناشتا کر کے جانا۔‘‘
’’احمد! دودھ ختم کرو۔‘‘
’’شبیب! چائے تیار رہے۔‘‘
’’منیب! تمہارے کپڑے نکال دےے ہیں۔‘‘
’’یہ کر دیا ہے، وہ کر دیا ہے۔‘‘ عجیب غلامانہ سا انداز تھا ان کا ہمیشہ سے ۔۔۔ یوں جیسے وہ بنے ہی اس کام کے لےے ہوں۔
اور۔۔۔ آج ان سے کہا گیا تھا۔
’’کبڑے میاں! چائے پی لیجئے۔‘‘
وہ سکون سے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے۔ دھیما دھیما سا عزت و وقار کا احساس۔ یہ زندگی کی زندگی کی سب سے مزیدار چائے تھی۔
٭٭٭
وہ نہا کر باہر نکلی تو کبڑے میاں سامنے آ کھڑے ہوئے۔
’’استری کر دیجئے۔۔۔‘‘وہ شرٹ اس کی طرف بڑھا رہے تھے۔
’’کل تک سب کبڑے میاں کی منُت سماجت کرتے تھے۔ آج کہتے ہیں، ہمیں استری کرنا نہیں آتا۔‘‘
وہ بھدی سی ہنسی ہنس کر چل دےے۔
بخت آور برآمدے میں رکھے استری اسٹینڈ پہ شرٹ استری کرنے لگی۔
’’کتنی دیر لگی گی بخت آور۔۔۔؟‘‘
’’ہائیں۔۔۔‘‘ وہ ایک پل کے لئے چونکی ایسی بے تکلفی۔۔۔ پلٹ کر دیکھا۔
شبیب گھڑی باندھتے ہوئے کمرے سے نکل رہا تھا۔
’’کیسے منہ پھاڑ کر کہہ دیا بخت آور۔۔۔ باجی۔۔۔ آپا کہتے زبان دکھتی ہے کیا۔۔۔؟‘‘
آس پاس کوئی نہ تھا، اس نے فائدہ اٹھا کر جھاڑ دیا تھا۔ ایک آنکھ نہیں بھائی تھی اس کی یہ دیدہ دلیری، ابھی تائی حسنہ یہاں ہوتیں تو آنکھوں ہی آنکھوں میں چھید ڈالتیں اسے۔
’’ارے واہ ۔۔۔ میرا دماغ خراب ہے کیا؟ اتنی اچھی لڑکی اور۔۔۔‘‘ وہ شرارتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
’’دماغ نہیں، نیت خراب ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے جل کر کہا۔
وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ عجیب جنُاتی قسم کا قہقہہ۔
اس نے گھبرا کر اِدھر اَدر دیکھا۔ پھر اسے گھورنے لگی۔
وہ بمشکل سنجیدہ ہوا۔
’’مجبور مت کرو۔۔۔ جب لگتی ہی نہیں ہو تو کیوں کہوں آپا، باجی۔۔۔‘‘
’’احمد اور منیب کیوں کہتے ہیں؟‘‘ اس نے تنک کر پوچھا۔
’’مجھے کیا خبر۔۔۔‘‘ اس نے لاپروائی سے کندھے اچکائے پھر استری کا سوئچ نکالا اور شرٹ اس کے ہاتھ سے کھینچ لی۔
’’سچا اور کھرا بندہ ہوں۔۔۔ جو دل میں ہے وہی زبان پر۔۔۔ دھوکے فریب کی زبان نہیں آتی مجھے۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔
’’تمہارا مطلب ہے احمد اور منیب دونوں دھوکے باز اور فریبی ہیں؟‘‘ اسے پتنگے لگ گئے تھے، شبیب نے ٹوک دیا۔
’’توبہ کیجئے جو ان کے خلوص پر شبہ کروں۔۔۔ دیوار سے سر ٹکرا کر مر جائیں گے، میں تو صرف اپنی بات کر رہا ہوں۔‘‘ وہ ہنستا ہوا کمرے میں چلا گیا۔
بخت آور ایک ٹک کمرے کے بند دروازے کو دیکھتی رہی پھر ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے چلتی اپنے کمرے کی طرف آگئی۔
’’عجیب بے ہودہ انسان ہے یہ ۔۔۔ پتا نہیں کس پر گیا ہے۔‘‘ سے غصہ آرہا تھا شبیب پر۔
’’باقی سب تو اتنے اچھے ہیںِ تیمور بھائی سے لے کر احمد تک۔ ایک یہ ہی عجوبہ ہے اس گھر میں، نہ زبان پر کنٹرول، نہ آنکھ پر۔۔۔‘‘ وہ گیلے بال سلجھانے لگی۔
تیمور حسن آتے جاتے اکثر اسے پوچھا کرتے۔
’’کسی چیز کی ضرورت تو نہیں۔۔۔‘‘
’’کچھ چاہےے تو بتائو۔۔۔ واپسی پر لیتا آئوں گا۔‘‘
وہ بتاتی تو کیا، بس اس توجہ پر ممنون سی ہوجاتی۔ ہلکی سی آواز میں ، مختصر سا جواب دے کر سامنے سے ہٹ جاتی۔
احمد سے دوستی تو تھی ہی۔۔۔ منیب بھی سادہ سا انسان تھا۔ خیال رکھنے والا، ایک شبیب ہی مسئلہ بنتا دکھائی دے رہا تھا اسے۔۔۔ حالانکہ بہت کم مخاطب کرتا تھا اسے، براہ راست بات چیت کبھی دانستہ کوشش نہ کرتا تھا مگر جتنی بار بھی سامنے آتا۔۔۔ انداز و اطوار یہی ہوتے۔ سرسری نگاہ ڈالتا تھا اس پر مگر نہایت بھرپور۔۔۔ اس ایک لمحے میں آنکھوں میں جو چمک ابھر آتی تھی وہ اگلے کئی لمحوں تک بخت آور کو پریشان رکھتی تھی اور اب تو وہ اپنے اکثر ہی کام کبڑے میاں کے ذریعے اس سے کرواتا تھا۔ وہ کبھی مروتاً کر دیتی۔۔۔ کبھی کسی کام کا بہانا کر کے ٹال دیتی۔ گھر کے باقی افراد البتہ اسے اپنے ذاتی کاموں کے لئے زحمت نہیں دیتے تھے۔
٭٭٭
دادی اپنی پوٹلی کھولے تائی حسنہ کو ان تبرکات کا دیدار کروا رہی تھیں جو ایک عرصے سے اس پوٹلی میں مقید تھے۔ یہ پوٹلی سال میں دو چار بار ہی کھلتی تھی اس لےے وہ بھی مارے اشتیا ق کے بھاگ کر ان کے پاس آ بیٹھی۔ دادی کے بھاری بھاری زیورات تھے، جن کی چمک دمک آج بھی جوں کی توں تھی۔ سونے کا بھاری گلوبند، پازیب، بالوں میں لگانے کے لئے کلپ، وہ جتنے شوق سے ایک ایک چیز اٹھا کر دیکھتی۔ دادی اتنی ہی بے رحمی سے وہ چیز اس کے ہاتھ سے جھپٹ لتیں۔
’’بڑی قیمتی چیزیں ہیں، تمہیں کیا خبر؟‘‘
’’ہاں دودھ پیتی بچی ہوں نا۔‘‘ وہ زیورات چھوڑ کر باقی چیزیں دیکھنے لگی۔
عطر کی خالی شیشیاں تھیں۔ جس زمانے میں دادا نے لا کر دی تھیں، اس وقت یقینا بھری ہوئی ہوں گی مگر اب تو عرصہ دراز سے ان شیشوں کو خالی ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کے علاوہ خوب لمبے لمبے پراندے تھے، ہلکے انگوری رنگ کا وہ سوٹ تھا جو بخت آور کے ابا نے آخری بار دادی کو لا کر دیا تھا اور دادی نے ان کے مرنے کے بعد یونہی اپنے پاس رکھ چھوڑا تھا سلوانے کی زحمت بھی نہ کی تھی۔ سنہرے گوٹے والا سرخ رنگ کا غرارہ جسے دیکھ کر وہ ہر بار کی طرح مچل گئی تھی۔
’’دادی! ایک بار پہن لینے دیں۔ صرف ایک بار۔۔۔ دیکھوں تو سہی، کیسا لگتا ہے؟‘‘
اسے گہرے رنگ پسند تھے مگر دادی نے آج تک پہننے ہی نہ دےے تھے۔ اب بھی سختی سے ٹوک دیا وہ منت سماجت میں لگ گئی۔ تائی حسنہ اس بچکانہ ضد پر ہنستی رہیں پھر غرارہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
’’کیا ہے اماں!‘‘ بچی کا شوق ہے، پورا کرنے دیں۔‘‘
’’یہ ہوئی نا بات۔۔۔‘‘ وہ کمرے میں بھاگ گئی۔ غرارہ پہنا، سلیقے سے دوپٹہ اوڑھا۔ الماری سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر لپ اسٹک نکالی۔ گہرے سرخ رنگ کی۔۔۔ تائی حسنہ کے کمرے کی صفائی کرتے ہوئے اسے ملی تو تائی حسنہ نے اسے ہی دے دی تھی۔
’’جب سے تیمور کے ابا چل بسے، کبھی سنگھار نہیں کیا، تم ہی رکھ لو۔۔۔‘‘ اس کے بھی کس کام کی تھی، لے کر یونہی الماری میں رکھ دی۔آج نکال کر خوب رگڑی ہونٹوں پر اور پھر باہر نکل آئی۔ جانے کس ترنگ میں تھی۔ گھومتی، لہراتی، دادی کے سامنے آئی تو انہوں نے انگلی رکھ لی ناک پر۔
’’اوئی ماں! یہ ہونٹ کس چیز سے رنگے ہیں؟‘‘
وہ سٹپٹا گئی، کچھ بات نہ بن پائی تو کھسیانی سی ہو کر یونہی ہنس دی۔ دادی اپنی جگہ مبہوت سی رہ گئیں۔
سرخ دوپٹے کے ہالے میںرنگ تو جیسے کندن کی طرح دمک رہا تھا۔ شہد رنگ چمکتی آنکھوں سے جھلکتا شرمیلا پن اور بے ساختہ مسکراہٹ۔
دادی ایک لمحے کے لےے تھرا سی گئی تھی۔
انہیں تو خبر ہی نہ تھی وہ کیسا خزانہ ہاتھ میں لےے پھرتی ہیں۔ مٹے مٹے پھولوں والے بے رنگ لباس پہنے، اس سے پہلے وہ کبھی انہیں نظر ہی نہ آئی تھی۔ اور آج۔۔۔ انہوں نے سینے پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔
’’کہاں چھپائے پھرتی تھی یہ اتنا حسن، اس سے پہلے کبھی نظر نہ آیا۔۔۔؟ ارے یہ سرخ رنگ میں کیا جادو بھرا ہے جو۔۔۔‘‘ وہ حیران تھیں اور کچھ پریشان بھی۔ تائی حسنہ کی نظروں میں ستائش تھی اور وہ لاپروا، بے نیاز۔۔۔ دادی کے غرارے پر تبصرے کر رہی تھی۔ تب ہی دروازہ پر کھٹکا ہوا۔
دادی برح طرح چونکی۔۔۔ مرانہ آوازیں ڈیوڑھی میں گونج رہی تھیں۔
’’اچھا بس اب۔۔۔ بدل کر آ کپڑے۔۔۔ جلدی کر۔۔۔ ایک منٹ کی بھی دیر نہ ہو۔۔۔‘‘ وہ غیر متوقع طور پر دھاڑی تھیں۔
’’ایک منٹ دادی! ابھی تو۔۔۔‘‘ وہ منمنائی۔ جواباً دادی نے جوتے کی طرف ہاتھ بڑھا لیا تھا۔
’’جارہی ہوں، جارہی ہوں‘‘ وہ تیزی سے پلٹی۔
منیب اور شبیب ایک دم اس کے سامنے آرکے تھے۔ احمد کھلکھلا رہا تھا۔
وہ گڑ بڑا سی گئی۔ دادی کی شعلہ اگلتی آنکھوں کے سوا کچھ نظر ہی نہ آیا۔ اپنے ارد گرد گھومتے احمد کو دھکا دے کر پیچھے ہٹایا۔ کمرے کی طرف بھاگی مگر غرارہ پہن کر بھاگنے کی عادت کہاں تھی، پیر کا انگوٹھا پائنچے میں پھنسا۔۔۔ اور وہ دھڑام سے منہ کے بل زمین پر۔۔۔ ہفت آسمان نگاہوں کے سامنے گھوم گئے۔ انواع و اقسام کی آوازیں ہر طرف سے بلند ہوئیں مگر شرمندگی کے مارے بصارت، سماعت سب ختم۔
’’ارے پکڑو۔۔۔ اٹھائو۔۔۔‘‘ دادی، تائی حسنہ اس کی طرف لپکیں۔ لڑکے اپنی جگہ ساکت مگر کسی کے بھی حرکت میں آنے سے قبل وہ اٹھی اور ایک ہی جست میں کمرے کے اندر، دادی پیچھے بھاگیں۔ اندر داخل ہونے کو تھیں جب دھاڑ سے دروازہ بند ہوگیا۔ ایک بازو کمرے میں اور دادی پوری کی پوری باہر۔۔۔ شورو غوغا مچا، دادی کی آہ و بکا سب سے بلند، منیب نے پور ی کوشش کی دادی کو گھسیٹنے کی مگر دوسری طرف بخت آور انہیں کھینچ کر دروازہ بند کر چکی تھی۔
’’یہ کیا ہوا؟‘‘ ماں بیٹے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے۔
’’زیادہ چوٹ تو نہیں آئی۔ خیریت تو ہے نا؟‘‘ وہ باہر کھڑے پوچھتے رہے۔ کتنی ہی دیر بعد دروازہ کھلا۔ دادی برآمد ہوئیں۔
’’ہونٹ پھٹ گیا ہے۔ ماتھے پہ گومڑا اور ناک سوجھی ہوئی۔‘‘ دادی از حد پریشان۔۔۔ رپورٹ ان تک پہنچائی اور سر تھام کر بیٹھ گئیں۔
’’میری ہی نظر لگ گئی کم بخت کو۔۔۔‘‘ انہیں یقین تھا۔
بخت آور رات تک کمرے سے باہر نہ آئی۔ تیمور حسن اس کی غیر موجودگی کو محسوس کےے بغیر نہ رہ سکے۔ تائی حسنہ سے استفسار کیا۔ انہوں نے وجہ بتائی تو فوراً اس کے پاس چلے۔
’’ڈاکٹر کے پاس چلو۔۔۔ کہیں گہرا زخم نہ ہو۔‘‘
وہ گز بھر لمبا گھونگھٹ نکالے نفی میں سر ہلاتی رہی۔
’’چلو مجھے ہی دکھادو۔۔۔ کوئی دوائی وغیرہ لگادوں۔‘‘ وہ بالکل سنجیدہ تھے مگر بخت آور راضی ہی نہ ہوئی۔
’’میں خود ہی لگا لوں گی۔‘‘ تیمور حسن طویل سانس لے کر رہ گئے۔ اس بچکانے پن پر ہنسی بھی آرہی تھی مگر زیادہ اصرار نہ کر سکے۔۔۔ زخم پر لگانے کے لئے ٹیوب دی اور احتیاط کی تلقین کرتے ہوئے باہر چل دےے۔
٭٭٭
تیمور حسن کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ یہ اطلاع کسی دوست نے پہنچائی تھی جسے سن کر گھر کا ہر فرد اپنی جگہ سن ہو کر رہ گیا تھا۔ کئی برس قبل ایسے ہی ایک حادثے میں ان کے باپ چل بسے تھے، وہی خوف ایک بار پھر سروں پہ منڈلانے لگا تھا۔ تائی حسنہ نے رو رو کر اپنا آپ بَھلا ڈالا۔ جس وقت وہ لوگ ہاسٹپل پہنچے تیمور حسن ایمرجنسی وارڈ میں تھے، ملنے کی اجازت تھی نہ دیکھنے کی۔ شبیب زرد چہرہ لےے ایک سے دوسرے ڈاکٹر کے پیچھے بھاگتا رہا۔ منیب ماں کو سنبھال رہا تھا۔ احمد دیوار کے ساتھ شاک کی حالت میں کھڑا ٹکڑ ٹکڑ سب کا منہ دیکھ رہا تھا۔ بڑے بھیا گھر میں اسے سب سے زیادہ پیارے تھے۔
’’اگر انہیں کچھ ہوگیا تو۔۔۔؟‘‘ وہ ڈر کے مارے رونا بھی بھول گیا تھا۔
دادی نرسوں سے جھگڑ رہی تھیں۔
’’ہمیں دیکھنے تو دو۔۔۔ ہمارا بچہ ہے کس حال میں؟‘‘
پریشان، بھاگ دوڑ میں مصروف نرسیں ان کی بات سننے کی بھی روا دار نہ تھیں۔ بخت آور کبڑے میاں کے ساتھ گھر میں رہ گئی تھی۔ جب تک ہاسپٹل سے کوئی اطلاع نہیں آئی وہ مصلے سے نہ اٹھ سکی تھی۔ کبڑے میاں سارے گھر میں بے قرار پھرتے رہے، ان کے ہونٹ مسلسل ہل رہے تھے۔ کون کون سی دعائیں نہ مانگ ڈالی تھیں انہوں نے۔ شام گئے شبیب آیا تو ان کے استفسار پر بازوئوں میں منہ چھپا کر رو دیا تھا۔ نجانے صبح سے کیونکر ضبط کےے پھر رہا تھا۔
’’ارے بتاتے کیوں نہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ اسے جھنجھوڑتے ہوئے کبڑے میاں کی آواز پھٹ گئی تھی۔
بخت آور دروازے کا پٹ تھامے لرزتی رہی۔
’’ہمارے تیمور بھیا عمر بھر کے لےے معذور ہوگئے کبڑے میاں وہ کبھی چل پھر نہیں سکیں گے۔‘‘
’’آہ۔۔۔!‘‘ دکھ کی لہر، دل کو کاٹتی چلی گئی تھی۔ وہ مرے مرے قدموں سے چلتی اپنے کمرے میں آگئی۔ کبڑے میاں، شبیب کو لتاڑ رہے تھے۔
’’بے وقوف لڑکے یہ خوشخبری کیوں نہیں سناتے کہ میرے بچے کی جان بچ گئی۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ زندہ ہے، ہم سب کے درمیان موجود ہے۔ بند کرو رونا دھونا۔ مقام شکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی جان بخش دی۔۔۔‘‘ کبڑے میاں کی آواز میں لرزش بڑھتی چلی گئی تھی۔
بخت آور اپنی بے ترتیب سانسوں پہ قابو پاتی خود کو سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی۔ تیمور حسن کے چہرے کی نرم سی مسکراہٹ نگاہوں کے سامنے سے ہٹنے میں نہ آرہی تھی۔ وہ دونوں ہاتھوں میں منہ چھپائے بیٹھی رہی۔
٭٭٭
گھر کی دیواروں پر اندھیرا چپکے سے اترا تھا اور اپنی اداس نگاہوں سے ایک ایک چہرے کو تکتا رہا تھا۔ رات گئے دادی اور تائی حسنہ کی آمد ہوئی۔ منیب اور شبیب ہاسپٹل میں رہ گئے تھے۔ احمد گھر آتے ہی اپنے کمرے میں گھس گیا۔
تائی حسنہ کی حالت خستہ تھی، آنکھیں رو رو کر سوجھی ہوئی تھیں۔ دادی بھی مغموم، رہ رہ کر ٹھنڈی آہیں بھرتی رہیں۔ تائی حسنہ کو دلاسا، تسلیاں دیتے تھک گئیں تو اٹھ کر باہر آگئیں۔ باورچی خانہ سونا پڑا تھا۔ چولہا ٹھنڈا ٹھار۔
’’ارے کھانا وانا کچھ نہیں پکا کیا؟‘‘ انہوں نے قریب گزرتے کبڑے میاں کو مخاطب کیا تو وہ جیسے پھٹ پڑے۔
’’ہاں پکایا ہے۔ حلوہ پوری پکی ہے۔ پلائو، زردہ دم پر ہے۔ اے کچھ خدا کو خوف کرو بوڑھی اماں! ہمارا کلیجہ منہ کو آرہا ہے اور تمہیں کھانے پینے کی سوجھ رہی ہے۔‘‘
’’آئے ہائے۔ کیا کانوں میں گھسے آرہے ہو کبڑے میاں۔۔۔ دھیرے نہیں بول سکتے تم۔۔۔ اور حلوے، زردے کیوں پکنے لگے بھلا۔ ایسی کون سی خوشی دیکھ لی ہم نے۔ میں تو یہ پوچھ رہی ہوں کہ جو بھڑبھڑ آگ جل رہی ہے خالی پیٹ میں، یہ کیونکر بجھ پائے گی۔ لاکھ صدمے جھیلے، صعوبتیں سہیں، خوب جانتی ہوں کہ اس دوزخ کو بھرے بغیر چارہ نہیں۔ بھلے سے کلیجہ منہ کو آئے، دل دکھ سے پھٹ جائے مگر کتنے پہر، دو، تین چار۔۔۔ آخر کو تو پیٹ روٹی مانگے گا نا، پھر اس بے چاری کی بھی فکر کرو جو صبح سے پانی کا گھونٹ نہیں نگل سکی۔‘‘
انہوں نے تائی حسنہ کی طرف اشارہ کیا۔ کبڑے میاں لاجواب ہو کر بڑبڑاتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتے وہاں سے چل دےے تھے۔ آدھے گھنٹے بعد واپسی ہوئی بن کباب کا شاپر ان کے ہاتھ میں تھا۔ دادی تکےے سے ٹیک لگائے اونگھ رہی تھیں، کبابوں کی خوشبو سونگھتے ہی فوراً اٹھ بیٹھیں۔ کبڑے میاں نے کھانا نکال کر سب کے سامنے رکھا اور خود ڈیوڑھی میں چلے گئے۔ رات کے سرد تر سناٹے میں ان کی دکھ بھری آہیں وقفے وقفے سے سب ہی کو سنائی دیتی رہی تھیں۔
٭٭٭
بہت دنوں بعد اس نے تیمور حسن کو دیکھا تھا۔ چہرے پہ کھنڈی زردی، ماند پڑتی ہوئی رنگت، آنکھوں میں دکھ کا ایک سمندر تیر رہا تھا۔ شبیب اور کبڑے میاں انہیں سہارا دے کر کمرے تک لائے تو تائی حسنہ انہیں بازوئوں میں بھینچ کر رو دی تھیں۔
بخت آور آنکھوں میں آنسو بھرے سب کے پیچھے کھڑی تیمور حسن کے چہرے پہ اتتی اذیت اور تکلیف کو دیکھ کر ہونٹ کاٹتی رہی۔ دادی، تائی حسنہ کو ڈانٹ ڈپٹ کر باہر لے گئیں، محلے کی کتنی عورتیں تیمور حسن کو دیکھنے آئی تھیں۔ اظہار دکھ کے مختلف انداز، ایک سے بڑھ کر ایک ہمدرد، تیمور حسن آنکھوں پر بازو رکھے چادر اوڑھے لیٹے تھے۔ بے رنگ پانی کی ایک لکیر مسلسل بہتی ہوئی کنپٹی کے بالوں میں جذب ہورہی تھی۔
بخت آور سے برداشت نہ ہوسکا تو قریب سے گزرتے ہوئے شبیب کو بے اختیار ہی پکار بیٹھی۔
’’ان سب عورتوں سے کہو، یہاں سے اٹھ جائیں۔ ان کے ہمدردی جتانے سے، ترس کھانے سے تیمور بھیا کو دکھ ہورہا ہوگا۔‘‘ وہ بھرائی ہوئی آواز کے ساتھ بمشکل کہہ پائی تھی۔
شبیب نے اس کی بات سنتے ہوئے ایک نظر تیمور پر ڈالی اور پھر چپ چاپ باہر نکل گیا۔ ذرا دیر میں دادی بکتی جھکتی آئی تھیں۔
’’اے باہر آکر بیٹھو۔۔۔ کیا بچے کے سر پہ سوار ہوگئی ہو۔ ڈاکٹر نے آرام کرنے کو بولا ہے اور تم لوگ ہو کہ بچوں سمیت یہاں گھسی بیٹھی ہو۔ آئو صغریٰ باہر بیٹھتے ہےں۔ ارے جمیلہ اٹھا لائو اپنے بچے کو۔۔۔ خواہ مخواہ شور کےے جارہا ہے۔‘‘
دادی آن واحد میں سب کو لے کر باہر نکل گئی تھیں۔ کمرے میں خاموشی کا احساس ہوتے ہی تیمور حسن نے بازو ہٹا کر آنکھیں کھول دی تھیں۔ طویل سانس لے کر دونوں ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں خشک کرنے کے بعد وہ نجانے کیا سوچے جارہے تھے، جب اچانک ہی کمرے کی نیم تاریکی میں کسی دوسرے وجود کا احساس ہوا۔ بے ساختہ ہی گردن موڑ کر انہوں نے ساکت کھڑے سائے کو پہچاننے کی کوشش کی۔ تب وہ سایہ حرکت کرتا ہوا ان کے نزدیک آرکا تھا۔
’’تیمور بھائی!‘‘ آواز پہچانتے ہی وہ بے اختیار نظریں چرا گئے تھے۔
’’ارے بخت آور۔۔۔! تم۔۔۔؟ کمال ہے میں تو بھول ہی گیا تھا کہ۔۔۔‘‘ وہ بات ادھوری چھوڑ کر پھیکی سی ہنسی ہنس دےے تھے۔
’’تیمور بھائی!۔۔۔ آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔۔؟‘‘
بخت آور ان کے قریب آرکی تھی۔ وہ جواب دےے بغیر پردے سے چھن چھن کر آتی روشنی کو دیکھے گئے۔
’’آپ فکر مت کیجئے۔ آپ بالکل ٹھیک ہوجائیں گے، ہے نا، آج کل تو بہت ترقی کر لی ہے ڈاکٹروں نے۔۔۔‘‘ وہ انہیں تسلی دینے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی۔
’’تم مجھے دیکھنے ہاسپٹل نہیں آئیں۔‘‘ انہوں نے دانستہ موضوع بدلنے کی کوشش کی۔
’’آئی تھی ایک روز۔۔۔ آپ سو رہے تھے۔ پورے جسم پر پٹیاں بندھی تھیں۔ بس اس کے بعد دوبارہ جانے کی ہمت ہی نہی ہوسکی۔ لیکن یہاں گھر میں، میں آپ کو بہت یاد کرتی تھی تیمور بھیا! گھر بالکل خالی خالی لگتا تھا آپ کے بغیر۔۔۔‘‘
وہ پلکیں جھپک جھپک کر آنسو روک رہی تھی۔ تیمور حسن چپ چاپ کسی غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے لیٹے تھے۔ ان کے پاس کہنے کے لئے گویا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’میں آپ کے لےے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔‘‘ وہ ان کی بے توجہی کو نوٹ کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھیٰ
’’بیلا بھی نہیں آئی نا؟‘‘ وہ خود کلامی کے سے انداز میں بولے تو بخت آور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے ٹھٹک سی گئی تھی۔
’’اتنے بہت سے دنوں میں اس نے ایک بار بھی محسوس نہیں کیا کہ مجھے اس کی کتنی ضرورت ہے۔‘‘ وہ بہت دل گرفتہ نظر آرہے تھے۔
بخت آور کیا کہتی، بس نظر جھکا کر باہر آگئی تھی۔
’’بیلا کو آنا چاہےے تھا سب سے پہلے، وہ آکر دیکھتی تو سہی کہ۔۔۔‘‘ تیمور حسن کی آنسوئوں سے بوجھل آوازنے بخت آور کو بہت دیر تک اداس کےے رکھا تھا۔
٭٭٭
’’وہ بہت ہی بے حس لڑکی ہے یا پھر حد سے زیادہ درد مند۔۔۔ میں جتنی بار بھی ان کے ہاں گیا ہوں۔ اس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ اس کی امی کہتی ہیں کہ وہ بہت حساس ہے، تیمور کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی۔ اسے ذرا سنبھلنے دو۔ وہ اس حادثے سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ لیکن بخت آور! اس حادثے نے ہم سے زیادہ تو کسی کو متاثر نہیں کیا ہوگا۔ کیا ہم سب اس المےے کو دیکھنے اور سہنے کے باوجود زندہ نہیں ہیں؟ کیا ہمدردی یہی ہے کہ اس شخص کو تنہا چھوڑ دیا جائے جو اس حادثے میں سب سے زیادہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گیا ہے۔ تیمور بھائی ہر آہٹ پر چونک چونک جاتے ہیں۔ خالہ، خالو کی آمد پر ان کے چہرے پہ جو امید ابھرتی ہے آن واحد میں بکھر جاتی ہے، میں اسے لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ دل کٹ کے رہ جاتا ہے، ان کی لاچاری اور بے بسی پر۔۔۔ اتنے اچھے تھے ہمارے تیمور بھائی، خدا جانے یہ کیسی آزمائش ہے۔‘‘
یہ شبیب تھا، بے حد الجھا ہوا پریشان حال، ذرا تنہائی میسر آئی تو اپنی ساری پریشانی بخت آور کے ساتھ بانٹنے لگا تھا۔ نہ جانے کیسا رشتہ بندھ گیا تھا اس لڑکی کے ساتھ، کہیں کوئی اجنبیت تھی نہ پردہ داری۔ بس ایک وہی گریزاں تھی مگر کب تک۔۔۔؟ یوں لگتا تھا ایک ایک کر کے سارے ہتھیار پھینک ڈالے تھے اس نے۔ خود کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا تھا یا قسمت کے آسرے پر۔۔۔
تیمور حسن کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد وہ یوں بھی بہت چپ چاپ اور مضمحل سی رہنے لگی تھی۔ پہروں خاموش بیٹھی رہتی۔ شبیب آتا تو دونوں ایک دوسرے سے اپنی اپنی کہہ سن لیتے۔
تائی حسنہ تو بالکل ہی ٹوٹ پھوٹ کر رہ گئی تھیں۔ گھر میں کیا ہورہا ہے کیا نہیں، وہ جیسے سب بھلائے بیٹھی تھیں۔ ایک دادی اور کبڑے میاں تھے جن کے جھگڑنے کی آوازوں سے سارا دن گھر گونجتا رہتا۔ دادی، کبڑے میاں سے خار کھاتی تھیں۔ کبڑے میاں دادی سے برگشتہ۔۔۔ دن گزرتے جارہے تھے۔
٭٭٭
بیلا آئی تھی مگر اتنی خاموشی سے کہ گھر میں کسی کو خبر بھی نہ ہوئی تھی۔ موسم اس روز ابر آلود تھا۔ بخت آور اور دادی نیم تاریک کوٹھڑی میں دبکی بیٹھی تھیں۔ کبڑے میاں ڈیوڑھی میں جھلنگا سی چارپائی پر لیٹے، ٹھنڈے ٹھار لحاف میں مسلسل کپکپا رہے تھے۔ جب کینوس شوز میں مقید پائوں بغیر کوئی آواز پیدا کےے ان کے قریب سے گزر گئے۔ نم آلود صحن کو پار کرتے ہوئے اس کا رخ تیمور کے کمرے کی طرف ہی تھا۔ نیم غنودگی میں لیٹے حسن نے دروازہ کھلنے کی آواز پر آنکھ کھولی تھی۔
’’کون۔۔۔؟ کون ہے؟‘‘ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑے سائے کو وہ پہچان نہ سکے تھے۔
’’میں ہوں۔‘‘
’’بیلا!‘‘ بے ساختگی سے اس نام کو دہرانے میں تیمور حسن کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔
’’کیسے ہو تیمور؟‘‘ وہ سست روی سے چلتی ہوئی ان کے نزدیک آرکی تھی۔
’’اب آئی ہو پوچھنے۔ جب سارے زخم بھر چکے ہیں۔ اس وقت کیوں نہیں آئیں جب زخم ابھی کچُے تھے اور بے پناہ اذیت میں تڑپتا یہ دل تم سے مسیحائی کے چاہ بہت شدت سے کر رہا تھا۔‘‘ بہت سے شکوے زبان تک آئے تھے مگر ہونٹ ساتھ نہ دے سکے۔
’’میں۔۔۔ میں بہت دنوں سے تمہارا انتظار کر رہا تھا۔‘‘ سرد اور جامد چپ کے بعد وہ بس اتنا ہی کہہ پائے۔
’’کیوں میرا انتظار کیوں کر رہے تھے تیمور حسن؟‘‘
بہت ہی سادہ سے لہجے میں پوچھا گیا سوال، تیمور حسن کی آنکھوں میں ڈھیروں ڈھیر حیرت بھر گیا تھا۔
’’کوئی کسی کا انتظار کیوں کرتا ہے؟‘‘ تیمور کی خاموشی ایک ہی سوال کی بازگشت بن کر رہ گئی تو وہ جیسے جھنجھلا کر بولی تھی۔
’’یہی تو بتانے آئی ہوں تم کو۔۔۔ کہ اب میرا انتظار مت کرو۔ میں اس راستے سے قدم موڑ چکی ہوں، جس کے دوسرے سرے پر کبھی تم کھڑے تھے۔‘‘
باہر بادل کی آنکھ سے پہلا قطر گرا تھا اور ڈری سہمی ہوا کا جھونکا کمرے میں آکر کونے کھدرے میں منہ چھپانے لگا تھا۔
’’مجھے معلوم ہے۔۔۔ میں تمہارے دکھ میں اضافہ کر رہی ہوں۔ جانتی ہوں کہ سب لوگ میرے اس فیصلے پر ناخوش ہوں گے حتیٰ کہ میں بھی۔۔۔ لیکن تیمور! تم خود سوچو۔ زندگی ایک اپاہج شخص کے ساتھ کیسے گزاری جاسکتی ہے۔‘‘
ٹھنڈ پہلے سے بہت بڑھ گئی تھی۔ تیمور کو اپنا جسم کپکپاتا ہوا محسوس ہوا تو وہ کمبل میں کچھ اور سمٹ گئے۔
’’آج زخم نیا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر تمہارا ہمدرد۔۔۔ غمگسار، ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھا ہوگا تمہیں، لیکن رفتہ رفتہ سب اکتانے لگیں گے تب۔۔۔ تب تم صرف میری ہی ذمہ داری بن جائو گے اور میں اتنی بڑی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتی۔ میں نے تمہارے ساتھ ایک مکمل، بھرپور زندگی کے خواب دیکھے تھے۔ محبت کی تھی تم سے۔۔۔ اور اس محبت کا دعوا میں آج بھی کرتی ہوں کہ اس محبت سے دستبردار ہونا میرے لےے ممکن نہیں لیکن تمہارے ساتھ زندگی گزارنا بھی تو ممکن نہیں رہے گا تیمور! تمہیں آسرا دیتے ہوئے میں خود تھک گئی تو کیا ہوگا؟ مجھے کون سنبھالا دے گا؟ اماں، ابا مجھ پر زور ڈال رہے ہیں تم سے شادی کرنے کے لےے۔ کہتے ہیں ’’خدا سے ڈرو، یہ حادثہ تمہارے ساتھ بھی ہوسکتا تھا۔‘‘ لیکن تیمور! یہ حادثہ میرے ساتھ ہوتا تو تم اتنے متاثر نہ ہوتے جتنا آج میں ہوئی ہوں۔ تم تو اپنی ضروریات کے لےے محتاج ہو کر رہ گئے۔ میں تم سے شادی کر بھی لوں تو بتائو کہاں سے کمائو گے۔۔۔؟ کیسے کھلائو گے؟ زندگی پہلے ہی بہت کٹھن ہے۔ میں اسے مزید دشوار نہیں بنا سکتی۔‘‘
’’بیلا ! یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘ کوئی بہت اچانک کمرے میں داخل ہوا تھا۔ ٹچ کی آواز کے ساتھ ہی لمحہ بھر میں کمرہ روشنی سے بھر گیا تھا۔
بیلا نے بہت تیزی سے آنکھیں میچ کر آنے والے کی طرف سے رخ موڑا تھا۔ شبیب نے ایک جھٹکے سے اسے موڑتے ہوئے اپنے سامنے لاکھڑا کیا تھا۔
’’کیا کہہ رہی تھیں آپ؟‘‘ وہ متوحش سے انداز میں پوچھ رہا تھا۔ سَتے ہوئے چہرے اور سرخ ہوتے بھاری پپوٹوں کے ساتھ بیلا ان میں سے کسی کا بھی روشنی میں سامنا کرنے کی ہمت نہ کر پارہی تھی۔
’’کون کون سے تیر چلا چکی ہیں آپ اس شخص پر، جسے زندگی کی طرف کھینچ لانے کی جدوجہد ہم دن رات کر رہے ہیں۔‘‘ وہ اسے دونوں بازوئوںسے پکڑے جھنجھوڑ رہا تھا۔
’’کوئی تیر نہیں چلایا میں نے۔ حقیقت بتائی ہے، وہ سچ بتایا ہے جو کبھی نہ کبھی اس کے سامنے آنا ہی تھا۔‘‘ تھکے تھکے سے انداز میں اس نے شبیب کے ہاتھ جھٹک ڈالے تھے۔
’’کیسا سچ۔۔۔؟‘‘ شبیب خوفزدہ ہوگیا تھا۔ تیمور حسن کی آنکھوں میں جلتے آس، امید کے دےے بجھ گئے تو کیا ہوگا۔ زندگی کیونکر گزر پائے گی۔
بیلا لب بھینچے کھڑی تھی۔ اسے جو کچھ کہنا تھا وہ کہہ چکی تھی۔
شبیب تیمور کی طرف لپکا۔
زرد چہرہ، کپکپاتے ہونٹ۔۔۔ ساکت پلکیں۔۔۔ کہیں بہت گہری چوٹ لگی تھی۔
’’تیمور بھائی! کیا کہا ہے اس نے آپ سے۔۔۔ تیمور بھائی بولیں۔ مجھے بتائیں اس نے کیا کہا ہے؟‘‘
تیمور کی خاموشی نے اسے دہلا دیا تو وہ چیخ پڑا تھا۔ تب تیمور حسن کی پلکوں نے جنبش کی، برسوں پرانی نیند سے جاگے ہوئے شخص کی طرح انہوں نے خالی خالی نگاہوں سے پہلے لب کچلتی بیلا کو دیکھا اور پھر پریشان حال شبیب کو۔
’’یہ کہتی ہے۔۔۔ میں اپاہج ہوگیا ہوں۔ اپنی ضروریات کے لےےدوسروں کا محتاج اور یہ کہ کسی اپاہج شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔ کیونکہ زندگی بہت کٹھن ہے اور۔۔۔‘‘ ان کی سانسیں ایک دوسرے میں الجھ رہی تھیں۔
’’بیلا رکیں ۔۔۔ میری بات سنیں۔‘‘ شبیب بے اختیار دروازے سے باہر نکلتی بیلا کو پکارنے لگا مگر بیلا رکی نہیں بلکہ قدموں کی رفتار پہلے سے بڑھ گئی تھی۔
’’بیلا!آپ اچھا نہیں کر رہیں۔ بیلا پلیز! اس طرح مت کریں۔‘‘
شبیب اس کے پیچھے لپکا تھا مگر تیمور حسن کی خراب ہوتی طبیعت نے اس کو بیلا کا بہت دور تک پیچھا نہیں کرنے دیا تھا۔
تاہم اس کی بلند ہوتی آوازوں نے گھر کے کونے کھدروں میں دبکے افراد کو ضرور جھنجھوڑ ڈالا تھا۔
جس وقت سب لوگ وہاںپہنچے، تیمور حسن ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے اور شبیب ان کے ادھ ہوئے وجود کو بازوئوں میں بھینچے سسک رہا تھا۔
’’بہت برا کیا ہے بیلا نے ۔۔۔ بہت برا کیا ہے؟‘‘
’’یا اللہ! کون کون سے صدمے جھیلے گا میرا بچہ۔۔۔‘‘ تائی حسنہ وہیں کمرے کی چوکھٹ پر ڈھے گئی تھیں۔ دادی اور بخت آور ہکا بکا کھڑی تھیں۔
کبڑے میاں ڈیوڑھی میں ماتم کرتے رہ گئے۔
’’ارے کٹے پھٹے جسموں کو کیوں دیکھتے ہیں لوگ، دلوں میں کیوں نہیں جھانکتے۔ محبت میںمصلحت کیسی؟ سود و زیاں کا حساب کیونکر۔‘‘
٭٭٭
’’اس نے بہت جلد بازی سے کام لیا۔ وہ تھورا انتظار تو کرتی۔ میں خود اسے اپنی زندگی سے بے دخل کر دیتا۔ اس دم توڑتے رشتے پر آخری وار اسے نہیں، مجھے کرنا تھا۔‘‘ بہت دنوں بعد تیمور حسن کی چپ ٹوٹی تھی۔
دور بیٹھے کبرے میاں نے زخمی چڑیا کو پانی پلاتے ہوئے سر اٹھا کر انہیں دیکھا۔ کس منت سماجت سے انہوں نے تیمور کو کمرے سے باہر آنے پر آمادہ کیا تھا ورنہ وہ تو جیسے روشنی، اجالے اور کھلے آسمان سے ہی خوف کھانے لگے تھے۔
’’بھول جائےے تیمور بھیا! اب اس ذکر سے کیا حاصل۔۔۔‘‘ شبیب ہر قسم کی پریشانی ان کے ذہن سے کھر چ دینا چاہتا تھا۔
’’کس قدر کٹھور لگ رہی تھی وہ اس وقت۔۔۔ ایسا کڑا لہجہ، ایسے بے رحم الفاظ، وہ تو راہ چلتے معذور لوگوں پر ترس کھایا کرتی تھی۔ ان سے ہمدردی کے مواقع تلاش کرتی تھی۔ کیا میرے لےے اس کے پاس ترس کھانے کی بھی گنجائش نہ تھی۔‘‘
تیمور حسن کو اب تک وہ سب ایک خواب لگ رہا تھا۔ شبیب نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ہوئے ان کے چہرے پہ پھیلی حیرت اور بے یقینی کو دیکھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ اس بات کے جواب میں میں اسے کیا کہنا چاہئے۔
’’وہ آخری وقت تک مجھ سے محبت کا دعوا کر رہی تھی۔ کہتی تھی۔ ’’تمہاری محبت سے دستبردار ہونا میرے لےے ممکن نہیں۔ شبیب! جن سے محبت کی جاتی ہے ان کے لیر و لیر جسم کو یوں کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے؟‘‘
شبیب بے چارگی سے انہیں دیکھتا رہ گیا۔ اس کے پاس ان کے کسی سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔
’’بیلا نے اچھا نہیں کیا تیمور بھائی! اس نے ہم سب کو بہت دکھ دیا ہے۔‘‘
’’مجھے اس کے فیصلے نے نہیں، اس کے روےے نے دکھ دیا ہے۔ اس نے اپنے جائز حق کا استعمال بہت سفاکی اور بے رحمی سے کیا ہے۔ حالانکہ اپنی رائے مجھ تک پہنچانے کے لےے اس کا میرے سامنے نہ آنا ہی کافی تھا۔ کاش وہ تھوڑا انتظار کرتی اور دیکھتی کہ محبت کرنے والے تعلق توڑنے کا ہنر کس خوبی سے نبھاتے ہیں کبھی کبھی ادھوری کہانیوں کا انجام بھی بہت خوبصورت ہوا کرتا ہے۔‘‘ ان کی گفتگو خود کلامی میں ڈھل گئی۔
شبیب مضمحل سے انداز میں آسمان پہ اڑتے پرندوں کو دیکھتا رہا۔ کبڑے میاں زخمی چڑیا کے حلق میں پانی کا آخری قطرہ ٹپکا رہے تھے۔
٭٭٭
’’سمجھ میں نہیں آتا اس گھر کا بنے گا کیا؟ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔‘‘
تیمور نے گردن موڑ کر دیکھا۔ کمرے کی جھاڑ پونچھ کرتی بخت آور سخت جھنجھلائی ہوئی تھی۔ ایک دوپٹے میں بال لپیٹ کر سر پہ پگڑی باندھ رکھی تھی۔ دوسرا گلے میں۔ گرد و غبار سے اٹی ہوئی اچھی خاصی جمعدارنی لگ رہی تھی۔
تیمور حسن نے توجہ ہٹا کر دوبارہ آنکھیں بند کر لیں مگر بڑبڑاہٹ جاری تھی۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ تنگ آکر انہوں نے پوچھا۔
’’یہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہ آخر ہوا کیا ہے، جو سارا گھر اجاڑ، ویران، جنگل بیابان لگ رہا ہے۔ جسے دیکھو منہ پھلائے اور سجائے بیٹھا ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کے دکھی نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کبڑے میاں ہیں تو انہیں دال سبزی لانے کی فکر نہیں۔ منیب ہے تو وہ سارا دن گھر میں نہیں گھستا۔۔۔ احمد کو تو جیسے چپ ہی لگ گئی ہے اور تائی حسنہ ہر بندے سے یوں خفا ہیں جیسے ہر معاملے میں بس دوسرے ہی خطاوار، قصور وار ہیں۔‘‘ وہ کرسی کھینچ کر دھپ سے ان کے سامنے آبیٹھی تھی۔
’’جانتی ہوں میں۔ اس وقت مجھے دیکھ کر آپ کی نفیس طبیعت پر جو جو کچھ گزر رہا ہوگا لیکن کیا کروں؟ دادی کی کھوئی ہوئی عینک کل واشنگ مشین میں پڑے میلے کپڑوں کے ڈھیر میں سے برآمد ہوئی ہے۔ میں تو کہہ رہی تھی کہ غلطی سے کپڑوں میں چلی گئی ہوگی مگر انہیں یقین ہے کہ ساری کارستانی کبڑے میاں کی ہے۔ خیر جانے دیجئے اس قصے کو۔ معاملہ تو یہ ہے کہ اب عینک ملنے کے بعد جو انہوں نے گھر کا جائزہ لیا تو شامت کس کی آئی، مجھ مسکین کی۔ آج کے آج گھر شیشے کی طرح نہ چمکایا تو ہوسکتا ہے کل علی الاعلان کسی پنکھے کے ساتھ لٹکی ہوئی پائی جائوں۔‘‘
’’توبہ ہے بخت آور! کتنا بولتی ہو تم؟‘‘ عجیب اکتایا سا انداز تھا ان کا۔ بخت آور سر جھٹک کر رہ گئی۔
’’شکر نہیں کرتے کہ میری سریلی آواز صبح وشام گھر میں سننے کوملتی ہے۔ اگر میں بھی چپ کا روزہ رکھ لوں، جیسا کہ سب نے رکھا ہوا ہے تو صرف کووُں کی آوازیں سننے کو ملیںیا پھر کبڑے میاں کے جوتے کی دھمک۔۔۔‘‘ اپنی بات ختم کر کے وہ خود ہی زور سے ہنس دی تھی، بالکل بے موقع، بے وجہ۔
تیمور حسن نے بغور اسے دیکھا۔
اس کی ہنسی میں وہ بے ساختگی مفقود تھی جسے اس سے پہلے وہ ہمیشہ محسوس کرتے تھے۔ صاف ظاہر تھا وہ محض انہیں بہلانا چاہ رہی تھی یا پھر گھر میں بہت دنوں سے پھیلی سوگوار سی فضا کو خوشگوار بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔
وہ لمحہ بھر کے لےے مسکرا دےے تھے۔ محض اس کا دل رکھنے کے لےے۔
’’ہاں، محسوس تو میں بھی کر رہا ہوں۔۔۔ گھر میں سب لوگ میری وجہ سے پریشان ہیں لیکن میں چاہنے کے باوجود خود کو ابھی اس قابل نہیں کر پایا کہ ہنستے مسکراتے دوسروں کو تسلی دوں۔ انہیں اطمینان دلائوں کہ میں اس حادثے کے اثرات دل سے قبول کر چکا ہوں اور یہ کہ کسی قسم کا احساس محرومی میرے قریب بھی نہیں پھٹکا۔ ابھی یہ ممکن ہی نہیں میرے لےے۔ میں لاکھ خود کو حوصلہ مند بنائوں لیکن جب جب اماں میرے سامنے آتی ہیں، میری آنکھ اپنے ہی دکھ سے بھر آتی ہے۔ شبیب اور کبڑے میاں کو اپنے لےے تکلیف اٹھاتے دیکھتا ہوں تو احساس جرم سا دل میں بھرنے لگتا ہے۔ ایک عرصہ لگا تھا مجھے اس قابل ہونے میں کہ اس پورے گھر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکوں لیکن یہ کیا کہ آج میں خود ایک بوجھ بن کر رہ گیا ہوں۔‘‘
تیمور حسن کی آواز بھرُا گئی تو وہ لب بھینچ کر خود پر قابو پانے لگے تھے۔
بخت آور اپنی آنکھوں میں آئی نمی کو دھکیل کر بولی تو اس کا لہجہ بہت شگفتہ تھا۔
’’اچھا لگا تیمور بھائی کہ آپ نے خود کو کوئی غیر معمولی انسان ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ حادثہ اتنا معمولی نہیں کہ اسے چٹکیوں میں اڑایا جاسکے۔ یقینا بہت ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے آپ کو۔ لیکن ایک بات بتائوں تیمور بھائی! انسان بوجھ اس وقت بنتا ہے جب وہ کسی ذہنی معذوری کا شکار ہوجائے۔ جسمانی معذوری کے لئے ایک چھوڑ کئی سہارے مل سکتے ہیں لیکن اگر آپ ذہنی طور پر منتشر پریشان اور لاچار ہوجائیں گے تب آپ اپنے لےے ہی نہیں دوسروں کے لےے بھی مشکلات پیدا کردیں گے۔ جسمانی سہارا دینا آسان ہے جذباتی سہارا دینا مشکل، اللہ نے آپ سے صرف ایک نعمت چھینی ہے۔ دل، دماغ، نظر سب موجود ہے۔ عقل اور شعور ہے جو ہر محرومی کا نعم البدل ہوسکتے ہیں۔ آپ ذہنی طور پر خود کو مضبوط بنالیں تو ابھی بھی آپ اس قابل ہیں کہ اس گھر کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاسکیں۔ کندھے تو ماشائ اللہ سلامت ہیں نا آپ کے؟‘‘
وہ آخر میں شرارت سے ہنسی تو تیمور حسن بھی پھیکی سی ہنسی ہنس دےےتھے۔
’’یہ سب باتیں تم کہہ رہی ہو۔ جب کہ میں کسی اور سے سننے کا آرزو مند تھا۔‘‘
’’ارے جانے دیجئے۔ بے لحاظ و بے مروُت لوگوں کو یاد کرنے میں کون وقت برباد کرے۔‘‘
’’ایسا مت کہو بخت آور۔۔۔! اسے حق حاصل تھا کہ وہ اپنے لےے کوئی بہتر فیصلہ کرتی۔‘‘ وہ فورا! اسے ٹوک بیٹھے تھے۔
’’کاش۔۔۔ وہ واقعی اپنے لےے کوئی بہتر فیصلہ کرتی۔‘‘ بخت آور نے پوری سنجیدگی سے کہا تو تیمور سر جھٹک کر مسکرا دئےے۔
’’ہاں اس گھر کے ہر فرد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے فیصلے کو غلط قرار دے دے۔ تاہم مجھے اس سے کوئی گِلہ نہیں۔‘‘
’’اب اگر آپ خود کو اعلیٰ ظرف بنانے پر تلے ہوئے ہیں تو میں کیا کہہ سکتی ہوں۔‘‘
وہ کندھے اچکاتی دوبارہ جھاڑ پونچھ میں مصروف ہوگئی تو تیمور حسن نے مسکراتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے کتاب اٹھالی تھی۔ بخت آور نے کچھ وقت کے لےےہی سہی، ان کو مایوس سوچوں سے نجات ضرور دلادی تھی۔
٭٭٭
تائی حسنہ، منیب اور احمد سمیت تیمور حسن کے کمرے میں محفل سجائے بیٹھی تھیں۔ وہ صحن میں بیٹھی پوری توجہ سے تائی حسنہ کے دوپٹے پر کروشےے کا کام کر رہی تھی، جب کسی کی نظروں کی تپش نے اسے بے اختیار ہی سر اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ یونہی بے ارادہ وہ بے اندازہ اس نے کبڑے میاں کی طرف دیکھا جو اس سے کچھ فاصلے پر پالش، برش اور جوتے کے کئی جوڑے آس پاس پھیلائے بیٹھے تھے لیکن جانے کب سے اپنا کام بھولے بیٹھے تھے۔ اب نگاہیں اس پر جمی تھیں اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ بخت آور کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑ گیا تھا۔
’’یہ کیا ہوگیا کبڑے میاں کو؟‘‘ اس کے ماتھے پر ایک ساتھ کئی تیوریاں ابھریں۔ تب کبڑے میاں چونکتے ہوئے بھرپور انداز میں مسکرا دےےتھے۔
’’میں سوچ رہا تھا کہ۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رکے اور پھر سر جھٹک کر رہ گئے۔
’’دماغ خراب ہوگیا ہے ان کا‘‘ وہ جھنجھلا کر رخ موڑ گئی۔
’’بخت آور! تم ہم سب لوگوں کا کتنا خیال رکھتی ہو۔‘‘
بخت آور کے تیزی سے چلتے ہاتھ ایک لمحے کے لےے رکے۔
’’ہم سب لوگوں کا۔۔۔؟ ہونہہ، اچھی خوش فہمی پالی ہے۔‘‘ وہ بولے بغیر اپنا کام کرتی رہی۔
’’تمہارے آنے سے گھر میں رونق سی ہوگئی ہے۔ نجانے کیوں دل چاہتا ہے کہ تم ہمیشہ۔۔۔ لیکن خیر جانے دو۔۔۔ تمہاری دادی کہاں ہیں؟‘‘
’’خبر نہیں۔۔۔‘‘ اس نے بے دلی سے جواب دیا۔ وہ چاہتی تھی کبڑے میاں یہاں سے اٹھ جائیں لیکن ان کے انداز بھی نجانے کیوں بدلے ہوئے تھے۔ خوامخواہ بات سے بات نکالتے جارہے تھے۔
’’بخت آور تم ہی کبھی کبھار تیمور کے پاس چلی جایا کرو۔ یونہی کبھی کوئی بات سنا دی، کبھی اِدھر اَدھر کی باتیں۔ میرا مطلب ہے بڑا چپ چپ رہنے لگا ہے۔ شبیب، اپنی نوکری کی بھاگ دوڑ میں لگا رہتاہے۔ باقی پڑھائی میں مصروف۔۔۔ تو۔۔۔‘‘
’’کبڑے میاں! میلے کپڑے سرف میں بھگودیں اور دیکھیں سبزی والا آیا ہے تو ٹماٹر اور دھنیا لے لیجئے۔‘‘ اس نے واضح طور پر اکتاہٹ بھرے انداز میں انہیں ٹوکا اور خود اٹھ کر کمرے میں آگئی۔
’’انہیں زیادہ خبر ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔۔۔‘‘ اس نے دوپٹے کو تہہ کر کے الماری میں رکھا۔ دھاگہ لپیٹ کر سنبھالا۔ پھر بستر کی چادریں بدل کر میلی چادریں ٹب میں بھگو کر باورچی خانے کی طرف آئی تو ٹھٹھک سی گئی۔
کبڑے میں اور دادی سرگوشیاں کرتے ہوئے ایک دم جس طرح خاموش ہوئے تھے اس کا حیران ہونا بجا تھا۔
’’کبڑے میاں! میں نے آپ سے کہا تھا کہ۔۔۔‘‘
’’ہاں، ہاں بس جارہاہوں۔‘‘ کبرے میاں کھسیانی ہنسی ہنستے وہاں سے چل دےے۔
’’یہ کبڑے میاں کیا کہہ رہے تھے۔‘‘
’’ہوں، کچھ نہیں۔۔۔‘‘ دادی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔
’’ارے واہ! کانوں میں گھسے بیٹھے تھے آپ کے اور ابھی کچھ کہا ہی نہیں۔‘‘ وہ مشکوک سی پوچھ رہی تھی۔
’’جان مت کھا میری، تیرے کام کی بات نہیں۔‘‘
’’آپ کے کام کی تو ہے نا وہی بتادیں۔‘‘
’’جان مت کھا میری، سوچنے دے مجھے۔ ایک نئی پریشانی میں ڈال گیا یہ کبڑا۔‘‘
’’کون سی پریشانی۔۔۔ دادی کون سی پریشانی؟‘‘ اس نے جھٹ ان کا گھٹنا تھام لیا۔
’’آئے۔۔۔ ہائے اب تو آجا میری جان کو۔ دفع ہو، مجھے حواسوں میں واپس تو آنے دے جونک بن کر چمٹ گئی مجھے، چل ہٹ کچھ کام وام کرنے دے۔‘‘ دادی اسے بری طرح جھڑک کر چولہا جلانے لگیں۔ وہ منہ بناتی وہاں سے اٹھ گئی۔
’’امی پوچھ رہی ہیں، آج کیا پکے گا۔۔،؟‘‘ احمد نے غلطی کی جو اسے پکار بیٹھا۔
’’بندر کی کھوپڑی اور مچھر کے سری پائے۔ ویسے ابھی گلے نہیں۔‘‘ وہ اسے ایک طرف دھکیلتی کپڑے دھونے چل دی تھی۔
٭٭٭
’’وہ ہوتے کون ہیں ہمارے معاملات میںبولنے والے ۔۔۔ انہیں کس نے حق دیا ہے کہ وہ میرے بارے میں اس طرح کا فیصلہ کرتے پھریں۔۔۔‘‘ بخت آور کی تلخ و ترش آواز رات کی خاموشی میں ابھری تو دادی گھبرا سی گئیں۔
’’ایسی بلند آواز۔۔۔ کسی نے سن لیا تو۔۔۔‘‘ انہیں پچھتاوا ہونے لگا۔ کیوں اس وقت بات چھیڑی۔
’’اے ہمارے بھلے کو کہہ دیا بے چارے نے، تم کاہے کو اتنا گرم ہورہی ہو۔‘‘
’’گرم ہونے والی بات نہیں ہے کیا؟ وہ بڈھا کھوسٹ، کبڑا، ٹھگنا شخص خود کو سمجھتا کیا ہے میں بھی حیران تھی، چوبیس گھنٹے چونچیں لڑانے والوں میں دوستی کیسے ہوگئی۔ اب پتا چلا یہ پٹیاں پڑھائی جارہی تھیں۔‘‘ اسے سخت غصہ آرہا تھا۔
’’وہ کیا پٹیاں پڑھائے گا بے چارہ! اس نے تو ایک بات کہی تھی، میرے دل کو لگی تو تم سے کہہ بیٹھی اور۔۔۔ حسنہ بھی تو یہی چاہتی ہے۔‘‘ دادی کی سرگوشی نے اسے ایک لمحے کے لےے سَن کر دیا تھا۔
’’کیوں نہیں چاہیں گی وہ، اور اب کون آئے گا بھلا ان کے اپاہج بیٹے کے لےے۔ لے کر مجھے نظر میں رکھ لیا۔ غریب، یتیم، بے آسرا لڑکی۔ احسانوں کے بوجھ تلے دبی، کیسے سر اٹھائے گی کیا بولے گی۔ زبان دو وقت کی روٹی سے بند، سر اس چھت نے جھکا دیا۔ مفت کا مال ہوگئے ہم تو جب دل چاہا کوڑا، کچرا سمجھ کر پرے ہٹا دیا۔ جب ضررت پڑی سونا، ہیرا جان کر سینے سے لگا لیا۔‘‘
اس نے لحاف اٹھا کر دو ر پھینکا اور دیوار سے ٹیک لگا کر سسکنے لگی۔
دادی سر تھام کر رہ گئیں۔
وہ حیران تھیں، پریشان بھی۔ سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کی سوچ اتنا گہرا رخ اختیار کر سکتی ہے۔ وہ ابھی تک اسے بھولی بھالی، بڑبولی سی بخت آور سمجھ رہی تھیں۔ انہیں کہاں خبر تھی کہ سوچ زاویہ بدل چکی ہے۔ نہ دل پہلے سا کورا رہا۔ نہ دھڑکن کی لے وہ رہی۔
کوئی اس کی چھپی چھپائی ذات کو باہر نکال کر جھاڑ پونچھ کر بڑے لاڈ پیار سے دل کے آنگن میں سجا چکا ہے۔ کسی نے اہم جانا، اہم سمجھا تو ایک غرور سا خود بخود وجود میں سما گیا تھا۔ نگاہ قدموں سے اٹھ کر دور زمین پہ جھکتے آسمان کو چھونے لگی تھی اور آج۔۔۔ کیسی ٹھوکر سی لگی تھی دادی کی بات سے۔
’’کبڑے میاں کہتے ہیں۔ بخت آور کا ہاتھ تیمور کو تھمادو۔ اس حادثے نے صرف اس کے جسم کا ایک حصہ چھینا ہے۔ ہمت و حوصلہ جوں کا توں ہے۔ میں اس کی آنکھوں میں زندگی کو نیا جنم لیتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، اس کی معذوری کو مت دیکھو۔ قسمت کی آنکھ تمہارے، میرے جیسی نہیں ہوتی۔ مہربان ہونے پر آئے تو رنگ، روپ، کٹیا، محل کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ دیکھو اس کی روشن پیشانی، وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں۔ بخت آور چین اور سکون پائے گی اللہ کے فضل سے۔‘‘
کبڑے میاں کی نیک خواہشات نے کیسا تیر گھوپنا تھا جگر میں، وہ بہت دیر تک سسکتی رہی، دادی اماں سمجھانے بجھانے کی کوشش کرتی رہیں آخر تنگ آکر چیخ پڑی۔
’’اتنے ہی گَن ہیں تیمور بھیا میں تو بیلا کیوں چھوڑ گئی انہیں۔ آپ کیوں چاہتی ہیں کہ میں باقی عمر بھی ترس ترس کر، سسک سسک کر گزاروں۔ چارپائی پر پڑا مجبور و محتاج شخص آخر میرے لےے کر بھی کیا سکتاہے۔ تحفظ روپیہ، پیسہ، کچھ بھی تو نہیں مل سکتا ان سے دادی۔۔۔ تیمور بھیا صرف ایک خالی کشکول ہیں۔ جو دوسروں کی خیرات سے ہی بھر سکتا ہے۔ ہر کسی کو اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے دادی! وہ سب تیمور بھیا کے لئے سوچتے ہیں۔ لیکن آپ کو صرف میرے لےے سوچنا ہے۔ صرف میرے لےے۔‘‘
’’تیرا دماغ خراب ہے اور کچھ بھی نہیں۔ روٹی، رزق، غم، خوشی سب انسان کی قسمت میں لکھا جاچکا ہے۔ اس سے زیادہ کہاں سے حاصل کرے گی تو۔۔۔ آج اس بے بس کو ٹھکرا رہی ہے۔ کل کلاں کوئی عقل کا اندھا مل گیا تو۔۔ کسی کی سوچ لولی، لنگڑی ہوئی تو۔۔۔؟ کس کس کو کہاں کہاں دھتکارے گی۔ اللہ سے خوف کھا۔ آج اس بے چارے پر رحم کھائے گی تو کیا خبر اوپر والا تجھ پر رحم کھالے۔ تجھے تیری اوقات سے بڑھ کر دے دے۔‘‘
دادی اپنی چارپائی سے اٹھ کر ا س کے پاس آبیٹھی تھیں، لیکن اس نے کمال بدتمیزی سے انہیں پرے دھکیل دیا تھا۔
’’اٹھیں یہاں سے پتا نہیں کیسی سوچ ہے۔ آپ کی جہاں اور کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہاں اللہ کو بیچ میں لے آئیں۔ نہیں کرنا میں نے کسی پر بھی رحم، آجائے جو قیامت مجھ پر ٹوٹنی ہے۔‘‘
وہ گستاخی پر اتر آئی تو دادی منہ ہی منہ میں بکتی جھکتی اٹھ کر اپنی چارپائی پہ آگئیں۔ وقفے وقفے سے جاری بخت آور کی بڑبڑاہٹوں نے انہیں بہت دیر تک جگائے رکھا تھا۔
٭٭٭
نجانے کن خیالوں میں گم تھی، وہ سوٹ دھو کر ذرا زور سے نچوڑ دیا تو ’’چیں‘‘ کی آواز سے دامن قمیص سے الگ ہوگیا۔
’’ہائیں۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں پھاڑے اس اندوہناک منظر کو دیکھتی رہی۔ دو ہی تو جوڑے تھے اس کے پاس۔۔۔ ایک تن پر اور دوسرا ہاتھ میں دھجیوں کی صورت۔
’’ساری مصیبت ہمارے لےے۔‘‘ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ قمیص گول مول کر کے ایک طرف اچھالی، دامن آنسوئوں سے خوب ہی تر کیا اور نچوڑ ڈالا۔
’’کرتے رہیں وضو۔۔۔ جنہیں کرنا ہے۔ ہمارے لےے تو سب بے کار، پوری دنیا جی کا جنجال، خوامخواہ کا وبال، اور آپ بھی سمیٹ رکھیں سارا خزانہ، مرجائوں تو نذر، نیاز دیتی رہےے گا۔ جیتے جی تو کوئی خوشی دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔ جس کی آپ جیسی دادی۔۔۔‘‘ گلے میں پھندا سا پڑ گیا تھا۔ کچھ بولا ہی نہیں گیا۔
دادی منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی، کوستی اٹھیں اور قمیص اٹھا کر جائزہ لینے لگیں۔ مرمت کے قابل ہے یا نہیں۔
بخت آور نے بہتے آنسوئوں کے درمیان ساری کارروائی دیکھی اور پھر چیل کی طرح ان پر جھپٹ پڑی۔
’’خبردار! جو اب آپ نے اسے جوڑنے سینے کا سوچا بھی۔ چولہے میں جھونک دوں گی۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھوں سے قمیص کو نوچ کھسوٹ کر رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ دادی نے سر تھام لیا۔
وہ روتی دھوتی کمرے میں بند ہوگئی۔ دادی ایک بار پھر آنکھیں سکیڑ سکیڑ کر قمیص کا جائزہ لینے لگیٰ پھر کوئی چارہ نہ پا کر کبڑے میاں پر ٹوٹ پڑیں جو سبزی لے کر ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئے تھے۔
’’صبح کے گئے اب لوٹے ہو، کیا وقت ہو چکا ہے۔ اب اگر لڑکے بالے آکر کھانا مانگیں گے تو کیا دوں گی انہیں۔۔۔ تمہارا سر۔۔۔‘‘
’’ارے واہ! میرا سر کیا فالتو ہے؟‘‘ کبڑے میاں پہلے ہی منڈی کے بھائو تائو سے چڑے ہوئے تھے۔ پھاڑ کھانے کو دوڑے پھر جوتا گھسیٹتے باورچی خانے میں گھس گئے۔
’’آئے۔۔۔ ہائے پائوں اٹھاکر نہیں چل سکتے کیا؟‘‘ دادی کو سخت وحشت ہوتی تھی اس آواز سے۔۔۔
’’اٹھا کر سر پہ رکھ لوں کیا؟‘‘
’’نہیں توڑ کر جیب میں رکھ لو۔ بھلا ہوگا تمہارا۔‘‘ وہ جلی بھنی باورچی خانے میں داخل ہوئیں۔
’’جانے کس گناہ کی سزا پارہے ہیں آپ کی صورت، اب تو کچھ یاد بھی نہیں۔ بوڑھے لوگوں کی سماعت کمزور ہوجایا کرتی ہے سنا تھا، اللہ جانے کن خوش نصیب گھروں میں بستے ہوں گے وہ بوڑھے۔ ہماری قسمت میں تو یہ رکھی تھی۔ خرانٹ بڑھیا! دیوار پار کی باتیں سن لیتی ہیں۔ جھوٹ فر فر بولتی ہیں۔ ان جیسا چاپلوس زمانے بھر میں کوئی دوسرا نہ ہوگا۔ چالاکی میں کووُں کو مات دیتی ہیں اور کن سوئیاں لینے کی عادت تو عذاب بن گئی ہمارے لےے۔‘‘
انہوں نے چھری پٹخ کر دادی کو گھورا جو انہیں بڑبڑاتے دیکھ کر سماعتوں پہ زور دے رہی تھیں۔
’’اب کھڑی کیا ہیں۔۔۔ پیاز کاٹ رہا ہوں۔ سبزی بنا لیجئے۔‘‘
دادی گڑ بڑا کر سیدھی ہوئیں۔ ٹوکری سے سبزی نکالنے لگیں۔
’’بخت آور کو بلا لیجئے۔ اگر یہی رفتار رہی تو رات تک ہی کھانا ملے گا سب کو۔‘‘
کبڑے میاں بڑی تیزی سے پیاز چھیل رہے تھے۔ دادی ڈھیٹ بنی رہیں۔ جانتی تھیں اب وہ اتنی جلدی باہر آنے والی نہیں۔
کبڑے میاں نے پیاز کاٹ کر دادی کے حوالے کی اور خود باہر آکر اسے پکارنے لگے۔
’’بخت آور! ارے بھئی کہاںہو؟‘‘ انہوں نے کچھ بکھری ہوئی چیزیں سمیٹیں۔۔۔
’’سبزی بنالو، تمہاری دادی کے ہاتھ کا بنا کون کھا سکے گا بھلا۔‘‘ وہ بلند آواز سے کہتے تیمور کے کمرے میں چلے آئے تھے۔ وہ کتاب سینے پہ دھرے سو رہے تھے۔ کبڑے میاں کی دل میں ممتا سی جاگ اٹھی تھی ان کے لےے۔ بڑی آہستگی سے کتاب اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی، تیمور کے جگری یار علی رضا نے بہت امید دلائی تھی۔
’’آپ فکر مند مت ہوں کبڑے میاں! تیمور کو ان شائ اللہ پہلے کی طرح چلتا پھرتا دیکھیں گے آپ۔‘‘
اس نے دعوا کیا تھا۔ علی رضا کے ماموں بڑے ہسپتال کے بڑے ڈاکٹر۔۔۔ کبڑے میاں نے تو آنکھ بند کر کے یقین کر لیا تھا۔ دن رات دعائیں کرتے۔ علی رضا کے لےےبھی اور تیمور کے لےے۔
’’کیا گوشت پوست کی ٹانگیں لگیں گی دوبار۔۔۔ ۔درد، تکلیف تو نہیں ہوگی۔‘‘ ان کی پریشانی اپنی جگہ، علی رضا بہت دیر تک ہنستا رہا تھا۔
’’اصلی نہیں، مصنوعی ٹانگیں، کبڑے میاں!‘‘
’’ہا۔۔۔ہا۔۔۔ مصنوعی ٹانگیں۔‘‘ کبرے میاں افسوس سے سر جھٹک کر تیمور حسن کے اوپر چادر برابر کرتے باہر نکل آئے۔ ڈیوڑھی میں چارپائی بچھا کر لیٹے ہی تھے کہ شبیب اندر داخل ہوا اور زوردار سلام جھاڑا۔
’’کبڑے میاں! جلدی سے کھانا دیں۔ میں بھوک سے مر رہا ہوں۔‘‘ موٹر سائیکل کھڑی کر کے وہ واش بیسن پہ ہاتھ دھونے لگا۔
’’تیمور بھیا!‘‘
’’سو رہے ہیں۔‘‘ کبرے میاں کہتے ہوئے باورچی خانے میں چلے آئے۔
’’بخت آور کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ دروازے بند کےےکیوں بیٹھی ہے؟‘‘ شبیب کے لےےکھانا نکالتے ہوئے انہوں نے سوچ میں گم دادی کو چونکا دیا۔
’’ٹھیک ہے طبیعت، تنگ کرنے پہ آئے تو یہی کیا کرتی ہے۔ نہ کسی کی مجبوریوں کا لحاظ نہ پریشانی کا خیال۔‘‘ گھٹنوں پر زور دیتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئیں۔
کبڑے میاں نے بغور انہیں دیکھا۔
چہرہ تھکا تھکا سا۔۔۔ پریشان، بیزار۔
’’کیا بات ہوئی ہے؟‘‘
دادی کو جواب دینے پر آمادہ نہ دیکھ کر کبڑے میاں ٹرے اٹھائے کمرے میں چلے آئے۔
’’کبڑے میاں! گھر میں بہت سناٹا ہے۔‘‘ شبیب کپڑے بدل کر پلنگ پہ دراز ہوچکا تھا۔
’’ہاں بھئی! سناٹا تو ہوگا ہی۔ احمد ابھی تک اسکول سے نہیں لوٹا۔۔۔ منیب اور آپا جان صبح سے گئے ہوئے ہیں ماموں کی طرف۔۔۔ پھر سناٹا تو محسوس ہوگا نا۔‘‘
کبڑے میاں نے پانی کا گلاس بھر کر سامنے رکھا۔ شبیب بس انہیں گھور کر رہ گیا تھا۔
’’جی ہاں! مجھے تو نہیں معلوم کہ احمد اس وقت اسکول میں ہوتا ہے اور منیب نے آج اماں کے ساتھ ماموں کی طرف جانا تھا۔‘‘ اس کے جھنجھلا کر کہنے پر کبڑے میاں نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھتے دانت نکوستے باہر چل دےے۔
’’ہاں میاں! سناٹا تو ہے۔ خالی، ویران، بھائیں بھائیں کرتا آنگن۔‘‘ انہیں شدت سے گھر میں پھیلی غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا۔
سونے پن میں ہلچل مچانے والی کمرے میں بند تھی۔ ان کا دل ہولنے لگا۔ عادت ہوگئی تھی، بخت آور کو ادھر سے اَدھر چلتے پھرتے دیکھنے کی۔ اس کی اوٹ پٹانگ باتیں سننے کی۔ حالانکہ وہ ان سے کم ہی براہ راست مخاطب ہوتی تھی لیکن پھر بھی بظاہر وہ اپنے کام میں مصروف مگر در پردہ اسی کی باتوں پر دھیان رکھے رہتے تھے۔
’’بخت آور۔۔۔ بخت آور۔۔۔ کھانے کا وقت ہے۔ دروازہ کھولو۔۔۔‘‘ وہ اس کے دروازے پر جا کھڑے ہوئے تھے۔
’’کس بات پر ناراض ہو۔۔۔؟ دادی نے کچھ کہا ہے کیا؟‘‘
’’کبڑے میاں! مجھے تنگ مت کریں، میں بہت بدلحاظ ہوں اور بدتمیز بھی۔ ایسا نہ ہو کہ کچھ الٹا سیدھا کہہ بیٹھوں۔‘‘ دروازہ کھول کر ایک لمحے کے لئے وہ سرخ چہرے کے ساتھ سامنے آئی اور پھر کھٹاک سے دروازہ بند ہوگیا۔
کبڑے میاں چند لمحے دروازے کو گھورتے رہ گئے تھے۔
’’ارے میاں! ایسے نہیں باہر آنے کی وہ۔ سال میں ایک مرتبہ ایسا دورہ پڑ جاتا ہے۔ اسے چھوڑ دو اس کے حال پر جب اپنا دل مان گیا تب سب بھول بھال سامنے آجائے گی۔۔۔ ہنستی کھیلتی پہلے جیسی۔‘‘
دادی اپنی پریشانی کو بے فکری کے لبادے میں چھپا کر ڈیوڑھی میں آبیٹھیں۔ جانتی تھیں سارا غصہ رات کی بات کا ہے۔ قمیص کا تو بس بہانا ڈھونڈا۔
’’آپ سا پتھر دل بھی ہوگا کوئی۔‘‘ کبرے میاں دادی کی بے حسی پر کڑھ کر رہ گئے۔
’’بچی کب سے بھوکی پیاسی کمرے میں بند ہے۔ پوچھا تک نہیں۔ ایک وہی ہے جو سارا سارا دن ایک ایک کے آگے پیچھے پھرا کرتی ہے۔‘‘
دادی سے بڑھ کر ظالم اور جابر کون ہوسکتا تھا کبڑے میں کی نظر میں، باورچی خانے میں جا کر کھانے کی ٹرے تیار کی اور پھر دروازہ بجانے لگے۔
’’بخت آور۔۔۔ بخت آور کھانا کھالو۔ دادی نے بہت مزے کی بھجیا بنائی ہے۔‘‘
’’بھئی! کھانے سے کیا ناراضی۔۔۔ اور ہمیں تو یہ بھی نہیں معلوم۔۔۔ ہم سے کیوں خفا ہو۔۔۔؟‘‘
کبڑے میاں کی بھدی، سپاٹ آواز، بے ڈھنگی دستک صحن کی خاموشی میں وقفے وقفے سے ابھرتی رہی۔ بے چارے کبڑے میاں منانے کے ڈھنگ سے ناواقف بس اپنی سی کوشش کر رہے تھے۔ دروازہ کھلنے پر لمحہ کے لےے جو بخت آور کا چہر نظر آیا تھا وہ آنکھوں میں کَھب کر رہ گیا تھا متورم آنکھیں خوب روئی ہوئی بھیگا نم چہرہ بیٹھی بیٹھی سی آواز۔۔۔ دل کٹا جارہا تھا۔۔۔ پھر کیسے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے، ٹرے میں رکھا سالن ٹھنڈا ہو چلا تھا، مگر ان کی انگلیاں بند دروازے پر دستک دیتے نہ تھکی تھیں۔
پھر بالآخر دروازہ کھل گیا تھا۔ ایک جھٹکے سے وہ باہر نکل کر ان کے سامنے آکھڑی ہوئی تھی۔
’’کیا تکلیف ہے آپ کو۔۔۔؟‘‘ لہجہ حد درجہ گستاخانہ۔۔۔ چہرہ تمتمایا ہوا، شعلہ اگلتی آنکھوں میں نفرت کی انتہا۔
’’میں۔۔۔ میں یہ کھانا۔‘‘ کبڑے میاں بوکھلاسے گئے تھے۔
’’کیوں لائے ہیں کھانا۔ میں نے مانگا تھا آپ سے۔ کہا تھا کہ مجھے بھوک لگی ہے؟‘‘
’’نن۔۔۔ نہیں مگر کھانے کا وقت۔۔۔‘‘
’’ہزار بار یہ جتانے کی کوشش کی ہے میں نے کہ مجھے بلانے۔۔۔ مجھ سے بات چیت کرنے کی کوشش مت کیا کریں۔۔۔ سنا آپ نے، مجھے آپ سے نفرت ہے۔۔۔ بہت برے لگتے ہیں آپ۔۔۔ میں اس جگہ سے اٹھ جاتی ہوں جہاں آپ موجود ہوں۔۔۔ لیکن آپ پھر بھی سمجھ نہیں پاتے۔۔۔ کس ڈھیٹ مٹی سے بنے ہیں آپ کہ پھر بھاگے چلے آتے ہیں۔نہیں ضرورت مجھے آپ کے کھانے کی۔۔۔ لے جائےے اسے۔۔۔‘‘
اس نے ایک جھٹکے سے ان کے ہاتھوں میں پکڑی ٹرے ہوا میں اچھالتے ہوئے گویا سارے غم وغصے کو نکال دینے کی کوشش کی تھی۔
’’اور کان کھول کر سن لیں کبڑے میاں! آئندہ آپ نے مجھ سے یا میرے کسی بھی معاملے سے کوئی تعلق رکھا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ ان ہی لوگوں پر لٹائےے اپنی محبت اور ہمدردی جو اس کے مستحق ہیں اور عادی بھی۔ میری جھولی میں تو آپ اپنے جیسی چھوٹی موٹی بد نما اور کبڑی خواہشات ڈالیں گے۔ جائےے کبڑے میاں جائےے اور بخشےے مجھے۔‘‘ انتہائی تنفر سے دونوں ہاتھ جوڑتی وہ پلٹ گئی تھی۔
کبڑے میاں کی ساکت آنکھوں کے سامنے ایک بار پھر کمرے کا سپاٹ دروازہ تھا۔ اور ان کا دل جو چند لمحے قبل بند ہوچکا تھا ایک ہچکی لے کر دوبارہ زندہ ہوگیا تھا۔
’’یہ کیا کہا ہے بخت آور نے ابھی ابھی۔‘‘ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے دیوار کو تھاما۔
’’اسے مجھ سے گھِن آتی ہے۔ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے۔۔۔؟‘‘
’کیوں۔۔۔؟ کس لےے۔۔۔؟‘‘
’’ارے کبڑے میاں میں نے کہا تھا نا!۔۔۔ چھوڑ اسے اس کے حال پر۔‘‘ دادی ڈیوڑھی میں سے چلا رہی تھیں۔
کبڑے میاں کپکپاتے ہاتھوں سے بکھرے برتن سمیٹ رہے تھے۔ دھندلی آنکھوں اور سائیں سائیں کرتے کانوں سمیت۔۔۔ نہ کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔۔۔ وہ بمشکل خود کو گھسیٹتے باورچی خانے تک لے گئے۔
نجانے کیوں دل پگھلا جارہا تھا وہ وہیں فرش پر دونوں بازوئوں میں منہ چھپا کر بیٹھ گئے۔ ان کا بد وضع وجود بہت دیر تک ان کے بہتے آنسوئوں کے درمیان ہچکولے کھاتا رہا تھا جبکہ اندر کمرے میں بیٹھا شبیب اپنی جگہ ساکت و صامت تھا۔
٭٭٭
شام ڈھلے اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔ تائی حسنہ ابھی ابھی واپس آئی تھیں۔ سخت فکر و مند و پریشان۔
’’فلاں نے کھانا کھایا یا نہیں۔۔۔ تیمور کو کسی نے پوچھا یا یونہی پڑا رہا۔۔۔احمد کا چہرہ کیوں اَترا ہوا لگ رہا ہے۔۔۔؟‘‘
’’ارے حسنہ۔۔۔ ایک دن کے اندر اندر کیا دنیا بدل گئی۔ تمہارے بعد سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا تم چھوڑ گئی تھیں۔ کھانا ہر روز کی طرح دونوں وقت پکا کھایا تیسرے وقت تم خود آ موجود ہوئیں اور احمد بھلا ایک دن میں کہاں کا پہلوان بن جاتا، حد ہوگئی بھئی۔۔۔‘‘ اندرونی خلفشار میں مبتلا دادی چڑ گئیں اس بے وجہ کی پریشانی سے۔
’’خفا کیوں ہوگئیں بی اماں۔۔۔ بس یونہی پوچھ لیا۔۔۔ شبیب بھی تو نظر نہیں آرہا اور کبڑے میاں کی تو میں جب سے آئی ہوں آواز ہی نہیں سنی۔‘‘ تائی حسنہ بولتی رہیں۔ دادی اپنی سوچ میں غرق، باورچی خانے میں بخت آور برتن اٹھا اٹھا کر پٹختی رہی۔ نجانے کس پر غصہ آرہا تھا۔۔۔ کتنی روٹیاں جلائیں۔ کتنی ہی کچی اتار لیں۔ مارے بندھے کام ختم کیا باہر نکلی ہی تھی جب صحن میں بندھے تار سے کپڑے اتارتی تائی حسنہ نے پکار لیا۔
’’یہ کبڑے میاں ڈیوڑھی سے چارپائی نکال کر کہاں لے گئے۔ ابھی سردیاں ختم کہاں ہوئی ہیں اچھی خاصی ٹھنڈ ہوتی ہے باہر۔‘‘
بخت آور نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تائی حسنہ خود ہی جھانک کر آئیں۔
’’لو بھلا یہ کیا بات ہوئی باہر چبوترے پہ چارپائی ڈالے بیٹھے ہیں۔۔۔ کہتے ہیں یہیں ٹھیک ہوں۔۔ کیا بچوں والی ضد لگائی ہے ٹھنڈ ونڈ لگ گئی تو یہاں ہزاروں کام رکے رہیں گے۔ پریشانی الگ۔‘‘ بڑبڑاتے ہوئے انہوں نے کمبل نکال کر بخت آور کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’کبڑے میاں کو دے آئو۔۔۔ خود سے تو کبھی کسی چیز کی مانگ نہیں کریں گے۔‘‘ وہ تیمور بھیا کے کمرے میں چلی گئیں۔ بخت آور کو بادل نخواستہ کمبل اٹھانا پڑا۔
دروازہ کھول کر باہر جھانکا۔
پندرہویں کا چاند تھا۔ نم آلود چاندنی میں ہر چیز بہت صاف صاف دکھائی دے رہی تھی۔ کمبل میں لپٹے لپٹائے کبڑے میاں دروازے کی طرف پشت کےے چارپائی پہ سکڑے سمٹے بیٹھے تھے۔ پراسرار خنک چاندنی میں دائیں، بائیں جھولتی ایک عجیب الخلقت چیز۔
بخت آور کو خوف سا محسوس ہونے لگا۔
الٹے پائوں بھاگنے ہی والی تھی۔ جب شبیب آتا دکھائی دیا۔ حسب توقع وہ سیدھا کبڑے میاں کے پاس جا رکا تھا۔
کبڑے میاں! یہاں کیوں چار پائی۔۔۔‘‘ وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا۔
’’ہونہہ، ہمدردیاں سمیٹنے کا کتنا شوق ہے انہیں۔ بے وجہ کے نخرے۔‘‘ اس نے دروازے کی اوٹ سے جھانکا۔
شبیب کبڑے میاں کے برابر بیٹھا انہیں بازوئوں میں لےے سرگوشیاں کر رہا تھا۔ تاہم کبڑے میاں کی آواز بلند تھی۔
’’نہیں شبیب میاں! مجھے یہیں رہنے دو۔ ڈیوڑھی میں دم گھٹنے لگتا ہے میں یہیں ٹھیک ہوں۔۔۔ ٹھیک ہوں۔ میں۔‘‘
ان کی آواز کپکپاگئی تھی۔ لہجہ ڈوب گیا۔ فضا میں نمی سے گھلنے لگی تھی۔ بخت آور نے کمبل گول مول کر کے وہیں سے چارپائی پہ اچھالا اور خود واپس لوٹ آئی۔
٭٭٭
’’کہاں مصروف رہتے ہو آج کل؟‘‘ شبیب عجلت میں کمرے میں داخل ہوا تو وہ بس اچانک ہی سامنے آگئی تھی۔
’’اسلام آباد سے کال آئی ہے۔ وہاں جانے کی تیاری کر رہا ہوں تیمور بھائی کو بھی لے کر جانا ہے، علی رضا۔‘‘ وہ بتا رہا تھا بخت آور یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
’’شبیب! پریشان ہو؟‘‘ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی۔
الماری کا پٹ کھولتے ہوئے شبیب نے پلٹ کر ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر کچھ کاغذات نکالنے لگا۔
’’میں کبڑے میاں کی وجہ سے پریشان ہوں۔‘‘
’’کیوں انہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ کبڑے میاں کا نام سنتے ہی جس طرح اس کا لہجہ وا انداز بدلا تھا وہ شبیب سے چھپا نہ رہ سکا۔
’’تم نے اس دن بہت بدتمیزی کی تھی ان کے ساتھ۔‘‘ شبیب کا انداز جتانے والا تھا۔
’’وہ شخص تمہیں مجھ سے چھیننے کے پروگرام بنا رہا تھا۔‘‘ اس نے کہنا چاہا لیکن لب بھینچ کر رہ گئی۔
’’تمہیں شاید اندازہ نہیں وہ کتنے محبت کرنے والے انسان ہیں۔ بچپن سے لے کر آج تک انہوں نے اس طرح ہمارا خیال رکھا ہے کہ۔۔۔‘‘
’’تم لوگوں کا خیال رکھا تھا نا شبیب! احسان کے یہ ٹوکرے انہوں نے میرے سر پہ نہیں رکھے جو ان کی ہر اچھی بری بات کو برداشت کروں۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی شبیب کے سامنے اپنے ناگوار جذبات کا اظہار کر بیٹھی تھی۔
’’میں سمجھ نہیں پارہا ۔ کیسی لڑکی ہو تم؟‘‘ شبیب الجھ کر اسے دیکھنے لگا۔
’’میرا نہیں خیال ان جیسے معصوم اور بے ضرر انسان کی کوئی بات ناقابل برداشت بھی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’تمہارے لےے ایسا ہی ہوگا۔ لیکن میرا معاملہ الگ ہے۔ کبڑے میاں نہ پہلے کبھی مجھے بھائے ہیں اور نہ اب انہیں اچھا سمجھنے کے لےے تم مجھے مجبور کر سکتے ہو۔‘‘ وہ پائوں پٹختی باہر نکل گئی۔ شبیب سر تھام کر وہیں بیٹھ گیا تھا۔
’’یہ کون سا روپ ہے اس لڑکی کا۔‘‘ اسے لگ رہا تھا بیلا دوسری مرتبہ اس گھر میں گھس آئی ہے۔ اپنی تمام تر بے رحمی۔۔۔ اور سفُاکی سمیت۔
٭٭٭
’’کسی بھی انسان کی معذوری اس کی اپنی پیدا کردہ نہیں ہوتی۔ کوئی بھی انسان خود کو بدصورت بنانا پسند نہ کرتا اگر خود کو بنانا اس کے اپنے اختیار میں ہوتا ہم بدصورت لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں معذور لوگوں پر ہنسی آتی ہے، ہم ان پر رحم کھاتے ہیں ہمیں ان پر ترس آتا ےہ۔ بس ان سے محبت نہیں ہوتی۔ شاید اس لےے کہ ہم انہیں تخلیق کرنے والے کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔
بخت آور! میں بہت خوفزدہ ہوگیا ہوں۔ مجھے ڈر لگنے لگا ہے تم سے، بیلا سے اور تم جیسے دوسرے بہت سے لوگوں سے۔ معذوری بدصورتی کو جنم دیتی ہے اور بدصورتی نفرت کو۔ میں سوچتا ہوں اگر میں تیمور بھائی کی جگہ ہوتا یا پھر کبڑے میاں کی جگہ تب۔۔۔؟ تب اسی سفاکی سے بیلا مجھے چھوڑ جاتی، اور اسی بے رحمی سے تم اعلان کرتیں کہ تمہیں مجھ سے گھِن آتی ہے۔
مجھے معاف کر دینا بخت آور! لیکن میں ایسے کسی فرد کو اپنی محبت کے قابل نہیں سمجھتا جو کسی انسان کو محض اس کے ظاہری خدو خال کی بنا پر کمتر یا حقیر سمجھتا ہو، محبت کے آداب و شرائط سے میں واقف نہیں مگر اتنا جانتا ہوں انسان ادھورا ہو یا بدصورت بد وضع ہو یا بد ہئیت اس سے محبت ہو یا نہ ہو، اس کا خیال رکھنا پڑتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ہم اس کی محبتوں کے عادی بھی ہوں اور مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا بخت آور کہ تم نے ایک بہت ہی معصوم شخص کا دل دکھایا ہے۔‘‘
کاغذ اس کے ہاتھ سے پھسلا اور لہراتا ہوا صحن کے پکُے فرش پہ جاگرا تھا۔ قریب سے گزرتے کبڑے میاں ٹھٹھک کر رکے۔ جھکے اور کاغذ اٹھا کر بڑی احتیاط سے اس کے پاس رکھ گئے تھے۔ بخت آور نے طویل سانس لیتے ہوئے سر اٹھایا۔
’’اور شبیب میری محبت سے دستبردار ہوگیا۔ صرف اس لےے کہ میں نے اس شخص کا دل دکھایا۔‘‘
اسے حیرت ہورہی تھی بے حد حیرت۔۔۔
’’یہ ٹھگنا سا شخص، کھچڑی بالوں والا کبڑا میلی گدلی آنکھیں۔ موٹے سے ہونٹ اور بھدی ناک۔ جس کو دیکھ کر اس نے ہمیشہ سے بے دلی سے منہ پھیر لیا۔ جسے آج تک اس نے قدرت کی ایک بھیانک غلطی سمجھا۔
اور شبیب مجھے چھوڑ گیا۔ محض اس لےے کہ۔۔۔۔؟‘‘
اس کی بے یقین سی نگاہیں دونوں کبڑے میاں کا طواف کرتی رہیں۔
٭٭٭
’’اے بخت آور! تَو بولتی کیوں نہیں، کیا ہوگیا ہے تجھے۔ دیکھ تو گھر کیسا بھائیں بھائیں کر رہا ہے؟‘‘
دادی کو جانے کیا ہوا تھا جو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی تھیں۔ ہلکی ہلکی دھوپ میں بیٹھی اپنی سوچوں میں گم بخت آور نے مندی مندی آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا۔
’’کیا بولوں دادی! کچھ نہیں ہے میرے پاس بولنے کے لےے۔‘‘
’’اور یہ خط کس کا ہے۔ کئی دنوں سے مٹھی میں دبائے پھر رہی ہو۔‘‘ دادی نے اس کی گود سے جھانکتا نیلے رنگ کا لفافہ دیکھ لیا تھا۔
’’شبیب نے اسلام آباد سے بھجوایا تھا میرے نام۔ پہلا اور آخری خط۔‘‘ وہ پھیکی سی بے رنگ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے انہیں بتا رہی تھی۔
’’آئے۔۔ ہائے تمہارے نام کیوں؟ اپنی اماں اور بھائیوں کو لکھتا، تمہارے سے بھلا کیا تعلق اس کا۔‘‘
’’ہاں! مجھ سے بھلا کیا تعلق اس کا اگر کوئی تھا بھی تو اب کہاں رہا، سب کچھ ختم۔ آنکھوں سے خواب ختم اور دل سے خواہشات۔ اندر جیسے ہر طرف ریت اڑ رہی ہے۔ دادی! خالی ڈھنڈار قبرستان نہ بین کی آواز آتی ہے نہ سسکیاں خاموشی کا گلا گھونٹتی ہیں۔ ایسی جامد چپ ہے دادی جو ٹوٹنے میں ہی نہیں آرہی۔ بس خوف سا محسوس ہوتا ہے۔ ایک پھندا سا پڑا ہے گلے میں سانس لینا بھی مشکل۔۔۔‘‘
وہ جسے بڑی اذیت میں اپنا گلا مسل رہی تھی۔
دادی نے اسے کھینچ کر اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
’’کیا بول رہی تھی بختے۔۔۔!‘‘
’’کچھ نہیں دادی کچھ بھی نہیں۔‘‘ اس نے مردہ سے لہجے میں انہیں دلاسا دینا چاہا۔
’’نہ ڈرا مجھے۔ تیرے سوا ہے ہی کون؟ ہنستی کھیلتی رہا کر، میرے دل کو تسلی ہوتی ہے کوئی پریشانی ہے تو مجھ سے کہہ ، مجھے بتا۔‘‘
وہ دونوں ہاتھوں میں اس کا چہرہ تھامے کہہ رہی تھیں۔ چہرے پر ہزار پریشانیاں، آنکھوں میں ہزار وسوسے۔ بخت آور کو ان پر ترس آنے لگا۔
’’بس اتنا سا دل ہے دادی۔۔۔ میں تو بس آپ کا امتحان لے رہی تھی۔ کوئی پریشانی کوئی تکلیف نہیں بے فکر رہیں۔۔۔‘‘ نرمی سے ان کا ہاتھ تھپکتے ہوئے اس نے اپنا سر دادی کے سینے پہ رکھ دیا تھا۔
٭٭٭
’’چلنے میں دقُت تو ہوتی ہوگی تیمور بھائی۔‘‘ شبیب اس کی طرف متوجہ ہوئے بغیر پوچھ رہا تھا۔
’’ہاں شروع شروع میں مشکل تو ہوگی۔۔۔ میں خود بھی ابھی تک۔۔۔‘‘
بخت آور نے سر اٹھا کر دیکھا ، وہ پوری توجہ سے تیمور بھائی کی بات سن رہا تھا۔
’’نظر ملانے کی ہمت نہیں یا اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ۔۔۔‘‘
چائے میز پہ رکھتے ہوئے ذرا سی چھلک گئی تھی۔۔ تیمور حسن نے بات ادھوری چھوڑ کر تعجب سے اسے دیکھا۔ اپنے ہی خیالوں میں گم وہ چائے رکھ کر واپس پلٹ گئی تھی۔
شبیب کرسی کے ہتھے پر نجانے کیا کھرچ رہا تھا۔
’’معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے اس لڑکی کو۔۔۔ ہر وقت یونہی کھوئی کھوئی سی رہتی ہے۔۔۔ نہ پہلے کی طرح بولتی ہے نہ ہنستی ہے۔۔۔ حالانکہ اب تو عادت سی ہوگئی تھی بستر پہ پڑا اس کی اوٹ پٹانگ باتیں سنتا رہتا تھا۔ رونق سی لگی رہتی تھی اس کی بدولت۔۔۔ لیکن اب کچھ۔۔۔‘‘
’’امی بتا رہی تھیں آپ اور علی رضا دوبارہ سے اپنے بزنس پہ کام شروع کر رہے ہیں۔‘‘ شبیب نے گویا کسی بہت ہی غیر اہم بات کو کاٹ کر کہا تو تیمور ایک لمحے کے لئے خاموش سے رہ گئے۔
’’ہاں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہے اب۔‘‘ وہ اسے تفصیلات بتانے لگے جسے سنتے ہوئے شبیب ذہنی طور پر غیر حاضر ہی رہا تھا۔ ایک عجیب وحشت سی اس کا گھیرائو کرنے لگی تھی۔
’’شاید ابھی کچھ عرصے تک مجھے یہاں نہیں آنا چاہےے تھا۔‘‘ اسے شدُت سے احسا س ہوا۔ میں اس لڑکی سے نفرت نہیں کرتا لیکن اس سے محبت کرنا بھی اب میرے بس میں نہیں رہا۔‘‘
بخت آور کسی کام سے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ شبیب تیمور حسن سے معذرت کرتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’تو اب یوں بھاگنے لگے ہو مجھے سے شبیب حسن!‘‘ استری شدہ کپڑے الماری میں رکھ کر اس کھلے پٹ کی اوٹ میں اس نے خوب اچھی طرح اپنی آنکھیں مسلیں۔
’’بخت آور!‘‘ تیمور بھائی کے پکارنے پر وہ پلٹی۔
’’روزہ کب افطار کر رہی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے پوچھ رہے تھے۔
’’روزہ۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ چپ کا روزہ۔۔۔ بہت دنوں سے رکھا ہوا ہے نا۔۔۔؟‘‘ وہ نرم مسکراہٹ چہرے پہ سجائے پوچھ رہے تھے۔
بخت آور انہیں کوئی جواب نہ دے پائی تھی۔ یونہی افسردگی سے سر جھٹک کر باہر آگئی تھی۔ دادی باورچی خانے میں تائی حسنہ کے ساتھ کھانا بنوارہی تھیں وہ سست روی سے چلتی وہیں آگئی۔
’’دادی! آپ سے کچھ بات کہنی ہے۔۔۔‘‘ وہ دروازے کی چوکھٹ تھامے کھڑی تھی۔
’’ہاں بول۔۔۔‘‘ لہسن پیاز میں الجھی دادی اس کے مدہم لہجے کی طرف متوجہ ہی نہ ہوئی تھیں۔
’’دادی! مجھے آپ کی۔۔۔ آپ کی ہر بات قبول ہے۔‘‘
’’ہائیں۔۔۔ کس بات کا کہہ رہی ہے۔۔۔ کون سی بات؟‘‘
دادی نے جلتی ہانڈی پر پانی کا چھینٹا دیا۔۔۔ تائی حسنہ البتہ چونک گئی تھیں۔
وہ بغیر کوئی جواب دےے ہونٹ کاٹتی رہی۔ آنکھیں آنسوئوں سے لبالب بھر آئیں۔ تائی حسنہ بے اختیار اٹھ کر اس کے پاس چلی آئیں۔
’’بخت آور! تیمور۔۔۔ تیمور کے لےے کہہ رہی ہو نا۔۔۔؟‘‘ تائی حسنہ نجانے کیسے اتنی جلدی بات کی تہہ تک پہنچ گئی تھیں۔
بخت آور نے بمشکل اثبات میں سر ہلا دیا۔
دادی ہنڈیا بھول کر ٹکر ٹکر اس کا منہ دیکھنے لگیں۔
’’دیکھ بخت آور۔۔۔ کوئی زور زبردستی نہیں۔۔۔ تیری اپنی مرضی ہے۔۔۔ کل کلاں جو مجھے طعنے دیتی رہی کہ۔۔۔‘‘ دادی ہکلا سی گئیں۔
’’نہیں دوں گی کوئی الزام، کوئی طعنہ نہیں دوں گی۔۔۔ سب میری مرضی ہے۔۔۔ ہر فیصلہ میرا اپنا ہے۔۔۔ صرف میرا اپنا۔۔۔‘‘ آنسو ایک تواتر سے بہہ نکلے تو لب بھینچتی، سسکیاں روکتی وہاں سے بھاگ گئی تھی۔
تائی حسنہ اس کے پیچھے لپکی تھیں۔
دادی ہکا بکا اپنی جگہ پر بیٹھی رہ گئی تھیں۔ چولہے پر رکھی ہنڈیاں دھواں دینے لگی تب وہ چونکیں۔
’’بخت آور کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟‘‘ چولہا بند کر کے انہوں نے دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام لیا تھا۔
٭٭٭
رات کافی سے زیادہ بیت گئی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔ مہندی اور ابٹن کی خوشبو میں بسی بخت آور چونک کر اٹھ بیٹھی تھی۔
دادی نے کروٹ بدلی کھنکھار کر آواز لگائی۔
’’کون ہے اس وقت۔‘‘
’’میں ہوں بی اماں! ایک بات کہنی تھی۔۔۔‘‘ کبڑے میاں کی دھیمی سی آواز سنائی دی۔
بخت آور نے گردن موڑ کر دیکھا۔۔۔ دادی بے سدھ ہوچکی تھیں۔ ہلکے ہلکے خراٹوں کی آواز گونجنے لگی تھی۔ وہ آہستگی سے نیچے اتری۔۔۔ شال لپیٹتے ہوئے ہلکی سی آواز میں کنڈی گرا کر دروازہ کھولا۔
کبڑے میاں دیوار کے ساتھ لگے بیٹھے تھے، دروازہ کھلنے کی آواز پر ذرا سا چونکے، گردن موڑ کر دیکھا کمرے میں پھیلے گھپ اندھیرے میں ہیولا سا دکھائی دے رہا تھا۔
’’مبارک ہو بی امُاں! اللہ نے بٹیا کا گھر بسایا ہے۔‘‘
وہ بہت مسرور لگ رہے تھے۔ بخت آور دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔
’’بخت آور سو گئی ہے کیا۔۔۔؟ اصل میں بی اماں۔۔۔ میں اس کے لےے کچھ چیزیں لایا تھا۔‘‘ ایک لمحے کے توقف کے بعد وہ بہت بے صبری سے بولے تھے۔
’’خبر نہیں اسے پسند آئیں یا نہ آئیں۔۔۔ وہ تو مجھے بھی پسند نہیں کرتی۔۔۔ کچھ بعید نہیں یہ سب زیور گہنے اٹھا کر میرے منہ پہ دے مارے۔۔۔‘‘ وہ بے ہنگم طریقے سے ہنسے۔
بخت آور ساکت کھڑی انہیں دیکھتی رہی۔
’’پر ہم بھی کیا کریں بی اماں! بڑے بدنصیب لوگ ہیں۔۔۔ دل میں قبرستان بنائے بیٹھے ہیں۔ ہر روز کیا کیا دفن نہیں کرتے، شکوہ نہیں۔۔۔ بس دل میں حسرت سی اٹھتی ہے۔۔ کاش ہماری بھی کوئی بیٹی ہوتی۔۔۔ ایسے ہی ناز نخروں والی، ہم سے محبت کرتی۔۔۔ دیکھتی کہ یہ بوجھ جو ہم اپنی کمر پہ لادے پھرتے ہیں، اس کے نیچے ایک دھڑکتا ہوا دل بھی ہے۔ وہ دیکھتی کہ اس دل میں کتنا پیار ہے، محبت ہے، چاہ ہے، کوئی کھوٹ، کوئی غصہ کوئی نفرت نہیں۔۔۔ لیکن لیکن۔۔۔‘‘
ان کی بھدی سی ہنسی رات کی شفاف چادر پر کئی شکنیں سی ڈال گئی تھی۔ بخت آور نے بے دردی سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا۔
’’کیا ہے میرے پاس۔ کہنے کے لےے کچھ بھی نہیں۔ ایسے کون سے الفاظ ہوں گے جو کبڑے میاں کی دل و دماغ پر کندہ وہ تمام لفظ مٹا دیں جو اس سے پہلے میں اپنی نادانی کے سبب انہیں سونپ چکی ہوں۔‘‘
’’لیکن ہمیں بخت آور بیٹا سے بھی کوئی شکایت نہیں، بھلے وہ مجھ سے نفرت کرے بھلے میرے وجود سے گھن کھائے۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ بس مجھ سے محبت کرنے کا حق نہ چھینے۔ یہ دیکھےے ذرا۔ بڑے چائو سے لایا ہوں۔ ساری عمر کا جمع جتھا لگایا ہے مگر ھپر بھی کچھ بن نہیں پایا۔‘‘ وہ گود میں رکھی پوٹلی کھول رہے تھے۔
’’یہ دو چار سوٹ ہیں۔ حسنہ آپا سے منگوائے ہیں۔ اچھے ہی ہوں گے۔ لیکن یہ چاندی کی پازیب اور کڑے خود بنوائے ہیں۔ کسی میلے میں ایک بچی کو دیکھا تھا۔ پیروں میں پازیب ننھی ننھی کلائیوں میں چاندی کے کڑے۔ آج تک آنکھوں سے وہ تصویر نہیں گئی۔ بخت آور کو دیکھ کر لگتا ہے، وہ بچی آج بڑی ہوگئی ہے۔ سو بنوالایا ہوں۔ میری طرف سے اسے پہنا دیجئے گا۔ لیکن بتانے کی ضرورت نہیں۔ کون لایا ہے۔ کہاں سے آئے ہیں۔ اللہ اس کے نصیب اچھے کرے۔ جوڑی سلامت رکھے۔ دل کی مرادیں پائے بہت سے دلوں میں ٹھنڈ ڈالی ہے اس نے۔ یہ چیزیں احتیاط سے اٹھا لیجئے گا۔‘‘
وہ پوٹلی وہیں رکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
بخت آور سوچتی رہ گئی۔۔۔
’’معافی تلافی کے لفظ۔۔۔ پچھتاوے کے آنسو۔۔۔ کیا نچھاور کروں آپ پر کبڑے میاں۔۔۔!‘‘
وہ تھک کر وہیں دہلیز پہ بیٹھ گئی۔
’’اتنے بد صورت وجود میں ایسا خوبصورت دل کس نے رکھ دیا، شبیب نے تو کہا تھا۔۔۔ ’’بدصورتی گناہ نہیں لیکن بدصورت رویہ بدترین گناہ ہے۔ پھر آپ نے یہ گناہ کس طرح معاف کر دیا۔‘‘ ملگجی سی چاندنی میں اس کی نظر ریشمی کپڑوں پر پڑے چاندی کے دمکتے زیورات سے الجھ رہی تھی۔
بیلا نے تیمور حسن کو ٹھکرا یا کیونکہ وہ معذور تھا تیمور حسن نے اسے معاف کر دیا ہم سب نے نہیں کیا۔ میں نے کبڑے میاں سے نفرت کی مگر وہ سب کچھ بھول گئے وہ سب جو میں نے ان سے کہا اور جو ان کے ساتھ کیا۔ لیکن شبیب نہیں بھولا۔
تو پھر بدصورت کون ہوا؟
وہ جن کے ظرف آسمان اور دل سمندر ہیں۔۔۔۔ جو معاف کر دینے کا ہنر جانتے ہیں۔۔۔ یا وہ جو دوسروں کی ایک کمزوری، کسی ایک خامی کو وجہ قرار دے کر گناہگار ٹھہرا دیتے ہیں۔‘‘
وہ کنگن ہاتھوں میں لے کر ان کی ٹھنڈک کو محسوس کرنے لگی تھی۔
’’شبیب حسن! اگر تمہاری طرح میں بھی حساب کتاب کرنے بیٹھوں تو پوچھوں کہ دوسروں کے حصے کی سزا دینے والے تم کون ہوتے ہو۔ میں نے ایک معصوم انسان کا دل دکھایا تو کیا تم نے کسی کا دل نہیں توڑا؟ اس طرح تو میرا اور تمہارا گناہ ایک جیسا ہوا نا، تم نے خود کو برتر سمجھا اور مجھے ٹھکرا دیا۔۔۔ دوسروں کا خیال کس طرح رکھا جاتا ہے، در حقیقت یہ تمہیں بھی نہیں معلوم، محبت سکھانے کے لےے محبت سے ہاتھ کھینچ لینا اس سے دستبردار ہوجانا مناسب نہیں ہوتا۔ محبت سکھانے کے لےےمحبت کو فروغ دیا جاتا ہے معاف کیا جاتا ہے۔ بھول جانا پڑتا ہے، دوسروں کی غلطیوں کو، کوتاہیوںکو۔۔۔ اور یہ میں نے کبڑے میاں سے سیکھا ہے یا پھر تیمور حسن سے جسے میں نے اپنی خواہش پر نہیں چَنا۔ لیکن جو میری تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، بظاہر ادھورا۔۔۔ لیکن مکمل انسان اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے دم سے چراغ روشن ہیں، آنکھوں میں، دلوں میں اور اس پوری کائنات میں۔‘‘
اس نے کنگن کلائیوں میں ڈال کر پازیب اور کپڑے اٹھا لےے تھے۔۔۔ اسے یقین تھا اگلی صبح اس کی کلائیوں میں سجے کنگن اور پیروں میں پڑی پازیب دیکھ کر کبڑے میں سے بڑھ کر اور کوئی خوش نہیں ہوگا۔
چاندی کی پازیب کو بہت احتیاط سے پائوں میں ڈالتے ہوئے وہ خود کو میلے میں آئی ایک ایسی بچی تصور کر رہی تھی۔۔۔ جس نے پہلی دفعہ لوگوں کو کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ابھی ابھی زندگی کو جاننے کا آغاز کیا تھا۔
٭٭٭


