رسم – نبیلہ عزیز

Nabeela Aziz - Rasam 1

’’طلاق؟‘‘ کتنی ہی دیر سے اس کے دماغ میں اس ایک لفظ کی بازگشت ہورہی تھی اور کتنی ہی دیر سے وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ اس کے لب ہی خاموش نہیں ہوئے تھے وہ تو جیسے سر سے پائوں تک خاموش ہوگیا تھا۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ دوسری طرف سے طلاق کامطالبہ بھی ہوسکتا ہے۔

’’کیوں برخوردار خاموش کیوں ہوگئے؟‘‘ سید سراج حسین کی بارعب آواز پہ وہ یک دم چونک کر اس سنگین لفظ کے حصار سے باہر آیا تھا اور محض چند سیکنڈز میں ہی اپنے تمام تاثرات پہ قابو پاتے ہوئے ان کی طرف متوجہ ہوا تھا۔

’’یہ فیصلہ آپ کا ہے یا پھر میری زوجہ محترمہ کا؟‘‘ اس کا لہجہ دوبارہ سے پرسکون اور ہموار ہوچکا تھا۔

’’فیصلہ چاہے کسی کا بھی ہو تمہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہےے۔‘‘ وہ بھی کافی تحمل سے بولے تھے۔

’’کیوں نہیں ہونا چاہےے مرشد سائیں؟ یہ میری زندگی کا معاملہ ہے۔‘‘ اس نے لفظ ’’میری زندگی‘‘ پہ کافی زور دے کر کہا تھا۔

’’یہ تمہاری زندگی کا ہی نہیں برخوردار ہماری عزت، غیرت اور رسم و رواج کا معاملہ بھی ہے، جو بقول تمہارے کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے، مگر تم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے لےے ہماری عزت، غیرت اور رسم و رواج موت اور زندگی کی سی اہمیت رکھتے ہیں اور ان کے لےے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘‘ ایک پل کے لےے سید سراج حسین کی رنگت غصے کی آنچ سے سرخ پڑ گئی تھی۔

’’مرشد سائیں آپ کو شاید میری بات سننے میں غلط فہمی ہوئی ہے، میں آپ کی عزت و غیرت کو غیر اہم کہنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا۔ البتہ آپ کے رسم و رواج کے خلاف میں کل بھی تھا اور آج بھی ہوں، آپ نہ جانے کب سے اس بے جا رسم پہ عمل کرتے ہوئے کتنی زندگیاں تباہ کر چکے ہیں اور کتنے دلوں کو برباد کیا ہے آپ لوگوں نے؟ لیکن ایک بات یاد رکھیں مرشد سائیں اس بار میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا، میں اپنے دل سے وابستہ ایک دل کو عمر بھر کی تنہائی اور خاموشیاں نہیں سونپنے دوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے۔‘‘ وہ کافی مضبوط اور سنجیدہ لہجے میں کہتا اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔

’’دیکھو لڑکے! آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک فیصلہ تم نے کیا تھا اور اپنی بات منوائی تھی، لیکن ہم چپ رہے تھے۔ آج ایک فیصلہ ہم کر رہے ہیں اور اپنی بات منوائیں گے، لیکن تم صرف چپ رہو گے۔‘‘ وہ انتہائی دو ٹوک اور غصیلے انداز میں بولے تھے، لیکن کسی سے مرعوب ہونے والا اور اپنے مقام سے پیچھے ہٹنے والا وہ بھی نہیں تھا، وہ اگر سید فرید حسین کے بیٹے تھے تو وہ بھی سلطان گردیزی کا اکلوتا لاڈلا پوتا تھا، اتنی وسیع جاگیر کا تنہا وارث!

’’میں حق پہ تھا اور میں نے ایک جائز فیصلہ کیا تھا، جبکہ آپ سراسر ظلم کر رہے ہیں۔‘‘ وہ ان کی ہر بات، ہر فیصلے سے انکاری تھا۔

’’اگر مظلوم خود کہہ دے کہ مجھ پہ کوئی ظلم نہیں ہوا تو پھر؟‘‘ سید سراج حسین فخریہ انداز میں سکون سے بولے تھے، لیکن وہ یک دم بری طرح سے چونک گیا تھا، ایک پل میں اس کی سوچ کہاں سے کہاں چلی گئی تھی، مگر پھر فوراً ہی اپنے آپ کو سنبھال لیا تھا۔

’’کہنا کیا چاہتے ہیں آپ؟‘‘ اس نے بغور ان کا چہرہ جانچا تھا۔

’’جو تم بخوبی سمجھ چکے ہو۔‘‘ وہ ابھی بھی پرسکون تھے۔

’’لیکن میں طلاق پھر بھی نہیں دوں گا۔‘‘ اس نے سختی سے کہتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی تھی۔

’’دیکھو تم شاید بھول رہے ہو کہ اس وقت بھی تم نے یک طرفہ فیصلہ کیا تھا آج بھی تم یک طرفہ فیصلے پہ اڑے ہوئے ہو وہ تمہارے فیصلے میں نہ کل شامل تھی اور نہ آج ہوگی، تمہارے زبردستی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ انہوں نے اس کی ہمت توڑنے کی ایک بھرپور کوشش کی تھی، لیکن وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔

’’میں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں، پھر آپ نے جو کہا میں وہی کروں گا، یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، ایک مرد کا وعدہ۔‘‘ اس نے کافی سلیقے سے ان کو اپنی بات پہ لانا چاہا تھا۔

’’تم جانتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ انہوں نے غصے سے کہا تھا۔

’’جی میں جانتا ہوں کہ میں ’’اپنی بیوی‘‘ سے ملنے کی اجازت اس کے چچا حضور سے مانگ رہا ہوں۔‘‘ اس نے بڑے احترام سے طنز کا تیر چھوڑا تھا۔

’’اور اگر ہم اس چیز کی اجازت نہ دیں تو؟‘‘ وہ صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے بیٹھے تھے۔ انداز میں سختی تھی۔

’’تو پھر دوبارہ کبھی طلاق کے لفظ کو سوچےے گا بھی مت۔‘‘ وہ ان کے لےے حد سے زیادہ ٹیڑھا ثابت ہورہا تھا۔

’’برخوردار ہم چاہتے ہیں کہ یہ معاملہ گھر کا ہے تو گھر میں ہی نبٹ جائے نہ تمہاری عزت بگڑے اور نہ ہمارا نام اچھالا جائے، ورنہ کورٹ کچہری تک جانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ہمارے لےے۔‘‘ انہوں نے اسے تقریباً دھمکی دی تھی جیسے کچھ باور کروانا چاہا ہو۔

’’ٹھیک ہے مرشد سائیں آپ اگر کورٹ کچہری تک جانے کا شوق بھی پورا کرنا چاہتے ہیں تو یہی کرلیتے ہیں اب میں آپ کی طرف سے عدالتی کارروائی کا منتظر رہوں گا اور دیکھوں گا کہ عدالت اور شریعت کا مجرم کون ہے؟‘‘ وہ ان کے منہ سے عدالت کا ذکر سن کر بہت خوش ہوا تھا، کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ کبھی بھی عدالت کا رخ نہیں کریں گے۔

’’لیکن میں آپ سے پھر یہ ہی کہوں گا کہ میں ایک بار روبرو اس سے ملنا چاہتا ہوں، پھر چاہے تو طلاق ہوجائے اور چاہے تو۔۔۔‘‘ وہ اپنا جملہ ادھورا چھوڑتے ہوئے ان کے سامنے آکھڑا ہوا تھا، جبکہ سید سراج حسین شدید کشمکش کا شکار نظر آرہے تھے، جیسے اپنا فیصلہ اور اس کا انجام سوچ رہے ہوں۔

’’دیکھےے مرشد سائیں میں ایک مرد بچہ ہوں اور اللہ کے فضل و کرم سے عزت دار اور غیرت مند بھی ہوں، اپنا وعدہ، اپنی زبان نبھانا جانتا ہوں، آپ فکر نہ کریں، یک طرفہ فیصلہ اور کوئی زبردستی نہیں کروں گا۔‘‘ اس نے انہیں بھرپور یقین دہانی کروائی تھی اور وہ کچھ سوچتے ہوئے صوفے سے کھڑے ہوگئے تھے۔ جیسے کسی نتیجے پہ پہنچ گئے ہوں۔

’’ٹھیک ہے کل تم حویلی آجانا۔‘‘ وہ کہہ کر رکے نہیں تھے، بلکہ تیزی سے ڈرائنگ روم سے باہر آگئے تھے، جہاں ان کے ذاتی سیکورٹی گارڈز الرٹ کھڑے تھے، جبکہ وہ ڈرائنگ روم کے بیچوں بیچ گم صم کھڑا تھا، اس کی سوچ کہیں اور تھی، کیونکہ اس سارے قصے میں ایسا ’’ایک نقطہ‘‘ بھی تھا جو فراموش نہیں ہوسکتا تھا، مگر اسی نقطے پہ نہ انہوں نے بات کی تھی نہ ہی اس نے خود ذکر کیا تھا، حالانکہ سب سے اہم پوائنٹ وہی تھا اور اسی پہ بات نہیں ہوئی تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’شہر بانو! سنا ہے تمہاری شادی ہونے والی ہے؟‘‘ سید سراج حسین کی بڑی بیٹی زہرا نے کافی گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’آپ نے سنا ہے تو ٹھیک ہی سنا ہوگا۔‘‘ شہر بانو ابھی ابھی وضو کر کے آئی تھی اور نماز پڑھنے کے لےے سر پہ دوپٹہ لپیٹ رہی تھی، جب اس کی چچا زاد بہن اپنے چہرے پہ ڈھیروں تجسس سجائے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی، لیکن شہر بانو نے کچھ خاص رسپانس نہیں دیا تھا، بس نارمل سے انداز میں جواب دے کر آگے بڑھ گئی تھی، لیکن زہرا واپس جانے کی بجائے وہیں بیٹھ کر اس کے نماز سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی، اسے شہر بانو کی شادی کا سن کر بہت تجسس اور دلچسپی ہورہی تھی کہ آخر شہر بانو کا کیا بنے گا، وہ کیا کرے گی؟ کیسے رہے گی عمر بھر اس طرح؟ کیونکہ اس شادی، اس رسم کو نبھانا تارک الدنیا ہوجانے کے برابر ہی تھا، ہر دنیاوی چیز کو چھوڑ دینا اتنا آسان کام نہیں تھا جیسے پھپھو فاطمہ زندگی بسر کر رہی تھی، اسی طرح اب شہربانو کو بھی زندگی گزارنا تھی۔

’’کیا بات ہے زہرا آپی، آپ اس طرح کیوں بیٹھی ہیں؟‘‘ زہرا کی سوچ کا تسلسل شہر بانو کی آواز سے ٹوٹا تھا، جو نماز پڑھ کے آچکی تھی۔

’’کچھ نہیں شہربانو، میں سوچ رہی تھی کہ تم کس طرح سب کچھ چھوڑ دو گی؟ دن رات عبادت میں کیسے گزارو گی؟ زندگی تو پورے گھر میں گزارنے کے لےے ہوتی ہے، گھر کے ایک کونے میں نہیں۔‘‘ زہرا بے چاری سچ ہی تو کہہ رہی تھی، مگر اس رسم کو زندہ جاوید رکھنے والوں کو بھلا کون سمجھاتا؟

’’اگر پھوپھی فاطمہ اپنے باپ اور بھائیوں کے لےے یہ سب کر رہی ہیں تو میں بھی کرلوں گی وہ بھی تو میرے جیسی اور میری ہم عمر ہی تھیں جب انہوں نے یہ شادی کی تھی۔‘‘ وہ بے حد نرمی سے بولی تھی، جبکہ زہرا نے ناگواری سے دیکھا تھا۔

’’اونہہ میں ہوتی تمہاری جگہ تو میں تو ایسا ہر گز نہ کرتی یہ بھی بھلا کوئی رسم ہے؟‘‘ زہرا اپنے بڑوں کے خلاف تھی اور مزاج میں بھی خاصی تیز طرار تھی، لیکن شہر بانو سب لڑکیوں میں سے خاصی خاموش طبع، ڈھیلی ڈھالی سے نرم فطرت کی لڑکی تھی، کسی سے لڑنا جھگڑنا، یا اپنے حق میں بولنا اسے ہر گز نہیں آتاتھا، وہ کسی بھی نا انصافی اور زیادتی پہ بول ہی نہیں سکتی تھی، بڑوں کے سامنے تو بالکل بھی نہیں۔ اس کی نظر میں جیسا ہے، جو بھی ہے بس اچھا ہے۔ وہ کبھی کسی چیز پہ اعتراض نہیں کرتی تھی، کچھ لوگ اس کی اس فطرت کو اس کی ’’ادا‘‘ سمجھتے تھے، لیکن سچ تو یہ تھا کہ اس کی خوب صورتی ہی کچھ ایسی تھی کہ وہ جو بھی کہتی، جو بھی کرتی وہ اس کی ادا بن جاتا تھا۔

’’شہربانو انکار کردو اس قسم کی شادی سے، صرف کلمے ہی تو پڑھنے ہیں اور پھر عمر بھر کے لےے ایک کوٹھری میں بیٹھ جانا ہے۔‘‘

’’نہیں زہرا آپی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔‘‘

’’لیکن یار میں ہوتی تو ضرور سوچ سکتی تھی۔‘‘

’’مجھ میں اور آپ میں فرق بھی تو بہت ہے، میں سید معراج حسین کی سب سے چھوٹی صاحب زادی سیدہ شہر بانو، جس کے ماتھے پہ صدقے کی لکیر ہے اور آپ سید سراج حسین کی سب سے بڑی صاحب زادی سیدہ زہرا بتول ہیں جس کے ماتھے پہ شادی کی لکیر ہے اور یہی لکیر ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بناتی ہے۔‘‘ وہ کافی سادگی سے بولی تھی۔

’’لیکن شہر بانو۔۔۔‘‘ زہرا نے کچھ کہنا چاہا تھا۔

’’نہیں زہرا آپی ایسا کچھ نہیں ہوسکتا، میں جانتی ہوں آپ میرے لےے اچھا سوچ رہی ہیں، لیکن ساتھ میں یہ بھی تو ہے کہ میں اپنے باپ اور بھائیوں کے لےے اچھا سوچ رہی ہوں، میری ایسی زندگی بھلا کس کام کی جو میرے اپنوں کے کام نہ آئے، میں تو خوش قسمت ہوں جسے انہوں نے ’’صدقہ‘‘ بننے کا اعزاز دیا۔

شہر بانو نے نرم ملائم لہجے میں کہتے ہوئے زہرا کو سمجھانے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ سمجھنے والی نہیں تھی، اسی لےے اللہ نے اس کی مدد کے لےے مریم کو بھیج دیا تھا۔

’’کیا ہورہا ہے بھئی؟ دونوں کزنز بڑے سنجیدہ موڈ میں لگ رہی ہو؟‘‘ مریم نے مسکراتے ہوئے آکر شہر بانو کو کہنی ماری تھی۔

’’کچھ نہیں، بس ایسے ہی باتیں کر رہے تھے۔‘‘ اس نے بات کو ٹال دیا تھا، وہ ہر ایک کے سامنے اس شادی کے ذکر کو چھیڑ کر ان کے سوالوں کا نشانہ نہیں بن سکتی تھی، بلکہ وہ تو ہر ممکنہ طور پہ اس ذکر سے بچنے کی کوشش کرتی تھی۔

’’لگتا ہے اس حویلی میں اللہ نے ایک یہی ’’سعادت مند‘‘ روح بھیجی ہے، جو سب چاہتے ہیں وہی کرتی ہے۔‘‘ زہرا نے شہر بانو کو دیکھ کر طنزیہ کہا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی، شہر بانو چپ کھڑی تھی۔

’’اونہہ پاگل!‘‘ وہ سر جھٹک کر چلی گئی تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

وہ عشائ کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا ہی تھا کہ بڑی اماں کا پیغام رساں آگیا۔

’’صاحب جی! بڑی اماں نے آپ کو اپنے کمرے میں بلایا ہے۔‘‘ ملازمہ نے مؤدب سے لہجے میں پیغام دیا تھا، لیکن اسے اس پیغام سے کافی حیرانی ہوئی تھی۔ بھلا اس وقت آدھی رات کو ایسا کون سا ضروری کام آن پڑا تھا کہ انہوں نے اسے اپنے کمرے میں فوری طلب کیا تھا۔

’’ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں۔‘‘ اس نے اپنی حیرت کنٹرول کرتے ہوئے ملازمہ کو جانے کا اشارہ کیا تھا اور پھر جائے نماز سمیٹ کر بیڈ سے اپنی گرم چادر اٹھا کے کندھوں پہ ڈالتے ہوئے خود بھی باہر نکل آیا تھا۔ باہر پوری حویلی میں گہرا سنُاٹا چھایا ہوا تھا، راہداری اور ہال کمرے کے تمام فانوس بجھے ہوئے تھے، البتہ نائٹ بلب ہر دیوار پہ روشن تھے، جن کی مدھم روشنی میں وہ مضبو ط قدم اٹھاتا سیڑھیاں اتر آیا تھا۔ بڑی اماں کے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے ٹیوب لائٹ کی روشنی ایک لکیر کی صورت باہر تک آرہی تھی۔

’’کیا میں اندر آسکتا ہوں؟‘‘ اس نے دستک دے کر اجازت چاہی تھی۔

’’آجائو میرے بچے آجائو، اپنی دادی سے اجازت کیسی؟‘‘ بڑی اماں اپنے جہازی سائز بیڈ پہ گائو تکےے سے ٹیک لگائے تسبیح ہاتھ میں پکڑے نیم دراز بیٹھی تھیں، اس کی آواز سن کر اپنی کہنی کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھیں۔

’’السلام علیکم بڑی اماں آپ ٹھیک تو ہیں نا؟‘‘ اس نے اندر داخل ہوتے ہی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

’’ہاں پتر میں بالکل ٹھیک ہوں تم یہاں بیٹھو میرے پاس۔‘‘ انہوں نے کمبل ہٹا کر اس کے بیٹھنے کے لےے جگہ بنائی تھی، وہ سعادت مندی سے ان کے قریب ہی بیٹھ گیا تھا، مگر چونکا وہ اس وقت جب اس کی نظر دائیں دیوار سے لگے صوفے کی سمت اٹھی تھی، جہاں اس وقت اس کے ابا سائیں اور اماں سائیں براجمان تھے اور کافی متفکر نظر آرہے تھے۔

’’خیریت تو ہے بڑی اماں آپ لوگ اس طرح کیوں بیٹھے ہوئے ہیں، کوئی پریشانی ہے کیا؟‘‘ اس نے گردن موڑ کر بڑی اماں کو دیکھا۔

’’ہاں پتر سب خیر ہے، تم پریشان نہ ہو، یہ بتائو کیا کر رہے تھے؟ کہیں نیند سے تو نہیں جگا دیا رضیہ نے؟‘‘ بڑی اماں نے پیار سے اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’نہیں میں ابھی نماز پڑھ رہا تھا۔‘‘

’’اس وقت نماز؟ باجماعت کیوں نہیں پڑھی؟‘‘ بڑی اماں نے استفسار کیا تھا۔

’’شہر سے واپس گائوں آتے دس بج گئے تھے راستے میں پتا ہی نہیں چلا اس لےے مسجد نہیں جا سکا۔‘‘ اس نے وضاحت دی تو انہوں نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

’’کھانا کھالیا تم نے؟‘‘ پتا نہیں کیوں وہ اس سے چھوٹے چھوٹے سوال کر رہی تھیں، جیسے کچھ کہنے سے پہلے تمہید باندھ رہی ہوں۔

’’جی نماز پڑھنے سے پہلے کھانا ہی کھایا تھا۔‘‘ اب اسے اندر ہی اندر الجھن سی ہونے لگی تھی کہ کیا مسئلہ ہے جو وہ لوگ رات کے اس پہر حل کرنے کے لےے بیٹھے ہوئے ہیں، اس نے ایک نظر اپنے والدین کی سمت دیکھا جو خود کسی کشمکش کا شکار لگ رہے تھے۔

’’لگتا ہے تم کچھ تھکے ہوئے ہو؟‘‘ بڑی اماں نے اپنے بہو اور بیٹے کو دیکھتے ہوئے پوتے سے تقریباً چوتھا سوال کیا تھا، وہ خود کچھ الجھی ہوئی لگ رہی تھیں۔ جیسے کچھ کہنے اور نہ کہنے کی کشمکش میں ڈول رہی ہوں۔

’’نہیں بڑی اماں ایسی کوئی بات نہیں، تھکن بھلا کیسی؟ آپ بتائیں، آپ نے شاید مجھے کسی کام سے بلایا تھا؟‘‘ بالآخر اس نے خود ہی پوچھ لیا تھا، کیونکہ وہ تو ٹال مٹول ہی کرتی نظر آرہی تھیں، جیسے اسے بلا کر کچھ بتانے کا ارادہ بدل گیا ہو۔

’’ہاں پتر بہت دنوں سے میں تم سے بات کرنا چاہ رہی تھی، مگر کبھی تم دیر سے گھر آتے تھے اور کبھی شہر ہی رک جاتے تھے، اسی لےے سوچا آج بات کر ہی لوں۔‘‘ بڑی اماں بات کرتے کرتے ایک بار پھر وقفہ لینے کے لےے رک گئیں، کیونکہ انہیں پتا تھا کہ ان کا لاڈلا، چہیتا پوتا جتنا سعادت مند، سمجھ دار اور اچھا ہے اتنا ہی ضدی اور بااصول بھی ہے، غلط بات تو برداشت ہی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کسی کی حق تلفی ہوتے دیکھ سکتا تھا، چاہے وہ حق تلفی اس کے اپنے گھر میں اس کے ملازموں کے ساتھ ہورہی ہوتی تھی وہ ان کے حق میں بھی بول اٹھتا تھا۔

’’جی کہےے بڑی اماں میں سن رہا ہوں۔‘‘ وہ ان کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔

’’دیکھو بیٹا میں نے تمہارے پیدا ہونے سے پہلے ایک منت مانی تھی اور اب اس منت کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے، لیکن یہ منت تب تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک تم میرا ساتھ نہ دو۔ اس لےے میں چاہ رہی تھی کہ پہلے تم کو بتادوں اور تم سے پوچھ لوں۔‘‘ انہوں نے کچھ متذبذب سے انداز میں کہا تھا اور وہ اتنی سی بات پہ حیران ہوا تھا۔

’’ارے بڑی اماں آپ کی منت میں بھلا میں کیا کہوں گا؟ آپ پوری کردیں اپنی منت۔‘‘ وہ بہت ریلیکس انداز میں بولا تھا۔

’’نہیں بیٹا میری منت میں پوری نہیں کر سکتی، میری منت تو تم نے پوری کرنی ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے بول رہی تھیں اور ان کے چہرے پہ چھائی پریشانی اور عاجزی نے اسے ٹھٹکا دیا تھا۔ اب اسے احساس ہوا کہ کوئی گمبھیر مسئلہ ہے اور یہ لوگ مجھ سے کہہ نہیں پارہے۔

’’ابا سائیں، آپ بتائیں کیا مسئلہ ہے، کیسی منت پوری کروانی ہے بڑی اماں نے؟‘‘ اس نے اپنے والد محترم زمان گردیزی کو استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔ اور زمان گردیزی اپنی والدہ محترمہ کو دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

’’ہارون بیٹا میں تمہیں ساری بات تفصیل سے بتاتا ہوں، لیکن تمہارا کام ہے اسے غور سے سننا اور گہرائی سے سمجھنا، کیونکہ اگر تم گہرائی میں جا کر نہیں سوچو گے تو پھر تم اپنی دادی، اپنی ماں اور اپنے خاندان کے احساسات نہیں سمجھ سکو گے جو تمہارے پیدا ہونے سے پہلے تھے۔‘‘ انہوں نے کمرے میں ٹہلتے ہوئے بات شروع کرنے سے پہلے ذرا سی تمہید باندھی۔

’’جی میں سن بھی رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں آپ بات شروع کر دیں۔‘‘ اس نے انہیں تسلی دلائی۔

’’تمہارے دادا جان سلطان گردیزی کے صرف دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، رحمان گردیزی، زمان گردیزی اور رابعہ گردیزی۔ تمہارے دادا جان سلطان گردیزی کی جاگیرداری اور سیاست کے میدان میں اپنی ایک ساکھ تھی ان کا اپنے گائوں میں ہی نہیں بلکہ آس پاس کے علاقے میں بھی اچھا خاصا دبدبہ اور ایک نام تھا، وہ بہت بااصول، انصاف پسند اور نرم دل انسان تھے ، اپنی زندگی اور جاگیرداری سے بہت خوش اور مطمئن تھے۔ انہوں نے جدی پشتی حکمرانی کی بنا پر کبھی کوئی محرومی یا کمی نہیں دیکھی تھی، یہی چیز ان کو مطمئن رکھتی تھی، لیکن ان کا یہ اطمینان اور خوشی اس وقت رخصت ہوگئے تھے جب انہوں نے اپنے دونوں بیٹوں کی شادیاں کی تھیں، لیکن شادیوں کے سات سال بعد بھی انہیں اپنی حویلی میں کسی بچے کی آواز سنائی نہیں دی تھی۔

دونوں بیٹے اولاد کے لےے ترس رہے تھے، رحمن گردیزی کے ہاں تو سات سال سے کوئی بچہ ہوا ہی نہیں تھا، جبکہ زمان گردیزی کے ہاں دو بچے پیدا ہوئے تھے۔ لیکن وہ چار، پانچ دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ پائے تھے اور بچوں کی پیدائش کے چار، پانچ دن بعد کا یہ صدمہ پوری حویلی کو توڑ کے رکھ دیتا تھا۔ سلطان گردیزی اور بڑی اماں (دادی) کے دلوں میں پوتے پوتی کی خواہش کسی روگ کی طرح چمٹی ہوئی تھی جو ان کو اندر ہی اندر ترسا رہا تھا، لاشعوری طور پہ حویلی کے ہر فرد کو بچے کی خواہش نے گھیر رکھا تھا۔ رحمان گردیزی اور ان کی بیوی بھی بچے کی آواز کو ترس رہے تھے، سلطان گردیزی اور بڑی اماں کو بھی ایک وارث کی شدید خواہش تھی، ارمان تھا، اور زمان گردیزی بھی اپنے ہونے والے بچوں کے لےے زندگی کی دعا مانگتے تھے، اور یہ دعائوں کا ہی اثر تھا کہ اللہ نے ایک بار پھر امید کی کرن دکھادی اور سبھی اپنی اپنی جگہ منتیں اور مرادیں ماننے لگے تھے کہ اللہ ہمارے ہونے والے بچے کو زندگی دے اور ہماری دعائیں قبول فرمائے۔

سلطان گردیزی نے اپنی چھوٹی بہو کی پریگنینسی کی خبر سنتے ہی صدقہ اور خیرات دینا شروع کر دیا تھا، کئی پیروں، فقیروں کے پاس گئے، کئی دیگیں چڑھائی تھیں اور کتنے ہی نوافل پڑھ ڈالے تھے، اسی طرح بڑی اماں بھی کبھی کسی ملنگ سے دعا کروانے چلی جاتیں، کبھی کسی مزار پہ دھاگے سے گرہ باندھ آتیں اور یہی سب کرتے کرتے ایک روز وہ اپنے مرشد سائیں پیر فرید حسین کے پاس جا پہنچیں جو اپنے باپ، دادا کے سجادہ نشین تھے اور مزار کے ساتھ بنے حجرے میں تشریف فرما ہوتے تھے، جہاں وہ اپنے مریدوںکے دکھ، پریشانیاں اور مسئلے مسائل سنتے تھے اور ان کا حل بتاتے تھے، ان کے لےے دعا کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر تعویز وغیرہ بھی لکھ دیتے تھے، بڑی اماں اتنے لوگوں کے رش میں اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں اور جب باری آئی تب شام ہوچکی تھی، بڑی اماں نے کچھ کہنے کے لےے اپنی مشکل اپنا دکھ بتانے کے لےے لب کھولے ہی تھے کہ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا تھا۔

’’بی بی تمہیں ایک وارث چاہےے جو تمہاری نسل کو آگے بڑھا سکے اور تمہارے خاندان کا نام سلامت رکھے۔‘‘ انہوں نے بڑی اماں کی دل کی بات کہہ ڈالی تھی اور بڑی اماں کا عقیدہ پل میں پختہ ہوگیا تھا، وہ ان کے سامنے شدت سے رو پڑی تھیں۔

’’مرشد سائیں میری جھولی بھردو، میری مراد اللہ سے پوری کرادو، میں آپ کی نوکر آپ کی غلام بن جائوں گی، آپ جو کہیں گے وہی کروں گی، آپ جو کہو گے وہی چڑھاوا دوں گی۔‘‘ پیر فرید حسین کی نظریں جھکی ہوئی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ مسکرائے تھے ان کے پرشفقت نورانی چہرے پہ عجیب سا تاثر تھا، کیونکہ انہیں پتا تھا کہ کبھی کبھی چڑھاوا دینا اور منتیں مرادیں پوری کرنا کتنا مشکل ہوجاتا ہے۔

’’نیک بی بی سوچ لو ایک بار۔‘‘ انہوں نے بڑی اماں کو سوچنے کی مہلت دی، مگر وہ مہلت لینے پہ راضی نہیں تھیں۔

’’آپ جو بھی کہہ دیں گے میرے لےے وہ پتھر پہ لکیر ہوگا، میں آپ سے منکر نہیں ہوسکتی۔‘‘ بڑی اماں نے فیصلہ کر لیا تھا۔

’’نیک بی بی ہمارے خاندان میں صدیوں سے یہ رسم چلی آرہی ہے کہ ہر لڑی (نسل) میں سب سے بڑا بیٹا سجادہ نشین ہوتا ہے اور اس سجادہ نشین کی بیٹی کو صدقہ کیا جاتا ہے، اس کے باپ اور بھائیوں کا صدقہ، یعنی اس بیٹی کا نکاح کر کے ایک دن کے لےے دلہن بنا کر رخصت کیا جاتا ہے اور پھر شادی کے دوسرے روز ہی اسے واپس گھر لے آتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لےے، پھر وہ بیٹی تمام عمر عبادت میں گزار دیتی ہے، دنیاوی کاموں سے دور ہٹ جاتی ہے اور دنیوی کاموں کو اپنا لیتی ہے، اس کے شوہر کا، اس کے باپ، دادا اور بہن، بھائیوں کا اس پہ کوئی حق اور اختیار نہیں رہتا، وہ بس اللہ کی راہ پہ لگ جاتی ہے، کیونکہ وہ صدقہ کی گئی تھی جو آج تک عبادت میں وقت گزار رہی ہے اور اب ہمارے بیٹوں میں سے معراج حسین کی بیٹی صدقہ کی جائے گی جس کا نکاح تمہارے خاندان میں ہوگا اور نکاح کے دوسرے روز ہی ہماری بیٹی ہمارے گھر آجائے گی۔‘‘ انہوں نے تفصیل سے بتا یا تھا۔

’’ہمارے خاندان میں؟ کس کے ساتھ مرشد سائیں؟‘‘ بڑی اماں کو حیرت ہوئی تھی۔

’’تمہارے ہونے والے پوتے کے ساتھ، اور تم یہ منت مان چکی ہو تم یہ چڑھاوا ضرور دو گی، ہمارے بڑے بیٹے کی صاحبزادی کا نکاح تمہارے پوتے سے ہوگا، ہاں ایک بات اور بتادیں کہ تمہارا پوتا کبھی ہماری صاحبزادی کو طلاق نہیں دے گا اور نہ ہی کبھی اس پہ اپنا حق جتائے گا، نہ شادی کے دن، نہ باقی ساری زندگی، البتہ وہ جہاں چاہے دوسری شادی کر سکتا ہے، ہماری طرف سے کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہوگی، بس تمہارا چڑھاوا یہی ہوگا کہ ہماری بیٹی ہماری عزت تمہارے پوتے سے منسوب رہے گی اور ساری زندگی آپ لوگوں سے کچھ طلب نہیں کیا جائے گا۔‘‘ وہ بڑی اماں کو اس رسم کی ہر اونچ نیچ سے آگاہ کررہے تھے، بڑی اماں جو متفکر سی لگ رہی تھیں ان کی باتوں سے کچھ پرسکون سی ہوگئی تھیں۔

’’لیکن مرشد سائیں یہ رسم، یہ منت کب پوری کرنی ہوگی؟‘‘ وہ آہستگی سے بولیں۔

’’جب ہمارے بچے جوان ہوجائیں گے، ابھی تو نہ تمہارا پوتا پیدا ہوا ہے اور نہ ہمارے بیٹے کی صاحبزادی، لیکن ہماری اس رسم میں یہ رشتہ پیدا ہونے سے پہلے ہی طے کیا جاتا ہے جو آج ہم نے کر دیا ہے، بس دعائے خیر کرنی ہے۔‘‘ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور بڑی اماں واپس گھر آگئیں۔

’’اور پھر اس منت کے بعد تم پیدا ہوئے اور تمہارے پیدا ہونے کے بعد لالہ سائیں (رحمن گردیزی) کے ہاں بھی دو بیٹیاں پیدا ہوئی تھیں، تم جان سکتے ہو کہ اس کے بعد بڑی اماں کا یا پھر ہمارے خاندان کا مرشد سائیں پہ کتنا پکا عقیدہ ہوچکا ہوگا اور وہ منت پوری کرنا بھی ہمارے لےے لازم ہوگیا تھا، لیکن ان کے بیٹے سید معراج حسین کے تین صاحبزادے تھے، اس لےے آٹھ سال تک یہ رسم ڈانوا ڈول سی رہی تھی، مگر جب تم آٹھ سال کے ہوئے تو ان کے ہاں صاحبزادی کی پیدائش ہوئی اور تمہارے لےے مانی جانے والی منت پکی ہوگئی تھی۔ لہٰذا رسم کے مطابق سید معراج حسین اور پیر فرید حسین چاہتے تھے کہ شادی تب ہو جب لڑکی بیس سال کی ہوجائے۔ تو بیٹا تمہیں اس لےے بلایا ہے کہ تم ہماری اور اپنی بڑی اماں کی مجبوری سمجھ سکو، کیونکہ وہ لوگ چند دنوں تک نکاح کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی صرف ایک دن کے لےے۔‘‘زمان گردیزی نے تفصیل سے ساری بات بتانے کے بعد پلٹ کر ہارون کو دیکھا۔ جو ان کی تفصیلی بات سننے کے بعد ششدر سا بیٹھا تھا، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے ان سب سے۔

’’ہارون ہم تم سے کچھ پوچھ رہے ہیں بیٹا؟‘‘ انہوں نے دوبارہ اسے متوجہ کیا تھا، بڑی اماں متفکر سی بیٹھی تسبیح کے دانے گرا رہی تھیں اور دعا مانگ رہی تھیں کہ ان کا پوتا ان کی لاج رکھ لے۔

’’ہارون۔۔۔‘‘ زمان گردیزی نے قریب آکر اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا اور وہ یک دم اس شاک سے باہر آیا تھا۔

’’ایم سوری ابا سائیں میں آپ کی ایسی کوئی منت پوری نہیں کر سکتا، میں یہ نکاح نہیں کروں گا، ایک لڑکی کو اپنی عزت، اپنی غیرت بنانے کے بعد اسے آزاد نہیں چھوڑ سکتا۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوگیا تھا۔ اس کا انداز دو ٹوک تھا، بے لچک اور بے مروت۔

’’یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا؟‘‘

’’میں ٹھیک کہہ رہا ہوں آپ لوگ انہیں انکار کر دیں، وہ اس کام کے لےے کسی اور کو ڈھونڈ لیں میری طرف سے انکار ہے۔‘‘ وہ کہتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا، بڑی اماں کا بوڑھا چہرہ پریشانی سے پیلا پڑ گیا تھا۔ زمان گردیزی اور ان کی بیوی بھی چپ رہ گئے تھے۔

ئ ئ ئ ئ ئ

صبح ہوتے ہی وہ شہر کے لےے روانہ ہوگیا تھا اور زمان گردیزی اس سے دوبارہ بات کرنے کا سوچتے رہ گئے تھے۔

’’ہارون سے بات کی آپ لوگوں نے؟ کیا کہتا ہے وہ؟‘‘ صبح ناشتے کی میز پہ لالہ سائیں نے پہلا سوال یہی کیا تھا۔

’’ہاں کی تھی بات، لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔‘‘ وہ بیٹے کی ضد کو جانتے تھے، تبھی آہستگی سے بولے تھے۔

’’اماں سائیں کیا کہتی ہیں؟‘‘ انہوں نے دوسری پارٹی کا پوچھا، لہجہ کچھ متبسم تھا، شاید انہیں پہلے سے ہی پتا تھا کہ ہارون نہیں مانے گا۔

’’ وہ رات سے بہت پریشان ہیں اپنے آپ کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، اپنے مرنے کی دعائیں کر رہی ہیں کہ وہ اپنے مرشد سائیں کو کیا منہ دکھائیں گی؟‘‘ زمان گردیزی یوں بات کر رہے تھے جیسے بڑی اماں کے وہی مجرم ہوں۔

’’ہمیں تو ہارون کے بچپن سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ یہ شادی نہیں کرے گا۔ اولاد کے طور طریقے اور تیور دیکھ کر ہی اس کے مزاج کا پتا چل جاتا ہے زمان گردیزی۔ بیٹا تو وہ تمہار اہے لیکن سمجھتے اسے ہم ہیں۔ تم فکر نہ کرو وہ مان جائے گا ہم اسے سمجھائیں گے۔ ‘‘ انہوں نے اطمینان سے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے تسلی دی تھی۔

’’مجھے بس اماں سائیں کی طرف سے فکر ہورہی تھی۔ کہ وہ کیا سوچ رہی ہوں گی۔ یہ منت بھی تو انہوں نے ہمارے لےے ہی مانی تھی نا۔‘‘

’’ارے ٹھیک ہے بس تم پریشان نہ ہو اماں سائیںکو بھی تسلی دو اور مرشد سائیں سے کہہ دو ہم اس شادی کے لےے تیار ہیں وہ دن بتادیں تاکہ ہم دلہن کے لےے کچھ سامان خرید لیں۔‘‘

’’مگر لالہ سائیں؟‘‘

’’بس زمان گردیزی ہم نے کہہ جو دیا ہے ہارون کو ہم سنبھال لیں گے۔‘‘ وہ کندھا تھپک کر وہاں سے چلے گئے تھے، انہوں نے اپنے مزارعوں کے ساتھ آج زمینوں پہ جانا تھا، جہاں منجھی (چاول کی فصل) بونے کا کام ہورہا تھا، زمان گردیزی لالہ سائیں کو دیکھتے رہ گئے اور یہ سچ تھا کہ دونوں تایا بھتیجے میں کافی انڈر اسٹینڈنگ تھی، دونوں کے خیالات ملتے تھے اور دونوں کی گپ شپ ہمیشہ دوستوں کی طرح ہوتی تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’کیا ہم اندر آسکتے ہیں؟‘‘ رحمن گردیزی نے اس کے آفس روم کے دروازے پہ دستک دے کر اجازت طلب کی تھی اور ہارون گردیزی جو اس وقت ایک بہت اہم فائل پہ کافی مصروف سے انداز میں کام کر رہا تھا، ان کی آواز سن کر یک دم احترام سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

’’چچا سائیں اندر آئیں، آپ وہاں کیوں کھڑے ہیں؟ پلیز مجھے شرمندہ نہ کریں۔‘‘ وہ اپنی فائل چھوڑ کر سیٹ سے اٹھ آیا تھا اور قریب آکر رحمن گردیزی کو آگے بڑھنے کو کہا۔

رشتے اور عمر کے لحاظ سے وہ اس کے تایا ابا تھے، لیکن وہ ہمیشہ سے ان کو چچا سائیں کہہ کے بلاتا تھا۔

’’بیٹھے چچا سائیں آج مجھ سے ملنے کا خیال کیسے آگیا؟‘‘ وہ صوفے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے کافی دلچسپی سے پوچھ رہا تھا۔

’’ہارون گردیزی نہ تم معصوم بچے ہو اور نہ ہم۔ ایک ماہ سے گھر پہ تمہارا انتظار کر رہے ہیں، مگر تم روز آج اور کل پہ ٹالے جارہے تھے، ہم نے تو آخر آنا ہی تھا، کیونکہ تم سے کام ہمیں تھا، تمہیں تو نہیں۔‘‘ وہ ہارون پہ چوٹ کرتے ہوئے بولے تھے، وہ سچ مچ شرمندہ ہو کے رہ گیا تھا۔

’’ایم سوری چچا سائیں ایسی تو کوئی بات نہیں تھی، دراصل یہاں کام ہی کچھ اتنا زیادہ تھا کہ گائوں جانے کا ٹائم ہی نہیں ملا، ان شائ اللہ چار، پانچ روز تک چکر لگائوں گا۔‘‘ اس نے وضاحت پیش کی تھی۔

’’اب تمہیں چکر لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اب ہم جو یہاں آگئے ہیں۔‘‘ وہ دلچسپی سے بولے تھے۔

’’یہ بھی ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ اور سنائیں بڑی اماں اور باقی سب کیسے ہیں؟ رابعہ پھپھو سے ملاقات ہوئی آپ کی؟‘‘ اس نے سب کی خیریت پوچھی، حالانکہ روز حویلی فون کر کے گائوں کی خیر خبر لیتا رہا تھا۔

’’سب سے ملاقات ہوجائے گی پہلے تم سے تو ہوجائے۔۔ اور بڑی اماں کا تو تمہیں پتا ہے انہیں آج کل کیا روگ لگا ہوا ہے؟‘‘ رحمن گردیزی کی یہ بہت اچھی عادت تھی کہ وہ بڑی سے بڑی بات بھی بہت ریلیکس انداز میں کہہ جاتے تھے اور بہت ہی نرمی سے بات منوا بھی لیتے تھے اور انہیں اپنا یہ اکلوتا بھتیجا اپنے بیٹے کی طرح عزیز تھا، وہ اسے ایک باپ کی طرح ہی چاہتے تھے۔ ہارون بڑی اماں کے متعلق سن کر چپ سا ہوگیا تھا، کیونکہ وہ ان کے لےے کچھ نہیں کر سکتا تھا، ان کی منت بہت کڑی منت تھی۔

’’کیا سوچ رہے ہو تم؟‘‘

’’کچھ نہیں چچا سائیں۔‘‘

’’کچھ تو سوچا ہے تم نے؟‘‘

’’ہاں، مگر جو میں نے سوچا ہے وہ میں بیان نہیں کر سکتا۔‘‘ اس نے اعتراف کیا تھا۔

’’تم پیر فرید حسین کی اس رسم کے تاریک پہلو پہ غور کرر ہے ہو، اسے روشن کرنے کا سوچ رہے ہو تو بیان کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘ رحمن گردیزی کی بات پہ ہارون نے یک دم کرنٹ کھا کے ان کی سمت دیکھا تھا، ان کا چہرہ وہی کچھ بیان کر رہا تھا جو ہارون دل میں سوچ رہا تھا۔

’’چچا سائیں آپ بھی وہی سوچتے ہیں جو میں؟‘‘ وہ بے یقین سا ہونے لگا تھا۔

’’تم باقی سب چھوڑو یہ بتائو کہ اپنی بڑی اماں کی منت پوری کرو گے یا نہیں؟ ہم آج اسی لےے آئے ہیں، آج تمہیں فیصلہ کرنا ہوگا۔‘‘ وہ اپنے تاثرات غائب کرتے ہوئے گویا ہوئے تھے۔ ہارون نے پانچ منٹ سوچا ہر پہلو پہ ایک بار پھر غور کیا اور پھر رضامندی دے دی تھی۔

’’ٹھیک ہے میں اس شادی کے لےے تیار ہوں، آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گا اور جو میں کہوں گا وہ آپ کو بھی کرنا ہوگا۔‘‘ اس نے ہامی بھرلی اور رحمن گردیزی مسکرادےے تھے۔

ئ ئ ئ ئ ئ

آج شہر بانو کی مہندی اور تیل کی رسم تھی، وہ لوگ یہ ایک دن کی شادی بھی تمام رسموں اور پورے اہتمام کے ساتھ کرتے تھے اپنے طور پہ وہ بیٹی کا ہر حق ادا کرتے تھے، بالکل اسی طرح جس طرح قربانی کے جانور کا حق ادا کیا جاتا تھا اور پھر قربانی کے دن دھوم دھام سے اسے ذبح کر کے قربان کر دیا جاتا تھا اور آج اس قربانی کے لےے شہربانو کو تیار کیا جارہا تھا، بس فرق یہ تھا کہ وہ جانوروں کی قربانی ہوتی تھی وہ بھی اللہ کی راہ میں اور اللہ کی رضا پہ ہوتی تھی، جبکہ یہ انسانوں کی قربانی تھی اور وہ بھی صرف بیٹیوں کی جو باپ اور بھائی کے لےے قربان ہوجاتی تھیں، ہر نسل میں ایک بیٹی اس رسم کی بھینٹ چڑھا دی جاتی تھی اور اب باری شہر بانو کی تھی جو تین بھائیوں سے چھوٹی اور اکلوتی بہن تھی، لیکن پھر بھی اس کی ماں اسے اس رسم سے نہیں بچا سکتی تھی، کیونکہ صدیوں سے اور کئی نسلوں سے چلی آنے والی یہ رسم تو آخر نبھانا ہی تھی، حالانکہ ان کا اپنی نازک سے پھولوں سی بیٹی کے لےے بہت دل تڑپتا تھا کہ وہ جیتے جی دنیا سے کٹ کے رہ جائے گی۔ یہی سوچیں اور یہی دکھ آج کل ان کو نڈھال کےے رکھتا تھا وہ بہت چپ چپ سی رہتی تھیں۔

’’تائی اماں آپ یہاں بیٹھی ہیں؟ چلیں آپ کو سب نیچے بلا رہے ہیں، شہر بانو کو مہندی لگنے والی ہے۔‘‘ مریم نے ان کے کمرے میں آتے ہی پیغام دیا تھا۔ لیکن وہ اسی طرح بیٹھی رہیں۔

’’تائی اماں چلیں نا سب کو دیر ہورہی ہے۔‘‘ مریم نے مزید کہتے ہوئے ان کا ہاتھ بھی پکڑ لیا تھا اور وہ گم صم افسرہ سی اٹھ کر اس کے ساتھ آگئیں جہاں نازک، گداز، سرخ گلابوں سی شہربانو زرد لباس میں اپنی تمام تر پاکیزگی اور سادگی کے ساتھ چہرہ جھکائے بیٹھی تھی اور سبھی اس کی ماں کے انتظار میں بیٹھے تھے کیونکہ بیٹی کو تیل اور مہندی لگانے کا آغاز انہوں نے ہی کرنا تھا۔

’’آئےے بھرجائی شہر بانو کو مہندی لگائےے اتنا ٹائم ہورہا ہے۔‘‘ ان کی دیورانی سید سراج حسین کی بیوی نے انہیں آگے بڑھنے کا کہا، لیکن ان کے دل پہ کیا گزر رہی تھی، کوئی کیسے جان سکتا تھا، ان کا بس چلتا تو وہ یہ رسم ہمیشہ ہمیشہ کے لےے ختم کر دیتیں، مگر بس چلتا تب نا! انہوں نے آگے بڑھ کے کھڑے کھڑے بیٹی کو مہندی اور تیل لگایا اور پلٹ کر واپس چلی گئیں۔ بعد میں کیا کچھ ہوتا رہا انہیں کوئی خبر نہیں تھی، وہ سر درد کا کہہ کر اپنے کمرے میں بند ہوگئیں۔

’’شہر بانو تمہیں کوئی دکھ تو نہیں اندر سے؟ کیا اس رسم پہ اداس ہو؟‘‘ مومنہ پھپھو کی بیٹی فروا نے کافی سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔

’’فروا بی بی! ہماری شہربانو تو اللہ کی گائے ہے اسے بھلا کوئی دکھ یا اداسی کیوں ہونے لگی؟ وہ سب کی خوشی میں خوش رہتی ہے، ہاں دکھ یا اداسی توہمیں ہونی تھی، اگر اس کی بجائے ہمارا نکاح ہورہا ہوتا۔ صرف نام نہاد نکاح۔‘‘ زہرا نے جلتے ہوئے طنز کیا تھا۔ اسے شہر بانو کی چپ رہنے کی عادت پہ کافی غصہ آتا تھا، وہ چاہتی تھی کہ شہر بانو اپنے حق میں آواز اٹھائے، وہ ان پڑھ، گنوار لڑکیوں کی طرح اس فرسودہ رسم کی بھینٹ نہ چڑھے، مگر شہربانو اس قسم کی گستاخی یا سرکشی کی مرتکب نہیں ہوسکتی تھی، اس نے کبھی بھی زہرا کی گفتگو کو دل پہ نہیں لیا تھا۔

’’کاش کہ یہ صدقہ کی رسم تم پہ آئی ہوتی۔‘‘ مریم نے زہرا کو چھیڑا تھا۔

’’قسم سے یار میں بھی یہی سوچتی ہوں کہ کاش شہر بانو کی جگہ میں ہوتی اور پھر سب کو بتاتی کہ ایک انسان کو صدقہ کیسے کیاجاتا ہے؟ اونہہ عقل ٹھکانے لگا دیتی سب کی۔‘‘ زہرا نے بے بسی سے مٹھی بھینچ کر کہا تھا اور اس کے انداز پہ سب ہنس پڑی تھیں، لیکن شہر بانو ابھی بھی خاموش بیٹھی تھی، حالانکہ اس کی بڑی پھپھو کی بیٹیاں فروا، اور اقرا اس کے ہاتھوں پہ مہندی لگانے اور مذاق کرنے میں مشغول تھیں، پھر بھی اس کا دھیان نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا ہوا تھا۔

’’فروا یہاں ہتھیلی پہ شہر بانو کے شوہر کا نام بھی لکھ دو۔‘‘ زہرا نے پھر مداخلت کی۔

’’کیا نام ہے ان کا؟‘‘ فروا نے پوچھا۔

’’ہارون گردیزی۔‘‘ شہر بانو نے یک دم فروا کے ہاتھ سے اپنی ہتھیلی کھینچ لی تھی، مبادا وہ سچ مچ ہی اس کا نام نہ لکھ ڈالے۔

’’ہاتھ کیوں کھینچ لیا شہر بانو؟ اسی کا نام لکھنے کو کہا ہے نا جس کے نام تم اپنی پوری زندگی لکھنے جارہی ہو؟‘‘

’’پلیز آپی! مجھے ڈسٹرب نہ کریں میرے ساتھ جو ہورہا ہے ہونے دیں، اگر ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا جارہا تو اس کا خیال ہمارے ماں، باپ اور بڑوں کو کرنا چاہےے ہمیں نہیں، کیونکہ جن کو بن کہے کوئی احساس نہیں ہوتا انہیں ہمارے کہنے پہ بھی کوئی احساس نہیں ہوگا، مجھے میرے بابا اور بھائیوں نے ہمیشہ بہت پیار دیا ہے لاڈلا بنا کے رکھا ہے میری ہر چیز کا خیال رکھتے رہے ہیں تو آج اگر میں ان کے لےے قربان ہوجائوں گی تو کوئی نقصان کی بات نہیں ہوگی، بلکہ میرے لےے تو فخر ہے کہ میں اپنے بھائیوں اور بابا کا صدقہ بن رہی ہوں ان کے نام پر سے واری جارہی ہوں اتنی چاہتوں کے بدلے یہ کام تو کوئی معنی نہیں رکھتا۔‘‘ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا اور زہرا کو سمجھانا چاہا تھا جو ہمیشہ ہی شہر بانو کی بات نہیں سمجھتی تھی۔

اور پھر نکاح کا دن بھی آگیا۔ شادی کا جوڑا پورے اہتمام کے ساتھ اس کی سسرال سے آیا تھا۔ بڑی اماں نے بہوئوں سے کہہ کر ہر چیز بہت شوق اور بڑے چائو کے ساتھ خریدی تھی اپنی طرف سے ہر شگن پورا کیا تھا، رابعہ گردیزی بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ شریک ہوئی تھی۔ حویلی کے سبھی افراد اس رسم میں شامل ہونے جارہے تھے۔ سید معراج حسین کی طرف سے بہت سے لوگ اس شادی میں شریک ہوئے تھے اور سبھی لوگ اس شادی کی نوعیت کو جانتے تھے کہ یہ ایک رسم کے تحت ہورہی ہے، اسی لےے ماحول بھی کچھ رسمی رسمی سا تھا۔

ہارون نے بس اپنے چند ایک جاننے والوںکو اور دو، تین دوستوں کو ہی انوائیٹ کیا ہوا تھا، مغرب کے بعد ان کا نکاح ہوا، پھر کھانا وغیرہ کھایا گیا اور ایک دو رسم اد اکی گئی تھیں۔ تب جا کر رخصتی کا وقت آیا۔ باقی سب تو شہر بانو کے گلے لگ کے بہت نارمل سے انداز میں ملی تھیں کہ کل صبح شہر بانو نے دوبارہ گھر جو آجانا ہے، لیکن شہر بانو کی ماں، بیٹی کو گلے لگا کر بہت شدت سے روئی تھیں، کیونکہ صرف انہی کو احساس تھا کہ ان کی بیٹی قربان ہوگئی ہے۔ بے شک اس نے کل صحیح سلامت واپس گھر آجانا تھا، لیکن ساتھ یہ دکھ بھی تو تھا کہ وہ پوری دنیا سے کٹ جائے گی۔ ہارون کی بڑی اماں نے آگے بڑھ کے ان کو الگ کیا اور بہوئوں کو اشارہ کیا کہ وہ شہر بانو کو گاڑی میں بٹھائیں۔

’’مرشد سائیں ہمیں اب اجازت دیں۔‘‘ بڑی اماں نے احترام سے کہا، البتہ ان کے لہجے میں بے پناہ خوشی تھی کہ انہوں نے اپنی منت پوری کر لی ہے۔

’’اجازت ہے بڑی اماں ہماری امانت آپ کے حوالے ہے۔‘‘ سید معراج بھی جواباً کافی ادب سے بولے تھے۔ اور ان کی بات پہ ہارون نہ جانے کیوں نظریں پھیر کر دوسری سمت دیکھنے لگاجہاں اس وقت تمام سید زادیاں کھڑی اپنی لاڈلی صاحبزادی کی رخصتی کا منظر دیکھ رہی تھیں، زہرا، مریم، فروا اور سکینہ وغیرہ نے ہارون گردیزی کو دیکھتے ہی اس کی شاندار پرسنالٹی کو خوب سراہا تھا، بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس اپنے چچا سائیں کے ہمراہ کھڑا اس وقت نہ جانے کیا بات کر رہا تھا، وہ سبھی اسے دیکھتی رہ گئیں، یہاں تک کہ ماں جی نے بھی اپنے داماد کو دل ہی دل میں بے حد سراہا تھا، مگر کیا فائدہ اس سب کا؟ تھوڑی دیر بعد وہ اپنی بلیک مرسیڈیز میں بیٹھا اور دلہن کے ساتھ روانہ ہوگیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’ہارون یہ کہاں جارہے ہو تم؟‘‘ وہ اپنے کوٹ کے بٹن کھول کر اسے بازو پہ ڈالتا سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، جب زینی آپا کی آواز نے اچانک اس کے قدم روک دےے تھے، اس نے سیڑھیوں پہ کھڑے کھڑے گردن موڑ کر ڈرائنگ روم کے وسط میں کھڑی زینی آپ کو تعجب بھری نظروں سے دیکھا تھا۔

’’اپنے بیڈ روم میں اور کہاں؟‘‘ اس نے کافی لاپروائی سے جواب دیا تھا۔

’’کیا؟ بیڈ روم میں؟ مگر تم بھلا بیڈ روم میں کیسے جا سکتے ہو؟ وہاں تو۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے یک دم خاموش سی ہوگئیں اور گھبراہٹ ان کے پورے چہرے سے جھلکنے لگی تھی، کیونکہ انہیں احساس ہوچکا تھا کہ وہ شہر بانو کو ہارون کے بیڈ روم میں بٹھا کر کتنی بڑی اور کتنی سنگین غلطی کر چکی ہیں۔

’’وہاں کون ہے؟‘‘ وہ جان بوجھ کر انجان بنا تھا۔

’’وہ۔۔۔ وہ شہر بانو!‘‘ زینی آپا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ ہارون کو کیسے ہینڈل کریں۔

’’کون شہر بانو؟‘‘ اس نے پھر سوال کیا تھا۔

’’وہ جس کے ساتھ آج تمہاری شادی ہوئی ہے۔‘‘ زینی آپا کو مجبوراً کہنا ہی پڑا تھا کیونکہ اور کوئی جواب بھی تو نہیں تھا اور انہیں کیا پتا تھا کہ وہ جان بوجھ کر انجان بن رہا ہے۔

’’جس کے ساتھ آج میری شادی ہوئی ہے، پھر وہ تو میری ’’بیوی‘‘ ہوئی نا؟ میری منکوحہ! اس لحاظ سے میرا اپنے بیڈ روم میں جانا کوئی غلط بات تو نہیں ہے، آپ کیوں اتنی پریشان ہورہی ہیں؟‘‘ وہ پلٹ کر سیڑھیاں اتر آیا تھا۔

’’لیکن ہارون تم نہیں جاسکتے۔ ت کو اس کا اختیار نہیں ہے۔‘‘

’’عجیب بات ہے زینی آپا؟ گھر میرا ہے، بیڈ روم میرا ہے، بیوی میری ہے اور مجھے ہی اختیار نہیں ہے؟ بھلا کس کتاب میں لکھا ہے؟‘‘ اس نے کافی خفگی اور حیرانی کا اظہار کیا تھا۔

’’ہارون تم جانتے تو ہو یہ شادی ایک رسم ادا کرنے کے لےے ہوئی ہے، یہ ویسا رشتہ نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہے ہو، تمہارا شہر بانو پہ کوئی حق نہیںہے، وہ اپنے باپ، دادا کی رسم کے مطابق صدقہ کی گئی ہے۔‘‘ زینی آپا کے لےے بہت مشکل ہورہا تھا ہارون کو سمجھانا، کیونکہ وہ ان کی ہر بات ہر جواز میں نقص نکال رہا تھا اور اپنی دلیلیں دے رہا تھا۔

’’ایک انسان کی قربانی، ایک انسانی صدقہ تو اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں لیا جو یہ بڑی اماں کے مرشد سائیں لے رہے ہیں، اگر ایسا ممکن ہوتا تو سب سے پہلے انسان کی قربانی کی صورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام قربان ہوتے اور پھر ہر سال ہر انسان کو اپنے پیارے اللہ کی راہ میں قربان کرنا پڑتے، کچھ سوچےے زینی آپا! پیر فرید حسین کے خاندان میں یہ رسم نہیں ظلم ہورہا ہے اور میں یہ ظلم نہیں ہونے دوں گا۔ میں نے یہ شادی اسی لےے کی ہے کہ ان کی اس رسم کو مٹایا جاسکے۔ سو پلیز ہیلپ می، میں اپنے بیڈ روم میں جارہا ہوں، گڈ نائٹ کل ملاقات ہوگی۔‘‘ وہ نرمی سے کہتا زینی آپا کا کندھا تھپک کر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا، لیکن زینی آپا کا دل نہیں مان رہا تھا، انہوں نے جا کر بڑی اماں اور چچا سائیں زمان گردیزی کے سروں پہ بم پھوڑ دیا تھا، بڑی اماں نے تو دو ہتڑ سے اپنا سینہ پیٹ لیا تھا، جبکہ زمان گردیزی اور ان کی بیوی اپنی اپنی جگہ ساکت سے ہوگئے تھے کہ اب کیا ہوگا؟ البتہ رحمن گردیزی نے ذرا کم ہی نوٹس لیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

ہارون گردیزی کی تایا زاد بہن زینی آپا اسے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے اس بیڈ روم میں چھوڑ کر گئی تھیں، لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ یہ بیڈ روم کس کا ہے، اسی لےے اس بیڈ روم کو تھوڑی دیر کے لےے اپنی آرام گاہ سمجھ کر دن بھر کی اکڑی ہوئی کمر کو ریلیکس کرنے کی غرض سے ذرا سی نیم دراز ہوگئی تھی اورزینی آپا کا انتظار کرنے لگی جو اسے تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر گئی تھیں، لیکن پھر آدھا گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی نہیں آئی تھیں، اب شہر بانو کو اپنے بنائو سنگھار سے کوفت سی ہونے لگی، تبھی وہ زینی آپا کا انتظار کرتے کرتے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ ابھی وہ آگے بڑھنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پہ رکھی تصویر کی سمت اٹھ گئی تھی اس نے ہارون گردیزی کو ٹھیک طرح سے دیکھا تو نہیں تھا، مگر رخصتی کے دوران ایک سرسری سی نظر تو اس پہ پڑی ہی تھی اسی لےے پہچاننے میں دیر نہ لگی کہ یہ تصویر ہارون گردیزی کی ہے۔ اور بے ساختہ ہی وہ اس خوب صورت فریم میں سجی ہارون گردیزی کی متاثر کن پرسنالٹی کو دیکھے گئی اور ساتھ یہ بھی احساس ہوگیا کہ یہ کمرا ہارون گردیزی کا ہی ہے۔

وہ شہر بانو کو رخصت کرا کے حویلی لے جانے کی بجائے اپنے شہر والے گھر میں لے کر آیا تھا، البتہ حویلی جانے کے لےے اس کے کیا ارادے تھے، ابھی کچھ پتا نہیں تھا۔ شہر بانو نے کھڑے کھڑے پورے کمرے کا جائزہ لے ڈالا تھا، اس دوران وہ چلتی ہوئی کمرے کے بیچوں بیچ آکھڑی ہوئی تھی کہ اچانک ہی ہلکی سی دستک کے ساتھ دروازہ بھی کھل گیا تھا۔ آنے والے کے قدموں کی آہٹ ابھری تھی، شہر بانو نے گھبرا کر رخ موڑ لیا تھا، کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ اندر آنے والا مرد ہے عورت نہیں! تقریباً تین یا چار سیکنڈ کے وقفے کے بعد دروازہ دوبارہ بند ہوگیا تھا۔

’’السلام علیکم!‘‘ ہارون نے اپنا کوٹ بیڈ پہ ڈالتے ہوئے اپنی نئی نویلی اجنبی دلہن کو سلام کیا جو اس کی سمت پشت کےے کھڑی تھی۔

’’آ۔۔۔آپ کون؟‘‘ وہ گھبرائی ہوئی بولی تھی۔

’’جس سے آپ کی ساری زندگی منسوب ہوچکی ہے۔‘‘ وہ سکون سے کہتا ہوا اپنی گھڑی اتارکر سائیڈ ٹیبل پہ رکھ رہا تھا۔

’’مگر آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟‘‘ بے شک شہر بانو بہت نازک اور خاموش طبع تھی، مگر ایسی حرکت برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ذرا ترشی سے بولی تھی۔

’’اگر یہی سوال میں آپ سے کروں تو؟‘‘ اس نے اپنا والٹ اور موبائل نکال کر وہ بھی سائیڈ پہ ڈال دےے تھے، شہر بانو اس کے سوال پہ ٹھٹک گئی تھی۔ لیکن پھر فوراً ہی سنبھل گئی اسے اپنا دفاع کرنا تھا۔

’’میں یہاں مہمان ہوں۔‘‘ وہ مضبوطی سے بولی تھی۔

’’حالانکہ میں آپ کو مالک سمجھ رہا ہوں، کیونکہ یہ گھر آپ کا ہے، یہ کمرا آپ کا ہے اور سب سے بڑی بات کہ میں بھی آپ کا ہوں پھر آپ مہمان کیسے ہوگئیں؟‘‘ وہ دلچسپی سے کہتا عین اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا، جہاں شہر بانو کا رنگ فق ہوا تھا، وہیں ہارون گردیزی کی نگاہیں بھی ایسی دلکشی پہ اپنی ذات بھلا بیٹھی تھیں، کتنے ہی لمحے ہارون کی نظروں کی نذر ہوگئے تھے، لیکن شہر بانو کی بدحواسی نے یک دم اس کی یہ سحر زدہ سی کیفیت خاک میں ملا ڈالی تھی، وہ تیزی سے پلٹ کر دروازے کی سمت لپکی تھی اور اسی تیزی سے ہینڈل گھما کر لاک کھولنے کی کوشش کی تھی، کیونکہ وہ لاک کے ساتھ بولٹ بھی چڑھا آیا تھا۔

’’یہ بھاگنے دوڑنے سے بہتر ہے کہ آپ ایک بار آرام سے بیٹھ کر میری بات سن لیں۔‘‘ ہارون نے قریب آتے ہوئے کہاتھا، شہر بانو ڈری سہمی کھڑی تھی، اس کے قریب آنے سے تھوڑی اور دور ہٹ گئی۔

’’میں آپ کی کوئی بات نہیں سننا چاہتی۔ آپ یہاں سے چلے جائیں۔ یا مجھے جانے دےں۔‘‘ شہربانو نے بہت سی ہمت مجتمع کر کے جواب دیا تھا، ورنہ تو اس کے ہاتھ پیر کانپ رہے تھے، پورا جسم ٹھنڈا پڑ چکا تھا اور دودھیا پیشانی پہ پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے، دل میں دھڑکنیں اسی طرح دھڑ دھڑا رہ تھیں جیسے کوئی دروازے پہ دستک دے رہا ہو۔ اور یہ دستک ذرا فاصلے پہ کھڑی ہارون گردیزی کو بھی باآسانی محسوس ہورہی تھی۔

’’آپ میری بات نہیں سننا چاہتیں تو کوئی بات نہیں، لیکن یہاں سے چلے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ ہم دونوں نے اب یہاں ہی رہنا ہے آج بھی، کل بھی اور آئندہ ساری زندگی بھی، وہ اس لےے کہ میں آپ کو ایک دن کے لےے نہیں اپنی پوری زندگی کے لےے اپنی ہمسفر بنا کے لایا ہوں، اب میں اچھا ہوں یا برا ہوں آپ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتیں اور آپ اچھی ہیں یا بری ہیں میں بھی آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گا، بے شک میں آپ کو جانتا نہیں تھا میں نے آپ کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی آپ کو چاہا تھا، لیکن مجھے امید ہے کہ میں آپ کو جاننے لگا، دیکھنے لگا تو پھر چاہنے بھی لگوں گا، بہت جلد مجھے آپ سے محبت بھی ہوجائے گی۔ کیونکہ محبت کے آثار تو مجھے ابھی سے نظر آنے لگے ہیں، میرا دل محبت پہ مائل سا لگ رہا ہے۔‘‘ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑی دلکشی سے کہتا اپنے پورے استحقاق سے شہر بانو کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے قریب کر چکا تھا، ہارون گردیزی کی قربت کی تپش سے شہر بانو کا جسم ہی نہیں روح بھی جل اٹھی تھی، وہ اسے اپنے مضبوط بازو کے حلقے میں لے کر بیڈ تک لے آیا تھا۔

’’پلیز ہارون؟‘‘ ہارون نے جیسے ہی اس کی چوڑیاں اتاریں وہ جیسے ہوش میں آگئی تھی۔

’’جیولری تو آپ نے اتارنی ہی ہے ابھی یا تھوڑی دیر بعد۔‘‘ اس نے بے نیازی سے کہا۔

’’آپ میری اجازت اور میری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ وہ یک دم اپنا ہاتھ چھڑا کر دور ہٹ گئی تھی۔

’’میں بہت چاہتا تھا کہ آپ کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہ کروں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ آج زبردستی کےے بغیر گزارا نہیں ہوگا، کیونکہ آپ میرے حق میں نظر نہیں آرہیں۔‘‘ وہ بیڈ سے کھڑا ہوگیا تھا۔

’’آپ میرے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتے، کیونکہ میرا آپ سے ہمیشہ کا رشتہ نہیں ہے۔‘‘ وہ سختی سے بولی، اس نے بڑی ہمت سے اپنے آپ کو سنبھالا تھا۔

’’اوکے فرض کر لیتے ہیں کہ ہمارا رشتہ ہمیشہ کا نہیں لیکن ایک رات کے لےے تو ہے نا؟‘‘ اس نے شہر بانو کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کافی ذو معنی لہجے میں کہا تھا۔

’’لیکن میں آپ کے ساتھ نہیں۔۔۔‘‘ شہر بانو نے کچھ کہنے کے لےے لب کھولے ہی تھے کہ ہاون نے اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ کر خاموش کرادیا۔

’’دیکھےے محترمہ شہر بانو میں اس قت آپ کی سب باتیں سن بھی رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں، مجھے آپ کی کیفیت کا اندازہ بخوبی ہورہا ہے، لیکن اس کے باوجود میں آپ کو ایک بات سمجھا دینا چاہتا ہوں کہ میں کبھی کسی کی حق تلفی نہیں کرتا اور نہ ہی اپنا ’’حق‘‘ تلف ہونے دیتا ہوں۔ لہٰذا آپ یہ بھول جائیں کہ میں آپ کو پرائی امانت، کسی کا صدقہ یا پھر شجر ممنوعہ سمجھ کر چھوڑ دوں گا، آپ پر میرا پورا پورا حق ہے اور میں اپنا ہر حق وصول کروں گا چاہے زبردستی کرنا پڑے، چاہے آپ کی رضا سے، کیونکہ آپ ہر طرح سے مجھ پہ حلال ہوچکی ہیں۔‘‘ وہ بہت ہی نپے تلے الفاظ میں کہتا شہر بانو کو بہت کچھ باور کرواچکا تھا، وہ اپنی جگہ پہ جوں کی توں کھڑی رہ گئی اور وہ اس کے ہونٹوں سے ہاتھ ہٹا کر کپڑے چینج کرنے چلا گیا تھا، واپس آیا تو وہ ابھی تک وہیں کی وہیں تھی، اس نے زیرو پاور کا بلب جلا کر بیڈ روم کی تمام لائٹس آف کر ڈالی تھیں اور شہر بانو کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس لے آیا تھا۔

’’ایم سوری شہر بانو میں اس طرح کچھ بھی نہیں کرنا چاہتاتھا، لیکن جس طرح ایک پرندے کو اپنے پاس رکھنے کے لےے اس کے پر کاٹنا ضروری ہوتا ہے اسی طرح تمہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لےے بھی یہ سب بہت ضروری ہے، میں تمہیں سرتاپا اپنی ذات، اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں،تاکہ تمہاری واپسی کے سارے راستے بند ہوجائیں۔‘‘ ہارون اس کی ساری جیولری اتار چکا تھا اور شہر بانو کے آنسو بے اختیار ہوگئے تھے، اس نے ہر ممکن طریقے سے ہارون کو باز رکھنے کی کوشش کی تھی کتنی بار ٹوٹے پھوٹے سے بے ربط الفاظ میں اسے روکنا چاہا تھا، مگر وہ جو ٹھان چکا تھا اس سے باز کیسے آجاتا؟ شہر بانو کی سسکیاں اس کے مضبوط کشادہ سینے میں دب کے رہ گئی تھیں اور وہ کچھ بھی نہ کر سکی تھی، اس کی مضبوط گرفت کے سامنے۔

ئ ئ ئ ئ ئ

وہ تو اپنی من مانی کر چکا تھا، لیکن صبح پوری حویلی میں جیسے صف ماتم بچھی ہوئی تھی، بڑی اماں کا بی پی ہائی ہوچکا تھا، زمان گردیزی غصے کی حالت میں تھے، جبکہ اماں سائیں، زینی آپا، رابعہ پھپھو اور تائی اماں چپ چپ اور خفا خفا سی دکھائی دے رہی تھیں۔

’’کیا آج ناشتا نہیں ملے گا؟‘‘ اس نے زینی آپا کو دیکھ کر کہا، شاید وہ ہارون سے کچھ کہتیں، لیکن ابا سائیں (رحمن گردیزی) کے اشارے پہ خاموشی سے ہارون کے لےے ناشتا لینے چلی گئیں۔

’’کیسی طبیعت ہے صاحبزادے؟‘‘ رحمن گردیزی نے اخبار پھیلاتے ہوئے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔

’’آپ کی دعائیں ہیں چچا سائیں!‘‘ وہ کرسی گھسیٹ کر ان کے مقابل بیٹھ گیا تھا۔

’’اور ہماری بہو کیسی ہے؟‘‘

’’بہت اچھی ہے!‘‘ اس نے شرارت بھرے انداز میں کہہ کر اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی، لیکن چچا سائیں اس کی یہ شرارت یہ سرشاری بھانپ چکے تھے۔

’’اب کیا ارادہ ہے؟‘‘

’’میں اسے زینی آپا اور تائی اماں کے ساتھ گائوں بھیج رہا ہوں۔‘‘ زینی آپا ناشتا رکھ کے گئیں تو اس نے اپنی بات شروع کی۔

’’اور تم خود؟ میں بعد میں چلا جائوں گا۔‘‘ وہ ناشتے کے دوران باتیں بھی کر رہے تھے۔

’’مرشد سائیں سے کیا کہو گے؟ تھوڑی دیر تک تو وہ لوگ شہر بانو کو لینے کے لےے آتے ہوں گے؟‘‘

’’بس آپ میرے حق میں دعا کریں، میں سب سنبھال لوں گا۔‘‘ دونوں چچا، بھتیجا ہی بہت ریلیکس تھے، جیسے انہیں کسی کی بھی پروا نہیں تھی۔

’’ٹھیک ہے، پھر تم ان لوگوں کو بھیجنے کی تیاری کرو، ہم تب تک اماں سائیں کی خیریت معلوم کرتے ہیں۔‘‘ وہ اخبار سمیٹ کراٹھ کھڑے ہوئے تھے اتنے میں ہارون بھی ناشتا کر چکا تھا۔

’’زینی آپا۔‘‘ اس نے ڈرائنگ روم کی سمت جاتی زینی آپا کو آواز دی جو عمر میں ہارون سے پورا ایک سال چھوٹی تھیں، لیکن ہارون اور باقی کزنز ان کے سگھڑاپے، بردباری اور مزاج کی وجہ سے انہیں زینی آپا کہتے تھے، ورنہ کزنز میں سب سے بڑا ہارون ہی تھا۔

’’جی فرمائےے؟‘‘ وہ خفگی کا اظہار کر رہی تھیں۔

’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو محترمہ شہربانو کو بھی ناشتا کر وادیجےے کیونکہ میرے خیال میں انہوں نے رات سے کچھ نہیں کھایا۔‘‘

وہ بڑے سکون سے کہتا نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر کھڑا ہوگیا تھا اور زینی آپا کو یک دم شہر بانو کا خیال آتے ہی اپنی کوتاہی کا دوبارہ سے احساس ہوا تھا، ایک غلطی انہوں نے رات کو کی تھی، اسے ہارون کے بیڈ روم میں چھوڑ کر اور ایک غلطی ابھی کی تھی کہ صبح سے اس کی کوئی خیر خبر ہی نہ لی تھی، ہارون سے خفگی کا اظہار کرتے کرتے وہ شہر بانو کو ہی بھول بیٹھی تھیں جو اس گھر میں بالکل انجان تھی، نا سمجھ اور اکیلی تھی۔

’’ہائے میں مرجاواں۔‘‘ وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتی فوراً سیڑھیوں کی سمت بھاگی تھیں اور ہارون ان کی یہ بوکھلاہٹ دیکھتا رہ گیا تھا۔ زینی آپا ادھ کھلے دروازے کو دھکیلتی ہوئیں عجلت میں اندر آئی تھیں۔

’’شہر بانو۔۔۔ شہر بانو تم ٹھیک تو ہو؟‘‘ انہوں نے شہر بانو کو کسی بت کی طرح بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے ہوئے دیکھا تو مزید گھبرا گئیں۔

’’شہر بانو بولو نا کیا بات ہے، طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ زینی آپا نے اس کے قریب بیٹھ کر اس کا چہرہ تھپکا تو اس کی سوچ کی محویت ٹوٹ گئی اور وہ اگلے ہی پل زینی آپا کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی تھی۔

’’شہر بانو اپنے آپ کو سنبھالو تمہاری قسمت میں ہارون کا ساتھ شاید اسی طرح لکھا تھا، ورنہ تمہاری شادی کہیں اور بھی تو ہوسکتی تھی۔‘‘ وہ شہر بانو کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگیں۔

’’ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے، فراڈ کیا ہے آپ کے گھر والوں نے اور آپ کے بھائی نے۔‘‘ وہ روتے روتے ان سے الگ ہوگئی تھی۔

’’تم شاید یقین نہیں کرو گی شہر بانو گھر والوں کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے، یہ فیصلہ سراسر ہارون کا اپنا فیصلہ تھا، بڑی اماں، چچا سائیں اور چچی اماں کو تو پتا بھی نہیں تھا وہ تو رات کو میں نے جا کر بتایا تھا کہ ہارون اپنا ارادہ، اپنی نیت بدل چکا ہے، ورنہ کل تک تو وہ بالکل نارمل تھا بڑی اماں کے فیصلے پہ راضی تھا اچانک پتا نہیں کیسے اور کیوں یہ سب سوچ لیا؟‘‘ زینی آپا نے سب کی طرف سے صفائی کی تھی۔

’’بہت برا ہوا ہے یہ سب، ابا سائیں اور چچا سائیں کبھی معاف نہیں کریں گے آپ لوگوں کو۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولی تھی، زینی آپا جزبز سی ہورہی تھیں کہ اس سے بھلا اور کیا کہیں۔

’’السلام علیکم۔‘‘ اچانک دروازے پہ دستک کے بعد جانی پہچانی سی آواز ابھری تھی۔

’’زہرا آپی!‘‘ شہر بانو بے تابی سے پکاری اور بیڈ سے اٹھ کر ان کے گلے لگ گئی، زہرا کے پیچھے چچی بیگم بھی تھیں۔ (زہرا کی والدہ سید سراج حسین کی بیوی)

’’آرام سے شہر بانو آرام سے، اس طرح پاگل کیوں ہورہی ہو ابھی رات کو ہی تو ملے تھے ہم۔‘‘ زہرا نے اسے مسکراکر اپنے سے الگ کیا تھا، لیکن اس کے کھلے سیاہ گھنے نم بال، دھلا دھلایا سا سراپا، سرخ روئی روئی سی آنکھیں اور اس کے جسم سے اٹھتی کسی اور جسم کی مہک نے چونکا کے رکھ دیا تھا، زینی آپا ان لوگوں سے کچھ بھی کہے بغیر باہر نکل گئی تھیں۔

’’شہر بانو یہ سب؟‘‘ زہرا کا اشارا اس کے سراپے، اس کی حالت کی طرف تھا۔

’’ہارون گردیزی نے دھوکا کیا ہے ہمارے ساتھ۔ آپی اس نے مجھے داغ دار کر ڈالا ہے۔‘‘ وہ بلک بلک کے روتی سب بتارہی تھی اور چچی بیگم دھک سے رہ گئیں، البتہ زہرا نے دل ہی دل میں ایک نعرہ لگایا تھا۔ ’’یاہو!‘‘ اس کا جی چاہا وہ ہارون گردیزی کا کندھا تھپک کر اسے اس کارنامے پہ شاباشی دے اور پھولوں کا ہار پہنائے جو رسم آج تک بے زبان جانور کی طرح ان کا ہر مرید نبھاتا آیا تھا وہ رسم ہارون گردیزی نے اپنی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک رات میں توڑ ڈالی تھی، زہرا بہت خوش ہوئی تھی، وہ اب بار بار شہر بانو کو شرارتی نظروں سے دیکھ کر پرکھ رہی تھی، چھیڑ رہی تھی، جبکہ چچی بیگم معاملے کی سنگینی کا سوچ کر ہی کانپ گئی تھیں۔ ان کے ساتھ شہر بانو کو لینے کے لےے سید سراج حسین آئے ہوئے تھے۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’یہ کیا بکواس ہے؟‘‘ وہ یک دم مشتعل ہو کر اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے۔

’’یہ بکواس نہیں میرا حق ہے مرشد سائیں! ہرمیاں، بیوی کو ایک ساتھ رہنے کا حق اللہ تعالیٰ نے خود دیا ہے۔ آپ بھلا کیسے روک سکتے ہیں؟ آپ بھی تو اپنی بیوی کے ساتھ رہتے ہیں، ہم نے اگر یہ بات کرلی تو کیا برا ہے؟ ہر مرد اپنی بیوی کو اپنی عزت کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے اور میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ میری بیوی میرے گھر میں میرے ساتھ رہے گی اور کہیں نہیں جائے گی۔‘‘ ہارون اپنے فیصلے پہ جم چکا تھا، سید سراج حسین کا غیض و غضب سے برا حال ہونے لگا۔

’’ہم نے یہ شادی صرف ایک رسم کے تحت کی تھی۔‘‘

’’لیکن میں نے یہ شادی عمر بھر کا ساتھ نبھانے کے لےے کی تھی، میں آپ کی صاحبزادی (بھتیجی) کو اپنی شرعی بیوی مان چکا ہوں۔‘‘ اس نے انہیں جیسے کچھ باورکروانا چاہا تھا۔

’’ہارون گردیزی تم نہیں جانتے کہ ہماری رسمیںہمارے لےے کیا ہیں؟‘‘ وہ دانت پیس کر بولے تھے۔

’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ آپ کی رسمیں آپ کے لےے کیا ہیں؟‘‘‘ جو صرف بیٹیوں سے شروع ہو کر بیٹیوں پہ ہی ختم ہوجاتی ہیں، کبھی ان کو کاری کر دیا جاتا ہے، کبھی قرآن سے نکاح کر کے کونے میں ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی نام نہاد صدقے کا ڈھونگ رچا کر جیتے جاگتے مار دیا جاتا ہے۔ مجھے صرف اتنا بتادیں مرشد سائیں کہ آپ کی نسل، ایک لڑی میں کبھی کسی بیٹے کو کاری کیا گیا ہے؟ کبھی کسی بیٹے کا صدقہ دیا گیا ہے اسی طرح؟ اونہہ یہ سب رسمیں آپ کی خود ساختہ رسمیں ہیں۔ صرف اور صرف دنیا کی نظر میں منفرد بننے کے لےے، اپنے مریدوں کو متاثر کرنے کے لےے، جبھی تو آپ جس بیٹی کو صدقہ کرنے کے لےے شادی کرتے ہیں اس کی شادی میں ہزاروں لوگوں کو انوائیٹ کرتے ہیں تاکہ لوگوںپہ آپ کی دھاک بیٹھ جائے کہ آپ اپنے اصولوں کی بہت پکے ہیں اور آپ کے اصولوں اور رسموں سے آپ پر بھلا کیا اثر پڑتا ہے؟ زندگی تو بیٹی کی تباہ ہوجاتی ہے نا؟ اور اس شخص کی ذہنی کیفیت کا اندازہ آپ کو بھلا کیسے ہوسکتا ہے جو آپ کی بیٹیوں سے شادی کر کے عمر بھر ان کا نام بھی نہیں لے سکتا، حالانکہ جتنا حق اسے ہوتا ہے اتنا تو آپ کا بھی نہیں ہوتا، بے شک وہ آپ کی بیٹی ہوتی ہے، اورہاں ایک بات اورکہنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ رسم یہ نکاح اپنے خاندان کے کسی مرد کے ساتھ کیوں نہیں کرتے؟ کیا اس میں اتنا حوصلہ نہیں ہوتا؟ یا پھر آپ کو اس پہ اعتماد نہیں ہوتا؟‘‘ ہارون بولنے پہ آیا تو سبھی دیکھتے رہ گئے تھے، زمان گردیزی کی بھی آنکھیں کھل گئی تھیں، اور سید سراج حسین کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا سے کیا کر ڈالیں۔

’’مرشد سائیں! پیر، فقیر بننا تو بہت آسان ہے مگر کسی کا مرشد بننا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اپنی خوشی اور اپنے غم کے لےے تو انسان کچھ بھی کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں ان کے غموں کو اپنا ہتھیار نہیں بنانا چاہےے۔ میری بڑی اماں آپ لوگوں کے پاس ایک آس ایک امید لے کر گئی تھیں کہ آپ ان کے لےے اللہ سے دعا کریں گے، آپ ان کی دعا کا وسیلہ بنیں گے، انہیں دعا دیں گے، مگر آپ لوگوں نے دعا کے بدلے پوری زندگی کی قیمت مانگ لی؟ آپ نے دعا کا سود اکیا۔ کیا کبھی دعا بھی بیچی جاتی ہے؟ انسان کا چڑھاوا، انسان کا صدقہ تو اللہ تعالیٰ نے بھی نہیں لیا، آپ کیسے لے سکتے ہیں؟

بے شک آپ سید زادے ہیں، میں آپ کا اور آپ کی آل اولاد کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں، مگر آپ کے اس ظلم میں کسی بھی مروت اور لحاظ سے کام نہیں لوں گا، لہٰذا آپ سمجھ جائیں کہ شہر بانو میری بیوی ہے اور آپ کے ساتھ نہیں جائے گی، یہ میرا فیصلہ ہے۔‘‘ وہ بات ختم کرتے ہوئے بولا تھا اور سید سراج حسین نہ جانے کیا سوچتے ہوئے اپنی بیوی اور بیٹی کو ساتھ لے کر واپس چلے گئے تھے، شہر بانو روتی بلکتی رہ گئی تھی، ہارون گردیزی نے اسے اس کے اپنوں سے جدا کر ڈالا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

اس نے شادی کے دوسرے روز ہی شہر بانو کو باقی سب کے ساتھ حویلی بھیج دیا تھا، البتہ خود وہ شہر ہی رک گیا تھا، اسے اپنا ایک بہت اہم کام نبٹانا تھا، حالانکہ رحمن گردیزی نے اسے بھی ساتھ چلنے کے لےے بہت اصرار کیا تھا، مگر وہ چاہتے ہوئے بھی گائوں نہیں جا سکا تھا، بڑی اماں ابھی بھی ہارون سے ناراض تھیں اور ان کی طبیعت بھی کچھ خراب تھی، لیکن شہر بانو کے ساتھ ان کا رویہ بہت اپنائیت بھرا تھا، بلکہ اندر سے وہ شہر بانو کے سامنے آکر اپنے آپ کو شرمندہ محسوس کرتی تھیں، وہ اپنے آپ کو مجرم گردانتی تھیں، مگر وہ یہ نہیں سوچتی تھیں کہ جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں، شاید یہ بھی اللہ کی طرف سے حکم ہی تھا کہ شہر بانو کی زندگی تباہ ہونے سے بچ گئی تھی۔ اور شہر بانو؟ اسے تو ایسی چپ لگی تھی کہ زہرا آپی اور چچی بیگم کے جانے کے بعد سے اب تک زبان سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا، وہ تو جیسے گم صم ہو کر رہ گئی تھی، زینی آپانے اسے چادر اوڑھائی اور ساری چیزیں سمیٹ کر اسے ساتھ چلنے کا کہا تھا۔ راستے کے دوران بھی زینی آپا نے اسے مخاطب کرنے کی کوشش کی، مگر اس نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا تھا۔

وہ لوگ حویلی پہنچے تو رحمن گردیزی کی چھوٹی بیٹی ثانیہ جو اپنے پیپر کی تیاری کی وجہ سے ان کے ساتھ شادی میں نہیں جا سکی تھی، تمام ملازموں اور گائوں کی چند عورتوں کے ہمراہ پھولوں سے بھری پلیٹ لےے اپنی نئی نویلی بھابھی کا استقبال کرنے کے لےے تیار کھڑی تھی۔

’’ہائے بھابھی کیسی ہیں آپ؟‘‘ شہر بانو گاڑی سے اتری تو سب نے پھولوں کی برسات کر ڈالی تھی، ثانیہ جلدی سے پھولوں کی پلیٹ زینی آپا کو تھما کر شہر بانو کے پاس آکر بہت خوشی سے چہکی تھی، جیسے برسوں سے جان پہچان ہو! اب بھابھی نے کچھ کہا ہے یا نہیں وہ کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر اس کے گلے لگ گئی تھی، اسے تو یہی دیکھ کر بے پناہ خوشی ہورہی تھی کہ اس کی بھابھی اتنی خوب صورت ہیں۔ ہارون بھائی کی جوڑی بہت سجے گی۔

’’ثانیہ اب بس کرو شہر بانو اتنا سفر کر کے آئی ہے،تھکی ہوئی ہے ، راستہ دو اسے۔‘‘ زینی آپا نے ثانیہ کو گھورا اور ایک ہاتھ سے اسے پیچھے ہٹایا تھا۔

’’آئیے بھابھی اندر آئےے۔‘‘ وہ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔ رحمن گردیزی اس کی عجلت اور خوشی پہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے تھے۔

’’چلو نا بیٹا رک کیوں گئی ہو؟‘‘ زمان گردیزی اور خدیجہ بیگم نے اسے آگے بڑھنے کا کہا، وہ خاموشی سے کسی سوچ میں ڈوبی افسردہ اندر آگئی تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’تم گائوں کب آرہے ہو؟‘‘ ایک ہفتہ ہوگیا تھا ان لوگوں کو حویلی آئے ہوئے، لیکن ہارون ایک بار بھی نہیں آیا تھا۔

’’بس کام ختم ہوتے ہی آجائوں گا، کیوں خیریت ہے نا؟‘‘ اس نے فکر مندی سے پوچھا، کیونکہ رحمن گردیزی کافی سختی سے پوچھ رہے تھے۔

’’کام ختم کرو اور جلدی آئو، بلکہ کل ہی آجائو، کام وام پھر کبھی ہوتے رہیں گے۔‘‘ وہ جھنجلا کر بولے تھے۔

’’لیکن چچا سائیں کچھ بتائیں تو سہی۔ ایسی کیا آفت آن پڑی ہے؟‘‘

’’صاحبزادے تمہیں پتا تو ہے بیویاں بھی کسی آفت سے کم نہیں ہوتیں۔‘‘

’’اوہ اچھا۔۔۔ اچھا کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ہماری آفت۔۔۔ سوری ’’بیوی‘‘ کو کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ کافی دلچسپی اور شرارت بھرے لہجے میں بولا تھا۔

’’بیٹا یہی تو مسئلہ ہے کہ اسے کچھ نہیں ہوتا، وہ ہر بات پہ چپ رہتی ہے، اس کا پورا دن خاموشی میں گزر جاتا ہے، کمرے میں کھانا کھاتی ہے، نماز پڑھتی ہے اور سوجاتی ہے، بس یہی اس کی زندگی ہے اور اماں سائیں اسے دیکھ دیکھ کر جلتی رہتی ہیں، ان کی طبیعت مسلسل خراب ہے۔‘‘ رحمن گردیزی اب کچھ متفکر سا بول رہے تھے۔

’’اوکے میں کوشش کرتا ہوں جلدی آنے کی۔ آپ پریشان نہ ہوں میں آکر سب ٹھیک کرلوں گا۔‘‘ وہ کہتے کہتے پھر شرارت سے کہہ گیا تھا۔

’’ہاں ہمیں بھی پتا ہے کہ تمہارے آنے سے سب ٹھیک ہوجائے گا، اسی لےے تو تمہیں آنے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘ وہ بھی ہنس دےے تھے۔

’’ان شائ اللہ۔ آرہا ہوں۔‘‘

’’اور سنائو مرشد سائیں کی طرف سے کوئی رسپانس ملا؟‘‘

’’نہیں۔ ان لوگوں نے تو دوبارہ کوئی رابطہ ہی نہیں کیا، اب پتا نہیں وہ میری بات سمجھ گئے ہیں یا پھر کوئی ری ایکشن سوچ رہے ہیں؟‘‘ ہارون نے لاپروائی سے کہا تھا۔

’’وہ سب تو ٹھیک ہے، لیکن تم پھر بھی اپنا خیال رکھا کرو، ایسے لوگ بدلہ لینا بھی نہیں بھولتے، کہیںکوئی نقصان نہ کردیں۔‘‘ رحمن گردیزی فکر مند ہونے لگے۔

’’ڈونٹ وری چچا سائیں اللہ سب بہتر کرے گا۔‘‘ اس نے انہیں تسلی دے کر فون بند کر دیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

ایک ہفتے کا کہتے کہتے اسے دو ہفتے لگ گئے تھے اور وہ شام ڈھلے اتنے طویل سفر کے بعد تھکا ہارا گھر آیا تو اتفاقاً پہلا سامنا شہر بانو سے ہی ہوا تھا، وہ حویلی کے لان کی سیڑھیوں پہ بیٹھی نہ جانے کیا سوچ رہی تھی، جب اتنی بڑی روش پہ پھیلی ہارون کی بلیک مرسیڈیز سیڑھیوں کے قریب ہی آرکی تھی، اس نے ہارن پہ ہاتھ رکھ کر شہر بانو کی ساری محویت توڑ ڈالی تھی، اس نے چونک کر چند قدم کے فاصلے پہ کھڑی گاڑی کو دیکھا، اتنے میں وہ خود بھی گاڑی سے اتر آیا تھا، گرے کلر کے سمپل سے شلوار سوٹ میں ملبوس وہ سچ مچ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا،لیکن شہر بانو کو سامنے دیکھ کر اس کی تھکن میں کافی حد تک کمی آئی تھی۔

’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ وہ قریب آکر کچھ بولا ہی تھا کہ شہر بانو یک دم اٹھ کر اندر بھاگ گئی تھی اور وہ دیکھتا رہ گیا،اسے اس استقبال کی امید تو بالکل نہیں تھی، لیکن خیر!

’’ہارون تم کب آئے؟ یہاں کیوں کھڑے ہو؟‘‘ تائی اماں نہ جانے کس کام سے باہر نکلی تھیں، ہارون کو دیکھ کر خوش ہوگئیں۔

’’ابھی آیا ہوں تائی اماں آپ سنائیں کیسی ہیں؟‘‘ وہ سر جھٹک کر ان کے ساتھ اندر آگیا۔

’’ہارون بھائی!‘‘ ثانیہ اسے دیکھ کر یک دم صوفے سے اتری تھی، اس کا لہجہ خوشی سے بھر گیا تھا۔

’’کیسی ہو چھوٹی؟ کیا کر رہی ہو آج کل؟‘‘ ہارون اسے بازو کے گھیرے میں لے کر صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔

’’سلام اماں سائیں۔‘‘ خدیجہ بیگم کو دیکھ کر اسے ایک بار پھر صوفے سے اٹھنا پڑا تھا۔

’’جیتے رہو، آباد رہو!‘‘ وہ دو ہفتے بعد بیٹے کی صورت دیکھ رہی تھیں، لہٰذا ساری خفگی بھلا کر اس کے ماتھے پہ پیار دےے بنا نہ رہ سکیں۔

’’بھائی اتنی دیر کیوں لگادی؟ بھابھی تو ہم سے بات بھی نہیں کرتیں، میں تو بلا بلا کر تھک جاتی ہوں، میں بہت مس کر رہی تھی آپ کو۔‘‘ ثانیہ نے اپنا قصہ شروع کر ڈالا اور وہ دلچسپی سے بیٹھ کر ہنستا رہا تھا۔

’’اگر تم میں ذرا سی بھی عقل ہے تو اپنے بھائی کو کمرے میں جانے دو۔ وہ تھکا ہوا آیا ہے اس نے ابھی کپڑے بھی تبدیل کرنے ہوں گے۔‘‘ تائی اماں دوبارہ ڈرائنگ روم میں آئیں تو بیٹی کی حماقت پہ اسے ڈانٹنے لگیں۔

’’اوہ سوری بھائی مجھے تو خیال ہی نہیں رہا کہ بھابھی آپ کا انتظار کر رہی ہوں گی۔‘‘ وہ شرمندہ ہونے لگی۔

’’ارے پاگل ایسی کوئی بات نہیں، بیٹھو تم۔‘‘

’’نہیں آپ پہلے کپڑے چینج کرلیں۔‘‘

’’اوکے سویٹ ہارٹ۔‘‘ وہ اس کا گال تھپک کر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا اور اپنے بیڈ روم میں آتے ہوئے اس کی چال کچھ اور ہوچکی تھی جیسے ہلکا سا خمار چھو کے گزر گیا ہو۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو کمرا خالی نظر آیا تھا۔ ایک پل کے لےے اسے تشویش سی ہوئی، لیکن اگلے ہی پل باتھ روم سے پانی گرنے کی آواز سن کر مطمئن ہوگیا تھا اور تھکے تھکے سے انداز میں بیڈ پہ ڈھیر ہوگیا، اسے اسی طرح چاروں شانے چت لیٹے نہ جانے کتنی دیر گزر گئی ، لیکن شہر بانو واش روم سے باہر نہیں آئی تھی، ابھی وہ اسے پکارنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ وہ خود ہی باہر آگئی تھی، اس کے ہاتھ پائوں اور چہرہ بھیگا ہوا تھا، یقینا وہ وضو کر کے آئی تھی۔

’’لگتا ہے مجھ سے ناراض ہیں آپ؟‘‘ وہ جائے نماز لے کر پلٹی ہی تھی کہ ہارون بیڈ سے اٹھ کر اس کے سامنے آگیا تھا۔

’’راستہ دیں مجھے۔‘‘

’’پہلے آپ میری بات کا جواب دیں۔‘‘

’’میں نماز پڑھنے جارہی ہوں پیچھے ہٹیں۔‘‘ شہر بانو خفگی سے بولی۔

’’نماز پڑھنے تو مجھے بھی جانا ہے ابھی مغرب کی اذان ہونے میں بھی دس منٹ باقی ہیں، زوجہ محترمہ آپ کو نماز کی اتنی جلدی کیوں ہورہی ہے؟‘‘ اس نے شہر بانو کے ہاتھ سے جائے نماز لے کر ٹیبل پہ رکھ دی اور اس کے دونوں ہاتھ تھام لےے تھے۔

’’اس لےے کہ میں آپ کو دیکھنا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ غصے سے کہتی اپنے ہاتھ چھڑا کر رخ موڑ گئی تھی، جبکہ ہارون کا فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا تھا۔ شاید زندگی میں پہلی بار وہ اس طرح بے ساختہ اور دل کھول کے ہنسا تھا۔

’’اوہ تو آپ مجھے چھوڑ کر نماز میں پناہ ڈھونڈ رہی ہیں؟ لیکن آپ کو ایک بات بتادوں کہ اگر آپ مجھے نہیں دیکھیں گی تو اللہ تعالیٰ آپ کو نہیں دیکھے گا۔ آپ ابھی میرے حقوق نہیں جانتی زوجہ محترمہ!‘‘ اس نے رخ موڑ کے کھڑی شہر بانو کو بہت نرمی اور استحقاق سے بانہوں میں بھر لیا تھا اور شہر بانو اس کی اس قدر بے باک حرکت پہ گھبرا گئی تھی، اس کے پہلے سے بھیگے ہاتھوں میں پسینہ اتر آیا تھا، یوں لگ رہا تھا شہر بانو کی جان ہارون کی بانہوں کے گھیرے میں بندھ گئی ہو، اس کا دل سینے پنجرے سے ٹکرا ٹکرا کر پاگل ہونے لگا تھا، شرم سے گال تپ اٹھے تھے۔

’’آپ کو کیسے بتائوں میری جان میں نے آپ کا کچھ سنوارا ہی ہے بگاڑا نہیں، پھر بھی آپ مجھ سے ہی خفا ہیں؟‘‘ اس نے عقب سے شہربانو کے کان میں کافی گمبھیر لہجے میں کہا تھا، جبکہ شہر بانو اس کے حصار میں جکڑی کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہی تھی۔

’’پلیز مجھے جانے دیں نماز کا وقت ہورہا ہے۔‘‘ وہ لرزتی ہوئی آواز میں بمشکل بولی تھی۔

نہ خدا ملا، نہ وصالِ صنم

نہ اِدھر کے رہے، نہ اَدھر کے رہے

وہ بہت ہی دلکش لہجے میں کہتا اپنے لفظوں، اپنی وجاہت اور مردانگی کا سحر اس کے چہار سو بکھرا رہا تھا، وہ ازل سے کمزور دل کی نرم کومل سی ڈھیلی ڈھالی لڑکی بے بسی سے اپنی دھڑکنیں سنبھالتی رہ گئی تھی۔

’’اللہ کو پالینے کی طلب میں، اس کے دےے ہوئے رشتوں سے منہ پھیرلینا بھی اللہ کو پسند نہیں شہر بانو۔۔‘‘ اس نے بانہوں کا حصار کھولتے ہوئے شہر بانو کا رخ اپنی سمت موڑ لیا تھا، وہ نظریں جھکائے ہوئے تھی۔

’’ہم لوگ صرف نماز ادا کر کے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارا رب ہم سے خوش ہوگیا ہے اور ہم نے جنت خرید لی ہے، لیکن ہم یہ سوچنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہمارے رب کی خوشی تو اور بھی بہت سے کاموں میں ہے، جیسے ایک میاں، بیوی کے خوش گوار تعلقات میں، جیسے گھر میں موجود بڑوں کا احترام کرنے میں، جیسے ہر کام کو رب کی رضا ماننے میں، جیسے ساس، سسر کو بھی اپنا ماں، باپ سمجھنے میں اور جیسے ایک اچھی بیوی بننے میں۔‘‘

اس نے بڑی خوش اسلوبی سے اپنے مطلب کی بات کہہ ڈالی تھی اور شہر بانو نے اگلے ہی پل چونک کر اسے دیکھا تھا۔ لیکن وہ گہری سانس خارج کرتا سامنے سے ہٹ گیا تھا۔

’’تم نماز پڑھو، تب تک میں بھی وضو کرلیتا ہوں۔‘‘ وہ آہستگی سے کہہ کر وارڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا۔ شہر بانو کھوئی کھوئی سی آگے بڑھ گئی، وہ کپڑے بدل کر وضو کر کے نکلا،تب جا کر اذان کی آواز سنائی دی تھی، وہ جو اتنی دیر سے نماز، نماز پکار رہی تھی، اب اذان ہوئی تو نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی تھی، البتہ وہ کچھ بھی جتائے بغیر اپنی جیب سے سفید ٹوپی نکالتا باہر نکل گیا تھا، اسے مغرب کی نماز پڑھنے کے لےے مسجد جانا تھا اور مسجد ان کی حویلی سے کافی زیادہ دور تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

شہر بانو نے ہارون کی اتنی گہری بات کا اثر بھی کافی گہرائی سے ہی لیا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ صبح ثانیہ کے بلانے پہ ناشتا کرنے چلی آئی، حالانکہ وہ اتنے دنوں سے اکیلی بیڈ روم میں ہی ناشتا اور کھانا وغیرہ لیتی تھی اور ثانیہ روزانہ اسے بلانے آتی اور نا امید لوٹ جاتی تھی۔ لیکن آج تو ثانیہ کے دل کی کلی بھی کھل اٹھی تھی۔

’’السلام علیکم۔‘‘ اس نے ٹیبل پہ موجود افراد کو سلام کیا تھا اور وہ سب آج پہلی بار اس کی آواز سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔

’’جیتی رہو بیٹا خوش رہو!‘‘ رحمن گردیزی نے باقاعدہ اٹھ کر اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔

’’السلام علیکم۔‘‘ زمان گردیزی ڈائننگ روم میں داخل ہوئے تو اس نے انہیں بھی سلام کیا تھا اور زمان گردیزی اسے سب کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوئے تھے۔

اور خوش تو بڑی اماں بھی بہت ہورہی تھیں وہ جو اتنے دنوں سے اپنے مرشد سائیں سے دھوکے کا روگ لےے بیٹھی تھیں، آج کچھ دیر کے اس روگ کو بھی بھول گئی تھیں۔

’’السلام علیکم کیا ہورہا ہے؟‘‘ ہارون وائٹ کھدر کے شلوار کرتا میں ملبوس بہت ہی فریش موڈ کے ساتھ اپنے کف لنکس بند کرتا اندر داخل ہوا تھا۔

’’وعلیکم السلام بیٹا، جیتے رہو۔‘‘ رحمن گردیزی مسکرا کر بولے تھے۔ لیکن بڑی اماں کا موڈ پھر سے خفا خفاسا ہوگیا تھا، ہارون کو سامنے دیکھ کر۔

’’سلام عرض کرتا ہوں بڑی اماں!‘‘ اس نے ان کی سمت جھکتے ہوئے کہا۔

’’ہاں ہاں تیرے سلام پہنچے ہوئے ہیں مجھے۔‘‘ وہ رخ موڑ گئیں۔

’’جو بھی دیکھو مجھ سے ہی خفا ہے، اب آپ تو مجھ سے ناراض نہ ہوں بڑی اماں۔ میں نے کوئی برا کام نہیں کیا،آپ کو ایک عدد بہو ہی لا کر دی ہے، وہ بھی آپ کی اپنی پسند کردہ۔‘‘ اس نے بڑی اماں کے گھٹنے تھام لےے تھے اور وہ جو اس پوتے کے لےے پتا نہیں کہاں کہاں دھکے کھا چکی تھیں، اب اس کے اس طرح گھٹنے پکڑ لینے پہ اسے دھکا کیسے دے سکتی تھیں؟ ذرا سے منانے پہ ہی مان گئی تھیں اور اس کی پیشانی چوم کر کندھا تھپکنے لگیں، پھر انہوں نے شہر بانو کو بھی اسی طرح پیار اور شفقت سے نوازا تھا۔

’’آج کی صبح تو بہت ہی سہانی لگ رہی ہے ہمیں۔‘‘ ثانیہ نے آتے ہی چھیڑا تھا سب کو۔

’’اللہ نظر بد سے بچائے۔‘‘ چچی بیگم نے فوراً کہا تھا۔

لیکن نظر جب لگتی ہے تو چاہے کچھ بھی کر لو بس لگ جاتی ہے۔ اور ان لوگوں کو بھی لگ گئی تھی یوں اکٹھے بیٹھے ہوئے۔ وہ سبھی ناشتا کر رہے تھے، جب ان کی ملازمہ اندر داخل ہوئی۔

’’سائیں آپ سے ملنے کے لےے کچھ لوگ آئے ہیں۔‘‘ اس نے پیغام دیا۔

’’کون لوگ؟‘‘ ہارون نے نیپکن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے پوچھا، لہجہ کافی سرسری سا تھا۔

’’سید سراج حسین اور سید قاسم حسین ہیں۔‘‘

’’کیا؟‘‘ ملازمہ کے بتانے پہ شہر بانو کے ہاتھ میں چائے کا کپ لرز گیا اور چائے ٹیبل پہ چھلک گئی تھی۔ ہارون کے ساتھ ساتھ رحمن گردیزی اور زمان گردیزی بھی یک دم چونک گئے تھے۔ کیونکہ اتنے دنوں سے ان لوگوں نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور آج اچانک ان کے گائوں چلے آئے تھے، یقینا وہ کوئی خاص مقصد کے لےے ہی آئے ہوں گے۔ ہارون گہری سانس کھینچتے ہوئے کرسی دھکیل کر کھڑا ہوگیا تھا، لیکن شہر بانو ہارون سے بھی زیادہ تیزی سے اٹھ کر باہر کو لپکی تھی، مگر اس سے پہلے کہ ڈائننگ روم کی حد پار کر تی ہارون نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑلی تھی۔

’’کہاں جارہی ہیں آپ؟‘‘ ہارون کا لہجہ بے لچک ہوچکا تھا۔

’’وہ میرے چچا سائیں اور لالہ جی آئے ہیں میں ان سے ملنے۔۔۔‘‘

’’ابھی نہیں۔ ابھی ہم لوگ ملنے جارہے ہیں، انہوں نے اگر آپ سے ملنا ہوا تو تھوڑی دیر بعد مل لیں گے، آپ فی الحال کمرے میں جائیں۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے سختی سے بولا تھا۔

’’لیکن وہ۔۔۔!‘‘

’’میں کہہ رہا ہوں آپ کمرے میں جائیں۔‘‘ اب کی بار اس کی آواز قدرے بلند تھی اور شہر بانو وہاں موجود تمام افراد پہ نگاہ ڈالتی، آنکھوں میں آنسو لےے ہوئے چلی گئی تھی اور ہارون ابا سائیں اور چچا سائیں کے ساتھ حویلی کے مردان خانے میں آگیا تھا، جہاں سید سراج حسین اور سید قاسم حسین ان کے منتظر بیٹھے تھے۔

’’السلام علیکم مرشد سائیں۔‘‘ ہارون نے سلام میں پہل کی تھی۔ سید سراج حسین سے تو وہ لوگ واقف تھے، البتہ سید قاسم حسین سے پہلی مرتبہ ملاقات ہورہی تھی، کیونکہ وہ تقریباً چھ، سات روز قبل ہی انگلینڈ سے واپس آئے تھے اور یہاں ہونے والے کارنامے کا انہیں ابھی پتا چلا تھا، وہ شہر بانو کے سب سے بڑے بھائی تھے، جنہیں وہ لالہ جی کہتی تھی۔

’’کیسے ہیں مرشد سائیں؟ آج ہمیں کیسے یاد کر لیا؟‘‘ ہارون نے بہت اچھے طریقے سے ماحول میں رچی سنگین خاموشی کو توڑا تھا اور بات کا آغاز کیا۔

’’تم اپنی سنائو برخوردار تم کس حال میں ہو؟ اور ہم تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں تم نے ہمارے ساتھ کیا ہی کچھ ایسا ہے کہ بھولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘‘ وہ لب بھینچتے ہوئے بولے تھے۔

’’میں نے آپ کے ساتھ کچھ نہیں کیا، بس آپ کی رسم کے خلاف قدم اٹھایا ہے، مرشد سائیں میں نے ایک لڑکی کی زندگی برباد ہونے سے بچائی ہے، کوئی گناہ نہیں کیا میں نے۔‘‘ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنے موقف پہ ڈٹا ہوا تھا۔

’’تم نے ہماری لڑی میں صدیوں سے چلی آنے والی رسم کو توڑا ہے، ہمارے بڑے بزرگوں کے رواج اور روایات کو داغ لگایا ہے، تم نے اچھا نہیں کیا۔ خیر چھوڑو اس بات کو شہر بانو کہاں ہے بلائو اس کو۔‘‘ وہ بہت ہی بے نیازی سے بولے تھے۔

’’وجہ پوچھ سکتا ہوںاس سے ملنے کی؟‘‘ اس نے استفسار کیا تھا۔

’’وہ ہماری بیٹی ہے، کیا یہ وجہ کافی نہیںہے؟‘‘ وہ بہت ضبط کرتے ہوئے بولے۔

’’آپ کی بیٹی اب میری بیوی ہے، اس لےے میرا حق ہے کہ میں اس سے ملنے والے ہر بندے سے وجہ پوچھ سکوں۔‘‘ وہ بھی بحث کرنے پہ آتا تو پھر کچھ بھی نہیں دیکھتا تھا۔

’’ہارون بیٹا! چھوڑو ان سب باتوں کو جائو شہر بانو کو لے کر آئو۔‘‘ رحمن گردیزی نے درمیان میں بول کر ہارون کے کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی تھی، مجبوراً وہ اٹھ کر اپنے بیڈ روم میں آگیا جہاں وہ اکیلی بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔

’’چلےے زوجہ محترمہ آپ کی ملاقات آئی ہے۔‘‘ وہ اسے آنسو بہاتے دیکھ کر نہ جانے کیوں طنز کرنے سے باز نہیں آیا تھا۔

’’کون آیا ہے؟‘‘ وہ بے تابی سے استفسار کر رہی تھی۔

’’چل کر خود دیکھ لیجےے۔‘‘ وہ دروازے کا ہینڈل پکڑے کھڑا تھا، شہر بانو جلدی سے چادر اوڑھ کر باہر نکل آئی تھی۔ رحمن گردیزی اور زمان گردیزی ان کو تنہائی فراہم کرتے تھوڑی دیر کے لےے باہر نکل گئے تھے، البتہ ہارون اندر ہی صوفے پہ براجمان تھا، شہر بانو اپنے لالہ جی اور چچا سائیں سے گلے مل کر خوب روئی تھی، یہاں تک کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

’’صبر سے کام لو بیٹا صبر سے، ہم تمہیںلینے کے لےے ہی آئے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے تسلی دی تھی، جبکہ ہارون نے بری طرح چونک کر ان کو دیکھا تھا، وہ جیسے کچھ سوچ کر آئے تھے وہاں۔ اتنے میں ہارون کا سیل فون بج اٹھا تھا، کال یقینا خاصی اہم تھی، تبھی وہ اٹھ کر راہ داری کی سمت چلا آیا تھا، اب سید سراج حسین، سید قاسم حسین اور شہربانو کے علاوہ وہاں اور کوئی نہیں تھا۔ تقریباً پانچ منٹ کال سننے اور پانچ منٹ اپنا کوئی کام نبٹانے کے بعد دوبارہ اندر داخل ہوا تو وہ لوگ جانے کے لےے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

’’شہر بانو ہمارے ساتھ جارہی ہے۔‘‘

’’کس سے پوچھ کر؟‘‘ اس کا انداز سرد تھا۔ اس کے اس انداز پہ شہر بانو اور سید قاسم نے ٹھٹک کر دیکھا تھا۔

’’ایک بیٹی کے باپ کی طبیعت خراب ہو اور وہ اسپتال میں پڑا ہوتو ہمارا خیال ہے کوئی بھی روکنے کا حق نہیں رکھے گا۔‘‘

’’بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، آپ اسے روکنے کا کوئی بھی حق نہیں رکھتا، سوائے اس کے شوہر کے۔‘‘ وہ کافی سخت لہجے میں بول رہا تھا۔

’’برخوردار تم جان بوجھ کر۔۔۔‘‘

’’دیکھےے مرشد سائیں! آپ چاہے جو بھی جتن کرلیں، میں اپنی بیوی کو آپ کے ساتھ نہیں بھیج سکتا، چاہے اس کے والد محترم بیمار پڑجائیں، چاہے پورا خاندان۔‘‘ وہ ان کی بات کاٹ کر بولا تھا۔

’’لیکن ہم اسے لے کر جارہے ہیں۔‘‘

’’اوکے۔ اگر آپ میری اجازت کے بغیر اسے یہاں سے لے کر جا سکتے ہیں تو ٹھیک ہے جائےے۔‘‘ وہ ذرا سا پیچھے ہٹ گیا تھا، لیکن اس کے خاص ملازم کافی بھاری بھرکم اسلحہ لےے تیار کھڑے تھے، وہ لوگ اس وقت نشانے کی زد میں تھے۔ شہر بانو کا رنگ فق ہوگیا تھا۔

’’اللہ کے لےے ہارون آپ کچھ خیال کریں۔‘‘ شہر بانو پہلی بار اس طرح مخاطب ہوئی تھی، وہ کسی اور موڈ میں ہوتا تو ضرور انجوائے کرتا، مگر اس وقت سرد مہری کے سوا کچھ نہیں تھا اس کے پاس۔

’’ابھی تک خیال کر کے چپ کھڑا ہوں، ورنہ کب سے۔۔۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی۔

’’پلیز ہارون! میرے بابا سائیں کی طبیعت خراب ہے، مجھے جانے دیں پلیز۔‘‘ وہ کوئی بدمزگی نہیں کروانا چاہتی تھی، جب ہی لجاجت سے کام لیا تھا۔

’’آپ آج کی گئی کبھی واپس نہیں آئیں گی شہر بانو! لہٰذا بہتر یہی ہے کہ آپ کہیں نہ جائیں۔‘‘ وہ کسی طور ماننے والا نہیں تھا، یہاں تک کہ شہر بانو نے ہاتھ بھی جوڑ دےے تھے۔

’’ٹھیک ہے ہارون گردیزی آپ نے جو چاہا وہ کیا۔ اب جو ہم چاہیں گے وہ ہوگا، چلےے چچا سائیں چلتے ہیں اب۔‘‘ سید قاسم حسین پہلی بار بولے تھے اور فیصلہ کن بولے تھے۔ شہر بانو کا ہاتھ چھوڑ کر انہیں چلنے کا کہا تھا اور وہ بھی خاموشی سے لب بھینچ کر وہاں سے چل پڑے تھے۔

’’چچا سائیں۔۔۔ لالہ جی۔۔۔‘‘ وہ پیچھے سے پکاری تھی، لیکن سید قاسم حسین نے اسے روک دیا تھا، خود تیزی سے باہر نکل گئے تھے، ہارون نے اپنے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا اور اس کی سمت پلٹا، مگر وہ لہرا کر فرش پہ آرہی تھی، اسے ان کے چلے جانے کا اتنا گہرا صدمہ ہوا تھا کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی تھی اور ہارون کچھ گھبرا سا گیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

کمرے میں نائٹ بلب کی مدھم روشنی گنگنا رہی تھی اور گہرا سناٹا دم سادھے کھڑا تھا۔جب بمشکل اس کی آنکھ کھلی تھی۔ اس نے کچھ یاد آنے پہ چونک کے گردن موڑی۔ ہارون چند انچ کے فاصلے پہ لیٹا سو رہا تھا۔ لیکن اس کا ہاتھ شہر بانو کے اوپر پورے استحقاق سے رکھا تھا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کے لمس، اس کی اتنی قربت سے یک دم تڑپ کے اٹھ جاتی۔۔ لیکن آج کچھ ایسا تھا کہ وہ اس کے لمس کی وجہ سے نہیں اپنے اندر امڈنے والی نفرت کی وجہ سے اٹھ بیٹھی تھی اور اس کے اس طرح یک دم جھٹکے سے اٹھ جانے کی وجہ سے ہارون کی نیند بھی ٹوٹ گئی تھی۔ صبح وہ گہرے صدمے کی وجہ سے بلڈ پریشر لو ہوجانے کی بنا پر بے ہوش ہوگئی تھی اور ڈاکٹرنے اس کے لےے ڈرپ تجویز کی تھی، اس لےے دوائی کے زیر اثر وہ رات گئے تک غنودگی میں رہی تھی۔

’’آپ ٹھیک تو ہیں نا؟‘‘ ہارون نے کہنی کے بل اٹھتے ہوئے اس کی کلائی چھو کر دیکھی۔

’’پلیز مجھے ہاتھ مت لگائیں۔‘‘ وہ ناگوار لہجے میں بولی تھی۔

’’کیوں ہاتھ نہ لگائوں؟ یہی تو وقت ہوتا ہے آپ کو ہاتھ لگانے کا۔‘‘ اس نے معنی خیزی سے کہتے ہوئے شہر بانو کو بازو سے پکڑ کر اپنی سمت جھکا لیا تھا، کمرے میں نیم تاریکی کی وجہ سے وہ ابھی تک اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھ پایا تھا۔

’’مگر مجھے آپ کا لمس اذیت دیتا ہے، برا لگتا ہے، نفرت ہوتی ہے مجھے آپ سے۔۔۔ آپ انسان نہیں بہت بے رحم اور بے حس جانور۔۔۔‘‘

’’شہر بانو۔۔۔‘‘ یک دم ہارون کا ہاتھ اٹھا اور شہر بانو کے چہرے پہ نشان چھوڑ گیا تھا۔

’’کبھی کسی اور کی وجہ سے مجھ سے اونچی آواز میں بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ ہاں اگر تمہارے ساتھ کچھ نا انصافی یا کچھ برا کروں تو پھر چاہے کچھ بھی کرلینا، کچھ بھی۔‘‘ وہ لفظ چبا چبا کر کہتا بستر سے اٹھ گیا تھا۔ شہر بانو روتی ہوئی دوبارہ تکےے پہ گر گئی تھی، جبکہ ہارون دروازہ کھول کر ٹیرس پہ چلا گیا تھا اور اس نے ساری رات ٹھنڈک میں ٹیرس پہ کھڑے کھڑے گزار دی تھی، فجر کی اذان ہوئی تو وہ نماز پڑھنے کے لےے مسجد چلا گیا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

وہ دوبارہ اس سے کوئی بھی بات کےے بنا شہر واپس چلا گیا تھا، اتنی جاگیر، اتنی جائیداد ہونے کے باوجود وہ اپنا بزنس کرتا تھا، اسے باپ، دادا کی کمائی پہ عمر بھر عیش کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، حالانکہ رحمن گردیزی اور زمان گردیزی اسے منع کرتے تھے کہ اور کاموں میں پڑنے کی بجائے وہ اپنی جاگیر سنبھالے تو انہیں خوشی ہوگی، لیکن اسے ابھی سے جاگیرداری کی جھنجٹ میں پڑنا پسند نہیں تھا۔ اگر چہ وہ لوگ اصرار بھی کرتے رہتے تھے۔ وہ چاہتے تھے ان کا اکلوتا لاڈلا سپوت ہر وقت حویلی میں نظر آتا رہے، مگر وہ۔۔۔ جو پہلے ایک، دو ہفتے بعد آجاتا تھا، اب دو ماہ گزرجانے کے بعد بھی حویلی آنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

شہر بانو مسلسل دو ماہ سے اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی، اس نے سب سے ترک تعلق کر رکھا تھا، یہاں تک کہ ثانیہ اور زینی آپا سے بھی بات نہیں کرتی تھی، حالانکہ زینی آپا دو بار اپنے سسرال سے بطور خاص اس سے ملنے کے لےے آئی تھیں، لیکن وہ تو جیسے گونگے کا گڑ کھا بیٹھی تھی۔

’’شہر بانو تم بتاتی کیوں نہیں ہو کیا ہوا ہے؟ کوئی ناراضی ہوئی ہے تم دونوںمیں؟ اس نے تم سے کچھ کہا ہے؟ اللہ کے لےے کچھ تو بتائو، ہم سے بات تو کرو۔‘‘ زینی آپا نے بالآخر اسے جھنجھوڑ ڈالا تھا۔

’’کیوں کروں آپ سے بات؟ کیا رشتہ ہے میر ااور آپ کا؟ کس حیثیت سے مجھ سے بات کرنا چاہتی ہیں؟ اونہہ جس حوالے سے آپ مجھے دیکھ رہی ہیں اس حوالے کو دو ماہ سے میں نے تسلیم کرنا چھوڑ دیا ہے، آپ سب لوگ دھوکے باز، دوغلے اور انتہائی بے رحم لوگ ہیں، انسانیت ختم ہوچکی ہے آپ لوگوں سے۔ میں آپ سب کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی، چلی جائیں یہاں سے، آپ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے اور بات کرنے سے بہتر ہے میں اکیلی خاموش کمرے میں بیٹھی رہوں۔‘‘ وہ یک دم پھٹ پڑی تھی اور ا س کے اندر ابلنے والا زہر پوری شدت سے باہر آیا تھا، زینی آپا کتنے ہی لمحے ششدر سی بیٹھی رہ گئی تھیں، اس کے الفاظ، اس کا لہجہ سن کر وہ بے یقین سی ہورہی تھیں کہ کیا یہ سب کچھ شہر بانو نے ہی کہا ہے وہ شہر بانو جو ذرا سا اونچا بولتے ہوئے بھی سو بار سوچتی تھی، جس کا لہجہ ہی اتنا ملائم ہوتا تھا کہ ہر بات میٹھی لگتی تھی۔

’’لیکن شہر بانو اس کی کوئی وجہ بھی تو ہوگی نا؟ آخر ہوا کیا ہے؟‘‘ زینی آپا نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے دوبارہ سے سلسلہ کلام جوڑا تھا۔

’’جب آپ کا بھائی میرے گھر والوں کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے،میرے بابا کی طبیعت خراب کا سن کر بھی اس پہ کوئی اثر نہیں ہوسکتا، میرے رشتوں کی عزت نہیں کر سکتا، میرے بڑے بزرگوں کی رسم و روایات توڑ سکتا ہے تو میں بھی ایسا کر سکتی ہوں، میں بھی اس کے رشتے ناتے نبھانے کی پابند نہیں ہوں۔‘‘ وہ چٹخ گئی تھی اور زینی آپا کو سارا معاملہ سمجھ آگیا تھا کہ وہ کس وجہ سے ایسی ہورہی ہے۔

’’شہر بانو وہ بھی تو تمہارا بھلا ہی چاہتا ہے۔ تمہاری زندگی کو بے رنگ ہونے سے بچا رہا ہے، بلکہ تمہیں ہی نہیں تمہاری آئندہ نسل میں پیدا ہونے والی بیٹیوں کو بھی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ آج اگر تم اس رسم کی بھینٹ چڑھ جاتیں تو کل تمہارے بڑے بھائی کی بیٹی کو بھی اس رسم کے نام پہ قربان کیا جاسکتا تھا، کیا تم چاہو گی کہ تمہاری بھتیجی کے ساتھ ایسا کچھ ہو؟‘‘ زینی آپا نے اسے آئندہ کا منظر دکھانے کی کوشش کی تھی۔ وہ اپنی بھتیجی کا سن کر چونک گئی تھی۔

’’تم اپنے بارے میں نہ سوچو، مگر ایک بار آنے والی نسل کی بیٹیوں کو سوچو، ان کا کیا حال ہوگا؟ اور پھر یہ بھی سوچنا کہ ہارون کس حد تک غلط ہے؟‘‘ وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر چلی گئیں اور شہر بانو حقیقتاً ٹھٹک کر رہ گئی تھی۔ اپنے سے آگے تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کی بھتیجی بھی۔۔۔؟

چند دنوں سے اس کی طبیعت کچھ بوجھل بوجھل سی ہورہی تھی، لیکن نہ تو وہ کمرے سے باہر نکلی تھی اور نہ ہی کسی کو طبیعت کی خرابی کا بتایا تھا، اسی لےے دن گزرتے رہے اور اس کی صحت گرتی رہی، اسے اپنی کمزوری اور نقاہت کا احساس تو تھا،مگر اپنا خیال رکھنے کا احساس نہیں تھا، اسے بس اپنوں سے جدائی اور رسم اور روایات کے ٹوٹنے کا غم کھائے جارہا تھا، وہ دن بھر بس یہی سوچتی رہتی تھی، اب تو دماغ بھی چکرانے لگا تھا۔ پہلے اس کی یہ حالت گھر والوں نے نوٹ کی تھی اور آج۔۔۔ آج تو ہارون بھی اسے دیکھ کر ٹھٹک گیا تھا۔

ظہر کا وقت تھا جب وہ شہر سے گائوں آیا تھا، پہلی ملاقات چچا سائیں اور ابا سائیں سے ہوئی تھی، وہ لوگ کسی پنچایت سے واپس آئے تھے، ان سے مل کر بڑی اماں کو سلام کرتا وہ اپنے کمرے میں آگیا تھا، شہر بانو بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی کسی غیر مرئی نقطے کو گھورتی ہوئی گہری سوچ میں گم تھی، دروازہ کھلنے کی آہٹ پہ بھی اس کی سوچ کا تسلسل نہیں ٹوٹا تھا۔ ہارون اسے اس حال میں دیکھ کر چونک ہی گیا تھا، کیونکہ وہ اسے اچھے بھلے حال میں چھوڑ کر گیا تھا، اس کی صحت بھی ٹھیک ٹھاک تھی، لیکن اب تو وہ کافی بیمار نظر آرہی تھی۔

’’السلام علیکم۔‘‘ اس نے اپنے اور شہر بانو کے درمیان موجود خفگی اور غصے کی دیوار کے باوجود سلام کرتے ہوئے اسے مخاطب کیا تھا، شہر بانو نے یک دم چونکتے ہوئے سر اٹھا کر اس کی سمت دیکھا تھا

’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ اس کی طر ف سے سلام کا جواب نہ پا کر اس نے دوسرا سوال کر ڈالا، مگر یہاں تو دوسرے سوال کا جواب بھی ندارد۔۔۔ ہارون بیڈ کی پائنتی والی سائیڈ سے گھوم کر اس کی سائیڈ میں آیا اور اس کے قریب ہی بیٹھ گیا تھا۔

’’لگتا ہے آپ کی طبیعت خراب رہی ہے؟ آپ کی صحت بہت ڈائون لگ رہی ہے۔‘‘ اس نے بہت ہی نارمل سے انداز میں فوراً ہی اپنی تشویش کا اظہار کر دیا تھا۔

’’میری صحت ڈائون ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ زندہ تو ہوں۔‘‘ وہ تلخی سے کہتی بیڈ سے اٹھنے لگی تھی کہ ہارون نے اس کاہاتھ سختی سے تھام لیا تھا۔

’’شہر بانو آپ کی اس بدگمانی اور خفگی کی وجہ سے میں اتنے دن حویلی نہیں آیا، مجھے پتا ہے کہ آپ کو مجھ سے چڑ ہوگی، مجھ پہ بار بار غصہ آئے گا، جس کی وجہ سے میرا موڈ بھی آف ہوگا۔ تو اس سے بہتر تھا کہ ہم لوگوں کا سامنا ہی نہ ہوتا، لیکن ایک انسان اپنے گھر سے کتنی دیر دور رہ سکتا ہے۔ میں بھی آج چلا آیا، آپ کی خفگی اور بدگمانی مٹانے کے ارادے سے۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ نرمی سے دبا رہا تھا۔

’’اونہہ بدگمانی مٹانے کے ارادے سے جس طرح آپ اپنے گھر سے دور نہیں رہ سکتے، اسی طرح میں بھی نہیں رہ سکتی، میرا بھی دل چاہتا ہے اپنوں سے ملنے کو، اپنے گھر جانے کو، سب کو دیکھنے کے لےے میں بھی تڑپتی ہوں۔‘‘ وہ دبے لہجے میں چیخ کر کہتی اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔

’’میں آپ کو اپنوں سے ملنے سے کبھی نہ روکتا، اگر ان کے عزائم اچھے ہوتے، اگر وہ آپ کو دوبارہ میرے پاس آنے دیتے، میں آپ کا جانا تھوڑی دیر کے لےے تو افورڈ کر سکتا ہوں، مگر ہمیشہ کے لےے۔‘‘ اس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا تھا۔

’’میں آپ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘

’’مگر میں آپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ کو نرمی سے قریب کرتے ہوئے ہاتھ کی پشت پہ بوسہ دے چکا تھا،شہر بانو گنگ سی ہوگئی تھی، اس کے ہونٹوں کا لمس سارے جسم میں سنسنی سی بھر گیا تھا، اس کے سارے احتجاج اور بدگمانیاں جیسے ٹھٹھر کر رہ گئی تھیں کہ یہ کیا ہوا ہے۔

’’پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔‘‘ وہ مرے مرے لہجے میں بمشکل بولی تھی۔

’’اتنے دنوں بعد آیا ہوں، ملیں گی نہیں مجھ سے؟‘‘ اس کے کہنے کا انداز ہی کچھ ایسا تھا کہ شہر بانو چہرہ جھکانے پہ مجبور ہوگئی تھی اور ہارون نے اتنے نازک فسوں خیز لمحوں کو رفتہ رفتہ اپنی دسترس میں لینا شروع کر دیا تھا۔ مسلسل اتنے دنوں سے ذہنی جنگ لڑ لڑ کر دونوں ہی تھک چکے تھے، اک دوسرے کے قرب کا سہارا ملا تو انکار نہیں ہوسکا تھا۔ شہر بانو تو تھی ہی نرم مزاج، وہ سختی کا خول چڑھا ہی نہیں سکتی تھی، بس باپ کی بیماری کا سن کر اتنی تلخ ہوگئی تھی اور یہ تو اس کا حق بنتا تھا کہ وہ اس طرح غصہ کرے کیونکہ ایسے حالات میں تو بندہ نہ جانے کیا کیا کر ڈالتا ہے، اس نے تو پھر صرف غصہ ہی کیا تھا، اور ہارون کو بھی اس کے غصہ ختم ہونے کا انتظار تھا، تاکہ وہ آرام سے اسے دوبارہ سمجھا سکے، لیکن پہلے اس نے پیار بھرے انداز میں سمجھانا شروع کیا تھا۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’بیٹا تم اور کچھ نہ کرو بس شہر بانو کو ڈاکٹر کے پاس لے جائو، اس کا چیک اپ کروائو، کیا مسئلہ ہے اسے، وہ اتنی کمزور اور زرد کیوں ہورہی ہے؟‘‘ اماں سائیں نے ناشتے کی میز پہ پہلا ذکر یہی کیا تھا کہ شہر بانو بیمار لگتی ہے، جواباً سبھی نے ہاں میں ہاں ملائی تھی۔

’’ٹھیک ہے اس بار شہر جاتے ہوئے اسے بھی ساتھ لے جائوں گا، آپ بھی ساتھ چلےے گا، پھر آپ لوگوں کو واپس بھیج دوں گا اور خود وہیں رک جائوں گا۔‘‘ اس نے پروگرام ترتیب دیا۔

’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ وہ سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اس کے لےے چائے بنانے لگیں۔ مگر یہ لوگ ابھی پروگرام ہی بنا رہے تھے کہ شہر بانو کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی، آج صبح سے اسے بار بار ابکائی آرہی تھی، جس کی وجہ سے وہ مزید نقاہت کا شکار ہوئی تھی اور بلڈ پریشر بھی لو ہوگیا تھا، ملازمہ معمول کے مطابق اس کا ناشتا دینے کمرے میں گئی تو اس کو نیم بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر الٹے پیر بھاگی تھی۔

’’صاحب جی! وہ بی بی جی بہت بیمار ہیں بے ہوش پڑی ہیں۔‘‘ رضیہ ہانپ رہی تھی، ہارون پریشان ہوتا فوراً اپنی جگہ سے کھڑاہوگیا تھا، اماں سائیں، چچی اماں اور ثانیہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی تھیں، ہارون صبح سویرے ہی بیڈ روم سے نکل آتا تھا۔ کبھی زمینوں کی طرف نکل جاتا تھا اور کبھی حویلی کے لان میں ہی گھاس اور شبنم کو روندتے ہوئے باتوں میں وقت گزار دیتا تھا، آج بھی وہ زمینوں کی طرف گیا تھا اور واپسی پہ ان کے ساتھ ہی ناشتا کرنے بیٹھ گیا تھا اور اب اس کی طبیعت کی خرابی کا پتا چلا تو اپنی کوتاہی کا احساس ہوا تھا، کیونکہ شہر بانو کی طبیعت فجر سے ہی خراب لگ رہی تھی، وہ دو بار اٹھ کر باتھ روم گئی تھی اور وہ اسے میڈیسن لینے کا مشورہ دے کر باہر چلا آیا تھا۔

’’کیا ہوا ہے شہر بانو؟ بیٹا آنکھیں کھولو۔‘‘ ہارون نے اسے بیڈ پہ ڈالا تو اماں سائیں نے فکر مندی سے اس کا ہاتھ تھام کے سہلایا تھا، اس کا گال تھپکا۔

’’رضیہ ادھر آئو۔‘‘ چچی اماں نے شہر بانو کو اک نظر دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا۔

’’جائو وہ جو لیڈی ڈاکٹر ہمارے گائوںمیں رہتی ہے اسے بلا کر لائو۔‘‘ لیڈی ڈاکٹر کے ذکر پہ اماں سائیں اور ہارون بیک وقت چونک گئے تھے۔

’’چچی اماں۔۔۔‘‘ ہارون نے کچھ کہنا چاہا، مگر انہوں نے روک دیا تھا۔

’’تم باہر جائو بیٹا، یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ ہارون ان کے ٹوکنے پہ شرمندہ سا ہو کر باہر آگیا تھا اور پھر سچ مچ چچی اماں کے شک نے انہیں ایک خوش خبری سنا ڈالی تھی، جس سے وہ سبھی لوگ ہی نہیں ہارون بھی بے انتہا خوش ہوا تھا اور بڑی اماں تو واری صدقے ہورہی تھیں، انہوں نے بے ہوش پڑی شہر بانو کی بلائیں لے ڈالی تھیں۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’لگتا ہے آپ اس خوش خبری سے خوش نہیں ہیں؟‘‘ ہارون پہلی نظر میں ہی شہر بانو کا گم صم رویہ دیکھ کر جان گیا تھا، وہ کچھ بھی کہنے کی بجائے خاموش رہی تھی، آج وہ لوگ شہر جارہے تھے، اماں سائیں اس کا مکمل چیک اپ کروانا چاہتی تھیں، اس کے لےے بیڈ ریسٹ اور غذا وغیرہ کی تفصیل جاننا چاہتی تھیں، جبکہ شہر بانو کو اس چیز کی کوئی خوشی نہیں تھی، الٹا اپنا آپ قیدی نظر آنے لگا تھا۔

’’مگر شہر بانومیںبہت خوش ہوں، اللہ نے میری بہت بڑی خواہش پوری کی ہے، ہمارا بچہ ہماری تکمیل کرے گا اور ہمیں مزید قریب لے کر آئے گا، ہمار ارشتہ اور بھی مضبوط ہوگا، ہماری زندگی مکمل ہوجائے گی۔‘‘ وہ دل کی گہرائیوں سے اظہار کرتا اسے دونوں کندھوں سے تھام چکا تھا، جبکہ وہ تو ہارون کی شکل دیکھنے سے بھی کتراتی تھی اس وقت بھی نظر چرا گئی تھی۔

’’شہر بانو مجھے اپنا سمجھو، میں تمہارا ہوں اور کبھی تمہارا برا نہیں چاہوں گا، تم مجھ سے بدگمان نہ رہا کرو، میرادل بجھ جاتا ہے۔‘‘ وہ اتنی بڑی خوش خبری پا کر جذباتی پن کا مظاہرہ کر رہا تھا اور آج پہلی بار آپ سے ’’تم‘‘ تک آیا تھا، شاید وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اب ان کے بیچ کے فاصلے مٹ گئے ہیں، مگر! اماں سائیں ساتھ جانے سے کترا تو رہی تھیں، مگر ہارون تسلی کے لےے زبردستی ان کو ساتھ لے آیا تھا۔ پہلا دن تو انہوں نے گھر پہ ہی گزارا تھا اور ڈاکٹر سے ٹائم لے لیا تھا۔ دوسرے دن عصر اور مغرب کے درمیان وہ لوگ اسپتال جانے کے لےے روانہ ہوئے تھے۔

’’اسپتال اچھا ہے نا؟‘‘ اماں سائیں کے سوال پہ وہ بے اختیار ہنس دیا تھا۔

’’نہیںمیں آپ کو سرکاری اسپتال لے کر جارہا ہوں، وہ بھلا اچھا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘

’’پگلے میرے کہنے کا مطلب تھا کہ ڈاکٹر تو ماہر ہے نا؟ کئی ایسی بھی ہوتی ہیںجو نئی نئی سیکھ رہی ہوتی ہیں اور لوگوں کی جان خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔‘‘ اماں سائیں نے مسکرا کر کہا۔

’’اماں سائیں جس طرح میں آپ کو بہت پیارا ہوں اسی طرح مجھے بھی تو اپنی اولاد پیاری ہے۔‘‘ اس نے دلچسپی سے کہتے ہوئے شہر بانو کی طرف دیکھا جو ان ماں، بیٹے کی گفتگو سے یکسر انجان اور لا تعلق بنی بیٹھی تھی، سارا راستہ یونہی کٹ گیا تھا، اسپتال پہنچ کر ہارون پھر اپنے سنجیدہ موڈ میں آگیا تھا۔ ڈاکٹر کی ہدایت اور چیک اپ کے مطابق چند ابتدائی ٹیسٹ کروائے، الٹر سائونڈ کروایا اور پھر مثبت رپورٹ لے کر وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے، البتہ شہر بانو کی کمزوری کے پیش نظر ڈاکٹر نے کچھ دوائیاں تجویز کی تھیں جو اسپتال سے فوری نہیں مل سکی تھیں، لہٰذا ہارون نے سڑک پار بنے چند میڈیکل اسٹورز کی طرف رجوع کیا تھا۔

’’آپ لوگ گاڑی میں بیٹھیں میںدوائی لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہ دروازہ کھول کر ان کو بٹھا کر سڑک کراس کر گیا تھا۔

ابھی اسے گئے چھ، سات منٹ ہی ہوئے تھے کہ ان کی گاڑی کا دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا تھا۔

’’لالہ جی!‘‘ شہر بانو چکرا گئی تھی۔

’’نیچے اترو شہر بانو!‘‘ وہ عجلت میں بولے تھے۔

’’مگر لالہ جی۔۔۔‘‘

’’شہربانو نیچے اترو۔‘‘ وہ اس کی بات سنے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی سمت کھینچ چکے تھے، ایسے میں اماں سائیں تڑپ اٹھی تھیں، وہ شہر بانو کی حالت سے واقف جو تھیں۔ ’’ماں جی آپ آرام سے بیٹھی رہیں، ہم آپ کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ مگر اپنے بیٹے کو اتنا بتا دیجےے گا کہ کسی پہ اچانک حملہ نہیں کرنا چاہے، بندہ سنبھل نہیں پاتا۔‘‘ وہ ایک ہی بات میں اپنا جملہ اور ہارون کا حملہ بھی واضح کر گئے تھے، اماں سائیں نے انہیں روکنے کی پیچھے جانے کی کوشش کی، مگر ان کے ساتھ مسلح افراد تھے، شہربانو کبھی اماں سائیںکی تڑپ اور کبھی لالہ جی کا غصہ دیکھتی گھسٹتی چلی گئی تھی، اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے؟ وہ تو یہ بھی نہ جان سکی کہ اچھا ہوا یا برا؟

ئ ئ ئ ئ ئ

ہارون کے لےے سچ مچ یہ حملہ بہت کاری تھا اور اس حملے سے سنبھلنا بھی بہت مشکل کام تھا، مگر ہارون نے یہ حملہ سہ کر دوسروں کو بھی سنبھالا تھا اور اپنے آپ کو بھی۔۔۔ وہ چاہتا تو ان کے اس ایکشن کا ری ایکشن لے سکتا تھا، وہ پولیس کی مدد سے بھی اپنی بیوی، اپنی منکوحہ پہ حق جتا سکتا تھا، مگر اس نے جان بوجھ کر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تھا، کیونکہ اسے پورا یقین تھا کہ وہ لوگ شہر بانو کی کنڈیشن جان لینے کے بعد زیادہ دن اپنے پاس نہیں رکھیں گے اور ویسے بھی وہ اس مسئلے کو اچھالنا نہیں چاہتا تھا، کیونکہ شہر بانو اب ان کی نہیں ہارون کی اپنی عزت تھی اور اسے یہ بھی پتا تھا کہ جس زنجیر میں شہر بانو بندھ چکی ہے وہ اتنی کمزور نہیں کہ اس سے رہائی ممکن ہو۔۔۔ شاید اسی لےے وہ کافی حد تک ریلیکس تھا، کیونکہ اگر وہ لوگ کوئی حتمی فیصلہ کرنا بھی چاہتے تو انہیں سو بار سوچنا تھا۔

اور یہ سچ ہی تو تھا شہر بانو کے واپس آنے کی خوش سب کو ہوئی تھی، سبھی باری باری اس سے ملنے آئے تھے اور سبھی کو اس کی کمزور حالت اور زرد رنگت پہ افسوس ہوا تھا کہ ان کی بیٹی غم میں گھل کر آدھی رہ گئی ہے، مگر جب عورتوں پہ اصل بات کا انکشاف ہوا تو وہ بدک کے رہ گئی تھیں۔

’’بچہ؟ اس کم بخت کا بچہ اٹھا لائی ہو تم؟ تمہیں شرم نہیں آئی؟ تم اپنے بھائیوں کا، اپنے باپ کا صدقہ تھیں، تم اپنا آپ بھی نہ سنبھال سکیں؟ داغ لگا کے رکھ دیا ہے اس لڑی (نسل) کو۔‘‘ چچی بیگم نے اپنا سینہ پیٹ ڈالا تھا اور شہر بانو گھبرا کر ان کی شکل دیکھنے لگی اور پھر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ سب عورتوں کا جمگھٹا سا لگ گیا تھا، جس میں مجرم شہر بانو سر جھکائے شرمندہ سی مرجانے کو تیار بیٹھی تھی۔

’’کاش تم مرجائو، ہارون گردیزی تم نے مجھے میرے اپنوں کی نظر میں گرا دیا ہے، میں مجرم بن گئی ہوں۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں ہارون کو برا بھلا کہتے ہوئے اپنے آنسوئوں کو روکنے کی کوشش کی، مگر دل اتنا بھر آیا تھا کہ آنسوئوں کو رکنے کے لےے جگہ نہ ملی تھی اور وہ چھلک آئے تھے۔

’’امی کیا ضروری ہے کہ آپ ہر کام میں مداخلت کریں؟ اس میں شہر بانو کا کیا قصور ہے؟‘‘ زہرا اس کے قریب آتے ہوئے اس کی ڈھال بن گئی تھی اور اپنی ماں سے خفا ہونے لگی۔

’’ارے قصور کیوں نہیں ہے؟ یہ اسے منع بھی تو۔۔۔‘‘

’’پلیز امی اللہ کے لےے کچھ تو خیال کرلیں یہاں کنواری، غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی ہیں۔‘‘ اس نے سب کی سمت اشارہ کیا تھا جو شہر بانو کا تماشا دیکھنے کے لےے دلچسپی سے کھڑی تھیں۔

’’ٹھیک ہے بی بی میں کچھ نہیں کہتی، مرد لوگ خود کہہ لیں گے۔‘‘ وہ تنفر سے کہتی کھڑی ہوگئیں۔

’’مرد لوگ کیا کہیں گے؟ یہ اس کی بیوی بن کے گئی تھی بہن نہیں، اور بیوی پہ وہ ہر حق جتا سکتا تھا، ایک چھت تلے رہتے ہوئے وہ اتنا بھی مولوی یا پرہیزگار نہیں تھا کہ اسے ہاتھ بھی نہ لگاتا، اور عورت کہاں اور کب تک بھاگ سکتی ہے مرد سے؟‘‘ زہرا نے لڑکیوں کے جاتے ہی اپنی ماںکو صاف صاف سنائی تھیں۔

شہر بانو اور ماں جی زہرا کی مشکور ہوگئی تھیں، لیکن زہرا بے شک زبان کی تلخ و تیز تھی، مگر دل کی کھری تھی، وہ پہلے بھی شہر بانو کا بھلا ہی چاہتی تھی اور اب بھی وہ اسی کے حق میں بول رہی تھی، وہ اسے ساتھ لے کر اندر کمرے میں چلی گئی تھی، جبکہ پیچھے سرگوشیاں اور باتیں شروع ہوگئی تھیں۔

ئ ئ ئ ئ ئ

شہر بانوکو واپس آئے ہوئے تین ماہ ہوچکے تھے، مگر ان تین ماہ میں اس نے جی بھر کے خفت، شرمندگی اور ذلت دیکھی تھی، وہ اپنے ہی گھر میں ’’چوروں اور مجرموں‘‘ کی طرح رہ رہی تھی، گھر کے کسی بھی مرد کے سامنے نہیں جاسکتی تھی، کسی خوشی اور غمی کا حصہ نہیں بن سکتی تھی، تینوں چچیاں اور دونوں پھوپھیاں بھی اس کو دھتکار بیٹھی تھیں، صرف ماں جی اس کے لےے سسکتی اور تڑپتی تھیں، انہیں پتا تھا وہ کس حالت میں ہے، مگر پھر بھی پریشان اور فکر مند رہتی ہے، جس کی وجہ سے اس کی صحت بہت ہی خراب رہنے لگی تھی، وہ اسے بہت سمجھاتی تھیں، تسلی دیتیں، مگر اسے یوں سب کی نظروں سے گر کر جینا بہت محال لگنے لگا تھا، وہ اپنے لےے بد دعائیں مانگتی تھی اور ماں جی کا کلیجہ کانپ جاتا تھا۔

اسی پریشانی اور ٹینشن میں سارے دن گزر گئے اور شہر بانو کے ہاں بہت ہی پیارا سا بیٹا پیدا ہوا تھا، جس کی پیدائش کی خبر سن کر سب حویلی والوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔

’’مبارک ہو شہر بانو تمہارا بیٹا بہت ہی پیارا ہے، اپنے ماں، باپ پہ گیا ہے۔‘‘ زہرا نے کھلے دل سے سراہا اور نومولود بچے کو اٹھا کرپیار بھی کیا تھا۔ شہر بانو بے ساختہ رو پڑی تھی۔ اتنے بھرے پرے خاندان میں سے اس کی سماعتوں کو صرف ایک مبارک سننے کو ملی تھی۔

’’کہتے ہیں بیٹے، باپ کا عکس ہوتے ہیں اور بیٹیاں ماں کا۔۔۔ یہ بھی اپنے باپ کا عکس ہی لگ رہا ہے۔‘‘ زہرا بچے کو بغور دیکھ کر مسکرائی تھی اور پھر شہر بانو کی گودمیں ڈال دیا تھا۔ اور بچے کے معصوم چہرے پہ جیسے ہی شہر بانو کی نظر پڑی اس کے آنسوئوںمیں شدت آگئی تھی، اسے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ اگر یہی بچہ ہارون گردیزی کی حویلی میں پید اہوا ہوتا تو کئی دن تک پورے گائوں میں جشن منایا جاتا، صدقے دےے جاتے، نظر اتاری جاتی، لیکن یہاں اس کی پیدائش کی خبر سن کرہر ماتھے پہ سلوٹ اور ہر چہرے پہ ناگواری کے سوا کچھ نظر نہیں آیا تھا،سوائے ماں جی اور زہرا کے۔

’’شہر بانو پاگل ہوگئی ہو کیا؟‘‘ زہرا نے اس کا کندھا ہلایا تھا، شہر بانو کے آنسو بچے کے نرم و ملائم چہرے پہ تواتر سے گر رہے تھے اور اس نے کسمسانا شروع کر دیا۔

’’کاش ہارون گردیزی نے ہمیں دھوکا نہ دیا ہوتا، اور اگر دے ہی دیا تھا تو پھر میں یہاں دوبارہ واپس نہ آئی ہوتی، زہرا آپی مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہورہا، سب مجھے قصور وار سمجھتے ہیں، کیا میں نے کہا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا کچھ کرے؟ پہلے سب کی ناگواری میرے لےے تھی، اب۔۔۔ اب میرے بچے کے لےے ہوگی، میں کیا کروں؟ کہاں جائو؟‘‘ وہ پھر سے بلک اٹھی تھی۔

’’اس کے پاس واپس چلی جائو۔‘‘ زہرا نے سیدھا سیدھا حل بتایا۔

’’کیا؟‘‘ وہ بدک گئی تھی۔

’’ہاں شہر بانو اب اگر تم مر بھی جائو تو تمہیں وہ پہلے جیسا مقام حاصل نہیں ہوسکتا، قاسم لالہ تمہیں تمہاری چاہت یا اپنائیت میں واپس نہیں لے آئے، بلکہ ہارون گردیزی کی ضد اور انتقام میں واپس لے کر آئے ہیں، تاکہ اسے شکست دے سکیں۔ لیکن شہر بانو جو شخص ساری زندگی تمہیں جانتا تک نہیں تھا، تمہارا نام بھی پتا نہیں تھا، پھر بھی وہ تمہارے بھلے کے لےے تمہاری زندگی کو ایک فضول رسم سے بچانے کے لےے سب کے سامنے ڈٹ گیا تھا اور اپنے فیصلے پہ قائم بھی رہا، پلیز۔۔۔ پلیز شہر بانو اسے شکست سے دوچار مت کرنا، اسے ہارنے مت دینا، پلیز میری بات پہ دھیان دینا اور اس کے فیصلے میں اس کا ساتھ دے کر اپنے رشتے کو مزید مضبوط بنادو، ورنہ تم نہ یہاں کی رہو گی نہ وہاں کی۔‘‘ زہرا نے اسے سمجھاتے ہوئے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا تھا۔

’’یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘

’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں تم سب کو چھوڑ کر اپنے بچے کے بارے میں سوچو، جس کو تم یہاں اس حویلی میں رہ کر کبھی کوئی مقام نہیں دلا سکو گی، جو اتنے بڑے خاندان اور جاگیر کا وارث ہے وہ یہاں ایک ملازم بن کے رہ جائے گا، صرف تمہاری نادانی کی وجہ سے، کیونکہ بیٹیاں تو ہمیشہ ہی ماں، باپ کا گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، ہر بیٹی کو رخصت ہونا ہی ہوتا ہے، تم انوکھی تو نہیں ہو جو یہاںسے جائو گی، ہر بیٹی پہ فرض ہوتا ہے کہ وہ ماں، باپ کا کہا مانے اور ان کی عزت کی لاج رکھے، تم نے بھی یہ سب کیا، ان کے کہنے پہ ہارون گردیزی سے شادی کی اور ان کی لاج رکھی۔ اب یہ ہارون گردیزی کا مسئلہ تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟ تم اس کی بیوی ہو اور بیوی ہونے کے ناتے تم پہ فرض ہے کہ تم اس کا کہا مانو اور اس کا ساتھ دو، اب تم پہ زیادہ حق تمہارے ماں، باپ کا نہیں تمہارے شوہر کا ہے اور تمہارا شوہر غلط بھی نہیں ہے، اس نے اگر ہماری اس ’’صدقہ رسم‘‘ کو توڑا ہے تو اچھا کیا ہے، کیونکہ اس رسم کا ذکر نہ تو ہم نے قرآن میں پڑھا ہے اور نہ ہی حدیث وغیرہ میں، یہ سراسر خود ساختہ رسم ہے جو ہم لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کے لےے بنائی گئی ہے۔

جس نے پھوپھی فاطمہ کو نگل لیا ہے، جس سے تم بچ گئی ہو اور جو قاسم لالہ کی بیٹی زرینہ کو نگلنے کے لےے تیار کھڑی ہے، شہر بانو اپنے اور اپنے بچے کے بارے میں نہ سہی، مگر ایک بار دس سالہ زرینہ کے بارے میں ضرور سوچنا جو آئندہ اس رسم کی بھینٹ چڑھنے والی ہے، اور ہاں یہ سب میں تمہیں اس لےے بتا رہی ہوں کہ قاسم لالہ کے کہنے پہ میرے ابا سائیں (سید سراج حسین) چند دنوں تک ہارون گردیزی سے تمہاری طلاق کی بات کرنے جارہے ہیں، اب یہ فیصلہ تم پہ ہے کہ تم نے طلاق لینی ہے یا اس کے ساتھ اس کی سہاگن بن کے رہنا ہے؟ اور یہ کبھی مت بھولنا کہ میں اور تائی اماں تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ زہرا صاف صاف لفظوں میں سب کچھ کہہ کر اسے بیچ منجدھار چھوڑ کر چلی گئی تھی، شہر بانو سوچ کے سمندر میں اکیلی ڈوب رہی تھی اور اس سمندر میں ایک ہی جزیرہ تھا۔ ’’ہارون گردیزی‘‘ جو اسے پناہ دے سکتا تھا، کھلے دل سے۔ اور اس سمندر میں ایک ہی بھنور تھا۔ ’’طلاق‘‘ جس میں ڈوب کر وہ اور بھی بیٹیوں کو ڈبو سکتی تھی۔

ئ ئ ئ ئ ئ

سید معراج حسین بیٹی کی طلاق کے حق میں نہیں تھے، انہوں نے سید سراج حسین اور سید قاسم حسین کا فیصلہ سنا تو انہیں روکنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ قائل نہیں ہوئے تھے، حالانکہ انہوں نے بہت کوشش کی تھی۔

’’جو بات جہاں ہے اسے وہاں ہی رہنے دو۔ قاسم حسین ہماری لڑی میں طلاق کو بہت برا سمجھا جاتا ہے اور یہ برا عمل شہر بانو کے پلو سے مت باندھو۔‘‘ وہ تھکے تھکے سے بولے تھے۔

’’ہماری لڑی میں تو صدقہ رسم کے ٹوٹنے کو بھی برا سمجھا جاتا ہے ابا سائیں۔‘‘

’’لیکن قاسم حسین بہتر ہے کہ اس معاملے کو دبا رہنے دو، کیوں چھیڑ رہے ہو دوبارہ سے؟‘‘

’’اس لےے چھیڑ رہا ہوں کہ ہارون گردیزی بہت سکون کی زندگی جی رہا ہے، وہ ابھی بھی شہر بانو کو اپنا حق سمجھے بیٹھا ہے، لیکن میں اس کاہر حق ختم کر دینا چاہتا ہوں ہمیشہ کے لےے۔‘‘ قاسم حسین کا لہجہ بے حد سخت تھا۔

’’شہر بانو سے پوچھا تم نے؟ وہ کیا چاہتی ہے؟‘‘ سید معراج حسین بہت سمجھ دار آدمی تھے، انہیں پتا تھا کہ شہر بانو اب اکیلی نہیں ہے اس کا بیٹا بھی ہے۔

’’وہ خود اس سے نفرت کرتی ہے، وہ بھی اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور اگر ایسا کرے گی تو ہمارے لےے ہمیشہ کے لےے مر جائے گی۔‘‘ سید قاسم حسین غصے سے لال ہورہے تھے اور سید معراج حسین چپ سے ہوگئے تھے اور پھر سید قاسم کہ کہنے پہ سید سراج حسین نے ہارون گردیزی کے ساتھ ایک میٹنگ طے کی اور مقررہ وقت پہ اس کے شہر والے گھر پہ چلے آئے تھے۔

ئ ئ ئ ئ ئ

طلاق کا لفظ ابھی بھی ہارون کے دماغ کو چبھن دے رہا تھا، جب سے سید سراج حسین گئے تھے وہ مسلسل اسی لفظ کے متعلق سوچ رہا تھا، اور ساتھ ساتھ یہ بھی خدشہ پل رہا تھا کہ اگر شہر بانو نے کہہ دیا کہ وہ میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو پھر، پھر میں اسے کیسے کنوینس کروں گا؟ اور میرے بیٹے کا کیا ہوگا؟ وہ ساری زندگی یا تو ماں کے پاس رہے گا یا پھر باپ کے پاس۔ اَف خدایا! اپنا کرم کرنا مجھ پر۔

وہ راکنگ چیئر پہ جھولتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنا سرتھام چکا تھا۔ اسے صبح حویلی جانا تھا شہر بانو سے ملنے، اور ابھی تک سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس مسئلے کا اصل حل کیا ہوگا؟ شہر بانو کو یہاں سے گئے ہوئے سات ماہ ہوچکے تھے اور اب تو اس کا بیٹا تقریباً دو ماہ کا ہونے والا تھا اور ہارون نے ابھی تک نہ شہر بانو کو ممتا بھرے انداز میں دیکھا تھا اور نہ ہی بیٹے کی شکل دیکھ کر دل سیراب کیا تھا، بلکہ ایسا دل سیراب کرنے کے لےے تو ہارون گردیزی کے گھر والے بھی ترستے تھے، رحمن گردیزی، زمان گردیزی اور بڑی اماں تو بات بات پہ اپنے پوتے کا ذکر کرتی تھیں جو انہیں چاہ کر بھی مل نہیں رہا تھا اور یہی بات ہارون کو ڈسٹرب کےے ہوئے تھی۔ وہ حقیقتاً پریشان تھا کہ فیصلہ کیا ہوگا، کیونکہ وہ خود بھی سید سراج حسین سے وعدہ کر چکا تھا، مردوں والا وعدہ۔

ئ ئ ئ ئ ئ

’’بی بی جی آپ کو چھوٹے سائیں نے اپنے کمرے میں بلایا ہے۔‘‘ شہر بانو صبح صبح بچے کو ماں جی کے حوالے کر کے قرآن پاک کی تلاوت کرنے بیٹھ جاتی تھی اور سورج کی کرنیں نکلنے تک تلاوت کرتی رہتی تھی، ابھی بھی وہ سیپارہ ختم کرتے ہوئے قرآن پاک جزدان میں لپیٹ رہی تھی، جب ملازمہ نے آکر اطلاع دی تھی اور چچا سائیں کے بلاوے کا سن کر شہر بانو کا دل کانپ گیا تھا، اتنے عرصے میں پہلی بار انہوں نے اسے بلایا تھا۔

’’کہاں جارہی ہو بیٹا؟‘‘

’’وہ ماں جی چچا سائیں نے بلایا ہے۔‘‘ شہر بانو جاتے جاتے ٹھہر گئی تھی۔

’’خیریت تو ہے؟‘‘

’’پتا نہیں ماں جی۔ میں بات سن کے آتی ہوں، آپ عثمان کا خیال رکھےے گا۔‘‘ وہ کہہ کر چلی گئی تھی، لیکن ماں جی کے ماتھے پہ تفکر کی لکیریں بن گئی تھیں۔

’’میں اندر آسکتی ہوں چچا سائیں؟‘‘ اس نے دستک دے کر پوچھا تھا۔

’’آجائو شہر بانو، بیٹھو یہاں۔‘‘ انہوں نے سامنے صوفے کی سمت اشارہ کیا تھا۔

’’جی آپ نے بلایا تھا مجھے؟‘‘ اس نے سر جھکاتے ہوئے بمشکل پوچھا۔

’’ہاں تمہیں یہ بتانے کے لےے بلایا تھا کہ آج دوپہر کو ہارون گردیزی یہاں حویلی آرہا ہے تم سے ملنے اور شاید کوئی بات کرنے، لیکن بیٹا ہم نے تم سے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم نے تمہاری طلاق کا مطالبہ کیا ہے اس سے اور اب تم نے ہماری ہاں میں ہاں ملا کر ہمارے فیصلے اور مطالبے کی تصدیق کرنی ہے۔ اسے ہر حال میں طلاق دینا ہی پڑے گی۔ وہ چاہے کچھ بھی کہے، اس کی باتوں میں مت آنا، ہم اس سے کہہ چکے ہیں کہ تم بھی اس فیصلے میں رضامند ہو، تم اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔‘‘ سید سراج حسین نے اپنے کہے کو سچ ثابت کرنے کے لےے شہر بانو کو جھوٹ پہ اکسایا تھا، وہ بھی کافی رعب اور بے نیازی سے۔

’’ٹھیک ہے اب تم جائو، جب وہ آئے گا تو تمہیں بلالیں گے۔‘‘ شہر بانو کو فیصلے کی سولی پہ لٹکا کر وہاں سے جانے کا حکم دے دیا تھا اور یہ فیصلہ بھی کیسا؟ جس پہ عمل پیرا تو وہ پہلے ہی ہوچکے تھے، اب تو آخری قدم باقی تھا، لیکن اس آخری قدم کا سن کر شہر بانو کے قدم واپس اپنے کمرے میں جاتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے، اس کے ہاتھ برف ہونے لگے تھے۔

’’شہر بانو!‘‘ پیچھے سے زہرا نے پکارا۔

’’صبح صبح ابا سائیں کے کمرے میں؟ خیریت تو ہے نا؟‘‘ وہ خود ہی اس کے قریب آگئی تھی، لیکن شہر بانو نے کچھ بھی کہنے کی بجائے اس کی سمت خالی خالی نظروں سے دیکھا تھا۔ گم صم اور نا سمجھ سے انداز میں دیکھنے کے بعد وہ خاموشی سے پلٹ کر اپنے کمرے میں چلی آئی جہاں عثمان نے رو، رو، کر برا حال کر رکھا تھا اور ماں جی اسے چپ کراتے ہوئے ہلکان ہورہی تھیں۔

’’کیا ہوا ہے شہر بانو؟ ابا سائیں نے کس لےے بلایا تھا؟‘‘ زہرا اس کے پیچھے ہی چلی آئی تھی۔

’’بولو نا کیا بات کہی انہوں نے؟‘‘ اسے بے چینی ہونے لگی تھی۔

’’ہارون گردیزی سے میری طلاق کی بات کر کے آئے ہیں اور وہ آج یہاں حویلی آرہا ہے مجھ سے تصدیق حاصل کرنے کے لےے کہ کیا میں طلاق چاہتی ہوں یا نہیں؟‘‘ اس نے سپاٹ سے انداز میں بتایا تھا۔

’’اور بابا سائیں نے کیا کہا تم سے؟‘‘

’’کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی، میں اس فیصلے میں برابر کی شریک ہوں۔‘‘ شہر بانو نے کہتے ہوئے اک نظر روتے بلکتے عثمان کی سمت دیکھا۔

’’نہیں شہر بانو تم ان کے فیصلے میں ہر گز شریک نہیں ہو۔‘‘ زہرا نے سختی سے تردید کی تھی اور ماں بھی حد سے زیادہ پریشان ہوگئی تھیں۔

ئ ئ ئ ئ ئ

گھر سے نکلتے وقت ہارون نے ابا سائیں اور چچا سائیں کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ وہ شہر بانو سے ملنے حویلی جارہا ہے اور کسی حتمی فیصلے کے لےے جارہا ہے۔ وہ سن کر خوش تو ہوئے ہی تھے، لیکن پریشان بھی ہوگئے تھے کہ وہ ان کی حویلی اکیلا مت جائے، انتقام میں لوگ کچھ بھی کر ڈالتے ہیں، اس کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے اور تنہا جانا خطرے سے خالی نہیں ہوگا۔ مگر ہارون نے انہیں تسلی دی تھی کہ وہ تمام بندوبست کر کے جارہا ہے، اسے نقصان پہنچانے کی صورت میں وہ لوگ خود بری طرح پھنس سکتے تھے۔ اور وہ ہر طرف سے مطمئن ہو کر شام چار بجے حویلی پہنچ کر حویلی کے بڑے سے گیٹ پہ ہارن دے رہا تھا۔ ’’حویلی والوں‘‘ کو پہلے ہی اطلاع مل چکی تھی اس لےے گیٹ کھلتا چلا گیا تھا۔ حویلی کے بڑے سے لان کی سائیڈوں میں بنی روش پہ چکر کاٹ کے اس کی مرسیڈیز گاڑیوں کے ساتھ آرکی تھی جہاں ایک ملازمہ اس کی مدد کے لےے پہلے سے تیار کھڑی تھی، وہ گاڑی سے اترا ہی تھا کہ وہ آگے بڑھ آئی تھی۔

’’آئےے صاحب جی۔‘‘ وہ سر ہلا کر ملازمہ کے پیچھے چل دیا تھا، طویل راہ داری اور ڈرائنگ روم کا احاطہ گزرنے کے بعد ملازمہ اسے گیسٹ روم میں چھوڑ گئی تھی، جہاں سید سراج حسین اور سید قاسم حسین پہلے سے موجود تھے۔

’’بیٹھو۔‘‘ انہوں نے صوفے کی سمت اشارہ کیا تھا۔

’’شکریہ۔‘‘ وہ ریلیکس سے انداز میں بیٹھ گیا تھا۔

’’کچھ سوچا تم نے؟‘‘ انہوں نے نپے تلے انداز میں پوچھا تھا۔

’’جو کچھ آپ سے کہہ چکا ہوں اس کے بعد سوچنے کی گنجائش نہیں نکلتی مرشد سائیں۔ اگر میری بیوی میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو آپ اسے مر کے بھی نہیں روک سکتے اور اگر وہ میرے ساتھ رہنے سے انکار کرتی ہے تو میں آج ہی طلاق نامے پہ سائن کردوں گا۔‘‘ اس کا لہجہ مضبوط تھا۔

’’ٹھیک ہے اگر وہ تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو ہم سے سارے رشتے توڑ کرہمیشہ کے لےے جا سکتی ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو تمہیں یہ رشتہ توڑ کر جانا ہوگا۔ طلاق کے کاغذات تیار رکھے ہیں ان پہ سائن کر دینا۔ چلو قاسم حسین اسے فیصلہ کرنے دو۔‘‘ وہ ٹیبل پہ رکھے کاغذات اور پین کی سمت اشارہ کر کے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور سید قاسم حسین بھی باہر نکل آئے۔ کیونکہ شہر بانو نے بھی فیصلہ سنانے کے لےے اندر آنا تھا۔

ملازمہ اس کے لےے چائے اور ساتھ میں کافی لوازمات لے کر آئی تھی، مگر ہارون کو ان چیزوں سے نہیں صرف اور صرف شہر بانو سے مطلب تھا، لیکن پھر بھی ایک اچھے مہمان کی طرح اس نے چائے کا کپ اٹھالیا تھا۔ بلیک پینٹ اور وائٹ ٹی شرٹ میں ملبوس ٹانگ پہ ٹانگ چڑھائے ہاتھ میں چائے کا کپ لےے وہ بہت شاہانہ انداز میں بیٹھا اتنا پر سکون لگ رہا تھا کہ اسے دیکھ کر شہربانو کا دل دھڑک اٹھا تھا۔ اور شاید ’’دھڑکا‘‘ بھی پہلی بار تھا۔ اور اس ’’دھڑکے‘‘ کا پتا ہارون کو بھی چل گیا تھا، تبھی تو چونک کر دروازے کی طرف دیکھا، جہاں وہ خاموش سر جھکائے کھڑی تھی۔

’’شہر بانو۔‘‘ وہ یک دم کپ ایک سائیڈ پہ رکھ کے صوفے سے کھڑا ہوگیا۔

’’کیسی ہو تم؟‘‘ وہ اپنے دل کی لپک، اپنے دل کی تڑپ پہ قابو پاتے ہوئے اپنے آپ کو کنٹرول کرتے ہوئے اس کے قریب آیا تھا، ورنہ دل چاہ رہا تھا کہ اتنے دنوں بعد ملنے پہ اسے اپنی بانہوں میں بھر ڈالے، تاکہ اتنے دنوں سے بے چین دل کچھ سنبھل جاتا۔

’’خاموش کیوں ہو شہر بانو؟ اب تو تم اپنے گھر میں ہو، پہلے تم میری قید میں تھیں، اب میں تمہاری قید میں ہوں، جو چاہو فیصلہ سنادو، تمہیں پورا پورا اختیار ہے، تم حاکم ہو اس وقت اور میں غلام۔‘‘ ہارون نے بھاری سنجیدہ آواز میں کہتے ہوئے اس کو دونوں کندھوں سے تھام لیا تھا اور اس کے ہاتھوں کی سخت گرفت سے اس کی دیوار جان کو ایک مضبوط سہارا ملا تھا۔

’’بولو شہر بانو کیا کرو گی آج قید یا آزاد؟‘‘ اس نے اس کے کندھوں پہ دبائو ڈالا اور اسے کچھ کہنے پہ اکسایا تھا، اس سے پہلے کہ وہ اس کا چہرہ اونچا کرتا وہ یک دم پھوٹ پھوٹ کے روتی ہوئی ہارون کے سینے سے لگ گئی تھی، اس کے ضبط اس کے صبر کا دامن چھوٹ چکا تھا، لیکن اس کی اس بے اختیار حرکت پہ ہارون کا بے چین دل سچ مچ سنبھل گیا تھا، اس کی لپک ، اس کی تڑپ کو سکون سا ملا تھا اور ’’تسلی‘‘ ہوگئی تھی کہ وہ اسے اپنا قیدی رکھنا چاہتی ہے، آزاد نہیں چھوڑ سکتی۔

’’تھینک یو شہر بانو، تھینک یو سو مچ۔‘‘ وہ اسے بانہوں میں بھینچتے ہوئے بے پناہ خوش ہوا تھا، شہر بانو نے اسے شکست سے بچالیا تھا، اس نے اس کی محنت کو رائیگاں ہونے سے بچالیا تھا، اس نے اس رسم کو توڑتے ہوئے سید قاسم حسین کی بیٹی زرینہ کو بچالیا تھا اور نہ جانے کتنی بیٹیوں کی زندگی کو قبر بننے سے بچا لیا تھا، چاہے اس کے لےے اسے اپنوں سے ہمیشہ کے لےے بائیکاٹ کرنا پڑ رہا تھا، مگر یہ سودا مہنگا نہیں تھا اور اس سودے پہ زہرا اور ماں جی بہت خوش تھیں، انہوں نے شہر بانو کا حوصلہ بڑھایا تھا اور ساتھ ہی اس کا چھوٹا موٹا سامان بھی تیار کر دیا تھا، عثمان کو نئے کپڑے پہنائے تھے اور جی بھر کے پیار کیا تھا۔ تب جا کر شہر بانو ہارون سے ملنے گیسٹ روم میں آئی تھی۔

’’یار مجھے کیا پتا تھا تم مجھ سے اتنی بے تابی اور اتنے والہانہ انداز سے ملو گی۔ ورنہ قسم سے پہلے ہی مرشد سائیں کے ساتھ یہ میٹنگ طے کر لیتا۔ بہت بڑی غلطی کی میں نے دیر کر کے۔‘‘ وہ اپنے آپ کو شرارت سے کوس رہا تھا اور شہر بانو اس کی بات سن کر یک دم اس سے الگ ہوگئی تھی، چہرہ سرخ پڑ گیا تھا۔ ’’اوکے یار کوئی بات نہیں، باقی کی کسر گھر جا کے پوری کرلینا، جب تک تم کہو گی میں تمہارے سامنے سے نہیں ہٹوں گا۔‘‘ اس نے شہر بانو کا چہرہ اونچا کرتے ہوئے اسے چھیڑا تھا۔

’’پلیز ہارون!‘‘ وہ رخ موڑ گئی تھی۔

’’ہارون کی جان۔ دل خرید لیا ہے تم نے تو۔‘‘ وہ بڑے فریش موڈ اور بڑی ترنگ میں تھا، جب اس نے اسے بریک لگائے تھے۔

’’کیا واپس نہیں چلنا آپ نے؟‘‘

’’چلتے ہیں یار چلتے ہیں، پہلے تم میرے شہزادے کو تو لے کر آئو۔ تب تک میں تمہارے چچا سائیں یعنی اپنے مرشد سائیں سے مل کر معاملہ سنبھالتا ہوں۔‘‘ وہ شہر بانو کو محبت بھرا لمس دے کر باہر نکل آیا تھا۔

اور شہر بانو کو ہارون کے ساتھ جانے کے لےے تیار دیکھ کر سید سراج حسین کے چہرے پہ ہوائیاں اڑنے لگی تھیں اور سید قاسم حسین کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہوگیا تھا، جبکہ سید معراج حسین اور باقی سبھی افراد خاموش تھے۔ شہر بانو نے کچھ کہنے کے لےے لب کھولے ہی تھے کہ سید معراج حسین نے اسے وہاں سے چلے جانے کااشارہ کیا تھا، کیونکہ انہیں پتا تھا کہ اس کا کچھ بھی کہنا فضول ہے، کوئی بھی نہیں سنے گا اور شہر بانو سب پہ ایک سسکتی ہوئی نظر ڈال کر پلٹ گئی تھی، لیکن قدم بہت مضبوط تھے اور رسم کو توڑ ڈالنے کا خیال اور عزم اس سے بھی زیادہ مضبوط تھے، اس کا بیگ ہارون نے تھام رکھا تھا، جبکہ عثمان کو شہر بانو نے اپنی آغوش میں بھینچا ہوا تھا۔

’’رب راکھا شہر بانو، اللہ تمہیں ہمیشہ خوش، آباد اور سدا سہاگن رکھے۔‘‘ زہرا نے ان کی گاڑی کے قریب آتے ہوئے کہا تھا، ماں جی بھی انہیں رخصت کرنے کے لےے آئی ہوئی تھیں۔

’’بہت شکریہ ماں جی۔ آپ کبھی بھی فکر مت کرنا، آپ کی بیٹی کو ہمیشہ خوش رکھوں گا، یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔

’’جیتے رہو، خوش رہو، اللہ جوڑی سلامت رکھے۔‘‘ انہوں نے بہت سی دعائوں کے ساتھ انہیں رخصت کیا تھا اور ہارون ایک فرسودہ رسم کو توڑ دینے کی خوشی میں سرشار عثمان کو بار بار پیار کرتا اور شہر بانوکو شرارت سے چھیڑتا ہوا اپنے گائوں کی سمت گامز ن تھا اور شہر بانو کو یقین ہوچکا تھا کہ اگر انسان کا ارادہ اور عزم نیک ہوں تو تعبیر پا ہی لیتے ہیں جیسے ہارون نے پائی تھی، کیونکہ نیک ارادہ اس نے کیا تھا اور تعبیر اللہ نے دی تھی۔

******

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں