بادلوں سے باتیں کرتے پہاڑ، چیڑ اور دیودار کے گھنے جنگلات، ٹھنڈی ہوائیں، بل کھاتی سڑکیں، خوبصورت وادیاں، آبشاریں اور قدرتی مناظر! اگر آپ روزمرہ کی مصروف زندگی، شہری شور اور گرمی سے چند دن دور اپنے خاندان کے ساتھ پرسکون اور خوشگوار وقت گزارنا چاہتے ہیں تو گلیات، مری اور پتریاٹہ آپ کے لیے بہترین سیاحتی مقامات میں شامل ہیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں واقع یہ حسین خطہ قدرتی حسن، دلکش موسم، تاریخی مقامات، مقامی ثقافت اور روایتی کھانوں کا ایسا امتزاج پیش کرتا ہے جو ہر عمر کے سیاح کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہاں کہیں بادل پہاڑوں کو چھوتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں جنگلات کے درمیان سے گزرتے راستے دل موہ لیتے ہیں اور کہیں بلند مقامات سے نظر آنے والے پہاڑی سلسلے انسان کو قدرت کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف قدرتی مناظر ہی نہیں بلکہ خاندان کے ہر فرد کے لیے تفریح، سیر و سیاحت، خریداری، مقامی کھانوں اور نئی جگہیں دریافت کرنے کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
یہ سفر صرف چند خوبصورت مقامات دیکھنے کا نام نہیں بلکہ خاندان کے ساتھ یادیں بنانے، قدرت کے قریب آنے اور پاکستان کی خوبصورتی کو محسوس کرنے کا ایک شاندار موقع ہے۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ کی مختصر تاریخ
گلیات کا نام لفظ ’’گلی‘‘ کی جمع سے نکلا ہے۔ مقامی جغرافیائی اصطلاح میں گلی سے مراد دو پہاڑوں کے درمیان واقع تنگ راستہ یا پہاڑی درہ ہے۔ اسی مناسبت سے نتھیا گلی، ڈونگا گلی، چھانگلہ گلی اور خیرہ گلی جیسے نام اس علاقے کی شناخت بن گئے ہیں۔
برطانوی دورِ حکومت میں ان پہاڑی علاقوں کو گرمیوں کی تعطیلات، سرکاری قیام اور فوجی سرگرمیوں کے لیے اہمیت حاصل ہوئی۔ 1880ء کے آس پاس گلیات کے متعدد مقامات پر برطانوی انتظامیہ نے موسمی قیام گاہیں قائم کیں۔ انگریزوں کے تعمیر کردہ بنگلے، گرجا گھر، جنگلاتی راستے اور بعض پرانی عمارتیں آج بھی اس خطے کی تاریخی شناخت کا حصہ ہیں۔
مری کو برطانوی دور میں 1850ء کی دہائی میں ایک اہم پہاڑی تفریحی مقام کے طور پر ترقی دی گئی۔ بعد ازاں یہ پنجاب حکومت کا گرمائی صدر مقام بھی رہا۔ اس دور کی تعمیرات، تاریخی چرچ، پرانی رہائش گاہیں اور مال روڈ آج بھی مری کے ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔
پتریاٹہ، جسے نیو مری بھی کہا جاتا ہے، مری کے قریب ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہے۔ یہ خاص طور پر چیئر لفٹ اور کیبل کار کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی سیاحت نے علاقے کو ایک منفرد خاندانی تفریحی مقام بنا دیا ہے۔
گلیات کی قدرتی خوبصورتی اور دلکش ماحول
گلیات کا حسن اس کے سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، بلند چوٹیوں اور قدرتی خاموشی میں پوشیدہ ہے۔ یہاں چیڑ، صنوبر، بلوط اور دوسرے مقامی درختوں کے جنگلات پہاڑوں کو سبز چادر کی طرح ڈھانپے رکھتے ہیں۔ موسمِ گرما میں یہاں کا خوشگوار درجہ حرارت میدانی علاقوں کی گرمی سے راحت فراہم کرتا ہے، جبکہ سردیوں میں برف باری پورے علاقے کو سفید رنگ میں ڈھک دیتی ہے۔
بارش کے بعد پہاڑوں سے اٹھتے بادل، درختوں پر ٹھہری پانی کی بوندیں، دھند میں چھپتے راستے اور دور تک پھیلی وادیاں ایک ایسا منظر پیش کرتی ہیں جسے دیکھ کر انسان قدرت کی خوبصورتی میں کھو جاتا ہے۔
یہاں صبح کا وقت خاص طور پر دلکش ہوتا ہے۔ پرندوں کی چہچہاہٹ، ٹھنڈی ہوا، درختوں سے آتی خوشبو اور پہاڑوں کے پیچھے سے نکلتی دھوپ سیاحوں کے لیے ایک ناقابلِ فراموش تجربہ بن جاتی ہے۔
گلیات صرف گرمیوں کی سیاحت تک محدود نہیں۔ بہار میں پھولوں اور تازہ ہریالی، گرمیوں میں خوشگوار موسم، خزاں میں بدلتے پتوں کے رنگ اور سردیوں میں برف باری اسے ہر موسم میں ایک مختلف روپ عطا کرتے ہیں۔
گلیات کے مشہور سیاحتی مقامات
1۔ نتھیا گلی — گلیات کا دل
قدرتی حسن، ٹھنڈا موسم اور پہاڑی زندگی کا حسین امتزاج
نتھیا گلی گلیات کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 2,410 میٹر کی بلندی پر واقع یہ پہاڑی مقام اپنے خوشگوار موسم، گھنے جنگلات، خوبصورت بازار اور دلکش پہاڑی مناظر کے لیے مشہور ہے۔
نتھیا گلی کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں قدرتی حسن کے ساتھ ایک پرسکون اور روایتی پہاڑی ماحول بھی محسوس ہوتا ہے۔ یہاں کے چھوٹے بازار، مقامی دکانیں، لکڑی کے خوبصورت مکانات اور تاریخی عمارتیں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔
یہاں کیا دیکھیں؟
نتھیا گلی کا مرکزی بازار اور خوبصورت گلیاں۔
تاریخی سینٹ میتھیوز چرچ، جو برطانوی دور کی یادگار ہے۔
گورنر ہاؤس کے اطراف کا خوبصورت علاقہ، جہاں سے پہاڑی مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
سرسبز جنگلات اور قدرتی نظارے۔
مشہور مکشپوری اور میرانجانی کی پہاڑی ٹریکنگ کے راستے۔
نتھیا گلی خاندان کے ساتھ قیام، سیر، تصاویر اور قدرتی ماحول سے لطف اندوز ہونے کے لیے بہترین مقام ہے۔
2۔ ڈونگا گلی — قدرتی جنگلات اور پائپ لائن ٹریک
ڈونگا گلی گلیات کا ایک نہایت دلکش پہاڑی مقام ہے، جو اپنے سرسبز جنگلات اور مشہور ایوبیہ پائپ لائن ٹریک کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔
یہاں کا سب سے بڑا حسن قدرتی جنگلات کے درمیان سے گزرتا ہوا پیدل راستہ ہے۔ ایوبیہ پائپ لائن ٹریک ڈونگا گلی کو ایوبیہ سے ملاتا ہے اور تقریباً چار کلومیٹر طویل ہے۔ یہ راستہ نسبتاً ہموار ہونے کی وجہ سے عام پہاڑی ٹریکنگ کے مقابلے میں آسان سمجھا جاتا ہے۔
ڈونگا گلی کی خاص تفریح:
پائپ لائن ٹریک پر قدرتی مناظر کے درمیان چہل قدمی۔
گھنے جنگلات میں پرندوں کی آوازیں سننا۔
خاندان کے ساتھ یادگار تصاویر بنانا۔
قدرتی ماحول میں پکنک اور مختصر تفریح۔
یہ مقام خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے موزوں ہے جو پہاڑوں پر مشکل چڑھائی کے بجائے آسان پیدل سفر اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
3۔ ایوبیہ نیشنل پارک — جنگلی حیات اور قدرتی حسن کا خزانہ
ایوبیہ نیشنل پارک گلیات کے قدرتی خزانوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ پارک 1984ء میں قائم کیا گیا اور بعد میں اس کے رقبے میں توسیع کی گئی۔ یہاں گھنے جنگلات، قدرتی نباتات، پرندوں اور جنگلی جانوروں کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔
ایوبیہ کی ایک خاص پہچان گھوڑا ڈھاکہ کا چیئر لفٹ کا مقام بھی ہے، جہاں سے آس پاس کے پہاڑوں اور جنگلات کا خوبصورت نظارہ کیا جا سکتا ہے۔
اہم تفریحی سرگرمیاں:
چیئر لفٹ کی سواری، اگر سروس دستیاب ہو۔
جنگلات میں قدرتی مناظر کا مشاہدہ۔
پرندوں اور جنگلی حیات کی معلومات حاصل کرنا۔
قدرتی ٹریکس پر پیدل سفر۔
خاندان کے ساتھ تصاویر اور پکنک۔
ایوبیہ فطرت سے محبت کرنے والوں، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک بہترین تعلیمی اور تفریحی مقام بھی ہے۔
4۔ مکشپوری ٹاپ — بادلوں کے قریب ایک حسین دنیا
مکشپوری ٹاپ گلیات کی دوسری بلند ترین چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 2,800 میٹر کی بلندی پر واقع یہ مقام اپنے سرسبز میدانوں، پہاڑی جنگلات اور شاندار نظاروں کے لیے مشہور ہے۔
مکشپوری تک پہنچنے کے لیے نتھیا گلی یا ڈونگا گلی کی جانب سے پیدل ٹریکنگ کی جا سکتی ہے۔ راستے میں درختوں، قدرتی پھولوں، پرندوں کی آوازوں اور خوبصورت پہاڑی مناظر سے واسطہ پڑتا ہے۔
چوٹی پر پہنچ کر دور تک پھیلے پہاڑ اور صاف موسم میں انتہائی خوبصورت قدرتی مناظر دکھائی دیتے ہیں۔
یہ مقام نوجوانوں، فٹنس کے شوقین افراد اور ٹریکنگ پسند کرنے والوں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ تاہم چھوٹے بچوں، بزرگوں اور جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے یہ ٹریک مشکل ہو سکتا ہے۔
5۔ میرانجانی ٹاپ — گلیات کی بلند ترین چوٹی
میرانجانی گلیات کی بلند ترین چوٹی ہے، جس کی بلندی تقریباً 2,992 میٹر ہے۔ یہاں تک پہنچنے کا پیدل راستہ نتھیا گلی کے قریب سے شروع ہوتا ہے۔
یہ ٹریک مکشپوری کے مقابلے میں زیادہ طویل اور جسمانی مشقت طلب ہے۔ لیکن چوٹی تک پہنچنے کے بعد قدرت کے وسیع اور دلکش مناظر سفر کی تھکن کم کر دیتے ہیں۔
یہاں سے موسم صاف ہونے پر دور دراز پہاڑی سلسلوں اور برف پوش چوٹیوں کے نظارے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔
6۔ چھانگلہ گلی — سکون اور تاریخی پہاڑی ماحول
چھانگلہ گلی گلیات کا ایک خوبصورت اور تاریخی مقام ہے۔ یہ سطح سمندر سے تقریباً 2,559 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ برطانوی دور میں یہاں فوجی تربیت کے لیے اسکول آف مسکیٹری قائم تھا۔
یہاں کے بلند پہاڑ، گھنے درخت، ٹھنڈی ہوا اور پرسکون ماحول اسے سیاحوں کے لیے ایک منفرد مقام بناتے ہیں۔
یہاں آپ قدرتی مناظر دیکھ سکتے ہیں، پہاڑی راستوں پر سیر کر سکتے ہیں اور شہر کے شور سے دور پرسکون وقت گزار سکتے ہیں۔
7۔ خیرہ گلی — قدرتی حسن کا پرسکون گوشہ
خیرہ گلی مری اور گلیات کے درمیان واقع ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہے۔ یہاں کے سرسبز پہاڑ، گھنے جنگلات، ٹھنڈا موسم اور خاموش ماحول اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
یہاں بڑے تجارتی مراکز کے بجائے قدرتی مناظر اور پرسکون پہاڑی فضا زیادہ توجہ حاصل کرتی ہے۔ ایسے خاندان جو ہجوم سے دور کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔
8۔ برا گلی — پہاڑی فضا اور قدرتی مناظر
برا گلی ایبٹ آباد اور نتھیا گلی کے درمیان واقع ایک پہاڑی علاقہ ہے۔ یہ اپنی ٹھنڈی آب و ہوا، درختوں سے ڈھکی پہاڑیوں اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔
یہاں کا ماحول نسبتاً پرسکون ہے اور سفر کے دوران قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے یہ ایک خوبصورت مقام ہے۔
9۔ تھنڈیانی — ٹھنڈے موسم کی حسین پہاڑی منزل
تھنڈیانی کا نام مقامی زبان کے لفظ ’’ٹھنڈا‘‘ سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ایبٹ آباد کے شمال مشرق میں واقع یہ خوبصورت پہاڑی مقام اپنے ٹھنڈے موسم، گھنے جنگلات اور وسیع قدرتی نظاروں کے لیے مشہور ہے۔
یہاں سے اردگرد کے پہاڑی سلسلوں کا دلکش منظر نظر آتا ہے۔ تھنڈیانی ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو نسبتاً کم ہجوم والی منزل تلاش کر رہے ہوں اور قدرت کے قریب وقت گزارنا چاہتے ہوں۔
مری — ملکہ کوہسار کی لازوال خوبصورتی
مری پاکستان کے مشہور ترین پہاڑی تفریحی مقامات میں سے ایک ہے۔ اسے ’’ملکہ کوہسار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 2,291 میٹر کی بلندی پر واقع مری اپنے ٹھنڈے موسم، گھنے جنگلات، خوبصورت پہاڑوں، برف باری اور تاریخی عمارتوں کے باعث ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
مری کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ اسلام آباد اور راولپنڈی سے اس کی نسبتاً آسان رسائی ہے۔ یہاں جدید ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، بازاروں، تفریحی مقامات اور خاندانی سرگرمیوں کی سہولت بھی موجود ہے۔
1۔ مال روڈ — مری کی رونقوں کا مرکز
مال روڈ مری کا سب سے مشہور تجارتی اور تفریحی مرکز ہے۔ یہاں شام کے وقت سیاحوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ دکانوں کی روشنیاں، مختلف کھانوں کی خوشبو، گرم کافی، مکئی، خشک میوہ جات اور مقامی اشیا کی دکانیں اس جگہ کو خاص طور پر دلکش بناتی ہیں۔
یہاں خاندان کے ساتھ پیدل گھومنے، خریداری کرنے، تصاویر بنوانے اور مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہونے کے بہترین مواقع موجود ہیں۔
مال روڈ پر واقع تاریخی جنرل پوسٹ آفس (GPO) بھی مری کی نمایاں پہچان ہے۔ اس کی پرانی عمارت اور آس پاس کا ماحول برطانوی دور کی یاد دلاتا ہے۔
2۔ کشمیر پوائنٹ — قدرت کے حسین نظارے
کشمیر پوائنٹ مری کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں سے پہاڑوں، جنگلات اور دور تک پھیلی وادیوں کا دلکش منظر دکھائی دیتا ہے۔ صاف موسم میں دور کے پہاڑی سلسلے بھی نظر آتے ہیں۔
یہ مقام خاص طور پر ان خاندانوں کے لیے موزوں ہے جو شور و ہجوم سے نسبتاً دور قدرتی ماحول میں وقت گزارنا چاہتے ہیں۔
3۔ پنڈی پوائنٹ — چیئر لفٹ اور پہاڑی مناظر
پنڈی پوائنٹ مری کا ایک مشہور تفریحی مقام ہے۔ یہاں چیئر لفٹ کی سواری کے ذریعے پہاڑوں اور جنگلات کے خوبصورت مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے یہ ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ چیئر لفٹ کی سہولت اور اوقات سفر سے پہلے معلوم کر لینا بہتر ہے کیونکہ موسم اور انتظامی حالات کے باعث سروس متاثر ہو سکتی ہے۔
4۔ بھوربن — قدرتی حسن اور پُرسکون تعطیلات
بھوربن مری کے قریب واقع ایک خوبصورت پہاڑی تفریحی علاقہ ہے۔ یہاں کے گھنے جنگلات، خوبصورت پہاڑی مناظر، پُرسکون ماحول اور معیاری ہوٹل اسے خاندانی تعطیلات کے لیے خاص بناتے ہیں۔
بھوربن میں قدرتی مناظر کے ساتھ آرام دہ قیام، خوبصورت ریسٹورنٹس اور گالف کی سہولت بھی سیاحوں کی توجہ حاصل کرتی ہے۔
5۔ جھیکا گلی — پہاڑی راستوں کی خوبصورتی
جھیکا گلی مری کے قریب ایک معروف پہاڑی مقام ہے۔ یہ نتھیا گلی اور گلیات کی جانب جانے والے راستے کا بھی اہم حصہ ہے۔ یہاں کے سرسبز پہاڑ، خوبصورت سڑکیں، ٹھنڈی ہوائیں اور قدرتی مناظر سفر کو یادگار بنا دیتے ہیں۔
6۔ مال روڈ کے تاریخی چرچ اور پرانی عمارتیں
مری کی تاریخی شناخت میں برطانوی دور کی تعمیرات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مال روڈ پر واقع ہولی ٹرینیٹی چرچ اس دور کی نمایاں یادگاروں میں شامل ہے۔ اس کی تعمیر کا آغاز انیسویں صدی کے وسط میں ہوا اور 1860ء میں اسے باقاعدہ مقدس قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ پرانے سرکاری بنگلے، تاریخی رہائشی عمارتیں اور نوآبادیاتی طرزِ تعمیر مری کی تاریخ اور ماضی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
پتریاٹہ (نیو مری) — کیبل کار اور چیئر لفٹ کی دلچسپ دنیا
پتریاٹہ مری کے قریب واقع ایک مشہور پہاڑی تفریحی مقام ہے، جسے نیو مری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مقام خاص طور پر اپنی چیئر لفٹ اور کیبل کار کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔
پتریاٹہ کی سب سے بڑی کشش یہ ہے کہ یہاں سیاح بلند پہاڑوں اور گھنے جنگلات کے اوپر سے گزرتے ہوئے قدرتی مناظر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ کیبل کار کے دوران نیچے پھیلے ہوئے جنگلات، سبز پہاڑ اور دور تک نظر آنے والی وادیاں ایک شاندار منظر پیش کرتی ہیں۔
پتریاٹہ کی چیئر لفٹ اور کیبل کار
یہاں آنے والے خاندانوں کے لیے چیئر لفٹ اور کیبل کار کی سواری ایک یادگار تجربہ ہوتی ہے۔ پہاڑی بلندیوں کی طرف بڑھتے ہوئے درختوں سے ڈھکے پہاڑ اور بادلوں سے گھری وادیاں سیاحوں کو قدرت کے قریب لے جاتی ہیں۔
یہاں کے تفریحی نظام میں مختلف حصوں کے درمیان چیئر لفٹ اور کیبل کار کا سفر شامل ہے۔ سیاحوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ ٹکٹ، آپریٹنگ اوقات اور سروس کی دستیابی پہلے معلوم کریں، کیونکہ مرمت، خراب موسم یا حفاظتی معائنے کے دوران سہولت عارضی طور پر بند ہو سکتی ہے۔
پتریاٹہ کیوں منفرد ہے؟
پہاڑوں کے اوپر کیبل کار کا دلچسپ تجربہ۔
گھنے چیڑ کے جنگلات اور قدرتی مناظر۔
خاندان کے ساتھ تفریح اور فوٹوگرافی کے مواقع۔
مری کے مقابلے میں ایک مختلف نوعیت کی پہاڑی تفریح۔
قدرتی ماحول میں چند گھنٹے گزارنے کا بہترین موقع۔
پتریاٹہ ان خاندانوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو بچوں کے ساتھ تفریحی سواریوں اور قدرتی مناظر دونوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ کی ثقافت، زبان اور روایات
گلیات، مری اور اس کے آس پاس کے پہاڑی علاقوں کی ثقافت میں ہزارہ، پوٹھوہاری اور پہاڑی معاشرتی روایات کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی پہاڑوں، جنگلات، مقامی زراعت، مویشی پالنے اور سیاحت سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
زبان: گلیات اور ہزارہ کے کئی علاقوں میں ہندکو بولی جاتی ہے، جبکہ مری اور ملحقہ علاقوں میں پہاڑی، پوٹھوہاری اور پنجابی زبانوں اور لہجوں کا اثر بھی ملتا ہے۔ اردو عام طور پر سیاحوں اور مقامی افراد کے درمیان رابطے کی زبان ہے۔
ثقافت: یہاں کی ثقافت سادگی، روایتی مہمان نوازی، خاندانی تعلقات اور مقامی رسم و رواج کی عکاس ہے۔ مقامی آبادی کے روایتی گھروں، لباس، کھانوں اور روزمرہ زندگی میں پہاڑی طرزِ معاشرت نمایاں نظر آتا ہے۔
لباس: روایتی طور پر شلوار قمیص، گرم چادریں، اونی شالیں، سویٹر، واسکٹ اور سردیوں کے لیے ہاتھ سے بنے گرم ملبوسات استعمال کیے جاتے ہیں۔
مقامی روایات: مہمانوں کا استقبال، چائے اور روایتی کھانوں سے تواضع، بزرگوں کا احترام اور خاندان کے ساتھ مل بیٹھنا یہاں کی معاشرتی زندگی کا اہم حصہ ہے۔
مقامی لوگوں کی مہمان نوازی
گلیات اور مری کے مقامی لوگوں کی مہمان نوازی اس خطے کی خوبصورت روایات میں شامل ہے۔ ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، چھوٹے ریسٹورنٹس اور مقامی دکانوں پر سیاحوں کا استقبال کیا جاتا ہے۔
مقامی افراد اپنی ثقافت، علاقے کے راستوں، موسم اور سیاحتی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ چھوٹے مقامی کاروبار، دستکاری کی دکانیں اور کھانے پینے کے مراکز بھی علاقے کی معیشت کا اہم حصہ ہیں۔
سیاحوں کے لیے بہتر ہے کہ خریداری یا مقامی ٹرانسپورٹ استعمال کرتے وقت قیمت پہلے طے کر لیں اور مقامی لوگوں کے رہن سہن اور قدرتی ماحول کا احترام کریں۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ کے مشہور روایتی کھانے
پہاڑی سفر کی خوبصورتی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اس کے ساتھ مزیدار روایتی کھانوں کا لطف بھی شامل ہو۔ گلیات اور مری میں پاکستانی کھانوں کے علاوہ ہزارہ اور شمالی علاقوں کے ذائقوں سے متاثر کئی پکوان بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
1۔ چپلی کباب: مصالحوں اور گوشت سے تیار ہونے والے چپلی کباب اس خطے کے مشہور پاکستانی کھانوں میں شامل ہیں۔ گرم نان اور چٹنی کے ساتھ ان کا ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
2۔ مکی کی روٹی اور ساگ: سرد موسم میں مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ اور مکھن ایک روایتی اور لذیذ انتخاب ہے۔
3۔ چکن کڑاہی: ٹماٹر، ادرک، لہسن، ہری مرچ اور خوشبودار مصالحوں سے تیار کی جانے والی چکن کڑاہی سیاحوں کی پسندیدہ ڈشز میں شامل ہے۔
4۔ دم پخت: گوشت اور مصالحوں کو دھیمی آنچ پر پکانے سے تیار ہونے والا یہ کھانا اپنے منفرد ذائقے اور خوشبو کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔
5۔ گرم سوپ: سرد موسم میں سبزیوں، چکن یا گوشت سے تیار ہونے والا گرم سوپ خاص طور پر شام کے وقت بہت لطف دیتا ہے۔
6۔ کشمیری چائے: گلابی رنگ کی خوشبودار چائے، جس میں دودھ، الائچی اور دیگر اجزا شامل کیے جاتے ہیں، سرد موسم میں ایک مقبول مشروب ہے۔
7۔ قہوہ: سبز چائے، الائچی اور بعض اوقات دارچینی سے تیار ہونے والا گرم قہوہ پہاڑی موسم میں خاص طور پر پسند کیا جاتا ہے۔
8۔ مکئی، بھنے ہوئے چنے اور مونگ پھلی: پہاڑی بازاروں اور سڑک کنارے چھوٹے اسٹالز پر یہ روایتی ہلکی پھلکی غذائیں آسانی سے مل جاتی ہیں۔
9۔ خشک میوہ جات: اخروٹ، بادام، کشمش، چلغوزے اور دیگر خشک میوہ جات یہاں کی خریداری میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
مقامی ریسٹورنٹس میں کھانے کی دستیابی اور معیار مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے خاندان کے ساتھ کھانا کھاتے وقت صفائی اور تازگی کا خیال ضرور رکھیں۔
خریداری اور تحائف — گھر والوں کے لیے کیا لے کر آئیں؟
گلیات، مری اور پتریاٹہ کی سیر کے دوران خریداری بھی ایک دلچسپ سرگرمی ہے۔ یہاں کے بازاروں میں مقامی اشیا، گرم ملبوسات، خشک میوہ جات اور مختلف تحائف دستیاب ہوتے ہیں۔
آپ اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لیے درج ذیل چیزیں خرید سکتے ہیں:
اونی شالیں: خوبصورت رنگوں اور ڈیزائنوں والی گرم شالیں خواتین کے لیے بہترین تحفہ ہیں۔
گرم سویٹر اور جرابیں: سرد موسم کے لیے مفید اور یادگار خریداری۔
خشک میوہ جات: اخروٹ، بادام، کشمش اور چلغوزے۔
مقامی دستکاری: لکڑی سے بنی آرائشی اشیا، سجاوٹی سامان اور روایتی تحائف۔
روایتی ملبوسات: خوبصورت چادریں، واسکٹ اور گرم ٹوپیاں۔
یادگاری اشیا: مری اور پتریاٹہ کے نام یا مناظر والی کی چین، مگ، چھوٹے ماڈل اور دیگر سووینئرز۔
مقامی شہد: مستند اور معیاری دکان سے حاصل کیا گیا شہد بھی ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔
مری مال روڈ اور نتھیا گلی کے بازار خریداری کے لیے معروف ہیں۔ خریداری سے پہلے مختلف دکانوں پر قیمتوں کا موازنہ ضرور کریں۔
اسلام آباد سے گلیات، مری اور پتریاٹہ کیسے جائیں؟
اسلام آباد سے گلیات، مری اور پتریاٹہ کا سفر بذریعہ سڑک نہایت خوبصورت اور دلچسپ ہے۔ راستے میں پہاڑی مناظر، سرسبز درخت اور خوبصورت وادیاں سفر کا لطف دوبالا کر دیتی ہیں۔
اسلام آباد سے مری
اسلام آباد سے مری کا فاصلہ تقریباً 60 کلومیٹر ہے۔
مری ایکسپریس وے کے ذریعے سفر کیا جا سکتا ہے۔
عام حالات میں تقریباً ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں، تاہم ٹریفک کے باعث وقت بڑھ سکتا ہے۔
ذاتی گاڑی، کرائے کی گاڑی اور دیگر دستیاب ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کیا جا سکتا ہے۔
مری سے پتریاٹہ
مری سے پتریاٹہ کا فاصلہ تقریباً 15 سے 20 کلومیٹر ہے۔
سڑک کے ذریعے پتریاٹہ چیئر لفٹ اور کیبل کار کے مقام تک پہنچا جا سکتا ہے۔
راستے میں سرسبز پہاڑ اور جنگلات خوبصورت مناظر پیش کرتے ہیں۔
مری سے نتھیا گلی اور گلیات
مری سے جھیکا گلی، خیرہ گلی اور چھانگلہ گلی کے راستے نتھیا گلی اور ڈونگا گلی پہنچا جا سکتا ہے۔ مری سے نتھیا گلی کا سڑک کے ذریعے فاصلہ تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر ہے۔
دوسرا راستہ ایبٹ آباد کے ذریعے بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ایبٹ آباد سے نتھیا گلی تقریباً 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
اہم مشورہ: پہاڑی راستوں پر گاڑی چلاتے وقت احتیاط کریں۔ برف باری، بارش اور دھند کے دوران سفر سے پہلے سڑکوں کی صورتحال معلوم کریں۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ جانے کا بہترین موسم کون سا ہے؟
ان مقامات کی خوبصورتی ہر موسم میں مختلف انداز اختیار کرتی ہے۔
بہار (مارچ تا مئی): اس موسم میں درختوں پر نئی کونپلیں، رنگ برنگے پھول اور تازہ ہریالی دیکھنے کو ملتی ہے۔ قدرتی مناظر اور فوٹوگرافی کے شوقین افراد کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔
گرمیوں کا موسم (جون تا اگست): میدانی علاقوں کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے یہ سب سے مقبول سیاحتی موسم ہے۔ نتھیا گلی، مری اور ایوبیہ میں خوشگوار موسم کے باعث خاندانوں کی بڑی تعداد تعطیلات گزارنے آتی ہے۔
خزاں (ستمبر تا نومبر): اس موسم میں درختوں کے پتے مختلف رنگ اختیار کرتے ہیں۔ موسم نسبتاً ٹھنڈا اور ماحول پرسکون ہوتا ہے۔
سردیوں کا موسم (دسمبر تا فروری): برف باری کے باعث مری اور گلیات کا حسن کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ سفید برف سے ڈھکے پہاڑ اور درخت سیاحوں کے لیے ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں۔ تاہم برف باری کے دوران سڑکوں کی بندش اور پھسلن کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔
خاندان کے ساتھ 3 دن کا بہترین سیاحتی پروگرام
اگر آپ اپنے خاندان کے ساتھ تین دن کا سفر ترتیب دینا چاہتے ہیں تو درج ذیل پروگرام ایک اچھا انتخاب ہو سکتا ہے۔
پہلا دن — مری اور پتریاٹہ
صبح اسلام آباد سے مری روانگی۔
پتریاٹہ کی چیئر لفٹ اور کیبل کار کی سیر۔
دوپہر کا کھانا اور ہوٹل میں آرام۔
شام کو مال روڈ پر چہل قدمی اور خریداری۔
رات مری میں قیام۔
دوسرا دن — نتھیا گلی اور ڈونگا گلی
ناشتے کے بعد نتھیا گلی روانگی۔
تاریخی چرچ اور مرکزی بازار کی سیر۔
ڈونگا گلی اور ایوبیہ پائپ لائن ٹریک کی سیر۔
قدرتی مناظر کے درمیان تصاویر اور تفریح۔
رات نتھیا گلی یا مری میں قیام۔
تیسرا دن — ایوبیہ اور واپسی
صبح ایوبیہ نیشنل پارک کی سیر۔
چیئر لفٹ کی سواری، اگر دستیاب ہو۔
مقامی کھانوں سے لطف اندوز ہونا۔
واپسی سے قبل مقامی بازار سے خریداری۔
شام کو اسلام آباد واپسی۔
یہ پروگرام موسم، ٹریفک اور خاندان کے افراد کی سہولت کے مطابق تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ مکشپوری یا میرانجانی کی ٹریکنگ بھی کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے اضافی وقت رکھیں۔
خاندان کے ساتھ سفر کو یادگار بنانے کے لیے ضروری احتیاطیں
گلیات، مری اور پتریاٹہ کا سفر خوشگوار بنانے کے لیے چند اہم باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
سفر سے پہلے ہوٹل کی بکنگ اور رہائش کی سہولت کی تصدیق کر لیں۔
گرم کپڑے، جیکٹ، آرام دہ جوتے اور بارش سے بچاؤ کا سامان ساتھ رکھیں۔
بچوں اور بزرگوں کے لیے ضروری ادویات اور ابتدائی طبی امداد کا سامان رکھیں۔
پہاڑی راستوں پر تیز رفتاری سے گریز کریں۔
برف باری یا شدید بارش کے دوران مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
چیئر لفٹ اور کیبل کار استعمال کرنے سے پہلے حفاظتی انتظامات اور آپریشنل صورتحال معلوم کریں۔
پیدل ٹریکنگ کے لیے اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق راستے کا انتخاب کریں۔
سیاحتی مقامات پر کھانے، خریداری اور ٹرانسپورٹ کے نرخ پہلے معلوم کر لیں۔
بچوں کو پہاڑی کناروں، جنگلی جانوروں اور تیز بہتے پانی سے دور رکھیں۔
جنگلات اور سیاحتی مقامات پر کوڑا کرکٹ نہ پھینکیں۔
موسم اور سیاحتی سہولتوں کی تازہ معلومات کے لیے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ اور اس کی Go Galiyat 360 ایپ سے بھی رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
گلیات، مری اور پتریاٹہ — پاکستان کی سیاحت کا قابلِ فخر سرمایہ
پاکستان قدرتی حسن، تاریخی ورثے اور ثقافتی رنگا رنگی سے مالا مال ملک ہے۔ گلیات، مری اور پتریاٹہ اس خوبصورتی کی ایسی نمایاں مثالیں ہیں جہاں قدرت کے دلکش مناظر، پہاڑی ثقافت، روایتی کھانے، تاریخی عمارتیں اور جدید سیاحتی سہولتیں ایک ساتھ دیکھنے کو ملتی ہیں۔
نتھیا گلی کے پرسکون جنگلات، ڈونگا گلی کے پائپ لائن ٹریک، ایوبیہ کے قدرتی حسن، مکشپوری اور میرانجانی کی بلند چوٹیوں، مری کی تاریخی مال روڈ اور پتریاٹہ کی دلچسپ کیبل کار کا اپنا الگ ہی لطف ہے۔
یہاں ہر مقام ایک نئی کہانی سناتا ہے اور ہر منظر قدرت کی خوبصورتی کا احساس دلاتا ہے۔ کہیں بچوں کی خوشی، کہیں خاندان کے ساتھ چہل قدمی، کہیں گرم چائے کا کپ اور کہیں بادلوں میں لپٹے پہاڑ، یہ سب مل کر ایک ایسا سفر بناتے ہیں جس کی یادیں طویل عرصے تک دل میں محفوظ رہتی ہیں۔
تو پھر دیر کس بات کی؟ اگلی خاندانی تعطیلات کے لیے گلیات، مری اور پتریاٹہ کا انتخاب کیجیے، پاکستان کے قدرتی حسن کو قریب سے دیکھیے اور اپنے پیاروں کے ساتھ زندگی کے خوبصورت لمحات جمع کیجیے۔ کیونکہ پاکستان کے پہاڑ صرف دیکھنے کی جگہ نہیں، بلکہ محسوس کرنے اور یادوں میں بسانے کی ایک حسین دنیا ہیں۔








