چھاتی میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں۔ بروقت تشخیص، درست طبی علاج اور خاندان کا تعاون ہزاروں خواتین کی زندگی بہتر بنا سکتا ہے۔
اکتوبر کا مہینہ دنیا بھر میں بریسٹ کینسر (چھاتی کے سرطان) سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دوران گلابی ربن کے ذریعے خواتین کو اپنی صحت پر توجہ دینے، بیماری کی علامات پہچاننے اور بروقت طبی معائنہ کروانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
پاکستان میں اس موضوع پر بات کرنا خاص طور پر ضروری ہے، کیونکہ شرم، خوف، غلط فہمیوں، گھریلو ذمہ داریوں اور علاج کے اخراجات کی وجہ سے بعض خواتین ڈاکٹر سے رجوع کرنے میں تاخیر کر دیتی ہیں۔
یاد رکھیے! چھاتی میں گانٹھ محسوس ہونے کا مطلب لازماً کینسر نہیں، لیکن ہر نئی یا غیر معمولی تبدیلی کی طبی جانچ ضروری ہے۔ بیماری کی جلد تشخیص ہو جائے تو علاج کے کامیاب ہونے کے امکانات بہتر ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بریسٹ کینسر کی صورتِ حال
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے عالمی ادارۂ تحقیق برائے سرطان (IARC) کی GLOBOCAN 2024 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ تشخیص ہونے والے سرطانوں میں پہلے نمبر پر ہے۔ رپورٹ میں 2024 کے لیے خواتین میں اس کے تقریباً 43,721 نئے کیسز کا تخمینہ دیا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ بریسٹ کینسر محض کسی ایک عمر، طبقے یا خاندان کا مسئلہ نہیں۔ اس کے بارے میں درست معلومات ہر عورت تک پہنچنا ضروری ہیں۔
بریسٹ کینسر کیا ہے؟
عورت کی چھاتی میں دودھ بنانے والے غدود، دودھ کی نالیاں، چربی اور دوسرے بافتی حصے ہوتے ہیں۔ جب چھاتی کے بعض خلیات غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں اور ان کی افزائش قابو سے باہر ہو جاتی ہے تو سرطان بن سکتا ہے۔
اگر اس کی تشخیص اور علاج میں تاخیر ہو تو یہ بیماری جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل سکتی ہے۔ تاہم ہر بریسٹ کینسر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی مختلف اقسام ہیں اور علاج کا انتخاب بیماری کی قسم، مرحلے اور مریضہ کی مجموعی صحت کے مطابق کیا جاتا ہے۔
کیا بریسٹ کینسر صرف بڑی عمر کی خواتین کو ہوتا ہے؟
نہیں۔ یہ بیماری نوجوان خواتین میں بھی ہو سکتی ہے، اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ اس کا خطرہ بڑھتا ہے۔
خصوصاً ان خواتین کو اپنی صحت کے بارے میں زیادہ محتاط رہنا چاہیے:
وہ خواتین جن کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ ہے۔
وہ خواتین جن کی والدہ، بہن یا بیٹی کو بریسٹ کینسر ہوا ہو۔
وہ خواتین جن کے خاندان میں کم عمری میں بریسٹ کینسر یا بعض دوسرے متعلقہ سرطانوں کی تاریخ موجود ہو۔
وہ خواتین جنہیں پہلے کسی چھاتی کی بیماری یا سرطان کا سامنا رہا ہو۔
وہ خواتین جنہیں ڈاکٹر نے جینیاتی یا دیگر طبی وجوہ کی بنا پر زیادہ خطرے میں قرار دیا ہو۔
اہم بات: خاندان میں بریسٹ کینسر کی تاریخ نہ ہونے کے باوجود یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ اس لیے ہر عمر میں غیر معمولی علامات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
بریسٹ کینسر کی ابتدائی علامات کون سی ہیں؟
اپنی چھاتی کی معمول کی حالت اور شکل سے واقف رہنا بہت ضروری ہے۔ درج ذیل تبدیلیوں میں سے کوئی ایک بھی نظر آئے تو ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں:
1۔ چھاتی میں نئی گانٹھ یا سختی
چھاتی یا بغل میں نئی گانٹھ، موٹاپن یا سخت حصہ محسوس ہونا اہم علامت ہو سکتی ہے۔ سرطان کی گانٹھ اکثر بے درد ہوتی ہے، لیکن درد نہ ہونا اطمینان کی دلیل نہیں۔
2۔ چھاتی کے سائز یا شکل میں تبدیلی
اگر ایک چھاتی کی شکل، سائز یا ساخت میں غیر معمولی تبدیلی آئے تو اسے نظر انداز نہ کریں۔
3۔ جلد پر گڑھے یا کھنچاؤ
چھاتی کی جلد پر گڑھے پڑنا، جلد کا اندر کی طرف کھنچنا، موٹا ہونا یا نارنجی کے چھلکے جیسی شکل اختیار کرنا قابلِ توجہ علامات ہیں۔
4۔ نپل میں تبدیلی
نپل کا نیا اندر کی طرف مڑ جانا، اس پر مسلسل خارش یا زخم، یا اردگرد کی جلد میں غیر معمولی تبدیلی کی جانچ ضروری ہے۔
5۔ نپل سے غیر معمولی رطوبت
اگر نپل سے خودبخود خون یا کوئی غیر معمولی رطوبت نکلے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں، خصوصاً جب یہ صرف ایک چھاتی سے ہو۔
6۔ بغل میں گانٹھ یا سوجن
بغل میں نئی گانٹھ یا سوجن بھی چھاتی کے سرطان کی علامت ہو سکتی ہے۔
7۔ مسلسل ایک جگہ درد
چھاتی کا درد اکثر سرطان کی وجہ سے نہیں ہوتا، لیکن کسی ایک جگہ مسلسل درد، خصوصاً دوسری تبدیلیوں کے ساتھ، طبی معائنے کا تقاضا کرتا ہے۔
ہر علامت کا مطلب کینسر نہیں۔ ہارمونز، انفیکشن، دودھ کی نالیوں یا سومی گانٹھوں کی وجہ سے بھی ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے طبی جانچ ضروری ہے۔
گھر پر چھاتی کی جانچ کیسے کریں؟
گھر پر اپنی چھاتی کی حالت سے واقف ہونا (Breast Awareness) جلد تبدیلی پہچاننے میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ خود معائنہ میموگرافی یا ڈاکٹر کے معائنے کا متبادل نہیں اور اس سے ہر سرطان کی تشخیص ممکن نہیں۔
آئینے کے سامنے دیکھیں
اچھی روشنی میں سیدھے کھڑے ہو کر دونوں چھاتیوں کو دیکھیں۔ ان کے سائز، شکل، جلد اور نپل کی ظاہری حالت پر توجہ دیں۔
بازوؤں کی پوزیشن تبدیل کریں
پہلے بازو نیچے رکھیں، پھر انہیں اوپر اٹھائیں اور دوبارہ دیکھیں کہ کہیں جلد پر کھنچاؤ، گڑھا، سوجن یا نپل کی پوزیشن میں نئی تبدیلی تو نہیں۔
چھاتی کو نرمی سے محسوس کریں
انگلیوں کے پوروں سے چھاتی کے تمام حصوں کو نرمی سے محسوس کریں۔ دائرے کی شکل میں یا اوپر سے نیچے کی ترتیب سے پورے حصے کا جائزہ لیں تاکہ کوئی حصہ رہ نہ جائے۔
بغل اور نپل کے آس پاس بھی توجہ دیں
بغل اور چھاتی کے اطراف میں کسی نئی گانٹھ یا سختی پر توجہ دیں۔ نپل کو زور سے دبانے یا بار بار نچوڑنے کی ضرورت نہیں۔
تبدیلی محسوس ہو تو کیا کریں؟
اگر نئی گانٹھ، جلد میں تبدیلی، نپل سے رطوبت یا کوئی دوسری غیر معمولی علامت محسوس ہو تو جلد ڈاکٹر سے وقت لیں۔ خود تشخیص کرنے، کئی ہفتے انتظار کرنے یا صرف گھریلو علاج پر انحصار کرنے سے گریز کریں۔
ماہواری کے دوران ہارمونز کی وجہ سے چھاتی میں عارضی حساسیت یا گانٹھ جیسی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی تبدیلی نئی، غیر معمولی یا برقرار رہنے والی ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں۔
کیا میموگرافی ضروری ہے؟
میموگرافی (Mammography) چھاتی کا خصوصی ایکسرے ہے جو ایسی تبدیلیوں کا پتا لگا سکتا ہے جو ابھی ہاتھ سے محسوس نہ ہوتی ہوں۔
اس سلسلے میں تین باتیں سمجھنا ضروری ہیں:
علامات موجود ہوں: کسی بھی عمر میں ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ صرف اپنی عمر کم ہونے کی وجہ سے جانچ مؤخر نہ کریں۔
علامات موجود نہ ہوں: اسکریننگ کی عمر اور وقفہ آپ کی عمر، خاندانی تاریخ اور ذاتی خطرے کے مطابق طے کیا جاتا ہے۔
زیادہ خطرہ ہو: اگر قریبی رشتہ داروں میں بریسٹ کینسر رہا ہو یا موروثی خطرے کا شبہ ہو تو ڈاکٹر سے جلد اسکریننگ کے بارے میں مشورہ لیں۔
پاکستان کی 2024 کی قومی کینسر اسکریننگ گائیڈلائنز میں 40 سال سے زیادہ عمر کی بےعلامت خواتین کے لیے ابتدائی میموگرافی کا ذکر ہے۔ تاہم مناسب وقت اور بعد کے معائنے کا فیصلہ مقامی طبی رہنمائی اور انفرادی خطرے کے مطابق ہونا چاہیے۔
یاد رکھیں، خود معائنہ، الٹراساؤنڈ اور میموگرافی کے مقاصد مختلف ہیں۔ کسی گانٹھ کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر الٹراساؤنڈ، میموگرافی یا دوسری جانچ تجویز کر سکتا ہے۔
کیا بریسٹ کینسر سے بچاؤ ممکن ہے؟
بریسٹ کینسر کے تمام کیسز کو روکنا ممکن نہیں، کیونکہ عمر، جنس اور موروثی عوامل جیسے بعض خطرات ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے۔ لیکن صحت مند طرزِ زندگی مجموعی صحت بہتر بنانے اور بعض قابلِ تبدیلی خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
1۔ وزن کو صحت مند حد میں رکھیں
خصوصاً سنِ یاس (Menopause) کے بعد وزن میں بہت زیادہ اضافہ بریسٹ کینسر کے خطرے سے وابستہ ہو سکتا ہے۔
2۔ روزانہ جسمانی سرگرمی اپنائیں
پیدل چلنا، ہلکی ورزش اور روزمرہ جسمانی سرگرمی کو معمول بنائیں۔ اپنی عمر اور صحت کے مطابق ورزش کا انتخاب کریں۔
3۔ متوازن غذا کھائیں
سبزیاں، پھل، دالیں، سالم اناج اور مناسب مقدار میں پروٹین استعمال کریں۔ کسی ایک غذا یا مشروب کو سرطان سے مکمل حفاظت کی ضمانت نہ سمجھیں۔
4۔ تمباکو سے دور رہیں
سگریٹ اور دوسری تمباکو مصنوعات سے پرہیز مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔
5۔ ہارمون والی ادویات خود سے استعمال نہ کریں
سنِ یاس کی علامات کے لیے ہارمون تھراپی یا دوسری ہارمون والی ادویات شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے فوائد اور خطرات پر بات کریں۔
6۔ دودھ پلانے کے فوائد سمجھیں
اگر ممکن اور طبی طور پر مناسب ہو تو بچے کو دودھ پلانا ماں اور بچے دونوں کے لیے مفید ہے اور بریسٹ کینسر کے خطرے میں کمی سے وابستہ ہے۔
7۔ خاندانی تاریخ ڈاکٹر کو بتائیں
اگر والدہ، بہن، بیٹی یا خاندان کے دیگر قریبی افراد کو بریسٹ یا متعلقہ سرطان ہوا ہو تو یہ معلومات ڈاکٹر کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
کوئی مخصوص صابن، تیل، مالش، جڑی بوٹی، سپلیمنٹ یا گھریلو نسخہ بریسٹ کینسر سے مکمل بچاؤ یا علاج کی ضمانت نہیں دیتا۔
اگر بریسٹ کینسر تشخیص ہو جائے تو کیا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں، بریسٹ کینسر کی بہت سی اقسام کا مؤثر علاج موجود ہے۔ اگر بیماری ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہو جائے تو مکمل علاج کا امکان بہتر ہو سکتا ہے۔ تاہم ہر مریضہ کے لیے مکمل صحت یابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
علاج کا منصوبہ سرطان کی قسم، اس کے مرحلے، ہارمون ریسیپٹرز، HER2 جیسے مخصوص ٹیسٹوں اور مریضہ کی مجموعی صحت کے مطابق بنایا جاتا ہے۔
۔ آپریشن (Surgery)
بعض مریضات میں صرف سرطان والا حصہ نکالا جاتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں پوری چھاتی نکالنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ فیصلہ بیماری کی نوعیت اور طبی صورتِ حال کے مطابق ہوتا ہے۔
۔ ریڈیوتھراپی (Radiotherapy)
اس علاج میں شعاعوں کے ذریعے سرطان کے خلیات کو ختم کرنے یا ان کی واپسی کا خطرہ کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
۔ کیموتھراپی (Chemotherapy)
اس میں ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو سرطان کے خلیات کو تباہ کرنے یا ان کی افزائش روکنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ علاج آپریشن سے پہلے یا بعد میں، یا بعض دوسرے حالات میں استعمال ہو سکتا ہے۔
۔ ہارمون تھراپی (Hormone Therapy)
اگر سرطان کے خلیات مخصوص ہارمونز سے متاثر ہوتے ہوں تو ایسی ادویات دی جا سکتی ہیں جو ان ہارمونز کے اثر کو روکتی ہیں یا ان کی مقدار کم کرتی ہیں۔
۔ ٹارگٹڈ تھراپی (Targeted Therapy)
یہ ادویات سرطان کے خلیات کی مخصوص خصوصیات کو نشانہ بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر HER2 مثبت سرطان میں مخصوص ٹارگٹڈ ادویات استعمال کی جا سکتی ہیں۔
ہر مریضہ کو یہ تمام علاج درکار نہیں ہوتے۔ بعض کو ایک یا دو طریقے کافی ہوتے ہیں، جبکہ دوسروں کے لیے مشترکہ علاج ضروری ہو سکتا ہے۔
سب سے اہم اصول: علاج میں تاخیر نہ کریں، کسی غیر مستند نسخے پر انحصار نہ کریں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر علاج ادھورا نہ چھوڑیں۔
کیا بریسٹ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے؟
پاکستان میں علاج کے اخراجات بہت سے خاندانوں کے لیے ایک حقیقی مسئلہ ہیں۔ لیکن اخراجات کے خوف سے تشخیص یا علاج مؤخر کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اپنے شہر کے بڑے سرکاری تدریسی اسپتال، کینسر سینٹر یا مستند بریسٹ کلینک سے رابطہ کریں۔ وہاں دستیاب مالی معاونت، رعایتی ٹیسٹ، فلاحی پروگرام اور علاج کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کریں۔
مریضہ کو جذباتی تعاون، گھر والوں کی مدد اور علاج کے دوران مناسب غذائیت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ بریسٹ کینسر نہ مریضہ کی غلطی ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے اسے شرمندگی یا سماجی تنہائی کا سامنا کرنا چاہیے۔
بیٹیوں، ماؤں اور خاندان کے لیے اہم پیغام
ماؤں کو چاہیے کہ بیٹیوں کو جسمانی صحت کے بارے میں عمر کے مطابق درست معلومات دیں۔ نوجوان لڑکیوں کو بھی اپنی چھاتی کی معمول کی حالت سے واقف ہونا چاہیے اور کسی غیر معمولی تبدیلی پر قابلِ اعتماد ڈاکٹر سے بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
شوہر، والدین، بہن بھائی اور دیگر گھر والے بھی مریضہ کی مدد کر سکتے ہیں۔ کسی خاتون کی شکایت کو محض وہم، گھبراہٹ یا شرم کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
آج ہی اپنی صحت کے لیے ایک قدم اٹھائیں
اپنی چھاتی کی معمول کی شکل اور حالت سے واقف ہوں۔
کسی نئی یا غیر معمولی تبدیلی کو نظر انداز نہ کریں۔
اپنی عمر اور خطرے کے مطابق اسکریننگ کے بارے میں ڈاکٹر سے پوچھیں۔
خاندان میں سرطان کی تاریخ ہو تو ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔
دوسری خواتین کو بھی درست معلومات دیں اور انہیں بروقت معائنے کی ترغیب دیں۔
یاد رکھیے: آگاہی خوف پھیلانے کے لیے نہیں، بلکہ درست وقت پر درست قدم اٹھانے کے لیے ہے۔ اپنی صحت کو ترجیح دیں، علامات پر خاموش نہ رہیں اور ضرورت پڑنے پر طبی مدد حاصل کریں۔
طبی وضاحت: یہ مضمون عام معلومات اور آگاہی کے لیے ہے، ذاتی تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ کسی علامت یا گانٹھ کی صورت میں مستند ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔
طبی تحقیق اور مستند حوالہ جات
یہ مضمون اصل الفاظ میں تیار کیا گیا ہے؛ طبی حقائق کی جانچ کے لیے درج ذیل مستند ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO): بریسٹ کینسر کی علامات، خطرات اور علاج۔
انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC): GLOBOCAN کے عالمی سرطان کے اعداد و شمار۔
پاکستان کی قومی کینسر اسکریننگ گائیڈلائنز 2024: اسکریننگ اور ابتدائی تشخیص کی رہنمائی۔









