سلسلے دل کے – آمنہ ریاض

میرے خواب لوٹا دو - نگہت عبداللہ 77

حسنات علی نے کبھی کہا نہیں مگر دل ہی دل میں اس نے اپنی ذات کو ایک ایسے سنگھاسن پر بٹھا رکھا تھا جہاں سے اس کے ارد گرد رہنے والے لوگ بالشےُے تو خیر نہیں لگتے تھے لیکن انہیں دیکھنے کے لےے نظروں کے ساتھ ساتھ گردن بھی جھکانا پڑتی تھی، ایسے میں جب عافیہ خالہ نے اپنی بیٹیوں میں سے، خاندان بھر میں سب سے کم صورت گردانی جانے والی بیٹی کا رشتہ بھی اسے دینے سے انکار کر دیا تو اس کی ذات کا سارا زعم و غرور صابن کے پھسپھسے جھاگ کی سی شکل اختیار کر گیا۔

انکار جتنا غیر متوقع تھا صدمہ اتنا ہی شدید۔ حالانکہ بات اتنی بڑی بھی نہیں تھی اس قسم کے معاملات میں ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے پر کوئی ڈھول بھی نہیں پیٹا گیا تھا کہ سارا زمانہ واقف ہوجاتا۔ اس نے سرسری سا ذکر ماں جی سے کیا۔ ماں جی نے سرسری انداز میں عافیہ خالہ سے بات کر ڈالی۔ عافیہ خالہ نے انکار کیا اور ماں جی نے ان کا انکار حسنات تک پہنچادیا۔

’’اچھا ہوا جو میں نے شجاعت اور عرفات سے ذکر نہیں کیا۔ ان سے بات کرنے کے بعد ممکن ہی نہیں کہ ان کی بیویاں واقف نہ ہوں۔ بہت ہی اچھا ہوا ورنہ ان دونوں نے تو اس ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا کر رکھ دینا تھا۔‘‘ ماں جی کا مخصوص پَرسکون لہجہ پہلی بار اس کے اعصاب پر کوڑا بن کر برسا تھا۔

’’ذرا سی بات۔۔۔‘‘ اس نے انتہائی مایوسی سے کئی بار سوچا۔ دل چاہا کم سے کم ایک بار تو ماں جی کو بتائے یہ ’’ذرا سی بات اتنی بھی ذرا سی نہیں ہے۔‘‘

’’ذرا سی بات‘‘ منہ کے بل نہیں گراتی۔ ذات کا غرور نہیں چھینتی مایوسیوں میں نہیں دھکیلتی۔

مگر کچھ بھی نہ بتا سکا چونکہ بچپن سے ہی ہر بات دل میں رکھ کر کھچڑی پکائے چلے جان کی عادت سی ہوگئی تھی سو اب بھی یہی کیا اور چپ چاپ معمول کے انداز میں روٹین ورک میں لگا رہا مگر تاڑنے والوں کی نظر ہمیشہ ہی قیامت کی رہی ہے۔ لہٰذا پہلے چہ مگوئیاں شروع ہوئیں پھر ڈھکے چھپے الفاظ میں براہ راست سوال ہونے لگے تو وہ بے چارہ بری طرح گھبرا گیا۔ یہ تو آج سے پہلے پتا ہی نہ چل سکا تھا کہ اس کا چہرہ کانچ کے اس بلب کی طرح ہے جو جلتا ہے تو روشنی بکھیر بکھیر کر سب کو اپنی جانب متوجہ کر لیتا ہے اور بجھتا ہے تو بھی اندر کا حال کسی طور چھپا نہیں پاتا کہ شیشے کی باریک دیوار کیا کچھ چھپا سکتی ہے۔

تب ہی اس نے بنا سوچے سمجھے ٹرانسفر کی درخواست دے دی۔ منیجر صاحب حیران پریشان سمجھانے لگے۔

’’کیوں میاں۔۔۔! یہاں کیا پریشانی ہے؟ اور ہمارا کیا دماغ خراب ہے اتنا ذمہ دار لڑکا دوسری برانچ میں بھجوادیں۔‘‘

اس کی تعریف ہوئی تھی اصولاً خوش ہوکر مسکرانا چاہےے تھا مگر خوش ہو سکا نہ ہی مسکرا سکا الٹا وضاحت دینے لگا۔

’’نہیں سر۔۔۔! پریشانی تو کوئی ۔ آپ اکبر کو ٹرانسفر کر رہے ہیں، اس کی جگہ میں حاضر ہوں۔ اس بے چارے کی بہت ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں اس کی فیملی کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ اکبر کے بچوں کا تعلیمی سال بھی ضائع ہوگا پھر اس کی والدہ بھی یہیں کے ایک ڈاکٹر کے زیرِ علاج ہیں۔ ہفتہ میں ایک بار بھی چیک اپ کروانا ہوا تو کون ذمہ داری لے گا۔ غریب آدمی مارا جائے گا سر۔‘‘

منیجر صاحب چشمے کے عقب سے گھور رہے تھے۔ بند مٹھی لبوں پر جمائے بے حد سنجیدگی سے۔ اس کے خاموش ہوتے ہی اور زیادہ سنجیدگی سے گویا ہوئے۔

’’مشورہ مانو، کسی اچھے فزیشن سے اپنا چیک اٰپ بھی کروالو، ہمدردی کا بخار اترے گا تو کچھ اور دکھائی دے گا۔ ویسے تم اور عرفات سگے بھائی ہو نا؟‘‘

’’جی؟‘‘ اس عجیب و غریب سوال پر حسنات نے اچنبھے سے ان کی شکل دیکھی جہاں اب ایک ہلکی سی مسکراہٹ دکھائی دی تھی۔

’’یہ اس لےے پوچھا رہا ہوں کیونکہ عرفات کو کالج کے زمانے سے جانتا ہوں۔ دوستوں میں ایک بات کا بہت چرچا تھا کہ سو مطلب پرست مرے ہوں گے تب عرفات پیدا ہوا ہوگا، حیرانی مجھے اس بات پر ہے کہ تم بھی اسی عرفات کے بھائی ہو جو اگلا قدم بھی بہت سوچ سمجھ کر اور اپنا مفاد مدُِ نظر رکھ کر اٹھاتا ہے۔ تم اکبر کی ہمدردی میں جو کام کر رہے ہو، ضرور اس کے پیچھے تمہارا بھی کوئی مفاد ہوگا مگر کیا؟ اصل سوال تو یہی ہے جو میرے ذہن میں اٹھ رہا ہے۔‘‘

منیجر صاحب بذلہ سنج تھے۔ ہلکا پھلکا مذاق چلتا تھا اور حسنات ہمیشہ ہی فوراً حساب برابر کرنے کا عادی تھا لیکن اس وقت نجانے کیوں اسے ان کی بات بہت ہی ناگوار گزری کہ کہے بنا نہ رہ سکا۔

’’سر کیا یہ ضروری ہے کہ میری شخصیت کو جج کرنے کے لےے میرے بڑوں کاپیمانہ سامنے رکھا جائے۔ میں پچھلے تین سال سے آپ کے ساتھ کام کر رہا ہوں۔ کیا اس سے پہلے آپ نے میری کوئی خود غرضی دیکھی ہے؟‘‘

’’تم تو برا ہی مان گئے اصل میں میرا کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘ وہ شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو کر بول گیا تھا کہ منیجر صاحب کو فوراً ہی محتاط ہو کر وضاحت دینا پڑی۔

’’جہاں اکبر کو ٹرانسفر کیا جارہا ہے وہاں ہمارے بینک کی نئی برانچ کھلی ہے دوسرا یہ کہ وہ نسبتاً چھوٹا شہر ہے۔ اسلام آباد کی پیداوار کو اور بھی چھوٹا لگے گا۔ اکبر کا تو اپنا تعلق گائوں سے ہے، وہ باآسانی وہاں سیٹ ہوجائے گا یوں بھی اے وی پی کے لےے جن لوگوں کے نام جائیں گے ان میں سے ایک نام تمہارا بھی ہوگا۔۔۔ میں کب سے ارادہ کےے بیٹھا ہوں۔‘‘

حسنات چند لمحوں کے لےے اس متوقع پرموشن کی جانب متوجہ ہوا مگر اے وی پی کی سیٹ پر بیٹھنے سے قبل ہی بول اٹھا۔

’’میں اکبر سے وعدہ کر چکا ہوں سر! سر اب وعدے سے مکرنا کچھ مناسب نہیں لگتا۔‘‘ اس نے سر جھکا کر کہا۔

’’ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی!‘‘ منیجر صاحب اکتا کر بولے۔

اکبر حد سے زیادہ شکر گزار ہوا۔ آفس میں مفت کی واہ واہ ہوگئی اور وہ دل کی بے زاری چھپائے بدُقت مسکراتا رہا۔ دس دن میں آرڈرز آگئے۔ اس نے شکر ادا کیا اور گھر جا کر پیکنگ کرنے لگا۔ البتہ گھر میں اطلاع تب دی جب روانگی میں دو دن باقی رہ گئے۔

جس نے سنا چند لمحوں کے لےے تو کچھ بول ہی نہ سکا۔

’’عرفات اور شجاعت تو اس گھر میں رہتے ہوئے بھی میرے پاس نہیں۔ اب تم بھی اتنی دور چلے جائو گے تو میں تنہا کیسے رہوں گی؟‘‘

’’تنہا کیوں۔۔۔ یہ زاشی جو ہے آپ کے پاس۔‘‘

’’مجھ سے تو بات بھی کرنے کی ضرورت نہیں یہ کیسا ٹرانسفر ہے، دو روز پہلے اطلاع مل رہی ہے جس کی۔ پھر جس بینک میں آپ ہیں چار برانچز تو اس کی اسی شہر میں ہیں۔ آپ کا ہی ٹرانسفر اتنے دور کے شہر میں کیوں ہورہا ہے؟‘‘

اس کی معلومات بہرحال اماں جی سے زیادہ فعال تھیں تب ہی اکبر نامہ سن کر بھی مشکوک ہی رہی۔ البتہ اماں جی ٹھہریں زمانے بھر کی نرم دل سو قدرے راضی ہوگئیں۔

خوشی بھی ہوئی کہ چلو اولاد میں کسی میں تو خلوص و ہمدردی کے جذبات موجود ہیں لیکن عرفات بھیا نے سنا تو حسب توقع خوب ہی بھڑکے۔

’’تم ایک گدھے، احمق اور پاجی شخص ہو۔ مجھے حیرت ہے تم مجھ جیسے دور اندیش شخص کے بھائی کیسے ہوسکتے ہو؟ مجھ سے لکھوالو حسنات میاں! تم کبھی ترقی کر ہی نہیں سکتے۔

ٹھیک ہی ہے بھئی احسان فراموشوں کو ترقی کرنے کا کوئی حق نہیں۔ جانتے بھی ہو یہ ملازمت کن دقتوں سے دلوائی تھی میں نے تمہیں۔ نہ دلواتا تو اب تک ڈگریاں لےے جوتیاں گھس رہے ہوتے۔ وہ منیب اگر تمہارا نام پروموشن کے لےے دینے والا ہے تو وہ بھی صرف میری ہی وجہ سے ورنہ کتنی مدت ہوئی ہے تمہیں ملازمت کرتے؟ کتنا ایکسپرینس ہے تمہارا؟‘‘ بڑے بھیا ان لوگوں میں سے تھے جو سال بھر میں بھولے سے اگر کوئی نیکی کر بھی لیتے تو اسے اتنی بار جتاتے کہ نیکی بھی بدی معلوم ہونے لگتی اور جو حسنات بے حد بد دل نہ ہوا ہوتا تو کم سے کم ایک بار تو ضرور جتا دیتا کہ آپ کی سفارش سے ملازمت ملناہوتی تو پہلے کیوں نہ مل گئی یہاں اپلائی کرنے کا مشورہ دے کر آپ سارا کریڈٹ نہ سمیٹیں۔ میری ذاتی قابلیت بھی کوئی چیز ہے کہ نہیں۔

’’ہونہہ ذاتی قابلیت پتا نہیں کس جنت کے مکین ہو تم حسنات علی ذاتی قابلیت جیسی کوئی چیز ہوتی تو عافیہ خالہ انکار ہی کیوں کرتیں۔‘‘

’’مایوسی۔۔۔ مایوسی۔۔۔ مایوسی۔۔۔ اس کا جھکا سر اور بھی جھک گیا۔

ابا نے سن کر کسی خاص ردُِ عمل کا اظہار نہ کیا۔ چپ چاپ اخبار کی شہ سرخیوں میں کھوئے رہے، البتہ شجاعت بھیا حیرانی کے ساتھ ساتھ پریشانی میں بھی مبتلا ہوگئے۔

’’مجھے لگتا ہے حسنات! یہ احمقانہ فیصلہ ہے، اسلام آباد جیسا شہر چھوڑ کر تم ایسی جگہ جارہے ہو جہاں گرد کے سوا کچھ بھی نہیں۔ جس شخص سے بَک ریک میں جمی گرد برداشت نہیں ہوتی۔ وہ وجود پر اتنی گرد کیسے برداشت کر لے گا؟‘‘

’’کیسی باتیں کر رہے ہیں بھیا! کیا یہاں گرد نہیں ہے اور پاکستان کا کون سا علاقہ ایسا ہے جہاں گرد نہیں۔‘‘ اس نے بظاہر نارمل انداز میں کہا۔

’’وہ تو ٹھیک ہے یار!مگر پھر بھی۔۔۔‘‘

حسنات بے زار سا ہو کر گھر سے نکل آیا۔

سڑکیں طویل تھیں منزل انجان وہ یونہی بے سبب چلتا رہا۔

’’ذہن پر جمنے والی گرد سے تو یہی بہتر ہے کہ میں وجود پر گرنے والی گرد برداشت کرلوں۔‘‘ اس نے کڑھ کر سوچا اور دو تین گھنٹے یونہی خوار ہونے کے بعد گھر میں داخل ہوا تو غیر معمولی پن واضح تھا۔ ابا لائونج میں موجود تھے وہ چند روز سے مستقل ہی گھر میں دکھائی دینے لگے تھے۔ حسنات نے سوچا، آج تو وجہ پوچھ ہی لے لیکن اسی وقت بڑی آپا کا دو سالہ بیٹا سامنے والے کمرے سے نکلا اور ماموں ماموں کرتا اس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔

حسنات کو کوفت ہوئی۔ حسبِ معمول گھر میں داخل ہوتے ہی بڑی آپا نے بچے کو نیکر پاجامے کی قید سے آزاد کر دیا تھا۔

اس نے بچے کا ہاتھ تھاما اور کمرے میں لے آیا۔ آپا اس کے پلنگ پر پھیل کر بیٹھی اپنی جٹھانی کی برائیوں میں مصروف تھیں۔ اسے دیکھتے ہی بات ادھوری چھوڑ کر اٹھیں اور والہانہ لپٹ گئیں۔

’’کیا ہوگیا ہے سدرہ آپا! میں کوئی سات سمندر پار نہیں جارہا۔ یہ کھڑا ہے اوکاڑہ۔‘‘ اس کا پہلے ہی دماغ خراب ہورہا تھا۔ انہیں روتا دیکھ کر اور بھی جھنجھلا گیا۔

’’اچھا۔ اوکاڑہ جارہے ہو۔ میں ساتویں یا آٹھویں میں تھی جب ایک دفعہ پھوپھو کے گھر گئی تھی۔‘‘ انہوں نے اطمینان سے بیٹھتے ہوئے اگلا صفحہ کھولا۔

’’اس کے بعد تو خیر حالت ہی ایسے نہیں رہے کہ جانے کا ارادہ ہوتا لیکن اگر حالات اجازت دیتے میں تب بھی نہ جاتی، اتنا عجیب سا تو راستہ تھا پھوپھو کے گھر تک کا۔ کھیت ہی کھیت تھے۔۔۔ پتا ہے زاشی! پھوپھو کے گھر کے پاس کنواں بھی تھا۔‘‘

’’ہر گائوں میں کھیت اور کنویں ہوتے ہیں۔ اس میں حیرانی کی کیا بات ہے؟‘‘ زاشی کو کنویں سے چنداں دلچسپی نہ تھی۔

’’ہے نا امی! پھوپھو گائوں میں رہتی ہیں نا۔‘‘

’’کون سی پھوپھو؟‘‘ چھوٹی بھابھی ماہم کو گود میں اٹھائے اندر داخل ہوئیں۔

’’وہی ساجدہ پھوپھو، جن کی بہت سی زمینیں اور باغات ہیں؟‘‘ انہوں نے اشتیاق بھرے لہجے میں دریافت کیا۔

’’میری شادی میں تو وہ شریک نہیں ہوئیں، بس کبھی کبھار ذکر ہی سنا ہے ان کا۔ البتہ ان کے باغات اور حویلی دیکھنے کا بڑا شوق ہے مجھے۔‘‘ پھر کچھ خیال آنے پر بولیں۔

’’حسنات! تم پھوپھو ساجدہ کے یہاں ہی کیوں نہیں ٹھہرتے پھر میں اور تمہارے شجاعت بھیا تم سے ملنے کے بہانے چند روز کے لےے آئیں گے اور حویلی بھی دیکھ لیں گے۔‘‘

’’اب آپ کا شوق پورا کروانے کی خاطر میں کسی کو زیر بار تو نہیں کر سکتا۔‘‘ عموماً وہ اس طرح بولتا تو نہیں تھا، تب ہی یوں دو ٹوک جواب سب ہی نے محسوس کیا خصوصاً چھوٹی بھابھی تو خاموش ہی ہوگئیں۔

’’اس میں زیر بار کرنے کی کیا بات ہے۔ ساجدہ تو بہت خوش ہوں گی۔‘‘ اماں جی نے بات سنبھالی۔

’’اور نہیں تو کیا۔۔۔‘‘ سدرہ آپا بولیں۔ ’’اتنی امیر تو ہیں ہماری پھوپھو! چند روز بھتیجے کوٹھہرالیں گی تو کوئی قیامت تو نہیں آجائے گی، یوں بھی ہمارے خاندان میں کوئی بھی تنگ دل نہیں ہے۔‘‘ بطور خاص اسمارہ بھابھی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا گیا تھا، وہ بے چاری غیر خاندان سے تھیںاور اس بات کا قلق سدرہ آپا کو تھا پھر کچھ شو بازی کی عادت بھی تھی، اس لےے یہ بتانا بھی از حد ضروری سمجھا گیا کہ پھوپھو امیر ہیں۔ وہ بے زاری سے آکر اپنے کمرے میں لیٹ گیا ۔ جانتا تھا اب سدرہ آپا اسے پھوپھو کے یہاںقیام پر مجبور کریں گی مگر یہ نہیں جانتا تھا یہ مشن اماں جی کے ہاتھوں انجام پائے گا۔

کچھ دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوئیں اسی خبر کے ساتھ کہ ساجدہ پھوپھو کو بذریعہ فون اس کی آمد کی اطلاع دی جاچکی ہے۔

حسنات کا دل چاہا اپنا سر پیٹ ڈالے۔

’’آپ کو کم سے کم مجھ سے پوچھ تو لینا چاہےے تھا۔‘‘ اس نے جھنجھلا کر کہا۔

’’پہلے بھی ایک بات پوچھی تھی تم سے اور تم نے کر دی نہ۔‘‘ انہوں نے جتاتی نظروں سے اسے دیکھا۔ حسنات جو کچھ کہنے والا تھا ذر ادیر کو خفت کا رنگ اس کے چہرے پر پھیل گیا۔

’’میرا دل تو پہلے ہی ہول رہا ہے۔ تم ساجدہ کے یہاں رہو گے تومجھے کوئی پریشانی نہ ہوگی۔‘‘ وہ زور دے کر بولیں۔ اور ہوسکتا ہے اس طرح سے ہی دلوں کے فاصلے دور ہوجائیں۔ بھائی صاحب کی وفات کے بعد بھی ساجدہ کے دل سے چپقلش دور نہ ہوئی گو کہ تمہارے ابو نے بھی ایسی کوئی پرخلوص کوشش نہیں کی۔ میں نے اسی آس میں تم سے ذکر کیا تھا اگر تم راضی ہوجاتے تو سارا جھگڑا ہی نمٹ جاتا لیکن۔۔۔‘‘ اماں جی ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئیں اور حسنات کو کسی ایسی بات سے دلچسپی ہی نہ تھی۔ ابو اور پھوپھو جان کا جھگڑا اتنا پرانا ہوچکا تھا کہ اب دلچسپی بھی کھو چکا تھا۔

’’پلیز اماں جی! آپ فکر مند نہ ہوں،میں کوئی نہ کوئی بندوبست کرلوں گا مگر آپ پھوپھو کو منع کردیں۔ میں کسی ایسے انسان کے پاس جا کر نہیں رہنا چاہتا جو ہمارے خاندان کاحصہ ہو۔‘‘

اماں جی تعجب سے اسے دیکھتی رہ گئیں۔ اس کی بات نے حقیقتاً انہیں حیران کیا تھا۔

’’تم اپنوں سے بھاگ رہے ہو حسنات۔‘‘

’’ایسی بات نہیں ہے اماں جی!‘‘ اس نے بے بسی سے کہا۔ جھنجھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ زبان پھسل گئی تھی۔ اب پچھتاوا ہوا۔

’’ایسی ہی بات ہے اماں جی! میں کچھ عرصہ صرف اپنے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کسی بھی پرانے حوالے کے بغیر۔‘‘ اس نے کڑھ کر سوچا۔

’’آپ بلا وجہ مشکوک ہورہی ہیں دراصل آپ سے پہلی بار اتنی دور جارہا ہوں اس لےے کچھ عجیب سے کیفیت ہورہی ہے اکبر سے وعدہ نہ کیا ہوتا تو کبھی نہ جاتا پھر اب یہ نئی الجھن کہ پتا نہیں پھوپھو کے گھر میں میرا استقبال کیسے ہو؟ اتنے عرصے بعد کسی سے ملنا ہو تو الجھن تو ہوتی ہے۔‘‘ اس نے فٹافٹ بات بنائی۔

’’یہ اکبر والی بات دوبارہ مت کرنا، نیکی کا بار بار ذکر بھی اسے ضائع کرنے کا سبب بنتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ساجدہ کی طرف سے تم فکر مند نہ ہو، وہ تو تم سے مل کر بہت خوش ہوگی اس کے جیٹھ جیٹھانی بھی بہت اچھے ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا تو شاید تمہارا ہی ہم عمر ہے۔ دیکھنا تمہارا دل جلدی ہی لگ جائے گا۔‘‘

حسنات نے سر ہلادیا اور اگلے ہی دن وہ اماں کی دعائوں کا توشہ لےے سفر پر وانہ ہوگیا تھا۔ اپنوں سے دور۔

٭٭٭

زینب غفار بہت جھگڑالو لڑکی تھی۔

بستی رحمت پورہ نامی اس چھوٹے سے گائوں کا ایک ایسا کردار جسے پسند کرنے والوں کے نام بہت سوچ بچار کے بعد بھی بس اتنے ہی سامنے آتے تھے کہ با آسانی انگلیوں کی پوروںپر گنے جاسکیں جبکہ گائوں میں رہنے والوں کا ایک وسیع حلقہ اسے ناپسند کرتا تھا۔

لوگوں نے اس کا ذکر کرنے کے لےے مختلف نام سوچ رکھے تھے مگر اس کے سامنے اس کی نظروں سے خائف ہو کر وہ اسے زینب باجی کہتے تھے جبکہ اکثر لوگ اسے مخاطب نہ کرنے میں ہی اپنی بھلائی سمجھتے تھے کیونکہ وہ سب جانتے تھے، زینب بے عزتی کرتے ہوئے چھوٹے بڑے کا فرق نہیں دیکھتی۔

تائی تو برملا کہتیں۔ ’’اچھی شکل کا غرور ہے۔‘‘

اب اس رائے پر چاہے تائی کی اپنی بیٹیوں کو بھی کتنا ہی اعتراض کیوں نہ ہو زینب کو مطلق پروا نہ تھی جو کہتا ہے کہتا رہے۔ اس کی بلا سے، وہ جو تھی، جیسی تھی خوشی کا تو پتا نہیں مطمئن ضرور تھی۔ شاید اس لےے کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی بدمزاجی سے خار کھانے کے باوجود اس گائوں کا ایک بھی شخص ایسا نہیں جو اپنے روزمرہ استعمال کی اشیائ خریدنے کے لےے اس کی اماں کی دکان کے علاوہ کہیں اور کا رخ کرے کیونکہ وہ چاہے جتنی بھی کڑوی زبان کی مالک ہو، اس کی ماں بااخلاق اور نرم لہجے میں بات کرنے کی عادی تھیں۔ گائوں والے ان کی عزت کرتے۔اکثر گھروں سے بچے ان کے پاس قرآن پاک پڑھنے آتے اور ان کی مائیں ’’دکھ سکھ‘‘ کہنے آتیں۔ زینب کی بدمزاجی، تلخ کلامی اور بدتمیز فطرت کے باوجود تقریباً دن بھر گھر میں خواتین کا تانتا بندھا رہتا۔ کوئی پائو بھر دال لینے آئی تو آدھ گھنٹہ بیٹھ کر ساس کی شکایتیں لگا گئی۔ کسی کو چھٹانک ہلدی کے ساتھ ہفتہ بھر پہلے دیکھے گئے خواب کی تعبیر پوچھنا ہوتی اور کسی کو صرف پڑوسن کے خلاف جلے دل کے پھپھولے پھوڑنا ہی مقصود ہوتا۔

دکان باہر کے رخ پر بنے کمرے میں تھی۔ ایک کھڑکی اور دروازہ باہر گلی میں جبکہ دوسرا صحن میں کھلتا تھا۔باہر کی سمت میں کھلنے والا دروازہ بند ہی رہتا۔ کھڑکی کھلی رہتی۔ عورتیں کچھ خریدنے آتیں، کھڑکی سے جھانکتیں اور گھر کے داخلی دروازے سے اندر ہوتیں۔ زینب اس طرزِ عمل پر بری طرح خار کھاتی لیکن اماں نے حتی المقدور مشورے دے دے کر سب ہی کو سر پر چڑھا رکھا تھا۔

’’تمہیں تکلیف کیا ہے آخر؟ مجھے عزت دیتے ہوئے اگر کوئی دو گھڑی کو میرے پاس آ ہی جاتی ہے تو تمہیں پتنگے لگ جاتے ہیں۔ حالانکہ بیچاریاں تمہیں تو کچھ بھی نہیں کہتیں۔‘‘

اماں کو اس کی ناگواری ہر بار ہی بری طرح کھلتی۔ البتہ اب وہ اسے سمجھاتے سمجھاتے تھکنے لگی تھیں۔

’’بے چاریاں ۔۔۔ ہونہہ کسی کی مجال ہے کہ مجھے کچھ کہے۔ وہ تو آپ نے ہی سر چڑھایا ہوا ہے۔۔۔ اور یہ عزت وزت کا خیال آپ دل سے نکال ہی دیں یہ جو اتنی بڑی کاپی بنا رکھی ہے نا ادھار مال دینے کی۔۔۔ میں کہتی ہوں ذرا اسے بند کریں پھر میں بھی دیکھوں، کون صبح و شام آپ کے گھٹنے سے لگی بیٹھی رہتی ہے۔‘‘ حقیقت تلخ تھی، اماں بڑی بری طرح ردُِ عمل ظاہر کرتیں۔

’’تمہاری زبان کوئی کرامت نہ دکھائے بس اسی کی فکر ہے ورنہ جب تک میں زندہ ہوں نہ تو یہ کاپی بند ہوگی نہ ہی دکان۔ ارے گھر کی دال روٹی اسی سے تو چلتی ہے۔ اسے بھی بند کر دیا تو فاقوں کی نوبت نہ آجائے گی۔‘‘ وہ جھنجھلا ہی جاتیں۔

زینب کو ایسے چٹے سفید جواب پر ہمیشہ ہی آگ لگ جاتی ’’تو کس نے کہا ہے یہ مصیبت پالنے کے لےے۔ میں جو دن بھر کڑھائی کے فریم سے آنکھیں چپکائے رہتی ہوں تو یہ کس کی خاطر کر رہی ہوں اسی لےے نا کہ آپ کو آرام ملے۔‘‘

وہ کبھی کبھی تو بری طرح جھنجھلاتی اور کہہ دیتی مگر صرف ایک وہی بات تھی جو اسے کبھی کبھی زبان بندی پر مجبور کر دیتی تھی۔

دکان چلانا بہرحال ضروری ہی تھا۔

اس کی ناپسندیدگی اور ہر طرح کے اعتراضات کے باوجود تب ہی تو جب اماں اچانک ہی بستر سے جالگیں تو یہ ذمہ داری خود بخود اس کے کندھوںپر آپڑی۔ کامی بے چارا تو ازلی معصوم تھا۔ کسی چھوٹے بچے کی طرح اس کی حفاظت کرنا پڑتی تھی دکان کیا خاک سنبھالتا۔ دو تین بار جا کر بیٹھا بھی تو محلے کے بچوں نے جان کھالی۔ ناچار زینب کو خود ہی دکان سنبھالنا پڑی۔ مگر یہاں بھی اس کی فطرت آڑے آگئی۔

وہ زبان کی کڑوی تھی سو تھی مگر کھری تھی۔ ادھار ایک حد تک دینے کی قائل۔ کاپی میں تو تب کے حساب کتاب بھی جوں کے توں تھے جب سے دکان شروع کی تھی۔ اس نے استفسار شروع کیا تو لوگ بدکنے لگے۔ وہ چاہتی تھی پچھلا حساب صا ف ہو تو بھلے سے نئے کھاتے کھلیں مگر کوئی پچھلے حساب کتاب پر راضی نہ تھا۔ زینب نیا ادھار مال دینے پر نہ مانتی پھر وہ نہ تو اماں کی طرح بات بے بات مشورے دے سکتی تھی نہ ہی گھنٹوں کسی کی الٹی سیدھی سن سکتی تھی۔ نتیجتاً بکری کم ہونے لگی۔

مگر زینب نے ہمت نہ ہاری۔ خود اماں بھی قدرے مطمئن ہورہی تھیں۔زینب نڈر تھی، جرأت مند تھی، غصیلی تھی، بدمزاج تھی، جھگڑے مول لینے کا اسے شوق تھا مگر وہ بااصول بھی تھی۔ کسی کے معاملے میں دخل دیتی نہ کسی کو اجازت دیتی کہ وہ اس کی زندگی میں دخل اندازی کرے۔ کوئی ایسا کرتابھی کیوں؟ سارا گائوں اس کی عادت جانتا تھا اس لےے شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈالنے کی حماقت کوئی نہ کرتا مگر اسے منشی عنایت حسین کے مکان میں کرائے دار کی حیثیت سے رہائش اختیار کرنے والے اس گائوں میں نو وارد شخص کی بدقسمتی ہی کہہ لیں کہ اس نے چارہ ڈالنے کے لےے زینب کا انتخاب کیا۔

مہینہ بھر سے وہی دکان سنبھال رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی اماں آرام کریں ان کی تیزی سے گرتی صحت نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ دوسری جانب اس شخص کی حرکات زینب کو متوجہ کر رہی تھیں۔ وہ کچھ نہ کچھ خریدنے کے بہانے دن میں کئی بار وہاں آتا پھر زینب نے اسے دکان کے عین سامنے والے پیپل کے درخت تلے ڈیرا جماتے دیکھا۔ وہ اپنی بھونڈی آواز میں گانے گاتا اور ہر ہر انداز سے باور کروانے کی کوشش کرتا کہ زینب پر دل و جان سے فدا ہے۔ لیکن چونکہ اس نے براہ راست کچھ نہ کہا تھا، اس لےے زینب خاموشی سے اس کی حرکات کا جائزہ لیتی رہی۔

پانچویں روز وہ صندوقچی میں پیسے رکھ کر پلٹی ہی تھی جب کائونٹر پر پڑا چھوٹا سا رنگین کاغذ نظروں کی زد میں آگیا۔ زینب نے بنا چونکے سامنے دیکھا۔ پیپل کے درخت تلے کھڑا وہی لڑکا سر جھکائے بسکٹ کا پیکٹ کھول رہا تھا جو ابھی کچھ دیر قبل اس نے یہیں سے خریدا تھا۔ زینب نے کاغذ کھول کر پڑھا اور اگلے ہی لمحے پرزے کر کے باہر اچھال دیا۔ درخت کے تنے سے ٹیک لگائے کھڑے ناصر نے اس کی حرکت دیکھی اور اس کے لبوں پر پھیلی مسکراہٹ میں اضافہ ہوا۔ اسے لڑکیوں کے ایسے نخرے دیکھنے کی عادت تھی۔تب ہی بسکٹ کا پیکٹ ہوا میں اچھالا اور بالوں میں انگلیاں چلاتا آگے بڑھ گیا اور بڑے سَر میں گانے لگا۔

ایویں رسیا نہ کر میری جان سجنا

اک دن چھڈ جانا اے جہان سجنا

ٹھیک دو روز بعد پتھر پر لپٹا رنگین خوشبودار کاغذ زینب کے پیروں میں آگرا۔ اس روز آسمان بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور غضب کا حبس فضا کو جکڑے تھا۔ صحنوں سے گھسیٹی چارپائیاں ڈیوڑھیوں میں پہنچ چکی تھیں۔ بچے بے زار سے تھڑوں پر جمے بیٹھے تھے جبکہ چاچا حبیب کی بیٹھک پر سنُاٹا چھایا ہوا تھا۔

اِدھر ہوا کا پہلا جھونکا آیا، ادھر پتھر زینب کے پیروں میں تھا۔

جوں جوں اس کی نگاہیں تحریر پر پھسلتی رہیں۔ توں توں اس کی پیشانی کی لکیروں میں اضافہ ہوا پھر اس نے کاغذ مٹھی میں دبوچ کر غضب ناک نظروں سے ناصر کو گھورا جو درخت سے ٹیک لگائے خود کو معمر رانا کا جڑواں بھائی تصور کر رہا تھا۔

’’میں کرواتی ہوں تجھے عشق!‘‘

وہ پیر سے چپل اتار کر اس کی طرف لپکی۔ ناصر بری طرح گھبرایا پھر سر پر پیر رکھ کر دوڑا اس نے آج تک لڑکیوں کو بس شرماتے لجاتے دیکھا تھا، یہ پہلی دفعہ تھا۔ کوئی لڑکی اسے مارنے لپکی تھی۔

پھر دیکھنے والوں نے دیکھا۔ گھبرایا، بوکھلایا بلکہ خوف زدہ ناصر آگے آگے تھا اور ہاتھ میں چپل پکڑے چیختی چنگھاڑتی زینب المشہور پچھل پیری پیچھے پیچھے۔ آج اس نے اپنی عرفیت کو سچ کر دکھایا تھا۔

ناصر کا گانا تو اونگھتی ہوئی دوپہر کی تنہائی نے سنا تھا جبکہ زینب کے منہ سے نکلنے والے مغلظات کا طوفان گائوں کی فضا میں بڑی دیر تک گونجتا رہا۔

تایا کے کانوں تک بھی آواز پہنچی۔ خوب ہی برا افروختہ ہوئے۔ پیشی کے لےے بلوالیا۔

’’کیا ضرورت تھی اس تماشے کی؟‘‘

زینب جیسے آئی تھی ویسے ہی پلٹ گئی۔ تایا ہکا بکا رہ گئے۔ ایسی ہٹ دھرمی یعنی بات کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا۔ تائی تو پہلے ہی نالاں رہتی تھیں۔

’’دیکھا، دیکھا۔ میں تو آپ کو کب سے کہہ رہی ہوں، یہ لڑکی دن بدن بد لحاظ ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں تو سب ہی قصور وار گردانتے ہیں کہ تمہاری یتیم بھتیجی کا احساس نہ کیا سچ پوچھو تو میاں! ساری ہی ماں کی دی ہوئی ڈھیل ہے ورنہ ہماری بھی تو بیٹیاں ہیں مجال ہے جو کوئی گستاخی کرجائیں۔‘‘

تائی واویلا مچانے میں کمال رکھتی تھیں ابھی کچھ اور بھی کہتیں مگر زینب دوبارہ اندر داخل ہوئی۔

اس نے کچھ بھی کہے بنا خط میز پر ڈال دیا، اسی لےے تو سنبھالا تھا۔ تایا نے خط دیکھا پھر زینب کو۔

’’کیا ہے یہ؟‘‘ کڑا لہجہ۔

’’آپ خود دیکھ لیں۔‘‘ اس کا چہرہ بے حس تھا۔ ’’اس تماشے کی وجہ یہی ہے۔‘‘ تایا نے خط کھولا، پڑھا اور بولے۔

’’لڑکے ایسی چھوٹی موٹی شرارتیں کیا ہی کرتے ہیں۔ تمہیں تو کچھ عقل مندی کا ثبوت دینا چاہےے تھا۔ نظر انداز کردینا چاہےے تھا، جو بات بڑے آرام سے دب سکتی تھی۔ تمہاری وجہ سے سارے گائوں میں اس کا چرچا ہوگا۔ بھئی تمہیںہماری پروا نہیں مگر مرحوم باپ کی عزت کا تو احسا س کرو۔ کچھ اندازہ بھی ہے، لوگ کتنی باتیں بناتے ہیں۔‘‘

زینب کو ہنسی آگئی۔ پتا نہیں یہ بار بار توقع وابستہ کرنے کی عادت کب جائے گی۔ وہ ایک دفعہ پھر خاموشی سے نکلی اور اپنے حصے میں آگئی۔ اماں چارپائی پہ سر جھکائے غم سے نڈھال کی عملی تصویر بنی بیٹھی تھیں۔

’’تمہارے تایا غلط نہیں کہہ رہے۔ تمہیں یوں اس کے پیچھے نہیں جانا چاہےے تھا اب باری باری سب آئیں گے پوچھنے کی وجہ کیا تھی؟ میں کس کس کو جواب دوں گی۔۔۔ اور اگر اس نے ضد میں آکر اور تنگ کیا تو۔۔۔‘‘ اماں کے تفکرات۔

’’جب کوئی آئے پوچھنے تو میرا سامنا کروادینا۔ میں خود ہی سب کو دیکھ لوں گی باقی بات رہی اس مرن جوگے کی۔۔۔ تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ تو کیا اس کی اگلی سات نسلیں بھی اب اس گائوں میں قدم نہیں رکھیں گی۔‘‘

اس نے پَر وثوق لہجے میں کہا اور اس کا گمان کچھ غلط بھی نہ تھا۔ اس کے بعد کسی نے بھی اس لڑکے کو دوبارہ گائوں میں نہیں دیکھا۔

٭٭٭

یہ اگست کے دن تھے اور ریلوے اسٹیشن کی عمارت پر جھکا ہوا آسمان بھٹے سے نکلی تازہ اینٹ کی مانند دہک رہا تھا۔

’’تو بالآخر میں یہاں آچکا ہوں۔‘‘ سر اٹھا کر گہری زرد دھوپ میں سلگتے آسمان کو دیکھتے ہوئے اس نے بے حد دل گرفتی سے سوچا۔

’’اور میں یہاں کیوں آیا ہوں؟ آگے بڑھنے کے تمام دروازوں کو نظر انداز کرتا اپنی متوقع پروموشن کو ٹھوکر مارتا۔۔۔ عرفات بھیا نے شاید مجھے سب سے درست سمجھا ہے۔ میں واقعی احمق، پاجی اور گدھا ہوں۔‘‘

دل کی دھڑکن کے ساتھ کبھی کبھی خود سے ٹکرانے والی گرم ہوا اور بھی اذیت ناک لگتی مگر اسے خود پر گزرنے والی اذیت کا احساس ہوتا تو کیا یہاں آتا؟

اس کے چہرے پر راستہ بھٹکے مسافر کی گہری چھاپ تھی۔ حالانکہ نہ تو راستہ بھٹکا تھا نہ ہی کسی انجانی منزل کی کشش اسے یہاں کھینچ کر لائی تھی۔ ایک طویل عرصہ تک اپنی ترجیحات طے کر کے راستے متعین کر لینے کے بعد جب اچانک مخصوص راستے سے ہٹ کر چلنا پڑے تو شاید ہر انسان کی یہی کیفیت ہوجاتی ہے جو اس وقت وہ محسوس کر رہا تھا۔

ٹرین کی الوداعی وسل بجی تب وہ بری طرح چونکا ٹرین کے بھاری پہےے پٹریوں کو پیچھے دھکیلتے سست روی سے چلتے رہے اور پٹریوں کو تنہا چھوڑ کر تیزی سے آگے بڑھ گئے۔

اس نے گہری سانس بھرتے ہوئے اپنے سوٹ کیس کی جانب ہاتھ بڑھایا۔

’’بائو جی! میں اٹھائوں؟‘‘ قلیوں کی مخصوص آدھی آستینوں والی سرخ قمیص پہنے اٹھارہ انیس سال کا لڑکا اس کے عین سامنے آکھڑا ہوا تھا۔

’’ویسے تو تیس روپے ریٹ فکس ہے۔ آپ پچیس دے دینا۔‘‘ حسنات کو اپنی جانب دکھتا پا کر جانے وہ کیا سمجھا تھا۔ حسنات کے لبوں پر مسکراہٹ سی لپکی تھی۔

’’اچھا جی بیس تو بالکل مناسب ہے۔ میں سارا سامان ایک پھیرے میں لے جائوں گا۔‘‘ ایک مرتبہ پھر اپنا بھائو گھٹاتے ہوئے اس نے اسے قائل کرنے کے لےے اپنی اضافی خوبی بتائی اور حسنات کچھ کچھ قائل ہو بھی گیا۔

لڑکے نے جھٹ پٹ سوٹ کیس سر پر رکھا، لیدر بیگ کندھے پر ڈال کر وہ بریف کیس بھی لینا چاہتا تھا مگر حسنات نے منع کر دیا۔

’’آپ نے کہاں جانا ہے؟ آج رکشہ یونین کی تو ہڑتال ہے البتہ تانگہ کروایا جاسکتا ہے۔‘‘ قلی نے چلتے چلتے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔ حسنات اپنے موبائل پر بلال کا نمبر ملانے کی کوشش کرتا کسی شناسا چہرے کی تلاش میں نظریں بھی دوڑا رہا تھا۔ حالانکہ ساجدہ پھوپھو کے جیٹھ کے اس بیٹے کو دیکھے اتنی مدت گزر چکی تھی کہ اسے یقین تھا، وہ اسے پہچان نہیں پائے گا۔ یہ تو بلال کی ہی کروائی ہوئی یقین دہانی تھی جس کے بل بوتے پر وہ اسے تلاش کر رہا تھا۔

اس نے اسٹیشن کے سامنے والی سیڑھیوں کے بالکل سامنے پیپل کے درخت کے نیچے سامان رکھوا کر قلی کو فارغ کیا اور متواتر نمبر ملاتا رہا لیکن نہ تو نمبر ہی مل کر دیا اور نہ ہی بلال صاحب اسے شناخت کر پائے۔

وہ گہری سانس بھرتا سامان گھسیٹتا قریبی تانگے کے پاس آگیا مگر جسے وہ تانگہ سمجھا، وہ تانگے کے قد بت کا ریڑھا تھا جس میں تربوز لدے ہوئے تھے گھوڑا سامنے رکھے ہرے ہرے چارے میں منہ مار رہا تھا۔

وہ آگے بڑھنے لگا مگر دو ردور تک کوئی سواری دکھائی نہ دی۔ چند ایک سائیکلیں اور موٹر سائیکلیں تھیں جو اسٹینڈ پر کھڑی دھوپ سینک رہی تھیں۔

تب ہی اپنے نام کی پکار سن کر اس نے بے ساختگی سے پیچھے مڑ کر دیکھا اور حیران ہوا۔

’’تم حسنات ہو؟‘‘ نماز کے انداز میں چادر اوڑھے کھڑی اس لڑکی نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔

’’جی ہاں۔۔۔ لیکن آپ؟‘‘ اس نے ذہن پر زور ڈالا۔

’’میں تمہاری پھوپھی ساجدہ کی بیٹی ہوں۔۔۔ زینب!‘‘

حسنات نے بے حد متعجب ہو کر اس کی پیشانی پر پڑی سلوٹوں کو دیکھا تھا۔

٭٭٭

زینب کو اتنی اکتاہٹ ہوئی کہ بس حد نہیں۔

تائی ہاجرہ اسے نا پسند کرنے والوں میں سر فہرست کہلائی جاسکتی تھیں اور شاید زینب کے کھاتے میں جانے والے سارے ہی حساب کتاب وہ آج ہی بے باق کرنے کا ارادہ کےے بیٹھی تھیں تب ہی تو آنکھیں تنگ سی پیشانی سے نیچے آتی دکھائی نہ دیں۔ ابھی اس وقت بھی کس قدر آرام سے کہہ دیا تھا۔

’’بلال کو تو فیکٹری سے فون آگیا تھا۔ کسی ضروری کام کے سلسلے میں تمہارے سامنے ہی تو وہ دینا لے گیا ہے۔ باقی رہا باسط تو اس کی نیند کا تو تمہیں پتا ہی ہے۔ مانو مردوں سے شرط لگا کر سوتا ہے۔ کئی بار جگانے کی کوشش کی مگر وہ تو اٹھنے کا نام نہیں لے رہا اب تم ہی کہو۔ کیا میں خود اسٹیشن پہنچ جائوں تمہارے اس ماموں زاد بھائی کو لینے؟‘‘ اپنی کنچوں جیسی چمکتی ہوئی شاطرانہ سی آنکھیں اس پر جماتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔

’’ذرا دیر کو صبر کرلو۔ تین بجے کی ٹرین سے آرہا ہے نا تو یہاں کون سی ٹرینیں وقت پر پہنچ جاتی ہیں۔ باسط چار ساڑھے چار تک اسٹیشن کا چکر لگا آئے گا۔‘‘

یہ ایک اور احسان تھا جو انہوں نے خود ہی کرنا ضروری سمجھا۔ زینب کوئی دودھ پیتی بچی نہیں تھی کہ سمجھ ہی نہ پاتی۔ دل چاہا خوب کھری کھری سنائے مگر ایک تو یہ کہ وہ شروع سے ہی جب بہت عاجز آتی تھی تب ہی بولتی تھی اس سے قبل تو خود کو سمجھانے کا سلسلہ ہی جاری رہتا تھا، دوسرا یہ کہ اماں نے جانے کون کون سے واسطے اور جانے کتنی قسمیں دے کر اسے زبان بندی پر مجبور کیا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں اس کی زبان درازی تائی ہاجرہ کو جھگڑے پر آمادہ کرے بڑی ہی شدید اور جائز سی خواہش تھی ان کی کہ بھتیجا یہاں سے اچھا تاثر لے کر جائے۔

مصیبت زینب پر آگئی محض اماں کی خاطر اسے اتنا عرصہ برداشت و تحمل سے وقت گزارنا تھا جب تک ماموں کا بیٹا واپس نہ چلا جاتا۔

تائی کے گھر کے بیسیوں کام پہلے بھی اسی کے ذریعے انجام پاتے تھے۔ اب تو مجبوری ہوگئی اور تائی کو موقع مل گیا۔ یوں بھی جب سے اس نے یوں بے دام غلام بن کر خدمت کرنے سے انکار کیا تھا۔ تائی کو وہ کچھ زیادہ ہی بری لگنے لگی تھی۔

’’بے چاری اماں!‘‘ مصالحہ بھونتے ہوئے اس نے ترحم سے سوچا۔‘‘ آخر اتنا عرصہ ان لوگوں کی خدمت کرنے کا صلہ ملا بھی کیا ہے انہیں۔۔۔ الٹا میرے حصے کی دشمنی بھی ان ہی پر نکالی جارہی ہے۔‘‘

وہ اسی سوچ میں گم تھی۔ کتنی عاجزی سے اماں نے تائی سے کچھ عرصہ تعاون کی درخواست کرتے ہوئے گھر کا کوئی بہترین کمرا حسنات کے لےے لینا چاہا تھا۔تائی کی زینب سے دشمنی ہو سو ہو، اماں ان کی پسندیدہ تھیں۔ کان بند کر کے چپ چاپ سہے جانے والی۔ کئی کئی طرح کے احسانات جتانے کے باوجود کبھی اعتراض جو نہیں کیا تھا۔

اب بھی بڑا احسان کرتے ہوئے انہوں نے وہ کمرا عنایت کیا جو ان کے حصے کا سب سے خراب کمرا تھا لیکن خود زینب لوگوں کی طرف کے اس کمرے سے کئی گنا بہتر تھا جس میں اچھے کمرے کی غیر دستیابی کی صورت میں اس شہری بابو کو رہنا پڑتا۔

کل ملا کر کئی ایسی باتیں تھیں جو خون کھولانے میں معاون ثابت ہوتی رہی تھیں۔ تبھی زارا صاحبہ چلی آئیں۔

’’میں نے اپنا ہرا سوٹ باہر کرسی پر رکھا ہے پلیز! یہ ہنڈیا پکا کر استری کر دینا بلکہ یوں کرو، پہلے وہی استری کردو، مجھے اکیڈمی جانا ہے۔‘‘ نخوت سے ناک چڑھائے حکم جاری ہوا۔ اسے اپنے دو بار بی۔اے فیل ہونے کا بڑا غرور تھا تب ہی تو تیسری بار بھی اتنی شان سے تیاری کرنے جاتی تھی کہ کیا ہی کوئی پہلی بار میں جاتا ہوگا۔

’’تمہارے ہاتھوں میں کون سی مہندی لگی ہے۔ خود جا کر کرو استری۔‘‘ زینب منہ پھٹ تو تھی پھر اسے خود کو بہت اچھا ثابت کرنے کا بھی قطعاً شوق نہ تھا۔ بڑی دیر سے خود پر ضبط کرتی بالآخر ہار ہی گئی تھی۔

’’ایک ذرا سا سوٹ استری کر بھی دو گی تو کون سی قیامت آجائے گی۔ تمہیں پتا تو ہے، مجھے گرمی کتنی لگتی ہے پھر میری اسکن کے لےے اتنی ہیٹ بھی اچھی نہیں ہے۔‘‘ اسے بن بن کر بولنے کی عادت تھی زینب کو زہر لگتا۔

اس وقت تو یوں بھی وہ غصے میں آچکی تھی، پچھلے کئی روز سے آخر وہ اتنی مشقت کیوں کر رہی تھی صرف اسی لےے ناں کہ عین وقت پر اماں کی خواہش پوری ہواور کوئی کٹھائی نہ ڈلے۔ بہت سارے کام تو اس گھر کے پہلے بھی وہی نمٹاتی تھی لیکن جب سے حسنات کی آمد کی اطلاع ملی تھی اس کا کام بڑھ گیا تھا۔ تائی نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر وہ کام بھی اس کے ذمے لگائے جو عام حالات میں شاید کئی سالوں سے یونہی چلے آرہے تھے۔

زینب انکار کرتی مگر پھر وہی اماں کی تاکیدیں۔۔۔ لیکن اس وقت تو اس کی حد ہوگئی جب کوئی فیض ہی نہیں ملنا تو اپنی زبان اور مزاج پر جبر کرنے کا کیا فائدہ؟

وہ ڈوئی پٹخ کر پلٹی اور بڑے آرام سے بولی۔

’’میں تو اس وقت بڑے ضروری کام سے جارہی ہوں۔ ایسا کرو یہ کدُو بھی تم ہی پکادو۔‘‘

’’ارے۔‘‘ اسے دروازے کی جانب بڑھتا دیکھ کر زارا سٹپٹا گئی۔

’’لیکن مجھے کدُو پکانا نہیں آتا۔‘‘

’’پہلی پہلی بار سب کو ہی مشکل ہوتی ہے مگر پھر سیکھ جاتے ہیں تم کوشش تو کرو اور نہ بھی اچھا پکا سکی تو خیر ہے کھانا تو تمہاری اماں نے ہی ہے۔‘‘

وہ دل جلاتی مسکراہٹ کے ساتھ فوراً ہی باہر نکل گئی۔ یہ بھی نہ دیکھا کہ زارا کس بری طرح تلملا رہی ہے۔

اپنی طرف آکر وہ سیدھی کمرے میں گھسی اور دوپٹہ اتار کر چادر اوڑھنے لگی۔

’’میں اسٹیشن جارہی ہوں حسنات کو لینے۔‘‘ اماں کے استفسار پر اس نے اطمینان سے جواب دیا تھا۔ صرف اور صرف ان ہی کی خوشنودی کی خاطر اس نے یہ فیصلہ کیا اس کے باوجود۔

اماں نے بے ساختہ سر پیٹ لیا۔

’’کبھی کبھار مصلحت سے بھی کام لے لینا چاہےے۔ کتنا سمجھایا میں نے تمہیں مگر تم پر تو کسی بات کا اثر ہی نہیں۔ اب ہاجرہ ضد میں آکر جانے کیا کریں تھوڑا بہت کام ہی تو تھا۔ تمہیں ادھورا چھوڑ کر نہیں آنا چاہےے تھا پھر بلال نے کہا توتھا۔ وہ چلا جائے گا اسٹیشن۔‘‘

’’نہیں جائے گا وہ۔ کسی بھی قیمت پر۔ بہانوں کی کمی نہیں ہے ان لوگوں کے پاس۔‘‘

’’پھر بھی۔۔۔‘‘ وہ متذبذب تھیں۔ ’’اگر ان لوگوں کے روےُے درست نہ رہے تو حسنات کو کتنا برا لگے گا کہ پہلی بار پھوپھی کے گھر آیا اور کسی نے سیدھے منہ بات تک نہ کی اور پھر تمہارے یوں جانے سے بھی وہ پتا نہیں کیا رائے قائم کرے۔‘‘

ان کے خدشات و تفکرات کی کوئی حد نہ تھی۔ وہ جو ان کی پہلی بات سن کر دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔ جھنجھلا ہی گئی۔

’’اوہو! کوئی بھی رائے قائم کرے۔ ہماری بلا سے۔ پہلے مسائل کیا کم ہیں اوپر سے یہ نئی مصیبت اور جانے کب تک ٹھہرے گی۔‘‘ آخری جملہ تو بس بڑبڑایا ہی تھا۔ اماں عرصہ دراز بعد تشریف لانے والے اس بھتیجے کے لےے جتنی حساس ہورہی تھیںکہیں چپل لے کر اس کے پیچھے ہی نہ پڑجائیں۔

’’اور اگر آپ چاہتی ہیں آپ کا بھتیجا کوئی خواری برداشت کےے بنا یہاں پہنچے تو مجھے جانے دیں۔ بلال یا باسط میں سے کوئی نہ جائے گا۔ یہ لکھوا لیں مجھ سے۔‘‘

’’دکان کے لےے کچھ مال بھی لانا ہے۔ چاچا حمید کو میں نے کل ہی کہہ دیا تھا۔ اب جاہی رہی ہوں تو دونوں کام ساتھ ہی نمٹ جائیںگے۔ سامان بھی آجائے گا اور حسنات بھی۔‘‘ اس نے ہاتھ جھاڑے۔

’’زینب! زینب۔۔۔! آخر ہر بات میں من مانی کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ بلال ہی تو لا کر دیتا ہے دکان کا مال۔۔۔ اب کون سا کمال ہوگیا کہ۔۔۔‘‘

’’مجھے کسی کا احسان نہیں چاہےے۔‘‘ وہ سرد مہری سے کہتی باہر نکل گئی تھی۔

٭٭٭

بلال کے بجائے زینب کو اپنے سامنے پا کر وہ اتنا حیران ہوا کہ چند لمحوں کے لےے بالکل ہی کچھ بول نہ سکا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ اس کے تاثرات سے جانے زینب نے کیا مطلب لیا تھا۔ ’’کیا تم نے مجھے پہچانا نہیں؟‘‘ جس لہجے میں اس نے اپنا تعارف دیا تھا اسی طرح پوچھا۔

’’ایسی بات نہیں۔‘‘ حسنات ہوش میں آکر مسکرایا۔ ’’ممکن ہے زینب کو اسے پہچاننے میں دقت ہوئی ہو۔ وہ تو فوراً ہی پہچان گیا تھا۔ اماں جی کو پرانی تصاویر سنبھال سنبھال کر رکھنے کا شوق تھا۔ ان تصاویر میں پھوپھو کی تصویریں بھی تھیں جو اس نے متواتر تو نہیں مگر دیکھی ضرور تھیں اور زینب کے نقوش میں پھوپھو کی کافی شباہت تھی۔

’’مجھے لینے کے لےے تو بلال کو آنا تھا۔ آپ نے کیوں زحمت کی؟‘‘ اس نے تکلفاً کہا۔

’’تم نے ایسی کوئی شرط پہلے تو نہیں بتائی کہ بلال آئے گا تب ہی گھر جائو گے۔‘‘ چلتے چلتے وہ اپنے مخصوص صاف گو بلکہ طنزیہ کہنا زیادہ مناسب رہے گا، انداز میں بولی۔

حسنات بڑی طویل مدت بعد اس سے مل رہا تھا اور اس طویل مدت کے دوران بڑی حیران کن تبدیلیاں رونما ہوچکی تھیں۔ مگر وہ اس کے اطوار سمجھتا تھا نہ ہی انداز، تب ہی اپنی بات کا غلط مطلب اخذ کےے جانے پر خفت بھرے انداز میں ہلکا سا مسکرایا۔

’’شرط تو خیر نہیں۔۔۔ بس یونہی پوچھ رہا تھا۔‘‘

’’اچھی بات ہے۔‘‘ وہ چلتے چلتے اسی تانگے کے قریب رک گئی جس کی گھوڑی کے سامنے چارہ رکھا تھا۔۔۔ بیٹھو۔‘‘ اس نے اگلے پائیدان پر پیر جمایا حسنات دنگ رہ گیا۔

’’اس میں؟‘‘ اس نے حیرانی سے بغیر چھت اور سیٹوں والے تانگے کو دیکھا جس میں کچھ تربوز اور کچھ سامان لدا ہوا تھا۔

’’تو اور کس میں؟‘‘ وہ رَک کر تعجب سے اس کی شکل دیکھنے لگی۔

’’میرا مطلب ہے۔۔۔ کیا یہاں کوئی معقول سواری نہیں مل سکتی؟‘‘ زینب نے پھر سے اسے شرمندہ کر دیا تھا۔

’’معقول سواری؟‘‘ سر پر صافہ لپیٹتے کوچوان کو جھٹکا لگا۔ ’’اس میں کیا برائی ہے بائو! میرے سلطان سے اچھا تانگہ پورے پنڈ میں کوئی نہیں کھینچتا۔‘‘

اسے سلطان صاحب کی صلاحیتوں پر تو قطعاً کوئی شک نہ تھا البتہ تھوڑی سی جھجک ضرور محسوس ہورہی تھی جبکہ میزبان صاحبہ نے اس کی جھجک کو اہمیت دی نہ ہی اس کے اعتراضات کو۔ بس وہ خاموشی سے تانگے میں سوار ہو کر بیٹھ گئی تھی۔

ناچار حسنات کو بھی اپنی جھجک کو پس پشت ڈالنا پڑا۔

’’چل بھئی۔۔۔ رب سوہنے دی خیر۔‘‘ کوچوان نے چابک لہرایا اور گھوڑا سر پٹ اونچے نیچے راستوں پر دوڑنے لگا۔

جب تک تانگہ شہر کی حدود سے نکلا حسنات بے حد بے زاری سے ہی سہی مگر تربووں کو اِدھر اَدھر لڑھکا کر اپنے لےے جگہ بنا چکا تھا۔ بریف کیس کو سوئے ہوئے بچے کی طرح گود میں دبوچ لیا البتہ لیدر کا بیگ اطمینان سے تربوزوں کے بستر پر پھینک دیا تھا۔

’’پھوپھو اور کامران کیسے ہیں؟‘‘

اس ہچکولے کھاتے سفر اور ارد گرد اڑتی گرد کی بدمزگی سے چھٹکارا پانے کا اسے فوری طور پر ایک یہی طریقہ سمجھ آیا تھا سو گفتگو کا آغاز کیا۔

’’ہم گھر ہی جارہے ہیں۔ جا کر پوچھ لینا۔‘‘

گو کہ اس جملے کو بے حد اپنائیت بھی گردانا جاسکتا تھا مگر زینب کے انداز میں کچھ ایسی لاتعلقی ضرور تھی کہ وہ خفیف سا ہوگیا برا بھی محسوس ہوا کوئی غلط بات تو نہیں پوچھی تھی۔

چاروں طرف سے اٹھتا گرد کا طوفان اور بھی برا محسوس ہونے لگا مگر ایک مرتبہ پھر گفتگو کا آغاز کر کے مزید بدمزا نہیں ہونا چاہتا تھا اس لےے دل ہی دل میں دو دفعہ ’’نہیں تو نہ سہی۔‘‘کہہ کر سن گلاسز آنکھوں پر اٹکالےے مگر دم الجھتا رہا۔ اسے گرد سے جتنی نفرت تھی اتنا ہی یہ گرد اس کے حصے میں آرہی تھی۔ اس پر مستزاد یہ کہ سورج بھی آگ اگل رہا تھا۔

اسی پل مسلسل لگنے والے ہچکولوں سے متاثر ہو کر لڑھکنے والے گھی کے ڈبے کو سنبھالنے کے لےے ہاتھ بڑھاتے زینب کی نظریں لاشعوری طور پر اس کی جانب اٹھ گئی تھیں اور قدرے متعجب ہو کر پلٹ آئی تھیں۔ اس لمبے چوڑے بھرپور جوان شخص کے چہرے پر بالکل بچوں کی سی معصومیت و خفگی چھائی ہوئی تھی۔ بظاہر تو بے ضرر ہی لگ رہا تھا۔

’’گائوں میں اندھیرا بہت جلدی پھیل جاتا ہے۔ تم تو شاید پہلی دفعہ ہی جارہے ہو، اس لےے پتا نہیں ہوگا۔‘‘

’’آپ فکر نہ کریں۔ مجھے بھی سوئی میں دھاگہ پرونے کا شوق نہیں۔‘‘

’’لو۔۔۔ ہمیں کا ہے کی فکر؟‘‘ وہ تڑخ کر بولی۔ اسے آگے سے جواب دینے والے لوگ زہر لگتے تھے اور اس وقت تو اپنے اندازے کے غلط ہوجانے کی تلملاہٹ بھی تھی حالانکہ حسنات کا لہجہ عام سا تھا نہ طنز مذاق۔

’’میں نے تو صرف اس لےے بتایا کہ تم ابھی سے ذہن میں بٹھالو آٹھ بجے تک ہم گھر کا دروازہ بند کر لیتے ہیں پھر دروازہ صبح ہی کھلتا ہے۔ تمہیں وقت کی پابندی کرنا ہوگی۔ ناشتا صبح چھ بجے، ساڑھے بارہ دوپہر کا کھانا اور رات کا شام سات بجے۔۔ گائوں چاہے سارا ہی گھوم گھام کر دیکھ لینا مگر اِدھر اَدھر دوستیاں گانٹھنے کی بالکل ضرورت نہیں۔ ایسا نہ ہو، کل کلاں کو ہمارے دروازے پر تمہیں پوچھنے کوئی بھی ایرا غیرا آنے لگے۔ ماموں نے تمہیں ہماری ذمہ داری پر بھیجا ہے۔ کوئی شکایت نہیں ملنی چاہےے۔‘‘ کسی سخت گیر وارڈن کی طرح وہ اسے رولز اینڈ ریگولیشنز بتا رہی تھی مگر آخری بات سن کر ساری ہی ناپسندیدگی کے باوجود اسے اتنے زور کی ہنسی آئی کہ چھپانا ہی مشکل ہونے لگی۔

یعنی اس کے ماں باپ نے اس پانچ فٹ دس انچ کے بندے کو اس لڑکی کی ذمہ داری پر بھجوایا تھا جو قداور عمر دونوں میں ہی اتنی چھوٹی دکھائی دیتی تھی کہ اگر اس کی جگہ زاشی ہوتی تو پہلی ہی نظر میں بنا تامل اسے ’’فرسٹ ایئر فول‘‘ کہہ دیتی۔

لیکن حسنات کو چونکہ بہت سوچ سمجھ کر بولنے کی عادت تھی، ساتھ ہی ساتھ وہ سچ بول کر دل توڑنے کا قائل نہ تھا خدا جانے سامنے والا خود کو کس منصب پر دیکھتا ہو۔ اس لےے اس وقت بھی خاموش ہی رہا البتہ اس لطیفے پر دل کھول کر ہنسنا چاہ رہا تھا یعنی کہ حد ہوگئی غلط فہمی کی۔

’’لو دیکھو ذرا، میں کچھ بتا رہی ہوں بجائے اس کے کہ دھیان سے میری بات سنو، تم ہنس رہے ہو۔‘‘ اس نے ڈپٹ کر پوچھا۔

’’کیا آپ کے یہاں ہنسنے کا وقت بھی مقرر ہے؟‘‘ حسنات نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے بظاہر سنجیدگی سے پوچھا۔ زینب کے سارے ہی فرمودات اعتراض اٹھانے والے تھے مگر کچھ تو اس کے آخری جملے نے موڈ بحال کر دیا تھا اور کچھ زینب کے حاکمانہ روےُے سے اسے بڑی تقویت ملی تھی۔ چلو یہاں سے نکلنے کے لےے کوئی مضبوط جواز تو ہونا ہی چاہےے۔

زینب کو اس کا یہ سوال اور بھی برا لگا۔

’’سنو! مجھے زیادہ بولنے والے لوگ برے لگتے ہیں۔‘‘

’’ہم گھر ہی جارہے ہیں۔ وہیں جا کر بتا دینا۔‘‘ زینب کا جملہ ابھی منہ میں ہی تھا کہ اس نے حساب چکتا کر دیا۔

زینب پہلے حیران ہوئی پھر حیرانی پر تلملاہٹ غالب آگئی۔ یہ لڑکا اتنا بھی سیدھا نہیں تھا جتنا کہ لگ رہا تھا۔ وہ اسے خشمگیں نظروں سے گھورتی رہی جبکہ وہ آتے جاتے مناظر میں گم تھا۔

ان دونوں کے درمیان آئے خاموشی کے اس مختصر سے وقفے سے کوچوان نے فائدہ اٹھایا۔ اسے یوں بھی حسنات میں بڑی دلچسپی محسوس ہورہی تھی۔ ’’کہاں سے آئے ہو؟ کتنا پڑھے ہو؟ کیا کرتے ہو؟‘‘

پے در پے کئی سوال پوچھ ڈالے۔

’’چاچا! تم نے کیا اس کا رشتہ پکا کروانا ہے جو سوال پہ سوال پوچھ رہے ہو؟‘‘ وہ اتنا تلملائی ہوئی تھی کہ کہے بنا نہ رہ سکی۔

حسنات کے لبوں پر پھر سے مسکراہٹ کوندی تھی۔ دلچسپ لڑکی تھی۔ پتا نہیں اتنا کیوں بھڑک رہی تھی۔ حسنات نے اس کے تنے ہوئے چہرے کو دیکھ کر سوچا۔

’’شاید اسے میرا اپنے گھر ٹھہرنا پسند نہیں آرہا۔۔۔ ہوں چلو یہ بھی ٹھیک ہی ہے۔ تھوڑے دن برداشت کر لو بی بی! پھر تو بالآخر مجھے چلے ہی جانا ہے۔‘‘

ان دونوں کی بحث سے لا تعلق ہو کر وہ سوچے چلا گیا۔ تب ہی ایک زور دار جھٹکا لگا اور تانگے کا اگلا حصہ پورے کا پورا آگے کو جھک گیا۔

گھوڑا دونوں پیر اٹھائے بری طرح ہنہناتا ہوا رک گیا تھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ حسنات نے بمشکل خود کو دائیں طرف الٹنے سے بچاتے ہوئے تشویش سے پوچھا۔

’’بائی ٹوٹ گئی ہے پتر۔۔۔ لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ میں ابھی جوڑ دیتا ہوں۔‘‘ چاچا نے بے نیازی سے اعلان کیا۔

’’بیٹرا ترے۔‘‘ زینب نے سر پیٹ لیا۔ ’’چاچا! ساری زندگی بیویاں بدلتے گزار دی۔ ایک آدھ بار بائی بھی بدلوالینی تھی۔ جب بھی دیکھو، ٹوٹتی رہتی ہے۔‘‘

’’اوہو ہک ہا۔۔۔ جنہوں دیکھو میری ووہٹیاں دے پچھوں ای پیا رہندا اے۔‘‘ چاچا جھلایا۔

’’ہونہہ۔۔۔‘‘ زینب نیچے اترنے لگی۔

’’کتنا وقت لگے گا چاچا!‘‘ حسنات کو بھی بے زاری ہوئی۔

چاچا نے خاصی تسلی دلوائی کہ زیادہ وقت نہیں لگے گا مگر زینب کو ذرا بھی اعتبار نہ تھا۔

’’اونہہ۔۔۔ تمہاری بات کا اعتبار وہ کرے جو تمہیں جانتا نہ ہو۔ چاچا! آتے ہوئے تو تم نے یہ بھی کہا تھا۔ بائی بدلوالی ہے، اب نہیں ٹوٹے گی۔‘‘ اس نے جتایا۔ چاچا ہنسنے لگا ڈھٹائی سے۔

’’اچھا زیادہ آگے نہ جانا۔‘‘ زینب سنی ان سنی کرتی چپل گھسیٹتی آگے بڑھ گئی۔

چاچا باتونی تھا۔ اپنی تہ بند کی گرہ از سر نو لگاتے ہوئے جو بولنا شروع ہوا تو بولتا ہی چلا گیا۔ سفیدے کے درختوں کے جھنڈ کے اس پار الجھی الجھی سی ریل کی پٹری پر بہت دور سے رینگتی ہوئی مال گاڑی کے ڈبے دکھائی دے رہے تھے۔ فضا میں ہلکی ہلکی سی گڑگڑاہٹ بھی سنائی دیتی تھی۔

حسنات کچھ دیر تو چاچا کی باتوں میں دلچسپی لیتا رہا پھر بے زار ہو کر اٹھ گیا۔

’’یہ نہر کہاں تک جاتی ہے؟‘‘ وہ جواب سنے بنا ہی آستین کے بٹن کھولتا سڑک سے اتر کر کچے میں آگیا پھر پنجوں کے بل بیٹھ کر منہ پر چھینٹے مارے گو کہ سورج ابھی بھی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا مگر یہاں تپش قدرے کم تھی۔ سبزے کی دھیمی سی مہک خاصی بھلی محسوس ہورہی تھی۔

ساری زندگی کے انتہائی بھاگتے دوڑتے شیڈول میں سے چند لمحے کی فرصت نکال کر کبھی یہ بھی سوچنے کی توفیق ہوئی تھی کہ سب سے چھوٹی پھوپھو کس حال میں ہیں۔

ارد گرد سے سب اچھا ہے کی تسلی بخش رپورٹ ملتی ہے تو ایسا سوچنا ممکن بھی نہیں ہوتا پھر اس نے تو کبھی دلچسپی بھی نہ لی تھی۔ وہ تو بس اتنا ہی جانتا تھا کہ پھوپھا جان اور ابو کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے بعد سارے ہی تعلقات منقطع ہوگئے تھے گو کہ خاندان بھر میں کوئی بھی اس جھگڑے کی اصل وجوہات سے واقف نہ تھا۔ اس نے اپنی دو پھوپھو، تین چچائوں حتیٰ کہ ابو کو بھی یہی کہتے سنا تھا۔

’’غفار خود غرض اور اپنی مرضی چلانے کا شوقین تھا اور وہ ہمیشہ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر رہنا پسند کرتا تھا۔

ممکن ہے کہ جھگڑے کی اصل وجہ پھوپھا جان کا یہی آمرانہ رویہ رہا ہو۔مگر کسے فرصت تھی ہ بیٹھ کر اس پہلو پر غور کرتا اور اس کے نیتجے میں سگے رشتوں کے مابین حائل ہونے والی دوری کو سمیٹنے کی تدبیر کرتا۔ البتہ ایک مرتبہ اماں جی نے سرد مہری اور لا تعلقی کے اس سلسلے کو ختم کرنے کے لےے ایک تجویز اس کے سامنے رکھی تھی جسے سنتے ہی اس نے انکار کرتے ہوئے عفیفہ کا نام لے دیا اور نتیجتاً منہ کے بل گرا تھا۔

’’دھت تیری کی۔‘‘ اس نے جھنجھلا کر خشک گھاس سے جھانکتے پتھر کو ٹھوکر لگائی، نجانے اس کی ہر سوچ کا تانا عفیفہ سے جا کر ہی کیوں جڑ جاتا تھا پتھر ندی کی ساکت سطح سے ٹکرایا۔ ایک پل کو بھنور بنا پھر خاموشی سے پانی میں تحلیل ہوگیا۔

جنگلی پھولوں کی نامعلوم سی خوشبو سے لدی، ہوا برگد کے پتوں سے ٹکرا کر آگے نکل رہی تھی اور پتے کٹی ہوئی پتنگ کی مانند نیچے آرہے تھے۔

’’اور خدا کرے وہاں کوئی جھگڑے کی اصل وجہ کا تذکرہ نہ ہی کرے۔‘‘ اس نے ایک بار پھر بڑے دل سے دعا کی اور ایک بار پھر پوری شدُومد سے بھاگ جانے کے متعلق سوچا۔ دراصل اسے پچھلے حوالوں سے بڑا خوف آتا تھا۔

معاً اسے ایک مہین سی کراہ نے متوجہ کیا، وہ جو مستقل ہی منہ اٹھائے آسمان کی جانب دیکھ رہا تھا۔ بے اختیار آواز کی سمت دیکھا اور چونکا۔

زینب سڑک کے کنارے بیٹھی اپنے پیر پر جھکی ہوئی ’’اسے کیا ہوا؟‘‘ وہ دو قدم آگے بڑھا۔ زینب کے دائیں پائوں کی ایڑھی سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا۔

’’اوہ۔‘‘ وہ بے ساختہ ہی آگے بڑھ آیا تھا۔ ’’یہ کیا ہوا؟‘‘

زینب نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ چہرے پر پریشانی لےے ذرا سا اس کی جانب جھکا ہوا تھا۔ اس کی پشت پر چمکتا ہوا سورج جیسے چھپ سا گیا تھا اور زینب کا سارا وجود سائے میں نہا گیا۔

’’نظر نہیں آتا۔۔۔؟ اندھے ہو؟‘‘

حسنات ہمدردی سے اسے دیکھ رہا تھا شرمندہ سا ہوگیا۔

’’دراصل میں یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کیسے لگا یہ کانچ؟ آپ کے پیر میں۔‘‘

’’میں یہا ں آرام سے بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ کانچ کا ٹکڑا ادھر سے بھاگتا ہوا آیا اور ایڑی میں اتر گیا۔‘‘

حسنات نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ’’واقعی۔‘‘

جواباً زینب نے ایسی نظروں سے اسے دیکھا جو اسے اور بھی شرمندہ کر گئیں۔ حسنات کا دل چاہا لعنت بھیجے ساری ہمدردی پر اور منہ پھیر کر چلا جائے مگر اس کی مجبوری بھی یہ تھی کہ خدا نے بے حد حساس اور ہمدردی بھرا دل اس کے اندر رکھ دیا تھا جو اتنی خفت جھیل لینے کے باوجود نظریں چرا کر آگے بڑھنے نہ دیتا تھا پھر یہ نک چڑھی، بد مزاج لڑکی اس کی کزن تھی جن کے گھر اسے چند دن تو گزارنے ہی تھے اور وہ بگاڑ نہیں چاہتا تھا کہ بہرحال وہ ایک صلح جَو انسان تھا۔

زینب ایڑی کی جانب ہاتھ بڑھاتی پھر واپس کھینچ لیتی۔ اپنے مزاج کی ساری سختی کے باوجود وہ خود میں اتنی ہمت نہیں پارہی تھی کہ کانچ کے نکلتے ہوئے ہونے والی تکلیف برداشت کر سکے۔

معاً حسنات پنجوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا۔

’’ہاتھ ہٹائیں۔۔۔ میں کانچ نکال دیتا ہوں۔‘‘

’’میں خود نکال لوں گی۔‘‘ زینب نے بدک کر پیر پیچھے ہٹایا اور اس بار حسنات کو اس کے لہجے کی سختی ہر بار سے زیادہ کھلی تھی۔

’’جیسی آپ کی شکل بنی ہوئی ہے، اسے دیکھ کر کوئی بھی بتا سکتا ہے، آپ اگلے ایک گھنٹے تک کانچ نہیں نکال سکیں گی۔ کانچ نکلے گا تو ہی خون رکے گا۔۔۔ مجھے مدد کرنے دیں بی بی اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے۔‘‘

اس کا لہجہ سخت تھا اور دو ٹوک۔ قدرے لا تعلق بھی۔ چند لمحوں کے توقف سے زینب نے ہاتھ ہٹالیا۔

حسنات نے اطمینان سے پیر کا جائزہ لیا پھر احتیاط سے کھینچ کر کانچ کا ٹکڑا نکال دیا۔ سرخ سرخ خون خشک گھاس پتوں میں جذب ہونے لگا۔

’’زخم کافی گہرا ہے۔ ٹانکے لگوانے پڑیں گے۔‘‘ حسنات نے کانچ کا خون آلود ٹکڑا نہر کی طرف اچھالتے ہوئے لاشعوری طور ر اس کی جانب دیکھا۔ تکلیف کی شدت سے اس نے آنکھیں اب تک بھینچ رکھی تھی۔

حسنات نے جیب سے نم رومال برآمد کیا اور اس کے پیر پر باندھنا چاہا مگر زینب نے اس کے ہاتھ سے رومال لے لیا تھااور خود ہی باندھنے لگی۔

’’بہت اچھی طرح باندھےں۔‘‘ اس نے ہدایت دی۔

’’میں چاچا سے کہتا ہوں وہ تانگہ یہیں لے آئیں۔‘‘ وہ پلٹتے ہوئے بولا اور تیز تیز قدم اٹھاتا سڑک تک چلا گیا۔

زینب اسے جاتا دیکھتی رہی پھر جب وہ چاچا حمید سے بات کرتا دکھائی دیا تو احتیاط سے چلتی سڑک تک آگئی گو کہ اسے چلنے میں خاصی دقت ہوئی اور تکلیف سہنا پڑی تھی مگر حسنات کی جتنی مدد وہ لے چکی تھی، وہ بھی اس کے اصولوں کے خلاف تھی۔ اب چلنے کے لےے سہارا لینے کا سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔

’’گھاس کے اندر کانچ کا ٹکڑا تھا۔ میں نے چپل اتاری ہوئی تھی بس بے دھیانی میں لگ گیا۔‘‘ چاچا کے استفسار پر اس نے کمزور سے لہجے میں بتایا تھا۔

’’کوئی گل نئی پتر! بس ابھی گائوں پہنچ کر ڈسپنسری والے ڈاکٹر سے پٹی کروالیتے ہیں۔‘‘ چاچا نے تسلی دی۔

ایک دفعہ پھر سڑک پر گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز گونجنے لگی۔

زینب نے ذرا کی ذرا گردن موڑ کر اس کی جانب دیکھا کچھ کہنے کا ارادہ کیا پھر سر جھٹک کر تیزی سے گزرتے درخت شمار کرنے لگی تھی۔

٭٭٭

وہ باحوصلہ تھا۔ قنوطی بالکل بھی نہیں۔

اس کی ترجیحات ہمیشہ غیر مبہم رہیں، منازل واضح تھیں اور ان منازل تک لے جانے والے راستے بالکل صاف اور روشن تھے۔

وہ اتنا دل برداشتہ ہوا کہ خاموشی کی بکُل ماری مایوسی کی پوٹلی کاندھے پر اٹکائی اور اپنے منتخب شدہ راستوں سے نظریں چراتا یہاں آگیا۔ اسے اپنی بزدلی کا بھی قلق تھا۔ رہ رہ کر خود پر غصہ آتا۔ ایسا بھی کیا کم حوصلگی ہوئی۔ خفیف سا جھٹکا لگا تھا تانگہ رک گیا۔

اس نے کب سے گھٹنوں پر رکھا سر اٹھایا۔ اپنی سوچوں کے تسلسل میں گم شاید وہ اونگھنے لگا تھا کہ راستہ کٹنے کا علم بھی نہ ہوسکا۔ پکی سڑک کہیں پیچھے رہ گئی تھی۔ مٹی سے اٹے ہوئے خالی میدان میں تانگہ یوں کھڑا تھا، جیسے کھلے آسمان تلے کوئی یتیم۔ دائیں ہاتھ پر کھیت ہی کھیت تھے جن کے درمیان سے نکلتی ہوئی پتلی سی پگڈنڈی آبادی تک راہنمائی کر رہی تھی۔ دوسرے ہاتھ پر شیشم کے درختوں میں گھرا کچُی دیواروں والا مکان تھا جس کے باہر کے رخ میں بنے ہوئے برآمدے کے عین سامنے ٹیوب ویل کے پمپ سے پانی کی بے حد موٹی دھار نکل نکل کر سامنے بنے چبوترے کے تالاب میں گر رہی تھی۔

اسے یاد آیا۔ اس نے بچپن میں اس تالاب میں غوطے لگائے تھے گرمیوں کی چھٹیوں کی کئی دوپہریں ان ہی کھیتوں کو سیراب کرنے والے چھوٹے چھوٹے نالوں میں مچھلیاں پکڑنے کی احمقانہ خواہش میں برباد ہوئی تھیں۔

مولوی کے باغ سے کیریاں چرانے کے شوق میں حفاظت پر مامور کتوں کو کئی بار دوڑ میں مات دی تھی۔

یہاں جگہ جگہ پیپل اور شیشم کے درخت تھے۔ خود پھوپھو کے گھر تو یہ بڑا سا باغ تھا۔ بالکل وسط میں سرخ اینٹوں سے بنے چبوترے والا فوارہ تھا۔ درختوں کی بہتات تھی۔ سب بچے درخت چنتے جس کا سب سے اونچا ہوتا وہ جیت جاتا لیکن حسنات کو وہ سارے ہی درخت برے لگتے تھے۔ اتنے اونچے اور گھنے مگر پھل ایک بھی نہیں۔ بھاڑ میں جھونکو ایسے درخت، وہ صرف تب درخت چنتا جب اس کے ہاتھ میں غلیل ہوتی۔ ان درختوں کے پتوں میں کئی چڑیوں کے خاندان آباد تھے اور وہ ٹھہرا پکا نشانے باز۔ غلیل کے ربڑ میں کھینچ کھینچ کر کنچے چھوڑتا رہتا اور معصوم چڑیوں کی ہراساں آہ و بکا سے باغ کا ہر کونا گونجتا رہتا مگر اسے ذرا رحم نہ آتا اپنے تئیں وہ درختوں پر پھل نہ ہونے کا بدلا لیتا تھا۔ اسے لگتا چڑیوں نے پھلوں کا رستہ روک رکھا ہے۔ باقی بچے اس کی نشانے بازی سے بڑا متاثر رہتے۔ یہ نشانے لیتا رہتا ان کی واہ واہ جاری رہتی مگر زینب کو اس سے نفرت تھی۔

وہ نیم جاں چڑیوں کے حلق میں پانی ٹپکاتی رہتی اور ببانگ دہل اسے ظالم کہتی پھرتی ’’قیامت کے دن تم بھی درخت پر بیٹھو گے اور یہ چڑیاں تمہیں غلیل سے ماریں گی۔‘‘

وہ روزِ حشر کا ڈراوا دے کر اسے اس ظلم سے روکنے کی کوشش کرتی مگر حسنات کو اونچے اونچے قہقہے لگا کر مذاق اڑانے کا شوق تھا کیونکہ وہ اب کے برعکس بدتمیز اور شرارتی بچہ تھا۔

زینب اسے جن بابا سمجھتی۔

حسنات مسکرانے لگا۔ قدرے حیرانی بھی ہوئی اس کے بچپن کی یاد میں زینب بھی تھی۔ بالکل لاشعوری طور پر اس نے گردن موڑ کر زینب کو دیکھا اور فورا ً ہی دوسری جانب دیکھے لگا۔ وہ خاموش بیٹھی تھی مگر غصے میں لگی۔ پیشانی پر لکیریں، تنا ہوا چہرا اور آنکھوں میں کوئی گہری سوچ۔

یہ وہ زینب نہیں تھی جس کا ذکر اس کے بچپن کے بارے میں تحریر تھا۔ یہ تو کوئی اور تھی نک چڑھی اور غصیلی سی۔ اماں جی جس زینب کے گن گاتی تھیں۔ وہ بھولی بھالی تھی، معصوم صورت، میٹھے لہجے میں پیاری پیاری باتیں کرنے والی۔ اس میں تو اس زینب کا شائبہ تک دکھائی نہ دے رہا تھا۔

پتا نہیں وہ کس نوعیت کی تبدیلی ہوگی جو بچپن کا دھیما پن لے کر اڑن چھو ہوگئی۔ قیاس آرائی کے لےے وافر وقت مل سکتا تھا مگر اسی وقت ایک آواز نے اسے متوجہ کر لیا۔ کھیتوں کے درمیان سے رستہ بناتی پگڈنڈی پر ایک لڑکی مضبوطی سے پیر جمائے بھاگی چلی آرہی تھی۔

اس کے چہرے پر ہراس بھی تھا اور لبوں پر زینب کا نام بھی۔ دونوں ہی باتیں متوجہ کرنے والی تھیں۔ مگر قریب آکر وہ ٹھٹک کر رک گئی تھی۔

’’کیا ہوا؟‘‘ زینب تانگے سے اتر چکی تھی مگر ثریا اس اجنبی کو دیکھتی کبھی زینب کو۔

’’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘ ہکلانے لگی۔

’’اگر منہ سے کچھ نہیں پھوٹنا تھا تو اتنی زور زور سے پکارنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ حسب معمول اسے جلدی تائو آگیا تھا۔

’’ادھر پچھلی طرف سارے پنڈ کے بچے کامی کو پتھر مار رہے ہیں۔ اللہ کی قسم۔۔۔ میں اپنیاں اکھاں نال ویکھ کے آئی آں۔‘‘ (میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آئی ہوں) زینب دھک سے رہ گئی۔

’’بیڑا غرق ہو تیرا ثریا! پہلے نہیں پھوٹ سکتی تھی۔‘‘ وہ ہراساں ہو کر پگڈنڈی کی جانب دوڑی اور دیکھتے ہی دیکھتے کھیتوں میں گم ہوگئی۔

حسنات حیران پریشان وہیں رہ گیا۔ اسے یاد آیا، زینب کا پائوں زخمی تھا مگر اس نے ذرا پروا نہیں کی۔ عجیب لڑکی تھی نہ سمجھ میں آنے والی۔

وہ بیس منٹ تک وہاں کھڑے اس کی راہ دیکھتے رہے مگر وہ واپس آنے کے لےے نہیں گئی تھی شاید۔ پھر چاچا اسے گھر کے دروازے کے سامنے اتار کر چلا گیا۔

نئی جگہ آکر تعارف سے قبل جو مخصوص سی بے چینی محسوس ہوتی ہے وہ اسے بھی لاحق تھی اور ابھی تو غالباً زینب صاحبہ کی غیر موجودگی سے متعلق سوالات کا سامنا بھی کرنا تھا اور یہ صورت حال کتنی احمقانہ ہوگی اس کا اندازہ ابھی بھی اسے ہورہا تھا۔ دروازہ بڑا سا تھا مگر بھڑا ہوا اس نے ذرا سا دبائو ڈالا تو کھلتا چلا گیا۔ اس نے دروازہ کھلنے کے بعد بھی چند لمحے انتظار کیا کہ شاید کوئی اندر موجود ہو مگر جب دور دور تک کوئی دکھائی نہ دیا تو جھجکتا ہوا اندر آگیا بہت بڑا اور کھلا سا صحن تھا۔ دائیں ہاتھ گیٹ سے چند قدم بائیں طرف ایک گلی سی پوری گھوم کر مکان کے پیچھے تک جارہی تھی اور صحن کے اس طرف بنے برآمدے میں ایک قطار سے کئی کمروں کے دروازے دکھائی دے رہے تھے۔ یہاں گملوں کی بہتات تھی۔ صحن کی بیرونی دیواروں کے ساتھ برآمدے کی سیڑھیوں میں بالکونی کے چھجُے سے لٹکتی باسکٹ میں برآمدے کے ستونوں سے بیلیں لپٹی ہوئی تھیں۔ سیڑھیوں کے قریب بیدکی کرسیاں اور میز تھی جس پر کروشےے کا سفید زمین اور سرخ پھولوں کا غلاف بچھا تھا۔

وہ شش و پنج کی کیفیت میں گِھرا صحن کے بیچ و بیچ کھڑا ایک ایک چیز کو دیکھتا رہا۔ کیا اس گھر میں اتنا لمبا سفر طے کر کے آنے والے مہمان کا استقبال کرنے کے لےے کوئی بھی نہیں اور اگر جو یہاں سب ہی زینب جیسے ہوئے تو یہ چند دن بھی کتنے مشکل ہوجائیں گے۔ الٹے سیدھے ہی سہی مگر خیالات کی کمی نہ تھی۔

تب ہی بائیں جانب کا دروازہ کھول کر ایک لڑکی باہر نکلی۔ جانے کس دھن میں تھی۔ اپنی جھونک میں آگے نکل گئی۔ ناچار حسنات کو گلا کھنکھار کرمتوجہ کرنا پڑا۔ اس نے سرسری سا گردن موڑ کر دیکھا پھر دو فٹ اچھلی۔

’’آپ۔۔۔ آپ؟‘‘

’’میں حسنات ہوں۔‘‘ اس نے اپنی طرف سے اس کی مشکل آسان کی اور مسکرادیا۔

’’آپ اسلام آباد سے آئے ہیں نا؟‘‘ اس نے بے یقینی سے پوچھا حسنات پل بھر کو حیران ہوا پھر مسکرادیا۔

’’پہلے زینب بی بی کا غصہ اور اب ان محترمہ کی حیرانی ناقابل فہم۔۔۔ شاید اس گھر میں نمونے بہت ہیں۔‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلا تے ہوئے دلچسپی سے سوچا۔

’’ارے تو آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں۔ اندر آجائےے۔ ہم سب تو کب سے آپ ہی کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ اس نے خوش اخلاقی سے کہا۔

’’ویسے میں زارا ہوں، آپ کی پھوپھو میری چچی جان ہیں۔‘‘

ایسی گرم جوشی، ایسی شیریں زبان۔ یہاں کوئی اور بھی موجود ہوتا تو دم بخود ضرور ہوتا مگر حسنات کی پہلی ملاقات تھی۔ زینب کی تلخ بیانی کے بعد یہ لہجہ اور یہ رویہ بھلا معلوم ہوا۔

اسی پل پھوپھو کہیں سے آگئیں۔

’’حسنات! میرے بیٹے۔‘‘ انہوں نے جھلملاتی آنکھوں سے اسے اپنی بازوئوں میں بھرا۔ بڑی شفقت سے پیشانی پر بوسہ دیا۔ ان کے ایک ایک انداز سے اور چہرے پر نقش سے بے تحاشا خوشی چھلک رہی تھی۔

حسنات یہاں دلی آمادگی کے ساتھ نہیں آیا تھا مگر پھوپھو کی محبت و شفقت نے اسے شرمندہ کر ڈالا۔

’’آپ کیوں رو رہی ہیں؟‘‘ اس نے بے حد محبت سے اپنا بازو ان کے نحیف شانوں پر پھیلا دیا۔ ’’مجھے پتا ہوتا آپ میرے یہاں آنے سے اتنا ناخوش ہوں گی تو کبھی نہ آتا۔‘‘

اس کا لہجہ متبُسم بھی تھا شریر بھی۔ ساجدہ پھوپھو جھینپ کر وضاحتیںدینے لگیں۔

’’اوہو چچی جان! آپ نے تو انہیں پریشان ہی کر دیا۔۔۔ بے چارے تھکے ہوئے آئے ہیں، انہیں اندر تو لائیں۔‘‘ زارا نے احساس دلایا تو وہ چونکیں۔ حسنات کو دیکھ کر ایسی خوشی دل سے اٹھ رہی تھی کہ وہ زارا کے اس شیریں لہجے پر دھیان ہی نہ دے سکیں اور فواً ہی اسے لے کر برآمدے کے آخری دروازے کی جانب بڑھ گئیں۔

’’معاف کرنا بیٹے! مجھے پتا ہی نہیں تھا، تم آچکے ہو۔ وہ تو ابھی ابھی زینب نے بتایا تو میں ادھر دوڑی چلی آئی۔‘‘ دروازہ کھولتے ہوئے پھوپھو نے شرمندہ شرمندہ لہجے میں بتایا۔

’’کیا؟‘‘ اسے حد درجہ کوفت ہوئی۔ ’’یعنی وہ محترمہ گھر پہنچ چکی ہیں جو اطلاع دیتی پھر رہی ہیں۔ بتائو اسٹیشن آنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں بچہ ہوں جو یہاں تک اکیلا نہیں پہنچ سکتا تھا۔‘‘ جتنی دیر وہ کڑھ کر سوچتا رہا۔ پھوپھو نے پلنگ کی صاف ستھری چادر از سر نو جھاڑ کر بچھا دی۔

’’بیٹے! بوتل منگوائوں یا پہلے کھانا لے آئوں، چائے تو کھانے کے بعد ہی پیتے ہیں۔ وہ دراصل بھائی صاحب بھی بعد میں ہی پیا کرتے تھے، پہلے تو۔‘‘

انہوں نے فوراً ہی وضاحت دینا ضروری سمجھا۔ حسنات کو احساس ہوا وہ کنفیوز ہورہی تھیں اور جھینپی جھینپی سی کھڑی تھیں۔ اسے ان کی معصومیت پر پیار آیا۔

’’بوتل نہ ہی کھانا۔‘‘ اس نے سامان دیوار کے ساتھ لگاتے ہوئے بے تکلفی سے کہا۔ ’’سادہ اور ٹھنڈے پانی کے تین چار گلاس پلادیں پھر میں نہائوں گا اس کے بعد آپ کے ہاتھ کی اچھی سی چائے پیوں گا اور پھر میں سوئوں گا بہت تھک گیا ہوں۔‘‘

’’لیکن کھانا۔‘‘ وہ اصرا رکرنے لگیں۔

’’میں نے تمہارے لےے ہرے مصالحے کی بریانی اور باداموں والا قورمہ بنایا ہے۔ ساتھ میں تازہ حلیم بھی ہے۔ تمہیں پسند ہوا کرتی تھی۔‘‘ ایک مرتبہ پھر وضاحت تھی یا یاد دہانی۔ مگر اسے اچھا لگا۔ بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

’’ابھی بھی پسند ہے اور آپ نے بنائی ہے تو یقینا اچھی ہی ہوگی مگر اس وقت بالکل بھی گنجائش نہیں ہے، ٹرین میں کھانا کھالیا تھا ابھی آپ چائے پلوادیجےے۔ سو کر اٹھوں گا تو کھانے سے پورا انصاف کروں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے۔‘‘

اس نے بالکل پکا اور سچا وعدہ کیا تھا۔ پھوپھو مطمئن ہو کر باہر نکل گئیں۔ وہ کمرے کا جائزہ لیتا جوتے اتارنے لگا۔

اچھا کمرہ تھا۔ سادگی سے ترتیب دیا ہوا۔ متوسط طبقے کے مکانات میں کمروں کو سجاتے ہوئے جتنی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں، وہ یہاں بھی دکھائی دے رہی تھیں۔ سب سے اچھی چیز تو یہ آرام دہ پلنگ تھا بلکہ پلنگ نہیں یہ قدیم وضع کی مسہری تھی مگر بستر آرام دہ ہی تھا۔

اس نے جوتے اتار کر ایک طرف رکھے اور ابھی کمر سیدھی کرنے کے خیال سے لیٹا ہی تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر شرمائی شرمائی سی زارا اندر داخل ہوئی۔ وہ ابھی پوری طرح لیٹا بھی نہیں تھا۔ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔

’’اوہ۔۔۔ آپ آئےے تشریف لائےے۔‘‘ اس نے پوری طرح تہذیب کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے کہا وہ پھوپھو کا منتظر تھا۔

’’میں یہ آپ کے لےے لائی ہوں۔‘‘ ہاتھ میں پکڑی ٹرے اس نے حسنات کی جانب بڑھادی جس میں سرخ شربت سے لبالب بھرا جگ اور نفیس سا گلاس موجود تھا۔ شربت کی سطح پر برف کے کیوب تیر رہے تھے۔

’’بہت شکریہ۔۔۔ مگر آپ نے بلا وجہ تکلف کیا، میں نے پھوپھو سے کہا بھی تھا، صرف سادہ پانی چاہےے۔‘‘ اس نے سادگی سے کہا۔

’’ہاں ہاں، چچی جان نے سادہ پانی ہی کہا تھا مگر آپ یہ شربت پی کر دیکھیں بہت اچھا ہے۔ میں نے خود بنایا ہے۔‘‘ اس نے اپنی گڑبڑاہٹ بڑی خوبی سے چھپالی۔ ’’اور تکلف کی کیا بات ہے، مہمان کی خدمت تو فرض ہوتا ہے۔‘‘

اسی وقت ساجدہ پھوپھو آگئیں تو اسے جلدی سے ڈائیلاگ ادھورا چھوڑ کر جانا پڑا کہ ان کے ہاتھ میں سادہ پانی کا جگ اور گلاس بھی موجود تھا۔

’’آپ نے بہت اچھا کیا پھوپھو! سادہ پانی لے آئیں۔ یہ شربت بھی اچھا ہے مگر پیاس تو سادہ پانی سے ہی بجھتی ہے۔‘‘

اس نے خوش دلی سے کہتے ہوئے ان کے ہاتھ سے گلاس لے لیا۔ پھوپھو نے قدرے حیرانی سے شربت والے جگ کی جانب دیکھا پھر سر جھٹک کر اس کی جانب متوجہ ہوگئیں۔ اتنے عرصے کے بعد بھتیجا آیا تھا۔ انہیں کئی باتیں کرنا تھیں۔

٭٭٭

وہ عموماً اتنا سوتا نہیں تھا جتنا اس روز سویا۔

جب بے دار ہوا تو گو کہ اتنی دیر تک بے سَدھ ہو کر سونے کی ہلکی سی شرمندگی بھی محسوس کر رہا تھا مگر ذہن بھرپور نیند کے احساس سے یوں ہورہا تھا جیسے شاخ سوکھے پتوں کے جھڑ جانے سے ہلکی پھلکی ہوجاتی ہے۔

گرمی یہاں خوب تھی اور پانی ٹھنڈا۔ اس نے از سر نو غسل لیا اور پھوپھو کی ہمراہی میں کمرے سے باہر آگیا۔ یہاں زارا کی پھیلائی ہوئی سنسنی کے زیر اثر سب ہی افراد اس کے استقبال کے لےے کم اور دیدار کے شوق میں زیادہ صحن میں جمع ہوگئے تھے اور سچ تو یہ ہے کہ کسی کو بھی مایوسی نہیں ہوئی گو کہ زارا نے جتنی بھی تعریفیں کی تھیں، وہ اتنا بھی شاندار نہیں تھا مگر کچھ کم بھی نہ تھا۔ پہلی ہی نظر میں پسندیدگی کے تاثرات ابھرتے تھے۔

نجمہ باجی نے نوشی کو اپنے کندھے پر تھپکتے ہوئے دل ہی دل میں زارا کی پسند کی داد دی۔ فاطمہ کا موڈ البتہ کچھ خراب ہوا۔ ہونہہ کیا ضروری تھا آج زارا ہی دروازہ کھولتی۔ پتا نہیں ہر اچھی چیز اسی کی نظر میں پہلے کیوں آجاتی ہے۔

ہاجرہ تائی البتہ اپنی عقل کو کوستی رہیں۔ گھر میں دو دو جوان لڑکیاں تھیں اور انہوں نے اس پہلو پر دھیان ہی نہیں دیا۔ آئے ہائے یہ زینب بدبخت تو آنکھوں پر پٹُی ہی باندھ دیتی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رہتی۔ حالانکہ میری عقل و ذہانت کا تو سارے خاندان میں چرچا ہے۔ لیکن خیر ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا۔ محنت تھوڑی زیادہ کرنا پڑے گی مگر ایک بیٹی کا بوجھ تو کندھوں سے اترے ہی اترے۔

وہ بڑھ کر حسنات کی بلائیں لینے لگیں۔

حسنات بے چارے کو اتنے پرجوش استقبال کی توقع نہیں تھی۔ قدرے گھبرا گیا اور احمقوں کی طرح بات بے بات مسکراتا رہا۔ شکر ہے کہ پھوپھو وہاں موجود تھیں گو کہ ان کی توجہ کھانا چننے میں زیادہ تھی مگر حسنات کو بہت آسرا محسوس ہورہا تھا۔

کچھ دیر گزری تو اس کی جھجک بھی دور ہوگئی۔ یہاں سب ہی اچھے تھے۔ دوستانہ طبیعت کے مالک اور جلدی گھل مل جانے والے۔

’’یہ نجمہ تو دو دن سے آئی ہوئی ہے، البتہ مجاہد آج ہی آیا ہے نجمہ کو لے جانے کے لےے، وہ تو تمہارے لےے میں نے انہیں بھی روک لیا کہ اتنے عرصے بعد بچہ آرہا ہے، ملاقات ہوجائے گی اتنے سے تھے تم۔‘‘ انہوں نے زمین سے کوئی دو تین فٹ کی اونچائی پر ہاتھ رکھ کر بتایا۔ ’’ جب یہاں آئے تھے۔ ایمان سے اپنی ماں اور پھوپھو سے زیادہ میری گود میں چڑھے رہتے تھے۔ بڑا پیار تھا اس کا میرے ساتھ۔‘‘

اب کے مجاہد صاحب کو مطلع کیا گیا۔ حسنات سن سن کر مسکراتا رہا۔ اسے ان کی کسی بات پر رتی بھر شک نہ تھا اتنی بڑی عمر کی خاتون کہہ رہی تھیں تو سچ ہی ہوگا۔ اسے بزرگوں کی سچائی پہ کامل یقین تھا۔

کھانا لذیذ تھا۔ پتا چلا زارا اور فاطمہ کی محنت ہے۔ صبح سے بے چاریاں اس کی خاطر مدارات کا سامان کرتی تھک گئی تھیں۔ وہ مشکور سا ہوگیا۔

’’لو اس میں شکرےے کی کیا بات ہے۔ انسان تھکتا ہے غیروں کے لےے اپنوں کے لےے کام کرتے بھلا کسے تھکاوٹ ہوتی ہے۔ اے نجمہ! تم اتنی بڑی ہوگئیں مگر عقل نام کو نہیں۔‘‘ تائی ہاجرہ بولیں۔

حسنات کو کب سے پھوپھو دکھائی نہ دی تھیں، اسی کے استفسار پر مجاہد بھائی نے اس کی ملازمت کی نوعیت کا سوال اٹھا دیا۔ وہ ایسا الجھا کہ دوبارہ خیال ہی نہیں آیا لیکن جس وقت چائے آئی۔ اسی وقت کچھ عجیب سا شور سنائی دینے لگا۔ جیسے کوئی زور زور سے بول رہا ہو اور گالیاں بک رہا ہو۔

وہ ایک بند دروازے کے قریب بیٹھا تھا اور شور اسی دروازے کے عقب سے اٹھ رہا تھا۔ اس نے قدرے حیرانی سے وہاں موجود سب ہی افراد کو دیکھا جو اپنی خوش گپُیوں میں مگن تھے، ان میں سے کوئی بھی نہ تو چونکا نہ ہی رکا۔

’’یہ کیسی آوازیں ہیں؟‘‘ وہ خود کو سوال سے روک نہ سکا۔

ایک پل کے لےے سب ہی خاموش ہوگئے جیسے کان لگا کر سن رہے ہوں پھر سب سے پہلے باسط ہنس دیا۔

’’اونہہ۔۔۔ اس لڑکی کو تو بہانا چاہےے لڑائی کا۔‘‘ تائی نے جھنجلا کر کہا اور بطور خاص حسنات کے زانو پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔

’’بتائو، کیا لڑکی ذات کو یوں بولنا جچتا ہے۔ ہماری بھی تین تین بیٹیاں ہیں مگر مجال ہے جو کبھی کسی نے ان کی بلند آواز سنی ہو مگر یہ لڑکی۔۔۔ آئے ہائے اب کیا کہوں۔ ہماری تو اچھی کہی بھی بری بن جاتی ہے۔‘‘ انہیں بڑی فکر تھی۔

’’انہیں نہ بتائیں امی! انہوں نے آج پہلی قسط سنی ہے، اس لےے حیران ہورہے ہیں۔ آہستہ آہستہ عادت ہوجائے گی۔۔۔ ویسے حسنات بھائی! ذرا بچ کر رہےے گا۔ زینب غصے کی تیز ہے۔‘‘ باسط نے ہنستے ہوئے اسے متنبہ کیا سب ہنسنے لگے۔

حسنات خاموش بیٹھا چائے کے گھونٹ بھرتا رہا اس کا ذہن عجیب سی سوچوں میں ڈوبتا ابھرتا رہا تھا خیال آیا ’’کیا پھوپھو بھی اسے منع نہیں کرتیں۔‘‘

’’آپا جان کی ہی دی ہوئی ڈھیل تو ہے۔ اس کی چھوٹی بڑی سب مان کر سر چڑھا لیا ہے ہائے بے چاری آپا جان! خدا کی قسم بڑا ہی ترس آتا ہے۔ بھائی صاحب کے بغیر زینب کی پرورش کی ہے اور کیسی پرورش کی ہے، وہ تو نظر آ ہی رہا ہے۔‘‘ وہ بوجھل لہجے میں پھوپھو سے مخاطب تھیں۔

’’ہمارے کہے کی تو خیر اہمیت ہی نہیں ہے۔ اب یہی دیکھ لو اتنا کہا کہ بلال کی تو چلو مجبوری ہے۔ باسط جا کر حسنات کو اسٹیشن سے لے آئے گا مگر اس نے اپنی سی کر کے چھوڑی۔۔۔ ہم کوئی دشمن تھوڑا ہی ہیں اس کے مگر وہ سمجھے بھی تو۔‘‘

حسنات کو بلال نے متوجہ کر لیا تھا۔ اچھا ہوا بات اِدھر اَدھر ہوگئی اور گو کہ باہر سے آوازیں آنا بند ہوچکی تھیں مگر اس نے زینب کے متعلق کہی گئی ساری باتوں پر صدق دل سے یقین کر لیا۔ وہ کانوں کا کچا نہیں تھا لیکن یقین نہ کرنے کا کوئی ٹھوس جواز بھی تو دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

رات کے کھانے کے بعد اسے چہل قدمی کی عادت تھی، اور یہاں قیام کے دوران اس کا یہ عادت بدلنے کا بالکل ارادہ نہ تھا۔ بلال زیادہ مہمان نوا زتھا یا پہلے روز اسے خصوصی رعایت دے رہا تھا کہ دن بھر کی تھکان پس پشت ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ ہی باہر نکل آیا۔ تین میل چہل قدمی کے بعد وہ واپس آئے تو وہ بلال کی سلجھی ہوئی طبیعت کا قائل ہوچکا تھا اور تائی ہاجرہ کے یہاں اس کا گریڈ بڑھا دیا گیا تھا۔ اس کا سامان اس کی واپسی سے قبل ہی مکان کے سب سے اچھے اور آرام دہ کمرے میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

’’بچیاں تو سارا ہی دن مصروف رہیں، اس کمرے کی صفائی ہونا باقی تھی اس لےے وقتی طور پر تمہیں اس کمرے میں ٹھہرایا تھا۔ ویسے میں نے آپا جان سے کہا بھی تھا۔ زینب سے کہیں، آکر کچھ ہاتھ بٹا دے بہنوں کا، کچھ اور نہیں تو تمہارے آنے سے پہلے تک کمرا ہی تیار ہوجاتا مگر۔۔۔‘‘

جملے کے اس آخری حصے میں بہت کچھ تھا اگر جو اس کی اکتاہٹ و بے زاری پہلے ہی نہ دیکھ چکا ہوتا تو کبھی اس جملے کا مفہوم نہ جان پاتا۔ اسے از سر نو اپنے یہاں آنے پر افسوس ہونے لگا تھا۔ اب کی بار اس نے تہیہ کیا وہ جلد از جلد اپنے دوست مبشر کی طرف چلا جائے گا مگر دس روز گزر جانے کے باوجود بھی وہ وہیں کا وہیں رہا۔ ایک زینب کی ناپسندیدگی پر اتنے لوگوں کی محبت و خلوص کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔

پھوپھو کو تو خیر اس کا خیال رکھنا ہی تھا کہ بہرحال وہ ان ہی کا مہمان تھا مگر باقی سب لوگ بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کا خیال رکھ رہے تھے، حالانکہ وہ سارا دن گھر پر نہیں رکتا تھا۔ صبح سات بجے کا نکلا شام میں کبھی چھ تو کبھی ساڑھے سات گھر پہنچتا۔ تین میل کی چہل قدمی میں عموماً باسط اس کا ساتھ دیتا۔ بلال تھکا نہیں تھا مگر اس کی مصروفیات زیادہ تھیں۔ چند ہی روز میں وہ سب ہی سے گھل مل گیا تھا البتہ ایک بات اب تک سمجھ میں نہ آئی تھی اوروہ یہ کہ اس پر نظر پڑتے ہی زارا شرما کیوں جاتی ہے؟

٭٭٭

اس روز حسنات نے آفس جانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے دیر تک سونے کی ٹھانی۔ پچھلے دو تین روز سے ہلکی ہلکی سی حرارت مستقل ہی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے سوچا خوب سارا سوئے گا تو ٹھیک ہوجائے گا مگر ہوا کچھ یوں کہ بمشکل دس بجے تک ہی سو سکا پھر آنکھ لگ کر نہ دی۔

گیارہ بجے اس نے ناشتا کیا مگر تائی ہاجرہ کو اپنی چھٹی کی اصل وجہ سے آگاہ نہ کیا۔ شک ہوتا تو الگ بات تھی۔ اسے تو یقین تھا اس کی بیماری کے متعلق سنتے ہی تائی یوں واری صدقے ہونے لگیں گی کہ شرمندگی سے اس کا برا حال ہوجائے گا تب ہی یونہی ٹال دیا کہ اب تو وہ شرمندہ ہوتے ہوتے بھی تھک گیا تھا۔

پھوپھو کہیں دکھائی نہ دے رہی تھیں، ورنہ اس کے آفس نکلنے سے قبل ہی وہ اپنے کمرے سے باہر آچکی ہوتی تھیں۔ اسے یاد آیا جب سے وہ یہاں آیا۔ ایک بھی بار پھوپھو کے پاس بیٹھ کر تفصیلی گفتگو نہ ہوسکی تھی۔ آج ایک تو فرصت بھی تھی، دوسرا تائی ہاجرہ کی بے سروپا گفتگو نے اسے بور کر دیا تھا ان کی محبت و خلوص کا دل سے مشکور ہونے کے باوجود وہ اتنے د تک ان ہی کی زبان سے ان کی اپنی، ان کے ننھیال ددھیال والوں کی اور ان کی بیٹیوں کی تعریفیںسنتے نہیں گزار سکتا تھا۔ جس وقت وہ فون سننے اندر کمرے میں گئیں اس نے اپنی چائے کا کپ اٹھا کر وہاں سے کھسکنے کو ترجیح دی اور تیز تیز قدم اٹھاتا اس راہداری کی طرف چل دیا جو بقول فاطمہ کے پھوپھو کے پورشن میں لے جانے کا راستہ تھی مگر راہداری عبور کرتے ہی اتنا حیران ہوا کہ کچھ دیر تو سچ مچ کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔

اسے لگا وہ پھوپھو سے ملنے ان کے پورشن کی طرف نہیں بلکہ راستہ بھٹک کر کسی جنگل میں آگیا ہے۔ بے ہنگم طریقے سے بڑھے ہوئے درخت، جنگلی گھاس کی بہتات سے یہ جگہ اٹی ہوئی تھی۔ جھینگروں کی آوازیں تو دن کے اس حصے میں بھی بخوبی سنائی دے رہی تھیں۔

تو گویا یہ تھے اس شاندار حویلی کے بچے کچھے تباہ حال نقوش، جس کے فسوں نے وہاں اسلام آباد کے اس چھوٹے موٹے بنگلے میں بیٹھی چھوٹی بھابھی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

کاش وہ بھی اس ’’فیری ٹیل‘‘ کے فسوں میں اسی طرح گرفتار رہتا جیسا کہ چھوٹی بھابھی۔

سرخ اینٹوں والے خشک فوارے کی میلی دیواروںپر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کا دل افسردگی سے بھرتا چلا گیا۔ بالکل سامنے ہی تو وہ چار دیواری تھی جو کسی زمانے میں اس حویلی کے مستقل ملازمین کی رہائش گاہ شمار ہوتی تھی اور اب وہاں پھوپھو رہ رہی تھیں۔ اس ساری کہانی کا سب سے افسوس ناک پہلو یہی تھا۔

جس طرح کچھ عنوان پوری کہانی واضح کر دیتے ہیں، ٹھیک اسی طرح وہ بھی پوری کہانی سمجھتا چلا گیا حالانکہ اسے کچھ بتایا گیا نہ ہی اس نے ابتدائی سطریںپڑھی تھیں۔ دو خرگوش آگے پیچھے بھاگتے اس کے قدموں کے بالکل قریب سے نکل کر لمبی سی گھاس میں جا چھپے تھے وہ بری طرح چونکا ابھی تک شش و پنج کا شکار تھا اندر جائے یا واپس پلٹ جائے۔ سینت سینت کر رکھے بھرم کو درہم برہم کر کے اسے کیا حاصل ہوسکتا تھا مگر پھر بھی وہ اندر چلا آیا۔

چھوٹا سا صحن تھا۔ بمشکل چار چارپائیاں بچھانے جتنا، اس میں سے بھی گنجائش نکال کر ایک کونے میں ہار سنگھار کا درخت کھڑا کر رکھا تھا اسی کے سائے میں ڈربہ رکھا تھا جس کے کھلے ہوئے تختے سے نکل کر کم و بیش دس چھوٹے بڑے سائز کی مرغیاں صحن میں بکھری دانہ چگتی پھر رہی تھیں۔ بالکل سامنے دیوار کے سائے میں چھوٹی سی بکری بندھی تھی جس کے سامنے بکھرے چارے میں زرد زرد چوزے چونچیں مار رہے تھے۔

باہر کی چار دیواری دیکھ کر وہاں کھڑے رہ کر لگائے گئے سارے ہی اندازے بالکل درست ثابت ہوئے تھے۔ یہاں دیہاتی طرز زندگی کے وہ تمام رنگ دکھائی دے رہے تھے جنہیں بڑی تلاش بسیار کے بعد بھی وہ تائی ہاجرہ کے پورشن میں تلاش نہیں کر سکا تھا۔

بالکل سامنے والے دروازے سے زینب آرہی تھی، اسے منہ اٹھائے صحن کے بیچ و بیچ کھڑے دکھا تو ٹھٹک کر رک گئی۔

حسنات نے محتاط انداز میں سلام کیا۔ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی اس پہلی ملاقات کے بعد وہ دوسری بار اس سے مل رہا تھا اور اس دوران جتنا کچھ اس کے متعلق سن چکا تھا، اس کے بعد لا شعوری طور پر محتاط ہونا کچھ ایسا غیر معمولی بھی نہ تھا۔

’’اماں کمرے میں ہیں۔‘‘ وہ رکھائی سے کہتی آگے بڑھ گئی جبکہ حسنات کی نظریں بھٹک کر اس کے پیر تک چلی گئیں۔

’’زینب۔‘‘ بے ساختہ ہی وہ پکار بیٹھا۔

وہ اس کے یوں پکارنے پر ٹھٹکی پھر پلٹ کر سلوٹ زدہ پیشانی کے ساتھ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

’’تمہارے پائوں کا زخم کیسا ہے؟‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘ اس کا لہجہ پہلے سے بھی روکھا تھا۔ حسنات سر جھٹک کر کمرے میں داخل ہوگیا کمرا نیم تاریک اور گھٹن زدہ سا تھا۔ اسے وحشت ہوئی۔

’’پھوپھو!‘‘ وہ روشنی سے تاریکی میں آیا تھا۔ کچھ دکھائی نہ دیا تو پکار لیا۔ وہ سامنے ہی چارپائی پر لیٹی ہوئی تھیں۔ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں۔

’’ارے۔۔۔ حسنات! مجھے بلا لینا تھا بیٹے! تم نے کیوں زحمت کی؟‘‘

’’آپ بس لیٹی رہےے۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر رکھتے ہوئے زبردستی انہیں لٹادیا۔ ’’اور آپ کو کیوں بلواتا؟ بچے بڑوں کے پاس جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے، آپ مجھے اپنا بچہ سمجھتی ہی نہیں ہیں۔‘‘

’’ہیں، ہیں! یہ تم سے کس نے کہہ دیا؟ اتنی سخت بدگمانی۔‘‘ وہ اور بھی گھبرا گئیں۔

’’اور نہیں تو کیا۔۔۔ اپنا سمجھتیں تو غیروں کی طرح مجھے اس گھر میں نہ ڈلواتیں۔ کیا آپ کے اس چھوٹے اور پیارے سے گھر میں ایک کمرا بھی نہیں مل سکتا تھا مجھے۔‘‘

’’میں نے تو تمہارے آرام کے خیال سے ہی۔۔۔ بیٹے! میرا گھر تو بہت ہی چھوٹا سا ہے۔۔۔ تمہیں دقت ہوتی۔‘‘ وہ جھجک آمیز لہجے میں وضاحت دینے لگیں۔

’’دقت کیسی پھوپھو۔۔۔؟‘‘ اس نے بے حد اپنائیت سے ان کا ہاتھ تھام لیا۔

’’اور میں کون سا کسی شہنشاہ کے گھر پیدا ہوا تھا کہ محلوں کی عادت ہو۔ یہاں رہتا تو کم سے کم آپ کے قریب تو رہتا ورنہ ہوٹل، سرائے بھی کیا برے تھے۔‘‘

اس نے کونے میں رکھا موڑھا گھسیٹا اور اطمینان سے بیٹھ کر ٹھنڈی چائے کی چسکیاں لینے لگا۔

اتنی محبت۔۔۔ ایسی اپنائیت۔ پھوپھو آنکھوں میں آئے آنسو پونچھتی رہیں پھر جتنی بھی دیر حسنات وہاں بیٹھا در پردہ اپنی جانب سے اپنائیت کا یقین ہی دلاتا رہا۔ اسے بھی پھوپھو کے اندر سے اس احساس کمتری کو نکالنا تھا جو گائوں کے اس ماحول، قریبی رشتوں کی دوری اور شاید ان کی غیر مستحکم مالی حیثیت نے ان کے اندر پیدا کر دی تھی۔

بمشکل آدھ گھنٹہ وہ پھوپھو کے پاس بیٹھا اور اس آدھ گھنٹے کے دوران باسط دوبار اسے بلانے آچکا تھا۔ تیسری مرتبہ آیا تو منہ پھولا ہوا تھا۔

’’آپ آ کیوں نہیں جاتے، وہاں امی آپ کے لےے پکوڑے تل کر بیٹھی ہوئی ہیں اور آپ کو بلوانے کے چکر میں میرے اوورز پر اوورز مس کروارہی ہیں۔‘‘

اس لمبے تڑنگے لڑکے نے دروازے کے بیچوں بیچ رَک کر روشنی کا رستہ روک لیا تھا اور اب کی بار حسنات اٹھ ہی گیا۔

’’آپ شام کو تیار رہےے گا۔ میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلوں گا۔‘‘

’’تم چلو میں کھانا بھی بس لاہی رہی ہوں۔‘‘ اس کی بات کو قطعی نظر انداز کرتے ہوئے پھوپھو نے خوشی سے بے حال لہجے میں کہا۔ ایک اور عقدہ بالآخر کھل ہی گیا۔ یعنی اتنے دن سے وہ انواع و اقسام کے کھانے جو اسے کھلائے جارہے ہیں، وہ پھوپھو کا کارنامہ ہے۔ وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔ اسی پل اس نے سوچ لیا۔ اسے اب کیا کرنا ہے۔

زینب سیڑھیوں سے لکڑیوں کا گٹھڑا اٹھائے نیچے آرہی تھی۔ ایک پائوں زخمی پھر صنف نازک۔ ایسے بھاری بھرکم کام کرتی کہاں اچھی لگتی ہے۔ اس نے دیکھ لیا تھا۔ وہ زخمی پائوں کی ایڑی پنجے کے بل اتر رہی تھی۔

بالکل اچانک وہ اس کی مدد کے لےے آگے بڑھ گیا۔

’’لائو۔ مجھے دو۔‘‘ اس نے سیڑھیوں کے درمیان رک کر ہاتھ بڑھایا۔ زینب نے ماتھے پر تیوری ڈال کر قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔

’’کیوں؟‘‘

حسنات اس کے سوال پر گڑبڑا گیا۔ کوئی غلط بات تو نہیں کی تھی۔

’’نیچے پہنچا دیتا ہوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔

’’کیوں۔۔۔؟ کیا میرے ہاتھ پیر ٹوٹے ہوئے ہیں۔‘‘اس نے تڑخ کر پوچھا۔

’’میرا یہ مطلب نہیں تھا زینب!‘‘

’’پہلی بات تو یہ کہ سب مجھے زینب باجی کہتے ہیں۔ اگلی بار میں تمہارے منہ سے زینب نہ سنوں اور دوسری بات یہ کہ مجھے کسی کی مدد نہیں چاہےے میں سب کام خود کر سکتی ہوں۔۔۔ تم اپنے راستے پر چلتے پھرتے نظر آئو۔‘‘

وہ کچھ زیادہ ہی خردماغ تھی۔ حسنات کہہ کر پچھتایا۔ کیا ضرورت تھی مدد کے جذبے سے سرشار ہونے کی۔ وہ جھنجھلاتا ہوا باہر نکل گیا۔ پیچھے پیچھے باسط تھا جس کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

’’کس نے کہا تھا آپ سے آگے ہونے کے لےے۔ میں بھی تو وہیں تھا مگر میں جانتا تھا،وہ ایسے ہی کہے گی، اسی لےے خاموشی سے بیٹھا رہا۔‘‘

آگے پھر ہنسی۔ گھر جا کر اس نے باری باری سب کو حسنات کی بے عزتی کا قصہ مزے لے لے کر سنایا۔ حسنات کو زینب کی بات کم بری لگی تھی اوپر سے باسط صاحب نے اس بات کو لطیفہ ہی بنا چھوڑا۔

’’میں تو پھر بھی یہی کہوں گا۔ نیا نیا تجربہ ہے، آہستہ آہستہ عادت ہو ہی جائے گی۔‘‘ اپنی طرف سے اس نے تسلی دی تھی۔ حسنات بے زار ہو کر باہر نکل گیا۔

٭٭٭

’’یہ کیا ہے؟‘‘

زینب نے تعجب سے چارپائی پر رکھے شاپروں کو دیکھا۔ اماں پڑوس سے آیا کھیر کا پیالہ لے کر باورچی خانے میں گئی تھی، وہ متجسس ہو کر خود ہی آگے بڑھی اور شاپر کھول کر جائزہ لینے لگی۔ مرغی، مچھلی کے علاوہ سادہ گوشت، پھل، تین دالیں کچھ مسالہ جات، گھی کے دو پیکٹ، بسکٹ، نمکو کے علاوہ کچھ سبزیاں بھی تھیں، جیسے پیاز، لہسن، ادرک ٹماٹر وغیرہ۔

اس کی پیشانی پر اور بھی بل پڑ گئے۔ ان کے یہاں سب ہی کچھ ناپ تول کر آتا تھا۔ مرغی مچھلی کا تو خیر کیا سوال۔ سادہ گوشت بھی کہیں مہینہ بعد پکتا، دالیں مسالے اماں حساب سے دکان کے سامان سے الگ کر لیتیں۔ گھی ایک چمچی ڈلتا۔ روز کی ہانڈی میں۔ بسکٹ نمکو کے چونچلے کسی نے نہ پالے تھے۔ باقی رہی سبزی تو وہ یہاں پر ہی شہر سے سے زیادہ سستی اور تازہ مل جاتی تھی۔

اب اماں سے تو اس کم عقلی کی امید نہ تھی اور جس سے امید تھی، اسے باہر چارپائی پر بیٹھ کر کامی سے باتیں کرتا دیکھ آئی تھی۔ وہ کمرے سے باہر یوں نکلی جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔

’’یہ تم لائے ہو؟‘‘ اس نے سارے شاپر لے جا کر اس کے سامنے پٹخے۔ ایسا پھاڑ کھانے والا انداز تھا کہ وہ بری طرح سٹ پٹا گیا۔

’’ہاں۔۔۔!‘‘ زینب کے سامنے وہ لاشعوری طور پر یوں ہی محتاط ہوجاتا تھا جیسے سرکاری اسکول کے بچے پرنسپل کے سامنے ہوتے ہیں۔

’’کیوں۔۔۔؟ کوئی چیز کم ہے کیا؟‘‘ اس نے دوستانہ مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوئے پوچھا۔ ’’دراصل مجھے گھر کی عادت پڑی ہوئی ہے اماں جی راشن لینے مجھے ہی بھجواتی تھیں اور میں ہر بار کوئی نہ کوئی چیز کم ہی لاتا تھا۔ کوئی چیز کم ہے تو بتادو میں کل ہی لے آئوں گا۔ حالانکہ میں بہت سوچ سوچ کر۔۔۔‘‘

’’کیوں لائے تم یہ سب؟‘‘ اس نے ڈپٹ کر پوچھا۔ حسنات ایک پل کے لےے چپ رہ گیا۔ بھلا اس میں اب ناراض ہونے کی کیا بات تھی۔

’’بتا تو رہا ہوں، گھر کی عادت پڑی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے پھر اسی دوستانہ مسکراہٹ کے ساتھ وضاحت دینا چاہی۔

’’لیکن یہ تمہارا گھر نہیں ہے۔‘‘ زینب نے سرد مہری سے کہا۔ حسنات کچھ کہنے کو پرتول رہا تھا۔ ایک دم سے خاموش ہوگیا۔ اپنائیت کا معمولی سا اظہار اس کی بے مروُتی کو اتنا واضح کر دے گا، اس کا اندازہ بھی تو نہیں تھا۔

’’تم یہ شوق اپنے گھر جا کر پورے کرنا، ہمیں تمہاری لائی ہوئی کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’زینب! کیا فضول بکواس کےے جارہی ہے۔‘‘ پھوپھو بوکھلائی ہوئی باہر نکلیں۔

’’بکواس نہیں کر رہی انہیں سمجھا رہی ہوں۔‘‘ وہ اسی لہجے اسی انداز میں بولی۔

’’کتنے دن سے دیکھ رہی ہوں، ہر روز کوئی نہ کوئی شاپر لےے چلے آتے ہیں اور آج یہ اتنا ڈھیر۔۔۔ کیوں؟ کیا انہیں یہاں اچھا کھانے کو نہیں ملتا۔‘‘

’’میرا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا زینب با۔۔۔ پھوپھو! میں قسم کھا رہا ہوں۔‘‘ وہ اس الزام پر بری طرح بوکھلا گیا۔

’’کوئی ضرورت نہیں قسم وسم کھانے کی۔‘‘ زینب ڈپٹ کر بولی۔

’’تم پہلے بھی کچھ نہ کچھ لاتے رہے مگر میں خاموش رہی صرف اماں کی وجہ سے کہ کہیں انہیں میرے اعتراض پر اعتراض نہ ہو مگر اب ایک بات میں صاف صاف بتائے دیتی ہوں۔ اگلی بار تم کچھ بھی لائے تو میں باہر پھینک دوں گی اپنے پیسے کا رعب تم ان ہی کو دکھائو جو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ہم پر احسان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہم غریب سہی بے غیرت نہیں کہ مہمان کو دو وقت کا کھانا بھی نہ کھلا سکیں۔‘‘

حسنات کی پیشانی کی رگیں تن گئی تھیں۔ اس کا خلوص ملیامیٹ کیا جارہا تھا۔ اپنی مرضی کے معنی اوڑھائے جارہے تھے مگر آخر جملوں پر اسے افسوس ہونے لگا۔ اس نے سر جھٹکا اور باہر نکل گیا۔

اب اس سرپھری کے منہ کون لگے؟ دروازے کے قریب تائی ہاجرہ کھڑی تھیں۔ جانے کب آئیں۔ حسنات کو اور بھی سبکی کا احساس ہوا مگر وہ رَکا نہیں۔ نظریں چراتا نکل گیا۔

صحن میں سنُاٹا چھا گیا تھا۔ تائی کا دل خوشی سے پاگل ہونے لگا۔ دل چاہا زینب کی بلائیں لے ڈالیں۔ وہ کئی دن سے دیکھ رہی تھیں۔ حسنات کا جھکائو اس کی پھوپھی کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے دل میں بڑھتی ہمدردی انہیں پریشان کےے دے رہی تھی اور یہ ہمدردی بڑی نقصان دہ چیز ہوتی ہے بعض اوقات بڑے بڑے فیصلے منٹوں میں کروالیتی ہے مگر اب وہ مطمئن ہوچلی تھیں بھلا جس لڑکی کے اطوار زینب جیسے ہوں کوئی عقل مند اور سلجھا ہوا شخص اس کے متعلق سوچ سکتا ہے؟

حسنات عقل مند بھی تھا اور سلجھا ہوا بھی۔ اتنا تو وہ اس عرصہ میں اندازہ لگا ہی چکی تھیں۔ تائی ہاجرہ مسرور سی واپس پلٹ گئیں۔ اماں کا سکتہ ٹوٹ گیا۔

’’بیڑا غرق ہو تیرا زینب!‘‘ آنسو پہلے نکلے الفاظ بعد میں۔

زینب بی بی اطمینان سے چارپائی پر بیٹھی پیر جھلانے لگیں۔ تیر چھوڑ دیا تھا اب دیکھنا یہ تھا کہ نشانے تک پہنچتا ہے یا نہیں۔

’’تم آخر چاہتی کیا ہو؟ اتنے عرصے میں میرے میکے سے پہلی بار کوئی آیا تمہارا بس نہیں چلتا اسے دھکے مار کر نکال دو۔ آخر وہ بے چارہ تمہارا کیا لیتا ہے۔‘‘

’’آہا۔۔۔ہاتھ نہ توڑ دوں، وہ کچھ لے تو۔‘‘ وہ آرام سے بولی۔

’’اور مجھے کسی کے آنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ سو دفعہ آئے مگر ہم پر اپنے پیسے کا رعب جمانے کی کوشش نہ کرے۔‘‘

’’احسان کیسا؟ اور کیا غیرت صرف تم میں ہے؟‘‘ اماں جھنجھلائیں۔

’’وہ سلجھا ہوا بچہ ہے، کل مجھے گھر کے اخراجات کے لےے روپے دے رہا تھا۔ کہنے لگا کئی دن سے دینا چاہ رہا تھا کہ آپ کو برا نہ لگے اور مجھے بھی شرمندگی نہ ہو کہ مفت میں بیٹھا کھا رہا ہوں۔ میں نے پیسے لینے سے انکار کیا تو راشن اٹھالایا۔۔۔ سمجھنے کی کوشش کرو زینب! وہ بھی ہم پر بوجھ بن کر نہیں رہنا چاہتا۔‘‘

’’اتنا ہی احساس ہوتا تو آتا ہی کیوں؟ ہونہہ احسان جتا کر زیر بار کرنا چاہتا ہے وہ ہمیں۔۔۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔

’’کیا سوچتا ہوگا حسنات۔۔۔ بس اب میں بتائے دے رہی ہوں۔ تمہیں اس سے معافی مانگنا ہوگی۔‘‘ حالانکہ اپنی بیٹی کو وہ جانتی تھیں مگر اس وقت انہیں صرف حسنات کی پروا تھی۔

’’ارے واہ۔۔۔ معافی مانگتی ہے میری جوتی۔‘‘ اسے پتنگے ہی لگ گئے۔

’’تو پھر ٹھیک ہے جب تک اس سے معافی نہ مانگو، مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔‘‘

انہوں نے دھمکی نہیں دی تھی۔ تہیہ کیا تھا کہ زینب سے معافی منگوا کر رہیں گی۔ مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی۔ دنیا الٹ پلٹ ہوجاتی، وہ اپنے موقف سے نہ ہٹتی۔ لیکن اماں دنیا میں وہ واحد شخصیت تھیں جن کی ناراضی اس کے لےے اہمیت رکھتی تھی۔ اسے معافی نہیں مانگنی تھی سو نہ مانگی البتہ اماں کی مستقل ناراضی سے وہ جھنجھلا ضرور گئی تھی۔

٭٭٭

لکڑی کے صندوق میں موجود چند نوٹوں اور تھوڑی سی ریزگاری دیکھ کر اسے مایوسی ہوئی۔

’’پانچ روپے کم ڈیڑھ سو۔‘‘ اس نے گن کر مایوسی سے زیر لب کہا پھر کل رقم صندوق میں رکھ کر تالا لگایا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ دروازے کی چوکھٹ سے دو قدم باہر کی جانب رکھے ہوئے کائونٹر پر باہر کی طرف جھکتے ہوئے اس نے گلی میں دور دور تک نظریں دوڑائی تھیں۔

آج گرمی معمول سے بڑھ کر تھی اور اسی وجہ سے گاہکوں کی آمدورفت معمول سے کہیں کم رہی تھی اور جس روز سیل کم ہوتی تھی اس روز اس کی بڑبڑاہٹوں میں بھی اضافہ ہوجاتا تھا یہاں پہلے بھی کون سا وارے نیارے ہورہے تھے جو وہ مطمئن ہوتی اوپر سے اماں کی ناراضٰی۔ جی بھر کر بڑبڑا چکی تو چہرے پر دوپٹے کا پلو ڈال کر اونگھنے لگی۔

’’زینب باجی! زینب باجی۔۔۔!‘‘ جانے کس نے صورِ اسرافیل پھونکا۔ پٹ سے آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے گڑبڑا کر پیر نیچے رکھ دےے۔ کائونٹر کے دوسری جانب چہرے پر بے پناہ حواس باختگی اور تشویش لےے دس بارہ سالہ جیدی کھڑا تھا۔

’’پچھلے گرونڈ (گرائونڈ) میں بچے کامی کو وٹے مار رہے ہیں۔‘‘ اس نے تیزی سے اطلاع دی۔

’’ہائے میں مر گئی۔‘‘ زینب نے بے ساختہ دل پر ہاتھ رکھا پھر اسی تیزی سے کائونٹر کی جانب لپکی تھی۔

’’کون مار رہا ہے؟‘‘ کائونٹر کو ایک طرف سے اندر کھینچ کر باہر نکلتے ہوئے اس نے پریشانی سے پوچھا۔

’’سلیم، بلو۔۔۔ کمہاراں دا افضل۔۔۔‘‘ وہ جیدی کا جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی ناک کی سیدھ میں بھاگنے لگی۔ سلیم لوگوں نے ایک بار پہلے بھی کامی کو زخمی کیا تھا جلتی ہوئی زمین کی تپش سے بے نیاز وہ ننگے پیر بھاگ رہی تھی۔ گلی کے اختتام پر وہ لمحہ بھر کو رکی، مکئی کے کھیتوں کے ساتھ ساتھ یہ کھلا سا میدان بچے کھیلنے کے لےے استعمال کرتے تھے۔

آگ اگلتے سورج کی بے حِس دھوپ میں سلگتا میدان اس وقت تقریباً خالی تھا جبکہ عین وسط میں گرد کا طوفان اٹھا ہوا تھا۔ زینب کے ٹھٹکے ہوئے قدموں نے اس طرف دوڑنا شروع کیا لیکن قریب پہنچتے پہنچتے اس کی تشویش پر گویا ٹھنڈا پانی گرا تھا اور غصے میں اضافہ ہوا تھا۔ کامی اپنی پولیو زدہ ٹانگ کو مزید لنگڑاہٹ میں بدلے خوشی خوشی ایک دائرے میں گھوم رہا تھا۔ دائرے کے درمیان چند ٹھیکریاں پڑی تھیں اور کامی کے دوڑنے سے گرد اَڑ رہی تھی۔

’’کامی!‘‘ وہ حلق کے بل چنگھاڑی، کامی ٹھٹک کر رکا۔

’’باجی۔۔۔ باجی۔۔۔!‘‘ پانچ فٹ چار انچ کے اس شخص کے چہرے پر بچوں کی سی معصومیت تھی۔ زینب کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی جس پر اگلے ہی پل غصہ غالب آگیا۔

’’چل کامی!‘‘ اس نے بے دردی سے آنکھیں رگڑتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا۔ گلی تک وہ اسے یونہی لائی تھی۔

’’تَو سیدھا گھر پہنچ۔۔۔ ورنہ ٹانگیں توڑ دوں گی تیری۔۔۔ یاد رکھنا۔‘‘ اپنی چھوٹی سی دکان سے نکل کر مخالف سمت میں بھاگتے، جیدی کو دیکھ کر اس نے کڑے لہجے میں کامی سے کہا اور بنا اس کی جانب دیکھے جیدی کے پیچھے دوڑ لگادی تھی۔

’’رک جا جیدی!‘‘ اس نے چلُا کر کہا لیکن جیدی کی رفتار مزید تیز ہوگئی۔ وہ کوئی بے وقوف تھا جو اس کے کہنے پر رکتا۔ زینب نے زمین پر پڑا ڈھیلا اٹھا کر اسے کھینچ مارا۔ حملہ غیر متوقع تو نہیں شدید ضرور تھا جدی منہ کے بل گرا تھا اور ہاتھ میں پکڑا بسکٹ، نمکو اور کھٹی میٹھی گولیوں سے بھرا شاپر دور جا گرا تھا۔ اس سے قبل کہ وہ اٹھ کر دوبارہ بھاگتا، زینب نے اسے گدی سے جا دبوچا۔

’’اب بتا مرن جوگے!‘‘ اس نے بے دردی سے اسے چانٹا رسید کیا۔

’’کون مار رہا تھا کامی کو؟‘‘ ایک اور چانٹا۔

’’اماں ابا! بچائو بچائو۔‘‘ جیدی نے مدد کے لےے چلاتے ہوئے اس کے بازو کھسوٹ ڈالے تھے۔

’’ارے۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہو؟‘‘ تب ہی کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر دھکیلا اور جیدی کو اپنے حصار میں لے لیا۔ زینب نے بری طرح لڑکھڑاتے ہوئے اس ناہنجار کو دیکھا جس نے اس کے معاملے میں دخل دے کر اپنی شامت بلوائی تھی۔

وہ حسنات تھا جو اس وقت جیدی کو اپنے عقب میں لےے کھڑا تھا۔ اس کے ماتھے پر اور بھی بل پڑ گئے۔

’’کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔۔؟ ہٹو۔‘‘ وہ جیدی پر جھپٹی جو حسنات کی آڑ میں دانت نکال رہا تھا۔

’’اتنے چھوٹے سے بچے کو اس قدر بے رحمی سے مارنے کا کیا مقصد ہے آخر؟‘‘ پتا نہیں وہ حیران ہورہا تھا یا اس کے طرزِ عمل پر جھنجھلا رہا تھا۔

زینب نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔

’’بھاگو پائی جان! یہ تو پاگل ہے۔‘‘ جیدی بسکٹ اور نمکو اٹھا کر بھاگا۔

’’ارے پاگل ہوگا تَو۔۔۔ تیرے اگلے پچھلے۔‘‘ وہ حلق کے بل چیخی پھر حسنات کی جانب پلٹی اور جھٹکے سے اپنے بازو چھڑوائے۔

’’تم۔۔۔تم‘‘ اس کا بس نہیں چلا اس شہری بابو کا کیا حشر کر ڈالے۔

’’کیا تکلیف ہے تمہیں۔۔۔۔ کیو میرے ہر معاملے میں پھڈا ڈالنے آجاتے ہو‘‘

’’پھڈا۔‘‘ حسنات نے تاسف سے اسے دیکھا۔

’’تمہیں اندازہ بھی ہے میں نے تمہیں کتنی بڑی مصیبت سے بچایا ہے؟ جتنی بے دردی سے تم اسے مار رہی تھیں۔۔۔ خدانخواستہ اقدامِ قتل کا کیس بھی بن سکتا تھا۔‘‘ اس نے بے حد غصے کے عالم میں معاملے کی نزاکت کا احساس دلانا چاہا۔

’’مجھے کیا پاگل سمجھ رکھا ہے کہ اسے قتل ہی کر دیتی۔‘‘ اس نے تڑخ کر پوچھا۔ حسنات کا دل چاہا کہہ دے ’’ہاں۔‘‘

’’میں صرف اسے ڈرا رہی تھی۔ یہ ڈھیٹ، کم بخت اتنی سی مار سے مرنے والے نہیں۔ ماں باپ سے پھینٹی کھا کھا کے ان کی ہڈیاں سخت ہوئی ہیں۔ میں نے دو چار لگادیں تو کون سی قیامت آگئی۔ تھوڑی اور لگنے تو دیتے تاکہ اگلی بار مرن جوگے کی ہمت ہی نہ ہوتی چوری کرنے کی۔ اب ہر دوسرے روز ان کے یہی تماشے رہیں گے۔ تم جیسے دو چار اور آگئے انہیں بچانے تو میری دکان خالی ہو ہی جائے گی ان شائ اللہ۔‘‘

وہ جلے دل کے پھپھولے پھوڑتی زمین پہ بکھری گولیاں سمیٹنے لگی جو مٹی میں لتھڑی کسی قابل نہ رہی تھیں۔

’’تمہارا مطلب اس بچے نے تمہاری دکان سے چیزیں چرائی تھیں؟‘‘ بے حد شرمندگی کے عالم میں اس نے بے یقینی سے پوچھا۔

’’اب۔۔۔ مجھے کیا پتا تھا۔‘‘ اس نے خجالت سے سر کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔

’’جب پتا نہیں تھا تو دخل دینا ضروری تھا؟‘‘ اس نے بات قطع کی اور پھاڑ کھانے کو دوڑی۔ حسنات بوکھلا کر دو قدم پیچھے ہٹا اور حفظِ ماتقدم کے طور پر دونوں ہاتھ اٹھا کر کہنا چاہا۔

’’دیکھو زینب۔۔۔‘‘

’’زینب باجی!‘‘ اس نے آنکھیں نکال کر تصحیح کی۔

’’ہاں ہاں۔۔۔ زینب باجی!‘‘ اس نے فواً کہا، مبادا وہ کچھ کھینچ ہی مارے۔

’’دیکھو۔۔۔ میں تو صرف مدد کے لےے آیا تھا، مجھے کیا پتا تھا۔‘‘

حسنات شرمندگی سے اسے دیکھنے لگا۔ اس کا غصہ بے جا نہیں تھا مگر نیت تو اس کی بھی غلط نہیں تھی۔

اس کے پیروں کے قریب بسکٹ کا پیکٹ پڑا تھا جویقینا اس کی نظروں سے بچ گیا تھا۔ حسنات نے اٹھا کر اس کی طرف بڑھا دیا۔

’’سوری!‘‘ اس کے انداز سے شرمندگی نمایاں تھی مگر زینب کی ناراضی میں چنداں فرق نہ آیا۔

’’میں نے کہا نا، مجھے تمہاری مدد نہیں چاہےے۔‘‘ اس نے پیکٹ جھپٹ لیا۔

’’آخر کتنا نقصان ہوا ہے آپ کا؟ بتائیں مجھے میں پورا کر دوں گا۔‘‘ حسنات جھلا کر بولا۔ زینب قریب سے گزر کر آگے بڑھنے والی تھی رَک کر سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا۔

’’میں اس بچے کو بھی ڈانٹوں گا وہ دوبارہ یہ حرکت نہیں کرے گا۔‘‘ حسنات نے یقین دہانی کروائی مگر زینب کی سنجیدگی ہنوز تھی۔

’’جیدی کو میں خود دیکھ لوں گی۔ پتا نہیں تمہیں پہلے کہا ہے یا نہیں۔۔۔ لیکن اس بار آخری مرتبہ کہہ رہی ہوں۔ میرے معاملات سے دور ہی رہا کرو۔ اتنا لحاظ بھی میں صرف اس لےے کر رہی ہوں کیونکہ تم میری اماں کے بھتیجے ہو ورنہ۔۔۔‘‘

’’مہربانی۔۔۔ شکریہ۔ یہ لحاظ ہے تو بد لحاظی پتا نہیں کیسی ہوگی۔‘‘ اس کی جان جل کر خاک ہوگئی۔ باسط اسے صحیح ہلاکو خان کی جانشین کہتا تھا۔

حسنات نے زمین پر گرا اپنا آفس بیگ اٹھایا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا آگے نکل گیا۔ اس بار اس نے تہیہ کیا، وہ اس ’’خر دماغ‘‘ کی دوبارہ مدد کرنے کی حماقت نہیں کرے گا بھلے سے کسی کو قتل کر کے عمر قید ہی کیوں نہ بھگتتی پھرے۔

وہ گھر آیا تو کسی موضوع پر بڑے زور و شور سے بحث جاری تھی وہ تھکا ہوا تھا مگر تایا جی کے بلوانے پر انکار نہ کر سکا۔

کچھ روز پہلے ہی باسط کا رزلٹ آیا تھا اور وہ آرٹس گروپ جوائن کرنا چاہ رہا تھا جبکہ تایا جی، بلال اور تو اور زارا اور فاطمہ بھی اس بات پر زور دے رہے تھے کہ وہ سائنس گروپ لے اور پری انجینئرنگ گروپ پڑھے۔

’’تم ہی اسے سمجھائو حسنات! زمانہ کہاں سے کہاں جارہا ہے ہماری جدوجہد کا دور تو گزر چکا آنے والا دور انہیں بچوں کا ہے آرٹس کے ہلکے پھلکے مضامین پڑھ کر یہ کون سا مستقبل محفوظ کر لے گا۔ آرٹس تو لڑکیاں پڑھ لیں۔ انہوں نے کیا کرنا ہوتا ہے سوائے ’’ہانڈی روٹی‘‘ کے۔ سائنس کا کچھ اسکوپ تو ہے۔‘‘

’’بلال ٹھیک کہہ رہا ہے۔‘‘ اس کا موڈ کسی لمبی چوڑی بحث میں پڑنے کا نہیں تھا تب ہی فوراً ہاں میں ہاں ملائی ورنہ اختلافی پوائنٹ تو بہت سے ہوسکتے تھے۔

’’او چھوڑیں بلال بھائی! یہ ساری تو چھوٹے ذہن کی باتیں ہیں، جو لوگ خود یا جن کے بچے سائنس پڑھ رہے ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے اس سے بہتر کوئی فیلڈ ہی نہیں۔ مجھے ایک بات بتائیں ملک و قوم کی خدمت کیا صرف ڈاکٹر انجینئر بن کر کی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں تو ایک خاکروب بھی گندگی صاف کر کے ملک و قوم کی خدمت ہی کر رہا ہوتا ہے مگر ہم جیسے چھوٹی ذہنیت کے لوگ یہ سمجھتے ہی نہیں حالانکہ اس بے چارے نے نہ سائنس پڑھی ہوتی ہے نہ آرٹس۔‘‘ بات میں دم تھا۔ حسنات متاثر ہوا۔

’’تمہاری اوقات ہی یہی ہے کہ تم خاکروب بنو۔‘‘ بلال جل کر بولا۔

’’اوہو یار! اب تم تو ناراض مت ہو۔۔۔ باسط بھی غلط نہیں کہہ رہا مگر۔۔۔‘‘

تایا جی سمجھانے کا گَر جانتے تھے۔ ایک لمبی بحث چلی مگر بالآخر باسط کو انجینئرنگ گروپ میں داخلے پر راضی کر لیا گیا۔

معاشرے کے بدلتے ہوئے تقاضے، خود اس کا روشن مستقبل، غرض کئی باتیں تھیں جو اسے بڑے اچھے طریقے سے سمجھائی گئی تھیں۔ حسنات کو بڑا مزا آیا۔ خود اس کے ابو نے آج تک اس کی ایسی فکر نہیں کی تھی جیسی تایا جی باسط کی کر رہے تھے یا جیسے وہ اسے سمجھا رہے تھے۔ اس کا دل چاہا کاش کبھی اس کے ابو بھی ایسے ہی ہوتے مگر ان کے روےُے میں ہمیشہ سے ایک لا تعلقی نمایاں رہی تھی۔ جسے اس نے بچپن سے اب تک بہت محسوس کیا تھا اب تو خیر عادت ہوچلی تھی۔ ذہن بھٹک کر زینب کی طرف چلا گیا۔ شاید ہاجرہ تائی ٹھیک ہی کہتی تھیں۔ پھوپھو نے اسے سر چڑھا رکھا تھا۔ پھوپھا جان ہوتے یا پھوپھو ہی اسے سمجھالیتیں تو وہ یوں جھگڑے مول نہ لیتی پھرتی۔

’’اوہو۔۔۔ جاہل، بدتمیز لڑکی۔‘‘

٭٭٭

گائوں کے آخری کنارے پر، جہاں کھیتوں کی ہریالی ایک دم سے پھیل کر اونچے اونچے درختوں کی شکل میں ڈھل رہی تھی، بڑا پیارا اور بے ضرر سا سورج بڑی سست روی سے ڈوب رہا تھا اور یہاںگھر کی سب سے اونچی چھت کی منڈیر کے پاس کھڑے ہو کر اس منظر کو دیکھنا ایک بڑا ہی دلچسپ کام محسوس ہورہا تھا۔

تبھی نظر یہاں سے صاف دکھائی دیتی گلی میں جا رکی جہاں ارد گرد سے لوگ اکٹھا ہورہے تھے ذرا غور کیا تو بڑی ہی ناگواری سی محسوس ہوتی۔

’’اب یہ کس سے جھگڑ رہی ہے۔‘‘ زینب کو ہاتھ اٹھا اٹھا کر بولتا دیکھ کر اس نے جھنجھلاہٹ میں کہا۔ بے شک آواز نہیں آرہی تھی مگر سے دیکھنے کے باوجود بھی اس کے تیور کچھ تسلی بخش نہیں لگ رہے تھے۔

’’تو اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا بات ہے۔۔۔ یہ تو روٹین ہے۔‘‘ آسمان کی وسعتوں میں ہچکولے کھاتی پتنگ کو اس نے ڈھیل دیتے ہوئے اتنے آرام سے کہا کہ حسنات اس کی شکل دیکھ کر رہ گیا۔ ناگواری کا ایک ہلکا سا احساس خود باسط کے طرزِ عمل سے بھی دل میں اٹھا تھا مگر۔۔۔

’’اوہو۔۔۔ یہ تو نور جہاں ہے۔‘‘ وہ ڈور پکڑ منڈیر تک آکر بولا۔

’’زینب بمقابلہ نور جہاں۔۔۔ میں بتا رہا ہوں حسنات بھائی! ہم نے ایک زبردست شو مِس کر دیا ہے۔ ایمان سے ان دونوں کے جھگڑے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں۔ میں اگر پتنگ نہ اڑا رہا ہوتا۔ تو ضرور جا کر دیکھتا۔ ایسے ایسے کرارے جملے اور طعنے یہ ایک دوسرے کو دیتی ہیں کہ مزا آجاتا ہے۔ آپ لائیو شو دیکھنا چاہیں تو اس طرف کی سیڑھیوں سے نیچے چلے جائیں اور چاہے تو شرط بھی لگالیں۔

ماشائ اللہ ہماری باجی زینب اتنی ٹیلنٹڈ ہیں کہ ایسی دس نورجہاں بھی آجائیں تب بھی جیت زینب کی ہی ہوگی۔‘‘

باسط کا یوں ہنس ہنس کر کہنا اسے بالکل اچھا نہیں لگا۔ وہ جیسی بھی تھی بہر حال ایک قابلِ احترام رشتہ تو ان دونوں سے ہی تھا۔

’’آپ کو تقریباً ایک مہینہ تو ہو ہی چکا ہے یہاں رہتے۔۔۔ ابھی تک آپ کو پتا نہیں چلا، وہ کتنے الٹے دماغ کی ہے۔۔۔ اپنی مرضی کرنے والی۔ شروع شروع میں امی، ابو بہت سمجھایا کرتے تھے مگر پھر انہوں نے بھی کہنا چھوڑ دیا۔ اپنی عزت تو ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے یار! مگر سوال یہ ہے کہ یہ ایسی ہے کیوں۔۔۔؟ اتنا غصہ، اتنی خود سری، اتنے جھگڑے۔۔۔۔ کیا نہیں جانتی کہ لوگ اس کے بارے میں کیسی رائے قائم کر چکے ہیں۔‘‘ ایک بہت ہی بنیادی سوال از خود لبوں پر آگیا تھا۔

’’احساسِ برتری۔‘‘ بلال کی آواز عقب سے سنائی دی تھی۔

’’کوئی مانے یا نہ مانے، میں مانتا ہوں زینب سائیکک ہوچکی ہے اس کے اندر سے یہ احساسِ برتری نہیں جاتا کہ یہ بہت بڑے زمین دار کی بیٹی ہے۔ تم بہت عرصے بعد ملے ہو۔ اس لےے شاید تمہیں نہ پتا ہو۔ ہمارے دادا بہت بڑے زمین دار تھے یہ جو سارا گائوں ہے نا، اس کی زمین ان ہی کی ملکیت تھی مگر شروع شروع میں کسی وجہ سے انہوں نے اراضی فروخت کرنا شروع کی یہ معاملہ ابھی تک سمجھ سے باہر ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا تھا بہرحال یہ ایک الگ قصہ ہے، دادا کی وفات کے بعد ساری زمین آدھی آدھی میرے ابو اورغفور چچا میں تقسیم ہوئی تھیں۔

میرے ابو نے تب ہی کچھ حصہ چچا کے ہاتھ فروخت کر دیا تھا۔ باقی فروخت کر کے اپنا کاروبار شروع کر لیا چونکہ انہیں زمین داری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔۔۔ اب میں تو خیر تب بہت چھوٹا تھا مگر شنوائی ہے کہ چچا نے ابو کی نقل میں اپنی ساری اراضی فروخت کر کے جوتوں کا کارخانہ شروع کیا تھا مگر انہیں اس کام کا تجربہ تھا نہ ہی انہیں ورکرز اچھے مل سکے نتیجتاً سارا سرمایہ ڈوب گیا۔ مگر یہاں کے لوگ ان کی ویسی ہی عزت کرتے رہے جیسے کہ زمینوں اور پیسے کی موجودگی میں کرتے تھے۔ لٹے پٹے ہونے کے باوجود بھی لوگ انہیں چوہدری صاحب ہی کہہ کر بلاتے تھے اور ان کے کےے ہوئے فیصلوں کو اہمیت دی جاتی تھی۔ مگر ان کی وفات کے بعد یہاں کوئی بھی زینب کو چچا کی جانشین کا عہدہ نہیں دے سکا۔ اب اسی چیز نے زینب میں ایک نیگیٹو سینس پیدا کر دی ہے۔ اسے سب لوگ خود سے کمتر لگتے ہیں۔ وہ چاہتی ہے اسے ویسی اہمیت دی جائے جیسے چچا کو ملتی تھی۔ اس کا کہا ہوا حرفِ آخر مانا جائے لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو وہ بحث پر آمادہ ہوجاتی ہے اور چونکہ خود اس کی طبیعت میں ٹھہرائو نہیں ہے تو بحث خود بخود جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔۔۔ اب ہر کوئی ہماری طرح تو نہیں سوچ سکتا۔ ہمیں تو بہرحال اسے برداشت کرنا ہی ہے۔ باخوشی یا زبردستی۔‘‘

’’یہ احساسِ کمتری بھی تو ہوسکتا ہے۔‘‘ کچھ دیر تک سوچتے رہنے کے بعد اس نے کہا۔

’’یار! کچھ بھی ہوسکتا ہے، الفاظ بدلنے سے مطلب تو نہیں بدل جاتا ہمارے لےے تو وہ دونوں طرح سے ہی شرمندگی کا سبب بنتی ہے۔‘‘

اس کے اس قدر بے زاری سے کہنے پر حسنات کچھ بھی نہ بولا۔

’’کن باتوں میں لگ گئے، وہاں چاچا حبیب کی بیٹھک میں سب انتظار کر رہے ہوں گے۔۔ چلو چلتے ہیں۔ میں تمہیں ہی لینے آیا تھا۔ اگلے ہفتے ہمارا فٹ بال میچ ہے۔ ایک کھلاڑی کم ہورہا ہے۔ میرے دوستوں کا خیال ہے، تم کھیل سکتے ہو۔‘‘

’’وہاں تو مرد بھی آگئے ہیں۔‘‘ اس کی نظر اچانک ہی دوبارہ وہاں جارکی تھی۔ جہاں بھیڑ پہلے سے زیادہ ہوچکی تھی۔

’’بلال! ہمیں جا کر دیکھنا چاہےے۔ زینب جیسی بھی ہے۔ ہے تو لڑکی پھر ہماری۔‘‘

اسے ایک دم سے ہی بہت پریشانی لاحق ہورہی تھی مگر ان دونوں کے اطمینان میں چنداں فرق نہ آیا۔

’’اوہو۔۔۔ زینب کے آگے آج تک کوئی ٹِکا ہے۔ دیکھےے گا ابھی سب تتر بتر ہوجائیں گے۔‘‘

یہ باسط تھا جس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا اور پھر ہوا بھی یہی۔۔۔ کچھ دیر بعد مجمع چھٹنے لگا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں صرف زینب رہ گئی تھی جو ابھی تک اسی جارحانہ انداز میں بول رہی تھی۔

’’دیکھا۔‘‘ باسط نے کھنکتے ہوئے لہجے میں جتایا مگر وہ ایک بھی لفظ نہ کہہ سکا اس کی طبیعت بہت مکدُر ہورہی تھی۔

’’چلو، اب چلتے ہیں۔‘‘ بلال نے کہا۔

’’اور میری پتنگیں؟‘‘ باسط چلایا

’’پھر کبھی یار!‘‘ حسنات خود بھی کچھ تبدیلی چاہ رہا تھا سو فوراً ہی بلال کے ساتھ ہولیا۔

٭٭٭

وہ ہاتھ میں شرٹ پکڑے کمرے میں داخل ہو ہی رہا تھا کہ اندر سے آتی آوازیں سَن کر رک گیا۔

’’آپ کو تو سارا زمانہ ہی صحیح لگتا ہے سوائے میرے۔‘‘ یہ جلی بھنی آواز تو وہ اب لاکھوں میں بھی پہچان سکتا تھا۔

’’زینب! کیوں میرا دماغ خراب کرنے پر تلی ہوئی ہے آخر مان کیوں نہیں لیتی میری بات؟‘‘

’’اور آپ کیوں نہیں مان لیتیں۔‘‘

’’بس بحث کےے جانا۔۔۔‘‘ پھوپھو عاجز ہوئیں۔

’’اچھا بحث نہ کروں تو کیا کروں۔۔۔ جا کر ان لوگوں کے پیروں میں گر جائوں کہ مجھے اپنی بہو بنالو۔‘‘

’’یہ میں نے کب کہا۔۔۔ صرف اتنا ہی تو کہہ رہی ہوں کہ اپنے جھگڑے سمیٹو۔۔۔‘‘

حسنات دروازے سے ہی پلٹنے لگا تھا مگر برا ہو اس موبائل کا، جو ایک دم سے بج کر اسے چور بنا گیا۔ بالکل بوکھلا کر اس نے جیبوں پر ہاتھ مارے تاکہ اس مصیبت کو بند کر سکے مگر اس سے بھی پہلے زینب ادھ کھلا دروازہ کھول کر باہر آچکی تھی اور اب بے حد غضب ناک نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

’’وہ میں وہ تو۔۔۔‘‘ حالانکہ وہ کوئی کان لگا کر ان کی باتیں نہیں سن رہا تھا مگر اس وقت اتنی شرمندگی ہوئی کہ ٹھیک سے وضاحت بھی نہ دے سکا۔

’’شرم نہیں آتی تمہیں یوں چھپ چھپ کر باتیں سنتے۔‘‘

اس سے قبل کہ وہ بالکل ہی پنجے جھاڑ کر اس کے پیچھے پڑ جاتی پھوپھو نے ٹوک دیا۔

’’بس بس۔۔۔ اب بچے کے پیچھے مت پڑجانا۔‘‘

’’اونہہ۔۔۔ بچہ۔‘‘ وہ پیر پٹختی اپنی دکان میں گھس گئی۔

’’اس کا دماغ خراب ہے۔ پتا نہیں خود کو کہاں کی مہارانی سمجھے بیٹھی ہے۔ غصہ ہے تو وہ ہر وقت ناک پر دھرا رہتاہے۔ زبان ہے تو وہ قابو میں نہیں۔ ماں سے بھی بس یہی چاہتی ہے کہ روک ٹوک نہ کرے۔ اچھا خاصا معاملہ بنتے بنتے بگڑ گیا۔‘‘

’’معاملہ۔۔۔ کون سا معاملہ؟‘‘ اسے ٹوہ لینے کی عادت نہیں تھی بس یونہی پوچھ لیا تھا، جواباً وہ چند لمحے خاموش رہیں پھر جیسے سوچ سوچ کر بولنے لگیں۔

’’ اب تم سے کیا چھپانا بیٹے! ہمارے گائوں میں ہے ایک عورت بتول باقاعدہ رشتے تو نہیں کرواتی، بس کبھی کسی کام میں ہاتھ ڈال لیا تو ڈال لیا۔ میں نے اس سے زینب کے لےے کہہ رکھا تھا۔ کچھ روز پہلے وہ کچھ لوگوں کو لائی تھی۔ یہاں قریب ہی ایک موضع ہے وہیں کے رہنے والے تھے۔ لڑکا بھی اچھی شکل و صورت کا اور برسرروزگار تھا۔ انہیں زینب بھی پسند آگئی یوں سمجھو، معاملہ بس طے ہی تھا مگر نور جہاں کا میکہ اسی موضع میں ہے جہاں کے وہ لوگ تھے۔ کل اس نے نور جہاںسے جھگڑا کیا۔ وہ بھی ایسی پھرتیلی نکلی، کل ہی جا کر ان لوگوں سے جھوٹی سچی کہہ آئی اور آج ان لوگوں نے انکار بھجوادیا۔۔۔ کسی کا دماغ خراب ہے۔ اتنی لمبی زبان اور کڑوے مزاج کی لڑکی کو بہو بنائے۔‘‘

’’تو ڈھونڈ لیں کسی شہد کے سے مزاج والی کو۔۔۔‘‘ زینب سابقہ انداز میں اندر داخل ہوئی تھی۔ حسنات گڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا کیا پتا اٹھا کر کچھ سر پر ہی مار دیتی مگر زینب نے میز سے رجسٹر اٹھایا اور تن فن کرتی دکان میں آگئی۔

’’یہ ایسی نہیں تھی۔‘‘ اسے باہر جاتا دیکھ کر پھوپھو نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔

’’تمہارے پھوپھا جی کے انتقال کے بعد ذمہ داریاں بہت آگئیں اس پر۔ کچھ میں بھی اس پر انحصار کرنے لگی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں تک میں بھی اس کی رائے لینا ضروری ہوگیا تھا میرے لےے۔ کبھی کبھی لگتا ہے میرے اسی طرزِ عمل نے اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔‘‘

’’صرف خراب نہیں کیا، بری طرح خراب کر دیا ہے۔‘‘ چونکہ اپنے خیال کا اظہار کر کے وہ پھوپھو کو مزید دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا اس لےے صرف سوچ کر رہ گیا۔ باہر زینب نے خوب ہی اٹھا پٹخ مچا رکھی تھی۔

٭٭٭

ڈیڑھ ماہ میں یہ اس کا دوسرا چکر تھا۔

’’بھلا یہ بھی کوئی طریقہ ہے، کل شام آئے تھے اور کل صبح سویرے واپسی کے لےے نکل کھڑے ہوگئے۔ کم سے کم دو دن کی چھٹی تو ہوتی۔‘‘

اس کے من پسند کھانے بناتے ہوئے بھی وہ مسلسل ہی شکوہ کرتی رہی تھیں اور اب جب سب کام سمیٹ کر اس کے پاس آکر بیٹھیں تب بھی یہی قصہ چھیڑ دیا۔

’’مجھے تو لگتا ہے بھائی نے وہاں کوئی اچھی دلچسپی ڈھونڈلی ہے اور اسی دلچسپی کی وجہ سے نہ آنے کو دل کرتا ہے ان کا اور اگر آبھی جائیں تو واپسی کی جلدی ہوتی ہے۔‘‘ زاشی چائے کی ٹرے لےے کچن سے نکلتے ہوئے معنی خیز انداز میں آنکھیں پٹپٹا کر بولی۔ حسنات ہنسنے لگا۔

’’توبہ توبہ۔۔۔ اس لڑکی کا دماغ ہے یا شیطان کا کارخانہ۔‘‘ اس نے اماں جی کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا۔

’’اوہو۔۔۔ اب میرے دماغ کو شیطان کا کارخانہ کہہ کر بات گھمائیں نہیں۔ صرف یہ بتائیں زینب کیسی ہے؟‘‘ اس کے اتنے اشتیاق سے پوچھنے پر وہ بری طرح چونکا تھا۔

’’کیا مطلب کیسی ہے؟۔۔۔ ٹھیک ہے۔‘‘

’’مجھے پتا ہے وہ ٹھیک ہے۔ یہ بتائیں آپ کو کیسی لگی؟‘‘

’’مجھے؟‘‘ اس کی نظروں کے سامنے زینب کاچہرہ آگیا۔

’’اگر تمہیں پسند ہے تو کہو پھر میں بات آگے بڑھائو۔‘‘ اس کی خاموشی سے جانے اماں جی نے کیا اخذ کیا تھا۔

’’بات۔۔۔ کون سی بات؟‘‘ وہ بری طرح بدکا۔

’’تمہارے اور زینب کے رشتے کی بات۔‘‘ اماں جی جھلا کر بولیں۔

’’ایسا سوچےے بھی مت۔۔۔میں اور زینب سے شادی۔ ناممکن۔ اس سے شادی کرنے سے بہتر ہے میں ساری زندگی کنوارہ رہ لوں۔‘‘ اس نے فوراً ہی انکار کردینا ضروری سمجھا۔

’’ہیں، ہیں۔۔۔ کیا برائی ہے بھلا اس میں۔‘‘ اماں جی حیران ہوئیں۔

’’شکل و صورت کی ماشائ اللہ بہترین ہے میں تقریباً چھ سال پہلے ملی تھی اس سے، مزاج کی بھی بہت اچھی تھی۔‘‘

’’یہاں تو کل کا گزرا بھی ’’تھا‘‘ ہوجاتا ہے اماں جی! آپ پھر چھ سال پہلے کی بات کر رہی ہیں۔‘‘

’’پہیلیاں بجھوانے کی ضرورت نہیں ہے جو بھی بات ہے سیدھے سے بتادو۔‘‘ اب کے وہ خفا ہوئی تھیں۔

’’بات صرف اتنی ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں۔‘‘

’’اچھا!‘‘ اماں جی کو تھوڑی سی مایوسی تو ہونی ہی تھی۔ ’’پھر ساجدہ کی جٹھانی کی بھی دو بیٹیاں ہیں، ان میں سے بڑی والی کی تو شاید ابھی کہیں بات بھی نہیں ٹھہری۔‘‘

اسے فوراً ہی زارا یاد آئی اس کے آگے پیچھے پھرنے والی بے وقوف سی لڑکی۔ اسے ہنسی آگئی۔ وہ کوئی بچہ تو تھا نہیں کہ اس گھر میں چل رہے سیٹ اٰپ کو نہ سمجھ پاتا گو کہ اس کا ارادہ زارا کو بے وقوف بنانے کا نہیں تھا وہ کبھی کبھی اس کے یوں آگے پیچھے پھرنے سے بری طرح زچ ہوجاتا تھا مگر اپنی بے زاری جتا کر ان تمام خصوصی مراعات سے دست بردار بھی نہیں ہونا چاہتا تھا جو ایک خاص امیدکے سہارے اسے فراہم کی جارہی تھیں۔

’’اب ہنس رہے ہو۔۔۔ پسند ہے زارا؟ کہو تو بات چلائوں؟‘‘ اماں جی پھر مشتاق ہوئیں وہ اور بھی زور سے ہنس دیا۔

’’نہ زینب نہ زارا۔۔۔۔ ایک بات بتائیں اسلام آباد میں کیا لڑکیوں کاکال پڑ گیا ہے۔‘‘ وہ شریر سے انداز میں بولا۔

’’کال تو نہیں پڑا البتہ اسلام آباد کی جس لڑکی پر آپ کی نظر تھی اس کی پچھلے ہفتے منگنی ہوگئی ہے۔ لیجےے مٹھائی کھائےے۔ خالہ خود دے کر گئی تھیں۔‘‘ زاشی نے شرارت سے پلیٹ اس کی طرف بڑھا دی۔

’’یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔ آپ خالہ کی طرف جائیں تو میری طرف سے بھی مبارک دے دیجےے گا۔‘‘ اس نے مٹھائی اٹھاتے ہوئے عام سے لہجے میںکہا۔ ڈیڑھ ماہ زخم بھرنے میں خاصا مددگار ثابت ہوا تھا۔

’’میں چاہ رہی تھی تم خود ہی کوئی لڑکی پسند کر کے بتادو سچ تو یہ ہے کہ شجاعت کی دفعہ بھی میرے دل میں زینب کا خیال تھا مگر یہ رشتہ بڑا بے جوڑ ہوجاتا۔ شجاعت سے تو کہیں کم عمر ہے زینب، البتہ تمہارے ساتھ جوڑ بالکل صحیح ہے۔ ساجدہ کا بوجھ بھی ہلکا ہوجائے گا اور اتنے عرصے سے رشتوں میں جو سرد مہری آگئی ہے، وہ بھی دور ہوجائے گی لیکن اگر تمہارا دل راضی نہیں ہے تب بھی کوئی بات نہیں ویسے بھی ماں کی بات کیا اہمیت رکھتی ہے آج کل کے بچوں کے لےے۔‘‘

’’کیوں اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔ میرے لےے تو آپ کی بات سب سے اہم ہے۔‘‘ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر لاڈ سے بولا۔

’’اچھا چلیں آپ سے پکا وعدہ ہے میرا میں شادی کروں گا تو صرف آپ کی پسند کی ہوئی لڑکی سے لیکن۔۔۔ لیکن زینب کے علاوہ کوئی بھی۔‘‘ حفیظِ ماتقدم کے طور پر اس نے فوراً ہی بتا دیا۔

اس وقت تو اس نے بات ہنسی میں اڑا دی تھی مگر اگلے روز گائوں پہنچتے ہی سب سے پہلا سامنا زینب سے ہوگیا بلکہ سامنا کیا ہونا تھا حسبِ معمول وہ کسی سے جھگڑ رہی تھی اور ایسی ایسی گالیاں اس کی زبان سے ادا ہورہی تھیں کہ خود حسنات بھی شرم سے لال ہوگیا۔

’’خدا ہی بچائے اس کی زبان سے۔‘‘ اس نے اپنے قریب سے گزرتی کچھ خواتین کو کہتے سنا تھا۔ گھر آیا تو زارا سرخ رنگ کے لباس میں بہت فریش لگ رہی تھی، فٹافٹ وہ اس کے لےے کھانا گرم کر لائی پھر چائے بنائی اور جب تک وہ پی نہیں چکا۔ وہیں بیٹھی رہی گو کہ اسے زارا کا اپنے آگے پیچھے پھرنا کبھی اچھا نہیں لگا مگر اس وقت برا بھی نہیں لگ رہا تھا بلکہ کسی حد تک اس کی سابقہ کاکردگی کو مدُِنظر رکھتے ہوئے وہ اس کے اخلاق سے متاثر ہی ہورہا تھا۔

کتنے اچھے اور مہذب انداز میں بات کرتی تھی۔ حسنات نے کبھی اسے کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ بی اے پاس تھی اور شکل کی بھی اگر بہت اچھی نہ سہی تو بری بھی نہیں تھی یوں بھی وہ کوئی صرف ظاہری خوب صورتی پر مرمٹنے والا شخص تو تھا نہیں اگر ہوتا تو عفیفہ کا نام ہی کیوں لیتا گویا کل ملا کر سارے پلس پوائنٹس صرف زارا کے حق میں ہی جارہے تھے۔

ٹھیک ہے اب اسے شادی کر ہی لینا چاہےے۔

اس رات پلنگ پر لیٹتے ہوئے اس نے پوری آمادگی سے سوچا تھا اور اگلے روز وہ اماں جی کو فون کر کے اپنی رضامندی دے بھی دیتا اگر جو ایک دم سے اتنی مصروفیت اسے نہ گھیر لیتی۔ محب کے دادا گائوں کے ان بزرگ حضرات میں سے تھے جن سے عمروں کے تغاوت کے باوجود حسنات کی اچھی خاصی گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ چاہتے تھے حسنات ان کی پوتی کو اکنامکس پڑھا دیا کرے جو پچھلے دو سال سے اسی مضمون کی وجہ سے بی اے نہیں کرپارہی تھی گو کہ اسے پڑھانے کا کوئی خاص تجربہ نہیں تھا مگر دادا جی کے سامنے انکار کر کے وہ خود کو نکما ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا تب ہی ہامی بھرلی مگر اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ پوتی صاحبہ اس قدر کند ذہن ثابت ہوں گی کہ اسے کئی کئی گھنٹے اس کے ساتھ مغز ماری کرنا پڑے گی تب بھی نتیجہ صفر ہی رہے گا۔

مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق اسے یہ ڈیوٹی نبھانا پڑ رہی تھی لیکن ایک ہفتے بعد ہی محب کے دادا جی نے اس سے کچھ اور لڑکیوں کو پڑھانے کا ذکر کیا تھا وہ سب ہی اپنی کچھ مجبوریوں کی بنا پر شہر کے ٹیوشن سینٹرز جوائن نہیں کر سکتی تھیں لیکن وہ سب ہی اسے ٹیوشن فیس دینے کے لے تیار تھیں۔ ثریا صاحبہ کو پڑھاتے ہوئے وہ جتنا ذہنی الجھن کا شکار ہورہا تھا اس حساب سے تو اسے فوراً ہی انکار کر دینا چاہےے تھا مگر سچ تو یہ ہے کہ دو تین گھنٹوں کی محنت کے بعد آتا ہوا پیسہ کسے برا لگتا ہے۔ سو دیکھتے ہی دیکھتے اس کی اسٹوڈنٹس کی تعداد دس ہوگئی تھی۔ وہ آفس سے واپس آکر کچھ دیر آرام کرتا پھر محب کے گھر چلا جاتا جن کے گھر کا ایک کمرا اب مستقل ہی ایک ٹیوشن سینٹر کی شکل لے چکا تھا۔

٭٭٭

یہ جاتی گرمیوں کے دن تھے۔

شام ڈھلے چلنے والی ہوائوں میں خنکی کا عنصر بڑھ رہا تھا اور تیسرے پہر سے ہی آسمان کا رنگ بدلا بدلا سا دکھائی دینے لگا تھا۔

سوکھے پتوں کی خوشبو سے لدی ہوئی شامیں اداسی کی نمی سے بوجھل محسوس ہوتی تھیں اسے سارے ہی موسم برے لگتے تھے ایک سوائے اس موسم کے جب زندگی میں سوکھے ہوئے پتوں کے ڈھیر کے سوا کچھ ہے ہی نہیں تو نیلے پیلے موسموں سے دوستی کرنے سے کیا حاصل ہوسکتا ہے؟

اور اس جاتی ہوئی گرمیوں کے بے حد اداس کردینے والے دن میں سرکاری ہسپتال کے ٹھنڈے کاریڈور میں بیٹھ کر تو رگوں میں خون بھی جمنے لگا تھا۔ دل تھا کہ کسی سوکھے پتُے کی مانند ہی کانپ رہا تھا۔

زندگی میں ایسی کوئی خوش گمانی تو پہلے بھی نہیں رہی مگر اماں کی اس آناً فاناً بیماری نے تو جیسے ہر امکان ہی چھین لیا تھا۔ ’’اب کیا ہوگا؟‘‘ نام کا ایک بڑا سا سوالیہ نشان کسی عفریت کی مانند سامنے کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔

دائیں جانب والے موڑ سے اسے حسنات آتا دکھائی دے رہا تھا۔ بالکل بے ساختہ ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

’’بیٹھ جائو۔۔۔ کھڑی کیوں ہوگئی ہو؟‘‘ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا مگر لہجہ معمول کا سا ہی تھا۔ پتا نہیں صورتِ حال واقعی غیر معمولی تھی یا اس کا دل ہی کسی انجانے خدشے سے کانپ رہا تھا۔

’’اماں کیسی ہیں؟۔۔۔۔ انہیں کچھ ہوگا تو نہیں۔‘‘ وہ بیٹھ ضرور گئی تھی مگر اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ حسنات نے اس کی جانب دیکھا۔ ماتھے پر تیوریاں نہیں تھیں۔ آج پریشانی تھی، خوف تھا، کس قدر بے آسرا لگ رہی تھی وہ آج۔ حسنات کو اس پر ترس آیا تھا۔

’’تم بے فکر رہو، پھوپھو بالکل ٹھیک ہیں۔‘‘ اس کا سر آہستگی سے تھپتھپاتے ہوئے اس نے بے حد اپنائیت سے کہا تھا۔ زینب نے اپنے دل میں سکون کی ایک لہر سی اترتی محسوس کی تھی۔ یہی بات کچھ دیر پہلے اسے بلال نے کہی تھی مگر اسے یقین نہیں آیا تھا۔ کیوں نہیں آیا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ رات کے آخری پہر جب اماں کی حالت اچانک بگڑی تو خوف سے زرد پڑتی وہ حسنات کے پاس ہی مدد کے لےے بھاگی چلی آئی تھی۔ شاید اس گھر میں وہ ہی واحد شخص تھا جو اس کی مدد کر سکتا ہے اور اس کا یقین کچھ ایسا غلط بھی ثابت نہیں ہوا تھا۔ زینب تو اماں کو مرا ہوا تصور کر کے ساری ہمت ہار کر بیٹھ گئی تھی حسنات ہی پتا نہیں انہیں کن دقُتوں سے شہر کے ہسپتال میں لایا تھا۔

’’اس سے پہلے بھی کبھی پھوپھو کی طبیعت ایسی خراب ہوئی ہے؟‘‘ زینب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ بینچ پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھا وہ پوچھ رہا تھا۔

’’میرا مطلب ہے اس طرح پہلے کبھی ہوا ہے کہ سانس رک گیا ہو اور ہاتھ پیر مڑ گئے ہوں؟‘‘ اس نے سوال کچھ تبدیلی سے دوہرایا۔

’’نہیں۔۔۔‘‘ اس نے یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا پھر ایک دم اثبات میں سر ہلانے لگی۔ ’’ہاں۔۔۔ ایک دفعہ ایسا ہوا تھا مگر وہ بہت پرانی بات ہے اور صرف چند منٹ میں اماں ٹھیک ہوگئی تھیں۔۔۔ کیوں؟ ایسا کیوں پوچھ رہے ہو۔ اماں ٹھیک نہیں ہیں کیا؟‘‘ حسنات کے چہرے پر سوچ کا تاثر دیکھ کر وہ پھر سے ہراساںہوئی تھی۔

’’کہہ تو رہا ہوں، وہ بالکل ٹھیک ہیں بلکہ پندرہ منٹ بعد جا کر تم ان سے خود مل لینا۔ تمہاری تسلی ہوجائے گی۔۔۔ ڈاکٹر سے اجازت بھی لے لی ہے میں نے۔‘‘

’’پندرہ منٹ بعد ہم اماں کو گھر لے جاسکیں گے؟‘‘

’’نہیں گھر تو نہیں لے جاسکتے۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ دراصل میں چاہ رہا ہوں۔ پھوپھو کا مکمل چیک اٰپ کروالوں۔۔۔ دو تین ٹیسٹ کروانے ہیں۔ اس سے پتا چل جائے گا کہ کل رات جو ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی اس کی وجہ کیا ہے، ویسے تو مجھے یقین ہے کوئی ایسی پریشانی کی بات نہیں ہوگی لیکن احتیاطاً ٹیسٹ کروالینے چاہئیں۔۔۔ اور یہ ٹیسٹ کروانے کے لےے پھوپھو کو دو دن تک ہسپتال میں رہنا پڑے گا۔‘‘

’’حسنات! تم جھوٹ تو نہیں بول رہے ہو؟ دیکھو اگر کوئی پریشانی کی بات ہے تو مجھے بتادو۔‘‘ اس نے بہت التجا سے کہا تھا۔

’’اوہو۔۔۔ کہہ تو رہا ہوں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔

تم تھک گئی ہوگی، ابھی تھوڑی دیر میں بلال آجائے گا۔ تم اس کے ساتھ گھر چلی جانا۔ کھانا وانا کھا کر شام میں بلال کے ساتھ ہی آجانا ابھی تو میںہوں وہاں لیکن رات کو اگر تائی ہاجرہ آگئیں تو وہ رک جائیں گی۔ لیکن اگر پرائیویٹ کمرا مل گیا تو پھر میں ہی رَک جائوں گا۔‘‘

’’نہیں رات کو بھی میں ہی رکوں گی۔‘‘ زینب نے تیزی سے کہا۔

’’لیکن۔۔۔‘‘ حسنات نے کہنا چاہا۔

’’کوئی لیکن ویکن نہیں میں ہی رَک جائوں گی اماں کے پاس تم بھی تو تھک گئے ہوگے۔‘‘ اسے اچانک خیال آیا تھا۔

’’نہیں کوئی خاص نہیں۔‘‘ اس نے بات ہی ٹال دی تھی۔

بلال آیا تو زینب نے جانے سے انکار کر دیا۔ حسنات نے صاف محسوس کیا اسے گھر جانے پر اعتراض نہیں تھا۔ وہ بلال کے ساتھ جانے سے کترا رہی تھی اور یہ بات حیرانی کی ہی تھی۔ لیکن کچھ دیر بعد وہ تنہا ہی گھر چلی گئی تھی اور گھر جاتے ہوئے مٹھی میں دبا نوٹ بے حد شرمندگی سے اس کی طرف بڑھا دیا تھا۔

’’میرے پاس ابھی اتنے ہی ہیں۔‘‘ اس نے شرمندگی کے مارے نظریں بھی نہیں اٹھائی تھیں۔

’’تم یہ پیسے ابھی اپنے پاس رکھو۔ مجھے جب ضرورت ہوگی میں تم سے مانگ لوں گا۔‘‘ حسنات نے اسے ٹال دینا چاہا تھا مگر زینب نے زبردستی اسے روپے دےے۔ زینب کے جانے کے بعد وہ دیر تک اس بظاہر خوشنما دکھائی دینے والی کہانی کے متعلق سوچتا رہا۔

مٹھی میں بھیگا ہزار روپے کا نوٹ کتنا کچھ اس پر واضح کر گیا تھا اور سب ہی کچھ دکھ میں مبتلا کر رہا تھا۔ اصل دکھ تو پھوپھو کی رپورٹس آنے کے بعد ہوا تھا اسے خدشہ تھا پھوپھو کی رپورٹس نارمل نہیں ہوںگی مگر وہ اتنی ایب نارمل ہوں گی اسے اندازہ نہیں تھا۔

وہ دمے کے عارضے میں مبتلا تھیں۔ ایک گردہ چھ سال قبل ناکارہ ہوچکا تھا جبکہ دوسرے کی کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہورہی تھی۔ ذیابیطس کی وہ مریضہ تھیں جبکہ ای سی جی بھی نارمل نہیں تھی۔

اس رات شدید کھانسی کی وجہ سے ان کی سانس اکھڑی تھی، ساتھ ہی بلڈ پریشر خطرناک حد تک لو ہو گیا تھا۔

حسنات نے زندگی میں اتنی شرمساری شاید ہی کبھی محسوس کی ہو اگر کبھی ان لوگوں نے پھوپھو کی خیر خبر لی ہوتی تو کیا تب بھی وہ لوگ ان کی طرف سے اتنے ہی انجان ہوتے؟

’’مجھے پتا ہے یار! تمہارے دل میں شکایت ہے۔ چاچی کی اس حالت کا ذمہ دار تم ہمیں ہی سمجھ رہے ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ہم نے تو ہمیشہ ہی انہیں اپنائیت دی ہے۔ انہوں نے ہی کبھی ہمیں اپنا نہیں سمجھا۔ الٹاہمیشہ ہی ہمیں غیر سمجھا ہے حالانکہ اس صورت حال میں تو انہیں ہم سے اور بھی محبت ہونا چاہےے جبکہ ان کے دونوں بچے بھی پاگل۔۔ میرا مطلب تھوڑے ابنارمل ہیں۔‘‘ بلال کہہ رہا تھا۔ ’’دونوں بچے؟‘‘ وہ چونکا۔

’’کامی کا تو تمہیں پتا ہی ہے۔ اس بے چارے کا تو خیر شکل سے ہی پتا چل جاتا ہے البتہ زینب کو دیکھ کر پتا نہیں چلتا کہ وہ کھسکی ہوئی ہے۔‘‘ بلال نے کہا۔

’’مسئلہ یہ ہے کہ یہاں گائوں میں یا شہروں میں بھی سائیکاٹرسٹ کا اتنا رواج نہیں کسی کے ساتھ کوئی ذہنی مسئلہ ہو تو لوگ پیروں فقیروں کے پاس چلے جاتے ہیں جو بیماری کو سمجھ نہیں پاتے الٹا جن بھوت کا ڈراوا دے کر دماغ اور بھی خراب کر دیتے ہیں۔ زینب کا رویہ تو تم سے ڈھکا چھپا نہیں لیکن ابھی تک یہ نہیں پتا کہ اسے نیند میں چلنے کی بیماری ہے، صرف یہی نہیں کچھ عرصہ قبل تو وہ یہ بھی کہتی تھی کہ اسے اپنے ہی گھر میں چلتے پھرتے سائے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی لڑکے کا معاملہ ہوتا تو ہم بھی بے دھڑک ہو کر علاج کروادیتے۔ یہاں معاملہ لڑکی کا ہے شادیوں کے وقت تو ذرا ذرا سی بات کا خیال رکھا جاتا ہے۔‘‘ بلال اسے بہت تفصیل سے بتا رہا تھا۔ حسنات اور بھی متاسف ہوتا رہا۔ یہ بھی ٹھیک تھا کہ وہ پھوپھو کی حالت کی خرابی میں ان لوگوں کو بھی ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔ مگر جہاں خود کو تھوڑی بہت گنجائش دینا ہو وہاں دوسروں کا خیال بھی کرنا پڑتا ہے۔

٭٭٭

اس نے پھوپھو کا علاج شروع کروادیا تھا مگر بڑے شہروں میں بسنے والے بیشتر لوگوں کی طرح وہ بھی ایک چھوٹے شہر میں حاصل شدہ طبی سہولیات سے مطمئن نہیں تھا تب ہی بڑے پرزور طریقے سے اس نے پھوپھو سے اسلام آباد شفٹ ہونے کے لےے اصرار شروع کر دیا تھا۔

پھوپھو کوئی واضح جواب نہیں دیتی تھیں مگر ان کے کسی بھی انداز یا بات سے آمادگی نہیں چھلکتی تھی۔ زینب ان کے علاج کے معاملے میں سنجیدہ تو تھی مگر اس موضوع پر اس نے بالکل خاموشی اختیار کی ہوئی تھی۔ اہل محلُہ، تائی ہاجرہ اور ان کی بیٹیوں سے اس کے جھگڑوں میں کوئی کمی نہیں آئی تھی البتہ حسنات کے ساتھ اس کے روےُے میں خاطر خواہ تبدیلی آچکی تھی گو کہ وہ اسے بہت ہی کم مخاطب کرتی تھی لیکن حسنات کے مخاطب کرنے پر وہ پہلے کی طرح پھاڑ کھانے کو نہیں دوڑتی تھی اسے دیکھ کر زینب کی پیشانی پر بل پڑتے تھے نہ ہی وہ دوائیوں کے ہمراہ پھل وغیرہ لانے پر واویلا مچاتی تھی۔

حسنات جانتا تھا۔ یہ تھوڑی سی گنجائش صرف اور صرف احساسِ تشکر کا نتیجہ ہے مگر یہ اندازہ اسے نہیں ہوسکا تھا کہ زینب کی پیشانی کی تیوریوں میں جوں جوں کمی آرہی ہے۔ تائی ہاجرہ اور زارا کی پیشانی بل دار ہورہی ہے۔ وہ تو اپنے آپ میں مگن بڑی تند ہی سے آفس ورک نمٹا رہا تھا شام میں ایک اچھی مصروفیت ٹیوشن کی شکل میں مل گئی تھی۔

اس روز اتوار تھا۔ دوپہر کے کھانے کے بعد وہ چہل قدمی کے خیال سے نکلا تھا بڑی دیر تک ایسے ہی کھیت چھانتا رہا پھر ایک موٹا سا گنا ہاتھ میں لےے پھوپھو کی طرف آگیا۔ وہ دروازے سے اندر داخل ہو ہی رہا تھا جب دائیں طرف سے ایک بچہ اسے دھکا دیتا آگے نکل گیا۔ حسنات گرتے گرتے سنبھلا تھا مگر سنبھلنے تک اس معاملے کی نزاکت کا احساس ہوچکا تھا کیونکہ اس نے بچے کے ہاتھ میں کچھ چیزیں پکڑی بھی دیکھ لی تھیں۔ اس نے گردن موڑ کر دیکھا۔ زینب دروازے کی کیل میں پھنسا اپنا دوپٹہ چھڑوارہی تھی۔

’’ایک منٹ۔۔۔ تم یہ پکڑو۔‘‘ اس نے گنا زینب کو پکڑایا اور اس بچے کے پیچھے دوڑ لگادی۔ پچھلی بار زینب کا جو نقصان ہوا، وہ اب تک بوجھ کی طرح کندھوں پر دھرا تھا۔ اب ایک موقع مل رہا تھا اس بوجھ کو اتارنے کا تو وہ اسے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔

وہ بہت تیز دوڑ رہا تھا مگر بچہ بے حد پھرتیلا تھا۔ حسنات زندگی میں شاید ہی کبھی اتنا تیز دوڑا ہوگا مگر بچہ تھا کہ قابو میں آہی نہیں رہا تھا۔ لیکن اس بار جیت حسنات کی ہی ہوئی تھی مگر اس چھٹانک بھر کے بچے سے نمکو کے پیکٹ لینے کے لےے اسے باقاعدہ ہاتھا پائی کرنا پڑی تھی۔ وہ بچوںپر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا مگر اتنے بدتمیز بچے کی تو اچھی خاصی پٹائی کرنے کو جی چاہ رہا تھا جس نے اس کے چہرے پر ناخن مارے تھے۔

ایک طویل جدوجہد کے بعد بچے نے پسپائی اختیار کی اور اونچی آواز میں روتا خالی ہاتھ اپنے گھر روانہ ہوا اور حسنات خوشی خوشی دکان کی طرف آگیا۔

’’یہ لو۔۔۔ ساری چیزیں گن لو۔ میں نے ایک بھی چیز اسے لے جانے نہیں دی۔‘‘ خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ اس نے اپنا کارنامہ بتایا تھا۔

’’کیوں؟‘‘ اس نے بے حد سنجیدگی سے پوچھا۔

’’ایں۔‘‘ اس کی مسکراہٹ یوں غائب ہوئی جیسے سرف کے ٹی وی کمرشل میں داغ غائب ہوجاتا ہے۔

’’وہ میں تو۔۔۔‘‘

’’کیا میں نے تمہیں اس کے پیچھے جانے کے لےے کہا تھا؟‘‘ زینب نے سابقہ سنجیدگی سے اگلا سوال داغا۔

’’میں پیچھے سے تمہیں آوازیں دیتی رہ گئی اور تم تھے کہ احمقوں کی طرح بھاگتے چلے گئے۔ کم سے کم مجھ سے پوچھ تو لیا ہوتا۔‘‘

’’میں سمجھا تمہیں پتا نہیں چلا۔۔۔‘‘ حسنات نے شرمندگی سے کہا۔

’’وہ اوڈھوں کا بچہ ہے۔ میں بڑی اچھی سے جانتی ہوں، اکثر چیزیں لینے آتا رہتا ہے مگر صرف آج چوری کی، اس لےے کیونکہ دو دن سے ان کے گھر کھانا نہیں پک رہا۔ اس بچے کا باپ بیمار ہے۔ وہ بے چارہ صحت یاب ہو کر کام پر جائے گا تو کھانا بنے گا ۔ میں نے اسے پیکٹ اٹھاتے دیکھ لیا تھا مگر اسے پتا نہیں چلنے دیا تم اسے یہ لے جانے دیتے تو ایک وقت پیٹ ہی بھر جاتا بے چارے کا مگر، تم ایک بات تو بتائو۔ کیا شہروں میں رہنے والے سب ہی بے وقوف ہوتے ہیں یا صرف تم ہی۔۔۔‘‘

’’میں بے وقوف نہیں ہوں۔۔۔‘‘ اس نے بے حد خفگی سے بات قطع کی تھی اور اس کے ہاتھ سے گنا جھپٹ لیا تھا۔

’’ہاں۔۔۔ تمہاری عقل مندی کا مظاہرہ تو میں دیکھ ہی چکی ہوں۔‘‘

بے حد ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے مذاق اڑایا تھا۔ حسنات فوراً ہی اپنی خفگی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت دینا چاہتاتھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا مگر اس کی نظریں چند لمحوں کے لےے بالکل ساکت ہوگئی تھیں۔

بالکل سادہ، بے ریا سی مسکراہٹ۔

’’کیا یہ لڑکی جانتی ہے مسکراتے ہوئے یہ کتنی اچھی لگتی ہے؟‘‘

اتنے ڈھیر سارے دنوں میں پہلی بار اسے مسکراتا دیکھنا اتنا اچھا لگا کہ محض اس کی خفگی کے ڈر سے وہ اسے بتا بھی نہیں پایا (اس کا کیا پتا اسی بات پر غصہ ہوجاتی) اور واپسی کے لےے مڑ گیا پیچھے سے زینب اسے آوازیں دیتی رہی تھی مگر حسنات نے پلٹ کر بھی نہیں دیکھا۔

اسے ڈر تھا، وہ پتھر کا نہ ہوجائے۔

٭٭٭

’’آپ آج بھی جارہے ہیں؟‘‘

وہ ٹیوشن کے لےے نکل ہی رہا تھا جب زارا کی صدمے سے چور آواز پر حیرانی سے پلٹا۔

’’میں تو روز اسی وقت جاتا ہوں۔‘‘ حسنات نے متعجب ہوتے ہوئے کہا تھا۔

’’لیکن آج تو نہیں جانا چاہےے تھا۔‘‘ زارا کے چہرے پر اور بھی مایوسی پھیل گئی۔

کیوں۔۔۔ آج کوئی خاص بات ہے کیا؟‘‘ ذہن پر زور ڈالتے ہوئے اس نے قدرے جھجک آمیز لہجے میں پوچھا۔

’’آج میری سالگرہ ہے۔‘‘ وہ نروٹھے پن سے بولی۔ ’’میں نے آپ کو چار روز پہلے بھی بتایا تھا۔‘‘

’’اوہ۔۔۔!‘‘ حسنات کو اپنی یادداشت پر افسوس ہوا۔

’’آئی ایم سوری زارا۔۔۔! میری یہ بہت بری عادت ہے ہر کام کی بات ذہن سے نکل ہی جاتی ہے حالانکہ کل تک مجھے یاد تھا۔‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کس طرح اپنی غلطی کا ازالہ کرے چار روز پہلے واقعی اس نے بہت شوق سے اسے اطلاع دی تھی اور اس چھوٹی سی تقریب کا بھی بتایا تھا جو بالکل گھریلو سطح پر منعقد ہونا تھی اور حسنات کا اس تقریب میں شریک ہونا از حد ضرور قرار پایا تھا۔

’’کوئی بات نہیں۔ ویسے بھی میں جانتی ہوں۔ میں کتنی غیر اہم ہوں کہ کوئی بھی مجھے یاد نہیں رکھ سکتا۔ آپ سے کیا گلہ کرنا، آپ کی مصروفیات تو ویسے بھی اتنی بڑھ گئی ہیں، لڑکیوں کو پڑھانا کوئی آسان کام تھوڑا ہی ہے۔‘‘

حسنات نے بہت بری طرح سے چونک کر اس کی جانب دیکھا مگر زارا کی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں اتنے بڑے بڑے آنسو چمکنا شروع ہوگئے تھے کہ وہ بری طرح سے بوکھلا گیا۔

’’یہ تم سے کس نے کہہ دیا کہ تم اہم نہیں ہو۔۔۔ بھئی میری یادداشت ہی کمزور ہے۔‘‘ زارا بری طرح سے رونے لگی تھی۔ حسنات کی وضاحت کا اس پر ذرا بھی اثر نہ ہوا۔

’’آئے ہائے۔۔۔ زارا میری بچی! رو کیوں رہی ہے؟‘‘ تائی ہاجرہ پتا نہیں کہاں سے نمودار ہوئی تھیں۔ زارا روتی ہی رہی۔ تائی نے پریشانی سے حسنات کی جانب دیکھا۔

’’وہ۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘ اس قدر احمقانہ سچویشن بن گئی تھی کہ وہ ڈھنگ سے وضاحت بھی نہ دے پارہا تھا۔ سالگرہ کا دن بھول جانا کچھ اتنی بڑی بات بھی نہ تھی کہ یوں رونادھونا شرع کر دیا جاتا۔

’’ارے کچھ تو بتائو۔ یہ تو بس روئے ہی جارہی ہے۔ آخر کچھ تو ہوا ہی ہوگا ورنہ بلا وجہ تو کوئی بھی نہیں روتا اور زارا تو خوش بھی اتنی تھی کہ کیا بتائوں صبح سے لگی ہوئی تھی باورچی خانے میں۔ کتنی ہی چیزیں تمہاری پسند کی بنا ڈالیں۔ تم نے تو کچھ نہیں کہہ دیا؟‘‘

’’میں۔۔۔ میں کیوں کہوں گا؟‘‘ وہ سٹپٹا کر بولا۔

’’امی جان! یہ بھول ہی گئے کہ آج میری سالگرہ ہے حالانکہ میں نے انہیں بتایا بھی تھا۔‘‘ اس کا انداز شکایتی تھا۔

’’لیکن اب تو یاد آگیا ہے نا۔‘‘ حسنات نے گڑبڑا کر کہا۔

’’ہاں بہت یاد آگیا ہے تب ہی لڑکیوں کو پڑھانے جارہے ہیں۔‘‘ وہ سابقہ انداز میں بولی۔

’’نہیں جارہا میں کہیں بھی۔ یہ دیکھو یہاں بیٹھا ہوں۔‘‘

حسنات کو اکتاہٹ تو بہت ہوئی مگر ظاہر نہ ہونے دیا۔ ’’کہاں ہے کیک؟ جو تم کاٹو گی۔ دیکھ لینا میں ہی سب سے زیادہ تالیاں بجائوں گا۔‘‘ محض اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی غرض سے اس نے ہلکے پھلکے لہجے میں کہا تھا۔

’’چل بس کر زارا! دیکھ تو سہی حسنات کتنا شرمندہ ہورہا ہے۔‘‘

’’ایں میں شرمندہ ہورہا ہوں۔‘‘ حسنات نے سوچا۔

’’اب جلدی سے اٹھ کر برتن رکھ۔ سب کچھ ٹھنڈا ہورہا ہوگا۔‘‘ تائی نے کہا تو زارا قدرے مسکراتی ہوئی اٹھ گئی۔

’’دراصل زارا لاڈلی بہت ہے۔ اسی لاڈ پیار نے اسے حساس بنادیا ہے ذرا ذرا سی باتوں کو دل سے لگا لیتی ہے۔ اب یہی دیکھ لو، تمہاری اتنی سی کوتاہی کو اس طرح سے محسوس کیا ہے۔ اصل میں صرف تمہاری وجہ سے ہی اس نے اتنا اہتمام کر ڈالا ہے۔ جب تعلق بن جاتا ہے تو اتنا خیال تو کرنا ہی پڑتا ہے نا۔‘‘

وہ اپنی جھونک میں بول رہی تھیں لیکن حسنات کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔

’’تعلق؟‘‘ اس نے گڑبڑا کر ان کی جانب دیکھا مگر وہ اپنی ہی کہے جارہی تھیں۔

’’اور نہیں تو کیا۔۔۔ دیکھو نا۔ ہم سب کتنی جلدی تم سے مانوس ہوگئے ہیں، بالکل گھر کے فرد کی طرح لگنے لگے ہو بلکہ جب اسلا م آباد گئے ہوتے ہو تو کتنی کمی محسوس ہوتی ہے تمہاری۔ ماشائ اللہ اتنے اچھے اور تابعداد بچے ہو۔ سچ پوچھو تو مجھے تو بالکل بلال اور باسط کی طرح ہی لگتے ہو اور بالکل ان ہی کی طرح عزیز ہو گئے ہو۔‘‘

’’میرے اور باسط کی طرح نہیں مجاہد بھائی کی طرح۔‘‘ بلال کمرے سے نکلا تھا وہیں تائی کے قریب چارپائی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔

’’اتنی خدمتیں تو اس گھر میں بس ان ہی کی ہوا کرتی تھیں وہ بھی شروع کے دنوں میں۔‘‘ تائی کی طرف جھجکتے ہوئے اس نے سرگوشی کی تھی۔ تائی نے سٹپٹا کر ہاتھ جڑ دیا اور بوکھلا کر حسنات کی جانب دیکھا وہ ہونقوں کی طرح منہ اٹھائے اس سرگوشی کا مفہوم سمجھنے کی کوشش میں بری طرح ناکام ہو کر اکتایا بیٹھا تھا۔

’’بلال کو عادت ہے مذاق کرنے کی؟‘‘ تائی نے بوکھلاہٹ میں فوراً ہی وضاحت پیش کر دی اور کچھ بھی سمجھ میں نہ آسکنے کے باوجود حسنات بدقُت مسکرادیا۔

’’جی۔۔۔ میں جانتا ہوں۔‘‘

’’او بھولے بادشاہو! کیا جانتے ہیں آپ؟‘‘ بلال نے بے ساختہ قہقہہ لگاتے ہوئے پوچھا تھا۔

’’یہ کس وقت کی نیند پوری ہورہی تھی۔‘‘ حسنات نے اس کی ہنسی کو نظر انداز کرتے ہوئے بات برائے بات پوچھا۔تائی اٹھ کر میز کی گرد جھاڑنے لگیں۔

’’بس یار! بڑی تھکن ہوگئی تھی آج۔ اسی لےے ہاف ٹائم لے کر آگیا تب سے جو سویا ہوں تو اب ہی آنکھ کھلی ہے۔‘‘

بلال نے اپنے بکھرے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے کہا وہ اس وقت اپنے سلیپنگ سوٹ کی ہاف پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ شرٹ شاید اس نے سوتے وقت اتار دی تھی اور اب اٹھ کر یونہی چلا آیا تھا۔ وہ قابلِ رشک صحت کامالک تھا مگر اس وقت بغیر قمیص کے اس کا کسرتی جسم بہت شاندار لگ رہا تھا۔ حسنات نے بھی بے اختیار اسے سراہا تھا اور اس کی تعریف سے بلال بے حد خوش ہوا تھا۔

’’یہ سارا ایکسر سائز اور گیم کا کمال ہے۔‘‘ بلال نے باڈی بلڈرز کی طرح اپنے جسم کو اکڑاتے ہوئے اسے اپنے ’’ایبز‘‘ دکھائے تھے۔

’’کالج تک مجھے بھی باڈی بلڈنگ کا بہت شوق ہوا کرتا تھا لیکن یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تو ٹف پڑھائی کی وجہ سے گیپ آگیا۔ پریکٹس میں اور گیپ آجائے تو یہ کام پھر سے شروع کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اب بھی میں جاگنگ اور ہلکی پھلکی ایکسر سائز تو کر لیتا ہوں لیکن ویٹ لفٹنگ نہیں ہوپاتی۔‘‘ حسنات نے بتاتے ہوئے اسے اپنے مسلز دکھائے تھے۔ اب کی بار بلال متاثر ہوا۔

’’واہ زبردست یار! اصل میں تمہیں تھوڑی سی ٹف ایکسر سائز اور ویٹ لفٹنگ کی ہی ضرورت ہے دیکھنا ایسی زبردست باڈی مینٹین ہوجائے گی کہ کیا جان ابراہم، اور ریتک کی باڈی ہے۔‘‘ اس کی اڑان انڈین فلموں سے آگے نہیں بڑھی تھی۔

’’اب اتنی دور کی بھی نہ چھوڑو یار!‘‘ حسنات نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’نہیں یار! میں سیریس ہوں۔‘‘ بلال نے جلدی سے کہا۔

’’میں کل تمہیں کلب لے کر چلوں گا۔ وہاں ایک لڑکا ہے عباس، ایمان سے یار!کیا زبردست باڈی ہے اس کی کہ کیا ’’میک ملن‘‘ کی ہوگی۔ حالانکہ دو مہینے پہلے آیا تو ایک دم تیلا لگا کرتا تھا۔

’’السلام علیکم سر!‘‘ اس باریک سی نسوانی آواز پر وہ دونوں ہی چونک گئے تھے۔ حسنات نے گردن موڑ کر دیکھا پھر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑ ا ہوا۔ آواز ثریا کی تھی۔

’’وعلیکم السلام۔‘‘

’’سر!۔۔۔ وہ میں پوچھنے آئی تھی، آج آپ پڑھانے نہیں آئیں گے۔۔؟‘‘ وہ نظریں جھکائے کھڑی ہوئی تھی۔ ’’سب لڑکیاں آچکی ہیں آج بہت دیر ہوگئی تھی آپ کو۔ محب بھی بات نہیں مان رہا تھا اس لےے میں خود ہی پوچھنے چلی آئی۔‘‘

’’اصل میں ایک آفس کام آگیا ہے۔ اس لےے میں آج آپ لوگوں کو نہیں پڑھا سکوں گا۔‘‘ حسنات نے بلال کو آنکھوں ہی آنکھوں میں وہاں سے اٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا لیکن بلال اس کی بات سمجھ نہیں رہا تھا۔

’’کیا کہہ رہے ہو؟‘‘‘ اس نے بھی الجھن بھرے انداز میں اشاروں سے ہی پوچھا تھا۔

’’سر! وہ مجھے ایک کوٹیشن کا مطلب سمجھ نہیں آرہا تھا اگر آپ کے پاس وقت ہے تو مجھے یہیں سمجھادیں۔‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے کہا۔

’’آں؟‘‘ حسنات تذبذب کا شکا رتھا۔

’’اچھا دکھائیں۔ کون سی کوٹیشن ہے؟‘‘ ناچار اس نے کتاب لینے کے لےے ہاتھ بڑھایا۔ ساتھ ہی کرسی گھسیٹ کر اس رخ پر کردی جہاں بلال اس کرسی کی پشت پر آگیا تھا۔ اس نے کتاب کھولنے سے پہلے ایک بار پھر اشارے سے بلال کو وہاں سے ہٹنے کے لےے کہا مگر بے چارے بلال کی بھی کیا غلطی تھی وہ اس کے اشارے سمجھتا تو ہی حرکت کرتا۔ ایک آخری کوشش کے طور پر حسنات نے چپکے سے اس کے پائوں پر ایک ٹھوکر رسید کی تھی۔

’’کیا مصیبت ہے؟‘‘ بلال بلبلا اٹھا مگر سچویشن کچھ ایسی تھی کہ بول بھی نہیں سکتا تھا۔ ثریا کوٹیشن سمجھ کر اسی طرف سے زینب کے پاس چل گئی تب وہ جھنجھلا کر بولا۔

’’تمہیں کیا بیٹھے بیٹھے گدگدیاں ہورہی تھیں؟‘‘

’’سوری۔ تمہیں زیادہ زور سے لگ گئی۔‘‘ حسنات نے شرمندگی سے اس کے پیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جس کی ایک انگلی کا ناخن اس کی ٹھوکر سے اکھڑ چکا تھا۔

’’بات کیا تھی۔۔۔ منہ سے نہیں بک سکتے تھے؟ اشارے کےے جارہے تھے کہ کیا کسی لڑکے نے راہ چلتی لڑکی کو کےے ہوں گے۔‘‘

’’میں تو تمہیں یہاں سے اٹھنے کے لےے کہہ رہا تھا۔‘‘ حسنات نے سابقہ شرمندگی کے ساتھ وجہ بتائی۔

’’مگر تم مجھے اٹھانا کیوں چاہتے تھے۔‘‘ اس نے بنیادی سوال فوراً ہی اٹھایا پھر اس کے قریب آکر رازدارانہ انداز میں بولا۔

’’اکیلے میں راز و نیاز کرنا چاہ رہے تھے؟‘‘ شرارت بھرا انداز۔

’’لاحول ولا قوۃ۔‘‘ حسنات بری طرح جھینپ گیا۔

’’میں تو صرف اس لےے کہہ رہا تھا کہ تم نے شرٹ نہیں پہنی ہوئی تھی اور ایک غیر لڑکی کے سامنے یوں بغیر شرٹ کے بیٹھنا کتنا اووڈ (odd) لگتا ہے۔‘‘

بلال چند لمحے اس کی شکل دیکھتا رہا پھر اس کے لبوں سے بے اختیار قہقہہ ابلا تھا۔

’’او اسلام آباد کے پینڈو! اکیسویں صدی میں پہنچ کر بھی تم ابھی تک سترہویں صدی میں جی رہے ہو۔ بھلا اگر میں نے شرٹ نہیں پہنی ہوئی تو مجھے اندر کیوں چلے جانا چاہےے تھا؟ ابھی خود ہی تو تم میری باڈی کی تعریف کر رہے تھے تو کیا اتنی زبردست باڈی میں نے اس لےے بنائی ہے کہ اسے چھپاتا پھروں؟‘‘ وہ بہت تمسخرانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔

حسنات کو اس کے خیالات جان کر بہت زور کا جھٹکا لگا۔

’’شرم و حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے بلال!‘‘

’’لو۔۔۔ شرم کا مردوں سے کیا تعلق؟‘‘ بلال نے جھنجھلا کر کہا۔

’’میں کوئی لڑکی تو ہوں نہیں کہ اپنا جسم چھپاتا پھروں۔ آج کل تو خیر روشن خیال لڑکیاں بھی یہ نہیں کرتیں۔ میں تو پھر مرد ہوں۔‘‘

’’یعنی۔۔۔ تمہارے خیال میں اپنی جسم کی نمائش روشن خیالی کی علامت ہے؟‘‘

’’نمائش تو خیر نہیں کہہ سکتے۔‘‘ بلال نے پَرسوچ انداز میں کہا۔

’’لیکن ایک چیز اگر اچھی ہے تو اسے چھپانا نہیں چاہےے۔ چھپائی وہ چیز جاتی ہے جس میں عیب ہوتا ہے جبکہ مجھ میں تو کوئی عیب نہیں ہے۔

میں تو well build structure کا مالک ہوں ہاں البتہ میں بھی ہوتا کوئی دبلے پتلے منحنی سے وجود والا تو یونہی شرٹ پہننے کے لےے بھاگتا جیسا کہ تم کہہ رہے ہو۔‘‘

’’اور نہیں تو کیا۔۔۔ مرد بھی اپنا آپ عورتوں کی طرح چھپاتے اچھے لگتے ہیں کیا؟‘‘ تائی ہاجرہ نازل ہوئیں۔

’’ویسے بھی میرے دونوں بچوں کو بچپن کی عادت پڑی ہوئی ہے۔ یہاں کی گرمی کا حال تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے تو یہ بلال اور باسط کو میں بچپن میں صرف جانگیا پہنا دیا کرتی تھی، سارا دن ایسے ہی پھرتے رہتے گرمی لگتی تو ٹونٹی کے نیچے بیٹھ کر جھٹ پٹ نہا بھی لیتے تھے اور یوں گرمی بھی کم لگتی تھی۔۔۔ بس وہی عادت پڑی ہوئی ہے گرمی تو ان دونوں سے ہی برداشت نہیں ہوتی۔ یہ بلال تو سردی میں بھی قمیص اتار کر ہی سوتا ہے۔‘‘

تائی بولنا شروع ہوئیں تو پھر رکنے کا نام ہی نہ لیا جبکہ حسنات سے پھر کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ وہ خیالات جو کئی سالوں میں پختہ ہوئے ہوں منٹوں یا گھنٹوں میں نہیں بدلے جاسکتے تھے۔

٭٭٭

بالکل سامنے والی دیوار کے ساتھ بچھے پلنگ پر گائو تکےے سے ٹیک لگا کر نیم دراز ٹی وی دیکھ رہا تھا مگر صرف نظریں ہی اسکرین پر تھیں جبکہ ذہن تو کہیں اور ہی بھٹکا پھر رہا تھا۔

’’زینب!‘‘ ٹی وی اسکرین پر دکھائی دیتے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے اس نے زیر لب کہا پھر بے اختیار جھنجھلایا جب سے وہ ٹی وی دیکھنے بیٹھا تھا یہ چوتھا چہرہ تھا جس پر اسے زینب کا گمان ہوا تھا۔

اس نے ٹی وی ہی بند کر دیا پھر چلا لیا وہ اپنا دھیان بٹانا چاہتا تھا مگر پتا نہیں یہاں آتے ہوئے دل پیچھے رہ گیا تھا یا دماغ۔

اسے خود پر غصہ آنے لگا۔دل پیچھے رہ گیا تھا یا دماغ، باتیں دونوں ہی پریشان کن تھیں۔ کیونکہ یہ چکر زینب کے ہاتھوں ہونے والی بے عزتی کا اثر کم کرنے کے لےے ہی تو لگایا گیا تھا۔

پھر وہ سوچ آیا تھا کہ اس بار تو ضرور ہی ماں جی کو زارا کے متعلق بتا آئے گا۔ اتنی اچھی لڑکی کو ہاتھ سے نہ جانے دینا ہی عقل مندی کا تقاضا تھا مگر دل کا کیا تقاضا تھا؟ وہ جب جب سوچتا از سر نو الجھتا۔

لیکن تائی ہاجرہ کے وہ انکشافات جن پر وہ چاہ کر بھی یقین نہیں کر پارہا تھا۔ زینب کی جھگڑالو فطرت سے وہ آگاہ تھا مگر یہ لڑاکا پن صرف اپنی ذات پر پردہ ڈالنے کے لےے اپنایا گیا ہے۔ اسے رتی بھر بھی یقین نہیں آرہا تھا۔

کیا ہی اچھا ہوتا جو اس نے زینب کو مسکراتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا۔ نہ وہ دیکھتا نہ ہی یہ بدبخت دل دغا دیتا۔

وہ نجانے کتنی ہی بار اس لمحے کو کوس چکا تھا۔

’’بھئی۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی اسے روکنے ٹوکن والا ہی نہیں۔ بات تک کرتے تو ڈر لگتا ہے کہ پتا نہیں آگے سے کیا کہہ دے۔ ہم بھی کچھ کہیں تو برے ہی کہلائیں گے۔ ورنہ جانتا تو سارا ہی گائوں ہے کہ زینب کیا کرتی پھر رہی ہے۔‘‘

بہت ہی گھما پھرا کر کرنے کے باوجود بھی بات کا مفہوم اس کی سمجھ میں آہی گیا تھا تب ہی بہت ہی شدید قسم کے ملال نے اسے گھیر لیا اس لےے نہیں کہ تائی نے زینب کے کردار پر بات کی تھی بلکہ اس لےے کیونکہ اس کی فطرت کے اس رنگ کو بہت ہی گھٹیا ڈھنگ سے دیکھا جارہا تھا۔

وہ کانوں کا کچا ہوتا تو شاید فوراً ہی ان کی بات پر ایمان لے آتا مگر اتفاق سے کان وہ کھلے رکھتا تھا اور آنکھیں بھی۔۔۔ جبکہ ایک زندہ سلامت بہت ہی صحت مند دماغ بھی موجود تھا جو سوچنے سمجھنے کا کام بخوبی انجام دے لیتا تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ زینب سے اس موضوع پربات کرنا چاہےے۔

اس روز بات سے بات نکلی تو اس نے زینب کو پڑھائی کا مشورہ دے ڈالا۔

’’اب کہاں پڑھ پائوں گی اتنا عرصہ ہوگیا چھوڑے ہوئے۔‘‘ زینب نے بات گھمائی۔

’’مسئلہ تو ہوگا مگر تھوڑی سی محنت سے ٹھیک ہوجائے گا۔ میٹرک تو کیا ہوا ہے نا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’صرف میٹرک نہیں سر جی! سمجھیں ایف اے بھی کیا ہوا ہے اس نے وہ تو سیکنڈ ایئر کے ایک سبجیکٹ میں سپلی آگئی تھی تو سب چھوڑ چھاڑ کر بیٹھ گئی۔ میں اتنی مرتبہ اس سے کہہ چکی ہوں کہ پھر سے تیاری شروع کر دے مگر یہ سنتی ہی نہیں۔‘‘ ثریا بھی موجود تھی فٹ سے شکایتی انداز میں بولی۔

’’واقعی؟‘‘حسنات نے بے حد متعجب ہو کر اس کی شکل دیکھی۔ اس کا خیال تھا یہ جاہل سی لڑکی۔ زیادہ بھی ہوئی تو پرائمری ہی پاس ہوگی وہ بھی بمشکل۔

’’اس کا تو ذہن بھی اتنا اچھا ہے۔ اسکول میں تو پوزیشن لیا کرتی تھی۔‘‘ ثریا نے مزید معلومات بہم پہنچائی۔ زینب جھینپ کر مسکرائی۔

’’ان دنوں اماں پڑھایا کرتی تھیں نا۔‘‘

حسنات کا دل چاہا اسے بتائے وہ اس لمحے کتنی اچھی، کتنی مختلف لگ رہی ہے یوں معصومیت سے مسکراتی مگر۔۔۔

’’تو کیا ہوا؟ تم دوبارہ سے پڑھائی شروع کردو اگر پھوپھو نہیں پڑھاپائیں گی تو میں پڑھا دیا کروں گا۔ یہ ثریا لوگوں کو بھی تو پڑھاتا ہوں ایک تم بھی سہی۔‘‘

’’اب نہیں پڑھ سکتی۔ خوامخواہ تمہارا وقت بھی ضائع ہوگا اور میرا بھی۔‘‘ ثریا کے بھی اصرار کرنے پر وہ متذبذب سی بولی۔

’’میرا وقت تو چھوڑو تمہارا تو بالکل بھی نہیں ضائع ہوگا۔ ویسے بھی تمہیں سارا دن لوگوںسے جھگڑے ہی تو کرنا ہوتے ہیں دو تین گھنٹے جو پڑھائی میں صرف کرو گی تو جھگڑوں میں ہی کچھ کمی آجائے گی۔‘

پھوپھو کی بیماری کے بعد سے جو بے تکلفی کی ہلکی سی فضا قائم ہوچکی تھی اسی کے تحت ہلکی سی مسکراہٹ کے تحت کہہ ڈالا۔

’’مطلب؟‘‘ زینب نے تیکھی نظروں سے اسے دیکھا جواباً حسنات نے چند لمحے سوچا پھر بولا۔

’’میں کافی دن سے تم سے اس بارے میں بات کرنا چاہ رہا تھا مگر۔۔۔ خیر اب تو موقع مل گیا ہے ناں۔۔۔ تمہیں احساس ہونا چاہےے کہ تمہارے ان جھگڑوئوں کی وجہ سے لوگ تمہارے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ تم تو لڑ جھگڑ کر گھر آجاتی ہو۔ باہر لوگ کیا کیا باتیں کرتے ہیں۔ تمہیں کچھ اندازہ بھی ہے؟ لڑکیوں کا ایک وقار ہوتا ہے زینب! اور مجھے بہت افسوس ہے اس بات کا کہ تمہاری شخصیت میں وہ بات نہیں ہے۔ اچھی لڑکیاں ایسے نہیں کرتیں زینب! جیسے تم کرتی ہو۔‘‘

’’پہلی بات تو یہ کہ میں اچھی لڑکی نہیں ہوں۔ یہی کہتے ہیں نا لوگ میرے بارے میں۔ کہنے دو مجھے پروا نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ تم کس خوشی میں مجھے یہ ساری باتیں بتا رہے ہو۔ میں بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں سب کچھ۔۔۔

جب سے بڑی ہوئی ہوں یہی باتیں تو سنی ہیں۔ تم کتنے دنوں سے سن رہے ہو؟ چار دن کی تعلق داری میں تمہیں مجھے نصیحتیں کرنا یاد آگیا۔ کتنے عرصے سے میں اور میری ماں ایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں تب تو کسی کو خیال نہیں آیا ہم سے اپنائیت جتانے کا۔‘‘

اس کا لہجہ، اس کا انداز۔۔۔ حسنات تو بوکھلا ہی گیا۔

’’دیکھو زینب! میں تو تمہاری بھلائی۔۔۔‘‘

’’کس نے کہا تم سے، میری بھلائی سوچو!‘‘ وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی۔

’’اچھا دماغ خراب تھا میرا جو ایسا سوچا۔‘‘وہ جل کر بولا۔

’’مگر تم اپنے متعلق ضرور سوچو، جو کچھ تم کرتی پھرتی ہو۔ ایسی حرکتیں لڑکیوں کو زیب نہیں دیتیں۔ میں مانتا ہوں تمہیں غصہ زیادہ آتا ہے مگر اس طرح سے غصے کا اظہار کرنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔ یہ تو سوچو لوگوں کی زبانیں نہیں پکڑتی جاسکتیں۔ تمہیں پتا ہے لوگ کس قسم کی باتیں کرتے ہیں تمہارے بارے میں؟‘‘

’’کون لوگ۔۔۔؟ تائی ہاجرہ اور ان کی بیٹیاں؟‘‘ اس نے بے حد سنجیدگی سے طنز کیا تھا۔ ’’مجھے ان لوگوں کی پروا نہیں ہے کیونکہ ان کی میرے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ البتہ تمہیں ان کی پروا ہونی ہی چاہےے نئی نئی رشتہ داری مضبوط بنانے کے لےے ہاں میں ہاں تو ملانا ہی پڑتی ہے۔‘‘

’’تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔‘‘ حسنات نے کہنا چاہا۔

’’پتا نہیں کون کسے غلط سمجھ رہا ہے کون کسے صحیح۔‘‘ وہ بے زاری سے بولی۔

’’میں تو صرف اتنا ہی جانتی ہوں۔ میری ماں کی بیماری میں جو تم نے مدد کی اس کے لےے میں شکر گزار ہوں مگر شکر گزاری کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جب دل چاہے تم میری ذاتی زندگی میں دخل کردو۔ خواہ یہ حرکت اپنے سسرالیوں کو خوش کرنے کی عوض سے ہی کیوں نہ کی جارہی ہو۔ بہتر یہی ہے کہ تم اپنے کام سے کام رکھو۔ تمہیں کیا فرق پڑے گا؟ ویسے بھی اپنے لےے تالیاں سننا کسے برا لگتاہے۔ واپس جائو گے تو خوب واہ واہ سمیٹنے کا موقع مل جائے گا کہ جی رشتہ داروں کا بڑا خیال کیا۔ ان کی بڑی مدد کی۔۔۔ تم تو ہمدردی کے اس کھیل سے جی بہلا کر چلتے بنو گے۔ بھگتنے کو تو ہم ہی رہ جائیں گے نا۔‘‘ یہ آخری جملہ اس نے زیرِ لب بڑبڑاتے ہوئے کہا تھا پھر بھی حسنات نے سن ہی لیا۔

’’تمہاری بد گمانی کو کوئی حد بھی ہے زینب؟‘‘ اسے اتنا برا لگا کہ ڈھنگ سے جملہ بھی مکمل نہ کر سکا۔

’’میں اب تک سوچتا تھا، سب لوگ تمہاری برائی ہی کیوں کرتے ہیں؟ کوئی تمہاری مدد کو آگے کیوں نہیں بڑھتا مگر اب مجھے سمجھ آگئی ہے۔ کسی کا دماغ تھوڑا ہی خراب ہے کہ تم سے ہمدردی جتا کر جواب میں تھپڑ کھانا پڑے اتنا بے وقوف تو میں ہی تھا بس خوامخوا اپنا خلوص تم پر ضائع کرنے چلا آیا۔‘‘

انتہائی طیش بھرے پچھتاوے کی کیفیت میں اس نے سامنے رکھے موڑھے کو ٹھوکر ماری اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا تھا۔

زینب اس کے خلوص کا اتنا گھٹیا مطلب لے گی۔ اسے رتی بھر بھی اندازہ نہیں تھا اگر ہوتا تو بات ہی نہ کرتا اور اگر کرتا تو کم سے کم بات کرنے کے لےے کسی ایسے وقت کا انتخاب کرتا جب اس کے علاوہ کوئی موجود ہی نہ ہوتا۔

وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔ زینب کی باتیں زیادہ بری لگی ہیں یا ثریا کی موجودگی میں اس کے خلوص کا مذاق بنایا جانا زیادہ ناگوار لگ رہا ے۔

باتیں دونوں ہی قابل افسوس تھیں۔

سو وہ جی بھر کر ہی افسردہ ہورہا تھا مگر اس بار پکا فیصلہ کر ڈالا تھا کہ اماں جی کو زارا کے متعلق بتا دینا چاہےے۔ ایک ہلکا سا نرم گوشہ جو پچھلے کچھ دنوں میں بڑی خاموشی سے دل میں جگہ بنا چکا تھا، اس کے خلوص کویوں منہ پر مار دینے کے بعد اس کی گنجائش ہی کہاں رہی تھی۔

٭٭٭

سدرہ آپا کا بڑا بیٹا مستقل ہی اس سے کسی چیز کی فرمائش کےے جارہا تھا حسنات کو ناچار اس کی جانب متوجہ ہونا پڑا مگر اسے شرٹ سے بے نیاز چھوٹی سی نیکر میں ملبوس دیکھ کر اسے بڑی ہی ناگواری ہوئی تھی۔

’’اسے کپڑے تو پہنا دیا کریں آپا!‘‘ اس نے جھنجھلا کر آپا کو مخاطب کیا جو کچھ فاصلے پر بیٹھی فون پر بات کر رہی تھیں۔ جواب میں انہوں نے اسے انتظار کرنے کا اشارہ کیا تھا۔

’’عالی! آپ کپڑے کیوں نہیں پہنتے؟‘‘ ذرا سی جو سہولت اسے ملی تھی تو اسی میں بچے کو سمجھانے کا فیصلہ کر ڈالا۔

’’پہنتا تو ہوں ماموں!‘‘ عالی نے اپنی نیکر کی طرف اشارہ کیا تھا۔

’’نہیں بیٹا! یہ پورے کپڑے نہیں ہیں۔‘‘ حسنات نے اسے گود میں بٹھاتے ہوئے کہا تھا۔ ’’آپ کو پورا ٹرائوزر اور شرٹ پہننی چاہےے جیسے میں نے پہن رکھی ہے۔ دیکھو میں نے آپ کو دیکھا ہے اکثر آپ اسی طرح نظر آرہے ہوتے ہو۔ بیٹا! اس طرح تو شیم شیم ہوجاتی ہے اور اچھے بچے تو اس طرح کبھی نہیں گھومتے۔‘‘

’’کوئی شیم ویم نہیں ہوتی۔ کیا الٹی سیدھی باتیں ڈال رہے ہو بچے کے ذہن میں۔ یہ تو پہلے ہی اتنی مشکل سے شرٹ اتارنے پر راضی ہوتا ہے۔‘‘ ریسیور رکھتے ہوئے آپا نے اسے ٹوکا تھا۔

’’تو ضرورت ہی کیا ہے اس کی شرٹ اتارنے کی؟‘‘ حسنات نے سنجیدگی سے پوچھا تھا۔

’’گرمی کس قدر ہے اور ادھر کا تو اے سی بھی خراب پڑا ہوا ہے۔ اس مرتبہ تو گرمی جانے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔ تمہیں پتا نہیں ہے حسنات! بچوں کو گرمی بہت زیادہ لگتی ہے۔۔۔‘‘ آپا نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا۔

’’بڑی نئی اطلاع ہے اس کے لےے شکریہ مگر آپ کو ذرا بھی اندازہ ہے اتنی عمر میں ان بچوں کو ننگا پھرا کر آپ ان کے اندر سے شرم کو کتنی برح طرح سے ختم کر رہی ہیں۔‘‘

’’تم تو یوں کہہ رہے ہو جیسے میں انہیں گلیوں میں گھماتی پھراتی ہوں۔ گھر میں ہی تو ہوتے ہیں۔ وہ بھی میں صرف ان کے آرام کی غرض سے ایسا کرتی ہوں۔ کہیں باہر جاتے ہوئے تو پورے کپڑے ہی پہناتی ہوں۔‘‘ آپا اپنی غلطی مان کر ہی نہ دے رہی تھیں۔

’’آپا! گھر سے باہر جانے کی تربیت بھی تو گھر کے اندر ہی کی جاتی ہے نا۔‘‘ اس نے رسان سے کہا۔

’’آج چاہے کسی بھی وجہ سے ان کے کپڑے اتار دیتی ہیں اس پر مستزاد یہ کہ انہیں شرم کا احساس بھی نہیں دلاتیں۔ کل کو جب یہ بڑے ہوں گے اور اپنے کپڑے خود اتار کر پھریں گے تب آپ کیا کریں گی؟‘‘

’’حد ہوگئی حسنات! تم نے تو یوں شرم شرم کی رٹ لگائی ہوئی ہے جیسے کوئی لڑکی ہو؟‘‘ آپا نے صاف اس کا مذاق اَڑایا تھا۔ حسنات کو آگ ہی لگ گئی۔

’’کیوں کیا اسلام نے شرم و حیا کی تلقین صرف عورتوں کو کی ہے؟‘‘ اس نے جل کر پوچھا۔

’’قرآن مجید میں سورہ نور اور سورہ احزاب میں مردوں کے لےے بڑے واضح احکامات موجود ہیں۔ اس کے باوجود ہم صرف عورت کی شرم و حیا کی بات کرتے ہیں۔ میں آپ کو بہت ساری مستند احادیث بھی سنا سکتا ہوں جن میں مردوں کو اپنی نظریں نیچے رکھنے اور اپنی حفاظت کی تلقین کی گئی ہے۔ حفاظت سے مراد اب یہ تو نہیں ہوسکتی کہ مرد خود کو عورتوں کی طرح چار دیواری میں رکھیں۔ لیکن اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنا آپ دوسروں کے سامنے نہ لائیں۔ معاشرے کے اخلاقی زوال کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ بچوں خصوصاً مرد بچوںمیں سے شرم و حیا کا کانسپٹ ختم ہوتا جارہا ہے۔‘‘

’’کیا بلا وجہ کی بحث چھیڑ کر بیٹھ گئے ہو حسنات! میرا سر پہلے ہی دَکھ رہا ہے۔ کتنی ساری باتیں ہمیں بھی تو ہمارے بزرگوں نے نہیں سکھائیں مگر بڑے ہونے پر ہم نے خود بخود سیکھ لیں کہ یہ اچھی باتیں ہیں ہمیں اپنا لینا چاہئیں جیسا کہ میرا حجاب اوڑھنا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، تم بھی میرے بچوں کی طرح ہی رہا کرتے تھے مگر اب شرم و حیا کی باتیں کرنے لگے ہو۔ اس سے تو یہی پتا چلا نا کہ ہر بات بچوں کو بچپن سے سمجھائی جانا ضروری نہیں ہوتی۔ تم نے بھی تو کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔ میرے بچے بھی سیکھ لیں گے۔‘‘

آپا نے لاپروائی سے کہا تھا۔

’’ہر بچہ اپنے بڑوں کے سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں ہوتا آپا! میں نے جو باتیں سیکھ لیں، ضروری نہیں وہ بھی سیکھیں کیونکہ میرا۔۔۔‘‘

’’ہاں ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔‘‘ آپا اپنی جگہ سے اٹھیں اور عالی کا ہاتھ پکڑ کر اسے تخت سے نیچے اتارا۔

’’کوئی اور اعتراض رہ گیا ہے تو وہ بھی کرلو۔۔۔ ہوسکتا ہے میں کل کو واپس چلی جائوں۔‘‘ ان کی اتنی سنجیدگی حسنات کو بہت کچھ سمجھا گئی تھی۔

’’آپا! میں تو صرف۔۔۔‘‘

’’جب دیکھو نصیحتیں کرتے رہتے ہو۔ یہاں سے جب گئے تھے تب تو اچھے بھلے تھے۔ اب پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئیں حسنات اپنا سا منہ لے کر رہ گیا، وہ بے چارہ خود اتنا شرمیلا تھا کہ ابھی اس موضوع پر آپا سے کھل کر بھی بات نہیں کر رہا تھا۔ بہت نپے تلے انداز میں اس نے اپنی بات ان تک پہنچائی تھی مگر وہ کچھ سنتیں تب نا۔

’’یار! عورتوں کو قائل کرنا دنیا کا مشکل ترین کام ہے۔‘‘ شجاعت بھیا اندر آتے ہوئے کچھ نہ کچھ سن ہی چکے تھے ۔ ہنستے ہوئے بولے۔

’’لیکن میں غلط بات تو نہیں کر رہا تھا۔‘‘ وہ قدرے بد دلی سے بولا۔

’’غلط بات تو بالکل نہیں کی یار! مگر آج کے انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بڑی پابندی سے اپنے وضع کردہ راستوں پر اپنی مرضی کے اصولوں سے چل رہا ہے۔ اب اگر وہ غلط بھی ہے تو برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی اس پر تنقید کرے یا اسے اس راستے سے ہٹانے کی کوشش کرے خصوصاً اگر اسے قائل کرنے کے لےے قرآن و سنت کا حوالہ دے دیا جائے تو سامنے والا بندہ بالکل ہی بھڑک اٹھتا ہے صرف یہ ثابت کرنے کے لےے کہ ہمیں تم سے زیادہ اسلام کی اصل روح کا علم ہے۔ یہ اپنی سدرہ تو خیر کبھی بھی نہیں ستی۔‘‘

زاشی باہر سے کھانا لگنے کی اطلاع دے رہی تھی تب ہی بات ادھوری چھوڑ کر ان دونوں کوہی اٹھنا پڑا مگر حسنات کے ذہن میں کوئی پن سی گڑی رہ گئی تھی اور اس پن نے تب تک نہیں نکلنا تھا جب تک کہ الجھن سلجھ نہ جاتی۔

٭٭٭

’’سر جی۔۔۔!‘‘ پڑھائی ختم کر کے وہ اٹھنے کے لےے پرتول رہا تھا کہ ثریا نے پکار لیا۔

’’دادا جی کو آپ سے کچھ کام تھا، ابھی تو وہ کسی کام سے نکلے ہیں مگر کہہ گئے تھے کہ آپ ان کا انتظار کر کے جائےے گا۔‘‘

حسنات کو بے زاری تو بہت ہوئی مگر بیٹھنا ہی پڑا مگر دادا جی تھے کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ آخری لڑکی کے جانے سے بھی چند منٹ قبل ثریا چائے لے آئی تھی۔

’’دادا جی کب تک واپس آئیں گے؟‘‘

’’وہ تو ساہیوال گئے ہیں کل ہی واپس آئیں گے؟‘‘

حسنات کے ہاتھ سے کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا۔

’’لیکن آپ نے تو کہا تھا۔‘‘

’’میں نے جھوٹ بولا تھا سر۔۔۔! دراصل مجھے آپ سے زینب کے بارے میں بات کرنا تھی۔‘‘ ثریا جلدی جلدی بولی، مبادا شرافت کے مارے ہوئے ’’سر جی‘‘ سر پر پیر رکھ کربھاگ کھڑے ہوں۔

’’جی فرمائےے۔۔۔ کیا بات کرنا ہے؟‘‘ سر جی کو بات تو کوئی نہ سننی تھی مگر نجانے کیسے منہ سے نکل گیا۔‘‘

’’وہ سر۔۔۔! اس دن۔۔۔‘‘ ثریا نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی۔

’’دراصل سر۔۔۔۔ زینب دل کی بری نہیں ہے۔ بس زبان کی کڑوی ہے۔‘‘ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی بات کس طرح اس تک پہنچائے۔

’’اس روز اس نے جو بھی کہا، مجھے اس پر بہت افسوس ہے۔‘‘

’’آپ کیوں شرمندہ ہورہی ہیں؟‘‘ حسنات کی چوٹ از سر نو تازہ ہورہی تھی پھر بھی بھڑکے بنا سنجیدگی سے کہا۔

’’آپ نے تو کچھ نہیں کہاتھا۔ غلطی دراصل میری ہی ہے۔‘‘

’’نہیں سر جی! آپ کی غلطی نہیں ہے۔‘‘ ثریا نے تیزی سے اس کی بات کاٹی تھی۔

’’پتا کیا بات ہے سر۔۔۔! ساری زندگی خوش حالی او آسانیوں میں بسر کرنے والا انسان، بدحالی اور مشکلات میں زندگی گزارنے والے کو کبھی سمجھ ہی نہیں سکتا۔۔۔ لیکن میں سمجھ سکتی ہوں، اس لےے نہیں کیونکہ میں نے ویسی زندگی گزاری ہے بلکہ اس لےے کیونکہ بدحالی اور مشکلات کی زندگی گزارتے ہوئے میں نے زینب کو دیکھا ہے۔ سو میں سے کوئی ایک ہی ہوتا ہے جو مصائب کی چکی میں پسنے کے بعد بھی میٹھی زبان میں بات کرتا رہے۔ یہاں تو تھوڑی سی مشکل آن پڑے تو لوگ اللہ سے شکوے کرتے اگلی پچھلی ایک کر دیتے ہیں۔ اتنا زہر اگلتے ہیں کہ کیا کسی زہریلے سانپ میں ہوتا ہوگا۔ زینب نے تو پھر بھی بہت چھوڑی عمر سے مصائب دیکھے ہیں سر جی! مگر خدا گواہ ہے کبھی اللہ کو نہیں کوسا کہ تم نے میرے لےے اتنی مشکلات پیدا کردیں۔‘‘

’’آپ یہ سب مجھے کیوں بتارہی ہیں؟‘‘ حسنات نے جل کر کہا۔

’’مجھے ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے اتنی بے عزتی کروانے کے بعد کسی کو دلچسپی ہو بھی کیسے سکتی ہے۔۔۔؟ میں مانتا ہوں، زینب کی زندگی میں مسائل ہیں، مشکلات ہیں مگر یہ سب میری وجہ سے تو نہیں ہوا۔‘‘

میں کیسے مان لوں سر جی کہ آپ کو دلچسپی نہیں۔ میرا اندازہ غلط ہو ہی نہیں سکتا ویسے بھی میرے علاوہ اگر زینب کے لےے کوئی مخلص ہوسکتا ہے تو وہ آپ ہی ہیں۔ خدا میرے اندازے کو درست کر لے، آمین۔)

’’سر جی! وہ اس روز کسی سے جھگڑا کر کے آئی تھی۔ ساری بھڑاس آپ پر نکال دی لیکن یقین کریں آپ کے جانے کے بعد وہ بہت شرمندہ ہوئی تھی۔‘‘

حسنات نے بے یقینی سے ثریا کو دیکھا۔۔۔ زینب اور شرمندہ۔۔۔ ناممکن۔

’’لیکن وہ بہت انا پرست ہے۔ شرمندگی کے باوجود وہ آپ سے معافی نہیں مانگے گی حالانکہ میں نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی۔ سر! مجھے آپ سے صرف ایک گزارش کرنا تھی۔ آپ پلیز اس کے معافی مانگے بنا ہی اسے معاف کر دیں۔‘‘ ثریا نے جھجکتے ہوئے کہا۔

’’تاکہ کل کو پھر کسی چھوٹی سی بات پر وہ سب کے سامنے میری انسلٹ کر دے۔‘‘ حسنات نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا تھا۔

’’میں نے بتایا نا سر! وہ ایسی نہیں تھی۔ وہ جو منہ سے پھول جھڑنے والا محاورہ ہوتا ہے وہ زینب پر بالکل صادق آتا تھا۔ ایمان سے لڑائی جھگڑوں سے دور بھاگنے والی۔۔۔ جب ہم اسکول میں تھے تو وہ واحد لڑکی تھی ہماری کلاس کی جس نے کبھی کسی سے برائی نہیں کی تھی۔۔۔ وہ دل کی بری نہیں ہے سر! بس حالات کی تلخی نے اس کی زبان کو کڑوا کر دیا ہے۔‘‘

وہ بڑے طریقے سے زینب کا مقدمہ لڑ رہی تھی اور دروازے کے باہر کھڑی زینب کو اپنی اکلوتی سہیلی کی محبت پر پیار آیا تھا۔

’’تمہاری زندگی میں پہلے ہی اچھے لوگوں کی بہت کمی ہے زینب اور زیادہ کمی مت کرو۔‘‘ اسے حسنات سے معافی مانگنے کے لےے قائل کرتے ہوئے ثریا نے کہا تھا۔

اسے حسنات کی اچھائی پر شک تھا نہ خلوص پر۔ بس اتنی مدت سے ایک ہی ٹون میں بولتے بولتے زبان کو جو عادت ہوچکی تھی، اسی عادت نے ایک اچھے انسان کو منہ کے بل گرا دیا تھا۔ وہ جس قدر بھی پشیمان ہوتی کم تھا۔

مگر سچ تو یہ ہے کہ اصل دماغ، تائی ہاجرہ اور زارا کی الٹی سیدھی بکواس نے خراب کیا تھا۔ ان کا خیال تھا زینب، حسنات کو پھانس رہی ہے اور زارا کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ زینب نے بھی خوب کھری کھری سنائی تھیں کہ خاموش رہنا مشکل ہوگیا تھا مگر حسنات کے سامنے پتا نہیں کیسے اتنی بکواس کرتی چلی گئی۔ حالانکہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا پھر بھی۔

ثریا کی اماں اسے کھانے کے لےے روک رہی تھیں مگر وہ لسُی کا ڈول اٹھا کر معذرت کرتی باہر نکل آئی۔ گائوں کے چند گنے چنے گھروں میں ایک گھر ثریا کا ہی تھا جہاں وہ بلا جھجک چلی جاتی تھی۔

اس ڈھلتی ہوئی شام کے سائے تلے، جب کائنات رات سے زیادہ پچھُم سے اٹھتے ہوئے بادلوں کی وجہ سے زیادہ سیاہ پڑنے لگی تھی، اپنے گھر کے راستے پر قدم رکھتے ہوئے زینب کو بہت کچھ یاد آیا تھا۔

وہ سارے معاشی مسائل جو ابو کی وفات کے بعد اسے اور اس کی ماں کو سہنے پڑے۔ قریبی رشتہ داروں کی خود غرضی اور مطلب پرستی اور سب سے بڑھ کر گائوں کے نمبردار کا بڑا بیٹا۔۔۔ جس نے اس کاہاتھ تھام کر کہا تھا۔

’’آئو زینب! دوستی کر لیتے ہیں۔‘‘ اور زینب نے گیارہ سال کی عمر میں اس لڑکے کے ہاتھ سے نکلتی ہوئی برقی رو کو اپنے سارے جسم میں دوڑتا محسوس کیا تھا۔ وہ بے تحاشا خوف زدہ ہو کر وہاں سے بھاگ آئی تھی مگر اسے سمجھ نہیں آیا تھا کہ اس وقت اس نے کیا محسوس کیا، وہ اس سے پہلے بھی لڑکوں سے ہاتھ ملا لیا کرتی تھی مگر کبھی اسے ایسا نہیں لگا تھا۔

دوسری بار اسے وہی کیفیت اکبر چچا کے پاس بیٹھ کر محسوس ہوئی تھی۔ اکبر چچا اس کے سگے چچا نہیں تھے۔ وہ اس کے ابو کے دوست تھے اور اکثر گھر آیا کرتے تھے۔ ابو کی وفات کے بعد وہ جب بھی آتے تایا جی کے پاس بیٹھ کر زینب اور کامی کوپیار کرتے اور چلے جاتے۔ پھر ایک روز وہ تایا جی سے اجازت لے کر ان دونوں کو اپنے گھر لے گئے۔ کچھ دیر زینب ان کی بیٹی کے ساتھ کھیلتی رہی جو اس سے عمر میں چند برس چھوٹی تھی پھر اکبر چچا بھی وہاں آگئے اور زینب سے اس کی پڑھائی کے متعلق پوچھتے رہے۔ پھر بات کرتے کرتے انہوں نے ہاتھ بڑھا کر زینب کو اپنی گود میں بٹھا لیا تھا۔ زینب ساڑھے بارہ برس کی ہوچکی تھی۔ بے شک اس کا ذہن کسی معصوم اور چھوٹی بچی کی طرح ہی تھا مگر وہ اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ اسے گود میں بٹھایا جاتا۔ چچا کا ہاتھ اس کی کمر کے گرد تھا اور وہ اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں پوچھ رہے تھے لیکن زینب سے بولا نہیں جارہا تھا۔ وہ اس وقت کیا محسوس کر رہی تھی اگر اس سے پوچھا جاتا تو یقینا وہ جواب نہ دے پاتی بس اسے کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا یہاں سے بھاگ جائے مگر جیسے کسی خوف نے اس کی گویائی سلب کر لی تھی۔

’’مجھے گھر جانا ہے۔‘‘

وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ چچا اکبر نے بغور اس کی جانب دیکھا پھر بڑے عجیب سے انداز سے مسکرائے۔

’’ٹھیک ہے۔ میں تمہیں گھر چھوڑ آتا ہوں مگر کل کو پھر تمہیں ثنائ کے ساتھ کھیلنے کے لےے آنا ہوگا۔‘‘ بڑی محبت سے اس کا گال تھپتھپاتے ہوئے انہوں نے اسے تاکید کی تھی۔ زینب نے جلدی سے اثبات میں سر ہلا دیا مگر اس کے بعد وہ دوبارہ کبھی چچا اکبر کے گھر نہیں گئی۔ اس کے باوجود اس کے ناگوار تجربات میں اضافہ ہوتا چلا گیا تھا۔

پہلے نمبردار کا بیٹا، پھر چچا اکبر پھر اسکول وین کا ڈرائیور جو بڑی چالاکی سے ہمیشہ اسے اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھاتا تھا پھر بہانے بہانے سے اس کے ہاتھ تو کبھی ٹانگ کو چھوتا رہتا تھا اور پھر وہ دکان دار، جس کی دکان پر تائی ہاجرہ اسے بھری دوپہر میں سودا سلف لینے بھیج دیا کرتی تھیں اور وہ ماسٹر جی جن کے پاس وہ کچھ عرصہ ٹیوشن پڑھتی رہی تھی۔

اس روز بہت ڈرتے ڈرتے اس نے ثریا سے پوچھ لیا تھا۔

’’نہیں ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ سر نے مجھے اپنے پاس بٹھایا ہو بلکہ میں تو کبھی کام چیک کروانے کے لےے ان کے پاس جا کر کھڑی ہوجائوں تو ڈانٹ دیتے ہیں کہ سر پر کیوں چڑھی جارہی ہو۔۔۔ ویسے تم کیوں پوچھ رہی ہو؟ وہ تمہیں اپنے پاس بٹھاتے ہیں؟‘‘

معصومیت کا دور تھا سو سوال کی تہہ میں پہنچے بنا داغ دیا جاتا۔ زینب ہونٹ دانتوں سے کچلتی رہی پھر اس نے ڈرتے ڈرتے ثریا سے کچھ اور باتیں پوچھی تھیں جواباً ثریا کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔

’’کوئی مجھے ہاتھ لگائے تو اس کے ہاتھ نہ توڑ دوں ویسے بھی کوئی اتنی ہمت کرے گا ہی کیوں۔۔۔؟ سب کو پتا ہے میرے ابا اور بھائی ان کی طبیعت ٹھیک کر کے رکھ دیں گے۔‘‘

ثریا، زینب کے جتنی لا علم نہیں تھی تب ہی اسے چپکے چپکے کئی باتیں سمجھاتی چلی گئی۔ لیکن اس کی ابا اور بھائی والی بات زینب کے دل میں انی کی طرح گڑ گئی تھی۔

’’تو گویا سب اس کے ساتھ ایسا اس لےے کرتے ہیں کیونکہ نہ اس کے ابا ہیں نہ بھائی اس قابل کہ ان کی طبیعت صاف کر سکیں۔‘‘

بے سائبانی کا اتنا شدید احساس پہلے کبھی بھی نہیں ہوا تھا جتنا تب ہوا۔ چار روز تک بخار میں پھنکنے کے بعد وہ ٹیوشن گئی تو ماسٹر جی نے سب بچوں کو رخصت کر کے اسے روک لیا۔ بسکٹ، پھل اور وہ سب چیزیں جو اتنی عمر کے شکار کو پھانسنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے منگوا رکھی تھیں مگر زینب میں اتنی ہمت جانے کہاں سے آگئی تھی کہ اس نے جوس کا گلاس ان کے منہ پر دے مارا، ان کا چہرا کھسوٹ لیا اور گالیاں بکتی وہاں سے بھاگ آئی۔

گائوں میں کہرام مچا۔ زینب نے ماسٹر جی سے بدتمیزی کی تھی۔ شکایت گھر تک آئی مگر تب تک زینب پتھر کی ہوچکی تھی۔ اسے سمجھ آگئی تھی دنیا میں اس کی ماں اور بھائی سے زیادہ کوئی قابل بھروسہ نہیں اور اسے اپنی حفاظت خود کرنا ہے، خواہ کیسے بھی۔ اس نے شکایت لے کر آنے والوں کو بھی گالیاں بکیں۔ اماں کی ڈانٹ ڈپٹ، تائی ہاجرہ کی مار کی رتُی بھر بھی پروا نہ تھی۔

ایک نئی زینب پیدا ہوچکی تھی۔

جس کی زبان سن کر شروع شروع میں سب حیران ہوئے اور پھر خار کھانے لگے یہ روش اپناکر بلا شبہ اس کے مسائل حل ہوئے مگر مشکلات بڑھی بھی تھیں۔ اس کی دوستیاں ختم ہونے لگی تھیں، اس کی زبان کی وجہ سے لوگ اپنی بچیوں کو اس کے قریب جانے نہیں دیتے تھے۔ وہ رفتہ رفتہ تنہا ہونے لگی تھی مگر یہ سودا مہنگا نہیں تھا۔ اپنی عزت گنوا کر دوستیاں حاصل کرنے سے بہتر تھا۔ وہ تنہا رہتی حد سے بڑھا ہوا خوف کبھی کبھی بہت بہادر بنا دیتا ہے مگر اس کی شخصیت کا یہ اختیاری رخ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مستحکم ہوتا چلا گیا تھا۔ پہلے وہ ہر شخص کو جان بوجھ کر شک کی نظر سے دیکھتی تھی پھر ہر شخص ہی اسے برا لگنے لگا لیکن یہاں سے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مردوں سے خار کھاتی رہی تھی۔ اب عورتیں اس سے خار کھانے لگیں۔ اس روز اس نے پروین کو کہتے سنا۔

’’شکر ہے میں نے تو اسے کبھی اپنے گھر گھسنے نہیں دیا۔ تم بھی کچھ خیال کرو شازیہ بہن! یہ مرد بدبخت تو اچھی شکلوں کے جھانسے میں بہت جلدی آجاتے ہیں۔‘‘

’’مرد اچھی شکلوں کے جھانسے میں آتے ہیں۔ زینب کوئی پاگل تھوڑا ہی ہے۔ دیکھ لینا لمبا ہاتھ مارے گی۔۔ ویسے بھی اسے اپنی اچھی شکل کا بڑا غرور ہے۔‘‘ یہ جانے کون تھی۔

’’ہاں تو ٹھیک ہے نا آپا! ذرا سی اچھی شکل ہو تو لڑکیاں اتراتے نہیں تھکتیں۔ زینب تو پھر بہت خوب صورت ہے میں تو کہتی ہوں اتنا غرور اس کا حق ہے۔‘‘ وہ آواز پہچان گئی تھی یہ شازیہ ہی تھی۔

زینب کا دل چاہا، خوب ہی قہقہے لگائے لوگ کتنی سرعت سے اندازے لگا لیتے ہیں۔ اسے اپنی شکل سے کتنی اکتاہٹ تھی، کوئی اس سے پوچھتا۔ یہ شکل ہی تو اس کی جان کی دشمن بن گئی تھی یا شاید اس کا عورت ہونا اس کا سب سے بڑا منفی پہلو تھا۔ ہوسکتا ہے وہ مرد ہوتی تو مسائل اتنے نہ ہوتے۔

شکل و صورت کی حیثیت ہی کیا ہے۔ یوں بھی ہوس کبھی حسن پرست نہیں ہوتی۔

زینب غفار نے آج چند منٹوں میں اپنی زندگی سوچ لی تھی اور دل اتنا بوجھل ہوچکا تھا کہ بس حد نہیں۔ انسان ہوتا کیا ہے۔ دنیا والے اسے کیا بنا دیتے ہیں۔ زینب کو آج پھر اپنی زندگی کے اس سیٹ اٰپ پر افسوس ہوا تھا مگر آج وہ خود پر ترس نہیں کھا رہی تھی اسے خود پر غصہ آرہا تھا کہ بہرحال اس نے اپنے تعصب کی وجہ سے ایک اچھے انسان کا دل دکھادیا تھا۔

آسمان سے بوندیں برسنا شروع ہوچکی تھیں۔ وہ خاموشی سے گھر میں داخل ہوئی اور دروازہ بند کر دیا جبکہ اسے گھر میں داخل ہوتا دیکھ کر حسنات گلی کے کنارے سے واپس مڑ گیا تھا۔

٭٭٭

یہ بارش اپنی جھولی میں سردی سمیٹ لائی تھی۔

بلال اور باسط نے فیکٹری اور کالج سے اس غیر متوقع چھٹی کی خوشی میں باغ کی سیر کا پلان بنالیا۔ اب یہ تو پتا نہیں کہ ان کی خوشی زیادہ تھی یا تائی ہاجرہ کا اصرار جو حسنات کی جانب سے اب مستقل ہی مایوسی کا شکار ہوئے جارہی تھیں۔ مہمان داری کی مد میں اٹھنے والے اخراجات تو جو تھے سو تھے۔ اسلام آباد تک ہفتے میں ایک بار کی جانے والی ٹیلی فون کالز کا کھاتہ الگ سے تیار پڑا تھا جو حسنات کی اماں سے تعلقات ہموار کرنے کی غرض سے بڑی باقاعدگی سے کی جارہی تھیں۔

چلو اخراجات کی بھی خیر ہے کہ بیٹی کے اچھے مستقبل کے لےے کیا نہیں کرنا پڑتا مگر یہ کوششیں بار آور ہوتی بھی تو دکھائی دیں۔ حسنات اور اس کی ماں نے تو اب تک ہلکا سا اشارہ بھی نہیں دیا تھا۔ بس ایک ہی خدشہ تھا کہیں زینب بدبخت کا ٹوکن نہ لگ جائے۔ ایک تو یہ کہ اس سے خون کا رشتہ تھا، دوسرا چڑیل کی شکل و صورت بھی اچھی خاصی تھی اس لےے خطرہ کچھ ایسا بے جا بھی نہ تھا مگر اپنی طرف سے وہ ہر کوشش ہی کر چکی تھیں جن میں سب سے اہم جہیز کی شکل میں دےے جانے والے وہ اسباب تھے جن کا ذکر وہ باتوں ہی باتوں میں اتنی تفصیل سے کھینچ چکی تھیں کہ انہیں یقین تھا حسنات کی اماں، زارا کے علاوہ کسی اور کو اپنی بہو چن ہی نہیں سکتیں تب ہی اپنی ہر طرح کی مایوسی کے باوجود انہوں نے زارا کو ایسی چالاکو اور گھنی ساس سے نمٹنے کی تربیت دینا شروع کر دی تھی دوسری جانب زارا صاحبہ کو ایساکوئی خدشہ لاحق نہ تھا بلکہ وہ تو دل کھول کر ان کے خدشات پر ہنسا کرتی تھی۔

اسے یقین تھا وہ معدے کے راستے سے ہوتی ہوئی حسنات کے دل تک پہنچ چکی ہے۔ جبکہ تائی ہاجرہ بھی زارا کے جتنی خوش گمان ہوتیں تو شاید اطمینان سے ہوجاتیں مگر مسئلہ تو یہی تھا کہ انہیں زارا کی کارکردگی پر کچھ خاص بھروسا نہ تھا تبھی تو خود یوں ہلکان ہوتی پھر رہی تھیں لہٰذا آج کی سیر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار پائی تھی۔

لیکن عین وقت پر بلال کے دوستوں نے سارا پلان برباد کر دیا۔ وہ لوگ پہلے سے ہی اس واحد پکنک اسپاٹ پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے اور صرف اطلاع دینے آگئے تھے تائی ہاجرہ خوب ہی بھڑکیں مگر اب کیا ہوسکتا تھا اقلیت حکمران بھی ہو تو اکثریت کے معاملے میں دب جاتی ہے۔ لہٰذا خواتین کو گھر پر قیام کرنا پڑا جبکہ لڑکوں کے مزے ہوگئے۔

باسط اپنے دوستوں کو بھی بلا لایا۔ پہلے تو باغ کے پاس والے اس خالی میدان میں کیچڑ میں لت پت ہوتے ہوئے ایک زبردست سا فٹ بال میچ ہوا اس کے بعد سب لوگ دو ٹولیوں میں تبدیل ہو کر اپنے اپنے راستوں کو ہولےے۔ ایک باسط کے دوستوں کی ٹولی تھی جبکہ دوسری بلال کے دوستوں کی، حسنات بھی ان ہی کے ہمراہ تھا مگر برا کیا اس نے جو بوریت سے بچنے کی غرض سے ان کے ساتھ ہولیا۔ بات خدا جانے کہاں سے شروع ہوئی تھی لیکن رکی اس پر آکر تھی۔

’’اب یہ حسنات کو ہی دیکھ لو۔ غم غلط کرنے ہی سہی مگر ایک بڑے شہر سے چھوٹے شہر میں آیا تو ہے۔۔۔‘‘ حسنات باسکٹ سے کوک اوپنر نکال کر ادھر آیا تو نبیل کہہ رہا تھا۔

’’ایک منٹ، ایک منٹ۔۔۔‘‘ حسنات نے تعجب سے ایک ایک کی شکل دیکھی۔

’’میرا یہاں کیا ذکر۔۔۔ اور کون سا غم؟‘‘

’’کچھ نہیں یار!‘‘ بلال نے فوراً دخل دیا۔

’’ہم لوگ بات کر رہے تھے کہ آج کل ہر دوسرا شخص ملک سے باہر جا کر کمانے کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہے؟ عارف کا خیال ہے کیونکہ آج کا انسان جلد از جلد ترقی کرنا اور پیسہ کمانا چاہتا ہے اور یہ دونوں مواقع ملک سے باہر جا کر ہی مل سکتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے چھوٹے شہروں کے رہائشی بڑے شہروں میں جانا چاہتے ہیں کیونکہ بڑے شہروں میں آگے بڑھنے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں۔‘‘

’’تو حسنات کیا پاگل ہے جو یہاں آگیا؟‘‘ قیصر نے لقمہ دیا۔

’’نہیں پاگل تو نہیں ہے لیکن جب چوٹ لگتی ہے تو انسان سکون کے لےے چھوٹے شہروں کی طرف بھاگتا ہے جہاں کچھ اور ہو یا نہ ہو سکون ضرور ہوتا ہے‘‘ عارف نے کہا۔

’’کون سی چوٹ؟‘‘ حسنات جھنجھلایا جواباً ایک معنی خیز قہقہہ گونجا تھا۔

’’چلو، چلو ہمیں سب خبر ہے۔‘‘ وہ ہنسا ’’تمہاری شکل اور حلیہ چاہے مجنوں جیسا نہ ہو مگر حرکات بالکل ویسی ہی ہیں ورنہ واقعی کیا تم پاگل ہو جو یہاں آگئے؟‘‘

’’اور کیا؟‘‘ عارف نے بھی زور دیاتھا۔ ’’چلو چھوڑو یار! جو گزر گیا سو گزر گیا زندگی رہی تو تمہیں اس سے کہیں زیادہ اچھی لڑکی مل جائے گی۔‘‘ انہوں نے شرارت بھرے لہجے میں تسلی دی۔ حسنات کو ہنسی آگئی۔

’’میں کچھ بھی کہوں یقین تو آپ لوگ نہیں کریں گے کیونکہ اس متعلق آپ لوگ پہلے ہی اپنی طرف سے کافی کچھ سوچ چکے ہیں۔ اس لےے کچھ بھی کہنے کاکوئی فائدہ نہیں۔‘‘ وہ کوک کھول کر اٹھ کھڑا ہوا۔

’’کدھر؟‘‘ بلال نے پوچھا۔

’’تم لوگ باتیں کرو، میں اس طرف ہوں۔‘‘ اس نے ایک طرف اشارہ کیا تھا۔

’’او بھائی! جو ملا نہیں اس کی یاد میں آنسو بہانے سے کیا فائدہ؟‘‘ اسے اپنے پیچھے جناتی قہقہے سنائی دےے تھے۔

اس کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی مگر وہ رکا نہیں۔ اسے انہیں قائل نہیں کرنا تھا۔ اچھا ہی تھا جو وہ لوگ اس کے بارے میں اندازے لگائے بیٹھے تھے ورنہ وہ انہیں کس طرح بتاتا کہ اس نے اپنا گھر، اپنا شہر کسی لڑکی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے ابا کی وجہ سے چھوڑا تھا۔

٭٭٭

حسنات علی کو اپنے ابا کبھی اچھے نہیں لگے۔

یا شاید اچھا یا برا لگنا تو بہت ہی معمولی باتیں ہیں۔ در حقیقت تو وہ ان سے نفرت کرتا تھا۔ سننے میں عجیب لگتا ہے نا مگر صرف عجیب لگنے کی وجہ سے حقائق بدلے تو نہیں جاسکتے۔

گوکہ حسنات نے کبھی خود سے بھی اس حقیقت کا اعتراف نہیں کیا تھا کیونکہ یہ اعتراف بھی بہرحال اس کے لےے باعثِ تکلیف ہوتا لیکن وہ یہ مانتا تھا کہ اس کے دل میں ان کے لےے رتی بھر بھی احترام نہیں ہے۔

’’کیوں؟ میں اپنے ابو کا احترام کیوں نہیں کر سکتا؟‘‘

درختوں کے سائے سائے نم روش پر چلتے ہوئے اچانک رک کر اس نے خود سے سوال کیا تھا اور الجھا تھا۔

وہ روش کے کنارے گھاس پر بچھی چٹائی پر چت لیٹ گیا۔ درختوں کے پتوں سے جھانکتا آسمان بادلوں کی قید سے آزاد ہونے لگا تھا اور قمریوں کے غول اڑتے دکھائی دے رہے تھے۔

اس نے سر کے نیچے ہتھیلیوں کا تکیہ رکھا اور اپنی گزری ہوئی زندگی کے اوراق میں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ حصے پڑھنے لگا جو اس کے خیال میں اس کی ابو سے دوری کا سبب بنے تھے۔

گو اپنی محبت و اپنائیت کا احساس تو ابو نے اسے تو کیا اپنی کسی اولاد کو بھی نہیں دیا۔ وہ اپنے دور کے اچھے خاصے وجیہہ لوگوں میں شمار ہوتے تھے۔ صاحبِ حیثیت بھی یوں تھے کہ دادا کے ترکے میں چھوڑی ہوئی زمینوں کی آمدنی اچھی خاصی تھی۔ اس کے علاوہ وہ خود ریلوے میں بڑی اچھی پوسٹ پر فائز تھے مگر ان سب باتوں کے باوجود اس نے اماں جی کو ہمیشہ ہی گھر کے اخراجات کے لےے پریشان اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہی پایا تھا۔

جبکہ ابو کے انداز میں ہمیشہ ہی ایک سرد مہری اور لا تعلقی جھلکتی تھی۔ حسنات کو ان پر بے حد و بے حساب غصہ آتا اس کا دل چاہتا تھا وہ جلد از جلد اتنا بڑا ہوجائے کہ اماں جی کو بہت ڈھیر سارے روپے کما کر دینے لگے۔

یہ تو حسنات کو بہت بعد میں پتا چلا کہ اماں جی کی آنکھوں میں چھایا رہنے والا ہراس اس صرف مالی حالات کی ناگفتہ بہ صورت حال کے مرہونِ منت نہیں بلکہ اس پریشانی اور خوف کی اصل وجہ ابا کی وہ بیماری تھی جسے حسنات علی نے کبھی بیماری تسلیم کیا ہی نہیں۔

اپنے ابا کے متعلق انہیں کڑوے سچ کو اسے ساری زندگی خاموشی سے سہنا تھا کہ اس کے ابا کم عمر بچیوں کو ہراساں کر کے کوئی تسکین محسوس کرتے ہیں۔

پہلی بار جب اس نے یہ بات محسوس کی تو گو کہ وہ پہلی بار نہ تھا اس سے پہلے بھی وہ کئی بار کھٹک چکا تھا لیکن الفاظ کے ہیر پھیر سے کوسوں دور تھا۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم جو محسوس کرتے ہیں۔ اسے الفاظ میں نہیں ڈھال پاتے۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت کچھ واضح ہوتا چلا گیا اور سچ تو یہ ہے کہ اس وضاحت کے ساتھ ساتھ اس کی ذہنی الجھنوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس روز ابا کام والی ماسی کی آٹھ سال کی بیٹی کو اپنے پاس بٹھائے آم کھلا رہے تھے مگر ان کا ہاتھ جس انداز سے اس بچی کی کمر اور گردن پر حرکت کر رہا تھا، اسے دیکھ کر حسنات کا خون کھول اٹھا۔ گو کہ وہ ہاتھ اس کا تھا نہ ہی وہ جسم لیکن حسنات نے اس بچی کی الجھن اور خوف کو بڑی شدت سے محسوس کیا تھا اور گو کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا۔ ابا کی اس بظاہر معمولی سی حرکت کو وہ پہلے بھی کئی بار دیکھ چکا تھا، کبھی زاشی کی کوئی سہیلی تو یا کبھی کبھار آنے والی کوئی رشتہ دار بچی۔

اس نے نگو کو بہانے سے وہاں سے اٹھا دیا مگر اس روز اس نے محض ابا کی نفسیات کے اس پہلو تک رسائی حاصل کرنے کے لےے اس نے خود بھی کوئی ایسا ہی تجربہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ نہیں کر پایا اس کا سارا جسم کانپنے لگا تھا اور ڈر کر گھر بھاگ آیا تھا۔

قاری صاحب کہا کرتے تھے جب انسان انجانے میں بھی کوئی غلط کام کرنے لگتا ہے نا تو اس کا ضمیر اسے روکنا شروع کر دیتا ہے اور انسان آٹومیٹکلی یہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ کام غلط ہے۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ پتا چل جانے کے باوجود بھی وہ اس غلط کام کو انجان دیتا ہے یا نہیں۔

اس واقعے کے بعد ابا سے اس کی ظاہری لا تعلقی میں اضافہ ہوا تھا۔

وقت گزرتا رہا اور الجھنوں میں اضافہ کرتا رہا۔

شجاعت بھائی نے ایک روز دبے لفظوں میں کہا تھا۔ ’’ابا نفسیاتی مریض ہیں۔‘‘ حسنات چن چن کر نفسیات کی کتابیں پڑھنے لگا۔ بس کہیں سے کوئی کنجی مل جائے پتا چل جائے کہ ان کی ان حرکتوں کی اصل وجہ کیا ہے؟

’’بچپن میں جو گیپ رہ جائے یا زندگی میں جو نا آسودگی اس حد تک حائل رہے کہ انسان کوشش کے باوجود بھی satisfaction حاصل نہ کرپارہا ہوتو پھر اطمینان خوشی یا آسودگی حاصل کرنے کے لےے ایسا راستہ اختیار کر لیتا ہے جس سے اسے خود تو قلبی و جسمانی خوشی حاصل ہوتی ہے مگر دیکھنے والوں کو وہ کام غلط لگ رہے ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے تمہارے دوست کے ابا کا یہی مسئلہ ہو۔‘‘

عارج نفسیات کا اسٹوڈنٹ تھا اس روز کالج میں حسنات نے گھما پھرا کر پوچھا تھا جس کے جواب میں اس نے یہ کہا تھا۔

’’اس کا کوئی حل بھی تو ہوگا؟‘‘ حسنات نے کہا۔

’’ہاں ہے نا کائونسلنگ (counselling)۔‘‘ عارج نے ترنت جواب دیا۔

’’جانتے ہو نفسیات میں بگاڑ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دن بدن جنریشن گیپ بڑھ رہا ہے۔ آج کل کے پیرنٹس کے پاس بچوں سے بات کرنے کا وقت ہی نہیں ہے۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر مادھوری ڈکشٹ کے ٹھمکے انجوائے کرلیں گے۔ مگر یہ نہیں کہیں گے بیٹا! اپنے ذہن کو گندے خیالات سے بچائو کیونکہ اننہیں شرم آجاتی ہے کہ جی اس قسم کے موضوعات بچوں سے کیسے ڈسکس کریں اولاد اور ماں باپ کے درمیان جھجک کا رشتہ قائم رہنا چاہےے وغیرہ وغیرہ۔ اگر تم غور کرو تو بلوغت کی عمر کی طرف بڑھتے ہوئے لڑکوں کی آنکھوں میں ایک مخصوص سی چمک اور بے باکی سی آجاتی ہے وہ ہر کسی خصوصاً صنفِ مخالف کی طرف اسی طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے ایکسرے کر رہے ہیں۔

یہی وہ صحیح عمر ہوتی ہے جب بچوں کو کائونسلنگ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں بتانا پڑتا ہے کہ بیٹا! دیکھنے کا یہ انداز غلط ہے۔۔۔ نفسیات کہتی ہے۔۔۔‘‘

’’گولی مارو نفسیات کو۔۔۔ اس کے متعلق تو بڑے ہی واضح احکامات قرآنِ مجید میں بھی موجود ہیں۔‘‘ حافظ ارشد جو ان سے کچھ فاصلے پر نوٹس میں سر دےے بیٹھا تھا ایک دم سے بولا۔

’’اچھا جی۔۔۔ تو مولوی صاحب! ذرا وضاحت بھی فرما دیجےے۔‘‘ عارج نے مسکرا کر کہا تھا۔ ارشد کھسک کر ان کے قریب آگیا۔

’’دیکھو یار! مجھے بھی کچھ زیادہ تو علم نہیں ہے مگر میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ اسلام میں عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں کے لےے بھی بڑے واضح احکامات موجود ہیں خصوصاً سورۃ نور اور سورہ احزاب میں۔ یہ ساری باتیں بہت تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ آج کے مسلمان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسلمان ہو کر سمجھتا ہے بس وہ مومن بھی ہوگیا حالانکہ ایسابالکل نہیں ہے۔

سورہ نور کی آیت نمبر ۳۰ میں سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔

’’یعنی مسلمان مردوں سے کہو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔‘‘ کیونکہ بگاڑ ان آنکھوں سے ہی تو شروع ہوتا ہے۔ ایک بات طے شدہ ہے کہ صنف مخالف کی طرف دل کھنچتا ہی کھنچتا ہے اور یہ کوئی اتنی اٰن نیچرل بات نہیں کیونکہ عورت کو خدا نے مرد کی پسلی سے پیدا کیا ہے اور انسانی وجود لاشعوری طور پر اپنے اسی گمشدہ حصے کی تلاش میں ہوتا ہے۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ انسان پاگلوں کی طرح اسی تلاش میں سرگرداں ہوجائے۔ ایک جذبہ جو بالکل نیچرل ہوتا ہے اسے شیطان کے وسوسوں نے کسی حد تک اٰن نیچرل کر دیا ہے اب یہ تو ہماری ذمہ داری ہے نا کہ ہم اپنی آنکھوں اور نفس کی حفاظت کریں۔‘‘

’’کمال ہے یار! تم نے تو سارا ملبہ ہم پر ہی ڈال دیا ہے‘‘ یہ طارق تھا جو پتا نہیں کب ان کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

’’حالانکہ زیادہ غلطی اس میں عورتوں کی ہے جب وہ اتنا سج بن کر ہمارے سامنے آئیں گی تو کس بدبخت کو اپنی آنکھوں پر کنٹرول رہے گا؟‘‘ ایک قہقہہ ابھرا تھا۔

’’میں مانتا ہوں عورتیں بھی غلطی پر ہیں ہمارے معاشرے سے جس تیزی سے حجاب کا رجحان گھٹ رہا ہے، وہ بلا شبہ قابلِ گرفت ہے۔ پردے کے احکامات جب جاری کےے گئے ہوں گے تو ظاہر ہے اس کی مصلحت یہی ہو گی کہ معاشرے میں بگاڑ پیدا نہ ہو۔ قیامت کے روز ہم سے ہمارے بارے میں سوال کیا جائے گا نہ کہ ان عورتوں کے بارے میں جن کے سجنے سنورنے کی تم بات کر رہے ہو۔‘‘

’’اب تو اتنی بے پردگی ہوگئی ہے یار! انسان کب تک اپنی نظریں جھکا کر پھرے۔ بندہ بشر ہیں، غلطی سے بھی نظر پڑ سکتی ہے۔‘‘ حمید کو فکر ہوئی۔

’’غلطی سے پڑنے والی نظر کی پکڑ نہیں ہے نہ ہی قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا لیکن اس کے بعد دوسری نظر شیطان کی ہوتی ہے۔‘‘

’’کہاں کی سنا رہے ہیں حافظ صاحب! بہت زیادہ نہ سہی مگر کچھ نہ کچھ تو ہمیں بھی مذہب کی خبر ہے اور میں اچھی طرح جانتا ہوں اسلام میں اتنی سختی نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔۔۔ اچھی خاصی گنجائش ہے۔‘‘

’’واقعی اسلام میں سختی نہیں ہے دنیا کے تمام مذاہب میں سے سب سے زیادہ سہل دین اسلام ہے۔ لیکن اسلام کی دی ہوئی گنجائش کو ہم سب نے اپنے اپنے مطالب میں ڈھال لیا ہے جہاں ہم کو خود پر جبر کرنا پڑتا ہے ہم بلبلا اٹھتے ہیں کہ جی اسلام میں یہ ہے اور وہ نہیں۔۔۔ وہ ہے اور یہ نہیں۔ سورۃ احزاب کی آیت نمبر ۳۵ میں اپنے نفس کی نگہبانی کرنے والے مردوں اور اپنے نفس کی نگہبانی کرنے والی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے وسیع مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت دی ہے۔ سبحان اللہ کیا اس کے بعد بھی کسی چیز کی گنجائش رہ جاتی ہے۔‘‘

’’واقعی نظریں جھکا کر رکھنا بھی تو اپنے نفس کی حفاظت کر نا ہی ہے۔‘‘ حسنات نے کہا۔

’’اچھا یارو! میری تو کلاس شروع ہونے والی ہے۔ میں چلتا ہوں ویسے بھی مجھے خطرہ پڑ گیا ہے کہیں مسلمان نہ ہوجائوں۔‘‘ طارق شرافت سے کہتا چل دیا۔ ان سب کے چہروں پر واضح مسکراہٹیں ابھری تھیں۔

’’معاف کرنا یار! ادھر بیٹھا میں تم لوگوں کی ساری باتیں سن چکا ہوں۔‘‘ ارشد نے قدرے شرم ساری سے کہا۔ ’’مذہب سے دوری بہت بڑے بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے تم اپنے جس دوست کے والد کا ذکر کر رہے ہو ان کا یہی مسئلہ ہے اور عارج نے یہ بالکل ٹھیک کہا کہ انہیں کائونسلنگ کی ضرورت ہے اب یہ کائونسلنگ کوئی کائونسلر بھی کر سکتا ہے او رکوئی مدرس بھی۔۔۔ لیکن اگر تمہارا دوست سارے مسائل سے آگاہ ہے تو اس سے کہو، وہ خود ہی بات کرے۔‘‘

’’نا ممکن۔۔۔‘‘ حسنات نے مایوسی سے کہا۔ ’’انسان کتنا بھی عقل مند کیوں نہ ہو وہ اپنے سے بڑے عمر کے انسان کی بات تو سن لے گا اور اس پر غور بھی کرے گا لیکن چھوٹے کی بات کو کسی قیمت پر اہمیت نہیں دے گا۔‘‘

’’کوشش تو ضرور کرنا چاہےے۔ حضرت ابو سعید خدری (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر اس بات کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے روک دے اور اگر یہ بھی نہ کر سکے تو اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کی کمزور ترین علامت ہے۔‘‘ اس حدیث کو ضرور اپنے دوست کو سنانا تاکہ کوشش نہ کر کے اسے ضمیر کی ملامت نہ سہنا پڑے۔ کوشش کامیاب ہو یا نہیں یہ تو اللہ کی مرضی۔۔۔ مگر وہ تو اپنی ذمہ داری پوری کرلے۔‘‘

بات حسنات کی سمجھ میں آگئی تھی تب ہی اس نے بڑی ہمت کر کے ابا سے بات کی۔ ابُا کا ایک ہی تھپڑ اسے خاموش کروا گیا تھا۔

بیس سال کی عمر میں حسنات علی اپنے کمرے میں بند ہو کر خوب رویا۔ اپنے ابا کی اس بے حِسی پر یا اس تھپڑ پر؟ شجاعت بھیا اسے سمجھانے آئے تھے۔

’’ابو نفسیاتی مریض نہیں ہیں شجاعت بھائی! وہ گناہ گار بھی ہیں اور مجرم بھی۔ اور یہ نفسیاتی مریض کیا ہوتا ہے؟ میں ایسی کسی چیز کو سرے سے مانتا ہی نہیں ہوں، دراصل جب ہمیں اپنے کسی قریبی عزیز کو بہت بڑی بے عزت سے بچانا ہوتا ہے تو ہم اسے نفسیاتی مریض کہہ کر اس کی حرکتوں سے چشم پوشی اختیار کر لیتے ہیں۔‘‘

’’مجھے تو تم خود بھی سائیکک لگنے لگے ہو۔ اس طرح جلنے کڑھنے سے بھی مسائل حل نہیں ہوتے۔ اس طرح سے تو تم بس اپنی زندگی ہی مشکل بنا رہے ہو۔‘‘ وہ بے زاری سے کہتے باہر نکل گئے۔

حسنات نے سوچا واقعی اسے اپنے زندگی جینا چاہےے۔

اپنی طرف سے اس نے یہ چیپٹر ہمیشہ کے لےے بند کر دیا۔ اب اس کی ساری توجہ اپنی شخصیت نکھارنے کی طرف تھی، وہ اپنے ابا کا بیٹا ضرور تھا مگر ان جیسا بننا یا ان جیسا کہلوایا جانا نہیں چاہتا تھا مگر اس وقت وہ منہ کے بل گرا جب عافیہ خالہ نے عفیفہ سے اس کے رشتے سے انکار کر دیا۔

جب اماں جی نے اسے خالہ کے انکار کے متعلق بتایا تو اسے اتنا بھی دھچکا نہیں لگا، البتہ حیرت ضرور ہوئی تھی کیونکہ عفیفہ اپنی بہنوں میں سب سے کم شکل گردانی جاتی تھی اور اکثر ہی سننے میں آیا تھا کہ عافیہ خالہ اس کے لےے بہت فکر مند رہتی ہیں۔

یہ نہیں تھا کہ اسے عفیفہ سے کوئی افلاطونی قسم کی محبت ہوگئی تھی یا اپنی اچھائی کی دھاک ہر ایک پر بٹھانا مقصود تھا۔ عفیفہ کا نام لینے کی بنیادی وجہ صرف ایک ہی تھی اور وہ وجہ تھی ’’زینب‘‘۔ اماں جی اس کی شادی کے ذکر کے ساتھ ساتھ اتنی باقاعدگی سے زینب کا نام لے رہی تھیں کہ حسنات کو یہی مناسب لگا، وہ عفیفہ کا نام لے دے۔ ٹھیک ہے وہ خوب صورت نہیں تھی مگر بد صورت بھی تو نہیں تھی اور حسنات جانتا تھا اچھی زندگی گزارنے کے لےے شریکِ حیات کا صرف خوب صورت ہونا ہی ضروری نہیں ہے۔ کچھ چیزیں شکل سے بہرحال زیادہ اہم ہوتی ہے۔

عفیفہ اچھے مزاج کی سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ ایک بالکل انجان لڑکی کے لےے ہامی بھرنے سے بہتر اسے یہی لگا کہ عفیفہ کا نام لے دیا جائے لیکن خالہ نے کہا تھا کہ آج کل جہاں عفیفہ کے رشتے کی بات چل رہی ہے وہ لوگ چند روز تک اس رشتے کو فائنل کر دیں گے۔

اس روز کے بعد ربیع الاوُل کے ختم شریف کے چاول دینے وہ عفیفہ خالہ کی طرف گیا تھا۔ مین گیٹ کھلا ہوا تھا، اس لےے وہ بنا اطلاعی گھنٹی بجائے گھر میں داخل ہوگیا تھا۔ گھر میں شاید کوئی موجود نہیں تھا، اس لےے اچھا خاصا سناٹا محسوس ہورہا تھا مگر اس طرح سے گیٹ کھلا چھوڑ کر سب افراد تو نہیں جا سکتے۔ اس لےے وہ اِدھر اَدھر کسی کو تلاش کرتا آگے بڑھتا رہا۔

ایک کمرے سے کچھ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ حسنات تیز تیز قدم اٹھاتا اس طرف آگیا کہ اسے ابھی کچھ اور جگہوں پر بھی جانا تھا مگر اپنا نام سن کر وہ ٹھٹک کر رَک گیا تھا۔

’’اس طرح سے اگر آپ ہر رشتے کے لےے انکار کرتی رہیں تو بس ہوچکی عفیفہ کی شادی۔۔۔ کیا برائی تھی حسنات میں جو آپ نے انکار کر دیا اور صرف انکار ہی نہیں کیا، جھوٹ بھی بول دیا کہ عفیفہ کی بات کہیں اور چل رہی ہے۔ پتا نہیں آپ عفیفہ کے لےے کس شہزادے کی منتظر ہیں؟‘‘ گو کہ عافیہ کے گھر آنا جانا بے حد کم تھا مگر وہ پہچان ہی گیا یہ شگفتہ تھی۔ خالہ جان کی سب سے بڑی بیٹی۔

’’بے شک شہزادے کا انتظار نہیں کر رہی مگر میری بیٹی مجھ پر اتنی بھی بھاری نہیں ہے کہ اسے کسی سے بھی بیاہ دوں۔‘‘ خالہ کی نخوت و بے زاری سے بھرپور آواز اسے سنائی دی تھی۔

’’کیوں۔۔۔؟ حسنات میں اب کیا برائی نظر آگئی؟‘‘

’’شادی بیاہ کی باتوں میں صرف لڑکے کی شکل اور کمائی نہیں دیکھی جاتی کچھ اور باتیں بھی ہوتی ہیں جو دیکھنا پڑتی ہیں۔ عبدالعلی بھائی کا تو تمہیں پتا ہی ہے خیر سے سارے خاندان میں کتنے قصے مشہور ہیں۔ تم لوگ ہمیشہ ہی پوچھا کرتے ہو نا کہ تمہاری بڑی خالہ سے ہمارے ویسے تعلقات کیوں نہیں ہیں جیسے تمہاری باقی خالائوں سے ہیں تو اس کی وجہ بھی عبدالعلی بھائی ہی تھے۔ ہمیں بہن کا گھر بچانے کے علاوہ اپنے گھر بھی تو آباد رکھنا تھے تب ہی سب بہنوں نے خاموشی سے یہ فیصلہ کیا کہ خدیجہ آپا سے دل پر پتھر رکھ کر قطع تعلقی اختیار کر لی جائے۔

حسنات بھی تو عبدالعلی کا ہی بیٹا ہے وہ بھی ان سے مختلف تو نہیں ہوگا۔‘‘ حسنات کا سارا فخر و غرور منٹوں میں زمین بوس ہو گیا تھا۔

’’میں نہیں چاہتی کہ کل کو اپنے بہنوئی کی بری عادات کی وجہ سے میری بیٹیاں بھی آپس میں قطع تعلق اختیار کریں یا میری بیٹی اپنے شوہر کی وجہ سے ویسی ہی شرم ساری محسوس کرے جیسی میری بڑی بہن کرتی رہی ہے۔ خدیجہ آپا بے چاری نے خود بھی اسی لےے خاندان میں کہیں بھی آنا جانا ختم کر دیا تھا کہ نہ کسی سے ملیں گی نہ کسی کی بات سننا پڑے گی۔ مگر بھائی صاحب کے بعد عرفات نے بھی وہی روش اختیار کی ہم کچھ بھی کہہ لیں مگر خون کا اثر تو نہیں بدلا جاسکتا۔

سنا ہی ہوگا کہ دو بیٹیوں کی پیدائش کے بعد سے عرفات میں تبدیلی آئی ہے مگر کیا کہا جاسکتا ہے۔ بھائی صاحب کا تو یہ حال تھا کہ سالیوں کو تو کیا بخشتے اپنی فضول فطرت کے ہاتھوں سگی بہن کے گھر کی پروا بھی نہیں کی اور اس کی نند کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ وہ بھی اسی کے گھر میں۔ ساجدہ کے میاں نے دیکھ لیا۔ خدا کی قسم اتنا فساد ہوا کہ کیا بتائوں بے چاری ساجدہ کو تو طلاق ہوتے ہوتے رہ گئی تھی اس کے میاں نے شرط رکھ دی تھی کہ یا مجھے چھوڑدو یا بھائی کو۔

اب وہ بے چاری تو بری پھنسی کس منہ سے کہتی کہ غلطی بھائی کی ہے مگر اپنا گھر تو بچانا ہی تھا سو میاں کی شرط مان کر بھائی سے الگ ہوگئی۔‘‘

وہ چپ چاپ وہاں سے پلٹ آیا۔

چھ سال پہلے وہ ابو سے تھپڑ کھا کر رویا تھا۔ چھ سال بعد اس کا دل چاہ رہا تھا خالہ کے اس تھپڑ پر اسی طرح روئے۔

یہ چھ سال کہاں برباد کر دےے اس نے؟

حالانکہ ہر مقام پر اتنا پھونک پھونک کر قدم رکھے تھے جب اس کے ہم عمر انجوائے منٹ کے نام پر الٹی سیدھی دلچسپیوں میں گم رہتے تھے تب اس نے اپنے نفس کی کتنی حفاظت کی تھی کیونکہ یہ اس کے خدا کا حکم تھا اور جب وہ یہ سمجھنے لگا کہ اس کی شخصیت اتنی مکمل ہوچکی ہے کہ اس کی مثال دی جانے لگے تو خالہ کی باتوں نے اسے منہ کے بل گرا دیا تھا۔

گویا وہ جتنی بھی احتیاط سے کام لے لے۔ اس کی انفرادی شخصیت کی اچھائیاں بے معنی ہی رہیں گی اور لوگ ابا کی فطرت کی برائیاں اس سے منسوب کرتے ہی رہیں گے۔

یہی وہ دن تھے جب بے حد دل گرفتی کے عالم میں اس نے ٹرانسفر کی درخواست دے دی تھی۔ اس کا خیال تھا کچھ عرصہ اپنے گھر والوں اور خصوصاً ابا سے دور رہے گا تو خود ہی ٹھیک ہوجائے گا لیکن ساجدہ پھوپھو کے گھر قیام کرنے سے اسی لےے بدل رہا تھا کہ جانتا تھا ابا کے کارناموں کی بدولت وہاں بھی اسے ان ہی کی فطرت کے کلیہ سے پرکھا جائے گا جبکہ خود کو ان کے حوالے کے بغیر منوائے جانے کی خواہش، چوٹ کھالینے کے باوجود اتنا زور پکڑ چکی تھی کہ۔۔۔

’’حسنات۔۔۔!‘‘ اسے لگا کوئی بہت دور سے اسے پکار رہا ہے۔ آنکھیں کھول کر اس نے دیکھا بلال دوڑا چلا آرہا تھا۔

’’ساجدہ چاچی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہوگئی ہے۔ انہیں ہسپتال لے کر جانا پڑے گا، جلدی چلو۔‘‘

بلال نے بلند آواز اور گھبرائے ہوئے انداز میں کچھ فاصلے سے بتایا اور وہیں سے پلٹ گیا۔ حسنات پریشانی سے اس کے پیچھے تقریباً بھاگنے لگا تھا۔ مگر اسی پل کب سے رَکی ہوئی بارش ایک دم سے از سر نو شروع ہوگئی تھی۔

٭٭٭

دروازے سے چند قدم آگے وہ کسی چیز سے الجھ کر گرتے گرتے بچا تھا۔

دیوار کا سہارا لے کر سنبھلتے ہوئے اس نے اس اسٹیل کے گلاس کو دیکھا جو اس کے پیر کی ٹھوکر سے لڑھکتا ہوا دور چلا گیا تھا بے تحاشا سناٹے میں گلاس کا شور بری طرح گونجا پھر خاموشی چھا گئی بالکل ویسی ہی خاموشی جیسے پچھلے چار دنوں سے تعزیت کے لےے آنے والوں کے باوجود مستقل ہی اس گھر کے در و دیوار سے لپٹی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ پھوپھو کے انتقال کا یہ پانچواں دن تھا۔

زاشی صحن میں بکھرے جھوٹے برتن سمیٹتی پھر رہی تھی چند لمحے کے لےے رَک کر اس کی جانب دیکھتا رہا پھر زاشی کو مخاطب کیا۔

’’اماں جی کہاں ہیں؟‘‘

’’ابھی ابھی اندر جا کر لیٹی ہیں۔‘‘ زاشی جھاڑو اٹھاتے ہوئے بولی۔

’’اور۔۔۔‘‘ وہ جھجکا ’’اور زینب؟‘‘

’’وہ بھی اندر ہی ہیں۔‘‘ وہ جلدی جلدی جھاڑو پھیرنے لگی۔ حسنات نے جھاڑو کے آگے سمٹتے کچرے کو دیکھا پھر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ دستک کے لےے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اندر سے سسکیوں کی بڑی واضح آواز سنائی دی بالکل بے ساختہ ہ وہ اندر داخل ہوگیا تھا۔ اماں جی کے کندھے سے لگی زینب بری طرح سسک رہی تھی۔

حسنات نے وہ دکھ از سر نو محسوس کیا جو اس پر گزر چکا تھا۔ اماں جی اسے اپنے ساتھ لگائے تھپکتے ہوئے تسلی دے رہی تھیں۔

’’کیا ہوا؟‘‘ پتا نہیں کیسے اس کی زبان سے پھسل گیا، جواباً ماں جی نے اسے جیسی نظروں سے دیکھا، وہ اسے بری طرح شرمندہ کر گئی تھیں۔ زینب نے دوپٹہ ٹھیک سے نہیں اوڑھا ہوا تھا۔ یک دم سیدھی ہو کر وہ دوپٹہ اوڑھنے لگی۔ حسنات نے بے حد شرمندگی سے رخ ہی موڑ لیا۔

’’وہ میں یہ بتانے آیا تھا۔ کامی کو انجکشن لگا ہے مگر وہ ضد کر رہا تھا اس لےے میں اسے باہر بچوں کے ساتھ چھوڑ آیا ہوں۔ کھلی فضا میں رہے گا تو فریش ہوجائے گا۔‘‘ وہ کامی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تھا جس روز پھوپھو کا انتقال ہوا، اس روز سے کامی کا بخار اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

زینب نے ہراساں ہو کر اسے دیکھا تھا۔

’’کامی کو باہر اکیلا نہیں چھوڑنا تھا۔ بچے اسے بہت مارتے ہیں۔‘‘ بے تحاشا رونے کی وجہ سے اس کی آواز بیٹھی ہوئی تھی۔

’’نہیں کوئی نہیں مارے گا۔ میں بچوں کو سمجھا کر آیا ہوں۔‘‘

اس نے کہا مگر زینب اس کی بات اٰن سنی کر کے بعجلت چپل پہننے لگی۔

’’کدھر؟‘‘ حسنات نے حیرانی سے پوچھا۔

’’میں کامی کو لے کر آتی ہوں۔‘‘

’’میں بتا تو رہا ہوں۔‘‘ اس نے جھنجھلا کر زینب کی طرف دیکھا زینب کے پَرحزن چہرے پر بھیگی ہوئی آنکھیں بہت خوب صورت لگ رہی تھیں۔

حسنات نے سٹپٹا کر نظروں کا رخ بدلا۔

’’اس گائوں کے بچے اپنے ماں باپ کی نہیں سنتے ہماری کہاں مانیں گے۔‘‘

’’حسنات لے آتا ہے کامی کو۔‘‘ اماں جی نے کہا مگر زینب تیر کی تیزی سے باہر نکل گئی تھی۔

’’یہ کسی کی نہیں سنتی۔‘‘ حسنات گہری سانس بھرتے ہوئے چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔

’’اور تم ہر ایک کی سن لیتے ہو۔‘‘

’’آپ مجھ پر کیوں غصہ ہورہی ہیں؟‘‘ اس نے کہا ’’میں نے تو کہا تھا لے آتا ہوں کامی کو مگر وہ مانی ہی نہیں۔‘‘

’’جس ایک معاملے میں تم اس کی مدد کر سکتے ہو وہ تو کرنے پر راضی نہیں، باقی کوئی مدد کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟‘‘ وہ جل کر بولیں۔

حسنات نے سر جھکالیا، وہ ان کے طنز بخوبی سمجھ رہا تھا۔

’’پھر کیا سوچا ہے تم نے؟‘‘ اماں جی نے مسلسل خاموشی کو توڑا تھا۔

’’اب ٹال مٹول کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے صاف صاف جواب دو مہربانی کر کے ورنہ پھر میں ہاجرہ کو ہی ہاں کہے دیتی ہوں۔ اس کی بھی تسلی ہوجائے گی۔‘‘ وہ بے زار ہوئی بیٹھی تھی۔

’’کیا کہہ رہی ہیں۔۔۔؟ ہاجرہ تائی کو کس بات کا جواب دینا ہے اور کیوں؟‘‘ وہ حیران ہوا۔

’’اب اس بارے میں، میں کیا بتائوں؟ تم نے ہی کوئی آس دلائی ہوگی تب ہی تو وہ زارا کے لےے مسلسل اصرار کر رہی ہیں۔‘‘ حسنات کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا پھر جھنجھلا کر بولا۔

’’مجھ پر شک مت کریں۔ میں نے کوئی آس واس نہیں دلائی، تائی ہاجرہ خود ہی۔۔۔ اور یہ کوئی موقع ہے اس قسم کی باتوں کا۔‘‘

’’کوئی تو بات ایسی ہوئی ہوگی جو وہ اتنے وثوق سے بات کر رہی ہیں اور موقع کی تو تم نے خوب کہی۔ انہوں نے تو جنازہ اٹھتے ہی مجھے الگ کمرے میں بلا کر موضوع چھیڑ دیا تھا بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہا کہ تم دونوں کی مرضی اسی میں شامل ہے اور یہ کہ مجھ سے ڈر کر تم نے خود سے بات نہیں کی۔۔۔‘‘

’’اور آپ نے یقین کر لیا؟‘‘ اس نے خفگی سے انہیں دیکھا۔

’’دیکھو حسنات! خفا مت ہو ہمیں تمہارا گھر تو بسانا ہی ہے۔ سچ پوچھو تو زارا بھی بری نہیں ہے لیکن زینب، زینب ہماری اپنی ہے پھر اس مشکل کی گھڑی میں ہم بھی ہٹ گئے تو کیا فائدہ ایسی رشتہ داری کا۔۔۔ ویسے بھی تمہارے ابا بھی یہی چاہ رہے ہیں کہ تمہاری اور زینب کی۔۔۔‘‘

’’مجھے فی الحال شادی ہی نہیں کرنی۔‘‘ اس نے بدک کر کہا۔

’’نہ زارا سے نہ ہی زینب سے۔ ابا سے کہیں انہیں زینب کی اتنی ہی پروا ہے تو اسے اپنے ساتھ لے جائیں۔ میرا اس سے شادی کرنا ضروری تو نہیں ہے۔ ماشائ اللہ صاحبِ حیثیت ہیں، بھانجی کی کفالت کر سکتے ہیں۔‘‘ ابُا کا نام سنتے ہی اس کا لہجہ بدل گیا تھا۔

وہ دو ٹوک کہتا باہر نکل گیا تھا۔

٭٭٭

یہ رات کا پچھلا پہر تھا۔

کھڑکی کی پتلی سی درز سے گھور سیاہ آسمان دکھائی دے رہا تھا جس پر اگر کچھ ستارے تھے تو انہیں آسمان کی سیاہی نگل چکی تھی۔ اس نے جلدی سے کھڑکی بند کی اور چٹخنی چڑھا دی۔ رات تاریک تھی مگر تقدیر سے زیادہ نہیں۔

زینب نے آیت الکرسی پڑھ کر چاروں طرف پھونکنے کے بعد کامی کو ٹھیک سے کھیس اوڑھایا پھر اپنی چارپائی پر دبک کر بیٹھ گئی۔ اس نے بازو اپنے زانوں کے گرد باندھ رکھے تھے جبکہ نظریں دروازے کی کنڈی پر تھیں جس پر اس نے اندر کی طرف تالا ڈالدیا تھا۔ مگر یہ تالا پچھلے کئی روز سے اس کے خوف کو کم نہیں کر پایا تھا تو آج کیا کرتا۔

بے سائبانی اور عدم تحفظ کا احساس رات ہوتے ہی چار گنا بڑھ جاتا تھا۔ دن تو جیسے تیسے گزر ہی جاتا مگر رات تھی کہ کٹتی ہی نہ تھی۔

کبھی کبھی دل چاہتا خدیجہ مامی کی بات ہی مان لی ہوتی مگر اس سے کیا ہوتا۔ وہ تو وہاں بھی تنہا ہی رہتی۔ پھر جس گھر کی بنیاد اس کے ابا کے ہاتھوں رکھی گئی وہ اسے کسی اور کے لےے کیسے چھوڑ دے۔

اس نے سر گھٹنوں پر ٹِکا لیا تھا۔ نیند پلکوں سے الجھنے آگئی تھی مگر اس سے قبل کہ وہ گہری نیند میں اترتی دروازے پر دستک ہوئی تھی۔

ٹک، ٹک، ٹک۔

اس کے سارے حواس چوکنا ہوگئے۔ بے حد خوف زدہ ہو کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ آواز پھر سنائی دی۔ اب کی بار دستک کھڑکی پر دی گئی تھی۔ اس کے لبوں سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ یہ کھڑکی اس کی چارپائی کے عین اوپر تھی۔ وہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’کک۔۔۔ کون ہے؟‘‘ خوف و دہشت سے مرنے کے قریب ہوتے ہوئے اس نے پوچھا۔

جواب میں پھر دستک گونجی اسی وقت رات کے چوکیدار کی سیٹی سنائی دی تھی۔

زینب نے چیخنا چاہا مگر پچھلے کئی روز کی طرح آج بھی اس کی آواز بند ہوگئی تھی۔ جیسے جیسے چوکیدار کی سیٹی کی آواز قریب آتی گئی، اس کے وجود میں سنسنی اتنی ہی تیزی سے دوڑتی گئی۔

پھر اسے کسی کے دوڑنے کی آواز سنائی دی تھی اور ایک دم سے خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

’’اللہ میری مدد کرے۔۔۔‘‘ اس نے سسکتے ہوئے خدا کوپکارا تھا۔ وہ پچھلی کئی راتوں سے خد اکو پکار رہی تھی مگر یہ رات بھی خوف کی نذر ہوگئی تھی۔

٭٭٭

دو بہت ہی اہم فیصلے بالکل ہی آناً فاناً ہوگئے تھے۔

ایک تو شہر شفٹ ہوجانے کا فیصلہ اور دوسرا زارا سے شادی۔ پتا نہیں اس کا دوسرا فیصلہ کتنے فیصد درست تھا اور کتنے فیصد غلط۔ وہ تو صرف اتنا ہی جانتا تھا کہ اس کے دل میں عجیب سی بے چینی گھر کر چکی ہے جس نے یقینا اب ساری زندگی اس کا ساتھ نہیں چھوڑنا تھا۔

ابُا کی ضد میں ہی، اپنی طرف سے بڑی عقل مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، زارا کا انتخاب کر کے اپنے دل کی بربادی کا سامان جو کر لیا تھا۔ ہاں ٹھیک ہے یہ جذبہ اتنا سنجیدہ نہیں تھا مگر اگر جذبہ اتنا شدید نہیں تھا تو اس کے دل کی ایسی کیفیت کیوں ہورہی تھی۔

اس نے اماں جی سے ذکر کر ہی دیا جواباً اماں جی اتنی دیر خاموش رہیں کہ اسے لگا لائن کٹ چکی ہے۔

’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ حسنات نے ان کے لہجے میں چھائی پژمردگی کو بڑی شدت سے محسوس کیا تھا۔

’’میں کل پرسوں تک ہاجرہ سے فون پر بات کرلوں گی۔‘‘

انہوں نے کہا مگر حسنات جواب میں ہوں، ہاں تک نہ کر سکا۔

’’اچھا سنو۔۔۔ ہو سکے تو میری زینب سے بات کروادو، کئی دن سے دکان والے نمبر پر فون کر رہی ہوں مگر وہ نمبر تو شاید کب کا کٹ چکا۔‘‘

حسنات کا دل چاہا فوراً ہی ان کی فرمائش مسترد کر دے مگر اس بار اس سے ان کی امید پر پانی نہیں پھیرا گیا تھا۔

’’ٹھیک ہے، میں گھر جا کر آپ کی بات کروادیتا ہوں۔‘‘

وہ اس وقت آفس میں تھا اور اب یہاں کھڑا تھا زینب کے گھر کے عین باہر مگر دروازہ کھل کر ہی نہ دے رہا تھا۔ مجبوراً اسے دوبارہ دستک دینا پڑی۔

’’حسنات بھائی یہ میں کیا سن رہا ہوں آپ واپس جارہے ہیں؟‘‘ اس نے اپنے پیچھے محب کی متعجب سی آواز سنی تو پلٹتے ہوئے مسکرایا۔ ’’واپس تو۔۔۔‘‘

اسی پل دروازہ کھل گیا تھا۔

’’السلام علیکم۔‘‘ زینب نے سلام میں پہلی کی تھی مگر ساتھ ہی راستہ چھوڑ نہیں دیا تھا۔

’’اماں جی بات کرنا چاہ رہی ہیں۔‘‘ حسنات نے جلدی سے آگاہ کیا اور اپنے موبائل فون پر نمبر ملا کر اس کی جانب بڑھادیا۔ البتہ نظریں اٹھانے سے حتی المقدور گریز کیا تھا، اےسے خدشہ تھا کہیں دل دغا نہ دے جائے۔

زینب نے موبائل پکڑا تو وہ فوراً ہی محب کی جانب متوجہ ہوگیا۔

’’ہاں یار! کیا کہہ رہے تھے تم؟‘‘ محب نے سوال دوہرایا۔

’’واپس تو نہیں جارہا مگر شہر شفٹ ہورہا ہوں۔‘‘ وہ دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے دروازے سے دور ہونے لگے۔

’’لو۔۔۔ ابھی تو مجھے آپ سے بہت کچھ سیکھنا تھا۔‘‘ وہ منہ بنا کر بولا۔

’’اچھا۔۔۔ مثلاً؟‘‘ حسنات نے دلچسپی سے پوچھا۔

’’پتا ہے ہمارے دادا جی کیا کہتے ہیں؟‘‘ محب نے اسے امتحان میں ڈالا۔ ’’وہ کہتے ہیں، اس بچے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارا کرو تاکہ اس کی صحبت کا اچھا اثر تم پر بھی پڑے۔ مختصرلفظوں میں یوں سمجھیں، ہمارے دادا جی آپ کے بہت بڑے فین ہیں۔‘‘

حسنات کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

’’کیوں جھاڑ پہ چڑھارہے ہو یار!‘‘

’’جھاڑ پہ نہیں چڑھا رہا۔ دادا جی سچ مچ آپ کی بہت تعریف کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جتنی پاکیزگی اس لڑکے کی آنکھوں میں ہے، اتنی بہت کم دکھائی دیتی ہے اتنی عمر کے لڑکوں میں۔‘‘

’’عبدالعلی بھائی کی آنکھوں میں پاکیزگی تو کبھی دکھائی ہی نہیں دی۔‘‘ حسنات کے کانوں میں خالہ عافیہ کے الفاظ گونجے تھے۔

’’دادا جی۔۔۔ دراصل خود بہت اچھے ہیں اس لےے انہیں سب ہی اچھے لگتے ہیں۔‘‘ اس بار اس سے مسکرایا بھی نہیں گیا تھا۔

’’وہ دیکھیں سامنے دادا جی، چاچا حبیب کے ساتھ بیٹھے ہیں، میری بات پر تو آپ کو یقین نہیں، ان ہی سے پوچھ لیں۔‘‘

حسنات اسے روکنا چاہتا تھا مگر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس سے آگے نکل گیا تھا اور دادا جی کے پاس پہنچ کر جانے کس انداز سے بات کی کہ وہ مسکرانے لگے۔

’’کیوں بھئی۔۔۔۔ اس میں یقین نہ کرنے کی کیا بات ہے؟‘‘

وہ براہ راست اس سے مخاطب تھے۔ حسنات تھوڑا سا جھینپ گیا کیونکہ وہاں موجود تقریباً سب ہی حضرات کی متبسم نگاہیں اس کی جانب اٹھی ہوئی تھیں۔

’’میں اتنا اچھا نہیں ہوں داداجی!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ جواباً کئی قہقہے گونجے تھے۔

’’دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے ہم تو صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ دلوں کی اچھائیاں ہی روشنی بن کر چہروں پر پھیلتی ہیں۔ اب ہم کیسے مان لیں کہ اتنے روشن چہرے والا حسنات دل میں کسی قسم کی برائی پال کر رکھ سکتا ہے۔‘‘

انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بے حد شفقت سے کہا تھا۔ آج وہ صرف اپنی وجہ سے پہچانا گیا تھا۔ کسی نے بھی اس کے کردار کو اس کے ابا کی شخصیت کو سامنے رکھ کر بنا اسے جانچے فیصلہ صادر نہیں کیا تھا دل کی گہرائیوں سے نکلتے اس سکون و سرور کو اس نے بڑی شدُت سے محسوس کیا تھا۔

باقی کا سارا دن اسی نہ سمجھ میں آنے والی کیفیت میں نکل گیا۔ بس سکون تھا، خوشی تھی اور اطمینان ہی اطمینان تھا۔

تقریباً گیارہ بجے کے قریب بلال نے اسے جگایا۔

’’حسنات! تمہاری امی کا فون ہے۔‘‘ وہ خود بھی نیند میں جھول رہا تھا۔ حسنات ہوش میں آتے ہوئے فون سننے بھاگا، اماں جی اس سے کوئی ضروری بات کرنا چاہتی تھیں اور انہوں نے اسے اس کا موبائل آن کرنے کا کہا تھا۔

’’خیریت تو ہے نا اماں جی!‘‘

’’ہاں۔۔۔ خیریت ہے مگر بات ضروری ہے۔ لینڈ لائن کی تو کوئی ایکسٹینشن بھی ہوسکتی ہے، اس لےے میں چاہ رہی تھی موبائل پر بات کروں مگر تمہارا فون بند پڑا ہے۔‘‘

’’میں آپ کو خود کال کرتا ہوں لیکن دس پندرہ منٹ انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘

اس نے فون بند کرنے سے قبل کہا اور کچھ سوچتے ہوئے وہیں سے اس راہداری کی طرف مڑ گیا جو سیدھی اس باغ تک لے جاتی تھی جس کے گھنے درختوں کی ہیبت ناکی دن کے اوقات میں تو خیر نہیں لیکن رات کے اس پہر اچھے اچھوں کے دلوں کو کانپنے پر مجبور کر سکتی تھی۔ تائی ہاجرہ کی طرف تو ابھی روشنیاں گل نہ ہوئی تھیں۔ مگر اس طرف تو روشنی کا انتظام تھا ہی نہیں۔ اگر اماں جی کے انداز اسے کسی خدشے میں مبتلا نہ کر رہے ہوتے تو شاید وہ بھی اس طرف آنے کی حماقت نہ کرتا۔ پورا کا پورا جنگل ہی تھا۔ یکایک اسے زینب کا خیال آیا۔ کہیں وہ اس کے اس وقت آنے سے کوئی غلط مطلب اخذ نہ کر لے یا کسی اور نے دیکھ لیا تو کیا سوچے گا؟ ابھی وہ پلٹنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اسے پھوپھو کے گھر کا اس طرف کھلنے والے دروازے کا پٹ جھولتا نظر آیا۔ یہ دروازہ اس وقت کیوں کھلا ہوا ہے۔

اسے کسی چیز کے زمین پر گر کر ٹوٹنے کی آواز سنائی دی تھی پھر ایک ہلکی سی چیخ اب تو کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش ہی نہ رہی تھی۔

صحن خالی تھا البتہ بلب کی زرد سی روشنی کمرے کے نیم وا دروازے سے باہر برآمدے تک آرہی تھی جبکہ ٹوٹا ہوا گھڑا وہیں دروازے کے پاس پڑا تھا۔

وہ احتیاط سے دبے قدموں آگے بڑھا پھر اسے جھٹکا لگا تھا۔ چارپائی کے قریب ہراساں کھڑی زینب کو دیکھ کر بلکہ اس شخص کو دیکھ کر جو عین دروازے کے سامنے موجود تھا۔ اور بلب کی روشنی ڈائریکٹ اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔

’’تمہیں شرم نہیں آتی باسط۔۔۔ تمہیں تو اپنی گود میں کھلا کر بڑا کیا ہے میں نے۔ بڑی بہنوں جیسی ہوں تمہاری۔‘‘ اس نے زینب کو دور کھڑے التجائیہ انداز میں کہتے سنا تھا۔

’’بہنوں جیسی ہو بہن تو نہیں ہو نا۔۔۔ جو کہہ چکا ہوں، اس پر ٹھنڈے دل سے سوچو۔۔۔ جو معاملہ ہنستے کھیلتے حل ہوسکتا ہے، اس میں یہ رونا کیوں۔۔۔؟ کامی صبح تک اٹھ جائے گا اور اگر نہ اٹھے تو جگ بھر کر پانی کا انڈیل دینا۔ آج تو کلوروفارم سنگھایا ہے۔ کل کو پکا پکا بھی سلا سکتا ہوں۔۔ یاد رکھنا۔‘‘

وہ کڑے تیوروں سے کہتا ہوا پلٹا اور حسنات پر نظر پڑتے ہی وہ واضح طور پر گڑبڑا گیا تھا۔

’’حا۔۔۔ حسنات بھائی۔‘‘ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ۔۔۔ حسنات سنجیدگی و صدمے سے اسے دیکھتا رہا۔

’’وہ۔۔۔ وہ میں کام سے آیا تھا۔‘‘ وہ اتنی تیزی سے حسنات کے قریب سے گزرا کہ کیا ہوا گزرتی ہوگی۔

حسنات سر جھکائے وہیں کھڑا رہا۔ باسط کے اس روپ نے حقیقی معنوں میں اسے گنگ کر دیا تھا۔

’’تم بھی کوئی سودا کرنے آئے ہو۔۔۔؟‘‘

اس نے زینب کی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ خوف، بے بسی، احساسِ ذلت اور شرمندگی۔

اس کی پیشانی پر آج غصے کی نہیں بے بسی کی تیوریاں تھیں، نہ آنکھوں سے لپکتے شرارے، نہ ہی وہ کرختگی جو سامنے والے کو منٹوں میں خائف کر کے رکھ دیتی تھی۔

تب ہی وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کی سسکیوں کی آواز اس خاموشی میں یوں گونج رہی تھی جیسے قبرستان میں کوئی روح بھٹکتی پھر رہی ہو۔ حسنات نے تاسف سے اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔

٭٭٭

ریلوے اسٹیشن کی عمارت کو دھند کے ہلکے سے غبار نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

رات گہری نیند میں گزار لینے کے بعد صبح بے دار ہونے لگی تھی اور بہت ہلکی سی روشنی چاروں جانب پھیلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔

مگر زینب کو اس منظر میں رتی بھر بھی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ کیونکہ انتظار اب تشویش میں ڈھلناشروع ہوگیا تھا۔ مگر اس سے قبل کہ تشویش بھی حد سے گزرتی، دائیں جانب کے گیٹ سے تیز تیز قدم اٹھاتا حسنات آتا دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے سکون کا سانس لیا۔ مگر اس کے قریب پہنچتے ہی ڈپٹے بنا نہیں رہ سکی۔

’’کہاں چلے گئے تھے تم؟ پتا بھی ہے۔ مجھے کتنی فکر ہورہی تھی۔‘‘

حسنات نے کچھ کہنے کو منہ کھولا تھا مگر اتنی غیر متوقع بات پر تعجب سے اسے دیکھنے لگا پھر یک دم ہی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران یہ پہلا جملہ تھا جو اس کی نئی نویلی زوجہ محترمہ نے اس کے سامنے ادا کیا تھا اور جس انداز میں ادا کیا تھا اس پر صرف ہنسا ہی جاسکتا تھا سو وہ بھی یہی کر رہا تھا یہ الگ بات کہ ہنسی ابھی مسکراہٹ کی قید سے آزاد نہیں ہوئی تھی۔ اسے ہنستا دیکھ کر زینب نے شرمندگی سے نظریں جھکالی تھیں۔ فکر مندی، پریشانی اپنی جگہ مگر کم سے کم اب تو اسے حسنات سے تمیز سے بات کرنا چاہےے تھی۔

’’ٹرین آدھ گھنٹہ لیٹ ہے۔‘‘ اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھتے ہوئے حسنات نے متبسم لہجے میں کہا۔ ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑے شاپر سے برگر نکال کر کامی کی طرف بڑھادیا اور دوسرا زینب کی طرف۔

زینب نے خاموشی سے برگر لیا تھا اور ساتھ ہی کامی کی طرف کھسک کر بینچ پر حسنات کے لےے جگہ بنائی تھی۔

حسنات نے ایک پل کے لےے سوچا پھر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔

’’ابھی تو ناشتے کی کوئی دکان نہیں کھلی، یہ برگر بھی بڑی مشکل سے ملے ہیں۔ یہی لینے میں دیر ہوگئی۔‘‘ حسنات نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ وہ برگر دونوں ہاتھوں میں تھامے سر جھکائے بیٹھی تھی۔

’’میں یہ کھانے کے لےے لایا ہوں، دیکھنے کے لےے نہیں۔ ویسے تمہیں کیا لگا میں تمہیں چھوڑ کر بھاگ گیا ہوں؟‘‘ وہ سامنے دیکھ رہا تھا مگر لہجہ و انداز میں شرارت پوری طرح محسوس ہورہی تھی۔

’’نہیں۔‘‘ اس نے یونہی سر جھکائے برگر کو دو حصوں میں تقسیم کیا پر ایک حصہ اس کی طرف بڑھا دیا اور بولی۔ ’’اتنا بھروسہ تو ہے تم پر۔‘‘ اس کا انداز سادہ سا تھا۔

گو کہ بات معمولی سی تھی مگر حسنات کو اتنا اچھا لگا کہ حد نہیں۔ بہت گہری نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے حسنات نے برگر لے لیا ۔

’’شکریہ۔‘‘ اس نے پہلا نوالہ لیا۔

’’کس بات کا؟‘‘ زینب حیران ہوئی۔

’’مجھ پر بھروسا کرنے کے لےے۔‘‘ اس کے لہجے میں سادگی تھی اور اس بار زینب مسکرائی تھی۔

’’تمہارا بھی شکریہ۔‘‘ اس نے آہستگی سے کہا۔

’’وہ کس لےے؟‘‘ حیران ہونے کی باری اب حسنات کی تھی۔

’’مجھ پر ترس کھا کر مجھے سہارا دینے کے لےے۔‘‘ وہ سابقہ انداز میں بولی۔ مگر حسنات کے چہرے پر بے حد سنجیدگی چھاگئی تھی۔

’’یہ بات آج کہی ہے، دوبارہ مت کہنا۔ میں نے تم پر کوئی ترس نہیں کھایا بلکہ میں تم سے کبھی شادی نہ کرتا اگر۔۔۔‘‘

’’اگر؟‘‘ زینب کو اپنا دل رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔

’’پتا ہے زینب۔۔۔! میں اپنے احساسات خود بھی نہیں جانتا۔‘‘

وہ ایسے بول رہا تھا جیسے خود اپنی کیفیت بھی سمجھ نہیں پارہا ہو۔

’’ایک بات تو کنفرم ہے کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں تب ہی تو اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔ یقین کرو اگر تم مجھے اچھی نہ لگی ہوتیں تو میں ہر گز تم سے نکاح نہ کرتا۔۔۔ اتنا اچھا تو میں ہر گز نہیں ہوں کہ محض ہمدردی، ہمدردی میں کوئی بھی قدم اٹھالوں۔‘‘ بے حد سادگی و صاف گوئی سے کہتا وہ اتنا اچھا لگا کہ ایک پل کو تو زینب کھانا وانا بھول کر ٹکٹکی باندھے اسے دیکھنے لگی۔

’’باقی بات رہی محبت کی۔۔۔ تو وہ بھی اِن شائ اللہ ہو ہی جائے گی ویسے بھی مجھے یقین ہے، تم سے محبت کرنے کے لےے مجھے خود پر جبر نہیں کرنا پڑے گا۔ پسندیدگی ہو تو محبت بھی ہوجاتی ہے۔۔۔ پھر تم میری بیوی ہو تم سے محبت نہیں کروں گا تو کس سے کروں گا۔‘‘ وہ ہشاش بشاش نظر آرہا تھا۔ خوشی کا احساس براہ راست دل سے اٹھ رہا تھا سو لہجے میں کھنک پیدا ہوجانا کچھ غیر فطری بھی نہیں۔ ابو کی ضد میں وہ کتنی بڑی خوشی سے خود کو محروم کرنے جارہا تھا۔ اس کا صحیح احساس بھی اب ہی ہورہا تھا۔

’’البتہ۔۔۔ تم اگر مجھے ایسی ہی استانیوں والے اسٹائل سے ڈانٹتی رہو گی اور جھگڑالو عورتوں کی طرح لڑتی رہو گی تو تمہیں مجھ سے کبھی محبت نہیں ہوگی۔‘‘ مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے اس نے زینب کو صورتِ حال کی نزاکت کا احساس بڑی دل سوزی سے دلوانا چاہا تھا۔

جواباً زینب اپنے سابقہ انداز میں اسے دیکھتی رہی پھر گردن موڑ کر سامنے دیکھنے لگی۔

’’تم بے فکر رہو۔‘‘ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔

’’چاہے میں استانیوں والے انداز میں تمہیں ڈانٹوں یا جھگڑالو عورتوں کی طرح جھگڑے کروں محبت پھر بھی ہو جائے گی ان شائ اللہ۔۔۔ ویسے بھی مجھے یقین ہے تم سے محبت کرنے کے لےے مجھے خود پر جبر نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ ابھی تو تم نے خود ہی کہا ہے، پسندیدگی ہو تو محبت بھی ہوجاتی ہے۔ جلدی۔۔۔۔ پھر تم میرے شوہر ہو۔ تم سے محبت نہیں کروں گی تو کس سے کروں گی۔۔۔؟‘‘

وہ بات جس کا آغاز بے حد سنجیدگی سے ہوا تھا اپنے اختتام تک ایک شرمیلی سی مسکراہٹ زینب کے لبوںپر چھوڑ گئی تھی جبکہ حسنات کے لبوں سے بے ساختہ قہقہہ ابلا تھا۔

’’میں سمجھا تھا، تمہیں صرف دھمکیاں دینا آتی ہیں۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ زینب نے جواب نہیں دیا۔ وہ اسی خاموشی سے مسکراتی رہی۔

آج تک وہ خود بھی یہی سمجھتی تھی مگر حسنات کے ساتھ صرف ایک رشتہ تھوڑا ہی تھا۔۔۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ شخص جو زبردستی اس کے پیر سے کانچ نکال رہا ہے، کبھی اس کا سائبان بن جائے گا۔ پہلی ملاقات میں وہ اسے اچھانہیں لگا تو برا بھی نہیں لگا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ اس کی رائے حسنات کے بارے میں قدرے بہتر ہوگئی تھی پھر یہ بہتر رائے کب پسندیدگی میں ڈھل گئی، اسے خود بھی پتا نہیں چل سکا۔

شاید یہ حادثہ، بلکہ خوشگوار حادثہ چوبیس گھنٹے پہلے کا تھا یا شاید اس سے بھی کچھ گھنٹے پہلے کا، جب باسط کی موجودگی میں حسنات آگیا اور کچھ دیر بعد اس کے سامنے نکاح کی پیش کش رکھ دی تھی۔ اس کے ذہن میں سب کچھ گڈمڈ ہورہا تھا تب ہی وہ تھوڑا سا جھنجھلائی اور از سر نو اس قصے کو ذہن میں دہرانا شروع کیا۔

رات گئے اندرونی کمرے کے دروازے پر ہونے والی دستک کا عقدہ چند روز قبل کھل چکا تھا۔ بھروسا تو خیر اسے کسی پر بھی نہیں تھا مگر یہ دیکھ کر حد درجہ دکھ اور پریشانی ہوئی کہ اس کے گھر میں نقب لگانے والا شخص باسط تھا۔ جو کہ عمر میں اس سے کافی چھوٹا تھا مگر اس کی نگاہوں اور خیالات میں آنے والی تبدیلی کا راز پاتے ہی زینب نے اپنی شفقت و محبت کا دامن سمیٹ لیا تھا۔

باسط نے اس پر قابو پانے کے لےے کامی کو استعمال کیا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ باسط نے اس کی شہ رگ دبوچ لی تھی۔ وہ انکار کرتی تب بھی پھنستی نہ کرتی تب بھی۔ پھر یہاں تھا ہی کون جو اس کی بات پر یقین کرتا۔ اکیلی عورت کے بارے میں کچھ کہنے اور سوچنے کی تو ہر ایک کو آزادی ہوتی ہے۔ حسنات کے سامنے اس کی عزت نفس کا پندار اتنی بری طرح مجروح ہوا تھا کہ وہ صبح تک روتی رہی۔ پتا نہیں اپنی بے بسی رَلا رہی تھی یا اس شخص کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار۔

صبح ابھی روشنی پوری طرح پھیلی نہ تھی کہ حسنات نے آکر دستک دی۔ وہ اسے پھر اپنا موبائل پکڑا کر چلا گیا تھا اور اس بار بھی خدیجہ مامی ہی تھیں جو بات کرنا چاہتی تھیں۔

’’سنو زینب! بیٹا ہم کوئی غیر نہیں۔ تمہارے اپنے ہیں۔ اس لےے غلط مت سمجھنا، حسنات نے مجھے سب بتا دیا ہے اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تم سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ اب تم بتادو تمہاری کیا مرضی ہے؟ عورت کو تحفظ باپ کے بعد صرف شوہر ہی فراہم کر سکتا ہے۔ حسنات ابھی قاضی اور گواہوں کا بندوبست کرنے ہی گیا ہے لیکن اگر تمہاری مرضی نہیں ہے تو بھی بے جھجک بتائو، میں اسے منع کردوں گی۔ کامی ہمارا اپنا بچہ ہے۔ ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘

وہ اسے جانے کیا کیا سمجھاتی رہیں۔ پھر پتا نہیں سب کچھ کیسے ہوگیا۔ خدیجہ مامی نے تایا جی اور تائی ہاجرہ سے فون پر بات کی۔ ان کی طرف سے قیامت آگئی۔

زینب تو زینب، حسنات کو بھی وہ کچھ سنایا کہ اس نے اسی روز سامان سمیٹ کر زینب اور کامی سمیت اپنے گھر میں پناہ لی۔

ثریا کے دادا جی، اس کے ابا اور بھائیوں نے اس معاملے میں بہت مدد کی تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ان کی مدد کے بغیر یہ معاملہ آسان بھی نہ ہوتا، دادا جی نے تو اس نکاح کے بعد اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر سکھ بھری زندگی کی پیش گوئی بھی کر دی تھی۔

اسے یقین تھا وہ دونوں خوش رہیں گے خوا ان کی نئی زندگی کی بنیاد میں تائی ہاجرہ کے کوسنے اور زارا کی بد دعائیں ہی کیوں نہ شامل ہوں۔

’’زینب۔۔۔!‘‘

’’ہوں۔‘‘

ہم اپنے بچوں کی تربیت بہت اچھے طریقے سے کریں گے۔‘‘ گہری سنجیدگی کے زیر اثر اس نے کہا تھا جبکہ زینب کے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے۔

نکاح ہوئے ابھی دیر ہی کتنی گزری ہے یہ بچوں پر بھی پہنچ گیا۔۔۔ بے شرم۔ اس کے خیالات سے بے خبر حسنات کہہ رہا تھا۔

’’جب ہم کسی بچے کو کوئی اچھی یا بری بات سکھاتے ہیں نا تو ہم صرف ایک بچے کی تربیت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ نسلوں کی تربیت کر رہے ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو عورت کی عزت کرنا ضرور سکھائیں گے۔۔۔ عورت ہر روپ میں قابلِ احترام ہوتی ہے خوا وہ کسی اور کی ماں یا بہن ہی کیوں نہ ہو۔

ہم انہیں خود غرض نہیں بننے دیں گے کہ وہ دوسروں کی زندگی عذاب کےے رکھیں۔‘‘

نئی زندگی کی شروعات کرتے ہوئے کچھ عزائم تو سب ہی کے ہوتے ہیں وہ بھی ان ہی خیالات کا اظہار کر رہا تھا مگر اسی وقت ٹرین کی وسل سنائی دے گئی تو اسے بات ادھوری چھوڑ کر اٹھنا پڑا۔

’’میں نہیں چاہتا میرے بچے میرے ابا کی طرح یا ان لوگوں کی طرح ہوجائیں جنہوں نے تمہاری یا تم جیسی کسی اور بے سہارا لڑکی کی زندگی عذاب کےے رکھی ہے۔‘‘

اس نے سامان سمیٹتے ہوئے سوچا تھا۔ دیر سے ہی سہی مگر اسے یہ بات سمجھ میں آگئی تھی کہ بزرگوں میں چاہے کتنی ہی خامیاں اور برائیاں کیوں نہ ہوں۔ ان کی اصلاح کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ پھر ہمیں تو اپنے سے آگے آنے والوں کی پروا کرنا چاہےے۔ تربیت بچوں کی کی جاتی ہے اسے بھی اب یہی کرنا تھا اپنے بچوں کو اچھی بات سکھانا اور دےے سے دیا جلاتا چلا جانا۔

مگر بچوں کی اماں؟

کامی کو ٹرین میں سوار کروا کر اس نے پلٹ کر دیکھا چند قدموں کے فاصلے پر زینب کسی برقع پوش خاتون سے جھگڑنے میں مصروف تھی۔

اسے ہنسی آگئی۔

’’واہ حسنات صاحب واہ۔۔۔۔! بچوں کی تربیت کے خواب دیکھے جارہے ہو، پہلے اسے اپنے بچوں کی اماں کو تو سدھار لو۔‘‘

اس نے مسکراتے ہوئے کہا پھر آگے بڑھ کر زینب کے ہاتھ سے سوٹ کیس لیا اور دوسرے ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھام کر ٹرین کی طرف چل دیا۔ زینب بری طرح بدکی تھی مگر کوشش کے باوجود بھی وہ اپنا ہاتھ نہیں چھڑواسکی تھی۔

’’میں نے تمہارا ہاتھ اس لےے نہیں پکڑا کہ چھوڑ دوں۔‘‘ اس نے شرارتی انداز میں جتایا تھا۔

’’تو میں نے کب کہا کہ چھوڑ دو۔۔۔ مگر خدا کے لےے ابھی تو چھوڑ دو۔ سب لوگ دیکھ رہے ہیں۔ تم میں کوئی شرم ہے کہ نہیں؟‘‘ دبی ہوئی آواز میں اس نے جھنجھلا کر کہا تھا۔ حسنات کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔

’’بے فکر ہوجائو، اوُل تو کوئی اعتراض کرے گا نہیں اور اگر کیا بھی تو۔۔۔ میری جیب میں نکاح نامہ موجود ہے۔ بیوی کاہاتھ پکڑنے پر کوئی حد جاری نہیں ہوتی۔‘‘

اس نے شرارتی و متبسُم لہجے میں کہا تھا۔ زینب نے اسے گھور کر دیکھا پھر اپنی مسکراہٹ چھپانے کو دوسری طرف دیکھنے لگی۔ٹرین میں سوار ہونے سے قبل ایک پل کے لےے بے حد تشکر بھری نظروں سے آسمان کی طرف ضرور دیکھا تھا۔ آج کا آسمان اسے پچھلے ہر دن سے زیادہ روشن چمک دار اور مہربان محسوس ہوا تھا اور اسے یقین تھا اس کا ہاتھ تھام کر چلتے اس اچھے شخص کے طفیل اب خوشیاں اس سے زیادہ دور نہیں ہےں۔

٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں