میں تارا تارا جاگوں تیرے نام – بشریٰ سعید

میں تارا تارا جاگوں تیرے نام – بشریٰ سعید 5

’’تم ریشم کا پوسٹر دیکھ دیکھ کر آنکھیں ہی سینکتے رہو گے یا بکنگ کرانے بھی جائو گے۔‘‘ اس نے جھنجھلاکر ساکت کھڑے دانیال کو کندھے سے تھام کر جھنجھوڑا۔

’’دیکھو تو ٹکٹ لینے والوں کی قطار۔۔۔ آ۔۔۔ آپ۔‘‘

جن موصوف کے کندھے پر بڑے استحقاق سے ہاتھ رکھا تھا۔ ان کی صورت دیکھ کر اس کی سانس حلق میں اٹک گئی۔

’’میں۔۔۔ میں سمجھی آپ۔۔۔ وہ دانال۔۔۔ دانیال ہیں۔‘‘ اسے خشمگیں نظروں سے اپنی طرف گھورتے پا کر اس پر بوکھلاہٹ کا شدید غلبہ ہوگیا تھا اور زبان غوطے پہ غوطہ کھانے لگی تھی۔

’’ٹکٹ کی سیٹیں لینے۔۔۔ نہیں ٹکٹ کی بکسیں۔۔۔ باکس۔۔۔ خدا کی مار ہو اس زبان پہ۔ آپ نے کیا گھورنا شروع کر رکھا ہے۔‘‘ اس کی دبی دبی مسکراہٹ نے اسے سبکی کا احساس دلایا تو اس کی آواز دھیرے دھیرے بلند ہونے لگی۔

’’ایسا کیا قصور ہوگیا مجھ سے جو آپ ایسی نظروں سے مجھے دیکھ رہے ہیں اگر آپ کو دانیال سمجھ کر پکار رہی بیٹھی تو کوئی گناہ ہوگیا۔‘‘

خفت مٹانے کے لےے اسے یہی سوجھا تھا کہ فریق مخالف کو جارحیت کے پھیر میں الجھا دیا جائے۔

’’نہ جانے کیا ہوگیا ہے دنیا کو۔ ذرا سی بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں۔ معمولی غلط فہمی کو ایسا رنگ دے رہے ہیں جیسے قتل کے سوچے سمجھنے منصوبے کا پول کھل گیا ہو۔ آپ نے اسی رنگ اور اسی تراش کا سوٹ پہن رکھا ہے۔ جیسا دانیال نے پہنا ہوا ہے آپ کی طرح اس نے بھی چند روز پہلے کیڈٹ کٹ کروائی ہے۔ اب حلےے میں اتنی مماثلت ہو تو پشت سے دیکھ کر دھوکا تو ہو ہی سکتا ہے۔ بس اتنا قصور ہے میرا جس پر پچھلے پانچ منٹ سے مسلسل میں وضاحتیں پیش کر رہی ہوں اور آپ مجھے گھورے چلے جارہے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں یہ کوئی انسانیت ہے بھلا۔‘‘

بولتے ہوئے اچانک اسے احساس ہوا کہ اس شخص نے ابھی تک ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا اور اس کے ہونٹ اس طرح بھنچے ہوئے تھے جیسے ہنسی کو بمشکل دبا رکھا ہو تو سابقہ شرمندگی کا احساس جسے وہ پچھاڑنے کی کوشش کر رہی تھی اس نو دریافت شرمندگی کے ساتھ مل کر اس پر ایسا چھایا کہ ایک بار تو اس کا دل چاہا کہ وہ دیوار پر اس جگہ سر ٹکرا دے جہاں صائمہ ہاتھ میں گز بھر لمبے پھل والا خنجر پکڑے اور چہرے پر ’’ساری دنیا کو تہس نہس کردوں گی۔‘‘ جیسے ایکسپریشن لےے اس کی طرف خونیں آنکھوں سے دیکھ رہی تھی یا کم از کم اتنا توضرور کرے کہ اس شخص کے منہ پر ایک زور دار بلکہ بہت ہی زیادہ زور دار تھپڑ رسید کر کے وہاں سے بھاگ جائے۔ مگر ان ہر دو خواہشات میں سے کسی پر بھی عملدرآمد کےے بغیر اس نے خاموشی سے سر جھکا کر ایک شکست خوردہ ابائوٹ ٹرن لیا اور اتنی تیزی سے اس مقام سے دور ہونے لگی سامنے سے آتے ہوئے نو دس سال کے بچے سے ہونے والے ٹکرائو کو وقوع پذیر ہونے سے نہ روک سکی۔

چند لمحے تک تو اس کا دماغ سنسناتا رہا گرد و پیش کا منظر کچھ واضح ہوا تو بچہ اس کے قدموں میں لیٹا چھپکلی کی کٹی ہوئی دم کی طرح تڑپ رہا تھا اور اس کا باپ یا سرپرست بالکل ویسے ہی تاثرات چہرے پر پھیلائے اسے دیکھ رہا تھا جیسے وہ صائمہ کی تصویر میں چند لمحے پہلے دیکھ چکی تھی۔ ابھی وہ اندھا دھند بھاگنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اس آدمی نے مگر مچھ جیسا منہ پھاڑ کر اسے لتاڑنا شروع کر دیا۔

’’کیسے بھاگی چلی آرہی ہے اندھوں کی طرح۔۔۔ سینما نہ ہوا گرائونڈ ہوگیا۔ معصوم بچے کو کچل کے رکھ دیا اتنا ہی شوق ہے بھاگ دوڑ کا تو روڈ پہ جا کے دوڑو۔‘‘

اس نے تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ ذرا کی ذرا پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ صاحب بھی ادھر ہی متوجہ تھے اور موجود صورت حال سے خاصے محظوظ نظر آرہے تھے۔ طیش کی ایک شدید لہر اسے اپنے وجود میں برق کی طرح پھیلتی محسوس ہوئی۔

اس نے کھا جانے والی نظروں سے پہلے اس آدمی کو دیکھا جو مسلسل معصوم بچہ، کچل دیا، مار دیا، اندھی، نا بینا، وغیرہ کی گردان کر رہا تھا اور پھر اس کی قہر آلود نگاہوں کا مرکز وہ بچہ بناجو ہنوز فرش پر لیٹا مکر کررہا تھا۔ سر کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ یوں کراہ رہا تھا جیسے شدید زخمی ہو۔

’’اس لڑکے کی اداکاری کی داد دینا پڑے گی۔ میرے پیٹ میں ٹکر مار کر مجھے دہلا کر رکھ دیا اور۔۔۔‘‘

’’او مائی! کوئی خدا کا خوف کرو۔‘‘

اس شخص نے اسے بولنے کا موقع دےے بغیر ایک اور ستم توڑ دیا۔

’’مائی، مائی۔‘‘ در و دیوار اس لفظ کی باز گشت سے گونج اٹھے۔ اسے لگا جیسے کنکریٹ کی چھت اس کے سر پر آن گری ہو۔

’’معصوم بچے کو گرا دیا اوپر سے کہتی ہو اداکاری کر رہا ہے۔ تمہیں ذرا بھی خدا کا خوف نہیں ہے کوئی کسر رہ گئی ہے تو اب تسلی کرلو۔‘‘ پیوندی مونچھوں والے شخص نے تڑپتے اور بلکتے ہوئے لاڈلے کو بازوئوں میں بھرلیا تھا۔

اپنے لےے ’’مائی‘‘ کا خطاب سن کر اس کا دل ایک دم دنیا سے اچاٹ ہوگیا تھا۔ چند ثانےے پہلے اس کے رگ و پے میں قہر و غضب موجیں مار رہا تھا، وہ اس آدمی کی طبیعت ٹھیک ٹھاک طریقے سے صاف کرنا چاہتی تھی۔ فرش پر لیٹ کر فریب کاری کا مظاہرہ کرتے لڑکے کو سچ مچ پائوں تلے کچلنے کا ارادہ بھی اس کے پیشِ نظر تھا،مگر اب ایک پژمردگی اور مایوسی نے اسے احاطے میں لے لیا تھا۔ پیچھے دیکھے بنا بھی وہ اس نیوی بلو کلر کے شلوار سوٹ میں ملبوس آدمی کی مسکراہٹ کو جسم میں سوئیوں کی طرح پیوست ہوتے محسوس کر رہی تھی۔ روتے ہوئے معصوم بچے اور اس کے بکتے جھکتے ہمدرد کو چھوڑ کر وہ چپ چاپ باہر آگئی۔ اس کے دماغ میں فتور آیا اور اٹھ کر اسے دیکھنے چل دی۔ اس ہولناک واقعہ کے بعد تو دانیال کے پیچھے آنے کے خیال کو وہ فتور ہی کہہ سکتی تھی۔

’’یا اللہ! یہ سب میرے ساتھ کیوں ہوا۔ آخر میرا قصور کیا ہے۔ فلم دیکھنے کا ارادہ کوئی ایسا جرم تو نہیں ہے جس کی اتنی کڑی سزا ملے اور ابھی تو میں نے فلم دیکھی بھی نہیں محض نیت سے تو کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

’’مائی!‘‘ اس کے بائیں طرف والی دیوار پر چسپاں رنگین پوسٹر میں ایک ایسی اداکارہ نے گلا پھاڑ کر قہقہہ لگایا جس کا نام اس نے مائی رکھا ہوا تھا۔

اس نے گھبرا کر دیوار کی طرف دیکھا۔ ہیروئن کے میک اپ تھپے چہرے کی جھریوںمیں طنزیہ مسکراہٹ بری طرح پھنسی ہوئی تھی۔

’’معاف کر مائی!‘‘ قریب ہی ایک آدمی نے مانگنے والی کو جھڑکا تو اسے شک سا گزرا جیسے اس آدمی نے فقط اسے سنانے کو یہ فقرہ بولا ہو۔

’’یہ مجھے آخر ہوا کیا ہے یہ کوئی بات ہے بھلا، دیہاتی آدمی تھا۔ دیہاتی آدمی تھا، دیہاتی لوگ عورتوں کو ایسے ہی سخت قسم کے ناموں سے پکارتے ہیں۔ اس نے مجھے وہ والی مائی تھوڑی کہا ہے۔‘‘

اس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی مگر بے سود۔ اتنا ضرور ہوا کہ اس کوشش کے نتیجے میں اس کے ماتھے کی شکنوںمیںاضافہ ہوگیا۔ سامنے پٹواری کے کھوکھے کے قریب اسے ندرت کھڑی دکھائی دی تھی۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھی۔

’’دانیال ملا۔۔۔‘‘

’’دانیال کہاں ہے؟‘‘

ندرت کا فقرہ پورا ہونے سے پہلے اس نے سوال داغ دیا۔

’’لو جی۔ دیکھ چکے فلم لم۔ تمہیں نہیں ملا کیا۔ پتا نہیں کہاں غائب ہوگیا ہے۔ فلم شروع ہونے میں بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔‘‘ اس نے رسٹ واچ پر ایک نظر ڈال کر اِدھر اَدھر نگاہ دوڑائی۔

’’اور ٹکٹ ملنے کے کوئی آثار ہی نظر نہیں آرہے۔ دانیال خدا معلوم بکنگ آفس کے آس پاس تو کہیں نظر نہیں آرہا۔ ویسے یہ تمہارے منہ کو کیا ہوا ہے؟‘‘

’’کیوں کیا ہوا میرے منہ کو؟‘‘ اس نے تڑخ کر کہا۔

’’میرا مطلب ہے کچھ پھیکا سا لگ رہا ے۔ اترا ہوا سا۔‘‘

’’میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے بارے میں غور کرو۔ کتنی ہونق لگ رہی ہو اندازہ ہے تمہیں، میں نے کہا بھی تھا۔ سہ پہر کا وقت ہے اتنا ڈارک آئی شیڈ مت لگائو اور سینما آنے کے لےے میک اپ کی ضرورت ہی کیا تھی۔ یہاںکسے دکھانا تھا مگر تمہیں تو گلی کے نکڑ تک جانا ہو تو دو گھنٹے آئینے کے سامنے ضائع کرتی ہو، ضائع ہی کہنا چاہےے، بنتا بناتا ہے کچھ نہیں۔ ابھی دیکھ لو پوری مائی لگ رہی ہو۔‘‘

اس نے انتقام کے دھارے کا رخ ندرت کی طرف موڑتے ہوئے ’’مائی‘‘ پر خصوصاً زور دیا۔

ندرت اس کی بات سن کر یوں تڑپ کر سیدھی ہوئی جیسے کسی بچھو نے ڈنک مارلیا ہو۔

’’خدا سمجھے تمہیں رانیہ تم خود ہوگی مائی۔ بلکہ ہو اتنے بڑے بڑے پھولوں والی چادر میں تم بالکل مائی لگ رہی ہو صد فی صد بلکہ چار سو فیصد مائی۔‘‘

’’میں تمہاری طرح ننگے سر بازاروںمیں دندنا ناپسند نہیں کرتی۔ باحیا اور مشرقی لڑکی ہوں اسی لےے سر ڈھانپ کر گھر سے نکلتی ہوں۔‘‘

اس نے بظاہر بڑے مطمئن لہجے میں کہا اور سر پر چادر درست کرنے کے لےے ہاتھ اٹھائے مگر درست کرنے کے بہانے محتاط انداز میں چادر کو ذرا سا پیچھے کھسکا کر ایسی پوزیشن میں کر دیا کہ سر کی ہلکی سی جنبش سے ڈھلک کر شانوں پر آگرے۔

ندرت کے کہنے پر اسے یہ بھی خیال آرہا تھا کہ شاید اس بکل کے باعث اسے ایسا خطاب سننا پڑا۔ اماں بھی تو شرم و حیا کے گہنے لے کر پیچھے پڑی رہتی ہیں۔

’’آئے ہائے آدھی آستینوں والی قمیص اور گلے میں ننھی سی پٹی ایسے چونچلے تو فلموں، ڈراموں والیوںکو ہی جچتے ہیں۔‘‘

’’تو کیا میں بے حیا ہوں۔‘‘ ندرت نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے اسے گھورا۔

’’مجھے کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ تم خود بہتر سمجھتی ہو۔‘‘ شان استغنا سے کہتے ہوئے وہ ٹکٹ کے لےے ایک دوسرے کو دھکیلتے اور سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے ہجوم کو دیکھنے لگی۔

’’کس نے کی ہے بے حیائی؟‘‘ انیقہ بھنی ہوئی مونگ پھلیوں سے بھرا شاپر ہاتھ میں لےے آگئی۔

’’تھوڑی بہت ایکسپوزنگ کو بے حیائی کانام دینا زیادتی ہے۔ بھئی پبلک ڈیمانڈ ہے ورنہ فلم بنانے والوں کو کیا ضرورت ہے ایسا کچھ دکھانے کی۔ وہ تو بے چارے اتنے محدود وسائل میں عوام کو سستی تفریح مہیا کر رہے ہیں۔ ہم خود ہی کہتے ہیں کہ سنسر پالیسی میں لچک ہونی چاہے اور خود ہی تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘

ان کی گفتگو سے وہ کچھ اور ہی سمجھی تھی، دونوں میں سے کسی نے بھی اس کی تصحیح کرنا ضروری نہ گردانا۔

’’ویسے لگ رہا ہے یہ فلم بہت ہٹ ہوگی کیسا کھڑکی توڑ رش ہے اس ڈائریکٹر کی مسلسل تین فلمیں ہٹ گئی ہیں اس سال اور اس فلم کے بارے میں اخبار میں پڑھا تھا میں نے کہ تین گانے تو ایسے ہیں جنہیں سنسر سے پاس کرنے کے لےے بورڈ کے اراکین کو کم و بیش پچاس مرتبہ غور و خوض کرنا پڑا۔ ہائے میں تو بس ان گانوں کے لےے آئی ہوں، نہ جانے کیا ہوگا ان میں جو سنسر بورڈ کے صبر کا امتحان بن گیا تھا۔ کاسٹ بھی تو نا کیسی زبردست ہے۔ چن چن کے ایکٹر رکھے ہیں۔‘‘

’’کیا چن چن کے رکھے ہیں۔‘‘ رانیہ نے تیز آواز میں کہا۔

’’یہاں آتے ہوئے ہم پیچھے جتنے بھی سینما گھر چھوڑ کر آئے ہیں۔ تقریباً ان سب میں اسی کاسٹ پر مبنی فلمیں لگی ہیں اور اگر فلم کی قصیدہ گوئی سے تمہیں تھوڑی فرصت ہو تو اتنا ضرور بتادینا کہ دانیال کہاں دفع ہوگیا ہے۔‘‘

’’میں نے کہا بھی تھا فلم دیکھنی ہے تو پیشگی بکنگ کروائو، عزت دار لوگوں والا تو کوئی طریقہ ہی نہیں ہے تم لوگوں میں، منہ اٹھا کر آگئے ہیں فلم دیکھنے ایسے دیکھی جاتی ہیں فلمیں۔‘‘

’’لو وہ آگیا۔‘‘ ندرت نے ڈھیلے قدموں سے چل کر آتے ہوئے دانیال کی طرف اشارہ کیا۔

’’لٹکی ہوئی شکل دیکھ کر ہی پتا چل رہا ہے کہ ناکام لوٹا ہے۔‘‘

’’ہائے فلم تو شروع بھی ہوگئی۔‘‘ انیقہ کا دل اس خیال سے ڈوبنے لگا۔

’’بھئی خواتین واپس چلیں۔ ہمارے مقدر میں ہی نہیں تھی یہ فلم۔‘‘ اس نے افسردگی سے اطلاع دی۔

’’مگر کیوں؟‘‘ انیقہ نے صدمے سے چور آواز میں دریافت کیا، تاہم رانیہ اور ندرت نے خاموشی سے اسے گھورنے پر اکتفا کیا تھا۔

’’باکس سارے بک ہوچکے ہیں۔‘‘

’’تو گیلری کے ٹکٹ خرید لیتے۔‘‘ انیقہ فلم سے دستبردار ہونے پر آمادہ نظر نہیں آرہی تھی۔ آج کے پروگرام کی منصوبہ بندی میں بھی اس کا ہاتھ سب سے زیادہ تھا۔

’’صرف لوئر اسٹال کے ٹکٹ مل رہے تھے۔ اب وہاں بیٹھ کر فلم دیکھنے سے تو بہتر ہے کہ ہم گھر جا کر کیرم یا کرکٹ کھیل لیں۔‘‘

’’تم نے آج تک کبھی کوئی کام ڈھنگ سے کیا ہے؟‘‘ رانیہ کا ضبط جواب دے گیا۔

’’میں نے کتنی دفعہ کہا کہ ایڈوانس بکنگ کروالو۔ مجھے پہلے سے خدشہ تھا ہم خوار ہوں گے اور دیکھ لو ایسا ہی ہوا۔ جب بھی تمہارے ذمے کوئی کام ڈالا گیا تم نے یونہی ذلیل کیا۔ آئندہ سے کم از کم میں تو تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائوں گی۔ حد ہوتی ہے لاپروائی کی۔‘‘

’’کمال کرتی ہو رانیہ خوامخواہ بات بڑھا رہی ہو۔ اس میں بے چارے دانی کا کیا قصور، ہم سب نے مل کر ہی تو پروگرام بنایا تھا۔‘‘

دانیال کی حمایت کرنے پر رانیہ نے آنکھوں میں قہر سموکر ندرت کو دیکھا تھا۔

’’یہ دانی کون ہے؟‘‘

’’بھئی اپنا دانیال اور کون؟‘‘ ندرت نے بے نیازی دکھانے کی کوشش کی مگر اس کے ہونٹوں میں کروٹ لیتی جھینپی سی مسکراہٹ رانیہ کی تیز نگاہوں سے مخفی نہ رہ سکی تھی۔ اس نے فوراً دانیال کے چہرے کا جائزہ لیا اور وہاں بھی کم و بیش ایسے ہی تاثرات پاکر اس کی بھنویں تن گئیں۔

’’اس بات کا فیصلہ تو گھر جا کر ہوگا کہ یہ دانیال ہے یا دانی۔ آج تک ہم میں سے تو کسی نے اسے ایسے فضول نام سے نہیں پکارا۔ اماں سے پوچھوں گی کہ انہیں تمہارا رکھا ہوا نام کیسا لگا۔‘‘

اس کے جلے ہوئے انداز پر دانیال کے ہونٹوں پر جان دار تبسم پھیلا ہوا تھا۔

’’اس بحث کے لےے یہ جگہ کچھ مناسب نہیں یہ مسائل گھر جا کر بہتر طور پر حل کےے جاسکتے ہیں۔ اب چلیں۔‘‘

دانیال نے بیرونی راستے کی طرف قدم بڑھائے۔

’’کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم کسی ہوٹل وغیرہ میں بیٹھ کر وقت گزارلیں اور سات بجے والا شو دیکھ لیں۔‘‘ انیقہ نے ایک آخری کوشش کر دیکھی۔

رانیہ نے جھپٹ کر اسے بازو سے پکڑا اور اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی۔

’’اور جب گیارہ بجے گھر پہنچیں تو ابا ہم سب کی قبریں کھدوا کر ہمیں زندہ گاڑدیں۔ پھر منکر نکیر کو اسی فلم کی اسٹوری سنا دینا اور ممکن ہو تو کچھ گانوں کے منتخب بول بھی گا کر سنا دینا۔ تمہاری تو آواز بھی خوب ہے۔‘‘

’’تم سب کی ماں بننے کی کوشش مت کرو رانیہ۔‘‘ انیقہ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے طیش سے کہا۔

’’حالانکہ یہ کوشش اسے سوٹ بہت کرتی ہے اس کی عمر جو ہم سب سے زیادہ ہے۔‘‘ ندرت کہاں کوئی موقع جانے دیتی تھی۔

’’کیا کہا۔۔۔۔ میری عمر زیادہ ہے۔‘‘ رانیہ اس حملے کا جواب دینے کے لےے تیزی سے مڑی۔

’’پھپھو نے خود مجھے بتایا تھا کہ ۱۹۷۱ئ کی جنگ میں تم موجود تھیں۔ بلکہ ریڈیو پر خبریں بھی سنا کرتی تھیں یہ تو اسکول میں داخل کروانے کے لےے تمہاری ڈیٹ آف برتھ میں اتنی کمی کرنی پڑی کہ لکھواتے ہوئے پھوپھا جان کی آنکھوں میں بھی شرم سے آنسو آگئے۔ مگر کیا کرتے مجبوری تھی ورنہ تعلیم بالغان کے اسکول میں داخل کروانا پڑتا ۔‘‘

’’شکر ہے تم نے اکہتر کی جنگ پر ہی اکتفا کرلیا ورنہ تم جیسے دروغ گو سے کچھ بعید نہیں تھا کہ ۱۸۵۷ئ کی جنگِ آزادی کا ذکر کر دیتیں اپنی قدامت کا ذرا حساب لگائو۔‘‘

’’ایسی گیگلی تو تم بھی نہیں ہو۔ تم خود اپنی زبان سے مجھے بتا چکی ہو کہ بابرہ شریف کی فلمیں دیکھنے کے لےے تم اسکول سے بھاگ کر سینما جایا کرتی تھیں اب یہ تو سب جانتے ہیں کہ بابرہ شریف کی فلمیں کس زمانے میں لگتی تھیں۔‘‘

’’وہ تو صرف ایک فلم کا حصہ تھا اور وہ بیس سال بعد دوبارہ لگی تھی۔‘‘

رانیہ بھی ہار ماننے پر تیار نہ تھی۔ مجبوراً دانیال کو مداخلت کرنا پڑی۔

’’خدا کے لےے ننھی بچیوں خاموش ہوجائو۔ تم لوگ پیدل کیوں چل رہی ہو۔ ٹرائی سائیکل یا بے شک واکر میں ہی آجاتیں۔‘‘

دانیال جو گردن موڑ کر بات کر رہا تھا کہ اچانک جانے کیا یا دآیا کہ انہیں گیٹ کے قریب چھوڑ کر واپس اندرونی عمارت کی طرف بڑھ گیا۔

ان تینوں نے رک کر اس کے تعاقب میں نگاہیں دوڑائیں۔ وہ ایک دراز قامت نوجوان کے ساتھ ہاتھ ملا کر کچھ بات کر رہا تھا۔

اس شخص پر نظر پڑتے ہی رانیہ کو ایک دھچکا سا لگا۔ اسے ایک نظر دیکھ کر ہی وہ پہچان گئی تھی۔ اس سے ملاقات ہوئی بھی تو ابھی چند منٹ گزرے تھے اب وہ دونوں ادھر ہی آرہے تھے۔ رانیہ نے بے چینی سے ہونٹ کاٹے۔

چھپنے کے لےے کوئی مناسب جگہ بھی دکھائی نہیں دے رہے تھی۔ ایک بار تو جی میں آئی کہ وہاں سے بھاگ جائے مگر پائوں بھی کچھ وزنی سے محسوس ہورہے تھے کچھ اور نہ سوجھا تو اس نے ہاتھ کی اوٹ یوں چہرے کے سامنے کرلی جیسے دھوپ سے بچنے کی سعی کر رہی ہو حالانکہ اگست کی یہ سہ پہر خاصی خوش گوار تھی۔ بادلوں کی سفید اور سرمئی ٹکڑیوں نے آسمان کے چہرے پر ایک غیر مربوط جال بن کر ماحول کو ہلکا سا اودا کر دیا تھا۔

’’یہ ہمارے نئے ہمسائے ہیں۔‘‘ دانیال اس کا تعارف کروا رہا تھا۔ اس انکشاف پر رانیہ کو ایک نئے صدمے نے گھیر لیا۔

’’صائم اعوان۔۔۔ ہمارے ساتھ والا مکان جو گزشتہ تین ماہ سے خالی پڑا تھا۔ اس میں پچھلے ہفتے شفٹ ہوئی ہے ان کی فیملی۔ میں نے ذکر کیا تھا نا ندرت!‘‘

ندرت نے جھٹ اثبات میں سر ہلا دیا حالانکہ اسے اس بارے میں بالکل بھی یاد نہیں تھا۔

اچانک ایک عجیب سا احساس رانیہ کے جسم پر سرسرانے لگا۔ اس نے کن انکھیوں سے صائم اعوان کی طرف دیکھا۔ وہ بھرپور نظروں سے اس کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ بے اختیار وہ سر پر چادر جمانے لگی۔

’’کہیں پہچان ہی نہ لیا ہو۔ پتا نہیں کب ٹلے گا لگتا ہے پہچان گیا ہے۔‘‘ اس کی نگاہوں کی تپش وہ بدستور خود پر مرکوز پاکر اس نے چادر کے پلُو سے چہرے پر لرزتی پسینے کی بوندیں صاف کیں۔

’’میرے چند مہمانوںنے فلم دیکھنے کے لےے آنا تھا۔ لیکن وہ لوگ پہنچے نہیں۔ میرے پاس گیلری کے چھ ٹکٹ ہیں۔ آپ لوگ آجائیں۔ فلم بس ابھی شروع ہی ہوئی ہے۔‘‘ شکر گزاری کے احساس سے انیقہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

’’یا اللہ! تَو کتنا رحیم و کریم ہے۔‘‘ دل میں صائم کو دعائیں دیتے ہوئے اس نے اضطراری کیفیت میں جسم کا بوجھ ایک پائوں سے دوسرے پائوں پر منتقل کیا۔

رانیہ اس صورت حال پر سخت تشویش میں مبتلا ہوگئی تھی۔ صائم کا سامنا کرنے کے خیال سے اس کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔

دانیال اور ندرت کی بے شرمی پر دماغ بھی کھول رہاتھا۔ ان لوگوں نے رسماً بھی انکار نہیں کیا تھا اور یوں اس کے پیچھے بھاگ کھڑے ہوئے تھے جیسے اس فلم سے زیادہ اہم دنیا میں کوئی چیز نہ ہو۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ان کے تعاقب میں قدم گھسیٹتی ہوئی وہ گیلری میں پہنچی۔ اپنی طرف سے اس نے پوری کوشش کی کہ صائم سے پرے ہٹ کر دانیال کے ساتھ والی نشست پر بیٹھ جائے مگر ندرت نے کچھ زیادہ ہی پھرتی دکھائی۔ اسے اتنی مہارت سے دھکیل کر وہ کرسی پر گری کہ رانیہ فقط کوسنے دیتے رہ گئی۔

’’اللہ کرے اس کرسی کے نیچے بم ہو تمہارے پرخچے اڑجائیں۔‘‘

مجبوراً صائم کے ساتھ والی نشست پر ٹکتے ہوئے وہ بڑبڑائی۔

’’جلنے والے جلا کریں۔ ہماری تو جوتی کو بھی پروا نہیں۔‘‘ جواباً اس کی سرگوشی سن کر وہ جل کر رہ گئی۔

’’چلو یہ اندھیرا ہی غنیمت ہے۔ انٹرول تک تو چین سے وقت کٹے گا۔‘‘

اس نے فلم کی طرف توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی۔

انیقہ نے آتے ہی اس بات کی تسلی کرلی تھی کہ کوئی گانا ابھی نہیں گزرا تھا اور اب مونگ پھلیوں کا شاپر گود میں رکھے بڑے اشتیاق سے کسی ’’ایسے ویسے‘‘ گانے کی منتظر تھی۔

اندازاً بیس منٹ تک وہ سب اسکرین کو گھورتے رہے اور پھر باری باری سب نے تاریکی میں ایک دوسرے کے چہرے کھوجنے کی کوشش کی۔

سب کے ہونٹوں پر ملتے جلتے سوال مچل رہے تھے۔

’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ایسا کیوں ہورہا ہے؟‘‘

کوئی بھی یہ بتانے سے قاصر تھا کہ اسکرین پر کیا ہورہا تھا۔ کوئی آرہا تھا کوئی جارہا تھا، کوئی بار بار آرہا تھا سب لوگ ایک دوجے پر چلُا رہے تھے۔ ایسے ہی ناراض تھے نہ جانے وہ اتنا کیوں جھگڑ رہے تھے۔ یہ بات خدا جانتا تھا یا اسکرپٹ رائٹر جانتا تھا۔ وہ بے چارے سیدھے سادے لوگ اس گتھی کو کیونکر سلجھا پاتے۔

’’مجھے لگ رہا ہے میں بہرہ ہوگیا ہوں۔‘‘ دانیال کی غمز دہ آواز سنائی دی۔

’’یہ شک تمہیں کیسے ہوا؟‘‘

’’جب ہیروئن بولتی ہے تو مجھے اس کے باپ کی آواز سنائی دیتی ہے اور جب ہیرو ہونٹ ہلاتا ہے تو لگتا ہے ہیروئن سسکیاں بھر رہی ہو۔‘‘

’’کیا تم یہ بتا سکتے ہو کہ کون سی والی ہیروئن۔۔۔ ویسے یہ بتانا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔ اس فلم میں صرف پانچ تو ہیروئنز ہیں۔‘‘

ندرت نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔

’’انیقہ کو یہ مداخلت ناگوار گزری۔ اس نے ہاتھ جھٹک کر انہیں خاموش رہنے کی ہدایت کی۔

’’ڈبنگ کا کوئی مسئلہ ہوگا خاموش رہو۔ مجھے اسٹوری تو سمجھنے دو۔‘‘

’’یا میرے خدا!‘‘رانیہ نے چیخ کر کہا۔

’’یہ آدمی تو مر چکا تھا یہ پھر کہاں سے آگیا۔ یہ تو سراسر بے ایمانی ہے۔‘‘

’’اوہو، تم لوگ تو بالکل جاہل ہو یہ کمپیوٹر کا دور ہے ، کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

انیقہ نے اس کا اعتراض مسترد کر دیا۔

گانا شروع ہوگیا تھا اس لےے وہ سب سنبھل کر بیٹھ گئے۔ گانا انیقہ کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکا تھا۔

’’یہ اخبار والے کتنا جھوٹ لکھتے ہیں۔ پبلک کو گمراہ کر کے خدا جانے کیا ملتا ہے کم بختوں کو۔‘‘

’’تمہیں ہی شوق تھا فلم دیکھنے کا اب بھگتو۔ ویسے یہ ہیرو مسلح کیوں ہے اچھے خاصے رومانٹک گانے میں بندوق کندھے سے لٹکا کر اکڑا کھڑا ہے۔‘‘

’’یہ سوال آپ نے مجھ سے پوچھا ہے؟‘‘

پہلی بار صائم نے ان کی گفتگو میں مداخلت کی تھی۔ رانیہ نے گڑبڑا کر اس کی طرف دیکھا مگر وہ اسکرین کی طرف متوجہ تھا۔

’’جس قسم کی حرکتیں ہیروئن کر رہی ہے۔ ان کے لےے تو کم سے کم راکٹ لانچر ہونا چاہےے۔ ہیرو بھی آخر انسان ہے۔ زندہ رہنے کا انہیں بھی حق ہے اپنے دفاع کے لےے اتنا تو کرنا ہی پڑتا ہے۔‘‘

’’یہ ہیروئن پچھلے دنوں ایک قاتلانہ حملے میں صاف بچ گئیں۔‘‘

’’چچ چچ۔۔۔‘‘ دانیال کی بات سن کر ندرت نے تاسف سے سر ہلایا۔

’’ویسے تمہیں افسوس کس بات پر ہوا ہے۔ قاتلانہ حملے پر یا قاتلوں کی نا اہلی پر۔‘‘

’’فی الحال تو اپنے آپ پر افسوس ہورہا ہے کاش ! میں انیقہ کے بہکاوے میں نہ آتی۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھوں میں سر جکڑتے ہوئے آہ بھری۔

’’ویسے ایسی ہیروئن آپ کو چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔‘‘ صائم کی ستائش پر رانیہ نے کلس کر پہلو بدلا۔

’’یہ پسند ہے اس کی۔ شکل سے ایسا تو نہیں لگتا۔‘‘

’’دیکھیں نا، اسکرین پر اکیلی ہی پوری آرہی ہے۔ کسی دوسرے کی مجال نہیں جو ان کے ساتھ ٹھہر سکے ۔ ہے کوئی فلمستان میں ایسا گل رعنا۔‘‘

’’نہیں بھائی گل تو مت کہیں یہ تو سراسر توہین ہے محترمہ کی۔ کم از کم چمن یا پھولوں کی کسی بین الاقوامی نمائش کا ذکر کرتے تو قدرے مماثلت بھی محسوس ہوتی۔‘‘ دانیال نے فوراً نکتہ اعتراض اٹھایا۔

’’بھئی مونگ پھلیاں کس کے پاس ہیں۔‘‘ ندرت کے یاد دلانے پر ان سب کو پہلی مرتبہ خیال آیا تھا۔ کیونکہ اب تک فلم کی گمبھیرتا نے انہیں ایسا نرغے میں لیا تھا کہ وہ کوئی دوسری بات سوچنے پر قادر ہی نہیں تھے۔

’’وہ تو شاید میں باہر ہی بھول آئی ہوں۔‘‘ انیقہ نے بڑی پریشان آواز میں بتایا۔

’’اچھا۔‘‘ ندرت کو اس سفید جھوٹ نے سلگایا۔ ’’بھول آئی ہو اور جو پچھلے پون گھنٹے سے کڑک کٹک ہورہی ہے تمہاری طرف سے وہ کیا ہے؟ اللہ سے ڈرو انیقہ پندرہ روپے تو میں نے خود اپنی جیب سے دےے تھے تمہیں۔‘‘

’’اللہ سے ڈرتی تو کیا فلم دیکھنے آتی یہ۔‘‘

بڑی مشکل سے مونگ پھلیوں والا لفافہ برآمد ہوا جس کا تین چوتھائی انیقہ اپنی نذر کر چکی تھی۔

’’رانیہ صائم بھائی کو دو یہ۔‘‘

رانیہ نے لفافہ اس کی طرف بڑھایا تو اس کے بدن میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔ اس کا پر حدت ہاتھ رانیہ کی انگلیوں سے مس ہوا تھا۔

’’کیا اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے؟‘‘ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ خود کو سنبھالنے میں اسے کچھ وقت لگا تھا۔ انٹرول تک وہ گاہے بگاہے ساتھ والی نشست کی طرف دیکھتی رہی مگر وہ سب کے ساتھ فلم پر تبصرہ کرنے میں خاصا مگن نظر آرہا تھا۔ انٹرول ہوا تو اس نے جلدی سے رخ بدل کر چہرے پر آڑا سا پلُو ڈال لیا۔ روشنی پھیلتے ہی اس پرنئے سرے سے گھبراہٹ طاری ہونے لگی تھی۔

وہ سب اٹھ کر باہر جانے لگے مگر وہ بیٹھی رہی۔ خیال تھا کہ سب کے چلے جانے کے بعد اٹھے گی۔

’’آپ نہیں چلیں گی کیا؟‘عین اس کے چہرے کے سامنے آکر وہ پوچھ رہا تھا۔

رانیہ نے بے اختیار تھوک نگلا۔ انگلیوں کی لرزش کو چھپاتے ہوئے ایک کھسیانی مسکراہٹ ہونٹوں پر چپکا کر بمشکل اتنا کہہ سکی۔

’’وہ دراصل۔۔۔ محض ایک غلط فہمی۔۔۔ آپ سمجھ رہے۔۔۔‘‘

اس کے فقرہ مکمل کرنے سے قبل وہ بول پڑا۔

’’جلدی چلےے کچھ کھاپی لیا جائے۔ صرف دس منٹ کا انٹرول ہے۔ اس کے بعد پھر سے وہی سزا شروع ہوجائے گی جس کا نصف حصہ ہم بھگت چکے ہیں۔خدا جانے کیا کیا اور بھگتنا پڑے اس لےے بہتر ہے اعصاب مضبوط کر لےے جائیں۔ خالی پیٹ اتنا ستم سہنا اپنی جان پر ظلم ہے۔‘‘

رانیہ اطمینان کا سانس لیتے ہوئے اٹھ کر اس کے پیچھے ہولی۔ اس کے لہجے میں طنز یا تمسخر کی عدم موجودگی کو محسوس کرکے اسے خاصا سکون ملا تھا۔

’’میرا خیال ہے دوبارہ اس عقوبت خانے میں جانے کے بجائے گھر چلا جائے۔ مجھے تو بڑا ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ دانیال نے سافٹ ڈرنک کا سِپ لیتے ہوئے تجویز پیش کی۔

’’بات ہی ڈرنے کی ہے۔ میں تو حیران ہوں لوگوں کو کیا ہوا ہے۔ بے وقوفی کی انتہا ہے یہ تو وہی بات ہوئی آبیل مجھے اتنا مار کہ میرے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں۔ لوگوںکو چاہےے ٹکٹ کا مطالبہ نہ کیا کریں بلکہ یوں کہا کریں ’’برائے مہربانی تین عدد پریشانیاں دے دیجےے۔‘‘

’’ندرت تمہاری تو عادت ہے دانیال بھائی کی ہاں میں ہاں ملانے کی۔ تم لوگ اسٹوری سمجھ ہی نہیں سکے تو اس میں فلم بنانے والوں کا کیا قصور۔ جب فلم دلچسپی کے اعتبار سے عروج پر پہنچ گئی ہے تو تم لوگ واپس جانے کی بات کر رہے ہو۔ انٹرول کے بعد دیکھنا کیسے کیسے موڑ ہوں گے کہانی میں۔‘‘

’’ان لوگوں کو رسیاں تڑاتے دیکھ کر انیقہ فلم کی حمایت زور و شور سے کرنے لگی۔ ان گانوں کے بارے میں وہ اب بھی پرامید تھی۔ کیا معلوم انٹرول کے بعد آنے ہوں۔ اخبار والوں نے اتنا شور مچایا تھا تو کوئی بات ہوگی ضرور۔‘‘

وہ ان کے مشترکہ فیصلے کے خلاف سختی سے ڈٹ گئی اور فلم کو ادھورا چھوڑ کر جانے سے صاف انکاری ہوگئی۔ مجبوراً ان کو ایک بار پھر ہال میںجانا پڑا تھا۔

پانچویں بار ہال تالیوں کی گونج سے لرزا تو رانیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔

’’خدا غارت کرے ان لوگوں کو۔ تباہ ہوجائے یہ سینما۔‘‘ وہ اتنی بد دل ہوئی تھی کہ لوگوں کو سزا دینے کی خاطر اپنی جان دینے پر بھی راضی تھی۔

’’سر پیٹنے کا مقام ہے اور یہ لوگ تالیاں پیٹ رہے ہیں۔ غضب خدا کا ہیرو دو آمیوں سے کہہ رہا ہے اس پہاڑی کو چاروں طرف سے گھیرلو اور لوگوں کو دیکھو۔ تالیاں بجا بجا کر ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔‘‘ فلم کی حمایت کے لےے انیقہ ایک بار پھر میدان میں اتری تھی۔

’’یہی تو ذہانت ہے رائٹر کی۔ عوام کے لےے پیغام ہے کہ وسائل بے شک کم ہوں گھبرانا ہرگز نہیں چاہےے۔ کیا ہوا جو ہیرو کے ساتھی دو ہیں۔ ان کی ہمت تو سو آدمیوں جتنی ہے نا۔‘‘

رانیہ نے جبڑے بھینچ کر دانت پیسے۔

’’اور کچھ ہو نہ ہو تمہیںمیں زندہ نہیں چھوڑوں گی انیقہ! آج کا دن تمہاری زندگی کا آخری دن ہے۔ کان کھول کر سن لو تم۔‘‘

’’نی مائی جے تیرے ہتوں مر گئے تے اسی گجری نئیں۔‘‘

انیقہ کی طرف سے فلمی جواب سن کر شاید اسے اس قدر صدمہ نہ پہنچتا مگر فقرے میں مائی کا موتی پرو کر اس نے رانیہ کے اعصاب پر بڑی کاری ضرب لگائی تھی۔ اس نے چیخ کر انیقہ کو للکارا۔

’’یہ مائی تم نے کسے کہا ہے؟‘‘

جواب میں انیقہ نے اسے ایک ہنکارے سے زیادہ کا حق دار نہ سمجھا تھا۔ صائم کو ہنستے پاکر اس نے بھی دلی جذبات کو دل میں ہی دفن کر لیا۔ زیادہ شور مچانے سے بات کے مزید بگڑنے کے امکانات تھے۔

’’یا اللہ! مجھ کم سن، نازک اور انتہائی خوب صورت لڑکی کے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔‘‘ صائم اب تک ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اسکرین پر اس وقت جو کچھ دکھایا جارہا تھا اس پر صرف رویا جاسکتا تھا اور وہ بھی اپنے نصیبوں کو۔

یک لخت پورے ہال پر موت کی سی خاموشی طاری ہوگئی۔ سب لوگ ساکت ہوگئے تھے۔ اس نے غور کیا تو کوئی گانا شروع ہوچکا تھا۔ برسات کا منظر تھا کن من کن من بوندیں اور تیز ہوا۔ ابھی تک کوئی اداکار سامنے نہیں آیا تھا مگر لوگوں کو جیسے کسی نے جادو کی چھڑی سے پتھر کے مجسموں میں تبدیل کر دیا ہو۔

لوگوں کی خاموشی کا راز تو تب کھلا جب ہیروئن سامنے آئی۔ ان سب کو جھٹکا سا لگا۔ انیقہ تو جوش کے مارے چیخ اٹھی تھی۔

’’میں نا کہتی تھی۔‘‘ اس کے حلق سے قلقاری نکلی۔

بارش کی بوچھاڑوں میں بھیگی اداکارہ رقص بسمل نہایت عمدگی سے پیش کر رہی تھی اور گانے کے بول۔۔۔ وہ سب ایک دوسرے سے نظریں چرانے پر مجبور ہوگئے۔ استھائی گزری، دانیال دم سادھے بیٹھا رہا۔ گیت انترے تک پہنچا تو اس نے شور مچا دیا۔

’’آنکھیں بند، پردہ، پردہ، خبردار جو تم میں سے کسی نے اسکرین کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا۔ تم تینوں آنکھوں پر ہاتھ رکھو۔ بلکہ ہوسکے تو کانوں پر بھی۔‘‘

انیقہ کی پیشانی پر بھی پسینے کے قطرے چمکنے لگے۔ بے شک وہ مشتاق تھی مگر اس حد کی امید تو اسے بھی نہیں تھی۔ انگلیوں کے رخنوں میں سے اسکرین کو گھورتے ہوئے وہ مسلسل فلم بنانے والوں کو کوس رہی تھی۔

سارا ہال بارش میں شرابور ہورہا تھا۔ سیٹیوں اور تحسین آمیز فقروں کی گونج وقفے وقفے سے سنائی دے رہی تھی۔

’’چلو بھئی چلیں اس جہاں میں گزارہ نہیں۔‘‘ دانیال اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ سب بھی اس کی تقلید میں خاموشی سے اٹھ گئے۔

’’بیٹھ جائو اے آگے سے ہٹو۔‘‘ پچھلی صف سے کسی معمر خاتون نے دہائی دی۔

’’پتا نہیں کون کم بخت لوگ ہیں۔ گز گز بھر کی زبانیں ہیں جو منہ میں ہی نہیںپڑ رہیں۔ پوری فلم میں ان لوگوں نے ایک لمحے کو دم نہیں لیا اور ایک ڈھنگ کا گانا آیا ہے تو سامنے تن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ انہیں کوئی پوچھنے والا ہے کہ نہیں، بے چاری ہیروئن اتنی مشقت کر رہی ہے اور یہ دیکھنے ہی نہیں دے رہے ۔‘‘ بڑھیا کی جگر خراش گفتگو نے دروازے تک ان کا تعاقب کیا۔

باہر نکلتے ہوئے انیقہ نے ایک حسرت بھری الوداعی نظر اسکرین پر ڈالی تھی۔

خاموش، سر جھکائے ہوئے، نڈھال قدموں کے ساتھ ان سب نے سیڑھیاں طے کیں۔ آج کا تجربہ خاصا ہولناک ثابت ہوا تھا۔

دوسرا شو دیکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہوچکی تھی۔ ملگجا اندھیرا در و دیوار پر رینگنے لگا تھا۔ ایک ادھیڑ عمر شخص نے دانیال کے قریب رک کر اس سے ہاتھ ملایا۔

’’کیسی ہے فلم؟‘‘

’’شکل سے آپ شریف آدمی معلوم ہوتے ہیں اور مجھے آپ سے کوئی دشمنی بھی نہیں ہے۔‘‘

اس کی تمہید سن کر اس آدمی کے چہرے پر حیرت بکھر گئی۔

’’خدا کے لےے واپس چلے جائیں۔ اگر آپ نے ٹکٹ خرید لیا تو ساری ذمے داری تو آپ پر عائد ہوگی۔ آپ کیوں اپنی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔‘‘

اسے حیرت میں ڈوبا چھوڑ کر وہ آگے بڑھ گئے۔

’’یہ تو اماں ہی ہیں۔‘‘ انیقہ کے چلُانے پر ان سب کی گردنیں ادھر مڑ گئیں۔

’’واقعی یہ اماں بی ہیں۔‘‘ رانیہ نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے تصدیق کی۔

وہ ایک رنگین پوسٹر سے آنکھیں چپکائے خدا جانے کس تحقیق میں محو تھیں۔ پھر انہوں نے مڑ کر دیکھا اور ان لوگوں پر نظر پڑی تو یکبارگی دل دھک سے رہ گیا۔ کچھ دیر سینے پر ہاتھ دھرے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی رہیں۔

ان کے تیور دیکھ کر وہ سب تیزی سے آگے بڑھے کیونکہ آثار بتا رہے تھے وہ کھسکنے کی فکر میں ہیں۔ وہ یوں ظاہر کر رہی تھیں جیسے انہیں دیکھا ہی نہ ہو۔ ناک پر عینک درست کرتے ہوئے دھیمے قدموں کے ساتھ ان سے کتراکر گزرنے لگیں تو دانیال نے آواز دے ڈالی۔

’’اماں!‘‘

وہ ان سنی کر کے ناک کی سیدھ میں بڑھتی رہیں تو اس نے آگے بڑھ کر کندھوں سے تھام لیا۔

’’ہائے کون ہے۔‘‘ وہ اچھل کر مڑیں، چونکنے کی اداکاری خاصی فطری تھی۔ ان سب کو داد دینا پڑی۔

’’آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘

’’میں جو بھی کر رہی ہوں۔ میں پوچھتی ہوں تم لوگ یہاں کیسے؟‘‘ انہوں نے پاٹ دار آواز میں پوچھا۔

’’واہ میاں! اچھی دھول جھونک رہے ہو بزرگوں کی آنکھوں میں، گھر سے کہہ کر نکلے ایک معاشرتی، سماجی، اخلاقی اور خدا جانے کیا کیا بڑی ہی سلجھی ہوئی فلم دیکھنے جارہے ہیں۔ میں سادہ تم لوگوں کی باتوں میں آکر اجازت دے بیٹھی۔ مجھے کیا خبر تھی یہ گل کھلانے جارہے ہو۔ ہائے میں مرجائوں، یہ جو واہیات گانا ابھی لگا تھا۔ وہ بھی دیکھا ہے تم لوگوں نے۔ دانیال تجھے حیا نہ آئی بہنوں کے ساتھ ایسی بیہودگی دیکھتے ہوئے۔‘‘

لہجے کی گھن گرج سے کوئی بھی متاثر نہ ہوسکا۔

’’یہ تو بتائیں آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘

’’ارے رانیہ!‘‘ انہوں نے ایک بار پھر اس نا پسندیدہ سوال کو نظر انداز کر دیا تھا۔

’’گھر سے تو بڑا کس کے دوپٹا لے کر نکلی تھی۔ یہاں ننگے سر پھر رہی ہے۔ تیری پردے داری بس گھر تک ہی تھی۔‘‘

رانیہ جلدی سے ڈھلکتی ہوئی چادر کو سر پر پیشانی تک کھینچ کر معصومیت سے بولی۔

’’اماں! بالوں میں تیل لگا ہے نا، اسی لےے چادر بار بار پھسل رہی ہے۔ میں تو بہت خیال رکھتی ہوں بس آج۔۔۔‘‘

’’واہ بیٹی واہ! مجھ سے پردہ ہے تیرا، باقی سارا شہر تو تیرا اپنا ہے۔ رہنے دے یہ دکھاوے کی شرافت۔ جب ناچنے نکلے تو گھونگھٹ کیسا۔‘‘

ایک تو وہ اماں کے محاوروں سے بڑی نالاں تھی۔ صائم کیا سوچ رہا ہوگا۔ اس کے سامنے اتنی مٹی پلید کرنے کی کیا تک تھی۔ یہ سارا تماشا گھر جا کر بھی تو ہو سکتا تھا۔

’’اتنا شور اس لےے مچا رہی ہیں اماں کہ سب کا دھیان اصل بات کی طرف سے ہٹ جائے۔‘‘ اس نے صائم کی تلاش میں نظریں دوڑائیں، وہ ان سے قدرے فاصلے پر ایک ستون سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اور بظاہر اس کا دھیان بھی آتے جاتے لوگوں پر تھا۔ اس طرف سے قدرے مطمئن ہو کر وہ اماں کی جانب متوجہ ہوئی۔

بس کریں اماں! ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔ سیدھی طرح بتائیں۔ یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘

’’کرنا کیا ہے۔ تجھے نہیں پتا سینما میں لوگ کیا کرنے آتے ہیں۔ میں کہاں آنا چاہ رہی تھی۔‘‘ اماں نے لہجے میںنسبتاً نرمی پیدا کرتے ہوئے کہا۔

’’وہ رشیدہ میرے سر ہوگئی۔ کہنے لگی میٹنی شو دیکھنے چلیں آپا۔ بس اس کی ضد سے ہار گئی میں ورنہ مجھے کہاں شوق ہے ایسی باتوں کا۔‘‘

اماں کی سادگی پر قربان جانے کو جی چاہ رہا تھا۔ چوبیس گھنٹے ٹی وی کے آگے جم کر بیٹھی رہتی تھیں۔ بیسیوں بار ابا سے جھگڑ چکی تھیں کہ کیبل لگوادیں۔

’’سارا ہال مشٹنڈوں نے سگرٹیں پھونک پھونک کر دھوئیں سے بھر رکھا ہے ۔ میرا تو جی گھبرانے لگا تھا اندر۔‘‘

’’اے ندرت!‘‘ کچھ یاد آنے پر انہوںنے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔

’’ذرا غور سے دیکھ کر بتا اس فوٹو میں بابر علی کی جو مونچھیں ہیں یہ نقلی ہیں کہ اصلی۔ پہلے تو کلین شیو ہوا کرتا تھا بڑا ہی برا لگ رہا ہے ان لٹکی ہوئی مونچھوں کے ساتھ۔‘‘

’’اماں ہمارے ساتھ صائم بھی ہے۔‘‘ دانیال نے اماںکوبازو سے تھام کر صائم کی طرف اشارہ کیا۔

’’اچھا کچھ دنوںسے ساتھ والے مکان میں کھٹ پٹ تو سنائی دے رہی تھی، رشیدہ نے بھی ذکر کیا تھا پر بعد میں مجھے یاد ہی نہ رہا۔‘‘ اس کے تفصیل بتانے پر اماں نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔

’’اسے ادھر بلائو وہاں کیوں کھڑا ہے؟‘‘

’’آپ کا ہی کارنامہ ہے یہ۔‘‘ رانیہ جل کر بولی۔

صائم نے سر جھکا کر اماں کو سلام کیا تھا۔

’’بیٹا ! اپنی امی کو لے کر ضرور اآنا ہماری طرف۔ بس گھر کے دھندوں سے فرصت ہی نہیں ملتی تم لوگ ایک ہفتے سے آئے ہوئے ہو اور ہم میں سے کسی نے مزاج پرسی تک نہیں کی۔ کیا سوچتی ہوگی تمہاری ماں کیسے ہمسائے ہیں۔ دیوار سے پرلی طرف کی خبر نہیں۔‘‘

’’جی آنٹی ضرور۔‘‘

’’جیتے رہو۔‘‘ اماں نے عینک کے عقب سے اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے دعا دی۔

’’اب چلیں اماں!‘‘

’’میں تو ویگنوں کے دھکے نہیں کھا سکتی۔ رشیدہ کے ساتھ رکشے میں واپس آئوں گی اور تمہارے ابا آجائیں تو کہنا رشیدہ کے بیٹے کے لےے رشتہ دیکھنے گئی ہوں شاہدرے۔‘‘ آخری فقرہ انہوں نے رانیہ کے کان میں نہایت آہستگی سے کہا تھا۔

’’لیکن یہ تو لکشمی ہے۔‘‘

وہ بڑبڑائی۔

’’بکواس بند کرو۔‘‘ اماںنے دبی آواز میں گَھر کا اور پھر صائم کی طرف دیکھ کر ایک شفیق مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی۔

’’تم لوگ اب جائو بیٹا اور امی سے میرا سلام کہنا۔ انہیں لے کر آنا ضرور، ایک دیوار ہی تو ہے گھروں کے بیچ۔‘‘

’’میرے پاس گاڑی ہے آنٹی آپ ہمارے ساتھ ہی چلےے۔‘‘

’’اچھا ماشائ اللہ۔‘‘ اماں کے ہونٹ مزید پھیل گئے۔

’’تم لوگ جائو میں آجائوں گی۔ رشیدہ بھی تو ہے نا میرے ساتھ۔‘‘

’’سب بہانہ ہے۔ ابھی دو گانے رہتے ہیں۔ اماں کا دل تو ادھر اٹکا ہے۔چلے کیسے جائیں ہمارے ساتھ۔‘‘

انیقہ نے سر گوشی میں دل کی بھڑاس نکالی۔

جواباً رانیہ نے اسے کڑے تیوروں سے گھورا تھا۔

’’شکر کرو اماں ہمارے ساتھ جانے پہ راضی نہیں ہوئیں۔صائم کے پاس کار ہے کوئی بس نہیں جس میں ہم سب سماجائیں۔ تم جیسی دو دو موٹی بھدی لڑکیوں کے ساتھ پتا نہیں میں کیسے بیٹھوں گی۔ میرا تو اس خیال سے ہی دم گھٹ رہا ہے۔‘‘

رانیہ ایک ادا سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ٹک گئی۔

’’تمہاری پریشانی بجا ہے رانیہ! یہ سیٹ تو صرف تمہارے لےے کافی ہے۔ ہم تو خوامخواہ ٹکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘

ندرت نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے جوابی حملہ کیا۔

’’تم موٹی تمہارا سارا خاندان موٹا۔‘‘

صائم نے ڈیش بورڈ کھول کر ایک کیسٹ منتخب کی اور کیسٹ ریک میں ڈال کر ٹیپ آن کر دی۔

کے گیت سے گاڑی کی فضا بھر گئی۔

رانیہ کو یہ گانا بہت پسند تھا۔ اس کا پائوں خود بخود لے کے ساتھ تھرکنے لگا۔ یک لخت وہ چونک اٹھی تھی۔ بیک ویو مرر میں صائم کی نظریں اسی پرمرتکز تھیں اور ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ کچھ جتاتی ہوئی سی، کچھ دیر تو وہ متحیر رہی پھر اس کے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔ گیت کے بول بچھو کے ڈنک کی طرح اس کی طرف لپکے۔

’’مائی او مائی۔‘‘

اس کی ٹانگ کی جنبش موقوف ہوگئی اور اس نے کینہ توز نظروں سے صائم کو دیکھا۔

’’مائی او مائی‘‘

گلوکارہ اس منحوس لفظ کی تکرار کےے جارہی تھی۔

’’خاصی بوڑھی سی آواز ہے سنگر کی کافی زیادہ عمر کی لگتی ہے۔‘‘

ایک بار پھر صائم کو مسکراتے دیکھ کر وہ کھڑکی کی طرف رخ موڑ کر بیٹھ گئی تھی۔

٭ ٭ ٭

پنکج ادھاس کی مدھر آواز کمرے میں ایک دھیما ارتعاش پید اکر رہی تھی۔ رانیہ آنکھوں پر آلو کے گول ٹکڑے دھرے بیڈ پر دراز تھی اور انیقہ لان میں کھلنے والی کھڑکی کے قریب مطالعے میں مستغرق نظر آرہی تھی۔ اس کے سامنے رائٹنگ ٹیبل پر کتابوں کا انبار دھرا تھا۔ جن میں سے چند منتخب کتابیں اس نے کھول کر بھی رکھی ہوئی تھیں۔ وہ یوں سر جھکائے بیٹھی تھی گویا کورس کی کتابوں کے علاوہ دنیا کی ہر شے سے ناتا توڑ چکی ہے۔ پچھلے ایک گھنٹے سے وہ ایسے ہی محو تھی۔

اس کا انہماک کسی طرح کا دکھاوا نہ تھا بلکہ حقیقتاً وہ کھوئی ہوئی تھی۔ مگر اس فیشن میگزین میں جو اس کے گھٹنوں پر پھیلا ہوا تھا۔ ونیزہ، ارج اور آمنہ حق کی لشکارے مارتی تصویریں، جدید تراش خراش کے ملبوسات جنہیں ڈیزائنرز نے ضرورت سے زیادہ ہی تراش دیا تھا اور جن کو دیکھ کر دل پر خراشیں سی پڑتی تھیں، آنکھوں کوخیرہ کرتی ہوئی جیولری کچھ زیورات تو آرٹ کے نادر نمونے تھے۔ مثلاً لوکی کی بیل سے مشابہہ نیکلس گلے میں پہن رکھا تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ پھٹی پھٹی سی لگ رہی تھیں جیسے کسی کی گردن میں پھندہ کس دیا گیا ہو مگر ظاہر ہے یہ آرٹ تھا اور وہ کتے کے پنجے سے ملتا جلتا جھومر تو بس غضب ڈھا رہا تھا۔ ان سے بڑھ کر ایک پازیب تھی، کسی درندے کے جبڑے او ر اس پازیب میں فقط انیس بیس کا فرق ہوگا۔ یقینا کسی جانور کے دانتوں سے بنی ہوگی تبھی تو دانتوں کا اتنا حقیقی نمونہ پیش کر رہی ہے۔ان سب کے علاوہ رسالے میں میک اپ کرنے کے ایک ہزار ایک گَر بتائے گئے تھے۔ انوکھے اورحیران کَن طریقے۔ کچھ تصویریں دیکھ کر انیقہ دہشت زدہ بھی ہوگئی تھی۔ وہ تو بعد میں غور کرنے پر معلوم ہوا کہ نیو ملینیم میک اپ ٹیکنیکس استعمال کرنے کے بعد ایسا ہی سحر انگیز نکھار پیدا ہوجاتا ہے شخصیت میں کہ دیکھنے والا پہلی نظر میں ہی مرعوب ہو کر رہ جائے۔

اب یہ اس کی کج فہمی تھی کہ وہ ان صفحات کو کسی ہارر فلم کی اشتہاری مہم کا حصہ سمجھ بیٹھی۔ اسی پر موقوف نہیں ایسے ایسے نادر روزگار جوتوں کی تصویریں جنہیں پیروں میں پہننے کے بجائے گلے کا ہار بنانے کو جی چاہتا تھا۔ بالچھڑ کے مرض میں مبتلا کسی بلی کی کھال سے بنا ہوا جوتوں کا جوڑا جس کے ساتھ جلی حروف میں چار ہزار نو سو ننانوے روپے لکھا ہوا تھا۔ اس نے تو انیقہ کے دل پر ایسی ٹھوکر ماری تھی کہ وہ آہ بھر کر رہ گئی۔

اس جہان رنگ و بو میں غوطہ زن ہونے کے باوجود اس کے کان دروازے سے چپکے تھے۔ ذرا سی آہٹ پر وہ چونک جاتی۔ فزکس، کیمسٹری اور بیالوجی کی کتابیں منہ پھاڑے اسے گھور رہی تھیں مگر وہ ان کی طرف دیکھنا بھی اپنی توہین سمجھتی تھی۔اتفاقاً نظر پڑ بھی جاتی تو حقارت سے اس کے چہرے کے عضلات سکڑ جاتے۔ ایک دو بار تو اس نے طیش سے مغلوب ہو کر بیالوجی کی کتاب کے نویں چیپٹر کے صفحات کو مٹھی میں بھینچ کر اس حد تک مروڑا تھا کہ وہ پھٹتے پھٹتے رہ گئے۔

’’ہونہہ بک بک نہ جانے کون فضول لوگ تھے جو ایسے شوشے چھوڑ گئے ہماری جان جلانے کو۔ روزِ قیامت حساب ہوگا۔ کیسی اوچھی حرکتیں کر گئے۔‘‘ وہ پھر سے سنیتا کے لہنگے کی سلوٹوں میں الجھ گئی تھی۔

قدموں کی آہٹ سن کر اس نے ہر ممکن پھرتی سے میگزین کو چھپایا اور زور و شور سے مینلڈلز لا فزکس کی بکس کا مطالعہ کرنے لگی۔ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اماں اندر آگئیں۔ اس دھماکے پر رانیہ کے جسم میں بھی ہلکی سی کسمساہٹ پیدا ہوئی تھی مگر چونکہ پرسکون رہنا ضروری تھا اس لےے بدستور لیٹی رہی۔

’’آج ہانڈی روٹی کا کچھ کرنا ہے کہ نہیں۔ دوپہر ہوگئی مگر ابھی تک کوئی ٹس سے مس نہیں ہوا۔ چھٹی کا دن ہے آج تمہارے ابا کو پورے ڈیڑھ بجے کھانا چاہےے۔‘‘

اماں رانیہ کے سر پر کھڑی تھیں مگر وہ پرسکون رہنے کی پالیسی پر جی جان سے عمل پیرا تھی۔

’’ہائیں، میں نے کچھ کہا ہے رانیہ۔ شاید تجھے سنائی نہیں دیا۔‘‘

اس بار ان کے جارحانہ انداز کو محسوس کر کے رانیہ کے اعصاب تن گئے۔

’’یہ تو کیا کر رہی ہے؟ پاگل ہوگئی ہے کیا؟آنکھوں پر آلو رکھے کیوں لیٹی ہے بولتی کیوں نہیں۔‘‘

اماں کی دھاڑ سن کر مجبوراً اسے لب کشائی کرنا پڑی کیونکہ ان کا لب و لہجہ بتا رہا تھا کہ اب وہ زبان کے بجائے ہاتھ کا استعمال کرنے کو ترجیح دیں گی۔

’’دیکھ تو رہی ہیں اماں! آنکھوں پر آلو کے قتلے رکھ کر لیٹی ہوں۔ اس سے آنکھوںمیں تازگی اور چمک آتی ہے اور اس دوران پرسکون رہنا اشد ضروری ہے مگر اس گھر میں کسی کو احساس بھی ہو۔‘‘

اس بات کے جواب میں ایک دو سیکنڈ کی خاموشی طاری رہی۔ بند آنکھوں کے ساتھ بھی وہ اماں کے تاثراب بخوبی دیکھ سکتی تھی۔ مگر وہ لیٹی رہی البتہ چوکنے انداز میں۔

’’ایسے ہی قتلے کر کے تیرے میں ہانڈی میں ڈال دوں گی۔‘‘ اس کے بچتے بچتے بھی اماں نے وار کر دیا۔ آلو کے قتلوں کے ساتھ ساتھ اس کی چند پلکیں بھی نوچ لی گئی تھیں۔

’’ہڈ حرامی تو ختم ہے اس لڑکی پر۔ ابھی اٹھ جا ورنہ میں تیرا وہ حشر کروں گی کہ۔۔۔‘‘

’’بالکل جلا دلگ رہی ہیں اماں! اور وہ بھی ہلاکو خان کے دربار کا۔‘‘ وہ بیڈ کے دوسرے کنارے پر اماں کی پہنچ سے دور بیٹھ کر آنکھیں سہلا رہی تھی۔

’’کھڑے مسالے کا قیمہ بنانا ہے جلدی شروع ہوجا۔ میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اتنا اچھا پروگرام چل رہا تھا ’’سنڈے برنچ‘‘ ہارون کا ’’پیاریا‘‘ بیچ میں چھوڑ کے آنا پڑا۔‘‘

’’کھڑے مسالے کا قیمہ۔‘‘ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ ’’اسے بناتے ہوئے تو کھڑے کھڑے ٹانگیں سوکھ جاتی ہیں۔ اماں بیٹھے مسالے کا نہ بنالوں۔‘‘

’’کتنی دفعہ کہا ہے میرے ساتھ مسخرہ پن نہ کیا کر۔ کسی روز ٹاٹ گنجی کروا بیٹھے گی مجھ سے۔‘‘

وہ سلیپر میں پیر گھسیڑ کر بڑبڑاتی ہوئی کچن کو چل دی تھی۔

’’تیری پڑھائی بڑے عروج پر ہے؟‘‘ اماں کے معنی خیز لہجے پر انیقہ نے بھولپن سے انہیں دیکھا۔

’’کل ٹیسٹ ہے نا۔ میں نے شرط لگائی تھی اپنی کلاس فیلوز کے ساتھ کہ میں ٹیسٹ میں سب سے زیادہ نمبر لوں گی۔‘‘

’’ماشائ اللہ ایسی ہونہار اولاد۔۔۔‘‘ اماں کے فقرے کا ابتدائیہ سن کر اس نے سکون کا سانس لیا مگر یہ اس کی خوش فہمی تھی۔

’’خدا کسی دشمن کو بھی نہ دے۔‘‘ وہ بڑبڑا کر ان کا منہ تکنے لگی۔

’’بڑی معصوم ہے تَو۔ کیسے پٹر پٹر دیکھ رہی ہے۔ جیسے جانتی ہی نہیں کچھ میں، تیری ماں ہوں تَو میری ماں نہیں۔ سب دیکھ رہی تھی میں چابی کے سوراخ سے مجھے دغا دیتی ہے تَو۔ اٹھ ذرا کرسی سے۔‘‘

وہ تھرتھراتی ہوئی اٹھ گئی تھی۔

گدی کے نیچے سے اماں نے فیشن میگزین برآمد کر کے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔

’’صدقے جائوں تیری چاتری کے۔ اس کا ٹیسٹ دینا ہے تجھے۔‘‘

میگزین کو ہاتھ میں گول کر کے ڈنڈے کی طرح استعمال کرتے ہوئے وہ چلائیں، اس نے بھاگنا چاہا مگر ہلتی کیسے، ایک بازو بھی تو اماں کی گرفت میں تھا۔ چند ایک بھرپور ضربات کے بعد انہوں نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر میگزین کی ورق گردانی کرنے لگیں۔

’’ذرا دیکھوں تو ۔۔۔ کیا لعل جڑے ہیں اس میں جو تجھے پڑھائی کی فرصت نہیں۔‘‘ ایک صفحے پر ٹھٹک کر ایک دھموکا اس کی کمر میں جڑ دیا۔

’’یہ بے حیائی دیکھ رہی تھی۔ پھولے پڑیں تیری آنکھوں میں، ویسے ہے کون یہ دیدہ پھٹی۔‘‘

’’ماڈل ہے اماں! ذرا جدید قسم کے لباس کی ماڈلنگ کر رہی ہے۔‘‘

’’ذرا جدید۔۔۔ توبہ توبہ۔‘‘ اماں نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔

’’ارے پر یہ وہ تو نہیں ہے۔ ایسی پیاری بچی ہے وہ تو جو پچھلے سال اس کا ڈرامہ چلا تھا وہ ندیم والا۔ مجھے تو رلا رلا کے نڈھال کر دیا تھا اس کی اداکاری نے، وہ کب سے ایسی ہوگئی۔ یہ تو کوئی باہر کی لگتی ہے۔‘‘

’’وہی ہے اماں میں کیوں جھوٹ بولنے لگی۔ ذرا غور سے تو دیکھیں۔‘‘

’’اے ہاں، ناک نقشہ تو ملتا جلتا ہے کیا کریں بے چاریاں، پاپی پیٹ کی خاطر سب کرنا پڑتا ہے ورنہ کب دل چاہتا ہوگا ان کا ہائے۔‘‘

اماں نے ایک ٹھنڈی سانس بھر کے رسالے کو سینے سے لگایا اور جاتے ہوئے انجانے میں اپنے ساتھ ہی لے گئیں۔

’’آگ لگے اس پڑھائی کو۔‘‘ انیقہ نے بیالوجی کی کتاب اٹھا کر دیوار پر دے ماری۔ پھر بھی سکون نہ ملا تو انگلش کی کتاب کا کونا دانتوں سے چبا ڈالا۔ رانیہ لہسن کی پوتھیاں تھالی میں رکھے چھت پر آئی اور ندرت کے قریب دیوار پر زور سے تھالی پٹخی۔ وہ الگنی سے کپڑے اتار کر کندھے پر ڈال رہی تھی۔

’’لہسن ذرا جلدی سے چھیل دو۔ کھانا بننے میں آج بڑی دیر ہوگئی ہے۔‘‘ اس پر ایک بے نیاز نگاہ ڈال کر وہ تمسخر سے مسکرائی۔

’’تمہیں یہ خوش فہمی کیونکرہوئی کہ میں یہ کام کردوں گی۔ اتنی سیڑھیاں چڑھ کر آنے کی خوامخواہ مشقت کی تم نے۔ اتنے وقت میں تو تم خود بھی چھیل سکتی تھیں لہسن۔‘‘

’’سارے کام چور، سب مفت کی روٹیاں توڑنے والے۔ ساری ذمہ داریاں میرے سرتھوپ دی گئی ہیں۔ نازک جان اور ایسی کٹھنائیاں، یا اللہ! تَو ہی انصاف کرنے والا ہے۔‘‘

وہ وہیں کھڑی ہو کر لہسن کے چھلکے اتارنے لگی۔

’’اتنی دکھی کیوں ہوتی ہو۔ میں تو خود تمہاری مدد کرنا چاہتی ہوں۔ مگر کیا کروں ناخن خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ابھی پچھلے ہفتے تو مینی کیور کیا تھا۔‘‘ اپنی انگلیاں اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے وہ بولی۔

’’اف کتنی ٹیڑھی میڑھی انگلیاں ہیں تمہاری۔پرے ہٹائو ۔ تم چاہے روزانہ مینی کیور کرو۔ کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ کبھی گدھ کے پنجوں میں بھی ملائمت آئی ہے۔ چاہے لاکھ مساج کےے جائیں۔ مجھے دیکھ لو کبھی احتیاط نہیں کی۔ مگر ہاتھ اتنے نرم و ملائم ہیں جیسے مخمل کے بنے ہوں۔‘‘ اس نے ہاتھ کی پشت کو گال سے مس کرتے ہوئے گویا اپنے بیان پر مہر تصدیق ثبت کی۔

’’کیوں اتنا جھوٹ بول رہی ہو اللہ سے ڈرو۔ کھلے آسمان تلے کھڑی ہو کہیں آسمانی بجلی نہ گر پڑے تم پر۔‘‘

’’ساتھ والے گھر کا جائزہ لیا تم نے؟ کیسے لوگ ہیں، کچھ اندازہ ہوا۔‘‘

سرسری انداز میں کہتے ہوئے چند قدم چل کر وہ اس دیوار کے پاس چلی گئی جو ساتھ والے مکان سے متصل تھی۔ سکھ چین کے پیڑوں کے پتے سنہری دھوپ میں چمک رہے تھے۔ پوربی دیوار پر کاسنی پھولوں والی گھنی بیل ایک سبز بادل کی طرح چھائی ہوئی تھی۔ شاید کچھ دیر پہلے ہی بیل پر پانی چھڑکایا گیا تھا کیونکہ گہرے سبز پتوں پر لرزتی ہوئی پانی کی بوندیں شفاف موتیوں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔ ٹیرس پر، جو ان کی چھت کی سمت نکلا ہوا تھا، کرسیاں رکھی تھیں۔ لان میں ایک آدمی مشین سے بڑھی ہوئی خودرو گھاس کاٹ رہا تھا۔ پورٹیکو کے ایک پلر کی مرمت کی جارہی تھی۔

ندرت نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔

’’تو یہ بات ہے۔‘‘ وہ معنی خیزی سے بولی۔

رانیہ نے مصنوعی حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔

’’کیا بات؟‘‘

’’وہی جو تم سمجھ رہی ہو۔ ویسے جب صبح میں چھت پر آئی تھی تو ایک دفعہ وہ نظر آیا تھا۔ ٹریک سوٹ میں تھا۔ شاید واک وغیرہ کر کے لوٹا تھا۔‘‘

’’تبھی تم بار بار چھت کے چکر لگا رہی ہو۔ لوگوں کے گھروں میں تانک جھانک کرنا شریفوں کا شیوہ نہیں ہوتا ندرت بی بی! میں تو برسبیل تذکرہ پوچھ رہی تھی تم نے مجھے بھی اپنے جیسی ذہنیت کا سمجھ رکھا ہے۔ میری بلا سے وہ ٹریک سوٹ میں ہو یا ساڑھی میں۔‘‘

ندرت نے کندھے اچکا کر کپڑوں کے ڈھیر کو ایک بازو سے دوسرے بازو پر منتقل کیا۔

’’تم جس خیال میں ہو وہ ممکن نہیں۔ اتنا ہینڈسم اور خوب صورت لڑکا تمہیں کہاں گھاس ڈالے گا۔ اس کی بولتی ہوئی بھوری آنکھیں، ذرا سی اوپر اٹھی ہوئی مغرور ناک اور اتنا لمبا چوڑا شان دار قد بت اور پھر ایسا سڈول جسم جیسے برسوں سے ورزش کا عادی ہو۔ نہ رانیہ نہ تمہاری دال یہاں گلنے والی نہیں۔ تمہارے لےے وہ انسٹی ٹیوٹ والا ہی مناسب رہے گا۔ وہ بھی تمہاری طرح کم عقل اور کم شکل ہے۔‘‘

صائم کی تعریف میں اتنا جذباتی ہونے پر رانیہ نے اسے تشکیک آمیز نظروں سے دیکھا۔

’’مجھے گھاس کھانے کا کوئی شوق بھی نہیں۔ خوب صورت ہے تو ہوا کرے۔ میں نے تو اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔ مگر لگتا ہے تم نے کچھ زیادہ ہی غور سے مشاہدہ کیا ہے اس کا۔‘‘

’’اس روز و ہ اتنا گھور جو رہا تھا مجھے۔ کیا کرتی میں۔ ایک دو بار مجبوراً دیکھنا پڑ ہی گیا مجھے۔ میری طرف دیکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک نمی سی تیر رہی تھی جیسے التجا کر رہا ہو۔ میں نے تو اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ میری طرف سے لفٹ کا کوئی امکان نہیں۔ مگر وہ باز ہی نہیں آیا۔ دل کے ہاتھوں مجبور لگ رہا تھا۔‘‘

رانیہ نے ایک زہر خند مسکراہٹ اس کی جانب اچھالی اور گلا کھنکار کر بولی۔

’’تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ شاید تیز دھوپ نے تمہارے دماغ پر برا اثر ڈالا ہے۔ تبھی تو ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو۔ تم نیچے جا کر ایئر کولر کے سامنے بیٹھو اور ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیو، ان شائ اللہ افاقہ ہوگا۔‘‘

’’مجھے پتا تھا۔ میری بات سنتے ہی تم جل کر راکھ ہوجائو گی۔ تم جو بھی کہو مگر تمہیں تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ میں خوب صورتی اور جاذبیت میں تم سے کم و بیش ایک صدی آگے ہوں۔‘‘

’’تمہاری بزرگی میں تو مجھے رتی برابر شبہ نہیں۔ شکر ہے تم نے اپنے منہ سے اقرار کر لیا کہ تم مجھ سے تقریباً اٹھانوے ننانوے برس بڑی ہو۔ تمہاری راست گوئی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔‘‘ رانیہ نے لہسن کے چھلکے ہتھیلی پر اکٹھے کر کے پھونک سے اس کی طرف اڑائے۔

’’جلنے والے کا منہ کالا ہوتا ہے جیسا اس وقت تمہارا ہورہا ہے۔‘‘ ندرت نے تلملا کر کہا۔

’’اللہ کی شان ہے کہ تم جیسی مٹیالے کلر کی، معمولی شکل والی حقیر لڑکی مجھے باتیں سنا رہی ہے۔ ویسے بھی مجھے تمہارے ساتھ اپنا تقابل کرنا نہایت عجیب لگ رہا ہے تمہارا میرا میل ہی کیا ہے۔ کہاں راجہ بھوج اور کہاں گنگو تیلی۔‘‘ اس نے گردن میں شاہانہ تنائو پیدا کرتے ہوئے پلیٹ اٹھائی اور سیڑھیوںکی طرف چل دی۔ سیڑھیوں پر قدموں کی دھمک سن کر اس نے دروازے کی جالی میں سے نیچے جھانکا۔ انیقہ اسے دیکھ کر سیڑھیوں میں ہی رک گئی اور گھٹی ہوئی سی آواز میں بولی۔

’’برابر والی آنٹی آئی ہیں۔ وہ صائم بھائی کی امی۔ اماں بلا رہی ہیں تمہیں آکر سلام کرو۔‘‘ پیغام دے کر وہ تیزی سے واپس پلٹ گئی۔

رانیہ نے مڑ کر پلیٹ پیچھے کھڑی ندرت کی طرف بڑھائی مگر اس کے ہاتھ فارغ ہوتے تو وہ پکڑتی۔ پلیٹ کو نیچے زمین پر رکھ کر اس نے تنبیہی نظروں سے اسے دیکھا۔

’’اب تم منہ اٹھا کر چلی نہ آنا ان کے سامنے۔ اماں نے صرف مجھے آنے کو کہا ہے۔ کتنا برا امپریشن پڑے گا ان پر۔ اس گھر میں کیسی بھیانک اور بد زبان چیزیں بستی ہیں۔‘‘

’’تمہیں تو کوئی پروا نہیں تھی ان کی۔ اب مچل کیوں اٹھی ہو اور میں دیکھتی ہوں مجھے کون روکتا ہے۔‘‘ وہ تن کر آگے بڑھی۔

’’میں جانتی ہوں مجھ سے خوف زدہ ہو تم۔ میری موجودگی میں تم بجھ کر جو رہ جائو گی۔‘‘

’’میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ورنہ میں تمہیں ضرور بتاتی کہ ہیرے اور کنکر میں کیا فرق ہوتا ہے۔‘‘ رانیہ نے اس کے سنبھلنے سے پہلے اس کو پچھلی سمت میں دھکا دیا اور جھٹکے سے سیڑھیوں کا دروازہ کھینچ کر باہر نکلتے ہی کنڈی چڑھا دی۔

’’ایسا عکس ڈالوں گی آنٹی پر کہ آنکھیں خیرہ ہوجائیں گی۔‘‘ ندرت کے کوسنوں کو نظر انداز کر کے وہ قلانچیں بھرتی ہوئی نیچے پہنچی۔ بھاگم بھاگ اپنے کمرے میں آئی اور وارڈ روب کھول کر تیزی سے استری شدہ جوڑوں کا جائزہ لیا۔ چند سیکنڈ بعد وہ کشمشی رنگ کی شلوار قمیص منتخب کر کے واش روم میں گھس گئی۔ باہر آکر اس نے آئینے کے سامنے ٹھہر کر قابل دید پھرتی کے ساتھ دراز بالوں کے بل کھول کر برش کیا اور نیچرل کلر کی لپ اسٹک کی ہلکی سی تہ ہونٹوں پر جماتے ہوئے آئینے میں اپنے عکس کو تنقیدی نظروں سے دیکھا۔

’’خوامخواہ اتنا تردد کیا میں نے۔ میں تو حیران ہوں کوئی اتنا زیادہ خوب صورت کیسے ہوسکتا ہے۔ میری تو سبز آنکھوں کا ہی کوئی مول نہیں۔ ایشوریہ رائے ہوگی مس ورلڈ پر اتنا دم خم کہاں اس میں کہ میرے سامنے ٹھہر سکے۔‘‘ وہ شرما کر مسکرائی اور شانوں پر دوپٹے کو سلیقے سے ٹکاتے ہوئے باہر آگئی۔

کچن کے دروازے کے پاس اماں اور انیقہ کو اکیلے کھڑا دیکھ کر اس کی مسکراہٹ غائب ہوگئی تھی۔

’’کہاں مر گئی تھی تَو۔ جب بلوایا تھا میں نے تو آئی کیوں نہیں۔‘‘

’’آنٹی چلی گئیں کیا؟‘‘ اس نے مایوسی سے پوچھا، بڑی کوفت زدہ ہوئی تھی وہ اس صورت حال سے۔

’’تو کیا بیٹھی رہتی تیرے انتظار میں۔ وہ تو گھڑی کی گھڑی ٹھہری اور چل دی۔ بڑی اچھی عورت ہے۔ اچھی طبیعت کی لگ رہی تھی صالحہ نام ہے۔ پہلے اچھرہ میں رہتے تھے۔ شور شرابے والی جگہ ہے اس لےے یہاں مکان لے لیا۔ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔ اپنا کاروبار ہے۔ شوہر ریڈی میڈ کپڑوں کی دوکان چلاتا ہے پنوراما میں۔ سچ مجھے تو بڑی ہی بھلی لگی صالحہ پر ایک بات اچھی نہیں کی اس نے۔ آتے ہی مجھے آپا بنالیا۔ دیکھنے میں مجھ سے دو چار برس بڑی ہی لگ رہی تھی۔ خیر چھوڑو لوگوں کی تو عادت ہے ننھا بننے کی۔ تم مل لیتیں تو اچھا تھا چلو اب کوئی اچھی چیز پکے تو دے آنا وہ بھی چکن پلائو دینے آئی تھی۔ گھر آنے کے لےے اصرار بھی کر رہی تھی اب رہنے دو وہ قیمہ۔ شام کو کوئی دال سبزی بنالینا۔‘‘

ان آخری جملوں نے اس کے مرجھائے چہرے پر رونق دوڑا دی تھی۔

’’زیادہ چالاک یا خرانٹ وغیرہ تو نہیں لگ رہی تھیں۔‘‘ اس نے پوچھا تو اماں دھیرے سے مسکرائیں۔

’’ارے نہیں سیدھی سادھی عورت تھی بس اللہ بیٹیوں کے نصیب اچھے کرے۔‘‘ اس کی طرف پَرسوچ نظروں سے دیکھتے ہوئے اماں نے زیرِ لب کہا تو وہ جھینپ کر چہرے پر آئی ہوئی لٹ کر مروڑنے لگی۔

’’یہ اوپر کون شور مچا رہا ہے؟‘‘ ندرت کے چلُانے اور دروازہ پیٹنے کی آوازوں نے اماں کو چونکا دیا۔

’’اوہ!‘‘ رانیہ نے یوں سر پر ہاتھ رکھا جیسے کوئی بھولی ہوئی بات یا دآگئی ہو۔

’’نیچے آتے ہوئے میں غلطی سے کنڈی لگا آئی تھی۔ میرے ذہن میں ہی نہیں رہا کہ ندرت اوپر ہے۔ جانا ذرا انیقہ دروازہ تو کھول دینا۔‘‘

’’میں تیرے ابا کو پلائو دے آئوں۔‘‘ اماں کچن میں چلی گئیں تو وہ کپڑے بدلنے کے لےے مڑی۔ اماں بہت عجلت میں لگ رہی تھیں۔ یقینا صالحہ آنٹی کے بارے میں بتانے کی جلدی تھی انہیں۔

ندرت اس کی پشت پر آکر کھنکاری۔

’’میںنے آنٹی کو چھت پر سے ہی سلام کہہ دیا تھا۔ مجھ پر نظر پڑی تو نہال ہوگئیں، کہنے لگیں نیچے آئو بیٹا۔ کوئی پانچویں دفعہ انہوں نے نیچے آنے کی فرمائش دوہرائی تو میں نے وعدہ کرلیا کہ فرصت ملی تو آپ کی طرف آجائوں گی۔ پھر جی بھر کے مل لیجےے گا۔ ادھر سے ہی میری بلائیں لیتی رخصت ہوگئیں اور تو سنو۔۔۔‘‘ اس کے چہرے پر غصے کی سرخی پھیلتے دیکھ کر ندرت نے مزید اونچا سر لگایا۔

’’پیچھے جو مڑی تو دل دھک سے رہ گیا۔ اپنے ٹیرس میں وہ کرسی پر بیٹھا تھا۔ پہلے تو گھورتا رہا گھورتا رہا، پھر ہاتھ کو بڑی آہستگی سے سر تک لے گیا۔ بڑے ہی ڈھکے چھپے انداز میں مجھے سلام کیا اور پھر سینے پر ہاتھ رکھ کر ایک لمبی سی سرد سانس بھری۔ میں تو سٹ پٹا کر رہ گئی۔ تمہیں تو معلوم ہے دھوپ میں میرا چہرہ کیسے تپنے لگتا ہے اوپر سے شرماہٹ کی لالی۔ مجھے لگ رہا تھا میرے گال سورج کی گرمی اور اس کی آنکھوں کی حدُت سے پگھل جائیں گے۔ پسینے پسینے ہوگئی میں تو۔‘‘

اس نے قدم بہ قدم پیچھے ہٹتے ہوئے داستان جاری رکھی۔ رانیہ کے بگڑے ہوئے تیور کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہوسکتے تھے۔

’’تمہاری بات میں اگر اتنی سی بھی سچائی ہے۔‘‘ اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو ملاتے ہوئے ترش لہجے میں کہا۔ ’’تو یقینا اس کی دور کی نظر کمزور ہوگی یا ہوسکتا ہے تمہاری شکل اس کی بچھڑی ہوئی یا مرحومہ وغیرہ بہن سے ملتی ہو۔ ان دو صورتوں کے علاوہ تیسری بات نہیں ہوسکتی اور اگر پھر بھی تم بضد ہو تو چلو آئو میں تمہیں آئینہ دکھائوں۔‘‘ رانیہ نے اسے بازو سے دبوچ کر ایسا زور دار جھٹکا دیا کہ اس کے حلق سے کراہ نکل گئی۔

دانیال نے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔

’’یہ کیا دھینگا مشتی ہورہی ہے؟ ابا کو بتا دینا میں صائم کے ساتھ ہوں۔ صبح اچانک ہی پروگرام بن گیا شادمان جانے کا وہاں صائم کو ملنا تھا کسی آدمی سے جلدی میں بتا نہیں سکا میں۔ ابھی لوٹے ہیں وہاں سے اور یہاں آکر یاد آیا نرسری بھی جانا تھا۔ کچھ ان ڈور پلانٹس چاہئیں ڈرائنگ روم میں رکھنے کے لےے۔ صائم باہر گاڑی میں انتظار کر رہا ہے۔ ابا سے کہنا ایک ڈیڑھ گھنٹے میں واپس آجائوں گا۔‘‘ بتا کر وہ تیزی سے بیرونی دروازے کی طرف بھاگا۔

اماں شاید اس کی آمد سے باخبر ہوچکی تھیں۔ وہ آوازیں دیتی رہ گئیں مگر وہ سنی ان سنی کر کے نکل گیا۔

’’اے لڑکے ذرا ٹک تو گھر میں، صبح سے کہاں مارا مارا پھر رہا ہے۔ تیرے ابا کو کام ہے کوئی۔‘‘ اماں بڑبڑاتی رہ گئیں۔ ’’یہ کیا آندھی کی طرح آئے اور طوفان کی طرح چل دےے۔ گھر سے تو بھاگتا ہے یہ لڑکا آج چھٹی کے دن بھی چین نہیں اسے۔‘‘

دانیال کے جانے کے بعد رانیہ نے ’’اب کیا کہتی ہو۔‘‘ جیسی نظروں سے ندرت کو دیکھا تھا مگر وہ یوں لا تعلق بنی گنگنانے میں مشغول تھی جیسے کوئی بات ہی نہ ہو۔

٭ ٭ ٭

اودے، کالے اور مٹیالے سفید بادل رینگ رینگ کر قریب ہوئے جارہے تھے۔ جیسے ایک دوجے سے سرگوشی میں کچھ کہنا چاہتے ہوں مگر ان میں ٹھہرائو نہ تھا بہے جارہے تھے۔ ایک دوسرے کے تعاقب میں اڑے جاتے تھے۔

کیکر کی پھیلی ہوئی شاخیں ہوا کی تندی سے اِدھر اَدھر جھول رہی تھیں۔ مخملی زرد پھول شاخوں سے جدا ہو کر کبھی ہوا کے ہاتھوں میں جھولتے تو کبھی دیواروں سے ٹکرا کر زرد موتیوں کی طرح بکھر جاتے۔گوریائیں اور شارکیں کیکر کی خاردار شاخوں پر پھولی ہوئی بیٹھی تھیں۔ ہوا کا جھونکا سرسراتا ہوا ہلکے سبز پتوں اور چھوٹے چھوٹے زرد روئی کے گالوں جیسے پھولوں کو جھنجھوڑکر گزرتا تو ان کے پر اور بھی پھول جاتے۔

گھر کے پچھواڑے ایک خالی پلاٹ تھا جس میں کیکر کا ایک درخت ان کے گھر کی دیوار کے ساتھ ساتھ سرکتا ہوا چھت پر جھانکنے لگا تھا۔ اس کی بڑھی ہوئی شاخیں چھت کے ایک گوشے پر برسوں سے سایہ فگن تھیں۔ کیکر کے پیڑ پر گلہریوں کے بے ڈھب گھونسلے تھے جن میں سے پرانے کپڑوں کی بوسیدہ کترنیں، مٹ میلی روئی، پولی تھین بیگ اور مختلف رنگوں کے دھاگے جھولتے رہتے۔پنچھیوں کے غول سارا سارا دن ڈالیوں پر بیٹھ کر انوکھی بولیاں بولتے۔ رانیہ چہکتے پرندوں کو آنکھوں میں تولتے ہوئے کچھ حساب کتاب کر رہی تھی۔

’’بارہ چڑیاں تو گھر کے لوگوں کے لےے ہوگئیں۔ یعنی فی آدمی دو چڑیاں اور ہمسایوں کے لےے اندازاً سات آٹھ۔۔۔ ہوں۔۔۔ یہ ہوگئیں تقریبا انیس بیس۔‘‘ اس نے انگلیوں پر گنتے ہوئے سر ہلایا۔

’’چلو بھئی سب لوگ پوزیشنیں سنبھال لو۔‘‘ اس نے ہدایات دینے کا آغاز کیا تو سب نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھور کر دیکھا۔ مگر کوئی نوٹس لےے بنا اس نے بات جاری رکھی۔

’’میں ادھر چارپائی کے پیچھے بیٹھوں گی۔ رسی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ تم لوگ یوں سمجھو کہ سارا کام مجھے ہی کرنا ہے تم لوگوں کو تو صرف انہیں کڑاہی کے نیچے سے نکالنے میں میری مدد کرنا ہے۔ کیونکہ اگر وہاں چوک ہوگئی تو سارا کام چوپٹ ہوجائے گا۔ یہ چڑیاں خاص طور پر مادہ تو اتنی چالاک ہوتی ہیں کہ خدا کی پناہ۔ اچھا انیقہ! تم سیڑھیوں میں یہ بڑا والا کپڑا لے کر بیٹھو گی اور دانیال اور ندرت تم لوگوںنے بس اس بات کا دھیان رکھنا ہے کہ کوئی کوا چھت پر اترنے نہ پائے۔ ان کی خباثت سے خدا بچائے۔ سیدھا کڑاہی پر لینڈ کریں گے اور ایک بار چڑیاں بدظن ہوگئیں تو پھر انہیںبہلانا آسان نہیں۔مگر تم دونوں بھی ایسی جگہوں پر بیٹھو گے۔ جہاں سے واضح طور پر دکھائی نہ دو۔‘‘

وہ سب اپنی اپنی جگہ پر جمے کھڑے رہے اور ہنوز اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے رہے۔ اتنی مفصل ہدایات کے نتیجے میں ایسا ردُِ عمل دیکھ کر اس نے پیر پٹخے تھے۔

’’تم لوگوں پر اثر کیوں نہیں ہورہا۔ اب دفع بھی ہوجائو۔ یہ بدمعاش چڑیاں اتنی آسانی سے جھانسے میں آنے والی نہیں۔ سوچ سوچ کر کہیں گھنٹے بعد اتریں گی نیچے۔‘‘

آخر کار دانیال نے لب کشائی کی تھی۔

’’خدا کے قہر سے ڈرو رانیہ ! اتنی معصوم چڑیاں۔۔ تمہارا دل نہیں دہلتا ایسی بات سوچتے ہوئے۔‘‘

’’کیوں حلال پرندے ہیں۔ ڈرنے والی تو کوئی بات ہی نہیں۔‘‘

’’مگر ان سے تمہیں ملے گا کیا؟ ان بے چاریوں میں کچھ ہو بھی۔‘‘

’’گوشت ملے گا، ذائقہ ملے گا اور کیا۔ چڑی پکوڑے کھا کر تم سب بھول جائو گے۔ ایسا چٹخارہ تم نے کبھی خواب میں بھی نہیں پایا ہوگا۔‘‘ رانیہ نے ہونٹوں پر زبان پھیر کر گویا تصور میں ذائقے کو محسوس کیا۔

’’مگر کوئی گوشت ہو بھی ان کے جسم پر۔ مجھے تو لگتا ہے ان میں ہڈی بھی نہیں ہوگی بس پروں نے بھرم قائم رکھا ہوا ہے۔‘‘

’’تم لوگوں کے دل میں ہمدردی کا جو سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے یہ اس وقت کہاں جاتا ہے جب تم معصوم مرغیوں، کبوتروں، تیتروں، بٹیروں اور خدا جانے کون کون سے معصوم جان داروں کی بوٹیاں بھنبھوڑتے ہو۔ تب تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا۔‘‘

’’تم جو بھی کہو۔‘‘ ندرت نے نفرت سے ناک سکوڑی۔ ’’میں تم پر لعنت بھیجنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتی۔‘‘

’’ہاں یہ ظلم کی انتہا ہے اور میں اس بھیانک کھیل میں ہرگز شریک نہیں ہوں گی۔‘‘ انیقہ نے بھی صدائے احتجاج بلند کی۔

’’سب کو ان کا احساس ہے۔ میرا کوئی خیال ہی نہیں۔ پچھلے ایک ماہ سے ان خرانٹ چڑیوں کو مانوس کرنے کی کوشش کر رہی ہوں اور دو کلو میرے چاول کھا گئیں یہ۔ وہ کس حساب میں گئے۔ تم لوگوں کو احساس نہیں ہے۔چڑی پکوڑوں کی لذُت کا ۔ ارے وہ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ کے چڑے یونہی تو مشہور نہیں۔ ٹھیک ہے دفع ہوجائو تم لوگ میں اکیلی ہی کر لوں گی سب۔‘‘

’’خوامخواہ کرلو گی۔ میں یہ ظلم ہرگز نہیں ہونے دوں گی۔ اگر کوئی چڑیا تمہارے جال میں آ بھی گئی تو میں پتھر پھینک کر اسے خبردار کردوں گی۔‘‘

’’اور میں وہی پتھر مار کر تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔‘‘ رانیہ ، ندرت کے عزائم جان کر چلُائی۔

’’مجھے کسی کی مدد نہیں چاہےے، میں اکیلی ہی کافی ہوں۔‘‘

’’تم جیسی ڈائنیں اکیلی ہی کافی ہوتی ہیں۔‘‘

ندرت نے اس سے زیادہ بلند آواز میں چلاتے ہوئے کہا۔

’’ٹھیک ہے پھر پکوڑے کوئی نہ مانگے مجھ سے۔‘‘

اس نے قطعی انداز میں کہہ کر اپنے قریب پڑی ٹوٹے کنڈوں والی پیتل کی پرانی کڑاہی اٹھائی اور کسی مناسب جگہ کا انتخاب کرنے کے لےے دائیں بائیں نظریں دوڑائیں۔ ابھی وہ معائنہ ہی کر رہی تھی کہ انیقہ سات آٹھ انچ لمبی دو شاخہ لکڑی، جس کے ساتھ رسی بندھی تھی، ہاتھ میں لےے اس کے قریب آگئی۔ اس نے تحسین آمیز نگاہوں سے انیقہ کو نوازا تھا۔

’’دانیال اور ندرت یک آہنگ ہو کر چیخے۔

’’یہ کیا ہورہا ہے۔‘‘

’’بے چاری اتنا اصرار کر رہی ہے تو ٹرائی کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔ کیا معلوم چڑی پکوڑے بہت ہی زیادہ مزے دار ہوں۔‘‘ اس نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا اور چاولوں سے مٹھی بھر کر احتیاط سے کڑاہی کے نیچے بکھیرنے لگی۔ جس کے کنارے تلے دو شاخہ لکڑی اٹکا کر رانیہ نے چھجہ سا تیار کر دیا تھا۔

’’احتیاط سے چاول کناروں سے باہر نہ گرانا۔ ورنہ باہر سے ٹھونگ کر رخصت ہوجائیں گی۔‘‘

رانیہ ایک بوسیدہ بوری پہن رہی تھی۔ جس میں تین گول سوراخ بنا کر اس نے سر اور بازو گزارنے کی گنجائش پیدا کر لی تھی، دراصل وہ بوسیدہ ٹاٹ میں ملبوس ہو کر ماحول کا حصہ نظر آنا چاہتی تھی۔ اگر چڑیوں کو چارپائی کے پیچھے اس کی موجودگی کا احساس ہوجاتا تو ان کے چوکنا ہوجانے کا خدشہ تھا۔

لکڑی سے منسلک رسی پکڑ کر وہ چارپائی کے پیچھے بے حس و حرکت بیٹھ گئی۔ دانیال اور ندرت کو بڑی دقُتوں سے منظر سے غائب کیا تھا۔ تاہم وہ نیچے جانے کے بجائے سیڑھیوں میں جمے ہوئے تھے۔ ان کے شر پسندانہ عزائم کی وجہ سے بھی وہ متفکر تھی۔

کچھ دیر بعد چڑیوں نے چھت پر اترنا شروع کیا تو وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔ بادلوں کے چھوٹے بڑے ٹکڑے آپس میں مدغم ہو کر ایک پھیلی ہوئی بے پناہ کشادہ سرمئی شال کے روپ میں ڈھل چکے تھے۔ جسم کو چھو کر گزرتی ہوا میںنمی کا رچائو تھا۔ چھ سات چڑیاں کڑاہی کے نیچے گھس کر چاول چگنے لگیں تو اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔

بھیگے بھیگے پروں والی چڑیوں کو حریصانہ نگاہوں سے آخری بار گن کر وہ رسی کھینچنے والی تھی کہ سیڑھیوں کی طرف سے ایک ہاہا کار مچ گئی۔ بوکھلا کر اس نے رسی کھینچ لی۔ بہت سی چڑیاں کڑاہی گرنے سے قبل ہی پھر سے اڑ گئی تھیں۔ ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ کو اس نے دل پر تازیانے کی طرح محسوس کیا۔ آنسوئوں سے بھری آنکھوں سے اس نے سیڑھیوں کی سمت دیکھا تو دانیال اور ندرت کے چہروں پر فتح مندی کی چمک دیکھ کر اس کا لہو گویا کنپٹیوں میں ٹھوکریں مارنے لگا۔

ایک جست لگا کر اس نے چارپائی کے پیچھے سے نکلنے کی کوشش کی مگر بوری میں پھنسے ہونے کے باعث محض لڑکھڑا کر رہ گئی۔

تیزی سے قریب پڑی اینٹ اٹھا کر ان کی جانب اچھالی مگر اپنا ہی ہاتھ مڑ کر رہ گیا۔ ان کی ہنسی زہریلے تیروں کی مانند جسم میں پیوست ہورہی تھی۔

اس کے بعد جو اس کے ہاتھ میں آیا دیکھے بغیر ان کو مارنے لگی۔ معاملے کو سنگین صورت حال اختیار کرتے دیکھ کر ان دونوں نے کھسک لینے میں عافیت جانی تھی۔ کسی ہارے ہوئے جواری کی طرح نڈھال قدم اٹھاتی وہ اوندھی پڑی ہوئی کڑاہی کے پاس پہنچی تھی۔ مگر قریب جا کر اچھل پڑی۔

’’بھاگ کر آئو انیقہ! ہم کامیاب ہوگئے ہیں۔ دو یا تین چڑیاں تو ضرور ہی پھنس گئی ہیں۔‘‘

خاصے تردد کے بعد وہ کڑاہی تلے سے دو چڑیاں برآمد کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ ایک تورانیہ کے ہاتھ میں آکر بھی اڑ گئی تھی۔ اتنی زور سے اس کی انگلی پر کاٹا تھا کہ وہ بلبلا کر گرفت ڈھیلی کرنے پر مجبور ہوگئی۔‘‘

’’میں کہہ رہی تھی نا بڑی بدمعاش ہوتی ہیں یہ چڑیاں۔ کیسے وحشی درندے کی طرح چمٹ گئی میری انگلی سے بوٹی اکھڑنے میں بس ہلکی سی کسر رہ گئی تھی۔‘‘ اس نے انگلی سہلاتے ہوئے محصور چڑیوں کو انتقاماً گھورا۔

انیقہ مایوسی سے منہ لٹکاتے ہوئے بولی۔

’’پکوڑے تو بس دو ہی بن سکیں گے۔‘‘

’’ان بدبختوں نے دغا دے دیا۔ ورنہ۔۔۔‘‘ بات کرتے ہوئے اس کی نظر ساتھ والے گھر کی طرف غیر ارادی طور پر پڑی تو اس کی آواز حلق میں گھٹ کر رہ گئی۔ ٹیرس پر صائم سفید ریلنگ پر ہاتھ دھرے کھڑا تھا اور مسلسل اسے دیکھ رہا تھا خدا جانے کب سے وہ وہاں پر موجود تھا۔ پتا نہیں کیا کیا سن لیا ہوگا۔ وہ لوگ بول بھی تو اتنی اونچی آواز میں رہے تھے۔ اسے چڑیوں کے متعلق کی ہوئی باتیں یاد آئیں اور اپنے موجودہ حلےے یعنی بوری کا دھیان آیا تو زمین آسمان گھومتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اس وقت اس کی مٹھی میں ایک عدد چڑیا بھی کسمسا رہی تھی جسے چند لمحے پہلے آنکھوں سے قریب لا کر وہ با آواز بلند دھمکا رہی تھی اسے لگ رہا تھا وہ کسی بھی لمحے بے ہوش ہو کر گر جائے گی۔ اچانک انیقہ کی غیر موجودگی کو محسوس کر کے اس نے قریبی دیوار کا سہارا لیا۔ شرمندگی کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ لرزتے ہاتھ سے چڑیا کو آزاد کرتے ہوئے اس نے مڑ کر بھاگنے کی سر توڑ کوشش کی مگر کم بخت بوری اس کوشش کی راہ میں دیوار بن کے حائل ہوگئی۔

’’ارے وہ چڑی پکوڑوں کا کیا ہوگا؟‘‘ صائم کی مسکراتی آواز اس کے اعصاب پر ہتھوڑے کی طرح پڑی تو ساری ہڈیاں کڑ کڑا کر رہ گئیں۔

’’میں تو سوچ رہا تھا آج ہم بھی چڑی پکوڑے اڑائیں گے مگر آپ تو میدان چھوڑ کر جارہی ہیں۔‘‘

خود کو بوری کے شکنجے سے نجات دلانے کی جدوجہد کرتے ہوئے بمشکل وہ سیڑھیوں کے دروازے تک پہنچی تھی۔ دھندلائی ہوئی آنکھوں سے سیڑھیاں اسے کسی جھولتے ہوئے پل کی طرح ڈولتی نظر آرہی تھیں۔

٭ ٭ ٭

اکنامکس کا پیریڈ لینے کے بعد وہ دونوں لائبریری میں آگئی تھیں۔ رانیہ کا موڈ سخت خراب تھا۔ سر نے ساری کلاس کے سامنے اتنے شان دار ریمارکس جو دےے تھے۔

’’اعلان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ وہ میز پر کہنی ٹکاتے ہوئے بڑبڑائی۔

’’میرے مارکس تھوڑے سے کم تھے تو کیا قیامت آگئی۔ ہونہہ اسے فریم کروا کے ڈرائنگ روم میں سجائےے۔‘‘ سر کا کہا ہوا جملہ یاد آیا تو حلق میں کڑواہٹ گھل گئی۔

’’وہ تو میں لحاظ کر گئی ورنہ ایسی کھری کھری سناتی کہ دماغ ٹھکانے آجاتے۔ پڑھانا تو آتا نہیں ہے سر کو۔ لیکچر ڈلیور کرتے ہوئے ناک میں بولتے ہیں مگر بے عزتی کرنی ہو تو گلے کی گراریاں بہتری کنڈیشن میں آجاتی ہیں۔‘‘

ندرت نے اس کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے ’’اکانومسٹ‘‘ کا تازہ ایڈیشن اپنے سامنے پھیلا لیا۔

’’یہ ایک نمبر دینے کی بھی کیا ضرورت تھی۔ نرا احسان کیا۔‘‘

ندرت نے نظر اٹھا کر ایک لمحے کو اس کا تپتا چہرہ دیکھااور سر جھکاتے ہوئے بولی۔

’’وہ تو منفی نمبر دینا چاہ رہے ہوں گے مگر کیا کرتے۔ ایسا دستور ہی نہیں ہے۔‘‘

’’بکواس بند کرو اور اکانومسٹ میں سر گھسیڑ کر کیا ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو۔‘‘ رانیہ نے رسالہ جھپٹ کر پرے اچھال دیا۔

’’میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں۔ تمہارے فرشتے بھی اس کی زبان نہیں سمجھ سکتے تمہارے چار پانچ نمبرآ ہی گئے ہیں تو اتنا اکڑنے کی ضرورت نہیں۔ رعب ڈالنے کے لےے اکانومسٹ کھول کر بیٹھ گئی ہو۔ انگلش تو پڑھنی آتی نہیں تمہیں پنجابی میڈیم اسکولوں میں مرغی بنتے بنتے عمر گزر گئی تمہاری اور اب مجھ جیسی انٹلکچوئل لڑکی پر رعب جمانے کی کوشش کر رہی ہو۔‘‘

’’تمہارا انٹلکچوئلزم تو وقتاً فوقتاً کھل کر سامنے آتا ہی رہتا ہے۔ انگلش پر تو تمہیں خطرناک حد تک عبور حاصل ہے وہ پہلے دن کا قصہ یاد ہوگا تمہیں۔‘‘

’’لیلیٰ کی ایک آنکھ دوسری سے چھوٹی نہیں ذرا دیکھو تو وہ بیٹھی ہے کارنر میں۔‘‘ رانیہ نے بات کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی مگر ندرت کو ٹریک سے ہٹانا آسان نہیں تھا۔ کوئی دھیان دےے بغیر اس نے سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا۔

’’جب تم نے اکائونٹنگ کے پیریڈ میں کھڑے ہو کر نہایت ادب سے گزارش کی تھی۔ سر مے آئی گو ٹو ڈرنک باتھ روم۔‘‘ کتنی دیر تو سر سمیت ساری کلاس تمہارے جملے کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کرتی رہی تھی پھر وہ قہقہے پڑے کہ۔۔۔‘‘

’’ہاں ہاں پتا ہے مجھے۔ کتنے قہقہے پڑے۔ چمڑے کی زبان ہے۔ پھسل ہی جاتی ہے۔ تم تو خوامخواہ کی حاشیہ آرائی کر رہی ہو۔‘‘ رانیہ نے دل ہی دل میں اسے بے شمار بد دعائیں دے ڈالی تھیں۔ جن میں زبان میں کیڑے پڑنے والی اور یاد داشت معطل ہونے کی خواہشات سر فہرست تھیں۔

’’ارمغان تو ہنستے ہنستے کرسی سمیت پیچھے الٹ گیا تھا اور سر نے ڈائس کا سہارا لے کر خود کو سیدھا کھڑا رکھا ہوا تھا۔ بڑی مشکل سے انہوں نے تمہیں باہر جانے کے لےے کہا اور تمہاری ہی وجہ سے انہیں درخواست کرنا پڑی کہ آئندہ کسی کو باہر جانا ہو تو برائے مہربانی خاموشی سے اٹھ کر چلاجائے، پوچھ کر شرمندہ نہ کرے۔‘‘

’’گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا حاصل۔ مٹی ڈالو اس معمولی سی بات کو لے کر بیٹھ گئی ہو۔‘‘ رانیہ نے انتقام کی لہر کو دل میں دباتے ہوئے خاصی دقُت سے یہ فقرات کہے۔

’’ویسے تم لائبریری میں آئی کس لےے ہو؟‘‘

’’پرسوں کی Presentation کے لےے مواد اکٹھا کرنے کا سوچ کر آئی تھی۔ ماہم بتا رہی تھی اکانومسٹ کے نئے ایڈیشن میں ایک زبردست فیچر شائع ہوا ہے۔ وہ پڑھ لو سارا مسئلہ حل ہوجائے گا مگر فیچر دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے تو اندھیرا چھا گیا ہے۔ پتا نہیں کیا الا بلا لکھا ہوا ہے میرے تو سر سے گزر گیا۔ سر نے بھی کون سا ٹاپک اٹھا کر دے دیا ’’دنیا سے غربت کا خاتمہ کرنے میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا کردار‘‘ یہ کوئی موضوع ہے۔ غریبوں کا خاتمہ کرنے کے سلسلے میں مالیاتی اداروں کی کاوشوں کا تذکرہ کرنا ہوتا تو کوئی بات بھی تھی۔‘‘

رانیہ نے اسے پسلی میں کہنی سے ٹہوکا دیا تو وہ خاموش ہو کر مفسرانہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی مگر پھر اس کے بتائے بنا ہی سمجھ گئی۔

رفعت زیاد ٹیبل کی پرلی طرف ان کے عین سامنے کرسی سنبھال چکا تھا اور اب ٹکٹکی باندھے رانیہ کو دیکھے جارہا تھا۔

’’اچھا بھئی میں تو چلی۔ تمہیں تو بڑی اچھی کمپنی میسر آگئی ہے۔‘‘ ندرت اسے چڑانے کی خاطر اٹھنے لگی تو اس نے بازو سے کھینچ کر اسے واپس بیٹھنے پر مجبور کر دیا۔

’’ٹانگیں توڑ دوں گی۔ خاموشی سے بیٹھی رہو۔‘‘ رانیہ کی آواز میں شدید طیش تھا۔

اس لڑکے کو دیکھتے ہی اس کا دماغ کھولنے لگتا تھا جب سے وہ کلاس میں آیا تھا۔ ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑا تھا۔ کلاس روم میں، لائبریری میں، کینٹین ،کمپیوٹر لیب ہر جگہ اس کی نظریں رانیہ کے چہرے سے چپکی رہتیں۔ ویگن کے انتظار میں اسٹاپ پر کھڑی ہوتی تو بائیک لے کر اس وقت تک وہاں موجود رہتا جب تک وہ ویگن میں سوار نہ ہوجاتی۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی تھی۔ بہانے بہانے سے مخاطب کرنے کی کوشش کرتا۔

’’آپ کے پاس ایم ایس ایکسل کے نوٹس ہوں گے۔‘‘

’’مس رانیہ! آج پاکستانی کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس بڑی شان دار رہی۔‘‘

’’آج اکنامکس کا لیکچر کچھ پھیکا سا تھا۔ سر اکرام اپنا پوائنٹ آف ویو موثر طریقے سے سمجھا نہیں پائے۔‘‘

’’مس رانیہ! یہ توس ضرورت سے زیادہ سینکے ہوئے نہیں لگتے۔‘‘

وہ اس سے جتنا چڑتی تھی اسی قدر وہ بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا تھا۔ حلیہ بھی تو خاصا عجیب سا تھا۔ بال کندھوں پر لٹکے ہوئے تھے جو چلنے پر باقاعدہ آگے پیچھے جھولتے تھے۔ قد غیر ضروری حد تک دراز تھا جس کے باعث کندھے کسی جل ککڑی کے پرندوں کی طرح آگے کی سمت ذراسے جھکے ہوئے تھے۔ بات کرتے ہوئے نچلے جبڑے کو یوں گھماتا تھا جیسے چکی کا پاٹ چل رہا ہو۔

رانیہ اس کی نظروں سے کبھی بھی خائف نہیں ہوتی تھی کیونکہ خوف زدہ ہونے والی کوئی بات سرے سے تھی ہی نہیں۔ البتہ اس کے مسلسل تعاقب اور غیر معمولی ڈھٹائی سے عاجز ضرور آگئی تھی۔

’’مس رانیہ!‘‘ اس نے انگلیاں چٹخاتے ہوئے متذبذب انداز میں اسے پکارا وہ یوں بن گئی جیسے سنا ہی نہ ہو اور خود کو ’’ دی نیشن‘‘ کے شوبز نیوز والے صفحات میں محو ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگی۔

’’وہ بلا رہے ہیں رانیہ!‘‘

اس نے ندرت کی پنڈلی پر زور سے ٹھوکر ماری اور پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی۔

’’تو جواب دے دو نا مجھے کیوں بتا رہی ہو۔‘‘

’’لگتا ہے آپ اکنامکس کے ٹیسٹ میں کم مارکس آنے کی وجہ سے اپ سیٹ ہیں۔‘‘

رفعت کے فقرے نے اس کے تن میں آگ سی بھڑکا دی اور جلتی پر تیل کا کام ندرت کے بے ساختہ مسکراہٹ نے کیا۔ وہ تو پھٹ ہی پڑی۔

’’میرے پاس غیر ضروری سوالوں کا جواب دینے کا وقت نہیں ۔آپ دیکھتے نہیں میں پڑھ رہی ہوں اور آپ کو باتیں بگھارنے کے لےے میں ہی ملی ہوں۔ کتنی ٹیڑھی، میڑھی، اڑنگ بڑنگ لڑکیاں اِدھر اَدھر بکھری ہوئی ہیں۔‘‘ اس نے خاص طور پر اپنے ساتھ بیٹھی ندرت کا اور کارنر والی ٹیبل پر براجمان لیلیٰ اور سطوت کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تھا۔

’’سب ہی فارغ بیٹھی ہیں۔ کسی کا بھی دماغ کھائےے مگر خدا کے لےے مجھے بخش دیجےے۔‘‘

اس کی پرجلال آواز پورے کمرے میں گونجی تو لائبریرین نے اسے فہمائشی نظروں سے دیکھا مگر اس کے پاس فرصت ہی کہاں تھی۔ ادھر توجہ دینے کی بہت سی گردنیں اس کی طرف مڑ گئی تھیں۔

’’ٹیسٹ میں اس سے بھی کم نمبر لوں گی میں۔ کوئی مجھے روک کر تو دکھائے۔‘‘ ٹیبل پر مکا مارتے ہوئے اس نے اپنا بیگ بغل میں دبایا اور پیر پٹختی ہوئی باہر نکل گئی۔

رفعت کے چہرے پر کسی صدیوں کے بیمار جیسی مردنی چھائی ہوئی تھی اور لٹکتے ہوئے بالوں والا سر لمحہ بہ لمحہ ٹیبل سے قریب تر ہوا جارہا تھا۔ کچھ دیر بعد ندرت بھی کرسی دھکیل کر اٹھ گئی کیونکہ وہاں بیٹھنا اب ممکن نہ رہا تھا۔

کینٹین میں کائونٹر کے پاس کھڑی رانیہ اپنا آرڈر نوٹ کروا رہی تھی۔ اس نے خالی جگہ کے لےے چاروں طرف نگاہ دوڑائی لیکن مایوسی کا سامنا ہوا۔ کوئی بھی ٹیبل اس وقت خالی نہ تھی۔ ’’میرے لےے ایک کوک اور سموسوں کا کہہ دینا۔ صبح ڈھنگ سے ناشتا کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔‘‘

’’تمہارے منہ میں جو ڈیڑھ گز کی زبان ہے۔ اسے استعمال کرو۔‘‘ رانیہ کی طرف سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی سو اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔

’’پیسے نہیں ہیں میرے پاس، ہوتے تو تم سے کیوں کہتی بھلا۔‘‘

’’کہہ کر بھی تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر پیسے نہیں ہیں تو پینے کے لےے تمہیں صبر کا گھونٹ میسر آسکتا ہے۔‘‘ اس نے کورا جواب دیا۔

’’اور کھانے کے لےے؟‘‘ ندرت کی بات کا کوئی مناسب جواب دینے کے لےے وہ منہ کھول رہی تھی لیکن جھولتے ہوئے بالوں کو اپنے قریب سے گزرتے دیکھ کر اس کے ہونٹ سختی سے آپس میں پیوست ہوگئے۔

’’میں رفعت سے جا کر کہتی ہوں۔ رانیہ کو کچھ پیسے چاہئیں۔ تم دیکھنا میرا مسئلہ فوراً حل ہوجائے گا۔‘‘ ندرت چہکی تو رانیہ کا دل سر پیٹ لینے کو چاہا۔

وہ اپنے جیسے ایک مجہول سے لڑکے کے ساتھ بیٹھ چکا تھا اور اب منہ لٹکائے بڑی کربناک نگاہوں سے اسے تکے جارہا تھا۔

’’لگتا ہے بے چارہ معذرت کرنا چاہ رہا ہے۔ لیکن ڈر کے مارے ہمت نہیں پڑ رہی مجھے تو ترس آرہا ہے۔ کیسی مسکین صورت بنائے بیٹھا ہے۔ تم ذرا ہنس کربات کرلیا کرو تو قیامت آجائے گی۔‘‘ ندرت کی ہرزرہ سرائیاں جاری تھیں۔

رانیہ چند لمحے خاموشی سے گہرے گہرے سانس لیتی رہی گویاہو اسے توانائی کشید کررہی ہو اور پھر بڑے پرسکون لہجے میں بولی۔

’’تم کم از کم آہستہ تو بول سکتی ہو ندرت۔۔۔ یہ ہمارا گھر نہیں ہے چائے کا کہہ دوں۔ کوک کے لےے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔‘‘

ندرت نے حیرت سے اسے دیکھا۔ رانیہ اور ایسا ٹھنڈا میٹھا انداز۔ چند لمحے تو اسے اپنے کانوں پریقین نہیں آیا تھا۔

تھوڑے سے انتظار کے بعد ایک میز خالی ہوگئی تو وہ دونوں ادھر بیٹھ گئیں۔ رانیہ اِدھر اَدھر کی باتیں چھیڑ بیٹھی تھی۔ انداز میں خلافِ معمول ٹھہرائو تھا۔ ندرت نے غصہ دلانے والی کوئی بات کی بھی تو وہ مسکرا کر ٹال گئی۔اس کے بدلے ہوئے اطوار دیکھ کر ندرت کی دل میں کھد بد سی ہونے گی تھی۔ رانیہ کی یہ خوش مزاجی حلق سے اتر نہیں رہی تھی۔ کچھ تھا ضرور مگر کیا تھا؟ اس کا اندازہ اسے نہیں ہورہا تھا۔

’’تم یہ والا سوٹ بہت پہنتی ہو ندرت؟‘‘ رانیہ نے اچانک پوچھا تھا۔

’’کہیں مانگنے والی تو نہیں ہو ایک ذرا سی چائے کے بدلے اتنی بڑی قربانی کی متحمل نہیں ہوسکتی میں۔‘‘ اپنے پسندیدہ ترین سوٹ پر اس کی عجیب سی نظریں جمی پاکر اس کا ماتھا ٹھنکا تھا۔

’’ارے نہیں، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ میںمانگ تھوڑی رہی ہوں۔ میں تو ویسے ہی پوچھ رہی تھی۔ یہ کلر جچتا ہے تم پر۔‘‘

’’اچھا واقعی۔‘‘اس نے بے یقینی سے کہا۔

’’دانیال بھی کہہ رہا تھا تم ان کپڑوں میں بہت اچھی لگتی ہو، ہوسکے تو روز یہی پہنا کرو۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے تم بہن بھائی کی چوائس بہت ملتی ہے۔ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔‘‘

’’نہیں اتنی بھی نہیں ملتی۔ بعض معاملات میں دانیال کی چوائس اتنی گھٹیا اور تھرڈ ریٹ ہوتی ہے کہ توبہ ہی بھلی۔‘‘

’’مثلاً کس معاملے میں؟‘‘ ندرت کے نتھنے پھولنے پچکنے لگے۔

’’یاد نہیں تمہیں پچھلے مہینے جب اسے اماں نے اپنے لےے چوڑیاں لانے کا کہا تھا تو کیسے شاہکار اٹھالایا تھا۔‘‘

اس نے رانیہ کی بات کو شک کے ترازو میں تول کر نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی مگر اس کی آواز میں سادگی اور لاپروائی کے سوا کچھ نہ تھا۔

’’ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے مگر اسے عورتوں کے معاملات کی کیا خبر۔ مامی کو بھی تو شادی والے گھر جانے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے چوڑیاں کا یاد آیا تھا۔‘‘

’’میں چائے لے آئوں ۔ کائونٹر بوائے اشارہ کر رہا ہے۔‘‘ رانیہ اٹھ گئی تو ندرت کی حیرانی ایک سیڑھی اور طے کر گئی۔

’’میں لے آتی ہوں۔ پیسے بھی تمہارے اور اس قدر عاجزی۔ رانیہ آرام سے بتادو تمہارا ارادہ کیا ہے۔‘‘آخر کار اس نے کھل کر کہہ ہی دیا۔

’’اوہو ندرت! تم تو ہمیشہ مجھے شک کی عینک سے ہی دیکھتی ہو۔ آخر ہمارا اتنا قریبی رشتہ ہے کوئی دشمن تھوڑی ہیں ہم۔‘‘ پتا نہیں کیوں اسے لگا کہ رانیہ دانت پیس رہی تھی۔

’’رفعت سے کہہ دو وہ لے آئے گا۔‘‘ اس نے ایک اور حربہ آزما دیکھا لیکن رانیہ تو آج حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ محض مسکرا کر کائونٹر کی طرف چل دی۔

’’یا اللہ خیر۔۔۔۔‘‘ ندرت نے زیرِ لب دعا مانگتے ہوئے رانیہ کو دیکھا۔ وہ ٹرے اٹھائے سہج سہج قدم اٹھاتی واپس آرہی تھی۔

ٹیبل کے قریب آکر وہ ٹرے رکھنے کے لےے جھکی لیکن اچانک یوں لڑکھڑائی جیسے پائوں مڑ گیا ہو۔ دودھ والا برتن ندرت کی گود میں الٹا اور چینی دان اس کی ناک سے ٹکرا کر دوپٹے میں اٹک گیا۔

’’خدا تمہیں غارت کرے رانیہ!‘‘ وہ دامن کو جھٹکتی اٹھ کر چلانے لگی۔

’’تو اس لےے مکر کر رہی تھیں تم۔ میں بھی کہوں یہ بھولپن کس لےے دکھایا جارہا ہے۔ اللہ کرے تم بدصورت ہوجائو۔‘‘ عجلت اور غصے میں اس کے منہ سے غلط جملہ پھسل گیا۔

’’یعنی تم مجھے خوب صورت تسلیم کرتی ہو۔‘‘ رانیہ نے مطمئن انداز میں دریافت کیا۔

’’اللہ نہ کرے میں ایسا کہوں۔‘‘ وہ تڑپ کر بولی۔

’’میں تو بھول گئی تھی اس پھٹکار برستی شکل میں مزید گنجائش نہیں نکلتی بس زبان غوطہ کھا گئی۔ جلتا کوئلہ بھی رکھوں زبان پر تو کفارہ ادا نہیں ہوسکتا۔‘‘

اس ہنگامہ آرائی پر کینٹین میں موجود تقریباً سبھی لوگ ان کی طرف متوجہ ہوچکے تھے رفعت تو باقاعدہ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے قریب پہنچ چکا تھا۔

’’کیا ہوا مس رانیہ؟‘‘ وہ سارے جہاں کا درد لہجے میں سموئے پوچھ رہا تھا۔

’’آپ دیکھتے نہیں مشکل میں میں نہیں وہ ہیں۔ انہیں مدد کے لےے پوچھےے۔ شاید انہیں ضرورت ہو۔‘‘

’’میں دیکھ لوں گی تمہیں۔ تم سمجھتی کیا ہو خود کو۔‘‘ ندرت روہانسی ہورہی تھی۔

’’اچھا اتنا واویلا مچانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا بھی تو پائوں مڑ گیا۔ پتا نہیں کیسے بچت ہوگئی ورنہ زبردست موچ آجاتی اور شکر کرو میں کھولتا ہوا چائے کا پانی وہیں کائونٹر پر چھوڑ آئی۔ معلوم نہیں کیوں پہلے سے مجھے ڈر سا لگ رہا تھا کہیں ٹرے میرے ہاتھ سے گر نہ جائے۔ کہیں کچھ ہو نہ جائے۔ اسی لےے تو اپنی کوک اور سینڈوچز بھی نہیں لائی تھی۔ سوچا تھا اتنی ساری چیزیں سنبھالی نہیں جائیں گی۔ مگر مجھے کیا پتا تھا کم بھی نہیں سنبھلیں گی۔‘‘ اس نے معصومیت سے پلکیں جھپکا کر اسے دیکھا۔

کینٹین بوائے کائونٹر کے پیچھے سے نکل کر صفائی کرنے آگیا تھا۔ رفعت اب تک نہایت سنجیدگی سے کھڑا ان کی گفتگو سن رہا تھا۔

’’میں جارہی ہوں۔‘‘

’’تو اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ ضرور جائو، اچھا ویگن کا کرایہ چاہےے ہوگا۔ ہاں تمہارے پاس تو پیسے ہی نہیں ہیں۔‘‘ رانیہ نے جلدی سے بیگ میں ہاتھ ڈالا لیکن وہ قہر آلود نظروں سے اسے گھورتی ہوئی چل دی۔

’’اکیلی ہی جارہی ہو؟ اماں پوچھیں تو کہنا میں لائبریری میں کچھ دیر رکوں گی۔‘‘ اس کے چلے جانے کے بعد وہ سینڈوچز اور کوک کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

’’لگتا ہے بر امنا گئی۔ میرا کوئی قصور بھی ہو۔‘‘ اس نے سینڈوچ کا بائٹ لیتے ہوئے ساتھ والی میز پر نگاہ ڈالی تو ایک لمحے کے لےے انڈے اور توس کا ذائقہ کچھ نا مانوس سا لگا۔ رفعت گزشتہ جگہ سے اٹھ کر اس کے برابر والی ٹیبل پر منتقل ہوچکا تھا۔ اس نے کوک سے ایک بڑا سا گھونٹ لے کر بمشکل نوالہ نگلا تھا۔

٭٭٭

رانیہ نے کروٹ لے کر اپنے قریب بے سدھ سوئی ندرت کو ایک نظر دیکھا اور چادر ہٹاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ انیقہ پہلو کے بل بیڈ کے سرے پر ٹکی ہوئی تھی اور اس کا بازو نیچے لٹکا تھا۔

’’کیا مصیبت ہے سب ہی چین کی نیند سو رہے ہیں۔ مجھے کیا تکلیف ہے۔ نیند کیوں نہیں آتی۔‘‘ اس نے دیواروں پر پھیلتے سمٹتے تاریک سایوں کو بوجھل مگر نیند سے خالی آنکھوں سے دیکھا۔ لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے پٹ نیم وا تھے اور پردہ ہوا کی لے پر تھر تھرا رہا تھا۔

’’ندرت اٹھو۔‘‘ اس نے جھنجھوڑ کر ندرت کو جگایا۔

’’میری بات سنو اٹھو بھی۔‘‘

’’کیا بکواس ہے؟‘‘ وہ بند آنکھوں کے ساتھ تلخی سے بڑبڑائی۔

’’اس وقت کیا چیز تمہیں چین نہیں لینے دے رہی۔‘‘

’’میں تو چین سے ہوں مگر بلی کو سکون نصیب نہیں ہورہا۔‘‘

’’کیا؟‘‘ اس نے ادھ مندی آنکھوں سے رانیہ کو یوں دیکھا جیسے اس کے ذہنی توازن پر شبہ کر رہی ہو۔

’’کون بلی۔۔۔؟ کیا فضول بک بک کر رہی ہو۔‘‘

’’سنو کیا تمہیں سنائی دے رہا ہے۔‘‘ رانیہ کے انداز میں فکر مندی کی جھلک تھی۔

’’بلی رو رہی ہے۔ پتا نہیں بے چاری کو کیا دکھ ہے۔ کیا پتا شوہر سے لڑائی ہوگئی ہو یا کسی بچے کو کوئی حادثہ پیش آگیا ہو۔‘‘

’’یہ بلی کسی عورت کا نام ہے۔‘‘ ندرت کی آنکھیں پوری کھل گئیں۔

’’سیانے کہتے ہیں بلیاں روئیں تو کوئی آفت آتی ہے۔ کوئی بڑی مصیبت ہمارے صحن میں بلی، پچھلے پون گھنٹے سے مسلسل چلُا رہی ہے۔ مجھے ڈر سا لگ رہا ہے۔‘‘

’’مجھے ان سیانوں کاپتا بتانا جنہوں نے یہ بات تمہیں بتائی ہے۔ میں جلد ہی ان سے مل کر ان کی زبانیں گدی سے کھینچ لوں گی۔‘‘ آخر میں وہ گھٹی گھٹی سی آواز میں چیخ ہی پڑی۔

’’رانیہ مجھے سونے دو۔ ورنہ میں تمہارا گلا دبادوں گی۔‘‘ اس نے کروٹ بدل کر دوسری طرف رخ کرنے کی کوشش کی مگر رانیہ نے اسے کندھوں سے دبوچ لیا تھا۔

’’اچھا بلی کو گولی مارو روتی ہے تو پڑی روئے۔ ہوگا کوئی گھریلو مسئلہ تمہیں گٹار کی آواز تو سنائی دے رہی ہے نا، لگتا ہے جیسے قریب ہی کوئی گٹار بجا رہا ہے بڑی مدھم سی آواز ہے مگر ہے۔ ذرا غور سے سنو تو سہی۔ بالکل صاف آواز ہے۔‘‘

’’میں بہری ہوں۔ مجھے بالکل بھی سنائی نہیں دیتا۔‘‘

’’اچھا لیکن اس بات کا انکشاف تم پر کب ہوا؟‘‘

’’مجھے ابھی ابھی پتا چلا ہے اور اگر اب تم نے مجھے آواز دی یا ہاتھ لگایا تو میں چیخ چیخ کر سارے گھر کو اکٹھا کر لوں گی۔‘‘ اس کے صبر کا پیمانہ چھلک رہا تھا لیکن رانیہ پر اس بات کا ذرُہ برابر اثر نہیں ہوا۔

’’ٹھیک ہے ہاتھ نہیں لگاتی۔ پائوں تو لگا سکتی ہوں یا اس پر بھی تمہیں اعتراض ہے۔ اچھا مجھے باتوں میں الجھا کر اصل موضوع سے بھٹکانے کی کوشش نہ کرو۔ کتنا رومانٹک لگتا ہے نا رات کے وقت گٹار کی مدھر تانیں دل کو کچھ کچھ ہوتا ہے، کوئی عجیب سا احساس، دل انوکھے چلن سے دھڑکنے لگا ہے۔ بے وجہ آنکھوں میں نمی تیرتی ہے اور ۔۔۔‘‘

’’اور سینہ دھونکنی کی طرح چلتا ہے۔ باچھوں سے جھاگ بہہ نکلتا ہے۔ ہاتھ پائوں تڑنے مڑنے لگتے ہیں اور راہ چلتے لوگوں پر خوامخواہ حملہ کرنے کو دل چاہنے لگتا ہے۔ یہی سب کچھ ہوتا ہے یا اس کے علاوہ بھی کچھ ہے؟‘‘ ندرت نے سر کے بال مٹھیوں میں جکڑ کر جھنجھلاہٹ کی انتہا کو چھوتے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’کبھی سنجیدہ بھی ہوجایا کرو ندرت! تمہیں تو ہر وقت مذاق سوجھتا ہے۔‘‘ رانیہ کے انداز میں فرصت ہی فرصت تھی۔

’’اف ندرت تمہاری اسکن کتنی رف ہورہی ہے۔ آنکھ کے قریب ایک دانہ بھی نکل آیا ہے۔‘‘ رانیہ نے اچانک کہا تو ندرت کی آنکھیں صندوق کے ڈھکن کی طرح پٹ سے کھل گئیں۔ اب کی بار ان میں نیند کا شائبہ تک نہ تھا۔

’’میں تمہاری بات پر اعتبار نہیں کر سکتی تم جھوٹ بول رہی ہو۔‘‘ وہ بیڈ سے نیچے اتری اور سوئچ بورڈ کو ٹٹولتے ہوئے لائٹ آن کر دی کمرہ سفید روشنی سے بھر گیا تھا۔ تیزی سے وہ آئینے کے سامنے گئی اور بنظر غائر چہرے کا معائنہ کرنے لگی۔

’’پچھلے دنوں میں قدرے لاپروا رہی ہوں اپنی جلد سے کل سے ہی بالائی میں لیموں ملا کر مساج شروع کرتی ہوں۔‘‘ اس نے مڑ کرمشورہ طلب نظروں سے رانیہ کو دیکھا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔

’’کوئی فائدہ نہیں بالائی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ تم کسی تگڑے سے تیزاب کا استعمال کرو دیکھ لینا واضح فرق پڑے گا۔‘‘

انیقہ نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں مگر چبھتی ہوئی روشنی نے اسے آنکھوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیا تھا۔

’’تم دونوں ابھی مرجائو۔ اللہ کرے تمہاری قبروں میں شیش ناگ پھنکاریں۔ تمہاری بوٹیاں توڑیں۔ دوزخ میں سارے دوزخی تمہیں روزانہ موٹی ، بدصورت اور زیادہ عمر کی کہیں۔‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں اتنی ساری بد دعائیں دے کر چادر سے منہ ڈھانپ لیا۔‘‘ وہ دونوں ہکُا بکُا رہ گئیں۔

ندرت نے لائٹ آف کی اور دوبارہ بیڈ پر دراز ہوگئی۔

’’وہ گٹار تو بیچ میں ہی رہ گیا۔ باہر جا کر پتا نہ کریں۔ آواز اب بھی آرہی ہے۔‘‘ رانیہ کو اس صورت حال پر خاصی مایوسی ہوئی تھی۔

’’بھاڑمیں گیا گٹار۔‘‘ اس بار ندرت کی آواز خطرناک حد تک بلند تھی اس لےے اس نے خاموشی اختیار کرنے میں عافیت جانی بیڈ سے اٹھ کر وہ لان میں آگئی تھی۔

سیاہ رات کی مانگ میں ماہ کامل چمک رہا تھا۔ اجلی چاندنی میں کٹھ گلاب کے پودے اونگھ رہے تھے۔ شہنائی رو سرخ پھول بوجھل پلکوں کی طرح جھکے ہوئے تھے۔ چند ناکی سفید کلیاں گٹار کے تاروں سے پھوٹتی نغمگی پر سر دھن رہی تھیں۔ نارنجی پھولوں والی سبز بیل دیوار سے لپٹی ہولے ہولے لرز رہی تھی۔ سرو کے پیڑ ایڑیاں اٹھا کر دیوار کی پرلی طرف جھانک رہے تھے۔ اس کے پیروں تلے بھیگی ہوئی گھاس کا مخملی احساس تھا۔ وہ گربہ پائی سے چلتی ہوئی دیوار کے قریب گئی اور پنجوں کے بل اچک کر دوسری طرف جھانکنے لگی۔

لان میں کین کی چیئر پر وہ بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ واضح طور پر نظر نہیں آرہا تھا۔ چٹکی ہوئی دودھیا چاندنی میں تنہا بیٹھا وہ کسی ساحر کی مانند لگ رہا تھا۔ اس کی گود میں گٹار تھا نہ جانے کتنی دیر وہ وہیں کھڑی اسے دیکھتی رہی ، اداس مگر گداز دھن کو سنتی رہی، خمار آلود آنکھوں سے رات اسے دیکھ رہی تھی۔ سرخ پھول اس کی طرف اشارے کر رہے تھے۔ سرو کے پودے یوں سر ہلا رہے تھے جیسے کوئی بھید جان گئے ہوں۔ یک لحظہ وہ چونک سی گئی۔ چاند کی ٹھنڈی روشنی میں تپش تھی۔ اس کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ چکی تھیں اور حلق خشک ہورہا تھا۔

ابا کے کھانسنے کی آواز سن کر وہ تیزی سے دیوار سے دور ہوگئی تھی۔

’’رانیہ۔۔۔!‘‘ وہ ان کے قریب چلی گئی۔

’’کیا بات ہے۔ اب تک جاگ رہی ہو۔ یہاں باہر کیا کر رہی ہو۔‘‘ وہ شاید پانی پینے کے لےے اٹھے تھے اور کچن کا دروازہ کھلا دیکھ کر باہر آگئے تھے۔

’’کیا کروں نیند نہیں آتی۔‘‘ اس نے بے بسی سے کہا تھا۔

٭٭٭

وہ دونوں تیار ہو کر انسٹی ٹیوٹ کے لےے نکلی تھیں۔ جب رانیہ نے ساتھ والے گیٹ میں سے ایک نفیس سی خاتون کو جھانکتے دیکھا۔ اس نے فوراً نظریں جھکا کر سلام کر دیا تھا۔

’’میں اخبار اٹھانے آئی تھی تم لوگوں کو دیکھ کر ٹھہر گئی۔‘‘ وہ اخبار ہاتھ میں لےے گیٹ سے باہر آگئیں۔

’’تم لوگ اندر آجائو۔ اگر دیر نہیں ہورہی تو۔۔۔‘‘

’’نہیں آنٹی پھر کبھی سہی ہمیں انسٹی ٹیوٹ پہنچنا ہے اور پہلے ہی خاصی دیر ہوگئی ہے۔‘‘

اسے ندرت کی بے جا مداخلت زہر لگی تھی۔ انسٹی ٹیوٹ تو وہ روز ہی جاتی تھیں یہ کوئی ایسا ضروری کام بھی نہیں تھا جس کے لےے اتنی اچھی اور پیاری آنٹی کی فرمائش کو رد کر دیا جائے۔ نہ جانے کیوں اسے صالحہ آنٹی پر ٹوٹ کر پیار آرہا تھا۔

’’تمہاری طرف سے کوئی بھی ہمارے گھر نہیں آیا۔‘‘ وہ شاکی لہجے میں بولیں۔

’’سارا دن اکیلی بور ہوتی رہتی ہوں۔ تم لوگ نہیں آئے اس لےے مجھے بھی دوبارہ چکر لگانے کی ہمت نہیں پڑی ۔ کیا معلوم زیادہ میل ملاقات رکھنا پسند نہ کرتے ہوں ۔ دانیال تو کبھی کبھار آجاتاہے۔ تم رانیہ ہو نا؟‘‘

’’اچھا تو میرا تذکرہ ہوتا رہا ہے اس گھر میں۔‘‘ رانیہ نے اثبات میں سر ہلا کر نہایت معصومیت سے آنٹی کو دیکھا۔

’’ماشائ اللہ آنکھیں کتنی پیاری ہیں۔‘‘ رانیہ تو ان کی بات سن کر نہال ہوگئی تاہم ندرت کے ماتھے پر شکنیں پڑ گئی تھیں۔

’’تم آنا ضرور میں انتظار کروں گی اگر نہ آئیں تو میں۔۔۔‘‘ انہوں نے ایک لمحہ توقف کیا۔ ’’تو میں خود آجائوں گی۔‘‘

رانیہ نے آنے کا وعدہ کرتے ہوئے کم و بیش چھ بار ان کی طرف آہستگی سے پلکیں اٹھا کر اور پھر نہایت دھیمے پن سے پلکیں جھکا کر دیکھا تھا۔ اس عمل سے اس کا مقصد اپنی خم دار پلکوں کی خوب صورتی کو آنٹی پر صحیح طرح سے اجاگر کرنا تھا۔

ویگن میں سوار ہونے تک ندرت جلے دل کے پھپھولے پھوڑتی رہی تھی۔

’’مجھے تو پوچھا ہی نہیں اخلاقیات کے نام تک سے واقف نہیں لگتیں وہ۔ یہ کوئی طریقہ ہے ایک کو للو چپو کرتی رہیں اور ساتھ کھڑے کو پوچھیں ہی نہ۔‘‘

’’خبردار! آنٹی کو کچھ مت کہنا اب تمہاری شکل ہی اتنی معمولی سی ہے کہ نوٹس لینے کو دل نہیں چاہتا۔ آنٹی کی نظر میرے آفتابی، کتابی گلابی اور شہابی چہرے سے ہٹتی تو انہیں تم نظر آتیں۔‘‘

’’کبابی کہنا تم غالباً بھول گئی ہو۔‘‘

اسی روز شام کو خصوصی اہتمام کے ساتھ رانیہ آنٹی صالحہ کے سامنے موجود تھی۔ اس کے ساتھ بڑی لگن اور خلوص سے تیار کےے گئے نرگسی کوفتے تھے اور ندرت اور انیقہ تھیں جنہیں بہ امر مجبوری ساتھ لانا پڑا تھا۔ صائم کے ساتھ گزشتہ ملاقاتوں کا احوال سوچ کر اسے آنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی مگر پھر اس نے جی کڑا کر کے اور ساری شرمندگیوں کو پیروں تلے روندتے ہوئے چند قدموں کا یہ فاصلہ طے کر ہی لیا تھا۔ آخر تو یہ کڑوا گھونٹ اسے بھرنا ہی تھا کیا ہوا جو صائم نے اسے چڑیوں کا شکار کرتے اور سینما میں ذرا سی بوکھلاہٹ کا شکار ہوتے دیکھ لیا تھا۔ لوگوں کے ساتھ تو بڑے بڑے حادثے گزر جاتے ہیں۔ اتنی معمولی باتوں کو وہ دل سے لگا کر تو نہیں بیٹھ سکتی تھی۔ پھر آنٹی کے حوصلہ افزا روےے نے بھی اس کی ہمت بندھائی تھی۔ یہاں آنے کے لےے چونکہ اسے خصوصی طور پر تیار ہونا تھا اس لےے دو غیر ضروری نوعیت کے پیریڈ گول کر کے اس نے بہت سا قیمتی وقت بچالیا تھا۔

’’یہ کوفتے میں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کےے ہیں۔ خاصا مشکل ہے انڈوں پر قیمے کی تہہ جمانا مگر میں بڑی مہارت سے کر لیتی ہوں۔ کہیں سے بھی قیمے کی تہ پتلی یا موٹی نہیں ہوتی۔‘‘

رانیہ اپنے سلیقے پر کسی تحسین بھرے فقرے کی منتظر تھی کہ انیقہ بول پڑی۔

’’انڈے میں نے ابالے تھے آنٹی!‘‘

یہ کوئی موقع تھا اپنے احسانات گنوانے کا۔ رانیہ کو اس کی زبان درازی ایک آنکھ نہ بھائی۔

’’رانیہ کو میں نے ہی سکھائے تھے نرگسی کوفتے بنانا۔ اسے تو اتنا بھی معلوم نہیں تھا کہ کوفتوں میں نرگیسیت کیسے پیدا کی جاتی ہے۔‘‘ ندرت نے بھی اس کے نمبر گھٹانے کی کوشش کی۔

ایک لمحے کے لےے اس نے ان دونوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں خطرناک نتائج کی دھمکی دی اور پھر حساب برابر کرنے کو بولی۔

’’ظاہر ہے انسان بڑوں سے ہی سیکھتا ہے۔‘‘

آنٹی بے اختیار ہنس پڑی تھیں۔

’’تم جیسے دلچسپ لوگ بہت کم دیکھے ہیں۔ دانیال بھی ایسی اچھی باتیں کرتا ہے کہ اس کی کمپنی میں گھنٹوں بور ہوئے بغیر گزارے جاسکتے ہیں۔ اس گھر میں آنے کی ایک خوشی یہ بھی ہے کہ تم جیسے ہمسائے میسر آگئے۔‘‘

رانیہ نے تجزیہ کرنے کی کوشش کی کہ کہیں آنٹی نے در پردہ انہیں مسخرے تو نہیں کہا تھا مگر ان کے چہرے سے کچھ اندازہ نہ لگاسکی۔

’’تم آتی جاتی رہا کرو۔ زیادہ وقت میں اکیلی ہی ہوتی ہوں۔‘‘

’’پھر کیا فائدہ آنے کا۔‘‘ رانیہ نے منہ بنا کر انہیں دیکھا۔

’’تمہارے انکل تو رات گئے واپس آتے ہیں۔ صائم اپنا پورا دن طے شدہ شیڈول کے مطابق گزارتا ہے۔ صبح جاگنگ کرنے جاتا ہے۔ پھر آفس چلا جاتا ہے۔ شام کو کچھ وقت دوستوں کے ساتھ اور کچھ وقت ایکسر سائز میں صرف ہوجاتا ہے۔ میرے پاس بیٹھنے کی زیادہ فرصت نہیں ملتی اسے۔ ہاں ایک سکھ ضرور ہے ناشتا اور رات کا کھانا وہی بناتا ہے باقاعدگی سے میرے ذمے صرف لنچ ہے۔‘‘

’’کیا آنٹی! وہ بناتے ہیں کھانا۔‘‘ رانیہ کو صائم کے سگھڑاپے کے بارے میں جان کر خوش گوار حیرت ہوئی۔

’’ہاں ایسا ہی ہے۔ اب کوئی لڑکی تو ہے نہیں میرا ہاتھ بٹانے والی بچپن سے ہی صائم کو اپنا ہر کام خود کرنے کی عادت ہے۔ ہم تینوں کے کپڑے تک وہی استری کرتا ہے۔ کھانا خاصا اچھا بنالیتا ہے۔ اس جیسی گول چپاتی تو مجھے بھی بنانی نہیں آتی۔ اس روز جو چکن پلائو میں لے کر آئی تھی وہ اسی نے تو بنایا تھا۔‘‘

’’یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ مردوں میں اپنا کام خود کرنے کی بلکہ گھر بھر کا کام کرنے کی صلاحیت ہو تو یہ دنیا جنت کانمونہ بن جائے۔‘‘

رانیہ نے چشمِ تصور سے صائم کو اپنی ساڑھیاں استری کرتے، بھنڈی گوشت تیار کرتے، گنگناتے ہوئے، بیڈ ٹی پیش کرتے اور انتہائی گول چپاتیاں بڑی مشاقی سے توے پر گھما کر پھینکتے دیکھا تو فرطِ مسرت سے اس کا تنفس تیز ہوگیا۔

’’چلو میں تم لوگوںکو گھر دکھادوں۔ میں نے اور صائم نے مل کر سیٹنگ کی ہے تمام کمروں کی۔ ڈرائنگ روم تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے۔ اچھرہ میں ہم جس گھر میں رہتے تھے وہ اس گھر کی نسبت چھوٹا تھا۔ ادھر ڈرائنگ روم میں جو کارپٹ بچھا تھا وہ یہاں کسی بھی کمرے میں پورا نہیں آیا۔ یہ والا کارپٹ ہمیں نیا خریدنا پڑا ہے۔ ابھی اس کے ساتھ میچنگ پردے لینا باقی ہیں۔ مارکیٹ چلی چلو گی میرے ساتھ رانیہ۔‘‘ انہوں نے اس کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو وہ مجسم اثبات بن گئی۔

’’چلو پھر ایک دو دن میں پروگرام بناتے ہیں مارکیٹ جانے کا۔ صائم سے کئی بار کہہ چکی ہوں۔ مگر وہ وقت نہیں نکال سکا۔ چلو اٹھو میں تمہیں ٹی وی لائونج اور اوپر کی منزل دکھائوں۔‘‘ وہ اٹھنے ہی لگی تھیں کہ صائم آگیا۔ ٹرائزور اور ٹی شرٹ میں بہت اسمارٹ لگ رہا تھا۔ ایک دو دن کے بڑھے ہوئے شیو نے اجلے چہرے پر سرمگیں غبار کی صورت اس میں ایک انوکھی خوب صورتی پیدا کر دی تھی۔ رانیہ اس کی لو دیتی گہری بھوری آنکھوں سے خائف ہو کر ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے ہوئے کارپٹ کے ریشوں میں مقید پیچیدہ ڈیزائن کو دیکھنے لگی۔

’’آپ نے مہمانوں کو کچھ کھلایا پلایا بھی ہے یا صر ف باتیں ہی کےے جارہی ہیں۔ جیسا کہ آپ کی عادت ہے۔‘‘ وہ آنٹی صالحہ کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔

’’میں نے تو بس سافٹ ڈرنکس پہ ہی گزارہ کیا ہے۔ فریج بالکل خالی ہے اور چائے تو مجھ سے کبھی اچھی بنی ہی نہیں۔ اب تم آگئے ہو تو شاباش کچھ ہمت کرو۔ پہلی دفعہ آئی ہیں یہ لوگ اور کم از کم پہلی دفعہ تو ڈھنگ سے خاطر ہونی چاہےے۔‘‘ وہ مسکرائیں۔

’’پہلی دفعہ ہی کیوں؟ ہر دفعہ شان دار تواضع ہونی چاہےے اور مہمان نوازی میں میرا کوئی ثانی نہیں۔ میں ابھی چائے لے کر آتا ہوں۔‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا۔

’’نہیں پلیز کسی تکلف کی ضرورت نہیں۔‘‘ ندرت نے کہا۔

’’چائے تو آپ کی پینی ہی پڑے گی۔ بلکہ چائے نہیں کافی کیسی رہے گی کیوں لیڈیز کافی چلے گی؟‘‘

صالحہ آنٹی بھی اصرارکرنے لگیں۔

’’صائم کافی بہت اچھی بناتا ہے اور میرا بھی دل چاہ رہا ہے چلو تم لوگوں کے بہانے میںبھی پی لوں گی۔‘‘

’’میرے ہاتھ کی کافی کی ایک زمانے میں دھوم مچی ہوئی ہے۔ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر تک مشہور ہے اس کا ذائقہ۔‘‘ انہیں مزید کچھ بولنے کا موقع دےے بغیر وہ کافی بنانے چلا گیا تھا۔

’’انہیں خوامخواہ زحمت ہوئی ہماری وجہ سے، تھکے ہوئے ہوں گے شاید ایکسر سائز کرکے لوٹے ہیں۔‘‘

’’زحمت کیسی؟ اس کے لےے یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔ میرے جوڑوں میں درد ہونے لگتا ہے زیادہ چلنے پھرنے سے، کوئی مہمان آجائے تو اسے ہی کرنا پڑتا ہے سب۔‘‘

رانیہ پر آنٹی کی شخصیت کے پوشیدہ تاریک پہلو طلوع ہونے لگے۔ آنٹی کی آنکھوں میں پنہاں مکاری جسے وہ نرماہٹ کے خول میں چھپا کر خلیق نظر آنے کی تگ و دو کر رہی تھیں اس پر اچانک عیاں ہوگئی۔

’’واہ خود تو آرام سے بیٹھی ہیں اور اس بے چارے کو چولہے میں جھونک رکھا ہے۔ مارکیٹ جانے کے لےے تیار بیٹھی ہیں۔ گھر داری کرنے سے جوڑ دکھتے ہیں، سبحان اللہ۔‘‘ اس نے کینہ توز نظروں سے آنٹی کو دیکھا۔ ’’کیا پتا سوتیلا بیٹا ہو تبھی تو اتنا ظلم ڈھا رہی ہیں۔‘‘ اس کا دل صائم کے لےے ہمدردی سے معمور ہونے لگا۔

ساتھ والے کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے آتی ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز پر انہوں نے معذرت خواہانہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

’’میں ابھی ایک منٹ میں آتی ہوں۔‘‘

رانیہ نے ان کی چال کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا تھا۔ ’’ہٹی کٹی ہیں۔ لنگڑا تو نہیں رہیں۔‘‘ اس نے کچن کی طرف کان دھرے جہاں سے صائم کی مدھم گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی۔

’’کتنا مظلوم ہے لیکن خود پر ہونے والے ظلم سے بے خبر۔۔۔ اسے کیا معلوم اس کی ماں ڈائن نما عورت یا شاید عورت نما ڈائن ہے۔‘‘ اس کے دل میں امنڈتے جذبات میں شدت آتی جارہی تھی۔ دائیں آنکھ میں ایک آنسو بھی آگیا تھا مگر مسئلہ تو یہ تھا کہ وہ صائم کو اپنی ہمدردی سے کیونکر آگاہ کرے اس کے سامنے آتے ہی اس پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی۔ بات کرنا تو کجا اس کی طرف دیکھنا بھی محال تھا۔ اس نے بے بسی سے ساتھ بیٹھی ندرت کو دیکھا جو کیوٹکس لگے ناخنوں کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی۔

’’میں جاکر ہیلپ کردوں صائم کی۔‘‘ ندرت اسے اپنی طرف متوجہ پاکر بولی۔

’’تم تو پتا نہیں کس لےے میرے ساتھ آگئی ہو۔ آنٹی نے صبح اپنے طرزِ عمل سے جتا بھی دیا تھا کہ انہیں صرف مجھ سے دلچسپی ہے۔ تمہیں تو انہوں نے منہ ہی نہیں لگایا۔ ابھی دیکھ لو۔ ان کی زبان رانیہ رانیہ کی گردان کر رہی ہے۔ انسان میں اگر عزت نفس کا ذرا سا احساس ہو تو ایسی صورت حال پر چلُو بھر پانی میں ڈوب کر مرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے مگر یہاں تو سرے سے انسانیت ہی مفقود ہے۔ عزت نفس کہاں سے آئے۔‘‘

’’مجھے کوئی شوق نہیں تھا آنے کا۔ صرف تم پر نظر رکھنے کے لےے آئی ہوں اکثر مہذب محفلوں میں تمہیں آپے سے باہر ہوتے پایا گیا ہے۔ وہاں گھر بیٹھے مجھے کیسے پتا چلتا کہ تم کیا گل کھلاکر آئی ہو ۔ مامی نے مجھے زبردستی بھیج دیا مجھے تمہاری کار گزار ی کا جائزہ لینے اور تمہیں خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے وفد کی بزرگ رکن جانتے ہوئے آنٹی تمہارے ساتھ سب سے زیادہ بات چیت کر رہی ہیں۔ اب ہم معصوم ناسمجھ بچیوں کے ساتھ وہ کیا بات کر سکتی ہیں۔‘‘

انیقہ نے اکتائے ہوئے انداز میں ایک جماہی لی اور صوفے کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے بولی۔

’’آنٹی نے جو سوٹ پہنا ہوا ہے اسی کلر اور ڈیزائن کا سوٹ عظمیٰ گیلانی نے پہن رکھا تھا ایک ڈرامے میں۔ پر وہ غریب کسان عورت بنی تھی اس ڈرامے میں۔‘‘

صائم اور آنٹی صالحہ اکٹھے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے تھے۔ وہ تینوں سنبھل کر بیٹھ گئیں۔ کافی کا ذائقہ واقعی بہت اچھا تھا۔

’’بہت زبردست ہے کافی۔‘‘ انیقہ کی تعریف پر وہ کھل کر مسکرایا۔

’’تعریف کے لےے شکریہ۔‘‘

’’آپ کو ہماری وجہ سے بہت زحمت ہوئی۔‘‘ ندرت نے لہجے میں حد سے زیادہ شیرینی گھولتے ہوئے رانیہ کو جتاتی ہوئی نظروں سے دیکھا۔

’’بالکل بھی نہیں، کافی بنانا تو میرے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ کیونکہ میں پیدائشی طور پر لیفٹ ہینڈڈ ہوں۔‘‘

رانیہ دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کرتی رہی تھی کہ صائم نے اب تک ان باتوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا جن پر پردہ پڑا رہنا ہی اس کے حق میں بہتر تھا۔ ’’بڑی مہذب گفتگو کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس روز چھت پر لفنگے پن کی انتہا کر دی۔‘‘ اس نے مگ کے کناروں سے ایک نظر اسے دیکھا۔

اس کا سکون زیادہ دیر تک برقرا رنہ رہ سکا۔ صائم کافی کا مگ سینٹر ٹیبل پر رکھتے ہوئے اچانک اس سے مخاطب ہوا۔

’’وہ نرگسی کوفتے آپ لائی ہیں؟‘‘

اس نے فقط سر ہلا کر اثبات میں جواب دیا۔

’’مجھے مایوسی ہوئی، میں تو سوچ رہا تھا آپ کوئی بہت انوکھی ڈش بنا کر لائیں گی۔ دانیال بتا رہا تھا آپ کو ایک سے ایک عجیب و غریب ترکیبیں ازبر ہیں۔‘‘

اس کے ہاتھ میں لرزش اتری اور آنکھوں میں رحم کی اپیل۔

آنٹی نے مداخلت کر کے معاملہ ٹھنڈا کر دیا۔ جس کے لےے وہ دل سے ان کی شکر گزار ہوئی۔

’’صائم تم کیا عجیب سی بات کر رہے ہو۔ کوئی سر پیر ہی نہیں ہے۔‘‘ اب انہیں کیا معلوم کہ سر پیر تو تھا اور تفصیل میں جانے سے دم اور سینگ نکلنے کا بھی قوی امکان موجود تھا۔ مگر قسمت رانیہ کا ساتھ دے رہی تھی ۔اس لےے یہ بات کئی دوسری باتوں کے بوجھ تلے دب گئی۔

٭٭٭

لان میں اماں پیاز کاٹتے ہوئے زار و قطار رو رہی تھیں اور ابا سرو کے پودوں کے پاس چارپائی پر نیم دراز شام کا اخبار پڑھ رہے تھے۔

’’آگئیں تم۔‘‘ ان کی آواز بھی کچھ روئی روئی سی لگ رہی تھی۔

’’اب بھی نہ آتیں میں مرجائوں یا جیتی رہوں کسے پروا ہے۔‘‘

’’کیا ہوا اماں؟‘‘ آخر رانیہ نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔

’’کیا ہوا۔ پوچھتی ہے کیا ہوا۔ میں بتائوں تجھے۔‘‘ اماں نے چارپائی کے نیچے چپل کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ تینوں بکھر کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئیں۔

’’میں نے بھیجا تھا پندرہ بیس منٹ بیٹھ کے آجانا۔ پر کہاں گھنٹوں بیت گئے۔ یوں جم کے بیٹھ گئیں جیسے سب گھر والوں کو دفنا آئی ہوں۔ سارا کام میرے ذمے چھوڑکر گپیں ہانکتے تجھے حیا نہ آئی رانیہ!‘‘ اماں کی آواز کی گرج لحظہ بہ لحظہ بڑھتی جارہی تھی۔

’’گھر سنبھالتے سنبھالتے میری چولیں ڈھیلی ہوگئیں۔ تیرے ابا سے کہا ذرا پیاز کاٹ دو، کورا جواب دے دیا مجھے۔ اتنا بھی احساس نہیں کہ میں بیمار رہتی ہوں ہاتھ بٹانا تو دور کی بات رہی گند پھیلانے میں سب سے آگے ہیں۔ یہ موزے پڑے ہیں وہ جوتے پڑے ہیں، ادھر بنیانیں ادھر تولےے ظاہر ہے انہیں کیا پروا۔گھاٹ پر بیٹھے جو کھانے کو ملتا ہے۔ جس کے نہ پھٹے بوائی وہ کیا جانے پیڑ پرائی۔‘‘

ابا نے احتجاجاً اخبار کو مٹھی میں بھینچا اور اٹھ کر اندر چلے گئے ان کی پشت پر دروازہ زور دار دھماکے سے بند ہوا تھا۔

رانیہ نے آگے بڑھ کر اماں کے سامنے دھری پیازوں والی سینی اٹھائی اور چارپائی کی پائنتی پہ بیٹھ گئی۔

’’اگر ایک روز کام کرنا ہی پڑ گیا تو کون سی قیامت آگئی۔ ہر روز میں کرتی ہوں سب کچھ میں نے کبھی اتنا واویلا نہیں مچایا۔اب پتا چلا مجھ پر کتنا ظلم ڈھا رہے ہیں آپ سب مل کر۔‘‘

’’بکواس بند کر لے ورنہ میرے ہاتھ سے نہیں بچے گی آج۔‘‘ اماں نے آنکھیں پونچھتے ہوئے اسے وارنگ دی۔

’’انیقہ تو جا کے بھائی کے لےے چائے بنا۔‘‘

انیقہ بھی اماں کو ایک نہایت ضروری ٹیسٹ کے بارے میں بتانے ہی لگی تھی کہ ندرت نے چائے بنانے کی ذمہ داری رضاکارانہ طور پر اٹھالی۔

’’مامی میں بنا دیتی ہوں چائے۔ دانیال کو کسی اور کے ہاتھ کی چائے پسند ہی کہاں آتی ہے۔‘‘

رانیہ کی غضب ناک نگاہوں کو خاطر میں لائے بغیر وہ کچن میں چلی گئی۔

’’آج تو نے میری جان جلائی ہے میں نے بھی تیرا بندوبست کر دیا ہے۔‘‘ اماں نے رانیہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو جو کہ کچھ دیر کے لےے رک گئی تھی، اسی مقام سے دوبارہ شروع کی۔

’’جتنے بھی دھلے ہوئے برتن تھے، میں نے دھول مٹی مل کے کچن میں جمع کر دےے ہیں۔ رشیدہ اپنی بہن زبیدہ کے ساتھ آگئی تھی میں نے چار پلیٹوں میں انہیں بسکٹ ڈال کے دےے۔ فریج میں جتنے بھی نئے پرانے سالن پڑے تھے وہ سب میں نے دانیال اور تیرے ابا کو آٹھ دس برتنوں میں دے دےے۔ کیتلی اور فرائنگ پین خوب جلا کر رکھ دےے ہیں، چولہے پر جان بوجھ کے دودھ ابالا ہے۔‘‘ اماں نے بڑے فخریہ انداز میں اپنے کارنامے گنوائے تو وہ پھیلی ہوئی آنکھوں سے ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔

بڑی مشکل سے پھنسی پھنسی آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی۔

’’مگر کیوں اماں؟‘‘

’’تاکہ تجھے پتا چلے کہ ماں کو دکھ دینے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ ایٹ بیٹ میں آج سجاد علی کا انٹرویو آنا تھا پر میں تیرے ابا کی شلوار قمیص استری کرتی رہی جو انہوں نے اسی وقت ہر قیمت پر اور ہر حالت میں استری کرنے کا شاہی حکم نامہ جاری کیا تھا۔ میرے جلدی کرتے کرتے بھی چار گانے اور سجاد کا انٹرویو گزر گیا ’’مغرور لیلیٰ‘‘ بھی تھی آنے والے گانوں میں، پورا ہفتہ انتظار کیا تھا اس پروگرام کا۔ میں تجھ سے کیسے نہ انتقام لوں بول تجھے کیسے معاف کردوں۔‘‘

رانیہ نے یوں گردن لٹکالی جیسے اپنا جرم تسلیم کر چکی ہو واقعی وہ معافی کی حق دار نہ تھی۔

٭٭٭

ندرت نے بال دانیال کی سمت اچھالی اور رانیہ سے قدرے قریب ہوتے ہوئے بولی۔

’’اس روز صالحہ آنٹی کی طرف جانے سے پہلے تم نے چہرے پر جو ماسک لگایا تھا اس کے اجزا کیا تھے؟‘‘

رانیہ دانیال کی بالنگ کا سامنا کر رہی تھی۔ اس لےے فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکی۔

’’آں۔۔۔ کیا کہا تم نے؟‘‘ بال دیوار پر چڑھی ہوئی گھنے سبز پتوں والی بیل میں غڑاپ سے روپوش ہوگئی اور انیقہ جو فیلڈنگ پر متعین تھی اس کی تلاش میں روانہ ہوئی تو رانیہ کو اس کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت میسر آئی۔

’’اس ماسک کا پوچھ رہی ہو جسے لگانے کے بعد میرا چہرہ سورج کی طرح دمکنے لگا تھا۔‘‘ اس نے بیٹ سے زمین پر ضرب لگاتے ہوئے دریافت کیا لیکن ندرت خاموش رہی۔

’’اس کے اجزائے ترکیبی میں ضرور بتائوں گی تمہیں تاکہ تم جیسی نہایت معمولی شکل کی لڑکی کا بھلا ہوجائے۔ نیکی کے کام کرنے سے میں نے کبھی بھی دریغ نہیں کیا۔‘‘

ندرت ہونٹ بھینچ کر انیقہ اور دانیال کو دیکھنے لگی جو اب تک بال کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے۔

’’میں ضرور تمہیں بتائوں گی۔ تم دل چھوٹا کیوں کرتی ہو۔ لو سنو کوڑے کے ڈھیر سے اٹھائے گئے گلے سڑے ٹماٹر، ٹماٹروں کا گلا سڑا ہونا اتنا ضروری نہیں ہے لیکن کوڑے کے ڈھیر پر موجود ہونا لازمی شرط ہے۔ اگر اس پوائنٹ کو فراموش کیا گیا تو خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔ ہری مرچیں ہم وزن لے کر گرائینڈر میں ٹماٹروں کے ساتھ مکس کرنی ہیں اور کوئی سا بھی طاقتور تیزاب حسبِ ذائقہ اور حسبِ منشا ملا کر چہرے پر ایک بار لگائو۔ تمہاری اسکن کا صفایا نہ ہوا تو مجھے پکڑ لینا۔‘‘ رانیہ کی ہر زرہ گوئی اس کی برداشت سے باہر ہوگئی تو وہ وکٹوں کوٹھوکر مار کر دانیال اور انیقہ کے پاس چلی گئی۔ یہ ٹھوکر رانیہ کے دل پر لگی تھی کیونکہ وکٹوں کے گرنے کی صورت میں انہیں صحیح حالت میں واپس لانا بیٹنگ کرنے والے کے ذمے تھا اور وکٹوں کو زمین پر ٹھہرانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں تھا۔ شیشم کی ٹیڑھی سی شاخوں کو زمین میں جمانے اور ان پر نام نہاد بیلز ٹکانے میں جو ٹائلوں کے ٹوٹے ہوئے دو ٹکڑے تھے، دانتوں پسینہ آجاتا تھا۔ ندرت کو بیوٹی ٹپ بتانا اسے بڑا مہنگا پڑا تھا۔ بال کی تلاش مکمل ہوئی تو سب لوگ دوبارہ اپنی سابقہ پوزیشنوں پر کھڑے ہو گئے۔ دانیال نے بال پھینکنے سے پہلے اسے تنبیہ کی تھی۔

’’تمہیں کتنی دفعہ منع کیا ہے۔ ادھر مت کھیلو۔ بائونڈری وال پار کی گیند نے تو اپنے آ پ کو آئوٹ سمجھنا اور اٹھا کر بھی تم ہی لائو گی بلکہ اب اگر بیل میں گیند گم ہوئی تو بھی تم ہی ڈھونڈو گی اکیلی اور ندرت تمہیں وکٹ کیپنگ کے لےے کھڑا کیا ہے اور تم بیٹس مین کے کان میں گھسی خدا معلوم کون سے مسئلے حل کر رہی ہو۔ ذرا پیچھے ہٹ کر کھڑی ہو۔‘‘ رانیہ کے آئوٹ نہ ہونے سے وہ سخت اکتایا ہوا محسوس ہورہا تھا۔

’’بیٹس مین کسے کہا تم نے۔ میں بیٹس گرل ہوں۔ سوچ سمجھ کر بولا کرو۔‘‘ رانیہ نے تصحیح کرنا ضروری سمجھا تھا۔

انیقہ خاصی دل برداشتہ نظر آرہی تھی۔

’’بس میں تو باز آئی ایسے کھیل سے، مجھ سے نہیں ہوتی فیلڈنگ سب سے مشکل کام پکڑ کر میرے ذمے لگادیا ہے۔ آپ کی بائولنگ میں ذرا دم نہیں ہے مگر خوامخواہ وقار یونس بننے پر تل گئے ہیں۔ میرے حوالے کریں بائولنگ ، میں دو منٹ میں رانیہ کو ناکوں چنے نہ چبوادوں تو میرا نام بدل دیجے گا۔ آپ بھی تو اِدھر اَدھر پھینک رہے ہیں بال۔ اپنا نشانہ وکٹوں کو نہیں رانیہ کو سمجھے پھر دیکھیں کیسے ٹکتی ہے یہ۔‘‘

’’خبردار بائونسر پر پابندی ہے۔‘‘ رانیہ نے چلاتے ہوئے ایک با رپھر اونچا شاٹ کھیلا اور گیند ساتھ والے گھر میں جا گری۔

’’اب جائو۔۔۔ لے کر آئو۔‘‘ دانیا ل نے نتھنے پھلا کر کھیل ختم ہونے کا اعلان کیا۔

’’آج کے لےے اتنا ہی کھیل کافی ہے۔ رانیہ کی عظمت کو سلام ہے جو اپنی ہٹ دھرم پالیسی پر بڑی دل جمعی سے عمل پیرا رہی۔‘‘

’’مجھے آئوٹ نہیں کر سکے تو میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہو ۔ یہ کیوں نہیں کہتے میرا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے تم لوگوں میں۔‘‘

انیقہ باری نہ ملنے پر روہانسی ہورہی تھی۔

’’میری ٹانگیں دکھ گئی ہیں ایک گھنٹے سے فیلڈنگ کرتے ہوئے۔ رانیہ کے بعد میری باری تھی۔ مجھے کچھ نہیں پتا۔ کھیل ایویں ختم ہوگیا۔ اب تو کھیل شروع ہوا ہے۔‘‘

اس کے احتجاج پر کسی نے کان نہیں دھرے تھے۔ ندرت نے رانیہ کے کان میں سرگوشی کی۔

’’دیکھ بھال کر جانا ہارڈ بال تھی۔ کیا معلوم آنٹی لان میں بیٹھی ہوں اور۔۔۔ ہوسکتا ہے تمہاری ملاقات کسی پھٹے ہوئے سر والی خونم خون لاش سے ہوجائے۔۔۔ ہونے کو تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ تم میری بات سمجھ رہی ہو نا۔‘‘

’’اس نے دیوار کے پاس جا کر تین چار بار آنٹی کو آواز دی مگر کوئی جواب نہ ملنے پر جا کر کال بیل پر انگلی رکھ دی۔

گیٹ کھولنے وہی آیا تھا۔

’’زہے نصیب۔۔۔۔ آئےے۔‘‘ اسے اندر آنے کا راستہ دیتے ہوئے وہ ایک طرف ہٹا۔

’’نہیں شکریہ۔ ہماری بال آپ کے لان میں گر گئی ہے وہ لادیں۔‘‘

’’بال بھی مل جائے گی۔ آپ اندر تو آئیں امی آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گی۔ پتا نہیں کیا جادو کر دیا آپ نے دن رات آپ کے نام کا ورد جاری رہتا ہے ان کی زبان پر۔‘‘ رانیہ نے پلکیں اٹھا کر ان فسوں گر بھوری آنکھوں کو دیکھا اور اس کے قریب سے گزر کر سہج سہج کر قدم اٹھاتی اندر چلی آئی۔ ایک کونے میں ایلو ویرا کے گملے کے قریب پڑی ہوئی بال اندر آتے ہی اس کی نظروںمیں آگئی تھی مگر وہ اِدھر اَدھر یوں دیکھنے لگی جیسے بال کو تلاش کر رہی ہو۔

’’ایک الجھن ہے میرے ذہن میں۔ اگر آپ رفع کردیں تو نوازش ہوگی۔‘‘ اس کے قریب آکر وہ دھیمے لہجے میں بولا تو وہ متعجب ہو کر اسے دیکھنے لگی۔

’’اس روز چھت پر جو۔۔۔‘‘ اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ کر رانیہ کو جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھا تو اس کے کان کھڑے ہوگئے۔

’’چھت پر وہ جو ڈریس آپ نے پہن رکھا تھا۔ وہ آپ نے خود ڈیزائن کیا تھا؟‘‘

’’بڑا ہی چھچھورا ہے ایک بات کیا ہاتھ آگئی۔ پیچھے ہی پڑ گیا۔‘‘ رانیہ مٹھیاں بھینچ کر کوئی خاطر خواہ جواب دینے کے لےے خود کو تیار کرنے لگی تھی۔

’’میں تو حیران رہ گیا تھا۔ وہ یقینا تجریری آرٹ تھا۔ ایسا نادر خیال آپ کے دماغ میں آیا کیسے؟ کسی عام انسان کی سوچ تو وہاں تک رسائی ہی نہیں کر سکتی۔ اگر آپ ہماری گارمنٹس شاپ کے لےے ایسے ہی اچھوتے آئیڈیاز پر کام کریں تو یقین مانیں ہم سب ترقی کر سکتے ہیں۔‘‘

رانیہ نے آنکھیں سکیڑ کر اس کے مسکراتے ہوئے چہرے پر نظریں جمائیں آخر کار وہ اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ شرمانے، لجانے سے کام نہیں چلے گا۔ کھل کر مقابلہ کرنا ہوگا۔

’’میرے دماغ میں اس سے بھی زیادہ نادر اور اچھوتے خیالات آتے رہتے ہیں۔ سفید لٹھے کے ایسے ایسے ملبوسات تیار کر سکتی ہوں میں کہ مارکیٹ میں تہلکہ مچ جائے گا۔ آپ شاپ میں رکھنے کی ہامی تو بھریں۔‘‘

اس کا اشارہ سمجھ کر صائم نے خوف زدگی کے مصنوعی تاثرات خود پر طاری کےے۔

’’آپ کے ارادے تو بڑے خطرناک ہیں۔ بہرحال اللہ آپ کو کامیابی عطا فرمائے ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں۔‘‘

’’یہ سب بے تکلف ہونے کے بہانے ہیں۔‘‘ اس نے تیکھے پن سے کہا۔

’’سیدھی طرح کہتے کیوں نہیں کہ آپ سے بات کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یوں عذر تراشنے کی کیا ضرورت ہے۔ لڑکوں کی یہی تو مصیبت ہے الٹی سیدھی حرکتیں کرنے لگتے ہیں لڑکیوں سے فری ہونے کے لےے، اتنا نہیں سمجھتے کہ لڑکیوں کو چھچھور پن سے متاثر نہیں تاہم بد دل ضرور کیا جاسکتا ہے۔‘‘ اپنی ہمت پر وہ دل ہ دل میں خود کو داد دے رہی تھی۔

’’آپ کی بات بجا ہے مگر انصاف سے کام لیجےے۔ چڑیاں آپ پکڑ رہی تھیں یا میں؟ اس روز سینما میں۔۔۔‘‘

’’بس بس۔‘‘ رانیہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوک دیا۔

’’چڑیاں پکڑنا میرا اخلاقی اور قانونی حق ہے۔ آپ اس پر کوئی تعزیر نہیں لگا سکتے اور سینما۔۔۔‘‘

پتا نہیں کیا ہوا اسے بے تحاشا ہنسی آگئی۔ صائم نے ایک بلند آہنگ قہقہہ لگتے ہوئے اپنے سر پر ہاتھ رکھے۔ کتنی دیر تک وہ دونوں ہنستے رہے تھے۔

’’ویسے جو کچھ بھی ہوا تھا دلچسپ۔‘‘ صائم چوبی بینچ پر بیٹھ کر آنکھوں میں آئی ہوئی نمی پونچھتے ہوئے بولا۔

’’آپ سب لوگ بہت اچھے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے آ پ سب کے ساتھ میں بھی ویسے ہی گھل مل جائوں جیسے آپ ایک دوجے کے ساتھ ہیں۔ مجھ سے دوستی کریں گی آپ؟‘‘

ایک لمحے کے لےے تو اس کے دماغ میں ’’ہاں، کیوں نہیں، ابھی اسی وقت، یہی تو میں چاہتی تھی‘‘ جیسے فقرے اندھی اور انرجیٹک چمگادڑوں کی طرح پھڑپھڑائے مگر جلد ہی اس نے خود پر قابو پالیا تھا۔

’’فرمائش تو ایسی نامناسب نہیں ہے۔ بہرحال میں سوچوں گی۔‘‘ اس نے آواز کے ارتعاش کو چھپانے کی کوشش کی مگر پوری طرح کامیاب نہ ہوسکی۔

’’ا س کا مطلب ہے آپ کو کوئی اعتراض نہیں۔ چھوڑےے تکلف وغیرہ۔ ابھی سے اپنی اور میری دوستی پکُی سمجھیں۔ اب میں آپ سے یہ ہرگز نہیں کہوں گا کہ لائےے اس با ت پر ہاتھ ملائےے۔‘‘

’’کتنا شریر ہے۔‘‘ رانیہ نے تخیل میں اسے ایک چپت بھی رسید کر دی۔

’’آپ بیٹھیں تو۔۔۔‘‘ وہ ہدایت پر عمل کرنے ہی والی تھی لیکن ندرت کی آواز سن کر ٹھٹک گئی۔

’’رانیہ۔۔۔!‘‘ دیوار کے اوپر سے چہرہ نکالے وہ کڑے تیوروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔

’’تمہیںکچھ زیادہ دیر نہیں ہوگئی؟ السلام علیکم!‘‘ صائم کو متوجہ پا کر اس نے سلام کیا۔

’’اچھا اب میں چلتی ہوں۔‘‘

اس نے آنکھوں سے ندرت کو دفعان ہونے کا پیغام پہنچایا اور تراشیدہ ہونٹوں کو کھوئی ہوئی سی کیفیت میں نیم وا کرتے ہوئے اجازت چاہی۔ آئینے کے سامنے کئی بار یہ پوز بنا کر دیکھ چکی تھی۔ بڑا ہی جچتا تھا اس پر۔

’’وہ بال تو ملی ہی نہیں۔‘‘

اس نے مخروطی انگلیوں کی دلفریب جنبش سے چہرے پر جھولتی لٹ کان کے پیچھے اڑسی اور پلکوں کو سلوموشن میں جھپکا کر بولی۔

’’مجھے دیر ہورہی ہے۔ آپ کو ملے تو بتا دیجےے گا۔‘‘

جاتے ہوئے وہ سیاہ بالوں کی موٹی اور دراز چٹیا کو جھلا کر گردن کو خم دینا نہیں بھولی تھی۔

’’آنٹی کو سلام کہےے گا۔‘‘

ندرت نے اس کا استقبال بڑے تپاک سے کیا تھا۔

’’تمہارے قہقہوں کی آوازوں سے پورا محلہ گونج رہا تھا۔ دیدوں کا پانی ڈھلنا اسے ہی کہتے ہیں۔ اس طرح غیر لڑکے کے سامنے بے حیائی سے باچھیں پھاڑتے تمہیں خاندان کی عزت و ناموس کا ذرا بھی خیال نہیں آیا۔ ہماری عزت کو کلنک لگاتے ہوئے کیا تم نے اتنا بھی نہ سوچا کہ تمہارے بوڑھے ماں باپ اور ایک غیرت مند جوان اور اسمارٹ بھائی زمانے سے کیسے نظریں ملا پائیں گے۔ آوارہ، بے حیا، جائو تمہیں میری بد دعا ہے کہ نادانستگی میں چہرے پر کوئی ایسا ماسک لگا بیٹھو جس سے تمہاری رنگت بھینس کی کھال جیسی ہوجائے اور اتنے دانے نکلیں کہ لوگ تم پر تھو تھو کریں۔ جائو چلی جائو تم پر اس گھر کے دروازے بند ہیں۔‘‘ اس کا انداز خالصتاً فلمی مائوں جیسا تھا۔

’’تمہاری ڈائیلاگ ڈلیوری کچھ اتنی اچھی نہیں۔ بس گزارہ ہے۔ لیکن یہ جو تم نے میری مترنم ہنسی کو باچھیں پھاڑنا کہہ کر کسی دلی جذبے کو تسکین پہنچائی ہے یہ بات مجھے بالکل پسند نہیں آئی۔‘‘

’’اچھا کہہ کیا رہا تھا؟‘‘

’’کہنا کیا تھا۔ وہی گھسے پٹے جملے، تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ تم کہو تو جان دے کر اپنی سچائی کا ثبوت پیش کروں، خدا کے لےے میری محبت سے کبھی منہ مت موڑنا، تم دنیا کی سب سے خوب صورت، انتہائی حسین اور بہت ہی زیادہ حسین لڑکی ہو وغیرہ اور کیا کہتا بے چارہ۔‘‘ ندرت نے نفی میں سر ہلایا۔

’’چاہے تم جلتے توے پر ہی کیوں نہ بیٹھ جائو۔ میں نہیں مان سکتی صائم تھوڑا بہت بے وقوف تو ہوسکتا ہے لیکن پاگل نہیں ہے۔‘‘

’’تمہیں مناتا بھی کون ہے۔‘‘ رانیہ نے ہاتھ جھٹک کر کہا۔

’’جسے ماننا تھا وہ تو مان بھی گیا۔ اب تم چاہے مانو نہ مانو میری نظر کے ایک ہی وار سے ڈھیر ہوگیا۔ بڑی قاتل ادائیں ہیں میری۔‘‘ اس نے کتھک ناچنے والیوں کی طرح ابروئوں کو یکے بعد دیگرے جنبش دی۔

’’بعض اوقات تو میں خود بھی گھائل ہوجاتی ہوں اپنے حسن کے جلوئوں سے۔‘‘

٭٭٭

دانیال نے ان کے قریب فٹ پاتھ پر بائیک روکی اور انجن بند کرتے ہوئے سیاہ گاگلز کو آنکھوں سے ہٹا کر جیب میں منتقل کیا۔

’’چلو ندرت تم میرے ساتھ آجائو مال سے ہوتے ہوئے چلیں گے۔ دل چاہا تو بیٹن روڈ کی طرف سے بھی ٹرن لے لیں گے۔ آئس کریم کا موڈ ہے نا؟‘‘

اس نے رانیہ کو یکسر نظر انداز کیا تو اس نے سلگ کر ہاتھ میں پکڑی فائل ندرت کے کندھے پر دے ماری۔ جو اس آفر پر مسکراتے ہوئے دانیال کا شکریہ اد اکر رہی تھی۔

’’یہ کیا طریقہ ہے۔ غصہ تمہیں ہوگا تو دانی پر ہوگا میرا کیا قصور ہے۔‘‘ وہ کندھا سہلا کر بولی مگر دانیال کے پیچھے بائیک پر بیٹھنے سے پھر بھی باز نہ آئی۔

’’اسے تم بائیک پر لے جارہے ہو اور میں۔۔۔؟‘‘ اس نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے پیر پٹخے۔

’’یہ ہماری مہمان ہے۔‘‘ دانیال کا لہجہ پرسکون اور دھیما تھا۔ ’’مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ہماری معزز مہمان ویگنوں میں خوار ہو اور ہاں اماں سے کہہ دینا ندرت لائبریری یا کمپیوٹر لیب میں ایک اہم اسائنمنٹ پر کام کرنے میں مصروف ہے۔ اس لےے آنے میں دیر ہوجائے گی شاید۔‘‘

’’اسائنمنٹ۔۔۔‘‘ اس نے دانت پیس کر دوہرایا۔

’’دانیال تمہاری عقل کو ہوا کیا ہے؟ اس مکار اور بدنما لڑکی کے چنگل سے نکل آئو۔‘‘

’’اوکے رانیہ ، اللہ حافظ۔‘‘ دانیال نے انجن اسٹارٹ کر کے کک لگائی تو ندرت نے ایک ادا سے ہاتھ ہلایا۔

’’تم لوگ جو کھیل کھیل رہے ہو میں اس کا انجام ایسا خوف ناک کر دوں گی کہ تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔‘‘ اس کی دھمکی کے جواب میں دانیال نے سر کے اشارے سے اسے اللہ حافظ کہا اور جاتے ہوئے اسی دل جلانے والی مدھم انداز میں بولا۔

’’تمہیں اس کھیل کا امپائر بنا بھی کون رہا ہے۔ تم تو سکہ بند بے ایمان ہو۔‘‘

تیزی سے دور ہوتی بائیک کو شعلہ بار نگاہوں سے تکتے ہوئے وہ بڑبڑائی تھی۔

’’یہ تم نہیں بول رہے دانیال اس منحوس لڑکی کا جادو بولا رہا ہے۔ لیکن جادو تو روپ سے ہوتا ہے اور روپ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آہ! میرے معصوم بھائی تمہاری چوائس کس قدر گھٹیا ہے۔ میں کیسے تمہیں سمجھائوں، اماں کو بھی تو اس نے شیشے میں اتار لیا ہے۔‘‘

غصے کے مارے اس کی پیشانی پر شکنوں کا جال سا بن گیا تھا۔ حالانکہ جانتی تھی اس طرح کرنے سے حسن کو گزند پہنچنے کا احتمال تھا۔ سلوٹوں کے مستقل نشان بھی پڑ سکتے تھے مگر کیا کرتی طیش میں خود پر اختیار ہی کہاں رہتا ہے۔

مطلوبہ نمبر کی دو ویگنیں آکر چلی گئی تھیں۔ لیکن ان میں لوگ ایسے ٹھنسے تھے جیسے کسی ٹرنک میں نے پرانے کپڑے۔ سواری کا انتظار کرنے والے لوگوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔اس نے ماتھے پر سے پسینہ پونچھتے ہوئے بائیں طرف نظر ڈالی اور رفعت زیاد کی مستقل مزاجی پر عش عش کر اٹھی۔ اس سے تھوڑے سے فاصلے پر بائیک کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا وہ بظاہر ایک دوست ے ساتھ باتیں کرنے میں مشغول تھا لیکن نظریں اسی مقام کا طواف کر رہی تھیں، جہاں رانیہ موجود تھی۔

ایک دم اسے دھوپ کی شدت پہلے سے زیادہ محسوس ہونے لگی۔ موسم قدرے تبدیل ہوچکا تھا۔ صبح اور رات کے وقت ہوا خاصی خوش گوار ہوتی تھی تاہم دوپہریں اب بھی پرحدت اور چمک دار تھیں۔

ایک کار نے اس کے قریب آکر بریک لگائے تو وہ خیالات سے چونک گئی۔

’’آپ یہاں دھوپ میں کھڑی کیا کر رہی ہیں؟‘‘ صائم نے شیشہ نیچے کرتے ہوئے اسے پکارا۔

کیسا احمقانہ سوال تھا۔ اس طرح ویگن اسٹاپ پر بے یار و مددگار کھڑا کوئی دھوپ میں جل رہا ہو تو وہ کیا کر رہا ہوگا۔

’’میں یہاں اخبار بیچتی ہوں۔‘‘ اس کے جلے بھنے انداز پر وہ مسکرایا اور فرنٹ ڈور وا کر دیا۔

’’لگتا ہے آج گرمی بہت زیادہ ہے۔‘‘

’’بہت شکریہ میں ویگن میں چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے اپنے پیروں کو سختی سے زمین پر جمایا جو اسے کار کی طرف گھسیٹ رہے تھے۔

’’ویگن میں پھر کبھی چلی جائےے گا۔ آج تو آپ کی ملاقات مجھ سے ہوگئی ہے۔ اس لےے گاڑی میں ہی جانا پڑے گا۔‘‘

’’اچھی دھونس ہے۔ نہ کوئی التجا، نہ کوئی خوشامد۔ گاڑی کا رعب تو یوں دے رہے ہیں جیسے میں کبھی گاڑی میں بیٹھی ہی نہیں۔‘‘ اس نے کلس کر سوچا۔

’’نہیں آپ جائےے، اچھا نہیں لگتا اس طرح۔ ابا یا دانیال نے دیکھا تو کیا سوچیں گے۔‘‘ اس نے انکار کیا اور دو قدم اٹھا کر غیر محسوس طریقے سے گاڑی کے قریب ہوگئی۔

’’کچھ نہیں سوچیں گے اسٹاپ پر بہت رش ہے۔ ویگن پتا نہیں کتنی دیر میں ملے ، آجائیں آپ۔‘‘

’’نہیں یہ تو روز کا معمول ہے۔ سواری ملنے میں دیر سویر تو ہوتی ہی رہتی ہے۔ میں چلی جائوں گی۔‘‘ وہ ایک قدم اور آگے سرکی۔

’’چلیں جیسے آپ کی مرضی، گڈ بائے۔‘‘ اس نے کھٹاک سے دروازہ بند کرلیا۔ اس کا پائوں فضا میں معلق رہ گیا تھا۔

’’ہائے ذرا سا تو اصرار کرتا۔ میں بس بیٹھنے ہی والی تھی۔ ایک دفعہ اور کہہ دیتا تو۔۔‘‘ حسرت اور طیش کی ملی جلی کیفیات اس کے دل میں مچلنے لگیں۔

گاڑی اب تک اس کے قریب ساکت تھی۔ خدا معلوم صائم جا کیوں نہیں رہا تھا۔ اس کا دل چاہا کہ کھڑکی سے جھانک کر کہے ’’میں تو مذاق کر رہی تھی۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے تم۔‘‘لیکن اس خواہش پر عمل نہ کرسکی۔

رفعت اب خاموش کھڑا تھا۔ اس کا دوست شاید جا چکا تھا۔ اس کی آنکھوںمیں خالی پن تیر رہا تھا اور نچلا جبڑا دروازے کے اکھڑے ہوئے طاق کی طرح لٹکا تھا۔ یقینا یہ صائم کی آمد کا اثر تھا۔ اس کی دگرگوں حالت دیکھ کر رانیہ کو عجیب قسم کا سکون اپنے اندر سرائیت کرتا محسوس ہوا۔

فرنٹ ڈور ایک با رپھر کھل چکا تھا۔

’’آخری بار کہہ رہا ہوں۔ بیٹھ جائیں ویسے میں سمجھ نہیں پارہا کیا بات آپ کو میرے ساتھ آنے سے روک رہی ہے۔ کہیں آپ میری شرافت کے بارے میں تو مشکوک نہیں ہیں۔‘‘

رانیہ نے ایک ہی جست میں سیٹ پر بیٹھ کر طویل سانس بھری۔ اس بار وہ گزشتہ غلطی کو دوہرانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے رفعت کے تاریک پڑتے چہرے کی جھلک نے اس کی خوشی میں اضافہ کیا تھا۔

’’آپ کے بے تحاشا اصرار سے مجبور ہو کر بیٹھ گئی ہوں۔ ٹالسٹائی کا قول ہے کسی کا دل نہ دکھا کہ تیرے پہلو میں بھی دل ہے۔‘‘

’’یہ قول میں پڑھ چکا ہوں۔ غالباً پانچویں یا چھٹی کی اردو کی کتاب میں تھا۔‘‘

اس نے شیشے کے پار گھومتے ہوئے سیاہ پہیوں اور تیزی سے پیچھے کی سمت سرکتی تارکول کی سڑک پر نظریں جمادیں۔

’’سرکاری اسکولوں کا پڑھا ہوا نکلا۔ میں تو سمجھی تھی۔۔۔ خیر۔‘‘

’’میوزک سننا پسند کریں گی آپ۔‘‘ اس نے رانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اور پھر اس کی رائے لےے بغیر بولا۔

’’اس گیت کے بارے میں کیا خیال ہے وہ Aqua کا ’’مائی او مائی۔‘‘ رانیہ نے اس کی مسکراہٹ پر طیش کے تیر برسائے۔

’’مجھے یہیں اتار دیجےے۔‘‘

’’آپ کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئی ہیں۔ چلیں گولی ماریں مائی والے گانے کو۔ ہمیں مائیوں سے لینا بھی کیا۔ اوہ ہاں! امی نے بات کی تھی آنٹی سے کام والی کے لےے، اس سلسلے میں کچھ پیش رفت ہوئی کیا؟‘‘

’’ہاں مجھے بھی کہا تو تھا آنٹی نے لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوسکا۔ خالہ رشیدہ آئیں گی تو میں ان سے بات کروں گی۔‘‘

’’خدا کے لےے کچھ کریں۔ برتن بھی مجھی کو دھونے پڑتے ہیں۔ صفائیاں بھی میرے ذمے ہیں۔ کل شام کو میں ایکسر سائز کے لےے بھی نہیں جاسکا۔ اب بھی ان دھلے برتنوں کا ایک انبار میرے انتظار میں پڑا ہوگا۔ اچھرہ میں جو عورت ہمارے گھر کام کرتی تھی اس نے ہمارے نئے گھر میں آنے کے بعد فاصلہ زیادہ ہونے کی وجہ سے کام چھوڑ دیا ہے۔ چار روز اور یہی صورت حال رہی تو میں خود کام والی ماسی میں تبدیل ہوجائوں گا۔‘‘

رانیہ ہنسی اور وہ تیز آواز میں بولا۔

’’آپ ہنس رہی ہیں ؟ ویسے آپ بھی ٹھیک ہیں۔‘‘ وہ اس کی طرف پرسوچ نظروں سے دیکھنے لگا۔

’’کیا مطلب؟ کس لےے ٹھیک ہوں؟‘‘ وہ چونکی۔

’’یہی ماسی کے طور پر ہم آپ کو مستقل گھر رکھنے پر تیار ہیں۔ ہزار روپے ماہوار، روٹی، کپڑا اور چائے پانی کا خرچ الگ۔‘‘

کچھ دیر تو وہ بالکل خاموش رہی۔

’’پرپوز کرنے کا کیا ڈھنگ نکالا ہے۔ میں بھی انجان بننے کی انتہا کر دوں گی۔‘‘

’’آپ کا سینس آف ہیومر ہمیشہ سے اتنا چیپ ہے یا کام کے زیادہ بوجھ کے باعث یہ عارضہ لاحق ہوا ہے۔‘‘

’’آپ نے میری آفر کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میں معاوضے میں تھوڑی لچک بھی دکھا سکتا ہوں۔‘‘ اس کی آنکھوں میں شرارت کا گہرا رنگ ہلکورے لے رہا تھا۔

ان کی گاڑی ایک سگنل پر رکی تو رانیہ کو رفعت نظر آیا وہ یقینا کار کا تعاقب کر رہا تھا۔ اس کے بعد بھی گھر تک وہ اس کی موجودگی کو نوٹ کرتی رہی۔ سارا راستہ اڑتے ہوئے بال گاڑی کے آگے پیچھے ہوا میں لہراتے رہے۔ آج سے پہلے اس نے ایسا کبھی نہیں کیا تھا۔ ویگن کے پیچھے بائیک دوڑاتا وہ کبھی دکھائی نہیں دیا تھا۔

آج پہلی بار رانیہ کو اس کا وجود باعثِ تشویش محسوس ہوا تھا۔

٭٭٭

آنٹی صالحہ کے ساتھ اس کے تعلقات کی گاڑی چند روز میں ہی کسی ڈھلوان اور چکنی سڑک پر پھسلنے لگی تھی۔ بیچ کی دیوار پر چھائی ہوئی بیل کے نارنجی پھولوں سے متعدد بار رانیہ، رانیہ کی صدائیں پھوٹتی۔ کبھی رانیہ کو اپنی جوانی کے خوش گوار قصے سنائے جارہے ہیں تو کبھی اس سے دوپہر کا کھانا تیار کرنے کے سلسلے میں مشورہ طلب کیا جارہا ہے۔ بازار میں مختلف اشیائ کے نرخوں سے لے کر بین الاقوامی سیاست تک ان کے درمیان موضوع بحث بنتی۔ رانیہ دن میں ایک چکر تو ضرور ہی لگاتی اور اگر فرصت نہ ملتی تو دیوار پر سے ہی مزاج پرسی کا فریضہ نبھا دیا جاتا۔ صائم کے ساتھ بے تکلفی روز بروز نئی منازل طے کر ہری تھی فاصلہ سمٹ رہا تھا ۔ ابلق ایام میں دوریاں تحلیل ہورہی تھیں۔

سب کچھ رانیہ کی منشا کے مطابق تھا۔ اس کی دانست میں سب کچھ ٹھیک تھا۔ لیکن سب کچھ ٹھیک نہیں تھا۔ ایک روز ایسی بات ہوگئی جس کی اسے ہرگز توقع نہ تھی۔ اچانک کہیں سے شبی ٹپک پڑی جیسے جاڑوں میں زمین کے سرد سینے سے کھمبی پھوٹ نکلی ہو۔ ایسی کسی صورت حال کے لےے وہ بالکل تیار نہ تھی سو شبی کی آمد اس کے لےے ایک دھچکا ثابت ہوئی۔

دھوپ اور چھائوں کے دھبے لان میں جا بجا گھاس پر بکھرے پڑے تھے۔ اماں ایک رضائی سامنے پھیلائے اس پر نیا غلاف چڑھا کر انیقہ کی مدد سے اس کی سلوٹیں نکال رہی تھیں۔ انیقہ نے رضائی کے دو کونوں پر مضبوطی سے ہاتھ جما رکھے تھے تاکہ اسے کھینچنے پر گوشوںمیں خلا نہ رہ جائیں۔ اماں چند روز سے اسی مہم پر کمربستہ تھیں۔ سردیوں کی آمد سے قبل ہی وہ رضائیوں اور گدوں کی درستگی کے کام سے فراغت پانا چاہتی تھیں۔ رانیہ چند ناکے پودے کے قریب گھاس پر بیٹھی ایک کتاب کھولے فیشل کرنے کا طریقہ سمجھنے میں کوشاں تھی۔ برآمدے میں دانیال جاب کے لےے درخواست لکھ رہا تھا اور ندرت اس کے قریب پہاڑی نمک اور شیمپو ملے پانی میں پائوںڈبوئے پیڈی کیور کے ابتدائی مراحل میں مبتلا تھی۔

ساتھ والے گھر سے ایک بلند نسوانی قہقہہ اوپر اٹھا اورہوا کے دوش پر لہرانے لگا۔ رانیہ کا جھکا ہوا سر اٹھ گیا۔ اماں کا لحاف میں نگندے ڈالتا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا۔

’’ہائیں، یہ صالحہ کی آواز اتنی جوان کب سے ہوگئی۔‘‘

ان کی بات کا جواب کسی نے نہیں دیا۔ رانیہ اٹھ کر دیوار کی طرف بھاگی۔ انیقہ بھی اس کی تقلید میں دیوار کے قریب چلی گئی۔ ندرت کا پائوں بھگونے کا دورانیہ چونکہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ سو وہ دل مسوس کر رہ گئی۔

’’صائم میرے سامنے تم دومنٹ نہیں ٹھہر سکو گے۔ یہ میرا چیلنج ہے تمہیں۔‘‘ ریکٹ کو ہاتھ میں تولتے ہوئے انگریزی گزیدہ لہجے میں وہ پنجوں کے بل اچھلتی کہہ رہی تھی۔

چست جینز کلف لگا پنک کرتا اور صائم سے تھوڑے لمبے بالوں کے ساتھ وہ کوئی مغرب زدہ مخلوق تھی۔ گلے میں بالکل ویسی کالی زنجیر جیسی وہ اپنے قربانی کے بکرے کی گردن میں ڈالا کرتے تھے۔ رنگت تازہ قلعی شدہ دیوار کی مانند سفید تھی۔ سرخی کی ایک چھینٹ بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتی تھی۔ دبلا پتلا جسم اور قد بانس کی چھڑی جیسا، ماتھا جی بھر کر فراخ تھا اوپری جبڑا ذرا سا اونچا اور چہرہ لمبوترا تھا۔ لیکن ان خامیوں کے باوجود بحیثیت مجموعی وہ توجہ کھینچنے والی شے تھی۔ اس کے اوپر والے جبڑے کی بناوٹ مختلف ہوتی تو شاید ہو بالکل عام سی لڑکی ہوتی اس کی ہنسی صورت کی ساری کجیوں کو اپنے اندر چھپالیتی تھی اور یہی ہنسی اوڑھے وہ رانیہ کے مقابل آن کھڑی ہوئی تھی۔ بڑی پھرتی تھی اس کی حرکات و سکنات میں۔ شٹل کاک کو ریکٹ سے ضرب لگانے کے لےے اچھلتی تو ربڑ کی گڑیا کی طرح لچک لچک جاتی۔

’’کون ہے یہ گھڑ مونہی؟ پھاوڑے سے دانت نکال کر ہنسے جارہی ہے۔ صالحہ نے تو ذکر ہی نہیں کیا۔‘‘ اماں بھی لحاف کو چھوڑ چھاڑ کر اسے دیکھنے چلی آئی تھیں۔

’’شبی میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں ہوں۔ اگر تم جیت گئیں تو میں۔۔۔‘‘

’’جیتوں گی تو میں ہی۔ میںکبھی نہیں ہارتی۔ لیکن یاد رکھو ہارنے کے بعد تمہیں میری کوئی بھی فرمائش پوری کرنا ہوگی۔‘‘

’’منظور ہے تم جو کہو گی میں کروں گا۔ لیکن وہ۔۔۔‘‘ صائم کا فقرہ بیچ میں ہی رہ گیا۔ ریکٹ کا وار اوچھا پڑا تھا اور شٹل کاک نیٹ کے تنے ہوئے تاروں سے اچٹ کر گھاس پر گر گئی تھی۔

شبی نے قہقہہ لگایا۔ ذہن کھلا ہونے کی وجہ سے ہنستے ہوئے اس کے اوپر نیچے کے دانت اور گلابی مسوڑھے بڑی وضاحت سے دکھائی دیتے تھے۔ ایسے وقت میں صرف اس کی ہنسی سامنے رہ جاتی تھی وہ خود کہیں اوٹ میں جا چھپتی تھی۔

صائم کے سرخ و سپید چہرے پر شکست خوردگی کے آثار پسینے کی بوندوں کی صورت میں نمودار ہورہے تھے۔

’’تمہاری شکست کا آغاز ہوچکا ہے صائم! اب بھی وقت ہے آرام سے ہار مان لو۔ ہوسکتا ہے ایسی صورت میں میرا رویہ رحمدلانہ ہو۔‘‘

رانیہ نے اماں کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر پتا نہیں کہاں سے ڈھیروں جھریاں اتر آئی تھیں۔

’’جا ذر اپتا تو کر کے آ۔ یہ شبی کون ہے؟‘‘ دھیمی آواز میں کہہ کر وہ دوبارہ لحاف سینے بیٹھ گئیں۔

’’کچھ مجھے بھی تو بتائو۔ ادھر کیا تماشا ہورہا ہے۔‘‘ ندرت پیروں کو تولےے سے خشک کرتے ہوئے بولی۔

رانیہ خاموش رہی اور دیوار کے قریب ہی گھاس پر نڈھال سے انداز میں بیٹھ گئی۔ شبی کے قدموں کی دھمک اسے اپنے دل میں گونجتی سنائی دے رہی تھی۔ انیقہ، دانیال اور ندرت کو شبی کے متعلق بتانے لگی۔ شبی کے بارے میں سنتے ہی دانیال نے درخواست والے کاغذ کا گولہ بنا کر ایک کونے میں اچھالا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر بال بنانے لگا۔ ساتھ ہی وہ کسی رومانٹک گانے کی دھن پر سیٹی بجا رہا تھا۔ ندرت نے اماں سے آنکھ بچا کر ایک بھاری سول والا جوتا اس کی کمر میں مارا لیکن اس کی سیٹی موقوف نہ ہوئی۔

’’دیکھنے میں تو کوئی حرج نہیں بھئی۔ کیا معلوم کوئی گرین کارڈ ہولڈر حسینہ ہو، ہم دونوں کا مستقبل سنور جائے گا۔‘‘ اس نے جھک کر دبی ہوئی آواز میں اسے سمجھانے کی کوشش کی اور اس کے بگڑے ہوئے نقوش کو خاطر میں لائے بنا شبی سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے چلا گیا۔

ندرت نے مساج کو ملتوی کیا اور دیوار کی اوٹ سے شبی کی ایک جھلک دیکھنے کے بعد رانیہ کے پاس آبیٹھی۔ وہ سر جھکائے تپتپا گھاس کی رس بھری پتیاں نوچ رہی تھی۔

’’گھاس کے تنکے اکھیڑنے سے کیا فائدہ۔ جاکر اس کے بخےے ادھیڑو تو کوئی بات بھی ہے۔ ہے تو تم سے زیادہ خوب صورت، معاملہ اب پیچیدہ ہوگیا ہے۔ اس کی آب و تاب کا مقابلہ کرنا تمہارے بس کی بات نہیں۔ لیکن چونکہ تم ازلی ڈھیٹ ہو اور جوتے کھائے بغیر واپس نہیں مڑو گی اس لےے میں رحم کھاتے ہوئے اپنا نہایت قیمتی اور نفیس کریم ایمبرائڈری والا بلیک سوٹ تمیں شام تک کے لےے ادھار دے دیتی ہوں۔ مل آئو شبی سے۔ لیکن ایک بات یاد رکھنا میرے سوٹ پر کوئی آنچ آئی تو میں انتقاماً تمہارا فیروزی نگینوں والا نیکلس ضبط کرلوں گی۔ جس پر ایک عرصے سے میں نے نظر رکھی ہوئی ہے۔‘‘

’’میں تمہاری آنکھیں پھوڑ دوں گی جواب تم نے اس نیکلس کی طرف دیکھا تو۔‘‘ رانیہ نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا اور دیوار کے پار ہوا میں ڈولتی اور ہچکولے کھاتی شٹل کاک کو دیکھتے ہوئے عجیب طرح سے مسکرائی۔

’’میں بھی کہوں اس کا ہک کیوں ٹوٹ گیا۔ یقینا تم نے اپنی موٹی گردن میں پھنسانے کی کوشش کی ہوگی۔اپنے گلے میں خود پھندا فٹ کرتے ہوئے تمہیں خوف نہیں آیا۔ چلو لے کر آئو وہ سیاہ ذرُہ بکتر۔ سر پر کفن باندھ کر شبی سے مل آئوں۔‘‘

’’لے تو آئوں۔‘‘ ندرت اٹھ کر اس کے قریب آگئی۔

’’پر سوچتی ہوں۔ تم اس میں سمائو گی کیسے۔ کہاں میرا نازک سراپا اور کہاں تم، کہیں سلائیاں ہی نہ ادھڑ جائیں، مجھ پر وہ سوٹ اتنا جچتا ہے کہ کوئی حد نہیں کوئی حساب نہیں۔ اسے پہن کر جدھر سے گزروں چہ مگوئیاں ہونے لگتی ہیں کہ۔۔۔‘‘

’’یہ بھینس دو ٹانگوں پر کیسے چلی آرہی ہے۔‘‘ رانیہ نے فقرہ مکمل کیا۔

’’خبردار! میری بات مت کاٹو ورنہ میں فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہوجائوں گی۔‘‘ وہ ڈپٹ کر بولی۔

’’ہاں تو میں کہہ رہی تھی۔ لوگ حیرت سے تکنے لگتے ہیں جنت کی حور زمین پر کیسے اتر آئی، کون ہے یہ البیلی دوشیزہ۔‘‘

’’ا س سوٹ میں تم مشکیزہ ضرور لگتی ہو۔ دوشیزہ کا لفظ استعمال کر کے مجھے اور خود کو شرمندہ نہ کرو۔‘‘

رانیہ سیاہ لباس پہن کر آئی اور لان کے وسط میں ٹھہر کر نیم دائرے میں گھومی۔

’’ہے کوئی مجھ سا تو سامنے آئے۔‘‘ اس کی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ دیوار سے پرلی طرف سنی جاسکتی۔

اماں نے ناک پر ڈھلکتی عینک سنواری اور سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کے لےے ان کی دھندلائی ہوئی آنکھوں میں چمک سی ابھری اور دوسرے ہی پل بجھ گئی۔ کچھ کہے بنا وہ پھر لحاف میں نگدے ڈالنے لگیں۔ ان کا ہاتھ دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔

دیوار کی اوٹ سے صالحہ آنٹی کا چہرہ ابھرا۔ رانیہ پر نظر پڑتے ہی انہوں نے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا۔

’’کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ اتنے گہرے رنگ نہ پہنا کرو، نظر لگ جائے گی۔‘‘

’’میں تو ہوں ہی پیاری۔ لگنے والی کیا بات ہے۔‘‘ اس نے دلفریب مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر ندرت کو دیکھا جو بڑی عجلت میں دیوار کی طرف آرہی تھی۔

’’آنٹی یہ جو سوٹ ہے نا۔۔۔‘‘ رانیہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا مگر اس نے بیان جاری رکھا۔

’’یہ سوٹ۔۔۔ بہت خوب صورت ہے نا، یہ سوٹ۔۔۔‘‘

’’تمہارا ہے کیا۔۔۔؟‘‘ وہ مسکرا کر بولیں۔

ندرت کھسیانی ہنسی ہنس کر خاموش ہوگئی۔ رانیہ اسے جن نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ اسے مستقبل کے حالات سمجھانے کے لےے کافی تھیں۔

’’میں تو یہ کہہ رہی تھی کہ یہ سوٹ میں نے ڈیزائن کیا ہے۔‘‘

رانیہ کے تاثرات قدرے دھیمے پڑے تو اس نے سکون کا سانس لیا۔

’’رانیہ تم ادھر میری طرف آئو۔ ملوانا ہے تمہیں کسی سے فارغ تو ہونا۔‘‘

’’جی فارغ ہوں ابھی آجائوں کیا؟‘‘

’’ہاں ابھی۔‘‘

شبی اسے بڑے نارمل سے انداز میں ملی تھی۔ صائم کے چچا کی بیٹی تھی۔ نیویارک سے آئی تھی۔ عید پاکستان میں منانے کے ارادے کے ساتھ۔

’’شبینہ پاکستان میں یہ آپ کی پہلی عید ہوگی؟‘‘

اس نے ہاتھ اٹھا کر رانیہ کو ٹوک دیا تھا۔ ’’مجھے شبینہ کہہ کر کبھی کسی نے نہیں پکارا۔ آپ بھی مجھے شبی کہیں پلیز۔‘‘

’’اچھا تو شبینہ۔۔۔‘‘ رانیہ نے زبان چپٹی کر کے شبینہ کی ادائیگی میں آوازو انداز کے سارے تیر چلا دےے۔

’’آپ نے پہلے بھی کبھی پاکستان میں عید منائی ہے؟‘‘

شبی کی ناک کے سیدھے بانسے میں ہلکی سی ٹیڑھ آگئی۔

’’میں دس سال پاکستان میں رہی ہوں، میں گریڈ فائیو میں تھی جب ہم لوگ اسٹیٹس منتقل ہوگئے۔‘‘

’’اس کا مطلب ہے شبینہ آپ کو امریکا میں رہتے ہوئے پچیس تیس سال بیت چکے ہیں۔‘‘ رانیہ نے چہرے پر سنجیدگی کی دبیز چادر تانتے ہوئے سر ہلایا تو آنٹی صالحہ نے اپنی ہنسی چھپانے کے لےے بلا مقصد پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگالیا۔

’’کیا میں اتنی ایجڈ نظر آتی ہوں۔‘‘ شبی کے وسیع و عریض ماتھے پر لہریں رینگنے لگیں۔

’’وہ مذاق کر رہی ہے شبی!‘‘ صائم نے مداخلت کر کے بات سنبھالنے کی کوشش کی لیکن رانیہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نہ ہوئی۔

’’میں تو مذاق نہیں کر رہی۔‘‘ اس نے شدو مد سے سر کو دائیں بائیں جنبش دی۔

’’میں نے تو اندازے سے بات کی تھی۔ اب اندازے میں دو چار برس تو اوپر نیچے ہوسکتے ہیں۔‘‘

صائم خاصا مضطرب نظر آرہا تھا۔ رانیہ کو اس کے اضطراب کی کیا پروا ہوسکتی تھی جو کسی اور کے اور خاص طور پر کسی غیر شادی شدہ لڑکی کے لےے تھا وہ جب تک وہاں موجود رہی زبان سے چنگاریاں اڑاتی رہی۔

’’آپ کو یہ ہیر اسٹائل بہت جچتا اگر آپ کا چہرہ تھوڑا سا کم لمبا ہوگا۔‘‘

’’ارے آپ کی بائیں کنپٹی کے پاس جھریاں سی پڑتی ہیں ہنستے ہوئے۔ کہیں آپ ڈائٹنگ وغیرہ تو نہیں کرتیں۔‘‘

آپ کی آواز ذرا سی مردانہ ہے پر ہے رعب دار۔‘‘

جاتے ہوئے اس نے شبی کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا۔ ’’شبینہ آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ ہماری طرف ضرور آئےے گا۔ اوہ میں بھی کیسے بے لحاظ ہوں۔‘‘ اسے جیسے کسی غلطی کا ادراک ہوا تھا۔

’’کتنی بے تکلفی سے شبینہ ، شبینہ کہے جارہی ہوں۔ آخر ادب بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ پاکستان میں اور کچھ ہو نہ ہو بڑوں کا ادب بہت کیا جاتا ہے۔ آئندہ میں آپ کو باجی شبینہ کہوں گی۔‘‘

آنٹی صالحہ کے لےے ہنسی ضبط کرنا محال ہورہا تھا۔ چنانچہ وہ اٹھ کر ملحقہ کمرے میں چلی گئیں۔

’’آپ نے میری بے تکلفی کا برا تو نہیں منایا باجی شبینہ، میں بڑی عمر کے لوگوںمیں بھی بہت جلدی گھل مل جاتی ہوں۔ طبیعت میں ابھی بچپنا ہے نا، اچھا باجی شبینہ اللہ حافظ جلد ہی دوبارہ ملاقات ہوگی۔‘‘

شبی کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا۔ اس کے سختی سے بھنچے ہوئے جبڑے اور تنفس کی تیزی اس کی اندرونی کیفیات کی عکاسی کر رہی تھی۔

صائم رانیہ کے ساتھ ہی اٹھ کر باہر آگیا۔

’’رانیہ یہ کیا طریقہ ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں ناگواری تھی۔ ’’شبی نے تمہارے بارے میں اچھا تاثر قائم نہیں کیا ہوگا۔ بے شک تمہاری عادت ہے مذاق کرنے کی مگر وہ تو تمہاری باتوں کو طنز ہی سمجھ رہی ہوگی۔‘‘

وہ خاموشی سے ہوا کی چھیڑ سے مچلتے ہوئے سکھ چین کے پتوں کو دیکھتی رہی۔

’’میں تم سے کچھ کہہ رہا ہوں رانیہ؟‘‘

اس نے آہستگی سے نظروں کا زاویہ تبدیل کیا۔ ’’میرے طریقے تو ایسے ہی ہیں صائم!‘‘ نہ جانے کہاں سے اس کے گلے میں بہت سے آنسو آن چھپے تھے۔ اسے پلکوں کے گوشوں میں نمی کا احساس ہوا تو رخ موڑ کر گیٹ کی سمت بڑھی۔

’’اچھا کل ذرا وقت نکال کر آنا۔ شبی کے لےے کچھ اسپیشل ڈشز تیار کرنے کا ارادہ ہے۔ میری ہیلپ کردو گی نا۔ انسٹی ٹیوٹ سے چھٹی کرلینا۔ میں بھی کل آفس نہیں جارہا۔‘‘

’’کاش کہیں سے چٹکی بھر زہر مل جائے چکھتے ہی پھڑک جائے باجی شبینہ۔۔۔۔ لیکن نہیں اتنے سے زہر سے تو بچنے کا امکان ہوسکتا ہے۔‘‘ زہر کی مقدار سے اس کا دل مطمئن نہ ہوا تو اس نے فوراً نظر ثانی کر ڈالی۔

’’کم از کم مٹھی بھر تو ہو۔۔۔‘‘ گیٹ کے قریب رک کر وہ واپس مڑی۔

’’آجائوں گی، تم فکر نہ کرو، میں ایلو ویرا کی ایک شاخ لے جائوں کاٹ کر؟‘‘ صائم نے سوالیہ انداز میں بھنویں اچکائیں۔

’’وہ کس لےے؟‘‘

’’ایلو ویرا ابٹن بہت مفید ہوتا ہے اسکن کے لےے۔‘‘ وجہ جان کر وہ مسکرایا تھا۔

’’سارا گھر آپ کا ہے۔ آپ کا جی چاہے تو ایلو ویرا کو جڑ سے اکھاڑ کر لے جائیں لیکن خدا کے لےے اس سے زیادہ خوب صورت مت ہونا۔ پہلے ہی تمہیں دیکھ کر سینے میں سانس اٹکنے لگتی ہے۔‘‘

’’جھوٹا کہیں کا۔۔۔‘‘ رانیہ نے نظروں سے اس کی اجلی پیشانی کو چھوا اور اپنے آپ میں سمٹ گئی۔ پھر ڈرتے ڈرتے مژگاں کی اوٹ سے اس کی کشادہ چھاتی کو دیکھتے ہوئے خود کو سنبھال کر بولی۔

’’تمہیں دمے کی شکایت نہ ہو۔ پہلی فرصت میں ڈاکٹر سے رابطہ کرو۔‘‘

٭٭٭

اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ کروٹوں کا ایک لامتناہی سلسلہ تھا جو اس کے اعصاب کو بوجھل کر رہا تھا۔ دائیں پہلو لیٹتی تو لگتا جیسے کئی گھنٹوں سے یہی پہلو جسم کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔ بائیں پہلو کروٹ لیتی تو بائیں بازو سن محسوس ہونے لگتا۔سوئیاں چبھتی دل کی دھڑکن مدھم ہوجاتی، کانوں میں شائیں شائیں ہونے لگتی۔ گھڑی کی ٹک ٹک مسلسل اس کے دماغ میں گونج رہی تھی۔ گھوں گھوں کرتا سلو اسپیڈ میں گھومتا ہوا پنکھا اس پر غنودگی طاری کرنے کے بجائے ایک بے ہنگم شور برپا کر رہا تھا جیسے کسی پرانی مشین کی چرخی گڑگڑاہٹ کے ساتھ چل رہی ہو اور سب سے زیادہ پریشان کن گٹار کی آواز تھی جو اس کے سر کو کسی تیز آرے کی مانند دو حصوں میں چیر رہی تھی۔ آوازوں سے گھبرا کر وہ اٹھی اور چادر اتار کر پرے اچھال دی۔ اکتوبر کی ٹھنڈی رات تھی لیکن وہ پسینے میں شرابور ہورہی تھی۔ قمیص جسم کے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔ بیڈ سے اتر کر وہ لان میں آگئی تھی۔

آبنوسی بدن والی مضمحل رات سرد آہیں بھر رہی تھی، سرمئی آسمان کے سینے میں بے شمار چھید تھے جن سے جلتی ہوئی روشنی قطرہ قطرہ ٹپک رہی تھی۔ زعفرانی چاند کسی سہمے ہوئے بچے کی طرح پچھلی دیوار کی منڈیر سے پیشانی ٹکائے ہمک رہا تھا۔ سرو کے پودے ایک سمت گردنیں جھکائے بے زار کھڑے تھے۔ چند ناکے قدموں میں منجمد آنسو بکھرے پڑے تھے۔ کٹھ گلاب کے پیڑ کسی گہری سوچ میں گم تھے۔ شہنائی رو سرخ پھول گٹار کی شوخ دھن سے دامن بچانے کے لےے سر نیواڑے زمین کو تک رہے تھے۔

وہ بنا کوئی آہٹ پیدا کےے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دیوار کے قریب چلی گئی۔ دیوار کے بالکل پاس سکھ چین کے درختوں سے ذرا ہٹ کر دو بت آمنے سامنے ایستادہ تھے۔ گٹار کے تار خاموش ہوگئے۔

’’بجاتے رہو، بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘‘

’’میرا دل تو تم سے باتیں کرنے کو چاہ رہا ہے۔‘‘

’’باتیں تو اتنی ہیں کہ رات چھوٹی پڑجائے گی۔ تمہارے بھیجے ہوئے سارے وش کارڈز اور خطوط میں نے سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ کاغذ کا ایک پرزہ بھی اِدھر اَدھر نہیں ہونے دیا۔‘‘

’’تم کیا سمجھتی ہو تمہارے گفٹس میں نے ضائع کر دےے ہوں گے نہیں جناب، ہم جذبات کی قدر کرنے والے بندے ہیں۔ چار سال پہلے تم نے جو تصویر بھجوائی تھی جس میں تم چیری کے سفید شگوفوں سے لدے ہوئے پیڑ کے ساتھ سر سے پائوں تک سرخ رنگ میں ڈوبی ہوئی ایک بڑی سی چیری لگ رہی ہو، وہ میرے بیڈ روم میں آج بھی موجود ہے۔ جب تمہاری یاد آئے اسے دیکھ لیا کرتا ہوں۔‘‘

’’کس قدر خوش گوار ہوا چل رہ ہے۔ پتا نہیں کیوں مجھے کیٹس کی نظم یاد آرہی ہے جس میں اس دیو مالائی داستان کا ذکر ہے جس میں چاند کی دیوی ایک خوب صورت نوجوان پر اس لےے نیند طاری کر دیتی ہے تاکہ اس کی بے خبری میں اسے چھو سکے۔ کوئی اچھی سی دھن بجائو، کوئی رومانویت بھری دھن۔‘‘

’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔‘‘

گٹار کے تار بولنے لگے۔

اس نے اپنی ڈوبی ہوئی دھڑکن کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ اس کا حلق کانٹوں سے اٹا ہوا تھا ادھ مندی آنکھوں سے اداس رات اسے دیکھنے لگی۔ چندنا کا پودا جھرجھرایااور جمے ہوئے سفید آنسو ٹپ ٹپ کرنے لگے۔ سرو کے پودے ٹھنڈے ہو کے جھڑنے لگے۔ نارنجی پھولوں والی بیل دیوار کے سینے سے چمٹی کانپ رہی تھی۔ سرخ پھول سر جھکائے سسک رہے تھے۔

٭٭٭

’’باجی شبینہ ابھی تک سو رہی ہیں؟‘‘

’’صبح صائم کے ساتھ جاگنگ کرنے گئی تھیں۔ واپس آکر پھر سو گئی ہے۔‘‘ صالحہ آنٹی نے بتایا۔

رانیہ کی دھڑکن مدھم پڑ گئی۔

’’اچھا کھانے میں کیا بنے گا؟‘‘ اس نے بمشکل خود کوسنبھالا۔

’’پسندوں کے کباب اور بریانی، میٹھے میں کسٹرڈ۔‘‘ صالحہ آنٹی نے بتایا تو وہ متحیر لہجے میں بولی۔

’’یہ سب کھائیں گی شبینہ باجی۔ میں تو سمجھ رہی تھی ہیم برگر اور ایپل پائی ٹائپ چیزیں تیار ہوں گی۔‘‘

’’پاکستانی کھانے پسند ہیں اسے اس کی مرضی سے ہی صائم نے یہ ڈشز منتخب کی ہیں۔ بس تیز مرچ مسالے سے گھبراتی ہے۔ اب جتنے دن وہ رہے گی ہمیں بھی مجبوراً پھیکے اور بے مزا کھانے کھانا پڑیں گے۔‘‘

اس نے محسوس کیا تھا۔ آنٹی شبی کے آنے سے خوش نہیں تھیں۔ اس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کے لہجے سے ہلکی سی ناگواری جھلکنے لگتی تھی۔

’’باجی شبینہ صرف عید ہی منانے آہی ہیں یا کوئی اور بات بھی ہے۔‘‘ اس کا انداز کریدتا ہوا تھا۔

آنٹی نے اس کی بات سن کر چند لمحوں کی خاموشی اختیار کی ار پھر زرینہ کو جو سنک کے سامنے کھڑی بڑی تن دہی سے پتیلی مانجھ رہی تھی صائم کے کمرے کی جھاڑ پونچھ کرنے کی ہدایت کی۔

اس کے جانے کے بعد وہ رانیہ کی طرف مڑیں۔

’’یہ جو زرینہ ہے نا، کام ٹھیک ٹھاک طریقے سے کرتی ہے لیکن کن سوئیاں لینے کی بہت عادت ہے اسے۔‘‘ ان کا لہجہ دھیما تھا جیسے کوئی راز کی بات کرنا چاہتی ہوں۔

’’شبی خالی خولی عید کے لےے نہیں آئی۔ میں جانتی ہوں اپنے دیور کو، اس کا کوئی بھی کام منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہوتا۔ بے شک میں یہاں پاکستان میں بیٹھی ہوں مگر نیویارک کی ساری خبر ہے مجھے۔ میری جیٹھانی وہاں سے ہوکر آئی تھی پچھلے سال سب حال اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس نے۔ شبی اپنے باپ کے قابو میں نہیں رہی آزاد اور خود مختار امریکن لڑکی بن گئی ہے۔ اس لےے وہ چاہتا ہے شبی کی شادی اپنے خاندان میں ہوجائے اور خاندان میں لڑکے ہی کتنے ہیں میرے جیٹھ کے دونوں لڑکے بیاہے ہوئے ہیں۔ لے دے کے صائم ہی بچتا ہے۔ پر میں ایسا ہونے نہیں دوں گی۔ صائم کے ابو کی مرضی بھی میں نے معلوم کر لی ہے۔ انہیں بھی اپنی بھتیجی کو بہو بنانے کا کوئی چائو نہیں۔‘‘

’’اور اگر صائم ایسا چاہے تو۔۔۔‘‘ اس نے دل پر ہاتھ رکھ کے پوچھا۔

آنٹی نے اس کی طرف پَرسوچ نظروں سے دیکھا اور مسکرا کر بولیں۔

’’وہ کیوں چاہنے لگا ایسا؟‘‘ پھر قدرے تشویش زدہ سی ہوگئیں۔

’’ہاں لیکن عقل پر پردہ پڑتے کون سی دیر لگتی ہے۔ ہیرے کو چھوڑ کر کوئی دہکتا کوئلہ ہاتھ میں لینا چاہے تو ۔۔۔‘‘ انہوں نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’آنٹی ایک بات تو بتائیں۔‘‘ اس کے دل کی دھڑکن قابو سے باہر ہونے لگی۔ لیکن اس نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر لہجے میں سرسری پن کا تاثر دیا۔

’’آپ کیسی بہو چاہتی ہیں؟‘‘

’’بالکل تمہارے جیسی۔۔۔‘‘ انہوں نے ایک لمحہ توقف کےے بغیر جواب دیا تھا۔

’’ماشائ اللہ آنٹی کے خیالات تو بڑے نیک ہیں۔‘‘ اس کا دل آنٹی کے گلے میں بانہیں ڈال کر جھولنے کو چاہا۔

’’لیکن مجھے تو صائم کوئی خاص پسند نہیں ہے۔‘‘ صائم کے قدموں کی آہٹ پاکر وہ خاصی بلند آواز میں گویا ہوئی۔ ’’اڑبنگا سا لڑکا ہے۔ سنجیدگی کا فقدان ہے اس میں کبھی کبھی تو بالکل چھچھورا لگنے لگتا ہے۔‘‘

آنٹی اس کی باتوں پر مسکراتی رہیں۔ صائم اس کے قریب پہنچ کر زور سے کھنکارا تو وہ چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے پلٹی، فطری تاثرات دینے کی کوشش میں ذرا اوور ایکٹنگ کی مرتکب ہوگئی تھی۔ اس لےے صائم کو متاثر کرنے میں ناکام رہی۔

’’میری تعریف بیان کی جارہی تھی۔ رک کیوں گئیں اور بتائو اس کے علاوہ کیا کیا خوبیاں ہیں مجھ میں جو اب تک خود میری نظر سے اوجھل ہیں۔‘‘ اس کے لبوں پر مسکراہٹ رقصاں تھی۔

’’تم خود اتنی خوب صورت ہو۔ تمہاری آنکھوں کو کوئی اور کہاں بھائے گا۔‘‘

’’میرا خیال ہے کوکنگ شروع کی جائے۔‘‘ اس کی آواز میں تلخی تھی۔

صائم نے ایک نظر اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر کندھے اچکا کر بولا۔

’’تمہارے ذمے بریانی ہے۔ باقی سب میں خود کرلوں گا۔ لیکن ایک بات خاص طور پر یاد رکھنا مرچیں بہت کم ڈالنا۔ ہری مرچ تو بالکل بھی نہیں۔ سرخ مرچیں محض رسماً استعمال کرنی ہیں۔ شبی کو پھیکی بریانی پسند ہے۔‘‘

’’تم فکر نہ کرو صائم!‘‘ وہ دانت پیس کرمسکرائی۔ ’’سمجھ لو کہ آج بریانی کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوگا۔‘‘

آنٹی نے رانیہ کو آنکھوں کے اشارے سے کچھ سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ اخذ نہیں کر سکی یہ راز تو اس وقت کھلا جب آنٹی نے اسے بریانی کی گریوی میں اندھا دھند مرچیں ڈالتے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔

اس نے کھسیانی ہنسی ہنس کر کوئی بات بنانا چاہی لیکن گھگھیا کر رہ گئی۔

’’میں نے سوچا بریانی تو۔۔۔ مرچوں۔۔۔ مرچوں کے بغیر۔‘‘ کچھ نہ سوجھا تو وہ فرش کے ٹائل گننے لگی۔

کچھ دیر آنٹی خاموش اور ساکت کھڑی رہیں پھر کائونٹر پر پڑا ہوا سرخ مرچوں کا ڈبُا اٹھا کر کرختگی سے بولیں۔

’’تم اتنی کنجوسی سے کام کیوں لے رہی ہو۔ ہمارے گھر میں مرچوں کی کمی ہے کیا؟‘‘

اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں جب آنٹی نے ڈبُا ترچھا کر کے مرچوں کی ایک بڑی کھیپ دیگچی میں پہنچائی۔

’’میں تو کہتی ہوں کسٹرڈ بھی مرچیلا بنا ڈالیں۔ باجی شبینہ کو بھی پتا چلے چٹخارہ کسے کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر ہنستے ہوئے کہا تو وہ شاکڈ کھڑی ان کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔

٭٭٭

اس نے کتاب کے پھیلے ہوئے حروف کو شناخت کرنا چاہا لیکن وہ کسی متروک شدہ قدیم زبان کی طرح اجنبی محسوس ہوئے۔ کچھ دنوں سے یہی ہورہا تھا وہ کوئی کتاب لے کر بیٹھتی تو حروف روشنائی کے دھبوں میں تبدیل ہوجاتے۔ ایک سطر دوسری سطر میں مدغم ہونے لگتی۔۔ کبھی ورق بالکل کورے نظر آتے۔ شبی کے دانتوں کی طرح سفید اور چمک دار کبھی صائم کی بھوری آنکھیں ایک سرے سے دوسرے سرے تک رینگنے لگتیں۔ کبھی ایک جاگنگ ٹریک اس کی آنکھوں کے سامنے بل کھانے اور لہرانے لگتا۔ وہ اکتا کر کتاب بند کر دیتی۔ آنکھیں بند کر کے ان ناچتے ہیولوں سے جان چھڑانے کی کوشش کرتی لیکن بے سود۔ اس کا دماغ سنسناتا رہتا۔ دل کی زمین پر جاگنگ کرتے ہوئے پیروں کی چاپ گونجتی رہتی۔ اس نے کتاب بند کر کے ندرت کی طرف دیکھا جو کسی پیچیدہ تھیوری کے غوامض میں الجھی تھی۔

’’اگر میں فیل ہوگئی تو تمہیں ہرگز معاف نہیں کروں گی۔‘‘

ندرت نے جھکا ہوا سر اٹھایا اور ایک اکتائی ہوئی نظر اس پر ڈالی۔

’’مجھے تو یاد نہیں پڑتا اپنی پوری زندگی میں کبھی میں نے تم سے معافی مانگی ہو۔‘‘

’’تم نے ہی مشورہ دیا تھا یہاں ایڈمیشن لینے کا کوئی اونچ نیچ ہوجائے تو قصور تمہارا ہی ہوگا۔‘‘

’’ایویں میرا قصور ہوگا۔ پڑھتے ہوئے تمہاری جان جاتی ہے، کتابوں کو ہاتھ تک نہیں لگاتیں، قصور میرا۔۔ تمہارے فیل ہونے کے روشن امکانات موجود ہیں۔‘‘ وہ دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوئی تو رانیہ نے جھپٹ کر کتاب اس سے چھین لی۔

’’میرا سر پھٹا جارہا ہے ایگزام لینے کی اتنی جلدی کیا تھی انسٹی ٹیوٹ والوں کو۔ ہم بھاگ تھوڑا ہی رہے تھے اور کان کھول کر سن لو ایک نمبر بھی تمہارا مجھ سے زیادہ آیا تو میں تمہارا جینا حرام کردوں گی۔ پتا نہیں یہاں بوٹی چلے گی یا نہیں۔‘‘ رانیہ کے انداز میں تشویش تھی۔

’’کیا بھلا زمانہ تھا میٹرک کا۔ کیسی کیسی بوٹیاں بلکہ بوٹے یا شاید درخت کہنا مناسب ہوگا۔ کبھی کوئی مسئلہ در پیش نہیں آتا تھا امتحانوں میں مطلوبہ مقدار میں سوال حل کرنے کے بعد فارغ وقت گزارنے کا کوئی مشغلہ ڈھونڈنا پڑتا تھا۔ ہائے وہ وقت کیسا زمانہ تھا وہ بھی۔‘‘ اس سنہرے دور کی یاد نے اس کے لہجے میں لہک پید اکر دی تھی۔

’’خیر چھوڑو کیا فائدہ اس دور کی باتیں یاد کر کے جی جلانے کا۔‘‘ اس نے ایک سرد آہ بھری۔ ’’اٹھو گھر چلیں۔‘‘

ندرت نے اسے گھور کر دیکھا۔ ’’اکنامکس کا پیریڈ کون لے گا؟‘‘

’’گولی مارو۔ سونا ہی تو ہے۔ گھر جا کر سوجاتے ہیں۔ کیسا لوری نما لیکچر ہوتا ہے سر اکرام کا، ناک میں گنگناتے ہوئے غنودگی بھرے لفظوں سے تھپک تھپک کر سلاتے ہیں۔‘‘

’’تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔‘‘ ندرت نے کتاب اس کے ہاتھ سے لے کر دوبارہ سامنے پھیلالی۔

’’تمہیں جانا ہے تو اکیلی چلی جائو۔ میں ان دنوں کوئی ایک پیریڈ بھی مس نہیں کر سکتی تمہارے لےے میرا ہمدردانہ مشورہ ہے کہ پڑھائی پر توجہ دو۔ اس شبی کو دماغ سے نکال دو۔ سارا وقت تو تم اسے راستے سے ہٹانے کے منصوبوں پر غور کرتی رہتی ہو۔ کتابوں میں خاک دل لگے گا۔‘‘

اس کی بات کا رانیہ نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ وہ خاموشی سے واٹر کولر کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑے لڑکوں اور کلاس روم کے سامنے ٹہلتی لڑکیوں کو دیکھنے لگی۔ اس وقت ان دونوں کے سوا کلاس روم میں کوئی موجود نہیں تھا۔ سر شعیب دس منٹ پہلے رخصت ہوئے تھے اور اگلا پیریڈ شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔

ندرت اس کی خاموشی کو محسوس کرتے ہوئے بولی۔ ’’تم نے شبی کے ساتھ جو رویہ اپنایا ہے۔ اس کی وجہ سے صائم کچھ کھنچا کھنچا سا محسوس ہوتا ہے۔ تم ذرا میانہ روی اختیار کرو تو بہتر ہوگا۔‘‘

رانیہ خاموش رہی کیونکہ عقبی دروازے سے رفعت اندر آرہا تھا۔ وہ سیدھا ان کی طرف آگیا۔

’’اٹھو ندرت! میرے سر میں بہت درد ہے۔ اگلا پیریڈ نہیں پڑھوں گی میں۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے اٹھتے ہوئے بولی تو رفعت نے بڑی التجائیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

’’مس رانیہ! میری ایک بات سن لیں۔ پلیز پھر آپ چلی جائےے گا۔ آپ ہمیں تھوڑی دیر کے لےے ایکسکیوز کریں گی پلیز۔‘‘ آخر میں وہ ندرت سے مخاطب ہوا۔

’’کیوں؟‘‘ وہ تڑخ کر بولی۔ ’’میں کہیں نہیں جارہی اور رانیہ کو تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔‘‘

’’صرف ایک منٹ لوں گا میں۔ پلیز میری بات سن لیں۔ مس رانیہ! میں بہت مجبور ہوں۔‘‘ اس نے نچلے جبڑے کو گھما کر بات شروع کی چکی کا پاٹ چلنے لگا۔

’’میں آپ۔۔۔ سے۔۔۔ میں محبت کرتا ہوں۔ شادی کرنا چاہتا ہوں آپ سے۔۔۔ خدا کے لےے مجھے غلط مت سمجھئے گا۔‘‘

رانیہ کی آنکھوں سے آگ کی لپیٹیں سی نکلیں اگر یہ آج مجسم ہوتی تو یقینا رفعت کوبھسم کر ڈالتی۔

’’تمہاری یہ جرات۔۔۔‘‘ طیش کی شدت سے اس کی آواز کپکپا رہی تھی۔

’’تم مجھے جانتے نہیں ہو۔ میں تمہارا وہ حشر کروں گی جو ظالم بادشاہ اپنی رعایا کا کیا کرتے ہیں۔ تمہیںمعلوم نہیں ہماری پہنچ بہت دور تک ہے۔ اتنی دور تک کہ مجھے خود بھی اندازہ نہیں کتنی دور تک۔ آئندہ اگر تم نے میرا پیچھا یا مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی تو میں تمہارا نقشہ بگاڑ کے رکھ دوں گی اس کے باوجود کہ مزید بگڑنے کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘

’’مس رانیہ! آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔‘‘ کندھوں پر لٹکتے بال آگے پیچھے جھولنے لگے۔

’’میں بہت سنجیدہ ہوں۔ میرا مقصد فلرٹ کرنا ہرگز نہیں۔‘‘

ندرت مٹھیاں بھینچتی ہوئی کرسی سے اٹھی۔ ’’مسٹر! تم سنجیدہ ہو یا رنجیدہ ایک لفظ بھی مزید کہا تم نے تو تمہارے حق میں بہت برا ہوگا۔ اس بات کو غنیمت سمجھو کہ تمہیں ایک موقع دیا جارہا ہے۔ لیکن اب اگر تم نے کوئی بھی ایسی ویسی حرکت کی تو میں اس معاملے کو بورڈ آف ڈائریکٹرز تک لے جائوں گی۔ اینڈ نائو گیٹ لاسٹ۔‘‘ وہ چند لمحے ان کے لال بھبھوکا چہروں کو دیکھتا رہا۔

’’وہ گرے سوزوکی والا۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا اور تیزی سے مڑ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا۔اس زجر و توبیخ کے بعد اتنا فرق ضرور پڑا کہ رفعت زیاد نے رانیہ کو دوبارہ مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ تاہم نظروں کے نرغے میں لینے کا سلسلہ ویسے ہی جاری رہا۔ لیکن نسبتاً محتاط انداز میں۔

٭٭٭

شبی کو صائم کی برتھ ڈے پر اسے دینے کے لےے کوئی تحفہ خریدنا تھا اور وہ راستوں سے اچھی طرح واقف نہیں تھی۔ اس نے رانیہ سے ساتھ چلنے کو کہا تو اس نے فوراً ہامی بھرلی تقریباً ڈیڑھ درجن گفٹ شاپس کے تفصیلی معائنے کے بعد بھی اس کے مطلوبہ معیار کی چیز دستیاب نہیں ہوسکی تھی۔ رانیہ کو رہ رہ کر اس پر طیش آرہا تھا۔ نہ جانے وہ کیا تحفہ دینا چاہتی تھی صائم کو۔ کبھی کوئی بھاری گلدان دیکھ کر اس کا دل چاہتا کہ ایک ہی وار سے شبی کی کھوپڑی پاش پاش کر دے اور کبھی اسے سیڑھیوں سے دھکا دینے کو دل مچلنے لگتا۔ خدا خدا کر کے نو بجے کے قریب ایک ڈیکوریشن پیس پر اس کی نظرِ انتخاب ٹھہر گئی۔ جس وقت وہ روانہ ہوئی تھیں تب پیلی دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور تحفے کی پسندیدگی کے مرحلے تک پہنچتے پہنچتے رات ہوگئی تھی۔ پانچ گھنٹوں کی خواری نے پہلے ہی رانیہ پر اعصاب شکن جھنجھلاہٹ طاری کر رکھی تھی۔ سونے پر سہاگے کا کام شبی کے منتخب کردہ تحفے نے کیا۔

’’گٹار بجاتے ہوئے آدمی کا کرسٹل سے بنا ہوا شفاف مجسمہ۔‘‘ رانیہ نے اپنے دل کو کنپٹیوں میں بجتے ہوئے سنا۔

شبی شاپ کیپر کو پیکنگ کرنے کے لےے کہہ رہی تھی۔

’’کتنی نفیس اور یونیک چوائس ہے آپ کی شبینہ باجی۔‘‘ رانیہ نے پرجوش لہجے میں تعریف کرتے ہوئے کانچ کا بت اٹھالیا۔

’’بہت خوب صورت۔۔۔ بہت عمدہ۔۔ کتنا نازک ہے۔ ہاتھ لگاتے ہوئے بھی دل ڈرتا ہے۔‘‘ یک لخت اس کا ہاتھ لرزا اور مجسمہ نیچے گر کر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا

’’ہائے اللہ! میں تو پہلے ہی ڈر رہی تھی۔‘‘ اس نے آنکھوں میں آنسو بھر کے شبی کی طرف دیکھا۔ جو چپ چاپ فرش پر بکھرے کانچ کے ٹکڑوں کو دیکھ رہی تھی۔ اس وقت وہ کسی مومی بت کی مانند نظر آرہی تھی۔ ساکت و صامت۔ ۔۔ جمی ہوئی برف کی قاش۔۔ جیسے سانس بھی نہ لے رہی ہو۔

’’آئی ایم ویری سوری باجی شبینہ!‘‘

بڑی دیر کے بعد شبی کے منجمد جسم میں حرکت کے آثار پیدا ہوئے۔ رانیہ کی طرف دیکھے بنا وہ شاپ کیپر کی طرف مڑی۔

’’آپ کے پاس اسی طرح کا دوسرا ہوگا؟‘‘

’’جی نہیں۔۔۔ ایک ہی تھا۔ میں آپ کو اس سے بہتر چیزیں دکھا دیتا ہوں۔‘‘

’’مجھے اور کچھ نہیں خریدنا۔‘‘ اس نے پے منٹ کی اور خاموشی سے شاپ سے باہر نکل آئی۔

’’آپ کچھ اور خرید لیں باجی شبینہ۔‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے رانیہ نے بڑی مسکین آواز بنا کر کہا لیکن وہ چپ رہی واپسی کا تمام سفر خاموشی کی گہری دھند میں ملفوف رہا۔

صائم کا برتھ ڈے سیلبریٹ کرنے کے سلسلے میں سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ گلشن پارک میں مل بیٹھ کر کچھ ہلُا گلُا کر لیا جائے۔ شرکائ ہی کتنے تھے۔ صائم اور شبی کے علاوہ وہ چاروں۔ اپنے ساتھ وہ پائن ایپل کیک، ویجی ٹیبل رولز اور شاہی ٹکڑے لائے تھے۔ موسم خوش گوار تھا۔ دھوپ نکلی ہوئی تھی مگر مرجھائی ہوئی سی تپش سے محروم ۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک رچی تھی۔ سبز مخملی تھان کی طرح بچھی ہوئی گھاس پر بیٹھے لوگ بے فکرے اور دکھ سے نا آشنا نظر آتے تھے۔ بہت سے بچے اور بڑے پتھریلی روشوں پر ٹہل رہے تھے۔ کہیں تصویریں بنائی جارہی تھیں کہیں مختلف جھولوں میں سواری کرنے کے لےے ٹکٹ خریدے جارہے تھے۔ لہراتے ہوئے رنگین آنچل، چمکتی پوشاکیں، نقرئی قہقہے، کھنکتی چوڑیاں، معصوم قلقاریاں رنگوں اور آوازوں کا ایک سمندر موجزن تھا۔

وہ لوگ ایک نسبتاً تنہا گوشہ منتخب کر کے بیٹھ گئے تھے۔ دانیال کولڈ ڈرنک لے کر آیا۔ کیک کاٹا گیا اور ندرت نے شاپر میں سے پلیٹیں نکال کر سب کے سامنے رکھیں۔ کیک کے حصے بخرے رانیہ نے کےے تھے اور اتفاقاً سب سے زیادہ کیک اس کے حصے میں آیا تھا۔ انیقہ نے بہتیرا شور مچایا لیکن جب تک شنوائی ہوتی، رانیہ کام دکھا چکی تھی۔

’’تم لوگوں نے میری خون پسینے کی کمائی کا کیک تو ٹھونس لیا ہے لیکن گفٹ مجھے کسی ایک کے پاس بھی نظر نہیں آرہا۔‘‘

صائم نے ان سب کو گھورتے ہوئے احتجاج کیا۔

’’اف کیک میں خون پسینہ بھی شامل تھا۔‘‘ انیقہ نے برا سا منہ بنایا۔ ’’تبھی تو کچھ نمکین سا تھا۔‘‘

’’میں تو سمجھا تھا سب کے گفٹس دانیال کے پاس ہوں گے۔ لیکن بائیک کے ٹنڈ منڈ ہینڈل کو دیکھ کر یہ خوش فہمی بھی دم توڑ گئی۔ یہ کیا مذاق ہے آخر۔‘‘

’’تمہیں تو اسی بات پر پھولے نہیں سمانا چاہےے کہ ہم لوگ تمہاری اس تقریب میں شامل ہوگئے ہیں۔‘‘ دانیال نے تفاخر بھرے لہجے میں کہا۔ ’’یہ کوئی کم عزت کی بات ہے کیا۔‘‘

’’یہ تو صریحاًبے ایمانی ہے۔‘‘ وہ روہانسا ہوگیا۔

’’اچھا عید پر لے لینا گفٹس روتے کیوں ہو۔ سب ہی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہیں تمہارے سامنے اور اسٹوڈنٹس تو بس کا کرایہ نہیں دے سکتے گفٹ کے لےے کہاں سے پیسے لاتے ہم۔ عید پر کچھ آمدنی ہوگی تو دے دیں گے تمہیں تحفہ۔‘‘

’’بڑے ہی غریب ، بدتمیز، ڈھیٹ، فقرے اور۔۔۔‘‘ اس نے سر کھجایا۔ ’’فی الحال کچھ اور نہیں سوجھ رہا۔ کس قسم کے مہمانوں کو بلا بیٹھا ہوں اور تم شبی۔۔۔‘‘ اس نے روئے سخن سپاٹ چہرے کے ساتھ لا تعلق بیٹھی شبی کی سمت موڑا۔ ’’تم سے کم از کم یہ امید نہیں تھی مجھے۔‘‘

شبی نے عجیب سی نظروں سے رانیہ کی طرف دیکھا اور گھٹنوں پر ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بولی۔

’’میں نے بہت تلاش کیا۔ سارا شہر چھان مارا لیکن کوئی بھی چیز تمہارے قابل نہیں لگی مجھے۔‘‘

رانیہ اپنی پلیٹ پر جھک گئی تھی۔

’’یہ اچھی منطق نکالی ہے تم نے اپنی کنجوسی پر پردہ ڈالنے کا یہ ڈھنگ خوب ہے۔ اچھا بھئی میں تو گانا گانے لگا ہوں۔‘‘ صائم نے اچانک اعلان کیا۔

’’جس کسی اپنے کان پیارے ہوں وہ محفوظ فاصلے پر منتقل ہوجائے۔‘‘

دانیال نے چہرے پر خوف زدگی کے تاثرات طاری کےے۔

’’جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ ہم میں سے کسی نے بھی تمہارے ساتھ کوئی برائی نہیں کی۔ پھر آخر کس بات کا انتقام لینے لگے ہو ہم سے۔ ہاں اگر مس شبی گائیں تو ہم جی جان سے سننے کو تیار ہیں مس شبی! آپ اپنی سریلی آواز میں کلاسیکل، نیم کلاسیکل، پاپ، فوک کچھ بھی گا دیجےے۔ ہم اف تک نہیں کریں گے۔‘‘

ندرت کے چہرے کے بدلے ہوئے زاوےے بھی اسے زبان بندی پر مجبور نہ کر سکے، صائم نے گلا کھنکارا۔

’’ہاں تو سامعین و ناظرین و حاضرین آپ لوگ دل تھام کر بیٹھ جائیں کیونکہ میں اپنی آواز کا جادو جگانے پر تل چکا ہوں اور اب کوئی بھی چیز مجھے اس ارادے سے باز نہیں رکھ سکتی۔‘‘

مر جاواں جاواں

مر جاواں مک جاواں مرجاواں

اس کی آواز کانوں کو بھلی لگنے والی تھی۔ وہ سب تالیاں بجانے لگے۔

مرجاواں مک جاواں مرجاواں

عشق دہائیاں دیوے، ویکھے تیریاں راہواں

دانیال اٹھ کر لٰے کے ساتھ ٹھمکنے لگا۔ پنجابی فلموں کی ہیروئنوں کو بھاری لیڈ سے مات دے رہا تھا۔

’’خدا کے لےے دانیال ایسا مت کرو۔‘‘ ندرت نے گلو گیر آواز میں التجا کی۔

’’تمہیں دیکھ کر مجھے شرم سے رونا آرہا ہے۔‘‘‘

نیناں دے پیالے تیرے

زندگی حوالے تیرے

یاداں سب تیریاں

خط وی سنبھالے تیرے

رانیہ نے چوری چوری صائم کے چہرے پر نظر ڈالی۔

’’نینوں کے پیالے تک تو بات ٹھیک تھی۔ ظاہر ہے میری کٹورا سی آنکھوں کو ہی پیالوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ خط سنبھالنے والی بات۔۔۔ یہاں آکے کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے۔‘‘

اس کی توجہ شبی کی طرف منعطف ہوئی جو بولوں کا مفہوم جانے بنا ہی ہنسے جارہی تھی۔ سفید دانت اس کی ساری ہستی پر چھائے ہوئے تھے۔ وہ خود کہیں دکھائی نہ دیتی تھی صرف اس کی ہنسی تھی جو ایک گوشے میں بکھری جگر جگر کر رہی تھی اور صائم کی نظریں اسی گوشے پر ٹکی تھیں۔

اس کے اندر بھانبھڑ مچنے لگے۔

جاواں میں کیڑے پاسے

ہویاں نئیں سنجیاں تھاواں

مرجاواں مرجاواں

مرجاواں مک جاواں مرجاواں

صائم جبراً سب سے داد وصول کرنے لگا۔ اس کا دل ایک دم اچاٹ ہوگیا تھا۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

انیقہ نے موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ’’ٹائی ٹینک‘‘ کا تھیم سانگ سنانے کی سر توڑ کوشش کی لیکن ندرت نے اسے دو بولوں سے آگے بڑھنے نہ دیا۔

’’جہاںتک میری معلومات ہے یہ کوئی انگلش سانگ ہے۔ تم اسے پنجابی میں کیوں گارہی ہو انیقہ؟‘‘

’’ہونہہ! بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔‘‘ اپنی فنی صلاحیتوں کو ملیا میٹ کرنے والی ندرت کو کچھ دیر حقارت بھری نظروں سے دیکھنے کے بعد وہ شبی کی طرف متوجہ ہوئی۔

’’شبی آپی! چلیں میرے ساتھ ہم فلائنگ جائنٹ میں بیٹھتے ہیں۔‘‘ شبی کا ہاتھ پکڑ کر وہ بولی۔

’’نہیں میرا جی نہیں چاہ رہا۔‘‘

’’اٹھیں نا ، سچی بڑا مزا آئے گا اٹھیں بھی۔‘‘ اس نے شبی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور اسے بازو سے دبوچے تقریباً گھسیٹتی ہوئی ساتھ لے گئی۔

ہوا میں بلند ہونے سے پیشتر ہی انیقہ نے چیخنا شروع کر دیا تھا۔ جھولے کی رفتار ذرا تیزہوئی تو اس نے چیخ چیخ کر ایک قیامت برپا کر دی ۔ ’’ہائے آپی! میری جان نکل رہی ہے۔ ہائے اللہ! میں مرجائوں گی۔‘‘ شبی سے چمٹی وہ مسلسل چلائے جارہی تھی۔ شبی اس افتاد پر بری طرح بوکھلا گئی تھی۔ بڑی دقُتوں سے یہ کٹھن مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔ انیقہ اس کے کندھے سے لگی لرزتی کانپتی نیچے اتری اور مشکل سے چند قدم چل کر ٹھہر گئی۔ اس کی ٹانگیں دھیرے دھیرے لرز رہی تھیں۔

’’آپی! مجھے سنبھالیں۔ مجھے چکر آرہے ہیں۔‘‘ اس نے آنکھیں پھرائیں اور دونوں بازو شبی کی طرف لہرائے۔ اس کے آگے بڑھنے سے قبل ہی انیقہ نے جھکولا کھایا ، ایک زور دار ٹکر اس کی ناک پر مارتے ہوئے اس سمت زمین پر ڈھیر ہوگئی۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد شبی کو بے سدھ انیقہ کے نیچے سے برآمد کیا گیا۔ اس کی سفید چونے جیسی رنگت زرد ہورہی تھی، ناک کے پھننگ پر ایک سرخ دھبا تھا اور آنکھیں پانی سے لبریز تھیں۔ صائم نے اسے شانوں سے تھام کر بٹھایا تو رانیہ نے انیقہ کی تیمار داری پر لعنت بھیجی اور صائم کو ایک طرف ہٹا کر خود شبی کو دلاسا دینے لگی۔ انیقہ نے ایک دو بار جھنجھوڑنے پر کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔

’’ہائے۔۔۔ کیسا سنگلاخ ماتھا ہے آپ کا شبی آپی! لگتا ہے میرا سر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہے۔ اب نہیں بیٹھوں گی کبھی بھی ایسے خطرناک جھولے پر۔‘‘ وہ کہنیوں کے بل اٹھتے ہوئے بولی۔

’’میری گورائونڈ پہ بیٹھیں آپی؟ وعدہ بالکل نہیں چیخوںگی۔‘‘ اس کی معصومیت بھری تجویز سن کر شبی یوں چوکنی ہوگئی جیسے کسی بھی لمحے اٹھ کر بھاگنے والی ہو۔

٭٭٭

رمضان کا چاند نظر آنے کا اعلان ہوتے ہی اماں نے رانیہ کو طلب کیا۔ ’’سحری تَو بنائے گی، الارم والی گھڑی سرہانے رکھ کر سونا۔‘‘

وہ تو اچھل ہی پڑی۔ ’’یہ نہیں ہوگا اماں! چاہے کچھ ہوجائے میں سحری نہیں بنا سکتی۔ مجھ سے نہیں اٹھا جاتا آدھی رات کو۔‘‘

ابا ڈپٹ کر بولے۔ ’’خاموشی سے بات سنو ماں کی۔ دن بدن بے لحاظ ہوتی جارہی ہو۔‘‘

وہ زیرِ لب بڑبڑاتی سر جھکا کر بیٹھ گئی۔

’’اور تم چلو میرے ساتھ نمازِ تراویح ادا کرنے۔‘‘ ابا کی ہدایت سن کر دانیال کی حالت غیر ہوگئی تھی۔ چہرے پر جانکنی کے سے آثار نمودار ہوئے تھے۔ گھٹی گھٹی آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی۔

’’میں گھر پہ ہی پڑھ لوںگا۔ میرا پائوں دکھتا ہے مجھ سے چلا نہیں جائے گا۔‘‘

’’ایک منٹ میں اٹھ جائو ورنہ میں تمہیں سڑک پر گھسیٹتا ہوا مسجد تک لے جائوں گا۔ بے ہودہ لوگ جمع ہیں اس گھر میں۔ ٹی وی پر فلمی گیتوں کا پروگرام آجائے تو کسی کا پائوں دکھتا ہو یا سر، ہر حالت میں ٹی وی تک پہنچ جاتے ہیں جہاں کہیں اللہ رسول(ﷺ) کا نام آجائے موت آنے لگتی ہے۔‘‘

اماں نے تیزی سے تسبیح کے دانے گرانے شروع کر دےے جو انہوں نے ابھی ابھی گدے کے نیچے سے نکالی تھی۔

’’آئے کب سے بیٹھی ہوں میں عشائ کی نماز پڑھ کے، ٹی وی پہ نظریں جمی تھیں کہ چاند کا اعلان ہو تو نما زتراویح ادا کروں۔‘‘

ابا نے ایک قہر آلود نظر ان پر ڈالی۔

’’تم تینوں بھی نماز کی تیاری کرو اور رانیہ تمہیں سحری کے وقت میں اٹھا دوں گا۔‘‘ وہ باہر کی سمت مڑے تو دانیال ان کے پیچھے مرے مرے قدموں سے چل پڑا۔

ان تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ تھوڑی بہت کمی بیشی کے ساتھ سب پر ایک جیسی کیفیت طاری تھی۔ نمازِ تراویح کی طوالت یاد کر کے قبل از وقت ہڈیاں کڑکڑانے لگی تھیں۔ کچھ دیر بعد رانیہ اس صدمے سے سنبھلی تو سحری بنانے کا دکھ ایک کوہ گراں بن کر اعصاب پر سوار ہوگیا۔

’’میری طرف سے بہت زیادہ سفید جواب ہے۔ میں سحری نہیں بنائوں گی۔‘‘

’’تَو ہی بنائے گی میری بچی اور کون ہے، چل افطاری پہ میں روٹیاں پکا دیا کروں گی۔ اب خوش ہے۔‘‘ اماں نے پچکارا۔

’’یعنی اس سے پہلے آپ نے افطاری بھی مجھ پر چھوڑ رکھی تھی۔‘‘ وہ مزید سیخ پا ہوئی۔ ’’یہ ندرت کس خوشی میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی ہے۔ اسے کہیں نا سحری یہ بنایا کرے۔‘‘

’’اے وہ تو ہماری مہمان ہے۔‘‘ اماں کا لہجہ شہد ٹپکانے لگا۔ ’’پڑھائی کرنے آئی ہے۔ اسے چولہے چوکی پہ لگادیں۔‘‘

اس لاڈ پر اترا کر ندرت اماں کے پہلو میں جا بیٹھی۔ ’’کتنے دن ہوگئے آپ نے مہندی نہیں لگوائی بالوں میں۔ سارے سفید ہوگئے ہیں۔ اب کسی روز کڑکتی دھوپ نکلے تو یاد سے لگوالیجےے گا عید سے پہلے پہلے۔‘‘ اس نے اماں کے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے رانیہ کی طرف دیکھا۔ جس کے نقوش بگڑے ہوئے نظر آرہے تھے۔

’’ایسے حرام خور مہمانوں کو اللہ سمجھے۔ میں سردی میں ٹھٹھروں اور باقی سب گرم بستروں میں چین کی نیند سوئیں۔ کیسا انصاف کا دور دورہ ہے اس گھر میں۔ مجھے ٹھنڈ لگ جائے نمونیہ ہوجائے، کسی کوکیا پروا۔ مجھے لگتا ہے میں اسی رمضان میں مرجائوں گی پھر میری لاش پر بیٹھ کر کھا لیجےے گا سحری۔‘‘

’’جا دفع ہو۔ سارا ڈرامہ غارت کر دیا تَو نے اور تیرے باپ نے مل کر۔‘‘ اماں نے ہاتھ جوڑ کر اس کی طرف جھٹکے، گود میں پڑی تسبیح اٹھا کر واپس اسی جگہ پر رکھی اور ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں لے کر پاور کا بٹن دبایا۔

’’اب تو خبر نامہ ہی رہ گیا ہے۔ اسے کیا چاٹوں میں۔‘‘ ان کی آواز میں گہرا دکھ تھا۔

انیقہ آہستہ سے اٹھ کر اماں کے قریب گئی اور ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دھیمی آواز میں بولی۔

’’عید کے سوٹ کے لےے مجھے کم از کم تین ہزار چاہئیں۔ ابا سے کہہ دیں گی نا آپ۔‘‘ اسے ابھی سے اپنے عید کے جوڑے کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔

’’اس عید پر کسی کے نئے کپڑے نہیں بنیں گے۔ ہاتھ تنگ ہے کچھ اس بار۔ اتنے بغیر سلے جوڑے پڑے ہیں تیرے پاس ان میں سے کوئی پہن لینا۔‘‘

’’میرے پاس تو ایک بھی ڈھنگ کا سوٹ نہیں ہے۔‘‘

اماں نے اپنے کندھے پر دھرے اس کے ہاتھ پر ایک زور دار تھپڑ مارا۔ ’’اسے دیکھو ماگھ ننگی بیساکھ بھوکی کپڑے نہ ہوئے اس کے پاس کبھی۔‘‘ اماں غصے میں محاوروں کا بے دریغ استعمال کرنے لگتی تھیں۔

’’جو چار مہینے پہلے تجھے سیما کی شادی پر بنا کے دیا تھا پورے سولہ سو کا وہ کفن تھا کیا۔ چلی جا ادھر سے مجھے ابھی نماز بھی پڑھنی ہے۔ دو گھڑی چین سے ٹی وی بھی نہیں دیکھنے دیتے۔‘‘ وہ ان کی طرف سے رخ موڑ کر ٹی وی دیکھنے لگیں۔

’’اماں! میرے سمسٹر بھی تو روزوں میں شروع ہورہے ہیں۔ مجھے تو سر کھجانے کی فرصت نہیں ہوگی۔ سحریوں، افطاریوں کے لےے کہاں سے وقت نکالوں گی۔ میں فیل ہوگئی تو مجھے الزام مت دیجےے گا۔‘‘ اس نے متوقع دھچکے کے لےے اماں کو ذہنی طور پر تیار کرنے کی بنیاد رکھی۔ وہ ہنوز ٹی وی اسکرین میں منہمک رہیں تو انیقہ اور رانیہ کمرے سے واک آئوٹ کر گئیں جبکہ ندرت اماں کے کندھے دبانے لگی جو مختلف اندازِ نشست میں ٹی وی دیکھنے کے باعث دکھتے رہتے تھے۔

سحری کے وقت ابا رانیہ کو جگانے کے لےے آئے۔رمضان میں باقاعدگی سے تہجد کی نماز ادا کرنا برسوں سے ان کا معمول تھا۔

’’اٹھ جائو رانیہ!‘‘ انہوں نے اس کے سرہانے کھڑے ہو کر آواز دی تو وہ اوں کر کے تکےے میں سر گھسیڑنے لگی۔

دو تین بار پکارنے پر جب وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تو ابا کا لہجہ آسمانی بجلی کی طرح کڑک دار ہوگیا۔

’’فوراً اٹھ کر بیٹھ جائو۔ ایک لمحے کے توقف کے بغیر۔‘‘

چارونا چار اسے آنکھیں کھولنا پڑیں۔ دل ہی دل میں سب گھر والوں کی صلواتیں سناتی وہ بیٹھ کر دائیں بائیں جھولنے لگی۔

’’تین بج گئے ہیں۔ میں سونے جارہا ہوں۔ مجھے سحری کا وقت ختم ہونے سے صرف پندرہ منٹ پہلے اٹھانا اور میرے لےے انڈا یاد سے فرائی کرلینا۔‘‘ اس نے سوئی جاگی کیفیت میں ساری ہدایات سنیں اور جب ان کے قدموں کی چاپ دور ہوگئی تو چادر منہ تک اوڑھ کر لیٹ گئی۔

’’اتنا وقت پڑا ہے ابھی۔۔۔ ابا کو اللہ ہی ہدایت دے تو دے، ہنگامی حالات نافذ کےے رکھتے ہیں ہر دم۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی دوبارہ غافل ہوگئی۔ نہ جانے کتنی دیر بعد وہ ہڑبڑا کر اٹھی۔ اندھوں کی طرح ٹٹولتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے گھڑی اٹھائی اور آنکھوں کے قریب لاکر اس کی لائٹ آن کی۔ صدمے سے اس کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئیں۔ سحری کا وقت ختم ہونے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔ اس کے دماغ پر چھائی ہوئی غنودگی یوں غائب ہوگئی جیسے ڈیٹرجنٹ کے کمرشل میں داغ دار کپڑوں سے پلک جھپکنے میں دھبُے ناپید ہوجاتے ہیں۔ چھلانگ مار کر وہ بیڈ سے اتری تھی اس قدر حواس باختہ ہونے کے باوجود کچن میں جانے سے قبل وہ چند نہایت ضروری نوعیت کے کام کرنا نہیں بھولی تھی۔ الارم آن کر کے اس نے گھڑی انیقہ اور ندرت کے درمیان ایسے مقام پر رکھی کہ دونوں میں سے کسی کے ساتھ بھی نا انصافی نہ ہو اور سیلنگ فین کی رفتار آخری حد تک تیز کر کے بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی۔ اس کے تعاقب میں کوسنوں اور نازیبا کلمات کا ایک تیز ریلہ ادھ کھلے دروازے سے باہر بہہ نکلا لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کے آثار معدوم ہوگئے تھے۔

کچن بھائیں بھائیں کر رہا تھا۔ مٹر قیمے کا سالن رات کو ہی ختم ہوگیا تھا۔ اب اسے یاد آرہا تھا کہ اماں نے سونے سے پہلے اسے آلو اور پیاز کاٹ کر رکھنے کوکہا تھا اور تب اس نے بڑی لاپروائی سے ہاتھ ہلا کر جواب دیا تھا ’’صبح دیکھا جائے گا۔‘‘ اس کا دل پہلو میں زور زور سے دھڑدھڑانے لگا۔ سب کو مختلف قسموں اور مختلف ناموں والے انڈے بھی تو چاہےے تھے۔ دانیال کے لےے ابلا انڈا، انیقہ کے لےے کچلا ہوا، اماں کو میٹھا انڈا درکا رتھا۔ ابا کی فرمائش فرائی انڈے کی تھی اور ندرت کے لےے۔۔۔‘‘ وہ انڈے گنتے ہوئے رک گئی۔ ’’اس کے لےے سانپ کا زہریلا انڈا۔۔۔‘‘ اور خود اس کو بھی تو آملیٹ کی اشد ضرورت تھی۔ مختلف رنگ و نسل کے انڈے اس کے گرم نیم برہنہ وحشیوں کی طرح ’’جھینگا لالا ہو ہو‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے موت کا رقص کرنے لگے۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے فریج کھولا اور برفیلا آٹا باہر نکالا جو روٹی میں ڈھلنے پر کسی صورت آمادہ نظر نہیں آتا تھا۔ پانچ منٹ کی جانفشانی کے بعد سنک کے نیچے کچرے والی ٹوکری کے عقب سے ایک گیلی سیلی ماچس کی ڈبیا دستیاب ہوئی۔ اس کے ہاتھ پائوں پھول رہے تھے کچن کی دیواریں اپنی جگہ سے پیچھے ہٹتی دکھائی دیتی تھیں۔

’’یا اللہ! مجھے موت دے دے۔ اس کے سوا کوئی حل نہیں۔‘‘ اس نے دل کی گہرائیوں سے دعا کی۔ اس سے پہلے کہ وہ بے ہوش ہو کر گرتی ایک خیال اس کے ذہن میں رعد کی طرح چمکا۔ سر پٹ بھاگتی ہوئی وہ لان میں آئی، ساتھ والے گھر میں کچن اور ڈرائنگ روم کی بتیاں جل رہی تھیں۔ آواز دیتے دیتے وہ رک گئی اس میں ابا کے بے دار ہونے کا اندیشہ موجود تھا اور یہ خطرہ وہ کسی صورت مول نہیں لے سکتی تھی۔ گیٹ کے سامنے جا کر اس نے کال بیل پر مسلسل انگلی جمادی۔ چند لمحوں کے جان لیوا انتظار کے بعد صائم نمودار ہوا۔ اسٹریٹ لائٹ کی زرد روشنی میں اس کا چہرہ رانیہ کو کسی فرشتے کی مانند لگا۔ بس اس فرشتے کے پر نہیں تھے۔ آستین کہنیوں تک فولڈ کی ہوئی تھی اور ہاتھ چکنائی سے تر تھے۔

’’سحری تم بنا رہے ہو؟‘‘

اس کے سوال کو نظر انداز کر کے وہ بولا۔

’’اس وقت تمہیں اپنے سامنے دیکھ کر مجھے کس قدر خوشی ہوئی ہے تم اندازہ نہیں لگا سکتیں۔ تمہیں دیکھنے کو بہت دل چاہ رہا تھا۔‘‘

’’مجھے بھی بہت خوشی ہوئی ہے۔۔۔‘‘ وہ اسے ایک طرف ہٹا کر تیزی سے اندر داخل ہوئی۔ ’’یہ وقت ان باتوں کا نہیں ہے۔‘‘

وہ گیٹ بند کر کے اس کے پیچھے آیا۔ ’’تو پھر کن باتوں کا ہے؟‘‘

’’بکواس بند کرو۔ میری جان پر بنی ہوئی ہے۔‘‘ وہ کچن کی طرف اڑی چلی جارہی تھی۔ صائم نے متعجب ہو کر اس کے سراپے کو نظروں کے احاطے میں لیا۔

یک دم اس کا لہجہ کسی منجھی ہوئی پیشہ ور فقیرنی سے مشابہہ ہوگیا۔

’’خدا کے لےے میری مدد کرو، سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے پہلے میرا مسئلہ حل نہ ہوا تو سمجھو یہ ہماری آخری ملاقات ہے۔‘‘

اس کی مشکل سن کر صائم نے ایک نظر سٹ واچ پر ڈالی اور نہایت چابک دستی سے پراٹھے بنانے لگا۔ پتیلی میں اس نے آدھ درجن انڈے ابلنے کے لےے رکھ دےے تھے۔

رانیہ کچن کے دروازے میں ایستادہ اسے صدقے واری جانے والی نظروں سے کام کرتے دیکھ رہی تھی۔ پھر کچھ یاد آنے پر اس کا منہ بن گیا۔

’’میرے لےے تو کم از کم آملیٹ بنا دیتے۔ میرے حلق سے نہیں اترتا ابلا ہوا انڈہ۔‘‘

صائم نے پراٹھے توے سے اتار کر ہاٹ پاٹ میں رکھتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور ہنس پڑا۔

’’ہنستے ہوئے کیسا آنکھوں میں کھبنے لگتا ہے کم بخت سینے سے روح کھینچنے لگتی ہے۔‘‘ رانیہ کی نظریں چکنے فرش پر پھسلنے لگیں۔

’’بڑی ناشکری ہو تم۔ ایک تو اتنے شارٹ نوٹس پر میں تمہاری مدد کر رہا ہوں اس پر تم نخرے بھی دکھا رہی ہو۔ وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ مجھے امی ابو کو جگا کر سحری بھی کھلانی ہے برتن تو چلو صبح زرینہ آکر دھو دے گی۔ تم فریج کے اوپر والے ریک سے کبابوں کی چھ ٹکیاں نکالو۔ بائول میں انڈے پھینٹو اور جیسے ہی انڈے ابل جائیں۔ کباب فرائی کرنا شروع کرو۔‘‘ بہت مصروف انداز میں کہتے ہوئے اس نے کیتلی کے نیچے آنچ تیز کی تھی۔

’’باجی شبینہ بھی روزہ رکھیں گی؟‘‘ جھکے ہوئے سر کے ساتھ تیزی سے انڈے پھینٹتی رانیہ کا سوال بظاہر عام سا تھا۔ لیکن لہجے میں محسوس کی جانے والی چبھن شاید صائم سے مخفی نہیں رہ سکی تھی۔

’’کہیں تم میرے اور شبی کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا تو نہیں ہو؟‘‘

فرائنگ پین میں کھولتا تیل جیسے رانیہ کے اوپر آن گرا ہو۔ ضبط کے باوجود وہ آواز میں رچی تلخی کو پوشیدہ نہ رکھ سکی۔

’’کیوں مجھے کیوں پروا ہونے لگی۔ تم دونوں کے بیچ چاہے کچھ بھی ہو۔ مجھے فکر مند ہونے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

چند ثانےے وہ بالکل چپ رہا۔ پھر اس کے ستے ہوئے چہرے پر نظریں جما کر بولا۔

’’شبی بڑی عجیب سی لڑکی ہے۔ جب تک اسے اسپیشل پروٹوکول نہ دیا جائے وہ مطمئن نہیں ہوتی۔ پچھلی بار جب وہ پاکستان آئی تھی تو صرف اس بات پر روٹھ کر ہوٹل میں ٹھہر گئی تھی کہ میں اسے ریسیو کرنے ایئرپورٹ کیوں نہیں پہنچا۔‘‘

’’یہ سب تم مجھے کیوں سنا رہے ہو؟‘‘

صائم نے ایک طویل سانس بھری۔ ’’چلو نہیں سناتا، ویسے روزہ نہیں رکھیں گی تمہاری باجی شبینہ، ان کا کہنا ہے۔۔۔ خیر چھوڑو اس سلسلے میں ان کا فرمان کچھ زیادہ موزوںنہیں ہے۔‘‘

پندرہ بیس منٹ کے قلیل عرصے میں صائم نے اس کی مدد سے اتنا انتظام کر دیا کہ وہ گھر والوں کی خون خوار نظروں کا سامنا کرنے سے محفوظ رہ سکے۔

اس نے کباب ٹشو پیپرز میں لپیٹ کر ہاٹ پاٹ میں پراٹھوں کے اوپر دھرے ابلے ہوئے انڈے بھی ایک طرف احتیاط سے جمائے اور ڈھکن بند کر کے ایک آسودگی بھری سانس سینے کی تہ سے کھینچ کر کچن کی پر حدت فضا کے سپرد کی۔

’’ایک بات کہوں رانیہ ماروں گی تو نہیں۔‘‘

’’یہ تو بات کی نوعیت پر منحصر ہے۔‘‘ رانیہ نے ہاتھ بڑھا کر بیلن اٹھالیا۔

’’اتنی احسان فراموشی اچھی نہیں ہوتی۔‘‘ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا۔ ’’میں باز آیا کچھ بھی کہنے سے۔‘‘

’’اب تو تمہیں کہنا ہی پڑے گا اور ایک سیکنڈ کے اندر اندر، میرے پاس وقت کی بہت کمی ہے۔‘‘

’’بیلن تو رکھ دو۔ ویسے بات یہ ہے کہ۔۔۔‘‘ وہ ایک لمحہ رکا۔ ’’تمہاری آنکھوں سے زیادہ خوب صورت آنکھیں میں نے نہیں دیکھیں۔ انہیں نظر بھر کر دیکھنے سے دل کو کچھ ہونے لگتا ہے۔‘‘

رانیہ کا بیلن والا ہاتھ کٹی ہوئی شاخ کی طرح پہلو میں جھول گیا۔ بھوری آنکھوں کا طلسم اس کے چاروں اور عنکبوتی جال بن رہا تھا۔ اسے لگا وہ قیامت تک اس مقام سے نہیں ہل سکے گی۔

اس کی خاموشی کومحسوس کر کے صائم نے کائونٹر سے ہاٹ پاٹ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا اس سے نظریں ملائے بنا رانیہ نے ہاتھ اٹھائے۔ صائم نے اس کا ہاتھ گرفت میں لے لیا تھا۔

’’ہمارا بیلن تو دیتی جائو۔ ایسے نہیں جانے دوں گا میں۔‘‘ اس کی آواز بوجھل تھی۔

لمس کی حدت سے رانیہ کو اپنا وجود پگھلتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ وہ کوئی شوخ جواب دینا چاہتی تھی لیکن گلا رندھ گیا تھا۔ بھاگ جانے کی خواہش اس کے دل میں مچل رہی تھی مگر پائوں شل تھے۔

اچانک دروازے میں سے ایک موم کا مجسمہ نمودار ہوا۔

صائم نے ہاٹ پاٹ اس کے بے جان ہاتھوں میں تھما دیا۔

’’میری ابھی آنکھ کھل گئی تو میں نے سوچا تم سے پوچھ لوں آج جاگنگ کے لےے جائو گے یا نہیں۔‘‘ مومی بت نے رانیہ کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نیند کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی یا شاید رانیہ کو ہی ایسا لگا تھا۔ یک لحظہ اسے احساس ہوا کہ وہ اب تک کیوں ٹھہری ہوئی تھی۔

’’سحری کھانے کے بعد جاگنگ کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، واک کریں گے آج۔ کچھ کھائو گی تم؟‘‘

جاتے ہوئے اس نے صائم کو کہتے سنا تھا۔

٭٭٭

اماں اور ندرت نے مل جل کر بڑے چائو سے گجریلا تیار کیا تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد گھر کے سب افراد اپنی اپنی پلیٹیں سامنے رکھے یلغار کرنے کا سوچ ہی رہے تھے کہ چند خواتین آگئیں۔ دروازہ کھلا تھا اور وہ دستک دےے بغیر آن دھمکی تھیں۔ اس لےے انہیں تب خبر ہوئی جب و ہ سر پر پہنچ چکی تھیں۔ طوہاً کرہاً گجریلا انہیں پیش کرنا پڑا۔ وہ بھی ایسی بے حس ثابت ہوئیں کہ اصل حق داروں کے سامنے بیٹھ کر گجریلا ہڑپ کرنے سے ذرا نہ ہچکچائیں حتیٰ کہ انہوں نے آمدکا مقصدبھی یہ ظلم ڈھانے سے پہلے نہ بتایا۔ ان کی بات سن کر سوائے ابا کے باقی سب کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ ایک تو انہوں نے سرخ و سفید ٹھنڈا ٹھار گجریلا ان کے حسرت ٹپکاتے چہروں کی پروا کےے بغیر ٹھونس لیا تھا اس پر طرح یہ کہ وہ رفعت کا رشتہ لے کر آئی تھیں۔

اماں ان کی طرف سے رخ موڑ کر اس کلینڈر کو تکتی رہیں جس پر فلمی اداکاروں کی تصویریں چھپی تھیں۔ ندرت نے پٹخ پٹخ کر ان کے سامنے چائے کے برتن رکھے۔ ایک ایک کپ کو میز کی سطح سے تین بار ٹکرانے کے بعد رکھا۔

انیقہ اِدھر سے اَدھر جاتے ہوئے کبھی میز کے پائے سے ٹکرائی تو کبھی کرسی کو ٹھوکر رسید کی۔ دانیال کو رفعت سے تو کوئی بیر نہ تھا۔ تاہم گجریلا کھانے والا جرم ا س کے نزدیک قابل معافی نہیں تھا۔ وہ مسلسل ان کے سامنے جما ہنستا رہا۔ حتیٰ کہ اس کے جبڑے دکھنے لگے لیکن اس نے ان کے رخصت ہونے تک ہمت نہ ہاری۔

رانیہ رفعت کا نام سنتے ہی آپے سے باہر ہوگئی۔ وہ ان کے سامنے آنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہورہی تھی لیکن ابا آخر ابا تھے۔ اسے واپس آپے میں ہونا پڑا۔ ماتھے پر بے شمار بل ڈالے اور نتھنے پھلائے وہ جن نظروں سے ان خواتین کو دیکھ رہی تھی اگر ان میں ذرا سی سوجھ بوجھ ہوتی تو ایک پل نہ ٹکتیں۔ خاصی ڈھیٹ لگ رہی تھیں اس توہین آمیز سلوک کے باوجود وہ ابا سے تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد ٹلیں۔

ان کے جاتے ہی گھر ایک میدانِ جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ دھاڑوں اور چنگھاڑوں سے در و دیوار لرزنے لگے۔

ابا نے ہر ایک کی مزاج پرسی اس کے جرم کو مد نظر رکھتے ہوئے کی۔

اماں کو تو گجریلے کا غم کھائے جارہا تھا۔ کتنی محبت اور مشقت سے انہوں نے مرحوم و مغفور گجریلے کو تکمیل کے مرحلے تک پہنچایا تھا۔

’’ہائے۔۔۔‘‘ اماں نے ایک طویل سرد آہ بھری۔ ’’پیس موئی پکا موئی آئے لوٹھے اڑا گئے کیسی لال لال رس بھری گاجریں تھیں اور کیا ملائم بنا تھا گجریلا۔‘‘

’’میں پوچھتا ہوں تم نے ان کے ساتھ ڈھنگ سے بات کیوں نہیں کی۔ رانیہ کے لےے بات کرنے آئی تھیں وہ کوئی بھکارنیں تو نہیں تھیں۔‘‘

’’اے پتا نہیں کون تیلی تمبولی لوگ ہیں۔۔۔ مجھے تو لڑکے کا نام ہی نہیں بھایا ۔ رفعت۔۔۔‘‘ اماں نے منہ بگاڑ کر کہا۔ ’’لڑکیوں والا نام ہے۔ صورت بھی ویسی ہی ہوگی جیسی اس کی ماں اور بہنوں کی تھیں اور کیسا کرودھ تھا ان میں۔ منگنی ابھی کرلو۔ لڑکی آگے نہیں پڑھے گی، لڑکا کورس کرلے تو شادی ہوگی۔ واہ جیسے ہم ان کے غلام ہیں، جو لوگ رشتہ جڑنے سے پہلے ہی ایسی باتیں کر رہے ہیں وہ بعد میں کیا کیا گل نہ کھلائیں گے۔ تم انہیں انکار کر دو بس۔ بلکہ تم نے کھڑے کھڑے ہی انہیں جواب کیوں نہ دے دیا۔ میری پھول جیسی بیٹی کے لےے رشتے بہتیرے۔‘‘

رانیہ نے جو دروازے کی اوٹ میں چھپی ان کی گفت و شنید سن رہی تھی، اماں کو پیار بھری نگاہوں سے دیکھا۔

’’ذرا پھول کی نسل اور رنگ کے بارے میں وضاحت کر دیتیں تو زیادہ بہتر تھا۔ تھوڑی سی تشنگی رہ گئی۔ بہرحال یہ بھی غنیمت ہے۔‘‘

’’تم جس آس پر بیٹھی ہو وہ مجھے پوری ہوتی نظر نہیں آتی۔‘‘ اس بار ابا کی آواز قدرے دھیمی تھی۔

’’روز فجر کی نما زسے لوٹتے ہوئے میں امریکن لڑکی کو صائم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھتا ہوں۔‘‘ آواز فروتر ہوگئی۔

’’یہ جو دیوار سے پرے سارا دن قہقہے گونجتے ہیں اَن کا مفہوم تم نہیں سمجھتیں؟‘‘

رانیہ نے خود کو مزید چھپالیا اور دم سادھ کر سننے لگی۔

’’صالحہ یا اس کے میاں نے کبھی اشارہ تک نہیں دیا اس بارے میں۔ کوئی امید دلائی ہوتی انہوں نے تو ہم انتظار کرتے بھلے بھی لگتے۔ جب سرے سے کوئی بات ہی نہیں تو تم کس خوش فہمی میں بیٹھی ہو۔‘‘

اماں بلا مقصد عینک کے شفاف شیشوں کو پلُو سے رگڑ کر صاف کرنے لگیں۔

’’وہ شبی تو بس عید تک ہے اِدھر۔ پھر چلی جائے گی، صالحہ بڑا پیار کرتی ہے رانیہ سے۔‘‘ انہوں نے کمزور لہجے میں شاید اپنے آپ کو دلاسا دیا تھا۔

’’تمہارا دماغ خراب ہوچکا ہے۔‘‘ وہ شعلے کی طرح بھڑکے۔ لیکن ایسا ایک لمحے کے لےے ہوا تھا۔ اگلے ہی پل ان کا انداز پھر سرگوشیانہ ہوگیا۔

’’اسد اعوان صاحب سے ملاقات ہوئی تھی کل فجر کی نماز کے بعد۔ وہ بتا رہے تھے صائم نیویارک چلا جائے ۔ اس کے چچا نے بلایا ہے اسے۔ انہیں کاروبار میں ہاتھ بٹانے کے لےے کسی قابلِ بھروسہ شخص کی ضرورت ہے اور ظاہر ہے ہونے والے داماد سے زیادہ موزوں کون ہوسکتا ہے اس کام کے واسطے، تم اپنے دماغ سے یہ خناس نکال دو۔‘‘

اماں کی عینک کے شیشوں پر نہ جانے کیسی گرد جمی تھی جو کسی طرح صاف ہی نہ ہورہی تھی۔ رانیہ دروازے کا پٹ تھامے ساکت کھڑی تھی۔ ابا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

’’رفعت پڑھا لکھا لڑکا ہے۔ کھاتے پیتے گھرانے کا ہے۔ اسے دیکھ لینے میں کوئی حرج نہیں۔ رانیہ کا کلاس فیلو ہے۔ اس نے تودیکھ رکھا ہوگا۔ اس کی مرضی تم معلوم کرلو۔ ابھی ان عورتوں کو میں نے کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔ سوچنے کا وقت ہے ہمارے پاس ۔ مل بیٹھ کر صلاح کرلو پھر آگے جو اللہ کی مرضی۔‘‘

٭٭٭

اماں نے صائم کے گھر والوں کو افطاری پر بلانے کا پروگرام بنایا تھا۔ باقاعدہ دعوت دینے کا کام اسے سونپا گیا تھا۔ سحری تیار کرنے کے لےے وہ اٹھی تو سوچا فجر کی اذانوں سے ذرا پہلے جا کر یہ فرض نبھا آئے۔ اس وقت جانے کے کئی فائدے تھے۔ انکل سے بھی ملاقات ہوجاتی ان سے بہت کم سامنا ہوتا تھا اور پھر سب افراد اکٹھے ایک جگہ پر دستیاب ہوجاتے۔ جانے کا تہیہ کر چکی تو ایک اور بات زیرِ نظر آگئی۔ بھاپ لے کر انڈے کی سفیدی کا لیپ کرنے میں کون سے گھنٹے صرف ہوجاتے۔ مشکل سے بیس پچیس منٹ کا معاملہ تھا۔ اسکن میں نئی چمک اور نکھار پیدا ہوجاتا۔ سحری کا وقت ختم ہونے میں تو ابھی بہت دیر باقی تھی۔ وقت بھی آسانی سے کٹ جاتا اور حسن کی نشو و نما تو ہمیشہ سے اس کے نزدیک اولین حیثیت رکھتی تھی۔ ویسے بھی سارا گھر نیند میں ڈوبا تھا۔ شور شرابے اور خاص طور پر اماں کی موجودگی میں ایسے مشاغل خوش اسلوبی سے انجام نہیں دےے جاسکتے تھے۔

بڑا سا تولیہ سر اور گردن کے گرد لپیٹے، بھاپ اڑاتے برتن پر چہرے جھکائے اسے بمشکل دو منٹ گزرے ہوں گے کہ کوئی نہ سمجھ میں آنے والی آفت ٹوٹ پڑی۔ چند لمحے خالی الذہنی سے وہ یہ جاننے کی کوشش کرتی رہی کہ اس کے ساتھ کیا حادثہ پیش آچکا ہے۔ دو ہتر اس کی کمر پر پڑے تھے اور وہ چیخ کر اچلی تھی وہ تو خیر گزری کھولتے ہوئے پانی سے بھری دیگچی نے اچھلنے میں اس کا ساتھ نہیں دیا۔

’’بیڑہ غرق ہو تیرا۔‘‘ اماں کی بگڑی ہوئی صورت دیکھ کر ساری صورت حال اس پر واضح ہوگئی۔

’’اماں کبھی نرمی سے بھی کام لے لیا کریں۔‘‘وہ ان سے زیادہ اونچی آواز میں چلائی۔ ’’میرا چہرہ جلانے لگی تھیں آپ۔‘‘

ایسے نازک وقت میں اماں کے نازل ہونے سے وہ سخت کوفت زدہ ہوگئی تھی۔ ابھی تو چہرے کو تولےے سے ڈھانپ کر پرسکون حالت میں تھوڑی دیر بیٹھنے اور درجہ حرارت نارمل ہونے کے بعد انڈے کی سفیدی کا ماسک لگانے کے مراحل باقی تھے۔ اسے اپنی جلد کے کھلے ہوئے مساموں اور کمرے کے سرد ماحول میں نا مواقفت کا دھیان آیا تو تولیہ کھینچ کر چہرے پر ڈال لیا۔

اماں نے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کے ایک اور کاری ضرب اس کے کندھے پر لگائی۔

’’پتیلی میں سر دےے تَو کیا کر رہی تھی؟ تیرا دماغ تو درست ہے نا۔‘‘ انہوں نے تولیہ جھپٹنا چاہا لیکن اس کے ہاتھوں کی گرفت سخت تھی۔

’’تو ان چونچلوں میں پڑی ہے۔ وقت سرکتا جارہا ہے۔ سحری میں اپنا کلیجہ کھلائے گی کیا۔ اب بھی میری آنکھ نہ کھلتی تو کام دکھا گئی تھی تَو۔ وہ تو شکر ہوا ایک ڈرائونا خواب دیکھ کر میری نیند ٹوٹ گئی۔ کیا دیکھتی ہوں۔ سن لو۔‘‘ اماں اس کے سامنے چوکی گھسیٹ کر بیٹھ گئیں تو اس نے تولیہ سرکا کر آنکھوں کے لےے خلا پیدا کر دیا۔

’’بڑا ہی بَرا خواب تھا۔۔۔ میں نے دیکھا عدنان سمیع مجھ پر پائوں رکھ کر گزر گیا۔ دہل کر اٹھی ہوں۔ پسینے میں بھیگی ہوئی اب تک دل قابو میں نہیں آیا۔‘‘

خواب تو حقیقتاً بڑا ہولناک تھا۔ اسے اماں سے ہمدردی محسوس ہوئی لیکن چونکہ اس کا چہرہ ابھی تک تپ رہا تھا اس لےے ہونٹوں سے ہمدردی کا اظہار نہ کر پائی۔

’’اب اٹھتی ہے یا اتاروں جوتی۔ مجھے تو ابھی اسی وقت تین پرتوں والا پراٹھا بنا کے دے میٹھے انڈے کے ساتھ کھائوں گی، خون نچوڑ لیا میرا اس منحوس خواب نے۔ دل ڈوبا جارہا ہے۔‘‘

وہ ایک جھٹکے سے اٹھی اور پیر پٹختی فریج کی طرف بڑھی۔

’’اے رانیہ تَو کہتی تھی میرے پرچے شروع ہونے والے ہیں۔ پر میں نے تجھے کبھی کتاب پکڑے نہیں دیکھا۔ وہ ندرت سارا دن سر کھپاتی ہے۔‘‘

اس نے دیا سلائی کو شعلہ دکھا کر ماچس زور سے دیوار پر دے مارا۔

’’اسے ہاتھ پیر ہلائے بغیر کھانے کو مل جاتا ہے۔ مجھے دو نوالے حلق سے اتارنے کے لےے سارا دن ساری رات بھاڑ جھونکنا پڑتا ہے۔ بہت فرق ہے مجھ میں اور ندرت میں۔‘‘

اماں گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے کراہ کر اٹھیں۔

’’تَو تو بس اپنی شکل کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی ہے۔ جب تک بگاڑ نہیں لے گی تجھے چین نہیں پڑے گا۔ جب سے وہ شبی آئی ہے میں دیکھ رہی ہوں تیرا دھیان اس طرف اور بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ دیکھ میری بچی۔۔۔‘‘ اماں نے اسے شانوں سے تھام کر اس کے سر کی پشت پر بلکہ نم تولےے پر بوسہ دیا۔

’’اس التفات پر وہ حیرت سے گھومی۔ اماں کی بوڑھی آنکھیں دھندلی ہورہی تھیں۔

’’تیرا اس لمبے منہ والی شبی کے ساتھ کیا میل۔ تَو عرش کا تارہ وہ خاک مٹی کی دھول۔‘‘ اماں کے ساز کی بدلی ہوئی دھن رانیہ کی سماعتوں میں پھول کھلانے لگی۔

’’وہ پینٹ کس کے پھرتی ہے تو تیرے مقابلے کی ہو گئی۔ تیری تو مت ماری گئی ہے۔ تیرے جوڑ کی ایک بھی اس پورے شہر میں نہیں ہوگی۔ ایسا ناک نقشہ ڈھونڈ کر دکھائے ذرا کوئی۔‘‘ اماں نے تولیہ پرے ہٹا کر اس کی پیشانی چوم لی۔

رانیہ نے اپنے بازو پر چٹکی لے کر خود کو یقین دلایا کہ وہ خواب نہیں دیکھ رہی تھی۔

’’تیرے باپ کے دماغ میں سودا سما گیا ہے۔ اے پر میں اس کی مرضی چلنے دوں بھی۔ جو تَو چاہے گی وہی ہوگا۔ بس اللہ پر آسرا رکھ۔‘‘ ساری کائنات کا پیار لہجے میں سموئے بولتے ہوئے اماں کو نہ جانے کیا ہوا۔ ان کے چہرے کے تاثرات اتنی تیزی اور مہارت سے بدلے کہ آسکر ایوارڈ یافتہ فنکار بھی پیچھے رہ گئے۔

’’جلا دیا نا پراٹھا۔ تجھ سی نکمُی سارے جہاںمیں نہ ہوگی۔ خدا غارت کرے تجھے۔‘‘ اماں نے اسے اتنی قوت سے دھکا دیا کہ وہ چولہے پر گرتے گرتے بچی۔

٭٭٭

عجیب دن تھے۔ سکڑے سکڑے، بوجھل اور گیلے سے۔ ایسی بجھی ہوئی راکھ کی طرح جس پر پانی کے چھینٹے پڑ گئے ہوں نہ کھل کر دھوپ نکلتی اور نہ ہی یخ بستگی کا احساس نمایاں تھا۔ سحری کے وقت اور افطاری کے بعد بے اختیار کمبل اوڑھنے کو جی چاہتا اور دوپہر میں کسی ویگن کے محبوس ماحول میں سفر کرتے ہوئے، پیشانیوں، اوپری لبوں پر ہتھیلیوں اور انگلیوں کے بیچ پسینے کی ننھی ننھی بوندیں پھوٹ پڑتیں۔ دن ڈھلنے کا پتا بھی نہ چلتا۔ جیسے کسی ڈھلان پر پتھر لڑھک گیا ہو۔ رات اتنی طویل،ڈھلنے میں صدیاں بتا دیتی۔ اندھیرا تھما رہتا۔ بے حس و حرکت سا پانی کی طرح۔ رات کسی ایسے گاڑھے سیال کی مانند رینگتی جو انجماد کی منزل پر پہنچنے سے چند گام پیچھے رہ گیا ہو۔

رمضان کا دوسرا عشرہ چل رہا تھا۔ ان کے سمسٹر شروع ہوچکے تھے۔ عید کی خریداری آخری عشرے پر اٹھا رکھی تھی۔ آنٹی صالحہ نے بھی شاپنگ کا پلان ان کے سمسٹرز کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا تھا۔ ان کے پیپر مارننگ شفٹ میں ہورہے تھے اور رانیہ کی خوش قسمتی یا شاید رفعت کی خوش قسمتی تھی کہ وہ ایوننگ میںپیپر دے رہا تھا کہ کتابیں پڑھتے ہوئے، کمرہ امتحان میں پیپر حل کرتے ہوئے، لائبریری میں نوٹس بناتے ہوئے۔ سڑک پر چلتے ہوئے، اس کے ساتھ بولتی، اشارے کرتی گہری بھوری آنکھیں لہراتا بل کھاتا، ناچتا ہوا جاگنگ ٹریک ، چمک دار سفید دانت، بھاگتے قدموں کی چاپ، سڑک پر اچھلتے بوٹوں کی دھپ دھپ، ہر دم موجود رہتی۔ وہ کہیں بھی ان سب سے پیچھاچھڑانے میںکامیاب نہ ہوسکی۔

فجر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ لان میں نکل آتی اور اس وقت تک ٹہلتی رہتی جب تک ٹانگیں شل ہو کر جسم کا ساتھ نہ چھوڑ دیتیں۔ دیوار کے پرلی طرف ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ دونوں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے کندھے سے کندھا جوڑے، چھوٹے بچوں کی طرح کھلکھلاتے، راہگزر پر تیز تیز قدم دھرتے کسی الکھ نگری کی اور روانہ ہوجاتے، وہ بہت عجلت میں ہوتے تھے۔ لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہوجاتے لیکن ان کے قدموں کا لمس دیر تک دھڑکتا رہتا۔ گجر دم آسمان پر بجھتے ستارے اسے تاسف سے دیکھتے اوس میں بھیگے سبز مخملی قالین پر بکھری چند ناکی سفید لیاں اس کے قدموں سے لپٹ لپٹ کر بین کرتیں، کٹھ گلاب کے اونگھتے ہوئے سرخ پھول اس کے اضطراب کو محسوس کر کے چونک چونک اٹھتے۔ سرد ہوا میں ٹھٹھرتے سرد کے پیڑ لمبی لمبی سرد آہیں بھرتے۔

رات بھر پھوئیاں (پھوار) برسی تھیں۔ چھتوں کے پنکھے ساکت رہے۔ کھڑکیاں اور روشن دان بند رہے۔ موٹے سوت کے کھیسوں کی جگہ نرم گرم کمبلوں نے لے لی۔ سحری کے وقت رہ رہ کر بدن میں کپکپاہٹ رینگتی رہی۔ صبح دھوپ نکلی لیکن کسی ایسے تھکے ماندے مسافر کی طرح جو لمبے سفر کی تھکان سے چور قدم قدم پر سستانے لگتا ہو۔ سورج ابھرنے لگتا تو بادل اجلی سفید روئی سے بنے ہوئے ہاتھ بڑھا کر اس کا کندنی چہرہ ڈھانپ دیتے۔

اگلے روز ان کا کمپیوٹر کا پریکٹیکل تھا۔ وہ کمپیوٹر کے نوٹس اور کرسیاں اٹھائے چھت پر آگئیں۔ آسمان کی نیلاہٹ اور دھنکی ہوئی روئی کی طرح سفید بالوں کا امتزاج یوں سر پر پھیلا تھا جیسے کسی نیلگوں سمندر میں برفانی تودے تیر رہے ہوں۔

ٹیرس پر صائم اور شبی بیٹھے تھے۔ شبی ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے مسلسل پائوں ہلائے جارہی تھی۔ انہیں چھت پر آتا دیکھ کر صرف ایک لمحے کے لےے اس کی تھرکتی ہوئی ٹانگ کی حرکت تھمی۔ لیکن اگلے پل پھر جاری ہوگئی۔ اس کی پینٹ کا پائنچا اوپر سرکا ہوا تھا،سفید چونے جیسی موم کی پنڈلی لشکارے مار رہی تھی۔ ندرت نے اس سے نظریں ملتے ہی ایک مودبانہ سلام جھاڑ دیا۔

’’آداب آپا!‘‘ اس نے پیشانی جھکا کر ہاتھ اٹھایا۔ شبی نے پرے منہ پھیر لیا۔ صائم نے ان کی طرف ہاتھ لہرایا تھا۔

ندرت کی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے۔

’’اس بڈھی انگریزنی کی یہ جرأت کہ میرے سلام کا جواب نہ دے۔ میں نے اسے آنٹی کیوں نہ کہا۔ ہر کام کی بات وقت گزرنے کے بعد سوجھتی ہے۔‘‘ اس نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

رانیہ صائم کی مسکراہٹ اور قلعی شدہ پنڈلی میں الجھی ہوئی تھی وہ اس کی بات کیسے سن سکتی تھی۔

’’لگتا ہے صائم نے تین چار ہفتوں سے کٹنگ نہیں کروائی۔ بال خاصے بڑے ہوگئے ہیں۔ کیڈٹ کٹ بھی جچتی تھی اس پر اور ایسے بھی آنکھوں کو بھلا لگ رہا ہے۔‘‘

’’تمہاری آنکھوں کو بڑے پیمانے پر علاج کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ چٹخ کر بولی۔

’’تمہیں اس کی مکاری اور فریب دکھائی نہیں دیتا؟سارا دن رانیہ یہ، رانیہ وہ اور اس کے ساتھ کیسے چپک کر بیٹھا ہے۔ چہرے سے کتنی خباثت ٹپک رہی ہے دیکھو تو ہنس ہنس کے بے حال ہوا جارہا ہے جیسے شبی باتیں نہ کر رہی ہو اس کے پہلو میں گدگدیاں کر رہی ہو۔‘‘

رانیہ نے ٹیرس پر سے نظریں ہٹا کر اسے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا۔

’’میں تمہارے بہکاوے میں آکر بدظن نہیں ہوسکتی۔ اس وقت تم پھاپھا کٹنی کا کردار بڑی عمدگی سے نبھا رہی ہو۔ خود تو بدشکلی کے باعث تم ساری زندگی بن بیاہی بیٹھی رہو گی مجھے بھی اپنے ساتھ شامل کرنا چاہتی ہو تاکہ تمہارے احساس کمتری کو تسکین مل سکے۔‘‘ بولتے ہوئے ایک بار پھر اس کی توجہ ٹیرس کی طرف منعطف ہوئی۔ شبی نے کسی بات پر بلند آہنگ قہقہہ لگایا تھا اور بازو پھیلا کر صائم کے بال بکھرا دےے تھے۔ پھر اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔ صاف جتاتا ہوا انداز تھا۔ صائم ہنس رہا تھا۔ اسے لگا وہ مل کر اس کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ وہ بالکل چپ ہوگئی۔ غصے کے مارے اس کے جسم میں لرزش اتر آئی۔ نوٹس پر رکھے ہوئے ہاتھ کی انگلیاں سختی سے آپس میں جڑ گئیں۔

’’یہ کیا؟‘‘ ندرت کی تیز و تند آواز پر وہ چونکی۔

’’میں مانتی ہوں شبی کی بدمعاشی دیکھ کر تمہیں غصہ آگیا۔ اصولاً تمہیں اپنے نوٹس کا صفحہ پھاڑنا چاہےے تھا۔ تم ہو کہ میرے نوٹس کے ورق اکھاڑ رہی ہو، گانٹھ کی پوری ہو۔ طیش میں بھی اپنا نقصان نہیں کیا۔‘‘

’’دفع ہوجائو۔‘‘ رانیہ نے چیخ کر کہا۔ ’’تمہاری ٹر ٹر مجھے زہر لگ رہی ہے۔ اگر جلد ہی تم یہاں سے نہ گئیں تو تمہیں نیچے اترنے کے لےے سیڑھیوں کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔‘‘

ندرت کے انداز میں سرمو فرق نہ آیا۔ ’’تمہاری موجودہ ذہنی حالت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے میں تمہاری گستاخی معاف کرتی ہوں لیکن آئندہ کے لےے محتاط رہنے کی تنبیہہ کے ساتھ۔‘‘ اس کے سرخ چہرے پر نظریں جمائے وہ اٹھی اور اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا۔

رانیہ نے ابرو اچکا کر اس کی وجہ دریافت کی لیکن پھر اس کے چہرے پر پھیلی پراسراریت بھانپ کر اٹھ گئی۔

’’میں نے اس بڈھی بدمعاش کا بندوبست سوچ لیا ہے۔‘‘ اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی۔ اس کے ارادے جان کر رانیہ نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔

’’تمہارے دماغ میں بھس بھرا ہے۔ شک تو مجھے پہلے ہی تھا۔ یقین تم نے دلا دیا ہے۔ اسے سب سے پہلے میرا خیال آئے گا۔‘‘

’’آتا ہے تو آتا رہے۔ سو بار آئے لیکن شک کی پھانس تو سینے میں اٹک جائے گی نا۔ اور پھر ہمارے دل کی بھڑاس بھی نکل جائے گی۔ بس تم دو تین گھنٹے ان کی طرف ہی موجود رہو بلکہ ہوسکے تو ادھیڑ عمر آپا شبینہ کے سامنے رہنا۔ پھروہ جس پر مرضی شک کرتی پھرے ہماری بلا سے۔‘‘

’’اچھا میں جا کر صائم کے پی سی پر ایم ایس ورڈ اور پاور پوائنٹ کی پریکٹس کرتی ہوں۔‘‘ رانیہ نیم دلی سے رضامند ہوگئی تھی۔

ندرت نے انیقہ کو ساتھ لیا اور رحمان پورہ میں انیقہ کی ایک سہیلی کے گھر چلی گئیں۔ ٹیلی فون سیٹ اور تنہائی انہیں جلد ہی میسر آگئی تھی۔ انیقہ نے آخری بار ناقدانہ نظروں سے اس اسکرپٹ کا معائنہ کیا جو ندرت اور رانیہ نے پورے آدھے گھنٹے کی عرق ریزی کے بعد تحریر کیا تھا۔

’’دم نہیں ہے تحریر میں۔‘‘ اس نے منہ بنایا۔ ’’تھرڈ ریٹ، تھرڈ کلاس، بوگس قسم کے فقرے ہیں۔ کسی پنجابی فلم کے مصنف کے مکالمے کاپی کر لیتیں تو دھاک بیٹھ جاتی شبی پر، فون سنتے ہی گھوڑے پر سوار ہو کر نیو یارک روانہ ہوجاتی۔‘‘

ندرت نے چیل کی طرح جھپٹ کر اس کے ہاتھ سے کاغذ چھین لیا۔

’’تم خاموشی اختیار کرو تو تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔‘‘ اس نے زہر خند سے کہہ کر ٹیلی فون سیٹ قریب کھسکایا۔ وہ ریسیور اٹھا کر مائوتھ پیس پر دوپٹے کا پلُو دوہرا کر کے جمایا اور نمبر پریس کرنے لگی۔

فون صائم نے ریسیو کیا تھا وہ سنبھل کر بیٹھ گئی۔

’’با۔۔۔شبی‘‘ وہ باجی شبینہ کہتے کہتے رک گئی۔ ’’بیڑہ غرق ہو اس رانیہ کا، اسکرپٹ میں بھی باجی شبینہ لکھا ہوا ہے۔‘‘

’’شبی کو فون دیں پلیز۔‘‘ اس نے گلے پر زور ڈالتے ہوئے آواز بدل کر کہا۔

انیقہ اس کی پرفارمنس سے مطمئن نظر نہیں آتی تھی۔ اس کی تمسخر اڑاتی نگاہیں اس بات کا واضح ثبوت تھیں۔

شبی کے فون پر آتے ہی وہ کسی ایسے چرندے کی طرح شروع ہوگئی جسے چارہ دکھا کر رسی کھول دی گئی ہو۔

’’تم وہی شبی بول رہی ہو نا جس کی شکل گھوڑے کی تھوتھنی سے ملتی جلتی ہے۔ تمہیں تو کسی اور اصطبل میں ہونا چاہےے تھا،تم انسانوں کے گھر میں کیا کر رہی ہو۔‘‘

’’کیا بکواس ہے؟‘‘ دوسری طرف سے چیخ کر کہا گیا۔

’’فون بند نہ کرنا۔ میری پوری بات سنے بغیر فون بند کر دیا تو بہت پچھتائو گی۔‘‘

’’کون ہو تم؟‘‘

’’میں جو کوئی بھی ہوں کم از کم تم سے پچیس سال چھوٹی ہوں اور میرے دانت بھی اتنے لمبے ہیں جنہیں دیکھ کر دندان سازوں کے بورڈ یاد آجاتے ہوں، کان کھول کر سنو میں صائم کی منگیتر بول رہی ہوں۔ ہم اپنی خفیہ منگنی کا اعلان کرنے ہی والے تھے کہ تم ٹپک پڑیں، میں تمہیں وارن کر رہی ہوں، صائم کا پیچھا چھوڑ دو ورنہ تمہارا حشر عبرت ناک ہوگا۔‘‘

اس نے اپنی شان دار کارکردگی پر شاباش وصول کرنے کے لےے انیقہ کو داد طلب نظروں سے دیکھا جو اب کسی قدر متاثر لگ رہی تھی اور کھسک کر اس کے قریب ہوگئی تھی۔

ایئر پیس کے سوراخوں سے چھن چھن کر آتی شبی کی ہنسی نے اس کا تنفس تیز کر دیا۔

’’تم ہنس رہی ہو؟ میں ریسیور میں سے نکل کر تمہارے دانت توڑ دوں گی۔ تم جانتی نہیں ہومجھے میری اپروچ بہت دور تک ہے۔ نیو یارک کی سڑکوں پر دہائیاں دیتے تمہارے پندرہ بوڑھے ضعیف بوائے فرینڈز کے نام اور پتے میں حاصل کر چکی ہوں۔ کسی بھی لمحے صائم کے سامنے تمہارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دوں گی۔ آئندہ اگر تم گھر میں یا گھر سے باہر پھاندی کودی یا۔۔۔‘‘ ایک لمحے کے لےے الفاظ اس کی نظروں میں گڈ مڈ ہوئے تو وہ گڑبڑا گئی لیکن فوراً ہی خود کو سنبھالنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

’’کودا پھاندی کرتی نظر آئیں تو تمہاری خیر نہیں۔ یہ جاگنگ اور واک کے بہانے صائم کو پھانسنے کے ہتھکنڈے میں نہیں چلنے دوں گی۔ اس وارننگ کے بعد بھی تم باز نہ آئیں تو تمہاری ٹانگیں کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دوں گی۔ میرے چھوڑے ہوئے آدمی ہر وقت تمہاری نگرانی کرتے ہیں۔ اپنا بوریا بستر گول کرو اور وہیں چلی جائو جہاں سے آئی ہو۔‘‘ اس نے کھٹاک سے ریسیور رکھا اور سینے پر ہاتھ دھر کے چند گہری گہری سانسیں لیں۔

’’مجھے انگریزی میں تین چار موٹی موٹی گالیاں دیں اس نے، اب ڈکشنری میں ان کا مطلب ڈھونڈنا پڑے گا۔‘‘

’’جب تمہیں مطلب ہی نہیں پتا تو تمہیں کیسے معلوم وہ موٹی تھیں یا پتلی۔‘‘ انیقہ نے حیرت سے استفسار کیا۔

’’زبان کو گول کر کے منہ بھر بھر کے بول رہی تھی۔ مجھے تو وہ الفاظ بڑی غلط نوعیت کے لگ رہے تھے۔‘‘

’’ایک بات تو تم نے سوچی ہی نہیں۔۔۔‘‘ انیقہ کے انداز میں تشویش تھی۔ ’’اگر ان کے فون پر سی ایل آئی کی سہولت موجود ہوئی تو میری دوست پھنس جائے گی۔ اس کے بھائی وہ سب کچھ اس کے ساتھ کر گزریں گے جس کی دھمکی تم شبی کو دے رہی تھی۔

’’اس بات کا اطمینان میں نے پہلے ہی کر لیا تھا۔ میری پلاننگ فول پروف ہے۔‘‘ اس نے فاتحانہ انداز میں گردن تان کر جواب دیا۔

٭٭٭

آنٹی صالحہ کے ساتھ عید کی شاپنگ کرتے ہوئے وہ بڑی عجلت دکھا رہی تھی۔ اس سے کسی کپڑے کے رنگ کے متعلق رائے پوچھی جاتی وہ بنا دیکھے اثبات میں سر ہلا دیتی۔ جیولری کا ڈیزائن دکھایا جاتا وہ خلا میں گھورتے ہوئے ’’بالکل ٹھیک ہے۔ بہت خوب صورت ہے‘‘ کی گردان کرنے لگتی۔ آنٹی نے متعدد دفعہ اس کی بے دھیانی پر اسے ٹوکا۔ لیکن وہ ’’آں۔۔۔ کچھ نہیں۔‘‘ کر کے خاموش ہوگئی۔ اب وہ انہیں کیا بتاتی کہ گھر پر شبی اورصائم بالکل تنہا تھے اور اس کے اندر کیسی شورش برپاتھی۔

’’اب چیں بھی آنٹی باقی چیزیں پھر کبھی لے لیں گے۔ ابھی تو آٹھ نو دن باقی ہیں۔‘‘ آخر کار اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ ’’انکل بھی آچکے ہوں گے۔ افطاری کا وقت ہونے والا ہے۔‘‘

انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا۔ ’’میں نے بتایا تو تھا تمہارے انکل ساہیوال گئے ہوئے ہیں۔ میری نند کے جیٹھ فوت ہوگئے ہیں، بھول گئیں؟‘‘

ندرت کو بھی اس کی پھرتیاں بری طرح کھل رہی تھیں۔ ’’افطاری کی فکر تمہیں کیوں ستانے لگی، مامی اور انیقہ تیار کرتی ہیں روزانہ۔ روز روز گھر سے نکلنا کوئی آسان کام ہے۔ اب شاپنگ مکمل کر کے ہی جائیں گے اور اگر ہو بھی گئی اذان ہمارے بازار میں ہوتے ہوئے تو ڈھیروں دوکانیں ہیں۔ روزہ رکھنا کوئی ایسا گمبھیر مسئلہ نہیں ہے جس نے تمہیں پریشان کر رکھا ہے۔‘‘

’’ہاں تو اور کیا۔۔۔‘‘ آنٹی نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔

’’میرا دل گھبرا رہا ہے۔ میں ایک لمحہ بھی اور اس شور شرابے میں نہیں گزار سکتی۔‘‘ اس کے لہجے میں اتنی تلخی تھی کہ وہ اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گئیں۔ شاپنگ ادھوری چھوڑ کر انہیں لوٹنا پڑا تھا۔ رانیہ آنٹی کے ساتھ ان کے گھر چلی آئی تھی۔

صائم کچن میں پکوڑے تل رہا تھا۔ کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے شبی کھڑی تھی۔

’’امی۔۔۔!‘‘ صائم چمچہ ہاتھ میں لےے باہر نکلا۔

’’آپ کے جانے کے بعد شبی نے اچانک پروگرام بنالیا تایا کی طرف جانے کا کہتی ہے چاند رات کو واپس آئوں گی۔‘‘

آنٹی کچھ دیر خاموش رہیں۔

’’وہ لوگ اصرار بھی تو بہت کر رہے تھے۔ اچھی بات ہے ایک ہفتہ ان کے ہاں بھی رہ آئے۔‘‘

’’مجھے دو میںکر لیتی ہوں۔‘‘ رانیہ نے چمچہ اس کے ہاتھ سے لیا اور شبی کے قریب سے گزر کر کچن میں چلی گئی ایک چولہے پر کڑاہی دھری تھی اور دوسری طرف دودھ ابلنے کے لےے رکھا ہوا تھا۔

’’آپ بھی کمال کرتی ہیں امی! میں تو اسے ہرگز جانے نہیں دوں گا۔ کم از کم عید تک تو بالکل بھی نہیں۔ عید کے بعد بے شک چند روز کے لےے ہو آئے۔‘‘

جواب میں انہوں نے کچھ نہیں کہا تھا۔

پھر اس نے صائم کو کہتے سنا۔ ’’شبی تم باز آئو گی یا نہیں۔ سچ کہہ رہا ہوں تمہیں باندھ کر اسٹور میں ڈال دوں گا۔‘‘

شبی ہنسنے لگی۔

’’صرف سات دنوں کے لےے جارہی ہوں۔ عید تمہارے ساتھ ہی منائوں گی۔‘‘

رانیہ چیخ پڑی۔ ’’صائم آنچ بہت تیز کر رکھی ہے تم نے۔ پکوڑے باہر سے جل گئے ہیں اندر سے بیسن کچا رہ گیا ہے۔‘‘

صائم نے جیسے اس کی بات ہی نہ سنی ہو۔

’’آ تو جائو گی۔‘‘

’’ہر حالت میں۔‘‘

’’کیسے یقین کرلوں تم نہ آئیں تو میری عید پھیکی رہ جائے گی۔‘‘

کڑاہی میں کھولتے ہوئے تیل کی ننھی ننھی بوندیں اچھل رہی تھیں۔ بیسن کے جلے ہوئے سیاہ ٹکڑے تیل کی سطح پر ڈول رہے تھے۔

’’عادتیں بگاڑ کر جارہی ہو۔ اکیلا واک کیسے کروں گا۔‘‘

’’تم نے بھی تو مجھے بگاڑ دیا ہے میں تو دس بجے سے پہلے اٹھتی ہی نہیں تھی۔‘‘

’’عید پر تمہیں دینے کے لےے کیا گفٹ خریدوں؟‘‘

’’جو تمہارے دل کو اچھا لگے۔‘‘

رانیہ پھر چلائی۔ ’’دودھ ابل رہا ہے۔‘‘

’’پتیلی نیچے اتار لو۔‘‘ صائم نے شبی کے چہرے سے نگاہ ہٹائے بغیر کہا تھا۔

’’جب تم چاند رات کو لوٹو گی تو میں گٹار پر کوئی ملن کی دھن بجا کر تمہیں خوش آمدید کہوں گا۔ کیسا فلمی منظر ہوگا۔ کیا خیال ہے۔‘‘

’’تم بھی ساتھ چلے چلو۔ میرا سفر بھی اچھا کٹ جائے گا۔ تم، میں اور گٹار۔۔۔‘‘

دودھ میں ابال آنے لگے۔ سطح پر جمی ہوئی بالائی کی تہ پھولنے لگی۔

’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘

’’سوچتاہوں یہ طویل سات دن کیسے کٹیں گے۔ تم بہت یاد آئو گی۔‘‘

’’اس وقت تم بہت معصوم نظر آرہے ہو۔‘‘

شبی ہنسنے لگی۔ رانیہ کی نظریں اس کی ہنسی میں الجھ کر رہ گئیں۔ رفتہ رفتہ اس کی اجلی ہنسی پھیلنے لگی۔ اس کا حجم بڑھنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ہر شے پر چھا گئی۔ گلابی اور سفید رنگ کے چھینٹے در و دیوار پر ابھرنے لگے۔ ایگزاسٹ فین کے پر گلابی تھے، وہ سفید دائرے میں گھوم رہا تھا، دودھ شبی کے دانتوں جیسا سفید تھا، حدت سے پتیلی کے کنارے گلابی ہورہے تھے۔ صائم کا اوپری دھڑ گلابی رنگت میں رنگا تھا، اس نے سفید رنگت کی پینٹ پہن رکھی تھی۔ سنک میں گلابی پھولوں والی سفید رکابیاں پڑی تھیں۔ کچن کے سفید والے دروازے پر گلابی اون سے بنی ایک پتلی لٹک رہی تھی۔۔۔ شبی کے مسوڑھوں جیسی گلابی پتلی۔۔۔ شبی کی ہنسی پھیلتی چلی جارہی تھی۔ حتیٰ کہ سارا کچن اس کی ہنسی سے بھر گیا۔ رانیہ کے لےے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہ بچی اس کا دم گھٹ رہا تھا ۔اسے اپنا وجود سمٹتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ شبی کی سفید اور گلابی ہنسی کے سامنے وہ یوں سہمی کھڑی تھی جیسے گلیور کے مقابل کوئی بالشتیا۔ دودھ ابل ابل کر پتیلی کے کناروں سے باہر گرنے لگا۔

رانیہ نے دوپٹُا ہاتھوں پر لپیٹ کر جلتی ہوئی پتیلی اتار کر کائونٹر پر رکھنا چاہی باریک دوپٹے میں سے دہکتے کناروں نے اس کی انگلیاں جھلسا دیں۔ جلن سے بے حال ہو کر اس نے ہاتھ چھوڑدےے۔ چھک سے پتیلی نیچے گری اس نے اچھل کر پیچھے ہٹنا چاہا لیکن ابلا ہوا دودھ اچھل کر اس کے پیروں پر گر گیا۔ اس کے حلق سے سسکاریاں نکل گئیں۔ صائم اور آنٹی صالحہ بھاگتے ہوئے آئے۔ شبی اپنی جگہ پر جمی رہی۔ پتیلی سیدھی گری تھی اس لےے سارا دودھ نہیں بہا تھا ورنہ شاید اس کے پائوں بری طرح جھلس جاتے۔

صالحہ آنٹی اس کے سینڈل اتروا کر بازوئوں میں بھر کے باہر لے آئیں۔ صائم سخت متوحش نظر آرہا تھا۔ موٹے موٹے گرم آنسو رانیہ کے رخساروںپر پھسل رہے تھے۔ صائم بھاگ کر ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب لے آیا۔

’’ابھی جلن کم ہوجائے گی۔‘‘

وہ اس کے پائوں پر پیسٹ ملنے لگا تو اس نے جھٹکے سے ٹانگیں سکیڑ لیں۔

’’رانیہ میری بیٹی! ابھی ٹھیک ہوجائے گا۔ شاباش صبر کرو۔‘‘ وہ اسے سینے سے لگائے مسلسل دلاسا دے رہی تھیں۔ وہ منہ سے کچھ نہیں بولی روتی رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔

صائم نے ایک بار پھر اس کے پائوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ وہ خود کو آنٹی صالحہ سے چھڑا کر ایک جھٹکے سے اٹھی اور چہرے کو ہاتھوں سے ڈھاپنے ننگے پائوں بھاگتی ہوئی باہر نکل گئی۔ صائم ہاتھ میں ٹیوب پکڑے اسے دیکھتا رہ گیا۔ آنٹی کی آنکھوں میں حیرت کا ایک جہاں سمٹ آیا تھا۔ شبی بت کی طرح ساکت تھی۔

٭٭٭

اس نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔

اماں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے دبا دیا۔

’’آہستہ بول۔ تیرا باپ تو پہلے ہی تیار بیٹھا ہے۔‘‘

وہ بپھر کر پیچھے ہٹی۔ ’’کیوں آہستہ بولوں۔ دو دفعہ ان کی طرف سے بلاوا آچکا ہے۔ ابا کئی بار مجھ سے میری مرضی پوچھ چکے ہیں۔ بہت ہوگئی سوچ بچار۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں، ابا راضی ہیں تو ہاں کر دیجےے بس۔ میں جانتی ہوں اسے مجھے ان لوگوں کی سب شرائط منظور ہیں۔ میں پڑھائی چھوڑ دوں گی۔‘‘

’’یہ لڑکی تو۔۔۔ بس کی گانٹھ ہے۔ پتا نہیں کیا خبط سما گیا ہے بیٹھے بٹھائے۔‘‘

’’آخر تو میری شادی ہونی ہی ہے۔ جب ایک مناسب رشتہ آگیا ہے تو بس ٹھیک ہے۔‘‘ اس کی آواز میں کوئلوںکی چٹخ تھی۔

’’وہ صالحہ کیسی تیرے پیچھے دیوانوں کی طرح بھاگی آئی تھی۔ ذرا سا پائوں پر دودھ گر گیا تو کیسے تڑپ رہی تھی۔ شبی بھی تو چلی گئی اب تو۔۔۔‘‘

اس نے چلا کر اماں کی بات کاٹ دی۔

’’شبی، صالحہ، صائم۔۔۔ اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی بات ہے؟ ابا کو بتا دیجےے جا کر میری مرضی اور اگر آپ خود نہیں بتا سکتیں تو یہ کام بھی میں کر دیتیں ہوں۔‘‘

’’تیری یہ قینچی کی طرح چلتی زبان میں کاٹ دوں گی۔‘‘ اماں نے لرزتا ہوا ہاتھ اٹھا کر اسے تھپڑ مارنا چاہا تو ندرت نے آگے بڑھ کر انہیں کندھوں سے تھام لیا۔

’’آپ جائیں مامی! میں اسے سمجھاتی ہوں۔‘‘

اماںکچھ دیر کھڑی اس کی متورم آنکھوں اور دہکتے ہوئے رخساروں کو دیکھتی رہیں اور پھر ڈھیلے قدموں سے باہر چلی گئیں۔

وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے خاموشی سے چھت کے ساکت پنکھے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ ندرت چند ثانےے چپ رہی اور پھر اس کے قریب جاتے ہوئے دھیرے سے بولی۔

’’بے شک تم بڑی مشکل سے قبول صورت ہو اور تمہارے لےے کوئی ڈھنگ کا رشتہ آنے کی دور دور تک کوئی امید نہیں۔ پھر بھی تم اتنی دلبرداشتہ نہ ہو۔ کیا معلوم کسی معقول قسم کے نوجوان کی عقل پر پردہ پڑ جائے اور وہ تمہیں قبول کرلے۔ امید پر دنیا قائم ہے۔ میں نہیں سمجھتی کہ رفعت کے ساتھ تمہاری جوڑی مناسب ہے۔ یہ تم دونوں پر ظلم ہوگا۔ اب یہ فیصلہ کرنا خاصا مشکل ہے کون زیادہ مظلوم ہوگا اور کون کم۔‘‘

رانیہ کے ہونٹ کپکپائے اور آنکھیں شفاف پانی سے بھرنے لگیں۔ وہ آگے بڑھ کر ندرت کے گلے لگ گئی۔ شانے پر ندرت کی قمیص بھیگنے لگی۔ وہ اس کے لرزیدہ وجود کو تشفی بھری تھپکیاں دے رہی تھی۔

بڑی دیر بعد رانیہ بھیگی آواز میں بولی۔

’’مجبوری ہے۔ تم جیسی مٹیالے کلر کی معمولی شکل والی لڑکی کے گلے لگ کر رونا پڑ رہا ہے۔‘‘

’’دودھ گرانا ہی تھا تو اس گھڑ موہنی آپا شبینہ پر کیوں نہ گرایا۔ ابلا ہوا دودھ اس پر انڈیل کرآتیں تو کوئی بات بھی تھی۔ تم نے اپنے پیر جلا ڈالے۔ پہلے ہی حسن کا اتنا کال تھا اوپر سے پیروں پر بھی داغ پڑ گئے۔ اب تو تمہاری بد صورتی میں چار چاند لگ گئے ہیں۔‘‘

ندرت بھی رو رہی تھی۔ پھر اس نے دھیرے سے رانیہ کے کان میں سرگوشی کی۔

’’صائم کہہ رہا تھا اسے ہماری طرف بھیجو۔‘‘ اس نے ندرت کے شانے پر رکھا سر اٹھا کر اسے سرخ آنکھوں سے دیکھا اور اسے دھکا دے کر پرے ہٹایا۔

’’تم کیا مجھ سے جونک کی طرح چمٹ ہی گئی ہو۔ مجھے اور بھی بہت سے کام ہیں۔ ابا نے افطاری میں سویوں کی فرمائش کی تھی۔ تم جیسے حرام خور اس گھر میں بستے ہیں اس لےے یہ کام صرف میرا فرض ہے۔‘‘

ندرت چند لمحے چپ رہی تھی۔ پھر وہ بیڈ پر دھم سے گرتے ہوئے بولی۔

’’ہو آئو صالحہ آنٹی بھی دیوار کے اوپر سے لٹک لٹک کر بے حال ہوچکی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کسی دن ان کا اوپری جسم اس طرف آگرے گا اور نچلا دھڑ اَدھر رہ جائے گا۔ چلو میں تمہارے بال بنا دوں۔ ایسا ہیئر اسٹائل بنائوں گی کہ دیکھنے والوں کی چیخیں نکل جائیں گی۔‘‘

رانیہ نے دوپٹے کے پلُو سے گیلا چہرہ صاف کیا اور چپ چاپ باہر نکل گئی۔

اسے ابا کے کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اماں اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگیں لیکن ان کے قریب پہنچنے سے قبل وہ دروازہ پار کر چکی تھی۔

اماں نے حسرت بھری نگاہ نارنجی پھولوں والی سبز بیل سے ڈھکی دیوار پر ڈالی ان کی عینک کے شیشوںپر ان دیکھی گرد کے ذرات چمٹ گئے۔ وہ پلُو سے رگڑ کر دھندلے شیشوں کو شفاف بنانے کی کوشش کرنے لگیں۔

کچھ یر بعد رانیہ اور ابا اکٹھے ہی باہر آئے۔ ابا ایڑیاں اٹھا اٹھا کر چل رہے تھے۔ ان کی چھاتی فوجی جوانوں کی طرح ابھر آئی تھی اور وہ رانیہ کے سر پر بار بار شفقت بھرا ہاتھ پھیر رہے تھے۔

کسی سے کچھ کہے سنے بنا انہوں نے رفعت زیاد کے گھر فون کھڑکا دیا۔ ’’ہم لوگ آرہے ہیں افطاری آپ کی طرف ہی کریں گے۔‘‘

ریسیور رکھتے ہی وہ اماں سے مخاطب ہوئے۔ ’’چلو تیار ہوجائو لڑکا دیکھ آئیں۔ رمضان کے مبارک دن ہیں۔ اللہ برکت ڈالے گا۔ ہماری بیٹی کی زندگی میں خوش بختی آئے گی ان شائ اللہ۔‘‘

اماں چارپائی سے اٹھنے لگیں تو ان کے گھٹنے میں بل آگیا۔ خاصی دیر کرانے کے بعد کسی ایسے سوٹ کی تلاش شروع ہوئی جو متوقع سمدھیانے میں پہن کر جانے کے لائق ہو اور ایسا سوٹ اسی بڑی پیٹی کی تہہ میں پڑا تھا جس پر چار ٹرنک، دو اٹیچی اور ایک لمبا چوڑا سوٹ کیس رکھا ہوا تھا۔ سوٹ کی تلاش کا معرکہ سر ہوا تو میچنگ چادر ڈھونڈنے کا مسئلہ سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ گھر کے کس کونے کھدرے میں روپوش ہے۔

ابا کے صبر کا پیمانہ چھلک رہا تھا لیکن اماں ڈھنگ سے تیار ہوئے بغیر کیسے جاسکتی تھیں ان لوگوں پر کیسا برا امپریشن پڑتا۔

’’اے میری وہ عنابی کڑھائی والی کریم چادر تو ڈھونڈ کے لائو کہیں سے۔ وہی میچ کرتی تھی ان کپڑوں کے ساتھ۔ رنگ برنگی ٹاکیاں جوڑ کر جاتی میں بھلی لگوں گی؟‘‘

یہ بظاہر ناممکن کام ابا نے کر دیا۔ بڑے والے سوٹ کیس میں سب کپڑوں سے اوپر دھری تھی پھر خدا معلوم باقی لوگوں میں سے کسی کی نظر اس پر کیوں نہ پڑی۔ چادر اوڑھنے کے بعد اماں کا دھیان چہرے کی خشک جلد کی جانب مبذول ہوگیا۔

’’کیسی پھٹکیاں کھڑی پڑی ہیں سارے منہ پر جیسے کیکر کی چھال ہو۔ اے انیقہ ذرا مجھے کولڈ کریم کی شیشی تو پکڑا۔‘‘

شیشی اماں کو پکڑاتے ہوئے انیقہ کے ہاتھ میں لرزش اتر آئی اور ملائم سفید کریم فرش پر کانچ کے ننھے ننھے ٹکڑوں کے ساتھ بکھر گئی۔

’’کم بخت اتنی مہنگی کریم کی نئی شیشی غارت کر دی۔ ہاتھ ٹوٹیں تیرے۔‘‘

رانیہ نے یہ مسئلہ حل کر دیا۔ اس نے لوشن کی بوتل لا کر اماں کے ہاتھ میں تھمادی۔ یہ بوتل نرم پلاسٹک سے بنی تھی۔ گر بھی جاتی تو ٹوٹنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ اماں نے رانیہ کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور ابا کی نظر بچا کر ایک زور دار دھموکا کمر میں جڑ دیا۔

جب ساری تیاری مکمل ہوگئی اور ابا دہلیز پار کرنے لگے تو اماں ٹھٹکیں اور ماتھے پر ہاتھ مار کر بولیں۔

’’لو میں تو بھول ہی گئی تھی۔ بڑا ہی اچھا پروگرام آنا تھا افطاری سے پہلے۔ میں وہ نہیں چھوڑ سکتی۔ پورے ہفتے میں صرف ایک ہی بار آتا ہے وہ۔‘‘ ابا گردن موڑ کر دھاڑے۔

’’کیا بکواس ہے یہ ۔ تقریباً سب ہی پروگرام ہفتے میں ایک بار نشر ہوتے ہیں۔ باہر نکلو فوراً۔‘‘

اماں نے برا سا منہ بنایا لیکن آگے بڑھنے کے بجائے واپس پلٹ کر دیوار کے قریب چلی گئیں۔

ابا نے لاکھ گھوریاں ڈالیں۔ ہاتھوں کے اشاروں سے دھمکایا مگر وہ آواز دینے سے باز نہ آئیں۔

’’اے صالحہ! ذرا ادھر تو آ۔‘‘ انہوں نے دیوار کے اوپر سے منہ نکال کر لمبی سی آواز دی۔

’’کیسی ہیں آپا؟‘‘

’’تمہیں کتنی بار کہا ہے مجھے آپا نہ کہا کرو۔ اب ایسی ننھی بھی نہیں ہو تم۔‘‘

وہ ہنس پڑیں۔ ’’اچھا رانیہ کو تو بھیجیں ہماری طرف۔ میں تو اس کی صورت کو ترس گئی ہوں۔ نہ جانے کہاں چھپی بیٹھی رہتی ہے۔‘‘

اماں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔

’’رانیہ کے لےے رشتہ دیکھنے چلے ہیں شاہ عالمی تک۔ میں نے سوچا تمہیں بھی ساتھ لیتی چلوں۔ فارغ ہو تو ذرا چلی چلو ساتھ۔‘‘

صالحہ آنٹی کا چہرہ متغیر ہوگیا۔ کچھ دیر وہ بالکل خاموش رہیں۔ پھر ابا سے مخاطب ہو کر بولیں۔

’’بھائی صاحب ایک بڑا اچھا لڑکا ہے اسد کی نظر میں۔ مجھ سے ذکر کیا تھا انہوں نے پھر وہ ساہیوال چلے گئے تو بات بیچ میں رہ گئی۔ ان کی بہن کے سسرال میں فوتگی ہوئی ہے ابھی ابھی ان کا فون آیا ہے کہ وہ چند روز اور وہیں ٹھہریں گے۔ ہوسکتا ہے زیادہ دن بھی لگ جائیں میری نند شدید علیل ہوگئی ہےں۔ بے اولاد ہیں بے چاری، میاں شوگر کے مریض ہیں۔ کوئی دیکھ بھال کرنے والا نہیں۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اسد کی واپسی تک انتظار کرلیں۔‘‘

اماں نے ابا کی طرف سے کسی جواب کا انتظار نہ کیا اور سر سے چادر نوچ کر پھینک دی۔

’’میری تو کمر دکھنے لگی ہے۔ آندرت! مجھے دبادے ذرا۔‘‘ ابا سے نظر ملائے بنا وہ کراہ کر چارپائی پر ڈھیر ہوگئیں۔

٭٭٭

’’چھچھ۔۔۔ چھی ی ی ی ۔۔۔‘‘

اس نے کچن کی کھڑکی میں سے باہر دیکھا تو صائم دیوار پر سے جھانک رہا تھا۔ شیو بڑھی ہوئی، بال بے ترتیب، چہرے کی رنگت کملائی ہوئی۔ دونوں گھروں میں لان کی لائٹس آن تھیں۔ وہ زرد اور نڈھال نظر آتا تھا۔ وہ یوں بن گئی جیسے دیکھا ہی نہ ہو اور سر جھکا کر تیزی سے برتن دھونے لگی۔

’’رانیہ۔۔۔!‘‘

وہ خاموش رہی۔

’’رانیہ مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔ یاد ہے پہلے روزے کی سحری میں نے تمہیں تیار کر کے دی تھی۔ آج مجھ پر یہ ہی مصیبت آن پڑی ہے۔ خدا کے لےے میری مدد کرو۔‘‘

اس نے آہستگی سے جھکا ہوا سر اٹھایا۔ ’’احسان کا بدلہ مانگنا تو کمینگی ہے۔‘‘

’’یہ اچھی رہی۔ تم مجھے کمینہ کہہ رہی ہو میں تمہاری طرف آرہا ہوں۔ دروازے کی طرف سے آئوں یا دیوار پھلانگ کر۔۔۔‘‘

’’اماں جاگ رہی ہیں۔‘‘ اس کا سر ایک بار پھر جھک گیا۔

’’تو تم ہماری طرف آئو۔ ہم مل کر سحری بنا لیتے ہیں۔‘‘

اس کی طرف سے جواب ندارد تھا۔

وہ شاکی لہجے میں بولا۔ ’’پرسوں رات مجھے سخت بخار رہا۔ تم پوچھنے بھی نہیں آئیں۔ یہ ناراضگی کب تک چلے گی؟‘‘

’’میں ناراض نہیں ہوں۔‘‘ اس نے توے کے نیچے آگ جلائی۔

’’تو پھر یہ سب کیا ہے۔ تم ہماری طرف کیوں نہیں آتیں۔ تمہیں ایک نظر دیکھنے کے لےے میں کتنے دنوں سے ترس رہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں یہ سب تم میرے اور شبی۔۔۔‘‘

رانیہ نے تیزی سے اس کی بات کاٹ دی۔

’’میرا اس وقت مذاق کاموڈ بالکل نہیں ہورہا۔ تم چلے جائو اب۔ باتوں کی آواز سن کر کوئی اس طرف آنکلا تو اچھا نہیں ہوگا۔ شبی چاند رات کو آجائے گی تو میں ملنے آئوں گی۔ تم اطمینان رکھو۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز کانپ گئی، گلا آنسوئوں سے رندھ گیا تھا۔

’’آج باجی شبینہ نہیں کہوگی رانیہ!‘‘

’’ہاں باجی شبینہ۔‘‘ اس نے مسکرانے کی کوشش کی لیکن توے پر جلتے گھی کا کڑوا دھواں اس کی آنکھوںمیں گھس گیا۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا تھا۔ کچھ دیر صائم چپ چاپ کھڑا رہا کسی سائے کی طرح، پھر وہ آہستگی سے بولا۔

’’تم لوگوں پر میری سالگرہ کے تحفے ادھار ہیں۔ وہ کب دو گے مجھے۔ میرا اتنا خرچہ کروایا اور حاصل وصول کچھ بھی نہیں۔‘‘

’’اب جائو صائم!‘‘ وہ نم آواز میں بدقُت اتنا کہہ سکی۔

’’تحفوں کا نام سنتے ہی جان جانے لگی ہے۔ ظاہر ہے تم جیسے لیچڑوں کو پیسہ۔۔۔‘‘ بات ادھوری چھوڑ کر وہ چپ ہوگیا جیسے لفظ ختم ہوگئے ہوں۔

’’رانیہ ایک بار میری طرف دیکھو۔ صرف ایک بار۔۔۔‘‘ اس کی بوجھل آواز میں التجا تھی۔

’’میں تمہاری آنکھوں کو ایک نظر دیکھنا چاہتا ہوں۔ دیکھو ادھر صرف ایک نظر۔‘‘

اس کی جھکی ہوئی پلکیں گالوں سے چپک گئیں۔ پھر وہ خاموشی سے رخ پھر کر فریج کی طرف بڑھ گئی تھی۔

صائم کی طرف سے خاموشی چھا گئی تھی شاید وہ جا چکا تھا۔ اس نے مڑ کر دھندلی آنکھوں سے اس مقام کو دیکھا جہاں کچھ دیر پہلے وہ موجود تھا۔ اب وہاں کوئی نہیں تھا وہ پراٹھے بنانے لگی۔ بار بار ہاتھ جلتے توے پر جا لگتا اور وہ سی کر کے انگلیاں منہ میں دبالیتی۔

اچانک دیوار کی اوٹ میں گٹار کے تار جھنجھنانے لگے۔ صائم کی آواز ہوا کے جھونکے پر سوار اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

ہم سے رہو گے کیا ہمیشہ خفا

معاف کر دو جاناں

مان تو لی ہے ہم نے اپنی خطا

معاف کر دو جاناں

دیکھو یہ غصہ چھوڑو

اب تم یہ قصہ چھوڑو

ہم ہیں شرمندہ غلطی ہوگی نہ آئندہ

وہ اس کی آواز سے دامن چھڑانے کے لےے زور زور سے برتن پٹخنے لگی تھی۔

مان بھی جائو سنو تم کو قسم ہے

کیسی یہ ضد ہے کیسا ستم ہے

ملتے ہو جو کہیں، دیکھتے بھی نہیں

ایسا بھی روٹھنا کیا بھلا

دیکھو تو اک نظر تم ذرا

جو تم پہ مرتا ہے اس کا ہے اب حال کیا

اس نے فریج کھول کر دہی والا ڈونگا نکالا اور دروازے کو ایک دھماکے سے بند کرکے ڈونگا کائونٹر پر پٹخا۔

گٹار کے تار مسلسل بول رہے تھے۔ صائم کی آواز اس کے کانوں میں گھستی جارہی تھی۔

ایسے نکالو نہیں تم ہمیں دل سے

چاہنے والے ملتے ہیں مشکل سے

سوچو ذرا مہرباں پائو گے ہم سا کہاں

چھوڑو بھی تم یہ ناراضگی

آئو بھی کر لیں ہم دوستی

اب جانے بھی دو ہ جو بھی ہوا سو ہوا

دیکھو یہ غصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آواز کا گلا کسی نے گھونٹ دیا تھا۔ اماں جانے کس لمحے دیوار کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ رانیہ کو ان کے آنے کی بالکل خبر نہ ہوسکی تھی۔

’’واہ میاں اللہ توبہ کرنے کا وقت اور تم گا ، بجا رہے ہو۔ خدا تم لونڈوں کو ہدایت دے۔‘‘ اماں کی پاٹ دارآواز پر وہ چونک کر متوجہ ہوئی۔

’’آنٹی! میں۔۔۔ میں تو وقت گزاری کے لےے۔۔۔‘‘ اس سے کوئی مناسب جواب بن نہ پایا تھا۔

’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے کرو وقت گزاریاں۔۔۔ پر کم از کم روزوں میں تو پرہیز کرو ان باتوں سے۔ میں بھی صرف آٹھ بجے والا ڈرامہ دیکھتی ہوں۔ آج کل مجال ہے کسی اور پروگرام کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھوں۔‘‘

ظاہر ہے رمضان میں زیادہ تر پروگرام مذہبی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

’’اے ویسے تم گا تو ٹھیک رہے تھے پر وہ بات نہیں بنی جو اصل گانے میں تھی۔ سونو نگم نے تو یوں گایا ہے اس گیت کو جیسے دھاگے میں کلیاں پرو کر کسی نے مالا بنا دی ہو۔ تم مشق کیا کرو شاید کچھ بہتر ہوجائے آواز۔‘‘

اماں اسے مفید مشورے سے نواز کر دیوار سے دور ہوئیں اور رانیہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر دھیرے دھیرے سر ہلانے لگیں۔

٭٭٭

ان کی فائنل Presentation عید کے بعد تھی۔ وہ ٹرانسپرنسز تیار کروانے کے لےے انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ والی بک شاپ تک گئیں۔ رفعت پہلے سے وہاں موجود تھا۔ انہیں دیکھتے ہی وہ سیدھا ان کی طرف آگیا۔

’’رانیہ۔۔۔!‘‘ اس کے لہجے میں عجیب تحکمانہ پن تھا۔ اس نے مس کہنے کا تکلف بھی نہیں کیا تھا۔ ندرت کی پیشانی شکن آلود ہوگئی تاہم رانیہ بے تاثر چہرہ لےے اسے دیکھتی رہی تھی۔

’’تمہارے ابا آئے تھے ہماری طرف۔‘‘ چکی کا پاٹ گھومنے لگا۔

’’انہوں نے باقی گھر والوں کو پھر کسی موقع پر لانے کا کہا تھا ۔ خیر ایک طرح سے بات طے ہوچکی ہے۔ اب تم میری۔۔۔‘‘

اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ کر اعتماد سے اس کے چہرے پر نظریں جمادیں۔ آج اس کے اطوار بدلے ہوئے تھے۔ لہجے میں لڑکھڑاہٹ تھی نہ ہی جھولتے ہوئے بالوں والا سر ہچکولے کھارہا تھا۔

اس انکشاف پر وہ دونوں حیرت سے ایک دوجے کا منہ تکنے لگیں۔ ابا نے کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی تھی اور بالا ہی بالا رشتے طے کرتے پھر رہے تھے۔

’’میں چاہتا ہوں اب تم انسٹی ٹیوٹ کو خیر باد کہہ دو۔ میری امی کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان کی ہونے والی بہو گھر داری سنبھالنے والی لڑکی ہو۔ آزادانہ گھومنے والی لڑکیوں سے وہ سخت چڑتی ہیں۔‘‘

ندرت نے رانیہ کے پہلو میں کہنی مار کر اسے کچھ بولنے کے لےے کہا لیکن وہ خالی خالی نظروں سے شفاف شیشے کے پیچھے سجی کتابوں کو دیکھتی رہی۔

’’ایک آخری بات رانیہ! اب میں تمہیں کبھی اس گرے سوزوکی والے کے ساتھ گھومتے ہوئے نہ دیکھوں۔‘‘ اس کے انداز میں تنبیہہ تھی۔

ندرت کا ضبط جواب دے چکا تھا۔ وہ خود کو بولنے سے نہ روک سکی۔

’’وہ گرے سوزوکی والا اس کا منگیتر ہے۔ اب ٹھنڈ پڑ گئی تمہارے سینے میں۔‘‘ رانیہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے باز رکھنا چاہا لیکن وہ اپنے آپے میں نہیں تھی۔

’’تمہیں جرأت کیسے ہوئی اس طرح سر بازار ہمیں مخاطب کرنے کی۔ تمہاری اتنی باتیں سننے کے باوجود تمہارا منہ نہیں نوچا میں نے۔ اسی کو غنیمت سمجھو اور دفع ہوجائو۔‘‘

وہ کچھ بولنے کے لےے لب کھول رہا تھا لیکن ندرت نے اسے موقع نہیں دیا۔

’’دوبارہ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ماما جی تمہارے گھر آئے تھے۔ اس بات کی کوئی حیثیت نہیں جس روز وہ تمہاری طرف سے لوٹے تھے اسی شام رانیہ کی منگنی ہوئی ہے۔ بس یا کچھ اور بھی سننا چاہتے ہو تم۔‘‘

رانیہ خاموشی سے کھڑی انگلیاں ہونٹوں میں دبائے ناخن چبا رہی تھی۔

رفعت کا چہرہ لحظہ بہ لحظہ تاریک تر ہوتا جارہا تھا۔

’’ہونہہ پابندیاں لگانے والوں کی صورتیں تو دیکھو۔‘‘ اس کے جانے کے بعد دیر تک ندرت بڑبڑاتی رہی۔

’’اب وہ لوگ ابا سے پوچھیں گے تو پھر جانتی ہو کیا ہوگا۔‘‘ رانیہ کی بات سن کروہ چونکی۔ ایک لمحے کے لےے اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمودار ہوئے مگر اگلے پل چمک کر بولی۔

’’میں کہہ دوں گی وہ نشے میں تھا۔ بازار میں ہمیں گالیاں دینے لگا۔ میرے مکر سے تو تم اچھی طرح واقف ہو۔ میں نے کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔‘‘

٭٭٭

’’چاند نظر آگیا، چاند نظر آگیا‘‘ کی صدائیں چاروں اور سے بلند ہو کر سرد ہوا کے دوش پر لہرا رہی تھیں وہ تنہا تھی۔۔۔ اونی شال کو شانوں کے گرد سختی سے لپیٹے چھت کے ایک گوشے میں سمٹی بیٹھی تھی۔ کیکر کے سارے زرد پھول جھڑ چکے تھے۔ اس کی ڈالیاں کٹی ہوئی بانہوں کی طرف جھول رہی تھیں۔ ہوا میں خنکی تھی اور اس پر خفیف سی کپکپی طاری تھی۔

نیچے لان میں وہ گٹار بجا رہا تھا۔

’’کیا شبی لوٹ آئی ہے؟‘‘ اس نے اچک کر نیچے جھانکنا چاہا لیکن پھر بے جان ہو کر بیٹھ گئی۔ دھن اداس تھی۔ وہ ملن کی شوخ اور پرمسرت دھن کیوں نہیں بجا رہا تھا؟ اس سوال کا جواب اس کے پاس نہیں تھا۔ وہ جواب جاننا بھی نہیں چاہتی تھی۔ سیڑھیوں پر قدموں کی دھمک سن کر وہ اور بھی سمٹ گئی اور سر کے گرد بازو لپیٹ کر چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا۔ وہ کسی کی نظروں میں آنا نہیں چاہتی تھی۔ اس سمے اس کے دل میں صرف اتنی خواہش تھی کہ چاند رات پلک جھپکنے میں بیت جائے، صبح کا دن بنا کوئی آہٹ کےے گزر جائے اور وہ یہیں چھپ کر بیٹھی رہے۔ کوئی اسے یہاں سے اٹھنے پر مجبور نہ کرے۔

اماں ندرت اور آنٹی صالحہ قریب پہنچیں تو وہ نم آنکھوں کو جلدی سے پونچھ کر کھڑی ہوگئی۔

’’السلام علیکم آنٹی!‘‘

’’عید کا چاند تو اب نظر آیا ہے۔‘‘ آنٹی صالحہ نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر پیشانی چوم لی۔

’’چلو بازار جارہے ہیں سب چوڑیاں خریدنے۔‘‘

اس نے آہستگی سے نفی میں سر ہلایا۔ ’’میرے پاس پچھلی عید کی ڈھیروں چوڑیاں پڑی ہیں ان میں سے پہن لوں گی۔‘‘

اماں نے آگے بڑھ کر اس کے کان میں سرگوشی کی۔ ’’میں اتنے جوتے ماروں گی تجھے کہ ایک بال بھی باقی نہ بچے گا۔ شرافت سے اتر نیچے۔ صالحہ کے سامنے بے عزت ہو کر اچھی رہے گی۔‘‘

’’آپ کیا پٹیاں پڑھانے لگیں رانیہ کو؟‘‘ انہوں نے اماں کو بازو سے تھام کر پیچھے ہٹالیا۔

’’میری بیٹی میری بات نہیں ٹالے گی۔‘‘

وہ ان کے ساتھ خاموشی سے سیڑھیاں اتر آئی۔

ندرت کو دانیال بائیک پر لے جارہا تھا۔ وہ ، انیقہ، آنٹی صالحہ گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھ گئیں۔ ڈرائیونگ سیٹ پر وہ براجمان تھا۔ بازار تک کا سفر خاموشی سے کٹا، کبھی کبھار آنٹی صالحہ کوئی بات کہہ دیتیں تو گاڑی کی اونگھتی ہوئی فضا میں لہر سی اٹھتی۔ جو ہوں، جی ہاں، اچھا کے بعد پھرسکوت کی چادر اوڑھ لیتی۔

بازار میں وہ سب سے پیچھے چل رہی تھی۔ اس نے ایک لمحے کے لےے نظر اٹھا کر خود سے کچھ فاصلے پر سر جھکائے سست روی سے قدم اٹھاتے صائم کو دیکھا۔ جگمگاتی روشنیوں میں نہایا اس کا وجود مضمحل نظر آتا تھا۔

ملگجا حلیہ اور بال بکھرے ہوئے، اس کی سرخ و سپید رنگت میں زردی کی ہلکی سی آمیزش تھی اور چال میں اکتاہٹ۔

’’ان سات دنوں میں کتنا بدل گیا ہے۔ آج سب ٹھیک ہوجائے گا۔ شبی آجائے گی تو کچھ بھی غلط نہیں رہے گا۔ نہ اداسی، نہ بے ترتیبی، نہ اکتاہٹ نہ اضمحلال کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔‘‘

اس نے تلخی سے سوچتے ہوئے حلق میں نمک کا کھارا ذائقہ محسوس کیا۔ رنگینیاں دھندلانے لگیں۔ سجی ہوئی دوکانوں کے جلتے بجھتے نیون سائن پگھل کر ٹیڑھ میڑھے ہونے لگے۔ چمکتے حروف پھسل کر بدہیئت ہوگئے۔ بھنبھناتی ہوئی آوازوں کا شور اس کے کان کی لو سے چمٹ کر پھنکارنے لگا۔ خوشی سے دمکتے چہرے، رنگین ملبوسات، کیوٹکس لگے چمکیلے ناخن، چوڑیوں سے آراستہ بل کھاتی ہوئی بانہیں مسکراتے ہونٹوں پر جمی لپ اسٹک کا شوخ رنگ۔۔۔ رنگ اس کی آنکھوں میں کرچیاں بن کر چبھنے لگے۔ بار بار آنکھیں خشک کرنے کے لےے ہاتھ اوپر لے جاتے ہوئے وہ یوں ظاہر کرتی جیسے ماتھے پر جھولتی لٹ ہٹا رہی ہو۔

یک لحظہ وہ چونک گئی۔ اس کے پہلو میں چلتے ہوئے صائم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ یوں بھرے بازار میں ہاتھ تھامنے پر اس نے بری طرح گھبرا کر دائیں بائیں مضطرب نگاہوں سے دیکھا۔ چوڑیوں کے ایک اسٹال پر دانیال ندرت کی بانہوں میں چوڑیاں پہنا رہا تھا۔ وہ دونوں مسلسل ہنس رہے تھے۔ آنٹی صالحہ اور انیقہ خدا جانے کدھر تھیں۔ صائم اسے بازو سے پکڑ کر ایک نسبتاً کم رونق والے قطعے میں لے آیا۔ اس نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا۔

’’تم نے مہندی نہیں لگائی؟‘‘ اس کی ہتھیلی اپنے سامنے پھیلاتے ہوئے اس نے مدھم آواز میں پوچھا۔

اس نے آہستگی سے ہاتھ چھڑالیا۔ ’’صرف یہ پوچھنے کے لےے تم مجھے یہاں لائے ہو۔‘‘

’’نہیں کچھ بتانا بھی ہے تمہیں۔‘‘

وہ خاموش رہی۔

’’شبی نہیں آرہی۔ اس نے فون پر اطلاع دی ہے۔‘‘

رانیہ نے اپنے اندر کوئی ہلچل محسوس نہیں کی۔ پھر اس نے صائم کے ملول چہرے کو ایک نظر دیکھا تھا۔

’’تم اداس ہو؟‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ چند لمحے خاموشی سے دبے پائوں گزر گئے۔

’’وہ کہتی ہے تم رانیہ سے محبت کرتے ہو۔‘‘

’’تم نے اس کی غلط فہمی دور کرنے کی کوشش نہیں کی؟‘‘

’’یہی تو مسئلہ ہے۔‘‘ وہ ایک لمحے کے لےے رکا۔ ’’وہ سچ کہتی ہے۔‘‘

اس نے بھیگی پلکیں اٹھا کر ایک جلتی نگاہ اس کی اجلی پیشانی پر کروٹیں لیتے سیاہ بالوں اور گہری بھوری آنکھوں پر ڈالی۔

’’یہ مذاق ہے تو نہایت بھونڈا ہے۔‘‘

’’میں نے شبی سے کبھی بھی محبت نہیں کی۔ وہ صرف میری۔۔۔‘‘

اس نے صائم کی بات کاٹ دی۔

’’میں نے تم سے کوئی وضاحت طلب نہیں کی۔‘‘

’’لیکن میں تو وضاحت دینا چاہتا ہوں۔ اب اگر تم نے مجھے ٹوکا تو میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہو گی۔‘‘

رانیہ نے حیرت سے اس کے بدلے ہوئے لہجے کو سنا۔

’’میں چوک میں کھڑا ہو کر اعلان کردوں گا کہ تم پھندے لگا کر معصوم چڑیوں کا شکار کرتی ہو اور سینما میں ننھے بچوں کو کچل کرگزر جاتی ہو۔‘‘ وہ بہت سنجیدہ لگ رہا تھا۔

’’اور یہ بھی کہ تمہیں ایک ہی دن میں کم از کم دس بار مائی کہہ کر پکارا گیا۔ کیا تم ان سب باتوں کے لےے تیار ہو۔‘‘

نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہنسی آگئی۔ اس نے ٹھوڑی سینے سے لگا کر مسکراہٹ پوشیدہ رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن صائم دیکھ چکا تھا۔

’’شبی وہیں سے نیو یارک واپس چلی جائے گی۔ میرے اور اس کے درمیان کچھ نہیں تھا ۔ کم از کم میں تو اس بارے میں قسم اٹھا سکتا ہوں۔‘‘

’’جھوٹی قسمیں اٹھانے سے قہر ٹوٹ پڑتا ہے۔‘‘ وہ خشمگیں آواز میں بولی۔

’’شبی کے دل میں اگر کوئی ایسی بات تھی بھی تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ میں تو صرف تمہیں چاہتا ہوں اور تمہیں ہی چاہتا رہوں گا۔‘‘

اس نے بے یقینی سے اس کے تاثرات کو کھوجا۔

’’وہ سب کیا تھا؟‘‘

’’وہ کچھ بھی نہیں تھا۔ شبی کے ساتھ نفسیاتی مسئلہ ہے۔ وہ نامکمل توجہ سے مطمئن نہیں ہوتی۔ جب تک اسے یقین نہ دلایا جائے کہ آپ دل و دماغ کی ہم آہنگی سے اس سے۔۔۔‘‘

’’محبت کرتے ہیں۔‘‘ رانیہ نے فقرہ مکمل کیا۔

’’بکواس نہ کرو۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے میں نے کتنے کٹھن دن گزارے ہیں اس کے ساتھ، ایک ایسے شخص کے ساتھ رہنا جو مسلسل آپ کی توجہ چاہے اور ایک لمحے کی بھول چوک بھی معاف نہ کرے، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ میں نے ستائیسویں کی رات مسجد میں جا کر صدقِ دل سے گڑگڑا کر دعا مانگی تھی کہ وہ واپس نہ آئے اور خدا نے میری سن لی۔ میری عید برباد ہونے سے محفوظ ہوگئی۔‘‘

جلتے بجھتے نیون سائن اپنی اصل حالت میں واپس آچکے تھے۔ آوازوں کی کرختگی مفقود ہوچکی تھی۔ رنگ آنکھوں کو بھلے لگ رہے تھے۔

’’یعنی تم اس کے ساتھ منافقت کرتے رہے۔ شرم نہیں آتی تمہیں۔‘‘

وہ دھیرے سے مسکرایا۔ ’’منافقت نہیں۔۔۔ ہمدردی اور آخر میری کزن ہے وہ۔۔۔‘‘

’’بہن کہتے ہوئے زبان جلتی ہے۔‘‘ اس نے تڑخ کر کہا۔

’’میری تو کوئی بہن نہیں ہے۔ والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں میں۔‘‘

’’اس روز سحری کے وقت تم نے کنگ سائز مینڈکوں کو بھی بات دی۔ تمہاری خوش گلوئی کے نتیجے میں اب تک کانوںکے پردے لرز رہے ہیں۔‘‘

’’آئو گاڑی میں چل کر بیٹھیں یہاں بہت لوگ ہیں۔‘‘ اس نے بازو پھیلا کر اس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں لے لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔

’’میں نے شبی کے لےے ایک تحفہ خریدا تھا۔‘‘ اس کے لہجے میں شرارت تھی۔

’’چلو اب وہ تمہیں دے دیتا ہوں۔ اس طرح پیسے بھی بچ جائیں گے اور ویسے بھی وہ تحفہ شبی کے شایانِ شان نہیں تھا۔‘‘

وہ ہونٹ بھینچ کر اس کی مسکراہٹ میں الجھی رہی۔

اس نے ڈیش بورڈ سے ایک سرخ مخملی ڈبیا نکالی اور جھلملاتا نیکلس اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا۔

’’یہ تو صرف میری صراحی دار گردن میں ہی جچ سکتا ہے۔ باجی شبینہ پہن لیتیں تو قربانی کا جانور نظر آتیں۔‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کر ڈبیا لینا چاہی تو صائم نے ایک جھٹکے سے ڈھکن بند کر کے بازو سمیٹ لیا۔

’’پہلے وہ سارے تحفے میرے حوالے کرو، جس کا وعدہ تم لوگوں نے کیا تھا۔‘‘

’’میں نے کب کوئی وعدہ کیا تھا۔ وہ تو دانیال کے منہ سے بات پھسل گئی تھی غلطی سے۔‘‘

’’اچھا ایک بات تو بتائو۔‘‘ وہ اسے جانچتی نظروں سے دیکھ کر بولا۔

’’شبی کی تصویریں اور اس کے کارڈ تم نے پھاڑے تھے؟‘‘

وہ صاف مکر گئی۔ ’’ہرگز نہیں مجھے کیا پڑی ہے باجی شبینہ کی تصویریں پھاڑنے کی میں نے تو۔۔۔‘‘ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔

’’وہ فون تو تم لوگوں نے کیا تھا۔ میں ابو کے بیڈ روم ایکسٹینشن سے سن رہا تھا۔ خاصا دلچسپ تھا۔‘‘

رانیہ نے مچل کر پہلو بدلا۔ ’’ہمیں کیا ضرورت ہے ایسا گھٹیا فون کرنے۔۔۔‘‘ اس نے زبان دانتوں تلے دبائی لیکن دبائو ذرا ہلکا رکھا۔ زبان کٹ جاتی تو اتنی حسین دوشیزہ تتلاتی اچھی لگتی کیا۔

’’تمہیں کیسے معلوم وہ فون گھٹیا تھا۔‘‘

’’اچھا چھوڑو بھی۔‘‘ اس نے زور سے ہاتھ جھٹکے۔ ’’مجھے چوڑیاں تو پہنادو اس بدذات ندرت نے کندھوں تک بازو پھر لےے ہیں۔‘‘

’’چلتے ہیں اتنی جلدی بھی کیا ہے۔‘‘ وہ کھسک کر قدرے قریب ہوگیا تو رانیہ نے گھبرا کر اسے دیکھا اس کی آنکھوں میں جو کچھ اسے نظر آیا تھا وہ حواس مختل کرنے کے لےے کافی تھا۔ وہ سمٹ کر کھڑکی سے لگ گئی۔

’’ابو آج رات پہنچ رہے ہیں۔ کل عید کے دن امی ابو تمہاری طرف آئیں گے انہیں چڑی پکوڑے بنا کر کھلانا۔۔۔ بہت متاثر ہوں گے۔‘‘

’’اونہہ! یہ کوئی آسان ڈش نہیں ہے۔ چڑیاں پکڑنا بڑا جان جوکھم کا کام ہے۔ بڑی مکار اور۔۔۔‘‘ وہ سٹپٹا کر خاموش ہوگئی۔ صائم نے اس کا ہاتھ گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کی بوجھل سانسوں سے گاڑی کی فضا بھیگنے لگی۔

’’مجھے چوڑیاں تو پہنا دو۔ خدا سمجھے تمہیں۔۔۔ بے حیائی ہے یہ۔‘‘ وہ رو دینے کو تھی۔

اس کی ہتھیلی پر جھکتے ہوئے صائم نے بہت آہستگی سے کہا۔

’’پہلے تمہارے ہاتھ پر مہندی تو لگادوں۔‘‘

٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں