تانیہ تو جب سے ’’خاور ولا‘‘ آئی تھی مسلسل تجربے اور تجزےے کی زد میں تھی۔ بقول سلیم کوثر کے یہاں منظر سے پس منظر تک حیرانی ہی حیرانی دیکھنے کو مل رہی تھی اسے، نہ یہاں کا ماحول سمجھ میں آتا تھا اور نہ یہاں کے مکینوں کے مزاج پلے پڑتا تھا۔ عجیب پراسرار سی فضا تھی اور عجب کترائے، اکھڑے اجنبی رسمی رویُوں والے مکیں۔
’’یا خدا! کہاں پھنس گئی ہوں میں۔‘‘ ایف ایس سی پری میڈیکل کر کے آگے میڈیکل میں اپلائی کر دیا اور خوش قسمتی سے اس کا لاہور میں فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں ایڈمیشن ہوگیا۔ مسئلہ رہائش کا تھا لاہور میں اس کے ڈیڈی کے دور کی جان پہچان کی ایک عزیزہ ساجدہ بیگم رہتی تھیں۔ پھر سوئے اتفاق کہ ساجدہ بیگم کی بہو شیریں کے میکے والوں کی تانیہ کی امی سے بڑی اچھی سلام دعا تھی لہٰذا انہوں نے خوش دلی سے اپنے ہاں ٹھہرانے پر اصرار کیا۔ کالج کے ہاسٹل میں فی الحال دو ماہ سے قبل رہائش کے لےے کوئی کمرا خالی نہ تھا سو اس وقت تک کے لےے ا س کی رہائش گاہ ’’خاور ولا‘‘ قرار پائی تھی۔ یہاں آکر شروع شروع میں تو خوب گھبرائی۔ نئی جگہ، نئی درس گاہ، نیا ماحول مگر پھر دو ہفتوں میں سیٹ ہوگئی۔ کالج میں ہم مزاج دوستیں بھی مل گئیں اور اساتذہ سے بھی جھجک اور اجنبیت دور ہوتی گئی۔ البتہ ’’خاور ولا‘‘ میں وہ جتنا وقت گزارتی وہ قدرے بے سکونی اور بے چینی ہی میں کٹتا تھا۔ یہ بات نہیں تھی کہ انفرادی طور پر ان کا رویہ اس کے ساتھ اچھا نہیں تھا، ہر شخص نے اپنی جگہ خوب آئو بھگت کی تھی اسے ذاتی طور پر کوئی تکلیف یا پرابلم نہیں تھی۔
جو چیز اس کے اعصاب پر کوڑے کی طرح برستی تھی وہ اہل خانہ کے سرد مہر انداز، خشک اور پرتکلف رسمی روےے اور ایک دوسرے سے بدگمانی اور کدورت کے جذبات تھے۔ ہر شخص اپنی جگہ ایک دوسرے سے بدگمان اور شاکی نظر آتا تھا اور اس بدگمانی اور تنفر کا اصل منبع یا دوسرے لفظوں میں وجہ تنازعہ اس گھر کے سربراہ خاور مغل کا سرد سنگین اور سپاٹ رویہ تھا۔ ایک نظر دیکھنے میں بڑے گریس فل اور بردبار لگتے تھے مگر ان کے چہرے سے برستا رعب، دبدبہ، سختی اور تندی ان کی شخصیت کو مقابل کے لےے بڑی ہیبت ناک، پرجلال اور درشت مزاج بنا دیتی تھی۔ ان کی آنکھوں کا سرد مہر، روکھا برفیلا تاثر جیسے رگوں میں دوڑتا خون منجمد کردینے کا باعث بن جاتا تھا۔
ان کے اس سخت گیر اور چٹان صفت مزاج کی بدولت اماں جی (ساجدہ بیگم) تک اپنا اصل مدعا و منتہا پیش کرتے وقت گھبرا جایا کرتی تھیں۔ حالانکہ بظاہر وہ کہتے کسی کو بھی کچھ نہیں تھے۔نہ چیخ چلُا کر برہم مزاجی کا اظہار کرنے کی عادت تھی وہ ٹھیک ٹھاک کم گو تھے مقابل کو بے اوسان کرنے کے لےے ان کا دھیما مگر دو ٹوک حتمی سرد و سپاٹ لہجہ ہی کافی ہوتا تھا۔ جس کے آگے اماں جی کی بھی نہیں چلتی تھی۔
’’گورنس کدھر ہے؟ بے بی نیند سے جاگ گئی ہے۔‘‘ چھ ماہ کی زینی کاٹ میں پڑی ہاتھ پائوں مارتی ہوئی رونے کی تیاریوں میں تھی۔ خاور ڈریسنگ ٹیبل کے آگے سوٹڈ بوٹڈ ہو کر تیار کھڑے اپنا جائزہ لیتے ہوئے برش کر رہے تھے۔ اماں کو کھلے دروازے سے اندر داخل ہونے پر استفسار اور اطلاع کا کام انجام دیا۔
’’ادھر کاشی کا یونیفارم بدلوارہی تھی۔ آتی ہی ہوگی۔‘‘ اماں جی کاٹ کی طرف بڑھیں۔
’’اس کی ماں کہاں چلی گئی، پرائی عورت پر چھوڑے ہوئے ہیں بچے۔ اتنی ننھی سی جان کو یوں بلکتا چھوڑ کر جانے والی مائوں کے کلیجے جانے پتھر کے ہوتے ہوں گے۔ ہم سے تو ایسی سنگ دلی کا مظاہرہ نہیں ہوتا۔‘‘ وہ زینی کو گود میں لے کر تھپک رہی تھیں، ساتھ ساتھ با آواز بلند بڑبڑاہٹ بھی جاری تھی۔
’’جیسے اولاد نہ ہوئی کھلونا ہوگیا۔ فرصت ملی تو گلے سے لگا کر چوم چاٹ کر دو منٹ کو اپنا دل بہلا لیا ورنہ پنگھوڑے میں پھینک کر سج سنور کر بازاروں، ہوٹلوں کی سیر کو نکل لےے۔‘‘ اماں جی صاف انہیں سنا رہی تھیں۔
جواب میں خاور نے ٹھٹک کر مڑتے ہوئے بے حد سلگتی نگاہوں سے ماں کو دیکھا تھا۔
’’بحیثیت انسان ہر فرد کو اپنی مرضی سے آزادی سے جینے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ آپ کی بہو کوئی دنیا سے انوکھا کام تو نہیں کر رہی۔‘‘
ان کے اکل کھرے انداز پر ماں جی نے بے حد برا مان کر ان کی شکل دیکھی۔
’’آزادی کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ بندہ گھر بار کو چولہے میں جھونک دے۔ بھلا بتائو سارا سارا دن گھر سے باہر گزار دینا، اولاد کو کسی غیر کے بھروسے پر چھوڑ جانا گھر میں آئے گئے سے ملنے ملانے کے اوقات میں گھر سے غائب رہنا کسی عورت کو زیب دیتا ہے کیا اس طرح گھر چلا کرتے ہیں؟‘‘ وہ بگڑ رہی تھی۔
’’وہ جس ماحول اور جس گھر سے آئی ہیں وہاں ایسے ہی چلتا ہے اس میں ان کا کیا دوش۔‘‘ ان پر مطلق اثر نہ ہوا تھا۔
اماں جی بل کھا کر رہ گئیں۔ ’’چڑیل نے کیسے میاں کو اپنے حسن کے جال میں پھانسا ہوا ہے کہ دو لفظ نہیں سن سکتا اس کے خلاف۔‘‘
’’مگر شادی کے بعد عورت کو نئے ماحول کے مطابق اپنے شوہر کے لےے خود کو بدلنا پڑتا ہے۔‘‘
جواب میں ایک استہزائیہ مسکراہٹ خاور مغل کے ہونٹوں کو چھو گئی۔
’’ہر پیکر میں لچک نہیں ہوا کرتی اماں جی! یوں بھی شادی سے پہلے اسی روپ میں آپ لوگوں نے انہیں پسند کیا تھا یا انہیں پہلے بتا دیتیں کہ شادی کے بعد تمہیں اس پیکر میں ڈھلنا ہوگا اب تو کچھ نہیں ہوسکتا نا۔‘‘
اماں جی زچ ہو کر اِدھر اَدھر دیکھنے لگیں۔
’’خیر سے گئیں کہاں ہیں؟‘‘ انہوں نے موضوع ہی بدل ڈالا۔
’’ظاہر ہے حسب سابق ویمن کلب کی کسی تقریب میں۔‘‘
’’ایک تو ان بیگم صاحبہ کے سوشل ورک، اور پارٹیاں ڈنر ہی کبھی ختم ہونے کو نہیں آتے۔‘‘ وہ پھر پٹڑی بدلنے لگیں۔ ’’آئیں گی کب ملکہ عالیہ۔‘‘
وہ خود پر کنٹرول کے باوجود طنزیہ لب و لہجہ ترک نہیں کر سکتی تھیں۔
’’ڈنر کے بعد۔‘‘ انہوں نے اطمینان سے تیار ہو کر اپنا الوداعی جائزہ لیا اور پرفیوم اسپرے کرنے لگے۔ ادھر اماں جی کلس کر رہ گئیں۔
’’ان کی واپسی تو آدھی رات کو ہوگی اور اِدھر جو فریال کو دیکھنے کے لےے شام میں کچھ لوگ آرہے ہیں ان سے بات وات کون کرے گا؟ دیکھ لو اب ذرا بہو صاحبہ کی نافرمانیاں۔
حالانکہ کل سے بتا رکھا ہے بلقیس نے کہ کل فریال کے سلسلے میں کچھ لوگ آرہے ہیں، ان کے ہاں کی خواتین بھی بہو اور اس کے میکے والوں کی طرح گٹ پٹ گٹ پٹ انگریزیاں بولتی ہیں۔ بلقیس نے کہا بھابھی اور خاور ہوں گے تو ان کو آرام سے سنبھال لیں گی۔ ان پر بھی رعب رہے گا کہ ہم بھی کچھ کم نہیں۔ اب بتائو اپنے للو پچو کاموں کے لےے تو ان کے پاس فرصت ضرور ہے اور گھر کی اہم ذمہ داری میں ہاتھ بٹانے کا کوئی خیال نہیں۔‘‘
’’مجھے ایک بہت ضروری بزنس ڈیلنگ کرنی ہے۔ میں تو ادھر جارہا ہوں۔ بشیر میرا بریف کیس گاڑی میں رکھ دو، دیکھو صمد نے گاڑی اچھی طرح صاف کی ہے یا نہیں۔‘‘ اماں جی جل کر کوئلہ ہی تو ہوگئیں۔
’’دونوں میاں بیوی کو اپنے اپنے کاموں کی پڑی ہے اور ادھر بیوہ معذور بہن کی بیٹی کے مستقبل کی کچھ پروا نہیں، ماں کی تکلیف کا کچھ احساس نہیں، شاباش بچے۔‘‘
مگر ادھر کچھ خاص اثر نہیں ہورہا تھا ان کے واویلے کا مدت ہوئی ایسی باتوں پر انہوں نے سیریس ہونا چھوڑ دیا تھا۔
’’رشتے جوڑنے بنانے کے کام میں آپ سے زیادہ مہارت کس کو ہوگی۔ یہ محاذ آپ لوگ خود ہی بخوبی سنبھال لیجےے گا مجھے تو ویسے بھی ایسے کاموں کا سینس نہیں۔‘‘
ان کے بے گانہ سے روکھے پھیکے انداز پر ایک لمحے کو لائونج میں ریموٹ کنٹرول کے بٹن دباتی تانیہ ششدر سی ہو کر رہ گئی تھی۔ ان کے جانے کے بعد اماں جی جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے کے لےے تانیہ کے پاس آبیٹھیں۔
’’جانے کون سی پٹیاں پڑھاتی رہتی ہے۔ اپنے حسن سے میرے بیٹے کو اپنے قابو میں کر لیا ہے کہاں اتنا فرماں بردار، اتنا خیال رکھنے والا ہوا کرتا تھا، یہ حیثیت رہ گئی ہے ماںکی، دوسروں کی بھی تو بہوئیں ہیں راج کراتی ہیں سسرال کو، اور فالتو میں رعب بھی سہتی ہیں۔ میں نے تو اتنی نرمی اتنی محبت، اتنے لاڈ پیار سے رکھا ہوا ہے۔ اتنے تو اس کے نخرے ہیں، اپنے میکے کی امارت اور تعلیم کا ہم پر کیا احسان ہے۔ ہوں گے امیر وہ اپنی جگہ ہم کیا کسی سے کم ہیں۔ جب ہماری ہی خوشی غمی میں شریک نہیں تو ہمیں اس کی صورت اور امارت کا چاٹناہے؟ میرے خاور پر تو جیسے سحر پھونک دیا ہے اس خوب صورت چڑیل نے۔‘‘
شام کو فریال کو دیکھنے کے لےے آنے والے مہمانوں کے ساتھ کیا ڈیلنگ ہوئی س کا تو تانیہ کو پتا نہ چل سکا کیونکہ وہ کالج چلی گئی تھی البتہ رات کھانے پر شہرین کے ماتھے کی تیوریاں، بلقیس آپا اور اماں جی کے پھولے پھولے چہرے دیکھ کر خاصی حد تک اندازہ ہوگیا کہ بہرحال کوئی گرما گرمی ضرور ہوئی ہے یا پھر متوقع ہے۔
’’یہ مجھ بد نصیب کی تقدیر تھی کہ خاوند حادثے میں چل بسا اور میں ٹانگیں کٹوا بیٹھی۔ چھ ننھی جانوں کی ذمہ داری میرے میکے پر آپڑی مجھے تو بڑا مان تھا بڑا آسرا تھا کہ بھائی میرے بچوں کو پھولوں کی طرح رکھے گا۔ مجھ کم بخت کو کیا خبر تھی بیوی کے آجانے کے بعد بھائی کی نظر بدل جائے گی۔ اب اس جوگی بھی نہیں ہوں کہ محنت مزدوری کر کے ہی بچوں کا پیٹ پال سکوں۔ پڑی ہوں بھائی کے در پر لاوارثوں کی طرح، بچوں کا آگا پیچھا کون دیکھے گا۔ ان بدنصیبوں کا کون والی وارث ہوگا۔ سوچا تھا اب یہ فکریں بھائی بانٹ لے گا۔ اللہ نے پیسہ بھی کھلا دے رکھا ہے۔ بادشاہوں کے محل جتنا گھر ہے جگہ مل ہی جائے گی مگر جب دل ہی تنگ پڑجائیں تو محلوں کو کیا کرنا۔‘‘
بلقیس آپا بڑی دل سوزی سے بغیر کسی کو مخاطب کےے کہہ رہی تھیں۔ جواب میں خاور مغل کی فراغ پیشانی پر بل پڑتے تانیہ نے صاف دیکھ لےے تھے۔ شہرین تو ناک بھوں چڑھا کر نہایت بے نیازی کے عالم میں دوبارہ اپنی پلیٹ پر جھک گئی تھی۔
’’میرے حساب سے آپ لوگوں کویہاں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہےے۔آپ کے نام سے آپ کے ذاتی اکائونٹ میں ہر ماہ ایک کثیر رقم جمع کرواتا ہوں اس کے علاوہ آپ کے ہر بچے کا جیب خرچ باقاعدگی سے ہر ماہ انہیں مل جاتا ہے، آپ کے بچے شہر کے بہترین انگلش میڈیم اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے جوتے، کپڑے دیگر ضروریات کے لےے علیحدہ سے رقم مختص کر کے اماں جی کے حوالے کرتا ہوں اس کے علاوہ ضرورت پڑنے پر آپ میرے سیکریٹری مختار اعوان صاحب سے کسی بھی وقت جتنی چاہیں رقم نکلوا سکتی ہیں۔ گھر میں آپ سمیت آپ کے ہر بچے کے لےے علیحدہ بیڈ روم ہے، آپ کی آسانی کے لےے آپ لوگوں کا پورشن باقی گھر سے الگ بنایا ہوا ہے، آپ کی خدمت کے لےے چوبیس گھنٹے ملازم موجود رہتے ہیں گھرمیں اس کے علاوہ بھی آپ لوگوں کی چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پھر بھی آپ لوگوں کو شکوہ ہے تو میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں۔‘‘
ان کے مدلُل دو ٹوک، حتمی انداز پر اماں جی بمعہ بلقیس آپا جزبز سی ہو کر رہ گئیں۔
’’بیٹے یہ صحیح ہے تم نے ہر طرح سے بیوہ معذور بہن اور بوڑھی ماں کے آرام کا خیال رکھا ہوا ہے مگر بچے روپے پیسے اور عیش و آرام کے علاوہ بھی بندے کی ہزار ضروریات ہوتی ہیں۔ ہم لوگ ترستے رہ جاتے ہیں کہ تم دو گھڑی کو ہمارے پاس بیٹھو مل کے ہم اپنے دکھ سکھ کی باتیں کریں۔ ہنسیں بولیں۔ بہو نے تو خیر قسم کھائی ہوئی ہے دکھ سکھ میں شریک نہ ہونے کی۔ مگر تم تو ہمارے اپنے ہو، ہمیں تو یوں لگتا ہے تم ہمارے درمیان رہتے ہوئے بھی ہمارے نہیں ہو۔‘‘
جواب میں خاور مغل نے یکے بعد دیگرے بہن اور ماں پر گہری نظر ڈالی اس چپ چپ سی نگاہ میں عجب تمسخر، طنز اور آرزدگی تھی۔
’’اس دور میں سب سے بڑی ضرورت جسمانی تسکین ہی ہے، پیسہ ہے تو اس سے من پسند کھانے کھائے جاسکتے ہیں۔ رقم ہاتھ میں ہے تو پورا بازار خریدا جا سکتا ہے۔ جیب گرم ہے تو بادشاہوں جیسا محل تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ سب کچھ مایا ہی ہوتی ہے۔ آپ کے پاس پیسہ موجود ہے اس سے جو جی چاہے خریدیں۔‘‘
’’مگر انسان کا نعم البدل پیسہ نہیں ہوا کرتا۔‘‘ اماں جی کو دلی رنج پہنچا تھا بیٹے کے جذبات سے عاری انداز پر۔
’’اچھا۔۔۔‘‘ ان کی نظریں جیسے ماں کی نظروں میں پیوست ہو کر رہ گئی تھیں۔
’’یہ سب پرانے زمانے کے خیالات ہیں اماں جی! انسان چاہے تو پیسے کے بل پر انسان کو بھی خرید سکتا ہے۔‘‘
’’اس کے جذبات، اس کے دل کو تو نہیں خرید سکتا ہے نا۔‘‘ تانیہ کہنا چاہ رہی تھی مگر صورت حال کو دیکھتے ہوئے دل میں ہی دبا کر رہ گئی اپنا خیال۔ یوں بھی وہ خاور مغل سے براہ راست کبھی مخاطب نہیں ہوئی تھی اور سچی بات تو یہ تھی نہ ہی اس کی اتنی ہمت پڑتی تھی۔
’’بہو اگر تم تھوڑا سا وقت نکال کر آجاتیں، مہمانوں سے مل لیتیں تو کیا حرج تھا۔‘‘
اماں جی اپنی مالدار، طرح دار، بے پناہ حسین بہو کو سیدھا سیدھا آڑے ہاتھوں تو نہیں لے سکتی تھیں۔ اسی لےے دبے دبے انداز میں اپنی خفگی جتا رہی تھیں۔
’’میںنے کوشش کی تھی آنٹی، مگر ٹائم نہیں ملا۔‘‘ وہ بظاہر نہایت رسانیت سے کہہ کر اٹھ گئی تھی۔ پھر رات کو تانیہ کے ساتھ باہر واک کرتے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔
’’ہاںمیں کروں نا ان کی خاطر داریاں، پاس داریاں ، جیسے مجھے تو پھولوں کی سیج پر بٹھایا ہوا ہے۔ جادوگرنی نے میرے شوہر کو قبضے میں کر رکھا ہے۔ اسے میرا ہونے ہی نہیں دیا۔ جب پھل کھانے ہی اپنے نصیب میں نہیں ہیں تو پتُوں کی دیکھ بھال کر لینے سے کیا حاصل۔‘‘
’’کیا مطلب بھابھی۔‘‘ وہ ہونق سی شہرین کو دیکھنے لگی۔ ’’کیا خاور بھائی آپ کے ساتھ اچھے نہیں ہیں؟ ساجدہ آنٹی کا کہنا تو یہ ہے کہ آپ کی کشش نے خاور بھائی کے مزاج بدل دےے ہیں۔‘‘ تانیہ کو خاصا تعجب تھا۔
’’ہونہہ، بڑھیا کے دماغ میں تو خناس بھرا ہے۔‘‘ شہرین چٹخ چٹخ گئی تھی۔
’’میاں میرا ہے اور ناز نخرے ماں بہن کے اٹھاتا ہے۔ ارے مجھے تو ایک ایسی ساعت نصیب نہیں ہوئی ان پانچ سالوں میں جس میں دل کو یہ یقین ہوا ہو کہ خاور صرف اور صرف میرے ہیں۔ میرے تو وہ بنے ہی نہیں کبھی۔ جانے فطری جذبے کیسے قریب لے آئے جو کاشی اور زینی کی صورت میں میرے سَونے آنگن میں دو پھول کھل گئے، ورنہ اس پتھر صفت بے حس انسان کے قرب میں شاید ساری عمر کے لےے پیاسی بیٹھی رہتی۔‘‘
تانیہ جیسے سنُاٹے میں آگئی۔ شہرین کے چہرے پر بولتی نارسائی، تشنگی اور حسرت پکار پکار کر اس کے بیان کی تصدیق کر رہی تھی۔
’’تو بھابھی! آپ خود کو بدل کر دیکھ لیں۔ ہوسکتا ہے آپ کا موجودہ روپ ان کی پسندیدگی کے معیار پر پورا نہ اترتا ہو۔ میرے پڑوس میں ایک آنٹی رہا کرتی ہیں۔ ہیں تو بالکل ینگ مگر میں انہیں شروع سے آنٹی ہی کہتی رہی ہوں۔ نمو آنٹی۔ وہ کہا کرتی ہیں تعلقات استوار کرنے کی پہلی سیڑھی Sharing and caring behavior (دوسروں کا خیال رکھنا) ہوا کرتا ہے۔ آپ ان کو کھولیں ان کے دل کی بات انہیں زبان پر لانے کا موقع دیں پھر اس کے مطابق ان کے مطلوبہ روپ میں ڈھل جائیں۔‘‘
شہرین نے ملول سے انداز میں اس کے گلابی رخسار تھپکے۔
’’ارے تانیہ ڈیئر! تم نہیں جانتیں خاور مغل کا دل ایک ایسا بند قلعہ ہے جس میں داخل ہونے کے لےے کوئی راستہ نہیں ہے، کوئی دراڑ نہیں ہے جہاں سے اندر داخل ہوا جا سکے۔ اس کٹھور شخص کا دل جیتنا ناممکن ہے، میں ان پانچ سالوں میں ہر حربہ اپنا چکی ہوں۔‘‘
’’ہوسکتا ہے وہ کسی سے۔۔۔‘‘ تانیہ نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ کر شہرین کی طرف دیکھا۔
وہ مضمحل سے انداز میں مسکرادی۔
’’ایسا بھی کچھ نہیں ہے، میں الف تا ےے اس کی ہسٹری پڑھ چکی ہوں، کھنگال چکی ہوں۔ اس نے ساری زندگی نہ کوئی دوست بنایا نہ رازدار، بزنس اور صرف بزنس اہم ہے اس کے لےے۔ ہر شے سے بڑھ کر۔ میں نے اکثر اوقات خفیہ طریقے سے اس کی باہر کی سرگرمیوں پر نظر رکھی ہے۔ اس کی کالز اس کے آفس کا ماحول ہر شے چیک کر ڈالی مگر کوئی سرا ہاتھ نہیں آیا بھلا بتائو جس شخص نے ساری عمر کسی مرد سے بھی دوستی نہ کی ہو وہ عورت سے کیا تعلق رکھے گا۔ حتیٰ کہ امریکہ جیسے آزاد خیال ملک میں دو سال گزارنے کے باوجود اس کے سرد پتھر جیسے دل کو جذبات کی آنچ نہیں پگھلا سکی۔ اب تو میں ہر طرف سے مایوس ہوچکی ہوں تانیہ۔‘‘
تانیہ الجھ سی گئی تھی۔ خاور مغل کی شخصیت اسے اول روز سے بڑی پراسرار اور پرت دار سی لگتی تھی۔ یوں جیسے پرانے طرز کی بنی ہوئی کوئی خوب صورت سی آسیب زدہ حویلی ہو۔ جسے دور سے دیکھ کرجسم و جان میں پھریری سی دوڑ جاتی ہو۔ وہ ان سے اچھا خاصا خائف رہتی تھی اور اب تو مزید ہراساں سی ہوگئی تھی۔
٭٭٭
’’ارے کہاں نکل رہی ہو تم؟‘‘ صائمہ اور راضیہ دونوں جڑواں تھیں اور میٹرک کے پیپرز دے کر ابھی فارغ ہوئی تھیں، خصوصی اہتمام سے تیار ہو کر بشیر کو گاڑی نکالنے کا کہہ رہی تھیں۔ جب ساجدہ بیگم نے پیچھے سے کڑک دار آواز میں استفسار کیا۔ ان کی آنکھوں میں ناگواری اور غصہ تھا۔
’’یونہی نانی جان، ذرا آئوٹنگ پہ جارہے ہیں۔۔۔‘‘ صائمہ نے بوتیک کا ڈیزائن کردہ نئے نویلے پیور کاٹن کے جدید کڑھائی والے سبز سوٹ کے کلف زدہ اکڑے ہوئے دوپٹے کو ایک سائیڈ پر کرتے ہوئے بڑے لاپروا سے انداز میں جواب دیا۔
’’کون سی آئوٹنگ ہوتی ہے اس وقت؟ شام سر پر ہے اور جوان جہان لڑکیاں اکیلی نکل رہی ہیں بن سنور کر۔ چلو بیٹھو گھر آرام سے۔‘‘
’’ارے چھوڑےے بھی نانی جان، کیا دقیانوسی باتیں کرتی ہیں۔‘‘ راضیہ نے اپنے بوب کٹ بالوں کو مرر میں دیکھنے کے بعد نانی کے کندھوں کو ہلکا سا چھوا، اور پھر بڑھ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ساجدہ بیگم تلملا کر انہیں جاتا دیکھتی رہیں۔
’’دیکھ لو، کس قدر خود سر ہے یہ اولاد تمہاری نہ شرم نہ حیا، دیدوں کا پانی ہی ڈھل گیا ہے۔ ایک وہ لڑکا ہے اطہر سارا سارا دن بائیک اڑاتا رہتا ہے۔ خبر جو ہے ماموں کے پاس تجوریاں بھری ہوئی ہیں۔ مفت کا پیسہ ہے سو برباد کر رہے ہیں۔ بڑی فریال ہی کو دیکھ لو۔ نوکری کی تو شور مچا دیا کہ مجھ سے صبح شام ٹیکسیوں ویگنوں پہ دھکے نہیںکھائے جاتے اور ماموں سے فرمائش کر کے نئی سوزوکی کار لے لی۔ اب صبح سے نکل پڑتی ہے اور شام گئے سارا پیٹرول پھونک کرنوابوں کی طرح ٹھاٹھ سے گھر واپس آتی ہے نہ کوئی پوچھنے والا نہ بولنے والا۔‘‘
’’روک ٹوک اور پوچھ گچھ تو گھر کے مرد ہی تو کیا کرتے ہیں۔یہاں ماموں کے پا س ٹائم نہیں ہے۔ شتر بے مار نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوں گے میں معذور مجھ سے کون ڈرے۔ ماموں نے کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ سو بگڑیں گے نہیں تو اور کیا ہوگا۔‘‘ بلقیس آپا، ماں کے واویلے پر سارا دوش بھائی کو دے رہی تھیں۔
’’اس کے پاس تو ایک ہی جواب ہوتا ہے، روپے پیسے کی، کھانے پینے کی عیش آرام کی تنگی ہے تو مجھ سے کہیں، باقی باتوں کے لےے میں ذمہ دار نہیں ہوں۔‘‘
’’جانے وہ ایسا کیوں ہوگیا ہے، وہ تو بڑے لحاظ والا بڑے احساس والا ہوا کرتا تھا۔‘‘ بلقیس کو بھائی کے رویُوں پر سخت ملال تھا۔
تانیہ ، بائیو کی ڈایا گرام بناتے ہوئے چپ چاپ ان کی باتیں سن رہی تھی اس کے ذہن میں ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔
٭٭٭
’’ارے جانو، چندا میری، جلدی سے چپ ہوجائو ابھی آیا آرہی ہے۔‘‘ آں آں کرتی ہاتھ پائوں مارتی زینی کو دونوں ہاتھوں پر اٹھائے وہ لان میں ٹہل رہی تھی، جب اندر سے خاور مغل نکل کر پورچ کی سمت بڑھتے نظر آئے۔
تانیہ نے ایک لحظہ کو اپنی توجہ زینی سے ہٹا کر ان کی جانب مبذول کی۔
سلور گرے تھری پیس سوٹ میں وہ نک سک سے تیار بڑی شان بے نیازی سے پَراعتماد مضبوط چال چلتے ہوئے سفید کرولا تک آئے تھے۔ برائونش بلیک گھنے بالوں کا گچھا بڑے اسٹائلش انداز میں ان کی پیشانی پر پڑا ہوا تھا۔
’’نہ جانے کتنے دل تو اسی گچھُے میں اٹک گئے ہوں گے۔‘‘ اس نے بے خیالی کے عالم میں سوچا تھا۔
اس کے قریب سے گزرتے ہوئے کچھ سوچ کر وہ رک گئے۔
’’ہیلو بے بی کیسی ہیں آپ۔۔۔؟‘‘ انہوں نے رسماً پوچھ لیا۔
’’فائن۔‘‘ وہ ان کی موجودگی میں ہمیشہ کی طرح گھبرا کر بوکھلا سی گئی تھی۔
’’اسٹڈی کیسی جارہی ہے؟‘‘ انہوں نے یونہی پوچھ لیا، بایاں ہاتھ گاڑی کا لاک کھول رہا تھا۔
’’ٹھیک ٹھاک۔‘‘ تانیہ کو جانے کیوں محسوس ہورہا تھا جیسے وہ بڑے الجھے الجھے سے ہوں۔ ان کی گہری بھوری آنکھوں میں عجیب سی سرخی چھلکتی محسوس ہورہی تھی۔ وہ اس بابت پوچھنا چاہ رہی تھی مگر اتنی ہمت کہاں سے لاتی۔
’’اینی پرابلم۔‘‘ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے انہوں نے اسی نارمل سے انداز میں اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈال کر سوال کیا اور اس کے سر نفی میں ہلا دینے پر زن سے گاڑی نکال کر لے گئے۔
وہ زین کو لوری دیتے ہوئے کتنی ہی دیر ان کے بارے میں سوچتی رہی۔ یونہی بے دھیانی کے عالم میں ان کے رویُوں کا تجزیہ کرتی رہی۔
رات کو پڑھتے پڑھتے پیاس لگی۔ اپنے فریج میں جھانکا اتفاق سے دونوں بوتلیں خالی تھیں۔ وہ گلاس اٹھائے باہر آئی۔ لائونج سے گزری تو لائٹ جلتی دیکھ کر ادھر آگئی۔
صوفے میں دھنسے، منہ میں سگریٹ دبائے بظاہر تو وہ ٹی وی کی سمت متوجہ تھے مگر ذہن جانے کن بھول بھلیوں میں گم تھا۔ جس پر قیمتی سلیپنگ گائون لپٹا ہوا تھا۔ لائونج کی فضا میں سگریٹ کی مہک کے ساتھ ساتھ ان کے مخصوص پرفیوم کی بھینی بھینی خوشبو شامل تھی۔
اس نے مڑ کر وال کلاک کی سمت دیکھا۔ ساڑھے بارہ بج رہے تھے۔ باقی پورا گھر نیند کی آغوش میں تھا۔
معاً ان کی نظر اس پر پڑی۔ وہ قدرے سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ تانیہ خجل سی ہو کر آگے بڑھ آئی کہ اب اس کے سوا کچھ چارہ نہیں تھا۔
’’آپ سوئے نہیں ابھی تک خاور بھائی۔‘‘ تھوک نگل کر ہاتھ میں پکڑے گلاس کے کناروں پر مضبوطی سے انگلیاں جماتے ہوئے اس نے انہیں مخاطب کیا، انداز میں جھجک تھی۔
’’نہیں۔۔۔‘‘ اس سے مختصراً جواب کوئی ہو بھی نہیں سکتا تھا۔ ان کی نظریں ٹی وی اسکرین پر جم گئی تھیں۔
کچن میں گئی تو پانی پینے کے بعد اپنے لےے کافی بنائی اور ساتھ میں ازراہ ہمدردی ان کے لےے بھی بنائی۔
’’تھینکس۔‘‘ بے تاثر سے اندازمیں کہہ کر انہوں نے اس کے ہاتھ سے مگ لے لیا پھر اخلاقاً سامنے والی نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
تانیہ کا ارادہ ایسا نہیں تھا مگر پھر کچھ سوچ کر احتیاط سے بیٹھ ہی گئی۔ وہ مکمل طور پر ٹی وی کی جانب متوجہ تھے۔ شاید بی بی سی لگا ہوا تھا۔ تانیہ نے ان کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔
کتنی شاندار پرسنالٹی ہے مگر آنکھوں اور چہرے پر اتنی بے گانگی کیوں ہے، ہونٹوں پر اپنائیت آمیز مسکراہٹ کے نشان کیوں نہیں ملتے۔ مجھے ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے مگر میں نے ابھی تک ان کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کی جھلک بھی نہیں دیکھی نہ ماں بہن کے لےے ، نہ بیوی بچوں کے لےے نہ کسی دوست آشنا کے لےے، کتنی بند بند سے لگتے ہیں دیکھنے میں، شہرین بھابھی ٹھیک ہی کہتی ہیں کہ یہ ایک ناقابل تسخیر قلعہ ہیں۔ لیکن پھر بھی ہیں تو انسان ہی نا، نمو آنٹی کہا کرتی ہیں اللہ نے کسی شخص کو پیدائشی برا نہیں بنایا۔ اللہ تعالیٰ کو تو اپنی ساری مخلوق سے برابر کا پیار ہے انسان کے اچھا برا ہونے میں سب سے پہلے ماں باپ کی دی گئی تربیت اس کے بعد ارد گرد کا ماحول اور پھر معاشرے کے افراد ہوا کرتے ہیں، ان کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ ہے؟ ماں خائف، بہن شاکی، بیوی مظلوم، بچے توجہ کے منتظر اور ایک یہ ہیں ہر شے بَھلا کر صرف بزنس میں گم رہتے ہیں۔
’’آپ کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے یہاں؟‘‘
وہ اپنے دھیان میں نہایت انہماک سے ان کو پڑھ رہی تھی جب دفعتاً اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا تھا۔
ایک لمحے کو تانیہ کا دل اچھل کر حلق میں آگیا، چوری پکڑے جانے کے خیال سے چہرے پر خفت کی سرخی چھا گئی۔ خاور مغل نے ایک لحظہ کو اس سترہ اٹھارہ برس کی دو شیزہ کا معصومیت اور سادگی کے رنگوں سے سجا دلکش کومل گلابی چہرہ دیکھا پھر بے تاثر انداز میں نگاہ ہٹالی کہ نظر کے اس تصادم نے تانیہ کی پیشانی عرق آلود کر دی تھی۔
’’جج۔۔۔ جی نہیں تو۔‘‘
’’ہوں۔۔۔‘‘ وہ مکمل طور پر ٹی وی کی طرف متوجہ ہوگئے، اصولاً اب اسے اٹھ جانا چاہےے تھا اس کا یہاں کوئی کام نہیں تھا۔
’’خاور بھائی! آپ مائنڈ نہ کریں تو ایک بات پوچھوں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی مگر جانے کیوں ایک قدم آگے بڑھا کر بے ساختہ رک کر پوچھ بیٹھی تھی۔
جواب میں انہوں نے صرف بھنویں اٹھا کر مستفسرانہ نظروں سے اسے دیکھا۔
وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پا کر کہنے لگی۔ ’’خاور بھائی میں نے اکثر محسوس کیا ہے جیسے آپ کو خدا نا خواستہ کسی الجھن کا سامنا ہے۔ آپ کے انداز میں بڑی بے کلی اور اضطراب سا پایا جاتا ہے۔ جس سے لگتا ہے آپ کو کوئی پریشانی ہے۔‘‘
اس کے خاموش ہونے پر خاور مغل نے چونک کر اس کے چہرے کا جائزہ لیا۔ اتنی معصوم سی، چھوٹی سی سادہ سی لڑکی محسوسات کے اعتبارسے اتنی پختہ بھی ہوسکتی ہے۔
’’نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔ آپ جا کر آرام کیجےے۔‘‘ ان کے انداز میں اتنی قطعیت تھی کہ اسے مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ دبے قدموں وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
٭٭٭
’’فاطمہ! ایک کپ چائے بنا دینا اسٹرانگ سی۔ سر میں بہت درد ہے۔ میں اپنے کمرے میں ہوں۔‘‘ وہ بعجلت کچن کے دروازے سے ہانک لگا کر بڑھ گئے تھے۔ یہ دیکھے بغیر کہ کچن میں ماسی نہیں تانیہ کھٹر پٹر کر رہی ہے۔
اپنے لےے دوپہر کا کھانا نکالتی تانیہ نے اپنا کام روک کر ان کے لےے چائے بنائی اور مدہم سی دستک دے کر ان کا جواب ملنے پر اندر چلی آئی۔
’’ارے آپ نے کیوں زحمت کی۔‘‘ وہ ٹائی ڈھیلی کےے اپنے اسی فارمل ڈریس میں ایزی چیئر پر دراز تھے۔ انداز میں بہت تھکن اور کسلمندی نمایاں تھی۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘ اس نے کپ انہیں تھما دیا۔
’’خاور بھائی! آپ اتنے تنہا اتنے آدم بے زار سے کیوں رہتے ہیں سب سے الگ تھلگ، اپنی ہی دنیا میں گم۔‘‘ آج وہ ساری ہمتیں بے دار کر کے بالآخر پوچھ ہی بیٹھی۔
’’آپ کا وہم ہے بے بی۔‘‘ اس کی بات پر وہ پہلے ٹھٹکے، پھر سر جھٹک کر سختی سے کہہ کر چائے کی سمت متوجہ ہوگئے تھے گویا مزید کچھ نہ سننے بولنے کا سگنل دے دیا ہو۔ مگر وہ جیسے طے کر کے آئی تھی۔
’’اس طرح کا رویہ تو خود آپ کے لےے بہت پرابلمز کری ایٹ کر دے گا۔ آپ بہت اکیلے ہوجائیں گے۔ نمو آنٹی کہا کرتی ہیں ہم معاشرے میں اکیلے نہیں ہوتے ہاں مگر اس وقت جب افراد سے کو آرڈینیشن میں خلل واقع ہوجائے اور کمیونیکشن گیپ پیدا ہوجائے۔‘‘
اس کے سادہ و فطری رواں لہجے پر اور سب سے بڑھ کر اس کے جملوں کے انتخاب پر وہ یکلخت بھونچکا ہو کر حقیقی معنوں میں اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔،
وہ ان کے یوں منجمد سا ہو کر گَھورنے پر اندر سے ہراساں سی ہوگئی، شاید مجھے اتنی جرأت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہےے تھا، وہ جھپاک سے باہر نکل گئی۔
’’کیا ہورہا ہے بے بی۔‘‘ اس شام وہ لان میں سبزے پر بیٹھی پڑھ رہی تھی جب وہ ادھر چلے آئے۔
’’جی۔۔۔ بس پڑھائی، آپ آئےے نا، بیٹھے پلیز۔‘‘ اور تانیہ کو حیرت اس وقت ہوئی جب وہ واقعی لان چیئر گھسیٹ کر بے تکلفی سے بیٹھ گئے۔
’’میں تو بہت بزی رہتا ہوں، دھیان نہیں دیا اس پوائنٹ پر۔ آپ کو آئوٹنگ وغیرہ کے لےے جاناہو تو ضرور بتائےے گا۔‘‘
’’خاور بھائی اگر میں یہ کہوں کہ آپ اتنا بزی رہتے نہیں ہیں جتنا کہ خود کو بزی رکھتے ہیں تو۔۔۔‘‘ اس نے ان کی دوسری بات گویا سنی ہی نہیں تھی۔
وہ اس بار بڑے زبردست انداز میں چونکے، تانیہ نے دل ہی دل میں اپنی کامیابی پر خود کو شاباشی دی۔ گویا اس کا تکُا درست نکلا تھا۔
’’آپ یہ بات کیسے کہہ سکتی ہیں۔‘‘ ان کی پیشانی پر بے شک غصے اور ناگواری کے بل پڑے ہوئے تھے مگر آنکھوں میں گردش کرتی پریشانی اور تعجب بہرحال تانیہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکا تھا۔ اس کا اندھیرے میں چلایا گیاتیر نشانے پر جا لگا تھا۔
’’نمو آنٹی کہا کرتی ہیں جب کوئی شخص زمانے سے خائف ہوتا ہے تو بے گانگی اور غصے کا خول لپیٹ کر قلعہ بند ہوجاتا ہے۔ اس قلعے کو باہر سے دیکھنے والے اسے بڑا مضبوط اور ناقابل تسخیر سمجھتے ہیں جب کہ جو بہادر اور ہمت کر کے اس کے اندر گھستا ہے وہ یہ دیکھ کر متحیر رہ جاتا ہے کہ آہنی قلعے کے اندر تو دراصل ریشم جیسی نرمی ہے۔‘‘
’’آپ اتنی چھوٹی سی ہو کر اتنی بڑی اور مشکل باتیںکیسے کر لیتی ہیں۔‘‘ وہ حقیقتاً متحیر رہ گئے تھے۔
’’اس کا کریڈٹ نمو آنٹی کو جاتا ہے، ان ہی کا کہنا ہے کہ شیئر کر لینے سے دکھ آدھا رہ جاتا ہے، آپ کے ساتھ اگر کوئی پرابلم ہے تو اسے بتا کر دل کا بوجھ ہلکا کر لیں۔ شہرین بھابھی سے شیئر کرلیں آنٹی یا آپا سے کہہ دیں وگرنہ آپ پَر پیچ سوچوں کے جال میں الجھتے چلے جائیں گے۔‘‘
اس نے بڑے خلوص سے انہیں مشورہ دیا تھا جس پر جانے انہوں نے عملدرآمد کا سوچا یا نہیں البتہ یہ ہوا کہ ان کا رویہ اس کے ساتھ بڑا اپنائیت آمیز اور کسی حد تک دوستانہ ہوتا چلا گیا۔ وہ غیر محسوس انداز میں اس کی سرگرمیوں میں، اس کے فرصت کے اوقات میں دلچسپی رکھنے لگے۔ ان کے چہرے پر چھائی سختی اور بے گانگی کا نقاب اس کی موجودگی میں غیر ارادی طور پر سرک جایا کرتا تھا۔
حیرت تو اسے اس وقت ہوتی تھی جب اس نے انہیں۔
’’تو کہ محبوب مجھے تھا مجھے معلوم ہے یہ‘‘ دھیرے دھیرے گنگناتے سنا۔ ایک ہی مصرع آنکھیں بند کےے بڑے جذب کے عالم میں وہ اپنی ہی ترتیب دی گئی دھن میں گنگنا رہے تھے اور پھر اسے حیرت اس وقت ہوئی جب ایک دن کشور ناہید کی ’’بے نام مسافت‘‘ سے ایک نظم منتخب کر کے اسے سنانے لگے۔
آگ اور برف کے درمیان پگھلے لاوے کی صورت یہ آنکھیں
جو دل کی کہی ان کہی ہوتے دیکھیں
برس لیں تو اچھا ہی ہو
نمائش کی تحریر سے، زندگی کی روایت نبھاتے بہت عمر گزری
بہت حوصلوں کی شکستوں کو پندار نے خامشی کے کفن میں لپیٹا
بس اب راستوں میں درختوں کی پرچھائیوں کا سندیسہ سمجھ لو، وہ دیوار گرتی نظر آرہی ہے
’’خاور بھائی! آپ اور شاعری۔‘‘ وہ استعجابیہ بولی تھی۔
’’تم تو یوں حیران ہورہی ہو گویا شاعری مجھ جیسے بندے کے لےے شجر ممنوعہ کی سی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘
وہ بے اختیار مسکرا دےے تھے اور اسی پل اندر داخل ہوتی شہرین گنگ سی رہ گئی۔ اس نے تو کبھی ان کے بھنچے ہوئے پتھریلے عنابی ہونٹوں کے غنچوں کو شگفتگی سے کھلتے نہیں دیکھا تھا۔
’’بھابھی! ملاحظہ کر رہی ہیں آپ اپنی نیرنگئی فطرت کے کمالات، آج خاور بھائی اپنی پسند کی شاعری سنا رہے ہیں۔‘‘ تانیہ نے خوش دلی سے شہرین کومخاطب کیا تھا۔
’’ہاں دیکھ رہی ہوں۔‘‘ شہرین کے انداز میں عجیب سا ٹھہرائو تھا، نظریں خاور مغل کے چہرے پر جمی تھیں جہاں مسکراہٹ یوں غائب ہوئی تھی جیسے کبھی آئی ہی نہ ہو۔
’’بلکہ میں تو منتظر ہوں جب یہ خود بھی شاعری کرنے لگیں گے۔ بدلتی رتوں کا کیا پتا چلتا ہے۔‘‘
شہرین کے لہجے کی تلخ اور ترش جھنکار کو تانیہ تو سمجھ نہ سکی اور خاور مغل نے سمجھ کر بھی توجہ نہ دی۔
اس دن صبح سے مسلسل بوندا باندی ہورہی تھی۔ اس نے کالج سے چھٹی کا پروگرام بنا لیا، ٹھنڈ بھی ٹھیک ٹھاک ہورہی تھی۔ شام کے اوقات میں یونہی موسم کی خبر لینے وہ ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکلی تو دھک سے رہ گئی۔
ایک کونے میں کرسی ڈالے ہلکی نیلی شرٹ اور گرے پتلون میں وہ بڑے سکون و اطمینان سے بیٹھے بھیگ رہے تھے۔ آسمان پر گہری بدلیوں کا رقص جاری تھا۔
’’خاور بھائی۔۔۔!‘‘ وہ شال اچھی طرح لپیٹ کر شیڈ کے نیچے سے ہوتی ہوئی ان کے پاس پہنچ گئی۔ اسے ان سے اس دیوانے پن کی توقع نہ تھی۔
’’ہاں آئو بھئی تانیہ! میں اس وقت تمہاری ضرورت ہی محسوس کر رہا تھا۔‘‘ وہ اتنے ایزی ہو کر بیٹھے تھے گویا اپنی خواب گاہ کے پَرسکون ماحول میں ہوں۔
’’آپ تو سارے بھیگ گئے ہیں خاور بھائی۔‘‘ تانیہ نے فکر مندی سے انہیں دیکھا۔
’’ارے یار! مزے میں ہوں۔‘‘ انہوں نے اتنی ہی بے فکری سے ہاتھ ہلایا اور اس سمے جیسے تانیہ پر بہت کچھ منکشف ہوگیا۔
’’خاور بھائی! ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’پوچھو ضرور پوچھو، لیکن اس سے پہلے میری ایک بات سن لو۔‘‘ ان کے انداز میں محسوس کی جانے والی بشاشت تھی جو آن کی آن میں ان کے مزاج پر چھا گئی تھی۔
’’جی کہےے۔‘‘ اسے خاور مغل بڑے ’’نئے‘‘ سے محسوس ہوئے۔
’’تمہارا یہ انداز تخاطب بڑا پیارا اور دلکش لگتا ہے۔‘‘ وہ بے ساختہ ہنس پڑے تھے وہ بھی ذرا سا جھینپ کر ان کی ہنسی میں شامل ہوگئی۔
’’بس عادت سی پڑ گئی ہے۔‘‘ پھر وہ اپنی بات پر آگئی، سنبھل کر مخاطب ہوئی۔
’’خاور بھائی! آپ کو کوئی دکھ ہے؟‘‘
اس کے غیر متوقع سوال پر استفہامی انداز میں اسے دیکھنے لگے۔
’’نمو آنٹی کہا کرتی ہیں جب انسان کو بہت کاری زخم لگے کوئی بڑا روگ یا دکھ جان کو چمٹ جائے تو وہ اسی طرح گرمی سردی اور زمان و مکان کے حساب سے بے خبر ہوجایا کرتا ہے۔‘‘ بڑا گہرا نکتہ نکالا تھا اس نے۔
خاور مغل نے ایک گہری سانس لی۔ بولے اب بھی کچھ نہیں۔
’’بتائیں نا خاور بھائی، کیا ایسی ہی کوئی بات ہے۔‘‘ اس نے اب کے بے دھڑک اصرار کیا تھا بہرحال ان کا خاموش انداز کچھ نہ کچھ معانی ضرور رکھتا تھا۔
’’تمہارے اس سوال کے جواب میں مجھے بے ساختہ ایک نظم یاد آرہی ہے۔ کہو تو سنادوں؟‘‘ بالآخر وہ بولے۔
’’ہاں ضرور، لیکن پہلے یہ وضاحت کر دیجےے کہ اتنی لمبی مصروف زندگی میں شاعری کا شغف کیسے ہوا؟‘‘ اسے تجسس تھا کہ آیا پہلے سے اس میدان کے شہسوار رہے ہیں یا تازہ تازہ شوق ہوا ہے۔
’’جب میں امریکہ میں ہوتا تھا وہاں فارغ اوقات میں اردو ادب سے دل بہلاتا تھا۔ اسی زمانے کی کچھ یادیں رہ گئی ہیں وگرنہ اس سے پہلے اور اس کے بعد مصروفیات کے جنگل میں ایسا بھٹکا کہ پھر رستہ ہی نہ ملا بہرحال نظم سنو۔‘‘
پوچھنے والے تجھے کیسے بتائیں آخر
دکھ عبارت تو نہیں ہے، جو تجھے لکھ کر دے دیں
یہ کہانی بھی نہیں ہے کہ سنائیں تجھ کو
نہ کوئی بات ہی ایسی کہ بتائیں تجھ کو
زخم ہو تو تیرے ناخن کے حوالے کر دیں
آئینہ بھی تو نہیں ہے کہ دکھائیں تجھ کو
یہ کوئی راز نہیں جس کو چھپائیں تو وہ راز
کبھی چہرے، کبھی آنکھوں سے چھلک جاتا ہے
جیسے آنچل کو سنبھالے کوئی اور تیز ہوا
جب بھی چلتی ہے تو شانوں سے ڈھلک جاتا ہے
اب تجھے کیسے بتائیں ہمیں کیا دکھ ہے
ان کے پرسوز دلکش لب و لہجے کے زیر و بم میں وہ خود ڈوبتا محسوس کر رہی تھی۔ نظم سنا کر وہ چپ چاپ سامنے خلا میں تکنے لگے تھے جب کہ وہ ہنوز اس کے سحر میں گم تھی۔
’’ تو آپ ادھر ہیں۔‘‘ اسی لمحے شہرین ادھر آئی تھی۔ اس کے لہجے اور چہرے پر کچھ تھا جس نے تانیہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی شرمندہ سا کر دیا۔
’’اور ادھر آپ کا موبائل کمرے میں بج بج کر تھک گیا۔‘‘ وہ خاور سے ہی مخاطب تھی۔ خاور مغل نے ایک لفظ کہے بغیر موبائل ہاتھ میں لے لیا۔
تانیہ نے جانے کی غرض سے قدم آگے بڑھائے۔ اسی لمحے انہوں نے مائوتھ پیس پر ہاتھ رکھ کر اسے پکارا۔
’’ایک منٹ تانیہ! تم یوں کرو ڈریس چینج کر کے نیچے آئو میں بھی چینج کر کے آتا ہوں۔ باہر چلتے ہیںلانگ ڈرائیو پر، واپسی پر آئس کریم کھائیں گے ٹھیک۔‘‘ وہ کہہ کر پھر فون کی سمت متوجہ ہوگئے تھے۔
’’چلےے بھابھی! آپ بھی تیار ہوجائیں۔ اکٹھے چلتے ہیں، مزا رہے گا۔‘‘ اس نے سیڑھیاں اترتی شہرین کو مخاطب کر کے پرجوش ہوتے ہوئے کہا۔
’’نہیں بھئی، دعوت تمہیں ملی ہے لانگ ڈرائیو اور آئس کریم کھانے کی، تم ہی جائو میرے ساتھ تو ایسا نادر روزگار واقعہ کبھی نہیں ہوا۔‘‘
شہرین کے کڑوے کسیلے تلخ انداز میں کیا تھا، بدگمانی، تمسخر، طنز، جلاپا، اس کے لہجے کی کاٹ نے تانیہ کو چند ساعت کے لےے گم صم کر دیا۔ بہر حال بچی تو نہیں تھی جو شہرین کے حاسدانہ تیور نہ سمجھ سکتی۔ اس کا خاور مغل کے ساتھ یوں اتنے حسین موسم میں تنہا گھومنا پھرنا یقینا بیوی ہونے کے ناتے اسے شاق ہی گزرنا چاہےے تھا۔ یہی سوچ کر تانیہ نے ٹال مٹول بھی کرنا چاہی مگر خاور مغل نے ایک نہ سنی، وہ بڑی ترنگ میں نظر آرہے تھے ڈرائیو کرتے ہوئے۔
تانیہ ان کے مزاج کے بدلتے موسموں کو سمجھنے میں جب قطعی ناکام رہی تو بالآخر ان سے الجھ بیٹھی۔
’’خاور بھائی! یہ آپ کو بیٹھے بٹھائے کیا ہوجاتا ہے آپ کے مزاج میں اتنا تنوع کیوں ہے۔ کبھی کچھ کبھی کچھ، نمو آنٹی کہا کرتی ہیں مزاج میں اس قسم کی بے ربطی اور بے ترتیبی اس صورت میں آیا کرتی ہے جب دل میں سکون نہ ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ اپنا سکون قرار کہیں لٹا بیٹھے ہیں؟‘‘
جواب میں اس نے ان کے پتھر چہرے پر دکھ کی عجیب سی دراڑیں محسو س کیں، ان کا چہرہ ایک لمحے کو پھیکا سا پڑ گیا۔
’’کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ جذبات کی شدُتوں کو چھو آئے ہیں عمر کے کسی حصے میں؟‘‘
وہ بغور انہیں دیکھ رہی تھی ’’کیونکہ نمو آنٹی کہتی ہیں شدتوں کے موسم میں بھیگنے کے بعد انسان کے مزاج میں یا تو خزاں کی زرد بے رنگی چھا جاتی ہے یا تلخیوں کی کڑواہٹ مزاج کو وحشت زدہ کر دیتی ہے۔‘‘ وہ اب کے عجیب متاسف و ملول انداز میں مسکرائے پھر گویا ہوئے۔
تمام عمر جےے اور کچھ نہ کر پائے
کسی کے ہو کے رہے اور نہ اپنا کر پائے
زمانہ اس کے حوالے سے یاد کرتا ہے
کہ جس سے اپنے ستارے نہ مل پائے
’’خاور بھائی۔۔۔‘‘ وہ ایک لمحے سنُاٹے میں رہ گئی تھی تو اس کا واہمہ درست نکلا۔ جسے شہرین ناممکن میں شمار کرتی تھی۔
تانیہ نے گہرے دکھ کے احساس سے لبریز ہو کر ان کی سمت دیکھا۔ ان کی آنکھوں کی وحشت، ان کے چہرے پر چھائی یاسیت، تشنہ کامی اور لب و لہجے کی تھکن اس بات کی شاہد تھی کہ مزاج کی یہ بے کلی یونہی بے سبب نہیں تھی۔
’’وہ کون تھی خاور بھائی؟‘‘ تانیہ کے دل میں خاور مغل کے لےے بہت سی ہمدردی جمع ہوگئی تھی۔
’’اک چراغِ منزل۔‘‘ انہوں نے تھکے تھکے انداز میں گاڑی ایک نسبتاً سنسان سڑک کے کنارے روک لی اور کھڑکی کے شیشوں سے باہر کے مناظر دیکھنے لگے۔
’’آپ کو کہاں ملی تھی؟‘‘
’’ایسے ہی برستے موسم میں پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اور اس وقت وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ دل کی مکین بن جائے گی۔
’’کلاس فیلو تھی؟‘‘ وہ بڑے سبھائو سے زخموں سے کنکر چَننے کا کام سر انجام دے رہی تھی۔
’’نہیں۔۔۔!‘‘
’’کوئی رشتہ دار۔۔۔؟‘‘
’’نہیں اس سے اس قسم کا کوئی ربط استوار نہیں تھا۔ بابا مرحوم کے کسی جاننے والے کی اکلوتی اولاد تھی۔ ماں باپ دونوں ابو ظہبی میں تھے۔ وہ ہمارے ہاں آئی تھی تعلیم مکمل کرنے کے لےے، پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے معاشیات کر رہی تھی۔ ہوسٹل میں ہی رہتی تھی۔ ہمارے ہاں ویک اینڈ پر آتی تھی۔ اس کے گارجین تھے ہم لوگ یہاں اور اس کا پورے پاکستان میں کوئی نہیں تھا۔‘‘ وہ سحر زدہ کیفیت میں اس کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔
’’کیا آپ نے پہلی نظر میں اسے پسند کر لیا تھا؟‘‘
’’نہیں، مجھے تو بہت عرصے بعد معلوم ہوا کہ اس میں کوئی شے ایسی بھی ہے جسے پسند کیا جاسکتا ہے۔ شروع شروع میں تو میں شدید خائف رہا کرتا تھا اس کے وجود سے، یہ تو جدائی نے بتایا کہ وہ میرے لےے کیا تھی۔ اس کے ساتھ رہ کر تو احساس ہی نہ ہوا تھا کہ وہ میری ضرورت بھی بن سکتی ہے۔ یوں بھی جب تک پیٹ بھر کر کھانے کو ملتا رہے، فاقے کی کیفیت سے آشنائی کیسے ہوسکتی ہے۔ جب تک اس کی ذات کا چشمہ میسر رہا میں سیراب ہوتا رہا تب تک احساس کی حدُت پاس بھی نہ بھٹکی، جب سوتے خشک ہوگئے جب خیمے اکھڑنے لگے تو احساس ہوا وہ تو چشمہ آبِ حیات تھا۔ مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔‘‘
’’کیا چیز آپ کے درمیان حائل ہوگئی تھی۔‘‘
’’میری بزدلی۔‘‘ انہوں نے بڑی فراخ دلی سے تسلیم کر لیا تھا۔
’’بزدل اور آپ۔۔۔؟‘‘ تانیہ نے ان کے لمبے چوڑے با رعب، دبنگ وجود کو دیکھتے ہوئے بے یقینی کے عالم میں کہا۔
’’ہاں، مصلحتوں کی آڑ لینے والابزدل ہی ہوا کرتا ہے۔‘‘انہوں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’کیا وہ بھی آپ کو پسند کرتی تھی اور کیا آپ نے کبھی اس سے اظہار کیا؟‘‘ اس کو تہ تک پہنچنے کی عجلت سوار تھی۔
وہ مجروح سی ہنسی ہنس دےے۔
’’ایسا کچھ ہمارے درمیان آیا ہی نہیں، تم کیا سمجھ رہی ہو، یہ روایتی عشق و محبت کی داستان ہے۔ ارے بھئی اگر ایسا ہوا ہوتا تو غم کا ہے کا تھا۔ کیوں اتنے برس ایک ہی روگ پالتا رہا اپنے اندر، بھلا نہ دیا ہوتا سب کچھ۔‘‘
’’کیا وہ بہت حسین تھی؟‘‘ اسے بڑا اشتیاق ہورہا تھا اس نادیدہ ہستی کے متعلق جاننے کا جس نے خاور مغل جیسی مضبوط چٹان کوپانی کر دیا تھا۔
’’یہی تو سارا رونا ہے بی بی۔‘‘ ان کے انداز پر وہ خاک بھی نہ سمجھی۔
’’کیا اس نے کبھی آپ سے اپنی چاہت کا اظہار کیا۔‘‘
وہ دھیرے سے ہنس دےے۔ ’’آخر ہو نا ٹین ایجر، بچکانہ رومانٹک آئیڈیاز ہی آئیں گے ذہن میں، ارے بھئی حقیقی زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوا کرتا۔ اچھا میں تمہاری تسلی کے لےے تمہیں اس کی کچھ تصویریں دکھاتا ہوں۔ میں جب امریکہ میں ہوتا تھا تو اس دوران اس نے بھیجی تھیں۔ یہ مجھے اتنی عزیز ہیں کہ ہر دم اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔‘‘
انہوں نے پچھلی سیٹ پر پڑا اپنا بریف کیس تھاما۔ لاک کھول کر اس کے ایک خفیہ خانے سے چند کاغذات نکالے اور اس کی گود میں ڈال دےے۔ تانیہ نے احتیاط سے ایک کاغذ کی تہ کھولی۔ موتیوں کی سی لکھائی میں سفید برُاق ورق کے عین وسط میں درج تھا۔
عزیزم خاور!
یہ مانتا ہوں بہت رات ہے، اندھیرا ہے
گھٹن بھی ایسی کہ جس کی کوئی مثال نہیں
مگر تم حوصلہ اور ہمتیں جواں رکھو
کہاں کہاں تیرا رب ذو الجلال نہیں
فقط ایک خیر اندیش
اس نے استعجاب کے عالم میں دوسرا ورق کھولا یہ کسی اور تاریخ کا تھا مگر اسٹائل وہی تھا۔
عزیزم خاور!
ہزار سانحے پردیس میں گزرتے ہیں
جو ہوسکے تو کبھی ہم سے رابطہ رکھنا
فقط ایک خیر اندیش
اس نے تیسرا خط کھولا
عزیزم خاور!
شاخیں رہیں تو پھول بھی پتے بھی آئیں گے
یہ دن اگر بَرے ہیں تو اچھے بھی آئیں گے
فقط ایک خیر اندیش
پھر اس نے آخری خط بھی کھولا
عزیزم خاور!
قیمت نہ لگا جذبۂ ایثار طلب کی
ہر شے کو فقط چشمِ خریدار سے مت دیکھ
میں اور کہیں صاف دکھائی نہیں دوں گا
ہٹ کر مجھے آئینۂ کردار سے مت دیکھ
فقط ایک خیر اندیش
’’یہ اس کا آخری خط تھا جو جانے سے پہلے وہ میرے بیڈ روم میں ٹیبل پر چھوڑ گئی تھی اور پھر کبھی پلٹ کر واپس نہیں آئی۔‘‘
’’وہ کون تھی خاور بھائی! ایسی انوکھی، ایسی ہمدرد، اتنے اعلا ظرف والی۔‘‘ تانیہ نے بغیر اس سے ملے ہی اس کی تحریر کی خوشبو سے اس کے مزاج کا پتا لگا لیا تھا۔
’’میں بھی آج تک ورطہ حیرت میں ہوں کہ۔
ستارۂ شام بن کے آیا برنگ موج سحر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا ہمیں تو حیران کر گیاوہ
’’اس کی ذات کا بھید پوری داستان سن کر ہی پاسکو گی۔ اسی قصہ عجائب کو سنانے کے لےے تمہیں ساتھ لایا ہوں کہ تم نے بڑے غیر محسوس انداز میں مجھے پرت در پرت کھلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس گھٹن نے تو میرے اعصاب تک کو سَن کر کے رکھ دیا ہے، میں اپنی ذات کی قید میں محصور ہو کر رہ گیا ہوں۔ ان سب لوگوں کو مصنوعی خون لگا کر زخم دکھانے کی عادت ہے اور میں نے اپنے وجود کے اندر پڑے اتنے بڑے گھائو کو بے اعتنائی اور رکھائی کے پیرہن میں چھپا رکھا ہے۔ اپنوں کے لگائے گئے زخموں کا مرہم بازار کی دکانوں پر دستیاب نہیں ہوتا۔ تمہیں پتا ہے تانیہ! یہ ٹھاٹھ باٹھ، یہ عیش و عشرت، یہ تعیش ان سے کچھ برس پہلے تک یہ سب لوگ قطعی نا آشنا تھے۔ انہوں نے خواب میں بھی ایسے آرام نہ دیکھے تھے۔ ہم بہت معمولی سی حیثیت کے مالک ہوا کرتے تھے۔ تم یقین کرو گی ہمارے پورے گھر کا خرچہ میری کل تنخواہ پانچ ہزار دو سو روپے سے چلا کرتا تھا۔‘‘
وہ انکشافات پر انکشافات کرتے چلے جارہے تھے۔
’’ایسے نہیں خاور بھائی ترتیب سے بتائے سارے واقعات۔‘‘ اس نے بیچ میں ٹوک دیا تھا۔
٭٭٭
’’میرے بابا اور اماں جی کا تعلق سرحد کے ایک پسماندہ گائوں سے تھا، دونوں کے قبیلے بھی مختلف تھے مگر شمع محبت ایک ساتھ دونوں کے دلوں میں جل اٹھی تھی۔ قبیلے کے سرداروں نے اس بندھن کو ناممکن قراردیا تو دونوں بھاگ کر پنجاب آگئے اور شادی کر لی۔ پڑھائی لکھائی کا رواج تو ان کے قبیلوں میں نہیں تھا سو دوڑ دھوپ کر کے بابا ایک فیکٹری میں ملازم ہوگئے۔ تنگی ترشی سے ہی سہی زندگی کے دن بیت گئے۔ سب سے بڑی بلقیس آپا کی شادی بابا نے اپنی زندگی میں ہی کر دی تھی۔ مجھے پڑھانے کا انہیں بہت شوق تھا۔
سو پیٹ کاٹ کر بھی انہوں نے اپنا اور میرا بھی تعلیم کا یہ شوق پورا کیا۔ مجھ سے چھوٹی نفیس کی بات بھی اپنے جیسے سفید پوش لوگوں میں طے ہوگئی۔ نفیس سے چھوٹا عمر بھی پڑھ رہا تھا۔ عمر اور بلقیس آپا کی سب سے بڑی اولاد فریال دونوں ہم عمر ہی تھے۔
میں نے ابھی ایم بی اے مکمل نہیں کیا تھا جب بابا جان کا انتقال ہوگیا۔ میں پہلے بھی ٹیوشنز کر کے اپنا خرچہ پورا کرتاتھا اب گھر کا بھی چلانے لگا۔ تقدیر کا چکر کہ کچھ عرصے بعد بلقیس آپا اور ان کے خاوند کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ان کے شوہر تو موقعہ پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور بلقیس آپا ایک ٹانگ سے معذور ہوگئیں۔ اس وقت ان کی سب سے بڑی اولاد فریال میٹرک میں تھی اور سب سے چھوٹا بیٹا دانش ابھی فقط تین سال کا تھا۔ فریال سے چھوٹا اظہر آٹھویں میں تھا پھر راضیہ اور صائمہ اور ان سے چھوٹی تانیہ پورے کنبے کا بوجھ مجھ پر آن پڑا، ایم بی اے کر کے کچھ خواری کے بعد ایک پرائیویٹ فرم میں نوکری تو مل گئی مگر گھر کا خرچا چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا تھا۔ فلیٹ کرائے کا تھا پھر بجلی، پانی، سوئی گیس کا بل، عمر کی پڑھائی کا خرچہ، آپا کے سارے بچوں کی پڑھائی اور کھانے پینے کا انتظام، نفیس کی شادی کے لےے جہیز کا مسئلہ آپا کی بیماری کا خرچہ، ہر طرف سے مسائل کے انبار نے مجھے وقت سے پہلے بہت کچھ سکھا پڑھا دیا۔ مزاج میں خود بخود کھردرا پن اور کم گوئی رچ بس گئی۔ ان ہی دنوں نیما صدیقی کی آمد کا غلغلہ اٹھا جس نے مجھے مزید تپا دیا۔
پتا چلا موصوفہ بابا جان مرحوم کی فیکٹری کے مالک کی بیٹی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے صدیق صاحب کاروبار سمیٹ کر فیملی سمیت ابو ظہبی چلے گئے تھے وہیں طویل عرصے تک رہائش رہی کبھی پاکستان آنا ہوا تو بابا جان سے ضرور ملتے۔ بابا جان ان کے بڑے وفادار اور جاں نثار قسم کے ملازم تھے۔ ان کی بیٹی کو لاہور سے ایم اے کرنا تھا۔ یہاں رہائش ہوسٹل میں قرار پائی تھی چونکہ ان کا پاکستان میں اور کوئی خاص جان پہچان اور بھروسے والا بندہ نہیں تھا۔ اس لےے انہوں نے خط لکھ کر ہمیں نامزد کیا تھا۔
میں یہ خبر سن کرجی بھر کے غصے ہوا تھا۔ البتہ ماں اور آپا کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا۔
’’کہاں ہمارا یہ تین کروں کا تنگ و تاریک فلیٹ، کہاں ان کی نازوں پلی بیٹی۔ کہاں رکھیں گے اسے۔ اماں خوامخواہ کی مصیبت کیوں مول لیں، آپ کو نہیں خبر یہ امیر کبیر شہزادیاں تو ایسی جگہوں پر حبس کا شکار ہو کر رہ جاتی ہیں۔ آپ لکھ دیجےے معذرت انہیں۔‘‘
’’لو بھلا ایسے ہی لکھ دوں۔‘‘ اماں بگڑیں۔
’’مہمان تو خدا کی رحمت ہوا کرتے ہیں، بڑے احسانات ہیں سیٹھ صاحب کے تمہارے بابا پر، بڑا بھروسہ کرتے تھے وہ، کبھی اپنے رتبے کا احساس نہیں دلایا ہمیشہ نرمی اور محبت سے پیش آئے۔‘‘
’’ہم ان کے احساناب کا بدلہ چکانے کے اہل نہیں ہیں، آپ مطلع کر دیجےے انہیں۔‘‘ میں چڑ سا گیا تھا۔
مگر ادھرکس کو پروا تھی۔ سارے گھرمیں خوش گوار سی ہلچل ہوئی تھی۔ آپا، فریال اور نفیس کے سر تھیں جن کے ذمے پورے گھر کی صفائی اور از سر نو آرائش تھی۔ سامان اِدھر سے اَدھر کرنے میں عمر اور اطہر لوگ پیش پیش تھے۔ اس کی آمد کے دن اماں جی نے خصوصی طور پر اپنے ہاتھ سے مزے مزے کی ڈشز بنائیں۔
’’اللہ کا واسطہ ہے اماں! یہ ڈھکوسلے رہنے دیں۔ ہم جب اس سے اپنی حیثیت نہیں چھپا سکتے تو خوامخواہ مصنوعی تکلف کی فضا قائم کر کے مقابلہ کرنے سے کیا حاصل۔‘‘
اماں میرے کڑوے کسیلے لہجے پر شدت سے برامان گئیں۔
’’لڑکے مجھے تو تیری کوئی کل سیدھی ہی نہیں لگتی، نا وہ کون سا تیرے کندھے پر سوا رہونے کو آرہی ہے جو مرچیں چبا رہا ہے، چند دن رہے گی پھر ہاسٹل چلی جائے گی۔ کہیں اتوارکے اتوار آیا کرے گی۔ ہم سے اس نے کیا لینا دینا۔ اچھا اب چلو جائو اس کی فلائٹ کا ٹائم ہونے والا ہے۔‘‘
’’پہلے یہاں کم مصائب تھے جو یہ بھی۔۔۔‘‘ میں بڑبڑاتا ہوا گھر کی واحد سواری سیکنڈ ہینڈ موٹر بائیک کی چابیاں تلاش کرنے لگا۔
’’اسے بائیک پر لینے جائو گے؟‘‘ اماں نے حیرت سے مجھے دیکھا تو میں بھنُا سا گیا۔‘‘ اور کیا شہزادی عالیہ کے لےے شاہی بگھی کا اہتمام کروں۔‘‘
’’ارے کیوں ناراض ہورہے ہو میں تو یہ کہہ رہی ہوں باہر چھاجوں مینہ برس رہا ہے ایسے میں بائیک پر کیسے جائو گے۔‘‘
’’اف اللہ! گویا ٹیکسی کے کرائے میں بجٹ پھر خراب ہوگا۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں کبیدہ خاطر سا ہو کر ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے چابی رکھ دی۔
ایئرپورٹ پر جب میں نے اسے دیکھا تو ایک لمحے کو بالکل بت سا بن گیا، میرے تصور کے برعکس وہ نہایت سادہ اور عام سی شکل و صورت والی تھی، اس کے سراپے میں مجموعی طور پر کشش تھی مگر انداز میں امیر زادیوں جیسی کوئی جھلک بھی نہ تھی۔
تین کمروں پر مشتمل اس چھوٹے سے، افراد سے کھچا کھچ بھرے فلیٹ میں وہ اہل خانہ کے ہمراہ یوں آرام سے پائوں پسارے بیٹھی باتیںبنا رہی تھی۔ جیسے ازل سے ہی ان ہی کے بیچ رہتی آئی ہو۔
’’اے یہ تو نہایت سیدھی اور اللہ لوک قسم کی بچی ہے۔‘‘ تیسرے دن جب وہ سامان سمیٹ کر ہاسٹل شفٹ ہوگئی تو اماں جی نے ذاتی رائے دے کر نئے موضوع کا آغاز کیا۔
’’صحیح کہتی ہیں اماں وگرنہ ہم نے و سوچا تھا اتنی پڑھی لکھی ہے امیر ماں باپ کی اکلوتی لاڈلی اولاد ہے۔ نخروں کے تو ٹوکرے ہمراہ لائے گی۔‘‘ بلقیس آپا بھی اس کی تعریف میں رطب اللسان تھیں۔
’’اتنی سادگی سے آلتی پالتی مار کر ہمارے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ کر کھا رہی تھیں جیسے ہمیشہ ایسے ہی کھاتی رہی ہوں۔‘‘ نفیس کو اس کی یہ ادا بہت بھائی تھی۔
’’بہت کم دل والے ایسے ہوتے ہیں جنہیں خدا دولت سے نوازتا ہے تو بھی وہ اپنا ظرف بلند اور دل کشادہ رکھتے ہیں۔ دیکھ تو اندازے سے ہی کتنے تحائف لے آئی یہ کہہ کر جھولی میں ڈال دےے کہ آنٹی میرا یہاں اور کون ہے، آپ لوگ ہی تو ہیں میرے اپنے،ماشائ اللہ بڑے کھلے دل کی ہے اللہ اس کے نصیب اچھے کرے۔ ورنہ ہم نے تو بڑے بڑوں کو دولت کے زعم میں انسان کو حیوان سے بھی کم تر سمجھ کر دھتکارتے دیکھا ہے۔‘‘
’’نیما باجی کہہ رہی تھیں ویک اینڈ پر آئیں گی تو ہمارے ساتھ گڑیا گڑیا کھیلیں گی۔‘‘ راضیہ اور صائمہ اپنی جگہ محبت کا اظہار کر رہی تھیں۔
سارا گھر ہی اس کے اخلاق کا، اس کے مزاج کی سادگی و پَرکاری کا اور اس کی فیاضی طبع کا گرویدہ ہو چکا تھا مگر مجھے نہ جانے کیوں اسے دیکھتے ہی تپ چڑھ جاتی تھی۔ آجاتی ہیں محترمہ اپنی امارت کا جادو جگانے۔
جب دیکھو کبھی راضیہ اور صائمہ کے فراک آرہے ہیں، عمر اور اطہر کے لےے بیٹ بال یا شرٹس لائی جارہی ہیں۔ فریال کے لےے بوتیک سے کوئی سوٹ پسند کر کے لایا جارہا ہے اماں اور بلقیس باجی اور نفیس کے لےے کوئی ضرورت کی چیز خریدی جارہی ہے۔ دینے کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ اگلے کو ضرور ہی تحفہ لیتے ہی بن پڑتی۔
’’آنٹی! کل میں گئی تھی نا ادھر تو یہ شرٹ کا پیس پسند آگیا۔ خیال آیا ما شائ اللہ عمر کا رنگ بہت کھلتا ہوا ہے اس پر بہت سوٹ کرے گا بہت سارے لوگ لے رہے تھے ٹھیک ٹھاک سستا مل گیا میں نے کہا چلو کیا حرج ہے بھلا اتنا اچھا کپڑا دوبارہ جانے کب ملے میں نے لے لیا کہ آپ کو دکھا دوں گی۔‘‘
بلقیس آپا، اماں جی رسماً کہتیں۔
’’ارے نہیں چندا، تم کیوں تکلیف کرتی ہو یہ بہت زیادہ ہے۔‘‘
’’تکلف کہاں آنٹی! سمجھئے یہ تو یونہی ٹرائل کے طور پر لائی ہوں، آپ میرے ساتھ چلےے گا کسی دن، بے شک اپنی پسند سے اور لے لیجےے گا۔ اسے تو رکھے نا اور ہاں آج پکا کیا ہے، بھئی نفیس ذرا اپنے ان نفیس و ملائم ہاتھوں سے کھانا تو لگادو، قسم سے بڑی بھوک گل رہی ہے اور یہ چھوٹی مخلوق کدھر ہے میں دیکھتی ہوں ان کو۔‘‘ جب بھی آتی گھر اِدھر اَدھر آزادانہ گھومتی پھرتی مزے سے انجوائے کرتی۔ ایک لمحے کو بھی کبھی کسی کو احساس نہیں دلاتی تھی کہ وہ خصوصی مہمان نوازی کی مستحق ہے۔
کبھی لاڈ سے اماں کی گود میں سر رکھ دیتی۔
’’آنٹی! ذرا اپنے اصلی والے سرسوں کے تیل سے مالش تو کر دیجےے۔‘‘
ان دنوں میں بہت پریشان سا تھا۔ عمر کو فرسٹ ایئر میں ایڈمیشن دلانا تھا۔ داخلہ فیس اور کتابوں کاپیوں ، یونی فارم وغیرہ کے لےے کم از کم ڈیڑھ دو ہزار کی رقم درکار تھی۔ تنخواہ ملنے میں ابھی ایک آدھ ہفتہ باقی تھا اور اتفاق سے اس کے داخلے کی آخری تاریخ قریب تھی۔ تنخواہ سے تو یک مشت اتنی بڑی رقم کی بچت ناممکن ہی تھی۔
چھوٹے دانش کی طبیعت خراب تھی، اس کو کسی اچھے ڈاکٹر کو دکھانے کی ضرورت تھی۔ اسی پریشانی میں داخلے کی تاریخ ذہن سے نکل گئی، تنخواہ ملنے پر سب سے پہلے عمرکو ڈھونڈا۔
’’عمر! وہ تمہارے داخلے کا کیا بنا، یار لیٹ ہی ہوگئے تم اب۔۔۔‘‘
’’ارے نہیں بھائی! داخلہ تو ہوگیا۔‘‘ میں عمر کے رنجیدہ ملول چہرے کی جگہ ہشاش بشاش انداز دیکھ کر ششدر ہی تو رہ گیا۔
’’مگر کیسے؟ پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟‘‘ میں چونکا تھا۔
’’کہیں اماں اور آپا لوگ بات کر رہے تھے، نیما باجی نے سن لیا۔ پھر میرے پاس آکر خفا ہوئیں کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا اپنے داخلے کا۔ چلو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں وہ مجھے لے گئیں اور انہوں نے ہی داخلے وغیرہ کا انتظام بھی کر دیا۔‘‘
میرے اندر کا غیرت مند مغل بچہ ایک لمحے کو جوالا مکھی کا روپ دھارگیا۔
’’تم نے کیوں لیا ان کا احسان، تمہارا بھائی مر گیا تھا جو یوں ایرے غیرے کے آگے دکھڑا رو رہے تھے۔‘‘
میں نے شعلہ برساتی نگاہوں سے اسے گھورا۔ جواب میں وہ مسمسی سی صورت بنا کر منظر سے ہٹ گیا۔
ویک اینڈ پر وہ آئی تو میں نے ڈیڑھ ہزار روپیہ اس کے پاس قالین پر رکھ دیا، وہ نیچے ہی بیٹھی راضیہ اور صائمہ کو سبق یاد کروا رہی تھی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے حیران نظریں میر ی سمت دوڑائیں۔
’’یہ آپ کا احسان ہے محترمہ جو آپ نے عمر پر کیا تھا۔‘‘ میں نے ترشی سے جواب دیا۔
ایک لمحے کو اس کے چہرے پر ناگواری کے عکس لہرائے پھر بڑی صفائی سے اپنے تاثرات چھپاتے ہوئے اس نے قدموں میں پڑی رقم اٹھائی اور ٹیبل پر میرے نزدیک کھسکا کر بولی۔
’’یہ احسان نہیں قرض تھا۔ جس کی وصولی عمر سے قرار پائی ہے وہی یہ رقم واپس کرنے کا پابند ہے۔ آپ کے ساتھ تو میرا ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔‘‘ وہ کہہ کر کچن میں گھس گئی تھی غالباً۔
پھر فریال کے رزلٹ پر اس نے ایک ہزار نقد اور ساتھ میں نصاب کی کتابوں کا سیٹ اپنی طرف سے گفٹ بنا کر اس طرح دیا کہ اسے واپس کرنے کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ وہ احسان بھی اس انداز میں کیا کرتی تھی جیسے اس کا فرض اور ہمارا حق سمجھ کر کر رہی ہو۔ لینے والے کی انا کا ہرٹ ہونا تو درکنار الٹا اسے یہ احساس دلاتی تھی کہ تم یہ چیز لے کر مجھ پر بڑا احسان کر رہے ہو۔ میں اس کی ان حرکتوں پر دل ہی دل میں بہت نالاں رہتا تھا۔
’’ہمیں نہیں چاہیں آپ کی عنایتیں، نوازشیں، براہ کرم انہیں اپنے پاس ہی رکھیں۔‘‘ میں تنتناتا ہوا اس کے سر پر کھڑا کہہ رہا تھا۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ میں نے جتنے جلال سے باز پرس کا آغاز کیا تھا اس نے اتنے ہی سکون سے دریافت کیا تھا۔
میرا دل جل کر خاک ہوگیا۔ آپا کے بیٹے کی طبیعت سنبھل ہی نہیں رہی تھی۔ میرا ارادہ تھا آج شام وقت نکال کر اسے لے چلوں گا۔ بڑی مشکل سے ایک ماہر ڈاکٹر سے ٹائم بھی لے لیا تھا۔ آنے پر پتا چلا دانش اور بلقیس آپا کو نیما اپنی گاڑی پر لے گئی تھی۔
واپسی میں وہ دوائیوں اور پھل فروٹ سے لدی پھدی گھر لوٹی تو میں کھولتے دل و دماغ کے ساتھ اس پر الٹ پڑا۔
’’اے بائولے ہوئے ہو خاور۔‘‘ اماں بیچ میں پڑ گئیں۔ ’’ایک تو بچی نے نیکی کی اوپر سے اسے یہ صلہ دیا جارہا ہے، بچہ درد سے تڑپ رہا تھا۔ خدا نا خواستہ وقت پر ڈاکٹر کو نہ دکھایا جاتا تو لینے کے دینے پڑجاتے۔ وہ تو بچی اتفاقاً ادھر آنکلی ورنہ کیا کرتے کیسے لے کر جاتے۔‘‘
’’ایسی کیا بات ہے آنٹی! آپ لوگ جو میرا اتنا خیال رکھتے ہیں۔ دیکھےے نا گھر والوں سے اتنی دور پڑی ہوں پھر بھی محسوس یہی ہوتا ہے اپنے ہی گھر میں اپنوں کے بیچ ہوں۔ اب بھلا اپنوں میں تکلف تھوڑی چلتا ہے۔ آپ سب مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں میں جواب میں تھوڑا سا کام آجائوں تو آپ کا حق بنتا ہے اور میرا اولین فرض، آپ تو ایسی باتیں کر کے الٹا مجھے شرمندہ کر ڈالتے ہیں۔‘‘ نہایت معصومیت سے اماں جی سے لپٹ کر وہ اپنی چاہت کا اظہار کر رہی تھی۔
میں حسب سابق بل کھا کر رہ گیا۔ کہہ کچھ بھی نہ سکا کہ آگے رہ ہی کیا گیا تھا کہنے کو، وہ یونہی غیر محسوس انداز میں گھر کا خیال رکھتی تھی۔ کبھی مجھے خبر ہی نہ ہوتی کس طرح گھر میں چینی، گھی یا آٹا آجاتا۔ کسی بچے کی اسکول کی فیس دے دی جاتی، مختلف تہواروں کی مناسبت سے تحفے کے بہانے بچوں کی پہننے اوڑھنے کی ضروریات پوری ہوجاتیں اور اس قدر پلاننگ کے ساتھ وہ اس مدد کو اپنے فرائض میں شمار کر کے شرمندہ شرمندہ سی ہو کر پیش کرتی گویا اگلے کے حق میں کچھ کم ہی دیا ہو۔
مجھے اس کے انداز سراسر چھچھورے اور نامناسب سے لگتے تھے شاید اس لےے کہ یہ میری غیرت اور خو داری پر تازیانہ بن کر لگتے تھے۔ میں دانستہ طور پر اس کی موجودگی میں سب میں بیٹھنے میں کتراتا تھا۔ ہم دونوںمیں محسوس کیا جانے والا کھنچائو موجود تھا جو اماں جی کی ہزار تنبیہ کے باوجود دور نہیں ہوسکا تھا۔ میں اس سے کم سے کم مخاطب ہونے یا مخاطب رہنے کی کوشش کرتا تھا۔
٭٭٭
’’خاور! کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دونوں کے بیچ جائیداد وغیرہ کا کوئی تنازعہ ہو۔‘‘
نفیس کے سسرالی رشتہ دار آئے ہوئے تھے اسی سلسلے میں اماں نے اسے بھی بلوا بھیجا تھا، میں کچن سے مرد حضرات کے لےے چائے کے لوازمات لینے کو اندر آیا تو وہ برتنوں کو ترتیب سے رکھتے ہوئے نہایت سنجیدگی سے دریافت کرنے لگی۔ انداز میں حد درجہ سادگی تھی۔
میں نے اپنے اندر ابل پڑنے والے غیض پر بمشکل قابو پایا تھا۔
’’یا یہ کہ آپ کا کوئی مربع میں نے اپنے نام کرالیا ہو۔‘‘ ادھر ہنوز معصومانہ استفسار تھا۔
’’خوامخواہ میرے منہ مت لگو۔‘‘ میں جھلُا کر ٹرے اٹھانے لگا۔
’’نہیں پھر بھی خاور! سوچنے کی بات ہے ، ہے نا۔‘‘ وہ اپنی بات پر بضد تھی۔
’’اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اتنے خونخوار حریفانہ انداز میں پیش کیوں آتے؟ ضرور ہم دونوں میں ماضی میں کوئی اعلا درجے کی دشمنی رہی ہے۔‘‘
وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گئی تھی۔ تب ہی اتنے وثوق سے کہہ رہی تھی۔
’’فضول بات نہیں کرو اور پلیز ذرا جلدی نبٹائو اپنا کام، اتنی سست رفتاری سے تو چیونٹی بھی نہیں کرتی ہوگی۔‘‘ میں خوامخواہ چڑ سا گیا تھا۔
’’اچھا تو پھر جائو چیونٹی سے کرالو۔‘‘ نہایت اطمینان سے اس نے اتنی بے ساختگی کے عالم میں جواب دیا تھا کہ اندر آتی نفیس کسی صورت اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکی تھی۔ میں کھسیا کر کچن سے باہر آگیا۔
اس دن کے بعد سے یہ ہوا کہ ہماری آپس کی چپقلش اور کشیدگی میں قدرے کمی واقع ہوتی گئی۔بالواسطہ کے بجائے دو بدو براہ راست محاذ آرائی ہونے لگی۔ شاید پہلی کارروائی چپ کا حصار توڑنا ہی ہوا کرتی ہے۔ پہلے اپنے طنز و تمسخر اور خفگی کا اظہار اماں، آپا یا دوسرے بچوں کے توسط سے اس تک پہنچاتا تھا اب یہ کام بغیر کسی واسطے کے انجام پا جاتا تھا۔
ان دنوں میں باہر جانے کے چکروںمیں تھا ایک دوست سے بات کرنا تھی۔ اماں کو کہہ گیا تھا رات دیر سے لوٹوں گا۔ رات گئے گھر آیا تو خلاف توقع نیما کو دروازے پر موجود دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ پھر چپ چاپ اندر آگیا۔ چینج کرنے کے بعد ڈرائنگ روم میں آگیا۔ یہیں ایک کونے پر میرا پلنگ بچھا تھا۔ ایک رائٹنگ ٹیبل اور کپڑوں کی لماری بھی سائیٹ پر سیٹ تھی۔ ڈرائنگ روم والا کمرا باقیوں کے مقابلے میں خاصا کھلا تھا۔ رات کو یہ میرے استعمال میں ہی ہوتا تھا۔ دوسرے کمرے میں اماں، آپا، نفیس اور باقی ساری لڑکیاں سوتی تھیں، جب کہ تیسرے چھوٹے سے اسٹور نما کمرے میں عمر اور اطہر کے پلنگ بچھے تھے۔
چینج کر کے آیا تو وہ سینٹر ٹیبل پر پانی کا جگ اور گلاس رکھ رہی تھی۔
’’کیا پکا ہے آج؟‘‘ مجھے شدید بھوک لگ رہی تھی اس وقت۔
’’ٹنڈے آلو۔‘‘ سن کر ہی میرے چہرے پر کوفت زدہ اثرات نمودار ہوگئے۔
یہ سبزی مجھے زہر لگتی تھی۔
’’تمہیں شاید پسند نہیں۔‘‘ وہ مسکرا دی میرے تاثرات سے سمجھ گئی تھی۔
’’ساری بھوک ہی اڑا دی اس کے نام نے۔‘‘ میں نے برا سا منہ بنایا۔
’’اچھا ٹھہرو، تمہارے لےے کچھ اور سوچتی ہوں۔‘‘
پندرہ منٹ بعد وہ ٹرے لگا کر لائی تو گرم گرم روٹی کے ہمراہ فنگر چپس، ٹماٹو کیچپ، ایک کٹوری میں آلو اور پیاز کا رائتہ اور پودینے کی چٹنی دیکھ کر میری روح تک خوش ہوگئی۔ بے تکلفی سے ڈٹ کر کھانے لگا۔
کھانے کے بعد وہ چائے کے دو کپ لے آئی اور وہیں بوسیدہ سے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ چند لمحے ہمارے درمیان سنُاٹا بولتا رہا۔
’’خاور تم ان دنوں بڑے الجھے الجھے سے لگ رہے ہو۔ کن چکروںمیں ہو۔‘‘
’’چکر کیا ہونے ہیں، غم روزگار کے دھکے ہیں اور کیا۔۔۔‘‘ مجھ پر تھکن اور اعصابی دبائو کے ساتھ ساتھ بے زاری بھی حملہ آور ہوچکی تھی۔
’’ویسے سچ بات تو یہ ہے کہ موجودہ دور میں جتنے بھی کمائیں جہاں سے بھی کمائیں کم ہے، پھر جہاں ماشائ اللہ افراد زیادہ ہوں وہاں ضرورتیں بھی خود بخود چادر چھوڑ کر پائوں پھیلانے لگتی ہیں۔ بہت مشکل ہے گزارا ان دنوں۔‘‘
مجھے خاصا تعجب ہوا۔ بھلا نازوں پلی لاکھوں میں کھیلتی امیر زادی کو ان جھمیلوں کی کیا خبر، وہ یوں بات کر رہی تھی جیسے یہ سب کچھ اس کے ہاں بھی ہوتا رہا ہو۔
’’اب دیکھو نا، تمہیں کتنی محنت کرنا پڑتی ہے سارا سارا دن باہر کھپتے ہو، ٹیوشنز بھی کرتے ہو پھر بھی پورا نہیں پڑتا۔ آخر تم بھی انسان ہو، کوئی مشین تو نہیں ہو۔ کہاں سے بندہ پورا کرے ذمہ داریاں بھی تو بہت ہیں۔ میں تو کہتی ہوں، بڑی ہمت ہے تمہاری، بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہو جو اتنی تندہی سے اتنی جاں فشانی سے اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لےے اپنا آرام و سکون تج کےے ہوئے ہو۔‘‘
میں اس کی ہمدردانہ باتوں پر دل ہی دل میں حیران ہو رہا تھا۔ اتنی فراخ دلی سے تو کسی نے بھی میرے ایثار، میری قربانی اور میری فرض شناسی کا اقرار نہیں کیا تھا۔ اس کا انداز اتنا اپنائیت آمیز تھا اور وہ اس طرح ہماری سطح پر آکر اسی حساب سے بات کر رہی تھی کہ میں بھی اپنی غیر فطری انا، غیرت اور نام نہاد پردہ پوشی کو پس پشت ڈال کر اس کے ساتھ اپنے خیالات شیئر کرنے لگا۔
’’اس قدر مہنگائی کے دور میں اتنے سارے افراد کے ہمراہ چند ہزار سے کیا بنتا ہے۔ میں سوچتا ہوں آگے کیا بنے گا۔ ابھی عمر بہت چھوٹا ہے، فرسٹ ایئر میں ہی تو ہے، ادھر نفیس کے سسرال والے جلدی جلدی کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ بلقیس آپا کی فریال بھی کل کو نفیس کے برابر آرہے گی۔ پھر دوسرے بچوں کی تعلیم اور خوراک کے مسائل، بلقیس آپا کی دوا کا انتظام، گھر کے خرچے، بلوں کی ادائیگی یہ سب کیسے پورا ہوگا۔ خرچ ہیں کہ دن بدن کسی دیوہیکل جن کی طرح بڑھتے ہی چلے آرہے ہیں۔ سوچوں تو اگر آج نفیس کے سسرال والے جلدی مچادیں تو اس وقت میرے پاس اس کو جہیز کے نام پر دینے کے لےے شاید ایک جوڑے کے پیسے بھی نہ ہوں۔‘‘
حالات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نہایت کبیدہ خاطر اور دل گرفتہ سا قالین پر صوفے سے پشت ٹکائے بیٹھا تھا۔ سوچیں آکٹوپس کی طرح ذہن کو جکڑے ہوئے تھیں۔
’’ہاں تم صحیح کہہ رہے ہو، ضرور ایسا ہی ہوگا تنخواہ کی رقم سے بچت کا سوال تو چیل کے گھونسلے میں مانس ڈھونڈنے والی بات کے مترادف ہوگا۔‘‘
اس نے بڑے سبھائو سے میری بات کی تائید کی تھی۔۔۔ پھر ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کر کچھ سوچنے لگی۔
’’خاور۔۔۔‘‘ کافی دیر بعد اس نے پکارا اس کے لہجے اور نظروں میں کوئی خیال تحریر تھا۔ میں نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے نیم دلی سے محض اس کی سمت دیکھنے پر اکتفا کیا۔
’’ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم کسی طرح باہر چلے جائو جیسے لندن، امریکہ وغیرہ۔‘‘
میں کافی دیر تک اس کی سمت دیکھتے رہنے کے بعد بالآخر مسکرایا۔
’’تمہارے ذہن میں آنے والا یہ آئیڈیا کچھ عرصہ پہلے ہی میرے دماغ میں آچکا ہے، میں بھی اسی سوچ میں ہوں بلکہ ان دنوں ان ہی کوششوںمیں لگا ہوا ہوں، اگر دو چار سال بھی باہر لگا آئوں تو بہت سے چھوٹے بڑے مسائل نبٹ جائیں گے۔‘‘
’’آنٹی سے بات ہوئی اس سلسلے میں؟‘‘
’’نہیں، براہ راست تو نہیں البتہ ایک بار یونہی دبے دبے انداز میں تذکرہ کیا تھا مگر اماں سخت خائف ہیں۔ وہ باہر بھجوانے کے لےے راضی نہیں ہیں۔‘‘
’’ظاہر سی بات ہے ماں کا دل ہے نا اولاد کو اتنی دور آنکھوں سے پرے کرنے کا حوصلہ کیسے کریں گی۔‘‘
اس کے لہجے میں اماں کے لےے بڑی محبت اور لگاوٹ تھی۔
’’اماں کو بھنک بھی پڑ گئی تو وہ واویلا مچادیں گی اور میں انہیں دکھی کر کے باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔‘‘
’’اس سلسلے میں تم فکر نہیں کرو، میں آنٹی کو سمجھا دوں گی کہ اولاد کے بہتر مستقبل کے لےے والدین کو قربانی دینا ہی پڑتی ہے۔‘‘
’’تم قائل کر سکو گی انہیں؟‘‘ میں بے یقین سا تھا۔
’’بس تم دیکھتے جائو۔‘‘ اس نے چٹکی بجائی۔
اور پھر واقعی اس نے اپنی مسلسل کوششوں سے بالآخر اماں کو رام کر ہی لیا وگرنہ شاید وہ کبھی بھی مجھے خود سے جدا نہ ہونے دیتیں۔ بابا جان کی ناگہانی وفات اور بلقیس آپا کے شوہر کے حادثے نے انہیں بہت وہمی بنا دیا تھا۔ میرے لےے وہ بہت حساس ہوگئی تھیں۔ کسی دن اتفاقاً دیر سویر ہوجاتی تو ان کا بلڈ پریشر ہونے لگتا تھا۔
اس نے جانے کہاں کہاں سے تاویلیں گھڑی تھیں۔ دلائل پیش کےے تھے۔ سنہری خوابوں کی جھلک دکھائی تھی کہ اماں خود ہی مجھے باہر کے لےے اپلائی کرنے کی ترغیب دینے لگیں۔ وہ اس کی مانتی بھی تو بہت تھیں۔ یا شاید اس میں کچھ ایسی بات تھی کہ دوسرے سے انکار ہو ہی نہیںپاتا تھا۔
پاسپورٹ اور ویزے کا کام تو کسی نہ کسی طرح اپنی فرم سے کچھ ایڈوانس نکلوا کر کہہ سن کر ہوگیا مگر اب ٹکٹ کروانے کے لےے وہاں جا کر رہائش اور کھانے پینے کے انتظام کے لےے کم از کم پچا س ساٹھ ہزار کی خطیر رقم درکار تھی، میری راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں اسی فکر میں، ویزے کی مدت بھی خاصی مختصر تھی۔ اگر مقررہ مدت گزر جاتی تو پھر ساری محنت اکارت چلی جاتی۔ اماں نے نفیس کے لےے رکھا ہوا زیور فروخت کرنے کے لےے دینا چاہا مگر میرے ضمیر نے گوارا نہیں کیا۔
’’اور بن جائیں گے خاور بھائی۔‘‘ نفیس نے بھی اصرار کیا مگر میری ہمت نہیں پڑی۔ حالات کا کیا پتا ہوتا ہے کیا خبر وہاں جا کر کیسے حالات ہوں۔ خود اپنی جان کے لالے پڑ جائیں تو ایسے میں کیا یہ مجرمانہ احساس بھی ہمراہ لےے پھروں گا کہ بہن کے حق میں ڈاکہ ڈالا، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا جائوں تو کہاں جائوں۔ میرے مزاج کے سرد و سپاٹ موسموں کے باعث میرا حلقہ احباب نہ ہونے کے برابر تھا۔ کوئی ایسا جان پہچان کا بندہ نہیں تھا جس سے قرض لیتا۔
’’خاور۔۔۔! ٹائم بہت ہوگیا ہے، یہ نیما کو ذرا چھوڑ آئو ہاسٹل تک کہیں بند ہی نہ ہوجائے۔‘‘
اماں کو موسمی بخار نے آگھیرا تھا۔ سو وہ بھی اطلاع ملنے پر یونیورسٹی سے کلاسز لے کر شام کو ادھر ہی چلی آئی تھی عیادت کے لےے۔
’’تم پہلے ہی تھکے ہوئے آئے ہو، بہت تکلیف کرنا پڑ رہی ہے تمہیں۔‘‘ بائیک پر سنبھل کر ذرا فاصلے سے بیٹھتے ہوئے اس نے اپنے مخصوص ہمدردانہ انداز میں کہا تھا۔
’’نہیں کوئی بات نہیں۔‘‘ میں نے مروتاً کہا۔
’’کچھ ہوا بندوبست؟ پھر ویزا ختم ہونے کی ڈیٹ تو نزدیک آگئی ہے۔‘‘ اس کی پَر تشویش آواز پر میں نے گہری سانس لی۔
’’دوڑ دھوپ تو کی ہے اچھی خاصی مگر کیا کیا جائے پیسے کی ہوس میں سب پاگل ہورہے ہیں۔ جس کے پاس نہیں ہے، وہ تو دوڑ ہی رہا ہے جس کے پاس ہے وہ ’’ہل من مزید۔‘‘ کا ورد کرتا ہوا ’’محروم‘‘ سے بھی آگے دوڑ رہا ہے۔ آفس میں کچھ لوگوں سے سلام دعا ہے، کچھ بابا کے جاننے والے ہیں مل ملا کر شاید بیس بائیس ہزار ہاتھ لگ جاتے مگر اس سے بھی کیا بنے گا۔ یہ تو نصف بھی نہیں ہے مطلوبہ رقم کے۔‘‘
میرے اعصاب پر بہت زیادہ بوجھ پڑا ہوا تھا۔
’’ہوں۔۔۔ یہ تو ہے۔‘‘ وہ سوچ میں گم تھی۔
’’حالات کو سامنے رکھتے ہوئے تو لگتا ہے شاید جانے کا پروگرام چوپٹ ہی ہوجائے۔‘‘
’’ارے نہیں بھئی۔‘‘ میرے شکستہ مضمحل لہجے پر وہ دھک سے رہ گئی۔
’’اتنی تگ و دو سے تو امریکہ کا ویزا لگا ہے ورنہ تو لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں ایمبسی کے چکر لگا لگا کر، خوش قسمتی ہے تمہاری جو اتنی جلدی تمہارا کام ہوگیا ہمت کیوں ہار رہے ہو خاور۔‘‘
’’تو پھر کیا کروں۔‘‘ میں نے نیند کے لےے ترستی ہوئی آنکھوں کو مسلتے ہوئے تلخی سے دریافت کیا۔
’’ہمت و حوصلہ خاور! کوئی تدبیر سوچو ایسے تو نہیں کرتے نا۔‘‘ وہ میری ٹوٹی بکھری پژمردہ حالت سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے دائیں شانے پررکھ دیا اور تسلی کے سے انداز میں دبا کر میرا حوصلہ بڑھانے لگی۔ انداز بالکل ایسے ہی تھا جیسے کوئی ماں کسی بگڑے روٹھے بچے کو پیار سے سمجھا بجھا کر منا رہی ہو۔
’’حوصلے اور ہمت کی باتیں وہاں کی جاتی ہیں جہاں امید کی کوئی کرن جھلملا رہی ہوتی ہے۔‘‘ میں جھنجلاہٹ اور دل گرفتی کے احساس سے چَور تھا۔ ’’جہاں اندھیرا ہی اندھیرا ہو وہاں حوصلے کی لاٹھی کیا کام آئے گی۔‘‘
’’مشکلات، مصائب اور پریشانیاں بھی تو انسانوں پر ہی پڑتی ہیں یہ تو آتی جاتی رہتی ہیں، زندگی کا حصہ ہوا کرتی ہیں۔ ان سے گھبراتے نہیں ہیں بلکہ مقابلہ کرتے ہیں۔ اللہ مسبب الاسباب ہے، اگر اس نے ایک راستہ کھول دیا ہے تو دوسرا بھی ضرور کھولے گا۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے نا کہ ہم دستک دینا ہی چھوڑ دیں۔ دوسرے معنوں میں اس کی ذات سے مایوس ہو جائیں۔‘‘
وہ تسلی کے سے انداز میں دھیرے دھیرے میرا کندھا تھپکتی رسانیت سے بول رہی تھی۔ الفاظ تو دل پر مرہم رکھ رہے تھے یا نہیں اس سے قطع نظر اس کے ہاتھ کا لطیف اپنائیت آمیز لمس البتہ دکھتے، سلگتے، اعصاب پر چھینٹے ڈالنے کاکام ضرور سر انجام دے رہا تھا۔
’’ابھی تو تمہیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ ابھی سے تھکنے لگے ہو؟ یہ تو کوئی اچھی بات نہیں ہے تم پر جتنی ذمہ داریاں ہیں اس لحاظ سے تمہیں خود کو بہت مضبوط اور بہادر بنانا ہوگا۔ تم اتنی کم عمری سے اپنی ذات کی ضروریات کو پس پشت ڈال کر اپنے چھوٹے بہن بھائی کے لےے پھر اپنی یتیم بھانجیوں اور بھانجوں کی پرورش کے لےے خود کو وقف کےے ہوئے ہو یقین جانو خاور! یہ تمہاری ذات کا بڑا دلکش پہلو ہے۔ قربانیاں دینے کا عمل انسان کی شخصیت میں بڑا نکھار بڑا وقار لے آتا ہے۔ تمہارا دل جو اتنا خوب صورت ہے اس کا کوئی نعم البدل ہی نہیں ہے۔ ان شائ اللہ ایک وقت ایسا آئے گا جب تم اپنے فرائض سے احسن طریقے سے عہدہ بر آہوجائو گے پھر تمہارے پاس بہت سارا وقت ہوگا صرف تمہارے لےے۔‘‘
اس کی لوریاں دیتی ہوئی دھیمی خوب صورت نرم آواز میرے اندر سکون کے چشمے جاری کر رہی تھی۔ بائیک کی اسپیڈ ہلکی کرتے کرتے بالآخر قدرے ویران سی شاہراہ پر درخت کے قریب روک دی۔
’’میں بہت تھکنے لگا ہوں نیما یوں لگتا ہے صدیوں تک یونہی تنہا آبلہ پائی کرتا رہوں گا اور منزل پھر بھی نہیں ملے گی۔‘‘ اتنے دنوں کی ذہنی توڑ پھوڑ اور سوچوں کے خلفشار نے میری قوت حیات گویا ختم ہی کر ڈالی تھی۔ بڑے دل شکستہ سے انداز میں سر جھکا دیا۔
’’نہیں خاور! تمہیں ہر گز بھی نہیں تھکنا نہیں چاہےے اور تم اکیلے بھی کب ہو، اگر دیکھو سمجھو تو کتنے آشنا چہرے تمہارے ارد گرد نظر آئیں گے۔ اکیلا تو وہ شخص ہوتا ہے جس کو بھری دنیا میں کوئی سننے سمجھنے والا نہیں ہوتا۔ جس کی سلامتی کے لےے کوئی ہاتھ خدا کے حضور نہیں اٹھتا۔ جس کی پکار پر کوئی لپک کر نہیں آتا۔ تم تو بہت خوش قسمت ہو۔ دیکھو تو تمہارے ارد گرد کتنے لوگ ہیں۔ تم سے محبت کرنے والے ، تمہارے لےے فکر مند رہنے والے، دعائوں کی سوغات دینے والے، تمہارے دکھ درد کی دوا کرنے والے، ہم سب ہیں نا تمہارے ساتھ خاور! تم اکیلے نہیں ہو خود کو کبھی تنہا مت سمجھنا۔ ہم جو ہیں تمہارے اپنے۔‘‘
وہ دھیرے دھیرے مجھے جوڑتی بناتی رہی۔ میرے حوصلوں کی عمارت بلند کرتی رہی، تاریکیوں کے بادلوں میں چاندنی کی جھلک دکھلاتی رہی۔
ششدر تو میں اس دن رہ گیا جب اس نے تیس ہزار کی خطیر رقم میری جھولی میں ڈال دی۔
’’یہ کیا۔۔۔؟‘‘ میں ہکُا بکُا دیکھتا رہ گیا تھا۔
’’تمہیں پتا تو ہے، یو اے ای کی سائیڈ پر سونا بہت سستا ہوتا ہے بلکہ والدین بچے کی کسی خوشی پر تحفے کے طور پر سونے کی چھوٹی موٹی چیز دے دیتے ہیں، عزیز رشتہ دار بھی بڑی فراخ دلی سے گفٹ کے طور پر سونے کی ہلکی پھلکی چیز تحفتاً دینے میں گریز نہیں کرتے۔ میرے پاس بھی بہت سے ایسے تحائف جمع ہیں۔ ظاہر ہے سب کے سب تو نہیں پہنے جاتے نا میں نے اپنی برتھ ڈے کی گولڈ کی چین، بی اے کے رزلٹ پر ماما کی طرف سے دی گئی انگوٹھی اور بریسلٹ اور ایک کسی عزیز کا دیا ہوا لاکٹ بیچ دیا۔ بھئی کچھ تو فائدہ ہو جب پہننے نہیں تو بے کار میں پاس جمع رکھنے سے کیا حاصل، اتنے بہت سے جوپڑے ہوئے ہیں۔‘‘ وہ اس قدر عام سے سرسری سے انداز میں صفائی دے رہی تھی گویا کوئی بات ہی نہ ہوئی ہو۔ میں سمجھ گیا تھا وہ حسب سابق مقابل کو شرمندگی سے بچانے کے لےے اپنے لہجے اور انداز کی ازلی لاپروائی کو بروئے کار لارہی تھی۔
کچھ لوگ لے کر بھی شرمندہ نہیں ہوتے اور کچھ سر پھرے دیتے ہوئے بھی شرمندہ ہوجاتے ہیں۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہوتی ہے۔
میں نے کشمکش کے عالم میں کچھ کہنے کے لےے لب کھولے ہی تھے کہ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا۔
’’پلیز خاور۔۔۔!‘‘ وہ بضد منت بولی۔ ’’کوئی ایسی بات منہ سے نہ نکالنا جس پر مجھے اپنے کےے پر ندامت ہونے لگے۔ یقین کرو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ تو محض خراج ہے تمہارے اس جذبے پر جس کے تحت تم اپنی ذات کے تقاضے فراموش کر کے اتنے سارے لوگوں کی خوشیوں اور خوش حال زندگیوں کے لےے جدوجہد کر رہے ہو۔ اگر تمہارے مستقبل کے ساتھ اتنے سارے لوگوں کا مستقبل مشروط نہ ہوتا تو شاید میں تمہارا ساتھ نہ دیتی کہ اس صورت میں تمہارا یہ اقدام تمہاری ذاتی آسائش کے لےے ہونا تھا۔ مگر تم پر بہت سی ذمہ داریاں ہیں تمہیں اپنے بہن بھائیوں کا مستقبل سنوارنا ہے۔ معذور بیوہ بہن کے بچوں کی پرورش کرنا ہے۔ قربانی اور ایثار کے اس سمندر میں میرا حصہ تو اک قطرے کی مانند ہے۔ اصل مرحلہ تو تمہیں ہی طے کرنا ہے نا۔‘‘
’’نیما۔۔۔‘‘ ایک عجیب سے جذبے سے مسحور ہو کر میں اٹھا اور اس کے مقابل آکر اس کے دونوں ہاتھ تھام لےے۔
’’بس بس اب ڈائیلاگ جھاڑنے کی کوشش مت کرنا میں جانتی ہوں تمہیں اس کی الف ب بھی نہیں آتی، میں دیکھوں ذرا یہ عمر کیا کر رہا ہے بھلا۔‘‘ وہ اپنے مخصوص بے نیاز انداز میں بات بدلتی ہوئی ہاتھ چھڑا کراندر بڑھ گئی تھی۔
پیسہ تو بہرحال اپنی جگہ ایک مسلم ضرورت ہے مگر سچ بات ہے پیسوں کی مدد کے علاوہ بھی جس طرح اس نے مجھے بلڈ اپ کرنے میں، اپنی ہمتیں مجتمع کرنے میں اور پرعزم بنانے میں مدد دی تھی اس کاکوئی جواب ہی نہیں تھا۔ کس کس طرح سے مجھ جیسے شکستہ حال تقدیر کے مارے بندے کو کول ڈائون کرنے کا سبب بنی تھی۔
ایئرپورٹ تک وہ میرے ہمراہ تھی۔ عمر اور اطہر کے ساتھ اماں جی اور آپا لوگوں سے الوداعی ملاقات بھی ایک مشکل مرحلہ تھا۔ اماں جی رو رو کر بے حال ہورہی تھیں اور میرا دل ان کی ہر سسکی پر ڈوب جاتا تھا۔
ایسے میں وہی تھی جو سب کو تسلیاں دے رہی تھی، حوصلہ بڑھا رہی تھی۔ میں کبھی دور نہیں رہا تھا گھر والوں سے اور اب تو اتنی دور جا رہا تھا جہاں سے واپس لوٹنے کا بھی کچھ یقین نہیںتھا۔ بڑے ضبط اور جبر سے کام لے کر اپنے اند رامڈتے شور مچاتے آنسوئوں کو اندر ہی محصور کر کے ماں بہنوں سے رخصت لی تھی۔
’’تم بالکل فکر مت کرنا ادھر کی، میں موجود ہوں نا، سب سنبھال لوں گی۔ پھر ماشائ اللہ عمر بھی اچھا خاصا سمجھ دار ہے۔ دیکھو گھبرا مت جانا شروع شروع میں تمہیں وہاں کا ماحول اجنبی لگے گا۔ یہاں کا خیال بہت ستائے گا۔ مگر آہستہ آہستہ عادی ہوجائو گے اور دیکھو جتنے اچھے یہاں سے جارہے ہو، اس سے زیادہ اچھا بن کر واپس لوٹنا ہم سب تمہارے منتظر رہیں گے۔‘‘
عمر اور اطہر کو گلے لگا کر پیار کیا، جاتے سمے ایک الوداعی نگاہ اس پر ڈالی۔ سفید سادہ سے کاٹن کے شلوار سوٹ میں اس کا سادہ بے ریا مخلص اور ہمدرد وجود کتنا نمایاں، کتنا پرکشش آمیز لگ رہا تھا۔ اتنی عام سی ہوتے ہوئے بھی کتنی منفرد کتنی جاذب نظر لگ رہی تھی۔ جانے کیوں دل میں ایک عجیب دل گداز جذبے نے سر ابھارا، موقع ہوتا تو اس وجود کو ایک بار بازوئوں میں لے کر اس پر مہر تشکر ثبت کر دیتا۔
’’اللہ حافظ خاور! پہنچ کر خیریت کی اطلاع ضرور دینا۔‘‘ اس نے بڑے حوصلے سے مسکرا کر الوداع کیا۔
یہ اس کی باتوں، اس کے جذبوں، ا س کے خلوص کی روشنی تھی جس نے پرائے دیس میں مجھے بھٹکنے نہیں دیا۔ میرا عزم بے دار رکھا۔ جب کبھی تھک کر مایوس ہونا چاہا، وہ مہربان باتیں، وہ ولولے جگاتا لہجہ سماعتوں میں گھل جاتا، کبھی ایسا بھی ہوا جب کڑی مسافت طے کرتے کرتے میں نے ایک جگہ تھک کر پڑائو ڈالنے کا سوچا اور ادھر سے اس کا ’’نامہ‘‘ آجاتا، میں پھر سے رختِ سفر باندھ لیتا۔
نفیس اور عمر کے خطوط سے پتا چلتا رہا کہ وہ واقعی اپنا کہا پورا کر رہی تھی۔ گھر کے انتظام و انصرام اور گھر والوں کے پرابلمز کے بارے میں برابر خبر رکھتی تھی۔ ایم اے کرنے کے بعد اس نے بینک میں جاب کر لی تھی۔
نفیس کی شادی پر کوئی ڈیڑھ برس بعد میں واپس لوٹا تو بڑی حد تک معاشی بوجھ ہلکا ہوچکا تھا۔ نفیس کا سارا جہیز تیار تھا۔ بچوں کی پڑھائیاں ٹھیک ٹھاک چل رہی تھیں۔ گھر کا بجٹ نارمل ہوچکا تھا اور گھر والوں کے چہروں پر خوشی کے عکس جگمگا رہے تھے۔ میرا دل بھی مسرور ہوگیا۔ اماں جی بتا رہی تھیں نیما نے بہت ساتھ دیا یہ سب اسی کی بھاگ دوڑ کا نتیجہ ہے۔ بہت خیال رکھا ہے اس نے۔
’’وہ کہاں ہے؟ ہوسٹل میں ہوگی؟‘‘ میں نے گھڑی دیکھ کر قدرے بے چینی سے دریافت کیا۔
’’ارے نہیں، اپنے بینک سے چھٹی لے کے گئی ہوئی ہے پرسوں سے جہلم، وہاں اس کے کوئی جاننے والے ہیں حال ہی میں ابو ظہبی سے آئے ہیں ان کا پتا کرنے کے لےے گئی ہے۔‘‘
’’تو کیا شادی میں شریک نہیں ہوگی وہ؟‘‘ میرا دل جانے کیوں اسے رو برو دیکھنے کو مچلنے لگا تھا۔
’’کیوں نہیں شریک ہوگی، بھلا پرسوں شام تک آجائے گی واپس۔‘‘
اور مجھے یہ دو دن کا عرصہ بہت طویل لگا۔ میں خوش تو تھا کہ ایک ذمہ داری سے بحسن و خوبی فارغ ہورہا ہوں مگر میری یہ خوشی نامکمل سی لگ رہی تھی۔ سب نے مجھے سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ میری قربانیوں کو سراہا تھا مگر میرا دل ہنوز تشنہ تھا یہ کسی اور ہستی کی طرف سے خراج کا طالب ہورہا تھا۔
’’اسے کہتے ہیں ہم بیاباںمیں ہیں اور گھر میں بہار آئی۔ ہمیں خبر ہی نہ تھی وگر نہ کوئی استقبالی پروگرام ترتیب دینے کے لےے ضرور ٹھہر جاتے۔ اور سنائےے کیسے مزاج ہیں جناب خاور مغل صاحب کے۔‘‘
اس کی زندگی سے بھرپور بشاش آواز بہار کا جھونکا بن کر کمرے میں پھیل گئی تھی۔ اس کے اندر داخل ہونے پر جس بے قراری سے میری نگاہوں نے اس کے سراپے کو اپنے حصار میں لیا تھا میرے لےے بذاتِ خود بڑا حیران کن تھا۔ پتا نہیں کیا بات تھی کہ میری نظریں اس کے چہرے سے ہٹنا بھول گئی تھی۔
وہ ویسی ہی تھی، پہلے کی طرح سادہ رو، سادہ مزاج سادہ لباس اپنے مخصوص لاپروا انداز میں سب سے مخاطب کبھی ادھر آرہی ہے تو کبھی ادھر یہاں وہاں ہر جگہ ایک کے ساتھ اور ہر طرح کی صورت حال میں ہم قدم۔
’’نفیس کا معاملہ تو اللہ نے نبٹا دیا بس اب اچھی سی بڑی سی کوٹھی خریدنا رہ گئی ہے اس کو بھرنے کے لےے سامان چاہے، پھر گاڑی بھی خریدنا ہے اور فریال کے لےے کچھ سامان چاہےے، اب یہ فلیٹ بھی چھوڑ ہی دینا ہے، کب تک اس کابک میں رہیں گے۔‘‘ اماں مستقبل کے منصوبے بنا رہی تھیں۔
’’گویا تین نئے ٹارگٹ ہیں ماموں کے لےے۔‘‘ فریال شوخی سے مسکرائی۔
’گھر، گاڑی اور گھریلو سامان۔‘‘
رات کو وہ حسب معمول جانے لگی تو بلقیس آپا نے عمر کو پکارا۔
’’عمر جائو نیما کو چھوڑ آئو نیچے تک۔‘‘ اس کی گاڑی کی چابی تو تھی اس کے ہاتھ میں۔
’’میں چھوڑ آتا ہوں۔‘‘ میں عمر کے آنے سے پہلے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
’’اچھا بھئی، اللہ حافظ کب تک ہو یہاں؟‘‘ نیچے پہنچ کر اپنی گاڑی کا لاک کھولتے ہوئے اس نے خوش دلی سے دریافت کیا۔
’’دو تین دن اور ہوں چابی مجھے دو، میں ڈرائیو کرتا ہوں۔‘‘
’’ارے نہیں، میں چلی جائوں گی آرام سے، تم پھر واپس کیسے آئو گے؟‘‘
اس نے میری تکلیف کا خیال کرتے ہوئے منع کر دیا۔
’’خیر ہے، آجائوں گا تم بیٹھو۔‘‘ میں چابی لے کر گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔
’’اگلی بار آئو گے تو ان شائ اللہ العزیز اپنی کرولا کا دروازہ کھول کر شان سے مجھے بیٹھنے کی آفر کرو گے۔‘‘
ہمیشہ سے دوسروںکا مان بڑھانے والی عادت اس کے خمیر میں شامل تھی۔
سارے راستے اِدھر اَدھر کی باتیں ہوتی رہیں وہ گھر کے معاملات ڈسکس کرتی رہی،یہاں کے حالات بتاتی رہی۔
’’ایں۔۔۔ یہ کیا، یہ تو ہاسٹل نہیں ہے تم شاید راستہ بھول بیٹھے ہو۔‘‘ گاڑی کے رکنے پر وہ حیرت سے پلکیں جھپکا کر مخاطب ہوئی تھی۔
’’یہ آئس کریم پارلر ہے، یہاں آئس کریم کھائی جاتی ہے اور بے فکر رہو میں راستہ بھی ہر گز نہیں بھولا۔‘‘ میرے انداز میں حد درجہ اطمینان تھا۔
’’آئو چلتے ہیں مگر ایک منٹ ایک امانت ہے تمہاری میرے پاس۔‘‘ میں نے کوٹ کی اندرونی پاکٹ سے اپنا والٹ نکالا۔ ساتھ ہی سائیڈ کی دوسری پاکٹ کھنگال کر اندر سے ایک چھوٹا سا خوب صورت سے ریپرمیں لپٹا گفٹ باہر نکالا۔
اس نے میرے ایک ہاتھ میں رقم کے پھولے ہوئے لفافے اور دوسرے میں ننھے سے گفٹ کو کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھا تھا۔
’’نیما یہ ایک حقیقت ہے کہ جو کچھ تم نے میرے لےے میری فیملی کے لےے کیا ہے اس کا بدلہ مجھ جیسا بے فیض شخص چکا ہی نہیں سکتا میں خود کو کسی قابل نہیں پاتا کہ تمہارے احسانات، تمہاری مہربانیوں کے صلے میں کچھ پیش کر سکوں تاہم رسمِ دنیا کو یہ تمہارا قرض۔‘‘
میں نے اس کے کچھ کہنے سے پہلے ہی رقم والا لفافہ اس کے پاس میں ڈال دیا۔
’’ہاں اور یہ میری خوشی ہے، ایک چھوٹا سا معمولی سا تحفہ پلیز اور اب انکار نہیں کرنا۔‘‘
مگر یہاں بھی وہ میرا مان بڑھا گئی، خوش دلی سے میرے ہاتھ سے گفٹ لے کر کھولتے ہوئے بولی۔
’’بھئی واہ! لینے سے انکار کون کافر کرتا ہے۔‘‘ اس کے ہاتھ بڑی سرعت سے ریپنگ پیپر کھول رہے تھے۔
’’وائو زبردست۔‘‘ نگینوں جڑا خوب صورت ڈیزائن والا بریسلٹ دیکھ کر اس نے مسرت انداز میں کہا۔ میرا دل شادمان ہوگیا حالانکہ میں جانتا تھا اس کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک بیش قیمت اور خوب صورت جیولری موجو دتھی۔ مگر جس طرح اس نے میرے خلوص کی قدر دانی کرتے ہوئے نا صرف تحفہ پسند کیا تھا بلکہ نہایت اشتیاق کے عالم میں اسی وقت پہن کر بار بار اپنا بازو دیکھ رہی تھی اس کے اس عمل نے مجھے بڑی انوکھی سی سرشاری بخشی تھی۔
آئس کریم کھاتے ہوئے ہم اِدھر اَدھر کی باتیں کرتے رہے میں اسے وہاں کے قصے سناتا رہا۔ اس کی معیت میں وقت گزرنے کاپتا ہی نہیں چلتا تھا۔
دوسری بار جب میں وطن لوٹا تو اتنا کما چکا تھا جس سے گھر والوں کے خوابوں کی تعبیر ممکن ہوسکی تھی۔ اس بار میں امریکہ کو مکمل طور پر خیر باد کہہ کر لوٹا تھا۔ اس مختصر عرصے میں گھر کے افراد میں بہت سے تبدیلیاں آچکی تھیں۔ انہیں پیسہ استعمال کرنے کا سلیقہ آچکا تھا۔ میرے آنے سے پہلے ہی ایک شاندار سی کوٹھی اور نئی ٹیوٹا کرولا گاڑی پسند کی جاچکی تھی۔ میرے آنے کی دیر تھی کہ پے منٹ کے بعد فلیٹ چھوڑ کر نئے گھر میں منتقل ہوگئے اور عمر اور اظہر کی فرمائشی اشیائ سے مزین کرنے کے لےے رقم اماں جی اور فریال لوگوں کے سپرد کر دی انہوں نے اپنی مرضی سے گھر سیٹ کرایا۔
سب گھر والوں کے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے تھے۔ جدید طرز کے قیمتی ملبوسات، اچھا کھانا پینا اور آسائش و آرام نے گویا سب کی صورتیں ہی بدل دی تھیں۔ میں خوش تھا کہ گھر والوں نے جیسے سکھ کے خواب دیکھے تھے بالآخر میں انہیں ان کی تعبیر دینے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
رقم میرے پاس موجود تھی سو بسم اللہ کر کے بزنس شروع کیا۔ خدا دینے پر آتا ہے تو چھپُر ہی پھاڑ دیتا ہے۔ بزنس بہت جلد چل نکلا اور یوں گھر میں دولت کی ریل پیل بڑھتی ہی چلی گئی۔ میرے سیٹ ہوتے ہی اماں اور آپا لوگوں کو میری شادی کی فکر ہوئی، میں چاہ رہا تھا پہلے فریال کی شادی ہوجاتی مگر فریال کی ضد تھی ابھی وہ جاب کرنا چاہتی ہے۔ اماں نے بھی کہا۔
’’چلو ایک آدھ سال اسے شوق پورا کرلینے دو، کون سا عمر نکلی جارہی ہے یوں بھی اصولاً اب تمہاری باری ہے۔ میں اپنے چاند سے بیٹے کے لےے بہت حسین پڑھی لکھی اور کسی اونچے گھر کی لڑکی لائوں گی۔ ایسی کہ سب دیکھتے رہ جائیں۔‘‘
میں ان دنوں عمر کو پڑھنے کے لےے امریکہ بھجوانے کے چکروں میں تھا۔ خیال تھا کہ ادھر ایک تو ٹک کر پڑھ لے گا دوسرا جاب کی پرابلم نہیں رہے گی۔
مجھے خبر بھی نہ تھی کہ اماں اور آپا مع بھانجیوں کے ان دنوںمیرے لےے لڑکی تلاش کی مہم چلا رہی ہیں اور کسی ایک کو منتخب بھی کر چکی ہیں۔ خبر تو تب ہوئی جب انہوں نے کسی شہرین نامی لڑکی کے بارے میں مجھے بتایا اور اس کی تصویر دکھا کر رائے لی۔
’’بے انتہا خوب صورت ہیں شہرین،ماموں۔‘‘ فریال بڑی خوش ہو کر اطلاع دے رہی تھی۔
’’اور امیر بھی بہت ہیں، اتنا بڑا گھر ہے ان کا۔‘‘ بلقیس آپا نے رائے دی۔
’’کم عمر بھی ہے میرے بیٹے کے ساتھ خوب جچے گی۔‘‘ اماں میری نظر اتار رہی تھیں میں ان لوگوں کی باتیں یوں سن رہا تھا جیسے جملے تو کان میں پڑ رہے ہوں مگر مفہوم سمجھ میں نہ آرہا ہو۔
گھرمیں کافی چرچا رہنے لگا۔ شہرین کے حسن جہاں سوز کا، اس کے باپ کی امارت کا، اس کی نازک مزاجی کا۔ مجھے یہ سب کچھ بے زار کن اور ناگوار گزر رہا تھا۔ بالآخر ایک دن جب اماں نے سنجیدہ ہوکر میری رائے طلب کی تو میں نے بالآخر تامل کرتے ہوئے دل کی بات بتا ہی دی۔
’’کیا۔۔۔؟‘‘ اماں ہی کیا سارے گھر والے بھونچکا رہ گئے اور مجھے ان کی حیرت پر حیرت ہونے لگی۔ میرے خیال میں تو یہ سن کر انہیں خوشی سے کِھل جانا چاہےے تھا۔
’’لو بھلا بتائو کیا بے وقوفوں والی بات کرتے ہو، تم نیما سے شادی کرو گے؟‘‘‘ بالآخر بلقیس آپا نے ابتدا کی۔
’’کمال کرتے ہو بچے اتنے بڑے بزنس مین ہو اتنا نام ہے تمہارا۔ بھلا لوگ کیا خیال کریں گے کہ یہ ہے تمہاری پسند۔‘‘ اماں جی کے انداز نے میرے خون میں کھولن پیدا کر دی۔
’’مجھے آپ کی منطق سمجھ میں نہیں آئی اسے اپنانے سے میرے نام یا بزنس پر کیا اثر پڑے گا۔ بلاشبہ وہ اتنی اچھی ہے کہ اسے اپنانے والا اپنی قسمت پر رشک کرے گا اس میں کیا برائی ہے؟ کیا عیب ہے؟‘‘
’’ماموں کیا آپ انہیں ہماری ممانی بنائیں گے؟ میری دوستیں کیا کہیں گی۔‘ ‘فریال نے منہ بسور کر مایوسی کے عالم میں کہا۔
’’کیوں، کیا کہیں گی۔‘‘ مجھے سخت تائو آرہا تھا گھر والوں کے انداز پر۔
اماں میرا غضب ناک موڈ دیکھ کر بڑے سبھائو سے بات بڑھاتے ہوئے بولیں۔
’’ٹھیک ہے بچے، نیما بہت اچھی لڑکی ہے بڑا ساتھ دیا ہے اس نے ہمارا۔ مگر وہ تیری دلہن نہیں بن سکتی۔ دیکھ نا تو تو ایسے شہزادوں جیسے نقوش کا مالک ہے وہ عام سی شکل و صورت والی ہے۔ پھر عمر بھی اس کی اچھی خاصی ہوچکی ہے۔ ماں باپ کا پچھلے سال ابو ظہبی میں انتقال ہوگیا اب اس کے پاس رہا ہی کیا ہے۔ اب ہمارا اتنے بڑے گھرانے کے لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، شہر کے معززیں میں ہمارا شمار ہوتا ہے۔ ایسی ویسی بہو لے آئے تو کیا دنیا والے تمسخر نہیں اڑائیںگے۔ سو سو باتیں بنائیں گے لوگ۔‘‘
اماں جی کی بات سن کر میں نے نہایت بے یقینی اور تاسف کے عالم میں انہیں دیکھا تھا۔ باقی سب لوگوں کے چہروں کے تاثرات بھی اماں کی باتوں کی خاموش تصدیق کر رہے تھے۔
’’اماں! کیسی باتیں کر رہی ہیں۔ شکل و صورت اس کی جیسی بھی ہے مجھے پسند ہے۔ اور عمر میں تو وہ مجھ سے تین چار سال چھوٹی ہی ہوگی، امیر والدین کے انتقال کے بعد وہ خداناخواستہ غریب تو نہیں ہوگئی۔‘‘ ان کی خود غرضانہ سوچ نے مجھے سلگا کر رکھ دیا تھا۔
’’بچے! آج کل رشتے کرتے ہوئے یہی سب کچھ دیکھا جاتا ہے۔ شکل وصورت والی ہو، کم عمر ہو اور امیر ہو، مرد کی عمر کو کون پوچھتا ہے۔ تو تو آج سے دس سال بعد بھی ماشائ اللہ اسی طرح جوان اور خوب صورت دکھائی دے گا۔ مرد کی عمر کو زنگ نہیں لگتا۔ عورت چاہے اپنے مرد سے دس پندرہ سال چھوٹی ہو تو بھی جوڑی چل جاتی ہے جب تجھے اتنی حسین، امیر، کم عمر لڑکیاں مل سکتی ہیں تو تَوکیوں اس معمولی سی بے آسرا، بے ٹھکانا لڑکی کے لےے دل چھوٹا کرتا ہے۔‘‘
مجھے لگا جیسے کسی نے بم میرے اعصاب پر پھوڑ دیا ہو۔ یہ میری ماں تھیں جو کل تک مجھے نیما سے چپقلش رکھنے پر پھٹکارا کرتی تھیں اس کے باپ کے بابا جان پر احسانات گنوا کر لتاڑتی تھیں کل تک جس لڑکی کی اعلا ظرفی، فراخ دلی اورمحبت کرنے والی فطرت کے گن گاگا کر جیا کرتی تھیں، آج وہ ان کی نظروں میں معمولی اور بے آسرا لڑکی بن گئی تھی۔ یا خدا یہ دولت اس طرح بھی ذہنوں کی کایا پلٹ سکتی ہے۔ میں سکتے کے عالم میں بیٹھا ہوا تھا۔
’’اگر آپ کا حافظہ آپ کا ساتھ دیتا ہے تو ذرا یاد کیجےے اس معمولی لڑکی نے ہمارے گھر کے لےے کیا کیا کچھ نہیں کیا۔ آج ہم جو کچھ ہیں، اسی کی قربانیوں اور ایثار پسند طبیعت کے باعث ہیں۔ ذرا یاد کیجےے یہی معمولی لڑکی جب آپ کے گھر کے حسرت زدہ ماحول میں آکر اجنبیت کا احساس مٹا دیا کرتی تھی۔ جو تحائف کے نام سے گھر بھر کے کپڑے اور کھانے پینے کا اہتمام کرتی تھی، جو آپ کی اولاد کی فیسیں اور کاپیاں کتابیں دے کر ان کی مدد کیا کرتی تھی جو بغیر احسان جتلائے آپ کے گھر کے بجٹ کو پورا کر دیا کرتی تھی۔ جو آپا کے علاج کے لےے مہنگی سے مہنگی دوائیاں خرید کر لاتی تھی۔ کوئی بیمار پڑتا تھا تو خود اپنی گاڑی پر اپنے پلُے سے خرچہ کرتی تھی۔ جو اتنے امیر باپ کی بیٹی ہونے کے باوجود آپ کے گھر کی روکھی سوکھی من و سلویٰ سمجھ کر کھایا کرتی تھی۔ جس نے ایسے کڑے وقت میں مالی امداد کی جب میں ہر طرف سے مایوس ہوچکا تھا۔ جس کی رقم سے میں اس قابل ہوسکا کہ باہر جا کر آپ لوگوں کو اس قسم کے ٹھاٹھ کرائوں۔‘‘
غم و غصے سے میرا چہرہ سرخ پڑتا جارہا تھا۔
’’تو کیا ہوا تم نے واپس تو کر دی ہے اس کی رقم، رکھ تو نہیں لی نا ہم نے۔‘‘
آپا کی بے حسی پر میرا دل کڑھ کر رہ گیا۔
’’بات رقم کی نہیں ہوتی آپا!‘‘ میں نے بمشکل تمام اپنا اشتعال ضبط کیا۔ ’’ایسی ہزاروں رقمیں بھی میں اسے واپس کردوں تب بھی اس کے احسانات کا بدلہ نہیں اتارا جا سکتا، مالی مدد کا بدل ہوسکتا ہے مگر جذباتی مدد کا کوئی بدل نہیں ہوا کرتا۔ اس کے جذبوں کے خلوص، محبت اور اس کی بیش قیمت ہمدردیوں کو سامنے رکھا جائے تو ہمارے گھر کا ایک ایک فرد کا بال بال اس کے قرضے میں جکڑا محسوس ہوگا۔‘‘
’’اے تو ہم نے بھی تو اس کے لےے کچھ کم نہیں کیا۔ یہ تھوڑا ہے ہم نے اسے اپنے گھر میں پناہ دی،ماں باپ سے اتنی دور تھی ہم نے اس کی عزت کی حفاظت کی اس کو اتنی محبت دی وہ تو رشتوں کی ترسی ہوئی تھی۔ بھلا اور کسی کے ہاں اسے اتنا آرام، اتنا پیار ملنا تھا۔‘‘
اماں کے بے حسی اور خود غرضی کے لبادے میں لپٹے جملوں نے میرے اند رآگ سی دہکا دی۔
’’اب کیاان کے احسان کے بدلے میں ہم آپ کی زندگی تباہ کر دیں۔‘‘ فریال نے بھی بڑا پن دکھاتے ہوئے لب کشائی کی تھی۔
’’تم چپ رہو اور جا کر اپنا کام کرو۔‘‘ میں نے شاید زندگی میں پہلی بار اس کے ساتھ اس طرح غرُا کر بات کی تھی۔ وہ ماموں کے مشتعل ہونے پر خائف سی ہو کر اندر چلی گئی۔
’’ہاں تو صحیح ہی تو ہے۔ بھلا شادی کوئی گڈے گڈی کا کھیل تو نہیں ہوتا نا کہ جیسے بھی چلائو نبھ جائے گی۔یہ بات واضح ہے کہ نیما تمہارے ساتھ کسی لحاظ سے سوٹ نہیں کرتی اور تمہارے ساتھ تمہارے اسٹینڈرڈ اور اسٹیٹس کے مطابق کوئی خوب صورت سی امیر زادی ہی سجے گی۔‘‘
آپا کو اپنی بیٹی کی بے عزتی پسند نہیں آئی تھی سو چیں بہ جبیں ہو کر بول پڑی تھیں۔
’’زندگی مجھے گزارنا ہے اور میں یہ جان چکا ہوں کہ میرے ساتھ نیما کے علاوہ اور کسی بھی قسم کی کسی بھی طبقے کی اور کوئی زہرہ جبیں نہیں چل سکتی۔ نا صرف میرے ساتھ بلکہ آپ لوگوں کے ساتھ بھی کسی بڑے گھر کی نخریلی حسینہ کا گزارانہیں ہوگا۔ نیما تو ہرلحاظ سے فٹ ہے یہاں۔‘‘
’’ہم کرلیں گے بھیا گزارا۔‘‘ آپا چمک کر بولیں۔
’’ہمیں تو بس شہرین جیسی خوب صورت اور نازک سی بھابھی چاہےے۔‘‘
’’تم دیکھ تو لو اسے ایک بار ملو تو سہی اتنی خوب صورت اور کم عمر ہے وہ کہ۔۔۔‘‘ اماں مجھے للچا رہی تھیں۔ میں بے بسی سے سر پکڑ کر رہ گیا۔
’’اماں! آپ کیوںنہیں سمجھتیں۔ کیوں آپ کی آنکھوں پر امارت اور حسن کی پٹی پڑ گئی ہے۔ میں جس قسم کا بندہ ہوںاس لحاظ سے میں نیما جیسے مزاج کی حامل لڑکی کے ساتھ ہی ایڈجسٹ ہوسکتا ہوں وہ مجھے سمجھتی ہے اچھی طرح۔ میرے خیالات کا پرتو ہے۔ نہ مجھے حسن کی طلب ہے نہ امارت کی، اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ مجھے اپنے مزاج کے موسموں کا ساتھی چاہےے اور وہ صرف نیما ہی ہوسکتی ہے۔‘‘
میرے حتمی انداز نے اماں کو بھڑ کا دیا۔
’’مگر ہم ایسی معمولی صورت شکل والی لڑکی کو بہو نہیں بنا سکتے۔ آخر چار بندوںمیں ہمیں بھی منہ دکھانا ہے۔ شہرین تمہیں نہیں پسند تو کوئی اور دیکھ لیتے ہیں مگر وہ نیما کسی صورت بھی نہیں ہوسکتی۔ غضب خدا کا سارے جاننے والے لعن طعن کرےں گے کہ بہو ملی تو ایسی گری پڑی لاوارث ہم سے دوسروں کی باتیں نہیں سنی جاتیں۔ ہمارے بھی کچھ ارمان ہیں، آخر تمہیں ماں بہنوں کو ناراض کر کے اپنی پسند کی دلہن لانا ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ ہمیں چھوڑ آئو دوبارہ اسی فلیٹ میں۔ وہاںرہ لیں گے تم یہاں اپنی دل کی ملکہ کے ہمراہ ہی خوش رہنا اور ہم سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھنا۔‘‘
ماں کا سرد مہر انداز مجھے اندر سے باہر تک بے بسی کی آگ میں جھلسا گیا۔ اسی لمحے کوئی اندر داخل ہوا۔
یہ نیما تھی۔ دھواں دھواں چہرہ لڑکھڑاتی ہوئی چال، بے اوسان انداز، وہ اندر داخل ہو کر گرنے کے سے انداز میں قریب پڑے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ میں نے بغور اس کے لرزتے کانپتے وجود کو دیکھا اور جیسے میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔
مجھے عجیب سا احساس تو ہوا تھا جیسے کوئی دروازے کے پردے کے پیچھے کھڑا ہو کافی دیر سے، مگر پھر اماں سے بحث و مباحثے اور گرما گرمی میں دو بارہ دھیان نہیں گیا۔ تو کیا اس نے ساری باتیں سن لی ہیں۔
’’نہیں میرے خدا۔ اس کو اپنی ایثار پسندی اور ہمدرد فطرت کی اتنی کڑی سزا نہیں ملنی چاہےے۔‘‘
میرا رواں رواں مرتعش تھا مگر ہونی ہو کر رہنا تھی۔ اس کا ہر ہر انداز پکار رہا تھا کہ یہی بات تھی۔
’’گرمی میں آئی ہوں نا تو لَو لگنے سے اعصاب ہی الٹ گئے میرے۔‘‘
کتنی دیر بعد خود پر قابو پاتے ہوئے اس نے وضاحت کی تھی، مگر اس کی آواز کی مخصوص کھنک کی جگہ کھوکھلا پن اور لرزش مجھ سے پنہاں کیسے رہ سکتی تھی۔ جب سے نئے گھر میں شفٹنگ ہوئی تھی، گھر والوں کی اس کے ساتھ پذیرائی کی وہ پہلے والی گرم جوشی اور والہانہ انداز نہیں رہے تھے وہ بھی شاید محسوس کر چکی تھی اس لےے بہت کم کم آتی تھی۔
حسب معمول وہ اِدھر اَدھر کی باتیں کرتی خود کومصروف اور بے خبر ظاہر کرتی رہی مگر اس کے روئیں روئیں سے پھوٹتی بے چینی اور اضطراب کی موجیں بغور دیکھنے پر واضح طور پر محسوس کی جاسکتی تھیں۔
’’اچھا آنٹی! اب چلتی ہوں۔‘‘ تھوڑی دیر بعد وہ بیگ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’بیٹھ جاتیں تھوڑی دیر۔‘‘ اماں نے رسماً کہا ان کے انداز میں بڑا ٹھنڈا پن اور بے مہری تھی۔ مگر اس نے نہایت تحمل اور اعلا درجے کی فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے نظر انداز کر دیا۔
’’ضرور رک جاتی آنٹی! لیکن کچھ کام ہے مجھے، دراصل ان دنوں میں اپنی جہلم ٹرانسفر کرانے کے چکروں میں ہوں۔ وہاں کچھ جان پہچان کے عزیز موجود ہیں دعاکیجےے گا۔ میرا کام ہوجائے۔‘‘ پھر وہ میری طرف پلٹی تھی۔
’’اور ہاں بھئی جناب خاور مغل! آپ شادیانے کب بجوا رہے ہیں۔ ذرا جلدی جلدی کر ڈالےے یہ کام تاکہ ہم بھی جاتے جاتے آپ کی خوشیوں میں شریک ہوجائیں۔‘‘
میں نے سر اٹھا کرگہری نظروں سے اس کی سمت دیکھا۔ وہی بے لوث، بے ریا مسکراہٹ آنکھوں میں کمال درجے کا ضبط، میں کچھ کہنا چاہتا تھا اسے روکنا چاہتا تھا اس کے پیچھے آکر ساری حقیقت منکشف کرنا چاہتا تھا مگر کسی نادیدہ طاقت نے میرے قدموں کو زمین میں گاڑ دیا تھا۔ وہ چلی گئی اور میں اسے دروازے تک چھوڑنے کی ہمت بھی اپنے اندر پیدا نہ کر سکا۔
کتنا بے توقیر کر دیا تھا اماں اور آپا لوگوں کے خیالات نے اسے، کس طرح اس کی عزت نفس کو روند ڈالا تھا۔ اس کی انا، اس کی خود داری پر کس طرح تازیانہ لگایا تھا۔ اسے خود اپنی نظروں میں کتنا گرا دیا تھا۔ میں پوری طرح محسوس کر سکتا تھا۔ وہ جو سب کو جوڑنے والی تھی، مرہم رکھنے والی تھی جو ہمدم و ہم راز اور چارہ گرو دم ساز تھی سب کی، کس بے دردی سے اس کے خلوص اس کے ایثار کا مذاق اڑایا گیا تھا ان زہریلی کٹھور باتوں کے ڈنک کس کس طرح اس کی روح کو زخمی کر رہے ہوں گے۔
بے چینی، اضطراب اور دکھ کی لا متناہی چادر نے میرے پورے وجود کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
محض دو ہفتے بعد وہ رخت سفر باندھے تیار تھی۔ میں اس عرصے میں ہتھیار ڈال چکا تھا۔
’’ارادہ تھا کہ تمہاری شادی تک رک جائوں مگر ٹرانسفر آرڈر زیادہ ہی جلدی آگئے۔ بہرحال میری طرف سے بھی بہت سارا خوش ہولینا۔‘‘
جاتے سمے وہ الوداعی ملاقات کے لےے آئی تو سب سے مل کر بڑے بشاش سے انداز میں مجھے چھیڑا تھا۔
مکینوں کے دلوں کی کدورتوں اور بدگمانیوں سے آشنا ہوتے ہوئے بھی ان سے اتنی لگاوٹ اور اتنے خلوص سے ملنا بڑے دل گردے والے لوگوں کا کام ہوا کرتا ہے۔
’’اماں جی! آپ لوگوں کے ہاں مجھے جو پیار محبت اور احساس تحفظ ملا میں اس کا کوئی بدلہ نہیں دے سکتی آپ کو، آپ لوگوں کا بہت شکریہ کہ اتنا عرصہ مجھے غریب الوطنی کا اور بے آسراہونے کا احساس تک نہیں ہونے دیا۔ میں آپ سب لوگوں کو بہت مِس کروں گی۔ مجھ سے اگر نادانستگی میں کوئی گستاخی سر زد ہوگئی ہو تو چھوٹی سمجھ کر معاف کر دیجےے گا۔‘‘
سب سے مل کر وہ ہوا کے جھونکے کے مانند خاور ولا سے نکل گئی اور جیسے میری زندگی سے بھی خوشی اور سکون کی برکھا ہمیشہ کے لےے رخصت ہوگئی۔ جانے سے پہلے اس نے پورے گھر کا ایک چکر لگایا تھا۔ میں کمرے میں آیا تو کھو دینے کا ہول ناک احساس میری رگ رگ میں انگارے دوڑا رہا تھا۔ یونہی سائیڈ ٹیبل پر رکھے سفید لفافے پر نظر پڑی، کھولا۔
عزیزم خاور!
قیمت نہ لگا جذبۂ ایثار طلب کی
ہر شے کو فقط چشم خریدار سے مت دیکھ
میں اور کہیں صاف دکھائی نہیں دوں گی
ہٹ کر مجھے آئینہ کردار سے مت دیکھ
تمہاری خیر اندیش
٭٭٭
وہ کب کے خاموش ہوچکے تھے مگر تانیہ ہنوز جیسے کسی طلسم کے زیر اثر خود کو اسی ماحول میں جذب پارہی تھی۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گزرا ہو وہ خود کو اس کہانی کا ایک کردار سمجھتے ہوئے شکست و ریخت کے ان جذبات کو مکمل طور پر محسوس کر رہی تھی۔
پھر اس نے گہری سانس لے کر سر جھٹکا، خاور مغل کی طرف دیکھا۔ ایک لمحے کو اس کا دل بند ہوتے ہوتے رہ گیا
ان کے چہرے اور آنکھوں میں کیا تھا؟
تانیہ سے زیادہ دیر تک دیکھا نہیں گیا۔
ملال، حسرت، تشنہ کامی، تاسف، دل گرفتگی اور شکستہ پائی کی دھول نے ان کے چہرے کے سارے رنگ نچوڑ لےے تھے۔ ان کی سرخ وحشت زدہ آنکھوں میں ویرانیوں کے سائے رقصاں تھے۔
اس سمے وہ اتنے ٹوٹے پھوٹے اتنے شکستہ نظر آرہے تھے کہ تانیہ کا دل شدتِ غم سے بیٹھنے لگا۔
’’تو یہ تھا سارا قصہ بے بی۔ اب تم جان ہی چکی ہوگی کہ میں ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویُوں میں کس حد تک حق بجانب ہوں اور دیکھ لو ان کو ان کی ہوس زر اور ظاہری آن بان نے کتنا بے سکون کر کے رکھ دیا ہے۔ اب مجھ سے شاکی کیوں ہوتے ہیں۔ بھگتیں اب اپنا بھگتان۔ انہوں نے خود اپنے لےے یہ سامان پیدا کیا ہے۔ اپنے ہی جال میں پھنس چکے ہیں۔ اب وہ جذبات مجھ سے طلب کرتے ہیں جنہیں عرصہ ہوا خود اپنے ہاتھوں سے اپنی خود غرضی کی بھینٹ چڑھا چکے ہیں۔ میرے اندر کیا باقی رہا ہے ان کو دینے کے لےے، دل کے سارے خزانے تو لوٹ لےے۔ جذبات کے سارے الائو بجھا دےے۔ اب میں اندر باہر سے برف کے تودے کی صورت اختیار کر چکا ہوں۔ کوئی چیز اب مجھے نہیں پگھلاتی، نہ آنسو، نہ آہیں، نہ جذبے، نہ خلوص۔ مجھے خود اپنے آپ سے محروم کر ڈالا ہے ان لوگوں نے۔‘‘
ان کی آنکھوں کی وحشتیں بول رہی تھیں۔
’’آئو بے بی گھر چلتے ہیں۔‘‘ پھر وہ اپنے آپ میں لوٹتے ہوئے اسٹیئرنگ وہیل کی جانب متوجہ ہوگئے۔ سارے راستہ دونوں گم صم سے بیٹھے رہے۔
گاڑی سے اترتے ہوئے پہلے اس کی نظری سیڑھیوں کے پاس کھڑی شہرین کی جانب گئی پھر بے اختیار کلائی پر بندھی گھڑی پر جا ٹھہری اور وہ اندر ہی اندر شرمندہ ہو کر رہ گئی۔ رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ ہورہے تھے۔
خاور مغل تو چابی ہاتھ میں جَھلاتے آگے بڑھ گئے۔ وہ دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی کچھ ہچکچا کر شہرین کے پاس سر جھکا کر مجرمانہ انداز میں کھڑی ہوگئی۔
’’سوری بھابھی! کچھ زیادہ ہی دیر ہوگئی۔‘‘
’’دیر تمہیں نہیں مجھے ہوئی ہے جو تمہارا کھیل نہیں سمجھ سکی۔ میں تمہیں بہت معصوم اور سادہ مزاج کی لڑکی خیال کرتی تھی۔‘‘
’’خبردار شہرین! مزید ایک لفظ مت کہےے گا۔ کسی کی بے غرضی کو یوں سر عام نیلام نہیں کرتے۔‘‘
وہ اسی لمحے پلٹ آئے تھے۔ تانیہ کا جی چاہا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
’’دوسروں کا تو آپ کو بہت خیال ہے جس کا رکھنا چاہےے اس پر تو کبھی ایک لمحہ رک کر تفصیلی نظر ڈالنے کی بھی زحمت نہیں کی۔‘‘ شہرین کے سلگتے انداز اس کی اندرونی کیفیت کے غماز تھے۔
’’خیال وہاں رکھا جاتا ہے جہاں دل رکھے جاتے ہیں، مان رکھے جاتے ہیں اور یہ کوئی جادو کا کھیل نہیں ہوتا کہ چھڑی گھمانے سے مطلوب سامنے آجائے۔ اس کے لےے بڑی تپسُیا کاٹنی پڑتی ہے۔ بہرحال آپ کی تسلی کے لےے بتادوں کہ یہ وہ نہیں ہیں جس سے آپ کو خائف ہونا چاہےے۔‘‘
وہ کہہ کر رکے نہیں تھے۔ تیز تیز قدموں سے اندر بڑھ گئے تھے اور اسی لمحے تانیہ بھی فیصلہ کر چکی تھی وہ اس گھٹن زدہ بدگمان فضا میں زیادہ دیر نہیں رہ سکے گی۔ ڈیڈی پر زور دے کر وہ اپنا ٹرانسفر لاہور سے پنڈی میڈیکل کالج میں کروا سکتی تھی۔ وہ جہلم سے ویسے بھی بہت نزدیک پڑتا تھا۔
’’جارہی ہو بے بی تم بھی۔‘‘ جاتے سمے وہ ان کو وش کرنے آئی تو انہوں نے تھکے تھکے انداز میں دھیمے سے مسکرا کر کہا۔
وہ سوچنے لگی کیا جواب دے۔
’’چلو تمہاری مرضی۔ لیکن یہ یاد رکھنا ہم تمہیں دوبارہ ضرور یہاں لائیں گے اور بہت جلد لائیں گے۔‘‘ انہوں نے ہلکے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے ہلایا تھا۔
اس وقت تو وہ ان کی بات کا مفہوم نہیں سمجھی البتہ جب تین چار ماہ بعد وہ لوگ عمر کا پروپوزل اس کے لےے لے کر آئے تب ان کی بات کا اصل مفہوم سمجھ میں آیا۔
عمر امریکہ سے آچکا تھا۔ اسٹڈی کمپلیٹ کر کے اور اب بزنس میں ہاتھ بٹا رہا تھا۔ روبرو تو تانیہ کی اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ البتہ البم میں اس کی تازہ ترین تصاویر بغور ملاحظہ کی تھیں۔ دیکھنے میں وہ خاور مغل ہی کی طرح دلکش نقوش اور بھرپور سراپے کا مالک تھا۔ مگر اصل چیز تو بندے کا مزاج اور عادات ہوا کرتی ہیں۔ اس ضمن میں خاور مغل نے اس کی تسلی کروادی۔
’’فکر نہیں کرو میں اپنے بھائی کوجانتا ہوں۔ بڑا سادہ مزاج، مخلص اور رشتوں کا احترام کرنے والا شخص ہے۔ اس کے ساتھ تمہارے جیسی نیک طور اطوار کی لڑکی ہی سوٹ کر سکتی ہے۔ ابتدائی بات چیت کے بعد جب تم مجھ پر کَھل گئی تھیں اسی لمحے میں نے سوچ لیا تھا کہ میں عمر کو اپنی طرح زندگی کی تنہا کر دینے والی بھیڑ میں گم نہیں ہونے دوں گا۔ چاہے مجھے اس کے لےے اسٹینڈ ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ مگر اتفاق دیکھو کہ ایسی نوبت نہیں آئی۔ مجھ سے پہلے ہی اماں اور آپالوگوں نے عمر کے لےے تمہارا نام لے دیا۔ وقت نے حالات نے انہیں بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اب انہیں کھوٹے کھرے کی پہچان ہوچکی ہے۔ میرے معاملے میں تو دیر سے ہوئی لیکن صد شکر کہ عمر کے معاملے میں دیر نہیں ہوئی۔ کوئی ایک دریچہ باقی ہے جہاں سے تازہ ہوا اندر آسکتی ہے، بے بی تمہیں وہاں قدم جمانے کے لےے محنت تو ٹھیک ٹھاک کرنا پڑے گی کہ بدگمانیوں، کدورتوں اور رنجش کا کوڑا سمیٹنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے لیکن میں جانتا ہوں تم نے ایک بار قدم جمالےے تو پھر ایک نہ ایک دن ضرور کامیاب ہوجائو گی بشرطیکہ کوشش جاری رکھو راہ کی مشکلات سے نبٹنے کا ارادہ ٹھان لو۔‘‘
تانیہ نے دھیرے سے سر اٹھا کر ان کے چہرے کی جانب دیکھا پھر مضبوط لہجے میں بولی۔
’’میں مشکلات سے نہیں گھبراتی خاور بھائی۔ نمو آنٹی کہا کرتی ہیں اگر آپ کے اندر عزم زندہ ہے۔ چلنے کا حوصلہ موجود ہے تو پھر ہم سفری کے لےے کہیں دور ٹمٹماتے ایک مٹی کے دےے کی لو، کسی مہربان یاد کے جگنو ہی بہت کافی ہوا کرتے ہیں۔ کسی کا خیال، کسی کی یاد بھی تو بہترین ہم سفر ہوا کرتی ہے۔ پھر میرے ساتھ تو آپ جیسے شفیق اور مہربان ہستی کی آشیرباد شامل ہے۔‘‘
’’بھئی، یہ تمہاری نمو آنٹی کیا چیز ہیں جو تمہیں وہاں لاہور میں بھی اتنے فاصلے کے باوجود نہیں بھولیں۔کبھی ملوائو نا ہمیں بھی ان سے۔ اب تو سچ مچ بڑا اشتیاق ہوتا جارہا ہے جنہوں نے اتنی سی بچی کو اتنا شعور بخش دیا۔‘‘
’’ہاں ضرور ملوائوں گی۔ بلکہ ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔ ابھی چلے چلتے ہیں۔ یہ ساتھ میں دو گھر چھوڑ کر تو ان کا بنگلہ ہے۔‘‘
وہ وفور شوق میں یونہی ہمراہ ہولےے۔
’’ارے بے بی! یاد آیا تمہاری تو بے تکلفی ہوگی آتی جاتی رہتی ہوگی ان کے ہاں، بھلا وہ میرے متعلق کیا خیال کریں گی۔ ان کے گھر والے بھی تو کوئی ہوں گے نا۔‘‘ وہ بوکھلائے تھے۔
’’ان کے ساتھ ان کے شوہر ہوتے ہیں، آرمی میں میجر ہیں اور دو پیارے پیارے بچے ہیں۔ چار چار سال کے دونوں جڑواں ہیں۔ ان کے شوہر شام کی چائے تک آجاتے ہیں۔ آپ ان سے بات کر لیجےے گا بڑی میٹھی طبیعت کے ہیں سجاد بھائی۔ آپ بہت خوش ہوں گے ان سے مل کر، ان کی فیملی بہت اچھی ہے۔ لونگ، کئیرنگ اور چارمنگ۔‘‘
ملازم کی ہمراہی میں گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو لان میں میجر سجاد اخبار پڑھتے مل گئے بڑے تپاک سے ملے۔
’’بڑے اچھے وقت پر آئے آپ لوگ۔ چائے بس آنے ہی والی ہے۔ بلکہ لیجےے آہی گئی۔ بھئی بیگم، بشیر کو بھیج کر دو کپ اور پلیٹیں اور منگوالیجےے۔‘‘
خاور مغل نے بڑے تجسُس سے نظریں اٹھائی تھیں او رپھر جیسے وہ پتھر کے ہو کر رہ گئے۔
’’بسم اللہ، مہمان تو خدا کی رحمت ہوتے ہیں۔‘‘ بڑے سبھائو سے ٹرے میز پر رکھ کر وہ سیدھی ہوئی تھی۔ ہلکے آسمانی کاٹن کے سادہ سے سوٹ میں وہی سادہ، شفاف چہرہ اور بشاش اپنائیت آمیز انداز لےے سو فیصد وہی تھی۔
’’آنٹی! یہ ہیں ہمارے گیسٹ خاور بھائی، جن کے متعلق میں نے آپ کو بتایا تھا۔ ان ہی کے ہاں میں ٹھہری تھی لاہور میں اور خاور بھائی یہ ہماری نمو آنٹی ہیں۔‘‘
آداب میزبانی نبھاتے ہوئے اس نے ہلکے سے مسکرا کر تانیہ کے مہمان کی طرف دیکھا اور پھر وہ بھی چند ثانےے کو دنگ رہ گئی۔
’’ارے خاور تم۔۔۔ آپ۔‘‘
’’کیا آپ جانتی ہیں خاور بھائی کو۔‘‘ تانیہ، خاور مغل کی گم صم کیفیت پر کیا کم حیران پریشان تھی جو نیما کی تحیر آمیز شناخت پر حیرت سے بت نہ بنتی۔
’’ارے بھئی یہ وہی خاور تو ہیں سجاد! میں نے بتایا تھا نا آپ کو ایم اے کرنے کے لےے جب میں ابوظہبی سے پاکستان آئی تھی تو ان ہی کے ہاں تو ٹھہری تھی بڑے عرصے تک ان کا ساتھ رہا ہے۔‘‘
’’اچھا اچھا یہ ہیں خاور پھر تو دوہری خوشی ہوئی آپ سے مل کر۔ نیما اکثر ذکر کیا کرتی ہیں آپ لوگوں کا کہ آپ کی فیملی نے ان کا بہت خیال رکھا۔‘‘ میجر سجاد، بیوی کی خوشی پر اس سے زیادہ مسرت کا اظہار کر رہے تھے۔
’’اور کیسے ہیں سب؟ اماں جی، بلقیس آپا، عمر، اطہر، فریال وغیرہ۔‘‘ وہ بڑی بے تابی سے ایک ایک کا حال پوچھ رہی تھی۔
’’سب ٹھیک ٹھاک ہیں۔ آپ کیسی ہیں؟ شادی کر لی اور ہمیں بتایا ہی نہیں۔‘‘ خاور مغل بڑی مشکل سے اپنے تحیر کے گرداب سے باہر نکل پائے تھے۔
’’بس جلدی میں ہی سب کچھ ہوگیا۔ اس لےے آپ لوگوں کو مطلع نہیں کر سکے۔‘‘
نیما کے بجائے میجر سجاد نے معذرت خواہانہ انداز میں جواب دیا۔ ’’نیما کے اور میرے والد صاحب کی جان پہچان ابو ظہبی میں ہوگئی تھی۔ یہاں آئے تو نیما کو اپنے پاس بلا لیا۔ ان دنوں ان کی جاب کا مسئلہ تھا۔ جن دنوں ان کی ٹرانسفر ادھر جہلم ہوئی اس زمانے میں ابا جان بہت بیمار تھے۔ وہ مرنے سے پہلے میرے سر پر سہرا دیکھنا چاہتے تھے۔ نیما کی جانب سے رضامندی کے اظہار کے بعد سادگی سے نکاح ہوگیا۔ جو سچ پوچھےے تو میں کہوں گا کہ نیما کے روپ میں بابا جان نے مجھے سب سے زیادہ قیمتی اور نایاب تحفہ دے دیا ہے زندگی بھر کے لےے۔‘‘
میجر سجا دکے دھیمے سنجیدہ انداز میں بڑی محبت تھی۔
تھوڑی دیراِدھر اَدھر کی بات چیت اور دوبارہ ملاقات کے وعدے کے بعد وہ لوگ بالآخر اٹھ کھڑے ہوئے۔
جب وہ واپس آرہے تھے تو مغرب کی اذان ہوئے آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا۔ سڑک پر فٹ پاتھ کے کنارے چلتے ہوئے خاور مغل کے قدموں میں بڑی شکستگی تھی۔ چاروں طرف کی فضا ٹھنڈی چاندنی میں بھیگ رہی تھی۔ خنک ہوا تانیہ کے ریشمی ملائم بالوں سے چھیڑ خانیاں کر رہی تھی۔
’’خاور بھائی۔‘‘ بالآخر ایک جگہ رک کر تانیہ نے گہری نگاہوں سے ان کا جائزہ لے کر پکارا۔
تَو کہ محبوب مجھے تھا۔ مجھے معلوم ہے یہ۔
تَو کہ محبوب مجھے تھا۔ مجھے معلوم ہے یہ۔
وہ اپنی ہی دھن میں دھیرے دھیرے گنگنا رہے تھے ارد گرد سے بے خبر، حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی بے گانہ سے ہو کر۔
’’ہوں۔‘‘ اس کی پکار پر ان کے قدم ٹھٹکے تھے۔
انہیں پکار تو لیا تھا مگر اب تانیہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کہے۔ لفظ کہیں کھو سے گئے تھے۔ کتنی عجیب بات ہے یا پھر دنیا بہت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
اس کی نمو آنٹی خاور مغل کی نیما نکلیں۔ اسے شروع سے ہی نمو آنٹی بہت اچھی لگا کرتی تھیں جب وہ میجر سجاد کی دلہن بن کر نئی نئی جہلم آئی تھی۔ ان سے پکی دوستی کرنے کے بعد وہ اکثر دل میں سوچا کرتی تھی بھلا نمو آنٹی سے زیادہ مہربان ہمدرد اور پیاری فطرت کا اور کوئی ہوسکتا ہے؟
خاور مغل کی زبانی ساری کہانی سن کر نیما صدیقی کا روشن کردار اس کے سوچوں کے سمندر میں ایک عرصہ تک ہلچل مچاتا رہا تھا۔ وہ سوچتی بھلا نمو آنٹی زیادہ اچھی ہیں یا نیما صدیقی اور جب وہ فیصلہ نہ کرپاتی تو جھنجلا کر ذہن کو کسی اور سمت لگا لیتی۔ خاور مغل کو نمو آنٹی سے ملانے کے لےے لے جاتے ہوئے بھی اس کے دل میں یہی کشمکش تازہ تھی۔
’’کہیں ایسا نہ ہو خاور بھائی ان سے مل کر کہیں۔ نیما تمہاری نمو آنٹی سے کہیں زیادہ اچھی تھی کیونکہ اس کی ایثار پسند فطرت کا کوئی جواب نہیں ہے۔‘‘
اس کے دل میں کہیں آرزو تھی کہ۔۔۔ نمو آنٹی نیما صدیقی کے مقابلے میں اگر جیتیں نا تو کم از کم ان کے برابر ضرور رہیں۔ اور یہ تو اسے خاور مغل کا چہرہ پڑھ کر ادراک ہوا تھا کہ وہ لڑکی سرتاپا جیت ہی جیت تھی۔ نیما صدیقی کے روپ میں بھی، نمو آنٹی کے روپ میں بھی مسز سجاد کے روپ میں بھی۔
کہ قربانیاں اور ایثار پسندی دل و روح کے ساتھ ساتھ روپ کو بھی نکھار دیتی ہیں۔ اک نور کا کشش آمیز ہالہ سا بنا دیتی ہیں۔
’’بے بی۔‘‘ وہ جانتے تھے کہ اس نے کیا کہنے کے لےے پکارا ہے، اس لےے اس کے بولنے کا انتظار کےے بغیر خود ہی کہنے لگے۔
’’تمہاری نمو آنٹی سے مل کر میری ایک عرصے کی ذہن میں الجھی ہوئی گتھی سلجھ گئی ہے، میں تمہارے لاہور سے جانے کے بعد اکثر اوقات سوچا کرتا تھا کہ آخروہ کون سی کشش تھی ، کون سی بات تھی جو میں اپنی زندگی کا سب سے بڑا راز ایک چھوٹی سی معصوم سی لڑکی کے سامنے کھول بیٹھا۔ آخر اس چھوٹی سی لڑکی نے میرے اندر کا بھید کیسے پالیا؟ کیسے میرے ماضی کے کواڑوں پر لگے زنگ آلود قفل کھول کر اسرار پالیا۔ اب خبر ہوئی تمہاری باتوں میں، تمہاری گفتگو میں اس کی سوچ کی خوش بو جو شامل ہوتی تھی۔ اس کے خیالوں کی اس کی ذات کی مہک مجھے تمہارے طرزِ کلام میں محسوس ہوتی تھی۔ اس کشش نے مجھے تم سے قریب کر دیا۔ یاد کرو ذرا تم بات بات پر نمو آنٹی کا حوالہ دیا کرتی تھیں۔ تم سے باتیں کر کے میں اسے خود سے بہت قریب محسوس کرتا تھا شاید اسی لےے تم سے اتنی جلدی بے تکلفی ہوگئی۔ تمہارے مزاج اور تمہارے انداز رہ رہ کر مجھے مانوسیت کا احساس دلاتے تھے۔‘‘
’’خاور بھائی!‘‘ ان کے خاموش ہونے پر تانیہ نے دھیرے سے انہیں دوبارہ مخاطب کیا۔
’’کیا آپ انہیں بتائیں گے کہ آج بھی آپ کے دل میں ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ خاور مغل نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔ ’’میں اسے خلش میں مبتلا کیوں کروں۔ اس نے بہت دکھ جھیلے ہیں۔ بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ بہت عذابوں سے گزرنے کے بعد سکھ اور سکون کی چھایا نصیب ہوئی ہے اسے، میں دبی ہوئی راکھ کرید کر اس کی پَرسکون زندگی میں زہر کیوں گھولوں؟‘‘
’’کیا آپ یہ بھی نہیں جاننا چاہیں گے کہ ان کے دل میں آپ کے لےے کیا جذبات رہے ہیں۔‘‘ تانیہ ان کے رنگ بدلتے چہرے پر نظریںجمائے ہوئے تھی۔
’’نہیں۔‘‘ انہوں نے تھکے تھکے انداز میں سانس کھینچا ’’بے بی کچھ سوال ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی خوب صورتی نوک زباں کے بجائے دل میں رہنے میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ زبان پر آجائیں تو اپنا حسن اور معانی کھو بیٹھتے ہیں۔ بعض اوقات اسرار بھی فرار کا ذریعہ بن جایا کرتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں خوش ہے۔ مطمئن ہے اسے اپنے شوہر اور بچوں کی محبت حاصل ہے۔ میرا دل اس بات پر بہت مطمئن ہے۔ میں کسی بھی طرح ماضی کے کسی تذکرے سے اس کو اس کا تلخ اور کرب ناک ماضی یاد نہیں دلانا چاہتا۔ اس کو خوش اور ہنستا بستا دیکھ کر میرے دل پر پڑی احساسِ جرم کی سل کچھ کھسک گئی ہے۔ بے بی وہ اتنی اچھی ہے کہ جس کے ساتھ بھی جہاں بھی رہے گی پھول کھلا دے گی۔ شرط یہ کہ کوئی ان پھولوں کا قدر دان بھی ہو، ہماری طرح بے قدرا نہ ہو۔ اور صد شکر کہ اسے ایسا قدر دان مل گیا ہے وہ خوش ہے۔ میں اس میں خوش ہوں۔ سچی محبت کرنے والے سو دو زیاں نہیں دیکھتے وہ محبوب کی خوشی میں خوش رہتے ہیں۔ آئو چلیں۔‘‘ وہ آگے چل پڑے تھے۔
تَو کہ محبوب مجھے تھا۔ مجھے معلوم ہے یہ۔
اپنا پسندیدہ مصرعہ گنگناتے ہوئے۔
اور سست قدموں سے ان کے پیچھے چلتی ہوئی تانیہ کے ذہن میں ان کی سنائی ہوئی نظم کے فقرے مچل رہے تھے۔
نمائش کی تحریر سے زندگی کی روایت نبھاتے بہت عمر گزری
بہت حوصلوں کی شکستوں کو پندار نے
خاموشی کے کفن میں لپیٹا
بس اب راستوں میں، درختوں کی پرچھائیوں کا سندیسہ سمجھ لو
وہ دیوار گرتی نظر آرہی ہے
قربانی لازم ہے زندگی کی نمو کے لےے
ہمدردی اور ایثار پسندی لازم ہے انانیت کا علم بلند رکھنے کے لےے۔ ہمارا پلُے سے کیا جاتا ہے جو دو گھڑی رک کر کسی کے دکھ سکھ سن لیں زندگی کو اس قدر خود غرض بھی نہیں بنا دینا چاہےے کہ زندگی کا پتا دیتی دھڑکنوں کے راگ بھی کانوں تک نہ پہنچ پائیں۔
ہوس زر اور طلب حسن کے ماسوا بھی ایک شے ہوا کرتی ہے۔ انسان دوستی۔
انہی سوچوں میں گھر قریب آتا جارہا تھا۔ بیرونی لائٹس کی روشنی نے ان کے قدموں کو جگمگا دیا تھا۔ وہ دونوں روشنی سے لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتے جارہے تھے۔
٭٭٭


