میں خواب کے سفر میں ہوں – آمنہ ریاض

Main Khowabon Kay Safar Main Hoon - Amna Riaz 1

اس نے دیکھا اور حقیقتاً دنگ رہ گئی۔ بلیک جینز کے ساتھ میرون شرٹ پہنے سن گلاسز لگائے وہ شاندار پرسنیلٹی کا مالک۔۔۔ ’’عمر مرتضیٰ‘‘ ہی تھا پروقار چال کے ساتھ ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ سجائے وہ ہوٹل کے پارکنگ ایریا کی طرف جارہا تھا۔

صنعائ نے ستون کی اوٹ میں ہو کر خود کو اس کی نگاہوں سے محفوظ کیا تھا پھر اس نے دیکھا وہ اپنی سیاہ سوک میں بیٹھا اور غائب ہوگیا۔ صنعائ کا دل اس پل جیسے دھڑکنا بھولا ہوا تھا اس کے باوجود اس نے پیشانی پر چمکتا عرق صاف کیا اور اندر کی طرف قدم بڑھا دےے۔ ریسیپشن پر جو کچھ اسے سننے کو ملا وہ پہلی حقیقت سے بھی کچھ زیادہ تلخ تھا۔ وہ شکستہ قدموں سے باہر آگئی۔ روڈ کے دائیں طرف چلتے ہوئے وہ گرد و پیش سے بالکل لا تعلق تھی۔ نہ تو کانوں میں ٹریفک کا شور سنائی دے رہا تھا اور نہ نگاہیں کسی چیز کو دیکھ رہی تھیں اس کی نگاہوں کے سامنے اس پل عمر مرتضیٰ تھا اور ۔۔۔ اور اس کے پہلو میں چلتی وہ ماہ رو۔۔۔

’’مسز عمر مرتضیٰ۔‘‘ اس کے لبوں نے بے آواز حرکت کی تھی اور اسے اپنے اندر اس پل کچھ تڑخنے کی آواز آئی تھی، ذہن میں جیسے بہت سی بھڑیں بیک وقت گھس کر بھنبھنا رہی تھیں۔ اسے اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی محسوس ہوئی اچھے خاصے موسم میں بھی وہ پسینے میں نہا چکی تھی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور اس سے پہلے کہ وہ زمین بوس ہوتی ایک مضبوط ہاتھ نے اسے تھام لیا تھا۔

ذرا سے حواس بحال ہونے پر سر اٹھا کر دیکھا چند قدم کے فاصلے پر اس کا ہاتھ تھامے وہاج مبین کھڑا تھا۔ صنعائ ابھی بھی کچھ سمجھ نہیں پائی تھی۔ وہاج کے چہرے پر رقم تشویش بھی اس کی سمجھ سے باہر تھی اس کے باوجود اپنے گھومتے سر کو سنبھالتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔

’’آر یو اوکے مس صنعائ؟‘‘ وہاج نے اس کی پیلی پڑتی رنگت کے باعث پوچھا تھا۔ صنعائ بمشکل مسکرائی۔

’’جی میں ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ یہی کہہ پائی، وہاج نے ایک پل سوچنے میں صرف کیا پھر بولا۔

’’آپ گھر جارہی ہیں؟‘‘

’’نہیں اصطبل جارہی ہوں۔‘‘ اس نے سوچا کہا نہیں۔ اس وقت کوئی بھی سوال اسے زہر لگ رہا تھا سو مختصراً ’’جی‘‘ کہہ کر خاموش ہوگئی۔

’’آئےے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ اس نے پیش کش کی تھی۔ جواب میں صنعائ نے سہولت سے منع کر دیا ۔

’’جی نہیں شکریہ میں خود چلی جائوں گی۔‘‘

’’مس صنعائ! مجھے آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔ آخر کب تک آپ سواری کے انتظار میں کھڑی رہیں گی؟

کم سے کم اپنے کلاس فیلو پر اتنا بھروسہ تو کیجےے۔۔۔ بہت شریف آدمی ہوں میں۔‘‘

اسے متردد دیکھ کر وہاج نے کار کا پچھلا دروازہ کھول دیا اس کا انداز بے حد شریر تھا۔ صنعائ اپنی سوچ کے یوں پڑھ لےے جانے پر بے حد خجل ہوئی اور مختصراً شکریہ کہہ کر بیٹھ گئی اس نے وہاج کو ایڈریس سمجھا دیا تھا اور اب وہ بے حد سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ تمام راستے اس نے صنعائ کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ پھر جب صنعائ اپنے گیٹ کے سامنے اتری تو وہ بھی اس کے ساتھ تھا۔

’’تھینک یو سو مچ۔‘‘ صنعائ نے مروت کی رسم بڑی مشکل سے نبھائی۔ حالانکہ اس پل کھڑے رہنا اسے بے حد مشکل لگ رہا تھا۔ وہاج نے مسکرا کر اس کا شکریہ قبول کیا اور بولا۔

’’تو گویا آپ مجھے گیٹ سے ہی ٹرخا دینا چاہتی ہیں۔ ایک کپ کافی کی دعوت بھی نہیں دیں گی؟‘‘

’’آ۔۔۔پ۔۔۔ کافی پئیں گے۔‘‘

’’جی بالکل۔‘‘

’’تو پھر آئےے۔‘‘ اس نے یوں کہا گویا گلے پر چھری رکھ کر منایا جارہا ہو اور اس کے انداز پر وہاج اپنی بے تحاشا امڈتی مسکراہٹ کو روک نہیں پایا تھا۔

’’یہ کافی ادھار رہی ان شائ اللہ پھر کبھی ضرور پیوں گا۔‘‘ وہ اسے اللہ حافظ کہہ کر چلا گیا۔

وہ کچھ دیر کھڑی اس کی کار کے گم ہوتے نقطے کو دیکھتی رہی پھر مرے مرے قدموں سے چلتی اندر آگئی۔

خان چاچا حسب معمول گیٹ کے قریب رکھی کرسی پر اونگھ رہے تھے۔ وہ سرخ پتھروں سے بنی روش پر چلتی برآمدے تک کا رستہ عبور کرنے لگی تبھی اس کی غیر ارادی نظر لان کے وسط میں رکھی کرسیوں پر بیٹھے لوگوں پر پڑی تھی ابی جان ،تایا ابو اور۔۔۔ اس کا حلق اندر تک کڑو اہوگیا وہاں عمر مرتضیٰ بھی تھا۔نفرت کا شدید ترین احساس اس کا محاصرہ کر رہا تھا اس سے قبل کہ وہ اندر بڑھ جاتی تایا ابو نے اسے دیکھ لیا نہ صرف دیکھ لیا بلکہ آوازبھی دے ڈالی۔ مرتی کیا نا کرتی کے مصداق وہ اس طرف آئی۔ حالانکہ اس لمحے وہ عمر مرتضیٰ کی شکل نہ تو دیکھنا چاہتی تھی اور نہ ہی اسے اپنی شکل دکھانا چاہتی تھی۔

’’السلام علیکم۔‘‘ اس کے سلام کے جواب میں تایا ابو نے اس کے سر پر بہت شفقت سے ہاتھ پھیرا تھا۔

’’کیسا ہے ہمارا بچہ؟‘‘ وہ جواباً بدقت تمام مسکرائی۔

’’دیٹس ویری گڈ۔‘‘ وہ بولے۔

’’تو پھر آئو آج اپنے بیٹے کے ہاتھوں کی چائے پئیں گے۔‘‘ وہ آرڈر دے رہے تھے یا یہ فرمائش تھی بہرحال عمل تو اسے کرنا ہی تھا سو خاموشی سے چائے بنانے لگی۔ ابی اور تایا ابو پھر سے اپنی باتوں میں کھو گئے اور چائے بناتے ہوئے وہ خود کو نگاہوں کے حصارمیں محسوس کر رہی تھی۔ سو اس پل الجھن ہونا لازمی امر تھا اور اگر چہ وہ عمر مرتضیٰ کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی پھر بھی بالکل غیر ارادی طور پر نگاہ اٹھ گئی ۔ نظر ملی اور جھک گئی۔

’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے صنعائ؟‘‘ اسے ٹٹولتی نظروں سے دیکھتے ہوئے عمر نے پوچھا تھا۔

’’ہاں۔‘‘ نہ چاہنے کے باوجود جواب تو دینا ہی تھا۔

’’میں تمہارے کالج گیا تھا کافی انتظار بھی کیا تھا میں نے لیکن تم وہاں تھی ہی نہیں۔‘‘

’’میں فارحہ کی طرف چلی گئی تھی۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا (توبہ ذلیل گھنا شخص نہ ہو تو میرے کندھے پہ بندوق رکھ کر چلا رہا ہے) عمر نے اس جواب پر کسی قدر حیرت سے اسے دیکھا تھا لیکن فوراً ہی سرجھٹک دیا۔ صنعائ نے دو کپ چائے بنائی اور ابی اور تایا ابو کو کپ تھما کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔ عمر اس کے پیچھے ہی چلا آیا تھا۔

’’تمہیں پتا ہے ماما نیکسٹ ویک انگلینڈ سے واپس آرہی ہیں۔‘‘ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ صنعائ نے کوئی رسپانس ظاہر نہیں کیا وہ ہنوز سر جھکائے اپنے قدم گن رہی تھی۔

’’ماما کے آتے ہی میں انہیں یہاں لے آئوں گا بس اب میں مزید انتظار نہیں کر سکتا۔‘‘

صنعائ کے قدم تھم گئے اس نے ایک جھٹکے سے سر اٹھا کر عمر کو دیکھا تھا جس کے قدم اس کے ساتھ ہی رک گئے تھے اور اب وہ اپنی پرشوق نگاہیں لےے اسے دیکھ رہا تھا۔

’’کس قدر دوغلے ہو تم عمر مرتضیٰ۔۔۔ لیکن اب فکر مت کرو تمہاری قسمت میں صرف انتظار ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ وہ دل میں اس سے مخاطب تھی۔

’’آج تمہاری آنکھیں بھی مجھ سے وہ کہہ رہی ہیں جو میرا دل اکثر مجھ سے کہتا ہے یعنی یہ کہ میں بہت ہینڈ سم ہوں۔‘‘ صنعائ کو اس کی شوخی زہر لگی تھی سو قدم آگے بڑھا دےے۔

’’صنعائ۔‘‘ اس نے پکارا وہ رکی نہیں تب وہ لمبے ڈگ بھر کر اس کے سامنے آن رکا۔

’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا صنعائ؟‘‘ اس کے لہجے کی تشویش صنعائ کو ڈھونگ لگی آنکھوں سے جھلکتا فکر بھی دھوکا لگا۔

’’میں بالکل ٹھیک ہوں۔‘‘ اپنے اندر اٹھتے ابال کو دباتے ہوئے اس نے کہا تو وہ بولا۔

’’لیکن مجھے لگ رہا ہے کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ وہ بضد تھا صنعائ چڑھ گئی۔

’’فکر مت کرو مرتی نہیں میں۔‘‘

’’تمہیں مرنے کون دے گا؟‘‘ سینے پر بازو لپیٹتے ہوئے عمر نے بہت معنی خیز انداز میں کہا تھا اور اب وہ رکی نہیں تھی بلکہ تیزی سے اندر چلی گئی تھی۔ اس کا رویہ عمر مرتضیٰ کی فہم سے بالا تر تھا۔

٭٭٭

گلاس وال کے قریب اپنے دو زانو کے گرد بازو لپیٹے وہ وال کے اس طرف چھم چھم برستی بارش میں بھیگتے کنیر کے درخت کو دیکھ رہی تھی۔ اسے پتا تھا کنیر کے سفید پھول ابھی بھی مہک سے لبریز ہیں مگر نہ جانے کیوں رشتے سچائی سے خالی ہوچکے تھے اس نے کنیر کے پتوں کو ہوا کی تال پر رقص کرتے دیکھا اور اس کے اپنے ہی کانوں میں اپنی ہی آواز بھٹکنے لگی۔

آنکھوں کو چھو رہے ہیں ستاروں کے نرم ہاتھ

پلکوں پہ آرکی ہے تمنائے کہکشاں

زلفوں کی تار تار سے پھوٹی ہیں مستیاں

ہونٹوں کو چومتی ہے شرارت سے چاندنی

پیروں کی لغزشیں ہیں صراحی کی ہچکیاں

رستوں میں ہر طرف میں گل یاسمین کھلے

خوشبو میں کیوں نہ گوندھ لیں کرنوں کے ہار ہم

سنتے ہیں چاندنی یونہی برسے گی رات بھر

مجھ کو پکارےے تو ذرا احتیاط سے

ایسا نہ ہو کہ کانچ کی دیوار گر پڑے

میں خواب کے سفر میں ہوں

آہستہ بولےے

’’کنیر کا درخت، درخت پر سجے سفید پھول، دودھیا پتیوں میں لدی مہک اور چاندنی میں بھیگی پرفسوں رات اور۔۔۔ اور وہ شخص۔‘‘ خاموش سسکی پانی بن کر اس کی سرمئی آنکھوں میں بکھر گئی لیکن اس نے پلکیں جھپکی نہ تھیں۔ سانسوں میں دکھ ہلکورے لینے لگا۔ خواب کا سفر ابھی جاری تھا۔ ’’وہ شخص‘‘ ابھی بھی اپنی شگفتہ دلفریب مسکراہٹ اور بولتی نگاہوں کے ساتھ کنیر کے درخت تلے بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔

’’اپیا۔‘‘

’’آہ۔‘‘ اس نے یک لخت پلکیں موند لیں۔ منظر کھو گیا۔ کانچ کی دیوار گر گئی اور خواب کا سفر ادھورا رہ گیا۔

’’اپیا! آپ کا فون ہے۔‘‘ خجستہ نے اسے پھر پکارا تھا وہ اٹھی اور ٹیلی فون اسٹینڈ تک آگئی۔ کچھ فاصلے پر ہی صوفوں کے درمیان کشن پر عمر مرتضیٰ براجمان تھا۔ وہ خجستہ اور رافع کے ساتھ کارڈز کھیل رہا تھا۔ صنعائ کی انگلیوں میں کھد بد ہونے لگی وہ اس دھوکے باز کا چہرہ نوچ لینے کو بے چین تھی۔

’’ہیلو۔‘‘ اس نے ریسیور کان سے لگالیا۔ دوسری طرف ڈاکٹر وہاج عارف تھے۔ اس کا ہائوس جاب ابھی کچھ روز قبل ہی شروع ہوا تھا اور ڈاکٹر وہاج اور اس کی ڈیوٹی ایک ہی ہاسپٹل میں لگی تھی۔ اس نے فون بند کیا تو عمر نے پکار لیا۔

’’تمہارے بہن بھائی مجھے تنہا دیکھ کر بہت بے ایمانی کر رہے ہیں تم میری پارٹنر بن جائو ممکن ہے جو کام میں تنہا نہیں کر پارہا وہ ہم مل کر کرلیں۔‘‘ اس نے گھور کر عمر کو دیکھا۔ خجستہ اور رافع بھی اسے شمولیت کی دعوت دے رہے تھے۔ وہ مڑی اور دھپ دھپ کرتی سیڑھیاں عبور کر گئی۔

’’انہیں کیا ہوا؟‘‘ رافع حیرت سے بولا تھا اور عمر کی فراخ پیشانی پر ہلکی سی سلوٹ نمودار ہو کر غائب ہوگئی تھی۔ اس نے کمرے کا دروازہ دھاڑ سے بند کیا اور دھپ سے بیڈ پر گر کر رونا شروع کر دیا۔ غصہ کسی بھی انسان کو نہیں رلاتا وہ بے بسی ہوتی ہے جو آنکھوں میں ٹھہرے پانی کو بہہ جانے پر مجبور کرتی ہے اسے عمر مرتضیٰ سے نفرت محسوس ہورہی تھی۔ کتنا بڑا دھوکے باز تھا وہ۔۔ اسے تو کبھی خبر ہی نہ ہوسکتی کہ عمر اس کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے یہ تقریباً دو ہفتہ پہلے کی بات ہے جب زائرہ نے اس سے یونہی پوچھا تھا۔

’’تمہارے تایا کا گھر ڈیفنس میں ہے نا صنعائ؟‘‘

’’ہاں ہے تو۔۔۔ لیکن وہ آج کل خالی ہے۔۔۔ کچھ عرصہ قبل۔۔۔ آں لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو۔‘‘

’’نہیں یونہی۔‘‘ زائرہ کا انداز سوچتا ہوا تھا۔ ’’اچھا یہ بتائو ان کے گھر کا گیٹ چاکلیٹی شیڈ کا ہے نا؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ صنعائ کو سوچنا نہیں پڑا تھا وہ کئی بار وہاں جا چکی تھی۔

’’اور تمہارے تایا کا نام قمر ہے نا۔۔۔ قمر مرتضیٰ۔‘‘

’’ہاں۔‘‘ وہ چڑ سی گئی یہ پے در پے سوال اسے تشویش میں مبتلا کر رہے تھے۔

’’یو نو صنعائ! میری پھپھو کا گھر بھی اسی لین میں ہے جہاں تمہارے تایا کا گھر ہے۔‘‘

’’ سو واٹ؟ اس لائن میں اور بہت سے گھر بھی ہوں گے۔‘‘

’’صنعائ! میں لاسٹ ویک اپنی پھپھو کے یہاں چند روز رہنے کے لےے گئی تھی۔ تم کہہ رہی ہو کہ تمہارے تایا کا گھر خالی ہے جبکہ میرا خیال ہے کہ تمہیں اس بارے میں غلط فہمی ہے۔ اس گھر میں پچھلے ایک مہینے سے کوئی رہ رہا ہے۔‘‘

’’لاسٹ ٹائم میں وہاں مینا کے ساتھ ڈیڑھ ماہ پہلے گئی تھی۔‘‘ اس نے کچھ سوچتے ہوئے عمر کی بہن کا نام لیا۔

’’ممکن ہے تایا ابو نے اب وہ گھر رینٹ پر دے دیا ہو۔‘‘ اس نے اپنا خیال ظاہر کیا تو زائرہ بولی۔

’’اونہہ! وہ گھر رینٹ پر نہیں دیا گیا۔‘‘

’’تو پھر؟‘‘

’’تمہیں پتا ہے صنعائ! اس گھر میں پچھلے ایک ماہ سے ایک لڑکی رہ رہی ہے خدیجہ نام ہے اس کا اور جانتی ہو اس کے ساتھ کون رہ رہا ہے۔۔۔ عمر۔۔۔ عمر مرتضیٰ۔۔۔ تمہارا تایا زاد۔‘‘ اور صنعائ پر ہفت اقلیم لرزے تھے وہ کچھ بول ہی نہ پائی۔

’’میں غلط نہیں کہہ رہی صنعائ! مجھے اپنی آنکھوں پر پورا یقین ہے۔ وہ تمہارا کزن عمر ہی ہے میں نے خود ان دونوں کو بارہا گاڑی میں آتے جاتے دیکھا ہے۔‘‘

’’تمہیں غلط فہمی ہوئی ہوگی زائرہ۔‘‘ اس نے جیسے خود کو یقین دلایا تھا۔

’’غلط فہمی ایک بار ہوتی ہے ڈیئر! بار بار نہیں۔‘‘ زائرہ نے زور دے کر کہا تھا۔

’’میں نے بتایا نا کہ کئی بار ان دونوں کو میں آتے جاتے دیکھ چکی ہوں بلکہ میں نے تو عمر کو پہچان کر ان کے آنے جانے کی ٹائمنگز بھی نوٹ کی تھیں عام طور پر صبح گیارہ، ساڑھے گیارہ بجے تک وہ دونوں وہیں پر ہوتے ہیں اور رات کو دس بجے کے بعد ہی آتے ہیں۔ نا صرف یہ بلکہ میں نے کئی ایک بار سیاہ شیشوں والی گاڑی کو بھی وہاں آتے جاتے دیکھا ہے۔‘‘

’’نہیں زائرہ! مجھے ابھی بھی یقین نہیں آرہا عم۔۔۔ عمر۔۔۔ دھوکا نہیں دے سکتا مجھے؟‘‘

اسے زائرہ کی بات پر غصہ سا آگیا تھا۔

’’خدا کرے ایسا ہی ہو۔‘‘ زائرہ بی بی نے بھس میں چنگاری لگا کر موضوع بدل دیا مگر وہ کچھ ایسی الجھی کہ اگلے دو دن اسی الجھن کی نذر ہوگئے اسے عمر پر پورا بھروسا تھا اس کے باوجود زائرہ کی اس قدر وثوق سے کہی ہوئی باتیں اس کے ذہن و دل میں کھٹک رہی تھیں۔

’’خود ہی پریشان ہوتے رہنے سے بہتر ہے کہ میں وہاں جا کر دیکھ لوں۔‘‘ اس نے سوچا اور اگلے روز دس بجے کے قریب ہی وہاں پہنچ گئی تھی۔ کال بیل پر انگلی رکھتے ہوئے اس کا دل گھبرایا تھا لیکن اگلے پل اس نے خود کو عمر کی وفا کا یقین دلاتے ہوئے بٹن دبا دیا۔ ایک، تین چار اور پھر پانچویں دفعہ بھی بیل بجانے پر گیٹ نہ کھلا تو اس کی بے چینی بڑھنے لگی۔ ایک آخری کوشش کے طور پر اس نے پھر سے بٹن پر انگلی رکھ دی۔

’’او گاڈ۔‘‘ عمر سخت جھنجلایا ہوا برآمد ہوا اسے دیکھ کر چہرے کے تاثرات حیرانی میں بدلے تھے۔

’’تم۔۔۔؟‘‘ صنعائ کو نہ جانے کیوں گھبراہٹ سی ہوئی۔

’’افوہ کم سے کم یہ صور پھونکنا تو بند کرو۔‘‘ وہ چلایا تھا۔ صنعائ نے فوراً بیل سے ہاتھ ہٹالیا ہر طرف جیسے سکون چھایا تھا۔

’’تم یہاں کیسے؟‘‘ عمر نے کلائی پر بندھی گھڑی پر نگاہ ڈالی تھی۔

’’آں۔۔۔ میں تم سے ملنے آئی تھی۔‘‘ وہ گڑ بڑائی پھر سنبھل کر بولی۔

’’تم مجھ سے ملنے آئی تھیں؟‘‘ عمر کے انداز میں بے یقینی تھی۔

’’کیوں۔ میں تم سے ملنے نہیں آسکتی؟‘‘ وہ اپنی کیفیت عمر پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔

’’وہ بات نہیں ہے لیکن۔۔۔ لیکن تمہیں کس نے بتایا کہ میں یہاں ہوں۔‘‘

وہ ایک بار پھر عمر کے سادہ سے سوال پر ٹھٹکی۔ یہاں آتے وقت اس نے اس متوقع سوال کے متعلق نہیں سوچا تھا۔

’’مجھے میرے دل نے بتایا تھا۔‘‘ اپنی ہر کیفیت پر قابو پاتے ہوئے اس نے بہت بشاشت سے کہا تھا۔

’’آ۔۔۔اچھا۔‘‘ عمر کا قہقہہ بڑا بے ساختہ تھا۔ صنعائ نے جھینپتے ہوئے مسکرانے پر اکتفا کیا تھا وہ جلد از جلد اندر جانا چاہتی تھی۔

’’عمر! تم کیا مجھے یہاں سے ہی واپس بھیج دینا چاہ رہے ہو؟‘‘ خدشہ زبان پر مچلا تو وہ یک دم چونکا۔

’’ارے آئو۔‘‘ اس نے ایک طرف ہو کر اسے راستہ دیا تھا اور جب وہ لائونج میں داخل ہوئی تو وہاں صرف خاموشی تھی۔

’’تم اکیلے ہو یہاں؟‘‘ درزدیدہ نگاہوں سے کسی وجود کو کھوجتے ہوئے اسے اپنے اس قدر احمقانہ سوال کے معیار کا ذرا بھی اندازہ نہیں ہوا۔

’’نہیں۔‘‘ عمر نے گلاس وال کا بھاری پردہ ہٹاتے ہوئے کہا تو وہ دھک سے رہ گئی۔

’’تو کیا واقعی۔۔۔؟‘‘ اور آگے ایک بڑا سا سوالیہ نشان تھا۔

’’تم جو میرے ساتھ ہو۔‘‘ عمر مسکراتے ہوئے اس کے سامنے آبیٹھا۔ صنعائ کا سانس بحال ہوا لیکن لمحہ بھر کو اس کے دل میں سوال ابھرا تھا ’’بھلا چور بھی کبھی چوری کا اعتراف کرتا ہے؟‘‘

’’تم اتنے آرام سے کیوں بیٹھ رہے ہو؟‘‘

’’تو کیا چھلانگیں لگائوں؟‘‘ عمر نے اس کا جملہ پکڑا تھا۔ صنعائ گھور کر رہ گئی ۔

’’دراصل میں ابھی سو کر اٹھا ہوں۔۔۔‘‘ وہ بتانے لگا۔ نیلے ٹرائوزر کے ساتھ ملگجی سی سفید ٹی شرٹ اس کے جملے کی تائید کر رہی تھی۔ وہ ایک دم اس کی بات کاٹ کر بولی۔

’’تم فریش ہوجائو میں تمہارے لےے اچھی سی کافی بناتی ہوں۔‘‘عمر نے ایک نظر اسے دیکھا پھر گھٹنوں پر کہنیاں رکھ کر کسی قدر آگے جھکا۔

’’محترمہ! ساری زندگی میں نے آپ ہی کے ہاتھ کی کافی پینی ہے۔ آج آپ میری مہمان ہیں لہٰذا اپنی خدمت کا موقع ہمیںدیجےے۔‘‘ اس سادہ سے فقرے میں جھلکتی چاہ نے اس وقت زائرہ کے الفاظ کو دھو دیا تھا۔

’’یہاں قریب ہی ایک نیا چائنیز ریسٹورنٹ کھلا ہے میں شاور لے لوں پھر ہم وہیں چل کر اچھا سا لنچ کریں گے۔‘‘ وہ اپنی لو دیتی آنکھوں کا تاثر اس کے پاس چھوڑ کر اندر چلا گیا۔ اسے اپنی سوچ پر اس وقت بے حد شرمندگی ہوئی تھی۔

’’آئی ایم سوری عمر! میں نے تم پہ شک کیا۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کی اور اطمینان سے بیٹھ کر عمر کا انتظار کرنے لگی اس وقت نہ جانے کیوں اس کے ذہن میں یہ بات نہیں آئی تھی کہ عمر نے یہ سب کچھ اسے وہاں سے جلد از جلد بھگانے کے لےے کہا ہے۔

اور پھر میڈیکل کی ٹف پڑھائی میں الجھ کر وہ ہر بات بھول گئی اور جب سب کچھ بھول گئی تو وہ واقعہ ہوا جس نے اسے پھر ٹھٹکنے پر مجبور کر دیا۔ اس ٹف روٹین سے ذرا فراغت ملی تو اس نے عمر کو فون کر ڈالا۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیںتھا وہ اکثر عمر کو کال کرلیا کرتی تھی۔

’’عمر صاحب تو آفس میں نہیں ہیں آپ ان کے موبائل پر ٹرائی کر لیجےے۔‘‘ اس کی سیکریٹری کے کہنے پر وہ عمر کا موبائل نمبر پریس کرنے لگی۔ ظاہر ہے کہ اس کے خیال میں دوسری طرف عمر کو ہی ہونا چاہےے تھا۔ لیکن اس جانب سے آتی نسوانی آواز نے اسے حیرت میں ڈال دیا تھا۔ خطرے کا الارم پھر سے بجنے لگا ایک خوف پھر سے زندہ ہوا تھا۔ اس نے کچھ بھی کہے بغیر فون بند کر دیا تھا اور کچھ دیر بعد اس کے شک پر یقین کی پہلی مہر ثبت ہوچکی تھی۔ اس نے ڈیفنس والے بنگلے کا فون نمبر پریس کیا تھا اور اس طرف سے آنے والی نسوانی آواز اور عمر کے موبائل پر سنائی دینے والی آواز ایک ہی تھی۔

اور پھر کسی بھی تائیدی مہر کی ضرورت نہیں رہی اس دن وہ فارحہ کے گھر چلی گئی تھی اور وہاں سے فارحہ اسے زبردستی مارکیٹ لے گئی تھی ڈھیر ساری شاپنگ کر لینے کے بعد وہ اسے ہوٹل لے آئی جہاں اس نے عمر اور مسز عمر کو دیکھا تھا۔

٭٭٭

نہ جانے یہ بہت زیادہ سونے کا اثر تھا یا بہت دیر تک نیند کی گود میں سر رکھ کر سسکنے کا اثر تھا کہ اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ سرمیں بھی درد ہورہا تھا۔ نیند کی وادی میں اترتے وقت جو احساس اس کے ہمراہ تھا وہ نیند کی وادی سے لوٹ آنے کے بعد بھی ساتھ ساتھ ہی تھا اس نے بے بس ہو کر سر ہاتھوں میں تھام لیا۔ چائے کے ایک کپ کی شدید طلب اسے جکڑے ہوئے تھی اس کے باوجود وہ کمبل میں دبکی رہی اسے یقین تھا کہ عمر مرتضیٰ ابھی بھی وہیں موجود ہے جب سے تائی جان اپنے بڑے بیٹے کے پاس انگلینڈ گئی تھیں اس کا زیادہ وقت یہیں گزر رہا تھا۔ پھر جب اسے یقین ہوگیا کہ وہ جا چکا ہوگا تب وہ کمرے سے باہر آگئی لیکن کچن میں عمر کو دیکھ کر اس کو شدید کوفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

’’السلام علیکم۔‘‘ اس نے بغیر کسی کو مخاطب کےے بڑی بے دلی سے سلام کیا، جواباً با آواز بلند کورس میں اس پر بھی سلامتی بھیجی گئی تھی۔

’’اپیا! جلدی سے ’’ت‘‘ سے اچھا سا شعر سنائیں۔‘‘ رافع اسے دیکھتے ہی چلُایا تھا۔

’’دس از فائول تم اپیا کوکیوں شامل کر رہے ہو۔‘‘ خجستہ نے آنکھیں نکالی تھیں۔ صنعائ نے انہیں الجھتے دیکھا اور کوئی بھی دھیان دےے بغیر بلا وجہ کیبنٹ کھول کر کھڑی ہوگئی۔

’’اور اپیا سے تو تم نہ ہی پوچھو ڈاکٹرز کی شعر و شاعری والی حس کافی کمزور ہوتی ہے۔‘‘

’’کیوں بھئی یہ اپنے ڈاکٹر عفان بھی تو ہیں۔‘‘ عمر کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی اور اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہاں کوئی اور بھی موجود ہے۔ وہ پلٹی ڈاکٹر عفان اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ وہ اس کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔

’’آئی ایم سوری عفان بھائی! میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں۔‘‘

’’اٹس اوکے ڈیئر! ویسے بھی کچھ عرصے سے تمہیں سبھی لوگ نظر آنا بند ہوگئے ہیں۔‘‘

انہوں نے متبسم لہجے میں کہتے ہوئے بہت شریر سے انداز میں عمر کو دیکھا تھا۔ وہ ان کا اشارہ سمجھ گئی ۔ یقینا کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ضرور ان کی بات کو انجوائے کرتی مگر اب تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس پل عمر کی جانب دیکھے بغیر بھی وہ جانتی تھی کہ اس کے چہرے پر بڑی دلکش و شگفتہ (جھوٹی) مسکان بکھری ہوئی ہے۔

’’کب آئے آپ؟‘‘ وہ عفان کی بات کو یکسر نظر انداز کر کے بولی۔

’’کافی دیر پہلے آیا تھا میں لیکن تم سو رہی تھیں۔‘‘ انہوں نے کہا تب رافع بولا۔

’’اپیا! وہ شعر کیا ہوا؟‘‘

’’مجھے نہیں آتے یہ شعر ویر۔‘‘ وہ چڑ گئی تھی اور وجہ عمر مرتضیٰ کی طواف کرتی نگاہیں تھیں۔ اس نے رخ پھیرا اور الیکٹرک کیٹل میں پانی ڈالنے لگی۔

’’ویسے بھی یہ شعر و شاعری فضول لوگوں کے کام ہیں انہیں کو مبارک ہوں۔‘‘ اس نے صاف عمر پر چوٹ کی تھی کہ وہ اس کے اس شغف سے بخوبی واقف تھی۔ اس کی ذاتی لائبریری آدھی سے زیادہ شعری ادب سے بھری ہوئی تھی بلکہ صنعائ تو اکثر اسے چھیڑا کرتی تھی۔

’’یہ ایم بی اے اور شاعری کا ملاپ کچھ سمجھ میں نہیں آتا؟‘‘ وہ کہتی۔

’’ڈاکٹری اور بزنس کا ملاپ بھی تو سمجھ میں نہیں آتا محترمہ۔‘‘ جواب ملتا اور وہ چڑانے کے چکر میں خود چڑ جاتی تھی یہ الگ بات ہے کہ اسے عمر کی یہ بات بہت بعد میں سمجھ آئی تھی اب بھی یہی ہوا تھا اسے خود ہی چڑنا پڑا تھا کہ سب لوگ اس پر چڑھ دوڑے تھے سوائے عمر کے، وہ خاموش بیٹھا رہا تھا۔

’’یہ تو ٹھیک بات نہیں ہے صنعائ! شعر و شاعری اگر فضول لوگوں کا کام ہوتی تو علامہ اقبال بھلا کیوں شاعری کرتے۔ تمہیں فوراً سے بیشتر اپنے الفاظ واپس لے لینے چاہئیں۔‘‘

’’چھوڑو عفان! بھلا بندر کیا جانے ادرک کامزا؟ خیر۔۔۔‘‘ عمر کی بات پر رافع اور خجستہ کی کھی کھی شروع ہوگئی تھی۔ صنعائ نے عمر کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا اس پتھر کے جواب میں کوئی اینٹ اس کے خزانے میں نہیں تھی۔

’’ت‘‘ سے میں شعر سنا دیتا ہوں۔ اپیا کی طرف سے۔‘‘

’’عمر بھائی! وہ ہماری اپیا ہیں۔‘‘ رافع نے یاد دلایا۔

’’ایسی سڑی بھنی اپیا تمہیں مبارک ہو۔‘‘ اس نے کہا پھر اس کی گھورتی نگاہوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔

تم جیسی آنکھوں والے جب ساحل کے کنارے آتے ہیں

لہریں تب شور مچاتی ہیں لو آج سمندر ڈوب گیا

تینوں اطراف سے اسے داد موصول ہوئی تھی جسے مسکراتے ہوئے وہ وصول کر رہا تھا۔ صنعائ نے اپنے سلگتے وجود سمیت رخ پھیرا اور کیٹل کی طرف متوجہ ہوگئی۔

’’بس بھئی یہ مقابلہ یہیں ختم، مجھے گھر جانا ہے۔‘‘ عفان کی آواز پر وہ بادل ناخواستہ پھر پلٹی۔ عفان اپنی جگہ سے کھڑے ہوچکے تھے۔

’’رکےے عفان بھائی! میں آپ کے لےے چائے بنا رہی ہوں۔‘‘

’’نہیں بھئی! چائے تو میں پی چکا ہوں۔ یہ چائے تم پیو یا اپنے خاص مہمانوں کو پلائو۔‘‘ انہوں نے پھر عمر کی طرف اشارہ کیا تو وہ سنجیدگی سے بولی۔

’’میرے لےے آپ ہی خاص ہیں۔‘‘ اب کی بار عفان کا قہقہہ کچن میں گونجا تھا۔

’’کم آن صنعائ۔۔۔ میرا خیال ہے کہ مجھے یہاں سے چلے ہی جانا چاہےے اس سے پہلے کہ عمر مجھے اپنا رقیب سمجھنے لگے۔‘‘ ان کا لہجہ و انداز حد درجہ شریر تھا اسے بھی ہنسی آگئی جسے اس نے بہت آسانی سے چھپا لیا تھا۔

’’آپ تو یوں مت کہیں۔‘‘ جواباً انہوں نے بے بسی سے کندھے اچکائے تو وہ ہنسی روک نہیں پائی۔

’’پھپھو کو میرا سلام کہےے گا۔‘‘ وہ عفان کو پورچ تک چھوڑنے جارہی تھی لیکن عفان کے ساتھ ہی رافع اور خجستہ باہر نکل گئے اور یک دم اس کے سامنے آکر عمر نے راستہ روک لیا۔

’’کیا تکلیف ہے؟‘‘ وہ اپنی ناگواری کسی طور چھپا نہیں پائی تھی۔ عمر نے سنجیدگی سے سینے پر بازو باندھے اور بولا۔

’’میرا دل کھو گیا ہے ڈاکٹر صاحبہ۔‘‘ دھوکا، ڈھونگ، فریب اسے ہر جذبہ بس یہی لگ رہا تھا۔

’’تمہارا دل کھویا ہے اور میرا تو اعتماد کھو گیا ہے۔۔۔ کہاں تلاش کروں میں اسے۔‘‘ اس کے دل میں گونج ابھری تھی جو اس کی اپنی آواز سے مشابہ تھی۔ وہ مڑی اور شیلف کے پاس جا رکی ۔

’’مجھے تمہیں یہ کہنا تھا کہ تمہاری اسی بلکہ اس سے کچھ زیادہ دلکش مسکراہٹ کے حق دار ہم بھی ہیں۔‘‘ وہ وہیں کھڑا کہہ رہا تھا۔ صنعائ کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔

’’جنہیں اپنے فرائض یاد نہ رہتے ہوں انہیں اپنے حقوق بھی یاد نہیں رکھنے چاہئیں مسٹر عمر۔‘‘ اس نے ہر لفظ کو دانتوں تلے پیس ڈالا تھا۔ عمر نے اسے بہت گہری نظر سے دیکھا۔

’’تم سے کس نے کہا کہ میں اپنے فرائض بھول گیا ہوں۔۔۔ نہیں بھئی مجھے اپنے سبھی فرائض یاد ہیں۔‘‘ وہ دھیرے سے چلتا اس کے بے حد قریب آن رکا تھا۔

’’بلکہ ان میں سے کچھ فرائض تو میں ابھی بھی پورے کرنے کے لےے تیار ہوں۔‘‘ اس کی مسکراتی نگاہوں کی شوخیاں عروج پر تھیں۔ صنعائ کے اطراف میں عمر مرتضیٰ کی خوشبو حصار باندھنے لگی ان پَرفریب لمحوں میں کھوجانے کا اب سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس نے کچھ کہنا چاہا اسی پل خجستہ کچن میں داخل ہوئی تھی۔ نگاہوں اور جذبوں کی سحر طرازیاں (مصنوعی) ایک پل میں ٹوٹی تھیں ان دونوں نے بیک وقت خجستہ کی جانب دیکھا تھا۔

’’شاید میں غلط وقت پر آگئی۔‘‘ بہت شوخی سے کہہ کر وہ مڑنے لگی لیکن صنعائ کی پکار نے روک دیا۔

’’یہ چائے میرے کمرے میں دے جانا۔‘‘ کڑے تیوروں میں کہتے ہوئے وہ عمر پر نگاہ ڈالے بغیر باہر نکل گئی۔

٭٭٭

بازو کا تکیہ بنائے چت لیٹا وہ چھت کو گھورتے ہوئے مسلسل ایک ہی نہج پر سوچ رہا تھا۔ صنعائ کا عجیب سا رویہ وہ کافی دنوں سے نوٹ کر رہا تھا لیکن ہر بار اسے اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹک دیتا تھا مگر آج بطور خاص اس نے صنعائ کا جائزہ لیا تھا اور۔۔۔

فون کی بیل نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔ وہ چونکا اور ریسیور اٹھانے سے قبل وہ سر جھٹک کر وہم کو پیچھے دھکیل چکا تھا۔

’’میں خدیجہ بول رہی ہوں۔‘‘

’’پہچان گیا ہوںجناب۔‘‘ وہ بشاشت سے کہتا اٹھ بیٹھا تھا۔ وہ ہنس دی۔

’’اچھا کیا کر رہے ہو؟‘‘ خدیجہ نے عجلت سے دریافت کیا۔

’’فی الوقت تو تم سے بات کر رہا ہوں اور اس سے پہلے صنعائ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔‘‘ اس نے بہت آرام سے جواب دیا۔ دوسری طرف اگلے کچھ لمحے کے لےے سکوت چھایا تھا۔ نام کی حد تک وہ صنعائ سے واقف ہی تھی البتہ ملاقات ابھی تک نہیں ہوسکی تھی۔

’’عمر۔۔۔ کہیں صنعائ کو شک تو نہیں ہوگیا۔‘‘ وہ اندیشہ ظاہر کر رہی تھی۔

’’کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ اور میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔‘‘

’’ہاں غلط کام تو نہیں ہے لیکن پھر بھی تمہیں صنعائ کو اعتماد میں لینا چاہےے تھا۔‘‘

’’دیر تو اب بھی نہیں ہوئی۔۔۔ میں اسے اب بھی یہ سب بتا سکتا ہوں۔‘‘ وہ جیسے کچھ سوچ کر بولا تھا۔

’’وہ خفا ہوگی؟‘‘ خدیجہ پوچھ رہی تھی۔ عمر زور سے ہنس دیا۔

’’ہوگی۔۔ بلکہ شاید ہے بہرحال میں اس کی ناراضی دور کر دوں گا وہ بہت اچھی ہے میری بات سمجھ لے گی۔‘‘ عمر کے لہجے میں اس کے لےے مان تھا۔

’’اچھا سنو، میں نے مچھلی کے پکوڑے بنائے ہیں کھانے ہوں تو جلدی سے آجائو۔‘‘

اور مچھلی کے پکوڑے اس کی ازلی کمزوری تھے سو فٹافٹ تیار ہوگیا اور جب وہ اپنی سیاہ سوک میں سوار ہونے کو تھا تب اس کی نظر اپنی اسپورٹس بائیک پر پڑی تھی اس نے سوچا اور بائیک پر سوار ہوگیا۔ کالونی کا روڈ مڑ کر داہنی طرف سے مین روڈ شروع ہوتا تھا اور جب کچھ ہونا ہوتا ہے تو محرک خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں۔ داہنی طرف سے آنے والا ٹرک اس کی نگاہوں سے اوجھل رہا تھا نتیجتاً بائیک ٹرک سے ٹکرائی اور وہ اچھل کر دور جا گرا تھا۔

٭٭٭

جس پل وہ کمرے میں داخل ہوئی عمر گہری نیند سو رہا تھا۔ وہ وہیں دروازے کے قریب رک کر اسے بغور دیکھنے لگی۔ اس ملگجے اندھیرے میں اس کی رنگت کی زردیاں بہت نمایاں تھیں۔ اس ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں اس کے گھٹنے پر شدید چوٹ آئی تھی یہاں تک کہ وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہوگیا تھا۔ ڈاکٹر نے اسے مکمل بیڈ ریسٹ کی تلقین کی تھی جسے پس پشت ڈال کر وہ چلنے کی کوشش کرتا رہا تھا نتیجتاً اب وہ بغیر کسی سہارے کے چلنے لگا تھا۔

یہ سب معلومات اسے اس گھر کے جز وقتی ملازم اخلاق ماما سے موصول ہوئی تھیں کہ آج وہ بہت دنوں بعد یہاں آئی تھی۔ جن دنوں عمر ہاسپٹل میں تھا وہ ایک دو بار ہی خجستہ اور رافع کے ساتھ وہاں گئی تھی (اپنی مرضی سے) لیکن بعد میں اسے وقتاً فوقتاً جانا پڑا تھا کہ تایا ابو نے تائی جان کو عمر کے ایکسیڈنٹ کی خبر نہیں دی تھی وہ تو پہلے ہی دل کی مریضہ تھیں اس قسم کی کوئی بھی خبر ان کے لےے نقصان دہ ہوسکتی تھی پھر عمر نے خود بھی انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔

عمر کو شاید کمرے میں پھیل جانے والی یہ مدھم روشنی تنگ کر رہی تھی۔ صنعائ نے اسے کسمساتے دیکھا تو بہت آہستگی سے دروازہ بند کر کے باہر آگئی۔ اس کا رخ لان کی سیڑھیوں کی جانب تھا جہاں بیٹھ کر وہ لان کے دوسری جانب کھڑی علیک کی ہری ڈالیوں کو دیکھنے لگی تھی جس پر کھلے نارنجی اور زرد رنگ کے پھول اب کسی قدر مرجھا چکے تھے۔ پچھلی دیوار کی سفید گرل کے ساتھ لپٹی ہری بیل اس وقت ہوا کی گدگدی سے لطف اندوز ہورہی تھی۔

صنعائ نے اپنی ہتھیلیاں آپس میں رگڑ کر ہاتھ گود میں چھپالےے۔ آسمان پر بکھرے سرمئی بادل موسم کی خنکی میں اضافہ کر رہے تھے اور صنعائ کے گرد صرف ایک احساس کی سرگوشیاں تھیں کتنی ہی دیر وہ خالی الذہن بیٹھی رہی پھر جیسے تھک کر واپس عمر کے کمرے کی طرف آگئی۔

دروازہ ذرا سا وا تھا اس نے ناک کرنے کی زحمت نہیں کی۔ اندر داخل ہوئی تو بیڈ خالی تھا۔ جبکہ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔ اس نے کھڑکی سے پردے ہٹادےے ۔ کمرے کی خاموش فضائ میں روشنی کا ردھم بکھر گیا۔ وہ وہیں ایزی چیئر پر بیٹھ کر انتظار کرنے لگی۔ دل میں چاہے کیسی ہی رنجش سہی لیکن بہرحال بیمار کی عیادت تو وہ کر ہی سکتی تھی اور اسے وہاں بیٹھے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا عمر کا موبائل گنگنانے لگا۔ وہ یونہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی پھر جیسے تھک کر موبائل کان سے لگالیا۔ عمر باہر آ نہیں رہا تھا اور موبائل کی ایک تواتر سے بجتی گھنٹی نے اسے زچ کر دیا تھا اور ابھی اس نے موبائل کان سے لگایا ہی تھا کہ دوسری طرف سے آتی سراسیمہ مضطرب آواز اس کی رگوں میں دوڑتا خون پل بھر کو منجمد کر گئی۔

’’عمر۔۔۔ عمر میرے بابا کو ہمارے نکاح کی خبر مل گئی ہے۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کروں تم پلیز۔۔۔‘‘ اس نے موبائل آف کر دیا۔ اس نمی گھلی سریلی آواز کو وہ بخوبی پہچان گئی تھی شاید تبھی لب و لہجے کی سراسیمگی پر دھیان نہیں دے پائی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑے بے جان پرزے کو بیڈ پر رکھا جو ایک بار پھر چیخ چیخ کر دہائیاں دینے لگا تھا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔

اس کا رخ پورچ کی طرف تھا جہاں گریش بلیو شیراڈ اس کی منتظر تھی۔ ٹریفک سے بھرے ہوئے روڈ پر کسی بھی سگنل کے پروا کےے بغیر وہ کار دوڑا رہی تھی اور کانوں میں وہی آواز گونج رہی تھی اور اس کے اضطراب میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے وہ جیسے راستے کی ہر چیز کو تباہ کر دینا چاہتی تھی۔ ہتھیلیاں بے حد مضبوطی سے اسٹیئرنگ پر جمائے ہوئے تھی۔ اس کے اندر کی وحشت باہر نکل کر اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کہ اس کا پائوں بے اختیار بریکس پر جا رکا۔ گاڑی زور دار جھٹکے سے رکی وہ بھی جیسے ایک جھٹکے سے تھمی۔ اپنے بے تحاشا دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے وہ یوں گہرے گہرے سانس لے رہی تھی گویا خود کہیں دور سے بھاگتی آرہی ہو۔ پھر دل کی دھڑکن اعتدال کی پٹری پر گامزن ہوئی۔ سانس نے بحالی کا سگنل دیا۔ صنعائ کی آنکھوں میں مرچیں کچھ اور بڑھ گئیں دوسرے پل جیسے وہ بے بس ہو کر اسٹیئرنگ سے پیشانی ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔ اس کا شکست خوردہ وجود ہچکولے کھا رہا تھا اور سسکیاں گاڑی کے بند شیشوں میں بھٹک رہی تھیں۔۔۔ دل کی مکینوں کی بے وفائی دکھ تو دیتی ہی ہے نا۔

٭٭٭

وفا جب مصلحت کی شال اوڑھے

سرد رت کا روپ دھاڑے

دل کے آنگن میں اتری ہے

تو پلکوں پہ ستاروں کی دھنک مسکانے لگتی ہے

کبھی خوابوں کے ان چھوٹے ہیولوں سے بھی

ان دیکھی سی انجانی سی خوشبو آنے لگتی ہے

کسی کے سنگ بیتے، ان گنت لمحوں کی زنجیریں

اچانک ذہن میں جب گنگناتی ہیں

نفس کے تار میں سنُاٹا یک دم چیخ اٹھتا ہے

تو یوں محسوس ہوتا ہے

ہوائیں آکے سرگوشی سی کرتی ہیں

محبت کا تمہیں ادراک اب تو ہوگیا ہوگا

یہ جو بھی زخم دیتی ہے کبھی سینے نہیں دیتی

محبت روٹھ جائے تو کبھی جینے نہیں دیتی

بہت پہلے۔۔۔ نہ جانے کب۔۔۔؟ اس نے یہ نظم پڑھی تھی یا شاید کہیں سنی تھی اور دیگر اصناف شاعری کی طرح یہ بھی اس کے سر سے گزر گئی تھی مگر آج نہ جانے کیوںوہ بھولی بھٹکی نظم ذہن کے دالان میں بھٹکتی پھر رہی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ سوچ کے دروازے پر بڑی زور زور سے دستک بھی دے رہی تھی۔ اس کا کچا گھڑا جسے وہ اپنے تئیں بہت مضبوط سمجھ رہی تھی۔ تڑخ گیا تھا اور وہ اس نظم کے کچھ حصوں پر ایمان لے آئی تھی۔ اسے محبت کا ادراک ہوگیا تھا۔

وہ ادراک۔۔۔ جو حقیقی تھا۔

وہ ادراک۔۔۔ جس کی بوند بوند میں تلخی کا سیال تھا۔

وہ ادراک۔۔۔ جس کی کمان میں، جھوٹ، فریب، ڈھونگ کے تیر تھے۔

اور وہ ادراک۔۔۔ جس نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔

’’کیا محبت یہی ہے؟ وعدہ کسی ایک سے اور ایفائ کی رسم کسی اور کے ساتھ نبھانا۔‘‘

قدآدم آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنے جھلملاتے عکس سے ایک موہوم سی امید کے سہارے پوچھ رہی تھی۔ جواب نہیں آیا۔ جھلملاتے عکس کے وجود پر چڑھا آزردگی کا لبادہ مسکرا رہا تھا۔ لیکن وہ اس کے دل کی حالت سے بخوبی واقف تھی لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ عمر مرتضیٰ نے اس کے ساتھ ایسا کیوں کیا؟اور اب تو اسے محرک جاننے کی ضرورت بھی نہ تھی وہ خود پرخلوص تھی اور دوسروں سے بھی اسی قسم کے خلوص کی متقاضی تھی۔ اب اس کے پیش نظر صرف ایک چیز تھی اور وہ تھی دھوکا دہی۔

اس نے خود پر ایک آخری تنقیدی نگاہ ڈالی اور ساڑھی کا پلو درست کرتی اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ آج خجستہ کی رسم منگنی تھی۔ اسے پہلے ہی ہاسپٹل سے واپسی میں دیر ہوگئی تھی اور اب کچھ اور دیر ہوگئی تھی کہ خجستہ کے سسرال والے آچکے تھے وہ سیدھی لان میں آگئی۔

قمقموں سے مزین لان کی آج تو چھپ ہی نرالی تھی۔ ا س نے دور سے عمر مرتضیٰ کو دیکھا جو بلیک ڈنر سوٹ میں آج بھی ہمیشہ کی طرح شاندار لگ رہا تھا اسی پل عمر نے اس کی طرف دیکھا تھا نظر ملتے ہی اس نے اشارے سے اسے قریب بلایا تھا۔ صنعائ نے دیکھی ’’ان دیکھی‘‘ کر دی اور خجستہ کی طرف آگئی جو اسٹیج پر بیٹھی مسلسل اپنی فرینڈز سے باتیں بگھار رہی تھی اور جب خجستہ کے ساتھ تصویریں بنواکر اور مووی بنوا کر اور کسی حد تک اکتا کر وہ اسٹیج سے اترنے لگی تب عمر کو اس نے اپنی جانب آتے دیکھا وہ واپس خجستہ کے پہلو میں جا بیٹھی کم سے کم آج وہ دل کی بھڑاس نکالنا نہیں چاہتی تھی اور اسے یقین تھا کہ اگر عمر نے اسے مخاطب کیا تو وہ خود پہ قابو نہیں رکھ پائے گی۔

انگوٹھی پہنانے کی رسم ہوگئی اور اس کے بعد ویٹرز کھانا سرو کرنے کو یہاں وہاں بھاگتے پھر رہے تھے۔ خجستہ کی بڑی بہن ہونے کی حیثیت سے وہ پیش پیش مگر کترائی کترائی تھی اس نے اپنے سبھی کولیگز کو بھی انوائٹ کر رکھا تھا کچھ وقت ان لوگوں کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ جیسے تھک گئی اب یہ مصنوعی مسکراہٹ اور خوش دلی کا کھیل نہیں کھیل سکتی تھی سو سب سے نظر بچا کر ٹیرس پر آگئی۔ سامنے ہی نامکمل تاریخوں کا ادھورا چاند مسکرا رہا تھا۔ خنک فضا میں عجیب سی باس رچی ہوئی تھی جو سانس میں اتر کر جسم پر کپکپی طاری کر رہی تھی۔ اس نے سر اٹھایا اور سیاہ پردے پر جگر جگر کرتے ہیروں کو دیکھنے لگی۔ آسودگی یہاں بھی نہیں تھی لہٰذا وہ دھیرے دھیرے چلتی مشرقی دیوار تک آن رکی۔ اس نے اپنی کہنیاں دیوار پر رکھ دیں۔ سامنے ہی سنبل کا بڑا سا درخت تھا جس کی خوابیدہ شاخیں اب بھی مسکرا رہی تھیں۔ نہ جانے کتنی ہی خزائیں اس درخت پر اپنے پنکھ پھیلا چکی تھیں مگر آج۔۔ وہ آج بھی یونہی ہرا بھرا اور زندگی کی حرارت سے لبریز تھا جیسے کبھی خزاں نے اسے چھوا ہی نہ ہو۔ صنعائ کو ایک خیال ملا۔

’’تو کیا مجھ پر چھائی ہوئی خزاں بھی گزر جائے گی۔ کیا میں عمر کی بے وفائی کے ساتھ خوش رہ سکوں گی؟‘‘ اس کے ذہن میں سوال گونجا تو ہارا ہوا دل تاویلیں دینے لگا۔

’’خزاں تو وقتی ہے گزر ہی جائے گی بہار کو آنا ہے سو ضرور آئے گی۔‘‘ اور دوسرے سوال پر دل کے ہونٹ بھنچ گئے۔ وہاں خاموشی تھی۔۔۔ خلا تھا۔۔۔ آزردگی تھی۔۔۔ ہار جانے کا شدید احساس تھا اور پھر سب سے زیادہ ٹھیس تو انا کو لگی تھی۔

’’یقینا وہ لڑکی مجھ سے زیادہ خوب صورت ہو گی۔‘‘ اس کے ذہن میں وہ سرسری جھلک چمکی۔ اس کا احساس کمتری جاگا تھا۔ وہ کوئی بہت خوب صورت لڑکی نہیں تھی اور یہی احساس ہمیشہ سے اس کے ساتھ رہا تھا جسے اس کی شخصیت سے کھینچ کر نکالنے والا عمر مرتضیٰ ہی تھا۔ آج ایک بار پھر وہ اسی احساس کا شکار ہوئی تھی اور یہ احساس دینے والا بھی وہی تھا۔

’’لیکن اگر اسے یہی سب کرنا تھا تو وہ کیوں آیا میری زندگی میں؟‘‘ وہ پھر سے بھڑبھڑ جلنے لگی تھی۔ شکستگی کہیں اندر سر پٹخنے لگی تھی اس کا دل چاہا وہ عمر مرتضیٰ کا چہرہ ہی نوچ ڈالے اسی پل ایک خوشبو اس کے پیچھے آکر ٹھہر گئی۔ عمر کے مخصوص پرفیوم کی مہک وہ بخوبی پہچان سکتی تھی وہ مڑی اور تیزی سے وہاں سے چلی جانا چاہتی تھی کہ عمر نے بنا کسی تمہید کے کہا۔

’’کیا ضرورت تھی تمہیں اس قسم کی ڈریسنگ کرنے کی۔ تم کوئی اور ڈریس بھی پہن سکتی تھیں اور یہ میک اپ۔۔۔‘‘ صنعائ نے کسی قدر حیرت سے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے عمر مرتضیٰ کو دیکھا جو سینے پر بازو لپیٹے کوٹ سے بے نیاز تھا۔ اس نے ابھی جو کہا تھا آنکھیں اس کے برعکس کہہ رہی تھیں۔

’’تم کون ہوتے ہومیری ڈریسنگ پر اعتراض کرنے والے؟ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا مجھے روکنے کا۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں ناگواری سمٹ آئی کہ اس کا ڈریس اور میک اپ بے حد مناسب تھا۔

’’محترمہ ہمیں ہی تو حق ہے آپ کو روکنے کا، آپ کو ٹوکنے کا، آپ کو دیکھنے کا، آپ کو سراہنے کا اور۔۔۔ آپ کو چاہنے کا۔‘‘ لہجہ و انداز یک دم ہی بدلا تھا۔ جملہ دل فریب تھا لیکن عمر کی قصیدہ گو آنکھوں اور مسکراتے ہونٹوں نے صنعائ پر الٹا اثر کیا۔ اس کا زخم از سر نو ٹیسیں دینے لگا تھا۔

’’دیکھےے مسٹر عمر مرتضیٰ۔۔۔‘‘ وہ انگلی اٹھا کر کچھ کہنا چاہتی تھی۔

’’فرمائےے مسز عمر مرتضیٰ۔‘‘ عمر نے اس کی اٹھی ہوئی انگلی مٹھی میں جکڑتے ہوئے بے حد متبسم لہجے میں دریافت کیا اور صنعائ تو جیسے انگاروں کی زد میں آگئی۔ اسے اس دھوکے باز شخص کے دو رخے پن سے نفرت ہورہی تھی اس نے ایک جھٹکے سے اپنی انگلی اس کی گرفت سے آزاد کروالی۔

’’نہیں عمر! تمہیں کوئی حق نہیں ہے کیونکہ میرے اور تمہارے درمیان کوئی تعلق کوئی رشتہ ہی نہیں ہے۔نہ دوستی کا، نہ کزنز کا اور ۔۔۔ اور نہ نکاح کا۔‘‘ وہ تنفر اڑا کر خاموش ہوگئی جبکہ عمر کی آنکھوں میں محض اچنبھا تھا۔

’’کیا رشتے توڑ دینا۔۔۔ لا تعلق ہوجانا اتنا ہی آسان ہے صنعائ؟‘‘ ایک طویل خاموشی کے بعد وہ بولا۔ صنعائ دکھ سے ہنس دی۔

’’یہ بات تمہیں خود سے پوچھنی چاہےے عمر۔۔۔ زیادہ صحیح جواب پائو گے۔‘‘ اس نے گہرا طنز عمر کے منہ پر دے مارا۔

’’میں تمہارے اس فیصلے کی وجہ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘ عمر کا انداز دو ٹوک تھا۔ وہ پھر ہنس دی طنز سے۔

’’جیسے تم تو واقف ہی نہیں۔‘‘

’’پہیلیاں مت بجھوائو صنعائ! میں وجہ جاننا چاہتا ہوں۔‘‘

’’کیا یہ وجہ کافی نہیں ہے عمر کہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘ اس نے بغیر سوچے سمجھے کہا اور کچھ دیر بعد وہ اپنے بیڈ پر لیٹی نہ صرف آنکھوں سے بلکہ دل سے بھی رو رہی تھی۔

’’کہنے اور کرنے میں بارہا بہت فرق ہوتا ہے۔‘‘

٭٭٭

اس نے بند آنکھیں کھولیں سامنے کھلا آسمان تھا۔ اس وقت وہ بلڈنگ کے ففتھ فلور میں اپنے آفس کی کھڑکی کے قریب کھڑا تھا۔ بند شیشے کے اس جانب سے نظر آنے والی بڑی بڑی بلڈنگز میں اس کے لےے کوئی اٹریکشن نہ تھی۔ نیچے بھاگتے دوڑتے ٹریفک کا شور اس تک نہیں پہنچ رہا تھا وہ وہاں سے ہٹا اور ریوالونگ چیئر پر آ بیٹھا۔

’’کیا یہ وجہ کافی نہیں ہے کہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔‘‘ کوئی اس کے بہت قریب چلایا تھا وہ بالکل ہی بے دم ہوگیا۔ بہت تکلیف سے آنکھیں بھینچتے ہوئے اس نے کمر پشت سے ٹکا دی۔

تنہائی کا ایک یہی فائدہ بہت ہے کہ انسان اپنے ہر جذبے کا اظہار پوری شدت سے کر سکتا ہے۔ وہ بھی ریزہ، ریزہ ہونے کے عمل سے گزر رہا تھا۔ پچھلے سترہ دنوںمیں اس نے ہر طرح سے خود کویہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ ’’صنعا ارتضی پر دنیا ختم نہیں ہوجاتی۔‘‘

اور آج وہ ہار گیا تھا کوئی اندر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔

’’صنعائ ارتضیٰ پر دنیا ختم ہوجاتی ہے۔‘‘ اس کی دنیا بھی ختم ہوگئی تھی۔ صنعائ اس کی کزن تھی پھر بہترین دوست اور سب سے بڑھ کر وہ اس کی منکوحہ تھی۔

یہ بہت پہلے کی بات ہے جب اس نے اپنے دل کے کسی کونے میں صنعائ کے لےے پسندیدگی محسوس کی تھی۔ پسندیدگی شاید محبت کی طرف پہلا قدم ہوتی ہے وہ بھی پہلا قدم بے اختیاری میں اٹھا چکا تھا اس کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا قدم بھی خود بخود اٹھ گیا۔ چچی کے انتقال کے وقت اس نے صنعائ کو روتے دیکھا تھا اور تب خود سے عہد کیا تھا کہ وہ ان آنکھوں کو خوشیاں دے کر سارے آنسو خود لے لے گا۔ خوش قسمت سمجھتا تھا وہ خود کو کہ راہ میں ظالم سماج نہیں آیا جیسا کہ اس کے دوست مرتضیٰ کے ساتھ ہوا تھا۔ عمر نے اپنی پسند کا اظہار پاپا سے کیا اور سب کچھ طے ہوگیا، منگنی کے ایک سال بعد ہی ان دونوں کی ایمائ پر ان کا نکاح کر دیا گیا۔ تب صنعائ نے میڈیکل کالج میں ایڈمیشن لیا ہی تھا۔ اسے اب بھی یاد تھا کہ نکاح کی رات صنعائ نے اسے اپنے گھر کے لان میں تنے کنیر کے درخت تلے بیٹھ کر ایک بہت خوب صورت نظم سنائی تھی۔

میں خواب کے سفر میں ہوں

آہستہ بولےے

کتنا خوش تھا وہ اسے پا کر جیسے کائنات مٹھی میں سما گئی ہو۔ روح نے اپنا گم شدہ حصہ پالیا ہو۔ لیکن کیا صنعائ کی مٹھی میں اتنی وسعت آئی تھی؟ کیا اس کی روح بھی اپنے گمشدہ حصے کو پا کر مکمل ہوگئی تھی؟ اگر نہیں تو خواب کا سفر کیوں شروع کیا گیا تھا؟ آہستہ بولنے کی تلقین کیا بے معنی تھی؟

اپنے والٹ میں لگی اس کی تصویر پر نظریں ٹکائے وہ کسی اور دنیا کی سیر کر رہا تھا ابھی تو وہ اسے یہ بھی بتا نہیں پایا تھا کہ ان سرمئی جھیلوں میں ڈوب کر ابھرنے کو دل نہیں چاہتا۔ بلکہ اس رات وہ گیا تھا اپنی دیوی کے چرنوں میں ستائش کے چند بول دان کرنے اور بدلے میں دیوی نے اسے لفظوں کے تھپڑ دے مارے اور تھپڑ جو حقیقی چوٹ سے زیادہ پرتکلیف تھے۔

وہ آفس سے نکلا اور گھر چل دیا اور روڈ پر سست روی سے کار چلاتے ہوئے یک لخت سوچ کا ایک در اس پر وا ہوا تھا۔ اسے وہ دن یاد آنے لگا جب اس نے صنعائ کو وہاج مبین کی کار میں دیکھا تھا وہ اسے گھر ڈراپ کرنے آیا تھا اور اس کے دریافت کرنے پر صنعائ نے ’’میں فارحہ کے گھر چلی گئی تھی‘‘ کہا تھا۔ لہجہ و انداز کی تیزی اس کے جھوٹ کی دلیل تھی پھر فارحہ کے گھر وہاج مبین کا کیا کام؟ وہ اسے بخوبی جانتا تھا کہ وہاج کے فادر کسی زمانے میں ان کے بزنس پارٹنر رہ چکے تھے۔ عمر کے ہاتھوں کی گرفت اسٹیرنگ پر مضبوط ہوگئی۔

اس کی موجودگی میں صنعائ نے وقتاً فوقتاً اس کے فون کالز ریسیو کےے تھے۔ عمر کے جبڑے بڑی سختی سے ایک دوسرے پر جم گئے۔

خجستہ کی منگنی والے روز وہ کتنی ہی دیر وہاج کے ساتھ بہت خوش گوار موڈ میں گفتگو کرتی رہی تھی اور اس کے بعد۔۔۔ وہیں ٹیرس پر۔۔۔ عمر کی کنپٹی کے قریب رگیں ابھرنے لگیں۔

’’اوہ! تو یہ ہے نفرت کی اصل وجہ۔‘‘ وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گیا اور اضمحلال ارد گرد اپنے پنکھ بکھیرنے لگا۔

’’عمر! یہاں آئو۔‘‘ اسے اپنے کمرے کی طرف بڑھتا دیکھ کر ماما نے پکارا تھا وہ عشق کی بازی ہارا ہوا، تھکا ماندہ جواری سست روی سے چلتا ان کے قریب آگیا۔

’’بیٹھو۔‘‘ انہوں نے اسے بغور دیکھتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ گرنے کے سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ تکان اس کے ہر انداز سے ہویدا تھی۔

’’عمر! یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی؟‘‘ آنکھیں بند ہونے کی بنا پر وہ ماما کی ٹٹولتی نگاہیں نہیں دیکھ سکا البتہ ان کے لہجے کی تشویش اس نے اپنے اندر تک محسوس کی تھی۔

’’کیا میرے سر پر سینگ نکل آئے ہیں ماما؟‘‘ اس نے اندر کی حالت سے منہ موڑ کرمسکراتے ہوئے ان کی بات کو مزاح کا رنگ دینا چاہا مگر وہ ہنوز سنجیدگی سے بولیں۔

’’میری بات کو مذاق میں مت اڑائو عمر! میں پچھلے کئی دنوں سے تمہارا رویہ نوٹ کر رہی ہوں آخر تم اپنی پریشانی شیئر کیوں نہیں کر لیتے۔‘‘ وہ اپنی ماں کا متفکر چہرہ دیکھ کرمسکرایا۔

’’ایسی کوئی بات نہیں ہے ماما! بس آفس میں کا کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔‘‘ اس نے عذر تراشا حالانکہ دور کوئی ہنسا تھا۔

بھڑکتی آگ تو پانی بجھا دے گا

دھواں چھپتا نہیں ہر گز چھپانے سے

ماما کہہ رہی تھیں۔

’’کیا ضرورت ہے آخر اتنا بار لینے کی۔‘‘ ان کی ڈپٹ میں بھی محبت کا عنصر غالب تھا۔

’’اچھا عمر! میں کل ارتضیٰ کی طرف جارہی ہوں۔‘‘ انہوں نے سرسری انداز میں اپنے اکلوتے دیور کا نام لے کر چینل سرچنگ شروع کر دی لیکن عمر ٹھٹک گیا۔

’’میں اور تمہارے پاپا رخصتی کی ڈیٹ فکس کرنے جارہے ہیں بس اب صنعائ کو اس گھر میں آجانا چاہےے۔‘‘

’’آپ مجھے اطلاع دے رہی ہیںیا میری رائے مانگ رہی ہیں۔‘‘ اس نے پوچھا۔

’’تم جو بھی سمجھو۔‘‘ وہ ٹی وی آف کر کے اس کی جانب متوجہ ہوئیں۔

’’میں نے آپ سے پہلے بھی کہا تھا ماما کہ میںیہ سب ابھی نہیں چاہتا۔‘‘ اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ ماما بھڑک اٹھیں۔

’’آج تم مجھے بتا ہی دو کہ تم چاہتے کیا ہو پچھلے تین مہینوں سے تم نے یہی رٹ لگا رکھی ہے پہلے تو چلو صنعائ کی پڑھائی آڑے آتی تھی مگر اب کیا تکلیف ہے۔۔۔؟‘‘

’’کوئی تکلیف نہیں ہے بس میں کہہ چکا کہ۔۔۔‘‘

’’اپنا کہنا سننا سنبھال کر رکھو لڑکے۔۔۔ بس ہم نے کہہ دیا رخصتی تو ہو کر ہی رہے گی اور وہ بھی انشائ اللہ عنقریب۔‘‘ وہ گھرک کر دو ٹوک لہجے میں بولیں اور اسی چیز نے عمر کو چڑا دیا۔

’’ماما میں۔۔۔‘‘

’’بس ختم کرو عمر! میں اب اپنی بہو کو لا کر ہی رہوں گی۔‘‘

’’ٹھیک ہے جو آپ کے دل میں آئے وہ کریں۔ میں کچھ بھی نہیں کہوں گا لیکن کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل اپنی اس لاڈو رانی بہو سے ضرور پوچھ لیجےے گا۔‘‘ وہ بے اختیار کہہ گیا۔ ماما چونکیں۔

’’ہوں۔۔۔ مجھے تو پہلے ہی شک تھا کہ تمہارے اس انکار کے پیچھے تم دونوں کی ملی بھگت ہے۔‘‘ وہ مشکوک ہوئیں۔

’’ماما ٹرائے ٹو انڈر اسٹینڈ می۔‘‘ وہ زچ ہوگیا۔

’’میں نے ابھی اپنا بزنس اسٹیبلش کیا ہے اور فی الحال یکسو ہو کر اس کی طرف دھیان دینا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ لجاجت سے بولا۔

’’عمر! اس اکتوبر میں پورے انتیس کے ہوجائو گے تم۔‘‘ وہ جیسے اطلاع دے رہی تھی۔

’’ہماری ڈسکشن سے عمر کا کیا تعلق؟‘‘

’’بالکل تعلق ہے مسز فراز کا بیٹا بھی تمہارا ہم عمر ہے اور ماشائ اللہ اپنی ماں کو دو بچوں کی دادی بنا چکا ہے۔‘‘ انہوں نے دلیل دی۔

’’تو اب کیا مسز فراز سے مقابلہ کرتے ہوئے آپ اگلے سال تک چار بچوں کی دادی بننا چاہتی ہیں سوری ماما۔۔۔ دس از ناٹ پاسبل۔‘‘

’’کیا ممکن ہے اور کیا ناممکن یہ مجھے بتانے کی کوشش مت کرو اور شادی کے بعد صنعائ تمہیں باندھ نہیں دے گی تم تب بھی بزنس کی طرف پورا دھیان دے سکتے ہو۔‘‘

’’ماما میں بزنس کو ترقی دینا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے پھر بودی دلیل دینی چاہی اور اب کے ماما واقعی چڑ گئیں۔

’’بزنس کو ترقی دینے میں نہ جانے کتنا وقت لگ جائے تب تک کیا تم صنعائ کو بٹھائے رکھو گے۔‘‘

’’آپ کہیں تو آج ہی فارغ کردوں اسے؟‘‘ اس نے پھر مذاق میں کہا لیکن ماما اندر تک دہل گئیں۔

’’عمر۔۔۔‘‘ مارے صدمے کے وہ یہی کہہ پائیں۔

’’وہ تمہارے آفس میں کام کرنے والی کوئی ورکر نہیں ہے جسے تم بیٹھے بیٹھائے یا کھڑے کھڑے فارغ کر دو بیوی ہے وہ تمہاری۔‘‘

انہیں حقیقتاً اپنی انتیس سالہ خرد مند بیٹے کی سوچ پر افسوس ہوا تھا۔ تبھی تو ناگواری نے ان کی پیشانی پر سلوٹیں ڈال دی تھیں۔

’’ہاں بیوی ہے وہ میری جس سے میں نے محبت کی جسے میں نے اپنا سبھی کچھ سمجھا اور وہ میری بیوی۔۔۔ میری منکوحہ اپنی آنکھوں میں کسی اور کی رفاقت کے خواب سجائے بیٹھی ہے۔‘‘

’’کیا کہہ رہے ہو تم؟‘‘ اسے زیرِ لب بڑبڑاتے دیکھ کر انہوں نے پوچھا۔

’’کچھ نہیں صرف یہ کہ میں تھک گیا ہوں آرام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ وہ کھڑے ہوتے ہوئے پتا نہیں اجازت طلب کر رہا تھا یا انہیں اطلاع دے رہا تھا بہرحال ماما نے گردن ہلائی اور ٹی وی آن کر لیا۔ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس نے ایک بار مڑ کر انہیں دیکھا تھا وہ بظاہر ٹی وی پر نگاہیں جمائے ہوئے تھیں مگر چہرہ کسی گہری سوچ کا غماز تھا۔ عمر کو فیصلہ کرنے میں بس ایک پل لگا اپنے کمرے میں پہنچنے کے کچھ دیر بعد وہ انٹرنیشنل ایئر لائنیز میں انگلینڈ کی سیٹ بک کروا چکا تھا۔

٭٭٭

’’اپیا! آپ کو پتا ہے عمر بھائی انگلینڈ چلے گئے ہیں۔‘‘ رافع نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اپنے تئیں دھماکا کیا تھا اور دھماکا تو واقعی ہوا تھا لیکن اس کے بعد صنعائ کے دل میں سکوت چھا گیا تھا۔

’’ہاں مجھے معلوم ہے۔۔۔ عمر نے بتایا تھا مجھے۔‘‘ اس نے سہولت سے بات بنائی۔

’’کمال ہے ہم سے تو کوئی ذکر ہی نہیں کرتا۔‘‘ خجستہ نے فوراً شکوہ کیا کچھ اس قسم کے تاثرات رافع کے چہرے پر تھے۔ صنعائ نے باری باری دونوں کے چہرے کی طرف دیکھا۔

’’یہ شکوہ تم اپنے عمر بھائی سے کرنا جواب شکوہ زیادہ بہتر پیرائے میں سننے کو ملے گا۔‘‘

وہ سہولت سے سارا بار عمر کے کندھوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہوگئی لیکن ایک صدمہ ایک چبھن تو بہر حال تھی ہی۔

’’کاش عمر کہ تم نے ایک بار تو پورے استحقاق سے میری مرضی تبدیل کرنے کی کوشش کی ہوتی ہمارے بیچ کا تعلق اتنا کمزور تو نہیں تھا کہ تم یونہی چلے گئے۔‘‘

خواہشیں کرنا کہاں انسان کے بس میں ہوتا ہے وہ عمر کی خاموشی پرآرزدہ ہورہی تھی اور پھر جیسے اس نے اپنا ہی خیال جھٹک دیا۔

’’بھلا وہ کیوں میری مرضی تبدیل کرنے کی کوشش کرتا بلکہ وہ تو شکر ادا کر رہا ہوگا کہ مصیبت خود ہی ٹل گئی۔‘‘ اس کی نگاہوں کے سامنے عمرکے ساتھ گزارے ہوئے لمحے کسی فلم کی طرح چل رہے تھے اور اب وہ لمحے اس کے سامنے کارڈز اور گفٹس کی صورت میں بکھرے پڑے تھے جو عمر وقتاً فوقتاً مختلف مواقعوں پر اسے دیتا رہا تھا اس نے تو عمر کے دےے ہوئے پھول بھی اب تک کسی متاع کی طرح سنبھال کر رکھے ہوئے تھے جن میں سے کچھ کی پتیاں بھی اب سوکھ کر جھڑکی چکی تھیں۔

بچپن کا بیشتر دور انہوں نے ایک ساتھ گزرا تھا باوجود اس کے کہ عمر اس سے پانچ سال بڑا تھا وہ اس کی پکی دوست ہوا کرتی تھی جس کا برتھ ڈے تو وہ خیر کبھی بھولتا ہی نہ تھا اور اس کے ساتھ ہی اگر کبھی وہ کسی ٹیسٹ میں اچھے مارکس لے لیتی تب بھی وہ بطور خاص اس کے لےے گفٹ لایا کرتا تھا اور جب اس نے میٹرک میں بہت شاندار نمبر لےے تھے تو سب سے زیادہ خوشی کا اظہار عمر نے ہی کیا تھا اور تب پہلی بار عمر نے اسے گفٹ میں گولڈ کا کنگن دیا تھا۔

’’مجھے خواتین کی جیولری میں سب سے زیادہ یہی پسند ہے اسی لےے میں تمہارے لےے یہ ہی لے آیا۔‘‘ اس کی کلائی میں کنگن پہناتے ہوئے عمر نے کہا تھا اور اس کے بعد صنعائ وہ کنگن خود سے جدا نہیں کر پائی تھی۔ اسے اب بھی اپنی منگنی کے فنکشن والے روز عمر کی خوشی سے دمکتی صورت یاد آرہی تھی اور نکاح والے روز بھی تو وہ کتنا خوش تھا۔

’’اب تم اپنی پڑھائی جلدی سے مکمل کرلو۔ جیسے ہی تمہاری پڑھائی مکمل ہوگی اگلے روز ہم ورلڈ ٹور پر نکل جائیں گے۔‘‘ تالی بجاتے ہوئے تب اس نے بڑے جوش سے پروگرام سیٹ کیا تھا اور اب تو اس کی پڑھائی ختم ہوئے بھی کم و بیش ایک سال گزر چکاتھا۔

پھر یوں ہوا کہ حزن اس کی سرمئی آنکھوں میں مستقل سکونت اختیار کر گیا۔ بہار تو نہیں آئی البتہ خزاں کے پنکھ محیط سے محیط تر ہوتے گئے اور نہ جانے کتنا عرصہ گزر گیا شاید دو یا تین سال۔۔۔ ابی جان نے ابھی تک اس سے اس خاص حوالے کا ذکر نہیں کیا لیکن ان کے چہرے پر بڑھتا اضمحلال اسے اندر ہی اندر کاٹنے لگا۔

عمر کے انگلینڈ جانے سے قبل رخصتی کی بات اٹھی تھی اسے پتا تھا کہ تائی جان بہت ایکسائیٹڈ تھیں مگر عمر کا یوں چلے جانا سارے جوش پر پانی پھیر گیا تھا۔ ابی جان ملول اور تایا ابو اور تائی جان الگ شرمندہ شرمندہ سے تھے اب تو انہوں نے ان کے یہاں آنا بھی کم کر دیا تھا۔ اس نے بارہا چاہا کہ ان سب کو عمر مرتضیٰ کے کارنامے سے آگاہ کر دے مگر ابی کی بگڑتی حال کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہ دیتی تھی پھر انہی دنوں خجستہ کے سسرال کی طرف سے شادی کے لےے اصرار بڑھ گیا۔ ابی معترض تھے وہ صنعائ سے پہلے خجستہ کو رخصت نہیں کرنا چاہتے تھے اور پھر بہت سوچ لینے کے بعد وہ اپنے بڑے بھائی قمر مرتضیٰ کے یہاں پہنچ گئے۔

٭٭٭

میرے پاس تو اپنے لےے بھی اکثر کوئی وقت نہ تھا

ہاں جو فراغت کے لمحے تھے تیری یاد کے نام رہے

سفیدے کے درخت تلے برائون سنگی بینچ پر سیاہ اوور آل کی جیبوں میں ہاتھ گھسائے وہ سامنے خاموش، ساکت جھیل کے یخ بستہ پانی کو دیکھ رہا تھا۔ یادوں کے خزاں رسیدہ پتے اس کی جھولی کو بھرتے ہی جارہے تھے کہر کی دبیز تہ میں ڈوبے شہر کے قمقمے روشن ہوچکے تھے اور وہ یہاں تنہا بیٹھا یادوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔

کتنا عرصہ گزر گیا تھا اسے دیکھے ہوئے جس کی تصویر دل پر نقش تھی۔

کتنا وقت بیت چکا تھا اس کی آواز سنے ہوئے جس کی آواز اس کی سماعت میں رس گھولتی تھی۔۔۔ وہ جس پر ہر اختیار رکھتے ہوئے بھی وہ بے اختیار تھا اور وہ ہر فیصلہ صنعائ کے سپرد کر کے ایک طرف ہوگیا تھا وہ اس کا فیصلہ سننے کا منتظر تھا لیکن اس طرف بالکل خاموشی تھی اسے لگا کہ شاید صنعائ اس کا کندھا استعمال کرنا چاہتی ہے سو اس خیال نے اسے اپنا کندھا کھینچ لینے پر مجبور کر دیا مگر اسے کیا خبر تھی کہ ابھی بھی ہر الزام اس کے سر آئے گا۔

’’آخر تم ہمیں اپنا فیصلہ سنا کیوں نہیں دیتے۔‘‘ کچھ روز قبل پاپا نے اسے فون پر خوب ہی ڈانٹ پلائی تھی۔

’’خجستہ کے سسرال والے شادی کی ڈیٹ مانگ رہے ہیں جبکہ ارتضیٰ خجستہ کو صنعائ سے پہلے رخصت نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ تم مجھے بتائو عمر! آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ کہیں۔۔۔ کہیں۔۔۔ کسی اور لڑکی کا چکر تو نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے اپنا خدشہ بیان کیا۔

’’پاپا۔‘‘ عمر کا انداز سراسر ٹوکنے والا تھا۔

’’اچھا تو پھر کیا تمہارے اور صنعائ کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہے۔ کچھ تو کہو عمر! کیوں ہم سب کو الجھن میں ڈال رکھا ہے تم نے۔۔۔ ادھر صنعائ کچھ نہیں کہتی اور ادھر تم گونگے کا گڑ کھائے بیٹھے ہو۔‘‘ وہ رکے پھر بولے۔

’’ٹھیک ہے عمر! پھر یوں چپ کی بکل مارے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا تم صنعائ کو طلاق دے دو۔‘‘ اور اس نے بے اختیار موبائل آف کر دیا تھا یہ انتہائی قدم وہ اٹھانا ہی نہیں چاہتا تھا اور آج خجستہ کی رسم مہندی تھی شاید بہت تھک کر ابی جان نے یہ فیصلہ کر ڈالا تھا۔ وہ سوچنے لگا آج یقینا صنعائ سجی سنوری ہوگی۔ خجستہ کی منگنی والے روز بھی تو وہ کس قدر حسین لگ رہی تھی لیکن۔۔۔ وہ اٹھا اور اوور آل کے کالرز کے بیچ کبوتر کی طرح گردن چھپائے، خاموش و پرسکون سڑک پر اپنے پیروں کے نادیدہ نقش رقم کرنے لگا۔ سردی بے حد بڑھ گئی تھی وہ ہنوز سست روی سے چلتا ہوا سڑک کے بائیں جانب موجود چھوٹی سی فلاور شاپ میں آگیا۔ ان گنت پھولوں کی خوشبو سے مہکتی یہ دوکان اس کی یادوں کے سائے کو کچھ اور دبیز کر گئی تھی۔

’’واٹ کین آئی ڈو فار یو سر؟‘‘ سیلز گرل نے مصنوعی مسکراہٹ اس کی طرف اچھال کر دریافت کیا۔ عمر نے خاموشی سے ٹیوب روز کی طرف اشارہ کیا پھر بڑھ کر خود ہی ایک ٹہنی نکال لی۔

’’اونلی ون؟‘‘ سیلز گرل کے چہرے پر استعجاب تھا، عمر مسکرایا۔

’’یس اونلی ون۔‘‘ بہت دھیمے سے کہتے ہوئے اس نے پیمنٹ کی اور باہر نکل آیا۔

’’دیکھو صنعائ! تمہاری یاد کو بھی میں نے اب تک سنبھال رکھا ہے۔‘‘ ایک گہری سانس کھینچ کر اس نے مہک اپنے اندر اتاری۔

’’ایکسکیوزمی۔‘‘ وہ قدم بڑھانے کو تھا جب کسی نے اسے پکارا، وہ پلٹا۔

’’آپ عمر ہیں نا۔۔۔ عمر مرتضیٰ۔‘‘ پیچھے کھڑی لڑکی نے دریافت کیا تھا عمر نے سر ہلا دیا لیکن اس کی نگاہوں میں الجھن سمٹ آئی۔

’’اوہ تھینک گاڈ۔‘‘ وہ یک دم خوش ہوئی۔ ’’میں نے کل بھی آپ کو اس شاپ پر دیکھا تھا پہلے میں نے سوچا کہ شاید میں آپ کو پہچاننے میں غلطی کر رہی ہوں لیکن میرا اندازہ صحیح نکلا اور۔۔۔ شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟‘‘ اس کی الجھن آمیز نگاہوں میں جھانکتے ہوئے وہ پوچھ رہی تھی۔

’’میں زائرہ ہوں۔‘‘ اس نے اطلاع دی۔

’’میری طرف سے تم دائرہ ہوجائو۔‘‘ اس نے سوچا کہا نہیں، البتہ وہ ابھی بھی اسے اجنبیت سے دیکھ رہا تھا۔

’’میں زائرہ قاضی ہوں۔۔۔ صنعائ کی فرینڈ، اگر چہ یہ بہت پرانی بات ہوچکی ہے لیکن آپ کو یقینا یاد ہوگا کہ ہم ملے تھے صنعائ کی برتھ ڈے پارٹی میں۔۔۔‘‘

’’او ہاں۔۔ یاد آیا۔‘‘ وہ یوں مسکرایا جیسے واقعی پہچان گیا ہو حالانکہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔

’’کیسے ہیں آپ عمر اور صنعائ۔۔۔؟ بہت عرصہ ہوا میری اس سے ملاقات نہیں ہوسکی دراصل میں شادی کے بعد انگلینڈ آگئی تھی۔‘‘

’’جی صنعائ بالکل ٹھیک ہے اور آپ کو کافی مس بھی کرتی ہے۔‘‘ اس نے جان چھڑوانے کے لےے کہہ دیا۔

’’واقعی؟‘‘ وہ بے طرح خوش ہوئی۔ ’’دراصل صنعائ ہے ہی بہت اچھی۔‘‘ اس نے کہا پھر کچھ یاد آنے پر بولی۔

’’ویسے عمر آپ نے صنعائ کے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا۔‘‘ عمر نے حیرت سے اس کی بات سنی اور الجھ کر نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھا۔

’’صنعائ کو آپ سے ایسی امید تو نہیں ہوگی۔‘‘ وہ تاسف سے سر ہلارہی تھی۔

’’خیر۔۔۔ کیسی ہے آپ کی دوسری بیوی؟‘‘ عمر کو اس سوال پر کرنٹ لگا۔

’’محترمہ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔ یہ کس قسم کی باتیں کر رہی ہیں آپ؟‘‘

’’اس میں غصہ کرنے والی کون سی بات ہے؟‘‘ وہ بولی۔

’’آپ کی بیوی کا حال ہی تو پوچھ رہی ہوں میں۔ آپ نہیں بتانا چاہتے تو۔۔۔‘‘

’’کون سی بیوی۔۔۔؟ کس کی بیوی؟‘‘ اس کی حیرت کسی طور ختم ہی نہیں ہوپارہی تھی۔

’’آپ کی بیوی اور کس کی بیوی۔۔۔ وہی جسے آپ نے اپنے ڈیفنس والے بنگلے میں رکھا تھا۔‘‘ گویا بیوی نہ ہوئی برتن ہوگئی۔

’’ہاں کیا نام تھا اس کا۔۔۔ ہاں یاد آیا خدیجہ۔‘‘ سوچتے ہوئے بولی۔ سارے شہر کی کہر عمر کو اپنے دماغ میں سماتی محسوس ہوئی وہ اس کو ٹوکنا چاہتا تھا لیکن شاید کوئی سرا اس کے ہاتھ لگ گیا تھا سو بولا۔

’’آئی تھنک مس زائرہ ہم لوگوں کو تفصیلی بات کرنے کی ضرورت ہے جو کم سے کم ہم اس روڈ پر کھڑے ہو کر نہیں کر سکتے۔۔۔ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو آئےے ایک کپ کافی پی لیتے ہیں۔‘‘ اس نے چند قدم کے فاصلے پر موجود کافی شاپ کی طرف اشارہ کیا تھا۔

٭٭٭

لاکھ ضبط کی خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں

اس کو بھول جانے کے

بے پناہ ارادے ہوں

اور اس محبت کو ترک کرتے جینے کا

فیصلہ سنانے کو

کتنے لفظ سوچے ہوں

دل کو اس کی آہٹ پہ

برملا دھڑکنے سے کون روک سکتا ہے

ٹھنڈی یخ ہوا کا تیز جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرا کر بالوں کو منتشر کر گیا تھا اس نے بے اختیار جھرجھری لے کر کندھوں پر پھیلی گرم شال کو سر پر اچھی طرح پھیلا لیا البتہ کھڑکی سے وہ ابھی بھی نہیں ہٹی تھی کھڑکی میں کھڑی مشرقی افق پر پھیلی سرمئی بدلیوں کو دیکھ رہی تھی جن کو طلوع ہوتے سورج کی ابتدائی کرنوں نے گہرا نارنجی کر دیا تھا ۔ ٹکریوں میں بنے روئی کے گالے تیزی سے بھاگتے جارہے تھے۔ شاید سورج کی تیز رفتاری نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا اور صنعائ کو نہ جانے کیا چیز مجبور کر رہی تھی اس کا دل بہت عجیب سے انداز میں دھڑک رہا تھا ایک بے نام سی بے چینی تھی جو چاروں اطراف سے اسے گھیرے ہوئے تھی وہ کتنی ہی دیر بے مقصد وہیں کھڑکی میں کھڑی رہی تھی پھر اس نے اپنے پہلے سے استری شدہ کپڑے سرسری انداز میں استری کےے اور کچن میں آگئی۔ بے مقصد پھرنے سے بہتر اسے یہی لگا کہ رات کے پڑے ہوئے برتن دھولے یہ کام ختم کر کے اس نے لان میں ہرے بھرے پودوں کو پانی دیا جس وقت وہ واپس کمرے میں آئی وال کلاک کی سوئیاں ساڑھے آٹھ کا وقت بتا رہی تھیں۔

ایک لمحے کے لےے اس کا دل چاہا کہ وہ آج ہاسپٹل نہ جائے لیکن اگلے پل وہ کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس چکی تھی۔ چینج کر کے باہر آئی تب بھی دل بہت عجیب غیر متوازن لے میں دھڑک رہا تھا اس نے ایک بار پھر سر جھٹکا اور جلدی جلدی بالوں میں برش پھیر کر ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک کوٹ کی ہینڈ بیگ ایک کندھے پر سیٹ کیا جبکہ دوسرے بازو پر سفید اوور آل ڈال کر ابی کے کمرے کی طرف آگئی۔

’’ابی میں جارہی ہوں۔‘‘ اس نے آہستگی سے دروازہ کھول کر اندر جھانکا اس وقت ابی بھی آفس کی تیاری کر رہے ہوتے تھے۔ اس نے سارے کمرے میں نگاہ دوڑائی وہ کہیں نہیں تھے۔

’’ابی۔۔۔ کہاں چلے گئے۔‘‘ اس نے جیسے خود سے سوال کیا تھا تبھی اس کی نظر اسٹڈی ٹیبل کے قریب پڑے کائوچ پر اوندھے منہ گرے ابی پر پڑی۔

’’ابی۔۔۔‘‘ اس کے ہونٹوں سے سرسراتی چیخ برآمد ہوئی تھی۔ وہ اوور آل اور بیگ پھینک کر تیزی سے ان کے قریب پہنچی ان کا آدھا دھڑ کائوچ پر تھا جبکہ باقی آدھا زمین پر تھا اس نے بڑی مشکل سے ابی کو سیدھا کیا۔ وہ ہنوز ہوش میں تھے البتہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے وہ شدید تکلیف کو برداشت کر رے تھے وہ انہیں چھوڑ کر تیزی سے رافع کے کمرے کی طرف بھاگی مگر آدھے راستے میں ہی اسے یاد آیا کہ رافع جم خانہ گیا ہوا ہے وہ تیزی سے پلٹی اور ایمرجنسی نمبر پریس کرنے لگی مسلسل ہوتی بیل نے اس کے اعصاب کو کچھ اور تڑخا دیا اس نے ریسیور پھینکا اور واپس ابی تک آئی۔

’’ابی پلیز آنکھیں کھولیں ابی۔۔۔‘‘ وہ ان کے ہاتھ رگڑنے لگی اسے بالکل بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ پھر یکایک اس کے منجمد ذہن میں ایک خیال آیا وہ تقریباً بھاگتی ہوئی فون تک آئی۔ ایک کے بعد ہونے والی دوسری بیل میں اسے صدیوں کا فاصلہ لگ رہا تھا۔ پھر فون اٹھا لیا گیا دوسری طرف سے آنے والی آواز کو اس نے پہچانا نہیں تھا بس روتے ہوئے بے اختیاری میں بولی تھی۔

’’عمر۔۔۔ عمر۔۔۔ ابی کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔‘‘ حلق میں اٹکا آنسوئوں کا گولا اسے بولنے ہی نہ دے رہا تھا۔

٭٭٭

’’تم ڈاکٹر ہو؟‘‘اس کے سر پر کھڑا عمر طنزیہ انداز میں پوچھ رہا تھا اس نے سر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا وہ بس آنسو بہانے میں مصروف تھی۔

’’عمر۔۔۔‘‘ اس کے قریب بیٹھی تائی جان نے جیسے بیٹے کو تنبیہ کی تھی۔

’’پلیز ماما! مجھے پوچھ لینے دیں اس احمق لڑکی سے کہنے کو یہ ڈاکٹر ہے پچھے چار سال سے پریکٹس کر رہی ہے اور اسے یہ تک معلوم نہیں ہے کہ ہارٹ پیشنٹ کو اٹیک ہونے پر بروقت کس قسم کی ٹریٹمنٹ دی جاتی ہے۔‘‘ عمر کے الفاظ نے اسے کچھ اور شرمندہ کر دیا تھا۔ اس نے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپایا اور کچھ اور شدت سے رونا شروع کر دیا اب کے تائی جان نے اس کے شانوں کے گرد بازو پھیلا کر اسے خود سے قریب کر لیا تھا۔

’’عمر کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ بچی ہے گھبرا گئی تھی۔‘‘ وہ اس کے حق میں بول رہی تھیں جواباً اس نے عمر کا طنزیہ ہنکارا سنا تھا۔

’’جی ہاں! عام طور سے جہاں عقلمندی کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے وہاں آپ کی بچی صاحبہ گھبرا ہی جاتی ہیں۔‘‘

تبھی ڈاکٹر وہاج روم سے باہر آئے تھے عمر اور پاپا ان کی طرف لپکے تھے وہ بھی بے قرار سی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’ڈونٹ وری، ہی از آئوٹ آف ڈینجر نائو۔‘‘ وہ اس کا آنسوئوں سے بھیگا چہرہ دیکھ کر مسکرائے اور صنعائ کے سینے میں اٹکا سانس بحال ہوا تھا۔ وہ جیسے تھک کر واپس بینچ پر گر گئی اور اب تو وہ خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی کہ ہاتھوں میں اپنا سر گرا کر کیوں رونے لگی ہے۔ تایا ابو اس کے پاس چلے۔

’’کم آن صنعائ۔۔۔ بیٹا! ارتضیٰ بالکل ٹھیک ہے۔‘‘ وہ اسے اپنے ساتھ لگائے تسلی دے رہے تھے وہ کتنی ہی دیر ان کے بازوئوں میں منہ چھپائے روتی رہی پھر اپنی بے اختیاری پر قابو پا کر سیدھی ہوئی لیکن ہچکیاں ابھی بھی نہیں تھم رہی تھیں۔

’’میں ابی سے مل سکتی ہوں۔‘‘ اپنے گال ہاتھوں کی پشت سے رگڑتے ہوئے وہ وہاج سے مخاطب تھی۔ وہ مسکرایا۔

’’شیور وائے ناٹ۔۔۔ لیکن ابھی نہیں ٹھیک ایک گھنٹے بعد انہیں ہوش آجائے گا تب آپ ان سے مل سکتی ہو۔‘‘ وہ رکا پھر بولا۔ ’’صنعائ! آپ تو خود ڈاکٹر ہو پیشنٹ کے مینٹل لیول کو آپ کو سمجھنا چاہےے آپ کا اس طرح رونا مریض کو اور بیمار کر سکتا ہے۔‘‘ وہ بہت تحمل اور نرم آواز میں اسے سمجھا رہا تھا۔ صنعائ کا شرمندگی سے جھکا سر کچھ اور جھک گیا۔

’’بس بھئی! میری بیٹی کو اور پریشان مت کرو۔‘‘ تایا ابو نے ایک بار پھر اسے اپنے ساتھ لگالیا تھا۔

وقت کا پہیہ چلتا رہا اورابی کی طبیعت اب قدرے سنبھل گئی تھی۔ وہ تو اسے اب خبر ہوئی کہ اس اٹیک کی وجہ بزنس میں ہونے والا نقصان تھا۔ اس وقت وہ کمرے سے نکل رہی تھی اسی پل عمر کمرے میں داخل ہوا تھا نہ آگے راستہ تھا اور نہ پیچھے۔

دریا میں قطرے کی صورت گم ہوجائوں

اپنے آپ سے باہر نکلوں

تم ہوجائوں

عمر اس کے جھکے سر اور گریز پا وجود کو دیکھ کر مسکرایا۔

’’ابی کی طبیعت اب کیسی ہے؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا اس کے چہرے پر اب فقط سنجیدگی تھی۔

’’اب بہت بہتر ہیں لیکن سو رہے ہیں۔‘‘ اس نے مختصراً کہا اور کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر آگئی۔

’’تم نے کچھ کھایا۔۔۔؟‘‘

’’میں کینٹین سے کچھ لے کر کھالوں گی۔‘‘

’’آں۔۔۔ نہیں تم یہیں رکو میں کچھ لے آتا ہوں۔‘‘ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا کاریڈور عبور کر گیا۔

صنعا کی نگاہوں نے بہت دور تک اس کا تعاقب کیا تھا کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں سموسوں اور چائے کی تھیلی تھی۔ ان دونوں نے وہیں کھایا تھا اور اس دوران ان کے درمیان کوئی بھی خاص بات نہیں ہوئی تھی۔ سوائے ابی جان اور ابی جان کی بیماری کے۔

وہ چلڈرن وارڈ کا رائونڈ لگا کر واپس ابی کے روم میں آئی تو ایک خوب صورت سی لڑکی ان کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ اس نے کچھ حیرانگی سے اسے دیکھا۔ یہ صورت آج پہلی بار اس نے دیکھی تھی یا نہیں۔ یہ صورت تو کچھ جانی پہچانی سی تھی۔ اس نے اپنے ذہن پر زور دیا ’’کہاں دیکھا ہے اسے؟‘‘ لیکن اسے یاد نہیں آرہا تھا۔

’’شاید ابی کی جاننے والی ہوگی۔‘‘ اس نے قیاس لگایا کہ اس لڑکی کے بات کرنے کے انداز سے پرانی شناسائی کا شائبہ ہورہا تھا۔

’’ارے آئو صنعائ! یہ بچی کب سے تمہارے انتظار میں بیٹھی ہے۔‘‘ اسے دیکھتے ہی ابی نے کہا تھا۔

’’میرے انتظار میں؟‘‘ وہ اندر ہی اندر حیران ہوئی۔ تب تک وہ لڑکی چہرے پر خوب صورت سی مسکراہٹ سجائے اس کے پاس آگئی تھی۔

’’میرا خیال ہے انکل! کہ آپ ہماری باتوں سے نہ صرف ڈسٹرب ہوں گے بلکہ بور بھی ہوجائیں گے لہٰذا ہم باہر چلے جاتے ہیں۔‘‘ وہ ابی سے مخاطب تھی پھر ان کے مسکرا کر سر ہلانے پر وہ اس کی تقلید میں باہر آگئی۔

’’بہت شوق تھا مجھے تم سے ملنے کا۔ تم تو اس سے کہیں زیادہ خوب صورت ہو جتنا کہ میں نے سنا تھا۔‘‘ باہر پہنچ کر اس نے بہت محبت سے صنعائ کا ہاتھ تھام لیا تھا۔ صنعائ اپنی اس قدر تعریف پر جھینپ گئی لیکن۔۔۔’’سنا تھا؟ کس سے سنا تھا؟‘‘

’’مجھے پتا تھا کہ تم مجھے نہیں پہچانو گی کیونکہ ہماری ملاقات ہی نہیں ہوئی اس کے باوجود میں تمہیں دیکھتے ہی پہچان گئی تھی اب پتا نہیں اس میں زیادہ کمال میری پہچان لینے کی حس کا ہے یا عمر کی سراپا نگاری کا۔‘‘ کہہ کر وہ خود ہی ہولے سے ہنسی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی پچھلی بات کو انجوائے کر رہی ہے۔

’’بہرحال میں تو صرف تمہارے والد کی عیادت کے لےے آئی تھی۔ عمر ان کی بھی بہت تعریف کرتا ہے وہ واقعی تعریف کے قابل ہیں اور۔۔۔ اور عمر تمہاری بھی بہت تعریف کرتا ہے۔‘‘ اس کی ٹھوڑی چھو کر بے حد شریر انداز میں کہا گیا۔ اب کی بار بھی صنعائ صرف مسکرائی لیکن اب اس کی الجھن بڑھتی ہی جارہی تھی۔

’’لو میں بھی کس قدر بے وقوف ہوں اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔۔۔ میں خدیجہ ہوں۔‘‘ اور صنعائ کی ساری الجھن بھک کر کے اڑ گئی۔ اسے یاد آگیا تھا کہ وہ اس لڑکی کو کہاں کب اور کس حوالے سے دیکھ چکی ہے۔

’’عمر نے ضرور بتایا ہوگا نا تمہیں میرے بارے میں۔ ویسے صنعائ تم بہت خوش قسمت ہو کہ عمر جیسا شریک سفر ملا ہے تمہیں۔۔۔ یو نو صنعائ عمر نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب ساری دنیا مجھ سے منہ موڑ چکی تھی۔‘‘

’’کسے شریک سفر ملا مجھے یا تمہیں؟‘‘ اپنے چہرے کے تاثرات کو نارمل رکھتے ہوئے اس نے تلخی سے سوچا تھا اور ساتھ خدیجہ کی آزردہ صورت سے نگاہیں ہٹا کر کاریڈور کے چکنے فرش پر ٹکادیں۔

’’بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر عمر نے ہمارا ساتھ نہیں دیا ہوتا تو شاید ہم اس دنیا میں ہی نہ ہوتے۔‘‘

وہ کہہ رہی تھی اور اب کی بار صنعائ بے اختیار ٹھٹکی اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی سامنے سے آتے عمر نے اس کے سوالوں پر بند باندھ دیا۔

’’السلام علیکم معزز خواتین۔‘‘ ان کے قریب پہنچ کر عمر نے بہت مودب انداز میں کہا تھا۔ البتہ آنکھیں شرارت سے جگر جگر کر رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ایک اجنبی صورت بھی تھی۔

’’وعلیکم السلام اور جیتے رہےے۔‘‘ خدیجہ نے کھڑے ہو کر باقاعدہ اس کے سر پر تھپکی دی تھی۔ صنعائ کے تو لفظ ہی گم تھے سو کھڑی ہوگئی۔

’’میرا خیال ہے تعارف کی رسم مجھے ہی نبھانی ہوگی۔‘‘ عمر نے سرسری مگر بہت گہری نظر اس پر ڈالی جو نا سمجھی کے عالم میں کبھی عمر تو کبھی خدیجہ کو دیکھ رہی تھی۔

’’صنعائ سے تو تم دونوں واقف ہو ہی اور صنعائ! یہ میرا بہترین دوست ہے مرتضیٰ۔۔۔ عمر مرتضیٰ، بدقسمتی سے یہ خدیجہ کے ہزبینڈ ہوتے ہیں۔‘‘ عمر نے بظاہر سنجیدگی سے اپنے قریب کھڑے شخص کو دیکھا تھا مگر دوسرے پل ان دونوں کا مشترکہ قہقہہ بلند ہوا تھا جبکہ صنعائ صدمے کے عالم میں کچھ بول ہی نہ پائی تھی اسے اپنے دماغ میں ہوائیاں چھوٹتی محسوس ہورہی تھی۔

’’عمر صرف مرتضیٰ کا دوست ہی نہیں بلکہ میرا بھائی بھی ہے اس حوالے سے تم میری بھابھی ہوئیں تو کیا میں یہ امید رکھوں کہ یہ پیاری سی لڑکی میرے بھائی کے ساتھ ہمارے گھر ضرور آئے گی۔‘‘ خدیجہ نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بڑی آس سے دریافت کیا تھا۔ مرتضیٰ کہہ رہے تھے۔

’’ہاں بھابھی! آپ آئیں گی تو ہمیں اچھا لگے گا اس گھامڑ کو تو توفیق نہیں ہوسکتی۔ جب سے انگلینڈ سے واپس آیا ہے میں اور خدیجہ کئی بار آپ کو اپنے یہاں لانے کا کہہ چکے ہیں مگر مجال ہے جو عمر صاحب کے کان پر جوں رینگے، اب بھی اگر اہم آپ کی فادر کی عیادت کے لےے نہیں آئے ہوتے تو شاید آپ سے ملاقات ہو ہی نہ پاتی۔ عمر نے تو شاید آپ کو چھپا رکھنے کا عہد کر رکھا ہے۔‘‘

آخری بات انہوں نے عمر کو گھورتے ہوئے کہی تھی جواب میں عمر کے چہرے پر بڑی دلکش مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔

’’اس میں عمر کی غلطی نہیں ہے مرتضیٰ! صنعائ واقعی چھپا کر رکھنے کی شئے ہے۔‘‘ خدیجہ کے لہجے میں ستائش بہت تھی۔ صنعائ کچھ بھی نہ کہہ پائی وہ اپنے ہی خیالات میں الجھی ہوئی تھی۔

’’خیر۔۔۔ تو کیا ہم تمہارا انتظار کریں صنعائ؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔ اس پل صنعائ کی خالی خالی نگاہوں میں بہت کچھ سمٹ آیا۔ اس نے ایک نگاہ عمر کے سپاٹ چہرے پر ڈالی اور سر ہلا دیا۔

’’میں اور عمر آئیں گے۔‘‘ بہت متانت سے مسکراتے ہوئے وہ اس عام سے اور چھوٹے سے جملے میں بہت کچھ کہہ گئی تھی۔

٭٭٭

جس پل اس نے کمرے میں جھانکا عمر اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا ایک پل کو اس کا دل لرزا۔ لیکن اب دل کا لرزنا گرجنا بے معنی تھا۔ وہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے پہلے ہی بہت وقت ضائع کر چکی تھی۔ اب مزید نہیں کر سکتی تھی۔ رخصتی کی ڈیٹ مقرر ہوچکی تھی مگر اس سے قبل وہ اپنے دل کی خلش دور کرنا چاہتی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ اسے عمر کی خفگی کی بھی پروا تھی۔ ایک روز قبل تائی جان نے فون کر کے ابی جان کو بطور خاص تلقین کی تھی۔

’’میری بہو کو ضرور لے کر آنا۔‘‘ اور آج صبح بھی اسے فون کر کے آنے کی تلقین کی تھی۔ اسے ابی سے جھجک محسوس ہورہی تھی اگر چہ وہ کوئی پہلی بار وہاں نہیں جارہی تھی مگر اس کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ پہلی بار جارہی ہے۔ رہی سہی کسر رافع کے شرارتی جملوں نے پوری کر دی تھی۔

’’میری بیٹی کو تنگ مت کرو رافع وہ اس کا سسرال ہی نہیں تایا کا گھر بھی ہے۔‘‘ ابی نے اس کا دفاع کرتے ہوئے نرمی سے رافع کو گھرکا تھا اور رافع جیسا لاتوں کا بھوت باتوںسے کہا مان سکتا تھا۔

تایا ابو کے یہاں مینا بھی آئی ہوئی تھی ساتھ ہی خجستہ اور اس کے ہزبینڈ نو روز بھی انوائیٹ تھے اور صنعائ کی متلاشی نگاہیں جسے کھوج رہی تھیں وہ کہیں نظر ہی نہیں آرہا تھا کسی سے اس کے بارے میں پوچھ لینے میں بھی وہ جھجک محسوس کر رہی تھی۔

’’جنہیں تم ڈھونڈ رہی ہو وہ یہاں نہیں ہیں۔‘‘ مینا نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔

’’اچھا تو پھر؟‘‘ جب وہ بتا ہی رہی تھی تو صنعائ کیوں بلا وجہ شرماتی۔ مینا نے جواب دینے کی بجائے دائیں آنکھ شرارت سے دبائی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’آئو صنعائ ذرا کچن میں میرا ہاتھ ہی بٹادو۔‘‘ اور وہ اپنی ہنسی دباتی اس کے پیچھے باہر نکل آئی اور اب وہ ٹیوب روز کا گلدستہ اور گفٹ پیک ہاتھ میں لےے دروازے میں متذبذب کھڑی تھی۔ اس نے انگلی کی پور سے دروازہ پر خفیف سے دستک دی۔ عمرنے گردن موڑ کر دروازے کی طرف دیکھا اور پھر اچھل کر اٹھ بیٹھا۔

’’تم۔۔۔؟‘‘

’’ہاں میں۔ کیا اندر آسکتی ہوں؟‘‘ وہ پوچھتے ہوئے اندر ہی آگئی تھی۔

’’یہ تم مجھے دیکھ کر اس قدر حیران کیوں ہورہے ہو؟ کیا تمہیں کسی اور کا انتظار تھا؟‘‘

عمر نے بھنویں اچکا کر تیز نگاہ اس پر ڈالی۔

’’اگر میں کہوں ’’ہاں‘‘ تو؟‘‘

’’تو میں یقین نہیں کروں گی۔‘‘ وہ مسکرائی بہت یقین اور مان سے پھر بڑھ کر ٹیوب لائٹ آن کر دی۔

’’تم اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہوئے تھے؟‘‘ اس نے ایک کے بعد دوسری ٹیوب آن کر دی پھر کھڑکی پر پڑا بھاری پردہ بھی ہٹا دیا اس سے اگر چہ روشنی اندر نہیں آئی تھی البتہ سلائیڈنگ گلاس ہٹنے سے ٹھنڈی ہوا کا ترو تازہ جھونکا ضرور اندر آکر کمرے میں مہک بکھیر گیا تھا۔

’’تاکہ چاند آکر اجالا کر دے۔‘‘ عمر نے پھر ایک ویسی ہی نگاہ اس کی نذر کی یہاں تک وہ سرعت سے پلکیں جھکا گئی۔ عمر سی ڈی پلیئر کے قریب دھرے کشن پر جا بیٹھا وہ سی ڈی سلیکٹ کر رہا تھا۔ صنعائ نے دیکھا لائیٹ برائون ملگجے کرتا شلوار میں وہ کس قدر تکان زدہ لگ رہا تھا۔ صنعائ نے گردن موڑ کر نگاہیں ستاروں سے بھرے آسمان پر ٹکادیں۔ وہ لفظ ترتیب دے رہی تھی۔

’’عمر۔۔۔‘‘ اس نے پکارا۔

’’کیا تم پہلے سے جانتے تھے؟‘‘ اس نے بہت مبہم سا سوال کیا تھا۔

’’نہیں۔‘‘ عمر کا انداز بہت عام سا تھا وہ حیران ہوئی۔

’’تو پھر اب۔۔۔ کس نے بتایا؟‘‘

’’اسی نے جس نے تمہیں بتایا تھا۔‘‘

’’زائرہ نے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ وہ جو ایک سی ڈی الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا کچھ سوچ کر اس کی طرف مڑا۔

’’صنعائ کیا میں اپنی ذات پر اس قدر کم اعتبار کی وجہ جان سکتا ہوں؟‘‘ وہ بہت سنجیدگی سے اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔ صنعائ نے بہت شرمندگی سے پلکیں جھکالیں۔ ہونٹوں کا ایک کونا بے اختیار ہی دانتوں تلے آگیا تھا اور وہ کسی مجرم کی طرح اس کے سامنے کھڑی تھی۔

’’جانتی ہو کتنی تکلیف ہوئی ہے مجھے یہ جان کر کہ تمہارے لےے زائرہ مجھ سے زیادہ با اعتبار ہے۔ اس کی بات پر کتنے آرام سے تم ایمان لے آئیں اور میں۔۔۔‘‘

’’میں نے صرف زائرہ کی بات کا اعتبار نہیں کیا تھا۔‘‘ اس نے تڑپ کر نگاہ اٹھائی۔ عمر چونکا پھر اپنی استفہامیہ نگاہیں اس پر گاڑ دیں۔

’’میں نے تم دونوں کو ہوٹل سے چیک آئوٹ کرتے دیکھا تھا۔‘‘

’’گویا تم میری جاسوسی کرتی رہی ہو؟‘‘

’’وہ بات نہیں ہے عمر!‘‘ آنکھوں میں آئی نمی کو ضبط کرنے کے چکر میں اس کی آواز بھاری ہوگئی تھی۔

’’زائرہ کی بات کو میں نے اپنے ذہن سے جھٹک دیا تھا لیکن اس روز اتفاقاً تم دونوں کوہوٹل سے نکلتا دیکھ کر میرا خدشہ زندہ ہوگیا تھا جس کی تصدیق ہوٹل کی ریسپشنسٹ نے کر دی تھی۔ تم خود سوچو میرے ذہن میںیہ بات کیسے آسکتی تھی کہ وہ عمر مرتضیٰ تم نہیں بلکہ تمہارا دوست ہے جبکہ میں نے تم دونوں کو ہی دیکھا تھا۔‘‘ اس نے اپنے گال بڑی بے دردی سے رگڑ دےے تھے۔ عمر کچھ لمحے وہیں بیٹھا اسے گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ تب صنعائ نے اسے وہ موبائل والی بات بھی بتا دی۔

’’یونہی تو مومن کو تحقیق کرنے کو نہیں کہا گیا۔‘‘ خود کلامی کے سے انداز میں وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے جیسے اس کی عقل پر افسوس کر رہا تھا۔

’’میں مومن نہیں ہوں۔‘‘ وہ بولی۔

’’ہاں تم فقط احمق ہو۔‘‘ عمر فریج سے کوک کا گلاس سائز ٹن اور چاکلیٹ نکال کر اس کے سامنے آن رکا۔

’’اگر تم اس بات کی تصدیق پہلے ہی مجھ سے کر لیتیں تو ہماری زندگی کے یہ قیمتی سال ضائع ہونے سے یقینا بچ جاتے۔‘‘ ٹن کی ٹوپ کھینچ کر اس کی جانب بڑھاتے ہوئے عمر نے کہا تھا۔ صنعائ کا جھکا سر نہیں اٹھا۔ وہ ٹن تھام چکی تھی۔

’’مرتضیٰ میرا یونیورسٹی کے زمانے کا دوست ہے۔ میرا خیال ہے کہ میں نے تمہیں اس کے بارے میں بتایا تھا لیکن شاید سرسری انداز میں۔‘‘ اس نے ذہن پر زور دیتے ہوئے کہا۔

’’وہ خدیجہ سے کمیٹڈ تھا جبکہ خدیجہ کی فیملی کافی قدامت پسند واقع ہوئی ہے۔ قصہ مختصر خدیجہ کے گھر والے اس شادی پر راضی نہ تھے لہٰذا دونوں نے کورٹ میرج کا سہارا لیا۔ میں مانتا ہوں کہ یہ ان دونوں کی غلطی تھی انہیں یہ انتہائی قدم نہیں اٹھانا چاہےے تھا اس سب سے قطع نظر مرتضیٰ میرا دوست تھا اسی دوستی کے ناتے اتنا تو میرا فرض بنتا تھا کہ اسے حتی المقدور تحفظ دوں، بس یہی ہے ساری کہانی۔

جن دنوں زائرہ نے تمہیں مطلع کیا تھا ان دنوں مرتضیٰ اور خدیجہ وہاں رہ رہے تھے۔ آئی مین ڈیفنس والے بنگلے میں بلکہ رہنے سے زیادہ تم اسے روپوش ہونا کہہ سکتی ہو۔ انہی دنوںمیں بھی وہاں کثرت سے جانے لگا تھا۔ ہوٹل میں بھی ان دونوں نے قیام کیا تھا۔ میری غلطی یہ ہے کہ میں خدیجہ کو گھر تک پہنچانے گیا تھا کیونکہ خدیجہ کے گھر والوں نے مرتضیٰ کو جان سے مار دینے کی دھمکی دی تھی اسی خطرے کے پیش نظر مرتضیٰ پہلے ہی وہاں سے رخصت ہوگیا تھا۔۔۔ دیکھو تو اس ساری صورت حال کو بتانے میں مجھے چار منٹ بھی نہیں لگے اور کہاں اس ذرا سی غلط فہمی کے پیچھے اتنے سال ہم نے کھو دےے۔‘‘

وہ رکا اور صنعائ کی شکل دیکھتے ہی وہ اپنی ہنسی روک نہیں پایا تھا نتیجتاً صنعائ کی آنکھوں میں ٹھہرا پانی ایک تواتر سے بہنے لگا تھا۔

’’آئی ایم سوری عمر۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولی۔

’’اس کی ضرورت نہیں ہے صنعائ اور خفا میں تم سے نہیں تھا بلکہ تم مجھ سے تھیں۔‘‘ اس نے یاد دلایا۔

’’خجستہ کی منگنی والے روز میں بہت روڈ ہوگئی تھی۔۔۔ تمہیں بہت برا لگا ہوگا نا میرا انداز؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ اس نے سنجیدگی سے اعتراف کیا کہ صنعائ کے الفاظ نے اسے بہت تکلیف پہنچائی تھی۔

’’خیر مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ بارہا آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا بھی غلط ہوجاتا ہے۔ اپنوں سے وضاحت طلب کرنے میں شرمانا نہیں چاہےے اور میں کوئی غیر تو نہیں تھا۔۔۔ تمہارا اپنا تھا۔‘‘ متبسم لہجے میں کہتے ہوئے وہ بہت شرارت سے اسے تک رہا تھا اس دوران وہ یہ قطعی طور پر بھول گیا تھا کہ وہ خود بھی صنعائ کے بارے میں کس قسم کے خیالات اخذ کر چکا تھا۔

’’تھا سے کیا مراد ہے اب نہیں ہو؟‘‘ صنعائ نے نگاہ اٹھائی تب عمر کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔

’’معزز خاتون اگر اللہ نے اس کے بعد اگر مجھے چار بار بھی زندگی دی تو بھی میں فقط آپ کا ہی رہوں گا۔‘‘ سینے پر بازو لپیٹے وہ کسی قدر اس کی طرف جھکا تھا انداز حد درجہ شریر تھا۔

’’پرامس؟‘‘ صنعائ نے بھیگی پلکوں سے مسکراتے ہوئے ہتھیلی پھیلادی۔

’’پرامس۔‘‘ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہ اسے یقین دلا گیا تھا۔ پھر انگلیوں کی پوروں سے اس کے آنسو سمیٹتے ہوئے بولا۔

’’ان آنکھوں میں آنسو مجھے اتنے ہی برے لگتے ہیں جتنی کہ ان ہونٹوں کی مسکراہٹ اچھی لگتی ہے۔‘‘

’’یہ تعریف ہے؟‘‘ صنعائ نے اسے مصنوعی خفگی سے گھورا تو وہ شگفتگی سے ہنستا چلا گیا اور اس نے کہیں پڑھا تھا کہ ہنسی کدورتوں کی آگ پر پانی کا کام کرتی ہے سو کدورتیں مٹ چکی تھیں اور اب وہاں محبت کی خوش گوار ہوا اٹھلا رہی تھی۔

’’جنگلی بلی مت بنو اور یہ پینے کے لےے ہے۔‘‘ عمر نے کوک کی طرف اشارہ کیا تو وہ جو اپنا چہرہ صاف کر رہی تھی چونک کر مسکرا دی۔ ساتھ ہی اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ٹن منہ سے لگالیا جبکہ عمر اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ لے کر ریپر اتارنے لگا تھا۔

’’موقع کی مناسبت سے مجھے ایک نظم یاد آرہی ہے کہو تو سنائوں۔‘‘

چاکلیٹ کا بائیٹ لیتے ہوئے وہ پوچھ رہا تھا۔ اس سے قبل کہ وہ جواب دیتی عمر نے چاکلیٹ اسے پکڑا کر ٹن اس کے ہاتھ سے لے کر ہونٹوں سے لگالیا تھا۔

’’تم اپنا ٹن کیوں نہیں لیتے۔‘‘ صنعائ نے پھر گھورا تھا۔ عمر نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اپنے بے تحاشا امڈنے والے قہقہے کو ہونٹ بھینچ کر روکا تھا۔ صنعائ کو فوراً اندازہ ہوا کہ وہ اس کی بات کا مفہوم حسب منشائ اخذ کر چکا ہے۔ اس نے سوچا سمجھا اور مارے خفت کے رخ پھیر گئی۔ عمر نے بھی اس کے انداز میں کھڑکی کی طرف رخ موڑ لیا اور اپنے کندھے سے اسے ٹہوکا دے کر بولا۔

’’نظم سنائوں؟‘‘ انداز بہت شرارتی تھا۔ صنعائ نے ہولے سے سر ہلا دیا۔

آنکھوں کو چھو رہے ہیں ستاروں کے نرم ہاتھ

پلکوں پہ آرکی ہے تمنائے کہکشاں

زلفوں کی تار تار سے پھوٹی ہے مستیاں

ہونٹوں کو چومتی ہے شرارت سے چاندنی

پیروں کی لغزشیں ہیں صراحی کی ہچکیاں

رستوں میں ہر طرف ہیں گل یاسمین کھلے

خوشبو میں کیوں نہ گوندھ لیں کرنوں کے ہار ہم

سنتے ہیں کہ چاندنی یونہی برسے گی رات بھر

مجھ کو پکارےے۔۔۔!

مجھ کو پکارےے تو ذرا احتیاط سے

ایسا نہ ہو کہ کانچ کی دیوار گر پڑے

میں خواب کے سفر میں ہوں

آہستہ بولےے

صنعائ نے زیر لب اس کا ساتھ دیا تھا۔ عمر خاموش ہوا تو ارد گرد کی فضا میں ابھی بھی اس کی آواز کا طلسم رقصاں تھا اس نے گردن موڑ کر اپنی حیات کی بہار کو دیکھا۔ وہ کچھ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی گویا متعجب ہو

’’کیا ہوا؟‘‘ وہ ہولے سے ہنسا۔

’’یہ نظم۔۔۔‘‘ وہ بولی۔

’’کسی بھلے شاعر کی ہے یا شاید شاعرہ کی۔‘‘

’’جانتی ہوں۔۔۔ لیکن تمہیں ابھی بھی یاد ہے۔‘‘ وہ بے یقین سی تھی کہ ابھی تو وہ پل بھی اس کی نگاہوں میں مجسم تھے۔ عمر پورا کا پورا اس کی جانب گھوم گیا اور اس کی سرمئی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔

’’تم اور تم سے وابستہ ہر لمحہ میں کبھی بھی نہیں بھول سکتا۔‘‘ وہ بولا اور کچھ پل اپنی قسمت میں قید لکھوا کر آتے ہیں۔ کچھ لمحوں کا حسن جاوداں ہوتا ہے اور کچھ ساعتیں صرف محسوس کرنے کے لےے ہوتی ہیں سو وہ دونوں بھی ان ساعتوں کو محسوس کر رہے تھے بلکہ حفظ کر رہے تھے۔

’’میں جاتی ہوں اب۔۔۔ سب لوگ نیچے انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ وہ یک دم چونکی۔

عمر نے ناگوار سی شکل بنا کر بڑی بے بسی سے سر ہلایا تو وہ ہنس دی۔

’’یہ پھول اور گفٹ کیا صرف دکھا کر واپس لے جانے کے لےے لائی ہو؟‘‘

’’اوہ ہاں۔‘‘ اس نے پیشانی پر ہاتھ مارا پھر ٹیبل سے دونوں چیزیں اٹھا کر اسے تھمادیں۔

’’تھینکس۔‘‘ عمر نے پھولوں میں ناک گھسا کر گہری سانس کھینچی پھر نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔

’’یہ پھول بہت خوب صورت ہیں بالکل تمہاری طرح۔‘‘ اس نے بالکل سچائی سے کہاتھا۔

’’عمر۔‘‘ وہ یہی کہہ پائی۔ ’’تم آج بھی کمال کا جھوٹ بول لیتے ہو عمر مرتضیٰ۔‘‘ مسکراہٹ دباتی وہ دروازے کی طرف بڑھی۔ عمر نے ایک دم سامنے آکر رستہ روک لیا۔

’’یہ سب تمہارے حسن کی کارستانیاں ہیں ورنہ میں اتنا باکمال نہیں ہوں۔‘‘ وہ کہہ رہا تھا۔ ’’ویسے میں اور بھی بہت سے کام کمال کے کرتا ہوں آزمائش شرط ہے۔‘‘

اس کی آنکھوں میں کھلکھلاتی شرارت، ہونٹوں پر کھیلتے تبسم اور لفظوں میں پوشیدہ معنی خیزیت نے اسے بری طرح پزل کیا تھا لیکن اس نے نگاہ نہیں جھکائی۔

’’مسٹر عمر! اس عمر میں اس قسم کی گفتگو کچھ زیب نہیں دیتی۔‘‘ اس نے چوٹ کی۔

’’مسز عمر! جذبوں کے اظہار کے لےے عمر کی قید نہیں ہوتی۔‘‘ ہونٹوں کے کونوں میں مسکان چھپائے وہ اس کے سامنے کھڑا بڑی بے اختیاری سے اسے تکے جارہا تھا۔

’’میں جانتی ہوں۔‘‘ اسے پھیلتا دیکھ کر وہ سنجیدگی سے کہہ کر دروازے کی طرف گئی۔

’’سنو صنعائ۔‘‘ عمر نے پھر پکارا۔ وہ رکی دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھے مگر مڑی نہیں۔

’’صنعائ! خواب کے سفر کو تعبیر ملے گی؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔ صنعائ کے لبوں پر دھنک بکھر گئی۔

’’ملنے والی ہے۔۔۔ عنقریب۔‘‘ وہ کہہ کر تیزی سے باہر نکل گئی عمر کا پر آسودہ قہقہہ بڑا جاندار تھا۔ وہ گرنے کے سے انداز میں بیڈ پر بیٹھ کر پھولوں کی مہک میں صنعائ کو محسوس کرنے لگا اسی پل پیچھے دروازہ پھر کھلا وہ مڑا، صنعائ کا سر دروازے سے جھانک رہا تھا۔

’’عمر! خدیجہ کے گھر والوں نے اسے معاف کر دیا؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ وہ ہنسا۔

’’حالانکہ ہمیں پہلے ہی جان لینا چاہےے تھا کہ گرجنے والے برسا نہیں کرتے۔‘‘ اب کے وہ دونوں ہنس دےے تھے اور یہ خواب کا نہیں حقیقت کا خوش گوار سفر تھا۔

٭٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں