کبھی ہجر لکھو تو – فرزانہ کھرل

Farzana Kharal - Kabhi Hijar Likhon Tu 94

بھئی مان لیا کہ چالیس سال قبل کے کاری گر نورجہاں اور لتا جی کے گانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چھ مہینوں تک ایک ہی آرڈر پہ کام کرتے ہوں۔ وہ کمر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سیدھی ہوئی اور کن اکھیوں سے تائی کو دیکھا، جنہوں نے اس کی بات پہ گردن فخر سے اکڑائی تھی۔

ہائے میری کمر ہی سیدھی نہیں ہورہی۔ اس نے پہلو کے بل جھکتے ہوئے کمر پہ ہاتھ رکھا۔

اف اس قدر بھاری فرنیچر۔ وہ بیٹھ کے ہانپنے لگی۔ ایک صوفہ چار بندے مل کے کھسکاتے ہیں، اگر ڈبل بیڈ کی جگہ بدلنی ہو تو پورا محلہ اکٹھا کرنا پڑتا ہے۔ اس نے اپنا اچھا خاصا منہ ممکنہ حد تک ٹیڑھا کیا۔

برائے مہربانی تھوڑا سا ہٹ کے بیٹھئے، میں کوئی اڑن کھٹولا نہیں جو یہاں سے سیدھا دبئی جائے گا۔ (تمہاری خواہش پہ) وہ جیسے عنبر پہ چڑھ کے بیٹھی تھی جوکہ چالیس سال قبل کاٹو سیٹر کائونچ تھا، عنبر کے ایک ہاتھ میں چائے کا کپ اور دوسرا بازو غالباً آتشی کے بیچ میں سینڈوچ بن چکا تھا۔

وائے قسمت، تمہارا پہلو آباد ہوہی چکا ہے۔ (جو تمہارا خود تو ارادہ ہی نہیں۔) تو تمہیں تو اٹھ کے دو نفل شکرانے کے پڑھنے چاہیے تھے۔ وہ دانت پیس کے ذرا پرے ہوئی۔

یہ ہر بات میں دیتی کیوں یاد آجاتا ہے۔ پروا نے چڑھی پیشانی کے ساتھ عنبر کو سرد نگاہوں سے دیکھا، چہرہ لال بھبھوکا۔ برآمدگی کچن سے ہوئی تھی۔ ہاتھ میں سوا فٹ لمبا چھرا متانت سے پکڑا ہوا تھا۔ عنبر کا خون خشک ہوا۔

خدارا. خالہ. میں تو. بس یوں ہی. وہ بے ربطگی سے منمنائی اور چائے کا لرزتا کپ بمشکل قابو کرتی وہاں سے کھسک لی۔ پروا کی سرد مہر آنکھوں کا سامنا ایک کڑا مرحلہ تھا۔

ہاں تو بات ہورہی تھی دبئی کے کاری گروں کی۔ (اف یہ آتشی بات بدلنے میں کس قدر ماہر ہے۔) تائی نے سنجیدہ شکل کے ساتھ سوچا۔

لو دیکھو بھلا، تائی کے فرنیچر کے سامنے تو وہاں کے کاری گر بھی اپنے سابقہ اور موجودہ ہنر میں صفر کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور ساتھ کھڑی پروا پہ تائیدی نگاہ ڈالی۔

تو اور کیا! اب تو ڈیڑھ سال کا بچہ بھی صوفہ تک کھسکا لیتا ہے۔ تائی نے اپنا سونے کی چھ چوڑیوں والا ہاتھ جھلاکر کہا۔

کچھ زیادہ ہی نہیں ہوگیا۔ آتشی کی آنکھیں باہر کو آئیں۔

اب تو گتے پہ گتا جوڑ کے پالش تھوپ دیتے ہیں، ساتھ ہی چن چن کے سلک کا کپڑا لگا دیا۔ اب وہ زمانے کہاں رہے۔ تائی نے ایک سرد آہ بھری۔

یہاں پتا نہیں اب کس زمانے کا ذکر چل رہا ہے، کیونکہ آپ کا تو شادی سے پہلے کا زمانہ بھی خاصا طویل تھا۔ تایا جی منہ پوپلا سا کرکے ہنسے۔

تائی نے انہیں یوں دیکھا جیسے ہر قوم پہلے ہی اوور میں آئوٹ ہوجانے والے اپنے بے باز کو دیکھتی ہے۔ ہاں، ہاں میں تو قیام پاکستان سے بھی پہلے کی پیداوار ہوں۔ تائی اب اسٹارٹ لے چکی تھیں۔

نا بھئی نا، تمہیں تو ہماری ساس صاحبہ نے پالنے میں ہی بیاہ دیا تھا۔ وہ پھر سے ٹھٹھا لگا کر ہنسے۔ اور ہم آپ کو اپنے ننھے منے ہاتھوں سے خود فیڈر پلایا کرتے تھے۔ اس بات پہ تائی کا پارہ ہائی درجے پر نیچا۔

پروا نے انہیں متاسفانہ نگاہوں سے دیکھا۔ اب وہ دونوں حسب عادت ہتھیار چمکا کے میدان میں کود پڑے تھے۔ جبکہ آتشی کو اب ریفری کا کام انجام دینا تھا۔

٭٭٭٭٭

ہوگئی تمام گھر کی صفائی ستھرائی۔ عنبر نے اسے آتے دیکھا تو زیر مطالعہ کتاب پہلو میں رکھ چھوڑ دی۔ جو اب نہا دھو کے پاپڑوں سے بھری پلیٹ لے کر اس کے مقابل بیٹھ چکی تھی۔

جی ہاں، صفائی بھی ہوگئی اور لڑائی بھی ہوگئی۔ وہ کھلکھلائی۔ ابھی ابھی تائی کا تازہ ترین غم چاٹ کے آرہی ہوں۔ اس نے ایک ساتھ کئی پاپڑ منہ میں رکھے۔

عنبر نے کڑنچ کی آواز پہ اچھا خاصا منہ بگاڑا اور اس پہ افسوس بھری نظر ڈالی۔ چاٹ کے نہیں۔ جاہل لڑکی، بانٹ کے، کوئی آخر تمہاری غلطیاں کہاں تک نکال سکتا ہے۔

قسم سے اس قدر ہینڈسم بندہ ہماری اتنی غلطیاں نکالنے کو تیار بیٹھا ہے، مگر آپا مانے تب نا۔ تم اسے بار، بار کیوں بھول جاتی ہو ڈیر عنبر۔ وہ اس کے سامنے بیڈ پہ تقریباً پھیل ہی گئی۔

ذکر ان کا ہماری محفل میں پاپڑ جائیں بھاڑ میں. تم دیکھو آتشی اس کے ذکر پہ کیسے سنہری ہورہی ہے، اسے یاد کرنے کو ایک تم ہی کافی ہو۔

عنبر نے اسے تپ کے دیکھا۔ میں تو تمہارے انس کو بھی یاد رکھتی ہوں۔ اس کی آنکھوں میں اچھی خاصی شرارت چمکی۔ عنبر نے تلملا کے پہلو بدلا اور کتاب دوبارہ اٹھالی۔

کل آتشی کی غیر موجودگی میں وچولن نے خالہ اور تائی سے کچھ کھسرپھسر کی تھی، مگر عنبر اسے فی الحال بتانا نہیں چاہتی تھی، جو اس کے سامنے اب ہلکا سا اونگھ رہی تھی۔ اگلے ہی پل عنبر سر پہ دوپٹا اوڑھ کے مئودب سی ہوئی کہ ظہر کی اذان کی آواز آرہی تھی۔

یہ سب نماز نہ پڑھنے کے ڈرامے ہیں۔ اس نے اونگھتی آتشی کے بازو پہ چٹکی بھری۔ یقین کرو میں تو اتنی سی بھی گناہ گار نہیں۔ اس نے دو انگلیوں کے بیچ ہوا سا فاصلہ رکھا۔

تکبر ہے پاگل۔ وہ اسے ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔ تم ہونا پکی نمازن، تو پانچوں وقت توبہ استغفار کرو۔

عنبر کے چہرے پہ تاریک سا سایہ لہرا کے رہ گیا، تو کیا وہ گناہ گار تھی۔ مگر خدا کی پکار تو صالح اور گناہ گاروں. سب کے لیے ہوتی ہے۔ وہ اسے تاسف سے دیکھتی۔ نماز پڑھنے کی غرض سے اٹھ چکی تھی۔

٭٭٭٭٭

آخر تم کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے انس۔ وہ دو تین ماہ بعد بیٹے سے مل رہی تھی۔ ذرا اپنی صحت دیکھو۔ کب تک اس کی آس پہ بیٹھے رہوگے۔ پہلے ہی اس کے انتظار میں تم کئی اچھے رشتے گنوا چکے ہو۔ جانے کیوں وہ آج خود کو بولنے پہ اکسا رہی تھی کہ آخر زچ ہوکر وہ کہہ دے گا جو آپ کا دل کرتا ہے کریں۔ مگر یہ بھی جانتی تھی کہ ڈھٹائی میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیںانس نے بھاپ اڑاتی کافی کا مگ میز کے کنارے پہ ٹکایا۔ اور ہر بار کی طرح ماں کا چہرہ بے یقینی سے دیکھا۔ پتا نہیں ماں اسے چھوڑنے کا مشورہ مجھے کس حوصلے سے دے لیتی ہے۔

ماں! عنبر سے میرا رشتہ غالباً آپ نے ہی طے کیا تھا۔ اس ملاقات میں وہ چپ نہیں رہ سکا۔ اسے ماں کو یاد دہانی کرنا پڑی۔

آج سے کئی سال پہلے میرا دماغ خراب تھا۔ میں جذباتی ہوگئی تھی کہ بیمار بہن کے سامنے اس کی بیٹی کو نہ صرف تمہارے لیے مانگا، بلکہ اس کی انگلی میں منگنی کی انگوٹھی بھی ڈال دی، مگر اب میں ہی تمہیں یہ رشتہ ختم کرنے کو کہہ رہی ہوں۔ ماجدہ کی آنکھیں پانیوں سے بھر چکی تھیں۔ کیا میں جانتی تھی کہ وہ بھولی سی لڑکی صرف پندرہ سال کی عمر میں پاکستان شفٹ ہونے جیسا بڑا فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس کا باپ تو دیکھو، کیسے اپنی چہیتی بیوی کے کہنے پہ اسے اپنے سسرال پھینک آیا۔ مجال ہے جو اس لڑکی نے کبھی پلٹ کر ہماری خبر لی ہو۔ وہ شاید ابھی اور بھی بولنا چاہتی تھی۔ انس نے انہیں آنکھوں کے کنارے صاف کرتے دیکھا۔

سچ تو یہ ہے مما کہ ہم ماں، بیٹا دونوں ہی آج بھی اس باغی لڑکی کی محبت میں بری طرح گرفتار ہیں۔ وہ ماں کو بازو کے گھیرے میں لے کر سادگی سے مسکرایا۔

ماجدہ نے اسے تڑپ کے دیکھا’۔ ہرگز نہیں، بلکہ آج کے بعد تو بالکل بھی نہیں، بس میں کہہ رہی ہوں اس کی یادوں سے وابستہ یہ کاٹھ کباڑ باہر نکال کے آگ لگا دو۔ اس کا تیز لہجہ جوش سے عاری تھا۔ انس کا چہرہ سیاہ پڑا۔

اس نے سامنے دیوار پر آویزاں چوکور رگ کو بے چینی سے دیکھا، جس پہ کڑھے رنگ برنگے پھول کپڑا چھوڑ کے اس کے آس پاس آجاتے تھے۔ سانس لینے لگتے تھے۔ بیڈ کے سائڈ ٹیبل پہ دھرا ہاتھ سے بنا مٹی کا ٹیبل لیمپ جس کی لو سے پھوٹتی ہلکی روشنی، تمام رات اسے قدیم شہزادیوں کے قصے سناتی تھی۔ نیند میں جن کے کردار وہ جنگل جنگل ڈھونڈھتا تھا اور اس کی وارڈروب کے باہر ٹنگی کپڑے کی بڑی سی گڑیا جس کی آنکھوں کا دھاگا جانے اس لڑکی نے کہاں سے خریدا تھا جو بولتا تھا جس کے سیاہ حاشیوں کے اندر جانے وہ کیا تلاش کرتا تھا۔ کیا ان چیزوں کے پھینک دینے سے وہ دل سے بھی نکل سکتی تھی جو ان کی زندگیوں سے کسی اچھے وقت کی طرح رخصت ہوچکی تھی۔

اس کی ماں بہت سینئر اور جینئس گائنا کولوجسٹ تھی، ماں، بیٹا اب الگ الگ ملکوں کے باسی تھے۔

اس مرتبہ پاکستان جائوں گا تو وہ واپسی پہ میرے ساتھ ہوگی۔ اس نے ماں کے کان میں سرگوشی کی۔

دودھ کی کٹوری، دودھ میں بتاشا

انس جھوٹا باشا

ذرد فراک میں گول گول گھومتی بچی۔ وہ منظر جو اب محض الوژن تھا۔ اس نے رخ موڑ کے بیٹے کا سپاٹ چہرہ ترحم آمیزی سے دیکھا، کہیں سے بازگشت ابھری تھی۔

انس جھوٹا باشا

٭٭٭٭٭

محب وطن چار دن بعد گھر واپس آیا تھا اور اس کا منہ کسی بڑے غبارے کی طرح پھولا ہوا تھا۔

محب کی ملاقات وہاں مودی سے تو نہیں ہوگئی۔ یہ رائے عنبر کی تھی۔

لو جی، پھر تو مودی کا جوڑ، جوڑ الگ ہوچکا ہوگا، آخر اس نے پاکستانی اور محب وطن کا جو سامنا کرلیا۔ آتشی نے بھی گفتگو میں ٹکڑا لگانا ضروری سمجھا۔

کچھ منہ سے پھوٹ. تو پتا چلے وہاں تیرے ساتھ کیا ہوا۔ یا پھر یوں ہی ڈرون جیسا منہ بناکر بیٹھا رہے گا۔ تائی بھناکر بولیں تو سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔

کیا بتائوں اماں کہ آپ کی بہن نے جو میری خاطر مدارت کی ہے، اس میں کچھ بھی خاص بتانے والا نہیں۔ بیٹے نے جل بھن کے شکایت لگائی۔

چٹورا نہ ہو تو۔ ماں نے سمجھ کے منہ بسورا۔

بلکہ یہ دیکھیں۔ وہ ماں کے قریب ہوا، پھر اپنے فون کی اسکرین روشن کی، وہاں ایک ویڈیو چل رہی تھی۔ آپ کی بہن نے بھی میری کچھ ایسی ہی خدمت کی۔ تائی جیسے بدقت تمام جھکی، میز کے ایک طرف مرد اور عورت بیٹھے تھے۔ دوسری جانب اکیلا مرد، درمیانی ٹیبل پہ برگر، کولڈ ڈرنکس اور اسنیکس۔

ہائے توبہ، یہ غازیہ کے کپڑے تو دیکھو، اوئی ماں۔ تائی نے اپنے کھلے منہ پہ ہاتھ رکھا۔

یہ تو کینیڈا کے وزیراعظم کی گھر والی ہے۔ عنبر جب خوب ہنس چکی تو بعد میں بتایا۔ اور اس کے سامنے بلجیم کا وزیراعظم بیٹھا ہے۔

تائی نے جواباً آنکھیں پھاڑ کے محب کو دیکھا۔

اف. کہیں مچھلی کا کانٹا تو نہیں گلے میں پھنس گیا۔ پروا کچن سے کیلے تک اٹھا لائی۔

سب انہیں دیکھتے جاتے اور وہ. پر یہ تینوں کاہے کو منیا کے گھر (چھوٹی بہن) آئے ہوئے ہیں۔

افف. ہا. اف ہاہا۔ آتشی اور عنبر کی آنتیں پیٹ سے باہر آنے کو تھیں۔

میرا مطلب تھا کہ کراچی سے گئے بھانجے کو ’جو ہونے والا داماد بھی تھا۔ آپ کی بہن بس دال، سبزی پہ ٹرخاتی رہی۔ وہ ہنوز پھول کے کپا بنا بیٹھا تھا۔

جب بلجیم کے وزیراعظم کی خدمت اتنی سی کی ہے تو کراچی کے فارغ انسان خاطر تواضع کیا پاکستانی وزیراعظم جتنی ہونی چاہیے تھی۔ آتشی بھڑک کے بولی۔

یہ پاکستانیوں کو ہر وقت پیٹ بھرنے کی فکر کیوں رہتی ہے، وہ اعوان ہو یا دلان۔ انس اسے اکثر چھیڑتا تھا۔

وزیر اعظم کی بیوی کو تو منیا جتنا بھی سلیقہ نہیں۔ تائی کافی توقف کے بعد منہ بگاڑ کے گویا ہوئی۔ ارے بھائی، مہمان کی آمد پہ دال سبزی ہی پکالیتی، مگر نہیں جی، بیٹھے بٹھائے کام والے کو بھگایا ہوگا کہ جا فٹافٹ برگر، بوتل پکڑ لے۔ اور بیٹے کو یوں دیکھا کہ میری بہن تو اس سے کہیں بڑھ کے مہمان نواز ثابت ہوئی ہے۔

ماں کے اس انداز پہ وہ پیر پٹختا وہاں سے غائب ہوا۔

چھوٹے بڑے سات بچے. اوپر سے اس قدر مہنگائی. کوئی کیا کرے۔ بیٹے کو تاسف سے دیکھا۔

تمہارے پاکستان میں اب کیا رکھا ہے عنبر۔ اسے پھر انس یاد آیا۔

میرے پاکستان میں سوائے چند برے لوگوں کے باقی سب کچھ اچھا ہے۔ اس کی سوچ میں روشنی سی گھلی۔ بس یہاں کے محب وطنوں کو اپنا پیٹ بھرنے کی فکر ذرا کم کرنی ہوگی۔

٭٭٭٭٭

انار کے جھنڈ کے پیچھے نیم کا موٹا تنا مسلسل ہل رہا تھا۔ ساون کی پہلی بارش کے ساتھ ہی آتشی کی فرمائش پہ تایا جی انہیں جھولا ڈلوا دیتے تھے، جس پہ دو افراد ایک ساتھ جھول سکتے تھے۔

جیجو. جی. اپنے بھائی کو بھیجو. اے کہ ساون آیا۔

تائی نے بوکھلا کے آواز کی سمت دیکھا۔ یہ آتشی بھی حد کرتی ہے، اگر پروا نے سن لیا تو دنوں برف کا پہاڑ بن کر رہ جائے گی۔ وہ اون کا الجھا گولا ٹیبل پہ پھینک پھانک آواز کی سمت بھاگیں۔

اس بار ویسے بھی مون سون زیادہ لگنے کی پیش گوئی ہوئی ہے۔ اچھا ہے، آگیا تو چماروں کے ساتھ مل کر تمہاری گلی میں وائپر ہی چلا دیا کرے گا۔ عنبر جھولا چھوڑتے ہوئے ہلکا سا ہنسی۔

آتشی کی آنکھوں میں ایک ناگن نے پھن پھیلایا۔ اس قدر دل آزاری، اللُہ تم سے ضرور پوچھے گا۔ وہ پھنکار کے بولی۔

میری بچی اس سے تو اللُہ پوچھے گا یا نہیں، مگر تجھ سے پروا! ابھی آکر پوچھتی ہوگی کہ میرے دیور کو کس رشتے کے تحت بلایا جارہا ہے۔ یہ گیت ذرا دھیمی آواز میں گایا کر۔ (پر ضرورت ہی کیا ہے۔) تائی نے قریب آکر اس کا کان کھینچا۔

آتشی نے اناروں پہ بیٹھی سفید بلبل کو آزردگی سے دیکھا، پھر ایک بھیگی نگاہ تائی پہ ڈالی۔ آپا کیوں چاہتی ہیں کہ آتشی سفید بلبل کی مانند ہوجائے۔ اور شہتوت کی شاخوں میں گھسی عنبر ایک جھٹکے سے مڑی، اس نے مون سون کو آتشی کی آنکھوں میں گھرتے دیکھا۔ تائی جھولے پہ اس کے ساتھ ٹکیں اور جھولے سے لپٹی موتیے کی بیل پہ ہاتھ رکھا۔

تو اس کا دھیان چھوڑ کیوں نہیں دیتی۔ پھر اس کے دامن سے آنسو جھاڑے۔

آتشی کا وجود اوس میں ڈھلا۔ چھوڑ تو دیا ہے۔ وہ دھیرج سے گویا ہوئی۔ بس ذرا سا یاد کرلیتی ہوں۔

عنبر نے اسے بلبلا کے دیکھا۔ وہ ایک کانٹا چبھنے جیسی بات تھی۔ آتشی کا اوس میں بھیگا وجود ٹرانسپرنٹ ہوا۔ عنبر نے اس میں سے خود کو گزرتے محسوس کیا۔ وہ کسی وارث کی طرح آتشی کے اس جملے میں حصہ دار ہوئی۔ اور اس کے آنسوئوں میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ تائی نے اسے غور سے دیکھا، اس کے رخساروں پہ یاد کی خوشبو باسی نہیں تھی۔ جو اناروں کی مہک اور چنبیلی کی مہک کو مات دے رہی تھی۔

میں اس کی یاد کو پاس بھٹکنے بھی نہیں دوں گی، مگر آپا کچھ بتائیے تو سہی کہ اس گھر میں اس کے ساتھ کیا برا ہوا تھا، کہ گوہر بھائی اور وہ اس قدر اجنبی ہوگئے۔ نہ تعلق توڑا۔ نہ کبھی جوڑنے کی کوشش کی۔ کسی کو چھوڑنے کی بھی تو کوئی وجہ ہونی چاہیے نا تائی امی۔ بلبل نے اڑ کے عنبر کو اپنی جگہ پہ بٹھایا جو آتشی کے جملے پہ سفید لٹھا ہوئی تھی۔

وجہ ٹھوس نہ ہو تو کون پیچھے ہٹتا ہے۔ اس حیران بلبل کا وجود انار کے درخت سمیت اڑا تھا۔ ان دونوں کے سر پہ ٹھک سے کچھ لگا، دو تین اور طوطے نیم کے درخت پہ کچے پکے امرود کھا رہے تھے اور نمولیوں کی گٹلی ان کے سروں پہ پھینک کے انہیں اداسی کے موسم سے باہر لے آئے، اب تائی اسے کیا بتاتیں کہ وہ راز تو اس نے اپنے اماں باوا کے سامنے بھی نہیں اگلا تھا، جانے کیوں اپنا گھر چھوڑ کے چلی آئی، اب اس کے خالی وجود میں اکثر اونٹوں کے گلوں میں پڑنے والی ٹلیاں آواز دیتی تھیں۔ بات سالوں بعد بھی تائی کے اون کے گولے کی مانند تھی، ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھے ہیں۔ عنبر نے ٹیبل پہ دھرا الجھا گولا دیکھ کے ایک یخ ٹھنڈی آہ بھری تھی۔

٭٭٭٭٭

وہ انڈین تھی کرسچن، یہودی یا پھر بدھست، ان دونوں بہنوں نے عمر کے کسی بھی حصے میں اسے کسی بھی مذہب کی عبادت کرتے نہیں دیکھا تھا۔ بس وہ ان دونوں کی خدمت گزار تھی اور اللُہ کے حکم سے وہی انہیں پال رہی تھی۔ اور اللُہ ہی جانے وہ دونوں اسے کہاں سے ملی تھیں یا اس نے انہیں کسی چوراہے سے اٹھایا تھا، مگر شعور کی دنیا سے لے کر آج تک وہ ان کے ساتھ تھی۔

گہری سانولی پتلے نقوش کی مالک وہ عورت. جسے وہ دونوں مام اور مقامی لوگ لنڈا کے نام سے جانتے تھے۔ وہ چھریرے بدن کی سروقد عورت تھی، وہ تینوں ہالینڈ کے ایک پسماندہ علاقے میں دو کمروں کے فلیٹ میں رہائش پذیر تھیں۔ اس نے بڑی کا نام ماجدہ اور چھوٹی کا فاطمہ رکھا تھا۔ وہ ہفتے میں انہیں دوبار اسلامک سینٹر لے کر جاتی تھی۔ جب تک وہ دونوں کلاس لیتی رہتیں، وہ نگاہیں جھکائے دوزانو ہوکر کچھ فاصلے پر بیٹھی رہتی تھی۔ لنڈا نے ان کے اسلامی نام کیوں رکھے، وہ انہیں اسلام کی تعلیم کیوں دلوا رہی تھی۔ ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ ان کا کام بس اس کے دکھائے ہوئے راستے پہ چلنا تھا۔ فاطمہ اور ماجدہ. مشرق اور مغرب کے فرق جیسا مزاج رکھتی تھیں۔ ماجدہ تعلیم میں بھی فاطمہ سے کہیں آگے تھی۔ لندا ایک شوز فیکٹری میں کام کرتی تھی اور شام کو وہ ایک کسینو میں بطور ویٹر کام کرتی تھی۔

ماجدہ نے پندرہ سال کا ہوتے ہی اس کا ہاتھ بٹانا شروع کردیا تھا۔ وہ بھی شوز فیکٹری میں بطور سیلز گرل کام کرتی تھی۔ اس کی آواز بے حد خوب صورت تھی، جب وہ اسلامک سینٹر میں تلاوت کرتی تو ایک سماں سا بندھ جاتا۔ وہیں اس کی ملاقات حنان رحیم سے ہوئی۔ جس کا ہالینڈ میں اپنا کاروبار تھا۔ اس لڑکی کو ایک دو سال پرکھنے کے بعد سترہ سالہ ماجدہ کو حنان رحیم نے پروپوز کردیا تھا۔

تم نے پروپوز کیا۔

میں اگلے سال چالیس کا ہوجائوں گا۔ میں کوئی پارسا آدمی نہیں، مگر میں خواہ مخواہ بھی کسی عورت کے پیچھے کبھی نہیں بھاگا۔ ایک دو سال پہلے میں گناہوں سے تائب ہوچکا ہوں۔ مجھے تم جیسی پارسا لڑکی کی تلاش تھی۔ تم لنڈا کی بیٹی ہو۔ تمہارا یہ تعارف بھی میرے لیے معتبر ہے۔ اگر تم انکار کردوگی تو کبھی دوبارہ سامنا ہونے پہ تم مجھے مکمل اجنبی پائوگی۔ بات مکمل کرنے کے بعد وہ سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ وہ کافی دیر سوچتی رہی۔

ڈاکٹر بننا اس کا خواب تھا۔ وہ چھ جگہ کام کرتی، پھر بھی میڈیکل کی تعلیم ایک خواب ہی رہتا۔

جب تک میں مکمل ڈاکٹر نہیں بن جائوں گی تمہارے بچے اس وقت تک پیدا نہیں کروں گی۔ اب باقی باتیں تمہیں لنڈا سے کرنی چاہئیں۔

حنان رحیم نے اس کی یہ شرط منظور کرلی تھی۔ ٹھیک ایک ماہ کے بعد ہالینڈ کا پسماندہ علاقہ چھوڑ کے مسز حنان ایک بہتر علاقے میں بہت بڑے گھر کی مالکہ بن چکی تھی اور ایک لگژری اور خوب صورت زندگی اس کی منتظر تھی، جہاں رہ کر اسے اپنے خوابوں کو مکمل کرنا تھا۔ لنڈا کی تربیت میں کوئی فرق نہیں تھا، پھر کیوں ایک کندن بن گئی اور دوسری.

٭٭٭٭٭

ایک، ایک نقش کمال کا۔ اس نے شہادت کی انگلی سے آنکھیں، ناک اور پھر اپنے ہونٹ چھوئے۔ پھر نظر اتارنے کو دو تل بھی لگا دیے۔ مگر. ہائے. رے قسمت. جو لوگ بھی مجھے دیکھ کے جاتے ہیں، اس سے اگلے دن انکار کا پیغام آجاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بڑا سا آئینہ تھا، جس میں وہ خود سے مخاطب تھی۔ وہ مایوس اور دلگرفتہ تھی۔

عنبر نے اسے دانت پہ دانت جما کے گھورا، کہ بچو جی! اگر میں آج ہی راز اگل دوں تو کل ہی گلی میں بینڈ باجے بج رہے ہوں۔

آتشی! تم کیوں خالہ کو پریشان کرتی ہو۔ کل بھی اچھے خاصے لوگ آئے تھے۔ اس وقت عنبر کے چہرے پہ گہری سنجیدگی تھی۔ جب جانتی ہو کہ تمہارے چاہنے سے تمہاری تقدیر نہیں بدلے گی تو پھر ہر فیصلہ اللُہ پہ چھوڑ دو۔

آتشی نے اسے بے کلی سے دیکھا۔ اور عنبر بن جائوں۔ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ شیشہ، ٹیبل پہ رکھا اور منہ پھلا کے کھڑکی کے پار جھانکا۔ ساتھ والے گھر میں نگاہ گئی۔ بزمی صاحب کی بیگم بلی کے پیالے میں دودھ ڈال رہی تھی۔

تم خود کواللُہ کے مقابل کیوں لے آتی ہو پاگل۔ میں یوں نہیں ہونے دوں گی۔ میں ووں نہیں ہونے دوں گی۔ یہ میری، میری چھوڑ دو آتشی، آخرکار ہوگا وہی جو وہ چاہے گا۔ خود ایک طرف ہوجائو اور خود کو اس کی رصا کے حوالے کردو۔ وہ بھی اب اس کے پہلو میں کھڑی تھی۔ اور وہی کچھ دیکھ رہی تھی جو وہ دیکھ رہی تھی۔ بلی کے چھوٹے، چھوٹے بچے جنہیں مسز بزمی نرمی سے اٹھاکر ایک ٹوکری میں رکھ رہی تھی۔

کیا خالہ تمہارا برا چاہیں گی۔ عنبر کی آواز انتہائی مدھم تھی۔

کیا اس نے اپنے لیے کچھ اچھا چاہا۔ اس نے عنبر کے سوال پہ ترنت سوال کیا۔

کون سی عورت اپنا گھر نہیں بسانا چاہے گی۔ وہ ذرا توقف کے بعد ہم کلام ہوئی۔ اس کے ساتھ وہاں کچھ برا تجربہ ہوا ہوگا۔

تو پھر ہمیں بتائے تو سہی۔ پروا پچھلے پانچ منٹوں سے کمرے کے وسط میں کھڑی تھی۔

میں نے اپنا گھر نہیں بسانا چاہا تھا۔ دل تو چاہا چیخ کے کہے۔ وہ یہ سچ آج بہن کے منہ پہ مارنا چاہتی تھی۔ اور وہاں میرے دل کے ساتھ بہت برا ہوا تھا۔ وہ لب بھینچ کے پلٹی۔

بعض باتیں اس قدر بھاری ہوتی ہیں کہ ہم اپنے پیاروں کو راز دار بناکر ان سے وہ بوجھ اٹھوانا ہی نہیں چاہتے۔ اس کے قدم عنبر کی آواز نے جکڑ لیے۔

اس نے پروا کے خیالات کی ترجمانی کیا خوب کی تھی۔ اک بے قراری نے دل پہ ہاتھ سا رکھا تھا۔ وہ دبے پائوں ہی واپس ہولی۔

٭٭٭٭٭

دس مرلے پہ محیط محب منزل کے مالک و مختار صرف باسط محب ہی نہیں اور نہ ہی وہ اپنی ایک عدد بیوی اور اکلوتے بیٹے محب وطن کے ساتھ یہاں رہائش پذیر ہیں، بلکہ ان کے ساتھ ان کی دو بھتیجیاں پروین اور آتشی بمعہ اپنی بھانجی عنبر عنایت کے ساتھ محب منزل کی مکین ہیں۔ ان کی بڑی بہن فاخرہ اپنے شوہر کے ساتھ ہالینڈ میں رہتی ہے۔ آج سے دس سال پہلے جب محب منزل کو آخری بار گہرا فیروزی رنگ کروایا گیا تھا تو اس کے سبز کچوچ چوڑے گیٹ سے ان کے بڑے بھائی اکبر اپنی محب اپنی دوسری لاڈلی بیٹی پروا کا ڈولہ ہزاروں دعائوں کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ اپنے تیئں انہوں نے ایک اچھے خوش حالی گھرانے میں بیٹی بیاہی تھی، جانے کیوں اس کا دل سسرال میں نہیں لگتا تھا جو مہینے میں چوبیس دن میکے میں گزارتی، بھیگی آنکھیں، کھوئی کھوئی سی پروا، ماں کے دل میں ہزاروں اندیشے سر ابھارنے لگے۔

گوہر نہ صرف اچھی جاب پہ تھا، بلکہ شکل و صورت کا بھی اچھا تھا۔

ایک جیٹھ. تین دیور، سسر. اور اماں کا ایک یتیم بھانجا. مردوں سے بھرے گھر میں مجھے وحشت ہوتی ہے۔ ایک دن ماں نے کھل کے بات کی، اپنے واہمے اس کے سامنے رکھے. تو بیٹی کا جواب اور جواز سن کے جو ہنسنا شروع کیا تو جانے کتنی دیر ہنستی رہی۔ بیٹی سر جھکا کے بیٹھی سنتی رہی۔

لو پاگل نہ ہو تو. وہ سب ہمیشہ تھوڑی تمہاری ذمہ داری رہیں گے۔ آنے والے وقت میں سب کے گھر آباد ہوتے جائیں گے۔ اماں کیسی متلون مزاج کی تھیں۔ مشکل سے مشکل بات بھی مسکراکے سنتیں۔ مسئلہ جتنا بھی گمبھیر ہوتا، تھوڑی دیر خاموشی سے سوچنے کے بعد اتنا آسان حل نکال لیتیں کہ عقل حیران رہ جاتی۔ اگر کسی سے کچھ برا بھی ہوجاتا تو سمجھانے کا انداز ایسا دل نشین کہ اگلے بندے کے ذہن و دل کا میلا کپڑا دھل دھلا کے چمک اٹھتا۔

شادی کے دو سال بعد راز کھلا کہ فاخرہ کا شوہر پہلے سے شادی شدہ تھا۔ وہ بھی جب فاخرہ ہالینڈ گئی تو۔

اماں اس کی بیٹی بھی ہے۔ فون پہ رو، رو کے بتایا۔ اور اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی مشورہ بھی مانگا۔

صبر. کہنا آسان. عملاً مشکل، مگر نتیجہ حسب خواہش. سو فیصد وہ ترتیب کے لحاظ سے ایک جملہ بھی نہیں تھا۔ نہ بیٹی کو پچکارا۔ نہ رونا دھونا بند کرنے جیسی میٹھی ہدایت۔ صرف دس، گیارہ الفاظ. بیٹی پہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے اور ماں کو دیکھو. قریب بیٹھی پروا نے کلبلا کے سوچا تھا۔

عنایت کی قسمت میں دو نکاح تھے، سو ہونے ہی تھے۔ دکھ دودھ کی طرح ہوتا ہے، آنسوئوں کا پانی ملاتی جائو گی تو بڑھتا جائے گا، پی لوگی تو ختم۔ ماں نے آخری بات کی اور فون بند کردیا۔

یہ شخص تمہاری پسند تھا۔ اسے تم ہمارے سامنے لائی تھیں نا۔ ماں نے فاخرہ کو کچھ سمجھایا۔ نہ باپ نے کچھ طعنہ دیا۔ کہ اب کس منہ سے ہمارے سامنے روتی ہو۔ جو آخری بات ہونے تک ان سے یہ سب سننے کی توقع کررہی تھی۔ خلاف توقع ماں، باپ کے نرم لہجوں نے اس کی روح تک شانت کردی۔

ماں کی ہدایت پہ عمل کرتے ہوئے تمام آنسو پی لیے تھے اور دکھ ہر گزرتے دن کے ساتھ ختم ہوتا چلا گیا۔ اور شاید وہ پروا کی خاموشی کا معمہ بھی حل کر ہی لیتے جو زندگی ان سے وفا کرتی۔ دونوں میاں، بیوی کوہاٹ سے واپس آرہے تھے۔ (جہاں اماں کا میکہ تھا۔) وین ایک گہری کھائی میں گرگئی اور کوئی مسافر بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ ان ہی دنوں فاخرہ پاکستان آئی تو ساتھ اس کی سوتیلی بیٹی بھی تھی۔

کیا گھر ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جہاں کم از کم عورتیں سارا دن گھر میں رہتی ہیں۔ وہ پورا ہفتہ حیران ہوتی رہی تھی اور پھر وہ گاہے بہ گاہے فاخرہ کے ساتھ آنے لگی۔

وہ سادہ مزاج کی خوش اخلاق بچی تھی۔ وہ لوگوں کی برائیاں نہیں ڈھونڈھتی تھی، بس اس کی نظر ان کی اچھائیوں کی متلاشی تھی۔ اس کی سوچ پاکستان کے بارے میں بھی کچھ اسی طرح کی تھی۔ وہ ہر بار یہاں کی روایت و اقدار کسی خوب صورت یاد کی طرح دل میں بسا کے لے جاتی تھی۔

٭٭٭٭٭

ماں، باپ کی اچانک موت کے بعد پروا جیسے محب منزل کی ہی مقیم بن چکی تھی۔ اس وقت آتشی فرسٹ ایر کی اسٹوڈنٹ تھی۔

کب تک یہاں بیٹھی رہوگی۔ تین ماہ ہوچکے، اب تمہیں گھر جانا چاہیے پروا۔ اس دن بھی گوہر، ماں کے ساتھ اسے لینے آیا تھا۔ تو تائی نے مناسب الفاظ میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

وہ تائی اور تایا کے سمجھانے بجھانے پہ ان کے ساتھ چلی گئی تھی، مگر کچھ دنوں کے بعد ہی وہ شوہر سے الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کرنے لگی۔ جو متحیر سا ہوکے اس خواہش پہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔

مگر کیوں. کافی دیر بعد کچھ بولنے کے قابل ہوا۔ تو صرف اتنا پوچھا۔ مجھے اتنے مردوں کے ساتھ رہنے کی عادت نہیں۔ وہ اب شوہر سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھی۔ سو اس نے ہلکے لہجے میں شوہر کے سامنے ایک پہاڑ جیسی بات کی تھی کہ وہ ایک بار پھر سابقہ کیفیت کا شکار ہوا۔

تم جانتی ہو، بڑے بھائی کی ٹانگ میں شدید نقص کے باعث وہ کوئی کام کاج نہیں کرسکتے۔ زیادہ سے زیادہ آرام کرنا ان کی مجبوری ہے۔ جس طرح اس نقص کی وجہ سے اب کیلے زندگی جینا بھی ان کی مجبوری ہے۔ میرے تینوں چھوٹے بھائی ابھی پڑھ رہے ہیں۔ میرے ماں، باپ ان سب کا میں اللُہ کے بعد واحد سہارا ہوں۔ اس گھر کو چلانا میری ذمہ داری ہے فی الحال. ساغر سی اے کررہا ہے۔ چند سالوں بعد وہ مجھ سے بھی اچھی پوسٹ پر ہوگا، پھر ہوسکتا ہے، میں تمہاری خواہش پہ سر جھکا دوں۔ مگر اس وقت. اس نے قطعیت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔ ناممکن. اگر تمہیں گھر کی ذمہ داری کا مسئلہ ہے تو ایک کام والی اور رکھ لیتے ہیں۔ اس نے دوستانہ انداز میں بات کی اور نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما۔

میرا مسئلہ ان میں سے کوئی بھی نہیں۔ وہ بے بسی سے جیسے ہار کے بولی تھی۔

تو پھر. وہ آستین کے بٹن کھولتے ہوئے پوری طرح اس کی جانب متوجہ تھا۔

میرا مسئلہ اشہب ہے گوہر! اشہب غفار۔ گوہر کے سینے پہ دھرے ہاتھ ساکن ہوئے۔ وہ مدھم آواز میں پرت در پرت شوہر کے سامنے خود کو کھولتی چلی گئی تھی کہ اس گھر میں اس نے یہ ایک سال کس طرح آندھیوں کی زد میں رہ کر گزارا ہے، یہ صرف وہی جانتی ہے۔ گوہر کی آنکھوں میں بے یقینی تھی یا بدگمانی وہ سمجھ نہیں سکی۔ بس اس کی آنکھیں ساکن اور ہاتھ گریبان تو کبھی آستین کے بٹن. کھولنے اور بند کرنے میں مصروف. وہ اس کی بیوی تھی جو کسی دوست کی طرح اسے اپنا راز دار بنا رہی تھی۔ وہ اسے شبہات میں مبتلا نہیں کررہی تھی۔ وہ اپنے راستے ہموار کرکے اس کی راہیں کھوٹی کررہی تھی۔ وہ خود اللُہ اور شوہر کے سامنے سرخرو ہوکر سامنے بیٹھے شخص کو تاریک کنویں میں دھکا دے چکی تھی۔ وہ اس کے اس گھر سے چلے جانے کے بعد بھی اس تاریک کنویں میں مہینوں ہاتھ پائوں مارتا رہا تھا۔ بات تو اس نے روح کی، کی تھی، جسم کا تو کہیں ذکر ہی نہیں تھا۔ کبھی اس کے ہاتھ میں ننھی سی روشنی بھی چمٹ جاتی تھی۔ مگر یہ تو اس رشتے کی توہین ہے کہ بیوی شوہر سے کہے. میرا دل. اف. وہ پھر سے تاریکی میں بھٹکنے لگتا۔ بات تو دل کی تھی جو شیشے کی مانند ہوتا ہے اور جس میں اللُہ رہتا ہے، جس میں عبادت ہوتی ہے۔ وہ لمحہ بھر کو پھر سے روشنی کا ہاتھ تھام لیتا۔ وہ کم ظرف مرد ہی نکلا۔ کبھی پلٹ کے محب منزل نہ آیا۔

اس کی ماں اور بھائیوں نے حتی کہ سسر نے بھی کئی چکر لگائے، مگر وہ نہ آیا، جس کا ہاتھ پکڑ کے وہ واپس جانا چاہتی تھی۔ عورت اس قدر اعلا ظرف کیوں ہے۔ وہ شوہر کا راز جان کر بھی کسی اندھے کنویں کا سفر نہیں کرتی۔ بات روح کی ہو. دل کی. یا پھر جسم کی. مگر مرد. وہ روشنی کا ہاتھ بھی جھٹک دیتا ہے۔ وہ ستاروں سے آگے کے جہاں بھی زمین کے ساتھ ملاکر دیکھتا ہے۔ وہ اس عورت کی روح کے اندر بجتی بانسری کے سروں پہ سر دھنسنے کی بجائے نگاہ بانسری بجانے والے کی انگلیوں پہ کیوں رکھتا ہے۔

٭٭٭٭٭

ابھی ہم اس وقت میں ہی ہیں جب پروا واپس محب منزل آگئی تھی۔ اس کی چپ میں کوئی ایک سکھ بھی نہیں تھا۔ وہاں سب جانتے تھے، مگر اس کے ساتھ زبردستی بھی نہیں کرسکتے تھے۔ سو تایا اور تائی نے اب اپنی نگاہوں سے بھی پوچھ گچھ کا سلسلہ ترک کردیا تھا۔ کچھ عرصہ تک گوتم بدھ کے آسن لینے کے بعد پروا نے کچن کا کام اپنے سر لے لیا تھا۔ گھر کا باقی کام کاج پہلے ہی ملازمہ کرتی تھی۔ کرکٹ کی شوقین تائی ماں اب ایل سی ڈی کے سامنے ہی ٹکی رہتی تھی۔

حسب معمول موسم وقت کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے کہ ایک شام بنا اطلاع کیے فاخرہ شوہر اور بیٹی سمیت محب منزل آگئی۔

اس کی ماں کو دنیا سے گئے چھ ماہ ہوچکے۔ میں اور عنایت اپنی، اپنی جاب پہ چلے جاتے ہیں۔ اسکول سے آنے کے بعد گھر میں بولائی پھرتی ہے۔ اس کی خالہ بلجیم میں ہوتی ہے اور خالہ زاد گھر میں اکیلا. کچھ بولتی ہی نہیں، سوائے ایک بات کے. مجھے اب پاکستان میں رہنا ہے۔ ہم اس کا ماہانہ خرچ بھیجا کریں گے۔ اس کی نسبت بھی خالہ زاد سے طے ہے۔ (یعنی مستقبل کی بھی فکر چھوڑیں) دوسرے. چوتھے اور پانچویں دن بھی فاخرہ کسی رٹو طوطے کی طرح یہ سب دہراتی رہی تو چھٹے روز باسط محب کو فاخرہ کی التجا اور پندرہ سالہ عنبر کی معصوم شکل پہ ترس آ ہی گیا۔

اگر میری بھی بیٹی ہوتی تو بالکل تمہاری طرح ہوتی۔ اس نے بچی کی پیشانی چوم کے کہا۔ باسط محب کے فیصلہ سنانے کے بعد ایک ہفتے سے ماش کی طرح اینٹھی خواتین کے دل بھی نرم پڑ گئے۔

آپ کا یہ احسان بھلانے والا نہیں۔ وقت رخصت عنایت صاحب نے بس ایک جملہ بولنے کی زحمت کی اور پرتکلف انداز میں دو انگلیاں عنبر کے سر پہ ٹکائیں۔

خالہ بس فون پہ ہی بات کرتی تھی اور اس کا خالہ زاد سال میں ایک چکر ضرور لگاتا تھا۔

پروا کا دیور مہینے میں ایک آدھ بار چکر لگالیتا تھا اور اسے سمجھانے کی بھی کوشش کرتا کہ خطرے کی بو سونگھ لیں بھابھی! میری ماں بھائی کے لیے دوبارہ سے لڑکیاں دیکھ رہی ہیں، اماں کے اندر اب اتنی توانائی نہیں کہ گھر سنبھال سکیں۔ بھائی کی دوسری شادی میں خوشی نہیں، شوق بھی نہیں، بلکہ مجبوری ہے۔ بھابھی کا سر جھکا رہتا. اور دیور کی کھلی آنکھیں اس منفرد نام والی لڑکی کی متلاشی رہتیں۔

اس نے خطرے کی بو سونگھی تھی یا نہیں. مگر بہن اور دیور کے وجود سے پھوٹتی دلچسپی کی بو ضرور سونگھ لی تھی۔ ساغر کی آمد پہ اس کا چہرا ہزار رنگ چھلکانے لگتا تھا۔

جس سے رشتہ تھا جب وہ نہیں آتا تو تم بھی مت آیا کرو۔ اس کا سپاٹ لہجہ اجنبیت سے بھرپور تھا۔

وہ عزت نفس سے عاری نہیں تھا۔ کبھی پلٹ کے محب منزل دوبارہ نہ آیا۔ بعد میں انہوں نے اڑتی پڑتی خبر سنی تھی کہ گوہر کی شادی ہوچکی ہے۔ وہ پرملال بھی ہوئی۔ اس دن اس نے زندگی کے سودوزیاں کا حساب کیا. تو پتا چلا کہ زیاں صرف اس کے حصے میں آیا تھا۔ اس کی فیلنگز، اس کا کرب جب تک زبان پہ نہیں آیا تھا، انمول تھا، بارش کے پانی کی طرح۔ آسمانوں کو چھوتی ہوا کی طرح. اپنی نادانی میں جب شوہر کے سامنے بھید کھول دیا تھا تو اس کے وہی جذبات شوہر کو آندھیوں میں اڑتے میلے پھولوں کی طرح محسوس ہوئے تھے۔ وہ ایک انتہائی نادان عورت ثابت ہوئی تھی۔

٭٭٭٭٭

لنڈا نے دونوں کی تربیت ایک جیسی کی تھی، پھر فاطمہ میں اس قدر بے باکی کہاں سے آگئی تھی۔ لنڈا نے اس پہ چند دن نظر رکھی اور اس کے معمولات جان کر اس کے ہوش اڑ گئے تھے۔ وہ ڈرنک کرنے لگی تھی اور وہ ایسی کمپنی کے ساتھ بھی ہوتی جو نشہ بھی کرتے تھے۔ چند روز بعد اس نے یہ سارا قصہ ماجدہ کے سامنے کھولا۔ جسے سن کر اس کی کیفیت بھی لنڈا سے مختلف نہیں تھی۔

مگر میں اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتی لنڈا۔ مام کی التجا اس نے نرمی سے ٹھکرا دی تھی۔ میرا دھیان پڑھائی سے بٹ جائے گا اور حنان صرف چار دن میں ہی اس کی اصلیت سے واقف ہوجائے گا۔ سوچو ہم دونوں کی کیا عزت رہ جائے گی۔ وہ ماجدہ سے مایوس ہونے کے بعد. محسوس کررہی تھی کہ فاطمہ احساس کمتری کا شکار ہوچکی ہے اور ڈھیر سارا سوچنے کے بعد اس نے فاطمہ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

لنڈا کی باتیں سن کر وہ جیسے ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔

٭٭٭٭٭

آپی !ذرا بھاگ کے آنا۔ عمران خان نے ایک اور آئوٹ کردیا ہے۔ چھوٹے بھائی خالد کی پکار پہ وہ دو، دو سیڑھیاں پھلانگتی نیچے آئی۔ گردن سے لپٹا دوپٹا آگے پیچھے پھیلایا. کہ ابا جی بھی میچ دیکھ رہے تھے۔ باقی دس کھلاڑی عمران کو گھیرے ہوئے تھے۔ (کاش ان میں سے ایک میں بھی ہوتی) وہ ابھی پھسکڑا مار کے کائوچ پہ بیٹھی تھی۔

ثمینہ ذرا کچن میں جاکے سالن دیکھنا، کہیں جل ہی نہ جائے۔ نماز پرھتی ماں نے کمرے سے صدا لگائی۔

ابھی تو چھت پہ کپڑے پھیلا کے آئی ہوں اور اب اک نیا کام۔ بڑبڑاتے ہوئے اٹھی۔ جس دن میچ ہوتا ہے اس دن آپ کو میرا نام خوب یاد رہتا ہے اور شازیہ کا بھول جاتا ہے۔ چھوٹی بہن کو جی بھر کے گھورا. جس نے فوراً ہونٹ گول مول کرکے اسے چڑایا۔

میچ کب نہیں ہوتا۔ ماں نے اندر آکر بیٹی اور شوہر پہ ایک جتاتی نگاہ ڈالی. مگر وہاں کسے پروا تھی۔

لو. ادھر میں فارغ ہوکر بیٹھتی ہوں، ادھر کھانے یا چائے کا وقفہ ہوجاتا ہے۔ ثمینہ نے لٹکے منہ کے ساتھ شکوہ کیا۔

جوں ہی ٹک ٹک کی آواز قریب آئی۔ ابا مستعدی سے کھڑے ہوئے۔ شازیہ نے آگے بڑھ کر دادی کے ہاتھ سے چھڑی پکڑلی اور انہیں ابا کے ساتھ بٹھا دیا۔ ٹی وی پہ پہلا نغمہ نشر ہوا۔

کچھ دن تو بسو میری آنکھوں میں

پھر خواب اگر ہوجائو تو کیا

گھر میں بلقیس خانم کی آواز گونجنے لگی۔ میز پہ کھانا چنا جارہا تھا۔ برتنوں کی کھٹ پٹ چاولوں کی مہک۔

حاجی صاحب! کوئی میچ کی خیر خبر سنائیں۔ گلی سے پھل والے نے ہانک لگاکر پوچھا۔ ان دنوں میں ٹی وی بیٹھکوں میں چلا کرتے تھے۔

نیامت بابا! خیر ہی ہوگی۔ اپنے عمران نے چار وکٹیں گرا دی ہیں۔ ابا کی خوش باش آواز دور تک گئی۔

واہ بھئی واہ! ایسی میٹھی خبر۔ منی بیٹا ذرا ماں جی کے لیے کیلا پکڑ لینا۔ پھل والے کا لہجہ سرشاری سے بھرپور تھا۔ سولہ سالہ منی بھاگ کے گلی میں پہنچی۔ دادی کے چہرے پہ تشکر کا احساس ابھرا۔ پھل والے کو منہ بھر کے دعا دی۔

ارے نیک بخت! دیکھ لو، ناہید اختر کا نغمہ آرہا ہے۔ شوہر کی پکار میں محبت ہی محبت تھی۔

میرے روٹھے صنم تجھے میری قسم، نہ جانا دل توڑ کے۔ ہو، ہو نہ جانا دل توڑ کے۔ نیک بخت مسکراتی ہوئی جلوہ افروز ہوئی۔

سنا ہے میچ میں وقفہ چل رہا ہے۔ نکڑ والی خالہ بھی آن پہنچیں۔ ان کے گھر ٹی وی نہیں تھا۔ سو یہاں آکر نغمے دیکھنا اس کے معمول میں شامل تھا۔ کیا دیدہ زیب ساڑھی ہے اور اس پہ من موہنی ناہید اختر کی دلفریب ادائیں۔ وہاں تمام خواتین کھو سی گئی تھیں۔

بھئی! اب تو اپنے طارق عزیز کو بھی شادی کرلینی چاہیے۔ (نیلام گھر والے)

ثمینہ، دادی کی بات پہ منہ ہی منہ میں خوب ہنسی۔ ناہید اختر کو دیکھتے ہی انہیں طارق عزیز کیوں یاد آجاتا ہے۔ وہ شازیہ کے کان میں گھسی۔

اوں. ہنہ. دادی نے کڑی نگاہ سے گھورا۔ کیا لڑکیاں کان میں کھسرپھر کرتی بھلی لگتی ہیں۔ آئے گئے کا دھیان رکھا کرو۔ وہ دونوں فوراً مئودب ہوئیں۔ نغمہ ختم ہوا۔

اب نورجہاں آئے گی۔ نکڑ والی خالہ نے کہا اور دم سادھ کے بیٹھ گئیں۔

چلو اچھا ہوا، تم بھول گئے۔

لو بھئی آگئی نورجہاں۔ آس پڑوس کی بیٹھکوں سے بھی ٹی وی کا والیوم اونچا ہوا۔

اک بھول ہی تھا تیرا پیار او. ساجناں۔

وہاں ایک ماحول سا بن گیا تھا۔ کیا سادگی تھی کھانوں کی خوشبو کے ساتھ۔ ہر گھر سے محبت اور امن کی مہک بھی پھوٹ رہی تھی۔

میں سمجھوگی بانو رے نیناں دیکھ رہے تھے سپنے۔

تائی امی. تائی امی. اٹھیں تو. یہ آواز تو آتشی کی تھی۔ ہڑبڑا کے دل پہ ہاتھ رکھا۔

مگر وہ گھر. وہ بہن، بھائی. اور وہ نورجہاں کا نغمہ. ہاتھوں سے آنکھیں مسل کے ادھر ادھر دیکھا۔ کیا وہ خواب دیکھ رہی تھیں۔ یا پھر خیالوں میں وہ اس زمانے میں پہنچی ہوئی تھیں۔ جو بھی تھا وہ سب فسوں ٹوٹنے کا انہیں ملال سا ہوا۔ کس قدر اچھا وقت تھا۔ آتشی ان کی کھوئی کھوئی طبیعت پہ حیران ہوئی۔

میچ کے وقفوں میں اب کہاں نغمے گونجتے ہیں، ادھر وقفہ ہوا ادھر پانچ چھ مسٹنڈے پینٹ کوٹ کس کے معصوم کھلاڑیوں کے لتے لینے آجاتے ہیں۔ اوپر سے ہر دوسرے پل خانہ خراب کرنے جیسی بریکنگ نیوز. اچھا بھلا خواب دیکھ رہی تھی۔ وہ پھر سے بڑبڑائیں۔

افوہ. تائی چھوڑیں بھی. اور دیکھیں ہمارے کرکٹرز کا وزیراعظم ہائوس میں کیا شان دار استقبال ہوا ہے۔ آپ کو یہ تقریب دکھانے کے لیے تو اٹھایا ہے۔ تائی کا ملال ایل سی ڈی پہ نظر ڈالتے ہی دھواں بن کے اڑا۔

جمیلہ ذرا بھاگ کے ایک کپ چائے تو بنالا۔ تائی کی فرمائش پہ شو دیکھتی جمیلہ اچھی خاصی بدمزا ہوئی۔

میں پہلے پاکستان کا صدر تو دیکھ لوں، پھر ہی یہاں سے ہلوں گی۔ وہ ایک عنبر کی ڈھیٹ تھی۔

پھر تو تجھے لامحدود مدت تک یہاں بیٹھنا پڑے گا۔ اندر آتے محب نے اس کا اوازار چہرہ تپ کے دیکھا۔

تائی نے جمیلہ پہ صدمے بھری نگاہ ڈالی۔ تونے اب تک اپنے ملک کا صدر نہیں دیکھا۔

پاکستان کا سب سے فارغ انسان۔ آتشی نے اپنی گول، مول سی ناک چڑھائی۔ ایک تو، تو پہلے ہی رینگ رینگ کے کام کرتی ہے۔ صدر صاحب کو دیکھ کے تجھے اور نیستی چڑھ جانی ہے۔ جا شاباش، سب کے لیے چائے لے کر آئو۔ ہم ان کے آنے کی دعا مانگتے ہیں۔ اب ان سب کی کھی، کھی شروع ہوچکی تھی۔

جمیلہ منہ بسورتی کھڑی ہوئی۔ پھر جیسے کچھ یاد آنے پہ واپس مڑی۔ اگر وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا تو اس کا روٹی، چولہا کیسے چلتا ہے۔

اف بھولی جمیلہ۔ آتشی اور عنبر کی کھی کھی اور بلند ہوئی۔ اب محب وطن جمیلہ کو بتا رہا تھا کہ اس کا چولہا چوکا جلانے کے لیے ہمارے وزیراعظم صاحب کو کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، جنہیں سن کے جمیلہ کا چہرا یرقان زدہ ہوچکا تھا۔

٭٭٭٭٭

ایمسٹرڈیم کی وہ سہ پہر اپنے اندر ہلکی سی تمازت سمیٹے ہوئے تھی جو آج بھی اسے بھلی لگ رہی تھی۔ وہ جانے کتنی دیر سے سنگی بینچ پہ بیٹھا تھا اور وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی غیر حاضر تھا۔ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ اپنا گھر، یہ شہر اور ملک تک چھوڑ کے چلی گئی۔ اس کے اوپر اونچے چھدرے درخت کے چند خشک پتے گرے۔ کیا کوئی باپ اپنی اولاد سے اس قدر دوری بھی بلاجواز برت سکتا ہے۔ اسے عنایت انکل سے یہ شکایت ہمیشہ رہتی تھی اور اکثر وہ اس کا اظہار کر بھی دیتا تو ان کے چہرے پہ ایک ٹھنڈا سا موسم جیسے ٹھہر سا جاتا اور وہ بس پھیکا سا مسکرا کے سر جھکا لیتے تھے۔ اس نے سامنے ایستادہ بلند عمارت کو آج بھی ویسی ہی نگاہوں سے دیکھا۔ جانے وہ سرمئی تھی یا مٹیالی. وہ آج بھی یہ فرق نہیں جان سکا تھا۔ گول احاطے کے گرد اس بل کھاتے تالاب میں آج بھی سفید بطخیں تیرنا پسند کرتی تھیں۔ اس کے حواسوں کو آج سے آٹھ سال پہلے کے وقت نے دھیرے سے چھوا، جب وہ آخری بار اس کے ساتھ اسی جگہ پہ کھڑا تھا۔ اس دن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کے ساتھ بتائی جانے والی یہ آخری سہ پہر ایمسٹرڈیم میں پھر کبھی سنہرا پن لے کر نہیں اترے گی۔

کیا آنٹی کے بعد میں اور مما تمہارا دھیان نہیں رکھتے عنبر۔ وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ بینچ چھوڑ کر تالاب کے کنارے تک آئی تھی اور وہ اس کے پیچھے ہی چلا آیا تھا۔ ان دنوں وہ بہت روتی تھی۔ بات بہ بات۔

خالہ یہاں بہت کم آتی ہیں۔ اس نے سر اٹھائے بنا ایک سچی بات کی تھی۔

اور میں. میں تو روز تمہارے گھر جاتا ہوں۔

مگر فاخرہ آنٹی کہتی ہیں کہ مجھے تم سے اب یوں نہیں ملنا چاہیے۔ اس نے ایک اور سچی بات کی۔ انس نے سر جھکاکے تالاب کا نیلا پانی دیکھا۔

انس وہاں بارش کا ہونا ابر رحمت کہا جاتا ہے۔ وہاں عورتیں تمام دن گھر کے مردوں کے لیے کام کرتی ہیں، پھر ان کا انتظار کرتی ہیں۔

مگر وہاں عورتیں جاب بھی تو کرتی ہوں گی۔ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا تھا۔

مگر اس گھر میں کوئی عورت جاب نہیں کرتی۔ وہ خوش دلی سے مسکرائی تھی۔

یادوں کے کئی خوب صورت پل پر تمازت ہوا نے گرہ سے کھول کر اس کی آنکھوں میں جھونکے تھے۔ وہاں گندم کی خوشبو روٹی سے پھوٹتی ہے اور وہاں ایک محب وطن بھی ہے۔ اس کی مسکراہٹ میں جگنو چمکے تھے۔

اچھا! وہ پورا اس کی طرف گھوما۔

مگر میں نے تو سنا کہ اسے دنیا سے گئے اک زمانہ ہوگیا۔ انس نے آنکھیں پھیلا کے کہا۔

ہائے اللُہ! خدا نہ کرے۔ وہ تو زندہ ہے اور باسط انکل کا بیٹا ہے۔ اس نے انس پہ گلہ آمیز نگاہ ڈالی۔

مگر میں نے تو سن رکھا ہے کہ پاکستان میں ایک ہی محب وطن تھا، جس نے وہ ملک بنایا تھا۔

ایسا نہیں ہے انس۔ وہاں پہ جب ایک ساتھ بے شمار اذانوں کی آواز ابھرتی ہے تو بہت بھلی لگتی ہے اور گھر کے تقریباً تمام افراد نماز کے لیے کام کاج چھوڑ دیتے ہیں۔ مگر آتشی. وہ خوشی سے چہکی۔

اچھا چھوڑو بھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح پاکستان کے ذکر سے چڑ کے اسے ٹوک گیا۔ تم یہاں میری زندگی کی سب اچھی چیزیں مجھ سے لے سکتی ہو۔ اس نے فراخدلی سے آفر کی۔

چلو پھر ٹھیک ہے۔ وہ سامنے ایکسپو سینٹر بھی میرا۔ انس کا منہ کھلا۔ اور یہ گول احاطہ بھی.

مگر یہ دونوں چیزیں میری نہیں ہیں عنبر۔

ہاں. لیکن تم جب کمانے لگوگے تو مجھے خرید کے دے دینا۔ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے تھے اور اس کی پونی ٹیل ایک پنڈولم کی طرح جھولی تھی۔

اس لمحے وہ اس پہ اپنا سب کچھ نثار کرنا چاہتا تھا۔

مجھے ایک اور چیز بھی چاہیے انس۔ وہ اس کے قریب ہوئی اور اس کا ہاتھ تھاما۔ جب تم امیر ترین ہوجائو گے تو. وہ کچھ متامل ہوئی۔

تو. اس نے بے صبری سے دہرایا۔

تو مجھے. تم کیا پاکستان خرید کر دے سکوگے۔

انس کے حلق میں جیسے ایک بھاری پتھر اٹکا تھا۔ اف. اف. اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔

اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ کسی راہ گیر نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے اسے متوجہ کیا۔ وہ تمام یادیں اڑ کے ہوا کی مٹھی میں پناہ گزین ہوئیں، اس کی مما کی کال تھی۔

کیا تم ایکسپو سینٹر کے سامنے گول احاطے میں ہو۔ رسمی حا احوال کے بعد ماں کا سوال حسب معمول تھا۔ جسے سننے کے بعد اس نے گہرا سانس لیا تھا۔ آج اس کا پرتمازت سانس اک عجب سی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔

وہ گیا تو ساتھ ہی لے گیا، سب ہی رنگ اتار کے شہر کا۔

٭٭٭٭٭

اس گھر میں رہنے والی دونوں خواتین کا ایک صدی تک تو مجھے کوئی ارادہ نہیں لگتا کہ وہ اپنی شادی کے چاول بوریوں سے باہر آنے دیں گی۔ تو اماں میرا ہی کچھ کریں۔ آج اس نے تمام شرم بالائے طاق رکھ کر زبان کھول ہی لی تھی۔ اب تو تیس سے بھی اوپر جارہا ہوں۔ محب وطن سر جھکائے جیسے کسی جرم کا اعتراف کررہا تھا۔ (وہ شادی کے آٹھ سال بعد پیدا ہوا تھا)۔

ارے کچھ شرم لحاظ کر محب! کنواری لڑکیوں کے ہوتے گھر میں تیری دلہن لے کر آجائوں۔ ہمارے ہاں یہ روایت نہیں ہے۔ تائی سرخ چہرے کے ساتھ جیسے گرج کے بولی تھیں۔

عنبر کا اوپر کا سانس اوپر تو نیچے کا نیچے رہ گیا۔ کچھ ایسا ہی حال آتشی کا بھی تھا۔

اس لیے تو تیری خالہ کی سب سے چھوٹی بیٹی سے تیری نسبت طے کی ہے۔ جب تک لڑکیاں اپنے گھر کی ہوں گی تب تک وہ بھی چودہ جماعتیں پڑھ چکی ہوں گی۔

عنبر کی آنکھوں میں نمی اتری۔ میں ان کی کون ہوں’۔ دل پہ ایک کھردرا کانٹوں بھرا ہاتھ سا پڑا کہ تائی ہمیشہ لفظ لڑکیاں استعمال کرتی تھی۔ فاخرہ کی سوتیلی بیٹی جسے یہاں سگوں سے بڑھ کر چاہا جارہا تھا۔ بھلا ایسا کہاں ہوتا تھا اور کسی دوسرے ملک میں تو بالکل بھی نہیں۔ اس قدر باروایت لوگ اور اس قدر اقدار پسندی کہ اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشیاں تک پس پشت۔ اس کے اعصاب پہ منوں برف گری۔ آتشی تو ان کی اپنی تھی، مگر وہ کس حساب سے انہیں کسی آزمائش میں ڈال کے بیٹھی تھی۔ تائی کی بات نے اسے گہری نیند سے جگا دیا تھا۔

اور پھر تم کون سا ٹک کر کہیں کام کرتے ہو۔ بلکہ دیگر محب وطنوں کی طرح اس ملک پہ حکومت کرنے کے خواب ہی دیکھتے ہو۔ تائی نے بیٹے کی خواہش سن کے ایک ہنگامہ برپا کردیا تھا۔

فکر مت کرو محب. میں اب اس گھر میں زیادہ دیر ٹکنے والی نہیں۔ وہ بے فکری سے بولی اور آم چوسنے کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا۔ اب زخمی بیل کی طرح تو مت گھورو۔ اسے اپنی جانب گھورتا دیکھ کر وہ تڑخ کے بولی۔ بلکہ چلو میرے ساتھ ٹیرس پہ آج مسز بزمی کے جامنوں کا ذائقہ پھر سے چکھتے ہیں۔ وہ ٹوکری پرے کھساکر نہ صرف خود اٹھی، بلکہ اسے بھی اپنے ساتھ کھینچ لے گئی۔

عنبر اسے سمجھنے سے قاصر تھی۔ تو کیا واقعی آتشی نے کوئی فیصلہ کرلیا تھا۔

رات دیر تک ہونے والی بارش میں وہ بھیگتی رہی تھی اور بارش کی بوندوں سے پھوٹتی اس کے آنسوئوں کی مہک عنبر نے خود محسوس کی تھی۔

انس اور اس کی محبت کسی بھی بل کھاتی ڈگر پہ نہیں چل رہی تھی۔ دونوں میں سے ایک کو پسپائی اختیار کرنا تھی اور منزل سامنے تھی، مگر آتشی. بہن اور بہنوئی کی جامد خاموشی کے باوجود ساغر اور اس کی محبت حقیقت تو تھی نا۔ آگے کیونکہ بڑھا جائے اور کس بنا پہ۔ اب ایک ہی نقطے پہ سوچتے دو خاندان شاید قیامت تک کے لیے پیچھے ہٹ چکے تھے۔

پروا کا سسر فوت ہوا تو وہ ان کے ساتھ گئی تھی۔ ایک امید سی بندھی تھی کہ شاید اب سب کچھ ٹھیک ہوجائے اور وہاں سے آتے وقت خیال سا گزرا تھا کہ کیا خبر گوہر بھائی جاتی بیوی کا ہاتھ پکڑ کے روک لیں، لیکن وہ ایک ٹھنڈی سی نظر ڈال کے راہ سے ہٹ گئے تھے۔ اس دن پروا نے سسرال میں سارا وقت گوہر کی دوسری بیوی کے ساتھ گزارا تھا اور عنبر سمیت وہاں موجود تمام خواتین کی آنکھوں میںحیرت کا ایک بپھرا ہوا سمندر تھا۔ اس دن عنبر کو محسوس ہوا تھا کہ اس نے پروا کے گونگے راز کو بولتے دیکھ لیا تھا۔ بھید کا کوئی سرا بصارت کے پردے پہ ہیولہ نما سا لہرایا تھا۔

دروازے کے سامنے کافی رش تھا، تو محب گاڑی ذرا فاصلے پہ لیے کھڑا تھا۔ آگے تائی، پیچھے عنبر اور ان دونوں کے پیچھے پروا تھی۔ اس کی چال میں واضح لنگڑاہٹ تھی۔ وہ ایک پائوں پہ زور دے کے چلتا تھا۔ وہ انہیں دیکھ کے ٹھٹکا تھا۔ عنبر نے اس کی حیران پھیلی آنکھوں میں ایک ساتھ چاروں موسم گھستے دیکھے تھے۔ وہ رک چکا تھا۔ وہ اسے نہیں جانتی تھی، لمحہ بھر کو ہی سہی، مگر وہ کیوں ٹھہرا تھا، اس کی نظروں میں بے قراری تیر رہی تھی۔ پگھل رہی تھی، جیسے فریز کی ہوئی چیز نمی چھوڑ کے پگھلتی ہے۔ وہ اس کے پیچھے دیکھ رہا تھا۔ عنبر نے یوں ہی پیچھے مڑ کے دیکھا اور وہ ششدر رہ گئی۔

برسوں کی خاموشی پروا کی آنکھوں میں تڑخ سی گئی تھی۔ اس سمے ان متحیر آنکھوں میں ایک گونگا راز سرگوشی کررہا تھا۔ ہجوم جوں ہی چھٹا، وہ آگے بڑھ آئی تھیں، مگر وہ شخص کتنی دیر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکا تھا۔ عنبر نے اسے بیک ویو مرر میں اوجھل ہونے تک دیکھا تھا اور دیکھتی تو وہ بھی رہی تھی جو پانی کی بوند کی صورت اس کے ساتھ سمٹ کے بیٹھی تھی۔

٭٭٭٭٭

لنڈا کی باتیں سن کر وہ ہتھے سے اکھڑ گئی تھی۔ میں. اور ماجدہ کی زندگی پہ رشک کروں۔ وہ تنفر سے ہنسی اور انگلی سینے پہ جما کے اپنی طرف اشارہ کیا۔ وہ ایک قید خانے میں رہ رہی ہے مام! وہ تیز تنفس کے ساتھ بولی۔

آج کل اس کی ڈریسنگ بھی قابل اعتراض ہوتی تھی۔ اس کے برعکس لنڈا گھٹنوں کو چھوتی اسکرٹ پہنتی تھی۔

تمہارے دین میں یہی قید خانہ اور ایک باکردار شوہر عزت کا سمبل ہوتا ہے فاطمہ! اور تم اسے قید خانہ کہہ رہی ہو۔

تو کس نے کہا تھا ہمیں اس دین سے روشناس کرائو۔ وہ اس کی بات کاٹ کے ترنت بولی تھی کہ لنڈا کے خنک وجود میں سناٹا چھا گیا۔

میں زندگی کو انجوائے کرنا چاہتی ہوں اور جو میں چاہتی ہوں وہ میں اپنے طریقے سے حاصل کروں گی، نہ کہ آپ کے بتائے ہوئے راستوں پہ چل کے۔ وہ لنڈا کے کانوں میں آگ جھونک کے دوبارہ باہر جانے لگی تھی۔

تو ٹھیک ہے پھر. یہ چار لفظ اس قدر سرد لہجے میں کہے گئے تھے۔ وہ آگے نہ بڑھ سکی۔

آج سے میرا نام فاطمہ ہوا اور تمہارا۔ وہ مڑی، وہ چونکی کہ بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ میں نے تم دونوں بہنوں کے نام بہترین ناموں سے چن کر رکھے تھے۔ جنہیں لیتے ہوئے نگاہیں مئودب اور زبان مغرور ہوجاتی ہے۔ جو لوگ محض دنیاوی زندگی میں لذت ڈھونڈنا پسند کرتے ہیں، پھر وہ اس نام کا غرور کھو دیتے ہیں۔ جب تم روز حشر بھی اس نام سے پکاری جائوگی تو تمہارا سر غرور سے اٹھا ہوا ہوگا اور چہرہ چمک رہا ہوگا۔ لنڈا بہت انوکھے انداز سے مسکرائی۔

پہلے تو وہ یک ٹک اسے دیکھتی رہی۔ پھر اس نے ہنسنا شروع کیا۔ پھر ہنسی نے قہقہوں کی شکل اختیار کی۔ لنڈا کا چہرا اس کی اس حرکت سے تاریک ہوا۔ میں تمہیں دودھ کا یا خون کا واسطہ دے کر نہیں روک سکتی ہوں۔ اس لیے میں تمہیں تمہارے نام کا واسطہ دے کر روکنا چاہتی ہوں، اور اگر تباہی کا راستہ چن رہی ہو تو پھر تمہیں بنا اس نام کے یہاں سے جانا ہوگا۔ لنڈا کی آنکھوں میں آنسو اور لہجے میں بے بسی تھی۔

وہ دو قدم آگے بڑھی لنڈا کا کندھا تھپتھپایا۔ تم پانی پیو اور آرام کرو۔ اس کی آنکھوں میں باغیانہ چمک تھی۔ وہ اسے گم صم چھوڑ کے چلی گئی۔ جانے پھر وہ کہاں گئی۔ برسوں بعد لوٹی تو بالکل گم صم تھی۔ بالکل اسی کیفیت میں جس میں وہ لنڈا کو چھوڑ کے گئی تھی۔ مگر آج اس کا استقبال گھر کی وحشتوں اور خاموشیوں نے کیا تھا۔ لنڈا نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ پھر وہ خود کو فاطمہ کہلوانا پسند کرتی تھی۔ چھ ماہ پہلے وہ بیمار ہوگئی تھی۔ ماجدہ نے اس کی بہت خدمت کی۔ اس نے ماجدہ کے گھر میں ہی دم توڑا تھا۔ اس نے یہ گھر اس لیے نہیں بیچا تھا کہ ایک دن تمہیں یہاں آنا تھا۔ اس کی پڑوسن شلٹ نے تمام باتوں کے بعد ایک خط اس کی طرف بڑھایا۔

یہاں سے روانگی کے وقت لنڈا نے دیا تھا۔

٭٭٭٭٭

آپ جس شخص سے آتشی کا رشتہ طے کرنے لگی ہیں، کیا وہ ساغر سے اچھا ہوسکتا ہے۔ محب کی آواز میں شکوہ تھا۔ دکھ تھا، اذیت تھی۔ ساغر اس کا نہ صرف ہم عمر تھا، بلکہ اس کا بہت اچھا دوست بھی تھا۔ وہ دونوں چند لمحے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے۔

یہ سب اس کی رضامندی سے ہورہا ہے۔ اس نے ہاں کی ہے تو بات آگے بڑھی ہے، ورنہ اب تک. وہ لب کچل کے خاموش ہوئی۔ اور دونوں ہاتھوں پہ سر گرا کے بیٹھ گئی۔

سوچ لو بیٹا! دل کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ آتشی کے وجود سے یہ رنگ اڑ جائے گا اور باقی کی زندگی وہ کیا کرے گی۔ تائی کی آواز اداسی کے بھنور میں الجھی ہوئی تھی۔ پھر رنگریز بھی بچھڑ جاتے ہیں۔ ہوا صرف ہوا رہ جاتی ہے، ٹھنڈی اور تپش زدہ. ہوا سے خوشبو کشید کرنے والے زمانے پھر سانس نہیں لیتے، وہ مہک چھوٹ جاتی ہے۔

میں یہ سب جانتی ہوں تائی امی! وہ کہہ نہیں سکی۔ مگر سر ایک جھٹکے سے اٹھا کے انہیں دیکھا ضرور تھا۔ اور بولنا بھی ضروری تھا۔

دنیا کیا سوچے گی، بڑی بہن کو گھر بسانا تو نہ آیا، برسوں سے میکے میں بیٹھی ہے اور اب چھوٹی کو اسی گھر میں کون سے خوشیوں کے نئے جہان دریافت کرنے بھیج دیا ہے۔ اس کے وجود میں جیسے آگ کا جنگل اگ آیا تھا، اپنا ہی کہا ہر لفظ اک شعلے کی مانند جسم سلگا رہا تھا۔

عنبر جو تائی سے سوئیٹر بننا سیکھ رہی تھی۔ کتنے ہی دانے سلائی سے باہر نکلے۔ دل بے طرح دھڑکا۔ ابھی تائی کی آواز ابھرے گی، محب کی یا پھر اندر آتے تایا جی کی تو.

بسا لیا ہوتا نا. کیوں نہ بسایا. ساغر وہاں سی اے کے بعد دبئی میں چارٹرڈ اکائوٹنٹ کے عہدے پہ تھا۔ اتنا اچھا رشتہ تو آج ہاتھ سے نہ جاتا۔

عنبر کے چہرے پہ ہوائیاں اڑیں۔ کتنے پل گزر گئے وہاں ایک جامد خاموشی کا راج تھا۔ وہ اس قدر وضع دار لوگ تھے کہ کبھی طعنہ نہ دیا۔ (طعنہ دینے والوں کے لیے بربادی جو ہے۔) باوقار. دین کی سمجھ بوجھ سے بہرہ ور. اسلام میں جبر نہیں۔ کوئی ملنے ملانے والا صلح کے لیے مشورہ دیتا تو تایا کا جواب سن کر نرم پڑ جاتا۔

پھر دوسری شادی تو گوہر نے کی ہے۔ پروا نے آج تک خلع کے متعلق بھی نہیں سوچا۔ بیٹی کیا انسانیت کے دائرے سے باہر ہے۔ عزت نفس اس کے لیے نہیں۔ شوہر سمجھے نہ سمجھے۔ ریوڑ کی طرح سسرالی دہلیز سے باندھ دو۔

تایا جی کیسے پروا کے محافظ بن جاتے تھے۔ کیا دنیا میں ایسا کہیں ہوتا ہے۔ یہ ہے پاکستانی معاشرہ اور پاکستان میں صرف محب منزل میں ہی تو زندگی کا یہ رخ نہیں ہوگا۔ کئی خاندان اس طرح کی مثبت سوچ کے مالک ہوں گے جو گھر واپس آئی بیٹی کی عزت نفس پہ کوڑے نہیں برساتے ہوں گے۔ ان کا مان، ان کی ڈھال ہوں گے۔ وہ یہاں کی ہر اچھی بات انس سے شیئر کرتی تھی۔ اکثر وہ خاموشی سے سنتا رہتا، مگر کبھی جرح پہ بھی اتر آتا۔ جیسے کہ آج.

مگر آتشی نے کیوں ہاں کہہ دی۔ وہ بھی سن کے پریشان ہوگیا تھا۔

تو پھر کیا کرے۔ یہ معاملہ آگے دیوار اور پیچھے آگ جیسا ہے۔ عنبر کی باتوں سے اب بردباری جھلکتی تھی۔

٭٭٭٭٭

ہوا کی باس جیسا تھا۔ کرن کی آنچ جیسا تھا

سنہری دھوپ جیسا تھا، خیال یار جیسا تھا

وہ جیسا بھی تھا آتشی نے اس سے کبھی ظاہراً یا چھپ کر ملاقاتیں نہیں کی تھیں۔ نہ ہی رات، رات بھر وہ اس سے فون پہ گپیں ہانکتی تھی۔ اس کی آنکھوں کا رنگ کتھی تھا یا بھورا۔ اسے یہ تک یاد نہیں تھا۔ وہ باتونی تھا یا کم گو۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھی۔ رنگ، موسم، دھوپ، چھائوں میں سے اس کی پسندکیا تھی، وہ اس بھید سے بھی بے خبر تھی۔ مگر وہ ہمیشہ اس کی یاد میں رہا۔ دل نے ہمیشہ اسے محسوس کیا اور وہ اس کی زندگی میں بھی شامل ہونا چاہتی تھی، مگر چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔

کبھی عید، بقرعید. اس کی برتھ ڈے یا نئے سال کے حوالے سے وہ چند خوب صورت الفاظ اسے میسج ضرور کرتا تھا۔ تو وہ بھی جواباً سیم ٹو یو جیسے تین لفظ سینڈ کردیتی تھی۔ وہ اس کی عزت کرتا تھا، اگر محب منزل سے امید کا سورج کبھی ابھرنے کا امکان ہوتا تو وہ جون کی دھوپ میں بھی ننگے پائوں چلا آتا۔ نہ کبھی وہ دن آیا، نہ کبھی اس نے پیش رفت کی۔ مگر ساغر کے اندر پنپنے والی محبت کی خوشبو اس کا اپنا گھرانا بھی محسوس کرتا تھا۔ گوہر اور پروا کی زبان پہ لگے قفل کی چابیاں کھوجنے کی کوشش دونوں خاندانوں نے بس ایک حد تک کی تھی اور پھر جیسے تم اپنے گھر خوش، ہم اپنے.

آتشی کا رشتہ طے ہوچکا تھا۔ ایک جان لیوا سی بے چینی وجود کے اندر سرائیت کرگئی تھی۔ عنبر شاید انس سے بات کررہی تھی۔ اس نے تازہ ہوا کے لیے کھڑکی کھولی، آج بہت حبس تھا۔ مسز بزمی آنکھیں موندے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے موسیقی سے لطف اندوز ہورہی تھیں۔ عنبر اور اسے ہوا کی دوش پہ پرانی موسیقی اسی گھر سے سننا نصیب ہوتی تھی۔

یہ آسمان، یہ بادل، یہ روشنی، یہ ہوا.

ہر ایک چیز ہے اپنی جگہ ٹھکانے پہ.

یہ آواز یقینا رفیع کی تھی۔

کوئی اور وقت ہوتا تو وہ دونوں ہنس ہنس کے دہری ہوتیں۔ (اچھا تو پرانے وقتوں میں ایسی شاعری ہوتی تھی۔) مگر آج یہ گیت دل کو چھو رہا تھا۔

تو پاس ہوکے نہ ہو، پھر بھی تو مقابل ہے

تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے

مگر وہ تو دبے پائوں اس کی زندیگ سے نکل رہا تھا۔ کیا تھا اگر آپا میری خاطر گوہر بھائی سے صلح کرلیتیں۔ اس نے بے تحاشا بہتے آنسوئوں کو بے دردی سے رگڑا۔

نیچے انار کے جھنڈ کے پاس کھڑے محب وطن نے اسے زخمی نگاہ سے گھورا تھا۔ وہ فون پہ کسی سے بات کررہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ محب کس قسم کی حماقت کا مرتکب ہورہا تھا۔ آج کل بے کلی اور بے قراری محب منزل میں برستے ساون میں بھی رقص کرتی نظر آتی تھی۔

٭٭٭٭٭

میری بیٹی!

میں نے اپنی پچھلی زندگی میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ میں کبھی زندگی میں اپنا مذہب تبدیل کروں گی، میرا دل کہتا تھا کہ تم دونوں کا تعلق مسلم گھرانے سے ہے۔ مجھے یہ حق نہیں تھا کہ میں تمہاری شناخت، تمہارا مذہب، تم لوگوں سے چھین لیتی۔ یہ انسانیت کی توہین تھی، میں لنڈا جو انسانیت کا راگ الاپتی تھی، پرچار کرتی تھی اور میں نے بعد میں جانا کہ اس مذہب میں تو پرچار ہی انسانیت اور اخلاقیات کا ہے۔ ہاں تو جب تم دونوں میرے پاس آئیں تو سب سے پہلے مشکل مرحلہ تم دونوں کے ناموں کا تھا اور میں اس دن زندگی میں پہلی بار اسلامک سینٹر گئی۔ میرے اندر ایک جھجک تھی، میں اندر جاکے دروازے کے پاس ہی رک گئی۔ سامنے بیٹھا وہ شخص مجھے دیکھ کے مسکرایا۔

آگے آئو. یہ دروازہ ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ میں اس کے سامنے بیٹھ گئی۔

مجھے دو نام بتایے جو اسلام میں سب سے خاص اور معتبر خواتین کے تھے۔ پھر مجھے ان ناموں کے معنی و مطلب بھی بتایے۔ میری پوری بات سن کے وہ دوبارہ مسکرایا۔ پھر وہ مجھ پہ ان دو ناموں کی بابت سب کچھ واضح کرتا گیا اور میں پرسکون ہوتی گئی۔

جب یہ بولنا شروع کریں تو انہیں یہ پڑھایا کرنا۔ ہم اسے کلمہ کہتے ہیں۔ اس نے مجھے کاغذ پہ کچھ لکھ کے دیا۔

آپ ایک بار پڑھیں۔ میں نے درخواست کی۔ وہ پڑھتا گیا۔ میں ساتھ ساتھ دہراتی گئی، نہ کچھ اور ہدایت، نہ کوئی مزید مشورہ۔ کیا یہ مذہب اس قدر آسان ہے، وہاں سے اٹھتے وقت میں حیران تھی۔ جب تم دونوں تین سال کی ہوئیں تو میں اسی مفتی صاحب کی ہدایت کے مطابق تم دونوں کو دینی تعلیم و تربیت کی عرض سے اسلامک سینٹر لے جانے لگی تھی۔ میں نے وہاں اللُہ کی آخری کتاب ہدایت کو پہلے عربی میں سنا۔ پھر میں نے تم دونوں کے ساتھ اسے باترجمہ سنا، پھر میں نے اسے تم دونوں کے ساتھ ہی تفہیم و تفسیر سے سنا۔ دنیا کے کسی اور مذہب میں کیا اس قدر آسانیاں ہیں، کیا اس قدر ایک معاشرتی زندگی کا مکمل نظام ہے۔ محرم رشتوں کا احترام، نامحرم رشتوں سے فاصلہ برتنا۔ ہر رشتے میں عورت کا تقدس. انصاف کا مکمل نمونہ کہ کوئی بھی انسان دنیا میں دھتکارا نہ جائے۔ اس قدر چھوٹ کہ ایک بار توبہ کرلو۔ سب معاف۔ میں آہستہ آہستہ اس مذہب کی گرویدہ ہوتی جارہی تھی۔ شیطان کا ذکر بھی اسی کتاب میں تھا کہ وہ صریحاً انسان کا دشمن ہے۔ شیطان کا چہرا، اس کا کردار، اس کا کام سیدھی راہ سے بھٹکانا یہ ہمیں ہمارے اللُہ نے ہی بتایا ہے۔ کیا شیطان ہم سے گفتگو کرتا ہے۔ کیا کرسکتا ہے۔ کبھی کرپائے گا، نہیں، ناممکن، مگر مالک کائنات ہم سے ہمکلام ہے۔ بس وہ کتاب ہدایت اٹھائو اور اسے پڑھو، وہ ہم سے مخاطب ہے۔ اے بندے، اف. کیا یہ بات رونگٹے کھڑی کرنے والی نہیں۔ جو اس ساتویں آسمان پہ بیٹھا ہے اور ہم سے مخاطب ہیں۔ اے میرے بندے، کہیں کچھ فاصلہ ہے۔ مانگ جو ہم سے چاہیے۔ عزت، دولت، شہرت، دین، دنیا، ہدایت، ہاں ہدایت، شرط مانگنا ہے، یعنی چوائس، ماجدہ نے اللُہ سے ہدایت مانگی۔ اسے عزت، دولت، شہرت، دین دنیا، سب مل گیا، یہ اس کی چوائس تھی۔ میں اب فاطمہ ہوں۔ میں مسلمان ہوں۔ میں حیران ہوتی ہوں اور میں حیران ہوں۔ کہ اس کتاب ہدایت کو باترجمہ پڑھنے والے اپنے آخری نبی صلی اللُہ علیہ وسلم اور اس پہ اتاری گئی آخری کتاب ہدایت پہ فخر کرنے والے۔ اپنے نبی ؐکی شان میں بے ادبی کرنے والوں کی جان لینے والے اور اپنی جان دینے والے۔ اخلاقیات کے دائرے سے اور انسانیت کے دائرے سے کیوں کہ باہر ہوجاتے ہیں کہ اس آخری نبی صلی اللُہ علیہ وسلم نے انہیں دو الفاظ کے اندر پورا اسلام سمیٹ دیا ہے۔ عبادت کے لیے کیا فرشتے کم تھے۔ انسان کیسے اپنے لیے اور دوسروں کے لیے زندگی مشکل کردیتا ہے، جیسے تم نے اپنے اور میرے ساتھ کیا۔ وہ خط اب آدھا بھیگ چکا تھا۔

وہ کیوں کہ شرابی اور زانی ہوتے ہیں۔ میں حیران ہوں میری بیٹی۔ بات تربیت کی ہے۔ نہ تعلیم کی ہے۔ بات یہ ہے کہ جو کہتا ہے مجھ سے مانگ تو بات ہدایت مانگنے کی بات ہے۔ بات چوائس کی ہے۔ میں نے تم دونوں کی تعلیم و تربیت ایک جیسی اور ایک جیسے ماحول میں کی تھی تو پھر بات چوائس پہ ختم ہوئی۔

تمہارے لیے دعاگو۔ (فاطمہ)

٭٭٭٭٭

آتشی کے کارڈ تک چھپ کے آچکے تھے۔ تائی اور پروا کے دن شاپنگ کرتے تمام ہونے لگے تھے۔ اور تائی کا جو وقت گھر پہ گزرتا تو اپنے جہیز کی چیزوں سے بیڈ شیٹس، کشن اور تکیوں کے غلاف پیتل کے برتن وہ ان میں سب سے عمدہ چیزیں کھنگال کر ایک طرف کرتی جاتیں اور ان چیزوں کو چھو، چھو کے آتشی کس قدر خوش ہوتی تھی اور دکھ اس کے دل میں لوٹ پوٹ ہوتا تھا۔

جب خود کو اس کی رضا کے سپرد کردیا ہے تو آنسو بہانا اب بے ایمانی ہے۔ وہ عنبر کی نم نگاہوں کے آگے ہاتھ لہرا کے کہتی۔

اس مرتبہ محب منزل کو سفید رنگ میں رنگا جارہا تھا۔ مہندی کا فنکشن گھر پہ ہی ہوگا۔ تایا کے فیصلے کے بعد آج وہ اور عنبر، پروا کے ساتھ مل کے صحن کے جھاڑ جھٹکار کی صفائی کررہی تھیں۔

ارے یہ کیا. یہاں تو بلبل گھونسلہ بنا رہی تھی۔ عنبر نے بے یقینی سے دو گھنی شاخوں پہ اڑسے چند تنکے دیکھے۔ مطلب بلبل یہاں سے کہیں اور کوچ کرچکی تھی۔ عنبر اداس ہوئی۔ مگر اسے یہاں کیا مسئلہ تھا۔ پروا نے ان شاخوں پہ اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔

وہ مغرور بلبل اپنے سفید پیراہن پہ کیا کم اتراتی تھی۔ آتشی جھاڑو جمیلہ کے سامنے پھینک کے شہتوت کے پرانے درخت کو اب تک رہی تھی۔

تو ہم کون سا اس کے سفید پر سرخ. زرد یا پھر آتشیں رنگ میں رنگنے لگے تھے۔ اس کی بات عنبر کے ذرا جوپلے پڑی ہو۔ وہ گردن اٹھائے ابھی تک خالی شاخوں پہ نگاہ ٹکائے اداس تھی۔ پروا کا دل الہامی حالت میں دھڑکا. کیونکہ اب. اس نے شاید کوئی موٹا شہتوت تاڑ لیا تھا۔ پروا نے سانس روک لی. اس کا غرور مٹی میں ملنے والا تھا کہ آتشی بھی تو رنگ چھوڑنے ولی تھی۔ اس نے شہتوت توڑا ضرور، مگر عنبر کی طرف اچھال کے اندر بھاگ گئی۔ عنبر پتھر ہوئی اور پروا کے چہرے پہ زرد، جامنی، کالا ایک ساتھ کئی رنگ جم گئے تھے۔

پروا برسوں پہلے پربت بن گئی تھی، مگر کیوں. وہ جانتی تھی یا وہ جانتا تھا۔ اللُہ پھر اس کا خاوند. مگر چڑیا جیسی آتشی کے پر رنگ کیوں جھاڑنے لگے تھے، وجہ وہ سب جانتے تھے۔

بسااوقات وجہ کا سمجھ میں آنا مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔

٭٭٭٭٭

وہ کافی کشادہ، مگر مصروف بازار تھا، جس کے دونوں اطراف دکانیں بھی کافی کشادہ تھیں ۔ جن میں زیادہ تر دکانیں زیورات کی تھیں۔ آج محب وطن اسے شادی کا گفٹ دلانے آیا تھا۔ اس نے کہا اور وہ تیار ہوگئی نہ جرح. نہ سوال. اب اس نے زندگی سے میری، میری تلف کردیا تھا۔

اب کچھ لے کے بھی دو یا پھر یوں ہی مجھے گھماتے رہوگے۔ کتنی دیر کے مٹرگشت کے بعد وہ جھنجلا کے بولی تھی۔

آتشی! اگر میں تمہارے سامنے ایک چوائس رکھوں تو. اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کے اسے بغور دیکھا۔

اس کے لیے ہمیں دکان کے اندر تو جانا ہوگا نا۔ اس نے قریبی دکان کا شیشے کلادروازہ دھکیلنا چاہا۔

محب نے اس کا بازو پکڑ کے جیسے اندر جانے سے اسے باز رکھا۔ یہ ایک چوک تھا اور یہاں قدرے سکون تھا۔ وہ رکا۔

اگر یہاں ساغر آجائے۔ آتشی کے دل نے کئی دھڑکنیں مس کیں۔ اور وہ تمہیں کہے کہ میرے ساتھ چلو۔ اس کا دل تڑپ کے کٹ کے دھڑکا۔ تو تمہاری چوائس کیا ہوگی۔

وہ ہنسی اور اس نے محب کو غیر سنجیدگی سے دیکھا. مگر محب سنجیدہ تھا۔

میں تمہارا بھائی ہوں آتشی. کیا میں تمہارا نکاح پڑھوا کر اس کے ساتھ نہیں کرسکتا۔ ابھی تک محب کے چہرے پہ وہی تلخ و ترش سنجیدگی تھی۔ آتشی کے جسم سے جان جیسے نکلنے لگی تھی۔ وہ ٹھہر گئی، پھر اس نے محب کی آنکھوں میں جھانکا۔

جو محبت ہوتی ہے، اس کی چوائس کبھی ذلت نہیں ہوسکتی محب۔ وہ شاہانہ انداز سے مسکرائی۔ اور ساغر کا جواب بھی یہ ہی ہوگا۔ وہ بے نیازی سے کہتی اس سے دو قدم آگے بڑھی۔

کل وہ سن چکا تھا۔ اس نے یہ چوائس اس کے سامنے بھی رکھی تھی اور اس کا جواب بھی یہ ہی تھا۔

پھر جو گھر سے بھاگ کے شادیاں کرتے ہیں، کیا انہیں محبت نہیں ہوتی۔ اس نے الجھ کر پوچھا تھا۔

نہیں۔ ساغر نے اسے جیسے دکھ سے دیکھا تھا۔ ان میں نسانیت نہیں ہوتی۔ وہ اخلاقی پستی کا شکار ہوتے ہیں اور ہمارا ان سے نہ مقابلہ ہے، نہ کچھ لینا دینا ہے۔ اخلاقی عروج اور اخلاقی زوال یہ دو راستے ٹرین کی پٹڑیوں کی طرح ساتھ، ساتھ چلتے ہیں، بات صرف چوائس کی ہے۔ وہ پورے وقار کے ساتھ مسکرایا۔

اس کے وجیہہ چہرے کی مسکراہٹ میں اخلاقی عروج. عروج پہ تھا۔

٭٭٭٭٭

محب! اگر تمہاری جیب خالی تھی تو پھر یہاں لانے کا مقصد۔ وہ اس کے ساتھ چھوٹے قدموں سے چلتی اس مصروف بازار کے وسط میں ایک جدید اور مہنگے ریسٹورنٹ کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔ ساون کے بادل یوں گھر، گھر کے آرہے تھے کہ شام سے قبل ہی رات کا گمان ہورہا تھا۔ باہر کی نسبت وہ ریسٹورنٹ اندر سے زیادہ فرنشڈ اور خوب صورت تھا۔ زرد فانوسوں کی روشنی ماحول کو جگمگا رہی تھی۔ محب اسے نسبتاً کونے والی میز کی طرف لے آیا۔ اس نے اطراف میں اچٹتی سی نگاہ دوڑائی اور پرس میز پہ رکھا اور خود پورے اعتماد سے کرسی پہ پھیل کے بیٹھی۔

ویسے یہ جگہ ڈیٹ مارنے کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ وہ سامنے بیٹھے محب کو دیکھ کے مسکرائی۔

محب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا اور ساتھ ہی اٹھا۔ میں تمہارے لیے کچھ لے آتا ہوں۔

اس نے مڑ کے محب کو دیکھنے کے بجائے اپنا پرس چیک کرنے کا ارادہ کیا۔ اس لڑکے کا کچھ پتا نہیں، ہوسکتا ہے، بل بھی مجھے ہی دینا پڑے۔ اس نے پرس کھولا۔ اندر کچھ نوٹ تھے، وہ مطمئن ہوئی۔ کوئی آہستہ سے اس کے مقابل بیٹھا۔ وہ خوشبو محب کے پرفیوم کی نہیں تھی۔ اس نے چونک کے سر اٹھایا۔ اس کا دماغ بھک سے اڑا، وہ چکرا کے رہ گئی۔

اف. یہ محب اسے کم از کم یہاں پانی تو رکھ کے جانا چاہیے تھا نا۔ تاکہ اس صحرائی پوزیشن میں بندہ اپنے سوکھے حلق اور خشک ہونٹوں کو ہی تر کرسکتا۔ پورے پانچ سالوں بعد آتشی نے اسے دیکھا تھا، وہ بھی اک نظر. اور اب نظریں گود میں دھرے اپنے ہی ہاتھوں پہ جمی تھیں۔ کتنی ہی دیر گزر گئی۔ یہ میری ہتھیلی کی پشت پہ تل کب پھوٹا اور شاید میں کمزور ہوگئی ہوں۔ ہاتھوں پہ نیلی رگیں اب نظر آنے لگی ہیں اور میرے ہاتھ پہ یہ. ابھی تو ہاتھوں پہ ریسرچ شروع ہوئی تھی۔

آتشی! کسی نے بے حد نرم اور بھاری آواز میں پکارا۔

گھبرا کے سر اٹھایا، دوسری نظر سامنے پڑی۔ پھر ادھر ادھر، کون آتشی، سر بے طرح گھوم رہا تھا۔ اب ایسی بھی بدحواسی کیا۔ پتا نہیں اس کا نام ساغر تھا۔ اس کی آنکھیں یا پھر اس کا وجود. آج ساغر سے سامنا ہوگا۔ جو پتا ہوتا تو بلبل کے چھوڑے دو، تین تنکے ہی ساتھ لے آئی۔ (ڈوبنے والوں کو تنکے کا سہارا ہی بہت) مسز بزمی نے کیسے کیسے پرانے گیت رٹوا دیے تھے۔

گو یہ کوئی مہذب طریقہ نہیں۔ وہ دوبارہ ہمکلام ہوا۔ (کسی کو سامنے بٹھاکے یوں کھٹکی باندھ کے دیکھنا واقعی) اس نے دل تھام کے سوچا۔ مگر میں آخری بار تم سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کا نپا تلا لہجہ چشم کی اوس جیسا تھاجو دلوں میں ہجربونے سے پھوٹتی تھی۔ آخری بار تو دنیا سے جانے والوں کا دیدار کیا جاتا ہے۔ باقی تو کچھ بھی آخری نہیں۔ وہ سوچ کے رہ گئی۔ اور جی کڑا کرکے اسے دوبارہ دیکھنا چاہا۔

یہ تو ناانصافی ہوئی، ادھر ادھر بھی تو دیکھو، تاکہ میں بھی تمہیں دیکھ سکوں۔ نظر اٹھاتے ہی جھک گئی۔

کسی ایک ہی چہرے کا اچھا لگنا وہ بھی سالوں تک یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوتی اور عقل اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بات کررہا تھا۔ نگاہ میز پہ اس کے پرس پہ یا اس کے ہاتھوں پہ ٹکاکر۔ اس کی آنکھیں ہلکی سیاہ تھیں۔ وہ بات کرتے ہوئے بھی نظر کا دھوکا لگ رہا تھا اور دلکشی سے مسکراتے ہوئے وہ اس کی آدھی جان نکال چکا تھا۔ یہ آج سے پانچ سال پہلے والا ساغر تو نہیں تھا جو اسے جھینپ کے دیکھتا تھا، ہاں مگر اناپرست اور خوددار آج بھی اتنا ہی تھا۔ تب ہی ویٹر نے ان کی میز پہ پانی رکھا اور اس نے کس قدر بے صبری کا مظاہرہ کیا تھا۔ وہ لبوں میں مسکراہٹ دبائے اسے دیکھتا رہا۔

اف. سسی ایسے ہی تو صحرائوں میں رل کے نہیں مر گئی تھی۔ اس سے پہلے اس نے پنوں کے ساتھ کسی ایسے ہی ریسٹورنٹ میں آخری ملاقات کی ہوگی اور وہ ایسے ہی سامنے بیٹھا مسکراتا رہا ہوگا۔

آپ کو مجھ سے نہیں ملنا چاہیے تھا۔ اس نے پہلی بات کی، وہ بھی اس کی آنکھوں میں دیکھ کے۔

وہ پیچھے ہوا۔ کرسی کی پشت سے ٹیک لگاکے بس آنکھوں سے پوچھا کہ کیوں.

کہ اب میں ہیر کی طرح چیخیں مار، مار کے ڈولی چڑھوں گی۔ سوچا ضرور، مگر کہنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ اب یہ آنکھیں محبت کی لوک داستانیں میرے وجود پہ رقم کررہی ہیں، یہ مجھے محبت سکھا رہی ہیں۔ تمہاری مسکراہٹ میری روایتوں میں دراڑ ڈالنے جیسی ہے۔ اب میرا دل بھی زلیخا کی گلی میں سستانے کو چاہے گا۔ پنوں میں تا. سکھ لی ہے ہونگ بلوچاں والی (اونٹوں کو موڑنے والی آواز) اب صحرائوں کا سفر کرنا میری خواہشوں میں ہوگا۔ وہ اب اس احساس سے نکل چکا تھا۔ جسے بس حواس چھوتے ہیں۔ وہ اب خیال یار جیسا بھی نہیں رہا تھا کہ وہ مجسم سامنے تھا۔

ساغر میں. وہ بات بڑھا نہ سکی۔ ہکلا کے لب بھینچ کے خاموش ہوئی۔ وہ ایک دم سیدھا ہوا، منتظر ہوا۔

میں. میں اس ملاقات کے لیے تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ اس نے اٹھتے ہوئے اس شخص پہ ایک آخری الوداعی نگاہ ڈالی۔ جس کے وجود میں سکون لرز کر رہ گیا تھا اور ہلکی سی لرزش بھی اکثر بڑے شگاف ڈال دیتی ہے۔ وہ آج کرن کی آنچ جیسا نہیں لگ رہا تھا۔ جھلسانے والے سورج میں ڈھل چکا تھا۔

٭٭٭٭٭

ماجدہ اس کی خبر پاتے ہی ملنے چلی آئی تھی۔ اس کی گود میں دو سال کا بیٹا بھی تھا۔ وہ متحیر ہوئی۔ تو کیا وہ سالوں بعد واپس آئی تھی۔ ماجدہ نے اس سے کچھ بھی نہیں پوچھا تھا۔ وہ کسی عبادت گاہ سے اٹھ کے نہیں آئی تھی، مگر اس کی بہن اس پہ نثار ہوئے جارہی تھی۔ وہ جیسی زندگی گزار کے آئی تھی، دھتکارے جانے کے قابل تھی، مگر اس کے بہنوئی نے اس کے سر پہ عزت سے ہاتھ رکھا تھا۔ اللُہ ہمیں معاف کرے۔ فاطمہ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا۔ یہ نہیں کہا کہ خدا تمہیں معاف کرے۔ وہ شل رہ گئی تھی۔ نیکوکاروں کو تو غرور ہوتا ہے۔ وہ بدکار تھی اور وہ اسے سر آنکھوں پہ بٹھا رہے تھے، توبہ کرو اور نجات پائو. توبہ کرو اور بخشے جائو گے، بشرطیکہ وہ گناہ دوبارہ مت کرو۔ انہوں نے اسے معاف کردیا تھا۔ یہ ہی اسلام تھا۔ یہ ہی انسانیت کا تقاضا تھا۔ دھتکاری جاتی تو پھر بھٹک جاتی، اپنالی گئی تھی تو اپنے لیے رب سے ہدایت مانگ رہی تھی۔

عنایت میرا اچھا دوست ہے۔ اس نے یہاں میرے ساتھ ہی بزنس اسٹارٹ کیا ہے، یعنی میرا شیئر ہولڈر ہے۔ وہ تم سے نیشنلٹی کے لیے شادی کرنا چاہتا ہے، مگر دوسری شادی کے بعد بھی تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ بہنوئی نے نرم لہجے میں قائل کیا۔

وہ انکار کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ عنایت اتنا جانتا تھا کہ وہ ماجدہ کی چھوٹی بہن ہے۔ گوری رنگت کی نرم نازک سی فاطمہ میں اسے بس رشتے کی حد تک دلچسپی تھی۔

میں پاکستان میں کسی لڑکی سے محبت کرتا ہوں۔ شادی کے بعد اسے اپنے ساتھ یہاں رکھوں گا۔ شادی کے بعد اس نے پہلی بات ہی یہ کی تھی۔ فاطمہ کو اب صرف عزت چاہیے تھی۔ باقی باتیں اس کے لیے بے معنی تھیں۔

٭٭٭٭٭

یہ راتوں رات آتشی مٹی کا پہاڑ کیوں بن گئی تھی۔ ایک سوندھا کچا پہاڑ جیسے کوئی اس پر سے پائوں رکھ کے گزر گیا تھا۔ وہ اب ذرا، ذرا سا جھڑ رہی تھی۔ وہ سوندھا پن اس کے گیلے وجود سے اڑ رہا تھا، اس میں ایسی کون سی بستی آباد ہوگئی تھی۔ جس کے پل پل بدلتے موسم سمجھ سے باہر تھے۔ کبھی تیز بارش، کبھی دھوپ. کبھی ہلکی کن من. عنبر اسے دیکھتی اور نظر ہٹا نہیں پاتی تھی۔

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

کرکے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

یہ مسز بزمی بھی نا۔ عنبر نے کروٹیں بدلتی آتشی پہ اک نگاہ ڈالی۔

آج پھر مسز بزمی نے پورے گھر کی صفائی کروائی تھی۔ اسے کہیں نہ کہیں سے شراب کی خالی یا بھری بوتل ملی ہوگی۔ (کہ اس کا مرحوم شوہر بلا کامے نوش تھا) عنبر نے ہنستے ہوئے بستر چھوڑا۔ اور نیم وا کھڑکی کے تمام پٹ وا کیے۔ کمرے میں ملگجی سی روشنی کے ساتھ ہلکی ہوا بھی دبے پائوں اندر آئی۔ اس نے کھڑکی کے چوکھٹے پہ کہنیاں ٹکائیں۔

کر. کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی۔ وہ مسکراتی غزل آتشی کو جیسے چڑا رہی تھی۔ کروٹیں بدلنے کا سلسلہ ترک کرتی وہ اٹھی اور ننگے پائوں چلتی کھڑکی تک آئی۔ وہ کھڑکی تین پٹ والی تھی۔ اس نے درمیانے چوکھٹے پہ ہاتھ رکھا اور کھلے پٹ سے ٹیک لگائی۔ پھر مکمل چاند کو دیکھ کے چور کی طرح نظر موڑی۔

ایمان بھی تو ایک روشن دائرہ ہے، جس میں توبہ رہتی ہے، جو ذرا سا بھی متزلزل ہوجائے تو توبہ تڑخ جاتی ہے۔ (خدا نے انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جو بنایا ہے) کبھی ساقی بھی انسان کی توبہ کا سبب بن جاتا ہے۔ وہ عنبر سے مخاطب ہوئی۔ کبھی ساقی کی بات ٹالنے والی واقعی نہیں ہوتی۔ وہ محفوظ سا ہوکر بولی۔ اس کی آواز میں اک بھید سا چمکا۔

تمہیں پتا ہے کل محب نے کیا، کیا۔ اس نے جان بوجھ کے توقف برتا۔ کیا۔عنبر ذرا سا پیچھے ہوئی۔

اس نے سالوں بعد ان دو افراد کو ایک دوسرے کے روبرو کردیا کہ کبھی جن کے لیے ایک دوسرے کی جھلک دیکھ لینا بھی غنیمت تھا۔ وہ چھوٹے سے نقرئی قہقہے کے ساتھ بولی

عنبر نے اسے ہڑبڑاکے دیکھا۔ یہ آواز اگر آتشی کی تھی تو وہ کیا کہہ رہی تھی۔

تو. پھر. پھر۔ عنبر نے بے تابانہ پوچھا، اس کی آواز واقعی کانپ رہی تھی۔

پھر کیا۔ وہ لب سکیڑ کے مسکرائی۔ اس نے کہا۔ میں تمہیں سوچتا تھا۔ (میں) تم بہت یاد آتی تھیں۔ (تم بھی) ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ (بالکل بھی نہیں) ہمارے ساتھ غلط ہورہا ہے۔ (بالکل) اب میں تمہارے لیے مر رہا ہوں۔ (میں بھی) میں تو یہ زندگی تمہارے ساتھ بتانا چاہتا تھا۔ (میں بھی) ہم سے وابستہ یہ رشتے، خود پسند ہیں، خودغرض، ظالم اور سفاک ہیں۔ (واقعی) آتشی یہ زندگی تمہارے بغیر کھنڈر ہوگی، بوجھ ہوگی، موت ہوگی۔ (میری بھی) وہ قہقہہ لگاکر ہنسی اور تادیر ہنستی رہی۔

یا اللُہ ! آتشی کو کسی دیوانے نے تو نہیں چھو لیا۔ عنبر نے اسے ہول کے دیکھا۔

دو محبت کرنے والے برسوں بعد وہ بھی آخری بار مل رہے تھے۔ ہونا اور بولنا تو ایسے ہی چاہیے تھا نا۔ اس نے ہنسی روک کے عنبر سے تائید چاہی۔ مگر افسوس اس کے لبوں سے کوئی گوہر کوئی پروا خاندان. دکھ، تکلیف، کوئی وعدہ وعید. اس طرح کا کوئی ایک لفظ ادا نہیں ہوا۔ لو بھلا یہ کہاں کی محبت ہوئی۔ مجال ہے جو اس نے ہجر کاٹنے کا کوئی ایک گر بھی میرے پلو سے باندھا ہو۔ عنبر نے اسے کسی غیر ماورائی چیز کی طرح دیکھا۔ اس سے ملنے سے قبل محب نے مجھے بھٹکانا چاہا تھا۔ میں نے کہا توبہ کرو. استغفار. اور پچیس منٹ کی ملاقات کے بعد میں نے اپنی توبہ توڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ پھر سے ہنسنے لگی۔

آتشی! تجھے کون سے جن نے چھو لیا ہے۔ یہ تیرے اندر کون بول رہا ہے۔ وہ ڈر کے مارے شل سی کھڑی رہ گئی۔

اس نے صرف ایک جملہ بولا تھا۔ وہ میرے سامنے بیٹھا چند لمحوں کے لیے مسکرایا بھی تھا۔ وہ آنچ دیتی آنکھیں۔ وہ مات دیتی مسکراہٹ، وہ حواس چھنتی خوشبو. شب گزشتہ اسے پانے کی خواہش میرے اور توبہ کے درمیان حائل ہوئی۔ توبہ جائے بھاڑ میں۔ توبہ جائے جہنم میں، توبہ جاکر گناہ گاروں میں رہے۔ آتشی کہاں کی گناہ گار ٹھہری۔ وہ تو اسیر محبت ہوئی کہ ان خاموش نگاہوں نے آتشی کے وجود پہ محبت کی لوک داستانیں رقم کی تھیں۔ کل شب میں ننگے پائوں محب کے کمرے تک گئی۔ پھر میں نے اس کے بند دروازے کو چھوا۔ میں کون سا بھاگ کے جارہی تھی۔ محب کو مجھے رخصت کرنا تھا۔ یہاں سب کے سامنے تو محب کو جوابدہ ہونا تھا، وہ بھاگی نہیں، اسے میں نے خود رخصت کیا ہے، سن لو، سب کے سب۔ وہ بت بنی عنبر کو نہیں دیکھ رہی تھی، جیسے وہ وہاں تنہا تھی۔

اس شخص کے لیے توبہ توڑنا تو بنتا تھا نا۔ مگر وہ آنکھیں بہت باوقار تھیں۔ اس ساقی کی خواہش میں پوری زندگی تو نہیں تھی۔ بس مجھے آخری بار دیکھنے کی ایک معصوم سی خواہش. مگر عورت کیا چاہتی ہے، اپنے محبوب سے کیا چاہتی ہے۔ میں نے خود سے سوال کیا۔ اس کی گفتگو بس ایک جملہ تھا۔ ہدایت کا راستہ تو میں چھوڑنے لگی تھی، نیت تو میری ڈگمگائی تھی۔ تمہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ بس آخری بار. وہ شفاف لہجہ میرے اندر ابھرا۔ میں نے محب کے دروازے سے ہاتھ اٹھا لیے اور وہاں تک پھیلائے جہاں تک ممکن تھا۔ میں نے خواہش کا دائرہ توڑ دیا۔ میرے وجود میں توبہ پھر سے سانس لینے لگی۔ میری نظر اپنے وجود پہ لکھی ان لوک داستانوں پہ پڑی جو مجھ پر سے مٹ رہی تھیں۔

محبت کیا ہے۔ کچے گھڑے کا پانی میں گھل کے فنا ہوجانا اور کنارے پہ کھڑے شخص کو فنا کردینا۔ ہیر سیال کی دہلیز کے پار کسی جوگی کے کاسے کا ٹوٹ جانا محبت ہے۔ پنوں کے اونٹوں کو موڑنے کی آواز سیکھ لینا محبت ہے، جو مڑتے نہیں۔ ایک فنا ہونے والی شے محبت ہے اور توبہ. بقا ہے ہدایت کا راستہ دکھانے والی شے ہے۔ میں محبت کی چوائس ٹھکراکے واپس آگئی تھی۔ اب کے اس نے چاند کو ایک غرور کے ساتھ دیکھا۔

کیا عنبر کے پاس کھڑی لڑکی ایک ٹھنڈی روح تھی۔ عنبر کا کانپتا وجود دھیرے دھیرے کسی اندھیرے میں اتر رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

میں پاکستان جارہا ہوں مما۔ اس کی آواز میں ایک محسوس کی جانے والی خوشی تھی اور دوسری طرف ایک ٹھہری ہوئی خاموشی. کتنے ہی لمحے گزر گئے۔

کیا ہمیشہ کے لیے۔ آواز میں بلا کا ٹھہرائو تھا۔ ہلکی سی خفگی تھی۔

میں نے یہ تو نہیں کہا۔ اس نے محتاط انداز اپنایا اور سیل اپنے دوسرے ہاتھ میں لیا۔

دو دن بعد آتشی کی شادی ہے، اس کے بعد. کیا اس بار بھی اکیلے واپس آئو گے۔ اس نے اپنے اندر گہری سانس اتار کے پوچھا۔

نہیں۔ اس نے کھڑکی سے باہر اک نظر ڈالی۔

ہالینڈ میں موسم بدل رہا تھا۔ وہ ایسا ملک تھا جو آف سیزن میں پوری دنیا میں پھول سپلائی کرتا تھا۔ مگر اس لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے آف سیزن میں پھول نہیں چاہئیں۔ مجھے انس چاہیے، وہ بھی اس ملک میں جہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ اب پھول نہیں کھلتے، صرف بارود کی خوشبو ہوتی ہے۔

اللُہ کرے ایسا ہی ہو۔ اس کی ماں کی آواز بجھی ہوئی تھی۔ اس کے لیے میری طرف سے بھی کچھ خرید لینا۔ وہ ڈسٹرب تھی۔ اس کی آواز میں نمی تھی۔ انس چکی کے دو پاٹوں کے بیچ پس رہا تھا۔ وہ دونوں عورتیں اسے بے حد عزیز تھیں، مگر وہ دونوں بے حد ڈھیٹ بھی تھیں۔

٭٭٭٭٭

آواز دے کے ہمیں تم بلائو

محبت میں اتنا نہ ہم کو ستائو

گیت کی ٹون اور بول بتا رہے تھے کہ آج مسز بزمی اداس ہیں۔ وہ بے اولاد تھیں، مگر اکیلی نہیں تھیں۔ انہوں نے گھر میں مختلف پرندے، بلیاں اور خرگوش پال رکھے تھے۔

یہ مسز بزمی کا سی ڈی پلیئر جب چلتا ہے تو کب جانتا ہے کہ یادوں کے زنگ آلود بھاری دروازے کہاں کہاں نہ کھل جاتے ہوں گے۔ پروا کی سانس سے ایک ہوک سی ابھری۔ آج وہ سب بڑے کمرے میں تھے۔ تائی نے اپنے سامنے مختلف چیزوں کے دو ڈھیر لگا رکھے تھے۔

ایک تمہارا. پہلا اشارہ عنبر کی طرف کیا۔ جس پہ چاہے ہاتھ رکھ دو۔ وہ مبہوت ہوئی۔ اس کے جسم نے حیرت کا جھٹکا کھایا۔ اس قدر محبتیں۔

تائی امی میں اتنی محبتوں کے قابل نہیں تھی۔ آنسو روانی سے بہنے لگے۔

پگلی نہ ہو تو۔ تائی نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔ اللُہ کو یہ سب سننا پسند نہیں۔ انسان جب خود کو کمتر سمجھتا ہے تو اس کے ناشکرے بندوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ فلاں کو دے دیا۔ ڈھمکاں کو عطا کردیا اور مجھے اتنا کم. اور جب خود کو برتر سمجھتا ہے تو تکبر میں پکڑا جاتا ہے کہ دیکھا، میں اسی قابل تھا، جو مجھے اوروں سے بڑھ کے مل رہا ہے۔ صرف اللُہ ہی جانتا ہے کہ کون کس قابل ہے۔ ہمارا کام تو یہ ہے کہ کم پہ بھی شکر گزار. زیادہ پہ بھی شکر گزار کہ اللُہ کو اپنے بندے میں یہ وصف سب سے زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے اس لڑکی کے آنسو صاف کیے جو ان کی زندگیوں میں ایک ان سنی داستان تھی۔ جہاں سے اس نے چاہا سنا دی۔ نہ ابتدا سے انہیں دلچسپی تھی، نہ انتہا کا تجسس تھا۔ جس کا باپ بھی اس کی زندگی میں مخل ہونا پسند نہیں کرتا تھا یا وہ اسے مخل ہونے نہیں دیتی تھی۔

٭٭٭٭٭

اس کے بعد تمہارے لیے کوئی بھی فیصلہ کرنا آسان ہوگا انس! وہ اتفاقاً ادھر سے گزری تھی اور اس نے عنبر کا وہ ادھورا جملہ سنا تھا. کہ اس کے پائوں ان الفاظ نے جکڑ لیے۔ اس نے آرزدگی کے ساتھ سر جھٹکا۔

آسانی بس بے خبری میں ہے۔ آگہی زندگی کو مشکل ترین کردیتی ہے۔

وہ ایک دم اس کے سامنے آئی۔ میں نہیں جانتی تمہارا راز کیا ہے، وہ بات کس کی ہے، مگر دل وہ جگہ ہے جہاں صرف اللُہ جھانک سکتا ہے۔ بے وقوفی میں ہم عورتوں کا کوئی ثانی نہیں ہے عنبر۔ اس نے عنبر کے ٹھنڈے رخسار پہ ہاتھ رکھا۔ مرد یوں بات کرتا ہے۔ ہاں تو تھا نہ. کسی سے افیر. افیر ایک مارڈرن ایجاد (تعلقات کی) افیر. بس ایک بات. وہ کبھی راز نہیں دیتا کہ میں کسی عورت سے محبت کرتا تھا۔ (محبت ایک بھید) مگر عورت افیر کو توہین گردانتی ہے۔ میرا تو کسی سے بھی افیر نہیں چلا۔ میں تو فلاں شخص سے محبت کرتی تھی۔ (وہ راز عیاں کردیتی ہے۔) عنبر کی آنکھوں سے بہنے والا پانی بھی ٹھنڈا ٹھار تھا۔ اور اس کا لہجہ جیسے برف کے گولے گر رہے ہوں۔ وہ مر رہی تھی۔ وہ تکلیف میں تھی، اس نے اکھڑتی سانسوں کے ساتھ پاپا کو دیکھا۔

میرے دل پہ اک بوجھ ہے عنایت۔ جیسے وہ اپنی ہمت مجتمع کررہی تھی۔ مجھے معاف کردینا، میں نے اس سے محبت کی تھی۔ مگر اس نے میرے وجود سے دولت کمائی تھی۔ اس کے منہ سے یہ الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہوئے تھے۔ عنبر. تمہاری. بیٹی نہیں ہے۔ مما کے منہ سے یہ الفاظ کانپ سے گئے تھے۔

دروازے کے پار کھڑی تیرہ سالہ عنبر کا وجود پوری شدت سے کانپا تھا۔ پھر میں نے خالہ کو دیوانوں کی طرح گھر میں گھستے دیکھا۔ میرا باپ میری ماں کی بے جان کھلی آنکھوں کو بے یقینی سے تک رہا تھا، پھر خالہ نے ہی مما کی کھلی آنکھیں بند کی تھیں اور میرا پاپا کے ساتھ رشتہ ایک پل میں خواب ہوگیا۔ اس کے بعد پاپا مجھے عبادت کرتا دیکھتے تو ان کی آنکھوں کا تاثر بہت عجیب ہوتا۔ پھر خود بخود مجھ سے وہ فیصلہ ہوگیا، جس کی بنا پہ مجھے انس اور خالہ کو چھوڑنا پڑا۔ وہاں ایک گمبھیر خاموشی تھی، جس میں صرف عنبر کی ہچکیاں بول رہی تھیں، پروا نے اسے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

بھلے وہ تم سے نفرت کرتا ہو، مگر عنایت بھائی یہ راز کبھی کسی پر عیاں نہیں کریں گے۔ مرد اس پردہ پوشی کی حکمت کبھی نہیں سمجھ سکتا اور اللُہ اس بات پہ مسکراتا ہے کہ بے شک میں ہی علیم خبیر ہوں۔ عنبر کی ہچکیاں یکلخت تھم گئیں۔ فاطمہ کو کوئی حق نہیں تھا کہ وہ ایک انسان کے سامنے دم آخر اپنا بھرم توڑتی اور دنیا سے جاتے وقت تم سے تمہارا سب سے عظیم رشتہ چھین لیتی۔ اسے اللُہ تعالٰی کا سامنا توکل اور معافی کے گمان کے ساتھ کرنا چاہیے تھا۔ ایک انسان بھلا دوسرے کو کیا معاف کرتا اور اب جیسے عنبر عنایت کو کوئی حق نہیں کہ وہ انس حنان کو فیصلے کے دوراہے پہ کھڑا کردے۔ دلوں میں جھانکنے کا اختیار سوائے اس خدائے برتر کے کسی کو نہیں۔ وہ جیسے ہانپ کے خاموش ہوئی تھی۔ پھر عنبر کا آنسوئوں سے دھلا چہرا دیکھا۔

اور. اور جیسے پروا محب کو حق نہیں تھا کہ وہ اشہب غفار کا بھید اس شخص کے سامنے کھول دیتی جو اس کا دنیا میں سب سے بڑا سہارا تھا۔ پروا کا بے کل وجود کسی ڈھلان پہ جمع ہونے والے پانی کی مانند قطرہ قطرہ نچڑ رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

اشہب غفار اس کے لیے ہمیشہ خلا کے وسط تک دیکھے جانے والی بارش کی طرح رہا۔ جو جانے کون سے درختوں کی چوٹیوں پر برستی تھی۔ ستمبر کی دھوپ جیسا وہ شخص، جانے وہ کیوں اسے سوچنے لگی تھی۔ وہ یونی ورسٹی کے پہلے دن سے اسے دیکھتی تھی چھپ، چھپ کے، مڑ مڑ کے، اس قدر سادہ سا حلیہ اور غور سے دیکھو تو اس قدر خاص. وہ اردگرد سے بے نیاز پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ پھنسائے کبھی چلتے کو کبھی کھڑے کو چپکے سے دیکھتی رہتی۔ اس کے سادہ، مگر مسکراتے چہرے پہ ہمہ وقت تیکھی سی مسکراہٹ دمکتی رہتی۔ وہ عجب بے نیاز، بے پروا سا شخص تھا، جانے وہ مسکراتا ہوا اچھا لگتا تھا، بات کرتا ہوا یا پھر خاموش بیٹھا ہوا۔ یونی میں دو سال گزارنے کے بعد بھی وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ بس وہ نظر آجاتا تو وہ اسے دیکھے جاتی، اتنا کہ اس کی محویت اس کی دوستوں نے بھانپ لی۔

ایک دن لائبریری میں اس کی ٹیبل کے پاس سے گزرتے ہوئے انصرہ نے پروا کو سنبھلنے کا موقع دیے بنا اسے اشہب کے مقابل بٹھا دیا۔ پروا کو آپ سے کچھ پوچھنا ہے۔ اس ہونق حواس باختہ سی دور جاتی دوستوں کو بے یقینی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے سامنے بیٹھی اس لڑکی کو انتہائی دلچسپی سے دیکھا، جس کی آنکھیں اسے دیکھتے ہی سورج مکھی کا پھول بن جاتی تھیں اور اب جس کا چہرہ خطرناک حد تک زرد ہورہا تھا، جو نگاہ ملنے پہ کچھ اور ہراساں ہوئی۔

وہ. میں مم. جھے تو کک. کچھ بھی نہیں کہنا۔ پسینے سے تر چہرہ گھبرایا ہوا تھا۔

تو یہاں تک آنے کا مقصد۔ مصنوفی خفگی سے ابرو چڑھا کے پوچھا۔

اس کا حلق خشک ہوا، بدقت لب وا کیے، مگر آواز گلے میں ہی کہیں دم توڑ چکی تھی۔ وہ اس ہراس زدہ کیوٹ سی لڑکی کو یوں نروس دیکھ کے متعجب ہوا۔ جو اگلے ہی پل کرسی چھوڑ کر بھاگ لی تھی۔ گروہ باوقار تھا، تو پروا اس سے بھی دو قدم آگے۔ وہ بے نیاز تھا تو وہ بے نیاز ترین ثابت ہوئی۔ وہ خود کو شان دار سمجھتا تھا، تو وہ بھی کمتر نہیں تھی۔ وہ ہنوز اجنبی رہے اور وقت آگے بڑھتا رہا۔ یہ ان کا آخری سمسٹر چل رہا تھا۔ ایک دن اس کے نوٹس کینٹین میں رہ گئے تھے۔ جو دوسرے دن اس نے کینٹین کائونٹر سے وصول کیے جنہیں وہ پڑھتے پڑھتے چونکی۔ قدرے خالی پیج کے کونے پہ خوب صورت ہینڈ رائٹنگ میں تحریر تھا۔

وہ چاند بن کے میرے بام تک ہی آجائے

ہماری آنکھوں میں اک شام سی مسلسل ہے

ارے یہ تو اشہب کی ہینڈ رائٹنگ ہے۔ اگلے چند روز تک اس کی دوستوں نے یہ بتاکر اس پہ حیرت کے پہاڑ توڑے تھے۔

یعنی وہ حد سے زیادہ لاپروا بندہ اور کچھ عجب نہیں تھا کہ وہ اس طرح سے دلی جذبات اس پہ آگاہ کرگیا تھا۔ پروا کا دل ہر نئے دن، نیا رنگ اوڑ کے دھڑکتا۔ الہدی ڈیپارٹمنٹ کے نسبتاً نسان برآمدے میں وہ تیز تیز بھاگتی جارہی تھی کہ گرد آلود آندھی کے بعد اب بادل برسنے کو تیار تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی اس کے ساتھ ہو لیا تھا۔ قدموں کی تیزی سست پڑی۔ گردن موڑ کے دیکھا۔

اف خدایا! مگر رکی نہیں۔

ان سے ملنا. ان سے بات کرنا انہیں دیکھنا، کیا بہت ضروری ہوتا ہے۔ وہ لمحہ بھر کو ٹھہرا۔ پروا نے اسے دیکھا۔ جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔

اسے شانزہ آوازیں دے رہی تھی۔ وہ پیچھے کھڑا رہ گیا۔ بارش تیز ہورہی تھی۔ وہ نظر نہیں آرہا تھا اور پھر اس دن کے بعد وہ جیسے خواب ہوگیا تھا۔ وہ شام آنکھوں والا اشہب غفار جانے کہاں گم ہوا کہ کوئی خیر، خبر تک نہ لی۔ ان کے امتحان بھی ہوگئے تھے۔ ایک دن انصرہ نے اسے فون پہ بتایا کہ اس نے اس کے ایک قریبی دوست سے پوچھ گچھ کی تھی۔ اشہب کا بارش والے دن زبردست ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ انصرہ کی ادھوری معلومات نے اس کا پورا وجود منجمد کردیا تھا اور جب زندگی میں پروا نے دوبارہ اسے دیکھا تو بے رحم تقدیر اور سنگ دل وقت سے وہ رو، رو کے شکوہ کناں ہوئی تھی۔

٭٭٭٭٭

اس معروف بازار میں بم دھماکے کی بریکنگ نیوز آرہی تھی، جہاں سہ پہر کو آتشی پارلر گئی تھی، تائی اور محب نے اسے پارلر چھوڑ کے انس کو لینے ایئر پورٹ چلے جانا تھا، گھر سے نکلتے وقت ان کے درمیان ہی طے ہوا تھا، دھماکے کی خبر کے بعد پروا کے حواس مکمل طور پر اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ تایا کا بھی حال اس سے مختلف نہیں تھا اور عنبر ان دونوں کو سنبھالتے ہوئے خود ہلکان ہورہی تھی۔ ایک گھنٹے تک تائی اور محب انس کے ساتھ گھر بھی آگئے، جہاں اس خبر کے بعد صف ماتم بچھی تھی۔

آج رات کو مہندی کا فنکشن تھا۔ آتشی کے سسرال میں سے چند خواتین شام سے قبل مہندی کا جوڑا دینے آئی تھیں۔ تب تک وہ پارلر جاچکی تھی۔ اس کا پارلر جانا ان کے علم میں تھا۔ اب وقتاً فوقتاً وہاں سے بھی سب آ، جارہے تھے۔

انس کے سامنے عنبر کی نگاہ شرمندگی کے مارے جھکی ہوئی تھی۔ جیسے وہ نظر ملائے گی اور وہ کہے گا۔ یہ ہے تمہارا آئیڈل ملک، تم اس پاکستان سے محبت کرتی ہو۔

محب نے اپنے دوستوں کے ساتھ پورا بازار چھان مارا تھا۔ بم میں زیادہ بھاری مواد استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ سو جانی نقصان کم اور زخمی زیادہ تھے۔ انہوں نے آس پاس کے تمام اسپتال تک کھنگال ڈالے، مگر آتشی کا کہیں نام و نشان تک نہ ملا۔ جب وہ بازار گئے تو پارلر بند تھا۔ دھماکے کے بعد بھگدڑ کی صورت جس کا منہ جس طرف لگا وہ جان بچانے کی فکر میں بھاگ کھڑا ہوا۔ محب پوپھٹنے کے بعد گھر لوٹا، دکھ شکستگی اور مایوسی اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی۔

آتشی کے سسرال میں سے آئے لوگ تو چلے گئے تھے، مگر ان کے یہاں سے تمام رات فنو کالز آتی رہیں۔ اگر وہ رات ان گھر والوں کے لیے طویل ترین اور بھیانک تھی تو دن کا سورج بھی اپنے ساتھ کئی ہولناکیاں اور انہونیاں لے کر ابھرا تھا۔

کم از کم لاش ہی مل جاتی تو تسلی ہوجاتی۔ یہ کوئی آتشی کی سسرالی عورت تھی۔

مسز بزمی نے جو گھر سے ان کے لیے چائے لے کر آئی تھی، اس عورت کو غصیلی نگاہوں سے دیکھا۔ لاش کیوں ملتی، وہ زخمی ہو یا جیسی بھی حالت میں ہو. اللُہ کرے زندہ سلامت ہو۔ ابھی بات ان کے منہ میں تھی کہ دو خواتین کے ساتھ لنگڑاتی ہوئی آتشی نے گھر میں قدم رکھا۔ جسے دیکھ کر وہاں موجود افراد کا دل اپنی اپنی سوچ کے حساب سے دھڑکا تھا۔ آتشی کو سامنے زندہ سلامت دیکھ کر محب منزل کے سب ہی افراد نے بے پایاں مسرت اور شکر گزاری کا احساس اپنے اندر اترتا محسوس کیا۔

پتا نہیں رات کن لوگوں میں گزار کے آئی ہے۔ کچھ خواتین نے ایک دوسرے کے کان میں سرگوشی کی جو وہاں موجود باقی خواتین نے بہ آسانی سن لی تھی۔

رات کو اس قدر خراب صورت حال تھی کہ گھر سے نکلنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ آتشی کے ساتھ آئی خواتین نے اہل خانہ کے ساتھ معذرت کی۔ یہ پیاری سی لڑکی ہمارے گھر کا دروازہ کھلا پاکر اندر آگئی تھی۔ تایا، تائی اور پروا نے ان کا بے حد بے حساب شکریہ ادا کیا۔

ایک فون ہی کردیا ہوتا کہ خیریت سے ہوں۔ ساس نے تنک کے کہا۔ ان کا انداز سراسر ہتک آمیز تھا۔ آتشی نے انہیں بوکھلا کے دیکھا۔

اس بازار کا ٹرانسفارمر جہاں تھا اس کے قریب ہی دھماکا ہوا تھا۔ وہاں تو میرے آنے تک بجلی بحال نہیں ہوئی تھی۔ وہ ان کے مشکوک اندازوں سے روہانسی ہورہی تھی۔

تو موبائل کیسے چارج ہوتے میرا اپنا بیگ پارلر میں رہ گیا تھا۔ اس نے چہرا موڑ کے پہلو بدلتی پروا کو دیکھا۔

اللُہ ہی جانے ان گھپ اندھیروں میں کیا، کیا ہوتا رہا ہوگا۔ ساس نے اٹھتے اٹھتے ان سب کے حواسوں پہ الفاظ کے بم گرائے۔

جو جس حالت میں تھا وہیں ساکت ہوا، اور ابھی ان سب کا سکتہ ٹوٹا بھی نہیں تھا کہ ادھر سے انکار کا پیغام آگیا۔ معذرت کے ساتھ کہ لڑکا کسی طور نہیں مان رہا۔ لڑکی پوری رات گھر سے غائب رہی ہے۔ ہم اعتبار کر بھی لیں تو دنیا کا منہ بند کروانے کی کسی میں ہمت ہے۔

کیا ہی تلوار کا وار کاری ہوتا ہوگا۔ بعض اوقات زبانوں کی تیز چھریاں بھی دم نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

٭٭٭٭٭

آج کا دن تو بارات کا تھا۔ شادی والا گھر کیسے اجڑ کے رہ گیا تھا۔ آج مسز بزمی کا سی ڈی پلیئر بند تھا۔ آتشی نے کئی بار صابن سے ہاتھ دھوئے، مگر مہندی کسی طور نہ اتری۔

اب بس کرو۔ کیا زخمی کردوگی۔ عنبر نے اپنی سوں سوں بند کرکے اسے ٹوکا۔ تب ہی ان کا بند گیٹ زور سے دھڑ دھڑایا گیا جو جان بوجھ کے محب نے بند کردیا تھا۔

جتنے منہ، اتنی باتیں۔ عنبر نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ اسے یقین نہیں آیا۔ وہ سن سی کھڑی رہ گئی۔ اسے یوں گومگو کیفیت میں دیکھ کر آتشی بھی اس کے قریب آئی اور ان مہمانوں کو دیکھ کے دنگ رہ گئی۔

لیجئے! ایک ان کی کسر رہ گئی تھی۔

اس کے لہو میں ابال سا اٹھا ۔ مجھے شادی ٹوٹنے کا دکھ اتنا نہیں جتنا لوگوں کے رویوں سے ہورہا ہے۔ کوئی میرا اعتبار کیوں نہیں کررہا۔ اس نے گیلی آنکھوں کے ساتھ کھڑکی کا پٹ زور سے چھوڑا۔

اب آپا کے سسرال والے بچی کھچی توانائی چوسنے آئے ہوں گے کہ بہو کا خاندان اس قدر بڑے سانحے کا شکار ہوچکا ہے۔ وہ رندھی آواز کے ساتھ تڑخ کے بولی۔

تو ان کا رشتہ کون سا ادھر ختم ہوچکا ہے۔ اچھا کیا آگئے۔ عنبر نے اس کا دھواں دھواں چہرا دکھ سے دیکھا۔

محب بے چارے کو کیا دہرا وقت پڑا ہوا ہے۔ اب انس کو پتا نہیں کہاں لیے پھر رہا ہوگا۔ اس کے تصور میں انس کی آنکھوں کا لکھا لہرایا۔

یہاں چراغ جلا کے دکھائو عنبر بی بی، دیکھا! شادی والا گھر اسی بارود کی نظر ہوگیا جو پاکستان کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔

عنبر میری جان، ذرا نیچے آنا۔ اگر یہ تائی کی آواز ہی ہے تو اس میں چینی کس نے گھول دی۔ ابھی تو وہ سر پہ پٹی باندھ کے اوندھی پڑی تھیں۔ ہوسکتا ہے انس بھی آگیا ہو۔ وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی، اس وقت سیڑھیاں اترنا اسے جوکھم کا کام لگ رہا تھا۔

٭٭٭٭٭

وہ خواتین بھی ساتھ آئی تھیں اور لڑکی بھی، کہہ رہی ہے کہ مجھے آنچ تک نہیں آئی، بس پیر میں مروڑ آگیا تھا۔ تائی کے مطمئن لہجے میں صفائی دینا مقصود نہیں تھا، بس وہ وضاحت کررہی تھی۔

ہمیں یقین ہے کہ ایسا ہی ہوا ہوگا کہ جھوٹ بولنا اس خاندان کا شیوہ ہے، نہ فطرت۔ گوہر نے سر جھکا کے بیٹھی پروا پہ گہری نگاہ ڈالی۔ جو ان کے یہاں چلے آنے کا مقصد جان کے بالکل شل تھی۔

خدا ناخواستہ ہمارے لیے تمام صورت حال قابل قبول تھی۔ پروا کی ساس نے نہایت عاجزی سے تایا کے سامنے اپنا سوال دوبارہ دہرایا اور انہیں آس پھری نگاہوں سے دیکھا۔

میں تو کب سے آتشی کی طلب گار تھی، مگر. وہ کچھ متامل ہوئیں۔ گوہر نے دوسری شادی کرکے مجھے یہاں آنے کے قابل کب چھوڑا تھا۔

گوہر نے بے چینی سے پہلو بدلا۔ اب سالوں بیت گئے تھے، ملال مٹتے مٹتے مٹ گیا۔ اس کا اور پروا کا رشتہ کورے کاغذ پہ گرے آنسو کی مانند تھا، جو سوکھ گیا، ذرا سا کاغذ دھبا نما سا سمٹ گیا۔ باقی تمام صاف کا صاف۔

تو پھر کل بارات ان شائ اللُہ طے شدہ وقت کے مطابق آنی چاہیے۔ تایا نے پہلے پروا کے چہرے کو تادیر پڑھا، جہاں مفاہمت کے رنگ تھے۔ صلح کے آثار نمایاں تھے۔ اس کی خوب صورت پیشانی پہ رضامندی کا سائن روشن تھا۔ پھر اپنا فیصلہ ان پہ واضع کیا۔

عنبر نے خوشی کے مارے منہ پہ ہاتھ رکھ کے اپنی چیخ کو روکا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ یہ خبر اڑ کے آتشی کو سنا آئے۔ اللُہ نے اسے تمہاری قسمت میں لکھ دیا تھا۔ وہ تمہیں ملتا ہی تو تم توبہ قائم رہ کے بھی اسے جیت گئی ہو۔ توبہ توڑ کے اس کے پیچھے جاتیں تو تم جیت کے ہار جاتیں۔

٭٭٭٭٭

دیکھ لو یہ ہے میرا پاکستان اور یہاں کے لوگ۔ اس نے انس کو اترائی نظروں سے دیکھا۔ یہاں صرف بارود کی خوشبو نہیں، یہاں اب بھی پھول کھلتے ہیں، یہاں صرف دہلیزیں گرتی ہی نہیں کہ گلاب رکھنے والے اور چراغ رکھنے والے انہیں نئے سرے سے تعمیر بھی کروالیتے ہیں، تم باہر والے سمجھتے ہو کہ پاکستان میں اب بارش نہیں ہوتی۔ یہاں آج بھی بارش سے قبل کوئل بولتی ہے۔ گھروں کے صحن میں موسیقی گونجتی ہے۔ مسجدیں اب بھی آباد ہیں اور شہر چلتے پھرتے ہجوم سے بھرے پڑے ہیں۔ دلہنوں کی ہتھیلیاں ابھی تک یہاں مہندی سے سجتی ہیں، یہاں ساغر کے خاندان جیسے اور بھی خاندان ہیں جو خواب دیکھتی آنکھوں کو پانی نہیں، بلکہ تعبیر دیتے ہیں۔ یہاں برے لوگ کم اور اچھے زیادہ ہیں انس۔ وہ اٹھلا کے اور اترا کے بولی۔

مجھے یہاں سے صرف ایک اچھی لڑکی چاہیے۔ وہ اسے یوں اتراتا دیکھ کے مسکرایا اور اسے ٹوک کے بیچ میں بولا۔

وہ راز کیا تھا عنبر! اسے ایک دم یاد آیا تو مسکراہٹ سمیٹ کر پوچھا۔ وہ بس اک پل کو سٹپٹائی۔

وہ اچھا وہ. ہمارے نیم کے درخت سے بلبل ہجرت کرگئی تھی۔ میں نے پرسوں دیکھا تو پورے گھونسلے سمیت موجود تھی۔ وہ شرارت سے ہنسنے لگی۔ انس نے اسے تیکھی نظر سے گھورا۔

دیکھو تو دلہن آرہی ہے۔ وہ پرجوش سی ہوکر بولی۔

دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ گئے اور گنگ رہ گئے کہ چوبیس گھنٹوں میں ساغر نے اس قدر شان دار انتظامات کیے تھے۔ اگر اس کے پاس چوبیس دن ہوتے تو اس اہتمام و انتظام کی نوعیت کیا ہوتی۔ اس قدر دلکشی و رعنائی کے دگنے تگنے لوازمات کیا ہوتے، وہ بس آسمان سے تار توڑ کے نہیں لا سکا تھا۔

آتشی، آتشیں رنگ کے بیش قیمت لباس میں کسی داستان کی ملکہ دکھائی دے رہی تھی، بس توبہ تڑوانے والی نگاہوں کی وارفتگی و محبت اسے حسن بخش رہی تھی، جو خوشی ساغر محسوس کررہا تھا۔ اس احساس کو قائم رکھنے کی شرط لفظ خوشی، اگر آسمانوں اور جہانوں پہ لکھنا ہوتا تو وہ قیامت تک قلم تھام کے لکھتا رہتا۔

دیکھو جب لڑکی دلہن بنتی ہے تو کس قدر اچھی لگتی ہے۔ انس اسے بھیڑ میں ڈھونڈتا دوبارہ اس تک آ پہنچا۔ وہ سرخ چہرے کے ساتھ جھینپ کے مسکرائی۔

اب تمہارا کیا خیال ہے۔ وہ سنجیدگی سے کہتا اس کے چہرے پہ نگاہ جما کے کھڑا تھا۔

مجھے رونمائی میں پاکستان چاہیے۔

اف اس کے لہجے میں کس قدر لاڈ اور مان تھا۔ وہ چونکا۔ وہ متعجب ہوا۔ پھر وہ مسکرایا۔ جیسے ابھی ابھی زندگی اس کے خون میں دوڑی ہو۔

بارات لے کر پاکستان ضرور آئوں گا اور اس بلبل کو ضرور حیران کروں گا کہ دیکھو یہ لڑکی راتوں رات ہجرت کے لیے آمادہ ہوگئی۔ اور کیا خبر کبھی اپنے گھونسلے سمیت دوبارہ یہاں موجود ہو۔

وہ حیران ہوئی، سمندر جتنا یا پھر اس کرہ ارض جتنا یا پھر جہانوں کے پانی جتنا اور دوسرے پل وہ اتنا ہی خوش ہوئی کہ انس نے اس کی خواہش، اس کے خواب کا مان نہیں توڑا تھا۔

٭٭٭٭٭

دلہن کی رخصتی کے بعد وہاں کوئی ایک مہمان بھی نہیں تھا۔ عنبر نے اسے ایک سنسان سڑک کا موڑ مڑتے دیکھا۔ شوریدہ ہوا پاگل ہورہی تھی۔ نرم، کچے،ہرے پتے تک اس کی شوریدگی کی بھینٹ چڑھ رہے تھے۔ تایا، تائی اور محب گھر جاچکے تھے۔ وہ اور انس میرج ہال کے لان کی طرف چلے آئے۔ جہاں بینڈ باجوں کے ساتھ ایک اور بارات آرہی تھی، آج ہم اس میرج ہال کی تمام شادیاں اٹینڈ کرکے ہی جائیں گے، اس کی مسکراہٹ میں پھیکا پن تھا۔ اس نے اس سنسان راہ پہ اک الجھی نظر ڈالی، شکر کہ انس دوسری جانب متوجہ تھا اور اس کی توجہ کس طرف تھی۔

٭٭٭٭٭

کبھی تم ہجر لکو تو

ہوا کے ہاتھ پہ لکھنا

یا گیلی ریت پہ لکھنا

تلاطم خیز موجیں

جس کو چھو کے بے نشاں کردیں

آج پروا اتنی بے کل کیوں تھی، اسے درختوں کی شاخوں کے ٹوٹنے کا گمان ہورہا تھا، وہ اس بند گلی کے سر پہ لکڑی کے بینچ پہ کسی سنگی مجسمے کی طرح بیٹھا تھا۔ وہ بھی ایک احساس کی ماند دوسرے کنارے پہ ٹک گئی۔

تمہیں وہ شور اپنے تک ہی

بس محدود رکھنا ہے

جو دل کے آسمانوں پہ

کسی رت چہچہاتا تھا

کبھی تم ہجر لکھو تو

سمندر پہ بھلے لکھ دو

کیوں پروا۔ خود پہ اس قدر ظلم کیوں کیا۔ مجھ پہ ذرا سا رحم ہی کھایا ہوتا۔ اس کا وجود اگرچہ بے حال تھا۔ مگر آواز اتنی ہی خوب صورت تھی۔ اس نے بے قراری سے نظر اٹھائی۔ مگر وہ آج بھی اتنا ہی بے نیاز تھا۔

تمہاری آنکھوں میں زندگی کی تمام حسرتیں دم توڑ چکی تھیں۔ پھر میں اسی گھر میں تمہارے سامنے زندگی، زندگی یسے کھیل سکتی تھی۔ اس کی آواز یں نمی گھلی۔ بہت دیر بعد جانا کہ مجھے یہ ہجر اس آئینے پہ نہیں لکھنا چاہیے تھا، جسے میرا شوہر دیکھ کے سجتا سنورتا تھا، کہ ان الفاظ نے اس کا سنگھار بھی بگاڑ دیا، مگر جب وہ پھر سے آباد ہوگیا تو مجھے کوئی پچھتاوا کبھی محسوس نہیں ہوا۔ اشہب، میں مجبور تھی، مجھے وہ گھر ہر حال میں چھوڑنا تھا کہ سورج مکھی سورج کو دیکھ بنا نہیں رہ سکتا۔ ٹپ ٹپ کتنے ہی آنسو اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرے۔

کبھی تم ہجر لکھو تو

ہوا کی باس پہ لکھنا

سنہری دھوپ پہ لکھنا

میں گوہر سے کیوں خلع لیتی۔ میں تمہیں اس گلٹ کے ساتھ زندگی کیسے گزارنے دیتی کہ تم اب کبھی کسی بھی عورت کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرسکتے۔

بانو قدسیہ کا کہنا تھا کہ عورت کی محبت کو سمجھنا پاتال کی تہہ کو چھونے جیسا ہوتا ہے۔ وہ اس سے یہ راز چھپا کے بیٹھی تھی اور وہ کیا نہیں سمجھ سکتا تھا۔ وہ یہ بھید برسوں سے جانتا تھا۔ ایک جان لیوا سی اذیت ان کے رگ وپے میں سرایت ہورہی تھی۔

تم اب بھی واپس آنا چاہو تو. میں اپنا ٹھکانا بدل لوں گا۔ وہ آواز دھیمی تھی کہ کان لگاکر سننا پڑتی، مگر اس میں موجود حزن شوریدہ تھا۔

اس نے اچانک نظر اٹھائی تھی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اسے وہ چہرا دیکھنے کی عادت جو تھی۔ مگر سامنے بیٹھے مرد کو وہ چہرا دیکھنے کی آج بھی صرف حسرت تھی۔

نہیں. اب نہیں، اشہب۔ ان آنکھوں میں آج بھی گہری شام تھی۔ ان کو دیکھنا، ان سے بات کرنا، ان سے ملنا کیا ضروری ہوتا ہے۔ جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ وہ م بہم سا مسکرائی اور وہ مبہم سا ہنسا۔

پروا محب آج بھی عجیب تھی، وہ آہستہ سے اٹھی اور اپنے راستے پہ ہولی۔ وہ وہیں سے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔

پنوں بلوچ کے اونٹوں کو موڑنے کی آواز سیکھ لینا ہی محبت ہے جو مڑے نہیں۔

٭٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں