وہ نہ جانے کب سے جھلنگاسی چارپائی پر پائوں لٹکائے، دونوںہاتھ گود میں دھرے، نہ جانے کن سوچوں میں الجھتی سلجھتی، ٹوٹی دیوار کے اس پار درختوں کی اوٹ میں منہ چھپاتے شاہ خاور کو دیکھ رہی تھی۔ تین کمروں، دو برآمدوں اور سرسبز کھلے سے گرائونڈ پر مشتمل پرائمری اسکول کی پیلی عمارت پر ہول سناٹے اور نارنجی رنگ کی زد میں تھی۔ اس کے قریب سبز کائی جمے تالاب پر جہاں اسکول کے بچے چھوٹی چھوٹی مٹی کی دیواریں پھلانگ کر تختیاں پونچھنے اور مینڈک پکڑنے آتے تھے، اب خاموشی اور سکوت جمنے لگا تھا۔
اس کے عقب میں دور تک پھیلا قدرتی جنگل، جس کی جنگلی خودرو جھاڑیاں بہار کا موسم آتے ہی رسیلے تیز نارنجی اور سرخ منہ بند پھولوں سے لد جاتی تھیں۔ شہد کی مکھیوں کے ساتھ ساتھ اسکول کے ننھے منے بچے نادیدہ روحوں، چڑیلوں اور جنوں کی شہرت کے باوجود جوق در جوق یہاں ’’ڈیلے‘‘ چوسنے ضرور آتے تھے۔
شاہ خاور کو کسی نادیدہ ہاتھ نے کھینچ لیا اور آسمان پر صرف رنگ ہی رنگ رہ گئے۔ پوری فضا ایک پرہول سنُاٹے کی زد میں آگئی اور وہ گھبرا کر کھڑی ہوئی۔ نہ جانے ممی اور مائرہ کہاں تھیں اور کیا کر رہی تھیں۔ وہ اٹھ کر دیوار کے قریب چلی آئی۔ دونوں ہاتھ دیوار پر ٹکا کر وہ ذرا سا جھک کر نیچے جھانکنے لگی۔ صحن میں ہڑبونگ مچی تھی۔ ساری قوم کی طرح اس گھر کے بچوں کو بھی کرکٹ کا بخار چڑھا تھا، ہر کوئی شعیب اختر اور شاہد آفریدی بننے کی کوششوں میں مصروف۔ ایک طرف کپڑا بچھا کر سرخ مرچیں سوکھنے کو ڈالی گئی تھیں۔ تائی پھسکڑا مارے وہیں بیٹھی ان کی ڈنڈیاں الگ کر رہی تھیں اور ساتھ ساتھ چارپائی پر اونگھتے تایا کو نہ جانے کون کون سی حکایت سنا رہی تھیں۔ وہ کچھ لمحے حقے کو تیز تیز گڑگڑاتے ہوں ہاں کرتے، پھر منہ میں دبائے دبائے اونگھنے لگتے۔ نہ جانے اتنے شور شرابے میں وہ اونگھ بھی کیسے لیتے تھے۔
دادی نے گھڑے میں ڈھیر ساری بھجنگ دیگچیاں، پتیلیاںڈھیر کر رکھی تھیں اور اب ریت اور کالے صابن سے مانجھ رہی تھیں۔ ستر سالہ دادی کے پانچ فٹ کے دھان پان سے وجود میں بلا کی پھرتی تھی۔ سفید ململ کا دوپٹہ خواہ کتنی ہی سردی کیوں نہ ہو اوڑھے، یہاں وہاں ہمہ وقت مصروف ہی نظر آتیں۔ کبھی آٹا گوندھ دیا، لہسن چھیل دیا، سبزی بنادی، گرم مسالہ صاف کر دیا، کالی پتیلیاں مانجھ دیں، چولہا صاف کر دیا یا چھوٹے بچے بہلانے باہر لے گئیں، وہ ہمہ وقت متحرک رہتیں۔ اس کے باوجود تائی ان کے کسی نہ کسی کام پر بڑبڑاتی ہی رہتیں۔
’’دادی اماں! آپ اتنا کام کیوں کرتی ہیں؟‘‘ مائرہ کو یہ سب عجیب لگتا۔ اس کے خیال میں تو دادی ٹائپ بزرگ ہستیوں کو صاف ستھرے کپڑے پہنا کر تخت پر بٹھا دینا چاہےے، جہاں ان کا کام بچوں کو نصیحتیں کرنا، کہانیاں سنانا اور گھر کی نگرانی ہو۔
’’اے لو، یہ کوئی کام ہے۔‘‘ دادی کے چہرے پر کَھدی سینکڑوں لکیروں میں شرمندگی ہی شامل ہوجاتی۔ یہ سارے وہ کام تھے جو کسی قطار شمار میں نہ تھے مگر نہ ہوتے تو سب کو پتا چل جاتا۔ کھانا دیر سے پکتا، چولہا اپنی شکل کھو دیتا اور پتیلیوں پر کالک تہ در تہ لگتی اور تائی کی بڑبڑاہٹیں عروج پر پہنچ جاتیں۔ وہ تنک مزاج اور بے زار سی خاتون تھیں۔ گھر کے حالات سے بے زار، بہو سے بے زار، تایا سے، حتیٰ کہ شاید اپنے آپ سے بھی بے زار تھیں اور اب ان سر پر سوار ہوجانے والے مہمانوں سے، جو مہمان بن کر نہیں اپنا حق جان کر ہمیشہ ہمیشہ کے لےے ان کے سر پر آسوار ہوئے تھے۔
’’یا اللہ! اب کیا یہیں رہنا پڑے گا۔‘‘ اس نے ہول کر سوچا۔ تبھی مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہوئی۔ دادی نے برتن چھوڑ کر غسل خانے کا رخ کیا تھا۔ اونگھتے ہوئے تایا ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔
’’چاچو آگئے۔‘‘
ڈیوڑھی میں موٹر سائیکل رکی تو بچوں میں بھگدڑ مچ گئی ۔ کوئی منہ اٹھا کر اوپر بھاگا، کوئی کمرے میں گھسا، کوئی گیند بلُا چھپانے لگا۔آناً فاناً صحن خالی ہوگیا۔
’’مینا! اری اومینا! چل چھوڑ مشین، اب روٹی ڈال لے۔‘‘
بچوں کے چاچو تشریف لائے، کچھ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر سلام کیا۔ جیب سے ٹٹول کر اپنے بند کمرے کی چابی نکالی۔ چابی تالے میں گھماتے ہوئے ذرا کی ذرا اوپر دیکھا، ماہم نظروں کا زاویہ بدل کر جامن کی شاخوں پر بیٹھی چڑیوں کو دیکھنے لگی۔ عاقب اپنے کمرے میں گھس گئے۔
وہ ایک طویل سانس لے کر پلٹی۔
ممی وضو کر کے اوپر آرہی تھیں۔ اور اس سے قبل ممی نے کبھی اتنی نمازیں نہیں پڑھی تھیں۔
’’ماہم ایسے کیوں کھڑی ہو؟‘‘
اسے یوں بے کار، بے زار اور خالی ہاتھ کھڑے دیکھ کر ممی نے نرمی سے پوچھا تھا۔
وہ اب چھوٹی نہیں رہی تھی مگر چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو دیتی تھی۔ اب بھی آنکھیں چھلک جانے کو بے تاب تھیں مگر ضبط کر کے ایک بار پھر کسی آس کا دامن تھام کر پوچھنے لگی۔
’’اب ہمیں یہیں رہنا ہے ممی؟‘‘
یہ سوال وہ دن میں کئی بار کرتی تھی اور ایک ہی جواب پاکر مایوس ہوجاتی تھی۔ زندگی میں تتلی سی خوشیاں پانے والے سوچ بھی نہیں سکتے کہ تتلی کے رنگ کچے ہوتے ہیں اور اسے تو یوں لگتا تھا وہ لوگ آسمان سے زمین پر آگئے ہیں۔
ممی نے آہستگی سے اس کا کندھا تھپتھپایا اور اندر چلی گئیں۔ جانتی تھیں ماہم کے لےے اس ماحول میں ایڈجسٹ کرنا کتنا مشکل ہوگا۔ مائرہ کی فکر نہیں تھی، اس میں صبر اور قناعت اپنے باپ کی طرح تھی۔ اس پر ماحول سے مطابقت کی صلاحیت۔۔۔ مگر ماہم، وہ تو ٹوٹنے جڑنے کے عمل سے گزر رہی تھی۔
مینا نے آگ جلالی تھی۔ سیاہ دھواں بگولے کی شکل میں اوپر اٹھا۔ وہ پیچھے ہٹ گئی اور چارپائی پر بیٹھ کر یوں ہی آسمان پر بنتی دھوئیں کی تصویریں دیکھنے لگی۔ عاقب بھیا دھڑدھڑ سیڑھیاں چڑھتے اوپر آئے۔ اسے یوں بیٹھا دیکھ کر ٹھٹک گئے۔
’’کیسی ہو ماہم؟‘‘ ان کے لہجے میں نرمی در آئی۔ اس خفا خفا سی لڑکی پر انہیں ترس آتا۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ وہ کچھ لمحے دیوار کے پاس جھانکتے رہے پھر یوں ہی بات کرنے کی غرض سے پوچھنے لگے۔
’’دل لگ گیا ؟‘‘
حالانکہ یہاں دل لگنے کو تھا ہی کیا۔ وہ پوچھ کر شرمندہ سے ہوگئے مگر وہ بھی مائرہ کی بہن تھی، بہت کچھ کہنے کی حسرت دل میںدبا کر ایک ہی لفظ بولی۔
’’جی۔‘‘
’’کالج کب جارہی ہو؟‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ اب کے وہ بے زار ہو کر بولی۔ کالج یہاں سے اتنا دور تھا کہ اسے دو پوائنٹ بدل کر جانا پڑتا۔
’’کاش ممی گاڑی نہ بیچتیں۔‘‘ اس نے حسرت سے سوچا مگر یہاں اس گھر میں گاڑی کھڑی کرنے کی جگہ ہی کہاں تھی اور وہاں تو بہت کچھ بک گیا تھا۔ ممی بہت تھوڑا سامان لے کر آئی تھیں جو پھر بھی اس گھر کے لےے بہت تھا۔ ممی نے بڑی فراخدلی سے یہاں ہر چیز بانٹی تھی۔ بڑے بڑے صوفے بیٹھک میں سج گئے۔ ڈریسنگ ٹیبل وسیم بھیا کی بیوی کو دے دی۔ بڑے کمرے میں دادی کے جہیز کے پلنگ نکال کر بیڈ رکھ دےے گئے۔
اس چھوٹے چھوٹے کمروں والے بوسیدہ اور پرانے گھر میں آئرن راڈ کا فرنیچر کتنا عجیب عجیب سا لگتا تھا۔ اسے اپنا کھلے سے لان اور بڑے بڑے کمروں والا گھر یاد آتا اور یہ کتنا ہولناک لمحہ تھا جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ گھر بک جائے گا۔ ڈیڈی کے مرنے کے بعد بہت سے قرض خواہ اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ممی گویا ہمت ہی ہار گئی تھیں۔ تبھی تو یہاں ایک کمرے میں رہنا منظور کر لیا، جہاں تین بیڈ آنے کے بعد مزید کچھ رکھنے کی گنجائش ہی نہ تھی۔
اسے رونا آنے لگا اور اپنی قسمت پر غصہ، وہ اٹھ کر کمرے میں جا گھسی۔ عاقب بھیا نے بے حد تاسف سے اسے جاتے دیکھا تھا۔
ـــــ
وہ خاصی دیر سے اٹھی تھی۔ نیچے آئی تو دھوئیں میں گھری مائرہ کو دیکھ کر ششدر سی رہ گئی۔ وہ بڑی سرعت سے پراٹھے بنا رہی تھی۔ مینا اس کے پاس ہی بیٹھی تھی۔ آگ مدھم ہوتی تو وہ لکڑیاں ٹھیک کر کے پھونکنی اٹھالیتی۔ ان کے ارد گرد چائے کی خالی پیالیاں، چنگیریں اور اچار کی چوسی ہوئی پھانکیں پڑی تھیں۔ بچے اسکول جا چکے تھے۔ وسیم بھائی کی سائیکل بھی نہ تھی۔ تایا ابا تھیلا ہاتھ میں لےے اس کے سامنے سبزی لینے گئے تھے۔ بھابھی ابھی تک کمرے میں تھیں۔ دادی ان کے دو شیطان صفت بچوں کو بہلا رہی تھیں۔ تائی غائب تھیں۔ بینا۔۔۔ زمانے بھر کی کام چور۔۔۔ مگر اب واشنگ مشین کی خوشی میں صبح ہی صبح کپڑے دھونے لگتی۔
’’ہائے اللہ دیکھو مینا۔۔۔ کپڑے کیسے گھوم رہے ہیں۔‘‘
مشین نے رک کر الارم دیا تو وہ یوں مبہوت ہو کر ہنسنے لگی جیسے سلمان احمد گٹار بجا رہا ہو۔ ماہم کو دیکھا تو دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر انجان سی بن گئی۔
’’ہم سے نہیں دھوئے جاتے اتنے ڈھیر سارے کپڑے، ہمارے کیا نام لکھے گئے ہیں۔‘‘ مینا نے کچھ کہنا چاہا پھر مسکرا کر چائے نکالنے لگی۔
’’آئو ماہم! ناشتا کرلو۔‘‘ مائرہ نے دھواں بھری آنکھوں کو دوپٹے سے رگڑا۔ یہ ٹھیک تھا کہ تب بھی کچن مائرہ اور ممی ہی دیکھتی تھیں مگر یہاں ان سلگتی لکڑیوں اور دھوئیں میں پکانا۔۔۔ ہاں جی۔۔۔ اب کس بات کے نخرے۔۔۔ کہاں کا زعم۔۔۔ سب ختم۔۔۔ ملیا میٹ۔۔۔ وہ پیڑھی کھینچ کر وہیں بیٹھ گئی۔ مائرہ نے پراٹھا اور آلو کی ترکاری سامنے رکھی۔ مینا نے چائے نکال کر دی مگر نوالہ حلق میں پھنس رہا تھا۔ ٹپ۔۔۔ ٹپ۔۔۔ آنکھوں سے کئی قطرے پھسلے، نہ جانے دل سنبھلتا کیوں نہیں۔ مائرہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔
’’دھواں بھی تو بہت ہے۔‘‘ اس نے تیزی سے آنکھیں رگڑیں اور مسکرانے کی کوشش کی۔ حلق میں نہ جانے کیا پھنس گیا تھا۔ گرم گرم چائے کی پیالی لبوں سے لگالی، حلق تک جل گیا۔
’’ہاں، تم لوگوں کو عادت بھی تو نہیں۔‘‘ شرمندہ سی مینا جلتی آگ میں پھونکیں مارنے لگی۔ دادی قریب آئیں اور ماہم کا سر تھپکنے لگیں۔ مشین پھر ’’سریلے سَر‘‘ بجانے لگی تھی۔ بینا بھاگ کر مشین کی طرف لپکی۔
’’نہیں ہے تو ہوجائے گی، یہ نازک مزاجیاں کب تک چلیں گی۔‘‘ ماہم نے پیالی پٹخی اور تیزی سے سیڑھیاں چڑھ گئی۔ دادی کا ہاتھ وہیں معلق رہ گیا۔
’’دراصل گھر میں سب سے چھوٹی تھی نا اور پھر۔۔۔‘‘مائرہ نے جلدی سے وضاحت کرنا چاہی، مینا نے آہستگی سے ٹوک دیا۔
’’کوئی بات نہیں، اسے سنبھلنے میں تھوڑا وقت تو لگے گا۔‘‘ مینا اور مائرہ کا مزاج ایک سا تھا۔
’’ہائے اللہ، مینا! دیکھو، ابا کے تینوں سوٹ ایک ساتھ دھل گئے اور اتنے صاف۔‘‘ بینا کہہ رہی تھی۔
ـــــ
’’مائرہ!کیا ضروری تھا کہ ہم یہاں آکر رہتے۔‘‘ وہ کسی صورت ایڈجسٹ نہیں کرپارہی تھی۔ بھابھی کی چغلیاں، تائی کی ان سے لڑائیاں، دادی کی بے قدری، محلے والیوں کی کن سوئیاں لینے کی عادت، بچوں کا شور شرابا، ڈھیر سارے مسائل، یہ ماحول اَس ماحول سے یکسر مختلف تھا۔ جہاں اس نے اپنی عمر کا ایک طویل دور گزارا تھا۔ خوب صورت گھر، بے فکر زندگی، ممی ڈیڈی کی محبتیں۔ مائرہ نے کوفت سے اسے دیکھا۔
’’اب بس بھی کرو ماہم! ہمیں یہاں آئے بہت دن گزر گئے ہیں اور تم اچھی طرح جانتی ہو ہمیں اب یہیں رہنا ہے۔‘‘
’’زندگی نے ہمارے ساتھ کیا کیا مائرہ!‘‘ وہ تاسف سے ہاتھ مل رہی تھی۔
’’ایک ڈیڈی کا جانا ہی اتنا بڑا حادثہ تھا اور اب یہ۔۔۔‘‘
’’ماہم! ایڈجسٹ کرنے کی کوشش تو کرو۔‘‘ مائرہ نے نرمی سے کہا۔
’’تم اتنی آسانی سے مطمئن کیسے ہوگئی ہو؟‘‘
’’ایڈجسٹ تو ہونا ہی ہے، خوشی سے یا مجبوراً۔۔۔‘‘ اس کے چہرے پر غبار سا چھا گیا۔
’’ہم ماموں کے گھر بھی تو جاسکتے تھے۔‘‘
مائرہ نے گویا اس کا سوال سنا ہی نہیں۔ یکسر نظر انداز کر کے دادی کو دیکھنے لگی جو نہا کے ہاتھ میں تیل کی بوتل لےے اوپر آئی تھیں۔ اب یہاں کسی کونے میں بیٹھ کر انہیں تیل لگانا اور چٹیا گوندھنی تھی۔ مائرہ نے اٹھ کر ان کے لےے جگہ خالی کی اور بوتل ہاتھ سے لے لی۔
’’لائیں دادی! آج میں آپ کی چٹیاں بناتی ہوں۔‘‘
جس قسم کا پروٹوکول مائرہ انہیں دیتی تھی، وہ دادی کو خجالت و شرمندگی میں مبتلا کر دیتا۔ بھلا وہ کہاں عادی تھیں، ان کا وجود تو اس گھر میں فالتو سامان کی طرح تھا جو اپا وقت پورا کرتا ہے تو کبھی یہاں تو کبھی وہاں ڈھیر کر دیا جاتا ہے۔
’’ارے رہنے دو، میں خود ہی لگالوں گی۔‘‘ ان کی بوڑھی آنکھوں میں چمک سی ابھری اور جھینپی جھینپی سی مسکراہٹ بوڑھے لبوں پر جم گئی۔
مگر مائرہ نے انہیں ہاتھ پکڑ کر بٹھایا اور گھٹنوں کے بل اونچا ہو کر تیل ہتھیلی پر نکالنے لگی۔ ماہم اٹھ کر ٹوٹی ہوئی دیوار کے پاس آگئی۔ اسکول کے بچے گرائونڈ میں اِدھر اَدھر بھاگ رہے تھے، ان کا شور شرابا یہاں تک آرہا تھا۔ خود رو جنگل اب خزاں رسیدہ پتوں سے بھرا ہوا تھا۔اس کی خشک ٹہنیاں آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے سبز پیراہن مانگتی تھیں۔ کچھ بچے تالاب کے کنارے مقابلے کے ساتھ تختیوں پر گاچی مل رہے تھے۔
’’کیا ہورہا ہے؟‘‘ عاقب اوپر آئے تھے، مائرہ نے مسکر اکر جواب دیا۔ ماہم نے پلٹ کر دیکھا پھر باہر جھانکنے لگی۔
’’کیا ہورہا ہے بے زار لوگو؟‘‘ وہ ماہم کے قریب چلے آئے۔ بہت خوش گوار موڈ تھا۔
’’ہاں جی، اب تو ان کے گھر میں رہتے ہیں جو مرضی آئے کہیں گے۔‘‘ اس نے بہت جل کر سوچا۔
’’مائرہ! ذرا میرے ساتھ چلنا، تمہارے پرانے گھر چلتے ہیں۔‘‘ دیوار سے ٹیک لگا کر دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے خاصی سنجیدگی سے کہا تھا۔
’’کیوںٰ‘‘ مائرہ نے قدرے حیرت سے پوچھا۔
’’یوں لگتا ہے اپنی ماہم کی زبان تم لوگ وہیں کہیں بھول آئے ہو۔‘‘
’’آپ کو کیا ہے؟‘‘ وہ چڑ کر پلٹی۔
’’چلو لڑ ہی لو مگر کچھ بولو تو۔‘‘ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
’’مائرہ! تمہاری بہن ہمیں گالیاں دیتی ہے۔‘‘
’’ارے خوامخواہ ہی۔‘‘ اس نے غصے سے دیکھا۔
’’تو پھر کیا دعائیں دے رہی تھیں۔‘‘ وہ موج میں تھے۔
’’ابھی کچھ کہا تھا، ہم نے سنا نہیں، ذرا پھر سے کہنا۔‘‘ کان میں انگلی چلاتے ہوئے خوامخواہ شوخ ہورہے تھے۔
’’ہم کچھ بھی کہیں، آپ کو کیا؟‘‘ وہ چڑ کر مائرہ کے پاس جا بیٹھی۔ دادی اونگھنے لگی تھیں۔ مائرہ کی نرم انگلیوں نے جادو کیا تھا۔ بس سکون ہی سکون تھا جو سر کی جلد سے پورے وجود میں سرایت کر رہا تھا۔
’’کالج کیوں نہیں جارہیں؟‘‘ دوبارہ سے دریافت کیا۔
’’ہماری مرضی، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے۔‘‘ وہ تنک کر بولی اور اندر جا گھسی۔ مائرہ بوکھلا گئی۔
’’وہ عاقب بھائی۔۔۔‘‘
’’رہنے دیں مائرہ بی بی! ابھی بچی ہے۔‘‘ وہ دوسری چارپائی پر ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے۔
ـــــ
گاڑی کے ٹائر عین اس کے قریب چرچرائے۔ غلطی گاڑی والے کی تھی یا اس کی مگر سنبھلنے کی کوشش میں وہ گھٹنوں کے بل گری تھی۔ وہ گاڑی سے نکل کر تیزی سے اس کی طرف لپکا۔
’’آپ ٹھیک تو ہیں؟‘‘
’’بالک ٹھیک ہیں، پختہ سڑک پر نہیں فوم کے گدُے پر گرے تھے۔‘‘ غصے پر قابو پانے کی کوشش میں نچلا لب چپا ڈالا۔ وہ بری طرح شرمندہ ہوگیا۔
’’آئی ایم ساری، وہ میں۔۔۔‘‘
’’ارے جانے دیں، گاڑی آپ کی، سڑک بھی آپ کی، جیسے چاہیں چلائیں اور جس کو چاہیں دے ماریں۔‘‘
چڑا ہوا جلا بھنا انداز، گھٹنا سہلاتی کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’معاف کیجےے گا دراصل۔۔۔‘‘
’’آپ ہمیں معاف کر دیجےے جو آپ کی گاڑی کے سامنے آگئے۔‘‘ بڑا ہی جلا ہوا انداز تھا۔ اس سے آگے طویل بڑبڑاہٹ تھی جو اس کی سماعتوں سے پرے ہی دم توڑ گئی۔ اس نے بے حد حیرت سے اور قدرے الجھ کر دیکھا۔ گری تو گھٹنوں کے بل تھی، چوٹ شاید دماغ پر آئی تھی۔
’’اگر چوٹ زیادہ ہے تو ہم ڈاکٹر۔۔۔‘‘ اس نے ماہم کا بیگ اٹھایا۔
’’بہت بہت شکریہ، اب آپ جائیں۔‘‘ ماہم نے بیگ جھپٹا۔
’’نہیں، محترمہ اگر۔۔۔‘‘ محترمہ نے شرر بار نگاہوں اور کڑے تیوروں سے گھورا۔ وہ گڑبڑا کر چپ ہوا پھر کندھے اچکا کر پلٹ گیا۔
ماہم نے کپڑے جھاڑتے ہوئے دیکھا، اس کی سفید گاڑی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔
’’ہائے، ایسی ہی گاڑی ہماری بھی ہوا کرتی تھی۔‘‘
اس کا دل چاہا کہ وہ یہیں سڑک پر بیٹھ کر روئے۔ اگر یہ ساری آسائشات نہ دیکھی ہوتیں تو شاید اتنا احساس بھی نہ ہوتا، اس نے تو آنکھ کھولتے ہی یہی سب کچھ دیکھا تھا۔ ڈیڈی نے خود اسے ڈرائیونگ سکھائی تھی اور ان کی وفات کے بعد پورے سال باہر کے کام اور گاڑی اسی کے ذمے تھی۔ ڈیڈی کے بعد ممی نے ایک بوتیک کھولی مگر ناتجربہ کاری کی بدولت چل نہ سکی۔ بچا کھچا سرمایہ بھی ڈوب گیا۔ گھر قرضے میں چلا گیا۔
وہ کالج میں بھی اداس اور اکھڑی اکھڑی سی رہی۔ وہ سفید گاڑی بار بار نظروں کے سامنے گھوم جاتی تھی۔ سہیلیوں کی معمولی سی بات بھی چبھتی ہوئی لگتی، یوں لگتا اسے سنا رہی ہیں۔ سارا دن ان سے کٹ کر لائبریری میں گزار دیا۔
ـــــ
دادی نے ساگ کا گٹھڑ کھولا اور پرات لے کر بیٹھ گئیں۔ مائرہ بھی کتاب لے کر ان کے قریب ہی آبیٹھی۔ یوں ہی اِدھر اَدھر کی باتیں کرنے لگی پھر اس کی نگاہ ان کے لرزش زدہ ہاتھوں پر جم گئی۔ وہ کچھ لمحے دیکھتی رہی پھر ہاتھ بڑھا کر ان کا جھریوں زدہ ہاتھ تھام لیا۔ اس کے نازک سپید ہاتھ میں دادی کا جھریوں زدہ، لٹکی کھال والا ہاتھ عجیب سا لگ رہا تھا۔
’’کبھی یہ ہاتھ بھی میرے جیسے ہوں گے، ہیں نا دادی جان!‘‘ دادی نے کچھ حیران ہو کر دیکھا۔
’’نہ جانے یہ لڑکی کیسی باتیں کرتی تھی۔‘‘
’’آپ اتناکام کیوں کرتی ہیں دادی؟‘‘
’’لو۔۔۔‘‘ وہ پوپلی سی ہنسی ہنس دیں۔ ’’یہ بھی کوئی کام ہیں۔‘‘ وہی خجالت و شرمندگی، اپنے وجود کے بے فائدہ ہونے کا احساس۔
’’میں نے تو آپ کو سارا دن مصروف ہی دیکھا ہے، تھکتی نہیں ہیں آپ؟‘‘
’’ہاں، اب تو تھک ہی جاتی ہوں۔‘‘ وہ ایک لمحے کو کسی سوچ میں ڈوبیں پھر سر جھٹک کربولیں۔ ’’کڑےے تو بھی کن باتوں میں لگالیتی ہے۔‘‘
مائرہ کی نگاہ ان کے پیروں پر جا پڑی۔ بے تحاشا پھٹی ایڑیاں اور انگلیوں کی پوروں پر ہلکا سا نیل اور سوجن، وہ ایک دم سیدھی ہوئی۔
’’دادی! آپ کے پیروں کو کیا ہوا ہے؟‘‘
’’سردیوں میں ایسے ہی ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’درد نہیں ہوتا۔‘‘ ایڑیاں اتنی پھٹی ہوئی تھیں کہ بس خون رسنے کی کسر رہ گئی تھی۔
’’ہوتا ہے تو سرسوں کا تیل لگالیتی ہوں۔‘‘ وہ ساگ کاٹنے لگیں۔
’’کبھی دوائی نہیں لگائی۔‘‘ مائرہ نے بے حد تاسف سے انہیں دیکھا۔ ان کے بوڑھے وجو د سے سب کتنا بے خبر رہتے تھے۔
’’عاقب کو یاد آئے تو وہ لادیتا ہے۔‘‘ ڈیوڑھی میں عاقب کی بائیک آکررکی۔
’’کیسی ہو مائرہ بی بی؟‘‘ انہوں نے سنگتروں سے بھرا لفافہ ان کے قریب رکھا۔
’’ٹھیک ہوں۔‘‘ انہوں نے جیب ٹٹول کر چابی نکالی۔
’’روٹی لائوں تیرے لےے پتر۔‘‘ دادی نے فٹافٹ پوچھا۔
’’نہیں دادی! میں کھا آیا ہوں۔‘‘ عاقب نے تالا کھولا۔
’’آپ کمرے کو تالا لگا کر کیوں جاتے ہیں۔‘‘ مائرہ نے یوں ہی سوال کیا۔ انہوں نے مڑ کر اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا۔ وہ اٹھ کر ان کے پیچھے چلی آئی اور گویا چکرا ہی گئی۔ پورے کمرے میں دری بچھی تھی۔ ایک طرف بیڈ، اس کے ساتھ دیوار گیر الماری میں بے تحاشا کتابیں۔ چھوٹی سی رائٹنگ ٹیبل اور اس پر موجود کمپوٹر۔ اسے اپنے سوال کا جواب بھی مل گیا تھا۔ وسیم بھائی کے پانچ شریر بچوں کی موجودگی میں اس کمرے کو تو تالا ہی لگنا چاہےے تھا۔
’’بیٹھو۔‘‘ وہ کمرے کے بیچ میں کھڑے کہہ رہے تھے۔
’’امیزنگ۔‘‘ وہ آگے بڑھ کر کتابیں دیکھنے لگی۔ عاقب تفصیل بتانے لگے۔ کون سی کتاب کہاں سے خریدی، کس نے گفٹ کی، زیادہ تر کتابیں انار کلی کے ٹھیلوں سے خریدی گئی تھیں۔ مائرہ ہنس دی۔ عاقب خاموش ہو کر اسے دیکھنے لگے جس کی چہرے پر حیرت اور مسکراہٹ مل کر عجیب سے رنگ بکھیر رہی تھی۔ اسٹیپس میں کٹے بال، سادہ مگر جدید تراش خراش کا لباس، وہ کسی بھی طرح اس ماحول سے مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ عاقب کو افسوس ہوا۔
’’زندگی بھی کیا کیا رنگ دکھاتی ہے۔‘‘ مائرہ اب کمپیوٹر کی طرف متوجہ تھی۔
’’انٹرنیٹ کنکشن ہے آپ کے پاس۔‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ سر جھٹک کر آگے بڑھے۔
’’کبھی کبھی میں بھی استعمال کرلیا کروں۔‘‘
’’ارے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے، میں چابی ہی تمہیں دے جائوں گا جیسے مرضی استعمال کرنا، بس ان شیطانوں کو اندر نہیں گھسنے دینا۔‘‘
’’عاقب بھائی! اکلوتے چاچو ہیں آپ ان کے۔‘‘
’’ہاں مگر مائرہ! بھابھی نے بچوں کی تربیت بالکل نہیں کی۔‘‘ اور یہ تو وہ بھی دیکھ رہی تھی۔ اوپر تلے کے بچوں نے انہیں اپنا آپ بھلا دیا تھا۔ تربیت کیا خاک کرتیں۔ چھٹے کی تیاری کر بیٹھی تھیں۔ جب دل چاہا ایک ایک کی پکڑ کر دھنائی کر دی، خواہ بات کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو اور کبھی بڑی سے بڑی بات بھی’’بچے ہیں‘‘ کہہ کر ٹال دیا۔
’’جاہل ماں کے جاہل بچے۔‘‘ مائرہ کو وسیم بھائی کا جملہ یاد آیا جو وہ اکثر سخت غصے میں کہا کرتے تھے۔
’’آپ کی جاب کیسی جارہی ہے؟‘‘ اس نے سر جھٹک کر پوچھا۔
’’کہیں نہیں جارہی، اپنی جگہ پر کھڑی ہے۔‘‘
’’میرا مطلب ہے۔۔۔۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’اب تو پروموشن ہونے والی ہے، تم دعا کرنا۔‘‘
’’ضرور۔‘‘ وہ تھوڑی دیر رک کر چلی آئی۔ بھابھی سارے بچوں میں سنگترے تقسیم کر رہی تھیں۔ دادی ابھی تک ساگ سے نبرد آزما تھیں، ایک پلیٹ میں چار سنگترے پڑے تھے۔
’’لو مائرہ! یہ اوپر لے جائو ورنہ یہ چٹورے تو سارے ہضم کرلیں اور ڈکار تک نہ لیں۔‘‘ بھابھی نے پلیٹ کھسکائی۔
’’کوئی بات نہیں بھابھی! بچوں کو دے دیں۔‘‘ وہ متانت سے کہہ کر اوپر چڑھ گئی۔
’’ہونہہ نخرے۔‘‘ انہوں نے کہا پھر ایک کرارہ دھموکا بینا کے دے مارا جو پلیٹ سے مالٹا اچکنا چاہ رہی تھی۔
’’بدبخت! اپنے چاچے کے لےے بھی رکھ لے۔‘‘
رات کو جب دادی پتیلیاں مانجھ کر، پرات دھو ھا دیوار سے ٹکا اندر آئیں تو جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا، تب ہی وہ تسلے میں گرم پانی لے آئی۔ دادی کے بہت ناںناں کرنے کے باوجود ان کے پائوں گرم پانی سے دھوئے، تولےے سے خشک کر کے ان پر ٹیوب سے دوا نکال کر لگانے لگی۔ وہ تو بے نیازی سے اپنا کام کر رہی تھی مگر آتے جاتے لوگ ٹھٹک کر دیکھ رہے تھے، تایا ہنس دےے۔
’’لو اماں! تمہاری خدمتیں کرنے والی بھی آگئی۔‘‘
دادی نے مارے شرم کے دوپٹے میں منہ چھپالیا۔ بھلا خدمتیں کرنے والی خدمتیںکراتی اچھی لگتی تھی۔ عاقب کی آنکھوں میں ستائش سی امڈ آئی۔ بھابھی، تائی کے کان میں جاگھسیں۔
’’نرے دکھاوے، گویا ہم تو کبھی اماں کو پوچھتے ہی نہیں۔‘‘
مینا کو شرمندگی نے آلیا۔ اسے یہ خیال کبھی نہ آیا یا شاید گھر کے دھندے ہی اتنے تھے۔ صبح وہ اسکول پڑھانے جاتی، واپس آتی تو تائی اور بھابھی کے ہوتے بھی ڈھیروں کام اس کے منتظر ہوتے۔ بینا نویں میں پڑھتی، موڈ ہوتا تو کچھ کرلیتی ورنہ کھٹی املی کھانے اور سہیلیوں کے گھر جانے سے فرصت نہ ملتی تھی، وہ وسیم بھائی کی سب سے بڑی بیٹی تھی۔
اس سب سے بے خبر مائرہ نے کام ختم کیا اور لحاف پیروں پر دے دیا۔ دادی نے دوپٹہ ہٹا کر اسے دیکھا پھر کمزور بازو پھیلا کر اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
’’میرا اویس بھی ایسے ہی کرتا تھا۔‘‘ انہوں نے سرگوشی میں کہا اور مائرہ جب سے یہاں آئی تھی، اس نے پہلی بار دادی کے منہ سے مرحوم بیٹے کا نام سنا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا،دادی کی آنکھوںمیں ستارے چمک رہے تھے۔
ـــــ
طویل روش کے آخری گیٹ کے پاس والے بینچ پر وہ دونوں ہی بیٹھی تھیں۔ کالج تقریباً خالی ہوچکا تھا اور رشنا کی گاڑی نہیں آئی تھی۔
’’یار! تھوڑی دیر رک جائو، میں اکیلی کیا کروں گی۔‘‘ وہ رک گئی، اسے تو پوائنٹ ہی پکڑنا تھا، ابھی نہ سہی آدھے گھنٹے بعد سہی۔
’’ان کو بھی آج ہی دیر ہونا تھی۔‘‘ رشنا نے کوفت سے گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
’’کس کو آنا تھا؟‘‘ ماہم نے پوچھا۔
’’بھائی نے کہا تھا پک کرنے کو، لگتا ہے بھول گئے ہیں۔ دس منٹ اور دیکھتے ہیں ورنہ چلے جائیں گے۔‘‘ اس نے بیگ سے چاکلیٹ نکالے، تبھی چوکیدار نے رشنا کو بتایا کہ اس کی گاڑی آگئی ہے۔
’’تھینک گاڈ۔ ‘‘ وہ دونوں اکٹھے ہی باہر نکلی تھیں۔
’’بھئی مجھے کچھ آفس میں دیر ہوگئی تو۔۔۔‘‘ اس ڈیسنٹ سے شخص نے اچانک جملہ ادھورا چھوڑ دیا، ماہم کو احساس ہوا وہ اسے گھور رہا تھا۔ ماہم کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں، جبکہ اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں شناسائی کی چمک پیدا ہوئی۔
’’اوہو تو آپ ہیں، کہےے کیسی طبیعت ہے آپ کی؟‘‘
’’ہیں۔‘‘ وہ ٹھٹک گئی۔ یہ کون تھا جو خوامخواہ فری ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
’’اس دن زیادہ چوٹ تو نہیں آئی تھی آپ کے۔‘‘ شرارت سے دریافت کیا۔ ماہم کے دماغ میں جھماکا ہوا۔
’’تو یہ تھا۔۔۔؟‘‘
’’آپ لوگ جانتے ہیں ایک دوسرے کو؟‘‘ رشنا نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں۔‘‘ وہ سختی سے کہہ کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
’’حالانکہ دو دن پہلے ملاقات ہوئی تھی۔ مانا بہت خوش گوار نہیں تھی مگر بھولنے والی بھی تو نہیں تھی۔‘‘
’’رشنا! میں اب چلتی ہوں۔‘‘ وہ اسے یکسر نظر انداز کر کے بولی تھی۔
’’ہم ڈراپ کر دیتے ہیں۔‘‘
’’نہیں، تم لوگوں کے لےے آئوٹ آف وے ہوجائے گا۔‘‘
’’ہم راستہ بدل لیں گے۔‘‘ اس نے پھر دخل دیا۔
’’مجھے راستہ بدلنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے۔‘‘
وہ ایک پل کو ٹھٹکا پھر اس کا بھرپور قہقہہ بلند ہوا۔ ماہم خجل سی ہوگئی، زبان ہی تو تھی بس پھسل گئی۔
’’بے فکر رہیں،منزل پر پہنچانے سے پہلے راستہ بدلنے والے ہم بھی نہیں، کیوں رشنا؟‘‘ وہ خاصا محظوظ ہو کر گویا ہوا، لہجہ معنی خیز تھا۔
’’پتا نہیں، آپ کیا باتیں کر رہے ہیں۔‘‘ رشنا نے کندھے اچکائے پھر ماہم کی طرف متوجہ ہوئی۔
’’اوکے ماہم، کل ملاقات ہوگی۔‘‘
’’مس ماہم!‘‘ اس کی شوخ آواز پر وہ نہ چاہتے ہوئے بھی رکی۔
’’دھیان سے جائے گا، ہر گاڑی میں آفاق نہیں ہوتا کہ فوراً بریک لگادے۔ ویسے یقین جانےے غلطی تب بھی ہماری نہ تھی۔‘‘
’’ہونہہ۔‘‘ وہ اپنے رستہ پر ہولی۔ ’’بدتمیز، ڈیسنٹ لگتا ہے مگر ہے نہیں۔‘‘ یہ اس کی حتمی رائے تھی۔
ـــــ
’’کیا ہورہا ہے بے زار لوگو!‘‘ عاقب نے اوپر آتے ہی مخصوص جملہ بولا تھا۔ دھوپ بہت اچھی نکلی تھی۔ مینا مشین اوپر ہی لے آئی۔ چھٹی کا دن تھا، اس نے سوچا بینا کا یونیفارم سی دے اور مائرہ کا خیال تھا کہ وہ مینا سے کٹنگ سیکھ لے گی۔ دونوں دری بچھا کر بیٹھی تھیں۔ وہ منہ پر کتاب رکھے اونگھ رہی تھی۔دھوپ چبھنے لگی تھی مگر اٹھنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ عاقب کی آواز پر اس نے کتاب اٹھا کر خاصی بے زاری سے اسے دیکھا اور دوبارہ سے چہرہ ڈھانپ لیا۔
’’بے زار لوگو! چلغوزے کھالو۔‘‘ وہ عین اس کے کان کے پاس چلُائے تھے۔
’’عاقب بھائی!‘‘ وہ جھنجلا کر اٹھ بیٹھی۔
’’یوں سو سو کر وقت ضائع کرنے والوں کی قسمتیں نہیں بدلا کرتیں۔‘‘ وہ جملہ کس کر مینا اور مائرہ کے درمیان جا بیٹھے۔ چلغوزوں کا لفافہ کھول لیا۔
’’حرکت میں برکت ہوتی ہے۔‘‘
’’توبہ ہے عاقب! تم تو ماہم کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہو۔‘‘ مینا دھاگا توڑتے ہوئے ہنسی۔
’’میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ محترمہ کے منہ کے زاوےے درست ہوجائیں۔ ویسے مائرہ! تمہاری بہن ہنستے ہوئے کیسی لگتی ہے۔ بھئی! خدا گواہ ہے ہم نے تو کبھی اسے مسکراتے بھی نہیں دیکھا۔‘‘
’’تو آپ کو کیا ہے؟‘‘ وہ بری طرح چڑ گئی۔
’’ہمیں صرف یہ ہے کہ آپ وہاں سے اٹھ کر یہاں تشریف لے آئیں۔ یقین جانیں آپ کی شان میں کوئی کمی نہیں آجائے گی زمین پر بیٹھنے سے۔‘‘
’’آپ ہم سے بات نہ ہی کیا کریں تو اچھا ہے۔‘‘ وہ بگڑے لہجے میں کہہ کر اندر جا گھسی۔
’’کر دیا نا خفا، حد کرتے ہو عاقب!‘‘
’’تمہاری بہن کو ہم سے بات کرنا پسند نہیں۔‘‘ وہ کچھ افسردہ سے لہجے میں بولے۔
’’ایسی بات نہیں ہے۔‘‘ مائرہ حسبِ عادت وضاحتیں دینے لگی۔ ہلکی سی خجالت اور شرمندگی، وہ دلچسپی سے سنتے ہوئے مسکراہٹ دبانے لگے۔ مائرہ نے اسے بعد میں بھی خاصا ڈانٹا تھا۔
’’بس تم کہہ دو ان سے، مجھ سے بات نہیں کیا کریں۔‘‘ اس نے صاف کہہ دیا تھا۔ مائرہ طویل سانس لے کر رہ گئی۔
ـــــ
گیٹ عبور کرتے ہی اس کے قدم ٹھٹک سے گئے۔ بڑی حسرت سے سفید در و دیوار سے لپٹی سرسبز بیلوں، بڑے سے لان اور اس میں موتی لٹاتے فوارے کو دیکھا، یہ سب کچھ کبھی ان کی دسترس میں تھا، وہ سر جھٹک کر آگے بڑھی۔
’’السلام علیکم ماہم بی بی!‘‘ رحمیاں اچانک سامنے آئی تھی۔
’’وعلیکم السلام، کہاں ہیں سب لوگ؟‘‘
’’اندر ہی ہیں، آپ کی ممی بھی آئی ہیں۔‘‘ ڈرائنگ روم میں ممی اور ممانی موجود تھیں۔
’’السلام علیکم‘‘ اس نے خاصے پرجوش انداز میں سلام کیا تھا، جواب ذرا رکھائی سے ملا۔ وہ ٹھٹک سی گئی۔ بے حد غور سے دونوں کو دیکھا۔ ممی کا چہرہ سپاٹ تھا، ممانی کا بے زار، ماموں غائب۔
’’فضہ اور مریم کہاں ہیں آنٹی؟‘‘ اس نے بیگ اتار کر گود میں رکھا۔ انہوں نے بیٹھنے کو نہیں کہا تھا مگر وہ بیٹھ گئی تھی۔ یہ کون سا پرایا گھر تھا ، ہزارو بار وہ یہاں آئی تھی۔ کئی کئی دن یہاں رہی تھی۔
’’ابھی کالج سے نہیں آئیں۔‘‘
’’ماموں؟‘‘
’’کسی کام سے نکلے ہیں۔‘‘
’’فواد بھائی آج لنچ پر نہیں آئے؟‘‘ وہ جانتی تھی فواد لنچ گھر پر ہی کرتا تھا۔
’’فواد گھر پر نہیں ہے۔‘‘ ممانی نے جواب دیا پھر کھڑی ہوگئیں۔‘‘ میں تمہارے لےے چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘‘
’’میں خود ہی بنالوں گی آنٹی!‘‘ وہ ابھی تک گزرے ماضی کا ہاتھ تھامے ہوئے تھی۔ انہوں نے تیزی سے ہاتھ کھڑا کر کے اسے اٹھنے سے روکا۔
’’نہیں، میں کہہ آتی ہوں۔‘‘
وہ کچھ حیران سی ممی کو دیکھنے لگی۔ ان کا چہرہ کچھ زرد سا لگا تو وہ اٹھ کر ان کے قریب آئی۔
’’ممی! آر یو آل رائٹ۔‘‘ ماہم نے ان کا ہاتھ تھاما جو سرد ہورہا تھا۔
’’ماہم! چلو گھر چلیں۔‘‘ انہوں نے آہستگی سے کہا۔
’’ممی! آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگتی۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں، چلو تم۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر کھڑی ہوگئیں۔
’’مگر وہ آنٹی۔۔۔‘‘
’’ماہم! چلو۔‘‘
اس نے تیزی سے بیگ اٹھایا اور ممی کے ساتھ باہر نکل آئی۔ پورچ میں فواد کی گاڑی دیکھ کر وہ ایک پل کو ٹھٹکی۔ اسے خیال آیا کہ جب وہ آئی تھی، گاڑی تب بھی یہیں موجود تھی مگر اسے سوچنے کا زیادہ موقع نہیں ملا۔ ممی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لیا تھا۔
’’ممی ٹیکسی لے لیتے ہیں۔‘‘
کچھ دور جا کر اسے احسا س ہوا، امی کی طبیعت واقعی ٹھیک نہیں تھی اور وہ زیادہ دور پیدل نہیں چل سکتی تھیں۔ ممی نے اثبات میں سر ہلایا تھا مگر سڑک سنسان تھی، ارد گرد قطار در قطار سنسان بنگلے، مین روڈ ابھی دور تھی۔
’’ممی! واپس چلیں، فواد بھائی گھر پر تھے، اگر نہ بھی ہوئے تو ان کی گاڑی لے لیں گے، میں ڈرائیو کرلوں گی۔‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘ان کی آواز میں بہت سختی تھی۔ ’’میں چل سکتی ہوں۔‘‘ انہوں نے بڑی ہمت سے کہا تھا مگر کچھ لمحے بعد ایک دم ٹانگوں سے جان نکل گئی۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا۔ انہوںنے ماہم کا سہارا لینا چاہا۔ ماہم نے انہیں سنبھالنا بھی چاہا مگر وہ بے ہوش ہو کر گری تھیں۔ ماہم کے وجود سے جان نکل گئی۔ ایک دم ہاتھ پائوں پھول گئے۔
’’ممی۔۔۔ ممی!‘‘ اس کے بار بار پکارنے اور جھنجوڑنے پر بھی ان کے وجود میں کوئی جنبش نہ ہوئی۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا، وہ انہیں یہیں چھوڑ کر ماموں کے گھر بھاگے یا یہاں کسی گھر سے مدد مانگے۔تبھی ایک گاڑی اس کے قریب رکی۔
’’آپ۔‘‘ وہ ایک لمحے کو ٹھٹکی پھر تیزی سے بولی۔ ’’دیکھیں، وہ میری ممی بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘
’’مائی گاڈ!‘‘ وہ تیزی سے دروازہ کھول کر باہر آیا۔ اس کی مدد سے ممی کو پچھلی سیٹ پر منتقل کیا اور بہت تیزی سے اسپتال تک پہنچا تھا۔ اس کے بعد بھی سارے مرحلے اسی نے طے کےے تھے۔
’’ڈونٹ وری، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ آتے جاتے وہ اسے بھی تسلی دے دیتا۔ تھوڑی دیر کے بعد ہی ممی کو ہوش آگیا۔ کمزوری، نقاہت اور ٹینشن، بلڈ پریشر کچھ زیادہ ہی لو ہوگیا تھا، ڈرپ لگی تھی۔
’’میں ٹھیک ہوں بیٹا!‘‘ ممی کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو اسے بھی کچھ قرار آیا۔
’’میں گھر فون کردوں ممی!‘‘
’’نہیں، سب پریشان ہوجائیں گے، ابھی تو سب یہی سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم تمہارے ماموں کے گھر ہیں۔‘‘ انہوں نے آہستگی سے کہا۔
’’ڈرپ ختم ہوجائے تو گھر چلتے ہیں۔‘‘
’’آپ تو خاصی بہادر خاتون واقع ہوئی ہیں مگر آپ کی بیٹی کس پر چلی گئی۔‘‘ ممی نے سوالیہ نظروں سے ماہم کو دیکھا۔
’’رشنا کے بھائی، اتفاقاً وہاں سے گزر رہے تھے۔‘‘
’’میں تو اسے حسنِ اتفاق کہوں گا جس کی بدولت آپ جیسی محترم خاتون سے ملاقات ہوگئی۔‘‘
’’شکریہ بیٹا!‘‘ ممی مسکرائیں۔
’’میں ویلکم نہیں کہوں گا کیونکہ آئندہ میں اس قسم کی سچویشن میں آپ سے ملنا ہر گز پسند نہیں کروں گا۔‘‘ وہ فوراً گویا ہوا۔
’’باتیں بنانا خوب آتی ہیں۔‘‘ ماہم نے دل میں سوچا۔
’’اب ایسا ہے آنٹی کہ ابھی تو مجھے کچھ کام ہے ورنہ میں ضرور رکتا مگر میں ایک گھنٹے تک آئوں گا، تب تک ڈرپ بھی ختم ہوجائے گی پھر میں آپ کو گھر ڈراپ کردوں گا کیونکہ ڈاکٹرز کے خیال میں مزید رکنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
’’اس کی ضرورت نہیں بیٹا ہم لوگ خود چلے جائیں گے۔‘‘ ممی نے جلدی سے کہا۔
’’اور صبح جب رشنا کو پتا چلے گا کہ میں آپ کو یوں ہسپتال میں چھوڑ کر غائب ہوگیا تھا تو وہ مجھے گنجا کرنے میں زیادہ دیر نہیں کرے گی اور ہاں، دوسری بات صرف آپ کے لےے۔‘‘ وہ ماہم کے پاس رکا۔ ’’ہسپتال کے ڈیوز میں دے جائوں گا، اب اس کے لےے فکر مند مت ہوئےے گا۔ جانتا ہوں خاصی انا پرست لڑکی ہیں آپ! مگر قرض بعد میں بھی چَکایا جاسکتا ہے۔‘‘ وہ تلملا گئی۔
’’بدتمیز انسان، جانتا ہوگا کہ میرے بیگ میں اتنی رقم کہاں۔‘‘
’’بہت اچھا لڑکا ہے۔‘‘ اس کے جانے کے بعد ممی نے تبصرہ کیا تھا۔ وہ خاموش ہی رہی۔
’’اللہ کرے واپس آنا بھول جائے، نہ جانے یہ قسمت کہاں کہاں خوار کروائے گی۔‘‘ وہ کلستی رہی۔ سوچ کا رخ مثبت نہیں رہا تھا ورنہ یہ بھی سوچ سکتی تھی کہ اس سنسان روڈ پر وہ نہ آتا تو خود وہ کیا کرتی۔ ممی آنکھیں موندے لیٹی تھیں۔ نہ جانے کتنی دیر وہ یونہی سوچوں میں الجھتی رہی۔ ممی سو گئی۔
بہت وقت گزرا، جب عقب سے کسی نے اس کی آنکھوں کے عین سامنے چٹکی بجائی تھی، وہ چونک گئی پھر ایک طویل سانس لے کر سیدھی ہوگئی۔
’’ایک بات پوچھوں آپ سے۔‘‘ اس نے ذرا توقف کیا اور پھر سوال بھی۔ ’’کیا سوچتی رہتی ہیں؟‘‘ اس کی آواز بہت مدہم تھی۔
’’یہی نا کہ کن کن لوگوں کے احسان لینے پڑ گئے۔‘‘ بلا کاقیانہ شناس تھا۔
’’مجبوری ہے، اب تو لے لیا۔‘‘ اس نے ایک طویل سانس کھینچی۔
’’چہ۔۔۔چہ۔۔۔ مجھے بے حد ہمدردی ہے۔‘‘
’’اتنا پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے، وقت آیا تو یہ احسان بھی چکادوں گی۔‘‘ ماہم کی تیوری چڑھ گئی۔
’’وعدہ۔‘‘ اس نے ہاتھ پھیلایا۔
’’میں وعدہ نہیں کرتی۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی۔
’’اچھی بات ہے، ٹوٹ جاتے ہیں، کرنے ہی نہیں چاہئیں میں بھی نہیں کرتا مگر میرا یہ احسان بھولےے گا مت، ہوسکتا ہے۔۔۔‘‘ ممی نے آنکھیں کھولی تھیں۔
’’میں نرس کو بلاتا ہوں۔‘‘ ڈرپ ختم ہونے والی تھی۔ آدھے گھنٹے تک وہ فارغ ہوگئے تھے۔ آفاق انہیں گھر تک چھوڑنے آیا تھا۔ وہ شرمندہ ہونے لگیں۔ شہر سے باہر گندگی، دھول، ورکشاپس، ٹینٹ سروس کی دکانیں اور سڑک کے لیول سے بہت اونچا گھر، آفاق کی سفید گاڑی دھول میں اٹ کر مٹیالی ہوگئی تھی۔
وہ بے حد خاموشی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔ گھر کے عین سامنے گاڑی روک دی۔ وہ ممی کو سہارا دے کر اتارنے لگی۔
’’مجھے اب اجازت۔‘‘ وہ ذرا سا جھک کر ممی سے اجازت لینے لگا۔
’’ہرگز نہیں ، بیٹا! اندر آئو، ایک پیالی چائے پی کر پھر چلے جانا۔‘‘ وہ جزبز ہوگئی، اب ممی کو ضرور اندر بلانا ہے اس کو۔
’’دراصل مجھے۔۔۔‘‘ اس نے شریر سی نظروں سے ماہم کو دیکھا جو رخ موڑے نیم کے درخت کو دیکھ رہی تھی۔
’’ابھی تو کچھ کام ہے پھر آئوں گا۔ اب تو گھر دیکھ لیا ہے، کیوں ماہم بی بی!‘‘
’’جی ضرور۔‘‘ متبسم لہجہ، شریر نگاہیں، ماہم کو الجھن ہونے لگی۔ تبھی ممی کا ہاتھ تھام کر وہ تیزی سے اندر چلی گئی۔
ـــــ
ماہم نے فائل بند کی اور پلٹ کر ممی کو دیکھا، وہ کافی دیر سے نوٹس بنانے میں مصروف تھی۔ مائرہ ابھی تک اوپر نہیں آئی تھی۔ وہ اکثر مینا کے ساتھ مختلف کاموں میں مصروف رہتی تھی۔ ماہم کا خیال تھا ممی سو گئی ہیں مگر ان کی کھلی پرسوچ نگاہیں ایک ہی نقطے پر مرتکز تھیں۔
’’ممی! آپ ابھی تک سوئی نہیں۔‘‘ ممی نے چونک کر اسے دیکھا۔’’شاید آپ کو لائٹ ڈسٹرب کر رہی ہے، بند کردوں۔‘‘
’’یوں ہی نیند نہیں آرہی، تم پڑھو۔‘‘ انہوںنے آہستگی سے کہا۔
’’میں پڑھ چکی ہوں، یہ مائرہ ابھی تک نہیں آئی۔‘‘ اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔
’’ماہم! ممی نے بہت سوچتی ہوئی آواز میں پکارا تھا۔وہ سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگی۔
’’ان لوگوں میں گھلا ملا کرو، یہ تمہارے اپنے ہیں۔ مائرہ کو دیکھو کتنی آسانی سے انہیں اپنالیا ہے۔‘‘
’’مائرہ واقعی بہت آسانی سے ان کے رنگ میں رنگ گئی ہے مگر میرے لےے یہ ممکن نہیں ہے۔میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کے ساتھ بات کیا کروں۔ عجیب موضوعات ہیں ان کے پاس۔‘‘
’’ماہم!‘‘ ممی کی آنکھوں میں حیرت در آئی۔
’’سوری ممی! مگر جو ماحول آپ نے ہمیں دیا ہے، وہ ہمارے اندر رچ بس گیا۔ اب اس سے کم پر کمپرومائز کرنا میرے لےے ممکن نہیں۔‘‘
’’بیٹا! خدا جس حال میں رکھنا چاہے۔‘‘
’’نہیں ممی! ہر بات میں قسمت کو دوش نہیں دیا جاسکتا۔ تدبیر اور کوشش بھی کوئی چیز ہے اور مجھے جدوجہد کرنا ہے، واپس اسی اسٹیٹس کو پانے کے لےے۔‘‘ اس کا لہجہ قطعی اور ٹھوس تھا۔ ممی بالکل خاموش سی ہوگئیں۔ وہ بھی کچھ لمحے یونہی انہیں دیکھتی رہی پھر آہستگی سے پوچھنے لگی۔
’’ممی! اس دن آنٹی سے کیا بات ہوئی تھی آپ کی۔‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘ انہوں نے کروٹ بدلی۔ ماہم الجھ سی گئی۔ ممی کا رویُہ کچھ ناقابل فہم سا تھا۔
’’دیکھو مائرہ ابھی تک کیوں نہیں آئی۔‘‘ ان کی آواز ابھری تھی۔ وہ خاموش سی اٹھ گئی۔ نیچے جاتے جاتے وہ ٹھٹک کر رکی۔ ٹوٹی ہوئی دیوار کے پاس ہیولہ ساکت تھا۔ ہوا تیز، ستارے مدہم اور چاند روشن تھا۔ ہلکے بادل رات کے سینے پر غبار کی طرح چھائے تھے۔ جنگل اور اسکول کی عمارت مہیب اندھیرے کی زد میں تھی۔ جھاڑیوں میں سے گزرتی ہوا سیٹیاں بجاتی تھی۔
’’مائرہ!‘‘ اس نے قریب جا کر پکارا۔
’’ہوں۔‘‘ مائرہ کی مدہم سی آواز میں آنسوئوںکی آمیزش تھی۔
’’مائرہ! کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ بھی تو نہیں۔‘‘ آواز میں نمی کچھ اور بڑھ گئی تھی۔
’’یہاں کیوں کھڑی ہو، اتنی سردی۔۔۔ اور ڈر نہیں لگ رہا۔‘‘
’’ڈر کس بات کا، جو ہونا تھا وہ تو ہو ہی گیا۔‘‘
’’کیا ہوگیا؟‘‘
مائرہ خاموش رہی، اس کے وجود میں جنبش پیدا ہوئی۔ چاند کی مدہم چاندنی میں ماہم دیکھ سکتی تھی، وہ اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔
’’مائرہ! تم رو رہی ہو؟‘‘ اس نے مائرہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’نہیں، میں کیوں روئوں گی، جتنا رونا تھا رو لیا۔‘‘ اس کے نم لہجے میں تلخی سی گھل مل گئی۔
’’مائرہ! کیا ہوا ہے کچھ مجھے تو بتائو،ممی اتنی پریشان ہیں، تم رو رہی ہو اور مجھے کوئی کچھ نہیں بتا رہا۔‘‘ اس نے جھنجلا کر مائرہ کو جھنجوڑ ڈالا۔
’’تمہیں کیا بتائیں؟‘‘
’’کیوں، میں تم میں سے نہیں یا تمہارے پرابلم مجھ سے الگ ہیں۔‘‘ اس کو غصہ آگیا۔
’’آہستہ بولو۔‘‘
’’فواد کی کوئی بات ہے؟‘‘ اس کو اچانک خیال آیا۔
’’اس دن وہ گھر پر نہیں تھے ورنہ۔۔۔‘‘
’’وہ گھر پر تھا۔‘‘
’’وہ گھر پر تھا اور ممی سے نہیں ملا، یہ کیسے ممکن ہے۔‘‘ حیرت کاجھٹکا لگا تھا۔
’’اب تو سب کچھ ممکن ہے۔‘‘
’’مگر وہ کیوں مائرہ! وہ کیوں نہیں ملا؟‘‘
’’اس لےے کہ وہ اب ملنا ہی نہیں چاہتا۔‘‘
’’نہیں، کوئی اور وجہ ہوگی۔ فواد اس طرح کا نہیںہے، تم اسے فون تو کرو۔‘‘
’’فون۔‘‘ مائرہ اس کی طرف پلٹی۔ ’’میں نے اس کو بہت سی ای میل بھیجیں مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا، گھر فون کرو تو ملتا نہیں، موبائل پر ٹرائی کرو تو کہتا ہے ’’مائرہ! میں ابھی مصروف ہوں، میں کال کروں گا۔ اور میں انتظار ہی کرتی رہ جاتی ہوں۔ ماہم! سمجھو سب ختم ہوگیا، ہم خالی ہاتھ کیا ہوئے رشتے ہی بدل گئے۔ گویا ہم کچھ بھی نہ تھے، اچانک ہی ہاتھ کھینچ لیا۔ مجھے لگتا ہے میرے قدموں تلے زمین ہی نہیں، یہ کیسا خلا ہے جس میں میں معلُق ہوں۔‘‘ وہ اس سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی، جبکہ ماہم بالکل ساکت کھڑی تھی۔
عجیب بے زار دنوںکا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ سردیاں رخصت ہورہی تھیں، دھوپ میں بیٹھنے کو دل نہ چاہتا، چھائوں میں سردی لگتی۔ حالانکہ بہار کی آمد کے ساتھ ہی فضا میں خوشبوئیں سی رچ بس گئی تھیں، اسکول کے بے رنگ گرائونڈ پر مخملی گھاس کا فرش بچھ گیا تھا، خود رو جھاڑیاں سرخ پھولوں سے لد گئی تھیں، اسکول کے بچے استادوں کی آنکھ بچا کر دیواریں پھلانگتے اور جھاڑیوں میں غائب ہوجاتے۔ جہاں رنگ برنگے پرندے آتے، کوئل کوکتی اور تتلیاں رقص کرتی تھیں۔ بھابھی کے بچے کبھی سرخ اور تیزنارنجی پھولوں سے جھولیاں بھرلاتے یا ہتھیلیوں میں مردہ تتلیوں کے ٹوٹے پر، بینا مچلتی مگر بھابھی نے اسے گھر میں محصور کر دیا تھا، اب وہ حیران ہورہی تھی۔
لحافوں میں گرمی لگتی تھی اور دادی لحاف اکٹھے کر کے سارا دھ ادھیڑتی رہتی، گندے اور استعمال شدہ لحاف پیٹیوں میں بند کرنا انہیں پسند نہ تھا۔ ممی بہت گم صم سی ہوگئی تھیں۔ وقت یکے بعد دیگرے انہیں دھچکے پہنچا رہا تھا۔ مائرہ نے بھول کر بھی کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی۔ وہ خود کو گھر کے کاموں میں مصروف رکھتی تھی اور کام کی اس گھر میں کبھی کوئی کمی نہیں تھی۔ جتنے ہوتے اتنے ہی زیادہ نکل آتے اور ماہم کسی معجزے کے انتظار میں تھی۔ اسے اب بھی یقین نہیں تھا کہ وہ فواد جو مائرہ کے پیچھے پاگل ہوتا تھا، یوں بدل سکتا ہے اور ماموں۔۔۔؟ حالات بدلے تھے، مائرہ تو وہی تھی۔ اس نے کئی بار سوچا تھا کہ وہ خود ماموںکے گھر جائے گی۔ ماموں یا فواد سے ملے گی مگر مائرہ نے اس کو سختی سے منع کیا تھا اور وہ بغیر بتائے جانا چاہتی تھی۔
لیکن اس دن کالج سے واپسی پر جب بس کے انتظار میں کھڑی تھی، اس نے فواد کی گاڑی دیکھی، وہ بے اختیار دوڑ کر سڑک کے کنارے آئی کہ اس کو پکار سکے اور اس نے پکارا بھی۔ اس کو لگا فواد نے اسے دیکھا بھی تھا مگر وہ رکا نہیں اور گاڑی کی اسپیڈ کچھ اور تیز ہوگئی تھی۔ وہ حیران پریشان کھڑی رہ گئی۔ لوگ مڑ مڑ کر اس کو دیکھ رہے تھے۔ تبھی ایک گاڑی اس کے قریب رکی۔
’’یہ گاڑیوں کے آگے اور پیچھے بھاگنا آپ کی ہابی ہے یا کوئی نفسیاتی پرابلم؟ بہرحال جو بھی ہے خاصی خطرناک بات ہے اور تشویش ناک، ہیبت ناک بھی ہوسکتی ہے مگر آپ اتنی ناکوں سے پریشان مت ہوں میں تو صرف۔۔۔‘‘
’’کیا مطلب ہے آپ کا، کیا میں نے پہلے کبھی گاڑی نہیں دیکھی؟‘‘ وہ اسی پر الٹ پڑی۔
’’میں نے یہ تو نہیں کہا، سڑک کے کنارے ایک منٹ میں بیس گاڑیاں دیکھی جاسکتی ہیں مگر یہ گاڑی کے پیچھے بھاگنا۔۔۔ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی۔‘‘
’’آپ کو سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں، جائیں یہاں سے۔‘‘
’’آجائیں، آپ کو بھی ڈراپ کردوں گا۔ اب تو آپ کا گھر بھی دیکھ لیا ہے۔ میں رشنا کو لینے جارہا ہوں، بیٹھی مجھے کوس رہی ہوگی، میں آج پھر لیٹ ہوگیا ہوں، کیا کروں خاصا مصروف بندہ ہوں، ایسے چھوٹے موٹے کاموں کے لےے وقت نکالنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘
’’باتیں بنانے کے لےے تو ہوتا ہے نا۔‘‘ وہ بڑبڑا کر واپس مڑ گئی۔ آفاق نے ہنستے ہوئے گاڑی آگے بڑھائی تھی۔
’’عجیب فضول انسان ہے۔‘‘ وہ کڑھتی ہوئی واپس آئی تھی۔ کپڑے بھی نہیں بدلے، بس اوپر آگئی۔ ممی، دادی اور تائی نیچے بیٹھی تھیں۔ تھوڑی دیر کے بعد جب وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اگر فواد نے اسے دیکھا تھا تو گاڑی کیوں نہیں روکی۔ تبھی مائرہ کھانا لے آئی۔
’’کھانا کھالو ماہم! تم نے کپڑے بھی نہیں بدلے۔‘‘
’’بس یونہی۔‘‘ وہ کسلمندی سے اٹھ بیٹھی۔
’’کیوں کیا ہوا؟‘‘ مائرہ اس کا ہر ہر انداز پہچانتی تھی۔
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘
’’تو عام ہی بتادو۔‘‘
’’آج میں نے فواد بھائی کو دیکھا۔‘‘
’’تو۔۔۔؟’’ مائرہ کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا۔
’’میں نے انہیں پکارا بھی مگر وہ رکے ہی نہیں۔‘‘ ماہم نے بتایا تو مائرہ اسی پر الٹ پڑی۔
’’تمہیں کیا ضرورت تھی، میں نے منع کیا تھا نا، کوئی رشتہ نہیں ہمارا ان لوگوں سے۔‘‘
’’اتنی سی بات پر کہ فواد گھر پر تھے اور نہیں ملے، رشتے ختم نہیں ہوجاتے۔ ہوسکتا ہے بات کچھ اور ہو، معاملہ کلیئر تو ہونا چاہےے۔‘‘
’’کوئی ضرورت نہیں ہے، لوگوں کے روےے ہمیں بخوبی نظر آرہے ہیں۔ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو تو ہو لیکن اب اگر فواد تمہارے سامنے بھی آجائے تو تمہیں اس سے بات کرنے کی ضرورت نہیں، خاص طور پر اس معاملے میں۔ سمجھ میں آگئی ہے نا بات، میں کیا کہہ رہی ہوں۔‘‘ وہ خاصے غصے میں تھی۔
’’آگئی ہے بابا، اب بس کرو۔ وہ تو اچانک سامنے آئے تو میں پکار بیٹھی۔‘‘ ماہم نے ٹالنے کو کہا تو مائرہ بھی خاموش ہوگئی۔
’’لیکن اس سارے معاملے میں ایک بات تو کلیئر ہوئی۔‘‘ نوالہ منہ تک لے جاتے جاتے وہ رک گئی۔ مائرہ نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا۔
’’پیسے کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں۔ وہ تمہارا صلاحیت، قابلیت، رشتے، جذبے کا سارا فلسفے بے کار، بے فائدہ، اصلی حقیقت دولت ہے، پیسہ ہے اور بس۔‘‘
’’قسمت کی بات ہے ساری۔ تقدیر میں جو لکھا ہے وہی ملے گا۔ یہ سب اسی طرح ہونا ہے۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ وہ نہ جانے کس سوچ میںکھو گئی۔
ـــــ
’’بہت برا کیا جو میں نے گریجویشن کے بعد پڑھنا چھوڑ دیا۔‘‘
’’کیا ہوا؟‘‘ مینا نے پلٹ کر اسے دیکھا، مائرہ نے ایک طویل سانس کھینچ کر پائوں سمیٹ کر چارپائی پر رکھ لےے۔
’’اب سمپل بی اے کو کون جاب دے گا؟‘‘
’’جاب؟‘‘
’’ہاں سوچ تو رہی تھی، کاش پروفیشنل ڈگری لے لیتی یا ماسٹر ہی کرلیتی۔‘‘
’’پرائیویٹ ایم اے کرلو، اسی بہانے میں بھی کرلوں گی۔ سچ مزا آجائے گا، مل کر تیاری بھی ہوجائے گی۔‘‘ مینا نے ایک دم پلان بنایا۔
’’تم تو لگتا ہے پہلے ہی تیار بیٹھی تھی۔‘‘ مائرہ مسکرائی۔
’’ہاں، سوچ تو کافی عرصے سے رہی تھی، بس ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ تم ساتھ ہوگی تو سہولت ہوجائے گی۔‘‘
’’مگر کون سا سبجیکٹ؟‘‘
’’کوئی آسان سا لے لیںگے۔‘‘
’’خیر ایسا تو ہو جو بعد میں کام آسکے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔‘‘
’’کیا باتیں ہورہی ہیں؟‘‘ عاقب نہا کر نکلے تھے۔ تولےے سے بال رگڑتے قریب چلے آئے۔
’’ہم دونوں ایم اے کا ایگزام دینا چاہ رہے ہیں۔‘‘ مینا نے فوراً بتایا۔
’’ہیں، یہ کیا سوجھی؟‘‘
’’بس سوجھ گئی، آپ بتائیں کون سے سبجیکٹ میں کریں؟‘‘ مائرہ نے مسکرا کر پوچھا۔
’’بی اے میں کیا پڑھا تھا؟‘‘
’’انگریزی ادب اور سائیکالوجی۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔‘‘
’’عاقب بھیا!‘‘ ماہم سیڑھیاں اترتی ہوئی آئی تھی۔
’’میں آپ کا کمپیوٹر استعمال کرلوںٰ‘‘ عاقب کے چہرے کے تاثرات بدلے۔ انہوں نے معنی خیز انداز میں مینا اور مائرہ کو دیکھا پھر مسکراہٹ دبا کر پوچھنے لگے۔
’’کیا کہا میں نے کچھ سنا نہیں۔‘‘ ماہم نے ناراضی سے انہیں دیکھا پھر قدم بڑھادےے۔
’’ارے۔۔۔ارے۔۔۔‘ ‘عاقب نے بوکھلا کر بازو پھیلا کر اس کا راستہ روکا۔
’’بھئی،تمہاری ناک تو بہت ہی اونچی ہے، اب ہماری ایسی جرأت کہاں کہ ایک ہی بار میں آپ کی بات نہ سنیں مگر چابی تو ہم نے آپ کی بہن کو دے رکھی ہے، ان ہی سے مانگ لیں۔‘‘
’’اوپر پڑی ہے تکےے کے نیچے۔‘‘ مائرہ نے بتایا تو وہ اوپر چلی گئی۔
’’آخر یہ کس پر گئی ہے؟‘‘ وہ پلٹ کر مائرہ سے پوچھنے لگے۔
’’کسی پر نہیں۔‘‘ مائرہ نے بے چارگی سے کہا تھا۔ وہ سر ہلاتے تار پر تولیہ پھیلا کر اندر چلے گئے۔ ان کا مسئلہ درمیان میں رہ گیا۔ تبھی موضوع بدلتے ہوئے مینا نے پوچھا تھا۔
’’تمہارے ماموں کا کوئی فون نہیں آیا؟‘‘
’’نہیں، کیوں؟‘‘
’’یونہی۔‘‘ مینا نے کہا پھر کچھ توقف کے بعد پوچھنے لگی۔ ’’ان کے بیٹے سے تمہاری بات طے ہوئی ہے نا۔‘‘
مائرہ ٹھٹک گئی پھر سنبھلتے ہوئے سرسری لہجے میں بولی تھی۔
’’خیر، طے تو نہیں ہوئی تھی، یونہی بڑوں کے درمیان بات ہوئی تھی، سمجھو ختم ہوگئی۔‘‘
’’سمجھو کیا، بات واضح تو ہو تاکہ کسی اور کا چانس بن سکے۔‘‘ مینا کا لہجہ معنی خیز ہوا تھا۔ ’’یہ نہ ہو بعد میں وہ دعوے دار بن کر آجائیں۔‘‘
’’نہیں آئیں گے۔‘‘ مائرہ نے اس کے لہجے پر غور نہیں کیا تھا، دادی پرات میں چاول نکال لائی تھیں اور اب عینک لگا کر چن رہی تھیں۔ مائرہ نے اٹھ کر پرات ان کے ہاتھ سے لے لی۔
ـــــ
پھر گویا دھماکا ہی ہوگیا۔ تایا نے مائرہ کا رشتہ مانگا تھا، عاقب کے لےے، ماہم کے لےے تو دھماکا ہی تھا۔ مائرہ خاموش تھی، عاقب گنگناتے پھر رہے تھے۔ ماہم نے ممی کے سامنے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔
’’یہ بالکل نہیں ہوسکتا، کہاںمائرہ اور کہاں عاقب۔ آخر کیا سوچ کر انہوں نے یہ رشتہ مانگا ہے۔‘‘ وہ غصے میں بالکل ہی آئوٹ ہوگئی تھی۔
ممی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا، وہ غصے میں لال پیلی مائرہ سے لڑ رہی تھی۔
’’اور کرو خدمتیں۔ دیکھا انہوں نے سوچا ہوگا مفت کی نوکرانی ہاتھ لگ گئی ہے۔‘‘
’’فضول باتیں مت کرو۔‘‘ مائرہ اس کے یوں بھڑک اٹھنے پر اکتا کر بولی تھی۔
’’یہ فضول باتیں ہیں، یہ تمہاری زندگی کا معاملہ ہے احمق لڑکی اگر ایک با رپھنس گئیں تو سمجھو ساری زندگی اسی جہنم میں گزرے گی۔‘‘ وہ دانت پیس کر بولی تھی۔
’’آہستہ بولو، کوئی سن لے گا۔‘‘
’’تو اچھی بات ہے، سارا مسئلہ ہی حل ہوجائے گا۔‘‘
’’ماہم!‘‘ وہ حد سے گزر رہی تھی۔ ممی کی آواز میں بلا کی سختی تھی۔
’’تمہیں اس معاملے میں بولنے کا کوئی اختیار نہیں۔‘‘
’’ممی! میں۔۔۔‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا۔
’’تم خاموش رہو گی۔‘‘ ممی نے گویا بات ہی ختم کردی۔
’’ٹھیک ہے جو مرضی آئے کریں، میں تو گویا آپ کی کچھ لگتی ہی نہیں۔‘‘ وہ پائوں پٹختی باہر نکلی تھی۔ ممی پیشانی مسلنے لگیں۔
’’ممی! پلیز، آپ ٹینس مت ہوں، آپ کو پتا تو ہے اس کی عادت کا۔‘‘ مائرہ نے ان کے پاس بیٹھ کر ان کا ہاتھ تھاما۔
’’مجھے اس لڑکی سے ڈر لگنے لگا ہے، یہ یقینا مجھے دکھ دے گی۔‘‘
’’ایسا کچھ نہیں ہوگا ممی! وہ جذباتی ہے مگر بے عقل نہیں۔‘‘ اس نے تسلی دی۔ ممی نہ جانے کیا سوچنے لگیں پھر بہت دیر کے بعد انہوں نے پوچھا۔
’’تمہارا عاقب کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
’’میں کیا کہوں جو آپ مناسب سمجھیں۔‘‘ وہ اپنی طرف سے انہیں کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی۔
ممی نے اس کی پیشانی چوم لی۔ وہ ایسی بیٹی تھی کہ جس پر وہ فخر کر سکتی تھیں اور جس دن عاقب کے نام کی انگوٹھی اس کی انگلی میں آئی تھی، ماہم نے پورا دن مائرہ سے بات نہیں کی تھی۔
ـــــ
وہ کالج سے لوٹی تو صحن میں ہنگامہ برپا تھا۔ بھابھی کے ایک ہاتھ میں ببلو کا ان اور دوسرے میں جوتا تھا۔ بینا اسے چھڑانے کی سعی کر رہی تھی۔ تائی نمک کوٹنے کے ساتھ ساتھ کچھ بول بھی رہی تھیں۔ عاقب کا کمرا کھلا تھا مگر وہ بھی کان لپیٹے بیٹھے تھے۔
ماہم کی طبیعت مکدُر ہوگئی وہ بغیر سلام دعا کےے سیڑھیاں چڑھ گئی۔ کمرے میں مائرہ تنہا بیٹھی نہ جانے کن سوچوں میں الجھی منگنی کی انگوٹھی دیکھ رہی تھی۔
’’ممی کہاں ہیں؟‘‘ ماہم نے پوچھا تو اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
’’آگئیں تم!‘‘ اس نے ایک طویل سانس لے کر کہا پھر بتانے لگی۔ ’’دادی کو بخار تھا، ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ہیں۔‘‘
’’اور تم کیا کر رہی ہو؟‘‘ وہ بیگ رکھ کر پلٹی۔
’’کیا کر رہی ہوں؟‘‘
’’پچھتا رہی ہو؟‘‘
’’میں کیوں پچھتائوں گی۔‘‘ اسے غصہ آگیا۔
’’اس بھدی بدرنگ انگوٹھی کو دیکھ کر پچھتایا ہی جاسکتا ہے۔‘‘ ماہم کے لہجے میں تمسخر تھا۔
’’تم اپنے لےے ڈائمنڈ رنگ کا انتظار کرلو۔‘‘
’’ڈائمنڈ رنگ ہی آئے گی، تم فکر مت کرو، تمہاری طرح کمپرومائز نہیں کروں گی میں۔‘‘ ماہم تڑخ کر بولی۔
’’اتنے دعوے مت کرو، اللہ تقدیر لکھتے ہوئے تمہارے میرے دعوے اور خواہش نہیں دیکھتا، وہ جانتا ہے ہمارے لےے کیا بہتر ہے۔‘‘ مائرہ کا لہجہ مدہم ہوگیا۔
’’تم بہلائو خود کو ایسی باتوں سے اور گزار دینا ساری زندگی اسی سڑے ہوئے ماحول میں۔‘‘ پتا نہیں وہ کالج سے بھری آئی تھی یا یہاں آکر دماغ الٹا تھا۔
’’ماحول انسان خود بناتا ہے ماہم!‘‘ اسے اس موڈ میں دیکھ کر مائرہ خود بخود مدہم پڑ گئی تھی۔
’’ٹھیک ہے بنالینا تم اپنا ماحول۔‘‘
’’ماہم! کیا مشکل ہے تمہیں، آخر کمی کیا ہے عاقب میں؟‘‘ مائرہ نے تنگ آکر پوچھا۔
’’تم نے جلدی کر دی مائرہ! تھوڑا انتظار کیا ہوتا، تم یقینا اس سے بہتر ڈیزرو کرتی تھیں۔‘‘ ماہم نے تاسف سے سر ہلایا۔ ’’کوئی نہ کوئی اچھا رشتہ مل ہی جاتا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ مائرہ نے تمسخرانہ انداز میں اسے دیکھا۔ ’’کون آتا یہاں اور کہاں سے مل جاتا اچھا رشتہ، ماہم بی بی جب اپنے ہی ساتھ چھوڑ گئے، وہ جن کے ساتھ خون کے رشتے تھے، وہی دل بڑا نہ کر سکے تو کون آتا یہاں مجھ جیسی بے مایہ، معمولی اور یتیم لڑکی کو بیاہنے۔ ہاں، احسان مانو ان لوگوں کاجنہوںنے نہ صرف اس گھر میں پناہ دی بلکہ مجھ جیسی معمولی لڑکی کو بھی اپنالیا۔‘‘
’’تم اب اس احسان تلے مت دبی رہنا۔‘‘ ماہم جھنجلا گئی۔ ’’’کوئی احسان نہیں کیا ان لوگوں نے انہیں بھی کہاں ملتی تم جیسی خوب صورت اور پڑھی لکھی لڑکی۔‘‘
’’اوپر سے بے وقوف بھی۔‘‘
وہ دونوں بوکھلا کر کھڑی ہوگئیں۔ مائرہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔ نہ جانے عاقب نے کیا کیا سن لیا تھا۔ اس نے فوراً باہر نکلنا چاہا مگر عاقب نے ہاتھ پکڑ لیا۔ خود بیڈ پر بیٹھ گئے۔
’’نہ۔۔۔ پہلے یہ تو بتائو، کیا فرمایا جارہا تھا۔ بے مایہ، معمولی اور یتیم لڑکی۔ یار تم! معمولی اور بے مایہ لڑکی ہو۔‘‘ وہ بس چند جملے ہی سن سکے تھے۔
’’نہیں میں نے تو۔۔۔ وہ تو ماہم۔۔۔‘‘ مائرہ کے حواس اَڑے جارہے تھے۔
’’ماہم نے تو بالکل ٹھیک کہا، بھلا کہاں ملتی تم جیسی خوب صورت، پڑھی لکھی لڑکی، ٹیوب لائٹ لے کر نکلتے تب بھی نہ ملتی۔ کیوں ماہم! ہیں! تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو۔‘‘ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔ ماہم نے وہاں سے نکلنے میں صرف ایک سیکنڈ لگایا تھا۔
’’ہاں تو۔۔۔‘‘ وہ دوبارہ سے مائرہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’پلیز۔۔۔ پلیز عاقب! میرا ہاتھ چھوڑ دیں۔‘‘ وہ روہانسی ہوگئی۔
’’چھوڑنے کے لےے تھوڑی پکڑا ہے۔‘‘
’’پلیز۔‘‘
’’پہلے وعدہ کرو، بھاگو گی نہیں۔‘‘
’’نہیں بھاگوں گی۔‘‘
’’تو پھر سامنے بیٹھو تاکہ ہم تمہیں بتاسکےں کہ کیسا انمول ہیرا ملا ہے ہمیں۔ ’’انہوں نے ہاتھ چھوڑا، وہ سرخ چہرہ لےے بادل ناخواستہ بیٹھی رہی کہ راستے میں تو وہ براجمان تھے۔
ـــــ
نہ جانے کس امید کے سہارے وہ ماموں کی طرف آگئی۔ اسے لگتا تھا ممی نے جلدی کی ہے، ان لوگوں نے ابھی کوئی واضح جواب تو نہیں دیا تھا اور ممی نے فیصلہ بھی کرلیا۔
’’اور مائرہ، وہ تو ہے ہی بے وقوف۔‘‘
گھر کے پورچ اور باہر گاڑیوں کی قطار موجود تھی۔ لان میں سفید میزیں اور ان پر سجے پھولوں کے گلدستے۔ وہ کچھ حیران سی اندر آئی۔ شاید کسی تقریب کا اہتمام تھا، ہال کمرے میں مہمانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، ماہم ٹھٹک کر رکی اور ایک پل کو اس نے سوچا۔
’’کاش میںیہاں نہ آئی ہوتی۔‘‘
صوفے پر فواد بیٹھا تھا اور ساڑھی میں ملبوس ایک گریس فل سی خاتون اس کو انگوٹھی پہنا رہی تھیں۔ ممانی، ماموں اور عقب میں فضہ بھی موجود تھی۔ خاتون نے انگوٹھی پہنا کر فواد کی پیشانی چومی، مبارک سلامت کا شور اٹھا، فواد مسکراتا ہوا سیدھا ہوا ۔ تبھی اس کی نگاہ دروازے میں ایستادہ ماہم پر پڑی۔ ایک لمحے کو اس کا رنگ متغیر ہوا۔ اس نے آہستگی سے ممانی سے کچھ کہا۔ ان کی گردن گھومی، وہی شاک کی کیفیت۔ پھر وہ بوکھلا کر کھڑی ہوئیں اور تیر کی طرح ماہم تک آئیں۔
’’ماہم ! تم۔۔۔؟‘‘
’’جی میں، لیکن آپ اتنی حیران کیوں ہورہی ہیں۔‘‘ وہ اس شاک سے باہر نکل آئی تھی۔
’’آئو، باہر چل کر بات کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے ماہم کا بازو تھاما۔
’’ارے خوامخواہ ہی۔‘‘ ا س نے بازو چھڑایا۔ ’’اب کیا میں فواد بھائی کو مبارکباد بھی نہ دوں۔‘‘ وہ سیدھی فواد تک آئی، ماموں ہکا بکا رہ گئے تھے۔
’’مبارک ہو فواد بھائی! آپ نے تو ہمیں یاد نہیں کیا مگر یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم آپ کی خوشیوں میں شریک نہ ہوتے، آخر ہمارا اور آپ کا خون کا رشتہ ہے۔‘‘ وہ چبا چبا کر کہہ رہی تھی۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ خاتون نے قدرے ناگواری سے پوچھا تھا۔
’’ان سے پوچھ لیجےے گا شاید کوئی رشتہ یاد رہ گیا ہو۔‘‘ اس نے ماموں کی طرف اشارہ کیا اور تیزی سے پلٹ کر باہر نکل گئی۔ حالانکہ جب وہ فواد کی طرف بڑھی تھی تو اس کا دل چاہا تھا وہ اس کا گریبان پکڑ کر جھنجوڑ ڈالے مگر پھر اسے لگا وہ سب لاحاصل ہے۔
’’ماہم، ماہم بیٹی!‘‘ ماموں اس کے پیچھے آئے تھے۔
’’مت کہیں بیٹی!‘‘ وہ ایک دم رک کر پھنکاری تھی۔
’’آپ کے منہ سے یہ لفظ اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’ماہم! یہ سب تمہاری ممانی اور فواد۔۔۔‘‘ وہ بے بسی سے وضاحتیں دینے لگے۔
’’ممی کا سب سے معتبر حوالہ اور رشتہ تو آپ تھے ماموں! جب آپ نے آنکھیں پھیر لیں تو پھر کسی سے کیا گلہ، بہرحال۔۔۔‘‘ اس نے ایک طویل سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی سعی کی۔
’’میں یہاں آپ کو مائرہ کی منگنی کا بتانے آئی تھی، شاید ممی نے سگے بھائی کی آنکھوں میں اتری بےگانگی پڑھ لی تھی بلکہ مجھے آج خبر ہوئی کہ اس دن آنٹی نے ممی سے کیا کہا ہوگا اور فواد ممی سے کیوں نہیں ملا تھا، بس ایک میں ہی خوش گمان تھی کہ ماموں اتنے کٹھور نہیں ہوسکتے۔‘‘
وہ شرمندہ کھڑے ماموں پر ایک نظر ڈال کر چلی آئی مگر اندر کہیں تلخیاں سی رچ بس گئی تھیں۔ ہر بات پر بے زاری، جلنا کڑھنا، ذرا سی بات پر لڑنا اور رو دینا۔ پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا، کام کو ہاتھ نہ لگاتی۔ بس اپنی سوچوں میں الجھتی رہتی۔ ممی پریشان تھیں اور مائرہ حیران۔
’’تم کس بات پر پریشان ہو؟‘‘ مائرہ نے ایک دن پوچھ ہی لیا۔ وہ کیا بتاتی، نا امیدی آکٹوپس کی طرح اس کے وجود میں پنجے گاڑے بیٹھی تھی۔ مائرہ کو دھوئیں میں الجھتے اور جھاڑو دیتے دیکھ کر وہ مزید وحشت زدہ ہوجاتی تھی۔
’’مائرہ! تم ایسی زندگی جی لو گی۔‘‘ اس نے مائرہ کا ہاتھ تھاما۔ اس کے گلابی ملائم ہاتھوں کی رنگت بدل گئی تھی۔ ناخن بدرنگ ہورہے تھے۔
’’تم سے کس نے کہا کہ مجھے ساری زندگی اسی طرح گزارنی ہے۔‘‘ وہ ہنسی۔ ’’عاقب کی پروموشن ہوگی، انہیں گھر ملے گا، اسٹیٹس بھی بدلے گا۔‘‘
’’اور تب تک تم اسی طرح ان لوگوں کی خدمت کرتی رہو گی، اچھی امید کے سہارے۔‘‘
’’تو کیا حرج ہے، آخر یہ میرے اپنے ہی تو ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کر ہی دیا ہے تو یہ بہتر نہیں کہ ہم صبر کریں، جس نے چھینا ہے وہ دے گا بھی۔ آخر پہلے بھی تو دیا تھا۔ ممی بتاتی ہیں شادی کے بعد وہ اسی گھر میں آئی تھیں اور پانچ سال یہاں گزارے تھے اور اس کے بعد دیکھو بابا کی محنت، ہمت اور ممی کے ساتھ نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔‘‘
’’میں اتنا انتظار نہیں کر سکتی۔‘‘ ماہم نے اضطراری انداز میں کہا۔ مائرہ نے پیار سے بازو اس کے کندھے پر پھیلایا۔
’’ماہم! کہتے ہیں اونچی چھلانگ لگانے کے لےے تھوڑا پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔ یہ عارضی پڑائو ہے، اس وقت کو صبر سے گزاردو گی تو اللہ تعالیٰ اچھا انعام دے گا۔ بے صبری کرو گی تو کہیں وہ اس سفر کو لمبا نہ کردے۔‘‘
’’یہ سب باتیں درست ہیں، میں مگر اتنی آسانی سے حالات کے آگے سرنڈر نہیں کروں گی۔‘‘
’’تو کیا کرو گی؟‘‘
’’کچھ بھی، کچھ ایسا کہ سب میری مٹھی میں آجائے۔‘‘
اس کے دماغ میں کھچڑی سی پکنے لگی۔ وہ واقعی بے صبری ہورہی تھی۔ مائرہ ایک طویل سانس لے کر رہ گئی۔
ـــــ
’’رشنا! وہ ایک کتاب تھی تمہارے پاس میری۔‘‘ چھٹی کا وقت ہوگیا تھا، سب جانے کے لےے پرتول رہی تھیں۔
’’گاڈ!‘‘ وہ سر پر ہاتھ مار کر رہ گئی۔
’’وہ تو میں گھر ہی بھول آئی۔‘‘
’’دو دن بعد پیپر ہے محترمہ!‘‘
’’یار! میں نے نکالی بھی تھی کہ لے کر جائوں گی مگر بس افراتفری میں وہیں بھول آئی۔‘‘ رشنا بے چارگی سے گویا ہوئی۔
’’تم کسی کو بھیج کر منگوا نہیں سکتیں۔‘‘
’’کس کو بھیجوں گی؟‘‘ ماہم پریشان ہوگئی۔
’’یا ایسا کرو، میرے ساتھ گھر چلو۔‘‘
’’واپسی پر مسئلہ ہوجائے گا۔‘‘ وہ نیم رضامندی سے گویا ہوئی۔
’’کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، ڈرائیور چھوڑ دے گا یا آفاق بھائی۔‘‘ ماہم بدمزا تو ہوئی، رشنا کا ڈرائیور چھٹی سے واپس آگیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ گزشتہ ایک ہفتے سے آفاق اس کو لینے کالج نہیں آیا تھا۔
’’گھر پر کون کون ہوگا؟‘‘
’’میں اور مما پھر کبھی کبھار آفاق بھائی لنچ کے لےے آجاتے ہیں لیکن آج کل وہ بھی مصروف ہیں۔ پاپا کے جاپان جانے کے بعد سارا کام آفاق بھائی پر آپڑا ہے بلکہ وہ سارا کام خود ہی اپنے سر لے لیتے ہیں۔‘‘
ماہم بہت غور سے سن رہی تھی۔ رشنا کو دیکھ کر وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ اس سفید محل کی باسی ہے۔ رشنا کی سادہ طبیعت اور سادہ طرزِ گفتگو۔ اس نے کبھی اپنی دولت، امارت یا اتنے بڑے گھر کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔تاحد نظر پھیلے لان میں پھول ہی پھول کھلے تھے۔ موتی لٹاتے فوارے اور خوب صورت طرزِ تعمیر کا حامل وہ منفرد گھر جس میں قدم رکھتے ہی وہ گویا کسی خواب نگر میں داخل ہوئی تھی۔ کسی چیز کا نہ ہونا اتنی تکلیف نہیں دیتا جتنا کسی چیز کا چھن جانا۔ وہ جس چیز کو بھی دیکھتی، اس کے اندر ہَوک سی اٹھتی تھی۔ رشناکی امی کچن میں خانساماں کے ساتھ لگی تھیں۔
’’امی! دیکھیں کون آیا ہے؟‘‘
’’یہ کیا، نہ سلام نہ ۔۔۔‘‘
’’السلام علیکم!‘‘ رشنا نے خاصے مؤدب انداز میں فوراً کہا تو اس کی امی جواب دیتے ہوئے ہنس دیں۔
’’بھئی ہماری والدہ اس معاملے میں خاصی سخت واقع ہوئی ہیں ماہم!‘ رشنا نے کہا پھر اس کا تعارف کروانے لگی۔
’’یہ میری بہترین دوست ہے ماہم۔‘‘
’’ماشائ اللہ، بہت پیاری بچی ہے۔‘‘ اس کی امی نے ماہم کا گال تھپتھپایا۔
’’بچی!‘‘ رشنا چلائی۔ ’’ڈیئر مام! اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔‘‘
’’بہت باتیں کرنی آگئی ہیں تمہیں۔‘‘ امی نے گھورا۔ ’’جائو، اپنی فرینڈ کو کمرے میں لے جائو، میں کھانا لگواتی ہوں۔‘‘
’’نہیں آنٹی!‘‘ ماہم تکلُف سے بول اٹھی۔ ’’مجھے ذرا جلدی ہے میں۔۔۔‘‘
’’کھانا کھانے میں کتنی دیر لگتی ہے بیٹا!‘‘ انہوں نے شفقت سے کہا۔
’’یار! اگر تم یوں بغیر کھائے چلی گئیں تو امی کو ساری رات نیند نہیں آئے گی۔‘‘ رشنا شرارت سے گویا ہوئی تو وہ ہلکا سا مسکرادی۔
’’جب تک کھانے سے فارغ ہوں گے، آفاق بھائی بھی آجائیں گے پھر ہم دونوں تمہیں ڈراپ کرنے چلیں گے۔‘‘
’’ہم دونوں۔‘‘ ماہم کا دل دھک سے رہ گیا۔ ’’یا اللہ! اب یہ بھی تماشا دیکھے گی میرا۔‘‘ پرانی فرینڈز کو وہ اسی خوف سے تو چھوڑ بیٹھی تھی۔
’’امی! آفاق بھائی کب تک آئیں گے۔‘‘ رشنا پوچھ رہی تھی۔
’’فون آیا تھا اس کا، آج ذرا دیر سے آئے گا۔ کہہ رہا تھا کھانا کھالیں آپ لوگ۔‘‘ اس کی امی نے بتایا۔
ماہم یکدم مایوس سی ہوگئی۔ اگر اسے کچھ زیادہ دیر ہوگئی تو۔۔۔ جبکہ وہ آج اس سے ملنا چاہتی تھی۔ رشنا کی امی نے کھانے میں مزید کچھ ڈشز کا اضافہ کر دیا تھا۔ رشنا اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جب تک کھانا لگتا وہ اسے کمپیوٹر پر امریکہ سے بھجوائی گئی اپنے بھتیجے کی تصویریں دکھانے لگی۔
’’ایک بات پوچھوں تم سے ماہم؟‘‘
ڈھیر ساری سی ڈیز میں سے ایک سی ڈی منتخب کرتے ہوئے ماہم نے اسے دیکھا، وہ خلاف معمول کچھ سنجیدہ نظر آرہی تھی۔
’’پوچھو۔‘‘
’’تم نے انیلا وغیرہ کو کیوں چھوڑ دیا۔ میرا مطلب ہے تم لوگوں کی دوستی تو خاصی پرانی تھی نا۔‘‘
رشنا کے سوال پر وہ کچھ گڑبڑا سی گئی۔ اب کیا بتاتی کہ وہ ان لوگوں کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہونے لگی تھی کہ دونوں کے اسٹیٹس میں فرق آگیا تھا۔ اب نہ جانے اس نے زیادہ محسوس کیا تھا یا انیلا کے روےے میں فرق آیا تھا، بس فاصلے بڑھتے گئے تھے۔
’’چلو کھانا کھاتے ہیں۔‘‘ وہ ابھی الفاظ ہی ترتیب دے رہی تھی کہ اس کے چہرے کا تذبذب پاکر رشنا بات بدل گئی۔ ماہم بھی خاموشی سے اٹھ گئی۔ رشنا کی امی خاصی مہمان نواز اور نفیس خاتون تھیں۔ شاید مزاج کی سادگی رشنانے اپنی ماں ہی سے پائی تھی۔ کھانا کھانے کے بعد بھی اس نے قصداً رک کر کچھ لمحے انتظار کیا تھا مگر آفاق کو نہ آنا تھا۔ وہ قدرے مایوسی سے کتابیں اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔
’’میں اب چلتی ہوں، بہت دیر ہوگئی ہے رشنا!‘‘
’’میں ڈرائیور سے کہتی ہوں۔‘‘ رشنا بھی کھڑی ہوگئی۔
’’مگر ڈرائیور کو تو میں آمنہ آپا کی طرف بھیج چکی ہوں۔‘‘ اس کی امی کچھ پریشان سی ہوگئیں۔
’’مجھے دھیان نہیں رہا کہ تم۔۔۔‘‘
’’کوئی بات نہیں آنٹی! میں ٹیکسی سے چلی جائوں گی۔‘‘ وہ جلدی سے کھڑی ہوگئی۔
’’بیٹا! کچھ دیر رک جائو، ڈرائیور بس ابھی آجائے گا۔‘‘ اس کی امی نے روکنا چاہا۔
’’نہیں آنٹی! پہلے ہی کافی لیٹ ہوگئی ہوں اور گھر بتا کر بھی نہیںآئی تھی لیکن آپ فکر مت کریں، میں بہت آرام سے چلی جائوں گی۔‘‘ رشنا اسے چھوڑنے گیٹ تک آئی تھی۔
’’تم رکو، میں ملازم سے کہہ کر ٹیکسی یہیں منگوالیتی ہوں۔‘‘ رشنا کو اچانک خیال آیا، وہ جواب دینے کو تھی،جب آفاق کی گاڑی گیٹ کے پاس رکی۔
’’یہ اچھا ہوا، آفاق بھائی بھی آگئے۔‘‘ رشنا نے خوش ہو کر کہا۔ وہ جو اس کی منتظر تھی، ایک دم پزل سی ہوگئی۔ آفاق کے تھکے تھکے چہرے پر خوشگوار سی مسکراہٹ امڈ آئی۔ اس نے شیشہ نیچے کر کے پوچھا۔
’’کیا میرے استقبال کے لےے کھڑے ہیں آپ لوگ۔‘‘
’’بالکل۔‘‘ رشنا چہکی۔
’’زہے نصیب۔‘‘ آفاق نے ماہم کو دیکھا جو ہاتھ میں پکڑی کتابوں کو گَھور رہی تھی۔
’’ایسا کیا کام آناپڑا مجھ نا چیز سے، ورنہ لوگ تو ہماری چھوٹی سی مدد کو احسان سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ہم جیسے سادہ دل تو ہمیشہ بے لوث مدد کرتے ہیں اور یاد بھی نہیں رکھتے۔‘‘
’’افوہ، پتا نہیں آپ کیا کہہ رہے ہیں۔‘‘ وہ جھنجلائی۔
’’ماہم کو گھر چھوڑنے جانا ہے، چلیں۔‘‘
’’چلیں سے کیا مراد ہے۔‘‘ اس نے ابرو اچکائے۔
’’میں آپ کے ساتھ جارہی ہوں۔‘‘
’’کیوں، تمہاری دوست کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟‘‘ آفاق نے براہ راست اس کو دیکھا۔ ماہم ایک پل کو گڑبڑائی پھر سنبھل کر قدرے جرأت سے بولی۔
’’ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’تو پھر آجائیں۔‘‘ اس نے ساتھ والا دروازہ کھول دیا۔
’’بے فکر رہو، تمہاری دوست کو حفاظت سے پہنچا دوں گا۔‘‘
آفاق نے رشنا سے کہا تھا۔ ماہم رشنا کو اللہ حافظ کہہ کر بیٹھ گئی۔ گاڑی کے مین روڈ تک آنے تک خاموشی ان دونوں کے بیچ حائل رہی۔
’’میرا خیال تھا آپ میرے ساتھ آنے سے انکار کردیں گی۔‘‘ آفاق کی آواز نے خاموشی میں دراڑ ڈالی، وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں بلکہ میں۔۔۔‘‘ ماہم نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔ آفاق نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’میں آپ سے ملنا چاہ رہی تھی۔‘‘ آفاق کی آنکھوں میں تحیُر سا امڈ آیا۔
’’میں آپ سے معذرت کرنا چاہ رہی تھی۔‘‘ ماہم کی آواز مدہم سی تھی۔
’’معذرت۔۔۔ کس سلسلے میں؟‘‘ وہ کچھ اور حیران ہوا۔
’’اپنی بدتمیزی کے سلسلے میں۔‘‘ اپنے ہاتھوں پر نظریں جمائے وہ آہستگی سے کہنا شروع ہوئی۔
’’میں آپ سے جب بھی ملی بہت بدتمیزی سے بات کی حالانکہ آپ نے۔۔۔‘‘
’’پلیز، احسان والی بات مت کیجےے گا۔‘‘ آفاق بول اٹھا، ماہم مسکرادی۔
’’احسان تو کیا ہے آپ نے۔‘‘ آفاق نے قدرے خفگی سے اسے دیکھا پھر لب بھینچ کر سامنے دیکھنے لگا۔
’’دراصل میں ذہنی طور پر الجھی ہوئی تھی اس لےے۔۔۔‘‘
’’مناسب سمجھیں تو مجھ سے اپنی پرابلم شیئر کرلیں۔ میرا مطلب ہے اگر میں آپ کی کوئی مدد کر سکوں تو۔۔۔‘‘ ماہم کچھ تذبذب سے اسے دیکھنے لگی۔
’’میں نے کبھی رشنا سے بھی یہ سب شیئر نہیں کیا۔‘‘
’’کمال ہے، حالانکہ آپ دونوں ایک دوسرے کی دوست ہےں۔‘‘
’’ہاں مگر۔۔۔‘‘
’’اگر کوئی بہت خاص بات نہیں ہے تو۔۔۔‘‘
’’دراصل میرے ڈیڈی۔۔۔‘‘ وہ دھیرے دھیرے ڈیڈی کی وفات سے لے کر اب تک کے حالات کے بارے میں بتانے لگی۔ آفاق خاموشی سے سنتا رہا۔ گاڑی سست روی سے منزل کی طرف گامزن تھی اور سب کچھ بتانے کے بعد وہ ہاتھ ملتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’پتا نہیں، میں نے یہ سب آپ سے کیوں کہا۔‘‘ آفاق خاموش رہا۔ گاڑی ان کے گھر کے سامنے جارکی تھی۔
’’ماہم!‘‘ اس نے گردن گھماکر ماہم کی طرف دیکھا۔ وہ دروازہ کھولتے کھولتے رکی تھی۔
’’اعتبار کا شکریہ۔‘‘
وہ ذرا سا مسکرائی اور اللہ حافظ کہہ کر اتر گئی۔
ـــــ
’’قدرت میرے لےے راستے خود بخود نکال رہی ہے۔‘‘
آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے وہ ناز سے مسکرائی۔ رائل بلیو کلر کے خوب صورت ڈریس اور سلور نازک سی جیولری میں وہ عام دنوں سے بہت مختلف اور خوب صورت لگ رہی تھی۔ آئینہ بھی اس کی گواہی دے رہا تھا۔
لپ اسٹک کا فائنل ٹچ دے کر اس نے ڈرسنگ ٹیبل سے پرس اور کارڈ اٹھایا، کارڈ کھول کر دیکھا اور پھر سے مسکرادی۔
آج رشنا کی برتھ ڈے تھی اور وہ بہت دل سے تیار ہوئی تھی۔ پچھلے بہت سے دنوںمیں آفاق سے بہت سی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ کبھی وہ رشنا کے گھر گئی تھی، کبھی وہ خود رشنا کو لینے کالج آیا تھا اور چند دنوں میں اس کا آنا متواتر ہوگیا تھا اور ماہم نے اس کی نگاہوں میں اپنے لےے پسندیدگی کی جھلک بھی دیکھ لی تھی۔ اسے یہ قدرت کا غیبی مگر تائیدی اشارہ لگا تھا اور آج وہ اپنے سارے ہتھیاروں سے لیس ہو کر جارہی تھی اور آئینہ کہتا تھا، وہ ہارے گی نہیں۔ مائرہ اندر آئی اور ایک پل کو ٹھٹک گئی۔
’’ماہم!‘‘ ماہم نے گھوم کر اسے دیکھا اور ایک ادا سے مسکرائی۔
’’کیسی لگ رہی ہوں؟‘‘
’’کتنے عرصے کے بعد تمہیں اس روپ میں دیکھا ہے۔اتنی اچھی لگ رہی ہو۔ اللہ تمہیں نظرِ بد سے بچائے۔‘‘ مائرہ نے اسے پیار کیا۔
’’خیر سے اب تو گفتگو بھی دادی کی طرح کرنے لگی ہو۔‘‘
’’فضول مت بولا کرو، بہت محترم ہیں وہ میرے لےے۔‘‘ وہ سرزنش کرکے اس کی بکھری چیزیں سمیٹنے لگی۔
’’واپس کب تک آئو گی؟‘‘
’’کون جانے کب تک فنکشن ہو، نہ وہ چھوٹے لوگ ہیں اور نہ چھوٹے فنکشن کرتے ہیں۔‘‘ اس نے پرفیوم اٹھایا۔ مائرہ ذرا خاموش سی ہوگئی تھی۔
’’پھر بھی کوشش کرنا، ذرا جلدی آجائو۔‘‘
’’دیکھوں گی۔‘‘ وہ لاپروائی سے گویا ہوئی۔
’’ماہم! یہ ہمارا ڈیفنس والا گھر نہیں ہے۔ تم جب تک واپس نہیں آئو گی، یہاں بہت سے لوگ جاگتے رہیں گے۔ ایک تو فنکشن بھی رات کو ہے۔‘‘
’’کیا یہ ضروری ہے کہ تم اپنی اس قسم کی باتوں سے میرا موڈ خراب کرو۔‘‘ واقعی اس کا موڈ بگڑنے لگا تھا۔ مائرہ نے بات بدل دی۔
’’جائو گی کس کے ساتھ؟‘‘
’’اپنے منگیتر سے کہو، مجھے چھوڑ آئیں۔‘‘
’’ہاں تمہارے تو جیسے کچھ بھی نہیں لگتے۔‘‘ مائرہ چڑ کر باہر نکلی تھی اور تھوڑی دیر بعد بائیک کا ہارن سنائی دینے لگا۔ وہ پرس اٹھا کر باہر نکل آئی۔ ممی کو اللہ حافظ کہا تو ان سمیت سب نے جلدی آنے کی تاکید کی تھی۔ وہ بدمزا سی ہوکر باہر نکلی۔ عاقب کی نظر اس پر پڑی تو ہونٹ سیٹی کے انداز میں سکڑے۔
’’ماہم! یہ تم ہو۔‘‘ وہ خاموش ہی رہی۔
’’چلو کسی بہانے سہی، تمہارا منہ تو دھلا۔‘‘
’’میرا اور آپ کا کوئی مذاق نہیں ہے عاقب بھیا۔‘‘ وہ چڑ کر بولی۔
’’کیوں نہیں ہے، آخر تم میری ہونے والی اکلوتی سالی ہو اور سالی بہنوئی کا رشتہ تو ہوتا ہے۔‘‘
’’پلیز! مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘
’’چلو تم بھی کیا یاد کرو گی۔‘‘ انہوں نے اس کا بگڑتا موڈ دیکھا تو بائیک اسٹارٹ کرنے لگے۔
ماہم کا خیال تھا، فنکشن خاصے وسیع پیمانے پر ہوگا مگر ایسا نہیں تھا، وہاں نہ تو لائٹنگ تھی، نہ گاڑیوں کا جم غفیر، اس نے عاقب کے پوچھنے پر واپسی کا وقت بتایا۔
وہ اندر داخل ہوئی تو خوشبوئوں سے بوجھل فضا نے اس کا استقبال کیا۔ رشنا، آفاق، اس کی امی اور بابا لان میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
’’لیں میری واحد مہمان بھی آگئی۔‘‘ آفاق کی نگاہ اٹھی اور پھر پلٹنا ہی بھول گئی۔ اولین بہار کی خوشبو سی شام میں وہ اپسرا تھی یا پری۔ بس اس زمین کی نہ تھی۔ وہ کئی بار اس سے ملی تھی، ہر بار ایک کشش، ایک اپنائیت کا احساس ہوتا تھا، اس سے بات کرتا تو گھنٹوں مسرور رہتا تھا۔
کہیں سوچ یا دھیان کے کسی کونے میں اس کے ہونے کا احساس تو ہوتا تھا مگر آج۔۔۔ آج تو وہ پورے طمطراق سے اس کے اندر سماتی چلی گئی۔
اسے لگا اس کے پاس اپنا کچھ بھی نہیں رہا، سب کچھ تو وہی چھین لے گئی۔ وہ سب سے مل رہی تھی اور وہ دم بخود تھا۔
’’یہ کیا ہوا؟‘‘ آج سے پہلے تو ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا تھا۔
’’آفاق۔۔۔‘‘ نہ جانے کس کی آواز تھی، وہ ایک خواب سے جاگا۔ نظروں کا زاویہ بدلا۔ ماہم کے لبوں پر مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوگئی۔ اس نے رخ موڑ کر رشنا سے شکوہ کیا۔
’’اگر یہ فیملی فنکشن تھا تو تم نے مجھے کیوں بلایا؟‘‘
’’محترمہ! میری واحد دوست ہو تم، تمہیں بھی نہ بلاتی۔‘‘ گھریلو پیمانے پر ہونے والی یہ تقریب ماہم کے لےے بہت یادگار تھی۔ اس کے لبوںسے مسکراہٹ جدا ہی نہ ہوتی تھی اور جہاں وہ ہنستی، آفاق اپنی بات بھول جاتا۔
ـــــ
وہ حمیرا وغیرہ کے گروپ کے پاس کھڑی ڈسکس کر رہی تھی کہ مس ممتاز سے کہیں کہ ہفتے کو کروایا جانے والا پریکٹیکل دوبارہ کروادیں کہ اس دن زیادہ تر لڑکیاں غیر حاضر تھیں۔
’’مس ممتاز! خدا کا خوف کرو، وہ الٹا لٹکادیں اگر ایسی کوئی فرمائش کی تو۔‘‘ حمیرا نے کانوں کو ہاتھ لگایا تھا۔
’’یہ فرمائش نہیں ضرورت ہے۔‘‘ انیلا نے دہائی دی تھی تبھی رشنا آئی اور اسے کھینچتی ہوئی ایک طرف لے گئی۔
’’افوہ کیا ہوگیا ہے تمہیں، پاگل تو نہیں ہوگئیں، حمیرا وغیرہ کیا سوچیں گی۔‘‘ رشنا نے اسے کونے میں آکر ہی چھوڑا تھا اور لگی گَھورنے۔
’’اب یہ کیا ہے؟‘ ماہم کو اس کی ذہنی حالت پر شبہ ہونے لگا۔ رشنا خاموشی سے اسے گھورتی رہی پھر ایک دم اس سے لپٹ کر ہنستی چلی گئی۔
’’یا اللہ! یہ لڑکی سچ مچ پاگل ہوگئی ہے۔‘‘ ماہم ایک طویل سانس لے کر رہ گئی۔
’’تم بہت گھنُی نکلیں، بلکہ تم دونوں۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ ماہم کے پلُے خاک نہیں پڑا۔
’’سچ سچ بتائو، کب یہ چکُر چلا۔ یعنی کہ میں اتنی بے وقوف اور احمق ہوں کہ میری آنکھوں کے سامنے یہ سب ہوتا رہا اور میں ہی بے خبر۔‘‘ وہ مشکوک نظروں سے اسے گھور رہی تھی۔ ماہم پلٹ کر بنچ پر جابیٹھی۔
’’اب بولو، بلکہ تشریح کے ساتھ بولو کہ تم کہنا کیا چاہ رہی ہو۔‘‘
’’کل پتا ہے ، کیا ہوا؟‘‘ رشنا تیزی سے اس کے پاس بیٹھی۔
’’مجھے نہیں پتا۔‘‘
’’آفاق بھائی سے امی نے ان کی پسند کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے۔۔۔‘‘ ماہم کی ایک ہارٹ بیٹ مِس ہوئی۔
’’انہوں نے تمہارا نام لیا ہے ماہم! مجھے تو یقین نہیں آیا مگر میں بہت خوش ہوں ماہم! بہت خوش اور تم! ماہم تمہیں آفاق بھائی کیسے لگتے ہیں۔‘‘ ماہم نے اپنے چہرے کے تاثرات میں قصداً سنجیدگی پیدا کی۔
’’کیا ہوا، تمہیں آفاق بھائی پسند نہیں ہیں؟‘‘ رشنا اس کے تاثرات دیکھ کر پزل سی ہوئی تھی۔
’’مجھے تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا، تم کیا کہہ رہی ہو۔‘‘
’’بہت سیدھی سی بات کہہ رہی ہوں۔ آفاق بھائی تمہیں پسند کرتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’رشنا پلیز۔‘‘ ماہم نے اٹھنا چاہا، رشنا نے اس کا ہاتھ پکڑلیا۔
’’یہ مذاق نہیں ہے، وہ سیریس ہیں اور ہم سب بھی۔ امی کو بھی کوئی اعتراض نہیں بلکہ وہ تو بہت پسند کرتی ہیں تمہیں۔‘‘
’’رشنا پلیز! تم بہت جلدی کر رہی ہو، میںنے کبھی ان کے بارے میں اس طرح نہیں سوچا۔‘‘ وہ بے چارگی سے بولی تھی۔ حالانہ دل بھنگڑے ڈال رہا تھا، کتنی آسانی سے وہ سب ہوگیا جو اس نے چاہا تھا۔ ذرا سی رکاوٹ بھی سامنے نہیں آئی۔ اس کے سارے خواب سچ ہونے جارہے تھے۔ وہ سب کچھ دسترس میں آنے کو تھا جو اس نے کھو دیا تھا بلکہ اس سے بہت زیادہ۔
’’تو سوچو ماہم!‘‘
’’اوکے، دیکھا جائے گا۔‘‘ وہ من چاہی تھی، نخرے کرنا حق بنتا تھا۔
’’کیا دیکھا جائے گا، تم انکار کر کے تو دیکھنا۔‘‘ رشنا جارحانہ تیوروں سے بولی۔
’’اگر کردوں تو۔۔۔‘‘ اس نے شرارت سے نچلا لب دانتوں تلے دبایا۔
’’حشر کردوں گی تمہارا، زبردستی نکاح پڑھوائوں گی تم دونوں کا۔ میرے بھائی جیسا تمہیں پورے شہر میں نہیں ملے گا۔‘‘
’’ہاں بھئی! تم نہیں کہو گی تو اور کون کہے گا، آخر بھائی جو ٹھہرے تمہارے۔‘‘
’’جی نہیں، اس بات کی گواہی سب ہی دیں گے۔‘‘
’’یہ بات ہے؟‘‘
’’یہی بات ہے۔‘‘
’’پھر تو سوچنا پڑے گا۔‘‘
اور جب یہی بات آفاق نے اس سے پوچھی تو اس نے آرام سے کہہ دیا تھا۔
’’میں نہیں جانتی، یہ فیصلہ تو میری ممی کو کرنا ہے۔‘‘
’’آپ کی ممی کا فیصلہ سننے کے لےے تو ہم آپ کے گھر ضرور آئیں گے، ابھی تو ہم آپ کا فیصلہ جاننا چاہتے ہیں۔‘‘ وہ اسے شوخ و تبسم نگاہوں کی گرفت میں لیتے ہوئے گویا ہوا تھا۔ ماہم سٹپٹا کر رہ گئی۔
’’میں نہیں جانتی۔‘‘
’’مگر میں جانتا ہوں۔‘‘
’’کیا؟‘‘ وہ گڑبڑا گئی
’’کہ تم انکار نہیں کرو گی۔‘‘
’’میں۔۔۔‘‘
’’تم انکار نہیں کرو گی۔‘‘ اب کے آفاق کے لہجے میں محبت بھری دھونس تھی۔ وہ ایک پل کو چپ ہوئی پھر اس کی مدھر ہنسی نے گویا تصدیق کی مہر لگائی تھی۔
’’تھینکس، اسی خوشی میں لنچ میری طرف سے۔‘‘
’’نہیں پلیز، مجھے گھر چھوڑ دیں۔‘‘ وہ گھبرا کر بولی۔ منزل سامنے تھی، اب تیز چلنا بے وقوفی ہی ہوتا۔
ـــــ
اس کی طبیعت میں اچانک ہی تبدیلی آئی تھی۔ اب وہ پہلے کی طرح چڑتی اور نہ ہر چیز سے بے زار نظر آتی۔ مینا سے بھی باتیں کرتی، دادی سے لاڈ اٹھواتی اور عاقب کے جملوں کا برجستہ جواب بھی دیتی۔ ممی نے سکون کا سانس لیا تھا۔
’’سچ سچ بتائو، تمہیں ہوا کیا ہے؟‘‘ مائرہ نے اسے پکڑ ہی لیا۔
’’کیا ہوا ہے؟‘‘ جواباً اس نے خاصی حیرت کا اظہار کیا۔
’’یہ تو تم بتائو۔‘‘ مائرہ نے معنی خیز نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’اب نہ تو تم پہلے کی طرح غصے میں آتی ہو۔ نہ کسی چیز سے بے زار دکھائی دیتی ہو۔ عاقب سے بھی تمہارے تعلقات خاصے خوش گوار چل رہے ہیں، وجہ بتائےے مس ماہم اویس! وجہ؟‘‘
’’وجہ!‘‘ ماہم نے پلٹ کر اسے دیکھا پھر ہاتھ میں پکڑا ہیئر برش میز پر رکھ کر مکمل طور پر اس کی طرف پلٹی۔ اس کے لبوں پر خوب صورت سی مسکراہٹ تھی۔
’’وجہ یہ ہے مائرہ ڈیئر۔۔۔! کہ اب مجھے اس سڑے ہوئے ماحول میں زیادہ عرصہ نہیں رہنا۔‘‘
’’مطلب؟‘‘مائرہ چونکی۔
’’تم نے ایک بار مجھے مشورہ دیا تھا کہ مجھے دوبارہ وہ سب کچھ پانا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔‘‘ اس نے تجسس پھیلایا۔
مائرہ نے الجھ کر اسے دیکھا، ایک سرسری سی ہونے والی بات اس کے ذہن میں کہیں نہیں تھی۔
’’تم نے کہا تھا مجھے کسی امیر بندے سے شادی کرلینی چاہےے۔‘‘
’’تو۔۔۔؟‘‘
’’تو مائرہ ڈارلنگ! مجھے وہ امیر بلکہ امیر کبیر بندہ مل گیا ہے۔‘‘ اس نے انکشاف کیا۔
’’کون؟‘‘ مائرہ ششدر سی رہ گئی۔
’’رشنا کا بھائی، آفاق احمد۔‘‘
’’تمہیں کیسے معلوم، وہ تم سے شادی کرے گا۔‘‘ مائرہ نے سنبھل کر سوال کیا۔
’’کیونکہ وہ مجھے پرپوز کر چکا ہے۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ پھیلائے۔
’’مائی گاڈ!‘‘ مائرہ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کے چہرے پر حیرت ہی حیرت تھی، جبکہ وہ مسکراہٹ دباتی اسے دیکھتی رہی۔
’’تم نے کیا جواب دیا؟‘‘ کچھ دیر کے بعد وہ سوال کرنے کے قابل ہوئی تھی۔
’’ابھی تو کوئی جواب نہیں دیا۔‘‘ ماہم نے آرام سے کہا پھر ایک دم ایکسائیٹڈ ہو کر اس کے قریب بیٹھی۔
’’تمہیں پتا ہے مائرہ! ان کا گھر گھر نہیں، محل ہے، میرے خوابوں کا محل۔ اس میں وہ سب کچھ ہے جو ہمارے گھر میں بھی نہ تھا۔ میں نے پالیا مائرہ! میں نے پالیا۔ تم نے دیکھ اانسان اگر ارادہ کرے تو وہ سب کچھ پا سکتا ہے اور میں نے بھی پالیا، سارے خوابوں کی تعبیر مجھے مل گئی۔‘‘ وہ خوشی سے جھوم رہی تھی۔
’’چلو اچھا ہوا، اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘
’’اور تم نے کیا کیا مائرہ! اتنی آسانی سے کمپرومائز کرلیا۔ کاش! تم نے تھوڑا انتظار کیا ہوتا۔ میں کہتی تھی نا یوں سرنڈر مت کرو، تم ا س سے بہت بہتر ڈیزرو کرتی ہو مگر افسوس تم نے یہ رستہ خود اپنے لےے چَن لیا۔‘‘ وہ تاسف سے سر ہلارہی تھی، مائرہ مسکرادی۔
’’اپنی تقدیر سے زیادہ تو کسی کو نہیں ملتا اور میری قسمت میں شاید یہی لکھا تھا۔‘‘
’’انسان اپنی تقدیر بدل سکتا ہے مائرہ! اگر وہ کوشش کرے تو لیکن اگر یوں بنا کچھ چوں چراں کے ہر بات پر کمپرومائز کر لیا جائے تو تقدیر بھی کچھ نہیں دیتی۔ کاش تم نے تھوڑی سی ہمت کر کے اس پروپوزل سے انکار کر دیا ہوتا تو اب۔۔۔‘‘
’’ماہم!‘‘ مائرہ نے نرمی سے اس کی بات قطع کی اور سہولت سے موضوع بدل دیا۔
’’وہ لوگ پرپوزل لے کر کب آئیں گے؟‘‘
’’جب میں کہو ں گی۔‘‘
’’اس کے۔۔۔میرا مطلب ہے آفاق کے گھر والے راضی ہیں؟‘‘
’’دل و جان سے۔‘‘ اسے آفاق کی ممی کا رویہ یاد آیا۔
’’تمہیں کیسے معلوم؟‘‘
’’مجھ سے زیادہ کون جانے گا۔‘‘ وہ ہنسی۔
’’تو پھر ایسا کرو، انہیں جلد بلوالو کیونکہ ممی ہم دونوں کو ایک ساتھ رخصت کرنا چاہتی ہیں، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے لےے بھی کوئی۔۔۔‘‘
’’اب ایسا ممکن ہی نہیں۔‘‘
’’تو پھر جلدی کرو۔‘‘
’’ممی سے تو بات کرلو گی نا تم۔‘‘
’’سارے معاملات خود ہی طے کر لےے، اب ممی سے بھی خود ہی بات کرلو۔‘‘ اس نے جھنڈی دکھائی۔
’’مائرہ پلیز، بہن نہیں ہو۔‘‘
’’اچھا بابا کہہ دوں گی کہ آپ کی بیٹی کو آفاق کے سوا کسی سے شادی نہیں کرنا۔‘‘
’’ہاں بس اتنا کہہ دینا۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے گویا ہوئی۔
’’بہت بدتمیز ہوگئی ہو۔‘‘ مائرہ نے دھپ لگائی تھی۔
ـــــ
’’ماہم!‘‘ رشنا دور سے اسے پکارتی آرہی تھی، ماہم رک گئی۔ کالج میں اب اکُا دکُا لڑکیاں آتی تھیں، وہ بھی صرف پریکٹیکل کے لےے۔ چند دنوں تک انہیں بھی فارغ ہوجانا تھا۔
’’کلاس لینے جارہی ہو۔‘‘ اس نے قریب آکر پوچھا۔
’’ہاں اور جلدی چلو، ہم لوگ پہلے ہی لیٹ ہورہے ہیں۔ پندرہ منٹ تو گیٹ کے پاس تمہارا انتظار کرتی رہی ہوں۔‘‘
’’میرا یا۔۔۔‘‘ رشنا شرارت سے ہنسی۔
’’بکواس کم کیا کرو۔‘‘
’’اچھا چھوڑو، آج پیریڈ نہیں لیتے۔‘‘
’’محترمہ! آج بہت اہم پیریڈ ہے، میں نے پریکٹیکل۔۔۔‘‘
’’گولی مارو پریکٹیکل کو، میرے پاس اس سے زیادہ اہم خبریں ہیں۔‘‘
’’مثلا۔‘‘
’’مثلا۔۔۔‘‘ وہ کہتے کہتے نفی میں سر ہلانے لگی۔ ’’پہلے کولڈ ڈرنک پلوائو پھر۔۔۔۔‘‘
’’چلو رہنے دو، کلاس زیادہ اہم ہے۔‘‘ ماہم نے بے نیازی دکھائی۔
’’کیا مطلب، اتنی اہم خبرتم اتنی کنجوسی کی نذر کر دو گی۔‘‘ رشنا چیخ اٹھی۔
’’یہ اہم خبر مجھے کہیں اور سے مل جائے گی۔‘‘ ماہم ہنسی۔
’’تم۔‘‘ رشنا نے مصنوعی خفگی سے دیکھا اور پھر ہنس دی۔ ’’اچھا چلو سنو، سنڈے کو امی تمہارے گھر آرہی ہیں۔‘‘
’’کیوں؟‘‘ ماہم نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا، جواباً رشنا کی دھپ لگی۔
’’پتا ہے آفاق بھائی اتنے خوش تھے، اتنے خوش تھے کہ بس کیا بتائوں۔ یو آر لکی ماہم! آفاق بھائی اتنے اچھے ہیں کہ میں۔۔۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ بس اتنا کہہ سکتی ہوں وہ کبھی کسی کو چیٹ نہیں کر سکتے۔ بالکل آئینہ سا دل ہے ان کا۔‘‘ وہ کہتے کہتے سنجیدہ سی ہوگئی۔
’’تم نہیں جانتیں۔وہ کبھی کسی سے نہیں کہتے مگر وہ بہت اکیلے ہیں۔ ان کا کوئی دوست بھی نہیں ہے۔ تم ہمارے بعد ان کا خیال رکھنا ماہم!‘‘
’’تمہارے بعد؟‘‘ ماہم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔ ’’کیوں تمہاری بھی شادی ہورہی ہے؟‘‘
’’نہیں، لیکن شیراز بھائی بہت ضد کر رہے ہیں کہ ہم ان کے پاس آجائیں، وہ خود یہاں آنا نہیں چاہتے اور امی اب انہیں بہت مِس کرنے لگی ہیں۔ بابا بھی شاید پیسا کماتے کماتے تھک گئے ہیں، اس لےے ان کا خیال ہے کہ ہم اب وہیں شفٹ ہوجائیں۔‘‘
رشنا بتا رہی تھی اور ماہم کے اندر آسودگی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ سب لوگ چلے جائیں گے اور وہ آفاق کے ساتھ اس گھر میں ہوگی، جہاں دنیا کی ہر نعمت اور ہر آسائش اس کی دسترس میں ہوگی۔ اس کے خوابوں کی تعبیر اس کے سامنے ہی تھی۔ ’’بس ایک ذرا سی تدبیر اور سب کچھ میری مٹھی میں۔‘‘ وہ بھرپور انداز میں مسکرائی۔
’’کب تک ارادہ ہے؟‘‘
’’بس تمہاری اور آفاق بھائی کی شادی کے بعد۔ بابا نے سب کچھ وائنڈ اپ کرنا شروع کر دیا ہے۔‘‘
ماہم کا دل چاہ رہا تھا، وہ مائرہ کے پاس اڑ کر جائے اور اسے بتائے کہ دیکھو یوں اپنے خوابوں کی تکمیل ہوتی ہے۔ حالات کے آگے ہتھیار ڈال دینے والے لوگوں کے ہاتھ میں خسارہ ہی آتا ہے۔ جیسا کہ مائرہ کے ہاتھ میں آیا، عاقب کی صوت میں۔ نہ جانے کتنے سال انگلیوں پر گِن گِن کر گزارنے تھے، تب کہیں جا کر عاقب اپنی کوئی پوزیشن بنا پاتے پھر بھی وہ پوزیشن آفاق کے مقابلے کی تو نہ ہوتی۔
’’خیر بہت بڑا گھر ہے۔ مائرہ اور عاقب کو وہیں لے جائوں گی۔ امی کو تو خیر ساتھ ہی رکھوں گی۔‘‘ رشنا کہہ رہی تھی۔
’’آفاق بھائی تو کہہ رہے تھے کہ کم از کم گھر مت بیچیں۔ ہوسکتا ہے کبھی واپس ہی آنا ہو مگر بابا کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ آفاق بھائی وہاں رہتے تو تسلی بھی ہوتی کہ گھر کی حفاظت ہوگی۔ کرائے پر بابا دینا نہیں چاہتے اور خالی گھر چھوڑ نہیں سکتے۔‘‘
’’کیا مطلب؟ آفاق وہاں نہیں رہیں گے۔‘‘ مائرہ چونکی۔
’’نہیں، ان کا ارادہ ہے وہ شادی کے بعد اپنے گھر میں شفٹ ہوجائیں گے۔‘‘
’’اپنا گھر۔۔۔ کیا ان کا کوئی علیحدہ گھر بھی ہے؟‘‘
’’ہاں ان کے والدین کا جو گھر ہے وہ۔۔۔‘‘
’’والدین، آفاق تمہارا بھائی نہیں ہے؟‘‘ ماہم نے الجھ کر اسے دیکھا۔
’’نہیں وہ تو ۔۔۔ارے۔‘‘ رشنا نے اسے دیکھا پھر ہنس دی۔ ’’کمال ہے، میں نے شاید تمہیں کبھی بتایا ہی نہیں۔ وہ میرے سگے بھائی تو نہیں ہیں۔‘‘
’’تو۔۔۔تو پھر۔‘‘ ماہم کے الفاظ زبان کا ساتھ چھوڑ گئے۔
’’آفاق کے والد، بابا کے آفس میں کام کرتے تھے، ان کے والدین کی ڈیتھ ہوگئی اور کوئی ان کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہ تھا، بابا انہیں گھر لے آئے۔‘‘ رشنا نہ جانے کون کون سی تفصیل سنا رہی تھی۔ ماہم دم بخود بیٹھی رہ گئی۔ اس کے اندر دھماکے سے ہورہے تھے۔
ـــــ
’’میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ میں خوش ہوں یاپریشان۔ تم نے پہلے مجھے کبھی اس طرح بلایا بھی تو نہیں۔‘‘ وہ اس کے سامنے بیٹھا کہہ رہا تھا۔ ماہم خاموشی سے سامنے دیکھتی رہی۔ اس کی خاموشی میں بلا کی سنجیدگی تھی۔
’’صرف اتنا بتادو کہ پریشانی والی کوئی بات تو نہیں۔‘‘ وہ اس کی خاموشی پر جھنجلایا تھا۔ ماہم نے لب بھینچ کر اسے دیکھا۔ اگر کوئی پریشانی والی بات تھی بھی تو شاید صرف ماہم کے لےے۔
’’چَپ کا روزہ رکھ لیا ہے کیا؟‘‘
’’آفاق! آپ رشنا کے سگے بھائی نہیں ہیں؟‘‘ ماہم نے اچانک سوال کیا۔
’’نہیں۔‘‘ اس نے سادگی سے جواب دیا۔
’’گویا آپ سیٹھ علائوالدین کے بیٹے نہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں بھئی، میرے بابا تو ان کے ملازم تھے۔‘‘
’’وہ گھر آپ کا نہیں ہے، جہاں آپ رہتے ہیں؟‘‘ ماہم کی آنکھوں میں دھند بھرنے لگی۔
’’نہیں۔‘‘
’’وہ آفس، یہ گاڑی، یہ سب آپ کا نہیں ہے۔‘‘ ماہم کی آواز پست ہوگئی۔
’’نہیں بھئی، میں تو۔۔۔‘‘ آفاق نے جھنجلا کر اسے دیکھا پھر ٹھٹک گیا۔
’’مائی گاڈ!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیا رنکلا۔ ’’تمہیں رشنا نے کبھی نہیں بتایا۔‘‘ ماہم نچلا لب کاٹنے لگی۔ گاڑی آہستہ ہوتے ہوئے رک گئی۔
ان دونوں کے بیچ حائل خاموشی کا دورانیہ بہت طویل ہوگیا پھر آفاق آہستگی سے بڑبڑایا۔
’’میں سمجھا، تمہیں سب معلوم ہے اور تم مجھے۔۔۔‘‘ اس نے تاسف سے سر ہلایا، پھر گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
’’مجھے گھر چھوڑ دینا‘‘ ماہم نے آہستگی سے کہا تھا۔ گاڑی انجانے سے رستے کی طرف مڑ گئی۔ ماہم نے دوبارہ کہا۔ آفاق خاموش لب بھینچے ڈرائیو کرتا رہا۔ ماہم ڈر گئی مگر دوبارہ کہنے کا حوصلہ نہ ہوا۔
گاڑی ایک چھوٹے سے پرانے مکان کے سامنے جا رکی جس کے آنگن میں لگے آم کے درخت کی شاخیں دیواروںسے اوپر جھانک رہی تھیں، درخت پر بور آگیا تھا۔
’’آئو۔‘‘
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ اندر آئی تھی۔ آفاق نے تالا کھولا۔ چھوٹے سے صحن میں بڑا سا آم کا درخت، ایک طرف کیاری میں موتیا اور لمبی ڈنڈیوں والے کاسنی اور پیلے پھول مہک رہے تھے۔ سرخ برآمدے کے ستون سے سفید پھولوں والی بیل لپٹی تھی جس کے سفید پھول جا بجا سرخ فرش پر بکھرے تھے۔ آفاق آگے بڑھ کر کمروں کے دروازے کھولنے لگا۔ کمروں میں سادہ مگر نیا فرنیچر موجود تھا۔ ماہم اندر نہیں گئی۔ وہیں صحن میں کھڑی انگلیاں چٹخاتی رہی۔ آفاق برآمدے میں ستون کے پاس آکھڑا ہوا۔
’’یہ میرا گھر ہے ماہم! میرا اپنا۔ جب تمہیں پانے کی تمنا میرے دل میں جاگی، میں نے اس گھر کو سب سے پہلے سجایا تھا۔ یہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ بے آباد، اَجڑا ہوا گھر، جہاں میرا معصوم بچپن اور میرے ماضی کی تلخ یادیں کھیلا کرتی تھیں۔ اسے تو تمہارے تصور نے آباد کیا ہے۔ میں ہر شام یہاں آتا ہوں، تمہیں یہاں اس آنگن میں چلتے پھرتے، باتیں کرتے محسوس کرتا ہوں۔ تم وہاں کیاری سے موتےے کی کلیاں چنتی ہو، وہاں سیڑھیوں کے پاس بال بناتی ہو، وہاں آم کے درخت کے نیچے شام کی چائے لگارہی ہو اور میں۔۔۔‘‘
’’آفاق پلیز۔‘‘ وہ گھبرا کر بول اٹھی۔
آفاق اپنے کسی تصور سے جاگا۔ اس نے پورے گھر پر ایک نگاہ دوڑائی پھر سر جھٹک کر بڑبڑایا۔
’’نہ جانے ساری محرومیاں میری قسمت میں کیوں لکھ دی گئی ہیں۔‘‘ ماہم کا دل چاہا وہ یہاں سے بھاگ جائے۔ آفاق برآمدے کی سیڑھیاں اَتر کر اس کے سامنے آیا۔ کچھ لمحے غور سے اس کو دیکھتا رہا۔
’’تمہیں شاک لگانا۔‘‘ وہ جھٹلا نہ سکی۔
’’لیکن یہی میری حقیقت ہے۔ میں اَس محل میں پلا بڑھا، وہیں تعلیم حاصل کی لیکن وہ گھر میرا نہیں تھا۔ میرا دھیان تو ہمیشہ یہیں اسی گھر میں رہا۔ وہاں تو احسانوں کا بوجھ ہے جو میرے شانوں کو شل کےے رکھتا ہے اور اسی بوجھ کو ہلکا کرنے کے لےے میں نے چوبیس گھنٹے کام کیا ہے۔ میں ان کی کسی بات سے انکار نہیں کرتا، کر ہی نہیں سکتا۔‘‘ وہ دھیمے سے ہنسا اور اس کی ہنسی میں بلا کا اضطراب تھا۔
’’ان کے احسانوں اور مہربانیوں کا احساس تو میرے خون، میری روح میں سرایت کر گیا ہے۔ کاش ماہم! تم۔۔۔ صرف تم میری کیفیت کو سمجھ سکتیں، میرے دکھوں کا مداوا بن جاتیں، مجھے احساس دلاتیں کہ میرا اپنا بھی کوئی وجود ہے، میرے بھی کچھ خواب، کچھ خواہشیں ہیں۔ یہ میں نے تب جانا جب پہلی بار تمہیں دیکھا تھا۔‘‘ وہ کچھ لمحے رکا، اس کی نظریں ماہم کے چہرے پر بھٹکنے لگیں۔ ماہم جزبز ہو کر اِدھر اَدھر دیکھتی رہی۔
’’میں نے سوچا تھا، وہ لوگ اب چلے جائیں گے تو میں۔۔۔ میں اپنی زندگی جیوں گا، تمہارے ساتھ۔ اپنی زندگی جینے کا تصور اور وہ بھی تمہارے ساتھ، میری تو روح تک خوشیوں سے بھر گئی تھی ماہم! اور تم مجھے۔۔۔ لیکن ماہم! یہ تو بتائو اگر میں کسی سیٹھ کا بیٹا نہیں رہا تو کیا آفاق بھی نہیں رہا؟‘‘ ماہم اس کے سوال کا جواب نہ دے پائی۔
’’کیا واقعی تمہیں اس گاڑی، محل اور بزنس نے ہی متاثر کیا ہے۔‘‘ وہ اس یقین سے پوچھ رہا تھا جیسے وہ کہہ ہی دے گی۔ ’’نہیں آفاق! میرے لےے تم، صرف تم اہم ہو۔‘‘ مگر اس کی خاموشی آفاق کو بے یقین کر گئی۔
’’ماہم! تم نے واقعی مجھ سے کبھی محبت نہیں کی۔‘‘ ماہم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’محبت۔‘‘ بہت نامانوس سا لفظ لگا تھا اسے، وہ سر جھکا کر سوچنے لگی۔
بھلا اس نے کب محبت کی تھی، یا شاید کی تھی مگر کس سے۔۔۔؟ وہ تو اپنے خوابوں، اپنی خواہشوں کا ہاتھ تھام کر اس تک آئی تھی۔ ہاں اس نے محبت بھی کی تھی۔ ماہم کو اچانک یاد آیا۔
اس سفید محل کے چاندنی سے در و دیوار سے، آفاق کی بڑی سی گاڑی اور ہاتھ میں پکڑے موبائل سے مگر ہاتھ کیا آیا؟ اس نے اپنی ہتھیلیاں پھیلائیں۔ شاید مادُی چیزوں سے محبت کا انجام خالی ہاتھ ہوتے ہیں۔ جب ہی محبت نے اس کی خالی ہتھیلیوں کو بھر دیا۔ وہ اس کی ہتھیلیوں پر اپنے ہاتھ رکھے پوچھ رہا تھا۔
’’کیا تمہیں نہیں لگتا کہ میں اور تم۔۔۔ ہم دونوں ان سب کے بغیر بھی ایک عیش بھری نہ سہی، ایک سکھ بھری زندگی گزار سکتے ہیں۔ مجھ میں ہمت ہے اور جذبہ بھی۔ بزنس کے اسرار و رموز بھی جانتا ہوں، تم بھی پڑھی لکھی ہو، ہم مل کر ایک چھوٹا سا بزنس شروع کریں گے۔ ہم ویسا ہی ایک سفید محل بنائیں گے ماہم! مگر اس جدوجہد میں تم میرا ساتھ تو دو گی نا۔‘‘ ماہم نے گھبرا کر ہاتھ کھینچ لےے۔ وہ جس رستے سے بچ کر بھاگی تھی، آفاق اسے اسی راہ کا مسافر بنا رہا تھا۔
’’مجھے جانا ہے۔‘‘ اچانک اس کے منہ سے پھسلا او رآفاق بے یقینی سے اسے دیکھنے لگا۔
’’تمہیں واقعی جانا ہے ماہم؟‘‘ ماہم نے واپسی کے لےے قدم اٹھا دےے۔ وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔
’’فیصلہ کرنے میں جلدی مت کرنا ماہم! بس اتنا یاد رکھنا، کسی نے یہ گھر صرف تمہارے لےے سجایا ہے اور یہاں تمہارے سوا کسی اور کے قدم نہیں پڑسکتے۔‘‘
وہ جب اسے چھوڑ کر آرہی تھی تو فضا میں خوشبوئیں تھیں، بہار اپنے جوبن پر تھی، آم کے درخت پر بور آگیا تھا اور کیاری میں موتےے کی کلیاں کھلی تھیں اور یہ کلیاں صرف اس کے لےے کھلی تھیں اور وہ دروازے کی چوکھٹ پر کھڑا اس کے اٹھتے قدم گن رہا تھا۔
ـــــ
ماہم کا خیال تھا وہ وہاں سے واپس آگئی ہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لےے۔ وہ غلط رستہ تھا جس پر اس کے قدم اٹھ گئے تھے۔
اگر ایسا تھا تو یہ بے چینی کیسی؟ وہ جلے پائوں بلی کی طرح یہاں سے وہاں چکراتی۔ مائرہ اس سے پوچھتی۔
’’تمہیں کیا ہوا؟‘‘ اور وہ رک کرسوچنے لگتی۔
واقعی اسے کیا ہوا ہے، فیصلہ اس کا اپنا تھا، بغیر کسی زور زبردستی کے پھر بے سکونی، بے کلی کیوں؟
بس کچھ سرگوشیاں تھیں جو اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں۔ وہ کہیں بھی ہوتی، کچھ بھی کر رہی ہوتی، یہ سرگوشیاں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھیں۔
’’کاش آفاق تم مجھے ملے ہی نہ ہوتے اور اگر ملے تھے تو تمہاری حقیقت یہ نہ ہوتی۔‘‘ وہ حسرت سے سوچتی اور مائرہ کہتی تھی۔
’’خدا تقدیر لکھتے ہوئے تمہارے میرے دعوے اور خواہش نہیں دیکھتا، وہ جانتا ہے ہمارے لےے کیا بہتر ہے۔‘‘
بس اتنی سی بات اور کتنا خوش رہتی تھی مائرہ! مگر عاقب کے پاس ایسا کیا ہے کہ وہ اتنی مطمئن ہوگئی ہے۔
’’اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں کسی آزمائش میں مبتلا کر ہی دیا ہے تو یہ بہتر نہیں کہ ہم صبر کریں جس نے چھینا ہے، وہ دے گا بھی۔ آخر پہلے بھی تو دیا تھا۔‘‘ اور اس نے کتنے دعوے سے کہا۔
’’میں اتنا انتظار نہیں کر سکتی۔‘‘ شاید اسی لمحے کاتبِ تقدیر اس کی نادانی پر مسکرایا اور اس کے نام کے آگے ’’انتظار‘‘ لکھ دیا تھا اور وہ کہتا ہے۔
’’ہم اس سب کے بغیر بھی ایک عیش بھری نہ سہی ایک سکھ بھری زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘
’’کیا سکھ اور عیش و آرام الگ ہیں۔‘‘ وہ الجھ رہی تھی ۔ جتنا سوچتی مزید الجھ جاتی، تبھی اس کی ہتھیلیوں پر کسی کا لمس جاگا۔
’’اس جدوجہد میں تم میرا ساتھ تو دو گی نا؟‘‘ اس نے ہتھیلیاں بند کیں اور آنکھوں پر رکھ لیں۔ اسے رونا آرہا تھا، نہ جانے کیوں۔
’’ماہم! یہاں کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ مائرہ سارے کام سمیٹ کر آئی تھی۔
’’ویسے ہی۔‘‘ اس کی آواز میں آنسوئوں کی آمیزش تھی۔
’’تم رو رہی ہو؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘ اسے کچھ اور رونا آگیا۔
’’ماہم! کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں ہوا، تم جائو یہاں سے۔‘‘
’’مگر تم اس طرح کیوں رو رہی ہو، کسی نے کچھ کہہ دیا ہے۔‘‘ وہ بھی مائرہ تھی، فوراً پریشان ہوگئی۔
’’پلیز مائرہ! جائو یہاں سے،مجھے اکیلا چھوڑ دو۔‘‘ وہ چلا اتھی۔
’’آہستہ بولو، ممی کو کیوںپریشان کرتی ہو۔ حد ہوگئی، تمہارے تو مزاج ہی نہیں ملتے۔‘‘ خلاف عادت اسے غصہ آگیا تو وہ بڑبڑاتی اٹھ گئی۔
’’بس اتنایاد رکھنا کسی نے یہ گھر صرف تمہارے لےے سجایا ہے اوریہاں تمہارے سوا کسی اور کے قدم نہیں پڑ سکتے۔‘‘ ماہم کو کچھ اور شدت سے رونا آگیا تھا، نہ جانے کیوں۔
ـــــ
حسبِ معمول ہنگامہ خیز تھی مگر اسے خوش گوار لگی۔ ممی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی، مائرہ نیچے جا چکی تھی، اس نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور بستر سے نکل آئی۔ سورج اسکول کی عمارت کے عقب سے طلوع ہورہا تھا۔ جھاڑیاں سرخ و نارنجی پھولوں سے لدی ہوئی تھیں، جن پر شہد کی مکھیاں اور تتلیاں منڈلارہی تھیں۔ وہ بالوں کو بینڈ میں جکڑتی نیچے چلی آئی۔ مائرہ دھوئیں سے الجھ رہی تھی۔ دادی اس کے گرد بکھرے گندے سندے برتن اکٹھے کر کے کھرے میں ڈھیر کر رہی تھیں۔ بچے اور بینا اسکول جا چکے تھے۔ تائی گندم نکال رہی تھیں اور بھابھی کمرے میں تھیں۔
’’السلام علیکم دادی!‘‘
وہ ان کے سامنے جھکی۔ ایک بازو ان کے کمزور وجود کے گرد لپیٹ دیا، شاید پہلی بار۔۔۔ دادی کی بوڑھی آنکھوں میں تحیر امڈ آیا مگر انہوں نے بڑے پیار سے اس کا سر تھپتھپایا تھا۔ وہ ان کے جھریوں زدہ چہرے پر بوسہ دے کر پلٹی اور مائرہ کے پاس بیٹھ گئی۔
’’جلدی سے ناشتا دو۔‘‘ مائرہ نے اسے بغور دیکھا۔ وہ رات کو جتنی بکھری ہوئی لگ رہی تھی، اب اس کے بالکل برعکس بہت ہی خوش گوار موڈ میں تھی اور آج سے پہلے اس نے یوں ناشتا بھی نہ مانگا تھا مگر اس نے کچھ پوچھا نہیں۔ وہ ماہم سے خفا تھی، خاموشی سے پراٹھا چنگیر میں رکھا، اس پر اچار رکھا، پیالی میں چائے نکال دی۔ ماہم نے بغیر کوئی اعتراض کےے کھانا شروع کیا۔ مائرہ کچھ لمحے خاموشی سے بیتھی رہی پھر رہا نہ گیا۔
’’انڈا بنادوں؟‘‘
وہ کہاں اس طرح ناشتا کرتی تھی مگر ماہم نے لاپروائی سے سرہلادیا۔
’’نہیں یار! یوں بھی عادت ہونی چاہےے۔ کون جانے کس طرح کے حالات پیش آجائیں۔‘‘
مائرہ کا ہاتھ رک گیا اور منہ کھل گیا تھا۔ یقین ہی نہیں آیا، یہ جملہ ماہم نے بولا ہے جبکہ وہ بڑی رغبت سے ناشتا کر رہی تھی۔ مگر انداز میں عجلت بھی تھی پھر اس نے ہاتھ روک کر مائرہ کو دیکھا۔
’’تم ٹھیک کہتی تھیں مائرہ! کچھ چیزیں اس طرح انسان کی تقدیر میں شامل ہوجاتی ہیں کہ سوائے کمپرومائز کے اور کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ ساری انسانی عقل اور تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ شاید۔۔۔ شاید یہی وہ جگہ ہے جہاں صبر کرنا پڑتا ہے، برداشت اور ہمت سے کام لینا ہوتا ہے۔ شاید اسی کے صلے میں ہمیں وہ سب مل جائے جو ہم چاہتے ہیں۔
’’یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘
’’یہ کہ مجھ میں محبت ٹھکرانے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوسکا۔‘‘ اس نے چائے کی پیالی سے آخری گھونٹ بھرا اور کھڑی ہوگئی۔ ’’مجھے خبر ہی نہیں ہوئی نہ جانے کب محبت نے میرے اندر کی مادہ پرست لڑکا کا گلا گھونٹ دیا۔‘‘
’’ماہم!‘‘
’’میں جلدی آجائوں گی۔‘‘
’’مگر تم جا کہاں رہی ہو؟‘‘
’’اس شہر میں ایک گھر ایسا بھی ہے ماہم! جس کے آنگن میں لگے آم کے درخت پر بور آگیاہے، جس کی کیاریوں میں موتےے کی کلیاں مہک رہی ہیں اور وہ کلیاں صرف میرے لےے کھلی ہیں اور وہاں ایک ایسا شخص بھی ہے جس نے یہ آنگن میرے لےے سجایا ہے۔
اس کے گرد موتےے کی کلیوں کی مہک پھیلنے لگی تھی۔
ـــــ



تعلیم پر توجہ بہت ضروری ہے
تعلیم کے بنا کسی بھی قوم کا مستقبل طاریق ہے