Skip to main content

گرجا گھرکا دربان

ابن انشاء

پچھلے دنوں ہمارے مخدوم جناب سید ہاشم رضا نے کہ باغ وبہار شخصیت کے مالک ہیں، ہمیں یہ ایک کہانی سنائی اور ہم وہ کہانی آپ کو سناتے ہیں۔
تقریب اس کی یہ ہے کہ پچھلے دنوں ہماری دو نئی کتابیں چھپ کر آئی ہیں۔ بلکہ نواب تیس مار خاں کے کارناموں کو شامل کرکے جو قسطوں میں ان ہی کالموں میں چھپتے رہے ہیں۔ تین کہنا چاہیے۔ بہرحال یہاں جن دو کتابوں کا ذکر ہے۔ ان میں ایک تو سفر نامہ ”آوارہ گرد کی ڈائری“ اور دوسری اردو کی آخری کتاب
اس ”آخری کتاب“ کی تعریف میں ہم اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ ٹیکسٹ بورڈ نے اسے دیکھتے ہی نامنظور کردیاہے یعنی یکسر رد کردیاہے۔ اس کتاب میں تاریخ، جغرافیہ ریاضی، گرامرا ور حکایات وغیرہ سب ہی کچھ ہیں اور آخر میں امتحانی سوالات کا پرچہ بھی دیاگیا ہے۔
سوالات تو اس میں آپ کی دلچسپی کے اور بھی بہت سے ہیں۔ مثلاً پانی پت کی پہلی لڑائی کہاں ہوئی تھی؟ مثلث کے چاروں ضلعے برابر کیوں نہیں ہوتے؟ خط نستعلیق خط استوار اور خط وحدانی کا فرق بتاؤ۔ اور محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ کیا کیے تھے؟ وغیرہ لیکن سید صاحب نے ہمیں وہ کہانی جس سوال کے جواب میں سنائی وہ یہ ہے کہ۔
”تم ان پڑھ رہ کر اکبر بننا پسند کرو گے یا پڑھ لکھ کر اس کا نورتن؟“
٭٭٭
راوی ہیں سید صاحب کہ ایک شخص ایک گرجا گھر کا دربان تھا اور ایک زمانے سے چلا آرہاتھا، کر نا خدا کا یہ ہو اکہ اس کا پرانا پادری مرگیا اور نیا پادری ایسا آیا جسے علم سے بہت محبت تھی۔ اس نے آتے ہی حکم دیا کہ جتنے ان پڑھ ملازمین اور متوسلین اس گرجا میں ہیں سب برخاست۔
دربان صاحب بہت گھبرائے اور عرض کیا کہ ”حضور! ہمارے کام میں لکھنے پڑھنے کا کیا دخل ہے؟ ہمیں تو دروازے کی چوکیداری کرنی ہوتی ہے۔ لوگوں کے، جوتے، چھاتے، ٹوپیاں وغیرہ لے کر رکھنی ہوتی ہیں۔ اب تک یہ نہیں ہوا کہ اس میں غلطی ہوئی ہو۔ یعنی ہم نے ایک کی ٹوپی دوسرے کو دے دی ہو۔ اپنے فیصلے پرنظر ثانی فرمائیں۔“
لیکن نیا پادری چونکہ خود عالم فاضل تھا لہٰذا ان پڑھ ہونے کو ناقابل معافی جرم سمجھتا تھا۔ نہ مانا اور کہا۔
”یہ رہی تمہاری تنخواہ کل سے کام پرمت آنا۔“
کہانی یوں چلتی ہے کہ وہ شخص دل برداشتہ ہوکر گرجا سے نکل آیا۔ اور دفع الوقتی کے لیے اسے سگریٹ کی طلب ہوئی۔ سامنے کی گلی میں کوئی دکان نہ تھی۔ اگلی گلی میں بھی نہ تھی۔ ادھر ادھر کے چوک بھی خالی تھے۔ سگریٹ ملا، لیکن کوئی آدھ میل دور جاکر۔ اس شخص نے سوچا کہ ایسے اور بھی لوگ ہوں گے جن کو سگریٹ کے لیے دور جانا پڑتاہوگا کیوں نہ سگریٹ کا خوانچہ لگایا جائے۔
صاحبو! اس شخص نے گھوم پھر کر سگریٹ بیچنا شروع کیے۔ اور چونکہ یہ ضرورت کی چیز تھی۔ اس کی اچھی خاصی بکری ہونے لگی۔ لوگ دور جانے کی زحمت سے بچ گئے۔ اس میں ایسی برکت ہوئی کہ اس نے گلی میں چھوٹی موٹی دکنیا کھول لی۔ پھر وہ دوکان بڑی ہوگئی اور عملہ وملا بھی رکھنا پڑا۔ اور یہ شخص چند برس میں مالا مال ہوگیا۔ اس کے سگریٹ ایک قریبی بینک میں بھی جاتے تھے اور اس شاخ کے منیجر سے بھی اس کی صاحب سلامت ہوگئی تھی۔
ایک روز منیجر نے پوچھا کہ ”تم اپنے پیسے کس بینک میں رکھتے ہو۔“
اس شخص نے بتایا کہ ”کسی بینک میں نہیں بلکہ تکیے میں چھپا کر رکھتا ہوں۔“
”منیجر نے کہا کہ ”ان کو ہمارے بینک میں رکھو۔ چوری چکاری کا خطرہ بھی نہ ہوگا۔ اور سود بھی ملے گا۔“
اس شخص نے کہا۔ ”لیکن میری ایک شرط ہے؟“
”وہ کیا؟“
”وہ یہ کہ میں کسی کاغذ یا چیک پر دستخط نہیں کروں گا۔“
منیجر نے بہت کہا لیکن وہ شخص اپنی شرط پر اڑا رہا۔ چونکہ کئی ہزار پونڈ کے ڈیپازٹ کی بات تھی۔ منیجر نے یہ عجیب وغریب شرط مان لی۔

اس شخص نے کہا۔ ”کہ میں خود ہی جمع کرانے آیا کروں گا اور خود ہی نکلوانے آیا کروں گا۔ آپ میری شکل اچھی طرح ذہن نشین کرلیں۔ نہیں تو میری تصویر کھنچوار کھیں۔“
یوں یہ سلسلہ بہت دن تک چلتا رہا۔ ایک روز منیجر نے اس سے کہا کہ ”سیٹھ بیٹھو! چائے پی کر جانا۔“
وہ بیٹھ گیا۔
منیجر نے کہا۔ ”آپ کی شرط تو ہم نے مان لی لیکن آپ اتنی زحمت کیوں اٹھاتے ہیں۔ دستخط کرنے سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟ بس چیک پر دستخط کرکے بھیج دیا کیجیے۔ سب ہی کرتے ہیں۔ بڑا آسان کام ہے۔“
اس شخص نے کہا۔ ”لیکن مجھے دستخط کرنا کہاں آتاہے۔ میں تو سرا سر ان پڑھ ہوں۔“
منیجر بہت متعجب ہوا اور کہنے لگا۔“ میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اکنامکس کا گریجویٹ ہوں اور میری تنخواہ یہ ہے۔ آپ کی آمدنی ان پڑھ ہونے کے باوجود میری تنخواہ سے چار گنا زیادہ ہے۔ اگر آپ پڑھے لکھے ہوتے تو جانے کیا ہوتے۔“
اس شخص نے کہا۔ ”میں بتاتا ہوں کہ پڑھا لکھا ہو تا تو کیا ہوتا۔ میں سامنے کے گرجا گھرکا دربان ہوتا۔“

٭٭٭٭٭٭