Skip to main content

ایک دن اردو کے طالب علموں کے ساتھ

ابن انشاء

جب ہم چین گئے تو چینی زبان سے بالکل کورے تھے، لیکن ہمت کرے انسان تو کیا نہیں ہوسکتا۔ سترہ اٹھارہ دن بھی نہ گزرنے پائے تھے کہ دو لفظ نہایت روانی سے بولنے لگے۔ ایک نی ہاؤ (مزاج شریف) دوسرا چائی چن (یعنی اچھا پھر ملیں گے)۔ سو مہمان کو یہی دو لفظ آنے چاہئیں، باقی گفتگو کے لیے ترجمان موجود ہیں۔ ہاں یاد آیا۔ ایک اور لفظ بھی ہم برجستہ اور با موقع بول کر چینیوں کو حیران کرتے تھے، وہ ہے شے شے (یعنی شکریہ) بعضوں نے پوچھا بھی کہ آپ نے اتنی جلدی اتنی چینی زبان کیسے سیکھ لی۔
چند دن بعد ہم جاپان گئے تو جاپانی زبان میں بھی اسی طرح مہارت حاصل کرنے کا عزم کیا۔ کیونکہ ہم کو لسانیات سے ہمیشہ شغف رہا ہے۔ افسوس کہ وہاں ہمارا قیام مختصر تھا یعنی کل آٹھ دن۔ اس کے باوجود ہم جاپانی زبان میں شکریہ ادا کرنے پر قادر ہوگئے۔ یعنی ”آری گاتو گزائی مش“ کا لفظ اہل زبان کی طرح بولتے تھے۔ اگر کچھ فرق تلفظ میں تھا بھی تو تھورا سا جھک کر سینے پر ہاتھ رکھنے سے سننے والا جان لیتا تھا کہ ہم اظہار ممنونیت کررہے ہیں۔ ایسے بھی اعتراض کرنے والے موجود ہیں۔ جنہوں نے کہا کہ واہ ایک ہفتے میں ایک لفظ جان لینا کیا کمال ہے۔ ہمارے قارئین انصاف سے کہیں، ان میں سے کتنوں کو معلوم تھا ”آری گا تو گزائی مش کا“ ہمیں یقین ہے کہ ہم چند ماہ اور وہاں رہتے تو ان ہی کی زبان میں صاحب سلامت کرنے لگتے۔
ہاں تو چین میں ایسا بھی ہوا کہ ترجمان پاس نہ تھا پھر بھی ہم کو کبھی چینیوں سے مکالمت میں دقت نہ ہوئی۔ ہم نی ہاؤ‘ شے شے، شے شے کرتے جاتے حتیٰ کہ اس کی بات ختم ہوجاتی اور ہم چائی چن چائی چن کہہ کر رخصت ہوجاتے۔

ممکن ہے ہم چینی زبان میں مزید لیاقت بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے بلکہ اب یاد آتا ہے کہ ہم گرم پانی بھی چینی زبان ہی میں طلب کرتے تھے اور کے سوائے کہتے تھے لیکن ڈاکٹر عالیہ امام کی مثال کو دیکھ کر ہم نے تحصیل السنہ کا ارادہ ترک کردیا۔ وہ وہاں کئی ماہ سے ہیں۔ پیکنگ ریڈیو پر کام کرتی ہیں۔ ایک روز تشریف لائیں تو ہم نے کہا۔
”آپ کے لیے چائے کا بندوبست کریں؟“
فرمایا۔ ”کرو۔“
ہم نے کہا۔ ”مشکل یہ ہے کہ ہم اردو میں کرسکتے ہیں، حد سے حد انگریزی میں۔ بیرا ہم بلائے دیتے ہیں۔ گفتگو آپ کیجیے گا۔“
بیرا آیا۔ بیگم عالیہ امام نے اپنے لکھنویئ لہجے میں بہت کچھ کہا۔ اتنا یاد ہے کہ چ کے مرکبات تھے۔ بیرا کھڑا سر ہلاتا رہا اور ہم نے ازراہ تحسین عالیہ امام صاحبہ کو دیکھا بلکہ کہا بھی کہ آپ نے ایسی قابل رشک مہارت کیسے پیدا کی؟
انہوں نے بتایا کہ…… ”آدمی ذہین ہو تو چینی زبان مشکل نہیں۔“ چونکہ ہم یہ شرط پوری نہ کرسکتے تھے لہٰذا کچھ دل گیر اور مایوس ہوگئے لیکن اتنے میں بیرا آگیا، دیکھا کہ دو قد آدم گلاس دودھ کے ہیں۔
بیگم عالیہ بیرے پر بہت خفا ہوئیں کہ تم اتنی چینی زبان بھی نہیں سمجھتے کہ …… ”میں کہوں چائے تو چائے لے آؤ۔“ لیکن وہ بس کھڑا ہاتھ ملتا رہا۔ دل میں ضرور شرمندہ ہوا ہوگا۔
اردو کے مشہور ادیب خاطر غزنوی بھی وہاں ہیں اور ان کا کام ہی تحصیل زبان ہے تاکہ واپس آکر یہاں چینی زبان سکھا سکیں۔ ہم نے دیکھا کہ وہ ٹیکسی والے کو سمجھالیتے ہیں کہ کدھر چلنا ہے۔ بولے دو ڈھائی سو لفظ سیکھ گیا ہوں۔ پانچ ہزار لفظ سیکھ کر اخبار پڑھا جاسکتا ہے۔

ہم نے کہا۔ ”کتنے دن لگیں گے۔“
بولے۔ ”بشرط حیات چند برس اور……“
ہم نے کہا۔ ”خیر یہ رہا اخبار، کچھ تو پڑھو۔“
کافی دیر کوشش کے بعد انہوں نے کئی لفظوں پر انگلی رکھی کہ یہ آتے ہیں فی الحال……
خیر قطرہ قطرہ بہم شود دریا۔
پھر ایک روز ہم نے سوچا کہ دیکھیں چینی لوگ اردو سیکھتے ہیں تو کیسی سیکھتے ہیں۔ اگر چینیوں کو اپنی زبان کے مشکل اور پیچیدہ ہونے پر ناز ہے تو ہم کو بھی ہے۔خیر ایک روز بندوبست ہوا اور ہم لوگ پیکنگ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں جانکلے۔
پہلے تو ایک بیٹھک میں وائس چانسلر صاحب نے ہمیں شرف ملاقات بخشا۔ پھر تعارف کراتے کراتے کہا۔ ”یہ ہیں مادام شان یون، یہاں اردو پڑھاتی ہیں۔“
ہم نے کہا۔ ”آیئے بیگم صاحبہ! ہمارے پاس آجایئے۔“ وہ مسکراتی ہوئی اٹھ کر آگئیں اور بولیں۔
”آپ ابن انشاء صاحب ہیں نا۔ آپ کی نظمیں ہم نے پڑھی ہیں۔ افکار ہمارے پاس آتا ہے، آپ کی کتاب ہماری لائبریری میں ہے۔“
چائے وائے پینے کے بعد ہم نے وہ کتابیں نذر کیں جو ہم یہاں سے لے گئے تھے اور مادام شان یون نے کہا۔ ”آیئے آپ کو طالب علموں سے ملائیں۔“
پیکنگ یونیورسٹی ایک وسیع و عریض رقبے میں پھیلی ہوئی ہے۔ راستے میں مختلف شعبوں کی عمارتیں تھیں۔ ہر جگہ طالب علموں کے ٹھٹ تھے جو ہمیں دیکھ کر دو رویہ کھڑے ہوجاتے اور تالیوں سے استقبال کرتے۔ رسم یہ ہے کہ مہمان بھی جواباً تالی بجاتا ہے۔ چین کے قیام کے دنوں میں ہم کو ہر روز اتنی تالیاں بجانا پڑتی تھیں کہ رات کو آکر ہاتھ آگ پر سینکتے تھے اور وکس کی مالش کرتے تھے۔
شعبہ اردو کے طالب علم ہمارے خیر مقدم کے لیے پہلے سے کھڑے تھے۔ ان میں آدھے لڑکے تھے، آدھی لڑکیاں۔ بڑے تپاک سے علیک سلیک ہوئی۔ بعض فر فر بولتے تھے، بعض اٹک اٹک کر۔
ہم نے کہا۔ ”چلیے کلاس دیکھیں۔ لیکن طالب علم مصر تھے کہ پہلے ہم ان کی قیام گاہیں دیکھیں۔“ وہاں دکھانے کی کوئی ایسی بات نہ تھی۔ بہت چھوٹے چھوٹے کمرے تھے اور ہر ایک میں ایک دو منزلہ چارپائی ایک کونے میں ایک میز اور کتابوں کے لیے ایک الماری۔ ایک طالب علم نیچے کی چارپائی پر سوتا تھا، دوسرا اوپر ٹنگتا تھا۔ ویسے نرم گدے اور اجلی چادریں تھیں۔ ہم لوگ قریب قریب سب کے سب دو کمروں میں تقسیم ہوگئے۔ وہاں اتنی کرسیاں کہاں تھیں۔ بس چار پائیوں پر اور میز پر چڑھ بیٹھے۔ باقی باتیں تو فروعات تھیں۔ اردو کی محبت اور شوق اصل چیز تھی۔ اکثر لڑکے اور لڑکیاں فر فر بولتے تھے اور سب سے تعجب کی بات یہ تھی کہ کسی سے تذکیر و تانیث کی کوئی غلطی نہ سنی۔ جیسی اندرون پاکستان ہم مختلف علاقوں کے لوگوں سے ضرور ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خط پختہ تھے۔ بعضوں کے منشیانہ اور املا میں کوئی غلطی ہجے کی نہ تھی۔
ہم نے کہا۔ ”پڑھتے کیا ہیں آپ لوگ؟“ معلوم ہوا اچھی خاصی لائبریری اردو کتابوں کی ہے اور پھر اخبار جنگ آتا ہے۔ اس میں سے مضامین اور اداریے یا خبریں لے کر سائیکلو اسٹائل کرالی جاتی ہیں اور طالب علموں میں بانٹ دی جاتی ہیں۔ ہم نے دیکھا تو پہلا ہی سبق صدر ایوب کے دورہ چین پر تھا۔
لائبریری میں گئے تو واقعی نئے ادب کی بہت سی اچھی کتابیں موجود تھیں اور طالب علم ہمارے بعض ہم عصروں کا ذکر ان کی کہانیوں کے حوالے سے کرتے تھے۔
مادام نے کہا۔ ”میں آپ کی نظم شنگھائی کا ترجمہ چینی میں کررہی ہوں۔“
ہمارے وفد کے رکن جو اردو کے آدمی تھے۔ ان کی سرشاری کا بیان کرنا مشکل ہے۔ اتنی دور ایک مختلف تہذیب کے ملک میں اردو کے پودے کو پھولتے پھلتے دیکھنا واقعی ایک جذباتی تحریر تھا۔
ہم نے مادام سے کہا کہ ……”ان طالب علموں کو ہم چائے کی دعوت دیتے ہیں، ان سب کو لایئے۔ وہاں اور باتیں ہوں گی۔ ہم ان کو کتابیں دیں گے اور واپس پاکستان جاکر کتابوں کی لین ڈوری باندھ دیں گے۔“ یاد رہے کہ ایسے وعدے وفا نہیں ہوا کرتے۔

طالب علم تو پھر آئے اور ہمارے ساتھ چائے پی۔ ان کو کتابیں بھی ہم نے دیں لیکن مادام کسی وجہ سے تشریف نہ لاسکیں۔ تیس برس کی ہوں گی۔ بہت پسندیدہ
اطوار کی اور سنجیدہ۔ ہم نے کہا کہ ہماری ڈائری میں اپنے دستخط دے دیجیے۔ انہوں نے یہ مہربانی کی کہ دستخطوں کے علاوہ ایک عبارت بھی لکھ دی۔ ان کا خط کم از کم ہمارے خط سے تو بہتر ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ طالب علموں نے اتنی مہارت فقط دو سال بلکہ کم میں حاصل کی تھی اور بیگم صاحبہ نے بھی اردو ایک چینی سے پڑھی ہے۔

٭٭٭٭٭٭