Skip to main content

آغاز سفر اور جہد مسلسل

کامیابی کی ساری داستانیں ارادے کی پختگی اور جہد مسلسل سے ہی عبارت ہیں۔ ہر شخص کے کچھ خواب ہوتے ہیں لیکن انہیں تعبیر دینے کے لیے کوشش کوئی کوئی کرتا ہے۔ بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو محنت اور کوشش سے اپنے خوابوں کی تعبیر پالیتے ہیں۔ محمود ریاض صاحب کی پوری زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی اور وہ خوش نصیب تھے کہ انہوں نے اپنے لگائے ہوئے پودوں کو پروان چڑھتے دیکھا۔
ریاض صاحب اپنی ذات میں ایک ادارہ، ایک مینارہ نور تھے، خواتین ڈائجسٹ ایک شمع ہی تو تھی جو انہوں نے روشن کی اور اس نے بے شمار لوگوں کو راہ دکھائی، ان کی زندگی میں اجالا کیا، انہوں نے خواتین ڈائجسٹ، شعاع اور کرن کی صورت میں جو چراغ روشن کیے۔انہوں نے تاریک راستوں میں رہنمائی کا فریضہ ادا کیا۔
خواتین ڈائجسٹ ایک نئی منزل کی طرف پہلا قدم تھا
ایک نئے راستے کی دریافت۔ ایک نیا تجربہ۔
محمود ریاض صاحب نے زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ وہ روزنامہ ”امروز“ میں کالم لکھتے تھے۔ اس وقت امروز کا شمار بہت اچھے روزناموں میں ہوتا تھا۔ وہ پانچ سال تک امروز میں کالم لکھتے رہے۔ اسی دوران انہوں نے پبلشنگ کا ادارہ لارک پبلشرز قائم کیا۔ اس ادارے کے تحت انہوں نے معروف ادیبوں کی بہت سی اچھی کتابیں شائع کیں۔ کہتے ہیں کہ پبلشنگ کے لیے عمر نوح، صبر ایوب اور قارون کا خزانہ درکار ہوتا ہے لیکن ریاض صاحب نے بڑی کامیابی سے لارک پبلشرز کو چلایا۔

اس زمانے میں مرد حضرات کے لیے تو بہت سارے ڈائجسٹ شائع ہو رہے تھے لیکن خواتین کے لیے بہت کم پرچے تھے اور جو پرچے تھے،وہ بھی پرانے انداز اور سائز کے تھے وہ جدید دور کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
خواتین ڈائجسٹ کو ترتیب دیتے ہوئے ان کے پیش نظر کچھ مقاصد تھیں۔
خواتین کے لیے ایسا صاف ستھرا پرچا جو گھر کے تمام افراد پڑھ سکیں جس میں ایک نو عمر لڑکی سے لے کر گھر کی بزرگ خواتین کے لیے بھی دلچسپی کا سامان ہو۔
عملی زندگی میں خواتین کے مسائل کو سامنے لائے اور ان کی صحیح سمت کی جانب رہنمائی کرے۔
مردانہ ڈائجسٹ خواتین کے مزاج اور طبیعت سے مناسبت نہیں رکھتے تھے، وہ ان پرچوں میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار نہیں کرسکتی تھیں۔ ریاض صاحب کا مقصد ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا۔
وہ چاہتے تھے کہ گھر کی خواتین کو باہر کی دنیا سے روشناس کرایاجائے تاکہ وہ اچھے برے کی تمیز کر سکیں۔
خواتین ڈائجسٹ کا اجراء موجودہ دور کے تقاضوں کوسامنے رکھ کرکیا گیا۔ ابتدائی شماروں میں لکھنے والوں کے نام دیکھیں تواندازہ ہوجاتا ہے کہ خواتین ڈائجسٹ میں لکھنے والوں کے ایک راہ متعین کر دی گئی تھی۔ جیلانی بانو، بانو قدسیہ، رضیہ سجاد ظہیر، ناہید شاد کے نام شامل تھے۔
ریاض صاحب کے لیے یہ سخت محنت اور جدوجہد کا دور تھا۔ امروز میں کالم لکھنا۔ کتابوں کی اشاعت اور ان سرکولیشن کے مسائل سے نمٹنا۔ بعض اوقات تو کتابوں کے پروف بھی ریاض صاحب خود پڑھتے تھے، کاپیاں جوڑتے تھے، کاپیاں جوڑنے کے دوران پنکھا نہیں چلا سکتے تھے۔ شدید گرمی میں دھاروں دھار پسینہ بہتا۔
باوجود اس کے کہ حالات بہت سازگار نہ تھے اس کے باوجود انہوں نے خواتین ڈائجسٹ کے لیے کچھ اصول وضع کیے جن پر وہ آخر وقت تک سختی سے کار بند رہے۔
وہ پرچے میں کوئی بھی ایسی تحریر نہ جانے دیتے جس سے برائی کی ترغیب ملتی ہو۔ تحریروں میں ہی نہیں اشتہارات میں بھی انہوں نے اس پالیسی کو ملحوظ رکھا۔ وہ کوئی بھی ایسا اشتہار شائع نہ کرتے جس کے بارے میں انہیں یہ شبہ ہو کہ اس کے ذریعے عوام کو دھوکا دیا جا رہا ہے۔
آج بھی جبکہ ریاض صاحب اس دنیا سے رخصت ہو چکے، ادارہ کی یہی پالیسی ہے۔
ریاض صاحب کی محنت رنگ لائی اللہ تعالیٰ کے کرم سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے۔ خواتین ڈائجسٹ میں ہر ماہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے خط اس کے گواہ ہیں۔ قارئین اعتراف کرتی ہیں کہ خواتین ڈائجسٹ نے کس طرح ان کی رہنمائی کی۔ ایک محبت کرنے والی ماں کی طرح ان کی تربیت کی اور ایک درد مند دوست کی طرح دکھ کے لمحوں میں ساتھ دیا۔
خواتین ڈائجسٹ تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا گیا۔ اس کے بعد ریاض صاحب نے کرن اور پھر شعاع کا اجراء کیا۔ان پرچوں نے بھی بہت جلد قارئین کے دلوں اور ان کی زندگیوں میں جگہ بنا لی۔
اپنے مقصد میں کامیابی بہت بڑی خوش نصیبی ہے لیکن کسی کی بھی زندگی ہمیشہ باغ و بہار نہیں رہتی۔ زندگی میں خوشی اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
بابر صاحب کی اچانک وفات ریاض صاحب کے لیے بہت بڑا سانحہ تھا۔ جوان بیٹے کی اچانک موت نے انہیں اندر تک ہلا دیا تھا لیکن جس طرح وہ خوشیوں میں باظرف رہے تھے، اس صدمہ کو بھی انہوں نے باوقار طریقے سے سہا۔ پھر چند سالوں بعد محمود خاور دنیا سے رخصت ہوئے تو ریاض صاحب بالکل ٹوٹ گئے۔
آج جب خواتین ڈائجسٹ اپنی عمر کے پچاس سال طے کر چکا ہے۔ ریاض صاحب ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن ان کے روشن کیے چراغ جہاں بھر میں اجالا بکھیر رہے ہیں۔ محمود ریاض صاحب کے آغاز سفر ”جہد مسلسل کا یہ سلسلہ آج بھی اپنی مضبوط روایات کے ساری جاری ہے۔“