Skip to main content

آپ سے کیا پردہ

ابن انشاء

نیویارک کی خبر ہے کہ وہاں ایک کتاب چھپی اور مہینے بھر میں اس کی پچیس ہزار جلدیں فروخت ہوگئیں۔ ایک سوساٹھ صفحے کی اس کتاب کی قیمت تین ڈالر ہے۔
یعنی تیس روپے، مشتاقوں کا ہجوم ایساہے کہ پبلشر اس کے دوسرے ایڈیشن کی فکر کررہے ہیں۔
اور اس کتاب کے اندر کیاہے، کچھ نہیں۔ سادہ اوراق ہیں، تحریر، نہیں کوئی، تصویر نہیں کوئی۔
٭٭٭
ہمارے لیے اس خبر میں کوئی نئی بات نہیں، ہم نے کئی کتابیں پڑھی ہیں جن میں کچھ نہیں ہوتا، آخر میں کچھ ہاتھ نہیں آتا اور ایسی تو بہت ہیں کہ تین چوتھائی سے زیادہ خالی ہوتی ہیں، کسی میں پلاٹ نہیں ہوتا، کسی میں کردار نگاری نہیں ہوتی، کسی میں آغاز نہیں ہوتا، کسی میں انجام نہیں ہوتا، شاعری کی کتاب ہو تو اکثر وزن نہیں ہوتا…… اور وزن ہوتو اس میں معنی نہیں ہوتے اور اگر وزن اور معنی دونوں ہوں تو شاعری نہیں ہوتی، قصے، کہانیوں اور شاعری کی تخصیص نہیں اور بہت سے مضامین کی کتابیں ہم نے اندر سے خالی دیکھی ہیں، ان کا مطالعہ استاد ذوق کے قصیدے کے اس شعر کی مثال ہے۔
رات بھر ٹھونگا کیا، انجم کے دانے چرخ پیر
صبح دم دیکھا تو داں اصلاشکم میں کچھ نہ تھا
٭٭٭
اتنا البتہ ہے کہ ہماری ان کتابوں کے ورق سادہ نہیں ہوتے۔ نیویارک والی اس کتاب میں ورق سادہ چھوڑ دیے گئے ہیں اور شاید یہی اس کی مقبولیت کی وجہ ہے۔ یوں تو تحریر کی کبھی کوئی قیمت نہیں رہی۔ آپ سادے کاغذ کا ریم بازار میں جاکر بیچیں پھرچھپے ہوئے اخبار کا ریم لے جایئے اور فرق دیکھ لیجیے۔ خواہ اس میں ہمارا کالم ہی کیوں نہ چھپا ہو جس میں بے شمار قیمتی بلکہ انمول اور زریں اقوال اور بے بہا اشعار ہوتے ہیں۔ ڈیڑھ دو روپے سیر سے زیادہ قیمت نہ پائے گا۔ سادگی کی قدر کا یہ حال ہے کہ پرانے شاعر سادہ رویوں پہ مرا کرتے تھے۔ جس کے چہرے پر کوئی تحریر ہو، خط وغیرہ اس کی قدر گرجاتی تھی۔ محبوبوں تک کو اپنے مصحف رخ ہدیہ کرنے پڑتے تھے۔ دم دے کر خریدتا کوئی نہ تھا۔
٭٭٭
کتاب کو اندر سے سادہ رکھنے میں کئی خوبیاں ہیں۔ پبلشر کاتو یہ ہے کہ کتاب بچتی ہے، طباعت یعنی چھپائی کی سیاہی بچتی ہے اور مصنف یعنی مضمون تک بچتا ہے، اچھی خاصی کتاب محض پبلشر اور جلد ساز کے تعاون سے تیار ہوجاتی ہے۔ معاشرے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کتاب کے پڑھنے والے گمراہ نہیں ہوتے، بے راہ روی نہیں پھیلتی، اس میں سرمایہ داری کی حمایت نہیں ہوتی، سامراج کی وکالت نہیں ہوتی، عریانی نہیں ہوتی، ابہام نہیں ہوتا، تعصب نہیں ہوتا، غلط بیانی نہیں ہوتی، کچھ بھی تو نہیں ہوتا پھر کسی کتاب یا کتابیں پڑھنے والے کی نظر خراب نہیں ہوتی، اسے عینک نہیں خریدنی پڑتی، اس سے کوئی ادھار نہیں مانگتا، ایک سو ساٹھ صفحے کی کتاب تیس روپے میں اتنی خوبیوں کے ساتھ قطعی مہنگی نہیں، کم از کم ہمیں مہنگی معلوم نہیں ہوتی۔
٭٭٭
بین الاقوامی بھائی چارے کے فروغ میں بھی یہ کتابیں بہت کام آسکتی ہیں، ان کو دنیا میں ہر کوئی پڑھ سکتاہے۔ ہر جگہ مقبول ہوں گی، اس سے خواندگی اور ناخواندگی کا مسئلہ بھی خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا۔ کیونکہ کتابوں کو ناخواندہ لوگ نہیں پڑھ سکتے، ان سے محظوظ نہیں ہوسکتے۔ خواندہ لوگوں کی حد تک بھی یہ دقت ہے کہ جو انگریزی پڑھا ہے، وہ عربی کتاب نہیں پڑھ سکتا تھا اور عربی خواں کے لیے جاپانی زبان میں چھپی ہوئی کتاب بے معنی ہے، آنکھیں جھپکتا رہ جائے گا۔ اگر یونیسکو جو خود
بھی تکلیف اٹھاتی ہے۔ ہمیں بھی تکلیف دیتی ہے۔ اس قسم کی کتابوں کو رواج دے تو ہماری پبلشنگ کی صنعت بڑی ترقی کرسکتی ہے اور قارئین کا معیار بھی بلند ہوجائے گا۔ وہ چھپی ہوئی گھٹیا کتابیں نہ پڑھیں گے تو ضرور بلند ہوجائے گا۔
٭٭٭
ہمارے ملک میں بھی اس قسم کی کتابوں کو رواج ہونا چاہیے۔ اس کے انگریزی یا امریکی زبان سے ترجمہ کرنے میں بھی کچھ دقت نہیں، کیونکہ اس کے اندر کچھ ہئی نہیں ترجمہ کرنے کو، ا س کی پروف ریڈنگ بھی آسان ہے کیونکہ اس کے اندر کوئی تحریر نہیں، جس کے ہجے غلط ہوسکیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے کوئی خلاصہ بھی نہیں چاہیے، کوئی استاد بھی درکار نہیں، کوئی مضمون ہو تو خلاصہ ہو، خلاصہ کا خلاصہ کیا معنی۔
٭٭٭
جن لوگوں کو مطالعے کی عادت نہیں، ان میں مطالعے کو فروغ دینے کے لیے بھی یہ نسخہ اچھاہے۔ لوگ مطالعے سے نہیں بھاگتے، صرف تحریر سے بھاگتے ہیں۔ سفید کورے کاغذ سے کوئی نہیں بھاگتا۔ ویسے تو یہ بات کوئی کتاب سے خاص نہیں، پرانی مثل ہے۔ تھوتھا چنا باجے گھنا، جتنا کوئی برتن خالی ہوگا اتنی ہی اس میں سے اچھی آواز آئے گی۔ آپ کے آس پاس جتنے مقبول عام آدمی ہیں۔ لوگ جن کے آگے پیچھے پھرتے ہیں۔ کبھی ان کے اندر جھانک کے دیکھیے خالی ہوں گے۔ بالکل خالی پس اگر ایک خالی کتاب کی اتنی قدر ہورہی ہے کہ مہینے بھر میں دوسرا ایڈیشن نکل رہاہے، جبکہ ادب عادلیہ کی کتاب کے ایک ہزار نسخے نکلنے میں پانچ سال لگ جاتے ہیں تو کچھ تعجب نہ ہونا چاہیے۔ نظیر اکبر آبادی نے جو بات کو رے برتن کے لیے لکھی ہے۔ کورے کاغذ کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں۔
تازگی ذہن کی، تری تن کی
واہ کیا بات کورے کاغذ کی
٭٭٭
دور کیوں جایئے، یہ ہمار اکالم ہی ہے، کیا رسالہ خریدنے والے سب ہی لوگوں نے پڑھا ہوگا۔ آپ بھی مارے باندھے ان سطور تک پہنچے ہوں گے۔ حالانکہ دیکھیے ہم اس میں کیا کیا مضمون کھینچ کر لائے، کیا کیا نکتے پیدا کیے ہیں۔ اگر اس کی جگہ خالی چھوڑ دی جاتی تو سب پڑھتے، یعنی سب کی نظر سے گزرتی، آئندہ ہم اپنی کتابیں بھی سادہ ہی بازار میں لایا کریں گے۔ ان کے اندر کچھ چھاپ کر ان کو خراب نہیں کیا کریں گے۔ لوگ چاہیں ان میں حکمت کے نسخے لکھیں۔ پسندیدہ اشعار لکھیں، فلمی گانے لکھیں، محبوبوں کے نام اور ٹیلی فون نمبر لکھیں یا کچھ بھی نہ لکھیں، کبھی بچے کی ناک پونچھنی ہو تو اس میں سے ورق پھاڑ سکتے ہیں، ہم اس میں ایسا کاغذ لگائیں گے، جو اس مقصد کے لیے موزوں ہو، رومال کاکام دے سکے، قیمت بھی تیس روپے سے کم رکھیں گے کیونکہ ہمار املک مقابلتاً غریب ہے۔

٭٭٭٭٭٭