Skip to main content

آپ سے کیا پردہ

ابن انشاء

لچھہ ہماری زندگی اور تہذیب کا ٹریڈ مارک ہے۔ سمبل ہے، ہماری کوئی بات، کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ ہمیں لچھے دار زبان بولنے کا شوق ہے۔ لچھے دار عبارتیں لکھنے کا شوق ہے اور لچھے دار تقریریں کرنے کا شوق ہے۔ لچھی کو بھی لچھے ہی میں شامل سمجھیے۔ بحوالہ ایک پنجابی شاعرکے۔
اگے تیرے بھاگ لچھیے
غالب روایت شکن آدمی تھے اور اردو نثر کو سلیس بلکہ پانی کر گئے ہیں لیکن القاب و آداب میں کبھی کبھی جمیل المناقب، حمیم الاحسان وغیرہ کے لچھے وہ بھی چھوڑ دیتے تھے۔ اس زمان کے حساب سے یہ کچھ بھی نہ تھا کیونکہ اس عہد کی ایک کتاب پر تو ہم نے مصنف کا نام یوں لکھا دیکھتے ہیں۔
ناشر عدیم النظیر و ناظم فقید المثال، بذلہ سنج نازک خیال، جلابخش اردو زبان، اعجاز بیان ”جناب میرزار جب علی بیگ سرور۔“
ایک عامی کے لیے اس طومار میں سے نام کی سوئی تلاش کرنا اور اس طرہ پر پیچ و خم کے پیچ و خم نکالنا ایسا آسان کام نہیں۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اصل نام جلا بخش نہیں۔ جب مولا بخش اور خدا بخش اور پیر بخش نام ہوسکتے ہیں تو جلا بخش کیوں نہیں۔عدیم النظیر اور فقید المثال اس لچھے کی گرہوں میں سے صرف رجب علی برآمد ہوتا ہے۔ سرور بھی تخلص یعنی مصنف کی اپنی ایجاد ہے۔ کیا عجب رجب علی بھی بچپن میں فقط رجبے ہی کہلاتے ہوں۔ بڑا ہو کر یہ پرسا پرس رام بنا ہو۔
٭٭٭
اب عبارت آرائی کتابوں اور قصوں کہانیوں میں تومتروک ہوئی۔ یہ کاروباری زمانہ ہے۔ لوگوں کے پاس دماغ سوزی اورکاوکاوکی فرصت کم ہے، آداب وتسلیم کا خلاصہ نکل کر”ہوائے“گیا ہے۔ لوگ آپ سے تم تم سے تو ہی نہیں ابے تبے پر اتر آئے ہیں۔ اشٹام کے کاغذوں اور شادی بیاہ کے رقعوں میں بیٹی ابھی تک نورچشمی ہے۔ اگر دختر ہے تو نیک اختر ضرور ہے۔ فرزندہ ہے تو دلبندی کے رشتے میں بندھا ہے۔ باپ احقر اور چشم براہ ہے۔ آج کل کے نئے پڑھے لکھے تو احقر کو بھی نام سمجھتے ہیں اور نیک اختر جو ویسے وختر کا تابع مہمل یا غیر مہمل ہے، صاف کسی لڑکی کا نام معلوم ہوتا ہے۔ اردو میں ابھی اس قسم کے سیدھے سادے رقعوں کا رواج نہیں ہوا کہ ”اے صاحب! فلاں تاریخ، فلاں وقت میری بیٹی کی شادی ہے۔ آئیے اور نیوتہ دیجیے۔ تحفہ دیجیے اور خالی ہاتھ لٹکاتے ہوئے مت آئیے۔ ہم نے تمبوشامیانے کا سخت انتظام کیا ہے۔ دیگیں پکی ہیں۔ گوشت روٹی کھا کر جائیے۔ کیونکہ آپ نے ہمیں بھی کھلائی تھی وغیرہ۔ پنجاب والے ہمیشہ دوسروں سے نسبتاً کم سرگشتہ خمار رسوم و قیود رہے ہیں۔ ایک پرچے نے کسی صاحب کی شادی کے کارڈ کا مضمون نقل کیا ہے جو راوی اور چناب ہی نہیں بیاس کے پانی میں بھی دھلا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یوں کہیے ابھی پوری طرح نچوڑا بھی نہیں گیا۔ نقل مطابق اصل۔
”سچے سجنوں تے مترو۔ شالا تسیں رب دیاں رحمتاں تلے پھلوتے پھلو۔ ساڈے لاڈلے پتر…… دا ویاہ، لادلی دھی……دے نال …… ہونا ایں۔ تسیں وی خوشیاں وچ رل کے تے دعاواں دی ساجھ پاکے ساڈا مان تے پت ودھاؤ۔
آیاں اگے اکھیاں وچھان والے
(بمعنی چشم براہ)

امابعد۔ ”ویلے دی ونڈ“ یعنی تقسیم الارمات یا ٹائم ٹیبل کے عنوان تھلے درج ہے۔
سہرے دیاں لڑیاں سجان داویلا
جنج دے ٹرن داویلا (روانگی برات)
لاڑے ولوں ان پانی
اس آخری جملے کا مطلب ہے دولھا کی طرف سے دانا دنکایا آب و دانہ۔ مطلب ولیمہ۔ تھوڑی بہت پنجابی تو اپنی مادری زبان ہونے کی وجہ سے ہمیں بھی آتی ہے لیکن گیانیوں والی نہیں اور ویلے دی، ونڈ تو ہم نے آج ہی سنا۔ اسے ایجاد بندہ بلکہ گندہ کہتے ہیں۔ سجنوں تے مترو۔ ماں تے پت (ماں تے پت نہیں) وغیرہ پڑھ کر تو مذکورہ پرچے کے ایڈیٹر کی طرح ہمیں بھی دربار صاحب امرتسر ہی یاد آیا۔
٭٭٭
اردو میں بھی دعوت ناموں کو سلیس بنانے کا ایک تجربہ کیا گیا ہے، ہمیں پسند آیا۔ آج کل نظام امتحان بھی بدل گیا ہے۔ ہمارے زمانے کا سا نہیں کہ لمبے لمبے جواب مضمون لکھنے پڑتے تھے۔ گزرے ہوئے بادشاہوں کی پالیسی بتانے کے علاوہ ان کے چال چلن کا سرٹیفکیٹ بھی دینا پڑتا تھا۔ یہ سوال و جواب کا زمانہ ہے۔ اسی سے لیاقت کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ بابر نے پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو مار مار کر کیا نکال دیا تھا؟ اگر آپ جواب میں فقط بھرکس لکھ دیں تو آپ شاندار نمبروں سے پاس ہیں۔ نادرشاہ کو دیکھ کر محمد شاہ کی کیا بندھ گئی تھی۔ گھگی۔ صحیح جواب ہے شاباش بیٹھ جاؤ۔ یحیٰ خاں نے قوم کو کیا بنایا؟ الو۔ اس کے بجائے کبوتریا تو تایا کسی اور جانور کا نام لکھنا غلط ہو گا۔ آپ کے نمبر کٹ جائیں گے۔ ہم ذمہ دار نہ ہوں گے۔
٭٭٭
خیرذکردعوت نامے کا تھا۔ اور دعوت نامہ ہمارے ایک بہت عزیز دوست کی شادی اور لاڑے ولوں ان پانی یعنی ولیمے کا ہے۔ چونکہ یہ دن عید کے تھے اس لیے ہر کارڈ جو آتا تھا، لوگ اسے عید کارڈ سمجھ کر ایک طرف ڈال دیتے تھے یا بچوں کو دے دیتے تھے۔ اس لیے ابتدا اسی اطلاع سے کی گئی ہے کہ یہ کارڈ کیا ہے کس کا ہے اور کہاں ہے؟ کس طرف کو ہے۔ کدھر ہے۔

٭٭٭٭٭٭