Skip to main content

طریقہ محفل میں بات کرنے کا

ابن انشاء

محفل میں اجنبیوں سے کیسے بات کی جائے، ہمسائیوں پرخوش اخلاقی کا کیسے سکہ جمایا جائے، اس کے گریا تو بخشندخدائے بخشند ورنہ ڈیل کارینگی کی کتابوں کا مطالعہ کیجیے اور کسب کمال کر کے عزیز جہاں ہونے کی کوشش کیجیے۔
مختصر لفظوں میں مقبولیت کا نسخہ زریں یہ ہے کہ مخاطب کے ڈھب اور دلچسپی کی بات کرو۔ اپنے ذوق یا دلچسپی سے علاقہ مت رکھو۔
شروع میں ہمیں بھی یہ بھید معلوم نہ تھا۔ ہمارے محلے میں سامنے کے گھر میں غلے اورتیل کے بیجوں کے مشہور آڑھتی روپیہ بھائی، پیسہ بھائی جام نگر والے رہتے تھے۔ ہم جب اس مکان میں آئے تو انہوں نے بڑے خلوص سے ہمارا خیر مقدم کیا۔ان کی بی بی بھی محلے میں ہمارے گھر والوں ہی کوپسندکرتی تھیں اور جب کبھی دونی چونی مانگنی ہو یا گھر میں گھی تیل ختم ہو یا سلائی کی مشین چاہیے ہوتو ہم ہی سے رجوع کرتی تھیں۔
ہم بھی سیٹھ صاحب کی خوشنودی کے لیے اپنی سی ہرکوشش کرتے تھے۔ پہلی اتوارآئی توان کو دو غزلیں سنائیں، دوسرے اتوار ایک قصیدہ گوش گزارکیا۔تیسرے اتوار ہم نے ان کے لیے ایک طویل مختصرافسانہ تیارکر رکھا تھا جو ایک طرح سے نفسیاتی تحلیل کا شاہکار تھا لیکن سیٹھ صاحب نہ آئے۔آخرہم ان کے گھر جا کر سنا کر آئے۔اس کے بعد جانے کیا ہوا کہ انہوں نے نہ صرف ہمارے ہاں آنا بندکر دیا بلکہ ہم جیب میں اپنے ایک عزیز کی شادی کا سہرا رکھ کر ان سے ملنے گئے تو انہوں نے اندر سے کہلوا دیا کہ نہیں ہیں سیٹھ صاحب، لاڑکانہ گئے ہیں۔
کچھ اسی قسم کی واردات ہمارے دوسرے پڑوسی کے ساتھ ہوئی۔وہ ٹریکٹروں کی ایک کمپنی میں مکینیکل انجینئر ہیں یا شاید فورمین ہیں،معلوم ہوا جالندھر کے ہیں جس کو علمی ادبی ذوق کی بنا پر شیراز ہند کہا جاتا تھا۔ اسی رعایت سے ہم نے علیک سلیک کے بعد پہلے تو جالندھر کے ہندوستان میں رہ جانے پر ان سے تعزیت کی۔اس کے بعد اپنا تازہ فارسی کلام سنایا۔
ہمارے تعلقات میں سرد مہری تو اسی روز آ گئی، لیکن دوسری بارجوہم نے اقبال کے فلسفہئ خودی کے ماخذ پر بحث چھیڑی تو نہ جانے کیا ہوا کہ اٹھ کے اندر چلے گئے اور پھر سڑک پر ملتے بھی تو دوسرے فٹ پاتھ پر ہولیتے۔ ہم نے اپنے اقبال پرست دوستوں سے پوچھا بھی کہ یارو فلسفہ میں ایسی کیا بات ہے، لیکن کوئی ہمیں مطمئن نہ کر سکا۔اس کے بعد ہم نے ڈیل کارنیگی کی کتابیں پڑھیں۔
یہ قباحت،موضوعات گفتگو کی، اصل میں ہم مردوں کے ساتھ زیادہ ہے۔ خواتین میں تو امیر ہوں، یا غریب، پی ایچ ڈی یا ان پڑھ، پنجابی کہ دکنی، گفتگوکے بندھے ٹکے اصول،آداب اور موضوعات ہیں۔
٭اے بہن،یہ ٹیکہ بہت خوب صورت ہے، کتنے کا بنا۔
٭اے آپا! یہ کپڑا کتنے کا ہے، لنڈی کوتل سے منگایا ہوگا۔
٭ماشاء اللہ کتنے بچے ہیں؟
٭آپ بالوں میں کون سا تیل لگاتی ہیں؟
٭یہ نیل پالش کون سی ہے باجی؟
٭اری رضیہ! تم نے ”مسٹر اللہ دتہ“ دیکھی۔ اس میں نیلوکاکام پسند آیا۔
٭ہائے اللہ، کتنے اچھے سلیپر ہیں، کہاں سے لیے؟
کاش مردوں میں بھی کچھ اسی قسم کی مفاہمت ہوتی۔اب تک تو بالعموم یہی دیکھا کہ دو بھلے مانسوں میں تعارف ہوا اور وہ مزاج شریف کہہ کر رہ گئے۔ پھر سگریٹ پینے لگے،وہ بھی یوں کہ یہ اپنا دھواں مشرق کی طرف منہ کرکے چھوڑتے ہیں، وہ مغرب کی طرف۔ اس کے بعد اخبار دیکھنے لگے۔ یہ بھی ہوچکا اور خاموشی زیادہ ہی ناگوار معلوم ہوئی تو ذہن پرزور ڈال کر کوئی سوال پوچھا۔
”آپ کہاں کام کرتے ہیں؟“
”پی ڈبلیو ڈی میں۔“
”یہی جوسڑکیں کھودنے والا محکمہ ہے۔“
”جی ہاں۔“
پھرطویل خاموشی۔ یہ کم آمیزی اورکم گوئی مشرقی نہیں بلکہ انگریزی اثرکا نتیجہ ہے۔کہتے ہیں کہ کسی تباہ شدہ جہاز سے جان بچا کر دو انگریز کسی خالی جزیرے میں جا نکلیں تب بھی ایک دوسرے سے کلام نہ کریں گے۔تاآنکہ باقاعدہ تعارف کی رسم ادا نہ ہوجائے۔ وہاں کی ریل گاڑیوں میں بھی جس کو دیکھیے اپنی جگہ دوسرے سے بے تعلق اور بے زار بیٹھا ہے، آنکھیں نہیں ملاتا۔ ہمسائے کے اخبار کے بیچ کے ورق نہیں کھینچتا۔ اس سے بال بچوں کی تعداد، نام اور پتے نہیں پوچھتا، اپنے نہیں بتاتا۔ ہم نے یہ کیفیت دیکھی تو وطن عزیز بہت یاد آیا جہاں کراچی سے ٹنڈوآدم تک دوبھلے مانس جائیں تو ایک دوسرے کے شجرہ نسب سے کماحقہ آگاہ ہوچکے ہوتے ہیں بلکہ باہم رشتے بھی طے پا جاتے ہیں۔
تقریب اس ساری تمہید کی یہ ہے کہ کل رات مسز جمیل نے جو ہماری بھابھی ہیں، اپنی ایک سہیلی کوکھانے پربلایا، ساتھ ان کے میاں کو بھی۔خاتون تو آرٹسٹ ہیں لیکن میاں ان کے تاجر اور زمین دار قسم کے آدمی ہیں۔ مظفرگڑھ میں ان کی ایک شوگرمل ہے۔مریدکے میں کھالوں کی رنگائی کاکارخانہ ہے۔ ملتان میں ولائتی کھاد کی سول ایجنسی ہے اور اس کے علاوہ بی ڈی کے چیئرمین ہیں۔ گویا حیثیات بزرگ ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہمارے دوست میاں جمیل نرے شاعر اور صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنی بیگم سے پوچھا کہ تمہاری سہیلی کے میاں کوئی شاعر واعر ہیں کیا؟
”نہیں۔“
”فلسفے سے ذوق ہے؟“
”خدانخواستہ۔“
”تاریخ، علم الکلام اور سیاست مدن میں ورک ہے؟“
”تاریخ……میرے خیال میں جیسی صاف تاریخ بغیرتعمیے اور تحرجے کے تم کہتے ہو ویسی وہ نہیں کہہ سکتے۔ علم الکلام کو بھی اگر پڑھاہوتو مجھے معلوم نہیں۔ مدن بھائی کو وہ نہیں جانتے۔ باقی رہی سیاست تو ورک کیا معنی؟ اپنی تحصیل کے چوٹی کے سیاست دان ہیں۔میں نے بتایا نہیں کہ بی ڈی کے چیئرمین ہیں۔“
ان پرجمیل میاں نے کہا۔
”پھرتوبھاگوان تم ہی ان سے گفتگو کرنا۔ مجھے تورات کو مشاعرے میں جانا ہے۔ زیادہ سے زیادہ انشاء صاحب کو بلا لینا، وہ ہر قسم کی گفتگو پر قادر ہیں۔“
ہماری بھابھی نے کھانے کا تکلف بہت کیا تھا۔ ہم ذرا دیر سے پہنچے۔ مہمانوں سے تعارف بھی نہ ہوا۔ اس کے بعد بھابھی تو اپنی آرٹسٹ سہیلی کو ایک طرف لے گئیں اور ان کے جھمکوں کی تعریف سے گفتگوکا آغازکیا۔ ہم مردوں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آ بیٹھے۔ ہم نے قیافے سے دریافت کیا کہ ہماری داہنی طرف جو بزرگ لانبی مونچھوں والے بیٹھے ہیں، یہی چوہدری خیر دین جنجوعہ ہیں، ان کی سہیلی کے میاں۔ ان کا تفصیلی تعارف بھابھی نے فون پر ہی کرادیا تھا، لہذا ہم نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
”اب کے گنے کی فصل تو آپ کے ہاں خوب ہوئی؟“
وہ بھونچکے سے ہو کر بولے۔
”جی ……کیا فرمایا؟“
ہم نے دوسرا سوال داغا۔
”البتہ کھالوں پر جنگ کی وجہ سے اثر پڑا ہوگا؟“
اس پر وہ چپ رہے۔ ہم نے جانا کہ اپنے تجارتی بھیدکوبھید ہی رکھنا چاہتے ہیں، لہذا ہم نے موضوع نمبر تین لیا۔
”شلجموں کے لیے کون سی ولائتی کھاد موزوں رہتی ہے۔ ہم نے اپنے لان میں شلجم بوئے ہیں۔“
اس گفتگو کی بھنک بھابھی کے کان میں پڑی تو وہ بھاگی آئیں اور بولیں۔
”یہ آپ کن سے بات کر رہے ہیں۔یہ تو مشہور مرثیہ نگار شعلہ بنارسی ہیں، میرے بھانجے کے ہم زلف۔ یہ دوسرے میرے تایازاد بھائی کرنل حبیب اللہ اور یہ میری سہیلی کے میاں چوہدری خیر…… ارے یہ تو سوگئے۔ ابھی اٹھیں گے تو ان سے بات کرنا۔“
اس روز کی محفل میں چوہدری خیردین کے خراٹوں کی گونج میں ہم نے دوغزلیں شعلہ صاحب کو سنائیں، تین قصیدے اور ایک شہرآشوب سے انہوں نے یہ قرض اتارا۔ کرنل صاحب کو ہم نے کچھ دیر بکتر بند گاڑیوں کے اسرار و رموز میں الجھایا۔ اس کے بعدان کا ہاتھ دیکھ کر ان کے گھوڑے کے اگلی ریس جیتنے کی خوش خبری دی اور جب چوہدری خیردین جنجوعہ استراحت سے فارغ ہوئے تو سلسلہ کلام کو یوں مربوط کیا کہ ولایتی کھاد سے نیشکر کی اقسام جدید تک آنے اور بی۔ ڈی کے تازہ ترین الیکشنوں سے بدیں عنوان گریز کیا کہ رشوت خوری اور بدعنوانی کرنے والوں کی کھال میں بھس بھروا دینا چاہیے۔ یہاں سے سررشتہ گفتگو چوہدری صاحب کے ہاتھ میں آیا اور انہوں نے پہلے تو کھالوں کے مسئلے پر تقریر کی۔ پھر بھس کی کمیابی کے اسباب بیان کیے۔ آخر میں کچھ ذکر افریقہ اور مشرق وسطی کے حالیہ انقلابوں اور ویت نام کا بھی ہوا۔ گفتگو کے خاتمے تک وہ ہمیں اپنے ہاں سے کھانڈ کی بوری ریویو کے لیے بھجوانے کا وعدہ کرچکے تھے اور کھالوں کی رنگائی کے سلسلے میں ہم ان کا مشیر اعزازی بننے کی ہامی بھر چکے تھے۔
یہاں ہم گزارش کریں گے کہ اس تحریر کو خود ستائی پر محمول نہ کیا جائے۔ من آنم کہ من دانم، جس طرح پرانے زمانے میں علوم مجلسی میں یہ شامل تھا کہ ہرشریف زادے کو ہزار دو ہزار اشعار اساتذہ کے ازبر ہونے چاہئیں۔ کچھ اسی قسم کی یہ سائنس ہے جن صاحبوں کو مزید معلومات درکار ہوں، ہمارے ادارہ علوم مجلسی (رجسٹرڈ) میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ دس روپے کا منی آرڈر آنے پر پراسپکٹس مفت بھیجا جاتا ہے۔

٭٭٭٭٭٭