Skip to main content

مرنے والوں کو سہولتیں

ابن انشاء

اخبار میں آیا ہے کہ گزشتہ بدھ کو گڑھی شاہو میں ”انجمن معین الاموات“ کا جلسہ ہوا، جس میں نئے سال کے لیے عہدیدار منتخب کیے گئے۔
معین کا مطلب ہے مددگار، اعانت کرنے والا۔ اموات جمع ہے موت کی۔ ہم نے یہ نام پہلی بار سنا تھا، لہذا اس کے معنی کچھ غور کرنے سے سمجھ میں آئے لیکن جب سمجھ میں آ گئے تو ہم نے فوراً اپنے ایک ڈاکٹر دوست سے کہا کہ۔
”دیکھو، لاہور والے تم کراچی والوں سے بازی لے گئے۔ اپنی انجمن بنالی۔ جو کام تم لوگ یہاں فرداً فرداً کرتے ہو، اب وہاں اجتماعی طور پر ہوا کرے گا۔ اب یہ لوگ آبادکاری والوں پر زور دے کر قبرستانوں کے لیے مزید زمین بھی منظور کرالیں گے۔ یہاں تم لوگوں سے یہ بھی نہ ہو سکا۔“
آج کل نیکی کا زمانہ نہیں، بجائے اس کے کہ اس امر ضروری کی طرف توجہ دلانے پر وہ ہمارا شکریہ ادا کرتے، بپھر گئے اور کہنے لگے۔
”دیکھوجی…… تم گھوم پھر کر ہر بات ہم پر لاتے ہو، یہ ٹھیک نہیں۔ خود تمہارے پڑوس میں تابوت الحکما حکیم عزرائیل علی خاں مالک ہلا ہل دواخانہ بھی تو موجود ہیں اور اب تو ہومیوپیتھیوں کو بھی خلق خدا کے مارنے جلانے کا اختیار مل گیا ہے۔طب چین و جاپان والے تو مریض پروار کرنے کے لیے لائسنس تک نہیں لیتے۔ ان نیولوں اور سانڈوں اور درویش کی چٹکی والوں کوبھی تم بھول گئے، جن کی ایک پڑیا زکام، آشوب چشم، بواسیر، ہیضہ، کھٹی ڈکاروں، گٹھیا اور گنج کا شرطیہ علاج ہوتی ہے بلکہ چہرے کی رنگت سفید اور سفید بالوں کو کالا کرنے کے لیے بھی مزید کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی۔“
٭٭٭
ادھر سے ہماری توجہ ہٹی تو خیال آیا کہ ہو نہ ہو یہ ملاوٹ کا کام کرنے والوں کی انجمن ہے جنہوں نے لکڑی کے برادے،بھٹے کی لال اینٹوں کے سفوف اور کیکر کی چھال وغیرہ کی چھوٹی صنعتوں کو ترقی دے کر اتنا بڑا بنا دیا ہے۔ اب تک یہ چیزیں زیادہ سے زیادہ تعمیر مکانات یا ایندھن کے کام کی سمجھی جاتی تھیں، ہلدی، مرچ مسالوں اور چائے کے طور پر ان کا استعمال کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ موبل آئل بھی فقط بسوں اور ٹرکوں وغیرہ میں استعمال ہوتا تھا۔ یہ کسی نے نہ سوچا تھا کہ یہ گھی کا نعم البدل ہے اور اس سے انسانی جسم کی گاڑی بھی خوش اسلوبی بلکہ زیادہ، تیزی اور تیزرفتاری سے چلائی جا سکتی ہے۔ زندگی کی راہ جو پہلے ساٹھ ستر، اسی سال میں طے ہوتی تھی، موبل آئل باقاعدگی سے استعمال کرنے والے اسے دوتین ہی سال میں طے کر لیتے ہیں۔
٭٭٭
اس پر ہم اپنے پرانے کرم فرما سیٹھ ہلدی بھائی، چونابھائی، نوٹوں والے، پرانے کوٹوں والے کے پاس گئے اور اس انجمن کے بنانے پر مبارک باد دی۔ انہوں نے فوراً موبل آئل میں ترتراتی جلیبیوں کی پلیٹ ہماری طرف بڑھائی،جوہڑ کا پانی ملے دودھ کی چائے کے ڈبل کپ کا آرڈر دیا جس میں کیکر کی چھال کے علاوہ چنوں کا چھلکا بھی استعمال کیا گیا تھا، جو اعصاب کے لیے خصوصاً گھوڑوں کے اعصاب کے لیے مفید مانا گیا ہے۔ اس کے بعد بھس ملے تمباکو کی بیڑی ہمیں پیش کرتے ہوئے کہا۔
”بابا، یہ انجمن ہماری نہیں ہے۔ ہم تو درویش گوشہ نشین آدمی ہیں۔ شہرت سے ہمیں نفرت ہے۔ نام و نمود کا شوق نہیں، اسی لیے خفیہ تہہ خانوں میں اپنا کام کرتے ہیں اور پبلک کی خدمت بجا لاتے ہیں۔ اگر کوئی منصفی کرے تو دیکھے کہ فیملی پلاننگ والوں سے زیادہ مفید کام تو ہم کرتے ہیں۔ آخر آبادی کو کم ہی تو کرنا ہے، پریذیڈنٹ صاحب نے یہی تو کہا ہے۔“
اس کے بعد بھٹے کی اینٹوں سے بنے ہوئے کتھے اور پیپل کی لکڑی کی سپاری کا پان پیش کرتے ہوئے کہا۔ ”حکومت کہتی ہے اناج بچاؤ۔ جب ہم نے اناج بچایا اور اپنے گوداموں میں بھرلیا۔ خود میرے تہہ خانے میں کئی سوبوریاں ہوں گی۔ تو اب حکم نکالا ہے کہ یہ بری بات ہے، اسے باہر نکالو، سستابیچو۔ بابا،تم اخبار والا ہے، حکومت کو سمجھاتا کیوں نہیں۔ رزق جیسی انمول چیز کو سستا کیسے بیچ دیں۔“
٭٭٭
اب ہم نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہ انجمن بسوں، ٹرکوں اور رکشہ والوں نے بنائی ہے۔ ہمیں افسوس ہوا کہ ہمارا دھیان سب سے پہلے اس طرف کیوں نہ گیا، جو پبلک کی خدمت کے لیے اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور فٹ پاتھ پر ٹرک چلا کر اور نالے میں بس گرا کر ثابت کرتے ہیں کہ انسان ہمت کرے تو بحرظلمات میں گھوڑے دوڑانا بھی کچھ مشکل کام نہیں۔ ہم پتا پوچھتے پوچھتے ٹرک ٹرانسپورٹ یونین کے دفترپہنچے تواس کے سیکریٹری جنرل نے فوراً ٹرانسسٹرکی آوازدھیمی کرکے نسوارکی چٹکی سے ہماری تواضح کی اورکہا”ابھی حقہ تازہ کرکے لاتا ہوں۔“
ہم نے کہا۔”ہمارے پاس وقت نہیں ہے، صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ کی انجمن معین الاموات کی اس ماہ میں کیا کارگزاری ہے اورآیا بس والوں کا پلہ بھاری رہا ہے یا ٹرک اسے ہارن دیئے بغیر پاس کرکے آگے بڑھ گئے ہیں۔“
ہماری بات ان کی سمجھ میں آئی تو فوراً تھرڈگیئر میں گفتگوکرنے لگے اور پھرفورتھ گیئرمیں آنے کوتھے کہ ہم نے وہاں سے بھاگنے میں سلامتی دیکھی۔ اس اثناء میں سامنے”انجمن معین الاموات شاخ کراچی“ کا بورڈ نظرآ گیا۔ ہم نے ہانپتے کانپتے اندرداخل ہوکرکہا۔
”صاحبو! ہماری مددکرو……“ اس پرایک صاحب جومٹکوں کے درمیان بیٹھے لٹھا ناپ رہے تھے بولے۔
”جناب ہمارا کام تومردے کواس کی ابدی آرام گاہ تک پہنچانا ہے۔ زندوں کے امورمیں ہم دخل نہیں دیتے۔ وہ سامنے ٹرک آ رہا ہے، پہلے اس کے سامنے لیٹ جائیے پھرہم آپ کی ضرورمددکریں گے۔“
٭٭٭٭٭٭