Skip to main content

انشاءنامہ

ابن انشاء

لاہور اور کرا چی کے کئی اخباروں میں یہ خبر چھپی ہے کہ قدرت اللہ شہاب جو اردو کے ایک نامور ادیب ہیں، بھیس بدل کر اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ان علاقوں میں گھس گئے جو ہمارے نزدیک عرب علاقے ہیں اور ہمارے دشمنوں کی اصطلاح میں ”اسرائیلی“۔ وہاں یہ بیت المقدس میں گھومے پھرے، عربوں کی گھروں میں گئے، ان کے انڈر گراؤنڈلیڈروں سے ملے کیونکہ یہ الفتح کے مجاہدین کے ساتھ یا ان کی مدد و اعانت سے ہی تو گئے تھے اور اسرائیلی چیرہ دستیوں کے ثبوت مع فلم فوٹو وغیرہ لے کر واپس پہنچ گئے اور وہاں یونیسکو کے پلیٹ فارم سے ایسی معرکے کی تقریر کی، اسرائیلی اور حامیاں اسرائیل بوکھلا کر رہ گئے۔ اقوام متحدہ کے اس پلیٹ فارم سے نہ صرف اسرائیل کی مذمت ہوئی بلکہ یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل کو تفتیش کے لیے خود بھاگ کر تل ابیب جانا پڑا۔
٭٭
ہم نے یہ خبر پڑھی اور آنکھیں ملیں، پھر اپنے چٹکی لی، یہ جاننے کے لیے کہ ہم جاگ رہے ہیں یا خواب دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہم اس قسم کی جرأت کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہمارا واسطہ زیادہ تر کاغذی شیروں کے ساتھ پڑتا ہے، سچ مچ کا شیر صرف چڑیا گھر میں یا ایم بی جی ایم کی فلموں میں ٹائٹل پر دیکھا ہے۔
دیکھا جائے تو اس میں چٹکی لینے کی چنداں بات بھی نہ تھی، کیونکہ ایک صاحب کے قول کے مطابق قدرت اللہ شہاب ایک آئس برگ ہیں۔ برف کا پہاڑ، ایک درجہ پانی کے اوپر دس درجے نیچے، ایک طرف درویش خدا مست ہیں، دوسری طرف شوخ و شنگ افسانہ نگار، ایک طرف الحاج، تہجد گزار، اعتکاف نشین‘ دوسری طرف بقول ایک صاحب کے رابن ہڈکے ہم زلف۔
1948ء میں کشمیر پر حملہ ہوا تو نوکری چھوڑ کر اڑی یا تراڈ کھل میں جا بیٹھے لیکن ہم سے پوچھیے تو ان کا مزاج اس سے پہلے سے بلکہ لڑکپن ہی سے عاشقانہ تھا۔
قحط بنگال کے دنوں میں جب کہ یہ نئے نئے آئی سی ایس ہوئے تھے اور مدنا پور میں تملوک کے ایس ڈی او تھے تو انہوں نے اپنی نگرانی میں بیوپاریوں کے گودام لٹوادیے تھے جن میں ہزاروں بوریاں لالہ پنا لال اگر وال نے موقع مناسب پر سونے کے مول بیچنے کے لیے ذخیرہ کر رکھی تھیں، ان پر ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بیٹھی تھی لیکن یہ دیکھ کر لوگ تو ان کو پوجنے لگے ہیں، بیٹھی کی بیٹھی رہ گئی۔
اور بھاگل پور کا واقعہ تو اس سے بھی عجیب ہے، کوئٹ انڈیا تحریک زوروں پر تھی۔ ایک گاؤں میں لوگوں نے سرکاری ڈاک خانہ جلادیا تھا، اوپر کی سطح پر فیصلہ ہوا کہ یہ پورا گاؤں جلا دیا جائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو، چنانچہ کمشنر میکفرسن، ڈپٹی کمشنر پریڈو، ڈی آئی جی پولیس کچھ نفری لے کر تیل کے کنستروں سے مسلح شہاب صاحب کی عمل داری میں پہنچ گئے، انہوں نے پوچھا۔
”خیریت؟“
جواب ملا۔ ”ہم فلاں گاؤں جلانے آئے ہیں۔“
یہ بولے۔ ”مجھ سے اجازت لے لی؟“
کمشنر وغیرہ بہت ہنسے اور بولے۔ ”تو کون ہے؟“
انہوں نے کہا۔ ”میں اس علاقے کا ایس ڈی او، آپ کتنے بھی بڑے حاکم ہوں یہ علاقہ میری تحویل میں ہے۔ یہاں کے نظم و نسق کا میں ذمہ دار ہوں، آپ لوگ چلے جایئے۔“
وہ اور زیادہ ہنسے کہ چہ پدی چہ پدی کا شوربا۔
ان کے پاس ایک اردلی تھا شیر خان، جہلم کا رہنے والا، اس سے انہوں نے کہا۔
”دیکھو شیر خان! یہ صاحب لوگ گاؤں کو جلانے آئے ہیں، تم میرا حکم مانو گے؟“
بولا۔
”حضور آپ ہی کا حکم مانوں گا۔“
انہوں نے فرمایا۔
”اچھا تو ان صاحب لوگوں میں سے جو بھی اس دروازے سے باہر نکلنے کی کوشش کرے اس کو گولی ماردو۔“

وہ اور بھی بگڑے دل تھا، بولا۔
”جناب! اگر حکم ہو تو، یہ لوگ اگر نہ بھی نکلیں تب بھی گولی ماردوں؟“
انہوں نے کہا۔ ”نہ نہ، ایسا مت کرنا۔“
یہ بات ان افسران عالی مقام کو سنا کر کہی گئی تھی، ڈی آئی جی صاحب نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن شیر خان کی بندوق کی نال دیکھ کر سہم گئے۔ ساری پارٹی کو بے نیل و مرام غصے کے شعلے اگلتے لوٹنا پڑا۔
چیف سیکریٹری کے ہاں طلبی ہوئی تو یہ استعفیٰ جیب میں رکھ کر لے گئے، انہوں نے کہا برخوردار! تمہاری بات بالکل ٹھیک ہے۔ ایک گاؤں جل جاتا تو سارے بہار میں آگ لگ جاتی لیکن اتنے بڑے بڑے حاکموں کی، حکم عدولی نہیں کیا کرتے، اب جاؤ میں سمجھ لوں گا۔“
تتمہ اس کہانی کا یہ ہے کہ راجندر پرشاد جو ان ہی نواحات کے رہنے والے تھے اور بعد میں بھارت کے صدر ہوئے۔ یہ ماجرا سن کر ایک جلوس لیے زندہ باد کے نعرہ لگاتے ان کے گھر پر آئے اور اس رشتے سے بعد میں تاحیات ان کو عید پر عید کارڈ بھیجتے رہے۔
٭٭٭
جھنگ اور لائل پور کی ڈپٹی کمشنری کے زمانے میں بھی یہ ہارون الرشیدی کیا کرتے تھے، یعنی بھیس بدل کر شہر اور دیہات میں گھوما کرتے تھے۔ وہاں انہوں نے لوگوں کے لیے جو کچھ کیا اس کی بنا پر اب تک یاد کیے جاتے ہیں لیکن وہاں کے پیروں اور جاگیرداروں کو یہ ایک آنکھ نہ بھائے اور آخر ان کی ڈپٹی کمشنری چھڑا کر انہیں ہالینڈ بھیج دیا گیا۔
ایران کے بادشاہ فتح علی قاچار کے ملک الشعراء پر بھی یہی گزری تھی، ایک بار بادشاہ نے کچھ اشعار لکھے جو نہایت ہیچ پوچ تھے، ملک الشعراء سے رائے مانگی تو انہوں نے کہا۔
”حضور! یہ کہاں کی شاعری ہے؟“
بادشاہ نے غصے ہوکر اسے طویلے میں بند کرادیا۔ کچھ دن بعد پھر بادشاہ نے فکر سخن کی اور ملک الشعراء کو بلایا تاکہ آکر داد دیں، انہوں نے شعر سنے اور اٹھ گئے۔
شاہ نے پوچھا۔ کہاں چلے؟“
بولے۔ ”پھر طویلے جاتا ہوں۔“
٭٭٭
لاہور کے ایک اخبار نے کمال کیا، ان کے عرب مقبوضہ علاقوں میں جانے کی خبر دی اور سات ہی ٹانکا لگایا کہ یہ کس ملک کا جعلی پاسپورٹ بنوا کر گئے تھے؟ وہ کوئی پاکستان کا دشمن ملک ہی ہوسکتا ہے۔ ان کی تحقیق ہونی چاہیے، تب ہمیں معلوم ہوا کہ الفتح کے مجاہدین جب چھاپہ مارنے جاتے ہیں، سرحد پر اسرائیلی افسروں کو بتاتے ہیں کہ ہم آپ کے علاقے میں بم پھینکنے جارہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، اچھی بات ہے اور مہر لگا کر اجازت دے دیتے ہیں، بلکہ آدمی بھی ساتھ کردیتے ہیں تاکہ کوئی ان کو منع نہ کرے۔
دوسری بات بھی ایسی ہی جوڑ دی کہ ایک صاحب جو شہاب کے دوست ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی سے لندن آتے ہوئے ماسکو اترے تھے اور ایک محفل میں پاکستان بھارت کی کنفیڈریشن کے بارے میں خیال آرائی کرتے سنے گئے۔ لیجیے ”رائی“ یہ تھی کہ کوئی صاحب جو شہاب کے ایک ہزار ایک دوستوں میں سے ہوں گے۔ پی آئی اے کی اس فلائٹ سے آئے جو ماسکو کے راستے جاتی ہے، اتر کر ماسکو کی سیر بھی کی ہوگی۔ اگرچہ کوسیجن سے ان کے ملنے کا امکان کم ہے۔ بہرحال پربت یہ بنا کہ ضرور قدرت اللہ شہاب لندن میں بیٹھے پاکستان اور بھارت کی کنفیڈریشن بنارہے ہیں۔ خبر سے خبر ہی نکلتی ہے بلکہ نکالی جاتی ہے۔
وہ بزرگ بڑے دور اندیش تھے، جن کی چھاتی پر سے چوہا گزر گیا تو رونے لگے۔ لوگوں نے کہا۔
”میاں اس میں کیا بات گھبرانے اور رونے کی ہے۔“
بولے۔ ”میں چوہے کو نہیں روتا، چوہے کے پیچھے بلی دوڑی آئے گی، بلی کے پیچھے کتا آئے گا، کتے کے پیچھے پولیس کا پیادہ آئے گا اور پھر پوری فوج پریڈ کرتی میری چھاتی پر سے گزرگئی تو میں کہیں کا نہ رہوں گا۔“
شہاب صاحب سمجھے ہوں گے کہ انہوں نے اسرائیل پر چھاپہ مار کر بڑا کام کیا، یہاں ایک معمولی اخبار والے نے دفتر میں بیٹھے بیٹھے ٹنگڑی ماری اور چاروں شانے چت کردیا۔ واہ بھئی واہ اخبار والو۔

٭٭٭٭٭٭