Skip to main content

انشاء جی

ابن انشاء

جوں جوں یونیورسٹی میں امتحانات قریب آرہے ہیں۔ ہماری ڈاک میں طالب علموں کے خطوط کی بھرمار ہورہی ہے۔ کوئی کچھ پوچھتاہے۔ کوئی کچھ، بہتر ہوتا کہ اس سلسلے میں طالب علم حضرات پہلے اپنے اساتذہ سے رجوع کرتے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ یونیورسٹی سے نکلے(ہم اپنی مرضی سے نکلے تھے۔) ہمیں اتنی مدت ہوئی ہے کہ بہت سا پڑھا لکھا ذہن سے اتر گیا ہے۔ کیا عجب کسی سوال کے جواب میں ہم سے لغزش ہوجائے۔ آج کی ڈاک میں جو سوالات موصول ہوئے ہیں۔ ان سے ان کی متنوع نوعیت کا اندازہ ہوجائے گا۔
(1)اسمعیل میرٹھی کہاں کے رہنے والے تھے۔ (جالندھر کے، کلکتے کے، میرٹھ کے)
(2)یہ مصروع کس کا ہے۔ ع۔ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔ (غالب کا ہے، یا خستہ ہاپوڑی کا)
(3)اہرام مصر کس ملک میں واقع ہیں۔ (جاپان میں، فرانس میں، مصرمیں)
(4)مقبرہ جہانگیر میں کون سا مغل بادشاہ دفن ہے۔ (سکندر اعظم، ہنری ہشتم، جہانگیر)
(5)ایک درجن میں کتنے عدد ہوتے ہیں۔ (5، 12، 6، 78)
(6)زلیخاآدمی تھایاعورت۔
(7)سورج دن کو نکلتا ہے یا رات کو اگر رات کو تو کیوں؟
(8)افغانستان کی سب سے مشہوربندرگاہ کون سی ہے؟
معلوم ہوتاہے ہمارے متعلق طالب علموں کو یہ حسن ظن پیدا ہوگیاہے کہ ہم عقل کل ہیں اور جملہ علوم پرحاوی ہیں۔ اس مختصر زیست میں کسی فانی انسان سے ایسی توقع وابستہ کرنازیادتی ہوگی۔ سوال نمبر 3 معلومات عامہ پر عبور کا متقاضی ہے۔ سوال نمبر 4کا تعلق آثار قدیمہ سے ہے۔ جب تک کھدائی نہ کی جائے کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟ پانچویں کے لیے ریاضی کی ڈگری چاہیے۔ اور ریاضی ہمیشہ ہمار اسب سے کمزور مضمون رہا ہے۔ چھٹے سوال کا قطعی جواب ممکن نہیں۔ یہ امر ہمیشہ سے متنازعہ چلا آرہاہے۔ نمبر 7 کے لیے علم ہیئت کا مطالعہ چاہیے اور علم ہیئت کبھی بھی ہمارا مضمون نہ تھا۔ نہ اسکول میں نہ کالج میں۔ آٹھویں کا تعلق جغرافیہ سے ہے۔ ہمیں اپنے ملک کی بہت سی باتیں نہیں معلوم، افغانستان تو پھر غیر ملک ہے۔
٭٭٭
درسی کتابیں پرھنا ایسا ہی ہے جیسے جو شاندہ پینا۔ آج کل جو شاندہ کوئی نہیں پیتا۔ لوگوں نے ساری ادویات کے عرق یا ست نکال رکھے ہیں۔ یورپ میں تو ایسی گولیاں بن گئی ہیں کہ دو گولیاں گھاؤ ساری تاریخ یورپ یاد۔ ایک انجکشن لو اور جیو میٹری کی تمام اشکال پر حاوی ہوجاؤ۔ ہمارے ہاں تو ان ایجادوں کے آنے میں ابھی شاید وقت لگے۔ ہاں کسی نے پچھلے دنوں کراچی میں اعلان تو کیاتھا کہ اب امتحان پاس کرنے کے لیے پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں۔ ہم پہلے سمجھے کہ مشتہر صاحب نقل کرانے کے ماہرہیں یا یونی ورسٹی کے قریبی حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔پرچہ آؤٹ کرادیں گے لیکن پتا چلا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ وہ تو ہپناٹزم یعنی نظر بندی کا علم سکھاتے ہیں۔ ممتحن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں (دھول جھونکنے کے بجائے) اور اس نے چپکے سے 100 100 نمبردے دیے۔ سنا ہے مشتہر کا یہ دعوا ہے کہ میں نے خود ایک لفظ نہیں پڑھا۔ لیکن ڈگریاں رکھتا ہوں۔ سارے امتحان یوں ہی پاس کیے۔ ہمارے ایک دوست ان سے ملے تھے تصدیق کرتے ہیں کہ دعوا ان کا سچا معلوم ہوتاہے۔ یہ صاحب کسی طرف سے پڑھے لکھے نہیں لگتے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
٭٭٭
علمی دنیا میں جوہر یاست کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ ہمارے پاس ریویو کے لیے اتنی کتابیں آتی ہیں کہ سب پڑھنی پڑیں تو مصیبت ہوجائے۔ اس کا ست نکال کر پہلے سے گردپوش کے اندرونی صفحے پر لکھا ہوتا ہے۔ اطمینان سے نقل کرلیجیے۔ لوگ بھی خوش، ریویو کرانے والا بھی خوش، یہ عبارت عموماً مصنف کی اپنی لکھی ہوتی ہے ظاہر ہے۔ تنصیف رامصنف نیکو کندبیاں۔ تعلیمی میدان میں یہ کام خلاصے دیتے ہیں۔
خلاصہ کیا چیز ہوتی ہے۔ ایک مثال سے واضح ہوجائے گا۔ کوئی شخص حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان بیان کررہاتھا کہ یوں ہوا پھر یوں ہوا۔ ایک سننے والے نے کہا کہ حضرت آپ نے اس قصے میں ایک گھنٹہ لے لیا۔ یوں کیوں نہ کہہ دیا کہ ”پدرے بود پسرے داشت گم کرد، بازیافت،“ یعنی ایک بڑے میاں کا ایک بیٹا تھا، کھو گیا اور پھر مل گیا۔ ایسا ہی واقعہ ان دو محبان صادق کا ہے کہ کھانے پربیٹھے تھے، ایک ان میں خان صاحب تھے۔ دوسرے لکھنوی میر صاحب، خان صاحب نے لکھنوی دوست سے پوچھا کہ ”آپ کے والد صاحب کا انتقال کیسے ہوا۔“ وہ کھانا چھوڑ کر بیٹھ گئے اورقبلہ گاہ کی علالت، تشخیص، اسپتال، نسخوں، تیمارداری، بچوں کی فکر مندی، وصیت، جنازے میں ہزاروں آدمی شریک ہونے، قطعات، تاریخ اور لوح مزار وغیرہ کا تفصیلی تذکرہ کیا۔ اس کے بعد یکایک نظر دستر خوان پر گئی تو بس آدھا نان باقی تھی۔ انہوں نے سٹپٹا کرکہا۔ ”خان صاحب اب کچھ اپنے بزرگوار کی وفات حسرت آیات کا حال بھی سنایے۔ فرمایا!
”خوبڈھا بیمار ہوا، مر گیا۔“ یہ کہہ کر اس آدھی روٹی کوبھی لقمہ کیا۔ دیکھاجائے تو خلاصہ لکھنوی بزرگ کی داستان بھی یہی تھا بڈھا بیمار ہوا مر گیا۔ باقی تو لفظوں کے طوطا مینا ہیں۔ جب سے کتابوں کی فلمیں بننے لگی ہیں۔ خلاصہ کی ضرورت بھی کم ہوگئی ہے۔ اب کون اکبر کے عہد کے واقعات اور فتوحات پڑھتا پڑھے۔ ”مغل اعظم“ دیکھ لیجیے، ساری تاریخ ذہن پر نقش ہوجائے گی۔ ہم ایک بار نو رجہاں کے علم وفضل کا کررہے تھے۔ ایک صاحبزادے بول اٹھے، یہ آپ ملکہ نور جہاں کا ذکر کررہے یا ملکہ ترنم نور جہاں کا، ہم نے وضاحت کی توبولے، اچھا وہ خاتون جو فلم عدل جہانگیر میں کبوتر اڑاتی ہیں۔
یہ سچ ہے کہ بعض اوقات فلمی ضروریات کے تحت فلم بنانے والے اصلی کہانی میں تھوڑی سی ترمیم بھی کرلیتے ہیں لیکن اکثر اس سے حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ انگریزی کی ایک فلم، علی بابا چالیس چور، میں ہم نے دیکھا کہ علی بابا چوروں کا سردا رہے۔ غور کیاتو سمجھ میں آیا کہ صحیح یہی ہے۔ علی بابا کو یہی رول سجتا ہے۔ ترمیم اگر ہونی چاہیے تو الف لیلہ میں۔

٭٭٭٭٭٭